آگے دیکھیے بھئی کتاب پر۔ فصل سوم در حروف غیر عاملہ و آن شاز دہ قسم است۔ اول حروف تنبیہ و آن سہ است: الا، و اما، و ہا۔ دوم حروف ایجاب و آن شش است: نعم، و بلا، و اجل، و ای، و جیر، و انّ۔ سوم حروف تفسیر و آن دو است: ای، و ان، کقولہ تعالی نادینہ ان یا ابراھیم۔ بھئی گزشتہ سبق میں منصرِف اور غیر منصرِف کا بیان آپ نے پڑھا تھا بھئی۔ اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ منصرِف وہ ہے کہ جس میں دو اسبابِ منعِ صرف نہ ہوں۔ جس میں دو اسبابِ منعِ صرف نہ ہوں وہ منصرِف ہے۔ یعنی چاہے ایک ہو یا ایک بھی نہ ہو دونوں صورتوں میں وہ کیا ہوگا؟ منصرِف۔ اور اگر دو سبب ہیں غیرِ انصراف کے تو وہ غیر منصرِف ہوگا بھئی۔ یا کوئی ایک سبب ایسا پایا جائے جو دو سببوں کے قائم مقام ہو، تو پھر بھی لفظ غیر منصرِف ہو جائے گا بھئی۔ اور غیر منصرِف پر کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی۔ جاءنی عمر۔ رایت عمر۔ مررت بعمر۔ دیکھو اس پر جر بھی جو آتا ہے وہ فتحہ کی صورت میں ہے۔ تو اس پر کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی بھئی۔ اور پھر اس کے بعد یہ اسبابِ منعِ صرف انہوں نے آپ کو بتلایا کہ نو ہیں بھئی۔ عدل، وصف، تانیث، معرفہ، عجمہ، جمع، ترکیب، وزنِ فعل اور الف نون مزیدتان۔ اِن پر نظر رکھیں ایک ایک کو میں بیان کرتا ہوں بھئی۔ عدل۔ عدل میں نے آپ کو بتلایا کہ عدل کا معنی ہے پھیرنا۔ یعنی صیغے کی صورت بدلنا، ایک صورت سے نکال کر دوسری صورت اس کو دے دینا، اس کو کہتے ہیں عدل بھئی۔ اور عدل دو قسم پر ہے: ایک عدلِ تحقیقی اور ایک عدلِ تقدیری۔ عدلِ تحقیقی وہ ہے جس کی ہمارے پاس کوئی دلیل موجود ہو کہ اس صیغے کو اس شکل سے اس شکل کی طرف پھیرا گیا ہے۔ اور عدلِ تقدیری وہ ہے کہ جس میں ہمارے پاس کوئی دلیل نہ ہو کہ اس صیغے کو اس شکل سے اس شکل کی طرف پھیرا گیا ہے۔ تقدیر کا معنی ہے فرض کرنا۔ تو عدلِ تقدیری یعنی وہ عدل جس کو فرض کر لیا۔ نحویوں نے قانون بنایا تھا کہ غیر منصرِف وہی لفظ ہوگا جس میں دو اسبابِ منعِ صرف ہوں یا کوئی ایک ایسا سبب ہو جو دو کے قائم مقام ہو۔ لیکن کلامِ عرب میں جب تلاش کیا تو کچھ لفظ ایسے ملے کہ جن کو عرب تو غیر منصرِف کی طرح بولتے ہیں، یعنی اس پر کسرہ بھی نہیں پڑھتے اور تنوین بھی نہیں پڑھتے، لیکن اس میں ایک ہی سبب تھا دوسرا کوئی سبب ہی نہیں تھا۔ تو نحویوں نے اپنے قانون کو بچانے کے لیے کہا کہ اس میں عدل کو فرض کر لو۔ کیا کر لو؟ عدل کو فرض کر لو۔ جیسے عمر۔ عمر ایک تو علم ہے، معرفہ ہے، نام ہے، ایک سبب تو ہے۔ دوسرے سبب کا پتہ ہی نہیں چل رہا تھا لیکن عرب اس کو ہمیشہ غیر منصرِف کی طرح پڑھتے ہیں۔ تو نحویوں نے کہا اس میں عدل کو فرض کر لو کہ اس میں کیا ہوا ہے؟ عدل۔ یہ پہلے کیا تھا؟ عامر۔ اور پھر کیا بنا دیا؟ عمر۔ تو دیکھو پوری صورت بدل دی۔ تو پوری صورت بدل دی، ایک شکل سے دوسری شکل اس کو دے دی اور کوئی دلیل موجود نہیں۔ کس دلیل کی بنیاد پر آپ کہہ رہے ہیں کہ پہلے یہ عامر تھا اور پھر عمر بنایا؟ تو کہتے ہیں دلیل کوئی موجود نہیں۔ تو یہ صرف اپنے قانون کو بچانے کے لیے نحویوں نے فرض کر لیا۔ تو یہ کیا ہے؟ عدلِ تقدیری۔ لیکن یہ ایسا پیارا قانون انہوں نے بنایا، یہ صرف عدل ہے جس کو وہ فرض کرتے ہیں، اس کے علاوہ اور کوئی چیز فرض نہیں کرتے۔ لیکن ایسا پیارا قانون بنایا کہ پورے کلامِ عرب کو آپ اٹھا کر دیکھ لیں، جو بھی غیر منصرِف عرب غیر منصرِف کی طرح پڑھتے ہوں گے، جس پر کسرہ یا تنوین وہ نہیں پڑھتے، آپ دیکھیں گے اس میں کوئی دو سبب ضرور موجود ہوں گے یا کوئی ایک سبب ہوگا جو دو کے قائم مقام ہوگا۔ تو یہ عدل۔ آگے دیکھیے اگلا سبب ہے وصف بھئی۔ وصف صفت بھئی صفت۔ یہ جو صفت ہے جو ایسے معنی پر دلالت کرتی ہے جو کس میں پایا جائے؟ اس کے متبوع میں پایا جائے، یہ بھی سبب بنتی ہے غیر منصرِف ہونے کا۔ اگلا سبب ہے تانیث بھئی۔ تانیث کے اندر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک تانیثِ بالتاء ہے، وہ سبب بنے گی۔ اسی طرح تانیثِ معنوی وہ بھی سبب بنتی ہے غیر انصراف کا، جبکہ تانیث بالالفِ مقصورہ یا تانیث بالالفِ ممدودہ، یہ دو سببوں کے قائم مقام ہے۔ دو سببوں کے قائم مقام ہے۔ دو سببوں کے قائم مقام کتنے سبب ہیں؟ تین سبب ہیں، جو کتنے کے قائم مقام ہیں؟ دو کے۔ نمبر ایک: تانیث بالالفِ مقصورہ۔ نمبر دو: تانیث بالالفِ ممدودہ۔ اور نمبر تین: جمعِ منتہی الجموع۔ یہ تین چیزیں جہاں آجائیں، وہاں دوسرا سبب تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہیں، یہ خود ہی دو کے قائم مقام ہے تو اس لفظ کو آپ نے غیر منصرِف پڑھنا ہے۔ اس کے بعد اگلا سبب دیکھو معرفہ ہے بھئی معرفہ۔ معرفہ کی آپ نے سات قسمیں پڑھیں، لیکن وہ سارے مراد نہیں ہیں۔ ان میں سے صرف علم جو ہے علم، جو دوسرے نمبر پر آ رہا ہے وہ سبب بنتا ہے غیر انصراف کا۔ اگلا سبب ہے عجمہ۔ عجمہ کا معنی یہ ہے کہ کوئی عجمی لفظ ہو یعنی غیر عربی زبان کا ہو۔ عربی لفظ نہ ہو بلکہ غیر عربی لفظ ہو کسی دوسری زبان کا لفظ ہو، جو عربی زبان میں آگیا، تو اس پہ یہ سبب عجمہ ہے، عجمہ یہ بھی سبب بنے گا غیر انصراف کا۔ اگلا سبب ہے جمع بھئی۔ جمع کے اندر میں نے آپ کو بتلایا کہ جمعِ منتہی الجموع کا جو صیغہ ہے، وہ سبب بنتا ہے غیر انصراف کا۔ اور وہ دو سببوں کے قائم مقام ہے۔ اور اگلا سبب جو ہے، وہ ہے ترکیب بھئی، ترکیب۔ دیکھو اگر آپ کو یاد ہو نحو میر کے بالکل آغاز میں انہوں نے بتلایا تھا کہ مرکب دو قسم پر ہے۔ ایک مرکبِ مفید اور ایک مرکبِ غیرِ مفید۔ تو وہاں انہوں نے بیان کیا تھا کہ مرکبِ غیرِ مفید تین قسم پر ہے۔ ایک مرکبِ اضافی ہے، ایک مرکبِ بینائی ہے اور ایک مرکبِ منعِ صرف ہے۔ کتنی قسمیں؟ تین قسمیں۔ ایک مرکبِ اضافی جو مضاف اور مضاف الیہ سے مل کر بنے۔ ایک مرکبِ بینائی جیسے احد عشرہ اور یہاں پر یہ اصل میں تھا احد و عشرہ۔ تو یہاں واؤ تھا، وہ واؤ جو ہے اس کو حذف کر دیا اور ان دونوں لفظوں کو ملا کر جوڑ دیا اور یہ مبنی بن گیا سارا۔ احد عشرہ۔ اس کو اسی طرح پڑھنا ہے، اس پر کوئی اس میں آگے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی بھئی۔ اور تیسری قسم مرکب کی تھی مرکبِ منعِ صرف۔ مرکبِ منعِ صرف وہ تھا جہاں دو لفظوں کو جوڑ کر ایک لفظ بنا لیتے ہیں اور اس کو غیر منصرِف کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ جیسے بعلبکّ۔ یہ بعل ایک بت کا نام تھا جس کی لوگ عبادت کیا کرتے تھے اور بکّن بادشاہ کا نام تھا جس نے ایک شہر بسایا، تو اس شہر کا نام ہی اس بت اور بادشاہ کے نام کو ملا کر بعلبکّ رکھ دیا گیا اور بعلبکّ اب اس کو سارے کو جوڑ کر ایک لفظ بنا دیا۔ تو اس کے آخر میں جب آپ اعراب پڑھیں گے تو وہ غیر منصرِف والا پڑھیں گے بھئی۔ کیونکہ یہ ایک علم ہو گیا، نام ہے، شہر کا نام ہے، علم ہے اور دوسرا یہ مرکبِ منعِ صرف ہے، تو یہاں ترکیب آگئی۔ ترکیب یعنی دو لفظوں کو جوڑا گیا ہے۔ تو ایک علم اور ایک ترکیب، یہ دو چیزیں اس میں جمع ہوگئیں، تو حالتِ رفعی میں کہیں گے بعلبکّو دیکھو تنوین نہیں ہے بھئی، غیر منصرِف ہے۔ اور حالتِ نصبی میں کہیں گے بعلبکّا۔ اور حالتِ جری میں بھی کہیں گے بعلبکّا۔ تو بعلبکّا۔ حالتِ جری میں یہ جو اس پر فتحہ آ رہا ہے، یہ جر ہی ہے بھئی۔ اس کے غیر منصرِف کا جر کس صورت میں آتا ہے؟ فتحہ کی صورت میں آتا ہے، تو یہ ہے ترکیب۔ یہ دیکھا، ایک تو بعلبکّ میں دو سبب کیا ہیں؟ ایک ایک علم ہے اور دوسرا ترکیب ہے۔ دو لفظوں کو جوڑ کر ایک بنایا گیا ہے بھئی۔ اور اگلا سبب ہے وزنِ فعل بھئی۔ وزنِ فعل یعنی فعل والا وزن ہو اور اسم کے اندر آجائے، تو یہ بھی سبب بنے گا غیر غیر انصراف کا، غیر انصراف کا۔ تو جیسے جیسے زُربا۔ کسی کا نام ہی مثلاً زُربا رکھ دیا گیا۔ اب دیکھو ایک تو یہ علم بن گیا اور دوسرا زُربا فُعِلاً فعل کا وزن آگیا، تو یہ لفظ کیا بن جائے گا؟ غیر منصرِف ہوگا۔ بھئی۔ اور اسی طرح اگلا سبب جو ہے، الف نون مزیدتان ہے، کہ الف نون جو ہیں وہ آئیں اور زائد ہوں، یعنی حروفِ اصلی نہ ہوں، دیکھو مزیدتان یعنی زائدتان، یہ دونوں کیا ہوں؟ زائد ہوں، حروفِ اصلی نہ ہوں، اگر حروف پہ اصلی ہیں الف اور نون، پھر وہ غیر انصراف کا سبب نہیں بنیں گے۔ بلکہ کیا ضروری کہ دونوں زائد ہوں، تو پھر یہ غیر انصراف کا سبب بنیں گے۔ جیسے عثمان بھئی۔ اب یہ نام ہے، ایک علمیت ہے اور ایک الف نون اس کے آخر میں زائد آرہا ہے۔ اس کا مادہ کیا ہے؟ ع، ف اور م، تو الف نون زائد ہیں، حروفِ اصلی نہیں ہیں۔ تو دو سبب آگئے، ایک علم ہے اور ایک الف نون مزیدتان، تو یہ غیر منصرِف ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ مثالیں ذکر کی تھیں بھئی۔ اور آخر میں میں نے ایک قیمتی بات آپ کو بتلائی تھی کہ یاد رکھو کبھی بھی علم اور وصف ایک لفظ میں جمع نہیں ہو سکتے۔ اس لیے کیونکہ علم جو ہے وہ ذاتِ معین پر دلالت کرتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں زید، اس سے آپ کے ذہن میں زید ہی آئے گا، عمر یا بکر نہیں آئیں گے۔ تو نام جو ہوتا ہے، علم جو ہوتا ہے، وہ کسی معین ذات پر دلالت کرتا ہے۔ جبکہ وصف، وصف مثلاً العالم یا التاجر۔ تو العالم، یہ تو زید بھی ہو سکتا ہے، بکر بھی ہو سکتا ہے، خالد بھی ہو سکتا ہے یا التاجر۔ یہ زید بھی ہو سکتا ہے، بکر بھی ہو سکتا ہے، خالد بھی ہو سکتا ہے، عمر بھی ہو سکتا ہے۔ تو وصف جو ہے، وہ بھی ذات پر دلالت کرتا ہے، لیکن ذاتِ غیرِ معین پر۔ تو علم دلالت کرتا ہے ذاتِ معین پر اور وصف دلالت کرتا ہے ذاتِ غیرِ معین پر۔ تو یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں جیسے سردی اور گرمی ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ سردی اور گرمی جیسے جمع نہیں ہو سکتیں، سردی ہے تو گرمی نہیں اور گرمی ہے تو سردی نہیں۔ اسی طرح کوئی لفظ اگر علم ہے تو پھر وہ وصف نہیں اور اگر وصف ہے تو پھر علم نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ آگے دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں فصلِ سوم در حروفِ غیرِ عاملہ۔ تیسری اور آخری فصل آگئی بھئی نحومیر کی، اس اس میں وہ حروفِ غیرِ عاملہ بیان کریں گے۔ کچھ حروف ہیں، جو مختلف معنی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لیکن لیکن وہ عمل نہیں کرتے۔ وہ عمل نہیں کرتے۔ تو عمل نہیں کرتے، یعنی کسی کو رفع، نصب یا جر نہیں دیتے یا فعل کے اندر رفع، نصب یا جزم وہ نہیں دیتے بھئی۔ تو یہ حروفِ غیرِ عاملہ ہے۔ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے۔ غیرِ عاملہ، عمل نہ کرنے والے۔ تو ان کا بیان کرنے لگے ہیں، اور یہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ 16 قسم کے ہیں۔ یہ حروفِ غیرِ عاملہ کتنی قسمیں ہیں؟ 16۔ دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں فصلِ سوم در حروفِ غیرِ عاملہ۔ تیسری فصل در حروفِ غیرِ عاملہ، غیرِ عاملہ حروف کے بیان میں یا یوں کہیں، تیسری فصل ان حروف کے بیان میں جو عمل نہیں کرتے، و آن شازدہ قسم است۔ شازدہ کا معنی ہے 16، 16۔ و آن شازدہ قسم است اور وہ 16 قسم پر ہے۔ کتنی قسم پر؟ 16 قسم پر۔ 16 تعداد نہیں ہے، 16 ان کی قسمیں ہیں بھئی۔ پھر ہر قسم میں کئی کئی حروف ہیں بھئی۔ کہتے ہیں اول حروفِ تنبیہ، پہلا جو ہے وہ حروفِ تنبیہ بھئی۔ و آن سہ است اور وہ تین ہیں: الا، و اما، و ہا۔ پہلی قسم کیا ہے؟ حروفِ تنبیہ اور وہ تین ہیں: الا، اما اور ہا۔ بس، مزید تفصیل بیان نہیں کی صاحبِ نحومیر نے۔ اس لیے کیونکہ یہ مختصر کتاب ہے، ابتدائی طلبہ کے لیے، تو بس تعارف کرواتے چلے جا رہے ہیں کہ طالبِ علم کے ذہن میں کچھ نہ کچھ ان چیزوں کا نام یاد رہ جائے، تھوڑی مختصر سی کوئی بات اس کے ذہن میں رہ جائے، اگلی کتابوں میں پھر ہدایت النحو اور کافیہ وغیرہ میں خوب تفصیل ا جاتی ہے ہر چیز کی۔ تو یہاں وہ مختصر تعارف کراتے جا رہے ہیں، تو ہم بھی اسی طرح مختصر ہی چلیں گے اور کوئی ایک آدھ ضروری بات میں ذکر کرتا جاؤں گا، باقی تفصیل اگلی کتابوں میں آئے گی۔ تو پہلی قسم جو ہے حروف تنبیہ ہے بھئی، اور وہ تین ہیں: الا، اما، اور ہا۔ تنبیہ کا معنی ہے دوسرے کو متنبہ کرنا، متنبہ کرنا، یعنی اس کو بیدار کرنا کہ کہیں غافل نہ ہو، غفلت میں کوئی بات گزر نہ جائے اور اس کی توجہ ہی نہ ہو۔ مثلاً آپ اس کو بتانا چاہتے ہیں کہ زید کھڑا ہے، تو اب کہیں ایسا نہ ہو اس کی توجہ نہ ہو اور آپ بات کریں اور وہ بات گزر گئی اور اس کو پتہ بھی نہ چلا، تو آپ پھر حرف تنبیہ شروع میں لاتے ہیں اور کہتے ہیں: الا زید قائم۔ دیکھا! یہ الا نے کیا کیا؟ دوسرے کو متوجہ کر دیا، متنبہ کر دیا اور وہ متوجہ ہو گیا آپ کی طرف۔ اور جب متوجہ ہو گیا، اب آپ نے کہہ دیا: زید قائم۔ تو اردو میں اس کا کوئی مترادف نہیں ہے۔ اردو میں اس کے مختلف موقع کے مطابق ترجمہ کیا جاتا ہے۔ کبھی اس کا ترجمہ کرتے ہیں: سنو! الا زید قائم، سنو! زید کھڑا ہے۔ کبھی اس کا ترجمہ کرتے ہیں: آگاہ رہو کے ساتھ۔ الا زید قائم، آگاہ رہو! زید کھڑا ہے۔ اور کبھی اس کا ترجمہ خبردار کے ساتھ کرتے ہیں، موقع کے مطابق، موقع کے مطابق۔ الا زید قائم، خبردار! زید کھڑا ہے۔ تو موقع کے مطابق، کہیں پر نرمی والا موقع ہے، تو وہاں سنو! زید کھڑا ہے اور کہیں سختی والا موقع ہے، تو کہتے ہیں: خبردار! زید کھڑا ہے۔ مثلاً کوئی شخص آپ پر حملہ کرنے لگا، تو اب آپ اس کو خبردار کرنا چاہتے ہیں اور زید آپ کا ساتھی ہے اور وہ بڑا طاقتور انسان ہے، تو آپ اس کو کیا کہتے ہیں؟ الا زید قائم، خبردار! زید کھڑا ہے، یعنی اگر مجھے ہاتھ لگایا تو تمہاری خیر نہیں۔ تو دیکھا! موقع کے مطابق ہوگا، موقع کے مطابق۔ اور کبھی ویسے کسی کو متوجہ کرنا ہے، کہیں غفلت میں بات گزر نہ جائے، تو یہ تین حروف ہیں: الا، اما، اور ہا۔ اما بھی اسی طرح ہے: اما زید قائم، سنو! زید کھڑا ہے۔ اور ہا، ہا یہ بھی تنبیہ کے لیے استعمال ہوتی ہے اور یہ عموماً یہ اسمائے اشارہ کے شروع میں آتی ہے۔ ہاذا، یہ جو ہاذا ہے اس میں زا ہے اس میں اشارہ اور یہ جو ہا ساتھ آپ نے جوڑی ہے یہ تنبیہ والی ہے، یہی ہا جو ابھی ہم پڑھ رہے ہیں۔ ہاذا، اصل میں اس میں اشارہ کیا ہے؟ زا اور یہ ہا کون سی جوڑ دی ساتھ؟ تنبیہ والی۔ تو اگر آپ سے کوئی اسم اشارہ پوچھے، جس صاحبِ نحمیر نے بھی آپ کو اسم اشارہ گنوائے تھے: زا، زی، زیہی، تی، تیہی وغیرہ بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو وہاں دیکھا اس میں اشارہ اصل میں زا اور زیہی ہیں، ان کے ساتھ ہا تنبیہ والی جوڑ کر ہاذا اور ہازیہی پڑھتے ہیں۔ دوم حروفِ ایجاب، دوسری قسم ہے حروفِ غیر عاملہ کے حروفِ ایجاب، واں شش ست اور وہ چھ ہیں۔ حروفِ ایجاب بھئی، جواب دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ کوئی آپ سے بات کرتا ہے یا کوئی سوال پوچھتا ہے، تو آپ جواب میں، جواب میں یہ حروفِ ایجاب استعمال کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں وہ دوم حروفِ ایجاب واں شش ست اور وہ چھ ہیں: نعم، وبلا، واجل، وای، وئری، جئری اور جئرا دونوں طرح صحیح ہے بھئی، وئری، وان، یہ کیا ہے؟ حروفِ ایجاب۔ یہ جواب دینے کے لیے آتے ہیں۔ مثلاً آپ سے کسی نے پوچھا: ہل زید قائم؟ کیا زید کھڑا ہے؟ آپ کہتے ہیں: نعم۔ دیکھا! آپ نے اس بات کا جواب دیا کہ ہاں، زید کھڑا ہے۔ اور یہ سب ایک جیسے ہیں، صرف بلا میں تھوڑا فرق ہے: بلا، بلا۔ بلا کا معنی ہے کیوں نہیں؟ نعم کا معنی ہے ہاں۔ اجل کا معنی بھی ہے ہاں۔ ای کا معنی بھی ہے ہاں۔ جئری کا معنی بھی ہاں۔ ان کا معنی بھی ہاں۔ مثلاً آپ سے کسی نے پوچھا: ہل زید قائم؟ کیا زید کھڑا ہے؟ آپ کہتے ہیں: نعم۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں: اجل۔ اجل کا بھی کیا معنی؟ ہاں۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں: ای، لیکن ای کے ساتھ قسم ملانا ضروری ہے پھر۔ ای واللہ، ہاں اللہ کی قسم۔ اس نے کہا: کیا زید کھڑا ہے؟ آپ نے کہاہاں اللہ کی قسم! موقع کے مطابق بھئی۔ اور پھر جئری اس کا بھی یہی معنی، ان بھی اسی طرح ہے، اس کا بھی یہی معنی۔ لیکن یہ کسی جملے کے ساتھ، اس کے ساتھ آگے جملہ جوڑتے ہیں عموماً۔ اس نے کیا کہا؟ ہل زید قائم؟ کیا زید کھڑا ہے؟ آپ کہتے ہیں: ان، زید قائم۔ ان ہا! زید کھڑا ہے۔ اور اگر ان پر وقف کرنا ہے، تو پھر اس کے ساتھ ہا بھی جوڑ دیتے ہیں۔ آپ صرف ان جواب میں کہنا چاہتے ہیں، جملے کو نہیں جوڑنا چاہتے، تو پھر ہا بھی جوڑتے ہیں۔ اس نے کہا: ہل زید قائم؟ کیا زید کھڑا ہے؟ آپ کہتے ہیں: انّہ، انّہ۔ تو یہ جواب دینے کے لیے یہ استعمال ہوتے ہیں۔ اور ہاں! بلا کا معنی ہے کیوں نہیں، کیوں نہیں؟ یہ اس کا ذرا معنی باکیوں سے مختلف ہے۔ یہ نفی کے جواب میں آئے گا، جب سوال میں کیا ہو؟ نفی۔ اور اس کا معنی ہے، بلا کا معنی ہے کیوں نہیں؟ کیوں نہیں؟ مثلاً قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: الست بربکم؟ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ تمام ارواح کو اللہ نے جمع کرکے فرمایا: الست بربکم؟ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ قالوا بلا، تو سب نے جواب میں کیا کہا؟ کیوں نہیں۔ بلا، کیوں نہیں! یعنی آپ ہمارے رب ہیں۔ تو یہاں دیکھو! سوال میں تھی نفی: الست بربکم؟ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ بلا، بلا نے کیا کیا؟ اس نفی کو ختم کرکے اس بات کے ساتھ جواب دیا۔ الست بربکم؟ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ اگر اس کا جواب دے دیا جائے: نعم، تو معنی ہوگا: ہاں، آپ ہمارے رب نہیں ہیں۔ آپ ہمارے رب نہیں ہیں۔ یعنی نعم وغیرہ کے ساتھ جو، وہ جیسا کلام ہو اس کو ویسا ہی ثابت کر دیتے ہیں، اگر وہ نفی ہے تو نفی کے ساتھ ثابت کرتے ہیں، اگر مثبت ہے تو مثبت ثابت کر دیتے ہیں۔ مثلاً، ازید قائم؟ کیا زید کھڑا ہے؟ نفی ہے یا مثبت کلام ہے؟ مثبت ہے۔ نفی تو نہیں ہے اس کے اندر، تو اس زید کے قیام کے بارے میں پوچھ رہا ہے کہ زید کے لیے قیام ثابت ہے؟ آپ نے کہا: نعم۔ یعنی زید کے لیے قیام ثابت ہے۔ یا کسی نے پوچھا: ازید لیس بموجود؟ کیا زید موجود نہیں ہے؟ دیکھو! نفی کے ساتھ سوال ہے۔ آپ جواب میں کہتے ہیں: نعم۔ کیا معنی؟ ہاں، زید موجود نہیں۔ یعنی نعم وغیرہ میں اگر ما قبل میں اثبات ہے تو جواب بھی کیا ہے؟ اسی اثبات کو ثابت کر دیں گے اور اگر ما قبل میں نفی ہے تو جواب میں بھی وہی نفی ثابت ہو جائے گی۔ جبکہ بلا میں، بلا وہاں آئے گا جہاں سوال میں نفی ہو اور یہ اس نفی کو ختم کرکے اس کا جواب کس کے ساتھ کر دے گا ثابت؟ اثبات کے ساتھ۔ جیسے: تمام ارواح کو اللہ نے جمع کرکے فرمایا: الست بربکم؟ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ دیکھو! سوال میں نفی ہے۔ نفی ہے، کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ تو سب نے جواب دیا: بلا! کیوں نہیں۔ یعنی آپ ہمارے رب ہیں، دیکھا! اس نفی کو ختم کرکے اثبات کے ساتھ جواب بن گیا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ہیں حروفِ ایجاب۔ سیوم حروفِ تفسیر، تیسرا ہے وہ حروفِ تفسیر ہے، واں دو است اور وہ دو ہیں: اے وا ن۔ ایک اے ہے اور ایک ان ہے۔ ان کے ذریعے یاد رکھو! کوئی مشکل یا کوئی مبہم چیز ہو، مبہم لفظ ہو، یا مبہم بات ہو، اس کی تفسیر کی جاتی ہے۔ اس کی کیا کی جاتی ہے؟ تفسیر۔ مثلاً آپ نے ایک آدمی سے کہا: ھذا غضنفر، یہ کیا ہے؟ غضنفر ہے۔ اب وہ حیران ہو کہ غضنفر کس کو کہتے ہیں؟ دیکھا! ایک لفظ ہے، اس کا معنی اس کو سمجھ میں نہیں آرہا، تو آپ تفسیر، اے کے ذریعے تفسیر کرتے ہیں۔ ای اسد، یعنی کہ شیر۔ ای اسد۔ دیکھا! یہ اے نے کیا کیا؟ تفسیر کی۔ معنی بیان کیا کس کا؟ غضنفر کا اور بتلایا کہ غضنفر کا کیا معنی ہے؟ اسد ہے، یعنی شیر ہے۔ تو اے حرفِ تفسیر ہے، کوئی مبہم بات ہو، کوئی مبہم شخص ہو، یا کوئی مبہم چیز ہو، اے کے ذریعے اس کی تفسیر کی جاتی ہے۔ اسی طرح ان جو ہے، ان کے ذریعے بھی تفسیر کی جاتی ہے، لیکن ان کے ذریعے قول کی تفسیر ہوتی ہے، جو چیز قول کے معنی میں ہے یعنی بات، بات، جو بات کہی گئی اس کی تفسیر کس کے ذریعے کی جاتی ہے؟ ان کے ذریعے جبکہ اے کے ذریعے کوئی بھی مبہم چیز ہو اس کی تفسیر کرتے ہیں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: قال زید، زید نے کہا۔ آپ حیران ہوئے کہ کون زید؟ آپ کا ایک ساتھی ہے، آپ کو اس کی کنیت کا پتہ ہے، ابو عمرو ہے اس کی کنیت۔ اسی نام سے وہ مشہور ہے، میں نے اصل نام ذکر کر دیا، تو اب آپ کو پتہ نہیں چلا کہ کون بھئی؟ کس کی آپ بات کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: قال زید، زید نے کہا۔ آپ کو پتہ نہیں چل رہا، میں آگے اس کی تفسیر کرتا ہوں: ای ابو عمر، یعنی ابو عمرو نے۔ کس نے کہا؟ ابو عمرو نے۔ اب آپ سمجھ گئے اچھا اچھا ابو عمرو کی بات آپ کر رہے ہیں۔ تو قال زید، زید میں کیا تھا آپ کے لیے؟ ابہام تھا، بات واضح نہیں تھی، اے نے آکر اس کی تفسیر کر دی۔ تو اے کے ذریعے کسی بھی چیز کی تفسیر کی جاتی ہے، لیکن ان اس کے ذریعے ایسی چیز کی تفسیر کی جائے جو قول ہو یا جو چیز قول کے معنی میں ہو بھئی۔ تو دیکھو! مثال آگے آ رہی ہے: كقولہ تعالی جیسے کہ اللہ تعالی کا قول ہے: نادینہو، ہم نے ان کو آواز دی: ان یا ابراہیم، یعنی اے ابراہیم! ہم نے ان کو آواز دی، یعنی اے ابراہیم! کس طرح آواز دی؟ تو آگے ان کے ساتھ تفسیر کردی، ہم نے ان کو ندا دی، ہم نے ان کو آواز دی اور ندا میں کوئی بات کہی جاتی ہے تو ندا کی آگے قرآن میں اللہ تفسیر فرماتے ہیں: ان یعنی کہ یا ابراہیم! ہم نے یہ کہا، ہم نے یہ، ہم نے ان کو ندا دی، یعنی یا ابراہیم! کہا بھئی۔ تو ان کے ذریعے بھی تفسیر آتی ہے، لیکن تفسیر کس کی؟ صرف جو قول ہو یا جو چیز قول کے معنی میں ہو بھئی۔ تو حروفِ تفسیر یہ دو ہیں: اے اور ان۔ چہارم حروفِ مصدریہ، چوتھی قسم جو ہے حروفِ غیر عاملہ کی وہ حروفِ مصدریہ ہیں۔ واں سہ است اور وہ تین ہیں: ما، ان، اور انّ۔ ما، ان، اور انّ۔ یہ تین حروفِ مصدر ہیں، یہ ما اور ان، یہ فعل پر داخل ہوتے ہیں اور اس کو مصدر کے معنی میں کر دیتے ہیں۔ اور فعل مضارع پر جب ان آئے تو اس کو نصب بھی دیتا ہے، کیا کرتا ہے؟ نصب بھی۔ اور انّ، انّ یہ وہی حرفِ مشبہ بالفعل ہے جو آپ پڑھ چکے ہیں کہ حروفِ مشبہ بالفعل اپنے اسم کو نصب دیتے ہیں اور اپنے خبر کو رفع دیتے ہیں۔ خبر کو رفع جیسے: ان زیداً قائم، یقیناً زید کھڑا ہے۔ تو یہ انّ جو ہے، جملے کو جملہ ہی رہتا رکھتا ہے اور اس میں صرف تاکید پیدا کر دیتا ہے، اس میں زور پیدا کر دیتا ہے، جبکہ انّہ جملے کو مفرد کے معنی میں کر دیتا ہے، انّہ وہ اس کو مصدر بنا دیتا ہے۔ تو حروفِ مصدر کتنے؟ تین: ما، ان، اور انّ۔ ما اور ان فعل پر داخل ہوکر اس کو مصدر کے معنی میں کر دیتے ہیں اور انّ یہ جملہ اسمیہ پر داخل ہوکر اس کو مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے۔ یہاں آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہوگا کہ یہ بات چل رہی ہے حروفِ غیر عاملہ کی جو عمل نہیں کرتے اور ان تو فعلِ مضارع کو نصب دیتا ہے اور انّ بھی عمل کرتا ہے، اپنے اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع دیتا ہے، تو بات تو چل رہی ہے حروفِ غیر عاملہ کی اور یہاں تو یہ حروف کیا کرتے ہیں؟ عمل کرتے ہیں باقاعدہ۔ تو جواب یہ تو جواب یہ کہ ان میں سے ما جو ہے وہ عمل نہیں کرتا، ان، ان فعلِ مضارع پر داخل ہو تو نصب دیتا ہے، فعلِ ماضی یا امر پر داخل ہو تو نصب نہیں دیتا۔ اسی طرح انّ اس کے ساتھ جب ما جڑ جائے ما کافہ تو پھر انّما یہ بھی عمل نہیں کرتا، تو چونکہ یہ بھی بعض صورتوں میں بالکل عمل نہیں کرتے، اس لیے ان کو کہاں پر ذکر کر دیا؟ حروفِ غیر عاملہ میں اور نیز اس لیے کیونکہ حروفِ مصدریہ شمار کروا رہے ہیں، تو بعض صورتوں میں بے شک یہ عمل کرتے ہیں لیکن یہ حروفِ مصدر ہیں، تو ساروں کو اکٹھا ذکر کر دیا، اگرچہ ان میں سے بعض، بعض صورتوں میں عمل کرتے ہیں۔ حروف مصدر یہ تین ہیں بھئی ماء، عن اور انہ۔ تو کہتے ہیں چہارم حروف مصدر یا چہار چوتھی قسم جو ہے حروف مصدر یہ ہیں و اسئست اور وہ تین ہیں ماء، عن اور انہ۔ ماء و عن در فعل دروند تا فعل بامعنی مصدر باشد ما اور ان جو ہے در فعل رووند وہ فعل میں داخل ہوتے ہیں یعنی فعل پر آتے ہیں تا فعل بامعنی مصدر باشد تاکہ فعل مصدر کے معنی میں ہو جائے۔ پنجم حروف تحضیض پانچویں قسم ہے حروف تحضیض۔ تحضیض کا معنی ہے ابھارنا، ابھارنا۔ کسی کو کسی کام پر ابھارنا تو کہتے ہیں پنجم حروف تحضیض و چہار است اور وہ چار ہیں اللہ، وحلا، ولو لا، ولو ما۔ جی یہ چار حروف تحضیض ہیں۔ تحضیض کا معنی ہے ابھارنا یہ کسی کو کسی کام پر ابھارنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ کسی سے کہتے ہیں ھلا تضرب زیداً؟ آپ زید کی پٹائی کیوں نہیں کرتے؟ یعنی آپ کو اس کی پٹائی کرنی چاہیے۔ ھلا تضرب زیداً؟ عبارت پر غور کر رہے ہیں بھئی؟ جی۔ ھلا تضرب زیداً؟ آپ زید کی پٹائی کیوں نہیں کرتے؟ دیکھا آپ ابھار رہے ہیں یعنی آپ کو اس کی پٹائی کرنی چاہیے۔ تو فعل مضارع پر جب داخل ہوں تو یہ فعل پر ابھارنے کا کام کرتے ہیں اس لیے ان کو حروف تحضیض کہتے ہیں تحضیض کا کیا معنی؟ ابھارنا۔ ابھارنا۔ اور اگر یہ فعل ماضی پر داخل ہوں تو ان کو حروف تندید کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ حروف تندید۔ انہی حروف کو اگر یہ فعل ماضی پر داخل ہوں تو پھر یہ حروف یعنی دوسرے کو شرمندہ کرنا، اس کو ملامت کرنا۔ ماضی پر جب داخل ہوں تو پھر یہ ملامت کرنے کا فائدہ دیں گے ابھارنے کا فائدہ نہیں۔ مثلاً ھلا ضربت زیداً؟ ضربت دیکھو فعل ماضی میں لے آیا۔ ھلا ضربت زیداً؟ تو نے زید کی پٹائی کیوں نہیں کی؟ آپ اس کو ملامت کر رہے ہیں، اس کو شرمندہ کر رہے ہیں تو اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جب ماضی پر داخل ہو حروف تندید کہتے ہیں۔ ندامت سے ہے ندامت سے حروف تندید بھئی۔ تو حروف تحضیض اگر مضارع پر داخل ہوں تو پھر کیا معنی ادا کرتے ہیں؟ ابھارنے کا۔ ابھارنے کا یعنی تحضیض کا اور ماضی پر داخل ہو تو ملامت کا ملامت کا فائدہ دیتے ہیں گویا آپ اس کو ملامت کر رہے ہیں۔ ھلا ضربت زیداً؟ تم نے زید کی پٹائی کیوں نہیں کی بھئی؟ معنی سمجھ میں آگیا۔ تو کہتے ہیں پنجم حروف تحضیض و چہار است اور وہ چار ہیں اللہ و حلا و لولا ولو ما۔ ششم حروف توقع۔ چھٹی قسم ہے حروف توقع۔ و ق است اور وہ قد ہے۔ صرف ایک حرف ہے قد اس کو حرف توقع کہتے ہیں۔ حرف توقع۔ یاد رکھو یہ جو قد ہے یہ جب ماضی پر داخل ہو تو تحقیق کا فائدہ دیتا ہے۔ مثلاً قد ضرب زیدٌ۔ ویسے میں کہتا ہوں ضرب زیدٌ زید نے پٹائی کی ہے۔ زید نے اسی پر میں قد لے آیا قد ضرب زیدٌ تحقیق زید نے پٹائی کی ہے یعنی یہ پکی بات ہے کہ زید نے پٹائی کی ہے۔ دیکھو اس نے تحقیق کی فائدہ دے دی کلام کو پکا کر دیا۔ اور نیز یہ ماضی کو ماضی کو یہ حال کے قریب کر دیتا ہے۔ ضرب زیدٌ کا معنی ہے زید نے پٹائی کی۔ ہو سکتا ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے کی ہو، ہو سکتا ہے ایک مہینہ پہلے کی ہو، اس ضرب زیدٌ نے صرف اتنا بتایا کہ زید نے پٹائی کی ہے کب کی ہے یہ تفصیل نہیں۔ اتنا بتایا کہ زمانہ ماضی میں کی ہے ہو سکتا ہے قریب کے زمانے میں ہو ہو سکتا ہے دور۔ لیکن جب اس پر قد داخل ہو جائے تو یہ ماضی کو حال کے قریب کر دیتا ہے تو قد ضرب زیدٌ کا معنی ہے زید نے پٹائی کی ہے یعنی زمانہ قریب میں۔ یا یوں کہو زید نے ابھی پٹائی کی ہے کچھ دیر پہلے ہی۔ زید نے قد ضرب زیدٌ زید نے پٹائی کی ہے۔ ضرب زیدٌ کا کیا ترجمہ تھا؟ زید نے پٹائی کی۔ ہے کا لفظ نہیں بولنا۔ ہے بولیں گے تو یہ قریب کی بات ہو گئی۔ یا یوں کہیں دیکھو یہاں دونوں احتمال زید نے پٹائی کی۔ ہو سکتا ہے قریب کے زمانے میں ہو۔ اگر قریب کے زمانے میں ہو تو آپ کہہ سکتے ہیں زید نے پٹائی کی ہے۔ یہ ہے کیا بتلا رہا ہے؟ قریب کا زمانہ اور اگر بعید ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں زید نے پٹائی کی تھی۔ دیکھا یہ تھی کا لفظ کیا بتائے گا؟ بعید کافی عرصہ گزر چکا ہے پہلے پٹائی کی تھی۔ تو آپ نہ تھا کو ساتھ جوڑیں اور نہ ہے کو ساتھ جوڑیں۔ ماضی مطلق رکھیں ماضی کو۔ ضرب زیدٌ زید نے پٹائی کی، لیکن پھر جب میں نے اس پر قد داخل کر دیا اس نے اس کو اس میں ایک تو تحقیق کا فائدہ دیا اور ایک اس کو حال کے قریب کر دیا یعنی ابھی قریب کی بات ہے تو قد ضرب زیدٌ اس کا ترجمہ کریں گے زید نے پٹائی کی ہے یا یوں کہیں زید نے ابھی پٹائی کی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی یعنی قریب کے زمانے میں۔ تو قد جب ماضی پر داخل ہو دو فائدے دیتا ہے ایک تحقیق کا اور ایک تقریب کا یعنی اس کو ماضی کو حال کے قریب کر دیتا ہے۔ پھر دہرائیں قد جب فعل ماضی پر داخل ہو تو کتنے فائدے دیتا ہے؟ دو۔ ایک تحقیق کا اور دوسرا حال کے قریب کرنے کا فائدہ دیتا ہے۔ جبکہ مضارع پر جب یہ قد داخل ہوتا ہے تو مضارع پر کبھی وہ تقلیل کا فائدہ دیتا ہے اور کبھی تحقیق کا۔ کبھی تقلیل کا یعنی کم کم ایک چیز کے کم ہونے کے بارے میں بتاتا ہے جیسے یضرب زیدٌ ترجمہ کریں۔ یضرب مضارع ہے۔ یضرب زیدٌ زید پٹائی کرتا ہے یا پٹائی کر رہا ہے یا پٹائی کرے گا جو بھی آپ ترجمہ کر لیں۔ یضرب زیدٌ زید پٹائی کرتا ہے۔ یضرب زیدٌ زید پٹائی کرتا ہے اس مضارع پر قد لے آئیں قد یضرب زیدٌ اب یہ تقلیل کا فائدہ دے گا۔ یعنی کبھی کبھار زید پٹائی کرتا ہے۔ یعنی ہمیشہ نہیں کرتا کبھی کبھار دیکھو کم ہونے کا معنی ادا کیا تقلیل پیدا تقلیل کر دی اس کے اندر بھئی۔ تو مضارع پر جب قد داخل ہو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تقلیل کا اور ترجمہ کیسے کریں گے؟ کبھی کبھار۔ قد یضرب زیدٌ کیا ترجمہ ہوگا؟ زید کبھی کبھار پٹائی کرتا ہے۔ یا قد یجیء زیدٌ ترجمہ کریں۔ کبھی کبھار زید آتا ہے۔ ہاں کبھی کبھار زید آتا ہے قد یجیء زیدٌ۔ تو مضارع پر قد داخل ہو تو وہ تقلیل کا فائدہ دیتا ہے اور کبھی تحقیق کبھی فائدہ دیتا ہے۔ قد یجیء زیدٌ تحقیق کے لیے ہو تو معنی ہوگا تحقیق زید آتا ہے۔ تحقیق زید آتا ہے۔ تو یہی قد مضارع پر داخل ہو کبھی تحقیق کا فائدہ دیتا ہے اور کبھی تقلیل کا فائدہ دیتا ہے۔ زیادہ تر یہ تقلیل کے لیے استعمال ہوتا ہے کبھی کبھی تحقیق کے لیے بھی آجاتا ہے مضارع میں۔ تو قد کا لفظ ماضی میں داخل ہو تو کیا فائدہ دیتا ہے؟ تحقیق کا اور تقریب الی الحال کا اور اگر مضارع پر داخل ہو تو تقلیل کا یا تحقیق کا فائدہ دیتا ہے۔ سوال پھر اس کو حرف توقع کیوں کہتے ہیں؟ توقع کا تو کیا معنی؟ امید، امید۔ نام تو اس کا حرف توقع ہے اور یہاں امید کی تو کوئی بات نہیں ہوئی۔ جواب یہ کہ یہ عموماً قد وہاں استعمال کرتے ہیں جہاں سننے والے کو ایک خبر کی امید ہو کیا ہو؟ ایک خبر کی امید ہو۔ مثلاً اس کو امید ہے کہ زید آئے گا۔ اس کو امید ہے زید آئے گا اب آپ اس کو کہتے ہیں قد یجیء زیدٌ۔ کبھی کبھار زید آتا ہے دیکھو اس کو امید تھی اس خبر کی۔ یا اس کو امید تھی کہ زید نے کیا کی ہوگی؟ پٹائی کی ہوگی اب آپ اس کو کہتے ہیں قد ضرب زیدٌ تحقیق زید نے پٹائی کی ہے۔ تو چونکہ جو سننے والا ہے اس کو اس خبر کی امید ہوتی ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ حرف توقع کہتے ہیں۔ توقع کا معنی ہے امید بھئی امید۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی۔ تو ششم حروف توقع چھٹی قسم جو ہے حروف غیر عاملہ کی وہ حروف توقع ہے وہ حرف توقع ہے و قد است اور وہ قد ہے۔ برائے تحقیق در ماضی یہ تحقیق کے لیے ہوتا ہے ماضی میں و برائے تقریب ماضی بحال اور ماضی کو حال کے قریب کرنے کے لیے و در مضارع برائے تقلیل اور مضارع میں یہ تقلیل کے لیے ہوتا ہے یعنی زیادہ تر کبھی کبھی مضارع میں بھی یہ تحقیق کے لیے آتا ہے۔ ہفتم حروف استفهام ساتویں قسم ہے حروف استفهام بھئی۔ و اس است اور وہ تین ہیں حروف استفهام ما، همزه و حل۔ ما ہے، همزه ہے اور حل ہے۔ مثلاً آپ عربی میں ہی کہتے ہیں ما اسم کا؟ ما اصل میں تھا ما اسم کا۔ ما اسم کا تو پھر یہ همزه وصل درمیان سے گر جاتا ہے اور الف بھی ما کا گر جائے گا تو مس کا آپ کا کیا نام ہے؟ تو یہ ما کس لیے آتا ہے؟ استفهام کے لیے۔ اسی طرح همزه بھی استفهام کے لیے آتا ہے۔ أزید قائم؟ أزید قائم؟ کیا زید کھڑا ہے؟ اور حل بھی استفهام کے لیے آتا ہے۔ هل زید قائم؟ کیا زید کھڑا ہے؟ تو یہ ما، همزه اور حل یہ تینوں کس لیے آتے ہیں؟ استفهام کے لیے یعنی سوال پوچھنے کے لیے۔ لیکن یہاں یہاں علماء فرماتے ہیں مصنف سے تسامح ہوا اور غفلت ہوئی کہ انہوں نے ما کو بھی ساتھ یہاں ذکر کر دیا۔ بات کس کی چل رہی ہے؟ حروف استفهام کی حروف استفهام صرف دو ہیں ایک همزه ہے اور ایک حل اور یہ جو ما کو ساتھ ذکر کیا یہ ما سوال پوچھنے کے لیے ضرور استعمال ہوتا ہے لیکن یہ حرف نہیں ہے یہ اسم ہے۔ یہ کیا ہے ما؟ اسم ہے اور بحث کس کی چل رہی ہے؟ حروف کی۔ تو یہاں بتوجہی میں ما کو بھی وہ ساتھ ذکر کر گئے بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں ہفتم حروف استفهام ساتویں قسم جو ہے حروف استفهام ہے و اس است اور وہ تین ہیں۔ تین نہیں ہیں بلکہ کتنے ہیں؟ دو ہیں۔ ماء یہ ما کیا ہے؟ اسم ہے۔ همزه و حل اور همزه اور حل یہ حروف استفهام ہیں۔ هشتم حروف رداع آٹھویں قسم ہے حروف رداع۔ ردعاً را دال عین ردعاً کا معنی ہے ڈاٹنا، ڈاٹنا۔ تو آٹھویں قسم ہے حروف رداع جو ڈاٹٹنے کے لیے آئے و اکل است اور وہ کلا ہے۔ کلا است بمانے بازگردانیدن۔ بازگردانیدن یعنی منع کرنا۔ کیا معنی ہے؟ منع کرنا۔ مثلاً کوئی شخص آپ سے کہتا ہے زید یبغضک۔ زید یبغضک زید آپ سے بغض رکھتا ہے یعنی دل میں آپ کے خلاف کینہ ہے، نفرت ہے، دشمنی ہے زید کے دل میں۔ تو اس نے کیا کہا؟ زید یبغضک زید آپ سے بغض رکھتا ہے۔ آپ کہتے ہیں کلا۔ یعنی ہرگز نہیں۔ ایسا نہیں ہے زید مجھ سے بغض نہیں رکھتا تو دیکھو اس نے جو بات کی تھی آپ نے جواب میں اس کو ڈانٹ دیا اور اس کی بات کو رد کر دیا تو بازگردانیدن کا معنی ہے رد کرنا، منع کرنا تو یہ حرف رداع ہے اس کا کیا معنی؟ یہ ڈانٹنے کے لیے آتا ہے۔ تو کہتے ہیں هشتم حروف رداع و اکل است اور وہ کلا ہے بمانے بازگردانیدن کہ اس کا کیا معنی ہے؟ منع کرنا۔ تو بمانے بازگردانیدن یعنی منع کرنا یہ یوں کہو رد کرنا کسی کو رد کرنا۔ و بمانے حقاً نیز آمد است۔ اور یہ جو کلا ہے یہ حقاً کے معنی میں بھی آیا ہے۔ حقاً کا کیا معنی؟ یقیناً، یقیناً بھئی، بے شک۔ و بمانے حقاً اور حقاً کے معنی میں و بمانے حقاً اور حقاً کے معنی میں نیز آمد است اس میں اس معنی میں بھی یہ آیا ہے۔ تو یہ کلا جو ہے حقاً کے معنی میں بھی آیا ہے۔ جہاں بھی آپ کو کلا آپ عبارت میں دیکھیں تو اس کا ہر جگہ حرف رداع نہ بنائیں بلکہ کبھی یہ حقاً کے معنی میں بھی آتا ہے۔ جیسے کلا سوف تعلمون۔ کلا سوف تعلمون تو یہاں کلا حقاً کے معنی میں ہے یعنی یوں کہو ان کے معنی میں ہے۔ کس معنی میں ہے؟ ان جیسے کلام میں تاکید پیدا کرتا ہے کہ بے شک ایسا ہی ہے۔ ان زیداً قائم کیا معنی؟ بے شک زید کھڑا ہے یا یقیناً زید کھڑا ہے اسی طرح یہ کلا بھی بے شک اور یقیناً کا معنی ادا کر رہا ہے۔ کلا سوف تعلمون۔ کلا سوف تعلمون۔ یقیناً عنقریب تم جان لو گے۔ تو کلا یہاں حقاً کے معنی میں ہے یعنی یقیناً کے معنی میں۔ یہ معنی ہے وبمعنی حقاً نیز آمد است اور یہ کلا جو ہے حقاً کے معنی میں بھی آیا ہے۔ چون کلا سوف تعلمون جیسے کلا سوف تعلمون یقیناً عنقریب تم جان لو گے۔ تو حقاً کا کیا معنی؟ یقیناً، یقیناً، بھئی بے شک۔ نہم تنوین۔ نویں قسم ہے حروف غیر عاملہ کی تنوین بھئی۔ وہاں پنج است تمکن چون زید وتنکیر چون ساہن ای اسكت سکوتاً ما فی وقت ما۔ نویں قسم آگے تنوین بھئی، تنوین۔ تنوین آپ کو میں نے بتلایا تھا تنوین نون ساکن کا نام ہے۔ زید دیکھو یہ آخر میں کیا پڑھ رہے ہیں آپ؟ تنوین۔ میں آپ کے سامنے دیکھو ایک لفظ لکھوں گا، آپ نے مجھے پڑھ کر بتلانا ہے۔ میں نے لکھا ز یا دال اور دال کے اوپر میں نے دو پیش ڈال دیے۔ اب اس کو پڑھو۔ زید۔ بھئی میں نے تو ز یا دال لکھی ہے، یہ نون آپ کیوں پڑھ رہے ہیں؟ تو آپ کہیں گے کہ یہ تنوین ہے جو آپ نے دو پیش اوپر لکھے۔ تو تنوین نون ساکن کا نام ہے۔ نون ساکن کا اور یہ کلمے کی آخری حرکت کے تابع ہوتا ہے۔ آخر میں کلمے کی اگر پیش ہے تو تو یہ پیش کے بعد آئے گا۔ اگر آخر میں زبر ہے تو یہ زبر کے بعد آئے گا۔ اگر آخر میں زیر ہے تو یہ زیر کے بعد آئے گا۔ جیسے زید، زیداً، زیداً دیکھو حرکت کے بعد اس کے تابع ہے۔ تو تنوین کس کا نام ہے؟ نون ساکن کا نام ہے اور جو کلمے کی آخری حرکت کے تابع ہوتا ہے۔ اور یاد رکھو یہ تنوین، یہ پانچ قسم پر ہے بھئی تنوین۔ پانچ قسم، اب وہ بیان کرنے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں نہم تنوین نویں قسم تنوین ہے۔ وہاں پنج است اور وہ تنوین پانچ ہیں یعنی پانچ قسم کی ہیں۔ تمکن۔ ایک قسم تنوین تمکن ہے۔ چون زیداً جیسے زید۔ تنوین تمکن بھئی نام سے ہی پتہ چل رہا ہے۔ تنوین تمکن وہ ہے جو اسم متمکن پر آتی ہے۔ کس پر؟ آپ نے پڑھا تھا بھئی۔ جہاں وہ 16 قسمیں اعراب کی انہوں نے ذکر کی تھیں، اس سے پہلے انہوں نے مبنی کو بیان کیا تھا۔ وہاں بتایا تھا ایک ہے اسم متمکن، ایک ہے اسم غیر متمکن۔ اس میں متمکن وہ اسم ہے جو اعراب کو جگہ دینے پر قادر ہے اور اس میں غیر متمکن وہ ہے جو اعراب کو جگہ دینے پر قادر نہیں۔ اور غیر متمکن وہ مبنیات ہیں بھئی۔ م مبنیات کل کتنے ہیں؟ آٹھ۔ وہ غیر متمکن ہیں اور معرب کیا ہے؟ متمکن ہے بھئی۔ یعنی وہ اعراب کو جگہ دینے پر قادر ہے۔ تو یہ جو تنوین تمکن ہے نا یہ اس میں متمکن پر آتی ہے۔ یعنی غیر متمکن یعنی مبنی پر نہیں۔ اور یہ تنوین تمکن یاد رکھو یہ منسرف کو غیر منسرف سے جدا کرتی ہے۔ منسرف پر تنوین آتی ہے، غیر منسرف پر تنوین نہیں آتی۔ تو اس تنوین تمکن کا دوسرا نام تنوین صرف بھی ہے۔ صاد رافہ، تنوین صرف۔ تنوین صرف یعنی یہ جس لفظ پر آجائے، یہ بتلاتی ہے کہ یہ منسرف ہے۔ مثلاً زیداً، تنوین آگئی اس پر معلوم ہوا یہ منسرف ہے۔ اور عمر اس پر تنوین نہیں آئی معلوم ہوا یہ غیر منسرف ہے۔ تو یہ تنوین تمکن جو ہے یہ منسرف کو الگ کر دیتی ہے کس سے؟ غیر منسرف سے، تو یہ صرف منسرف پر آتی ہے۔ اور اسی کا دوسرا نام تنوین صرف بھی ہے۔ تو کہتے ہیں تمکن، پہلی قسم تمکن ہے چون زیداً جیسے زید۔ وتنکیر اور ایک قسم ہے تنوین تنکیر بھئی۔ تنوین تنکیر یاد رکھو جو نکرہ پر آتی ہے۔ کس پر؟ نکرہ پر آتی ہے۔ مثلاً کوئی مثال دیں؟ تنوین جو نکرہ پر آئے۔ ہاں، ہاں آپ کے ذہن میں فوراّ آئے گا رجل۔ نہیں بھئی! رجل پر جو تنوین آ رہی ہے، وہ تنوین تمکن ہے۔ وہ بتلا رہی ہے کہ یہ لفظ کیا ہے؟ یہ لفظ منسرف ہے، غیر منسرف نہیں ہے۔ چنانچہ آپ کسی کا نام بھی رکھ دیں رجل۔ تو جب اس کا نام رجل رکھیں گے تو پھر بھی یہ تنوین آپ کو پڑھنا پڑے گی۔ ا جاءنی رجل۔ اس آدمی کا نام ہی کیا ہے؟ رجل۔ تو جاءنی رجل، رایت رجلاً، مررت برجل۔ اب تو نام بن گیا، اب تو معرفہ بن گیا، اب تو تنوین نہیں آنی چاہیے تھی، اگر یہ تنکیر والی تنوین ہوتی تو نام بننے کے بعد نہیں آنی چاہیے تھی، لیکن یہ پھر بھی آ رہی ہے۔ تو معلوم ہوا یہ تنوین تنکیر نہیں۔ تنوین تنکیر یعنی نکرہ میں جو آتی ہے۔ نکرہ بنانے والی، وہ صرف اسم فعل میں آتی ہے۔ کس میں؟ اسم فعل۔ آپ نے پڑھا تھا کچھ اسم ہیں جو فعل والا معنی ادا کرتے ہیں، ان کو اسمائے افعال کہتے ہیں۔ مبنیات میں یاد آیا بھئی؟ مبنیات میں آپ نے پڑھا تھا۔ تو یہ جو اسم فعل ہیں، بعض پر تنوین آتی ہے، بعض پر تنوین نہیں آتی۔ ایک ہی لفظ کبھی تنوین کے ساتھ آتا ہے اور کبھی بغیر تنوین کے۔ تو یہ جو تنوین کے ساتھ آئے، معلوم ہوا یہ نکرہ ہے اور جو بغیر تنوین کے آئے وہ معرفہ۔ مثلاً عربی میں دوسرے کو خاموش کروانے کے لیے کہتے ہیں ص۔ صاد اور ہا ہے، صہ۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ صہ۔ اور اسی کو تنوین کے ساتھ بھی بولتے ہیں، سہن۔ تو ہا کو کبھی ساکن پڑھتے ہیں اور کبھی ہا کے نیچے تنوین۔ صہ اور ایک سہن۔ یہ جو سہن تنوین کے ساتھ آیا، یہ تنوین بتلا رہی ہے کہ یہ نکرہ ہے۔ اور صہ جو بغیر تنوین کے ہے، وہ بتلا رہا ہے کہ یہ معرفہ ہے۔ تو یہ تنوین کس لیے آتی ہے؟ تنکیر کے لیے، نکرہ بنانے کے لیے۔ اور معنی؟ معنی سے ہی آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔ نکرہ کس کو کہتے ہیں؟ مثلاً میں نے کہا رجل، رجل نکرہ ہے۔ تنوین کی بات نہیں کر رہا، لفظ رجل کی بات کر رہا ہوں۔ لفظ رجل کیا ہے؟ نکرہ ہے اور الرجل یہ کیا ہے؟ معرفہ ہے۔ تو رجل کا کیا معنی؟ کوئی آدمی، کوئی مرد اور الرجل کا کیا معنی؟ وہ آدمی، کوئی معین آدمی مراد ہے۔ تو رجل کا معنی؟ کوئی آدمی تو یہاں پر بھی دیکھنا، سہن۔ یہ نکرہ ہے یا معرفہ؟ یہ نکرہ ہے۔ یہ نکرہ ہے، تو نکرہ والا ترجمہ کرو۔ صہ کس لیے آتا ہے؟ دوسرے کو خاموش کروانے کے لیے کہ چپ ہو جاؤ، خاموش ہو جاؤ۔ تو سہن، سہن کا ترجمہ ہوگا کبھی تو خاموش ہو جایا کرو۔ یا کبھی تو خاموش ہو جاؤ۔ سہن کبھی تو خاموش ہو جاؤ۔ یعنی کسی وقت تو خاموش ہو جاؤ۔ دیکھو! اس میں وقت کی تعیین نہیں ہے، کسی وقت تو کیا ہو جاؤ؟ خاموش۔ دیکھو اور نکرہ کا بھی معنی ہوتا ہے رجل کیا ترجمہ تھا؟ کوئی آدمی تو یہاں بھی سہن۔ کبھی تو خاموش ہو جاؤ، یعنی کسی وقت تو خاموش ہو جاؤ اور ایک ہے بغیر تنوین کے صہ۔ صہ اس کا معنی ہے خاموش ابھی خاموش ہو جاؤ۔ صہ ابھی خاموش ہو جاؤ۔ دیکھا، متعین اسی وقت میں کیا ہو جاؤ؟ خاموش ہو جاؤ۔ تو سہن۔ کیا معنی؟ کسی وقت خاموش ہو جاؤ اور صہ کا کیا معنی؟ ابھی خاموش ہو جاؤ۔ ابھی خاموش ہو جاؤ یعنی تو یہ دیکھو! متعین ابھی ابھی خاموش ہو جاؤ۔ تو یہ معرفہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی! کہتے ہیں وتنکیر اور دوسری قسم ہے تنوین کی تنوین تنکیر، چون سہن جیسے سہن۔ ای اسكت تو خاموش ہو جا، سکوتاً خاموش ہونا سکوتاً ما کوئی خاموش ہونا فی وقت ما کسی وقت میں۔ تو خاموش ہو جا، کسی بھی وقت میں خاموش ہونا۔ یہ تو لفظوں کا ترجمہ میں کر رہا ہوں، پھر سنو! اسكت تو خاموش ہو جا، سکوتاً یہ مفعول مطلق ہے۔ مفعول مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو تو سکوتاً مصدر ہے اور ماقبل اسكت کے معنی میں ہے۔ اسكت سکوتاً ما، اسكت تو خاموش ہو جا، سکوتاً ما کوئی خاموش ہونا، فی وقت ما کسی بھی وقت میں۔ یعنی تو کسی بھی وقت میں خاموش ہو جا، تو با محاورہ ترجمہ میں نے کیا؟ کبھی تو خاموش ہو جاؤ۔ یا کسی وقت تو خاموش ہو جاؤ۔ معنی سمجھ میں آیا؟ جی۔ اما صہ بغیر تنوین، باقی صہ جو بغیر تنوین کے ہے، فمعناه تو اس کا معنی ہے اسکت السکوت الان۔ کہ تو ابھی خاموش ہو جا۔ اسكت تو خاموش ہو جا، السکوت یہ مفعول مطلق ہے۔ الان۔ ابھی، تو ابھی خاموش ہو جا۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ یعنی ابھی فوراّ چپ کر جاؤ۔ وعوض تیسری قسم ہے تنوین کی تنوین عوض۔ تنوین عوض چون یومئذ جیسے یومئذ۔ تنوین عوض اس کو کہتے ہیں جو کسی دوسرے لفظ کے بدلے میں آئے، اس کے عوض میں آئے، جیسے یومئذ۔ یومئذ یہ اصل میں تھا یوم اذ کانا قضا۔ یوم اذ کانا قضا۔ اذ کے بعد کانا قضا جملہ تھا۔ اس کانا قضا جملے کو ختم کیا اور اس کے بدلے میں اذ کے نیچے تنوین آ گئی، اذین، یوم اذین۔ تو یہ تنوین کون سی ہے؟ تنوین عوض ہے جو جملے کے عوض میں آئی ہے۔ اسی طرح یاد رکھو کل، کل پر بھی کل اور بازو، یہ ہمیشہ مضاف الیہ چاہتے ہیں۔ کل کا معنی سارا اور بازو کا معنی بعض۔ بھئی! کس چیز کا سارا؟ کس چیز کا بعض؟ آگے مضاف الیہ چاہیے۔ مثلاً کل الطلبتہ سارے کے سارے طلبہ۔ دیکھا، ہمیشہ کیا چاہیے؟ کل کا معنی سارا، بھئی! کیا چیز ساری؟ آگے مضاف الیہ چاہیے، سارے طالب علم مراد ہیں یا ساری کتابیں مراد ہیں یا سارے قلم مراد ہیں تو آگے مضاف الیہ چاہیے۔ کل الطلبتہ۔ دیکھا، مضاف الیہ آگیا۔ لیکن کبھی کبھار کل اور بازو میں یوں کرتے ہیں کہ مضاف الیہ کو حذف کرتے ہیں اور اس کے عوض ان پر تنوین آ جاتی ہے۔ کل، یا بازو، جب بھی کل اور بازو پر تنوین آ جائے، آپ سمجھ جائیں یہ تنوین عوض ہے۔ یہ تنوین عوض ہے۔ اور یہ مضاف الیہ کے بدلے میں آئی ہے اور کل اصل میں تھا کل واحد۔ کل واحد تو یہ واحد کو ختم کیا اور اس کی جگہ کل پر تنوین آ گئی۔ تو یومئذ اس پر جو تنوین آئی کون سی ہے؟ تنوین عوض جو جملے کے بدلے آئی ہے کانا قضا کی جگہ آئی ہے اور کل اس پر جو تنوین آئی یا بازو اس پر جو تنوین آئے وہ بھی تنوین عوض ہے، مضاف الیہ کے عوض میں آتی ہے۔ ومقابلہ اور ایک ہے تنوین مقابلہ بھئی، چوتھی قسم۔ چون مسلمات یا مسلمات۔ تنوین مقابلہ وہ ہے یاد رکھو، جو جمع مؤنث سالم پر آئے۔ کس پر آئے؟ جمع مؤنث سالم پر آئے۔ مسلمات، مسلمات۔ اس یہ جو تنوین ہے، یہ تنوین مقابلہ ہے۔ بھئی کیا معنی تنوین مقابلہ؟ معنی یہ ہے کہ مسلمون ایک ہے جمع مذکر سالم، مسلمون اور ایک ہے جمع مؤنث سالم، مسلمات۔ تو مسلمون کے آخر میں نون آ رہا تھا اور یہ نون جمع والا ہے، کون سا ہے؟ نون جمع والا ہے۔ تو اس نون کے عوض میں یا یوں اس نون کے مقابلے میں ادھر مسلمات کو بھی تنوین دے دی۔ مسلمون میں یہ واؤ جو ہے یہ جمع اور مذکر کی علامت ہے، مسلمات میں یہ جو الف ہے یہ جمع کی علامت اور تا جو ہے تانیث کی علامت۔ پھر مسلمون میں ایک نون آیا تھا، نون زائد تھا اور ادھر مسلمات میں کوئی ایسی چیز نہیں۔ تم اس کے مقابلے میں چونکہ وہ جمع مذکر سالم ہے اور یہ جمع مؤنث سالم ہے تو اس کے مقابلے میں اس کے یعنی بدلے میں جیسے وہاں پر کیا تھا؟ نون تھا۔ نون تھا۔ یہاں کیا دے دی؟ تنوین دے دی کیونکہ تنوین بھی کس کا نام ہے؟ نون ساکن۔ تو علماء نحو فرماتے ہیں کہ مسلمات پر جو یہ تنوین آتی ہے، یہ تنوین کون سی ہے؟ تنوین مقابلہ ہے۔ یہ کس کے مقابلے میں دی گئی؟ مسلمون میں جو نون تھا، اس کے مقابلے میں یہاں پر بھی یہ نون تنوین والا دے دیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ نون مقابلہ ہے۔ وترنم اور آخری قسم ہے تنوین ترنم کہ در آخر ابیات باشد جو اشعار کے آخر میں آتی ہے۔ تنوین ترنم یاد رکھو، ابھی تک جو تنوین کی چار قسمیں آپ نے پڑھی، ایک تنوین تمکن، ایک تنوین تنکیر اور دوسرا اور ایک تنوین عوض اور ایک تنوین مقابلہ۔ یہ چاروں قسمیں تنوین کی یہ صرف اسم میں آتی ہیں۔ یہ جتنی مثالیں ابھی تک ہم نے کیں، یہ سب کس کی تھیں؟ اسم میں یہ تنوین آ رہی تھیں۔ لیکن اگلی قسم ہے تنوین ترنم۔ تنوین ترنم وہ ہے جو اشعار کا وزن درست کرنے کے لیے لائی جاتی ہے۔ اشعار میں ترنم پیدا کرنے کے لیے لائی جاتی ہے۔ اور یہ اسم کے آخر میں بھی جڑتی ہے، فعل کے آخر میں بھی جڑتی ہے اور حرف کے آخر میں بھی جڑتی ہے۔ دیکھو جب نون آخر میں آتا ہے تو تو نون نون کی وجہ سے غنہ کیا جاتا ہے۔ غنہ کی وجہ سے آواز ناک میں جاتی ہے۔ تو جو اشعار پڑھنے والے ہوتے ہیں یہ آخر میں یا شاعر ہوتے ہیں آخر میں یہ نون ساکن لے آتے ہیں۔ اس نون ساکن کی وجہ سے غنہ ہوگا، آواز کو انسان لمبا کر سکتا ہے، جیسے گنگناتے ہوئے انسان کیا کرتا ہے؟ آواز کو لمبا کرتا ہے تو غنہ کی وجہ سے آواز ناک میں جائے گی اور اس کو لمبا کرے گا اور اس میں شعر میں ترنم پیدا ہوگا۔ کیا ہوگا؟ ترنم پیدا ہوگا آواز جتنی لمبی ہوگی اسی طرح اس کو اس کو پڑھنے اور سننے کا لطف آئے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تنوین ترنم اور یہ اسم کے ساتھ خاص نہیں۔ یہ فعل میں بھی آ سکتی ہے اور حرف میں بھی آ سکتی ہے۔ تو یہ شعر کا وزن درست کرنے کے لیے لائی جاتی ہے، شعر میں ترنم پیدا کرنے کے لیے بھئی۔ یاد رکھو اشعار کا اپنا خاص وزن ہوتا ہے۔ ایک حرف بھی ادھر ادھر ہو جائے تو پورے شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں وترنم اور پانچویں قسم تنوین ترنم ہے کہ در آخر ابیات باشد جو اشعار کے آخر میں ہوتی ہے۔ ابیات جمع ہے بیت کی اور بیت شعر کو کہتے ہیں بھئی شعر، فارسی میں شعر کو کہتے ہیں کہ در آخر ابیات باشد جو اشعار کے آخر میں ہوتی ہے اور اس کی مثال بھی ذکر کر رہے ہیں شعر: اقلل لومة عاذل والعتابن وقولي إن أصبت لقد أصابا دیکھو اقلل لومة عاذل والعتابن یہ والعتابن کے آخر میں جو نون ہے، یہ ہے تنوین ترنم بھئی۔ تنوین کس کا نام ہے؟ نون ساکن کا نام ہے نا تو یہ والعتابن کے آخر میں جو نون بڑھایا گیا، یہ صرف ترنم کے لیے بڑھایا گیا ہے۔ اصل لفظ ہے العتاب عتاب کا معنی کیا ہے؟ ناراضگی اور غصہ۔ تو عتابن اس کے آخر میں تنوین ترنم ہے بھئی اور یہ آپ غور کریں کہ العتابن اس پر الف لام داخل ہے اور جس لفظ پر الف لام آ جائے اس پر تنوین نہیں آتی لیکن یہ جو تنوین ترنم ہے یہ ہر لفظ پر آجاتی ہے چاہے وہ اسم ہو، چاہے فعل ہو، چاہے حرف ہو چاہے اسم پر الف لام ہی کیوں نہ داخل ہو، یہ تنوین آجاتی ہے کیونکہ یہ صرف کس لیے آتی ہے؟ ترنم کے لیے آتی ہے بھئی۔ تو یہ العتاب پر تو عام حالات میں تنوین نہیں آ سکتی کیونکہ الف لام ہے اس پر لیکن یہاں تنوین آگئی یہ تنوین ترنم ہے۔ وقولی إن أصبت لقد أصابا یہ أصابا أصاب فعل ہے، أصاب يصيب اور یہ أصابن کے آخر میں تنوین آگئی، یہ جو نون ہے، یہ تنوین ترنم ہے بھئی۔ تنوین ترنم اور دیکھو یہ فعل کے آخر میں آگئی تنوین ترنم، حالانکہ تنوین تو ویسے کس میں آتی ہے صرف اسم میں لیکن میں نے بتایا یہ تنوین ترنم اسم میں بھی آتی ہے، فعل میں بھی اور حرف میں بھی۔ تو یہ دو دونوں جگہ تنوین ترنم ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ العتابن یہ نون کیا ہے؟ تنوین ترنم اور لقد أصابن یہ بھی کیا ہے؟ تنوین ترنم جو فعل کے آخر میں آ رہی ہے۔ اب شعر کا ترجمہ بھی سمجھ لیں۔ اقلل لومة اقلل لی امر کا صیغہ ہے، واحد مؤنث حاضر کا۔ آپ نے کیا پڑھا ہے گردانوں میں؟ امد يمد امد يمد اس سے امر کیا ہے؟ امد امد امڈی امدد تو امد گردان کریں؟ امد امد امدو امڈی دیکھا امڈی اسی وزن پر ہے اقللی واحد مؤنث کا صیغہ ہے۔ اقللی یہ شاعر اپنی معشوقہ سے کہہ رہا ہے اقللی کہ تو تھوڑا کم کر دے اللومة ملامت کو۔ شاعر کی معشوقہ ہے کہتی ہے میری معشوقہ مجھے ہر چیز میں کہتی ہے یہ تم غلط ہو، تم غلط ہو، جو بھی کام کروں کہتی ہے تم نے غلط کام کیا ہے۔ چاہے میں درست بھی کروں پھر بھی کہتی ہے غلط کیا ہے۔ تو کہتا ہے اقلل لومة کہ تو ملام اللوم کا معنی ملامت کہ تو ملامت کو تھوڑا کم کر دے عاذلة یہ اصل میں تھا یا عاذلة يا عاذلة عاذلۃ کا معنی ہے ملامت کرنے والی عاذلت کا معنی ہے ملامت کرنے والی یا تو اس کا نام ہے عاذلت یا عاذلت کا معنی کے اعتبار سے کہ تو ملامت کرنے والی ہے تو اس کا کیا کہہ دیا؟ عاذلت۔ تو یا عاذلت پھر یا کو کیا کر لیا جاتا ہے؟ کبھی حذف کر لیتے ہیں حرف ندا کو اور جو منادی ہوتا ہے اس کے آخر میں بھی ایک ادھ حرف کبھی حذف کر لیتے ہیں۔ تو اصل میں کیا تھا؟ یا عاذلت پھر یا کو شروع سے ختم کر دیا تخفیف کے طور پر شعر کی وجہ سے کہ شعر میں یہ یا صحیح جڑتا نہیں تھا اور عاذلت آخر سے گول تا بھی ختم کر دی تو کیا رہ گیا؟ عاذلا تو یا تو عاذلا اصل میں کیا تھا؟ یا عاذلت اے ملامت کرنے والی! اے ملامت کرنے والی! جبکہ یہاں پر انہوں نے لکھا ہے کہ یہ اس کا اس کا نام ہے، اس کی معشوقہ کا نام ہے تو بہرحال نام بھی ہو تو یا عاذلت تھا اور اگر ویسے ملامت کرنے والی کے معنی میں ہو تو بھی کیا تھا یا عاذلت یہ منادی ہے بھئی۔ اقلل لومة تو ملامت کو کم کر دے عاذلا أي يا عاذلت اے ملامت کرنے والی! والعتابن اور عتاب یعنی غصے اور ناراضگی کو بھی کم کر دے۔ وقولی اور تو کہہ قال سے امر کیا آتا ہے؟ قل گردان کریں قل کی؟ قل قلا قولو قولی دیکھا واحد مؤنث کا صیغہ ہے امر کا وقولی اور تو کہہ إن أصبت اگر میں صحیح کام کروں لقد أصابا کہ اس نے صحیح کام کیا ہے۔ اگر میں کوئی صحیح کام کر لوں تو کہہ دیا کر کہ اس نے صحیح کام کیا ہے، ملامت تھوڑی کم کر دے، ہر چیز میں ملامت، ہر چیز میں غصہ، ہر چیز میں کہتی ہے کہ اس نے غلط کام کیا ہے تو اگر میں کبھی صحیح کام کر لیا کروں تو اس کو صحیح کہہ دیا کر۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ پھر دیکھ لیں: اقلل لومة عاذل والعتابن وقولي إن أصبت لقد أصابا اقلل لومة کہ تو ملامت کو تھوڑا کم کر دے عاذلا أي يا عاذلت اے ملامت کرنے والی! والعتابن اور غصے کو تھوڑا کم کر دے، اپنے غصے اور عتاب ناراضگی کو وقولي اور تو کہہ إن أصبت اگر میں صحیح کام کروں لقد أصابا کہ تحقیق اس نے صحیح کام کیا ہے۔ تو بہرحال یہاں وہ تنوین ترنم کی مثال کے طور پر یہ شعر ذکر کیا۔ وتنوین ترنم در اسم و فعل و حرف روڈ اور تنوین ترنم جو ہے در اسم و فعل و حرف روڈ اسم، فعل اور حرف میں آتی ہے۔ ان سب پر تنوین ترنم آتی ہے۔ اما چہار أولیں خاص است به اسم اور باقی پہلی چار تنوین کی قسمیں جو ہیں خاص است به اسم وہ خاص ہیں اسم کے ساتھ۔ اما چہار أولیں پہلے چار جو ہیں تنوین کی قسمیں خاص است به اسم وہ خاص ہیں کس کے ساتھ؟ اسم کے ساتھ۔ حاصل کلام بھئی۔ صرف یہ تنوین کے حاصل کلام سن لیں کہ تنوین جو ہے وہ نون ساکن کا نام ہے جو کلیمے کے آخر میں آتا ہے اور اس کی حرکت کے تابع ہوتا ہے اور یہ کتنے قسم پر ہے؟ پانچ قسم پر۔ ایک تنوین تمکن ہے اور یہ منصرہ اور غیر منصرہ میں فرق کرنے کے لیے آتی ہے، صرف منصرہ پر آتی ہے اور اس کا دوسرا نام تنوین صرف ہے۔ دوسری قسم تنوین تنکیر ہے جو نکرہ پر آتی ہے، معرفہ پر نہیں اور یہ صرف اسم فعل کے اندر آتی ہے۔ اور تیسری قسم تنوین عوض ہے جو مضاف الیہ کے عوض میں آتی ہے اور جیسے يومئذ یہ اصل میں کیا تھا؟ يوم إذ كذا، كذا کاذا کو حذف کیا اور اس کے عوض میں إذ پر تنوین آگئی يومئذ مضاف الیہ کے عوض۔ اسی طرح میں نے بتایا کلو پر کبھی تنوین آپ عبارت میں دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ یہ تنوین عوض ہے مضاف الیہ سے۔ كل تو کل کس معنی میں ہوتا ہے؟ كل واحد تو كل واحد واحد کو حذف کیا اور کلو کو تنوین دے دی تو کل ہو گیا۔ اور چوتھی قسم ہے تنوین مقابلہ اور تنوین مقابلہ وہ ہے جو جمع مؤنث سالم میں آئے اور یہ جمع مذکر سالم کے آخر میں جو نون آیا تھا اس کے مقابلے میں یہ تنوین اس کو دی گئی ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تنوین مقابلہ اور پانچویں قسم تنوین ترنم ہے اور وہ تنوین ترنم اشعار میں آتی ہے اور یہ ترنم کے لیے تاکہ شعر اس میں غنہ ہوگا، ناک میں آواز جائے گی اور اس کو انسان لمبا کرتا ہے۔ قراءت میں بھی کیا کرتے ہیں غنہ کو ذرا لمبا کرتے ہیں تو یہاں پر بھی جب آواز کو ذرا لمبا کریں گے تو آواز میں آواز جو ہے پرلطف یوں کہیں کہ آواز میں ترنم پیدا ہوگا اور خوشگوار معلوم ہوگی۔ تو یہ تنوین ترنم ہے۔ تو تنوین کی باقی قسمیں تو اسم کے ساتھ خاص لیکن یہ جو تنوین ترنم ہے یہ اسم میں بھی آ سکتی ہے، فعل میں بھی اور حرف میں بھی جیسے شعر کے اندر ایک اسم تھا اس پر الف لام تھا لیکن پھر بھی تنوین ترنم اس کے ساتھ آ کر جڑ گئی اور فعل تھا أصاب لیکن اس کے ساتھ بھی تنوین ترنم جڑ گئی بھئی۔ تو یہ تنوین ترنم اسم کے ساتھ بھی جڑتی ہے، فعل کے ساتھ بھی اور حرف کے ساتھ بھی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔ طلبہ عموماً نحو میں بڑی محنت کرتے ہیں۔ جہاں کہیں صرف نحوی دارا ہوتا ہے وہاں چلے جاتے ہیں کئی کئی دفعہ کرتے ہیں پھر بھی نحو حل نہیں ہوتی۔ وجہ یہ ہے کہ نحو بھئی نحو بعد میں ہے پہلے اپنی صرف ٹھیک کرو۔ صرف ٹھیک نہیں کرو گے تو نحو میں جتنا مرضی زور لگا لیں آپ اس میں فائدہ زیادہ نہیں ہوگا تھوڑا ہی ہوگا۔ اور یہاں صرف کا بہترین طریقہ ہے والد صاحب رحمہ اللہ کا یہ یوں سمجھو کرامت جیسا اس کا اثر ہے یہ جیسے نورانی قاعدہ ہوتا ہے نا نورانی یہ ابواب صرف دیکھیے آپ سب نے یہ نورانی قاعدہ ہے صرف کا لیکن ایسا کمال کا نورانی قاعدہ ہے یہ یاد کر لو انشاءاللہ بخاری بھی آپ خود پڑھیں گے انشاءاللہ تو اس کو بالکل قل ہو اللہ کی طرح یاد کر لو قل ہو اللہ کی طرح۔ پھر اس کے بعد آپ دیکھیں گے نحو تو کوئی چیز ہی نہیں نحو تو بڑی آسان ہے۔ اب یہ رابعہ والے انہوں نے یہ صرف پڑھی ہوئی ہے۔ نحو ان کو کچھ نہیں آتی تھی ابھی ابھی جامع ہم نے شروع کی جو نحو کی پی ایچ ڈی ہے پی ایچ ڈی ایک آدمی کو آپ پرائمری سے اٹھائیں اور پی ایچ ڈی میں لے جائیں وہ کچھ کر سکے گا؟ اس کو کچھ سمجھ ہی نہیں آئے گا لیکن ان کو ساری جامع سمجھ میں آ رہی ہے کیوں سمجھ میں آ رہی ہے؟ ان کی صرف کی بنیاد بہترین بنی ہوئی ہے۔ صرف اچھی ہے اب نحو میں نے ایک دو ہفتے ان کو ترکیب کروائی ہے ماہر ہو گئے اب یہ آرام سے سمجھتے جا رہے ہیں۔ ایک ایک بات ان کو سمجھ میں آ رہی ہے حالانکہ جامع کہاں سمجھ میں آتی ہے طلبہ کو؟ تو اصل چیز صرف ہے یہ یاد رکھنا ٹھیک ہے یہ جو صرف ہے اس کو یاد کر لو جو بڑے درجوں والے طلبہ ہیں اولی والے تو کر رہے ہیں بڑوں درجے والے ہیں ابھی دو تین مہینے ہیں اس میں خوب ازبر کر لیں نہیں تو رمضان کی چھٹیاں آئیں گی اس میں خوب ازبر کر لو اس صرف کو۔ انشاءاللہ آپ دیکھیں گے نحو خود بخود آپ تھوڑی سی محنت سے پھر نحو حل ہو جائے گی۔ صرف نہیں آئے گی تو صیغے کا ہی نہیں پتہ چلے گا یہ مکرم ہے، مکرم ہے، مکرم ہے کیا لفظ ہے؟ لفظ صرف نحو تو صرف آپ کو یہ بتائے گی مکرم پیش پڑھنی ہے یا مکرم زبر پڑھنی ہے یا مکرم صرف آخری میم پر کیا پڑھنا ہے وہ بتائے گی نحو بھئی۔ اور صرف تو آپ کو پورا صیغے کی شکل بتائے گی کہ مکرم پڑھنا ہے، مکرم پڑھنا ہے، مکرم پڑھنا ہے، مکرم پڑھنا ہے کیا پڑھنا ہے بھئی تو جب صیغے کا ہی نہیں پتہ آپ کو نحو آ بھی جائے تو کیا فائدہ ہوگا؟ تو نحو آ ہی نہیں سکتی اس کے بغیر تو پہلے صرف ہے تو یہ بالکل اسی باب ہیں مختصر سے ان کو زبردست یاد کر لو اور پھر خود ہی نہ کرو آگے جاؤ چھٹیوں میں جا کے کسی کو تیار کرو۔ جس طالب علم کو آپ یہ یاد کروا دیں گے اس کی زندگی بن جائے گی۔ وہ آگے چل پڑے گا دور حدیث تک بہترین چلے گا اور جس کی صرف نہیں اچھی ہوتی وہ بیچارہ بس سب کو میں بیٹھتا رہتا ہے بیٹھتے بیٹھتے دورہ کر کے دورہ کے سال میں بھی اس کو عبارت پڑھنی نہیں آتی۔ تو ابھی سال ہیں ابھی کر لو بڑے درجوں والوں کے لیے تو اور اسان ہے وہ تو ایک دفعہ ان چیزوں سے گزر چکے ہیں وہ تو دو تین مہینے میں آرام سے کر لیں گے تو بہترین ان کی تمام سب بنیاد ٹھیک ہو جائے گی۔