آگے سبق دیکھیے بھئی۔ خصوصیات باب افعیال۔ اس باب کی چار خصوصیات ہیں۔ نمبر ایک لزوم، نمبر دو مبالغہ، نمبر تین مطاوعت مجرد، نمبر چار موافقت استفعال۔ نمبر ایک لزوم۔ یہ باب زیادہ تر لازم استعمال ہوتا ہے، جیسے الاحدی دابو، کوبڑا ہونا۔ کوبڑا ہونا، غمر کا جھک جانا۔ الاخشیشانو، بہت سخت ہونا۔ کبھی متعدی بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے اعرای توہ، میں گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہوا۔ گھوڑے پر تو ویسے عموماً زیں لگاتے ہیں نا پھر اس پر بیٹھتے ہیں، تو ویسے ہی گھوڑے پر بیٹھ جانے کو کیا کہتے ہیں؟ اعراو ریتو الفرس، میں گھوڑے پر بغیر زیں کے سوار ہوا بھئی۔ اچھا آگے دیکھیے بھئی، نمبر دو ہے مبالغہ۔ اس باب میں مبالغہ کی خاصیت بکثرت پائی جاتی ہے، جیسے اعشوشبت الارض۔ زمین بہت گھاس والی ہو گئی، دیکھو مبالغہ ہے، بہت گھاس والی ہو گئی مبالغہ۔ احلاو لس ثوب، کپڑا بہت پرانا ہو گیا۔ نمبر تین ہے مطاوعت مجرد۔ جیسے ثانی توہ فثنونا، بھئی یہ کتابت کی غلطی ہے، ٹھیک کر لیں۔ فثنونا آخر میں یا لکھی ہے، یا نہیں ہے، نون اور یا ہے اور اس پر کھڑی زبر لکھیں۔ اور واؤ کے اوپر جزم لگائیں بھئی۔ واؤ کے اوپر جزم لگائیں اور آگے نون یا لکھیں بھئی اور اس پر کھڑی زبر ڈالیں۔ فثنونا۔ لکھیے؟ ثانی توہ فثنونا، میں نے اس کو موڑا تو وہ مڑ گیا۔ تو ثنا یسنی کا معنی ہوتا ہے موڑنا اور فثنونا کا معنی مڑنا تو یہ مطاوع ہے مجرد کا بھئی، میں نے اس کو موڑا تو وہ مڑ گیا۔ آگے نمبر چار موافقت استفعال بھئی۔ جیسے احلاو لی توہ، بمانی استحلای توہ، میں نے اس کو میٹھا سمجھا۔ میں نے اس کو میٹھا سمجھا۔ تو احلاو لی تو اور استحلای تو کا ایک ہی معنی ہے، یعنی باب استفعال اور باب افعیال ایک دوسرے کے ہم معنی ہیں یہاں پر۔ آگے دیکھیے خصوصیات باب افعیال وافعیلال۔ دونوں کو اکٹھا کر دیا ہے بھئی، دو باب ہیں یہ۔ افعیلال اور افعیلال، چونکہ خصوصیات ایک جیسی ہیں اس لیے اکٹھا ذکر کر دیا۔ افعیلال وافعیلال، ہر ایک کی چار چار خصوصیات ہیں۔ نمبر ایک لزوم، نمبر دو مبالغہ، نمبر تین لون، نمبر چار عیب۔ نمبر ایک لزوم، یہ دونوں باب ہمیشہ لازم ہوتے ہیں۔ پچھلے باب باب افعیال میں کہا تھا وہ اکثر لازمی ہوتا ہے، لیکن کبھی کبھار متعدی اور یہ ہمیشہ لازم ہوتے ہیں بھئی، ان میں سے کبھی بھی متعدی نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں نمبر ایک لزوم، یہ دونوں باب ہمیشہ لازم ہوتے ہیں، جیسے احمر۔ احمر، بھئی میم پر شد ڈالا ہوا ہے، یہ را پر ہونا چاہیے، احمر افعیلال سے اور احمارا افعیلال سے۔ آگے ترجمہ لکھا ہے، سرخ ہوا، بھئی ترجمہ ہوگا، بہت سرخ ہوا۔ مبالغہ ہے اس میں مبالغہ۔ تو معنی ہوگا، بہت سرخ ہوا۔ نمبر دو مبالغہ۔ مبالغہ اسودا، افعیلال، بہت سیاہ ہوا۔ اشحابہ، یہ باب افعیلال سے ہے، بتدریج سفید ہوا یا سیاہی ملی ہوئی سفید رنگ والا ہوا۔ یعنی ایسا سفید جس کے اندر کیا ملی ہوئی ہے؟ سیاہی کچھ ملی ہوئی ہے بھئی۔ تو اس کے لیے بولتے ہیں اشحابہ۔ آگے فائدہ، باب افعیلال میں مبالغہ کی خاصیت باب افعیلال سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ بھئی ایک ہے افعیلال، ایک ہے افعیلال، عین کے بعد یا بھی ہے، دیکھو حروف بڑھ گئے، جب حروف بڑھ گئے تو معنی بھی بڑھ گیا، معلوم ہوا اس کے اندر مبالغہ زیادہ ہے بھئی۔ خصوصیت نمبر تین اور چار بھئی لون اور عیب، ان دونوں بابوں میں رنگ اور عیب کے معنی پائے جاتے ہیں، لیکن زیادہ تر رنگ کے معنی ادا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے احمر اور احمارا، خوب سرخ ہوا، بہت سرخ ہوا، اور اسی طرح احولا اور احوالا، زیادہ مہنگا ہوا، مہنگا ہونا عیب ہے۔ احولا۔ احول کہتے ہیں مہنگا بھئی، جس کی آنکھوں میں عیب ہے بھئی، آنکھ ایک طرف آنکھ مڑی ہوئی ہو بھئی، بات سمجھ میں آیا تو یہ عیب ہے، تو یہ باب عیب کے لیے آتے ہیں، اسی سے احولا اور احوالا۔ آگے دیکھیے بھئی خصوصیات باب افعیوّال۔ افعیوّال، اس باب کی تین خصوصیات ہیں، نمبر ایک اقتضاب، نمبر دو مبالغہ، نمبر تین لزوم۔ نمبر ایک اقتضاب، بھئی اقتضاب پہلے سمجھ لو، ابتدا کی دو صورتیں تھیں آپ نے پڑھی تھیں، کیا صورتیں؟ کونسی دو صورتیں ہیں؟ نمبر ایک شروع ہی اس باب سے آیا ہے، مجرد سے آیا ہی نہ ہو۔ یاد رکھیے اسی کو اقتضاب بھی کہتے ہیں۔ البتہ ابتدا کی دوسری صورت بھی تھی، اور وہ کیا؟ مجرد میں اور معنی ہو اور مزید میں اور تو ابتدا میں گویا دو صورتیں آگئی تھیں، لیکن ان میں سے ایک صورت جو ہے اسی کو اقتضاب کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اقتضاب۔ یعنی جو ثلاثی مجرد سے آیا ہی نہیں ہے، سیدھا مزید فی وغیرہ کے اندر آگیا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ ابتداب بھی کہیں گے اور اقتضاب بھی کہیں گے بھئی۔ تو گویا اقتضاب اور ابتدا میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے، ہر اقتضاب ابتدا ہے۔ کیونکہ اقتضاب کی تو ایک ہی صورت ہے، اور وہ اسی کو ابتدا بھی کہتے ہیں، تو اقتضاب تو ابتدا ہے، لیکن ہر ابتدا اقتضاب نہیں ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے بھئی نمبر ایک اقتضاب، مرتذب لغت میں کٹے ہوئے کو کہتے ہیں، اور اصطلاح میں وہ مادہ و ماخذ ہے جس کی اصل یا مثل اصل نہ ہو، بلکہ شروع سے اس کی وضع اسی وزن پر ہوئی ہو، اور ایسے حرف الحاق اور حرف زائد سے خالی ہو، جو کسی معنی کے لیے ہو۔ توجہ ہے؟ شروع سے ہی اس کی وضع اسی وزن پر ہوئی ہے، یعنی مزید فی سے ہی آیا ہے، ثلاثی مجرد سے آیا ہی نہیں۔ اور ایسے حرف الحاق اور حرف زائد سے خالی ہو جو کسی معنی کے لیے ہو، بھئی آپ جانتے ہیں کبھی کبھار ثلاثی کے اندر کوئی حرف بڑھا کر اسے رباعی کے وزن پر لے جاتے ہیں اور اسے ملحق کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ملحق کہتے ہیں۔ جیسے جل باب سے کیا بنا لیا؟ جل بابا اور اسی سے آگے تجل بابا، باب بنا لیا، کیا بنا لیا؟ تو یہاں پر یہ باب یہ اصل میں اس کا مادہ تو ہے جلبا تو ایک باب بڑھا دی، کس لیے؟ الحاق کے لیے۔ ان بابوں میں یہ جو ان میں اقتضاب ہے، ان میں الحاق کے لیے کوئی حرف نہیں بڑھایا گیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ الحاق کے لیے کوئی حرف نہیں بڑھایا ہوتا۔ نیز یہ کہتے ہیں، ایسا حرف زائد جو کسی معنی کے لیے ہو وہ بھی اس میں نہیں ہوتا۔ توجہ ہے؟ ایک تو جو مرتذب ہے، اس میں کوئی حرف الحاق کے لیے نہیں ہوگا۔ اور دوسرا اس میں کوئی زائد حرف کسی معنی کے لیے نہیں ہوگا، کہ پہلے کسی ایک باب سے آتا تھا اور پھر اس میں کچھ حروف بڑھا کر دوسرے باب میں لے گئے، جیسے خرج، اس میں ایک حرف بڑھا دیا، اخارجا کہاں لے گئے باب افعال میں لے گئے، کس لیے؟ ایک خاص معنی حاصل کرنے کے لیے، اور وہ کیا تھا؟ متعدی بنانا۔ جیسے جلسہ سے کیا بنا لیا؟ اجلسہ، حمزہ بڑھا دیا، ویسے ہی بڑھایا یا کسی معنی کے لیے بڑھایا؟ معنی۔ کیا معنی تھا؟ متعدی بنانا مقصد تھا، تو یہاں ایسا نہیں ہوگا، یہاں وہ اسی باب سے آیا ہے، اس میں کوئی حرف الحاق کے لیے بھی نہیں ہوگا، اور اس میں کسی حرف کو معنی کی زیادتی کے لیے بھی بڑھایا نہیں گیا ہوگا، بات سمجھ میں آگئی۔ ویسے تو اس میں زائد حروف ہوں گے، یہ نہیں کہ زائد نہیں ہیں، مطلب یہ ہے کہ پہلے ایک باب میں آئے، پھر دوسرے باب میں آئے، یہ آیا ہی سیدھا ایک باب سے ہے، لہٰذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس میں ایک حرف اس مقصد کے لیے بڑھایا ہے، صورت سمجھ میں آگئی، حالانکہ جل بابا اور تجل بابا، دیکھو تا بڑھائی ہے یا نہیں؟ باب تفعل میں لے گئے تو وہاں ایک تا بڑھادی معنی حاصل کرنے کے لیے کہ متعدی سے کیا بن جائے؟ لازم بن جائے، جل بابا کا معنی چادر پہنانا اور تجل بابا کا معنی خود چادر پہننا، تو دیکھا لازم بنانے کے لیے تا بڑھا دی۔ یہاں ایسا نہیں ہے، یہ سیدھا براہ راست اسی باب میں استعمال ہوا ہے، تو اس میں کوئی حرف الحاق کے لیے بھی نہیں ہوتا، یعنی یہ ملحق ابواب میں سے بھی نہیں ہوگا، اور نیز اس میں کوئی حرف معنی کی زیادتی کے لیے بھی حرف ہوں گے، لیکن پھر انہی پر کوئی اور زیادتی کی جائے، تبدیلی کی جائے، کسی نئے باب میں لے جایا جائے، ایسا یہاں پر نہیں ہوگا، بات سمجھ میں آگئی۔ ورنہ افعیوال، اس میں زائد حروف ہیں کہ نہیں ہیں؟ افعولا۔ کیا کیا زائد ہیں؟ ہمزہ بھی شروع میں زائد ہے اور واؤ بھی زائد ہے، فا عین لام تو مادہ ہے نا؟ تو افعولا، تو یہاں پر واؤ بھی زائد، ہمزہ بھی شروع میں زائد۔ لیکن اسی میں پھر مزید تبدیلی کرکے کسی اور معنی کے لیے کسی اور باب میں لے جائیں، وہ یہاں پر نہیں ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ معنی نہیں کہ اس میں زائد حرف ہے ہی نہیں، زائد ہیں تو، لیکن یہ کہ یہ پہلے نہیں تھے اور پھر لے کر آئے، ایسا نہیں ہے، ان کو براہ راست اسی باب سے استعمال کیا۔ دیکھیے بھئی۔ تذب لغت میں کٹے ہوئے کو کہتے ہیں، اور اصطلاح میں وہ مادہ و ماخذ ہے جس کی اصل یا مثل اصل نہ ہو، بلکہ شروع سے اس کی وضع اسی وزن پر ہوئی ہو، اور ایسے حرف الحاق اور حرف زائد سے خالی ہو جو کسی معنی کے لیے ہو، جیسے اجلوزا، خوب تیز چلا۔ مرتذب کو مرتجل بھی کہتے ہیں۔ مرتذب کو مرتجل بھی کہتے ہیں، یعنی غیر منقول، مرتجل کا کیا معنی؟ غیر منقول۔ توجہ ہے؟ یعنی یہ کسی اور باب سے نقل ہو کر نہیں آیا کہ پہلے ثلاثی مجرد میں تھا اور پھر وہاں سے منقول ہو کر کہاں آگیا؟ ثلاثی مزید میں، نہیں نہیں، یہ غیر منقول ہے، مرتجل ہے، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو مرتجل کا کیا معنی؟ غیر منقول، یعنی یہ نقل نہیں کیا گیا، سیدھا براہ راست اسی باب میں آیا ہے۔ تو مرتذب کو مرتجل یعنی غیر منقول بھی کہتے ہیں، یعنی یہ ثلاثی مجرد سے منقول نہیں ہے۔ آگے دیکھیے، دوسرے لفظوں میں یوں بھی تعبیر کر سکتے ہیں، کہ مرتذب وہ مادہ ہے جو مجرد کے بغیر ابتدا مزید فی میں استعمال ہو، جیسے اجلوزا، کہ اس کا مجرد مستعمل نہیں۔ اور ایک اور بات یاد رکھنا۔ یہ باب اکثر مرتذب ہوتا ہے۔ یہ باب، یعنی اس باب سے جو لفظ آئیں گے، اکثر وہ مرتذب ہوں گے، ابتدان ہی اسی باب سے آئیں گے، مجرد میں مستعمل ہی نہیں۔ تو اکثر ایسا ہوگا، لازم نہیں ہے، کہ جو بھی صیغہ اس باب سے آئے، جو بھی کلمہ اس باب سے آئے، آپ کہیں اس میں اقتضاب ہوگا، نہیں نہیں، اکثر ہوگا، لیکن ہو سکتا ہے کبھی اقتضاب کے بغیر بھی ہو۔ یعنی ثلاثی وغیرہ میں بھی استعمال ہوا ہے، اور پھر اس میں بھی استعمال ہوا۔ تو یہ باب اکثر مرتذب ہوتا ہے، مگر اس کے ساتھ اقتضاب لازم نہیں ہے۔ نمبر دو، مبالغہ، اجلوز الفرس میں مبالغہ بھی ہے، گھوڑا تیز دوڑا۔ دیکھو ایک ہے دوڑنا اور ایک ہے تیز دوڑنا یہ مبالغہ آ گیا بھئی۔ گھوڑا تیز دوڑا۔ نمبر تین ہے لزوم۔ باب افعیوال اکثر لازم استعمال ہوتا ہے، جیسے اجلوزا۔ جیسے اجلوزا۔ کبھی متعدی بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے اعلوات البعیر۔ دیکھو معنی کیا لکھا ہے؟ اونٹ کی گردن پر لٹک کر سوار ہوا، یہ متعدی ہے۔ بھئی اونٹ اونچا جانور ہے، تو اس پر سوار ہونے کے لیے اس کو عموماً بٹھایا جاتا ہے، پھر اس پر سوار ہوتے ہیں، لیکن دیہاتی لوگ جو ہوتے ہیں وہ ماہر ہوتے ہیں، نوجوان جو ہیں، وہ اونٹ پر، اونٹ کی گردن سے لپٹ کر اس پر اوپر کی طرف سوار ہو جاتے ہیں، چڑھ جاتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ اعلواوات کہتے ہیں، اعلواوات، کوئی ایک شخص کہتا ہے میں اس طرح گردن پر لپٹ کر پھر اونٹ پر کھڑے کھڑے اونٹ کی گردن پر لپٹ کر میں اس پر سوار ہو گیا، تو اس کو کیا کہیں گے عربی میں؟ اعلواوات البعیر، میں اونٹ کی گردن سے لپٹ کر اونٹ پر سوار ہو گیا۔ معنی سمجھ میں آیا؟ یہ معنی ہے جیسے اعلواوات البعیر، اونٹ کی گردن پر لٹک کر سوار ہوا۔ یہ متعدی ہے۔ آگے دیکھیے بھئی، خصوصیات رباعی مجرد۔ رباعی مجرد کا ایک ہی باب ہے فاعللہ۔ اس باب کی خصوصیات بہت ہیں، چند مشہور خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔ دیکھا؟ اس باب کی خصوصیات بہت ہیں، بہت زیادہ خصوصیات ہیں، میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں، یہ خصوصیات جتنی آپ کو بتلائی جا رہی ہیں، انہی میں بند نہیں ہیں، اور بھی خصوصیات ہیں، لیکن موٹی موٹی اور مشہور خصوصیات یہ ذکر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ آگے دیکھیے چند مشہور خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں، نمبر ایک قصر، نمبر دو لباس ماخذ، نمبر تین اتخاذ، نمبر چار تعامل، نمبر پانچ مطاوعت خود۔ نمبر ایک قصر۔ قصر کسے کہتے تھے؟ ایک لمبے جملے کو مختصر کرکے اس کا ایک صیغہ بنا لیا جائے، ایک باب بنا لیا جائے۔ جیسے دیکھیے بھئی کتاب پر، جیسے بسملہ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی۔ یہ عربی میں یوں کہ قال بسم اللہ الرحمن الرحیم، کیونکہ ان میں قول کا معنی ہوتا ہے میں نے بتلایا تھا۔ ہل لالا کا کیا معنی تھا؟ قال لا الہ الا اللہ، کبر کا کیا معنی تھا؟ قال اللہ اکبر، اور سبحاحت کیا معنی؟ قال سبحان اللہ، دیکھا قال کا لفظ لانا پڑے گا اس میں۔ تو بسملہ کا کیا معنی؟ قال بسم اللہ الرحمن الرحیم، اسی طرح ہے حمدلہ۔ احمداللہ۔ احمداللہ، قال الحمدللہ رب العالمین، حمدلہ۔ حمدلہ، اسی طرح ہے حوقلہ۔ قال لا حول ولا قوۃ الا باللہ، حوقلہ۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ سارے قصر ہیں، اس ان سب میں قصر ہے، اور یہ معنی نہیں کہ آپ بھی بنا سکتے ہیں، نہیں، یہ عربوں سے ہم نے اسی طرح سنا ہے، جو سنے ہیں وہی باب استعمال کر سکتے ہیں، مزید اپنی طرف سے نہیں بنا سکتے۔ نمبر دو ہے لباس ماخذ، جیسے برق عتھا، میں نے اس کو برقع پہنایا۔ اس کا ماخذ برقع ان ہے بھئی، برقع ان، با پر بھی ضمہ ہے اور قاف پر بھی ضمہ ہے، جبکہ را ساکن ہے، برقع ان، تو اس سے باب بنا لیا۔ برقع، اور برقع کا کیا معنی؟ لباس ماخذ، ماخذ پہنانا، کیا معنی؟ برقع، برقع پہنانا بھئی۔ نمبر تین ہے اتخاذ، جیسے قنطرہ، اس نے بہت سارا مال جمع کیا۔ ماخذ قنطرہ تن ہے۔ ماخذ کیا ہے؟ قنطرہ تن، ہاں۔ تو، بہرحال اس کا زیادہ بہتر ترجمہ قنطرة کا معنی ہے وہ گول پل بنانا، جو نیچے سے گولائی ہو۔ بھئی آپ نے دیکھو اگر پرانے پل، پرانے پل، ان کے جو نیچے والا حصہ ہوتا ہے جن ستونوں پہ پل کھڑا ہوتا ہے، تو وہ ایک ستون سے دوسرے ستون تک درمیان میں یوں گول بنا ہوتا ہے، جیسے مسجد کی محراب نہیں ہوتی؟ جی۔ پھر اس دوسرے اس ستون سے اگلے ستون تک اسی طرح گول اوپر کی طرف گیا ہوتا ہے۔ یہ جو پل ہے خاص طریقے سے گولائی میں بنا ہوا، اس کو کہتے ہیں قنطرتن بھئی۔ عربی میں کیا کہتے ہیں؟ قنطرتن۔ তো ایسا پل بنانا، اسی سے فعل بنا لیا قنطرة۔ کیا معنی؟ یہ گولائی والا پل بنانا۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ جی۔ بہر حال اس لیے بہت سا انہوں نے ترجمہ کیا اس نے بہت سارا مال جمع کیا، یہ ترجمہ بھی اس کا آتا ہے، لیکن قنطرة، قنطرتن اس پل کو کہتے ہیں۔ نمبر چار ہے تعمل، تعمل، تعمل کسے کہتے تھے بھئی؟ ماخذ کو کام میں لانا، جس چیز کے لیے وہ بنا ہے، اسی کام میں اس کو لانا۔ دیکھیے بھئی ماخذ کو کام میں لانا، جیسے زعفر الثوب، اس نے کپڑا زعفرانی کیا، یعنی زعفرانی رنگا، یہ جو زعفران جانتے ہو بھئی؟ جی۔ یہ گھاس نما چیز ہے زرد رنگ کی بھئی، اور اس کو کھانوں وغیرہ میں بھی استعمال کرتے ہیں رنگ اور خوشبو کے لیے، اور نیز اس کو کپڑے وغیرہ کو رنگ دینے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں، تو اس کا زرد رنگ بھی ہوتا ہے اور خوشبو بھی ہوتی ہے۔ تو زعفر الثوب، اس نے کپڑا زعفرانی کیا، یعنی زعفران جیسا رنگ لیا کپڑے کو، ماخذ زعفران ہے، تو اسی کو، اسی کو دیکھو کام میں لے آئے، استعمال کر لیا، زعفران بھی کس لیے ہوتا ہے؟ رنگ اور خوشبو کے لیے، اسی کو عمل، کام میں لے آئے، نمبر پانچ ہے مطاوعة خود، اپنی مطاوعة کے لیے، مطاوعة کسے کہتے تھے؟ کہ ایک فعل پہلے ذکر ہو، اور دوسرا ایک فعل لا کر کے اس کے مطاوع فعل لا کر کے اس کے اثر کو ظاہر کریں، کہ مفعول نے فاعل کے اثر کو قبول کر لیا ہے، تو یہ اپنے بعد دوبارہ آ جاتا ہے۔ اپنی ہی مطاوعة کے لیے آتا ہے، جیسے دیکھو مثال، جیسے غطرش اللیل، بصرہ، فغطرشا، غطرش اللیل بصره، رات نے اس کی آنکھ کو تاریک بنا دیا، فغطرشا، تو وہ تاریک ہو گئی۔ دونوں باب وہ ایک ہی باب ہے، غطرشا بھی اور فغطرشا ایک ہی باب ہے، تو یہ اپنی ہی مطاوعة کے لیے آیا، معلوم ہوا غطرشا کے دونوں معنی آتے ہیں۔ تاریک کرنا بھی، اور تاریک ہونا بھی۔ تاریک کرنا بھی، اور تاریک ہونا بھی، تو دونوں کو استعمال کر لیا، پہلا جو کہا غطرش اللیل بصره، دیکھو مفعول آگے آ رہا ہے، معلوم ہوا یہ متعدی ہے، اور اگلا جو ہے فغطرشا، یہ کیا ہے؟ لازم ہے۔ غطرش اللیل بصره، رات نے اس کی آنکھ کو تاریک کیا، فغطرشا، تو وہ تاریک ہو گئی، کیا معنی تاریک کیا؟ تاریکی ہوگی، تاریکی میں دکھائی کم دیتا ہے، بینائی کچھ کم، بینائی ظاہر سی بات ہے کم ہو جائے گی، جتنی تاریکی زیادہ ہوگی اتنا ہی دکھائی نہیں دے گا، اور تھوڑی بہت روشنی ہوگی تو دکھائی دے گا، تو فغطرش اللیل بصره، رات نے اس کی آنکھ کو تاریک بنایا، یعنی کوئی تاریکی زیادہ ہوگی کسی رات میں، چاند نہ نکلا ہوا ہو، تو تاریکی زیادہ ہوتی ہے رات کو۔ آگے بھئی، فائدہ! اس بات کی لفظی خاصیت یہ ہے کہ اکثر صحیح و مضاف سے استعمال ہوتا ہے۔ جو بھی کلمات اس باب سے آئیں گے وہ اکثر صحیح ہوں گے یا مضاف ہوں گے، یا اسی طرح مہموز بھی آتے ہیں اس باب سے، البتہ وہ قلیل ہیں بھئی۔ جیسے زلزلہ، دیکھو یہ مضاف ہے، حصحصہ، یہ بھی کیا ہے؟ مضاف ہے، وسوسہ، یہ بھی کیا ہے؟ مضاف، تو صحیح بھی ہیں اور مضاف بھی ہیں کیونکہ کوئی حرف علت یا ہمزہ وغیرہ نہیں ہے۔ زلزلہ، زلزلہ برپا کرنا بھئی، حرکت دینا، حصحصہ، ظاہر ہونا، ظاہر ہونا۔ وسوسہ، وسوسہ ڈالنا، وہم ڈالنا۔ آگے دیکھیے بھئی، ابواب رباعی مزید فی، خاصیات باب تفعلل، اس باب کی تین خاصیتیں ہیں، نمبر ایک اقتضاب، نمبر دو تحول، نمبر تین مطاوعة فعللة۔ نمبر ایک اقتضاب، جیسے تہمبرسا، ناز سے چلا۔ کوئی ناز اور نخروں کے ساتھ چلے تو عربی میں کیا کہتے ہیں؟ تہمبرسا فلان، وہ بڑے ناز اور نخروں سے چلا۔ یہ مادہ مجرد میں استعمال نہیں، اور ایسے حرف الحاق و زائد سے خالی ہے جو کسی معنی کے لیے ہوں، وہ یہی اقتضاب کی تفصیل بیان کر دی، اقتضاب میں بھی کیا ہوتا ہے؟ مجرد میں استعمال نہیں ہوتا، اور حرف الحاق و زوائد سے خالی ہوتا ہے۔ نمبر دو تحول، فاعل کا عین ماخذ، یا مثل ماخذ ہونا، جیسے تزندق الرجل، وہ آدمی زندیق بن گیا، ماخذ زندقہ ہے، ماخذ کیا ہے؟ زندقہ کا معنی ہے بد دین ہونا۔ بد دین ہونا۔ تو اسی سے فعل بنا لیا تزندق الرجل۔ آپ عموماً پڑھیں گے بھئی، کہ زندیق جو ہے اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ زندیق کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اور یہ بڑا محل اشکال ہے، توبہ تو ہر ایک کی قبول اللہ فرما لیتے ہیں، کوئی ساری زندگی شرک کرتا رہے، آخر عمر میں آ کر شرک کو چند لمحوں کے لیے چھوڑ دیا، توبہ کر دیا اور ساتھ ہی اس کی موت آ گئی، وہ کدھر جائے گا؟ جنت۔ توبہ کر لی، اسلام پر وہ آ گیا، شرک چھوڑ دیا تو توبہ تو شرک والے کی بھی معاف ہو جاتی ہے، پھر یہ کیا معنی زندیق کی توبہ قبول نہیں۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ جی۔ توبہ تو ہر ایک کی قبول ہے، بس آئے وہ ہدایت سیدھے راستے کی طرف آئے بھئی، توحید کی طرف آ جائے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان لے آئے اور اور دیگر جو اسلامی عقائد ہیں ان سب کو مان لے، تو بس سارے گناہ ختم۔ لیکن کہتے ہیں زندیق کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اور علماء نے اس کی مختلف وجوہات اور تقاریر اس پر کی ہیں، والد صاحب رحمہ اللہ اس کی عجیب تقریر فرماتے تھے، وہ فرماتے تھے زندیق وہ شخص ہے، جو بظاہر اسلام کا کام کر رہا ہے، اس کا دعویٰ کیا ہے؟ میں کس کا کام کر رہا ہوں؟ اسلام کا۔ اسلام کا، لیکن دراصل وہ اسلام کی جڑیں کاٹ رہا ہے، اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہے، لیکن اس کا دعویٰ یہ ہوتا ہے میں اسلام کا کام کر رہا ہوں اور بڑے فخر و فخر و تکبر کے ساتھ اس کام کو کرتا ہے کہ میں اسلام کی خدمت سرانجام دے رہا ہوں۔ تو جب یہ اس کے ذہن میں یہ ہوگا، کہ میں اسلام کی خدمت کر رہا ہوں، تو وہ کبھی توبہ کرے گا؟ جی؟ وہ تو توبہ کرے گا ہی نہیں، اس کا تو خیال ہی یہ ہے کہ میں تو ٹھیک راستے پر ہوں، میں تو ٹھیک چل رہا ہوں، میں نے تو غلطی کوئی نہیں کی، توبہ تو تب کی جاتی ہے جب انسان کس چیز کا خیال آئے؟ غلطی کا خیال آئے کہ میں نے تو غلط چونکہ اس کا گمان خیال ہی یہ ہوتا ہے کہ میں تو اسلام کی خدمت کر رہا ہوں، حالانکہ دراصل وہ کیا کر رہا ہے؟ اسلام کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے، اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتا جا رہا ہے۔ تو ایسے شخص کو زندیق کہتے ہیں، اور اس کی توبہ قبول نہیں، کیونکہ یہ توبہ کرتا ہی نہیں، اس کو خیال ہی نہیں آتا کبھی کہ میں نے غلط کیا ہے کچھ بھئی۔ جیسے پرویز ایک شخص گزرا ہے، غلام احمد پرویز بھئی۔ منکر حدیث تھا، حدیث کا انکار کرتا تھا، اور اس نے تفسیر بھی لکھی، اور بڑے بڑے دن رات قرآن کی تفسیر کرتا، دینی تقاریر کرتا، اور جیسے اسلام کی بڑی خدمت کر رہا ہے، اس نے کئی کتابیں لکھیں اور انسان حیران رہتا ہے ایسی زبردست کتابیں، لیکن ساتھ ساتھ وہ اپنی وہ گمراہی کے بیج بھی بوتا چلا جاتا ہے، جو اس کو پڑھتا ہے متاثر ہوتا ہے بھئی۔ علماء نے اس کو، یہ منکرین حدیث کو کافر قرار دیا ہے بھئی۔ تو یہ اس اسی حالت میں اس کا انتقال ہوا، تو اس کا خیال تو تھا میں سب سے بڑھ کر میں صحیح طریقے سے دین کی خدمت کر رہا ہوں، باقی اور کوئی دین کی خدمت آج کے زمانے میں علماء وغیرہ نہیں کر رہے۔ تو یہ تو کبھی اس کو تو توبہ کا خیال بھی نہیں آیا، توبہ کا خیال آتا تو توبہ کرتا، تو یہ ہے زندیق کی مثال بھئی، دیکھا؟ بغیر توبہ کے ہی چلا گیا۔ یہ زمانہ حال میں دوسری مثال لے لو، جاوید احمد غامدی بھئی۔ وہ اسلام کو بڑا زبردست نقصان پہنچا رہا ہے، لیکن اس کا خیال یہ ہے کہ میں اسلام کی خدمت کر رہا ہوں، میرے جیسی خدمت تو آج تک کسی نے اسلام کی کی ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ یہ ایسا عجیب شخص ہے، یہ کہتا ہے، یہ جو گانا بجانا اور میوزک ہے، اور یہ چیزیں جائز ہیں بھئی۔ یہ کہتا ہے داڑھی رکھنا کوئی سنت نہیں ہے۔ داڑھی رکھنا کوئی سنت نہیں ہے، یہ عربوں کی عادت تھی، وہ داڑھی رکھا کرتے تھے، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی رکھی، اور اس طرح کی وہ باتیں کرتا ہے، یہ نئی نئی چیزیں ذکر کرتا ہے، اپنے خیال میں وہ اسلام کی زبردست خدمت کر رہا ہے، اس لیے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ کبھی توبہ کر لے، ہاں اگر کبھی زندگی میں خیال آ گیا، پھر تو توبہ کرے، پھر تو توبہ قبول ہو جائے گی۔ لیکن جس حالت میں وہ چل رہا ہے، اس کا تو خیال ہے میں سب سے زیادہ اسلام کی خدمت کر رہا ہوں، اور لوگوں پر بھی اس کا بڑا اثر ہے، بڑی زبردست زبان ہے، یہ زبان عجیب چیز ہے بھئی۔ آپ پوری دنیا میں غور کر لیں اس وقت، سب لوگ اس زبان کے پیچھے ہیں۔ جس کو اللہ نے اچھا بولنے کا ملکہ دے دیا، سارے اس کی تعریف کرتے ہیں، اور پھر اسی زبان سے وہ چاہے تو دین کا کام کرے، چاہے تو وہ کیا کرے؟ دنیا کا کام کرے، دونوں، چاہے سیدھے راستے پر چلے، چاہے گمراہی کی طرف چلا جائے۔ یہ گمراہ لوگوں کے ساتھ بہت لوگ ہوتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ کے پاس بھی زبان ہوتی ہے، وہ بولتے ہیں بھئی، سننے والوں پر اثر ہوتا ہے ان کے بولنے کا بھئی، تو یہ زبان ایسی چیز ہے کہ جس کو اللہ نے زبان دے دی، زبردست بولنا دے دیا، پھر اس نے اس کو دین کے لیے استعمال کیا، تو بہت دینی کام کر جائے گا، اور اگر اس نے اس کو گمراہی کی طرف استعمال کیا، تو بڑی گمراہیاں پھیلاتا چلا جائے گا بھئی۔ تو آج کے زمانے میں جاوید احمد غامدی اسی طرح کا کام کر رہا ہے، اللہ تعالی اس کے شر سے تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے بھئی۔ اور اس کا دعویٰ یہ ہے میں دین کی خدمت کر رہا ہوں۔ تو اس یہ ہے زندیق کی مثال، تو یعنی یہ گمراہ ہے بھئی، گمراہ۔ آگے دیکھیے بھئی، کتاب پر۔ نمبر تین، مطاوعة فعللة، جیسے دحرجتہ فتدهرجا۔ دحرجا آپ پڑھ رہے ہیں بھئی، ابواب صرف میں بھی، پتھر کو اوپر سے نیچے کی طرف لڑھکانا۔ پہاڑ کے اوپر سے ایک آپ پتھر پھینکتے ہیں، وہ گھومتا گھومتا نیچے کی طرف آتا ہے، اسے کہتے ہیں لڑھکنا۔ تو میں نے پہاڑ سے پتھر لڑھکایا، پس وہ لڑھک گیا، تو عربی میں کیسے کہیں گے؟ دحرجتہ فتدهرجا، تو دحرجتہ فتدهرجا، تو تدهرجا کس کا مطاوع ہے؟ دحرجا کا، یعنی باب تفعلل کس کا مطاوع بن رہا ہے؟ فعللہ کا بھئی، فعللہ۔ یہ معنی ہے مطاوعة فعللہ، جیسے دحرجتہ فتدهرجا، میں نے پتھر لڑھکایا، پس وہ لڑھک گیا۔ آگے دیکھیے بھئی، خاصیات باب افعلال و افع لالل۔ अच्छा، یہ دونوں باب اکٹھے کر دیے ہیں، کیونکہ دونوں کی خاصیتیں ایک جیسی ہیں تقریبا۔ ان دونوں بابوں کی تین تین خاصیات ہیں، نمبر ایک لزوم، نمبر دو اقتضاب، نمبر تین مطاوعة فعللة۔ نمبر ایک لزوم، جیسے اعنجرا، افعال لالا باب ہے دیکھو، وہ بہہ گیا، اعنجرا کا کیا معنی؟ وہ بہہ گیا پانی میں۔ اور اسی طرح آگے ہے، اِفحر النجم، یہ باب افعال لالا ہے۔ اِفحرا، افعللا یفعللو افعللال۔ اچھا۔ اور جیسے اِفحر النجم، یہ افعللا ہے دیکھو، انتہائی تاریکی میں ستارہ چمک اٹھا، چمک گیا، دیکھو یہ لازم ہے۔ وہ بہہ گیا، بہنا بھی لازمی ہے، مفعول نہیں چاہیے، اور ستارے کا چمکنا بھی لازمی ہے، اس کے لیے مفعول نہیں چاہیے۔ نمبر دو ہے اقتضاب، جیسے اعرنَفَطَا۔ منقبض ہوا، ترش رو ہوا، منقبض ہونا، یعنی طبیعت بند ہونا، ایک ہے انسان کی طبیعت کھلی ہو، خوش ہو، تو اس کے چہرے پر بشاشت ہوتی ہے۔ چہرے سے ہی پتہ لگتا ہے انسان خوش ہے بھئی، چہرہ چمک رہا ہوتا ہے، اور جب کبھی پریشانی اور غم میں ہوتا ہے، یا کوئی ایسی بات پیش آئے جو اسے پسند نہ ہو، تو چہرے سے ہی پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ اس وقت خوش نہیں ہے، تو وہ جو منقبض ہونا ہے، ترش رو ہونا، یعنی چہرہ چہرے پر ناگواری کے آثار آ جانا، اس کو عربی میں کہتے ہیں اعرنَفَطَا، اعرنَفَطَا فلان، فلان کے چہرے پر ناگواری آ گئی، وہ ترش رو ہوا، منقبض ہوا، تو منقبض ہونے کا معنی بھی چہرے پر ناگواری کے آثار ات آنا۔ اور ترش، ترش رو ہونے کا بھی یہی معنی ہے۔ آگے دیکھیے، اِفحرَا، انتہائی تاریکی میں ستارہ چمک گیا۔ دیکھا، یہ دیکھو اقتضاب ہے، اقتضاب دونوں میں۔ یعنی مجرد میں یہ استعمال ہی نہیں ہے مادہ۔ نمبر تین ہے مطاوعة فعللة، یعنی رباعی مجرد کے مطاوع ہونا، جیسے سعجرتہ فصعنجرا، میں نے اس کا خون بہایا، پس وہ بہہ گیا۔ تو پہلا متعدی ہے اور دوسرا لازم، اور یہ پہلا کون سا ہے؟ فعللہ، سعجرتہ، فعللتہ بھئی، دحرجتہ، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ فعللہ۔ اور آگے دیکھیے اور مثال، طمأنته فاطمأن، میں نے اس کو مطمئن کیا، پس وہ مطمئن ہو گیا۔ طمأنته فاطمأن، تو یہ بھی مطاوع ہے کس کا؟ باب فعللہ کا، پہلا باب فعللہ ہے اور دوسرا کون سا ہے؟ تو اقدمانا، یہ کیا ہے باب افعلاللہ ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی الحمد للہ یہ ہمارا نصاب کا جو حصہ تھا وہ مکمل ہو گیا، آپ سب حضرات کو بھی مبارک ہو بھئی! یہ موسیقہ بھی ختم ہوئی، اور یہ خاصیات ابواب بھی مکمل ہو گئے۔ یہ ساری باتیں اچھی طرح سمجھ میں آ گئی ہیں؟ کوئی مشکل تو نہیں؟ اور ان کو آپ نے خوب اچھی طرح یاد کرنا ہے بھئی، خوب ازبر کرنا ہے قل ہو اللہ کی طرح، یہ بڑی قیمتی چیزیں ہیں، اور یہ جو مختلف خاصیات ذکر ہوئیں، پھر انہی کے مطابق ترجمہ بھی کرنا ہے، جہاں جہاں پر یہ صیغے آئیں گے، تو اس کے مطابق آپ نے ترجمہ کرنا ہے بھئی۔ جی۔ کچھ کہنا تھا؟ نصیحت۔ دو باتوں کی خاص طور پر میں آپ کو نصیحت کر دیتا ہوں، جو والد صاحب رحمہ اللہ اکثر ہمیں فرماتے بھئی۔ ویسے تو ہر چیز میں نصیحت فرماتے تھے، لیکن دو باتوں پر زیادہ زور دیتے تھے، وہی میں آپ کے سامنے ذکر کر دیتا ہوں۔ بس دو باتوں کا خاص طور پر خیال رکھنا ہے، ایک تو یہ کہ لقمہ حرام سے اپنی حفاظت کرنی ہے۔ حرام مال سے اپنی بھی، اپنے گھر والوں کی بھی، اور اپنی اگلے آنے آنے والی نسلوں کی بھی آپ نے حفاظت کرنی ہے۔ یاد رکھو علماء فرماتے ہیں یہ حرام کی اتنی زیادہ بدبو ہوتی ہے، کہ کسی مردہ جانور کی بھی اتنی بدبو نہیں ہوتی۔ لیکن وہ الگ ہے، اللہ نے پردے ڈالے ہوئے ہیں، دکھاتے نہیں ہیں۔ اور حرام کا نقصان بہت زیادہ ہے یہ نسلوں تک چلتا ہے نقصان بھئی۔ تو حرام سے اپنے آپ کو بچانا، اور حرام بظاہر جلدی سے کہیں سے پیسے مل گئے، دیکھنے میں بڑا اچھا لگتا ہے کہ لیکن یہ پیسے اسی طرح نکل جاتے ہیں بھئی کہیں کوئی بیماری آ جاتی ہے، کبھی کوئی تکلیف آ جاتی ہے، کبھی کچھ وہ پیسے اسی طرح ختم ہو جاتے ہیں ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور پھر اس کی جو نحوست اور بے برکتی ہے وہ باقی رہ جاتی ہے۔ تو حرام مال سے اپنی حفاظت کرنی ہے بھئی ذرے ذرے سے بھئی۔ اور آج کل لوگوں نے حرام اور حلال کا فرق ہی چھوڑ دیا ہے، یہ دیکھتے ہی نہیں ہے یہ پیسہ کس طریقے سے آ رہا ہے۔ دکاندار ہے، دکان پر بیٹھا ہوا ہے، چیز بیچ رہا ہے، اور اب دیکھو بیچارہ سارا دن بھی لگاتا ہے، محنت بھی کرتا ہے، لیکن شام کو جب گھر آتا ہے تو سارا اس نے حرام اکٹھا کیا ہوتا ہے اور لوگوں کو وہ کہتا ہے کہ میں تو حلال کماتا ہوں، اس کا اپنا خیال ہوتا ہے۔ حرام کس طرح ہوتا ہے؟ وہ سودے کے اندر تھوڑا سا جھوٹ بول دیتا ہے بس، فورا کمائی حرام میں بدل گئی۔ مثلا گاہک نے کہا یہ چیز مجھے بیس کی نہ دو بھئی، اٹھارہ کی دے دو۔ یہ گاہک کو کہتا ہے بھئی انیس میں تو میں نے خریدی تھی۔ حالانکہ اس نے انیس میں نہیں خریدی۔ اس نے تو سستی خریدی تھی۔ دیکھو تھوڑا سا جھوٹ ملایا، تو دھوکا بن گیا یا نہیں؟ اب دھوکا بن گیا اور دھوکے سے جو بھی کمایا جائے وہ کیا ہوتا ہے؟ حرام ہوتا ہے۔ تو اب بیچارے نے سارا دن دکان پر گزارا بھی، اور جس جس کے ساتھ اس نے اس طرح کوئی لفظ جھوٹ بول کر کہا، وہاں دھوکا آتا چلا گیا اور مال حرام ہوتا چلا گیا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو اگر جھوٹ کہیں نہیں بولا پھر تو جائز ہے، پھر تو ٹھیک ہے۔ تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو بھی جاننے والوں کو بھی بتائیں کہ کوئی چیز بیچنے لگیں، اگر گاہک زیادہ سستی کرنے کا کہہ رہا ہے، تو بس اس کو صرف اتنا کہیں بھئی اس سے زیادہ میں سستی نہیں کر سکتا۔ جھوٹ نہ بولو، جھوٹ بولو گے دھوکا بن جائے گا اور وہ حرام بن جائے گا۔ تو ایک تو حرام سے اپنے آپ کو بچائیں اور دوسرا کسی کو آپ کے ہاتھ سے تکلیف نہ پہنچے۔ کسی کو آپ کے ہاتھ سے تکلیف نہ پہنچے بھئی۔ آج کل یہ مرض بہت عام ہو گیا ہے۔ سب لوگ ایک دوسرے کو تکلیف دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ حد سے زیادہ ایک دوسرے کو تکلیف دے رہے ہیں بھئی، حد سے زیادہ۔ اور پھر بڑے خوش ہوتے ہیں کسی کو تکلیف دے کر، اپنے ساتھیوں میں بھی ذکر کرتے ہیں کہ اس نے مجھے اتنی تکلیف پہنچائی تھی، میں نے اتنے گناہ زیادہ پھر اس کو تکلیف پہنچائی اور قہقہے لگاتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ حالانکہ حدیث میں تو آتا ہے المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویدہ۔ مسلمان تو وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں، محفوظ رہیں بھئی۔ تو اور زبان، زبان کی لوگ پروا ہی نہیں کرتے کہ زبان سے ہم نے کوئی ہاتھ سے تو نہیں کسی کو مارا نا، زبان سے ہی بات کی ہے، یاد رکھو بھئی، زبان ہی سب سے زیادہ انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔ ایک ایک چیز آپ کی لکھی جا رہی ہے بھئی۔ اور اس کے مطابق جزا و سزا ہوگی بھئی۔ زبان کو ہم معمولی سمجھتے ہیں، بھئی زبان ہی تو سب سے بڑی چیز ہے، زبان سے ہی کوئی کفر و شرک کرے تو آپ اس کو کافر اور مشرک کہہ دیتے ہیں یا نہیں؟ اور زبان سے ہی کوئی بیوی کو طلاق دے تو طلاق ہو جاتی ہے کہ نہیں؟ زبان سے ہی اگر اس وقت تو غلام نہیں ہے، زبان سے ہی غلام کو کہہ دیتے تو آزاد ہے، تو بس وہ آزاد ہو جاتا ہے، بات ہی ختم، اس میں واپسی کی کوئی صورت ہی نہیں اور زبان سے انسان توبہ وغیرہ سب کچھ کرتا ہے، تو سارا عمل دخل زبان کا ہی ہے اور ہم سمجھتے ہیں شاید زبان کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں، میں نے تو زبان سے ہی بات کی، چلو کوئی بات نہیں، نہیں نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ بلکہ ہاتھ اور ہاتھ کا پہنچایا ہوا زخم تو بھر جاتا ہے۔ اور زبان کا پہنچایا ہوا زخم بھرتا نہیں ہے، کسی کو آپ نے زبان سے تکلیف دی وہ ہمیشہ یاد رہتی ہے اور دل کو تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ جراح السنان لھالت یامو ولا یلتام ما جرح اللسان۔ نیزوں سے زخم کسی کو لگا دو وہ زخم تو ٹھیک ہو جائے گا لیکن زبان سے کسی کو زخم دے دو تو وہ ٹھیک نہیں ہوتا۔ سمجھ میں آیا؟ اور ہاں تو کسی کو تکلیف، ہنسی مذاق بھی آپس میں کرو خوشگوار انداز میں دوسرے کو جو پسند ہو، ایسا مذاق بھی نہ کرو جس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے۔ تو حاصل یہ کہ بس ایک تو اپنے آپ کو حرام سے بچائیں اور دوسرا کسی کو آپ کے ہاتھ سے تکلیف نہ پہنچے۔ مومن تو سراپا رحمت ہے، وہ تو جہاں جاتا ہے لوگوں کو اس سے خیر ہی خیر پہنچتی ہے، فائدہ ہی فائدہ پہنچتا ہے، کسی کو تکلیف اور نقصان نہیں پہنچتی بھئی۔ تو اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کے مطابق چلنے کی توفیق نصیب فرمائے بھئی۔ آئیے بھئی اب دعا کر لیں آخر میں۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین۔ دعا کا طریقہ یاد رکھیں بھئی۔ شروع میں دعا کے ہمیشہ الحمد للہ پڑھیں، اس کے بعد چند مرتبہ درود شریف پڑھ لیں اور پھر آخر میں بھی آمین ہو اور چند دفعہ درود شریف ہو، اس سے دعا قبولیت کے قریب تر ہو جاتی ہے۔ آئیے ہم بھی اسی طریقے کے مطابق دعا کر لیتے ہیں۔ الحمد للہ رب العالمین، اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی آلہ و صحبہ و بارک وسلم، و صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی آلہ و صحبہ و بارک وسلم، و صل علی محمد و علی آلہ و صحبہ و بارک وسلم۔ اے اللہ! اے اللہ ہمارے اس بیٹھنے کو قبول فرما। اے اللہ ہم نے اس مجلس کے اندر ایک کتاب مکمل ختم کی اور دوسری کتاب کا کچھ حصہ پڑھا۔ اے اللہ ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما। اے اللہ اس میں ہم سے کوئی کوتاہیاں ہوئی ہوں، اے اللہ کوئی لغزش ہوئی ہو، اے اللہ ان سب کو معاف فرما। اے اللہ ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما। اے اللہ ہم سب کو سنتوں پر عمل کرنے والا بنا। اے اللہ ہم سب کو سنتوں کو پھیلانے والا بنا। اے اللہ ہم شرک و بدعات اور گمراہیوں سے ہم سب کی حفاظت فرما। اے اللہ ہم سب کو شرک و بدعات اور گمراہیاں مٹانے والا بنا। اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما। اے اللہ یقیناً ہمارے گناہ بہت زیادہ، لیکن اے اللہ آپ کی رحمت تو بڑی وسیع ہے اور اے اللہ بالخصوص یہ مجلس بھی یقیناً مبارک مجلس ہے، جہاں اے اللہ آپ کے دین کی دو کتابیں پڑھی گئیں۔ اے اللہ ہماری اس مجلس کو قبول فرما। اے اللہ اس مجلس کی برکت سے ہمارے گناہوں کو معاف فرما। اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما। اے اللہ ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما। اے اللہ ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما। اے اللہ قیامت کے دن ہم آپ کے دربار جلال و جمال میں حاضر ہوں، تو اس طور پر کہ آپ بھی ہم سے راضی ہوں اور آپ کا حبیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہم سے راضی ہوں۔ اے اللہ ہمارے ان سب کے گناہوں کو معاف فرما। اے اللہ! اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ ان کو خوشیوں والی زندگی نصیب فرما। اے اللہ ان میں سے ہر ایک کو بڑا عالم و مدرس فرما। اے اللہ سب کو اخلاص کے ساتھ اور حکمت کے ساتھ دین کا کام کرنے والا بنا। اے اللہ ان میں سے ہر ایک کو ایسی شمع بنا دے جس سے آگے مزید لاکھوں شمعیں روشن ہوں اور تا قیامت یہ سلسلہ چلتا رہے۔ اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما। اے اللہ جتنے حاضر، جتنے طلبہ ہیں، اے اللہ ہم سب، اے اللہ ہم سب کی تمام حاجتوں کو پورا فرما। اے اللہ تمام مشکلات کو حل فرما। اے اللہ سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما। اے اللہ گھروں میں کوئی بیمار ہے، اے اللہ اس کو شفا نصیب فرما। اے اللہ صحت نصیب فرما। اے اللہ ہمارے جو عزیز و اقارب وفات پا چکے ہیں ان کی مغفرت فرما، ان کی قبروں کو منور فرما। اے اللہ ان کے درجات بلند فرما। اے اللہ میرے والد محترم حضرت شیخ رحمہ اللہ، اے اللہ ان کے بھی کروڑوں ہا درجات بلند فرما। اے اللہ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے والا بنا। اے اللہ ان کی طرح ہمیں قبولیت اور مقبولیت نصیب فرما। اے اللہ ہماری لغزشات کو معاف فرما। اے اللہ ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما। اے اللہ اس فتنے کے زمانے میں تمام عالم کے اندر مسلمان بڑی تکلیف میں ہیں، ان پر ہر جگہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اے اللہ تمام مسلمانوں کی مدد و نصرت فرما। اے اللہ ان کی حفاظت فرما। اے اللہ ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما। اے اللہ ان کے لیے آسانیاں فرما। اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو پھر عروج نصیب فرما। اے اللہ مسلمانوں کو پھر دین کی طرف لوٹا دے। اے اللہ مسلمان دین سے دور چلے گئے، اے اللہ ان کو پھر دین کی طرف لوٹا دے। اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو پھر عروج نصیب فرما। اے اللہ دنیا کے مختلف ممالک میں جگہ جگہ، ہر جگہ دنیا میں، ہر جگہ مسلمانوں پر بے انتہا ظلم و ستم کیے جا رہے ہیں، اے اللہ کشمیر ہے، فلسطین ہے، برما ہے، افغانستان ہے، ہندوستان ہے، چین ہے، ہر جگہ مسلمانوں پر بے انتہا ظلم و ستم کیا جا رہا ہے۔ اے اللہ! اے اللہ سب کی مدد فرما। اے اللہ سب مسلمانوں کی حفاظت فرما। خاص طور پر چین کے مسلمانوں کے لیے تو خصوصی دعا کرو، ان پر تو اتنا ظلم کیا جا رہا ہے کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، ان کے شہر کے شہر بالکل ویرانوں میں بدل گئے ہیں، مسلمانوں کو انہوں نے ایسا مٹا دیا، ختم کر دیا ہے، اور تکلیف کی بات یہ ہے تو دنیا میں جہاں کہیں مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے اس کی خبریں اخبارات وغیرہ میں آ جاتی ہیں، لیکن چین میں تو کسی خبر کو بھی باہر تک نہیں پہنچنے دیتے، اے اللہ چین کے مسلمانوں کی بالخصوص مدد و نصرت فرما। اے اللہ ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما। اے اللہ ان کے لیے پھر کسی صلاح الدین ایوبی اور کسی محمد بن قاسم کو بھیج دے۔ اے اللہ جو ان پر ظلم و ستم کرنے والے ہیں، اے اللہ ان کو ذلیل و رسوا فرما। اے اللہ ان کو تباہ و برباد فرما। اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما। اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما। اے اللہ ہمارے جو عزیز و اقارب وفات پا چکے ہیں، اے اللہ ان سب کی قبریں منور فرما। ان کی لغزشوں سے درگزر فرما। اے اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما। اے اللہ ہم سب کو ایمان والی قبر نصیب فرما। اے اللہ قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کے بھی ایمان کی حفاظت فرما। اے اللہ ہم سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما। اے اللہ قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کو بھی وسیع حلال رزق نصیب فرما। اے اللہ حرام کے ذرے ذرے سے ہماری حفاظت فرما। اے اللہ قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حرام سے حفاظت فرما। اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ سب کو خوشیاں نصیب فرما। اے اللہ سب کو، اے اللہ سنتوں پر عمل کرنے والا بنا। اے اللہ سب کو بدعات اور گمراہیاں مٹانے والا بنا। اے اللہ سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما। اے اللہ سب کے حرام کے ذرے ذرے سے حفاظت فرما، اور اے اللہ ان تا قیامت ان کے فیض ان کے فیض کو مزید بڑھا دے۔ اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما। میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے، کچھ بیمار بھی رہتا ہوں اور بھی کچھ مسائل ہیں، تکالیف ہیں، دعا فرما اے اللہ صحت نصیب فرما। اے اللہ صحت نصیب فرما। اے اللہ جو مشکلات اور پریشانیاں ہیں دور فرما। اے اللہ ہر فتنے اور آزمائش سے حفاظت فرما। اور میری والدہ بھی بیمار رہتی ہیں، ان کے لیے بھی دعا کی درخواست ہے، اے اللہ ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر صحت اور عافیت اور خوشی اور مسرتوں کے ساتھ قائم و دائم فرما। اے اللہ ہمیں ان کی خوب خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرما। اے اللہ جتنے حاضر حاضرین ہیں، طلبہ ہیں، اے اللہ ان کے والدین کا سایہ بھی ان کے سروں پر تادیر صحت، عافیت، خوشی اور مسرت کے ساتھ قائم و دائم فرما। اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما। اے اللہ تمام مشکلات حل فرما। اے اللہ ہمارے اس پڑھنے، اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما। اے اللہ! یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین۔ بہت سے لوگ بھی دعاؤں کا کہتے رہتے ہیں، اے اللہ آپ عالم الغیب ہیں، سب کو جانتے ہیں، اے اللہ ان سب کی مشکلات بھی حل فرما। اے اللہ ان کی تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما। اے اللہ ان کے کاموں میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو دور فرما। اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما। اے اللہ ہم سب کو صحت اور عافیت اور تندرستی کے ساتھ دین کا کام کرنے والا بنا। اے اللہ اخلاص و حکمت کے ساتھ دین کا کام کرنے والا بنا। اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما। اے اللہ تمام مشکلات حل فرما। اب دو تین منٹ تک آپ کے دل میں جو جو دعائیں ہوں وہ خاموشی سے مانگ لیں۔ اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما। اس مدرسے کے لیے بھی دعا کریں، اے اللہ اس کو تا قیامت دین کا عظیم مرکز فرما। اے اللہ بلکہ دین کے مراکز کے لیے اس کو مرکز بنا دے। اے اللہ دین کے مراکز کے لیے اس کو مرکز بنا دے। اے اللہ ہر شر اور فتنے سے اس کی حفاظت فرما। اے اللہ اس کو ہم سب کے لیے عظیم صدقہ جاریہ فرما। اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما। اے اللہ اپنے ہمیں نیک حاکم نصیب فرما، اے اللہ ان کی حفاظت فرما। اے اللہ ان کو اپنے وعدے احسن طریقے سے پورا کرنے کی توفیق نصیب فرما। اے اللہ، اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما। اے اللہ، اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما। صلی اللہ تعالی علیہ۔ اللہ۔ چلیے جی ماشاءاللہ مبارک ہو بھئی سب کو مبارک، الحمد للہ۔