آگے دیکھیے بھئی دہم نون تاکید در آخر فعل مضارع ثقیلہ و خفیفہ چون ازربَنَّ و ازربَن۔ یازدہم حروفِ زیادَت و آن ہشت حرف است ان و ان و ما و لا و مین و کاف و با و لام۔ چہارِ آخر در حروفِ جَر یاد کردہ شد۔ بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے حروفِ غیر عاملہ کی فصل شروع کی تھی اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ حروفِ غیر عاملہ جو ہیں وہ سولہ قسم پر ہیں بھئی سولہ قسم پر اور انہوں نے مختصر مختصر تعارف سب کا کروایا بھئی بس ان کے نام ذکر کرتے چلے جا رہے ہیں اور ان کی تعداد بتلاتے جا رہے ہیں بھئی۔ یہ ابتدائی کتاب ہے بھئی یہاں صرف نحو کا تعارف کروایا جا رہا ہے تو جتنی زیادہ تفصیل ذکر کی جائے گی وہ طالب علم بیچارہ ابتدائی طالب علم تشوش میں مبتلا ہو جائے گا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا سب کو یاد رکھنا دو چار ذہین ہوں گے وہ تو کر لیں گے لیکن باقی سب طلبہ تو نہیں کر سکتے۔ تو میں بھی مختصر تقریر کرتا جا رہا ہوں بس آپ یہ ان کا تعارف ان کا نام اور ان کی تعداد یاد کرتے جائیں۔ بات سمجھ میں آگئی کہ کون کون سے قسم کے حروف ہیں اور ان کے کیا کیا نام ہیں اور یہ کس مقصد کے لیے آتے ہیں اور ان کی تعداد کیا ہے بس یہ آپ یاد کرتے جائیں باقی تفصیل انشاءاللہ اگلی کتابوں میں آجائے گی بھئی۔ تحصیلِ علم کا طریقہ یہ ہے بھئی۔ شروع سے یہ ایک دم سارا کچھ سارا کچھ نہیں بتایا جاتا بھئی۔ شروع میں تھوڑی باتیں ذکر کی جاتی ہیں طالب علم ان کو یاد کر لیتا ہے پھر اگلے درجے میں جاتا ہے پھر کچھ مزید تفصیل آجاتی ہے پھر اس سے اگلے درجے میں جاتا ہے اور زیادہ تفصیل آجاتی ہے اور اس طرح قدم بہ قدم وہ سیکھتا چلا جاتا ہے بجائے اس کے کہ شروع میں ہی اس کو سارا کچھ بتا دیا جائے بھئی۔ وہ بیچارہ تو مبتدی طالب علم ہے وہ کیا یاد کرے گا بھئی۔ تو لہذا انہوں نے مختصر بیان کیا ہے میں بھی مختصر تقریر کرتا جا رہا ہوں بس صرف تعارف کروا رہا ہوں اور تو آپ نے ان کے نام یاد رکھنے ہیں جو مختصر باتیں میں نے ذکر کر دیں وہ یاد رکھیں اور ان کے جو تعداد ہیں یہ حروف وغیرہ ان کو یاد رکھیں بھئی۔ تو کل انہوں نے بتلایا کہ حروفِ غیر عاملہ وہ سولہ قسم کے ہیں ان میں سے پہلے بتلایا حروفِ تنبیہ ہیں۔ میں نے بتایا حروفِ تنبیہ وہ ہیں جو کسی دوسرے کو متوجہ کرنے کے لیے تنبہ کرنے کے لیے اس کو بیدار کرنے کے لیے کلام کے شروع میں ذکر کیے جاتے ہیں تاکہ کہیں غفلت کہیں وہ غفلت میں نہ ہو اور کلام اس کے سامنے کلام ذکر کیا جائے اور وہ غفلت میں ہو اور سنے ہی نہ۔ تو اس لیے حروفِ تنبیہ کو شروع میں ذکر کیا جاتا ہے اور یہ تین ہیں بھئی الا، اما اور ہا۔ دوسرا حروفِ ایجاب ہے بھئی جو کسی سوال وغیرہ کے جواب میں ذکر کیے جاتے ہیں اور وہ چھ ہیں نعم، بلا، اجل، ای، جری اور انا اور میں نے بتایا تھا کہ یہ ای جو ہے اس کے ساتھ قسم بھی ذکر کی جاتی ہے ای واللہ بھئی اور ان میں سے باقی سب کا معنی نعم کی طرح ہے البتہ بلا بلا کا معنی ہے کیوں نہیں کیوں نہیں تو یہ سوال اگر منفی ہو تو یہ اس کو مثبت میں بدل کر اس کا جواب دیتا ہے یعنی اس کی نفی کو ختم کرتا ہے۔ سوم حروفِ تفسیر تیسری قسم جو تھی حروفِ غیر عاملہ کی وہ حروفِ تفسیر تھی اور وہ انہوں نے بتلایا کہ دو ہیں ای اور ان ان کے ذریعے کسی چیز کی تفسیر کی جاتی ہے کسی چیز کا معنی بیان کیا جاتا ہے بھئی ان کو اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں حروفِ تفسیر کہتے ہیں۔ چوتھی قسم حروفِ مصدریہ ہیں اور وہ تین ہیں انہوں نے بتلایا ما، ان اور انّ اور یہ ما اور ان جملہ فعلیہ پر داخل ہوتے ہیں یعنی فعل پر داخل ہوتے ہیں اور اس کو مصدر کے معنی میں کر دیتے ہیں اور انّ جو ہے یہ جملہ اسمیہ پر داخل ہوتا ہے اور اس کو مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے اور یہ وہی انّ ہے جو آپ نے حروفِ مشبہ بالفعل کے اندر پڑھا تھا بھئی تو یاد رکھو یہ جو انّ ہے یہ جب کسی کلام پر داخل ہوتا ہے کسی جملے پر تو پھر اس کو مفرد بنا دیتا ہے اس کو مصدر بنا دیتا ہے اس کے اندر بات پوری ہوتی ہی نہیں مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں انَّ زیداً قائم۔ کیا ترجمہ؟ کہ زید کہ زید کہ کھڑا ہے ہاں کہ زید کہ کھڑا ہے نہیں بھئی یہ تو پورا جملہ ہے انَّ زیداً قائم۔ اس کا معنی ہے قیامِ زید۔ زید کا قیام تو میں کسی کے عرب کے سامنے سارا دن بھی کہتا رہوں انَّ زیداً قائم تو اس کا معنی کیا ہے؟ قیامِ زید گویا میں یوں ہی کہہ رہا ہوں قیامِ زید زید کا قیام زید کا قیام تو وہ مجھے کہے گا بھئی بات تو پوری کریں زید کے قیام کو کیا ہوا بھئی تو یہ انّ کیا کرتا ہے جملے کو مفرد کے حکم میں کر دیتا ہے یعنی مصدر بنا دیتا ہے۔ پانچویں قسم جو انہوں نے بتلایا وہ حروفِ تحضیض ہیں بھئی تحضیض کا معنی ہے ابھارنا اور یہ چار حروف ہیں اللہ، ہلا، لولا اور لوما اور یہ ابھارنے کے لیے آتے ہیں یہ اگر مضارع پر داخل ہوں اور اگر ماضی پر داخل ہوں تو پھر یہ ملامت کرنے کے لیے آتے ہیں ہلا ضربت زیداً تو نے کیوں زید کی پٹائی نہیں کی دیکھو ماضی پر داخل ہوا تو یہ ملامت کے لیے ہے کہ اس کو ملامت کیا جا رہا ہے مخاطب کو کہ اس نے زید کی پٹائی کیوں نہیں کی۔ اگلی قسم تھی حروفِ توقع اور وہ صرف ایک ہی حرف ہے اور وہ ہے قد بھئی اور میں نے آپ کو بتلایا کہ قد ماضی پر بھی داخل ہوتا ہے اور مضارع پر بھی قد ماضی پر داخل ہو تو وہ تحقیق کا فائدہ دیتا ہے اور اسی طرح ماضی کو حال کے قریب کر دیتا ہے۔ قد ضرب زیدٌ۔ قد ضرب زیدٌ۔ تحقیق زید نے پٹائی کی ہے۔ देखو اس کو ماضی کو حال کے قریب کر دیا معلوم ہوا ابھی قریب کے زمانے میں اس نے پٹائی کی ہے۔ اور مضارع پر جب یہ داخل ہوتا ہے تو پھر یہ تقلیل کا فائدہ دیتا ہے قد یجیء زیدٌ کبھی کبھار زید آتا ہے۔ اور پھر مضارع میں بھی کبھی یہ تحقیق کا بھی فائدہ دیتا ہے۔ ہفتم ساتویں قسم انہوں نے حروفِ استفہام ذکر کی اور بتلایا کہ وہ تین ہیں ما، ہمزہ اور حل میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ حروفِ استفہام صرف دو ہیں ہمزہ اور حل۔ یہ جو ما ہے یہ اسم ہے بھئی یہ اسم ہے البتہ یہ بھی استفہام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ہشتہم حروفِ ردّ آٹھویں قسم جو انہوں نے ذکر کی وہ حروفِ ردّ ہے۔ ردٌّ ردٌّ کا معنی ہے ڈانٹنا بھئی ڈانٹنا منع کرنا روکنا کسی چیز پر مثلاً کسی نے آپ سے کہا زیدٌ یبغضُکَ زید آپ سے بغض رکھتا ہے یعنی آپ سے نفرت کرتا ہے اس کے دل میں آپ کے بارے میں کینہ ہے بھئی تو آپ جواب میں کہتے ہیں کلَّا ہرگز نہیں یعنی ہرگز ایسی بات نہیں ہے زید مجھ سے بغض نہیں رکھتا۔ تو یہ کلَّا ہے یہ ردّ ڈانٹ کے لیے بھئی اور نیز یہ حقاً کے معنی میں بھی آیا ہے حقاً کا کیا معنی یقیناً اور بے شک بھئی کلَّا سوفَ تعلمونَ یقیناً عنقریب تم جان لو گے تو کلَّا یہاں حقاً کے معنی میں ہے بھئی یقیناً اور یہ وہی معنی ادا کرتا ہے جو انَّ ادا کرتا ہے انَّ جیسے کلام میں تاکید اور زور پیدا کر دیتا ہے۔ اور نویں قسم جو پڑھی تھی آپ نے حروفِ غیر عاملہ کی وہ تنوین تھی بھئی تنوین اور انہوں نے بتلایا کہ تنوین پانچ قسم پر ہے ایک تنوین تمکن ہے ایک تنوین تنکیر ہے ایک تنوین عوض ہے ایک تنوین مقابلہ ہے اور ایک تنوین ترنم ہے۔ تنوین تمکن وہ ہے اسی کا دوسرا نام تنوین صرف بھی ہے بھئی صاد کے ساتھ تنوین صرف اور یہ منصرِف کو جدا کرتی ہے غیر منصرِف سے جس لفظ پر تنوین تمکن آجائے معلوم ہوا وہ غیر منصرِف نہیں ہے ایسا معرب ہے جو منصرِف ہے بھئی جیسے زیدٌ۔ زیدٌ پر تنوین آئی اس تنوین نے کیا بتایا کہ زید ایسا معرب ہے جو کہ منصرِف ہے بھئی۔ دوسری قسم تھی تنوین تنکیر بھئی جو نکرہ کے پر آتی ہے نکرہ پر اور عموماً طلبہ سمجھتے ہیں شاید یہ رجلٌ وغیرہ پر جو تنوین آئی یہ تنکیر والی تنوین ہے لیکن یہ تنکیر والی تنوین نہیں تنکیر والی تنوین جو نکرہ پر آتی ہے یا نکرہ بنانے کے لیے آتی ہے وہ صرف اسمِ فعل میں آتی ہے کس میں؟ اسمِ فعل جیسے انہوں نے ذکر کیا صہ بھئی کسی کو خاموش کروانا ہو کہ ابھی خاموش ہو جاؤ تو عربی میں کہتے ہیں صہ بھئی صاد اور ہا صہ۔ اور کبھی اسی کو تنوین کے ساتھ ذکر کرتے ہیں صہن صہن تو یہ جو تنوین کے ساتھ ہے یہ تنوین نکرہ کے لیے ہے اور نکرہ میں عموم ہوتا ہے معلوم ہوا اس کا معنی کیا ہے صہن کسی وقت تو چپ ہو جاؤ کسی وقت تو خاموش ہو جاؤ اور صہ صہ کا معنی ہے ابھی خاموش ہو جاؤ دیکھا یہ معرفہ ہے ابھی یعنی اس اس وقت کے اندر کیا ہو جاؤ خاموش ہو جاؤ تو یہ تنوین تنکیر ہے جو اسمِ فعل میں آتی ہے۔ اگلی قسم تھی تنوین عوض تنوین عوض یاد رکھو وہ تنوین ہے جو مضافِ الیہ کے عوض میں آتی ہے۔ وہ مضافِ الیہ مفرد بھی ہو سکتا ہے اور جملہ بھی جیسے یومئذٍ یہ اصل میں کیا تھا یومِ اذ کان کذا۔ یومِ اذ یہ اذ مضاف ہے اور کان کذا پورا جملہ مضافِ الیہ ہے اور پھر اس کان کذا جملے کو حذف کرکے اذ کو تنوین دے دی جاتی ہے یومئذٍ۔ یومئذٍ۔ اور یہ تنوین اسی طرح ہمیشہ اسی طرح کسرہ کے ساتھ ہی آئے گی۔ یومئذٍ۔ یومئذن یا یومئذن نہیں کہہ سکتے یومئذٍ اسی طرح جبکہ کلُّ اور بعضُ پر بھی تنوین آتی ہے اور وہ بھی مضافِ الیہ کے عوض ہوتی ہے۔ کلُّ اور بعضُ کلُّ کا معنی سارا بھئی کس چیز کا سارا ساری کتابیں یا سارے طلبہ یا سارے قلم تو اس کے لیے آگے ہمیشہ مضافِ الیہ چاہیے اسی طرح بعض کے لفظ کے لیے بھی ہمیشہ کیا چاہیے مضافِ الیہ تو یہ کلُّ اور بعضُ پر بعض اوقات مضافِ الیہ کو حذف کر لیتے ہیں اور اس کے عوض ان پر تنوین لے آتے ہیں تو یہ تنوین عوض ہے مضافِ الیہ سے۔ تو جہاں بھی آپ کو کلُّن تنوین کے ساتھ نظر آئے یا کلًّا تنوین کے ساتھ ہو یا کلِّن تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ تنوین عوض ہے کس سے مضافِ الیہ سے اور سب سے آسان یہ ہے کہ وہاں واحد کا لفظ مضافِ الیہ نکال لیں کلُّ واحدٍ۔ تو کلُّن یہ کس معنی میں ہے کلُّ واحدٍ کے معنی میں ہے اور یہ کلُّن پر جو تنوین عوض آئی مضافِ الیہ کا اس پر رفع نصب جر تینوں صورتوں میں آسکتی ہے یومئذٍ میں تو صرف کسرہ کے ساتھ آئے گی وہ تنوین لیکن کلُّن میں تنوین جو مضافِ الیہ کا عوض ہے وہ ضمہ کے ساتھ بھی آسکتی ہے فتحہ کے ساتھ بھی اور کسرہ کے ساتھ بھی کلُّن کلًّا کلِّن موقع کے مطابق جیسا عامل ہوگا وہی اعراب کلُّن پر آئے گا بھئی۔ اور اگلی قسم تھی تنوینِ مقابلہ۔ علماءِ نحو فرماتے ہیں کہ یہ جمع مؤنث سالم پر جو تنوین آتی ہے یہ تنوینِ مقابلہ ہے۔ یہ جمع مذکر سالم کے مقابلے میں اس کو تنوین دی گئی۔ جمع مذکر سالم کے اندر آخر میں نون آرہا تھا نون بھئی۔ تو اس کے مقابلے میں جمع مؤنث سالم کو بھی تنوین دی۔ اور تنوین بھی کس کا نام ہے نونِ ساکن کا تو وہاں نون تھا تو یہاں بھی نون دے دیا گیا اور اگلی قسم جو ہے وہ تنوین ترنم ہے۔ تنوین ترنم وہ ہے جو اشعار کے اندر استعمال ہوتی ہے شعر کا وزن صحیح رکھنے کے لیے اس میں ترنم پیدا کرنے کے لیے اس میں نون ساکن ہوگا تو اس سے غنہ کیا جاتا ہے اس میں اور ناک میں آواز لے جاتے ہیں اور آواز کو لمبا کرتے ہیں اور اس سے شعر میں ترنم پیدا ہوگا آواز خوشگوار ہوگی اور سننے میں لطف آئے گا بھئی۔ اور یہ جو تنوینِ ترنم ہے یہ اسم فعل حرف سب پر داخل ہوتی ہے اور شعر جو انہوں نے مثال میں ذکر کیا تھا دیکھو اس میں اصاباً یہ اصاب فعل ہے اور اس کے آخر میں تنوینِ ترنم جوڑ دی تو فعل کے ساتھ تنوین آگئی اور اسی طرح العطاباً العطاباً یہ الف لام اس پر داخل تھا اور اس کے آخر میں تنوینِ ترنم جوڑ دی حالانکہ العطاب پر تو کیا داخل ہے الف لام اور الف لام کے ساتھ تنوین جمع نہیں ہوتی لیکن یہ تنوینِ ترنم ہے یہ ترنم کے لیے آتی ہے یہ ہر قسم کے لفظ کے ساتھ جڑ جاتی ہے۔ تو شاعر اس کو موقع کے مطابق ضرور شعر کا وزن درست رکھنے کے لیے اور اس میں ترنم پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ آگے دیکھیے بھئی۔ دہم نون تاکید در آخر فعل مضارع ثقیلہ و خفیفہ چون ازربَنَّ و ازربَن۔ دسمیں قسم آگے حروفِ غیر عاملہ کی بھئی۔ اور وہ نونِ تاکید ہے۔ یہ نونِ تاکید اس کا ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے کہ تاکید کے لیے دو نون استعمال کیے جاتے ہیں اور ایک کو نونِ ثقیلہ کہتے ہیں اور ایک کو نونِ خفیفہ۔ ثقیلہ جس جو ثقیل کا معنی ہے وزنی وزنی ثقیلہ یعنی جس کی ادائیگی ذرا دشوار ہے زبان پر۔ اور خفیفہ کا معنی ہے ہلکا ہونا تو جس کی ادائیگی زبان پر آسان ہے ہلکی ہے۔ یہ نونِ ثقیلہ دراصل نونِ مشدد کا نام ہے کس کا؟ نونِ مشدد یعنی یہ دو نون ہوتے ہیں جن کے اندر ادغام کیا گیا ہے جیسے ازربَنَّ۔ ازربَنَّ یہ ہے نونِ ثقیلہ۔ اس کو نونِ ثقیلہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ دو نون ہیں اور دو حرفوں کی ادائیگی زبان پر دشوار ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایک حرف اس کی ادائیگی آسان ہوتی ہے دیکھیں۔ آپ خود ادا کر کے ذرا دیکھیں کہ ازربَنَّ اور ایک ہے ازربَن۔ کس کی ادائیگی مشکل؟ ازربَنَّ۔ ازربَنَّ دیکھا کیونکہ اس میں آخر میں نونِ مشدد ہے اس لیے اس کو نونِ ثقیلہ کہتے ہیں۔ ثقیلہ کیا معنی؟ زبان پر اس کی ادائیگی دشوار ہے وزنی ہے مشکل ہے اور نونِ خفیفہ کیا معنی کہ زبان پر اس کی ادائیگی خفیف ہے آسانی سے ادا ہو جاتا ہے۔ تو یہ تاکید کے لیے آتا ہے کلام میں زور پیدا کر دیتا ہے۔ جیسے آپ کسی کو کہتے ہیں اِزرب تو پٹائی کر۔ اور ایک ہے اِزربَنَّ۔ یعنی تو ضرور پٹائی کر دیکھو کلام میں زور پیدا ہو گیا۔ اسی طرح اِزربَن اس کا معنی بھی ہے تو ضرور پٹائی کر تو یہ نون کلام میں تاکید پیدا کرتا ہے فعلِ مضارع کے ساتھ بھی یہ جڑتا ہے اسی طرح امر کے ساتھ بھی اور نہیں کے ساتھ بھی۔ جیسے یَضرِبُ اس کے ساتھ نونِ ثقیلہ جوڑیں۔ لَیَضرِبَنَّ۔ لَیَ شروع میں لامِ تاکید بھی لے آئیں گے لَیَضرِبَنَّ۔ اور نونِ خفیفہ جوڑیں۔ لَیَضرِبَن۔ اور امر اور نہیں میں امر میں اِضرِب اس کے آخر میں نونِ ثقیلہ جوڑیں۔ اِضرِبَنَّ۔ اور نونِ خفیفہ جوڑیں۔ اِضرِبَن۔ اور نہیں کے ساتھ بھی لا تَضرِب۔ لا تَضرِبَنَّ۔ اور نونِ خفیفہ جوڑیں۔ لا تَضرِبَن۔ تو یہ فعلِ مضارع کے ساتھ بھی جڑتے ہیں اسی طرح امر کے ساتھ بھی اور نہیں کے ساتھ بھی اور یہ کلام میں زور پیدا کرتے ہیں تاکید پیدا کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں دہم نونِ تاکید دسمیں قسم حروفِ غیر عاملہ کی وہ نونِ تاکید ہے در آخر فعلِ مضارع جو کہاں آتا ہے فعلِ مضارع کے آخر میں۔ فعلِ مضارع کو ذکر کیا باقی امر اور نہیں کو ذکر نہیں کیا۔ کیونکہ وہ بھی فعلِ مضارع سے ہی بنتے ہیں۔ امر کا صیغہ کس سے بنایا جاتا ہے؟ فعلِ مضارع سے نہیں۔ بھی کس سے بنتا ہے؟ فعلِ مضارع سے۔ تو کہتے ہیں دسمیں قسم نونِ تاکید ہے در آخرِ فعلِ مضارع جو فعلِ مضارع کے آخر میں آتا ہے ثقیلہ و خفیفہ اور ثقیلہ اور خفیفہ ہوتا ہے چون ازربَنَّ دیکھو یہ مثال امر کی دی۔ ذکر کیا فعلِ مضارع کو اور آگے مثال کس کی دی؟ امر کی دے دی۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں بھئی جب فعلِ مضارع کے ساتھ آتا ہے تو جو چیزیں فعلِ مضارع سے جو صیغے بنتے ہیں ان کے ساتھ بھی یہ آئے گا جیسے امر اور نہیں۔ تو ازربَنَّ یہ نونِ ثقیلہ کی مثال اور ازربَن یہ نونِ خفیفہ کی مثال۔ یازدہم حروفِ زیادَت گیارویں قسم ہے حروفِ زیادَت یعنی وہ حروف جو زاید ہوتے ہیں وہ حروف جو زاید۔ بھئی کلامِ عرب میں یاد رکھو کبھی کبھار کلام کو حسین بنانے کے لیے اور اس میں ذرا زور پیدا کرنے کے لیے کبھی زاید حروف بھی استعمال کر لیے جاتے ہیں۔ کچھ حروف کلام کا حسن بڑھانے کے لیے اور کلام میں ذرا زور اور تاکید پیدا کرنے کے لیے کچھ زاید حروف بھی لے آتے ہیں۔ زاید کا معنی یہ ہے یعنی معنی کے وہ اپنے معنی کا فائدہ نہیں دیتے ان کو لائیں یا نہ لائیں۔ معنی پر کوئی اثر نہیں پڑتا ان کو لائیں یا نہ لائیں معنی پر کوئی اثر نہیں پڑتا صرف کس لیے ان کو بڑھایا جاتا ہے؟ کلام میں حسن پیدا کرنے کے لیے اور کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے اور اسی طرح کبھی کبھار شعر میں لاتے ہیں وزن وغیرہ کو برقرار رکھنے کے لیے۔ تو یہ نہیں کہ ان کا نام زاید ہے تو یہ بالکل ہی زاید اور بیکار ہوتے ہیں بلکہ زاید ہونے کا یہ معنی کہ یہ اپنے معنی کا فائدہ نہیں دیتے یعنی ان کو رکھیں یا نکال دیں کلام کے معنی میں کوئی اثر نہیں پڑے گا ہاں یہ بالکل بیکار بھی نہیں یہ کلام میں حسن بھی پیدا کرتے ہیں اس میں تاکید بھی پیدا کرتے ہیں اور بعض اوقات شعر کا وزن وغیرہ بھی ان کے ذریعے درست کیا جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں یازدہم حروفِ زیادَت گیارویں قسم جو ہے وہ حروفِ زیادَت ہیں و آن ہشت حرف است اور وہ آٹھ حرف ہیں ان و ان و ما و لا و من و کاف و با و لام۔ ان ہے، انّ ہے، ما، لا اور من ہے، کاف ہے، با ہے، با جارہ جو ہے اور اسی طرح لام ہے لام جارہ بھئی۔ تو یہ ہمیشہ ہی زاید نہیں ہوتے یہ کبھی زاید ہوتے ہیں ویسے یہ اپنے معنی کے لیے استعمال ہوتے ہیں بھئی بات سمجھ میں آ رہی ہے کبھی کبھار مختلف معنی کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ہر جگہ زاید نہیں ہوتے لیکن باقاعدہ اگر کلام میں زاید حروف لائے جائیں تو انہی میں سے لایا جاتا ہے اور اس وقت جب یہ زاید ہوتے ہیں پھر یہ اپنے معنی کا فائدہ نہیں دیتے اور ان میں سے یہ جو آخری چار ہیں من، کاف، با اور لام۔ یہ یہ زاید ہیں لیکن یہ حروفِ جارہ میں سے ہیں یہ پھر بھی جر دیں گے۔ یہ جب زاید آجائیں پھر بھی کیا کریں گے؟ جر دیں گے۔ جیسے ایک من ہے، کاف ہے، با ہے۔ با کی مثال۔ مثلاً زیدٌ ليسَ بعالمٍ۔ زیدٌ ليسَ بعالمٍ یہ بعالمٍ یہ جو با جارہ ہے لیس کی خبر پر آتی ہے اور یہ زاید ہے۔ یہ صرف کلام میں حسن پیدا کرنے کے لیے اور اس میں تاکید پیدا کرنے کے لیے ہے اگر اس کو نکال بھی دیں تو اس سے معنی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ زیدٌ ليسَ بعالمٍ کہیں یا زیدٌ ليسَ عالماً کہیں دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ لیکن لفظوں میں یہ عمل کر رہی ہے دیکھیں۔ بعالمٍ جر دے رہی ہے۔ تو لفظوں میں عمل کر رہی ہے تو زاید ہے بایں لحاظ کہ معنی میں کوئی فائدہ نہیں دے رہی۔ تو یہ جو من ہے، کاف ہے، کاف جارہ جو ہوتا ہے، اسی طرح با ہے اور اسی طرح لام جارہ یہ بھی حروفِ زاید حروف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں لیکن یہ جب زاید کے طور پر بھی استعمال ہوں گے یہ اپنا اثر دکھائیں گے اور جس لفظ پر داخل ہوں گے اس کو جر دے دیں گے۔ پھر ایک اور بات یاد رکھنا کہ حروفِ جارہ ان کے لیے ہمیشہ کوئی نہ کوئی متعلق چاہیے یہ کسی نہ کسی چیز سے متعلق ہوتے ہیں۔ لیکن جب یہ حروفِ جارہ زاید ہوں تو پھر یہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے۔ یہ پھر یہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے۔ جیسے زیدٌ ليسَ بعالمٍ۔ ترکیب کیسے کریں گے؟ زیدٌ مرفوع لفظاً مبتدا۔ ليسَ فعل از افعالِ ناقصہ اور اس کے اندر ہوا ضمیر جو راجع ہے زید کو وہ اس کا اسم۔ اور بعالمٍ با جارہ، عالمٍ مجرور لفظاً لیکن منسوب محلاً۔ منسوب محلاً۔ کیونکہ یہ لیسَ کی خبر ہے اور لیسَ کی خبر کیا ہوتی ہے؟ منسوب ہوتی ہے۔ تو یہ با جارہ زاید آیا یہ جر تو دے رہا ہے لیکن محل کے اعتبار سے یہ عالمٍ کا لفظ کیا ہے؟ منسوب ہے یہ لیسَ کی خبر ہے۔ تو یہ منسوب محلاً اور یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ لیسَ کے لیے۔ اب آپ یہ نہ کہیں با جارہ جر مجرور مل کر ثابتن سے متعلق ہو رہے ہیں نہیں نہیں۔ یہ حرفِ زاید ہے اور حروفِ جارہ زایدہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے۔ تو بس اس میں صرف اتنا آپ بتائیں کہ یہ با جارہ زایدہ ہے، عالمٍ مجرور لفظاً ہے لیکن منسوب محلاً ہے محل کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ منسوب ہے لیسَ کی خبر ہے لیسَ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ تو کہتے ہیں یازدہم حروفِ زیادَت گیارویں قسم حروفِ زیادَت ہیں یعنی وہ حروف جو زاید ہوتے ہیں و آن ہشت حرف است اور وہ آٹھ حرف ہیں ان و ان و ما و لا و من و کاف و با و لام۔ چہارِ آخر در حروفِ جَر یاد کردہ شد۔ چہارِ آخر آخری چار جو ہیں در حروفِ جَر یہ حروفِ جَر میں یاد کردہ شد ان کو حروفِ جَر میں یاد ذکر کیا گیا ہے۔ حروفِ جارہ کا ذکر آیا تھا بھئی کہاں پر ذکر آیا تھا؟ جی حروفِ عاملہ کے اندر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حروفِ جارہ کتنے ہیں؟ سترہ ہیں اور وہ انہوں نے آپ کو گنوائے تھے تو یہ آخری چار جو ہیں یعنی من، کاف، با اور لام یہ چہارِ آخر در حروفِ جَر یاد کردہ شد ان کو حروفِ جَر میں یاد ذکر کیا گیا ہے۔ دوازدھم حروفِ شرط بارہویں قسم ہے حروفِ شرط بھئی۔ و آن دو است اور وہ دو ہیں۔ اما و لو۔ ایک اما ہے اور ایک لو ہے۔ یہ حروفِ شرط ہیں اور یہ عمل نہیں کرتے۔ ویسے تو حروفِ شرط آپ نے پیچھے بھی پڑھا تھا ان وغیرہ لیکن وہ عمل کرتے ہیں۔ وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ فعلِ مضارع کو جزم دیتے ہیں۔ یہ عمل نہیں کرتے۔ تو کہتے ہیں دوازدھم حروفِ شرط وہاں دو است اور وہ دو ہیں اما و لو ایک اما ہے اور ایک لو۔ اما برای تفسیر بھئی۔ اما تفسیر کے لیے آتا ہے۔ اما کس کے لیے؟ تفسیر۔ ایک بات اجمالاً ذکر کر دی جائے تفصیل نہیں ہوتی اس میں تو پھر اما کے ذریعے آگے اس کی تفصیل اور تفسیر بیان کی جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اما جو آتا ہے وہ تفسیر کے لیے یعنی تفصیل بیان کرنے کے لیے۔ امّا کس کے لیے؟ تفصیل۔ ایک تفسیر ہے، ایک تفصیل ہے ف کے بعد صاد ہے اور یا اور پھر لام بھئی لام۔ تو یہ تفصیل بیان کرنے کے لیے آتا ہے کس کے لیے؟ تفصیل۔ تفصیل کسی چیز میں کسی چی کوئی چیز جس میں اجمال ہو اس کی تفصیل بیان کرنے کے لیے یہ اما استعمال ہوتا ہے۔ تو جب تفصیل آجائے گی تو تفسیر بھی ہو جائے گی بات بھی پوری سمجھ میں آجائے گی وضاحت ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آگئی تو تفسیر سے یہاں مراد تفصیل ہے۔ تفسیر سے یہاں کیا مراد ہے؟ تفصیل مراد ہے کہ یہ تفصیل بیان کرنے کے لیے آتا ہے ایک چیز جس کو اجمالاً بیان کیا گیا ہو یعنی مختصراً یہ اما آکر اس کی تفصیل بیان کر دیتا ہے۔ جیسے یہ مثال دیکھو اللہ تعالی قران میں فرماتے ہیں فمنهم شقی و سعید تو بعض ان میں سے بدبخت ہیں شقی کا معنی بدبخت و سعید سعید کا معنی ہے نیک بخت۔ تو بعض ان میں سے بدبخت ہیں اور بعض ان میں سے نیک بخت ہیں۔ اب آگے اما کے ذریعے دیکھو تفصیل بیان کی جائے گی۔ اللہ کیا بتلا رہے ہیں؟ کچھ بدبخت ہیں، کچھ نیک بخت ہیں۔ اب تفصیل نہیں تھی کہ بدبخت جو ہیں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا؟ اور نیک بخت جو ہیں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا؟ تو اما کے ذریعے پھر تفصیل کی گئی کہ جو بدبخت ہیں وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے اور جو نیک بخت ہیں وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں فمنهم شقی و سعید تو بعض ان میں سے بدبخت ہیں اور بعض نیک بخت فاما الذين شقوا ففي النار تو وہ لوگ جو بدبخت ہیں ففي النار پس وہ کس میں ہوں گے؟ آگ میں یعنی جہنم میں ہوں گے واما الذين سعودوا اور باقی وہ لوگ جو نیک بخت ہیں ففي الجنة تو وہ جنت میں ہوں گے۔ देखو اب تفصیل بیان ہو گئی کس کے ذریعے؟ اما کے ذریعے فاما الذين اس اما کے ذریعے۔ تو کہتے ہیں واما برای تفسیر اما جو ہے تفسیر یعنی تفصیل کے لیے آتا ہے وفا در جوابش لازم باشد اور فا اس کے جواب میں لازم ہوتی ہے۔ یہ جو اما ہے یہ متضمن ہے معنی شرط کو اس میں شرط والا معنی پایا جاتا ہے اور شرط کی جزا پر کیا داخل کرتے ہیں؟ فا تو لہذا یہاں پر بھی اما کے جواب میں تو اما کے ساتھ پھر فا ضرور استعمال ہوگی۔ جیسے یہاں بھی دیکھیں۔ فاما الذين شقوا ففي النار دیکھو یہ فا آگئی۔ اور اسی طرح واما الذين سعودو فعل مضارع ثقیلہ و خفیفہ چو اضربن اضربن۔ دسویں قسم آگئی حروف غیر عاملہ کی بھئی اور وہ نون تاکید ہے۔ یہ نون تاکید اس کا ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے کہ تاکید کے لیے دو نون استعمال کیے جاتے ہیں اور ایک کو نون ثقیلہ کہتے ہیں اور ایک کو نون خفیفہ۔ ثقیلہ جس جو ثقیل کا معنی ہے وزنی وزنی۔ ثقیلہ یعنی جس کی ادائیگی ذرا دشوار ہے زبان پر اور خفیف کا معنی ہے ہلکا ہونا تو جس کی ادائیگی زبان پر آسان ہے ہلکی ہے۔ یہ نون ثقیلہ دراصل نون مشدد کا نام ہے کس کا؟ نون مشدد یعنی یہ دو نون ہوتے ہیں جن کے اندر ادغام کیا گیا ہے جیسے اضربن اضربن یہ ہے نون ثقیلہ۔ اس کو نون ثقیلہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ دو نون ہیں اور دو حرفوں کی ادائیگی زبان پر دشوار ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایک حرف اس کی ادائیگی آسان ہوتی ہے دیکھیں۔ آپ خود ادا کر کے ذرا دیکھیں کہ اضربن اور ایک ہے اضربن کس کی ادائیگی مشکل؟ اضربن دیکھا کیونکہ اس میں آخر میں نون مشدد ہے اس لیے اس کو نون ثقیلہ کہتے ہیں۔ ثقیلہ کیا معنی؟ زبان پر اس کی ادائیگی دشوار ہے وزنی ہے مشکل ہے۔ اور نون خفیفہ کیا معنی؟ کہ زبان پر اس کی ادائیگی خفیف ہے آسانی سے ادا ہو جاتا ہے۔ تو یہ تاکید کے لیے اتا ہے کلام میں زور پیدا کر دیتا ہے۔ جیسے آپ کسی کو کہتے ہیں اضرب تو پٹائی کر اور ایک ہے اضربن یعنی تو ضرور پٹائی کر دیکھو کلام میں زور پیدا ہو گیا۔ اسی طرح اضربن اس کا معنی بھی ہے تو ضرور پٹائی کر تو یہ نون کلام میں تاکید پیدا کرتا ہے فعل مضارع کے ساتھ بھی جڑتا ہے اسی طرح امر کے ساتھ بھی اور نہیں کے ساتھ بھی یہ۔ جیسے یضرب اس کے ساتھ نون ثقیلہ جوڑیں لیضربن لی شروع میں لام تاکید بھی لے آئیں گے لیضربن اور نون خفیفہ جوڑیں لیضربن اور امر اور نہیں میں امر میں اضرب اس کے آخر میں نون ثقیلہ جوڑیں اضربن اور نون خفیفہ جوڑیں اضربن اور نہیں کے ساتھ بھی لا تضرب لا تضربن اور نون خفیفہ جوڑیں لا تضربن۔ تو یہ فعل مضارع کے ساتھ بھی جڑتے ہیں اسی طرح امر کے ساتھ بھی اور نہیں کے ساتھ بھی اور یہ کلام میں زور پیدا کرتے ہیں تاکید پیدا کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں دہم نون تاکید دسویں قسم حروف غیر عاملہ کی وہ نون تاکید ہے در آخیر فعل مضارع جو کہاں آتا ہے فعل مضارع کے آخر میں۔ فعل مضارع کو ذکر کیا باقی امر اور نہیں کو ذکر نہیں کیا۔ کیونکہ وہ بھی فعل مضارع سے ہی بنتے ہیں امر کا صیغہ کس سے بنایا جاتا ہے؟ فعل مضارع سے نہیں۔ بھی کس سے بنتا ہے؟ فعل مضارع سے۔ تو کہتے ہیں دسویں قسم نون تاکید ہے در آخیر فعل مضارع جو فعل مضارع کے آخر میں آتا ہے ثقیلہ و خفیفہ اور ثقیلہ اور خفیفہ ہوتا ہے چو اضربن دیکھو یہ مثال امر کی دی۔ ذکر کیا فعل مضارع کو اور آگے مثال کس کی دے دی؟ امر کی دے دی بتلانا یہ چاہتے ہیں بھئی جب فعل مضارع کے ساتھ آتا ہے تو جو چیزیں فعل مضارع سے جو صیغے بنتے ہیں ان کے ساتھ بھی یہ آئے گا جیسے امر اور نہیں۔ تو اضربن یہ نون ثقیلہ کی مثال اور اضربن یہ نون خفیفہ کی مثال۔ یازدهم حروف زیادہ گیارہویں قسم ہے حروف زیادہ یعنی وہ حروف جو زائد ہوتے ہیں۔ وہ حروف جو زائد بھئی کلام عرب میں یاد رکھو کبھی کبھار کلام کو حسین بنانے کے لیے اور اس میں ذرا زور پیدا کرنے کے لیے کبھی زائد حروف بھی استعمال کر لیے جاتے ہیں۔ کچھ حروف کلام کا حسن بڑھانے کے لیے اور کلام میں ذرا زور اور تاکید پیدا کرنے کے لیے کچھ زائد حروف بھی لے آتے ہیں۔ زائد کا معنی یہ ہے یعنی معنی کے وہ اپنے معنی کا فائدہ نہیں دیتے ان کو لائیں یا نہ لائیں۔ معنی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ان کو لائیں یا نہ لائیں معنی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ صرف کس لیے ان کو بڑھایا جاتا ہے؟ کلام میں حسن پیدا کرنے کے لیے اور کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے اور اسی طرح کبھی کبھار شعر میں لاتے ہیں وزن وغیرہ کو برقرار رکھنے کے لیے۔ تو یہ نہیں کہ ان کا نام زائد ہے تو یہ بالکل ہی زائد اور بیکار ہوتے ہیں بلکہ زائد ہونے کا یہ معنی کہ یہ اپنے معنی کا فائدہ نہیں دیتے یعنی ان کو رکھیں یا نکال دیں کلام کے معنی میں کوئی اثر نہیں پڑے گا ہاں یہ بالکل بیکار بھی نہیں یہ کلام میں حسن بھی پیدا کرتے ہیں اس میں تاکید بھی پیدا کرتے ہیں اور بعض اوقات شعر کا وزن وغیرہ بھی ان کے ذریعے درست کیا جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں یازدهم حروف زیادہ گیارہویں قسم جو ہے وہ حروف زیادہ ہیں واں ہشت حرف است اور وہ آٹھ حرف ہیں ان واں وما والا ومین وکاف و با و لام۔ ان ہے ان ہے ما لا اور من ہے کاف ہے با ہے با جارہ جو ہے اور اسی طرح لام ہے لام جارہ بھئی۔ تو یہ ہمیشہ ہی زائد نہیں ہوتے یہ کبھی زائد ہوتے ہیں ویسے یہ اپنے معنی کے لیے استعمال ہوتے ہیں بھئی بات سمجھ میں آ رہی ہے کبھی کبھار مختلف معنی کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ہر جگہ زائد نہیں ہوتے لیکن بعض اوقات اگر کلام میں زائد حروف لائے جائیں تو انہی میں سے لایا جاتا ہے اور اس وقت جب یہ زائد ہوتے ہیں پھر یہ اپنے معنی کا فائدہ نہیں دیتے اور ان میں سے یہ جو آخری چار ہیں من کاف با اور لام۔ یہ یہ زائد ہیں لیکن یہ حروف جارہ میں سے ہیں یہ پھر بھی جر دیں گے۔ یہ جب زائد آ جائیں پھر بھی کیا کریں گے؟ جر دیں گے۔ جیسے ایک من ہے کاف ہے با ہے با کی مثال مثلا زید ليس بیعالم۔ زید ليس بیعالم یہ بیعالم یہ جو با جارہ ہے ليس کی خبر پر آتی ہے اور یہ زائد ہے۔ یہ صرف کلام میں حسن پیدا کرنے کے لیے اور اس میں تاکید پیدا کرنے کے لیے ہے اگر اس کو نکال بھی دیں تو اس سے معنی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ زید ليس بیعالم کہیں یا زيد ليس عالما کہیں دونوں کا ایک ہی معنی ہے لیکن لفظوں میں یہ عمل کر رہی ہے دیکھیں۔ بیعالم جر دے رہی ہے۔ تو لفظوں میں عمل کر رہی ہے تو زائد ہے بایں لحاظ کہ معنی میں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو یہ جو من ہے کاف ہے کاف جارہ جو ہوتا ہے اسی طرح با ہے اور اسی طرح لام جارہ یہ بھی حروف زائد حروف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں لیکن یہ جب زائد کے طور پر بھی استعمال ہوں گے یہ اپنا اثر دکھائیں گے اور جس لفظ پر داخل ہوں گے اس کو جر دے دیں گے۔ پھر ایک اور بات یاد رکھنا کہ حروف جارہ ان کے لیے ہمیشہ کوئی نہ کوئی متعلق چاہیے یہ کسی نہ کسی چیز سے متعلق ہوتے ہیں۔ لیکن جب یہ حروف جارہ زائد ہوں تو پھر یہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے۔ یہ پھر یہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے جیسے زيد ليس بیعالم ترکیب کیسے کریں گے زید مرفوع لفظا مبتدا ليس فعل از افعال ناقصہ اور اس کے اندر ہوا ضمیر جو راجع ہے زید کو وہ اس کا اسم۔ اور بیعالم با جارہ عالم مجرور لفظا لیکن منصوب محلا۔ منصوب محلا کیونکہ یہ ليس کی خبر ہے اور ليس کی خبر کیا ہوتی ہے؟ منصوب ہوتی ہے تو یہ با جارہ زائد آیا یہ جر تو دے رہا ہے لیکن محل کے اعتبار سے یہ عالم کا لفظ کیا ہے؟ منصوب ہے یہ ليس کی خبر ہے تو یہ منصوب محلا اور یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ ليس کے لیے اب آپ یہ نہ کہیں با جارہ جار مجرور مل کر ثابتا سے متعلق ہو رہے ہیں نہیں نہیں یہ حرف زائد ہے اور حروف جارہ زائدہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے تو بس اس میں صرف اتنا آپ بتائیں کہ یہ با جارہ زائدہ ہے عالم مجرور لفظا ہے لیکن منصوب محلا ہے۔ محل کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ منصوب ہے ليس کی خبر ہے ليس اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ تو کہتے ہیں یازدهم حروف زیادہ گیارہویں قسم حروف زیادہ ہیں یعنی وہ حروف جو زائد ہوتے ہیں واں ہشت حرف است اور وہ آٹھ حرف ہیں ان واں وما والا ومین وکاف و با و لام۔ چہار آخر در حروف جر یاد کردہ شد چہار آخر آخری چار جو ہیں در حروف جر یہ حروف جر میں یاد کردہ شد ان کو ذکر کیا گیا۔ حروف جارہ کا ذکر آیا تھا بھئی کہاں پر ذکر آیا تھا؟ جی حروف عاملہ کے اندر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حروف جارہ کتنے ہیں؟ 17 ہیں اور وہ انہوں نے آپ کو گنوائے تھے تو یہ آخری چار جو ہیں یعنی من کاف با اور لام یہ چہار آخر در حروف جر یاد کردہ شد ان کو حروف جر میں یاد ذکر کیا گیا ہے۔ دوازدهم حروف شرط بارہویں قسم ہے حروف شرط بھئی واں دو است اور وہ دو ہیں اما ولو۔ ایک اما ہے اور ایک لو ہے یہ حروف شرط ہیں اور یہ عمل نہیں کرتے ویسے تو حروف شرط آپ نے پیچھے بھی پڑھا تھا ان وغیرہ لیکن وہ عمل کرتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ فعل مضارع کو جزم دیتے ہیں۔ یہ عمل نہیں کرتے تو کہتے ہیں دوازدهم حروف شرط واں دو است اور وہ دو ہیں اما ولو ایک اما ہے اور ایک لو ہے۔ اما برای تفسیر بھئی اما تفسیر کے لیے آتا ہے۔ اما کس کے لیے؟ تفسیر ایک بات اجمالا ذکر کر دی جائے تفصیل نہیں ہوتی اس میں تو پھر اما کے ذریعے آگے اس کی تفصیل اور تفسیر بیان کی جاتی ہے بات سمجھ میں آ گئی؟ اما جو آتا ہے وہ تفسیر کے لیے یعنی تفصیل بیان کرنے کے لیے کس کے لیے؟ ایک تفسیر ہے ایک تفصیل ہے فا کے بعد صواد ہے اور یا اور پھر لام بھئی لام۔ تو یہ تفصیل بیان کرنے کے لیے آتا ہے کس کے لیے؟ تفصیل کسی چیز میں کسی چیز کوئی چیز جس میں اجمال ہو اس کی تفصیل بیان کرنے کے لیے یہ اما استعمال ہوتا ہے۔ تو جب تفصیل آ جائے گی تو تفسیر بھی ہو جائے گی بات بھی پوری سمجھ میں آ جائے گی وضاحت ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آگئی تو تفسیر سے یہاں مراد تفصیل ہے تفسیر سے یہاں کیا مراد ہے؟ تفصیل مراد ہے کہ یہ تفصیل بیان کرنے کے لیے آتا ہے ایک چیز جس کو اجمالا بیان کیا گیا ہو یعنی مختصرا یہ اما آ کر اس کی تفصیل بیان کر دیتا ہے۔ جیسے یہ مثال دیکھو اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں فمنہم شقی و سعید تو بعض ان میں سے بدبخت ہیں شقی کا معنی بدبخت و سعید سعید کا معنی ہے نیک بخت تو بعض ان میں سے بدبخت ہیں اور بعض ان میں سے نیک بخت ہیں۔ اب آگے اما کے ذریعے دیکھو تفصیل بیان کی جائے گی۔ اللہ کیا بتلا رہے ہیں؟ کچھ بدبخت ہیں کچھ نیک بخت ہیں۔ اب تفصیل نہیں تھی کہ بدبخت جو ہیں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا اور نیک بخت جو ہیں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا تو اما کے ذریعے پھر تفصیل کی گئی کہ جو بدبخت ہیں وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے اور جو نیک بخت ہیں وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں فمنہم شقی و سعید تو بعض ان میں سے بدبخت ہیں اور بعض نیک بخت فاما الذین شقوا ففي النار تو وہ لوگ جو بدبخت ہیں ففي النار پس وہ کس میں ہوں گے؟ آگ میں یعنی جہنم میں ہوں گے و اما الذین سعدوا اور باقی وہ لوگ جو نیک بخت ہیں ففي الجنة تو وہ جنت میں ہوں گے دیکھو اب تفصیل بیان ہو گئی کس کے ذریعے؟ اما کے ذریعے فاما الذین اس اما کے ذریعے تو کہتے ہیں واما برای تفسیر اما جو ہے تفسیر یعنی تفصیل کے لیے آتا ہے وفا در جوابش لازم باشد اور فا اس کے جواب میں لازم ہوتی ہے۔ یہ جو اما ہے یہ متضمن ہے معنی شرط کو اس میں شرط والا معنی پایا جاتا ہے اور شرط کی جزا پر کیا داخل کرتے ہیں؟ فا تو لہذا یہاں پر بھی اما کے جواب میں تو اما کے ساتھ پھر فا ضرور استعمال ہوگی جیسے یہاں بھی دیکھیں فاما الذین اما آ گیا تو فاما الذین شقوا ففي النار دیکھو یہ فا آ گئی اور اسی طرح و اما الذین سعدوا فا یہ نار یہ جو فا آئی ہے کس کی وجہ سے لائی گئی؟ اماں کی وجہ سے کیونکہ اماں متضمن ہے معنی شرط کو، اس میں کس کا معنی ہے؟ شرط والا اور شرط کے جواب میں کیا لائی جاتی ہے؟ فا لائی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں اماں برائے تفسیر، اماں جو ہے وہ تفسیر یعنی تفصیل کے لیے آتا ہے وفا در جوابش لازم باشد اور فا اس کے جواب میں لازم ہوتی ہے کقولہ تعالی جیسے کہ اللہ تعالی کا قول ہے فمنہم شقی و سعید تو ان میں سے بعض بدبخت ہیں اور بعض نیک بخت ہیں۔ فاما الذین شقوا فی النار تو وہ لوگ جو بدبخت ہیں فا فی النار پس وہ اگ میں ہوں گے واما الذین سعدوا ففی الجنۃ اور وہ لوگ جو نیک بخت ہیں وہ جنت میں ہوں گے۔ اللہ ہمارا شمار بھی نیک بختوں میں فرمائے۔ آمیں۔ ولاو برائے انتفائے ثانی بسبب انتفائے اول جی اور لو بھی بتایا حروف شرط کتنے ہیں؟ دو اماں اور لو اب لو کے بارے میں بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ولاو برائے انتفائے ثانی بسبب انتفائے اول۔ لو آتا ہے انتفائے ثانی کے لیے۔ لو برائے انتفائے، لو آتا ہے انتفائے ثانی کے لیے بسبب انتفائے اول، بوجہ انتفائے اول کیونکہ اول منتفی ہوتا ہے۔ یاد رکھو یہ جو لو ہے یہ یہ ثانی کی نفی کرتا ہے بوجھائے انتفائے اول۔ جیسے دیکھو مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ انتفا کا معنی ہے نفی کرنا، نفی کرنا۔ لو جئتنی لکرمتوک۔ لو جئتنی اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے لکرمتوک تو میں نے آپ کا اکرام کیا ہوتا۔ توجہ ہے؟ دو جملوں پر لو دو جملوں پر داخل ہو رہا ہے۔ لو جئتنی اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے یہ ہے پہلا جملہ۔ لکرمتوک تو میں آپ کا اکرام کرتا۔ تو لو کس لیے آتا ہے؟ انتفائے ثانی کے لیے، بوجہ انتفائے اول یعنی ثانی نہیں پایا گیا۔ کیوں نہیں پایا گیا؟ کیونکہ اول نہیں پایا گیا۔ توجہ ہے؟ لو کس لیے آتا ہے؟ انتفا انتفا کا کیا معنی؟ نہ ہونا، نہ ہونا۔ تو یہ انتفائے ثانی کے لیے آتا ہے یعنی ثانی جو ہے وہ منتفی ہے، وہ نہیں پایا گیا۔ ثانی کیا تھا یہاں پر؟ لکرمتوک۔ لو جئتنی لکرمتوک اگر آپ آئے ہوتے تو میں آپ کا اکرام کرتا۔ اکرام منتفی ہے یعنی میں نے آپ کا اکرام نہیں کیا۔ میں نے آپ کا اکرام نہیں کیا۔ کیوں نہیں کیا؟ کیونکہ پہلا منتفی ہے آپ آئے نہیں۔ لو جئتنی اگر آپ آئے ہوتے تو میں کیا کرتا آپ کا؟ اکرام کرتا۔ میں نے اکرام نہیں کیا کیوں نہیں کیا؟ کیونکہ آپ آئے نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی تو لو کس لیے آتا ہے؟ انتفائے ثانی کے لیے، بوجہ انتفائے اول۔ ثانی منتفی ہے کیونکہ اول کیا ہے؟ منتفی۔ یہاں لو جئتنی یہ ہے اول اگر آپ آئے ہوتے۔ اور آپ آئے ہیں؟ نہیں تو یہ اول بھی منتفی ہے اور لکرمتوک تو میں آپ کا اکرام کرتا، معلوم ہوا اکرام بھی منتفی۔ تو لو نے بتایا کہ یہ ثانی کیا ہے؟ منتفی ہے وہ اس کا وجود نہیں، اکرام نہیں پایا گیا، کیوں نہیں پایا گیا؟ کیونکہ اول منتفی تھا، آنا نہیں پایا گیا وہ آیا نہیں مخاطب۔ تو لو کس لیے آتا ہے؟ انتفائے ثانی کے لیے، بوجہ انتفائے اول کے، لو جئتنی لکرمتوک۔ بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں آئی؟ انتفا کا کیا معنی؟ نہ ہونا۔ تو دیکھو ذکر تو ہے لو جئتنی کوئی نفی ہے؟ نہیں ہے۔ لا یا ما وغیرہ ذکر ہے؟ نہیں ہے۔ صرف اتنا ہے اگر آپ آئے ہوتے، لکرمتوک تو میں کیا کرتا آپ کا؟ اکرام کرتا۔ نفی والا کوئی حرف ما یا لا وغیرہ یہاں نہیں لیکن یہ لو خود نفی کا فائدہ دیتا ہے، یہ دلالت کرتا ہے یہ ہمیں بتلاتا ہے کہ ثانی منتفی ہے یعنی اکرام منتفی ہے اور اس کی وجہ کیا؟ کیوں منتفی ہے؟ کیونکہ اول منتفی ہے۔ اکرام نہیں کیا گیا، کیوں نہیں اکرام کیا گیا؟ کیونکہ مخاطب آیا نہیں۔ متکلم نے مخاطب کا اکرام نہیں کیا اور کیوں نہیں کیا؟ کیونکہ وہ اس کے پاس آیا نہیں۔ آپ خود ذرا اس جملے پر غور کریں۔ آپ خود غور کریں۔ اردو میں۔ میں کسی سے کہتا ہوں اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے تو میں آپ کو انعام دیتا۔ اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے تو میں آپ کو انعام دیتا۔ یہ جملہ کس کو میں کہوں گا؟ جس کو میں نے انعام دیا ہے یا جس کو انعام نہیں دیا؟ جس کو انعام نہیں دیا۔ ہاں جس کو انعام نہیں دیا اس کو میں کہوں گا کہ اگر آپ میرے پاس آئے ہوتے تو میں آپ کو انعام دیتا۔ معلوم ہوا میں نے انعام نہیں دیا اور کیوں نہیں دیا؟ کیونکہ وہ آیا نہیں۔ تو ثانی منتفی ہے، ثانی کی نفی ہو رہی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اول منتفی ہے۔ اول کی نفی ہے وہ آیا نہیں اس لیے اس کا اس کو انعام بھی نہیں ملا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ یہ دوسری مثال لے لیں اس سے اور زیادہ وضاحت ہو جائے گی۔ اور زیادہ وضاحت ہو جائے گی۔ مثلا کوئی طالب علم ہے وہ امتحان میں فیل ہو گیا اب آپ اس سے کہتے ہیں لوجتہدتا لانجحت فی الامتحان۔ اجتہادا کا معنی ہے محنت کرنا اور نجاح کے معنی ہیں کامیاب ہونا۔ لوجتہدتا اگر تو نے محنت کی ہوتی لانجحت فی الامتحان تو تو امتحان میں کامیاب ہوتا۔ یہ جملہ آپ کس کو کہتے ہیں؟ جو کامیاب ہو گیا ہو یا جو فیل ہوا ہو؟ جو فیل ہوا ہو۔ جو فیل ہوا ہو اس کو کہتے ہیں اگر تم نے محنت کی ہوتی تو امتحان میں کامیاب ہو جاتے۔ اب ذرا لفظوں پر غور کریں۔ لوجتہدتا لانجحت۔ اگر آپ نے محنت کی ہوتی لانجحت تو آپ کیا ہوتے؟ کامیاب۔ اور ثانی کیا ہے؟ کامیابی۔ وہ کامیابی تو منتفی ہے آپ کامیاب نہیں ہوئے۔ اور کیوں منتفی ہے؟ اس کا سبب کیا؟ اول۔ یعنی کہ آپ نے محنت نہیں کی، تو ثانی منتفی ہے کس وجہ سے؟ کیونکہ اول منتفی ہے۔ تو لو کس لیے آتا ہے؟ لو ہمیں یہ بات بتلاتا ہے کہ ثانی جو ہے وہ منتفی ہے یعنی اس کا وجود نہیں کیونکہ اول جو ہے وہ منتفی ہے یعنی اس کا وجود نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو لو کس لیے آتا ہے؟ انتفائے ثانی کے لیے، بوجہ انتفائے اول، ثانی منتفی، ثانی چیز نہیں پائی گئی، کیوں نہیں پائی گئی؟ کیونکہ اول نہیں پایا گیا تھا۔ جبکہ یہاں لولا کے اندر ثانی چیز نہیں پائی گئی کیونکہ اول موجود ہے۔ کیونکہ اول۔ تو یہ انتفائے ثانی کے لیے آتا ہے بوجہ وجود اول کے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک مرتبہ بھئی کوئی مقدمہ پیش ہوا، کوئی عورت تھی شادی شدہ اور اس نے زنا کیا تھا اور زنا سے وہ حاملہ تھی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ زنا ثابت ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اس موقع پر موجود تھے تو انہوں نے کہا کہ یا امیرالمومنین کہ یہ عورت جو ہے اس نے تو جرم کیا ہے ٹھیک ہے اس کو تو رجم کیا جائے لیکن اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کا تو کوئی قصور نہیں۔ اگر اس کو رجم کریں گے تو وہ بچہ بھی مارا جائے گا تو ایک جان ناحق چلی جائے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ چونک اٹھے اور فرمایا کہ ہاں اس بات کی طرف تو میری توجہ ہی نہیں تھی اور تم نے مجھے متنبہ کر دیا ورنہ میرے فیصلے کی وجہ سے ایک جان ناحق چلی جاتی۔ چنانچہ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا لولا علی لھلک عمر۔ اگر حضرت علی نہ ہوتے تو عمر تو ہلاک ہو گیا تھا۔ دیکھا آخرت کی کتنی فکر تھی ان لوگوں کو کہ وہ صحابہ جو کسی پر ادنا درجے میں بھی زیادتی نہیں برداشت کرتے تھے تو خوف سے کانپ اٹھے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہ میری وجہ سے ایک جان چلی جاتی تو آخرت میں میں اللہ کو کیا جواب دیتا بھئی؟ تو اس موقع پر انہوں نے فرمایا لولا علی لھلک عمر بھئی۔ لولا علی اگر علی نہ ہوتے تو عمر تو ہلاک ہو گئے تھے۔ اور ہلاکت عمر تو منتفی ہے۔ حضرت عمر تو ہلاک نہیں ہوئے۔ کیوں نہیں ہوئے ہلاک؟ کیونکہ حضرت علی موجود تھے۔ تو ثانی منتفی ہے بوجہ وجود اول کے۔ تو کہتے ہیں سیزدہم تیرھویں قسم حروف غیر عاملہ کی لولا وہ کیا ہے؟ لولا ہے۔ یہ بھی وہی لو ہے بھئی صرف اس کے ساتھ لا استعمال ہوتا ہے۔ لولا۔ اور لو کس لیے آتا تھا؟ انتفائے ثانی بوجہ انتفائے اول۔ توجہ ہے؟ انتفائے ثانی بوجہ انتفائے اول۔ ثانی منتفی ہے، ثانی نہیں ہے۔ کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ اول نہیں ہے۔ جبکہ لولا میں لا جڑا ہوا ہے۔ یہ وہی لو ہے اس کے ساتھ لا حرف نفی بھی استعمال ہوتا ہے۔ وہ موضوع است برائے انتفائے ثانی بسبب وجود اول۔ اور یہ وضع کیا گیا ہے، مقرر کیا گیا ہے برائے انتفائے ثانی کہ ثانی منتفی ہے، اس کی نفی کے لیے، بسبب وجود اول کس وجہ سے؟ اول کے وجود کی وجہ سے کہ اول موجود ہے۔ ثانی منتفی ہے کیونکہ اول موجود ہے۔ جیسے دیکھو بھئی لولا علی لھلک عمر اگر حضرت علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو گیا تھا۔ لولا علی اگر علی نہ ہوتے، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نہ ہوتے لھلک عمر تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہلاک ہو جاتے۔ لیکن ہلاکت عمر منتفی ہے۔ کیوں؟ بوجہ وجود علی کے۔ نہیں سمجھ میں آئی بات۔ لو کس لیے آتا تھا؟ انتفائے ثانی بوجہ انتفائے اول۔ ثانی منتفی، ثانی چیز نہیں پائی گئی، کیوں نہیں پائی گئی؟ کیونکہ اول نہیں پایا گیا تھا۔ جبکہ یہاں لولا کے اندر ثانی چیز نہیں پائی گئی کیونکہ اول موجود ہے۔ کیونکہ اول۔ تو یہ انتفائے ثانی کے لیے آتا ہے بوجہ وجود اول کے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک مرتبہ بھئی کوئی مقدمہ پیش ہوا، کوئی عورت تھی شادی شدہ اور اس نے زنا کیا تھا اور زنا سے وہ حاملہ تھی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ زنا ثابت ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اس موقع پر موجود تھے تو انہوں نے کہا کہ یا امیرالمومنین کہ یہ عورت جو ہے اس نے تو جرم کیا ہے ٹھیک ہے اس کو تو رجم کیا جائے لیکن اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کا تو کوئی قصور نہیں۔ اگر اس کو رجم کریں گے تو وہ بچہ بھی مارا جائے گا تو ایک جان ناحق چلی جائے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ چونک اٹھے اور فرمایا کہ ہاں اس بات کی طرف تو میری توجہ ہی نہیں تھی اور تم نے مجھے متنبہ کر دیا ورنہ میرے فیصلے کی وجہ سے ایک جان ناحق چلی جاتی۔ چنانچہ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا لولا علی لھلک عمر۔ اگر حضرت علی نہ ہوتے تو عمر تو ہلاک ہو گیا تھا۔ دیکھا آخرت کی کتنی فکر تھی ان لوگوں کو کہ وہ صحابہ جو کسی پر ادنا درجے میں بھی زیادتی نہیں برداشت کرتے تھے تو خوف سے کانپ اٹھے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہ میری وجہ سے ایک جان چلی جاتی تو آخرت میں میں اللہ کو کیا جواب دیتا بھئی؟ تو اس موقع پر انہوں نے فرمایا لولا علی لھلک عمر بھئی۔ لولا علی اگر علی نہ ہوتے تو عمر تو ہلاک ہو گئے تھے۔ اور ہلاکت عمر تو منتفی ہے۔ حضرت عمر تو ہلاک نہیں ہوئے۔ کیوں نہیں ہوئے ہلاک؟ کیونکہ حضرت علی موجود تھے۔ تو ثانی منتفی ہے بوجہ وجود اول کے۔ نہیں سمجھ میں آئی بات۔ لولا کس لیے آتا تھا؟ انتفائے ثانی بوجہ انتفائے اول۔ ثانی منتفی، ثانی چیز نہیں پائی گئی، کیوں نہیں پائی گئی؟ کیونکہ اول نہیں پایا گیا تھا۔ جبکہ یہاں لولا کے اندر ثانی چیز نہیں پائی گئی کیونکہ اول موجود ہے۔ کیونکہ اول موجود ہے۔ تو یہ انتفائے ثانی کے لیے آتا ہے بوجہ وجود اول کے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک مرتبہ بھئی کوئی مقدمہ پیش ہوا، کوئی عورت تھی شادی شدہ اور اس نے زنا کیا تھا اور زنا سے وہ حاملہ تھی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ زنا ثابت ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اس موقع پر موجود تھے تو انہوں نے کہا کہ یا امیرالمومنین کہ یہ عورت جو ہے اس نے تو جرم کیا ہے ٹھیک ہے اس کو تو رجم کیا جائے لیکن اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کا تو کوئی قصور نہیں۔ اگر اس کو رجم کریں گے تو وہ بچہ بھی مارا جائے گا تو ایک جان ناحق چلی جائے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ چونک اٹھے اور فرمایا کہ ہاں اس بات کی طرف تو میری توجہ ہی نہیں تھی اور تم نے مجھے متنبہ کر دیا ورنہ میرے فیصلے کی وجہ سے ایک جان ناحق چلی جاتی۔ چنانچہ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا لولا علی لھلک عمر۔ اگر حضرت علی نہ ہوتے تو عمر تو ہلاک ہو گیا تھا۔ دیکھا آخرت کی کتنی فکر تھی ان لوگوں کو کہ وہ صحابہ جو کسی پر ادنا درجے میں بھی زیادتی نہیں برداشت کرتے تھے تو خوف سے کانپ اٹھے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہ میری وجہ سے ایک جان چلی جاتی تو آخرت میں میں اللہ کو کیا جواب دیتا بھئی؟ تو اس موقع پر انہوں نے فرمایا لولا علی لھلک عمر بھئی۔ لولا علی اگر علی نہ ہوتے تو عمر تو ہلاک ہو گئے تھے۔ اور ہلاکت عمر تو منتفی ہے۔ حضرت عمر تو ہلاک نہیں ہوئے۔ چنانچہ پھر اس عورت کو مہلت دے دی گئی کہ جب یہ اس حمل کو جنم دے دے گی تو اس کے بعد پھر اس کو رجم کیا جائے گا۔ تو لولا علی لھلک عمر اگر علی نہ ہوتے تو حضرت عمر تو ہلاک ہو گئے تھے تو ہلاکت عمر منتفی ہے۔ حضرت عمر ہلاک نہیں ہوئے۔ کیوں نہیں ہوئے ہلاک؟ کیونکہ حضرت علی موجود تھے تو ثانی منتفی ہے بوجہ وجود اول کے۔ تو کہتے ہیں سیزدہم تیرھویں قسم جو ہے لولا ہے اور وہ موضوع ہے اور وہ وضع ہے یعنی اس کو مقرر کیا گیا ہے برائے انتفائے ثانی بسببو وجود اول۔ ثانی کے منتفی ہونے کے لیے بوجہ اول کے پائے جانے کے، بسببو وجود اول، بوجہ اول کے موجود ہونے کے۔ چوں لولا علی لھلک عمر اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو گیا تھا۔ چہاردہم لام مفتوحہ برائے تاکید چودھویں قسم جو ہے وہ لام مفتوحہ ہے جو تاکید کے لیے آتا ہے چوں زید افضل من عمر۔ یہ لام جو ہے یہ مبتدا پر داخل ہوتا ہے تاکید کے لیے اسی طرح فعل مضارع پر بھی تاکید کے لیے آتا ہے۔ ل زید یہ زید ہے مبتدا اور افضل من عمر یہ ہے اس کی خبر تو یہ مبتدا پر جو لام آیا یہ کس لیے ہے؟ تاکید کے لیے ہے اور کلام میں زور پیدا کر دیتا ہے اور یہ لام مبتدا پر بھی داخل ہوتا ہے اور فعل مضارع پر بھی۔ تو کہتے ہیں لام مفتوحہ برائے تاکید چوں لام مفتوحہ یعنی ایسا لام جس پر فتحہ ہے، زبر ہے۔ ویسے تو لام جارہ ہے نا لزید وہاں تو لام کے نیچے کسرہ ہوتا ہے لیکن یہ لام مفتوح ہوتا ہے اس پر زبر ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں لام مفتوحہ برائے تاکید وہ لام مفتوحہ جو تاکید کے لیے آتا ہے تو ان لزيد أفضل من عمرو، بل زيد أفضل ہے امر کے مقابلے میں پانچ دہم۔ پانچ دہم پندرہویں قسم حروف غیر عاملہ کی، ما بمعنی ما دام وہ ما جو ما دام کے معنی میں ہو۔ چوں اقوم ما جلس الأمير۔ اقوم ما جلس الأمير، یہ ما جو ہے، یہ ما دام کے معنی میں ہے۔ اقوم میں کھڑا رہوں گا ما جلس الأمير۔ یہ ما کس معنی میں؟ ما دام یعنی جب تک، جب تک۔ اقوم میں کھڑا رہوں گا ما جلس الأمير جب تک امیر بیٹھا ہے، ای ما دام جلس الأمير جب تک امیر بیٹھا ہے۔ اقوم اقوم ما جلس الأمير میں کھڑا رہوں گا جب تک امیر بیٹھا ہے۔ تو یہ ما کس معنی میں ہے؟ ما دام کے معنی میں ہے اور کیا ترجمہ کریں گے؟ جب تک، جب تک اور یہ دو فعلوں کے درمیان آتا ہے، دو فعلوں کے درمیان بھئی، دیکھو ما قبل میں اقوم کا فعل ہے اور ما بعد میں جلسہ کا فعل ہے۔ ششم دہم سولہویں قسم جو ہیں حروف عطف، وہ حروف عطف ہیں و آن دہست اور وہ دس ہیں بھئی: و، وفا، و ثم، و حتی، و اما، و او، و ام، و لا، و بل، و لکن۔ یہ دس حروف ہیں بھئی، یہ عطف کے لیے آتے ہیں اور عطف کی تفصیل پیچھے عطف باحرف میں بیان ہو چکی ہے۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں میرے پاس زید بھی آیا اور عمرو بھی آیا۔ تو جاءنی زید۔ مجھے کہنا پڑے گا اور عمرو کے لیے علیحدہ کہنا پڑے گا، جاءنی عمرو۔ کیونکہ فاعل ایک ہی آتا ہے، ایک سے زیادہ نہیں تو بجائے دو جملے کہنے کے پھر حروف عطف کی مدد لی جاتی ہے۔ جاءنی زید و عمرو تو اس و نے کیا فائدہ دیا؟ کلام کو مختصر کر دیا اور جو حروف عطف سے پہلے آئے، اس کو کہتے ہیں معطوف علیہ اور جو بعد میں آئے اس کو کہتے ہیں معطوف اور معطوف علیہ اور معطوف دونوں مقصود بالنسبه ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا آپ آنے کی نسبت زید کی طرف بھی کرنا چاہتے ہیں اور عمرو کی طرف بھی کرنا چاہتے ہیں۔ تو یہ حروف عطف ہیں۔ تو کہتے ہیں ششم دہم سولہویں قسم جو ہے حروف عطف ہیں و آن دہست اور وہ دس ہیں، و و فا و ثم و حتی و اما و او و ام و لا و بل و لکن، یہ دس حروف ہیں۔ حاصل کلام پھر سن لیں۔ آج آپ نے نون تاکید کے بارے میں پڑھا، جو کلام میں تاکید اور زور پیدا کرنے کے لیے آتا ہے اور یہ فعل مضارع کے آخر میں بھی آتا ہے، امر اور نہیں کے کے آخر میں بھی آتا ہے اور یہ دو قسم پر ہے، ایک نون ثقیلہ اور ایک نون خفیفہ۔ اس کے بعد انہوں نے حروف زیادت بتلائے، کچھ حروف جو زائد آتے ہیں کلام عرب میں اور وہ کلام میں حسن پیدا کرتے ہیں اور تاکید کا فائدہ دیتے ہیں، البتہ اپنا معنی کا فائدہ نہیں دیتے اور ان میں سے کچھ حروف جارہ بھی تھے اور یہ جب زائد ہوں تب بھی معنی میں تو کوئی فائدہ نہیں دیں گے، معنی کا اثر تو نہیں دیں گے لیکن جس پر داخل ہوں گے اس کو جر ضرور دیں گے۔ اور یہ جو حروف زیادت ہیں، میں نے بتلایا ہمیشہ زائد نہیں ہوتے، کبھی زائد ہوتے ہیں اور کبھی باقاعدہ ان کا معنی بھی ہوتا ہے۔ زائد ہونے کا یہ معنی ہی نہیں کہ یہ جہاں بھی آ جائیں، آپ کہیں یہ زائد ہیں، نہیں نہیں، یہ بعض بعض جگہ زائد ہوں گے، وہ پھر علماء وہاں وضاحت کر دیتے ہیں کہ یہ حرف زائد ہے بھئی۔ باقی جہاں بھی یہ آئیں گے، یہ اپنے معنی کا فائدہ دیں گے۔ اس کے بعد حروف شرط کے بارے میں آپ نے پڑھا اور انہوں نے بتلایا کہ وہ دو ہیں: اما اور لو۔ اما جو ہے، وہ تفصیل بیان کرنے کے لیے آتا ہے، ایک چیز جس میں اجمال ہو، اجمال کا کیا معنی؟ یعنی تفصیل نہ ہو، تفصیل نہ ہو، مختصر بات ہو۔ تو آگے اما کے ذریعے اس کی تفصیل بیان کی جاتی ہے اور یہ اما کے اندر شرط والا معنی ہوتا ہے، لہذا اس کے ساتھ فا بھی لائی جاتی ہے بھئی، اس کے جواب میں فا ضرور لائی جاتی ہے۔ اور اس کے بعد لو کے بارے میں بتلایا کہ لو بھی حروف شرط میں سے ہے، وہ آتا ہے انتفائے ثانی کے لیے بوجہ انتفائے اول کے۔ اور اس کے بعد لو لابت کے بارے میں بتلایا کہ وہ آتا ہے انتفائے ثانی کے لیے بوجہ وجود اول کے اور اس کے بعد لام مفتوحہ تاکید کے لیے آتا ہے، مبتدا پر بھی داخل ہوتا ہے اور فعل مضارع پر بھی اور پندرہویں قسم تھی ما اور جو ما دام کے معنی میں ہے اور یہ جب تک اس کا ترجمہ ہوتا ہے اور یہ دو فعلوں کے درمیان آتا ہے اور سولہویں قسم جو ہے وہ انہوں نے آپ کو بتلایا وہ حروف عطف ہیں اور وہ دس ہیں اور وہ عطف کا فائدہ دیتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اچھی طرح۔ چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقت الكلام۔ چلیے، الحمد للہ نحمیر تو مکمل ہوئی بھئی۔ آگے مستثنیٰ کی بحث ہے، جو بعض علماء نے نحمیر کے آخر میں میری کتاب میں تو یہ دو مکمل پورے صفحے ہیں، جس میں مستثنیٰ کی بحث انہوں نے بعض علماء نے ساتھ شامل کی ہے اور لکھا ہے کہ چونکہ بحث مستثنیٰ در کتاب نحمیر نبوود، برائے فائدہ طلاب افزودہ شد کہ چونکہ نحمیر کے اندر مستثنیٰ کی بحث نہیں تھی اس لیے طلبہ کے فائدے کے لیے اس کو بڑھا دیا گیا، اس کا اضافہ کر دیا گیا۔ تو میرا ارادہ یہ تھا کہ آپ کو یہ مستثنیٰ کی بحث بھی میں کرواؤں، لیکن پھر جب میں نے اس کو دیکھا تو اس میں بہت زیادہ تفصیل ہے بھئی۔ یہ اولیٰ والوں کے لیے اس کو ضبط کرنا بڑا مشکل ہے۔ اس میں تو پوری بحث ہے، یعنی یوں سمجھیں اگلے سال ہدایت النحو آپ انشاءاللہ پڑھیں گے، ہدایت النحو اور اس سے اگلے سال ہے کافیہ۔ تو اس میں اتنی مفصل بحث دی ہے کہ جو ہدایت النحو میں یا کافیہ کے اندر جتنی مفصل بحث دی ہوئی ہے، انہوں نے یہاں پر بھی اتنی ہی مفصل بحث یہاں شامل کر دی۔ پوری مستثنیٰ کی بحث ہے بھئی۔ حالانکہ نحمیر تو ابتدائی طلبہ کے لیے نحو کی کتاب ہے، جس میں صرف نحو کا تعارف کروایا ہے کہ رفع کیا ہوتا ہے، نصب کیا ہے، جر کیا ہے، معرب کیا ہے، مبنی کیا ہے، معرب کی کتنی قسمیں ہیں، مبنی کی کتنی قسمیں ہیں اور کسی جگہ بھی انہوں نے تفصیل زیادہ نہیں کی۔ حتیٰ کہ آپ یہ حروف کے میں دیکھ رہے ہیں، آخر میں صرف حروف کے تعداد بتاتے جا رہے ہیں اور ان کے نام ذکر کر رہے ہیں کہ واؤ ہے، فا ہے، ثمہ، حتیٰ، کسی کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی۔ اسی طرح غیر منصرف کی بات آئی، ذرا بھی انہوں نے تفصیل نہیں بیان کی، صرف یہ بتایا کہ غیر منصرف کے نو اسباب ہیں۔ تو یہ کتاب چونکہ مصنف نے ابتدائی طلبہ کے لیے لکھی اور ابتدائی طلبہ کے لیے یہ چیزیں کافی تھیں، ان سے نحو کا اس کو تعارف ہو جاتا ہے اور اگلے سال پھر ہدایت النحو کے اندر پھر نحو آتی ہے اور پھر وہاں تفصیل آ جاتی ہے ہر چیز کی اور پھر اس سے زیادہ تفصیل جو ہے کافیہ میں اور پھر آگے شرح جامی کے اندر آتی ہے۔ تو یہ میرا ارادہ تو تھا کہ آپ کو یہ مستثنیٰ کی بحث بھی کروا دوں، کیونکہ بعض مدارس میں پڑھائی جاتی ہے، لیکن یہ پہلے درجے والوں کے سے اونچی ہے بھئی، یہ ذرا بحث مشکل ہے، طویل ہے اور پوری مفصل بحث ہے۔ اتنی لمبی اور مفصل بحث یہ اگلے سال ثانیہ کے طلبہ ہوں، وہ تو کر سکتے ہیں، اولیٰ والوں کے لیے یہ کرنا مشکل ہے بھئی۔ تو لہذا اس لیے پھر میں نے اس کو چھوڑ دیا بھئی۔ چلیے الحمدللہ ہماری کتاب مکمل ہو گئی بھئی۔ آپ سب کو بھی مبارک ہو، الحمدللہ اللہ نے توفیق دی کتاب مکمل کرنے کی۔ آआइए بھئی اب آخر میں دعا کر لیں بھئی۔ دعا کا طریقہ میں ہمیشہ ذکر کرتا ہوں، یاد رکھو جب بھی دعا کریں شروع میں الحمدللہ پڑھیں، کیونکہ آپ اللہ سے مانگ رہے ہیں تو اس شروع میں اللہ کی حمد و ثناء ہونی چاہیے، لہذا شروع میں الحمدللہ پڑھ لیں اور اس کے بعد پھر درود شریف ہو، تین مرتبہ کم از کم اور آخر میں بھی کم از کم تین مرتبہ درود شریف بھی ہو اور آمین بھی ہو، اس سے دعا قبولیت کے قریب تر ہو جاتی ہے۔ تو دعا کے اول آخر میں درود ہو، کیونکہ درود جو ہے اس کو اللہ تعالی کبھی بھی رد نہیں فرماتے، درود کو اللہ ضرور قبول فرماتے ہیں، تو جب اول اور آخر میں درود ہے اس کو اللہ ضرور قبول فرمائیں گے تو یقینا اس میں جو دعا ہے در جو وہ بھی اللہ ضرور قبول فرمائیں گے، کیونکہ یہ بات اللہ کی رحمت سے بعید ہے کہ اول اور آخر کو تو قبول فرما لیں اور درمیان کو قبول نہ فرمائیں، تو آئیے ہم سب بھی اسی طریقہ سے دعا کر لیتے ہیں۔ شروع میں الحمدللہ پڑھ لیں اور پھر درود بھئی۔ الحمدللہ رب العالمين، اللہم صل علی سیدنا مولانا محمد وعلی الہ وصحبہ وبارک وسلم، اللہم صل علی سیدنا مولانا محمد وعلی الہ وصحبہ وبارک وسلم، اللہم صل علی سیدنا مولانا محمد وعلی الہ وصحبہ وبارک وسلم۔ اے اللہ! ہماری اس مجلس، اس مبارک مجلس میں اے اللہ! جس میں ہم نے آپ کے دین کی ایک کتاب مکمل کی ہے، اے اللہ! اس مجلس کی ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، طلبہ ہیں، اے اللہ! سب کی تمام حاجتیں پوری فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجتیں پوری فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو ایمان والی قبر نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! یہ طلبہ اے اللہ! یقیناً یہ سب اس زمانے کے اندر علم دین کی تحصیل میں مشغول ہیں۔ اے اللہ! یقیناً یہ آپ کے اولیاء ہیں۔ اے اللہ! ان سب نے آپ کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں، اے اللہ! ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجتیں پوری فرما۔ اے اللہ! یہ ان کے گھروں میں کوئی پریشانی ہو، تکلیف ہو، اے اللہ! سب کے گھروں میں جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ! سب کے گھروں میں کوئی تکلیف ہو یا پریشانی ہو یا مشکل ہو، اے اللہ! اس علم دین کی برکت سے وہ تمام پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! عافیت دارین ہمیں نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں عافیت دارین نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو سنتیں پھیلانے والا بنا۔ اے اللہ! شرک و بدعت اور گمراہیوں سے ہماری حفاظت فرما۔ شرک و بدعت اور گمراہیوں سے اللہ! ہماری حفاظت فرما۔ یا رحمان! یا رحیم! یا لطیف! یا کریم! یا ارحم الراحمین! یا ارحم الراحمین! یا ارحم الراحمین! حدیث میں آتا ہے جو شخص تین مرتبہ یا ارحم الراحمین کہہ دے تو اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جو اس کو پکار کر جواب دیتا ہے کہ اے مانگنے والے! مانگ، ارحم الراحمین تمہاری طرف متوجہ ہیں۔ آپ سب بھی تین مرتبہ کہہ لیجیے: یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین۔ اے اللہ! ہماری اس مجلس کو مبارک مجالس میں سے فرما۔ اے اللہ! ہماری اس مجلس کو ان مجالس میں سے فرما۔ اے اللہ! جس کے گرد آپ کے نیک فرشتے جمع ہوں۔ حدیث میں آتا ہے اللہ کے نیک فرشتے نیک مجلسوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور جہاں وہ نیکی کی مجلس کوئی دیکھتے ہیں، اس کے ارد گرد وہ جمع ہو جاتے ہیں اور فرشتوں کو بھی بلا لیتے ہیں اور یہ اس کے ارد گرد جمع ہوتے ہیں پہاڑوں کی صورت میں، یہاں تک کہ آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔ اے اللہ! ہماری یہ چھوٹی سی مجلس ہے، اے اللہ! ہم آپ کے دین سیکھنے سکھانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ کوئی دنیا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ اے اللہ! ہماری اس مجلس کو بھی ان مجالس میں سے فرما کہ جس کی دعاؤں پر فرشتے آمین کہیں، اے اللہ! ہماری اس مجلس کو بھی ان مجالس میں سے فرما کہ جس کی دعاؤں پر فرشتے آمین کہیں۔ اے اللہ! ہماری سب کی تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! تمام پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! آپ کے در کے علاوہ اور کوئی در نہیں ہے۔ اے اللہ! آپ کے در کے علاوہ اور کوئی در نہیں ہے۔ اے اللہ! ہم نے آپ کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں۔ اے اللہ! اگر ہم کسی معزز دنیا دار کے دروازے پر بھی اس طرح ہاتھ پھیلائیں تو وہ کبھی ہمیں خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا۔ اے اللہ! آپ تو ارحم الراحمین ہیں۔ اے اللہ! آپ تو اکرم الاکرمین ہیں۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجتیں پوری فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب او بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمیں اتباع سنت کی توفیق دے۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں پر عمل کرنے والا بنا۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں کو پھیلانے والا بنا۔ اے اللہ! شرک و بدعت اور گمراہیوں سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمیں سنتیں پھیلانے والا بنا۔ اے اللہ! ہمیں شرک و بدعت اور گمراہیوں کو مٹانے والا بنا۔ اے اللہ! اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ! سب کی تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! ہر ایک کو دین کی خدمت کرنے والا بنا۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو ایسی شمع بنا دے جس سے آگے مزید لاکھوں شمعیں روشن ہوں، اے اللہ! ان میں سے کسی بھی طالب علم کو ضائع نہ فرما۔ اے اللہ! سب کو دین کی خدمت کرنے والا بنا۔ اے اللہ! سب کی تکالیف، پریشانیاں اور مشکلات دور فرما۔ اے اللہ! میرے تمام تلامذہ کو اے اللہ! وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! حرام کے ذرے ذرے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! حرام کے ذرے ذرے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کو بھی وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی بھی حرام کے ذرے ذرے سے ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ بھی ایمان پر فرما۔ اے اللہ! قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کا خاتمہ بھی ایمان پر فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! ان طلبہ میں سے کوئی بیمار ہو، اے اللہ! حاضرین میں سے کوئی بیمار ہو، اے اللہ! یا ان کے گھروں میں کوئی بیمار ہو، اس مبارک مجلس کی برکت سے اس علم دین کی برکت سے سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو صحت نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! حاضرین میں سے کسی کے والدین زندہ ہوں یا ان میں سے کوئی ایک زندہ ہو، اے اللہ! سب کو صحت اور عافیت اور تندرستی والی زندگی نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کا سایہ تا دیر ہم سب کے سروں پر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے مقبول بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو قبولیت اور مقبولیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو اے اللہ! قبولیت عامہ نصیب فرما۔ اے اللہ! ان طلبہ میں سے کسی کو بھی ضائع نہ فرما۔ اے اللہ! ضائع نہ فرما۔ اے اللہ! یقیناً آپ نے اے اللہ! آپ نے وعدہ کیا ہے، اے اللہ! ہماری ساری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے، اے اللہ! مکمل صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! یہ دروس کا جو سلسلہ جاری ہے، اے اللہ! اس کو تا دیر صحت اور عافیت اور اس کے ساتھ تا دیر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ! اس کو تا دیر صحت اور عافیت کے ساتھ جاری و ساری فرما۔ اے اللہ! اس کو قبولیت عامہ نصیب فرما۔ ہمارے اس مدرسے کے لیے بھی دعا کریں، اے اللہ! اس کو ہم سب کے لیے صدقہ جاریہ فرما۔ اے اللہ! تا قیامت وہ جاری و ساری رہے، اے اللہ! اس کو دین کی تمام تحریکوں کا عظیم مرکز فرما۔ اے اللہ! ہماری اے اللہ! اس ٹوٹی پھوٹی کاوش کو قبول فرما۔ اے اللہ! ہم آپ کے کمزور بندے ہیں، اے اللہ! یقیناً ہم میں بہت کوتاہیاں ہوں گی، بہت خامیاں ہوں گی، لیکن اے اللہ! آپ کی رحمت تو بڑی وسیع ہے، آپ کی وسیع رحمت کا واسطہ، اے اللہ! ہم سب کی اس محنت کو قبول فرما۔ اے اللہ! اس پودے کو تا قیامت عظیم عظیم خدمات کرنے والا بنا، اے اللہ! ہر قسم کے دینی اہل حق کے لیے تا قیامت یہ ہمیشہ مرکز رہے۔ اے اللہ! پورے عالم کے اندر اے اللہ! اے اللہ! اس کو فیض پھیلانے والا بنا، پورے عالم کے تحریکوں کا اس کو دینی تحریکوں کا اس کو مرکز فرما۔ اے اللہ! ہر قسم کی کوتاہیوں سے اے اللہ! اور بدعت اور گمراہیوں سے اے اللہ! اور فتنے اور فساد سے اس کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ مجاہدین کے لیے بھی خصوصاً دعا کیجیے، اے اللہ! مجاہدین اس زمانے کے اندر جو اسلام کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اے اللہ! ان کی حفاظت فرما، اے اللہ! ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما، اے اللہ! دشمنانِ اسلام کو ذلیل و رسوا فرما، اے اللہ! اس مسلمان اس زمانے میں پورے عالم کے اندر تکلیفوں میں ہیں، مشکلات میں ہیں، اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو پھر عروج نصیب فرما، اے اللہ! ہر جگہ ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو پھر عروج نصیب فرما، اے اللہ! مسلمانوں کو پھر دین کی طرف لوٹا دے، اے اللہ! ہم سب کو دین پر چلنے والا بنا دے، اے اللہ! کفار کے دلوں میں مسلمانوں کی ہیبت بٹھا دے، اے اللہ! اے اللہ! تمام عالم میں مسلمان جہاں جہاں تکلیف میں ہیں، پریشانیوں میں ہیں، مصیبتوں میں ہیں، اے اللہ! سب کی مدد فرما، خاص طور پر اے اللہ! کشمیر میں، فلسطین میں، برما میں، شام میں اور اسی طرح چین میں، ہر جگہ مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، خاص طور پر چین کے اندر تو مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کر دی گئی، باقی جگہ کی تو ظلم کی خبریں بھی سننے میں آ جاتی ہیں، وہاں تو کوئی ظلم، وہاں تو ظلم کی انتہا ہے اور کوئی خبر بھی نہیں آنے دی جا رہی، اے اللہ! مسلمانوں کو ہمت اور قوت نصیب فرما، اے اللہ! دشمنانِ اسلام کو ذلیل و رسوا فرما، اے اللہ! ان کو تباہ و برباد فرما، اے اللہ! ہمارے اس وطن کی بھی حفاظت فرما، اے اللہ! یہاں پر بھی جو سازشوں میں مصروف ہیں، اے اللہ! ان کی سازشوں کو ناکام فرما، اے اللہ! ہمارے اس وطن میں ہمیں اسلامی نظام نصیب فرما، اے اللہ! تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما، اے اللہ! اس مدرسے کو تا قیامت دین کا عظیم مرکز فرما، اسی طرح اس مدرسے میں جو جو خدمات سرانجام دینے والے ہیں، اساتذہ ہیں اور اور جو بھی جس انداز میں بھی مدرسے کی خدمت میں مصروف ہیں، اے اللہ! سب کو عافیت نصیب فرما، اے اللہ! سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما، اے اللہ! سب کی مشکلات حل فرما، میری والدہ کے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے کہ اللہ ان کو صحت اور عافیت نصیب فرماۓ، وہ بیمار رہتی ہیں، دعا کریں اللہ ان کا سایہ صحت و عافیت و تندرستی کے ساتھ تا دیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، بڑے بھئی میرے مولانا زبیر روحانی باجی مدظلہ العہ، ان کے لیے بھی دعا فرمائیں، یہ دروس کا سلسلہ، یہ اسباق کا سلسلہ اور یہ مدرسے کا یہ سب انہی کی کوششوں سے چل رہا ہے، دعا کریں، اے اللہ! ان کو بھی صحت اور عافیت و تندرستی نصیب فرما، اے اللہ! ان کا سایہ تا دیر صحت و عافیت و تندرستی کے ساتھ ہمارے سروں پر قائم و دائم فرما، اے اللہ! ان کی مشکلات حل فرما، اے اللہ! ان کو عافیت دارین نصیب فرما، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں ان میں سے ایک کو بھی ضائع نہ فرما، اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو ایسا طالب علم بنا کہ اس سے آگے لاکھوں طلبہ سیکھنے والے ہوں اور تا قیامت یہ سلسلہ جاری رہے، اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو دین کی عظیم خدمت کرنے والا بنا، اے اللہ! ہم تو کمزور ہیں لیکن اے اللہ! آپ کی رحمت تو بڑی وسیع ہے، اے اللہ! ہمیں اپنے دین کی خدمت کرنے والوں میں ہمارا شمار فرما، اے اللہ! اے اللہ! بدبختی سے ہم سب کی حفاظت فرما، اے اللہ! بدبختی سے ہم سب کی حفاظت فرما، اے اللہ! بدبختی سے ہم سب کی حفاظت فرما، اے اللہ! آپ ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما، بہت سے لوگ بھی دعاؤں کا کہتے رہتے ہیں، اے اللہ! آپ تو عالم الغیب ہیں سب کو جانتے ہیں، اے اللہ! ان سب کی مشکلات حل فرما، بعض لوگ مقدموں کے سلسلہ میں پریشان ہیں، بعض بیماری کے سلسلہ میں پریشان ہیں، بعض اور مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، اے اللہ! آپ تو سب جانتے ہیں جنہوں نے بھی دعاؤں کے لیے کہا، اے اللہ! سب کی حاجتیں پوری فرما، اے اللہ! سب کی مشکلات حل فرما، اے اللہ! مقدمات ان کے حق میں فرما، اے اللہ! اور جنہوں نے دعاؤں کے لیے کہا یا چاہا، اے اللہ! سب کی حاجتیں پوری فرما، سب کی مشکلات حل فرمان، اے اللہ! ہم سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما، اے اللہ! ہمیں اپنے دین پر چلنے والا بنا، اے اللہ! دین کو پھیلانے والا بنا، اے اللہ! ہمارے گھروں میں دین کا بول بالا فرما، اے اللہ! ہماری نشست و برخاست میں دین کا بول بالا فرما، اے اللہ! ہماری نسلوں میں بھی دین کا بول بالا فرما، اے اللہ! ہم سب کی اصلاح فرما، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! جو بیمار ہوں ان کو صحت نصیب فرما، اے اللہ! جو پریشانی میں مبتلا ہیں ان کی پریشانیوں کو دور فرما، اے اللہ! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! اس دروس کے سلسلے کو اے اللہ! تا دیر اسی طرح صحت و عافیت و تندرستی کے ساتھ اے اللہ! جاری و ساری فرما، اے اللہ! ہر قسم کی رکاوٹوں سے حفاظت فرما، مشکلات سے حفاظت فرما، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔