اچھا بھئی! گزشتہ سبق میں ہم نے خاصیات کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ میں نے بتلایا تھا کہ خاصیات وہ باب کے کچھ خاص معنی کہ اس باب سے جو بھی لفظ آئے، اس کو وہ اپنے معنی کا اثر دے دیتے ہیں۔ اس میں وہ معنی شامل ساتھ ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی فعلِ لازم ہو اور عرب نے اس کو متعدی بنانا ہو، متعدی استعمال کرنا ہو، تو اس کو پھر وہ عموماً بابِ افعال میں لے جاتے ہیں۔ اور بابِ افعال میں جا کر وہ متعدی ہو جاتا ہے، جیسے جلسہ، یہ لازمی ہے۔ جلسہ کا معنی ہے بیٹھنا۔ جلس تو میں بیٹھا، اس کے لیے کسی مفعول کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر میں چاہتا ہوں کہ اس کو متعدی استعمال کروں، کہ میں نے زید کو بٹھایا، تو اس کے لیے پھر کیا کریں گے اس کو؟ بابِ افعال میں لے جائیں گے۔ اجلستُ زیداً، میں نے زید کو بٹھایا۔ تو یہ ہے تعدیہ، متعدی بنانا۔ یا جیسے خرجتو، میں نکلا، لیکن میں اس کو استعمال کرنا چاہتا ہوں متعدی، کسی کے اس کے لیے مفعول آئے بھئی، تو پھر میں اس کو بابِ افعال میں لے جاؤں گا اور کیا کہوں گا؟ اخر جتو زیداً، میں نے زید کو نکالا۔ تو ہر باب کے اس طرح کے کچھ خاص معنی ہیں جن کا وہ فائدہ دیتے ہیں، ان کو خاصیات کہتے ہیں۔ یا جیسے بابِ مفاعلہ کا ایک خاصہ ہے مشارکت، جیسے ضرب زیدٌ عمراً، زید نے عمر کی پٹائی کی، لیکن اگر عرب آپ کو یہ بتلانا چاہے کہ دونوں نے ایک دوسرے کی پٹائی کی، تو پھر اس کو بابِ مفاعلہ میں لے جائے گا یا بابِ تفاعل میں لے جائے گا، تو ان کا خاصہ کیا ہے؟ مشارکت، وہ جانبیں سے فعل پر دلالت کرتے ہیں۔ تو اب جب میں کہوں گا ضرب زیدٌ عمراً، تو اب معنی کیا ہوگا؟ کہ زید اور عمر دونوں نے باہم ایک دوسرے کی پٹائی کی، یعنی دونوں جانب سے یہ فعل پایا گیا۔ یا اسی طرح جلباب چادر کو کہتے ہیں۔ اب عرب نے اگر اس کے لیے فعل بنانا ہو، تو اس کو وہ بابِ فَعْلَلَہ میں لے جاتے ہیں، جیسے جل بابا، جل بابا، کیا معنی؟ جل بابا زیدٌ عمراً، زید نے عمر کو چادر پہنائی۔ تو دیکھو یہ پہنانے کا معنی کہاں سے آیا؟ یہ بابِ فَعْلَلَہ سے آیا بھئی۔ تو یہ ہر باب کے کچھ خاص معنی ہیں اس کے جو اس میں آتے ہیں۔ اور عرب ان معنی کے لیے لفظوں کو ان ابواب میں لے کر جاتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں پھر ہم نے کل کے سبق میں آپ نے یہ پڑھا کہ جو پہلے تین باب ہیں بابِ نصرہ، بابِ ضربہ اور بابِ سمعہ، یہ ام الابواب کہلاتے ہیں۔ کیونکہ یہ کثیر الاستعمال ہیں اور نیز اس لیے کہ ان میں ماضی اور مضارع میں عین کی حرکت مختلف ہے۔ اور ضابطہ بھی یہ ہے کہ جب معنی مختلف ہو، تو حرکات بھی مختلف ہونی چاہیے۔ ماضی کا معنی الگ، مضارع کا معنی الگ، تو ان میں عین کی حرکت کیا ہونی چاہیے؟ مختلف ہونی چاہیے، الگ ہونی چاہیے۔ اور پھر ثلاثی مجرد ابواب کے خاصے ذکر کرنا شروع کیے اور ایک ایک دو دو خاصے ذکر کرتے چلے گئے۔ میں نے بتلایا تھا کہ ان کے صرف یہی خاصے نہیں ہیں، خاصے ان کے اور بھی ہیں لیکن جو نمایاں ہیں، جو مشہور ہیں، جو واضح ہیں، وہ ذکر کر دیے۔ باقی چونکہ سب ایک دوسرے جیسے ہیں، ایک میں جو خاصہ ہے وہ دوسرے میں بھی ہے، وہ تیسرے میں بھی ہے، تو وہ چونکہ الگ الگ نہیں ہیں، اس لیے ان کو ذکر نہیں کیا۔ جیسے بابِ نصرہ کا خاصہ ہے مغالبہ۔ اسی طرح بابِ ضربہ کا خاصہ بھی کیا ہے؟ مغالبہ۔ یعنی مغالبہ، عربی زبان میں کسے کہتے ہیں؟ غلبہ حاصل کرنا بھئی، غالب آنے کی کوشش کرنا۔ لیکن علم صرف کی اصطلاح میں مغالبہ اسے کہتے ہیں کہ بابِ مفاعلہ کے بعد کوئی فعل ذکر کیا جائے یہ بتلانے کے لیے کہ ایک فریق دوسرے پر غالب آ گیا ہے۔ پہلے بابِ مفاعلہ ذکر ہو اور اس کے بعد بابِ نصرہ یا ضربہ ذکر ہو۔ اس میں نصرہ زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ البتہ اگر وہ جو فعل ہے وہ مثال ہو، اجوفِ یائی ہو، یا ناقصِ یائی ہو، تو پھر بابِ ضربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ تو یہ سب ابواب کی اس طرح انہوں نے کچھ خاصیات ذکر کیں۔ اس کے بعد پھر ثلاثی مزید فی یعنی بابِ افعال کی خاصیات ہم نے پڑھنا شروع کیں۔ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ بابِ افعال کی پندرہ خاصیات ہیں۔ میں نے یہاں بھی بتایا تھا یہ جو خاصیات ذکر کریں گے یہ، یہ نہیں کہ اتنی ہی ہیں، پندرہ ہی ہیں اور نہیں ہیں۔ ہاں یہ مشہور مشہور اور عام جو ہیں وہ ذکر کر رہے ہیں، جبکہ بعض علماء نے اس سے زائد ذکر کی ہیں بھئی، زائد ذکر کی ہیں۔ تو بابِ افعال کا پہلا خاصہ جو ہے وہ ہم نے تعدیہ پڑھا تھا۔ تعدیہ کسے کہتے ہیں؟ کہ فعلِ لازم کو کیا بنا دیا جائے؟ متعدی بنا دیا جائے اور اگر وہ پہلے سے ہی متعدی ہے، تو پھر اس کے مفعول میں اضافہ ہو جائے۔ اگر پہلے ایک مفعول تھا، تو اب دو ہو جائیں، پہلے دو تھے، تو اب تین ہو جائیں بھئی۔ یہ ہے تعدیہ، متعدی بنانا۔ اس کے بعد دوسرا خاصہ جو ہم نے پڑھا تھا بابِ افعال کا وہ ہے تصییر بھئی۔ تصییر۔ یہ خاصوں کو اچھی طرح سمجھتے جائیں، بار بار آئیں گے۔ خاصے کا یہ معنی نہیں کہ ایک باب میں ہے، دوسرے میں نہیں۔ جیسے بابِ نصرہ کا خاصہ مغالبہ تھا، تو بابِ ضربہ کا بھی کیا خاصہ تھا؟ مغالبہ۔ تو یہ جگہ جگہ آئیں گے تو ان کے معنی اچھی طرح سمجھتے جائیں بھئی۔ تو بابِ افعال کا دوسرا خاصہ جو ذکر ہوا وہ ہے تصییر۔ تصییر کا معنی ہے کر دینا، کر دینا۔ سیر یصیر تصییراً کر دینا، حالت کو بدل دینا، پھیر دینا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصییر بھئی۔ یہ تو تھا لغوی معنی اور اصطلاحِ صرف میں فاعل کا مفعول کو ماخوذ والا بنا دینا۔ توجہ ہے؟ کر دینا، کیا معنی؟ مفعول کو ماخوذ والا کر دینا۔ مفعول کو ماخوذ والا بنا دینا۔ اور ماخوذ کسے کہتے ہیں؟ جس سے اخذ کرتے ہوئے یہ باب بنایا جائے۔ جس سے اخذ کرتے ہوئے باب بنایا جائے۔ جیسے شراکہ، شراکہ چھوٹے قاف کے ساتھ شین را الف قاف، شراکہ۔ شراکہ عربی زبان میں تسمے کو کہتے ہیں جس سے یہ بوٹ وغیرہ آپ باندھتے ہیں۔ اسی سے باب بنا لیا اشْرَکا۔ اشْرَکا کا کیا معنی؟ جوتے کو تسمے والا بنا دینا۔ دیکھا جوتے کو ماخوذ والا بنا دیا۔ ماخوذ کیا ہے؟ شراکہ، جوتے کو شراکہ والا بنا دینا۔ تو عربی میں کہیں گے اشْرَکتُ النَّعْلَ میں نے جوتے کو تسمے والا بنا دیا۔ اور مثالیں میں نے ذکر کی تھیں جیسے، جیسے حُزن۔ حُزن کہتے ہیں غم کو۔ اسی سے بابِ افعال بنا لیا اور یہی تصییر خاصہ ہے اس کے اندر۔ احْزَنْتُ زیداً، کیا معنی؟ میں نے زید کو ماخوذ والا بنا دیا یعنی غم والا بنا دیا، یعنی اس کو غمگین کر دیا۔ اسی طرح اور مثال ہے وجع عربی میں درد کو کہتے ہیں، تو اسی کو تصییر خاصے کے لیے بابِ افعال میں لے گئے، تو کہتے ہیں اوْجَعْتُ زیداً، کیا معنی؟ میں نے زید کو وجع والا بنا دیا اور وجع کسے کہتے ہیں؟ درد۔ یعنی زید کو درد والا بنا دیا، یعنی زید کو تکلیف دی۔ معنی سمجھ میں آیا؟ یا اور مثال لے لیں جیسے فتنہ، فتنہ۔ اسی سے باب بنا لیا تصییر خاصے کے لیے بھئی۔ کیا کہتے ہیں عرب میں؟ افْتَنْتُ زیداً۔ یہ تو متکلم کے صیغے میں بول رہا ہوں سمجھانے کے لیے، وہی ساری گردان ہوگی بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ وہی چودہ صیغے ہوں گے، غائب کے لیے بھی ہوں گے، حاضر کے لیے بھی ہوں گے اور متکلم کے بھی ہوں گے، مذکر کے بھی ہوں گے، مؤنث کے بھی ہوں گے، وہ ساری گردانیں اس میں ہوں گی اور جس مقام پر جس قسم کا صیغہ چاہیے، وہ استعمال کر لیں گے۔ یہاں سمجھانے کے لیے متکلم کے صیغے آسانی سے بات جلدی سمجھ میں آجاتی ہے، تو ساری مثالیں عموماً متکلم کے صیغوں میں ذکر ہوں گی، یہ معنی نہیں کہ یہ متکلم ہی کے صیغے میں ہوں گی، ہر جگہ۔ مثلاً اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں: زید نے عمر کو غم دیا، زید نے عمر کو غمگین بنایا، تو کیا کہیں گے؟ احْزَنَ یُحْزِنُ حُزن سے بنا لیا نا۔ احْزَنَ یُحْزِنُ زید نے عمر کو غمگین بنا دیا۔ احْزَنَ زیدٌ عمراً، دیکھا۔ طریقہ سمجھ میں آگیا، تو جس قسم کے صیغے کی ضرورت ہو، وہ بنا لیں گے بھئی۔ اب فتنہ جو ہے، فتنہ ہے ماخوذ، اسی سے بابِ افعال میں لے گئے تصییر خاصے کے لیے، تصییر کا کیا معنی؟ مفعول کو ماخوذ والا بنا دینا۔ زبان سے دہرائو۔ تصییر کا کیا معنی؟ مفعول کو ماخوذ والا بنا دینا۔ اشْرَکتُ النَّعْلَ کیا معنی؟ میں نے جوتے کو تسمے والا بنا دیا۔ احْزَنْتُ زیداً، میں نے زید کو حُزن والا بنا دیا۔ اوْجَعْتُ زیداً، میں نے زید کو درد والا بنا دیا۔ اور اسی طرح افْتَنْتُ زیداً، میں نے زید کو فتنے والا بنا دیا یعنی اسے فتنے میں مبتلا کر دیا۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے؟ تو یہ ہے تصییر۔ تصییر کسے کہتے ہیں؟ کہ مفعول کو مفعول کو، ہاں، مفعول کو ماخوذ والا بنا دینا۔ آگے دیکھیے بھئی آج کا سبق۔ اب تیسرا خاصہ آیا الزام بھئی۔ الزم یلزم الزاماً۔ معنی سے ہی پتہ چل رہا ہے لازم بنانا۔ لازم کرنا۔ تو خاصہ الزام کیا ہے؟ ادھر دیکھو۔ الزام یہ ہے کہ فعل مجرد کے اندر تو متعدی تھا، توجہ ہے۔ ثلاثی مجرد میں وہ متعدی تھا، لیکن اس کو بابِ افعال میں لائے، تو وہ لازم بن گیا، اب اس کے لیے مفعول کی ضرورت نہیں۔ تو اب اگر مثلاً عربی زبان میں کوئی لفظ ہے ثلاثی مجرد کا ہے، وہ متعدی ہے، عرب اس کو لازم کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تو اس کو عموماً کس باب میں لے جاتے؟ بابِ افعال میں۔ یہ اور آگے باب آئیں گے ان میں بھی اسی طرح ہوگا بابِ تفعیل وغیرہ، تو بعض لفظوں کو وہ بابِ افعال میں لے جاتے ہیں، بعض کو تفعیل میں لے جاتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ معنی نہیں کہ ایک باب کا ایک خاصہ ہے، آپ ہر لفظ کو اٹھا کر وہاں لے جائیں نہیں۔ ہم عربوں کو دیکھیں گے۔ مثلاً ایک فعل کیا ہے؟ لازم اور اس کو عرب نے استعمال کرنا ہے متعدی، تو ہم دیکھیں گے کہ متعدی بنانے کے لیے وہ کون سا طریقہ اختیار کرتے ہیں؟ کس باب میں لے کے جاتے ہیں؟ بابِ افعال میں لے کے جاتے ہیں؟ بابِ تفعیل میں لے کے جاتے ہیں؟ یا کسی اور باب کے اندر لے کر جاتے ہیں؟ طریقہ سمجھ میں آرہا ہے؟ اچھا تو الزام کا کیا معنی؟ لازم بنانا۔ یعنی پہلے ایک فعل متعدی تھا، اس کے لیے مفعول چاہیے تھا، لیکن عرب بعض اوقات اس کو لازم استعمال کرنا چاہیں تو کس باب میں لے جاتے ہیں؟ بابِ افعال کے اندر لے جاتے ہیں۔ جیسے جیسے حمیدہ، تعریف کرنا۔ حمیدہ زیداً عمراً، زید نے عمر کی تعریف کی، دیکھو اس کے لیے مفعول چاہیے۔ تعریف تعریف کسی کی کی جائے گی نا، لیکن اسی کو اگر عرب لازمی بنانا چاہیں، تو پھر اس کو بابِ افعال میں لے جاتے ہیں اور پھر مفعول نہیں آتا۔ احْمَدَ زیدٌ، زید قابلِ تعریف ہو گیا۔ زید کیا ہو گیا؟ زید تعریف کے قابل ہو گیا، اب اس کے لیے کسی مفعول کی ضرورت نہیں۔ کسی اور کی تعریف نہیں کر رہا، وہ خود کیا بن گیا؟ قابلِ تعریف بن گیا بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا؟ احْمَدَ زیدٌ بھئی۔ اسی طرح نسل ینسل کا معنی ہوتا ہے کسی چیز سے کوئی چیز الگ کرنا، گرانا بھئی۔ تو مثلاً عربی میں کہتے ہیں نصل زیدٌ ریش الطائر، زید نے پرندے کا پر اکھاڑا۔ ریش کسے کہتے ہیں؟ پر کو۔ تو یہ متعدی ہے، توجہ ہے۔ یہ ساری مثالیں کتاب میں آ رہی ہیں۔ نصل زیدٌ ریش الطائر، زید نے پرندے کا پر اکھاڑا۔ تو یہ متعدی ہے۔ اسی کو جب عرب لازمی بنانا چاہیں، تو اس کو بابِ افعال میں لے جاتے ہیں اور کیا کہتے ہیں؟ انْسَلَ ریش الطائر، پرندے کا پر اکھڑ گیا۔ دیکھا، اب کسی مفعول کی ضرورت نہیں۔ انْسَلَ ریش الطائر، پرندے کا پر اکھڑ گیا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی، دیکھیے بھئی کتاب پر۔ نمبر تین الزام، متعدی کو لازم بنانا جیسے احْمَدَ زیدٌ، زید قابلِ تعریف ہوا اور انْسَلَ ریشو پر نکلا یعنی پر اکھڑ گیا، جبکہ مجرد میں یہ متعدی استعمال ہوتے ہیں، جیسے حمیدہ زیداً عمراً، زید نے عمر کی تعریف کی، نصل زیدٌ ریش الطائر، زید نے پرندے کے پر نوچ لیے، یعنی پر اکھاڑ دیے، معنی سمجھ میں آرہا ہے۔ یا اور مثال لے لو، قلع۔ قلع۔ قلع کا معنی ہے اکھاڑنا۔ قلعتُ الشجرہ، میں نے درخت اکھاڑ دیا۔ اور اگر عرب بولنا چاہیں درخت اکھڑ گیا، تو وہ بابِ افعال میں لے جائیں گے۔ اقلع الشجر، تو قلع کا معنی اکھاڑنا اور اقلع کا معنی اکھڑنا بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ آگے دیکھیے۔ نمبر چار تعریض۔ تعریض کے لغوی معنی ہیں پیش کرنا، کنایے سے بات کرنا۔ اصطلاحی معنی ہے فاعل کا مفعول کو ماخوذ کی جگہ میں لے جانا یا ماخوذ کو پیش کرنا، یا یعنی ماخوذ کے لیے پیش کرنا۔ جیسے مثالوں سے بات واضح ہوگی۔ بیع کا کیا معنی؟ بیچنا۔ بیچنا۔ اب عرب یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ میں مثلاً فلاں چیز کو بیچنے کی جگہ میں لے گیا، تو اس کے لیے بابِ افعال استعمال کرتے ہیں اور کیسے کہیں گے؟ اباعْتُ الفرس، کیا معنی؟ میں نے گھوڑے کو ماخوذ کی جگہ میں لے جانا۔ ماخوذ کیا ہے؟ کس سے بنایا یہ باب؟ بیع سے۔ ماخوذ کی جگہ کیا ہوگی؟ بیع کی جگہ یعنی جہاں خرید و فروخت ہوتی ہے، یعنی منڈی یا بازار بھئی۔ تو اباعْتُ الفرس، کیا معنی؟ میں گھوڑے کو بازار لے گیا، بیچنے کی جگہ لے گیا یا میں گھوڑے کو منڈی لے گیا۔ تعریض کا کیا معنی؟ پیش کرنا، دیکھو یہاں بھی ہے، کہاں پر پیش کر دیا ایک چیز کو؟ ماخوذ کی جگہ میں۔ معنی سمجھ میں آگیا، تو تعریض کا کیا معنی؟ پیش کرنا۔ پیش کرنا لغوی معنی، اصطلاحی معنی کیا؟ مفعول کو ماخوذ کی جگہ پر لے گیا، مفعول کو ماخوذ کی جگہ یا مفعول کو ماخوذ کے لیے پیش کر دیا۔ توجہ ہے؟ مفعول کو ماخوذ کے لیے پیش کیا۔ اباعْتُ الفرس، دوسرا ترجمہ کرو۔ مفعول کو ماخوذ کے لیے پیش کر دیا۔ کیا معنی؟ ماخوذ کیا ہے؟ بیع ہے، تو بیع کے لیے پیش کر دیا۔ میں نے گھوڑے کو بیچنے کے لیے پیش کر دیا کہ خریدنا چاہو تو خرید سکتے ہو بھئی۔ معنی سمجھ میں آرہا ہے؟ تو پہلا معنی کیا تھا تعریض کا؟ مفعول کو ماخوذ کی جگہ لے جانا اور دوسرا معنی کیا ہے؟ مفعول کو ماخوذ کے لیے پیش کر دینا، دونوں معنی ہیں بھئی۔ موقع کے مطابق ترجمہ کیا جائے گا۔ ابعت الفرس۔ معنی کیا؟ میں گھوڑے کو بازار لے گیا، یہ ترجمہ بھی ہو سکتا ہے۔ اور اگر آپ نے گھوڑے کو بیچنے کے لیے یہیں پر پیش کیا ہے، تو کیا معنی ہوگا؟ ابعت الفرس، میں نے گھوڑے کو بیچنے کے لیے پیش کر دیا۔ تو ماخذ کی جگہ لے جانا یا ماخذ کے لیے پیش کر دینا۔ معنی سمجھ میں آ گیا۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں تعریض کے لغوی معنی ہیں پیش کرنا، کنایہ سے بات کرنا، اصطلاحی معنی ہے، فاعل کا مفعول کو ماخذ کی جگہ میں لے جانا یا ماخذ کو پیش کرنا، یعنی ماخذ کے لیے پیش کرنا۔ جیسے ابعت الفرس، میں گھوڑے کو بیع کی جگہ لے گیا۔ ابعت الثوب، میں نے کپڑا بیچنے کے لیے پیش کیا۔ دونوں مثالوں میں ماخذ بیع ہے۔ اور مثالیں لکھنا چاہیں تو لکھ لیں۔ رہن، رہن کسے کہتے ہیں؟ کوئی چیز گروی رکھوانا۔ آپ کسی آدمی کے پاس جاتے ہیں، قرضہ لیتے ہیں اس سے، وہ کہتا ہے بھئی مجھے آپ اپنی کوئی چیز میرے پاس ضمانت کے طور پر رکھوائیں تاکہ مجھے اطمینان رہے کہ میرے پیسے ڈوبیں گے نہیں، وصول ہوں گے۔ چنانچہ آپ اپنی گاڑی اس کے پاس بطور ضمانت کے رکھوا دیتے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں رہن۔ یہ جو گاڑی آپ نے ضمانت کے طور پر رکھوائی اس کو کیا کہتے ہیں؟ رہن۔ اسی رہن سے باب بنا لیا، ارہنت الثوب، یا ارہنت الفرس۔ کیا معنی؟ تعریض ہے، تعریض ہے بھئی۔ تعریض کے مطابق۔ تعریض کسے کہتے تھے؟ مفعول کو ماخذ کی جگہ لے جانا۔ یہاں تو جگہ نہیں بنتی، رہن کی جگہ تو کوئی نہیں ہوتی کہ میں رہن کی جگہ میں لے گیا۔ پھر کیا معنی ہوگا؟ ماخذ کے لیے پیش کرنا۔ یعنی رہن کے لیے پیش کرنا۔ میں نے گاڑی کو رہن کے لیے پیش کر دیا۔ ارہنت السیارۃ، میں نے گاڑی کو رہن کے لیے پیش کر دیا۔ یا اور مثال لے لیں۔ اقتلتہ۔ کیا معنی؟ میں اس کو قتل کی جگہ پر لے گیا۔ تعریض کے معنی پہ نظر رکھو نا۔ کسی چیز کو ماخذ کی جگہ پر لے جانا، یا ماخذ کے لیے پیش کرنا۔ تو اقتلتہ، کیا معنی؟ میں اس کو قتل کی جگہ لے گیا۔ مثلاً کہیں پر مجرموں کو کیا کیا جاتا ہے؟ قتل کیا جاتا ہے۔ تو اب ایک مجرم کو کوئی دوسرا وہاں لے جاتا ہے، جس کو سزا سنا دی عدالت نے کہ اس کو کیا کر دیا جائے؟ قتل۔ تو وہ کیا کہے گا؟ اقتلت الرجل۔ میں اس آدمی کو قتل کی جگہ پر لے گیا۔ یا یوں معنی کریں گے، اقتلت الرجل۔ میں نے اس آدمی کو قتل کے لیے پیش کر دیا۔ موقع کے مطابق۔ اگلا خاصہ دیکھیے بھئی۔ نمبر پانچ، وجدان۔ وجدان کے لغوی معنی ہیں پانا، محسوس کرنا، جاننا۔ وجدت زیدا عالما، میں نے زید کو کیا پایا؟ عالم پایا۔ تو اس کا معنی ہے پانا۔ اور اصطلاحی معنی ہے، فاعل کا مفعول کو ماخذ کے ساتھ متصف پانا۔ توجہ ہے؟ فاعل کا یا یوں کہو فاعل کا لفظ چھوڑ دو۔ مفعول کو ماخذ کے ساتھ متصف پانا۔ جیسے بخل کنجوسی کو کہتے ہیں۔ ابخلت زیدا، کیا معنی؟ میں نے زید کو بخل والا پایا، بخل کے ساتھ متصف پایا، کہ وہ بخیل ہے۔ تو یہ دیکھو وجدان ہے۔ میں نے پایا، میں نے جانا۔ کس کو؟ زید کو۔ باب کس سے بنایا؟ بخل سے۔ تو بخل سے میں نے اس کو متصف پایا۔ مفعول کو ماخذ کے ساتھ متصف پانا۔ ابخلت زیدا۔ دیکھیے بھئی اب کتاب پر۔ نمبر پانچ وجدان کے لغوی معنی ہیں پانا، اصطلاحی معنی ہے، فاعل کا مفعول کو ماخذ (یعنی اصل فعل) کے ساتھ متصف پانا۔ جیسے ابخلت زیدا، میں نے زید کو بخل کے ساتھ متصف پایا۔ کیا معنی بخل کے ساتھ؟ میں نے زید کو بخیل پایا۔ مجھے پتہ چلا کہ زید کیا ہے؟ بخیل ہے۔ اور مثال لے لیں بھئی۔ جیسے رحب کہتے ہیں کشادہ، مکان وغیرہ کا کشادہ ہونا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ رحب۔ اسی سے فعل بنا لیا۔ ارحبت المکان۔ کیا معنی؟ وجدان کسے کہتے ہیں؟ مفعول کو ماخذ کے ساتھ متصف پانا۔ توجہ ہے؟ مفعول کو ماخذ کے ساتھ متصف پانا۔ تو ماخذ کیا ہے؟ رحب۔ رحب کا کیا معنی؟ مکان وغیرہ کا، جگہ کا کشادہ ہونا۔ ارحبت المکان۔ مکان جگہ کو کہتے ہیں۔ ماخذ کے ساتھ متصف پایا۔ رحب، کشادہ ہونا، وسیع ہونا، کھلا ہونا۔ میں نے مکان کو کشادہ پایا۔ مجھے تو پتہ نہیں تھا میں گیا اس مکان کو میں نے دیکھا تو میں نے اس کو بڑا کھلا پایا، بڑا کشادہ پایا۔ تو کیا کہیں گے؟ ارحبت المکان۔ میں نے اس مکان کو کشادہ پایا، کھلا پایا۔ تو دیکھو رحب اس کا ماخذ ہے جس سے یہ باب بنا۔ اور المکان، دیکھو کوئی خاص مکان ہے۔ میں نے اس مکان کو کشادہ پایا یہ اس مکان یہ کس کا ترجمہ ہے؟ الف لام کا۔ میں نے اس مکان کو کشادہ پایا۔ تو الف لام کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ یا دوسرا... عظمت، عظمت کا کیا معنی؟ بڑا ہونا۔ عظیم ہونا۔ تو آپ کہتے ہیں اعظمت زیدا، کیا معنی؟ میں نے زید کو عظیم پایا، کہ وہ بڑا عظیم آدمی ہے۔ یا کبر کسے کہتے ہیں، کبر؟ بڑا ہونا۔ اکبرت زیدا میں نے زید کو بڑا پایا، کبیر پایا۔ معنی سمجھ میں آیا کہ بڑا آدمی ہے۔ اور مثال لے لیں۔ جبن۔ جبن کہتے ہیں بزدلی کو۔ تو جبن کسے کہتے ہیں؟ بزدل، بزدلی بھئی، بزدل ہونا۔ اسی سے باب بنا لیا۔ اجبنت زیدا، کیا معنی؟ میں نے زید کو بزدل پایا، دیکھو ماخذ کے ساتھ متصف پایا۔ یا کذب کسے کہتے ہیں کذب؟ جھوٹ کو۔ تو اسی سے باب بنا لیا باب افعال میں لے گئے۔ اکذبت زیدا۔ کیا معنی؟ ہاں، زید کو میں نے ماخذ والا پایا، ماخذ کے ساتھ متصف پایا یعنی زید کو میں نے کذب کے ساتھ متصف یعنی میں نے زید کو جھوٹا پایا۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ آگے دیکھیے۔ چھٹا خاصہ ہے سلب۔ سلب کے لغوی معنی ہیں دور کرنا، الگ کرنا، نفی کرنا۔ آپ نے منطق میں پڑھا ہوگا، ایک قضیہ موجبہ ہوتا ہے ایک سالبہ ہوتا ہے، سالبے میں کیا ہوتی ہے؟ نفی ہوتی ہے۔ تو سلب کا معنی نفی کرنا بھئی، نفی کرنا۔ اور اصطلاحی معنی فاعل کا مفعول سے ماخذ کو دور کرنا۔ وہ فاعل کے لفظ کو چھوڑ دو۔ مفعول سے ماخذ کو دور کرنا۔ توجہ ہے؟ سلب کا معنی ہے پھر سنو، سلب کا معنی ہے ماخذ کا دور ہونا، ماخذ کی نفی ہونا، توجہ ہے؟ سلب کا کیا معنی؟ ماخذ کی نفی ہونا، یہ عجیب خاصہ ہے بھئی۔ یعنی جس سے باب بنایا اس کی نفی ہو رہی ہے۔ جیسے فلوس۔ فلوس عربی میں پیسوں کو کہتے ہیں۔ اسی سے باب بنا لیا، افلس یفلس افلاسا فہو مفلس۔ مفلس کسے کہتے ہیں؟ جس کے پاس پیسے ہوں یا نہ ہوں؟ پیسے نہ ہوں، دیکھا یہ فلوس کی نفی ہو رہی ہے، ماخذ کی نفی ہو رہی ہے۔ یا جیسے شکایت۔ شکایت، اسی کو باب افعال میں لے گئے۔ اشکی یشکی، کیا معنی؟ شکایت کو ختم کرنا، شکایت دور کرنا۔ کوئی آدمی آپ کے پاس شکایت لایا، آپ نے اس کی شکایت دور کر دی، یعنی اس کا مسئلہ حل کر دیا، تو دیکھا؟ اشکی یشکی، کس سے باب بنایا؟ شکایت سے۔ تو شکایت کو کیا کر دیا؟ اس کا سلب کر دیا، اشکی یشکی میں شکایت ہے، شکایت کی نفی ہے؟ شکایت کی نفی ہے کہ شکایت کو ختم کر دیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب اس میں ایک اور بات یاد رکھنا۔ یہ جو سلب کے لیے آئے گا، تو فعل پر آپ نے غور کرنا ہے۔ کبھی ماخذ کی نفی فاعل سے ہوگی، کبھی ماخذ کی نفی مفعول سے ہوگی۔ اگر فعل لازم ہے۔ کون سا فعل ہے؟ لازم۔ تو فعل لازم میں تو مفعول ہوتا ہی نہیں۔ جب مفعول نہیں ہے تو ماخذ کی نفی کس سے ہوگی؟ فاعل سے ہی ہوگی۔ اور اگر فعل متعدی ہے یعنی اس کے لیے مفعول بھی آتا ہے تو پھر ماخذ کی نفی کس سے ہوگی؟ مفعول سے ہوگی۔ افلس زید۔ اس کے لیے کوئی مفعول چاہیے؟ نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ فلوس کس سے دور ہوئے؟ فاعل یعنی زید سے۔ زید مفلس ہے، اس کے پاس پیسے نہیں۔ اور اشکیت زیدا۔ مفعول آ گیا کہ نہیں؟ زیدا۔ مفعول آ گیا نا آگے اشکیت زیدا۔ تو اب کیا معنی؟ کس سے شکایت دور کی؟ اپنے سے یا زید سے؟ زید سے، مفعول سے شکایت دور کر دی۔ یا اسی طرح اور مثال دیکھ لو۔ یاد رکھو عربی میں قسط، قاف دو نقطوں والا، سین اور طاء۔ قسط انصاف کو کہتے ہیں۔ کس کو کہتے ہیں؟ انصاف۔ لیکن قسط اور قسوط، یہ ناانصافی کو کہتے ہیں، ظلم کو کہتے ہیں۔ توجہ ہے؟ کیا قسط کسے کہتے ہیں؟ انصاف کو۔ اور قسط اور قسوط ناانصافی کو۔ اسی سے، یہ قسوط اور قسط سے باب بنا لیا باب افعال۔ اقسط زید۔ کیا معنی؟ مفعول آ رہا ہے آگے کوئی؟ مفعول تو نہیں ہے، یہ تو فعل لازم ہے۔ تو کیا معنی؟ یہ قسوط یعنی ناانصافی کو دور کر دیا دور ہوئی کس سے؟ زید سے، معلوم ہوا زید انصاف والا ہو گیا، اس نے اپنے آپ سے ناانصافی کو دور کر دیا۔ اقسط زید، زید انصاف والا ہو گیا۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ دیکھیے کتاب پر۔ نمبر چھ سلب کے لغوی معنی ہیں دور کرنا، الگ کرنا (یعنی نفی کرنا)، اصطلاحی معنی ہے، فاعل کا مفعول سے ماخذ کو دور کرنا، جیسے اشکیت زیدا، میں نے زید کی شکایت دور کی، ماخذ شکایت ہے۔ اور اقذیت عین زید۔ اقذیت۔ بھئی قذی ادھر دیکھیے۔ قذی کہتے ہیں جو آنکھ کے اندر کوئی ذرہ یا تنکا وغیرہ پڑ جائے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قذی۔ قاف، ذال اور یاء، کھڑی زبر ہے اوپر، قذی۔ پھر اسی سے باب افعال بنا لیا۔ اقذیت۔ کیا معنی؟ اقذیت عین زید۔ میں نے زید کی آنکھ سے تنکا یا ذرہ کیا کر دیا؟ دور کیا، نکال دیا۔ تو دیکھو یہ سلب ماخذ ہے۔ اور اقذیت عین زید، مفعول آ رہا ہے۔ معلوم ہوا یہ تنکا کس سے دور ہوا؟ ماخذ کس سے دور ہوا؟ زید یعنی اس کی آنکھ سے، مفعول سے دور ہوا بھئی۔ تو دیکھیے کتاب پر، اور اقذیت عین زید، میں نے زید کی آنکھ سے تنکا دور کیا، ماخذ قذی (تنکا) ہے۔ نمبر سات۔ اعطاء ماخذ۔ اعطاء ماخذ کے لغوی معنی ہیں، ماخذ دینا۔ بھئی اعطاء ماخذ لفظوں سے ہی پتہ چل رہا ہے۔ کیا معنی؟ ماخذ دینا۔ اصطلاحی معنی ہے، فاعل کا مفعول کو ماخذ یا محل ماخذ یا حق ماخذ دینا۔ توجہ ہے؟ اس میں تفصیل ہے، تین صورتیں بنیں گی یہاں۔ فاعل، مفعول یہ فاعل کو چھوڑ دیں۔ مفعول کو ماخذ دینا۔ جس سے وہ باب بنایا ہے وہی اٹھا کر کس کو دینا؟ مفعول کو۔ یا محل ماخذ دینا۔ ماخذ نہیں دیا، جہاں ماخذ ہو، وہ محل، وہ چیز وہ دے دی۔ محل کا معنی جگہ۔ یا حق ماخذ دینا۔ ماخذ کا حق دینا۔ کیا معنی ہوا؟ اعطاء ماخذ میں کتنی صورتیں؟ تین۔ کیا؟ یا تو مفعول کو کیا دے دو؟ ماخذ دے دو۔ یا محل ماخذ دو، ماخذ نہیں، محل ماخذ دو۔ یا کیا دو؟ حق ماخذ دو۔ اب دیکھو مثالوں سے بات سمجھ میں آئے گی۔ مثلاً، عظم ہڈی کو کہتے ہیں عربی زبان میں، عظم۔ اسی سے باب بنا لیا۔ اعظمت الکلب۔ کیا دیا میں نے کتے کو؟ ہڈی۔ دیکھو ماخذ دے دیا۔ باب کس سے بنایا؟ عظم سے۔ وہی ماخذ اٹھا کر دے دیا۔ اعظمت الکلب، میں نے اس کتے کو ہڈی دے دی، ہڈی ڈال دی۔ معنی سمجھ میں آیا؟ اور کبھی ماخذ نہیں دیتے، بلکہ ماخذ کا محل دیتے ہیں۔ اس کے لیے بھی وہ بھی اعطاء ماخذ میں داخل ہے۔ مثلاً شواء بھنے ہوئے گوشت کو کہتے ہیں۔ کس کو کہتے ہیں؟ بھنے ہوئے گوشت کو۔ اور شی کا معنی ہے بھوننا، گوشت کا بھوننا۔ اسی سے باب بنا لیا۔ اشویت زیدا۔ اشویت زیدا۔ کیا معنی؟ میں نے زید کو بھنا ہوا گوشت دیا۔ اگر اس کا معنی کریں میں نے زید کو بھنا ہوا گوشت دیا، یہ تو آپ نے ماخذ دے دیا۔ ماخذ نہیں دینا، محل ماخذ دینا ہے۔ معنی یہ ہے، میں نے زید کو گوشت بھوننے کے لیے دیا۔ کیا معنی؟ میں نے زید کو گوشت بھوننے کے لیے دیا۔ اب یہ جو گوشت ہے، یہ محل ہے بھوننے کا، اس کو بھونا جاتا ہے، دیکھا؟ یہ بھوننے کی چیز ہے، تو وہ جو محل ماخذ ہے، وہ میں نے اس کو دے دیا یعنی جس کو کیا کیا جاتا ہے؟ بھونا جاتا ہے۔ تو معنی کیا ہوگا اشویت زیدا؟ میں نے زید کو گوشت بھوننے کے لیے دیا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تیسری کیا صورت تھی؟ حق ماخذ دینا۔ ماخذ نہیں دیا، ماخذ کا محل بھی نہیں دیا، بلکہ حق ماخذ دیا۔ جیسے قطع کا معنی ہے کاٹنا۔ کاٹنا۔ اقطعت زیدا۔ کیا معنی؟ بنا کس سے ہے؟ قطع سے۔ تو حق قطع میں نے دے دیا زید کو، کاٹنے کا حق دے دیا یعنی میں نے زید کو کاٹنے کی اجازت دے دی۔ توجہ ہے؟ اقطعت زیدا قضبانا۔ میں نے زید کو شاخیں کاٹنے کا حق دے دیا، کاٹنے کی اجازت دے دی۔ قضبان جمع ہے قضیب کی یہ آگے خود بھی بتلائیں گے اور وہ شاخ کو کہتے ہیں۔ تو اعطاء ماخذ میں کتنی صورتیں ہیں؟ تین۔ کیا کہ کبھی مفعول کو کیا دے دیں؟ ماخذ، کبھی کیا دیں؟ محل ماخذ، اور کبھی کیا دیں؟ حق ماخذ بھئی دیکھیے کتاب پر۔ نمبر سات اعطاء ماخذ کے لغوی معنی ہیں ماخذ دینا، اصطلاحی معنی ہے، فاعل کا مفعول کو ماخذ یا محل ماخذ یا حق ماخذ دینا۔ ماخذ دینے کی مثال اعظمت الکلب، میں نے کتے کو ہڈی دی، ماخذ عظم ہے۔ اور مثال لے لیں بھئی۔ لحم کسے کہتے ہیں؟ گوشت کو۔ الحمت زیدا۔ ماخذ دیا۔ کیا دیا؟ گوشت دیا۔ شحم، شحم چربی کو کہتے ہیں۔ اشحمت زیدا۔ کیا معنی؟ میں نے زید کو چربی دی، دیکھو ماخذ دیا۔ آگے دیکھیے۔ محل ماخذ دینے کی مثال۔ اشویتہ، میں نے اس کو گوشت بھوننے کے لیے دیا۔ یہ دیا، اس مثال میں فاعل متکلم نے محل ماخذ یعنی گوشت جو ہے مفعول کو دیا بھوننے کے لیے۔ ماخذ شیء ہے۔ کیا ہے؟ شیء ہے اور بعض کہتے ہیں اس کا ماخذ شواء ہے بھئی شواء۔ اچھا، آگے دیکھیے، حق ماخذ دینے کی مثال اقطعتہ قضبانا، میں نے اس کو زائد شاخیں کاٹنے کا حق دیا، اجازت دی، ماخذ قطع ہے، فاعل نے مفعول کو ماخذ یعنی قطع کا حق دیا ہے۔ اگلا خاصہ ہے بلوغ بھئی۔ بلوغ کا معنی ہے پہنچنا، بلوغ کا کیا معنی ہے؟ پہنچنا۔ دیکھیے کتاب پر، بلوغ کے لغوی معنی ہیں پہنچنا، اصطلاحی معنی ہیں، فاعل کا ماخذ میں پہنچنا یا آنا، فاعل کہاں پہنچ جائے، ماخذ کے اندر پہنچ جائے، ماخذ کے اندر آ جائے۔ جیسے اصبح زید۔ صبح کسے کہتے ہیں، صبح کا جو وقت ہے، اسی سے باب بنا لیا اصبح زید۔ تو ماخذ کیا ہے؟ صبح۔ تو اصبح زید، کیا معنی؟ زید ماخذ کے اندر پہنچ گیا، یعنی صبح کے وقت میں داخل ہو گیا، صبح کا وقت اس پر آ گیا۔ یا اعرق زید، عراق، عراق ملک کا نام ہے، اسی سے باب بنا لیا اعرق زید، کیا معنی؟ زید ماخذ میں پہنچ گیا، یعنی عراق میں پہنچ گیا، عراق کے اندر آ گیا۔ اور کبھی کبھار عدد کے لیے بھی آئے گا۔ دیکھو پیچھے پھر دیکھو کتاب پر، بلوغ کے لغوی معنی ہیں پہنچنا، اصطلاحی معنی ہیں، فاعل کا ماخذ میں پہنچنا یا آنا، خواہ ماخذ زمان، مکان ہو یا عدد۔ زمان کی مثال بھی آ گئی، اصبح زید، زید کس زمانے میں پہنچا؟ صبح کے۔ اور جگہ کی مثال بھی آ گئی، اعرق زید، زید کس جگہ میں پہنچا؟ عراق میں۔ اور عدد کی مثال آگے آ رہی ہے، اعشرت الدراہم، عشرہ سے ہے، عشرہ ماخذ ہے، عشرہ کا کیا معنی؟ دس، دس ایک عدد ہے۔ تو اعشرت الدراہم، درہم کہاں تک پہنچ گئے؟ دس تک، یعنی دس ہو گئے، معنی سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں زمان کی مثال اصبح زید زید صبح کے وقت میں داخل ہوا، مکان کی مثال اعرق زید زید عراق پہنچا، عدد کی مثال اعشرت الدراہم درہم دس تک جا پہنچے۔ نواں خاصہ، صیرورت۔ صیرورت کے لغوی معنی ہیں پھر جانا، یعنی ہو جانا، حالت کا بدل جانا۔ توجہ ہے؟ صیرورت کا کیا معنی؟ ایک تھا تسییر، وہ تھا حالت کو بدلنا، اور یہاں ہے حالت کا خود بدلنا، وہاں تھا کوئی دوسرا حالت کو بدلتا ہے، تسییر۔ کیا تھا؟ دوسرا حالت کو بدلتا تھا، اشرکت النعل۔ جوتے میں خود تسمہ آیا یا میں نے لگایا؟ میں نے لگایا۔ دیکھا؟ یہ دوسرا اس کی حالت کو بدل رہا ہے، اور یہاں پر صیرورت کا معنی ہے خود حالت کا بدلنا بھئی، پھر جانا، پلٹ جانا، بدل جانا۔ دیکھیے کتاب پر، صیرورت کے لغوی معنی ہیں پھر جانا، یعنی حالت کا بدل جانا، ہو جانا، اصطلاح میں اس کے تین معنی آتے ہیں، اصطلاح میں تین... یا یوں کہو آسان لفظوں میں، اصطلاح میں اس کی تین صورتیں ہیں، صیرورت کی تین صورتیں ہیں۔ جیسے اعطائے ماخذ کی کتنی صورتیں تھیں؟ تین صورتیں، ماخذ دینا، محل ماخذ دینا یا حق ماخذ دینا۔ تو یہاں بھی، صیرورت کی بھی کتنی صورتیں ہیں؟ تین صورتیں۔ نمبر ایک، دیکھیے کتاب پر، فاعل کا ایسی چیز کا مالک ہونا جس میں ماخذ کی صفت پائی جائے۔ جیسے جرب، جرب کہتے ہیں خارش کو۔ کسے کہتے ہیں؟ خارش کی بیماری جو ہے، خارش کی بیماری۔ اس کو جرب کہتے ہیں، اور اونٹوں کو یہ ہوتی ہے عموما۔ تو اب کسی شخص کے اونٹوں کو یہ خارش ہو گئی تو کہیں گے اجرب الرجل۔ کیا کہیں گے؟ اجرب الرجل۔ کیا معنی؟ باب افعال ہے، کس سے بنا؟ یہ لفظ اجرب کس سے بنا؟ جرب سے۔ اور جرب کا کیا معنی ہے؟ خارش۔ تو اجرب الرجل، یہ صفت دیکھو ذرا، فاعل کا ایسی چیز کا مالک ہونا، اجرب الرجل، فاعل کون؟ الرجل۔ الرجل فاعل ہے۔ فاعل جو ہے وہ جو آدمی ہے وہ ایسی چیز کا مالک ہے جس میں ماخذ ہے، جو ماخذ سے متصف ہے، یعنی وہ آدمی خارشی اونٹوں والا ہو گیا۔ وہ آدمی خارشی اونٹوں کا مالک ہو گیا، یعنی خارشی اونٹوں والا ہو گیا، یعنی اس کے اونٹوں کو کونسی بیماری لگ گئی؟ خارش کی۔ تو دیکھو اجرب الرجل، ماخذ کیا؟ جرب۔ کیا ترجمہ کریں گے؟ صیرورت کس طرح ہے یہاں پر؟ توجہ ہے؟ فاعل کیا بن رہا ہے؟ رجل بن رہا ہے، وہ کیا ہو رہا ہے؟ وہ ایسی چیز کا مالک بن رہا ہے، ایسی چیز والا بن رہا ہے، جس کو جو کس کے ساتھ متصف ہے؟ ماخذ کے ساتھ متصف ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے کتاب پر، فاعل کا ایسی چیز کا مالک ہونا جس میں ماخذ کی صفت پائی جائے جیسے اجرب زید زید خارشی اونٹ کا مالک ہو گیا، ماخذ جرب ہے اور فاعل زید جس چیز یعنی اونٹ کا مالک ہوا ہے اس میں یہ صفت جرب کی پائی جاتی ہے۔ نمبر دو، فاعل کا صاحب ماخذ ہو جانا۔ ایک تو کیا تھا؟ اجرب زید، زید خارش کا مالک ہوا تھا یا ایسی چیز کا مالک تھا جس میں یہ ماخذ کی صفت تھی؟ ایسی چیز کا مالک ہوا تھا جس میں یہ ماخذ کی صفت تھی۔ اب ہے باقاعدہ ماخذ کا مالک بنے گا وہ، ماخذ، صاحب ماخذ ہونا۔ جیسے ثمر، ثمر کسے کہتے ہیں؟ ثا میم را، پھل کو۔ اثمر الشجر۔ درخت پھل والا ہو گیا۔ دیکھو صاحب ماخذ ہو گیا، ماخذ والا ہو گیا، اس پر پھل لگ گئے۔ یا اور مثال دیں گے آگے، البنت الشاۃ، لبن کسے کہتے ہیں؟ دودھ کو۔ اسی سے باب بنا لیا البنت الشاۃ۔ شاۃ کسے کہتے ہیں؟ جی؟ نہیں نہیں بکری، یہ غلط رائج ہے، بھیڑ بکری کو کہتے ہیں، اس میں بھیڑیں بھی داخل، اس میں بکریاں بھی داخل، مذکر بھی داخل، مونث بھی داخل، سب کو کہتے ہیں شاۃ بھئی۔ ہاں ہمارے ہاں رائج غلطی ہے، سب کہتے ہیں شاۃ کا معنی بکری، نہیں نہیں۔ صرف بکری نہیں، بکری پر بھی یہ بولا جاتا ہے، بکرا ہو اس کو وہ بھی شاۃ ہے، بھیڑ ہو، مذکر ہو، مونث ہو، ان پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ تو جب شاۃ بولا جائے سب اس کے اندر داخل ہو گئے۔ تو البنت الشاۃ کیا معنی؟ بھیڑ بکری دودھ والی ہو گئی، صاحب ماخذ ہوئی، ماخذ کیا ہے؟ لبن۔ تو صاحب ماخذ ہوئی، دودھ والی ہو گئی۔ یا اور مثال لے لو، طفل، طو فا لام، طفل کسے کہتے ہیں؟ بچے کو۔ اطفلت المراۃ۔ کیا معنی؟ وہ عورت بچے والی ہو گئی، صاحب ماخذ ہو گئی، ماخذ والی ہو گئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ اب دیکھیے کتاب پر، فاعل کا صاحب ماخذ ہو جانا جیسے اثمر البستان، بستان باغ کو کہتے ہیں، باغ پھل والا ہو گیا، فاعل البستان ماخذ ثمر والا ہو گیا۔ البنت الجاموس، بھینس دودھ والی ہو گئی، فاعل الجاموس ماخذ لبن والا ہو گیا۔ جاموس بھینس کو کہتے ہیں، یہ البنت الجاموس، جاموس کیا ہے؟ فاعل ہے۔ یہ کیا ماخذ والی ہو گئی یعنی لبن والی ہو گئی، اور میں نے ایک اور مثال بھی لکھوا دی کیا؟ اطفلت المراۃ۔ نمبر تین، صیرورت کی تیسری صورت آ گئی، فاعل کا ماخذ میں کسی چیز کا مالک ہونا۔ توجہ ہے؟ ادھر دیکھو، فاعل کا ماخذ میں کسی چیز کا مالک ہونا۔ جیسے یاد رکھو خریف، خریف یہ موسم خزاں کو کہتے ہیں۔ خریف کسے کہتے ہیں؟ موسم خزاں کو۔ تو عربی میں پھر اسی سے باب بنا لیا۔ اخرفت الشاۃ، بھیڑ بکری جو ہے وہ موسم خریف میں کسی چیز کی مالک ہو گئی، کسی چیز والی ہو گئی یعنی بچے والی ہو گئی۔ مراد کیا ہے؟ بچے والی ہو گئی۔ تو دیکھو، یہ صیرورت ہے۔ مجھے بتاؤ صیرورت کا پہلا معنی کیا تھا؟ کہ فاعل ایسی چیز کا مالک بنے جس میں ماخذ کی صفت ہو۔ کیا ہو؟ جس میں ماخذ کی صفت ہو۔ اب مجھے بتاؤ اخرفت الشاۃ، کیا بکری ایسی چیز کی مالک بن گئی جس میں خزاں والی صفت ہے؟ نہیں، یہ معنی بھی نہیں بنتا۔ اچھا دوسرا معنی کیا تھا؟ ماخذ کا مالک بننا، تو کیا بکری خریف خزاں کی مالک بن گئی؟ نہیں یہ بھی معنی صحیح نہیں۔ پھر کیا معنی؟ اس موسم کے اندر بکری کی ایک چیز والی ہو گئی۔ دیکھا؟ ماخذ میں کسی چیز کا مالک ہونا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ دیکھیے کتاب پر، فاعل کا ماخذ میں کسی چیز کا مالک ہو جانا جیسے اخرفت الشاۃ بکری موسم خزاں میں بچے والی ہو گئی، اس مثال میں فاعل یعنی الشاۃ جو ہے وہ ماخذ یعنی خریف خزاں کے اندر کسی چیز یعنی بچے والی ہو گئی۔ نمبر دس، لیاقت بھئی۔ اگلا خاصہ ہے لیاقت۔ لیاقت کے لغوی معنی ہیں لائق ہونا، قابل ہونا، کسی چیز کی صلاحیت ہونا کسی میں۔ اصطلاحی معنی ہیں، فاعل کا ماخذ کے لائق ہو جانا۔ توجہ ہے؟ کہ فاعل کس کے لائق، کس کا مستحق ہو جائے؟ ماخذ کے لائق ہو جائے، ماخذ کا مستحق ہو جائے۔ جیسے الام الرجل۔ لوم کہتے ہیں ملامت کو۔ لام یلوم لوما، کیا معنی؟ ملامت۔ اسی سے باب افعال بنا لیا، الام الرجل، کیا معنی؟ وہ آدمی ملامت کے لائق ہو گیا، یعنی اس نے ایسا کام کیا ہے کہ اب لوگ اس کو ملامت کریں گے۔ تو دیکھا ماخذ کے لائق ہو۔ تو ماخذ کیا؟ لوم۔ تو کیا معنی ہوا؟ لیاقت کا کہ فاعل ماخذ کے لائق ہو جائے، اس کا مستحق ہو جائے۔ نمبر دس، لیاقت کے لغوی معنی ہیں لائق ہونا، قابل ہونا، اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا ماخذ کے لائق و مستحق ہونا جیسے الام الرجل، ایک شخص ملامت کا مستحق ہوا۔ اس مثال میں فاعل الرجل جو ہے وہ ماخذ یعنی لوم بمعنی ملامت کا مستحق ہوا۔ نمبر گیارہ، حینونت۔ حینونت، یہ حین سے مشتق ہے، بمعنی وقت اور زمانہ۔ حین کا کیا معنی؟ وقت اور زمانہ۔ اسی سے کیا بنا لیا؟ حینونت، حینونت۔ اور اصطلاحی معنی ہیں، فاعل کا ماخذ کے وقت میں پہنچنا یا قریب ہونا۔ توجہ ہے؟ حین کا کیا معنی؟ وقت۔ تو حینونت کہ فاعل ماخذ کے وقت میں پہنچ گیا یا ماخذ کے قریب پہنچ گیا۔ توجہ ہے؟ حین کا کیا معنی؟ وقت۔ تو فاعل کہاں پہنچ گیا؟ ماخذ کے وقت میں، یا اس کے وقت کے قریب پہنچ گیا۔ جیسے حصاد کا معنی ہے کھیتی کا کٹنا۔ توجہ ہے؟ کھیتی کی کٹائی کو کیا کہتے ہیں؟ حصاد، حا صاد الف دال، حصاد۔ اب عربی میں اسی سے باب بنا لیا، احصد الزرع۔ حینونت کے مطابق ترجمہ کریں؟ کھیتی کاٹنے کے وقت کو پہنچ گئی، یعنی تیار ہو گئی، پک گئی فصل۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں یہ حین سے مشتق ہے، بمعنی وقت اور زمانہ، اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا ماخذ کے وقت میں پہنچنا یا قریب ہونا، جیسے احصد الزرع کھیتی کاٹنے کے وقت کو پہنچ گئی یا اور بہترین ترجمہ، کھیتی تیار ہو گئی فصل پک گئی، جب فصل پک گئی تو کیا معنی ہوا؟ کاٹنے کے وقت کو پہنچ گئی۔ اس مثال میں فاعل یعنی الزرع ماخذ حصاد کاٹنے کے وقت میں پہنچا۔ اسی طرح اصرم النخل، کھجور توڑنے کا وقت قریب آیا۔ یاد رکھو صرام اور صرام، توجہ ہے؟ صاد کے ساتھ ہے، صرام پڑھ لو یا صرام دونوں طرح عربی میں یہ بولا جاتا ہے۔ صرام کا معنی ہے پھل کے کاٹنے کا وقت ہونا۔ پھل کاٹنے کا وقت ہو جائے تو وہ کیا ہے؟ صرام۔ اسی سے باب بنا لیا، اصرم النخل کیا معنی؟ کھجور توڑنے کا وقت قریب آ گیا بھئی، وقت قریب آ گیا۔ پھر دیکھو حینونت کسے کہتے تھے؟ اصطلاحی معنی کیا تھے؟ فاعل کا ماخذ کے وقت میں پہنچنا یا قریب پہنچنا۔ تو یہاں پر کیا ہے؟ اصرم النخل کھیتی یہ کھجور توڑنے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ بارہواں خاصہ ہے مبالغہ۔ مبالغہ کے لغوی معنی ہیں کثرت اور زیادتی کے۔ مبالغہ کرنا، ایک چیز جیسی ہے، اس سے زیادہ اس کو بیان کرنا۔ مثلا ایک شخص تھوڑا تھوڑا ذہین ہے، آپ اس کی زیادہ ذہانت بیان کرتے ہیں، ایک شخص تھوڑا بخیل ہے آپ اس کا زیادہ بخل بیان کرتے ہیں، تو یہ مبالغہ کر رہے ہیں بھئی، یعنی جو حد ہے اس سے بڑھا کر اس کو پیش کر رہے ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے، اصطلاحی معنی ہیں مقدار یا کیفیت میں ماخذ کی زیادتی بیان کرنا۔ کس میں؟ مقدار میں زیادتی بیان کرو یا کیفیت میں ماخذ کی زیادتی بیان کرو۔ جیسے مقدار میں زیادتی کی مثال، اثمر النخل۔ اثمر النخل ہونا چاہیے بھئی۔ اثمر النخل کیا معنی؟ جی؟ ایک اثمرہ صیرورت میں بھی گزرا ہے۔ کیا معنی؟ اثمر الشجر صاحب ماخذ ہونا، ماخذ والا ہونا، اثمر الشجر کیا معنی؟ درخت پھل والا ہو گیا، اس پر پھل لگ گئے۔ لیکن اسی میں بعض اوقات یہی باب افعال یہ مبالغے کے لیے بھی استعمال ہو گا تو آپ نے موقع محل کے مطابق پھر ترجمہ کرنا ہے۔ کہیں پر وہ صیرورت والا ترجمہ کریں گے اور کہیں پر مبالغے والا، مثلا اثمر الشجر کیا معنی؟ مبالغے کے ساتھ ترجمہ کرو۔ درخت بہت پھل والا ہوا، اس پر بہت زیادہ پھل لگ گئے۔ یا تمر، تمرن کسے کہتے ہیں؟ کھجور کو، اسی سے بنا لیا، اتمر النخل، کھجور بہت زیادہ پھل والی ہو گئی، اس پہ بہت زیادہ کھجوریں لگ گئیں۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں مبالغہ کے لغوی معنی کثرت اور زیادتی کے ہیں اصطلاحی معنی ہیں مقدار یا کیفیت میں ماخذ کی زیادتی بیان کرنا۔ مقدار میں زیادتی کی مثال اثمرت النخل اثمر النخل ہونا چاہیے بھئی۔ ایک یہ مثال، اور دوسری کیا ہے اتمر النخل اثمر بھی ہے اور اتمر بھی ہے۔ تو اثمر کا معنی پھلوں کا زیادہ ہونا، اتمر کا معنی کھجوروں کا زیادہ ہونا۔ تو کھجور کا درخت بہت پھلدار ہوا، ماخذ ثمر کی کثرت مقداری کو بیان کیا ہے۔ کیفیت میں زیادتی کی مثال اصفر الصبح۔ یاد رکھو سفر یہ روشنی روشنی کو کہتے ہیں۔ سفر عربی میں کسے کہتے ہیں؟ روشنی کو۔ اسی سے باب بنا لیا بابِ افعال۔ اَسْفَرَ الصُّبْحُ کیا معنیٰ؟ صبح روشن۔ لیکن یہ مبالغہ ہے، مبالغہ ہے یہاں پر۔ صبح خوب روشن ہو گئی۔ دیکھا صبح خوب روشن ہوئی، ماخذ سفر روشنی کی کثرت کو بیان کیا ہے۔ آگے دیکھیے نمبر 13: ابتداء، ابتداء۔ بھئی ابتداء کو سمجھ لیں، ادھر دیکھو۔ ابتداء اسے کہتے ہیں، ابتداء کا کیا معنیٰ ہے؟ شروع کرنا، آغاز کرنا۔ یعنی ایک مادہ شروع سے ہی اس کے اندر آ گیا اس بابِ افعال میں۔ مجرد میں وہ استعمال ہی نہیں ہے، اس کا یعنی آغاز ہی کہاں سے ہو رہا ہے استعمال کا؟ بابِ افعال میں۔ تو اس کو کہیں گے ابتداء، ابتداء۔ اس مادے کے استعمال کی ابتداء کہاں سے ہو رہی ہے؟ اس بابِ افعال سے۔ اور دوسری صورت یہ ہے ابتداء، دوسری صورت یہ ہے ابتداء کی کہ ایک لفظ مجرد میں بھی استعمال ہوتا ہے، پھر آپ اس کو دوسرے باب میں مثلاً بابِ افعال میں لے آئے۔ اب بابِ افعال میں آ کر اس کا نیا معنیٰ ہو گیا بھئی۔ مجرد میں اس کا معنیٰ اور تھا، بابِ افعال میں اور۔ گویا یہاں ایک نئے معنیٰ کا آغاز ہو گیا، اس کی ابتداء ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے کتاب پر۔ ابتداء کے معنیٰ ہیں کسی فعل کا ابتداءً اسی باب سے آنا، یعنی یہ مادہ بابِ افعال میں مجرد کے معنیٰ کی رعایت کے بغیر استعمال ہو۔ ابتداء کی دو صورتیں ہیں: نمبر ایک، وہ مادہ مجرد میں سرے سے استعمال ہی نہ ہوتا ہو، جیسے اَرْقَلَ زَیْدٌ، زید نے جلدی کی۔ اس کا مادہ مجرد رَقَلَ مستعمل ہی نہیں، اس کا مجرد میں مادہ مستعمل ہی نہیں بھئی، سیدھا بابِ افعال میں استعمال ہوا ہے۔ دوسری صورت، وہ مادہ مجرد میں استعمال تو ہوتا ہو لیکن دوسرے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہو، جیسے اَشْفَقَ زَیْدٌ، زید خوفزدہ ہوا۔ مجرد میں یہ مادہ بابِ سمع سے شفقت و مہربانی کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔ دیکھو معنیٰ ہی بدل گیا بالکل۔ یا اور مثال یاد رکھیں بھئی: قَسَمَ اور اَقْسَمَ۔ قَسَمَ کا معنیٰ ہے مجرد میں تقسیم کرنا، لیکن اسی کو بابِ افعال میں لے گئے، اَقْسَمَ۔ اَقْسَمَ کا معنیٰ ہے قسم اٹھانا۔ تو دیکھو بالکل ایک نیا معنیٰ آ گیا۔ قَسَمَ کا معنیٰ تھا تقسیم کرنا، اور اَقْسَمَ کا معنیٰ ہے قسم اٹھانا، اَقْسَمَ یُقْسِمُ اِقْسَامًا۔ نمبر 14: موافقتِ مجرد، تفعیل، تفعل، استفعال۔ اچھا، اگلا خاصہ آ گیا موافقت۔ ادھر دیکھیے، موافقت یہ ہے کہ ایک باب کا معنیٰ دوسرے باب کے موافق ہو جائے، یعنی دونوں کا معنیٰ ایک ہو۔ ایک باب کیا ہو؟ دوسرے باب کے موافق ہو جائے، یعنی دونوں کا معنیٰ ایک ہو۔ یعنی بعض لفظ ایسے ہیں کہ عرب ان کو مجرد میں بولتے ہیں تو جو ان کا معنیٰ ہوتا ہے، جب بابِ افعال میں بھی استعمال کرتے ہیں وہ، لیکن دونوں کا معنیٰ بالکل ایک ہے۔ دونوں کا معنیٰ بالکل ایک ہے بھئی۔ جیسے آگے مثال آئے گی، اَدْجٰی اور دَجٰی۔ اَدْجٰی کا معنیٰ بھی رات کا تاریک ہونا، اور دَجٰی جو مجرد سے ہے اس کا معنیٰ بھی رات کا تاریک ہونا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے موافقت۔ پھر موافقت یہ جو بابِ افعال ہے، یہ دیکھیے عنوان کیا دے رہے ہیں؟ موافقتِ مجرد، یعنی یہ بابِ افعال کبھی مجرد، ثلاثی مجرد کے موافق بھی استعمال ہوتا ہے۔ ثلاثی مجرد میں جو لفظ کا معنیٰ ہو گا، بابِ افعال میں بھی اس کا وہی معنیٰ ہو گا۔ کبھی تفعیل، بابِ تفعیل کے ساتھ موافقت ہو گی۔ یعنی بابِ افعال میں جو لفظ کا معنیٰ ہے، بابِ تفعیل میں بھی اس کا وہی معنیٰ ہے۔ آگے کیا ہے؟ تفعل۔ بابِ افعال میں لفظ کا جو معنیٰ ہے، بابِ تفعل میں بھی اس کا وہی معنیٰ ہے۔ اگلا ہے استفعال، یعنی بابِ افعال کے اندر ایک لفظ کا جو معنیٰ ہے، بابِ استفعال میں بھی اس کا وہی معنیٰ ہے۔ تو یہ چار بابوں کے ساتھ موافقت اس کی آتی ہے: مجرد کے ساتھ بھی، تفعیل کے ساتھ بھی، تفعل کے ساتھ بھی، اور استفعال کے ساتھ بھی۔ دیکھیے کتاب پر۔ موافقت کے معنیٰ ہیں ایک فعل کا دوسرے فعل کے ہم معنیٰ اور موافق ہونا۔ بابِ افعال کی موافقت چار ابواب سے ہے: نمبر ایک، موافقتِ مجرد۔ کیا معنیٰ؟ کس کے ساتھ موافقت ہو گی؟ مجرد۔ کیا معنیٰ؟ ثلاثی مجرد۔ اَدْجَى اللَّیْلُ اور دَجَى اللَّیْلُ، رات تاریک ہو گئی۔ اَدْجٰی بابِ افعال اور دَجٰی یَدْجُوْ جو ہے مجرد سے ہے بھئی، یہ بابِ نصر ہے۔ نمبر دو، موافقتِ تفعیل۔ اَکْفَرْتُہٗ، میں نے اسے کافر قرار دیا۔ اور کَفَّرْتُہٗ، میں نے اسے کافر قرار دیا۔ بابِ افعال اور تفعیل کا ایک معنیٰ ہے۔ اَکْفَرْتُہٗ، کَفَّرْتُہٗ، میں نے اس کی نسبت کفر کی طرف کی، یعنی میں نے اسے کافر قرار دیا۔ دیکھا، کافر بنایا نہیں۔ مفتی حضرات کے پاس کوئی مسئلہ پوچھنے آتا ہے کہ فلاں شخص نے اس اس طرح کہا ہے، تو مفتی صاحب فتویٰ دیں گے یہ شخص کافر ہو گیا، یوں کہنے سے۔ تو مفتی نے اس کو کافر بنایا نہیں، کافر تو اس کے اپنے عمل نے اس کو بنایا ہے۔ مفتی نے صرف کفر کی اس کی طرف نسبت کر دی کہ یہ عمل چونکہ اگر اس نے اس طرح کہا ہے، پھر تو یہ اسلام سے خارج ہے، کیا ہو گیا ہے؟ کافر۔ تو اَکْفَرَ اور کَفَّرَ کا معنیٰ کفر کی نسبت کرنا، کافر قرار دینا، کافر بنانا نہیں بھئی۔ تو اَکْفَرْتُہٗ، کَفَّرْتُہٗ، میں نے اس کی نسبت کفر کی طرف کی۔ اَکْفَرْتُ بابِ افعال اور کَفَّرْتُ بابِ تفعیل۔ نمبر تین، موافقتِ تفعل۔ اَخْبَیْتُہٗ اور تَخَبَّیْتُہٗ، میں نے اس کو خیمہ بنایا۔ اَخْبَیْتُ الثَّوْبَ، میں نے اس کپڑے کو کیا بنا دیا؟ خیمہ۔ یا تَخَبَّیْتُ الثَّوْبَ، میں نے کپڑے کو خیمہ۔ دیکھا، دونوں بابوں کا ایک ہی معنیٰ ہے۔ تو اَخْبَیْتُہٗ، تَخَبَّیْتُہٗ، میں نے اس کو خیمہ بنایا۔ بابِ افعال اور تفعل دونوں ہم معنیٰ مستعمل ہیں۔ نمبر چار، موافقتِ استفعال۔ اَعْظَمْتُہٗ، اِسْتَعْظَمْتُہٗ، میں نے اس کو بڑا خیال کیا، بڑا سمجھا۔ میں نے زید کو بڑا آدمی سمجھا، اَعْظَمْتُہٗ، اَعْظَمْتُ زَیْدًا یا اِسْتَعْظَمْتُ زَیْدًا، دونوں کا ایک معنیٰ ہے۔ افعال اور استفعال دونوں ہم معنیٰ مستعمل ہیں۔ آگے پندرھواں خاصہ آ گیا بھئی: مطاوعتِ مجرد و تفعیل۔ مطاوعتِ مجرد و تفعیل۔ مطاوعت اسے کہتے ہیں، ادھر دیکھیے۔ مطاوعت اسے کہتے ہیں کہ ایک فعل کے بعد دوسرے فعل کو لایا جائے، یہ بتلانے کے لیے کہ مفعول نے اثر کو قبول کر لیا ہے۔ مثلاً، مثلاً میں کہتا ہوں: قَطَعْتُ الْعُوْدَ، میں نے لکڑی کو کاٹا۔ عود کسے کہتے ہیں؟ لکڑی۔ قَطَعْتُ الْعُوْدَ، میں نے لکڑی کو کاٹا۔ اب پتہ نہیں لکڑی کٹی یا نہیں کٹی، یہ تو ذکر نہیں ہے۔ تو آگے ایک اور فعل لا کر بتلاتے ہیں کہ اس مفعول نے اس فاعل کے اثر کو قبول کر لیا ہے۔ تو آگے میں کہتا ہوں: فَالنْقَطَعَ، تو لکڑی کٹ گئی۔ قَطَعْتُ الْعُوْدَ، میں نے لکڑی کو کاٹا، فَالنْقَطَعَ، تو وہ کٹ گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دو فعل لائے جاتے ہیں۔ پہلے فعل میں ایک فاعل کا فعل ذکر کرتے ہیں کہ اس نے یہ مفعول پر فعل کیا۔ اور اگلا فعل آ کر بتلاتا ہے کہ مفعول نے فاعل کے اثر کو قبول کر لیا ہے۔ جیسے اور مثال لے لو: فَقَّرْتُہٗ، میں نے اس کو افطار کروایا۔ اب پتہ نہیں اس نے افطار کیا یا نہیں، یہ تو نہیں ذکر۔ تو آگے پھر میں کہتا ہوں: فَاَفْطَرَ، تو اس نے کیا کر لیا؟ افطار۔ تو اس کو کہتے ہیں مطاوعت۔ مطاوعت کسے کہتے ہیں؟ زبان سے دہراؤ کہ ایک فعل کے بعد دوسرے فعل کو ذکر کیا جائے، یہ بتلانے کے لیے کہ مفعول نے فاعل کے اثر کو قبول کر لیا ہے۔ پھر دہراؤ، مطاوعت کسے کہتے ہیں؟ ایک فعل کے بعد دوسرے فعل کو ذکر کیا جائے یہ بتلانے کے لیے کہ مفعول نے فاعل کے اثر کو قبول کر لیا ہے۔ دیکھیے کتاب پر۔ نمبر 15 جو ہے، مطاوعتِ مجرد و تفعیل۔ مجرد اور تفعیل کی مطاوعت۔ بھئی کیا معنیٰ؟ یعنی ادھر دیکھو، مطاوعت میں کتنے فعل ذکر ہوں گے؟ دو۔ تو جو پہلا ہے وہ ثلاثی مجرد ہو تو اس کی مطاوعت کے لیے بابِ افعال لاتے ہیں۔ مطاوعت کے لیے کیا لاتے ہیں؟ بابِ افعال۔ یعنی اس کے مفعول نے اثر کو قبول کر لیا ہے، کس کے ذریعے ذکر کریں گے؟ بابِ افعال کے۔ اور کبھی کبھار اگر پہلا فعل بابِ تفعیل ہو تو اس کی مطاوعت کے لیے بھی کس کو لاتے ہیں؟ بابِ افعال کو لاتے ہیں۔ تو یہ جو دوسرا فعل ہے، یہ مطاوعت ہے بھئی، اس میں مطاوعت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں مطاوعت کے معنیٰ ہیں فرمانبرداری۔ یہاں مطاوعت سے مراد بابِ افعال کا ثلاثی مجرد یا بابِ تفعیل کے بعد اس لیے آنا تاکہ معلوم ہو جائے کہ فعلِ اول کے فاعل کے اثر کو مفعول نے قبول کیا ہے۔ مطاوعتِ مجرد کی مثال: کَبَبْتُ الْاِنَاءَ۔ کَبَّ یَکُبُّ کے معنیٰ الٹانا۔ کَبَبْتُ الْاِنَاءَ، میں نے برتن کو الٹایا۔ اب پتہ نہیں الٹایا نہیں الٹا۔ کَبَبْتُ، باب کون سا ہے؟ مجرد، مجرد ہے، ثلاثی مجرد۔ تو میں مطاوعت کے لیے پھر کیا لاتا ہوں؟ بابِ افعال۔ فَاَکَبَّ، تو وہ الٹ گیا، الٹ گیا۔ اور نیز اس میں الزام بھی ہے، الزام بھی ہے اَکَبَّ میں۔ کَبَّ کا معنیٰ کیا تھا؟ الٹانا، مفعول چاہیے۔ اسی کو آپ فعلِ لازم بنانا چاہیں تو کس میں لے جاتے ہیں؟ بابِ افعال میں۔ اَکَبَّ، وہ الٹ گیا۔ اچھا، دیکھیے کتاب پر۔ مطاوعتِ مجرد کی مثال: کَبَبْتُ الْاِنَاءَ فَاَکَبَّ، میں نے برتن کو اوندھا کیا پس وہ اوندھا ہو گیا، یعنی الٹا ہو گیا۔ اس مثال میں فعلِ اول کَبَبْتُ جو مجرد ہے، یعنی ثلاثی مجرد ہے، کے فاعلِ متکلم کے اثر یعنی اوندھا کرنے کو مفعول نے قبول کیا ہے۔ مطاوعتِ تفعیل کی مثال، یعنی بابِ تفعیل پہلے ذکر ہو گا اور اس کے بعد اس کے اثر کو کون ظاہر کرے گا؟ بابِ افعال۔ بَشَّرَ زَیْدٌ عَمْرًوا، زید نے خوشخبری دی عمرو کو، فَاَبْشَرَ، تو عمرو کیا ہوا؟ خوش ہو گیا۔ زید نے عمرو کو خوشخبری دی پس عمرو خوش ہو گیا۔ اس مثال میں فعلِ اول بَشَّرَ کے فاعل زید کے اثر یعنی خوشی دینے کو مفعول نے قبول کیا ہے۔ یا اور مثال میں نے ذکر کر دی: فَقَّرْتُہٗ فَاَفْطَرَ۔ فَقَّرْتُہٗ، کون سا باب ہے؟ بابِ تفعیل۔ اور اس کے متابع کیا آیا؟ اَفْطَرَ، بابِ افعال آیا۔ فَقَّرْتُہٗ فَاَفْطَرَ، میں نے اس کو افطار کروایا تو اس نے افطار کر لیا۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ جی، آگے دیکھیے بھئی، خاصیاتِ بابِ تفعیل بھئی۔ بابِ تفعیل کی خاصیات، اس باب کی 13 خاصیات ہیں: نمبر ایک تعدیہ، نمبر دو تصئیر، نمبر تین سلبِ ماخذ، نمبر چار سیرورت، نمبر پانچ بلوغ۔ معنیٰ سمجھ میں آتے جا رہے ہیں کہ نہیں اب؟ جی جی۔ پھر سنو، تعدیہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تصئیر سمجھ میں آ رہا ہے؟ سلبِ ماخذ، سیرورت، بلوغ۔ نمبر چھ مبالغہ، نمبر سات نسبت الی ماخذ، نمبر آٹھ الباسِ ماخذ، نمبر نو تخلیطِ ماخذ، نمبر دس تحویل، نمبر گیارہ قصر، نمبر بارہ ابتداء، نمبر تیرہ موافقتِ مجرد، افعال، تفعل۔ نمبر ایک بھئی، تعدیہ۔ ابھی بتایا، تعدیہ کسے کہتے ہیں؟ فعل کو متعدی بنا دینا، اگر پہلے لازم تھا۔ اور اگر وہ پہلے سے متعدی تھا تو تو ایک مفعول کو زائد کر دینا، بڑھا دینا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ نمبر ایک، تعدیہ کے معنیٰ گزر چکے ہیں۔ مثال: فَرَّحَ، اس نے خوش کیا۔ فَرِحَ یَفْرَحُ، فَرِحَ کا معنیٰ خوش خود خوش ہونا۔ توجہ ہے؟ ادھر دیکھو، فَرِحَ کا معنیٰ خود خوش ہونا۔ لیکن اس کو بابِ تفعیل میں لے گئے، فَرَّحَ۔ کیا معنیٰ؟ دوسرے کو خوش کرنا۔ فَرَّحْتُ زَیْدًا، میں نے زید کو خوش کیا۔ تو کہتے ہیں مثال: فَرَّحَ، اس نے خوش کیا۔ مجرد میں یہ مادہ بابِ سمع سے لازم آتا ہے، فَرِحَ، وہ خوش ہوا۔ اور مثال یاد رکھو بھئی: نَزَلَ۔ نَزَلَ کا معنیٰ ہے اترنا، اترنا۔ اسی کو بابِ تفعیل میں لے گئے، نَزَّلَ۔ کیا معنیٰ؟ اتارنا۔ نَزَلَ کا معنیٰ اترنا، اور نَزَّلَ؟ اتارنا۔ دیکھو یہ تعدیہ ہے، متعدی بنا دیا۔ اور مثال دیکھیں بھئی: بَانَ۔ بَانَ کا معنیٰ ظاہر ہونا، بَانَ یَبِیْنُ، واضح ہونا۔ اور بَیَّنَ؟ واضح کرنا۔ بَانَ الشَّیْءُ، چیز واضح ہو گئی۔ بَیَّنْتُ الشَّیْءَ، میں نے چیز کو واضح کر دیا، بیان کر دیا۔ یا اور مثال بھئی: قَدَمَ اور قَدَّمَ۔ قَدَمَ کا معنیٰ ہے آگے ہونا، خود آگے ہونا۔ اور قَدَّمَ یُقَدِّمُ؟ دوسرے کو آگے کرنا۔ آگے دیکھیے بھئی، اسی کی متعدی بدو مفعول کی مثال: عَلَّمْتُ الرَّجُلَ الْحَقَّ۔ بھئی ایک مفعول چاہتا تھا، پھر دو مفعول ہو جائیں گے۔ جیسے عَلَّمْتُ الرَّجُلَ الْحَقَّ، میں نے اس آدمی کو حق سکھایا، حق بتلایا۔ مجرد میں عَلِمْتُ الْحَقَّ، میں نے حق جانا، متعدی بیک مفعول ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ فائدہم: بابِ تفعیل متعدی بسہ مفعول استعمال نہیں ہوتا، یعنی اس کے تین مفعول نہیں آتے۔ متعدی بسہ مفعول ہونا، تین مفعول کی طرف متعدی ہونا، یہ بابِ افعال کی خصوصیت ہے۔ آگے نمبر دو، تصئیر کے معنیٰ گزر چکے ہیں۔ تصئیر کا کیا معنیٰ تھا؟ مفعول کو ماخذ والا بنا دینا۔ اَشْرَکْتُ النَّعْلَ، تسمے میں والا بنایا۔ جی، تو یہاں دیکھیے کتاب پر تصئیر کے معنیٰ گزر چکے ہیں۔ مثال: فَرَّحْتُ زَیْدًا، میں نے زید کو خوش کیا۔ دیکھو، فَرْحٌ کسے کہتے ہیں؟ خوشی کو۔ تو فَرَّحْتُ، میں نے زید کو خوشی والا بنا دیا۔ تو فاعل نے مفعول کو ماخذ فَرَحٌ یعنی خوشی والا بنایا ہے۔ نمبر تین، سلبِ ماخذ۔ سلبِ ماخذ کا کیا معنیٰ تھا؟ ماخذ کی نفی کرنا، نفی کرنا۔ کہتے ہیں اس کے معنیٰ گزر چکے ہیں۔ مثال: قَذَّیْتُ عَیْنَہٗ، میں نے اس کی آنکھ سے تنکا دور کیا۔ اَقْذٰی بھی کہتے ہیں اور قَذّٰى بھی کہتے ہیں، بابِ افعال میں بھی ہے اور بابِ تفعیل میں بھی۔ قَذًى، تنکا بھئی، فعل کا ماخذ ہے۔ جبکہ مجرد میں یہ قَذِیَتْ عَیْنُہٗ، اس کی آنکھ میں تنکا پڑ گیا۔ اسی طرح قَرَّدْتُ الْاِبِلَ، میں نے اونٹ سے چیچڑیاں صاف کیں۔ ماخذ قُرَادٌ چیچڑی ہے۔ قُرَادٌ، بھئی جیسے انسان کے اندر جوئیں ہوتی ہیں تو اس طرح کے کچھ حشرات اونٹ کے بدن پر بھی ہوتے ہیں، ان کو چیچڑی کہتے ہیں، قُرَادٌ بھئی، قُرَادٌ۔ اسی قُرَادٌ سے باب بنا لیا، کیا؟ قَرَّدْتُ الْاِبِلَ۔ اب کیا معنیٰ ہو گا؟ قُرَادٌ یعنی ماخذ کو دور کیا، چیچڑی کو دور کیا۔ یا اور مثال لے لیں: قِشْرٌ، قاف دو نقطوں والا، شین اور را۔ قِشْرٌ کسے کہتے ہیں؟ چھلکے کو، چھلکے کو، چھلکے کو۔ اسی سے عربوں نے باب بنا لیا: قَشَّرْتُ الْعُوْدَ، عود لکڑی کو کہتے ہیں۔ یا قَشَّرْتُ الْفَاکِہَۃَ، تو کیا معنیٰ ہو گا؟ سلبِ ماخذ کرو، کس سے بنا ہے؟ قِشْرٌ۔ قِشْرٌ کسے کہتے ہیں؟ چھلکے کو۔ تو قَشَّرْتُ الْعُوْدَ، کیا معنیٰ؟ میں نے چھلکے کو دور کیا، چھلکے کو اتارا، ختم کر دیا۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ آگے دیکھیے نمبر چار، سیرورت۔ سیرورت کا کیا معنیٰ؟ حالت کا بدل جانا، خود بدلنا۔ کہتے ہیں سیرورت کے معنیٰ گزر چکے ہیں۔ مثال: نَوَّ— نَوَّرَ الشَّجَرُ، درخت شگوفہ دار کلی والا ہو گیا۔ بھئی دیکھو یاد رکھو، یہ ایک ہے نور، ایک ہے نَوْرٌ۔ نور اور نَوْرٌ۔ نور روشنی کو کہتے ہیں عربی میں اور نَوْرٌ کلی کو کہتے ہیں کلی۔ یہ جو پھول ہے نا پھول، ابھی پتیاں اس کی بن گئیں لیکن کھلا نہیں، بند ہے۔ تو یہ کیا ہے؟ کلی، اس کو کہتے ہیں نَوْرٌ، نَوْرٌ۔ اسی سے باب بنا لیا نَوَّرَ الشَّجَرُ، کیا معنی؟ درخت ماخذ والا ہو گیا، کیا معنی؟ کلیوں والا ہو گیا، اس پر کلیاں لگ گئیں، معنی سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں مثال ہے نَوَّرَ الشَّجَرُ، درخت شگوفہ دار کلی والا ہو گیا، فاعل الشَّجَرُ صاحبِ ماخذ ہوا۔ آگے نَوْرٌ ماخذ ہے، نور نہیں بھئی، نون پر ضمہ غلط لگا ہے۔ نَوْرٌ ماخذ ہے بمعنی شگوفہ یعنی کلی۔ نمبر پانچ: بلوغ۔ بلوغ کے معنی ہیں فاعل کا ماخذ میں آنا یا پہنچنا، جیسے خَيَّمَ زَيْدٌ۔ بھئی ماخذ ہے خیمہ، خیمہ۔ ماخذ کیا ہے؟ خیمہ۔ اسی سے باب بنا لیا خَيَّمَ۔ خاصہ کون سا اس میں؟ پہنچنا، بلوغ۔ تو خَيَّمَ زَيْدٌ، کیا معنی؟ زید خیمے میں پہنچا، زید خیمے میں داخل ہوا، معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو جیسے خَيَّمَ زَيْدٌ، زید خیمہ زن ہوا۔ بھئی یہ ترجمہ غلط لکھا ہے، خیمہ زن نہیں ہوا، زید خیمے میں داخل ہوا، زید خیمے میں پہنچا۔ خیمہ زن ہونے کا معنی تو ہوتا ہے پڑاؤ ڈالنا۔ کیا معنی ہوتا ہے؟ مسافر بھئی سفر کر رہا ہے پھر کہیں پر وہ پڑاؤ ڈالتا ہے تو خیمہ لگاتا ہے اور وہاں رہتا ہے، تو خیمہ زن ہونے کا معنی تو پڑاؤ ڈالنا ہے۔ اچھا، زید خیمے میں داخل ہوا۔ عَمَّقَ عَمْرٌو۔ عمق، ادھر دیکھیے بھئی، عمق کہتے ہیں گہرائی کو، گہرائی کو۔ اسی سے بلوغ کے لیے باب بنا لیا عَمَّقَ زَيْدٌ، کیا معنی؟ زید گہرائی میں پہنچ گیا، مسئلے کی گہرائی میں پہنچ گیا یا پانی میں تیر رہا تھا، پانی کی گہرائی میں پہنچ گیا۔ تو عَمَّقَ عَمْرٌو، عمرو معاملے کی گہرائی تک پہنچا۔ دونوں مثالوں میں فاعل ماخذ یعنی خیمے اور عمق کی گہرائی میں آیا یعنی پہنچا ہے۔ نمبر چھ: مبالغہ۔ یہ خاصیت باب تفعیل میں دوسرے ابواب کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے۔ باب تفعیل مبالغے کے لیے زیادہ استعمال ہوتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ مبالغے کی تین قسمیں ہیں۔ نمبر ایک: مبالغہ فی الفعل۔ نظر ہے کتاب پر؟ مبالغہ فی الفعل، فعل میں زیادتی بیان کرنا، خواہ زیادتی کیفیت میں ہو، جیسے صَرَّحَ الْأَمْرُ۔ کیا معنی؟ صرح کا معنی ہے واضح ہونا، تو صَرَّحَ الْأَمْرُ، معاملہ خوب واضح ہوا، دیکھو مبالغہ ہے، فعل میں زیادتی بیان ہوئی۔ یا زیادتی کمیت یعنی مقدار میں ہو، جیسے جَوَّلَ زَيْدٌ، زید بہت گھوما۔ جوَل کا معنی گھومنا، جَوَّلَ زَيْدٌ، اسی سے باب تفعیل میں لے گئے، کیا معنی؟ زید خوب گھوما۔ یعنی دیکھو، مقدار میں زیادتی بیان ہو رہی ہے، گھومنے کی مقدار زیادہ ہے اور پچھلے میں کیا تھی؟ کیفیت زیادہ تھی۔ کیفیت، خوب واضح ہو گیا معاملہ، اس میں مقدار کی بات نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک ہوتی ہے کیفیت، ایک ہے مقدار۔ مثلاً ایک چیز کی سفیدی تھوڑی ہوتی ہے، کوئی اس سے زیادہ سفید، کوئی اس سے زیادہ سفید، کوئی اس سے زیادہ سفید، دیکھو کیفیت مختلف ہے۔ مقدار نہیں بدل رہی، سفیدی کی کیفیت بدل رہی ہے، مقدار نہیں بڑھ رہی۔ اور بعض اوقات ایک چیز میں مقدار بڑھتی ہے، مثلاً ایک جگہ ایک کلو گندم پڑی ہے، دوسری جگہ دو کلو ہے، تیسری جگہ تین کلو ہے، دیکھو مقدار بڑھ رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو مقدار اور چیز، اور کیفیت اور حالت اور چیز ہے بھئی۔ تو پہلے میں صَرَّحَ الْأَمْرُ، وہاں حالت بتلا رہے ہیں کہ خوب واضح ہو گیا، اس میں وہاں مقدار کی بات نہیں ہے، لیکن گھومنے میں مقدار ہے کہ تھوڑی دیر گھوما یا زیادہ دیر گھوما، تو اس میں مقدار ہے۔ نمبر دو ہے: مبالغہ فی الفاعل۔ فاعل میں زیادتی بیان کرنا، جیسے مَوَّتَتِ الْإِبِلُ، بہت اونٹ مر گئے۔ مبالغہ فاعل الإبل میں ہے یعنی مرنے والے اونٹوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ تو کس میں مبالغہ آیا؟ فاعل میں، کس میں آیا؟ فاعل میں یعنی بہت زیادہ اونٹ مر گئے۔ آگے دیکھیے، کبھی کبھار مبالغہ فی المفعول ہوتا ہے، جیسے مفعول میں زیادتی بیان کرنا، جیسے غَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ۔ اس عورت نے بہت سے دروازے بند کیے۔ غَلَّقَ، زیادتی بیان ہو رہی ہے لیکن کس میں؟ مفعول میں، جو مفعول یعنی دروازے جو ہیں وہ زیادہ بند کیے۔ یہاں مبالغہ مفعول یعنی الأبواب میں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مبالغے کی کتنی صورتیں ہیں؟ تین۔ کبھی مبالغہ کس میں ہوگا؟ فعل میں۔ اس فعل میں بھی پھر دو صورتیں ہیں، کبھی کیفیت میں مبالغہ ہوگا، کبھی مقدار میں مبالغہ ہوگا۔ اور کبھی مبالغہ فاعل کے اندر ہوگا اور کبھی مبالغہ مفعول کے اندر ہوگا۔ مفعول کی ایک دو اور مثالیں لکھنا چاہیں تو لکھ لیں: قَطَّعْتُ الثِّيَابَ۔ قَطَّعْتُ الثِّيَابَ، کیا معنی؟ مفعول میں مبالغہ ہے۔ بہت سے کپڑے کاٹے۔ ہاں، قَطَّعْتُ الثِّيَابَ، میں نے بہت سے کپڑے کاٹے۔ یا اور مثال لے لو: ذَبَّحْتُ الْغَنَمَ۔ ذَبَّحْتُ، ذال، با، حا اور لمبی تا۔ ذبح سے ہے نا، ذبح کرنا۔ ذَبَّحْتُ الْغَنَمَ، غین، نون، میم۔ ذَبَّحْتُ الْغَنَمَ، یہ بھی مبالغہ فی المفعول کی مثال ہے۔ کیا معنی؟ غنم، یاد رکھو غنم اور شاة کا ایک معنی۔ شاة کا کیا معنی بتلایا ابھی میں نے؟ بھیڑ بکریاں، تو غنم بھی بھیڑ بکری کو کہتے ہیں، دونوں کو شامل ہے۔ ذَبَّحْتُ الْغَنَمَ، کیا معنی؟ میں نے بہت سی بھیڑ بکریاں ذبح کیں بھئی، دیکھا مفعول میں مبالغہ آیا، بہت سی بھیڑ بکریاں ذبح کیں۔ آگے دیکھیے بھئی، نمبر سات: نسبت الی الماخذ۔ ادھر دیکھیے، ماخذ کی طرف نسبت کرنا، نسبت کرنا۔ دیکھیے کتاب پر، نسبت الی الماخذ کے معنی ہیں فاعل کا مفعول کو ماخذ کی طرف منسوب کرنا، اس کی طرف نسبت کرنا، جیسے کَفَّرْتُ زَيْدًا، کیا معنی؟ میں نے کفر کی زید کی طرف نسبت کی، میں نے زید کو کافر قرار دیا۔ وَفَسَّقْتُهُ۔ بھئی کَفَّرْتُ، ماخذ کیا ہے؟ کفر۔ اور فَسَّقْتُ، ماخذ کیا ہے؟ فسق، نافرمانی۔ تو کَفَّرْتُ زَيْدًا، میں نے زید کی کفر کی طرف، ماخذ کی طرف نسبت کی۔ فَسَّقْتُ زَيْدًا، میں نے زید کی ماخذ کی طرف یعنی فسق کی طرف نسبت کی کہ زید فاسق ہے، نافرمان ہے اللہ کا، بات سمجھ میں آ گئی؟ یا اور مثال لے لیں: کَذَّبْتُ زَيْدًا۔ کَذَّبْتُ زَيْدًا، کس سے بنا ہے؟ کذب سے، کذب جھوٹ کو کہتے ہیں۔ میں نے زید کی جھوٹ کی طرف نسبت کی یعنی اسے جھوٹا قرار دیا، معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں جیسے کَفَّرْتُ زَيْدًا وَفَسَّقْتُهُ، میں نے زید کی نسبت کفر کی طرف کی، فسق کی طرف کی۔ فاعل متکلم نے مفعول یعنی زید کی نسبت ماخذ یعنی کفر و فسق کی طرف کی۔ نمبر آٹھ: الباسِ ماخذ، ماخذ پہنانا۔ الباس کا کیا معنی؟ پہنانا۔ الباس کا کیا معنی؟ پہنانا۔ الباسِ ماخذ؟ ماخذ پہنانا، جس سے وہ باب بنا ہے وہی دوسرے کو پہنانا، جیسے ابھی ایک مثال گزری تھی، جلباب سے کیا بنا تھا؟ جَلْبَبَ، جَلْبَبَ۔ لیکن وہ تو باب فَعْلَلَ تھا، ابھی تو ہم باب تفعیل کر رہے ہیں تو صرف اس کے بارے میں دیکھ رہے ہیں، جو اس کے صیغے ہیں۔ تو کہتے ہیں الباسِ ماخذ، لغت میں الباس کے معنی ہیں پہنانا اور الباسِ ماخذ کے اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا مفعول کو ماخذ پہنانا، جیسے جَلَّلْتُ الْفَرَسَ۔ اچھا بھئی، جُلٌّ، جُلٌّ کہتے ہیں جھول کو، کپڑا وغیرہ، کپڑا جو گھوڑے وغیرہ پر ڈالا جاتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جُلٌّ۔ تو اسی سے باب بنا لیا جَلَّلْتُ الْفَرَسَ، میں نے گھوڑے پر جھول ڈالی، میں نے گھوڑے کو جھول پہنائی۔ کوئی کپڑا وغیرہ گھوڑے پر ڈالتے ہوں گے کبھی سردیوں سے حفاظت کے لیے، کپڑا اوپر جانور پر ڈالتے ہیں، یا اس طرح کوئی کپڑا ہوگا۔ دیکھیے کتاب پر، جیسے جَلَّلْتُ الْفَرَسَ، میں نے گھوڑے کو جھول پہنا دی۔ یہاں فاعل نے مفعول یعنی فرس کو ماخذ یعنی جُلٌّ پہنایا۔ نمبر نو ہے: تخلیطِ ماخذ۔ تخلیط کے لغوی معنی ہیں خلط ملط کرنا، ملانا، لیپنا۔ اور تخلیطِ ماخذ کے اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا مفعول کو ماخذ سے آراستہ کرنا۔ جیسے ذَهَّبْتُ السَّيْفَ، بھئی ذہب کسے کہتے ہیں؟ سونے کو۔ تو اسی سے باب بنا لیا ذَهَّبْتُ السَّيْفَ، میں نے تلوار پر سونا چڑھایا۔ میں نے تلوار پر سونا، تخلیط ہے نا تخلیط۔ یہ پہنانا تو نہیں ہوگا نا؟ تخلیط کا کیا معنی؟ چڑھانا، اس پر لیپ، اس پر ملمع کرنا۔ تو جیسے دیکھیے کتاب پر، جیسے ذَهَّبْتُ السَّيْفَ، میں نے تلوار کو سونے سے آراستہ کیا۔ یہاں فاعل نے مفعول السیف کو ماخذ یعنی ذہب، سونے سے آراستہ کیا۔ نمبر دس: تحویل بھئی۔ تحویل کے لغوی معنی ہیں پھیرنا، بدلنا۔ اور اصطلاحی معنی ہیں فاعل کا مفعول کو ماخذ یا ماخذ کی طرح بنانا۔ فاعل کیا کرتا ہے؟ ایک چیز سے ماخذ بنا دیتا ہے یا ماخذ جیسا اس کو بنا دیتا ہے، تو یہ ہے تحویل۔ کیا کرتا ہے فاعل؟ ایک چیز سے کیا بنا دیتا ہے؟ ماخذ ہی بنا دیتا ہے یا اس کو ماخذ جیسا بنا دیتا ہے۔ جیسے مَلَّكَ زَيْدٌ عَمْرًوا، زید نے عمرو کو مالک بنا دیا۔ ماخذ ملک ہے، ماخذ مالک ہونا چاہیے تھا۔ ماخذ کیا ہے؟ مالک۔ مالک سے باب بنا دیا مَلَّكَ زَيْدٌ عَمْرًوا، کیا معنی؟ کس سے بنا لفظ؟ مالک سے۔ تو زید نے عمرو کو کیا بنا دیا؟ ماخذ یعنی مالک بنا دیا، مَلَّكَ زَيْدٌ عَمْرًوا۔ یا، یا خیمہ، خیمے سے بنا لیا خَيَّمْتُ الرِّدَاءَ، کیا معنی؟ میں نے چادر سے ماخذ بنا دیا، میں نے چادر سے خیمہ بنا دیا۔ تو کہتے ہیں جیسے مَلَّكَ زَيْدٌ عَمْرًوا، زید نے عمرو کو مالک بنایا۔ ماخذ مالک ہے، بھئی یہ مالک لفظ ہونا چاہیے۔ خَيَّمْتُ الرِّدَاءَ، میں نے چادر کو خیمے کی طرح بنایا، ماخذ خیمہ ہے۔ یا اور مثال: نَصَّرَ زَيْدٌ عَمْرًوا۔ نَصَّرَ، صاد کے ساتھ ہے۔ نَصَّرَ زَيْدٌ عَمْرًوا، زید نے عمرو کو نصرانی یعنی عیسائی بنا دیا۔ زید نے عمرو کو نصرانی یعنی عیسائی بنا دیا۔ نمبر گیارہ بھئی: قصر۔ قصر کے لغوی معنی ہیں چھوٹا کرنا۔ بھئی یہ آپ پڑھ چکے ہیں ابواب الصرف میں۔ کبھی پورے جملے کو مختصر کر کے ایک باب بنا لیتے ہیں، جیسے قَالَ الرَّجُلُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، اس سے مختصر کر کے کیا بنا لیا؟ هَلَّلَ۔ کیا بنایا؟ هَلَّلَ۔ أي قَالَ الرَّجُلُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ۔ یا قَالَ الرَّجُلُ سُبْحَانَ اللهِ، اس کو مختصر کر کے کیا بنا لیا؟ سَبَّحَ۔ دیکھو باب تفعیل میں لے آئے۔ یا قَالَ الرَّجُلُ اللهُ أَكْبَرُ، اس کو مختصر کر کے کیا بنا لیا؟ کَبَّرَ۔ تو کہیں پر اگر آ جائے کَبَّرَ زَيْدٌ، کیا معنی؟ أي قَالَ زَيْدٌ اللهُ أَكْبَرُ۔ اگر کہیں آ جائے سَبَّحَ زَيْدٌ، کیا معنی؟ أي قَالَ زَيْدٌ سُبْحَانَ اللهِ۔ اور اگر کہیں پر آ جائے هَلَّلَ زَيْدٌ، کیا معنی؟ أي قَالَ زَيْدٌ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ۔ یہ قال کے معنی میں ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر، تو قصر کے لغوی معنی ہیں چھوٹا کرنا۔ اصطلاحی معنی ہیں بغرضِ اختصار مرکب کلام سے کسی کلمے کو مشتق کے طور پر بنانا۔ جیسے هَلَّلَ زَيْدٌ، زید نے لا الہ الا اللہ پڑھا۔ سَبَّحَ زَيْدٌ، زید نے سبحان اللہ پڑھا۔ نمبر بارہ: ابتداء۔ ابتداء کسے کہتے تھے بھئی؟ شروع، کیا معنی؟ ایک لفظ شروع سے ہی اس باب سے آئے، مجرد سے آئے ہی نہ۔ یا اس میں سے آئے تو معنی الگ ہو، مجرد میں اور معنی تھا اور اس میں اور۔ تو دیکھیے کتاب پر، ابتداء کے معنی گزر چکے ہیں۔ مثال: لَقَّبَ زَيْدٌ عَمْرًوا، زید نے عمرو کو لقب دیا، کوئی نام دیا بھئی، اچھا نام۔ مجرد میں یہ مادہ سرے سے مستعمل ہی نہیں بھئی۔ یا جَرَّبْتُ زَيْدًا مِرَارًا، میں نے زید کو بار بار آزمایا۔ مجرد میں یہ جَرَبَ، سَمِعَ سے خارش زدہ کے معنی میں مستعمل ہے بھئی۔ چنانچہ کہا جاتا ہے: جَرِبَ الْجَمَلُ، اونٹ خارش والا ہو گیا۔ تو لَقَّبَ مجرد سے مستعمل ہی نہیں، سیدھا اسی باب تفعیل سے آیا۔ اور جَرَّبَ مجرد میں بھی ہے، لیکن مجرد میں اور معنا اور جَرَّبَ باب تفعیل میں اور معنا ہے بھئی۔ یا اور مثال لکھ لو: کَلَمَ یَکْلِمُ، چھوٹا کاف ہے، کاف، لام، میم۔ کَلَمَ یَکْلِمُ، کَلَمَ یَکْلِمُ کا معنی ہے زخمی کرنا۔ زخمی کرنا۔ لیکن اسی مادے کو باب تفعیل میں لے آئے بھئی: کَلَّمَ یُکَلِّمُ تکلیماً، اس کا معنی ہے بات کرنا۔ بات کرنا۔ کَلَمَ یَکْلِمُ کا معنی زخمی کرنا اور کَلَّمَ کا معنی بات کرنا، دیکھو بالکل الگ معنی ہے، معنی ہی بدل گیا۔ آگے دیکھیے بھئی، نمبر تیرہ: موافقتِ مجرد و افعال و تفعل۔ کیا معنی موافقتِ مجرد؟ کہ باب تفعیل اور مجرد کا معنی ایک آئے۔ تو کہتے ہیں موافقتِ مجرد و افعال و تفعل یعنی باب تفعیل کا مجرد، افعال اور تفعل کے ہم معنی ہونا۔ موافقتِ مجرد کی مثال: تَمَرْتُهُ اور تَمَّرْتُهُ۔ تَمَرْتُ کا معنی بھی کھجور دینا اور تَمَّرْتُ کا معنی بھی کھجور دینا، اور ایک مجرد ہے اور ایک باب تفعیل ہے، تو باب تفعیل کس کے ہم معنی ہو گیا؟ مجرد کے۔ کہتے ہیں موافقتِ مجرد کی مثال تَمَرْتُهُ اور تَمَّرْتُهُ، میں نے اس کو کھجور دی۔ تَمَرَ مجرد اور تَمَّرَ باب تفعیل۔ موافقتِ افعال کی مثال: تَمَّرَ اور أَتْمَرَ۔ تر کھجور خشک ہو گئی۔ تر کھجور، دیکھو اوپر بھی آیا تھا تَمَّرَ، ابھی آیا۔ اور یہ بھی تَمَّرَ ہے، معلوم ہوا اس کے دونوں معنی آتے ہیں۔ ایک تَمَّرَ کا معنی ہے کھجور دینا اور ایک تَمَّرَ کا کیا معنی ہے؟ کھجور کا خشک ہونا۔ اور أَتْمَرَ کا معنی بھی خشک ہونا، کھجور کا خشک ہونا، تو تَمَّرَ اور أَتْمَرَ، تر کھجور خشک ہو گئی۔ یا اور مثال: مَهَّلَ اور أَمْهَلَ۔ مَهَّلَ کا معنی بھی مہلت دینا اور أَمْهَلَ کا معنی بھی مہلت دینا، تو دیکھو باب تفعیل اور باب افعال جو ہیں وہ ہم معنی ہیں بھئی، مَهَّلَ اور أَمْهَلَ۔ آگے دیکھیے بھئی، موافقتِ تفعل کی مثال: تَطَرَّسَ زَيْدٌ اور طَرَّسَ زَيْدٌ۔ زید نے ڈھال سے اپنی حفاظت کی۔ یہاں تفعیل اور تفعل دونوں ہم معنی ہیں۔ باب تفعیل اور تفعل بھئی، تَطَرَّسَ کا بھی وہی معنی ہے جو طَرَّسَ باب تفعیل کا ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ کوئی مشکل تو نہیں؟ سارا حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔