ہماری بزرگوں کا طریقہ ہے بھئی کہ کوئی بھی کتاب شروع کرنے سے پہلے دعا پڑھتے ہیں اور بزرگوں کا ہر طریقہ نہایت مبارک ہے۔ اور اس کے ساتھ انوارات ہوتے ہیں۔ آئیے ہم سب بھی دعا پڑھ لیں مل کر۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ رب العالمین۔ اللہم صلی علی سیدنا و مولانا محمد وعلی آلہ و صحبہ و بارک وسلم۔ اللہم صلی علی سیدنا و مولانا محمد وعلی آلہ و صحبہ و بارک وسلم۔ اللہم صلی علی سیدنا و مولانا محمد وعلی آلہ و صحبہ و بارک وسلم۔ ربنا یسر لنا ھذا الکتاب ولا تعسره وتممه بالخیر وبک نستعین یا فتاح یا علیم۔ ربنا یسر لنا ھذا العلم ولا تعسره وتممه بالخیر وبک نستعین یا فتاح یا علیم۔ ربنا یسر لنا ھذا الفن ولا تعسره وتممه بالخیر وبک نستعین یا فتاح یا علیم۔ اللہم صلی علی سیدنا و مولانا محمد وعلی آلہ و صحبہ و بارک وسلم۔ اللہم صلی علی سیدنا و مولانا محمد وعلی آلہ و صحبہ و بارک وسلم۔ جی اب اختتام میں چند بحثیں لکھ لیجیے۔ جی پہلے کتاب کی عبارت کوئی طالب علم پڑھ لے بھئی تھوڑی سی۔ جی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمدللہ رب العالمین حمد الشاکرین والصلاۃ والسلام علی خیر البریہ سیدنا محمد و آلہ الطیبین الطاہرین قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تعلموا الفرائض وعلموها الناس فإنها نصف العلم قال علماؤنا رحمة الله تعالی تتعلم بطریقۃ مفیدہ حقوق ان بعض مرتبة الأول يبدأ بتسكينه وتجهيزه من غير تكفين ولا تكفين۔ اچھا بس۔ جی لکھیے۔ سراجی کے مصنف کا نام ابو طاہر سراج الدین محمد ابن عبد الرشید سجاووندی ہے۔ ان کے مزید احوال کا علم نہیں۔ البتہ ان کے عند اللہ قبولیت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ سیکڑوں سال سے ان کی کتاب علماء کی توجہ کا مرکز ہے اور مدارس میں پڑھائی جا رہی ہے۔ جی آگے لکھیے علم میراث کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت۔ تعریف لکھیے۔ الفرائض هي علم باصول من فقہ و حساب یعرف به حق الورثة من التركة۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ فَرائض علم میراث کو کہتے ہیں کہ علم میراث فقہ اور حساب کے ان قوانین کے جاننے کا نام ہے جس کے ذریعے ترکے میں سے وارثوں کا حق معلوم ہوتا ہے۔ علم میراث کا موضوع۔ میت کا ترکہ اور اس کے مستحقین ہیں۔ غرض۔ مستحقین ترکہ اور ان کے شرعی حقوق اور حصوں کو معلوم کرنا۔ سوال علم میراث کو علم الفرائض کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب فرائض جمع ہے فریضۃ کی اور فریضہ کے معنی ہیں مقررہ۔ یہ کون چھینکا ہے بھئی؟ الحمدللہ بھی نہیں کہتے۔ جو چھینکے اونچی آواز سے الحمدللہ کہے، ساری جماعت والے سنیں، ان تک آواز پہنچے اس کی اور سب جواب میں یرحمک اللہ کہیں اسے بھئی۔ آپ علماء ہیں، اس سنت کو اپنا لیں، آگے بھی اس کی اشاعت کریں بھئی یہ وہ سنت ہے جو علماء کے ہاں بھی متروک ہو چکی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور ثبوت یہی ہے آپ علماء ہی تو ہیں دیکھو چھینکا ہے، سنت پر عمل ہوا۔ جو بھی چھینکے اونچی آواز سے الحمدللہ کہے اور سب ساتھی پھر اس کا جواب دیں۔ سمجھ میں آیا سنت پر عمل بھی ہو گیا اور سیکڑوں اولیاء اللہ کی دعا بھی اسے مل جائے گی۔ اچھا بھئی کیا لکھا؟ اور فریضہ کا معنی ہے مقررہ یعنی مقرر کی ہوئی چیز۔ تو فریضہ بمشمع مفروضہ کے ہے۔ تو فریضہ بمشمع مفروضہ ہے۔ فریضہ بمشمع مفروضہ۔ چونکہ وارثوں کے یہ حصے اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ہیں اس لیے یہ علم علم الفرائض کہلاتا ہے۔ اگلے سطر میں لکھیے بھئی۔ اگلے سطر میں علم الفرائض کا سیکھنا فرض کفایہ ہے۔ علم الفرائض کا سیکھنا فرض کفایہ ہے۔ جی آگے چند احادیث بھی لکھ لیجیے اس علم کے متعلق۔ ایک تو یہ آپ کی کتاب میں آ رہی ہے۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تعلموا الفرائض تعلموا الفرائض وعلموها الناس وعلموها الناس فإنها نصف العلم فإنها نصف العلم جی ایک اور حدیث لکھ لیجیے۔ ترجمہ تو سمجھ میں آ رہا ہوگا بھئی آسان الفاظ ہیں، تعلم الفرائض، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، علم میراث سیکھو، فرائض سیکھو، و علموھا الناس اور لوگوں کو بھی سکھاؤ، فانھا نصف العلم کیونکہ یہ نصف علم ہے۔ دوسری حدیث لکھیے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ تعلم الفرائض، تعلم الفرائض، و علموھ الناس، و علموھ الناس، متن میں آیا تھا علموھا الناس ھا ضمیر تھی اب اس حدیث میں علموھ الناس، فانھ نصف العلم، فانھ نصف العلم، و انھ ینسا، و انھ ینسا، و ھو اول، و ھو اول ما ینزع عن امتی، و ھو اول ما ینزع عن امتی۔ ترجمہ اس کا بھی دیکھ لیں بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تعلم الفرائض، فرائض سیکھو، و علموھ الناس اور لوگوں کو سکھاؤ، فانھ نصف العلم کیونکہ یہ نصف علم ہے، و انھ ینسا اور یہ علم بھلا دیا جائے گا، و ھو اول ما ینزع عن امتی اور یہ پہلا علم ہے جو میری امت سے اٹھا لیا جائے گا۔ ایک اور حدیث لکھ لیجیے۔ اگلی حدیث لکھیے، تعلم العلم و علموھ الناس۔ تعلم العلم، تعلم العلم، و علموھ الناس، تعلم الفرائض، تعلم الفرائض، و علموھ الناس، تعلم الفرائض، و علموھ الناس۔ فانی، فانی، امرء مقبول، امرء امرء، امرء مقبول، و العلم سیقبض، و العلم سیقبض، و یظہر الفتن، و یظہر الفتن، و یظہر الفتن، حتی یختلف اثنان، حتی یختلف اثنان۔ فی فریضۃ، فی فریضۃ، لا یجدان احدا، لا یجدان احدا، یفصل بینہما، یفصل بینہما۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تعلم العلم و علموھ الناس، علم سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، پھر آگے فرماتے ہیں تعلم الفرائض و علموھ الناس، علم فرائض یعنی علم میراث سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، سمجھ میں آیا بھئی، علم میراث سیکھو، علم کے اندر بھی علم میراث داخل تھا، لیکن پھر اس کو، اس کی اہمیت کی وجہ سے دوبارہ ذکر فرمایا، اسے تخصیص بعد التعمیم کہتے ہیں بھئی۔ فانی امرء مقبول، فانی امرء مقبول، اس لیے کیونکہ میں ایسا شخص ہوں جسے اٹھا لیا جائے گا یعنی میرا انتقال ہو جائے گا، و العلم سیقبض، اور علم کو عنقریب اٹھا لیا جائے گا، و یظہر الفتن، اور فتنے ظاہر ہوں گے، حتی یختلف اثنان یہاں تک کہ اختلاف کریں گے دو شخص، فی فریضۃ کسی مسئلے میں، لا یجدان احدا نہیں پائیں گے کسی ایک کو بھی، یفصل بینہما کہ وہ ان دونوں کے فیصلہ کر دے، کہ ان دونوں میں کیا کر دے؟ فیصلہ کر دے۔ یہ حتی یختلف، پڑھیں بھئی یختلفا نہیں بھئی، کیونکہ حتی کے بعد ان مقدر ہو تو پھر نصب پڑھا جاتا ہے، اور ان کے حتی کے بعد ان کے مقدر ہونے کے لیے جو پہلی شرط ذکر کی ہے علماء نحو نے کہ ما قبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے ما بعد مستقبل ہونا چاہیے، حتی کا ما بعد کیا ہونا چاہیے؟ ما قبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل ہونا چاہیے بھئی، ایک ہے ظہور فتنہ اور ایک ہے اختلاف دو مردوں کا، یہ اختلاف کیا ہونا چاہیے؟ ظہور فتنہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے مستقبل ہو یعنی اس کے بعد ہو، اس کے اور آپ مجھے بتائیے، ظہور فتنہ جب ختم ہو جائے گا، اس کے بعد دو آدمی اختلاف کریں گے یا اسی فتنے کے دوران، انہی فتنوں کے دوران اختلاف کریں گے؟ ہاں، فتنے بڑھتے بڑھتے یہاں تک نوبت پہنچ جائے گی کہ دو لوگ اختلاف کریں گے اور کوئی وہ مسئلہ بتلانے والا انہیں نہیں ملے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی، تو یہاں مستقبل نہیں ہے بلکہ ظہور فتنہ کے ساتھ ہی کیا کون سی حالت آ گئی؟ اختلاف والی حالت بھی آ گئی، کافیہ میں اس کی مثال ہے، مرضا حتی لا یرجونھ۔ وہ بیمار ہوا یہاں تک کہ اب انہیں اس کی امید نہیں، یعنی اس کی زندگی کی امید نہیں۔ اب آپ بتائیے، بھی یہ زندگی کی امید نہ ہونا، یہ مرض کے گزرنے کے بعد ہے یا مرض ہی میں ایک حالت آ گئی یہاں تک بھئی؟ مرض ہی میں، دیکھو، مرض ہی میں یہ حالت آ گئی کہ اتنا بگڑ گیا مرض کہ اب انہیں اس کی کوئی امید نہیں، تو یہاں بھی ظہور فتنہ ہے اور یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ دو لوگ کیا کریں گے؟ اختلاف کریں گے۔ تو لہٰذا، اس صورت میں لا مرضا حتی لا یرجونھ، دیکھو اثبات نون کے ساتھ ہے، اور اثبات نون کے ساتھ مضارع حالتِ رفعی میں آتا ہے بھئی، حالتِ نصبی میں نہیں بھئی، تو یہاں رفع حتی یختلف اثنان فی فریضۃ۔ جی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ علم فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، فانی امرء مقبول، اس لیے کیونکہ میں ایسا شخص ہوں جسے اٹھا لیا جائے گا، یعنی میرا انتقال ہو جائے گا، و العلم سیقبض، اور اس علم کو بھی عنقریب اٹھا لیا جائے گا۔ تو امرء لفظ آیا، مولانا یاد رکھیے، یہ عربی کے عجیب لفظ ہے، جس میں آخری حرف پر جو حرکت ہوگی اس سے ما قبل پر بھی وہی حرکت ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی، ہمزہ پر ضمہ ہے، تو را پر بھی ضمہ پڑھیں گے، ہمزہ پر فتحہ ہو تو را پر بھی فتحہ پڑھیں گے، ہمزہ پر کسرہ آئے تو را پر بھی کسرہ پڑھیں گے۔ امرء القیس، امرء القیس، امری القیس، تو میں ایسا شخص ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اٹھا لیا جائے گا یعنی میرا انتقال ہو جائے گا، و العلم سیقبض، اور علم کو بھی عنقریب اٹھا لیا جائے گا، و یظہر الفتن، اور فتنے ظاہر ہوں گے، حتی یختلف اثنان یہاں تک کہ دو آدمی آپس میں اختلاف کرتے ہوں گے فی فریضۃ کسی فریضے کے اندر، کسی مسئلے کے اندر، لا یجدان احدا نہیں پائیں گے کسی ایک کو بھی، یفصل بینہما کہ وہ ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دے، یہ علم اٹھا لیا جائے گا، اور پھر آپس میں اختلاف آئے گا لیکن کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں ملے گا بھئی۔ جی، آگے ترکے کی تعریف بھی لکھ لیجیے۔ الترکۃ فی لغۃ، الترکۃ فی لغۃ، تو الترکۃ فی لغۃ ما یترکہ الشخض، ما یترکہ الشخض، و یبقیہ، و فی الاصطلاح، و فی الاصطلاح، الترکۃ، الترکۃ، ما ترک الانسان، ما ترک الانسان، صافیا خالیا عن حق الغیر، صافیا صاد کے ساتھ، صافیا خالیا عن حق الغیر، ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ الترکۃ فی لغۃ، ترکہ عربی زبان میں کسے کہتے ہیں؟ ما یترکہ الشخض وہ مال جو کہ شخص چھوڑ جائے، و یبقیہ اور باقی رکھے یعنی چھوڑ جائے جسے، اور اصطلاح کے اندر الترکۃ، ما ترک الانسان، ترکہ، ما سے مراد مال ہے، وہ مال ترک الانسان جسے انسان چھوڑ دیتا ہے، صافیا خالیا ایک معنی ہے بھئی، صافیا خالیا عن حق الغیر جو غیر کے حق سے خالی ہو، یعنی کسی غیر کا حق اس کے ساتھ متعلق نہ ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی، کسی کی چیز اس کے پاس پڑی ہوئی تھی بطور امانت کے، تو یہ تو غیر کی چیز ہے بھئی، تو یہ یہ ترکے میں نہ شمار بھئی، اسی طرح کسی کی چیز استعمال کے لیے لی تھی وغیرہ بھئی، تو کسی کا حق جس سے وابستہ نہ ہو، اس کا اپنا مال ہو، وہ ترکہ ہے بھئی اصطلاح کے اندر۔ آگے لکھیے بھئی، صحابہ میں سب سے بڑے عالمِ فرائض، سب سے بڑے عالمِ فرائض، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ، رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، اور حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ، اور حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ، اس علم کے بڑے ماہر تھے۔ اس علم کے بڑے ماہر تھے۔ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المراد، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔