دیکھیے بھئی کتاب پر چہارم عطف بحرف وہ تابع ہے کہ مقصود باشہد بنسبت با مطبوعش بعد از حرف عطف جوں جاءنی زید و عمرون۔ وحروف عطف دہ است در فصل سوم یاد کریں انشاء اللہ تعالی و اور عطف نسق نیز گویند۔ بھئی گذشتہ سبق میں ہم نے بدل کے بارے میں پڑھا تھا بھئی اور صاحب نحمیر نے آپ کو بتلایا کہ بدل وہ تابع ہے کہ جو نسبت کے ذریعے مقصود ہوتا ہے۔ یعنی ایک ہے مطبوع اور ایک ہے تابع، مطبوع کو یہاں کہیں گے مبدل منہ اور تابع کو کہیں گے بدل۔ جاءنی زید أخوک زید جو پہلے آیا وہ ہے مبدل منہ اور أخوک جو بعد میں آیا وہ ہے بدل اور بدل میں یاد رکھیے انھوں نے آپ کو بتلایا کہ وہ جو تابع ہوتا ہے وہ مقصود بنسبت ہوتا ہے۔ یعنی بولنے والا جو ہے متکلم کرنے والا وہ اس فعل کی یا اس چیز کی نسبت جو ہے وہ بدل کی طرف کرنا چاہ رہا ہے اور جو مبدل منہ ہے اس کو ویسے ہی تمہید کے طور پر لے کر آیا ہے۔ تو باقی جتنے توابع ہیں یاد رکھنا جیسے موصوف اور صفت آئے بھئی اور جیسے مؤکد اور تاکید آئے ان میں یاد رکھو جو اول ہوتا ہے وہ مقصود بنسبت مقصود بنسبت ہوتا ہے۔ جاءنی رجل عالم یہاں پر یہ اب مجیئت کی نسبت رجل کی طرف ہے اور عالم اس کی صفت ہے اور یہ رجل ہی مقصود بنسبت ہے۔ اسی کے بارے میں وہ بتلانا چاہتا ہے کہ یہ کوئی آدمی آیا ہے ایسا آدمی جو کہ عالم ہے عالم ہے۔ تو وہاں نسبت کے ذریعے جو مقصود ہوتا ہے وہ مطبوع ہوتا ہے۔ اسی طرح مثلاً جاءنی القوم کلہم القوم جو ہے وہ ہے مؤکد اور کلہم کیا ہے اس کی تاکید تو وہاں جو مؤکد ہے وہ مقصود بنسبت ہے اور آگے اس کی تاکید آگئی بس۔ بات سمجھ میں آگئی تو موصوف صفت میں موصوف مقصود ہوتا ہے صفت صرف اس کی وضاحت کرتی ہے مؤکد تاکید نے مؤکد مقصود ہوتا ہے تاکید آکر اسی کو پکا کرتی ہے۔ جبکہ بدل کے اندر معاملہ برعکس ہے یہاں پر جو تابع ہے یعنی جو بعد میں آیا یعنی جس کا نام بدل ہے وہ مقصود ہے اور مبدل منہ مقصود نہیں اس کو ویسے ہی تمہید کے طور پر ذکر کر دیا جاتا ہے۔ اور پھر انھوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ بدل جو ہے اس کی چار قسمیں ہیں۔ ایک بدل الکل، ایک بدل الباز اور ایک بدل الاشتمال اور ایک ہے بدل الغلط بھئی بدل الغلط۔ بدل الکل کہ جہاں بدل اور مبدل منہ دونوں کا مدلول ایک ہی ہو جاءنی زید أخوک دیکھو زید جس ذات پر دلالت کر رہا ہے لفظ زید بولنے سے جو ذات آپ کے ذہن میں آتی ہے أخوک آپ کا بھئی یہ بولنے سے بھی وہی ذات آپ کے ذہن میں آتی ہے۔ مثلاً آپ کے بھئی کا کیا نام ہے زید تو میں زید کہوں گا تو بھی وہی آپ کا بھئی آپ کے ذہن میں آئے گا اور صرف آپ کا بھئی کہہ دوں تو بھی وہی زید آپ کے ذہن میں آئے گا کیونکہ یہ دونوں ایک ہی ذات ہیں۔ تو اسے بدل الکل کہتے ہیں کہ بدل اور مبدل منہ دونوں کا مدلول ایک ہی ذات ہو دونوں ایک ہی ذات پر دلالت کر رہے ہوں۔ اور اس کو بدل الکل کہتے ہیں دیکھو کل کا معنی سارا سارا جاءنی زید أخوک زید جس ساری ذات پر دلالت کر رہا ہے پوری ذات پر أخوک یہ بھی اسی پوری ذات پر دلالت کر رہا ہے تو اس کو بدل الکل کہتے ہیں یعنی بدل مبدل منہ کے کل پر دلالت کرتا ہے پورے پر دلالت کرتا ہے۔ اور دوسری قسم ہے بدل الباز جس میں جس میں بدل جو ہے وہ مبدل منہ کے مدلول کا جز ہوتا ہے۔ ضرب زید رأسہ مارا گیا زید کو رأسہ یعنی اس کے سر کو دیکھو اب یہ رأس زید زید کا جو سر ہے وہ زید کا جز ہے۔ فرق سمجھ میں آرہا ہے بھئی تو اس میں بدل جو ہوتا ہے وہ مبدل منہ کا جز ہوتا ہے اور اس میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مبدل منہ کی ضمیر ہونا بھی ضروری ہے۔ ضرب زید رأسہ دیکھا رأسہ کے ساتھ یہاں ضمیر جو ہے یہ زید کو راجع ہے اور یہ بتلا رہی ہے کہ یہ جو ذکر کیا گیا یہ کس کا جز ہے زید کا یا رأس زید کا مراد ہے کسی اور کا مراد نہیں ہے تو اس میں ضمیر ہوتی ہے۔ جو مبدل منہ کو لوٹتی ہے تو دیکھو یہاں رأسہ یہ زید کا جز ہے اس کا بعض ہے اس کا کل نہیں اسلیے اس کو بدل الباز کہتے ہیں۔ اور تیسرا بدل الاشتمال بدل الاشتمال مثلاً صلیبہ زید ثوبہ چھینا گیا زید کو یعنی اس کے کپڑے کو دیکھو اب یہ ثوبہ زید کا کپڑا یہ نہ زید کا کل ہے نہ زید کا جز ہے ہاں اس سے تعلق ہے کپڑے کا کہ زید اس کا مالک ہے یا اس کو استعمال کرنے والا ہے۔ تو بدل الاشتمال وہ ہے جو مبدل منہ کا نہ کل ہو نہ اس کا جز ہو بلکہ اس سے متعلق ہو بھئی۔ پھر بھی کچھ شبہ رہتا ہے تو میں نے ایک اور دوسری تعریف کی تھی اس سے اور واضح ہو جاتا ہے۔ بعض علماء نے بدل الاشتمال کی بڑی پیاری تعریف کی وہ فرماتے ہیں بدل الاشتمال وہ ہے کہ جہاں پر مبدل منہ جو ہوتا ہے وہ فعل کو قبول نہیں کرتا۔ ذہن منتظر رہتا ہے کوئی اور لفظ آنا چاہیے جو فعل کو قبول کرے جیسے صلیبہ زید ثوبہ صلیبہ زید کہیں تو یہ زید چھینے کو سلب کا کیا معنی ہے چھینا تو زید چھینے کو قبول نہیں کرتا بھئی چھینا تو انسان سے کسی چیز کو چھینا جاتا ہے نہ کہ یہ کہ خود انسان کو کیا کر لیا جائے چھین۔ اننسان کے لیے تو اغوا کا لفظ ہوتا ہے انسان کو زید کو اغوا کر لیا گیا۔ تو یہاں جب صلیبہ زید کہا گیا زید کو نائب الفاعل بنایا گیا حالانکہ زید چھینے کے فعل کو قبول نہیں کرتا ذہن مطمئن نہیں ہوتا کہ پتہ نہیں کیا بات ہے یہ زید کو تو چھینا نہیں جا سکتا اس جملے کا کیا معنی ہے کہنے والا کیا کہہ رہا ہے چنانچہ ذہن منتظر رہتا ہے کہ آگے کوئی اور لفظ آنا چاہیے جو فعل کو قبول کر لے۔ چنانچہ آگے جب ثوبہ لایا گیا زید کا کپڑا اب ذہن مطمئن ہو گیا کہ ہاں زید کو تو نہیں چھینا جا سکتا لیکن زید کے کپڑے کو چھینا جا سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ تو یہ دونوں تعریفیں آپ لگائیں اور اس کی مثال بھی وہ اس سبق میں آئی تھی میں نے آپ سے پوچھا تھا جاءنی زید أخوک جاءنی زید أخوک یہ کیا ہے یہ جاءنی زید أخوک بعضوں نے کہا تھا کہ یہ بدل الکل ہے بدل الکل اس کی تعریف تو اس پر لگتی ہی نہیں ہے کیونکہ وہاں بدل اور مبدل منہ دونوں کا مدلول ایک ہوتا ہے اور ایک ہے زید اور ایک ہے أخوک اخو زید زید کا بھئی تو دونوں کا مدلول تو الگ الگ ہے زید الگ ہے اور زید کا بھئی الگ معلوم ہوا یہ بدل الکل نہیں۔ اور بدل الجز بھی نہیں کیونکہ زید کا بھئی زید کا جز بھی نہیں۔ اور بدل الاشتمال بھی نہیں۔ بظاہر شبہ ہوتا ہے شاید یہ بدل الاشتمال ہے اس لیے کیونکہ زید کے بھئی کا زید سے تعلق ہے بھئی نہ اس کا کل ہے نہ اس کا جز ہے ہاں اس سے تعلق ہے۔ لیکن میں نے بتلایا کہ یہ بدل ال کہ یہ کہ یہ بدل الاشتمال بھی نہیں ہے کیونکہ بدل الاشتمال کی تعریف اس پر صادق نہیں آتی وہ جو دوسری تعریف کی ذرا وہ لگائیں۔ کہ جہاں مبدل منہ وہ فعل کو قبول نہ کرتا ہو اور یہاں کیا ہے فعل جاءنی زید أخوک زید آسکتا ہے یا نہیں آپ بھی بولتے ہیں یا نہیں کہ زید آگیا تو یہاں تو زید کا لفظ یہ جو مبدل منہ ہے وہ تو فعل کو قبول کر رہا ہے حالانکہ بدل الاشتمال میں وہ فعل کو قبول نہیں کرتا ذہن منتظر رہتا ہے۔ تو یہاں زید جو مبدل منہ ہے وہ فعل کو قبول کر رہا ہے لہذا أخوک اس میں جو بدل الاشتمال ہونے کا شبہ تھا وہ بھی ختم ہو گیا معلوم ہوا یہ بدل الاشتمال بھی نہیں۔ تو اب آخری صورت یہ رہ گئی کہ یہ بدل البدل الغلط ہے۔ کہنے والا کہنا تو یہ چاہتا تھا زید کا بھئی آیا لیکن غلطی سے زبان پر کیا آگیا زید آگیا فورا ہی پھر اس کی اصلاح کر دی کہ زید نہیں اس کا بھئی آیا جاءنی زید میرے پاس زید آیا اخو اس کا بھئی یعنی بلکہ اس کا بھئی آیا میرے پاس۔ بات سمجھ میں آگئی اور بدل کی چوتھی قسم تھی بدل الغلط بھئی۔ بدل الغلط کیونکہ یہ غلطی اس کا سبب بنتی ہے غلطی ہو گئی اس لیے اس کو لے کر آتے ہیں میں آپ کو کہنا چاہتا تھا میرے پاس عمر آیا لیکن غلطی سے زبان سے نکل گیا زید جاءنی زید میں فورا ہی اصلاح کر کے کہتا ہوں عمر جاءنی زید عمر دیکھا میں کہنا کیا چاہتا تھا عمر آیا اور زبان پر کیا آگیا زید تو دیکھو یہ جو عمر میں لے کر آیا یہ ہے بدل الغلط زید ہے مبدل منہ اور عمر ہے بدل اور اس کو بدل الغلط کیوں کہتے ہیں کیونکہ غلطی کی وجہ سے اس کو لانا پڑا پہلے ہم سے کیا ہو گئی غلطی اور اس غلطی کی وجہ سے پھر بعد میں اس کو لانا پڑا تو غلطی اس کے لانے کا سبب بنی اسلیے اس کو بدل الغلط کہتے ہیں۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بدل الباز اور بدل الاشتمال دونوں کے ساتھ ایک ضمیر ہونی چاہیے جو مبدل منہ کی طرف لوٹے جیسے انھوں نے بھی مثال ذکر کی ضرب زید رأسہ یہاں ضمیر مبدل منہ کو راجع ہے یعنی زید کو اور اسی طرح صلیبہ زید ثوبہ یہاں پر بھی ثوبہ کے ساتھ ہا ضمیر ہے جو راجع ہے مبدل منہ یعنی زید کو۔ اور پھر میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ بدل اور مبدل منہ میں سے جو بدل ہے وہ مقصود ہے لہذا اس کو اعلی ہونا چاہیے کس سے؟ مبدل منہ ایک ہے مبدل منہ جو پہلے آیا اور ایک ہے بدل جو بعد میں آیا تو مبدل منہ مقصود نہیں بلکہ مقصود کون ہے بدل لہذا بدل کو مبدل منہ سے اعلی ہونا چاہیے اور اگر اعلی نہیں ہے تو کم از کم برابر ہونا چاہیے۔ لہذا اگر مبدل منہ معرفہ ہو اور بدل بھی معرفہ ہو تو بھی بات ٹھیک ہے کیونکہ اسے اعلی تو نہیں لیکن کم از کم برابر تو ہے۔ اگر مبدل منہ بھی نکرہ ہو اور بدل بھی نکرہ ہو تو بھی اس کے برابر ہے پھر بھی معاملہ ٹھیک۔ مبدل منہ نکرہ ہو اور بدل معرفہ ہو یہ بہترین تو یہ بھی ٹھیک کیونکہ اس میں بدل کیا ہے مبدل منہ سے اعلی ہے۔ ہاں ایک صورت میں مسئلہ بنتا ہے جب مبدل منہ ہو معرفہ اور بدل کو کیا لائیں نکرہ تو اس صورت میں مسئلہ بنتا ہے کہ بدل جو مقصود ہے وہ تو ادنیٰ ہو گیا نکرہ ہے اور مبدل منہ جو غیر مقصود ہے وہ معرفہ ہے تو اس صورت میں پھر بدل کی صفت لانا ضروری ہے۔ جب مبدل منہ معرفہ ہو اور بدل نکرہ ہو تو نکرہ کی صفت لانا ضروری ہے اس لیے کیونکہ صفت کی وجہ سے اس میں تخصیص پیدا ہو جائے گی تخصیص کا کیا معنی کہ دیگر احتمالات کم ہو جائیں۔ جیسے میں آپ سے کہتا ہوں غلام اب دنیا میں مثلاً ایک کروڑ غلام ہیں تو یہ غلام ان میں سے ہر ایک پر بولا جا سکتا ہے کہ یہ بھی غلام ہے یہ بھی غلام ہے یہ بھی غلام ہے تو اس غلام میں ایک کروڑ احتمال ہیں۔ لیکن ان ایک کروڑ میں سے فرض کریں صرف ایک لاکھ مومن ہیں تو اب میں غلام کی صفت لے آتا ہوں غلام مؤمن مومن غلام اب یہ کتنے پر بولا جا جا سکے گا اب صرف صرف یہ ایک لاکھ افراد پر بولا جا سکے گا تو بغیر صفت کے یہ بولا جا رہا تھا ایک کروڑ پر اور صفت لانے کے بعد اب یہ صرف ایک لاکھ پر بولا جا رہا ہے تو دیکھو احتمالات کم ہو گئے۔ تو یہ معرفہ کے قریب ہو گیا کیونکہ معرفہ تو ایک متعین ذات پر دلالت کرتا ہے اور غلام میں پہلے کتنے احتمال تھے ایک کروڑ اب کتنے رہ گئے جب صفت لے آیا غلام مؤمنون ایک لاکھ تو دیکھو یہ معرفہ کے قریب آگیا اس میں احتمالات کم ہو گئے۔ تو معرفہ تو نہ بنا لیکن معرفہ کے قریب آگیا تو اس کو کہتے ہیں تخصیص اس میں کیا آ گئی تخصیص تو یہ معرفہ تو نہ بنا لیکن معرفہ کے قریب آگیا اور قریب الشےء فی حکم شےء ہوتی ہے تو لہذا یہ معرفہ کے ہی طرح گویا ہو گیا معرفہ تو نہیں لیکن گویا یوں سمجھو کس کی طرح ہو گیا معرفہ کی کیونکہ اس کے قریب آگیا میں نے بتلایا تھا جیسے بادشاہ کا سیکرٹری ہوتا ہے اس کا بھی وہی حکم ہوتا ہے جو بادشاہ کا ہوتا ہے۔ تو لہذا اب کچھ نہ کچھ کمی کی تلافی ہو گئی مبدل منہ کیا تھا معرفہ اور بدل تو نکرہ تھا لیکن جب اس کی صفت آ گئی تو اس میں تخصیص پیدا ہو گئی اور تخصیص کی وجہ سے وہ معرفہ کے قریب ہو گیا تو کچھ نہ کچھ کیا ہو گئی تلافی ہو گئی۔ تو اب یہ بدل بن سکتا ہے چنانچہ اس کی میں نے مثال بھی قرآن سے ذکر کی تھی قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں لنسفعن بالناصیہ ناصیۃ کاذبتین تو الناصیہ جو معرف جو معرفہ ہے با الف لام یہ ہے مبدل منہ اور آگے ناصیتن یہ اس سے بدل آ رہا ہے اور یہ ہے نکرہ تو اس لیے اس کی صفت کاذبتین لائی گئی عربی اصولوں کے مطابق بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح۔ آگے دیکھیے بھئی چہارم عطف باحرف چوتھی قسم ہے توابع کی عطف باحرف بھئی۔ عطف باحرف بھئی اور یہ عطف بمعنی معطوف ہے۔ معطوف باحرف عطف کس معنی میں ہے معطوف کے معنی میں تو معطوف باحرف یعنی حرف کے ذریعے جو معطوف ہو۔ آگے ایک عطف بیان آرہا ہے وہ بھی معطوف ہے لیکن وہ عطف بیان ہے لیکن یہ عطف باحرف ہے حرف کے ذریعے معطوف ہے بھئی۔ تو یہاں درمیان میں حرف عطف آئے گا جبکہ آگے عطف بیان وہاں بھی عطف ہوگا لیکن وہاں درمیان میں حرف عطف نہیں آئے گا۔ مضارع ان میں کہتا ہوں جاءنی زید و عمرو، جاءنی زید و عمرو۔ دیکھو، میں نے آنے کی نسبت کی زید کی طرف اور آگے واؤ حرفِ عطف لایا اور پھر عمر کو بھی ساتھ میں نے ملا دیا۔ تو اس کو عطف بحرف کہتے ہیں۔ واؤ جو ہے یہ حرفِ عطف ہے اس کے ذریعے عطف کیا جاتا ہے حروفِ عطفہ یاد رکھیے دس ہیں جن کا ذکر آگے آ جائے گا۔ تو یہ کچھ حروف درمیان میں لا کر یاد رکھو جو پہلے ہے اس کو کہتے ہیں معطوف علیہ اور جو حرفِ عطف کے بعد آئے اس کو کہتے ہیں معطوف۔ جاءنی زید و عمرو۔ یہ زید جو پہلے آیا اس کو کیا کہیں گے؟ معطوف علیہ یعنی دیکھو ترجمے پر غور کر لیں۔ معطوف علیہ عطف کیا گیا ہے علیہ اس پر اور جو حرفِ عطف کے بعد آئے جیسے و عمرو تھا یہ عمرو اس کو کہتے ہیں معطوف یعنی جس کا عطف کیا گیا ہے تو جو حرفِ عطف سے پہلے آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ معطوف علیہ اور جو حرفِ عطف کے بعد آئے وہ معطوف ہوتا ہے۔ اب میں آپ کو کہنا چاہتا ہوں کہ میرے پاس زید اور عمر دونوں آئے توجہ ہے؟ میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ میرے پاس زید اور عمر دونوں آئے جاءنی زید میرے پاس زید آیا اب میں عمر کے بارے میں بھی تو بتلانا چاہتا تھا کہ میرے پاس زید کے ساتھ ساتھ اور کون آیا ہے عمر لیکن فاعل تو ایک ہی آتا ہے فاعل تو دو یا تین نہیں آ سکتے آپ کو میں نے بتایا تھا کہ ہر فعلِ معروف کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل اور ہر فعلِ مجہول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا فعل تو آ جائے اور آگے فاعل یا نائب فاعل نہ آئے لیکن فاعل یا نائب فاعل ایک ہی آئے گا ہمیشہ فعل کے بعد آئے گا اور ہمیشہ ایک ہی آئے گا دو یا تین نہیں آ سکتے۔ اور فاعل یا نائب فاعل ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور اسمِ ظاہر بھی ہو سکتا ہے لیکن آئے گا ایک ہی، آئے گا ایک ہی اگر ضمیر آ گئی تو پھر اس میں ظاہر فاعل یا نائب فاعل نہیں آ سکتا اور اگر اس میں ظاہر آ گیا تو پھر ضمیر فاعل یا نائب فاعل نہیں آ سکتی۔ اب میں آپ کو بتانا یہ چاہتا ہوں کہ میرے پاس زید بھی آیا ہے اور عمر بھی تو جاءنی زید زید تو بن گیا فاعل اور میں عمر کو بھی ملانا چاہتا ہوں اور فاعل تو ایک ہی آتا ہے دو یا تین نہیں تو مجبور ہوا اور کوئی صورت نہیں تھی پھر حروفِ عطف کا سہارا لیا جاتا ہے اور کیسے کہتے ہیں؟ جاءنی زید و عمرو۔ ابھی عمرو کا عطف کس پر کر دیا؟ زید پر اور درمیان میں حرفِ عطف لے آیا۔ تو دیکھو اب بات درست ہو گئی، فاعل ایک ہی رہا، کون؟ زید اور دوسرا جس کو ساتھ میں ملانا چاہتا تھا اس کو میں نے معطوف بنا دیا کیا بنا دیا؟ معطوف بنا دیا اب دیکھو اب آنا دونوں کا مراد ہے، زید بھی آیا ہے اور عمر بھی دونوں کی طرف آنے کی نسبت ہو گئی لیکن ایک کو کیا بنایا؟ فاعل اور دوسرے کو کیا بنایا؟ معطوف۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو لہٰذا جاءنی زید و عمرو میں نے آنے کی جو نسبت کی ہے اس سے زید اور عمر دونوں مقصود ہیں۔ اس میں زید اور عمر دونوں مقصود ہیں میں دونوں کی طرف آنے کی نسبت کرنا چاہتا تھا لیکن براہِ راست میں دو کی طرف نسبت کر نہیں سکتا کیونکہ فاعل یا نائب فاعل ایک آتا ہے دو یا تین نہیں تو پھر وہاں حروفِ عطف کا سہارا لیا جاتا ہے اور میں نے بتایا حروفِ عطف کتنے ہیں؟ دس ہیں بھئی دس ہیں دس تو جاءنی زید و عمرو تو حروفِ عطف کے ذریعے میں نے عمر کو بھی زید جو فاعل ہے اس پر اس کے ساتھ ملا دیا اور یاد رکھو معطوف جو بعد میں آئے اس کا وہی حکم ہوتا ہے جو معطوف علیہ کا تھا۔ پہلے کون آیا؟ زید یہ ہے معطوف علیہ اور جو بعد میں آیا وہ ہے معطوف، معطوف یعنی جو بعد میں آیا اس کا وہی حکم ہے جو کس کا تھا؟ معطوف علیہ کا اگر معطوف علیہ فاعل ہو تو معطوف بھی کس کے درجے میں؟ فاعل کے یعنی فاعل تو نہیں ہے فاعل تو صرف زید ہے لیکن یہ بھی فاعل کے درجے میں ہے کس کے درجے میں ہے؟ فاعل جیسا ہی ہے جیسے آنے کی نسبت زید کی طرف ہو رہی ہے ایسے ہی آنے کی نسبت عمر کی طرف بھی ہو رہی ہے۔ گویا یہ آپ کا کلام دو جملوں کے درجے میں ہو گیا جاءنی زید و عمرو گویا آپ نے یوں کہا جاءنی زید جاءنی عمرو۔ جاءنی زید و جاءنی عمرو۔ دیکھو اگر حرفِ عطف نہ ہوتا تو آپ کو دو جملے لانا پڑتے جاءنی زید فاعل ایک ہی آئے گا وہ زید آ گیا اب عمر تو آ نہیں سکتا اس کے لیے دوبارہ کہو گے جاءنی عمرو تو حروفِ عطف جو ہیں یہ کلام کو مختصر کر دیتے ہیں اب دوبارہ جاءنی کہنے کی ضرورت نہیں وہی کام کس نے کر دیا؟ حرفِ عطف نے جاءنی زید و عمرو یہ کس کے درجے میں؟ دو جملوں کے درجے میں جاءنی زید و جاءنی عمرو دو جملوں کے درجے میں ہے تو دو جملے کہتے تو دیکھو بات کتنی لمبی ہو جاتی اور فرض کرو میں بکر کو بھی ساتھ ملانا چاہتا ہوں خالد کو بھی تو مجھے یوں کہنا پڑے گا جاءنی زید جاءنی عمرو جاءنی بکر جاءنی خالد تو کتنی بات لمبی ہو جاتی حروفِ عطف کے ذریعے بات مختصر ہو جاتی ہے بس حرفِ عطف واؤ یا فا ثمہ وغیرہ میں سے کوئی ایک لاتے ہیں اور ساتھ ان ناموں کو ذکر کرتے چلے جاتے ہیں تو یوں کہیں گے جاءنی زید و عمرو و بکر و خالد۔ دیکھا اس نے چار جملوں والا کام کر دیا حروفِ عطف کی مدد سے چار کے بجاے ایک ہی جملے سے کام پورا ہو گیا۔ تو یاد رکھو یہ جو عطف بحرف ہوتا ہے اس میں دونوں مقصود بالنسبه ہوتے ہیں۔ جاءنی زید و عمرو میں زید کے ساتھ ساتھ عمر کو بھی ذکر کرنا چاہتا تھا لیکن فاعل تو ایک ہی آ سکتا ہے اس لیے مجھے کس کی مدد لینا پڑی؟ حروفِ عطف کی۔ تو فاعل ایک ہی رہا اور مسئلہ بھی حل ہو گیا جو بعد میں واؤ کے بعد حرفِ عطف کے بعد آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ معطوف کہتے ہیں اس کو فاعل نہیں کہتے ہاں ہوتا وہ معطوف علیہ ہی کے حکم میں ہے معطوف علیہ اگر فاعل ہوگا تو معطوف بھی کس کے حکم میں؟ فاعل کے حکم میں اور معطوف علیہ اگر مفعول ہے تو معطوف بھی مفعول کے حکم میں مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں میں نے زید کی پٹائی کی اور میں نے عمر کی پٹائی کی اور میں نے بکر کی پٹائی کی اور میں نے خالد کی پٹائی کی چار جملے مجھے بولنا پڑیں گے۔ ضربت زیداً اب ضربت تو ایک ہی مفعول کو نصب دیتا ہے زید آ گیا دوسرے کو وہ نصب دے ہی نہیں سکتا تو ضربت زیداً ضربت عمراً ضربت بکراً ضربت خالداً مجھے چار جملے بولنا پڑتے لیکن حرفِ عطف کی مدد سے میں نے ایک ہی جملے میں کہ میں نے ایک کو تو مفعول بہ بنایا اور باقیوں کا اسی پر عطف کر دیا اور یوں بولا ضربت زیداً و عمراً و بکراً و خالداً دیکھا باقی سب کا میں نے اسی مفعول پر عطف کر دیا ضربت زیداً یہ زیداً کیا ہے؟ مفعول بہ اور باقی ناموں کا میں نے اسی پر عطف کیا اور کس کی مدد سے کیا؟ حرفِ عطف کی مدد سے یا جیسے جاءنی زید و عمرو و بکر و خالد یہاں صرف زید ایک کو فاعل بنایا کیونکہ فاعل ایک ہی آ سکتا ہے اور باقی سب کا میں نے اسی فاعل پر عطف کر دیا اور کس کی مدد سے کیا؟ حرفِ عطف۔ حرفِ عطف کے ذریعے تو اس کو کہتے ہیں عطف بحرف بھئی، حرف کے ذریعے کیا کرنا؟ عطف کرنا اور جو پہلے آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ معطوف علیہ اور جو بعد میں آئے وہ معطوف اور معطوف کا وہی حکم ہوتا ہے جو کس کا ہو؟ معطوف علیہ کا یعنی معطوف علیہ اگر فاعل تو معطوف بھی فاعل کے درجے میں ہے کس کے درجے میں؟ فاعل کے درجے میں۔ اور اگر معطوف علیہ مفعول ہے تو معطوف بھی مفعول کے درجے میں ہے۔ تو جاءنی زید و عمرو آیا میرے پاس زید اور عمر ضربت زیداً و عمراً پٹائی کی میں نے زید کی اور عمر کی۔ تو عطف بحرف میں دونوں مقصود ہوتے ہیں۔ میں زید کا آنا بھی بیان کرنا چاہتا تھا اور میں عمر کا آنا بھی بیان کرنا چاہتا تھا تو میں نے کس کی مدد لی؟ حرفِ عطف تو یاد رکھو حروفِ عطف کے ذریعے جب عطف کیا جاتا ہے تو دونوں مقصود نس ہوتے ہیں اس نسبت کے ذریعے جاءنی زید یہ آنے کی نسبت جیسے زید کی طرف میں کرنا چاہتا تھا اسی طرح جاءنی عمرو میں آنے کی نسبت عمر کی طرف بھی کرنا چاہتا تھا تو دونوں مقصود ہوتے ہیں اس فعل کے اندر۔ دیکھیے بھئی کتاب پر چہارم عطف بحرف چوتھی قسم جو ہے توابع کی وہ عطف بحرف ہے وہ اور تابع اس اور وہ وہ تابع ہے کہ مقصود باشد نسبت کہ جو مقصود ہوتا ہے نسبت کے ذریعے عطف بحرف وہ تابع ہے کہ جو مقصود ہوتا ہے نسبت کے ذریعے با مطبوعش اپنے متبوع سمیت اپنے متبوع کے ساتھ اپنے متبوع کے ساتھ یعنی تابع بھی مقصود ہوتا ہے کس کے ساتھ؟ اپنے متبوع کے ساتھ یعنی وہ بھی مقصود ہوتا ہے تابع بھی اور متبوع بھی۔ بعد از حرفِ عطف اور کس کے بعد ہوتا ہے؟ حرفِ عطف کے بعد پھر سنو تعریف کہتے ہیں چہارم عطف بحرف چوتھی قسم عطف بحرف ہے وہ اور وہ تابع ہے کہ مقصود باشد نسبت با مطبوعش کہ جو متبوع اپنے متبوع سمیت نسبت کے ساتھ مقصود ہوتا ہے یعنی تابع بھی اور متبوع بھی اپنے متبوع کے ساتھ بعد از حرفِ عطف حرفِ عطف کے بعد چوں جاءنی زید و عمرو آیا میرے پاس زید اور عمر ترکیب کیا ہوگی؟ جاء فعل نون وقایہ یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ زید مرفوع لفظاً معطوف علیہ ہے لیکن ابھی آگے جو معطوف ہیں ان کو بھی جوڑنا ہے۔ تو زید مرفوع لفظاً معطوف علیہ ہے ہے یہ فاعل ہی آپ سے اگر کوئی پوچھیں اس پر رفع کیوں پڑا آپ کیا کہیں گے؟ فاعل ہے تو زید مرفوع لفظاً معطوف علیہ۔ واؤ حرفِ عطف عمرو مرفوع لفظاً مرفوع کیوں؟ شاباش یہ معطوف ہے یہ کیا ہے؟ معطوف ہے یہاں فاعل نہیں کہنا ہے معنی کے اعتبار سے یہ بھی فاعل ہے لیکن لفظوں میں یہ فاعل نہیں ہے۔ تو عمرو مرفوع لفظاً معطوف معطوف علیہ (یعنی زید) وہ اپنے معطوف (یعنی عمر) سے مل کر یہ فاعل ہوا کس کے لیے؟ جاء کے لیے۔ جاء فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اور یہ معطوف میں نے بتلایا اس کا وہی حکم ہے جو کس کا حکم تھا؟ معطوف علیہ کا معطوف علیہ یہاں فاعل ہے تو معطوف بھی کس کے حکم میں؟ فاعل کے حکم میں یعنی جیسے آنے کی نسبت زید کی طرف ہو رہی ہے کہ زید آیا ہے اسی طرح آنے کی نسبت عمر کی طرف بھی ہو رہی ہے کہ عمر بھی آیا ہے تو دونوں مقصود بالنسبه ہیں۔ دونوں کیا ہیں؟ مقصود بالنسبه باقی جتنے توابع یاد رکھیں بدل میں تابع مقصود ہوتا ہے جو بعد میں آتا ہے اور باقیوں میں متبوع مقصود ہوتا ہے جو پہلے آتا ہے لیکن عطف بحرف میں دونوں مقصود ہوتے ہیں توجہ ہے؟ توابع کل پانچ ہیں۔ ایک عطفِ بیان آگے آ رہا ہے تو ان پانچ توابع میں سے یہ جو عطف بحرف ہے اس میں دونوں مقصود بالنسبه ہوتے ہیں تابع بھی اور متبوع بھی جبکہ باقی جو ہیں ان میں صرف بدل ہے وہاں پر صرف تابع مبدل منہ اور بدل میں سے کون مقصود ہوتا ہے؟ بدل اور بعد میں کون آتا ہے؟ بدل تو یہاں پر صرف بدل کے اندر جو بعد میں آ رہا ہے یعنی تابع وہ مقصود ہوتا ہے اور مبدل منہ کو کس لیے ذکر کرتے ہیں؟ تمہید کے طور پر جبکہ باقی تین قسمیں جو ہیں صفت، تاکید اور آگے آنے والا ہے عطفِ بیان ان تین کے اندر متبوع مقصود ہوتا ہے موصوف صفت میں سے کون مقصود؟ موصوف، مؤکد تاکید میں سے کون مقصود؟ مؤکد اور اسی طرح آگے عطفِ بیان کے آگے بیان آ رہا ہے وہاں بھی متبوع مقصود ہوتا ہے۔ تفصیل سمجھ میں آگئی؟ کیا؟ کہ عطف بحرف میں تابع اور متبوع دونوں مقصود ہوتے ہیں اور بدل کے معاملے میں بدل یعنی تابع مقصود ہوتا ہے اور باقی تین توابع کے اندر متبوع مقصود ہوتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے اس کی تعریف کی کہ یہ چونکہ باقیوں سے مختلف ہے یہاں دونوں مقصود ہوتے ہیں اسی لیے کہا کہ عطف بحرف وہ تابع ہے کہ مقصود باشد نسبت با متبوعش کہ جو متبوع سمیت نسبت کے ساتھ مقصود ہوتا ہے یعنی تابع بھی مقصود ہوتا ہے اور متبوع بھی بعد از حرفِ عطف حرفِ عطف کے بعد چوں جاءنی زید و عمرو۔ و حروفِ عطف دہ ہست اور حروفِ عطف دس ہیں بھئی در فصلِ سوم یاد کونیم انشاء اللہ تعالیٰ۔ در فصلِ سوم تیسری فصل میں یاد کونیم ہم ان کو ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ یاد کونیم یاد کا معنی فارسی میں ہوتا ہے ذکر کرنا۔ یاد کونیم ہم ان کو ذکر تیسری فصل آگے تیسری فصل آنے والی ہے بھئی۔ یہ پہلی فصل چل رہی ہے پہلی فصل اس میں توابع کا بیان ہے اور پھر اگلی فصل میں منصر و غیر منصر کا بیان آ رہا ہے اور اس سے آخری فصل جو ہے اس میں حروفِ غیر عاملہ کے اندر وہ ذکر کریں گے کہ حروفِ عطف دس ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں و حروفِ عطف دہ ہست اور حروفِ عطف دس ہیں در فصلِ سوم یاد کونیم انشاء اللہ تعالیٰ تیسری فصل میں ہم ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ و او را عطفِ نسق نیز گویند اور اس کو عطفِ نسق بھی کہتے ہیں۔ نیز کا معنی بھی بھی۔ و او را اور اس کو یعنی اس عطف بحرف کو عطفِ نسق نیز گویند اس کو عطفِ نسق بھی کہتے ہیں۔ عطف بحرف کا دوسرا نام کیا؟ عطف نسق، نسق سین پر زبر پڑھنا بھی صحیح اور سین کو ساکن پڑھنا بھی صحیح۔ نسق نون، سین اور قاف دو نقطوں والا۔ نسق اور یا اسی طرح نسق دونوں طرح پڑھنا صحیح ہے۔ اور نسق اور نسق کا معنی ہے ترتیب دینا۔ ترتیب دینا تو ترتیب دینا۔ تو بعض جگہ چونکہ یہ حروفِ عطف ترتیب کا فائدہ دیتے ہیں اس لیے ان کو حروفِ نسق بھی کہتے ہیں۔ اس لیے اس کو عطفِ نسق بھی کہتے ہیں یا حروفِ نسق بھی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ ان حروفِ عطف کو حروفِ نسق بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ بعض جگہ پر ترتیب کا فائدہ دیتے ہیں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: جائنی زیدٌ فعمروٌ ثم بکرٌ۔ یہ فا بھی عطف کے لیے، ثم بھی عطف کے لیے۔ جائنی زیدٌ آیا میرے پاس زید، فعمروٌ پھر عمرو، ثم بکرٌ پھر اس کے بعد بکر۔ آیا میرے پاس زید، پھر عمرو، پھر بکر۔ دیکھو یہاں ترتیب کا فائدہ دیا اس نے معلوم ہوا۔ آنے میں سب سے پہلے کون ہے؟ زید ہے، اس کے بعد عمرو ہے اور اس کے بعد بکر ہے۔ تو بعض جگہ پر چونکہ یہ عطف جو ہے ترتیب کا فائدہ دیتا ہے تو لہذا اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ عطفِ نسق۔ جبکہ اگر میں یوں کہتا: جائنی زیدٌ وعمروٌ وبکرٌ۔ اب بھی تینوں ترتیب سے نام ہیں۔ زید پہلے، عمرو بعد میں اور بکر اس کے بعد۔ لیکن آنے میں یہ ترتیب ضروری نہیں۔ یہ واؤ بیچ میں ذکر کیا۔ واؤ یاد رکھو ترتیب کا فائدہ نہیں دیتا۔ وہ صرف اتنا بتاتا ہے کہ زید بھی آیا، عمرو بھی آیا اور بکر بھی آیا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے تینوں اکٹھے آئے ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے تینوں الگ الگ آئے ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے آپ نے زید کا لفظ سب سے پہلے بولا ہے لیکن ہو سکتا ہے زید سب سے آخر میں آیا ہو۔ لیکن آیا تو ہے تو یہ جو لفظوں میں ترتیب ہے واؤ کے ساتھ خارج میں واقعے کے اندر اسی ترتیب سے ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس نے صرف اتنا بتایا ہے جو واؤ نے: جائنی زیدٌ وعمروٌ وبکرٌ کہ آیا زید بھی ہے، آیا عمرو بھی ہے اور آیا بکر بھی ہے۔ باقی تفصیل ذرا بھی نہیں بیان کی کہ سارے اکٹھے آئے یا الگ الگ آئے، کون پہلے آیا، کون بعد میں۔ زید سب سے پہلے ہے ذکر میں لفظوں میں، لیکن ہو سکتا ہے زید سب سے آخر میں آیا ہو۔ عمرو سب سے آخر میں ہے ذکر لفظوں میں، لیکن ہو سکتا ہے عمرو سب سے پہلے آیا ہو تو واؤ صرف اتنا بتاتا ہے کہ آئے یہ سارے ہیں البتہ ترتیب کا فائدہ نہیں دیتا لیکن بعض جگہ یہ حروفِ عطف ترتیب کا فائدہ دیتے ہیں جیسے فا اور ثم۔ جائنی زیدٌ فعمروٌ ثم بکرٌ۔ آیا میرے پاس زید، پھر اس کے بعد عمرو، پھر اس کے بعد بکر۔ دیکھا یہاں یہ فا اور ثم نے ترتیب کا فائدہ دیا۔ اس لیے ان حروفِ عطف کو حروفِ نسق بھی کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں وہ اور عطفِ نسق نیز گویند اور اس کو عطفِ نسق بھی کہتے ہیں۔ نسق کا کیا معنی؟ ترتیب دینا۔ تو یہ بعض جگہ چونکہ ترتیب کا فائدہ دیتے ہیں اس لیے ان کو حروفِ نسق یا عطفِ نسق بھی کہتے ہیں۔ اس لیے ان کو اس کو عطف بحرف کو عطفِ نسق بھی کہتے ہیں۔ آگے دیکھیے بھئی، پنجم عطفِ بیان وہ وہ تابع است غیرِ صفت کہ مطبوع را روشن گرداند۔ پنجم عطفِ بیان پانچواں تابع جو ہے اس کا نام ہے عطفِ بیان۔ عطفِ بیان۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: جائنی زیدٌ أبو عمروٍ۔ جائنی زیدٌ أبو عمروٍ۔ زید جو ہے جو پہلے آیا اس کو کہیں گے معطوفٌ علیہ۔ اور مبین بھی ساتھ لگا دو۔ یعنی معطوفٌ علیہ مبین۔ جائنی زیدٌ أبو عمروٍ۔ اور یہ أبو عمروٍ کیا ہے؟ اس کو کہیں گے عطفِ بیان۔ توجہ سے سنیں میں بیان کرتا ہوں ساری تفصیل بس آپ نام یاد کر لیں۔ جائنی زیدٌ أبو عمروٍ۔ زید پہلے آیا جو متبوع ہے اور أبو عمرو بعد میں آیا یہ تابع۔ تو زید کو یہاں پر یہ جو عطفِ بیان کی بات ہے یہاں پر جو پہلے آئے جو متبوع ہو اس کو معطوفٌ علیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ معطوفٌ علیہ۔ جیسے عطفِ بحرف میں جو پہلے آتا تھا اس کو کیا کہتے تھے؟ معطوفٌ علیہ۔ اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ معطوفٌ علیہ۔ اور وہاں پر جو بعد میں آتا تھا اس کو معطوف کہتے تھے، یہاں پر جو بعد میں آئے اس کو عطفِ بیان کہتے ہیں۔ جائنی زیدٌ أبو عمروٍ۔ زید کیا ہے؟ معطوفٌ علیہ۔ اور أبو عمروٍ کیا ہے؟ عطفِ بیان ہے۔ یہاں درمیان میں دیکھو حرفِ عطف نہیں ہے۔ جائنی زیدٌ و أبو عمروٍ نہیں ہے بلکہ جائنی زیدٌ أبو عمروٍ۔ درمیان میں حرفِ عطف نہیں ہے تو وہ بھی معطوفٌ علیہ تھا لیکن وہ تھا عطفِ بحرف اور یہ بھی معطوف ہے لیکن اس کو کیا کہتے ہیں؟ عطفِ بیان کہتے ہیں۔ فرق سمجھ میں آگیا؟ اور نیز اس میں یاد رکھیں، یہاں پر بھی یاد رکھیں جو پہلے آئے متبوع وہی مقصود ہوتا ہے، جو بعد میں ذکر کیا وہ مقصود نہیں۔ اس کو صرف وضاحت کے لیے لے کر آتے ہیں۔ اس کو کس لیے لاتے ہیں؟ وضاحت کے لیے لے کر آتے ہیں وضاحت تو یہاں پر جو متبوع ہے وہی مقصود ہے۔ توجہ ہے؟ عطفِ بیان کے معاملے میں مقصود جو ہوتا ہے مقصود بالإضافة کون ہوتا ہے؟ متبوع یا تابع؟ معطوف۔ معطوف عطفِ بیان کی بات کر رہا ہوں، عطفِ بیان میں مقصود کون ہوتا ہے؟ معطوف مقصود ہوتا ہے اور آگے جو عطفِ بیان آیا وہ کس لیے آیا؟ اسی کی وضاحت کے لیے۔ جائنی زیدٌ أبو عمروٍ۔ میں نے کہا میرے پاس زید آیا تھا، آپ کو پتہ نہیں چلا کہ کون سا زید؟ زید تو دو آدمیوں کا نام ہے فرض کریں۔ پتہ نہیں وہ فلاں والا زید تھا یا وہ دوسرا والا زید تھا تو میں نے آگے أبو عمرو کہا، اب ان میں سے ایک کی کنیت أبو عمرو ہے۔ ایک کی کنیت کیا ہے؟ أبو عمرو۔ جب میں نے کہا جائنی زیدٌ أبو عمرو اب آپ سمجھ گئے اچھا وہ زید جس کی کنیت کیا ہے؟ أبو عمرو یعنی جو عمرو کا باپ ہے۔ عطفِ بیان کے اندر وہاں مقصود متبوع ہوتا ہے یا تابع؟ معطوف جو پہلے آئے اور جو عطفِ بیان آگے لے کر آئے وہ صرف کس لیے لائے؟ وضاحت کے لیے لے کر آئے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے بھئی! پنجم عطفِ بیان پانچواں جو ہے عطفِ بیان ہے اور وہ تابع است اور وہ وہ تابع ہے غیرِ صفت جو صفت کے علاوہ ہو، صفت نہ ہو کہ متبوع را روشن گرداند کہ متبوع کو روشن کر دے یعنی اس کو واضح کر دے۔ اس کو روشن کر دے یعنی اس کو واضح کر دے جیسے دیکھو کمرے میں روشنی ہوتی ہے تو ہر چیز آپ کو واضح نظر آنے لگیتی ہے۔ تو یہاں فارسی میں بھی روشن کرنے کا کیا معنی؟ واضح کرنا۔ تو کہتے ہیں عطفِ بیان وہ وہ تابع است عطفِ بیان وہ تابع ہے غیرِ صفت جو صفت کے علاوہ ہو یعنی صفت نہیں ہونی چاہیے کہ متبوع را روشن گرداند کہ متبوع کی وضاحت کرے۔ چو اقسم باللہ أبو حفصٍ عمر قسَم اٹھا لی اللہ کی أبو حفص نے أبو حفصِ عمر نے۔ یاد رکھو یہ أبو حفص یہ کنیت ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت کیا ہے؟ أبو حفص۔ لیکن یہ کنیت زیادہ مشہور نہیں۔ اگر آپ کے سامنے صرف یہ کہے قال أبو حفص تو آپ کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔ تو آگے پھر عمر لا کر کیا کیا گیا؟ اس کی وضاحت کر دی گئی کہ أبو حفص سے کون مراد ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ۔ تو اقسم باللہ أبو حفصٍ عمر قسَم اٹھا لی اللہ کی أبو حفص عمر نے۔ قسم اٹھا لی اللہ کی أبو حفص عمر نے۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک دیہاتی آدمی آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ امیر المومنین تھے تو اس نے آکر سوال کیا کہ حضرت مجھے ایک اونٹنی عنایت فرما دیں بیت المال سے، میرا گھر بہت دور ہے، لمبا سفر ہے کئی دنوں کا اور میری جو اپنی اونٹنی ہے اس کی کمر بھی زخمی ہے، پاؤں بھی اس کے زخمی ہیں، وہ اس پر میں سامان لاد کر اور سواری کرکے اتنا لمبا سفر طے کرنا بڑا مشکل ہے تو مجھے کوئی اونٹنی دے، اونٹنی اونٹنی دے دیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے قسم اٹھا کر کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو۔ تو وہ دیہاتی وہاں سے چل پڑا اور بیجارہ بڑا پریشان تھا کہ اب اتنا لمبا سفر ہے میں کیسے کروں گا، چلو اونٹنی تھی، اونٹنی پر سامان بھی رکھ لیتا، سوار بھی ہو جاتا سفر طے ہو جاتا لیکن اب اونٹنی بھی زخمی ہے چنانچہ وہ پھر کسی وقت مدینہ سے نکل رہا تھا جا رہا تھا اور یہ اشعار پڑھ رہا تھا، ان اشعار میں وہ یہ کہہ رہا تھا کہ اقسم باللہ أبو حفصٍ عمر۔ قسم اٹھا لی ہے اللہ کی أبو حفصِ عمر نے۔ حضرت عمر نے قسم اٹھا کر کہا تھا نا کہ تم جھوٹ بول رہے۔ تو کہا اقسم باللہ أبو حفصٍ عمر۔ قسم اٹھا لی ہے اللہ کی أبو حفص عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے تو خلاصہ یہ کہ اے اللہ اگر ان سے غلطی ہوئی ہے تو اے اللہ ان کو معاف فرما دے۔ یعنی اگر انہوں نے جھوٹی قسم اٹھا لی ہے تو اے اللہ ان کو معاف فرما دے۔ چنانچہ حضرت عمر وہیں کہیں گزر رہے تھے کوئی دوسرا وقت ہوگا دوسرا وقت ہوگا حضرت عمر کہا وہاں گزر رہے تھے تو انہوں نے اس کی آواز سن لی۔ تو فرمایا اللھم صدق صدق اے اللہ اس کو سچا کر دے۔ کیونکہ اس نے کیا کہا تھا اے اللہ اگر جھوٹی قسم اٹھائی ہے تو معاف کر دے۔ تو کہا اے اللہ سچا کر دے یعنی میں نے جھوٹی قسم اٹھائی ہے تو واقعی مجھے معاف فرما دے اللہ اور پھر آپ نے اس کی اونٹنی دیکھی۔ اونٹنی تو پہلے وہ لے کر نہیں آیا تھا، باہر کہیں چھوڑی ہوگی۔ اب جب وہ لے کر جا رہا ہے تو حضرت عمر نے بھی دیکھا، واقعی اس کی کمر زخمی تھی اور پاؤں بھی زخمی تھے تو حضرت عمر نے اس کو بیت المال سے دوسری اونٹنی دے دی۔ تو یہ اس موقع پر اس دیہاتی نے شعر پڑھا تھا: اقسم باللہ أبو حفصٍ عمر۔ قسم اٹھا لی ہے اللہ کی أبو حفصِ عمر نے۔ تو دیکھو أبو حفص یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت ہے لیکن یہ کنیت مشہور نہیں، ہر ایک نہیں جانتا تو آگے عمر لا کر کیا کیا گیا؟ اس کی وضاحت کر دی گئی کہ أبو حفص سے مراد کون ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ۔ تو أبو حفصٍ عمر مقصود کون ہیں ان دونوں میں سے؟ ہاں ہاں، پھر وہی بات۔ ہاں۔ اگر آپ کہیں عمر مقصود ہے تو عمر تو دوسرے نمبر پر آیا، تابع ہے، حالانکہ عطفِ بیان میں تابع نہیں مقصود ہوتا بلکہ معطوف ابو حفص مقصود ہے، ہاں عمر نے آکر اس کی وضاحت کر دی کہ أبو حفص سے مراد عمر ہیں۔ وقتی کہ بہ علم مشہور تر باشد وقتی کہ جس وقت کہ بہ علم مشہور تر ہو علم سے زیادہ مشہور ہو۔ مشہور تر کا کیا معنی؟ زیادہ مشہور اور مشہور ترین یہ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مشہور کا معنی مشہور، مشہور تر زیادہ مشہور اور مشہور ترین سب سے زیادہ مشہور تو وقت کے بعلم مشہور تر باشد جس وقت کے علم سے زیادہ مشہور ہو۔ کوئی شخص جب علم سے زیادہ مشہور ہو اور پہلے کنیت ذکر کر دی تو پھر علم لا کر کیا کر دیا جائے گا؟ اس کی وضاحت کر دی جائے گی اور اس کو کیا کہیں گے؟ عطفِ بیان کہیں گے۔ یاد رکھو ایک ہے کنیت، کنیت سمجھ لیں۔ کنیت وہ ہے کہ نام سے پہلے اب، اُم، ابن، بنت وغیرہ کا لفظ آ جائے. ابو عمر عرب میں کنیت بہت استعمال ہوتی تھی۔ معزز لوگ اپنے لیے کنیت اختیار کرتے تھے بھئی سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ دیکھو ابوحنیفہ۔ دیکھو یہ اپنی کنیت سے زیادہ مشہور ہیں بھئی۔ تو حالانکہ ان کا نام نعمان تھا بھئی رحمہ اللہ۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا اصل نام کیا تھا؟ نعمان نام تھا لیکن وہ اپنی کنیت سے مشہور ہیں تو یہ عرب میں طریقہ تھا کہ اپنی کنیت لوگ رکھا کرتے تھے۔ تو اس میں کنیت میں میں نے بتایا کیا ہوتا ہے؟ اب، اُم، ابن، بنت وغیرہ اس جیسے لفظ آتے ہیں تو ابو حنیفہ دیکھو ابو کا لفظ آیا ہے شروع میں۔ ابوحنیفہ۔ اسی طرح ابنِ عمر۔ حضرت عبداللہ ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہما۔ یہ اپنی کنیت سے زیادہ مشہور ہیں ابنِ عمر۔ جب بھی ذکر کیا جاتا ہے کس نام سے ذکر کرتے ہیں ان کو؟ ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے۔ تو بعض اوقات کسی کا نام زیادہ مشہور ہوتا ہے، بعض اوقات کسی کی کنیت زیادہ مشہور ہوتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نام ہے عمر اور کنیت کیا ہے؟ ابو حفص۔ کیا زیادہ مشہور؟ عمر نام زیادہ مشہور ہے تو جو زیادہ مشہور ہو اس کو عطفِ بیان بناتے ہیں اور ابو حفص چونکہ مشہور نہیں تھا لہذا اس کو معطوفٌ علیہ بنایا اور عمر کو کیا بنایا؟ عطفِ بیان بنایا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ان کے ان کا نام زیادہ مشہور تھا اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان کی کنیت زیادہ مشہور ہے تو جب کنیت زیادہ مشہور ہو تو پھر کنیت کو عطفِ بیان بناتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: قال نعمان أبو حنیفۃ۔ دیکھا۔ قال نعمان نعمان نے کہا، آپ کو پتہ نہیں چلا کہ کون ہے نعمان؟ آگے میں نے عطفِ بیان ابوحنیفہ کہہ دیا، اب آپ کو بات سمجھ میں آ گئی۔ تو نام یا کنیت میں سے جو زیادہ مشہور ہو اس کو عطفِ بیان بناتے ہیں اور جو کم مشہور ہو اس کو پہلے معطوفٌ علیہ بنا دیتے ہیں۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ معنی ہے تو اقسم باللہ أبو حفصٍ عمر وقتی کہ بعلم مشہور جی ترکیب کر لیں۔ اقسم باللہ۔ اقسم فعل۔ اور آگے أبو حفص یہ فاعل ائے گا۔ اقسم فعل با جارہ لفظِ اللہ مجرور لفظاً مجرور مجرور مل کر اقسم سے فعل متعلق۔ اقسم سے أبو مرفوع لفظاً مضاف۔ مرفوع کیوں؟ فاعل ہے شاباش۔ حفصٍ مضافٌ علیہ ہے مجرور لفظاً۔ مضاف اپنے مضافٌ علیہ سے مل کر یہ معطوفٌ علیہ۔ اور عمر کیا ہے؟ مرفوع لفظاً عطفِ بیان۔ تو یوں یوں کہہ لیں أبو حفصٍ یہ ہے معطوفٌ علیہ مبین۔ چاہے مبین بھی ساتھ ملا لیں تاکہ سننے والے کو فورا سمجھ میں آجائے۔ تو معطوفٌ علیہ مبین تو مبین چاہے ملائیں یا نہ ملائیں بات ایک ہی ہے تو أبو حفص ہوا معطوفٌ علیہ اور عمر کیا ہے؟ عطفِ بیان۔ تو معطوفٌ علیہ اپنے عطفِ بیان سے مل کر یہ فاعل ہوا اقسم کا۔ اقسم فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب یہ عمر پر بھی میں نے رفع پڑھا عمر اس پر رفع کیوں پڑھا؟ کیونکہ یہ عطفِ بیان ہے، یہ تابع ہے اور تابع پر وہی رہا بات ہے جو کس پر آئے؟ مطبوع پر جیسے اوپر جاءنی زید و عمر یہ عمر پر میں نے کیا پڑھا؟ رفع کیوں رفع پڑھا؟ کیونکہ کیونکہ معطوف علیہ پر بھی کیا تھا؟ رفع تھا بھئی۔ اقسامه فعل باللہ جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ اقسامه سے۔ ابو حفصن ابو مرفوع لفظاً مضاف، حفصن مجرور لفظاً مضاف الیه۔ مضاف اپنے مضاف الیه سے مل کر معطوف الیه یا اس کو معطوف الیه مبین کہیں، کیا کہیں؟ مبین۔ مبین یعنی جس کو جس کا جس کو بیان کیا جائے تو یہ معطوف الیه مبین ہے اور آگے عمر جو ہے وہ اس کا عطف بیان ہے۔ تو اس کو مبین بھی کہہ سکتے ہیں آپ کیونکہ آگے اس کا بیان آ رہا ہے۔ یہ معطوف الیه مبین اور آگے عطف بیان ہے بھئی۔ یا صرف یوں کہہ لیں کہ ابو حفص یہ معطوف الیه اور عمر جو ہے وہ عطف بیان۔ تو مببین کا کیا معنی؟ جس کا آگے جس کو بیان کیا جائے یعنی جس کا آگے بیان آ رہا ہے تو چونکہ آگے عطف بیان آ رہا ہے لہذا یہاں مبین کا لفظ بھی بولنا چاہیں آپ ملا سکتے ہیں۔ یا صرف معطوف الیه کہنا چاہیں وہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ تو معطوف الیه مبین اور عمر اس کے لیے عطف بیان یا ابو حفص یہ معطوف الیه اور عمر اس کے لیے عطف بیان تو جس طرح آپ کو آسانی ہو آپ دونوں طرح کہہ سکتے ہیں۔ معطوف الیه مبین اپنے عطف بیان سے مل کر یہ فاعل ہوا کس کے لیے؟ اقسامه فعل کے لیے۔ اقسامه فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ تو وقت کہ اب عالم مشہور تر باشد جس وقت کہ نام سے زیادہ مشہور ہو وجاءنی زید ابو عمرو آیا میرے پاس زید ابو عمرو وقت کہ بکونیت مشہور تر باشد۔ جس وقت کہ وہ کنیت سے زیادہ مشہور ہو جاءنی زید میں نے زید کہا آپ کو پتہ نہیں چلا کہ کون سا زید آگے میں نے ابو عمرو لا کر کیا کر دی اس کی وضاحت کر دی بھئی۔ تو جو زیادہ مشہور ہو اس کو عطف بیان بناتے ہیں۔ عطف بیان۔ بات سمجھ میں آگئی۔ کیا انہوں نے کہا؟ کہ عطف بیان وہ تابع ہے غیر صفت صفت کے علاوہ کہ مطبوع را روشن گرداند جو مطبوع کو کیا کر دے؟ واضح کر دے، واضح کر دے۔ جو اپنے مطبوع کو کیا کر دے؟ واضح کر دے۔ دیکھو ابو حفص یہ واضح نہیں تھا عمر نے آ کر کیا کر دیا اس کو؟ واضح کر دیا اور نیز عمر صفت نہیں ہے ابو حفص کی صفت تو اس کو کہتے ہیں جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو کس میں پایا جائے؟ مطبوع میں۔ حالانکہ عمر تو ایسے معنی پر دلالت نہیں کر رہا جو کس میں پایا جائے؟ مطبوع یعنی ابو حفص میں۔ اور اسی طرح زید دوسری مثال جاءنی زید ابو عمرو یہ ابو عمرو یہ بھی صفت نہیں ہے بھئی کیونکہ صفت تو ایسے معنی پر دلالت کرتی ہے جو کس میں پایا جائے؟ مطبوع میں۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اچھا ان کی تقریر سے معلوم ہوا کہ عطف بیان وہ زیادہ مشہور ہونا چاہیے معطوف الیه کے مقابلے میں۔ توجہ ہے؟ پہلے جو آئے وہ کیا؟ معطوف الیه اور جو بعد میں آئے وہ ہے عطف بیان۔ ان کی تقریر سے معلوم ہوا کہ جو عطف بیان ہے وہ زیادہ مشہور ہونا چاہیے کس کے مقابلے میں؟ معطوف الیه تاکہ یہ اس کی وضاحت کرے یہ زیادہ مشہور ہوگا تو وضاحت کرے گا اگر کم مشہور ہے تو یہ وضاحت نہیں کرے گا۔ جبکہ بعض نحوی حضرات فرماتے ہیں کہ عطف بیان کا زیادہ مشہور ہونا ضروری نہیں۔ توجہ ہے؟ عطف بیان کا زیادہ مشہور ہونا ضروری نہیں ہاں معطوف الیه اور عطف بیان ملیں گے تو پھر وضاحت حاصل ہو جائے گی۔ توجہ ہے؟ انہوں نے تو کیا تقریر کی؟ کہ عطف بیان کو زیادہ مشہور ہونا چاہیے لیکن بعض نحوی حضرات کیا فرماتے ہیں؟ زیادہ مشہور ہونا ضروری نہیں ہاں معطوف الیه اور عطف بیان جب دونوں ملیں گے تو وضاحت ہو جائے گی بات سمجھ میں اجائے گی۔ مثلا دیکھو آپ کے دو دوست ہیں اور دونوں کا نام زید ہے۔ توجہ ہے؟ دونوں کا نام زید ہے۔ اور ایک دوست ہے آپ کا اس کا نام ہے عبدالرحمن۔ تین ساتھی ہیں۔ دو کا نام کیا؟ زید۔ اچھا میں کہتا ہوں جاءنی زید میرے پاس زید آیا تھا کچھ پتہ چلا آپ کو کون سا زید آیا ہے؟ نہیں۔ دیکھا کیونکہ دو کا نام ہے آپ کو پتہ ہی نہیں چلا۔ ہاں دو زید ہیں اور ایک عبدالرحمن ہے۔ البتہ ایک زید اور عبدالرحمن ان دونوں کی کنیت ابو عمرو ہے۔ ان میں سے ایک زید کی کنیت کیا؟ ابو عمرو اور عبدالرحمن کی کنیت بھی کیا؟ ابو عمرو۔ کتنے ساتھی ہیں کل؟ تین ہیں، دو کا نام زید اور ایک کا نام عبدالرحمن اور ایک زید کی کنیت ابو عمرو اور عبدالرحمن کی کنیت بھی ابو عمرو۔ میں آپ کے سامنے کہتا ہوں جاءنی زید میرے پاس زید آیا تھا کچھ آپ کو پتہ چلا کون سا زید؟ نہیں۔ میں آپ کے سامنے کہتا ہوں جاءنی ابو عمرو میرے پاس ابو عمرو آیا تھا آپ کو پتہ چلا کون سا ابو عمرو؟ ایک زید ہے اور ایک عبدالرحمن ہے کون سا آپ کو پتہ ہی نہیں چلا۔ ہاں جب دو کو میں ملاؤں گا اور وضاحت ہو جائے مثلا میں آپ سے کہتا ہوں جاءنی زید ابو عمرو اب وضاحت ہو گئی معلوم وہ کون سا زید ہے؟ جس کی کنیت کیا ہے؟ ابو عمرو تو دیکھا تو دونوں کے ملنے سے وضاحت ہو جائے چاہے دوسرا یعنی عطف بیان وہ معطوف الیه سے کم مشہور ہو جائے۔ بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح۔ کتاب میں کیا تقریر کی عطف بیان کسے کہتے ہیں؟ جو معطوف الیه سے زیادہ مشہور ہونا چاہیے لیکن بعض علماء کیا فرماتے ہیں کہ زیادہ مشہور ہونا ضروری نہیں برابر ہو اس سے کم ہو پھر بھی وہ عطف بیان بن سکتا ہے بشرطیکہ دونوں کے ملنے سے کیا حاصل ہو جائے؟ وضاحت حاصل ہو جائے۔ تو میں نے کہاجاءنی زید ابو عمرو اب آپ کو پتہ چل گیا کہ کون سا والا زید مراد ہے یا میں صرف کہہ رہا تھا ابو عمرو تب آپ کو پتہ نہیں چل رہا تھا لیکن میں کہتا ہوں جاءنی عبدالرحمن ابو عمرو اب آپ کو پتہ چل گیا کون سا والا ابو عمرو مراد ہے؟ عبدالرحمن جو ہے۔ अच्छा یہاں ایک دو باتیں اور میں ذکر کر دوں بھئی۔ انہوں نے کیا کہا؟ عطف بیان وہ تابع ہے جو اپنے مطبوع کی وضاحت کرے توجہ ہے؟ آخری چند باتیں، قیمتی باتیں کہ اپنے مطبوع کی وضاحت کرے اور صفت کے علاوہ ہو۔ یہ صفت کے علاوہ کیوں لگانے کی ضرورت پڑی؟ صفت کے علاوہ وجہ یہ کہ صفت بھی اپنے مطبوع کی وضاحت کرتی ہے۔ صفت بھی کیا کرتی ہے؟ اپنے مطبوع کی وضاحت کرتی ہے اور عطف بیان بھی اپنے اس مطبوع کی وضاحت کرتا ہے اس لیے کہا کہ یہ صفت کے علاوہ ہوگا صفت نہیں ہوگی۔ صفت بھی اپنے مطبوع کی وضاحت کرتی ہے اگر صرف یہ کہہ دیتے عطف بیان وہ تابع ہے جو اپنے مطبوع کی وضاحت کرتا ہے پھر تو ہمیں فرق ہی پتہ نہ چلتا صفت بھی کیا کرتی ہے اپنے مطبوع کی وضاحت، عطف بیان بھی کیا کرتا ہے اپنے مطبوع کی وضاحت کرتا ہے تو بتلا دیا کہ یہ صفت کے علاوہ ہوگا اور صفت تو ایسے معنی پر دلالت کرتی تھی جو مطبوع کے اندر پایا جائے اور یہ ایسے معنی پر دلالت نہیں کرے گا۔ دیکھو صفت میں سمجھو صفت کیسے وضاحت کرتی ہے؟ یاد رکھو صفت معرفہ کی بھی آتی ہے اور نکرہ کی بھی جاءنی زید العالمو۔ زید موصول العالم اس کی صفت جاءنی زید العالمو۔ اور نکرہ بھی ہو سکتا ہے یہاں جاءنی رجل عالم رجل نکرہ عالم اس کی صفت بھی نکرہ اور زید معرفہ تھا اور العالم اس کی صفت بھی معرفہ تو صفت معرفہ کی بھی آتی ہے صفت نکرہ کی بھی۔ لیکن معرفہ میں جو صفت آتی ہے وہ اس کی وضاحت کرتی ہے۔ کیا کرتی ہے؟ وضاحت۔ مثلا میں نے آپ سے کہتا ہوں جاءنی زید العالم آيا میرے پاس وہ زید جو عالم ہے۔ اس زید میں دونوں احتمال تھے آپ کو پتہ نہیں تھا کہ پتہ نہیں عالم ہے یا عالم نہیں۔ جب میں نے العالم کی صفت بياضات ذکر کر دی اب آپ پر واضح ہو گیا کہ زید کیا ہے؟ عالم ہے معلوم ہوا غیر عالم نہیں۔ توجہ ہے؟ میں اگر صرف یہ کہوں جاءنی زید میرے پاس کون آیا؟ زید تو زید میں تو دونوں احتمال ہے ہو سکتا ہے عالم ہو ہو سکتا ہے عالم نہ ہو لیکن جب میں نے العالم صفت کے ساتھ ذکر کر دی تو وضاحت ہو گئی۔ معلوم ہوا زید کیا ہے؟ عالم ہے، غیر عالم نہیں ہے۔ یا میں کہتا ہوں جاءنی زید التاجر آيا میرے پاس وہ زید جو تاجر ہے تو یہ تاجر میں صفت لایا کس کی؟ معرفہ کی اور معرفہ میں صفت کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ وضاحت کا، وضاحت کا۔ دیکھو اگر میں صرف کہتا جاءنی زید آيا میرے پاس کون؟ زید تو آپ کو پتہ نہ چلتا کہ وہ تاجر ہے یا تاجر نہیں لیکن جب میں تاجر لے آیا اب کیا ہو گئی؟ وضاحت ہو گئی اب موصول واضح ہو گیا معلوم ہوا وہ کون ہے؟ تاجر۔ تو معرفہ کے اندر توجہ سے معرفہ کے اندر جو صفت لائی جاتی ہے وہ موصول کی وضاحت کر دیتی ہے اس کو واضح کر دیتی ہے موصول میں مثلا عالم اور غیر عالم ہونے دونوں کا احتمال تھا العالم نے آ کر غیر عالم کے احتمال کو ختم کر دیا۔ اسی طرح جاءنی زید التاجر زید کے اندر تاجر اور غير تاجر دونوں کا احتمال تھا لیکن جب میں نے تاجر کا لفظ ساتھ جوڑ دیا اس نے غیر تاجر کے احتمال کو ختم کر دیا۔ تو معرفہ میں صفت کس لیے لائی جاتی ہے؟ وضاحت کے لیے، توضیح کے لیے بھئی تاکہ وہ واضح ہو جائے۔ جبکہ نکرہ میں صفت تخصیص کے لیے لائی جاتی ہے جاءنی رجل مومن آيا میرے پاس ایسا آدمی جو مومن یہ یوں کہیں جاءنی غلام مومن میرے پاس مومن غلام آیا اب غلام دنیا میں ایک کروڑ غلام تھے تو اس غلام میں کتنے احتمال؟ ایک کروڑ لیکن مومن غلام تو کتنے ہیں صرف ایک لاکھ تو جب میں نے کہا جاءنی غلام مومن اب کتنے غلام مراد ہو سکتے ہیں کتنے غلاموں پر یہ صادق آئے گا صرف؟ صرف ایک لاکھ۔ دیکھو تو نکرہ کی جب صفت آتی ہے اس میں تخصیص پیدا کرتی ہے یعنی احتمالات کو کم کر دیتی ہے۔ توجہ ہے؟ نکرہ میں صفت کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ تخصیص کا یعنی احتمالات کو کم کر دیتی ہے اور معرفہ میں جو صفت آتی ہے وہ کس چیز کا فائدہ؟ وضاحت یعنی توضیح کہو توضیح لفظ اور معرفہ میں صفت کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ توضیح کا اس کو واضح کر دیتی ہے۔ تو دیکھا صفت بھی وضاحت کرتی ہے اپنے مطبوع کی جاءنی زید العالم آيا میرے پاس وہ زید جو عالم تھا تو زید میں عالم ہونے کا بھی احتمال اور غیر عالم ہونے کا بھی احتمال العالم نے آ کر کیا بتلا دیا؟ کہ عالم ہے کہ عالم ہے غیر عالم ہونے کا احتمال ختم کر دیے دیکھو یہ وضاحت کر دی۔ اسی لیے انہوں نے یہاں پر کہا کہ دیکھو پھر تعریف دیکھو۔ عطف بیان وہ تابع ہے عطف بیان وہ تابع ہے غیر صفت جو کہ صفت کے علاوہ ہو کہ مطبوع را روشن گرداند جو مطبوع کی کیا کر دے؟ وضاحت کر دے۔ صفت بھی تو معرفہ میں وضاحت کرتی ہے تو صفت کو نکال دیا کہ صفت کے علاوہ ہوگا صفت نہیں ہوگا اور صفت کسے کہتے تھے؟ جو ایسے معنی پر دلالت کرے جو مطبوع میں ہو یا مطبوع کے متعلق میں ہو جبکہ عطف بیان میں ایسا نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح۔ دیکھیے پھر ترجمہ دیکھ لیں کہتے ہیں پنجوں عطف بیان وہ تابع ہے صفت کے مطبوع را روشن گرداند عطف بیان وہ تابع ہے جو صفت کے علاوہ ہو اور مطبوع کو واضح کر دے چونکہ اقسم بالله ابو حفص عمر قسم اٹھا لی اللہ کی ابو حفص عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے۔ وقت کہ با علم مشہور تر باشد جس وقت کہ علم سے زیادہ مشہور ہو جاءنی زید ابو عمرو وقت کہ با کنیت مشہور تر باشد جس وقت کہ کنیت سے کیا ہو؟ مشہور ہو۔ تو دو مثالیں دیں بھئی مصنف نے یہاں ایک میں دیکھو ابو حفص کنیت کو پہلے لائے اور عمر جو نام تھا اس کو عطف بیان بنایا کیونکہ نام زیادہ مشہور تھا اور دوسری مثال جاءنی زید ابو عمرو اس میں زید جو نام ہے اس کو معطوف الیه بنایا۔ اور ابو عمرو جو ہے کنیت اس کو عطف بیان بنایا کیونکہ یہاں کنیت زیادہ مشہور ہے تو جو زیادہ مشہور ہو اگر نام زیادہ مشہور ہو تو نام کو پھر عطف بیان بنائیں گے اور اگر کنیت زیادہ مشہور ہو تو پھر کنیت کو عطف بیان بنائیں گے یعنی بعد میں اس کو لائیں گے پہلے دوسرے لفظ کو لائیں۔ معلوم ہوا ان کے نزدیک عطف بیان کو معطوف الیه سے زیادہ مشہور ہونا چاہیے جبکہ بعض دیگر علماء کیا فرماتے ہیں زیادہ مشہور ہونا ضروری نہیں۔ کم بھی ہو برابر ہو پھر بھی وہ عطف بیان بن سکتا ہے بشرطیکہ دونوں کے ملنے سے وضاحت حاصل ہو جاتی ہو بھئی۔ وضاحت اور یہ یاد رکھو اس میں بعض علماء بہت بڑے بڑے نحوی فرماتے ہیں کہ ہماری ساری عمر گزر گئی لیکن ہمیں عطف بیان اور بدل میں فرق کا پتہ نہیں چلا۔ ہمیں عطف بیان اور بدل کا پتہ نہیں چلا ہم نے جس عطف بیان کی جس مثال پر بھی غور کیا وہ ہمیں بدل الكل لگا۔ کیا لگا؟ بدل الكل۔ دیکھو اقسم بالله ابو حفص عمر ابو حفص جس ذات پر دلالت کر رہا ہے بدل کی بدل الكل کی تعریف لگاؤ ابو حفص کا جو مدلول ہے عمر کا بھی وہی وہ ہی مدلول وہی مدلول۔ ابو حفص جس ذات پر دلالت کر رہا ہے عمر بھی اسی پوری ذات پر دلالت کر رہا ہے تو وہ ائمہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تمام عمر ہمیں عطف بیان اور بدل میں فرق کا پتہ نہیں چلا۔ ہم نے جس عطف بیان میں بھی غور کیا وہ ہمیں بدل الكل معلوم ہوا۔ بات سمجھ میں آگئی لیکن بعض مثالوں کے اندر فرق ہو جاتا ہے وہ انشاءاللہ تفصیل اگلی کتابوں میں آپ پڑھ لیں گے۔ حاصل کلام پھر سن لیں آج آپ نے دو توابع پڑھے ایک عطف با حرف اور ایک عطف بیان۔ عطف با حرف انہوں نے بتلایا وہ تابع ہے جو حرف عطف کے بعد آتا ہے اور جہاں پر تابع اور مطبوع دونوں مقصود بنسبت ہوتے ہیں۔ اور اس کو عطف نسق بھی کہتے ہیں نسق کا معنی ہے ترتیب دینا کیونکہ یہ بھی بعض جگہ پر ترتیب کا فائدہ دیتا ہے یہ عطف اس لیے اس کو عطف نسق بھی کہتے ہیں۔ پھر آپ نے عطف بیان کے بارے میں پڑھا۔ انہوں نے آپ کو بتلایا عطف بیان وہ تابع ہے جو اپنے مطبوع کی وضاحت کرے اور یہ صفت کے علاوہ ہوتا ہے صفت نہیں ہوتا۔ اور اس کے اندر عطف بیان کا معطوف الیه سے زیادہ مشہور ہونا ضروری ہے تاکہ یہ کیا کرے؟ بعد میں آ کر اس کی وضاحت کر دے۔ جبکہ بعض علماء کیا فرماتے ہیں اس کا زیادہ مشہور ہونا ضروری نہیں۔ ہاں دونوں کے ملنے سے وضاحت حاصل ہو جائے تو تو پھر اس صورت میں چاہے کم مشہور ہی کیوں نہ ہو وہ عطف بیان بن سکتا ہے۔ چلیے بس بھئی ہذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔