آگے سبق دیکھیے بھئی کتاب پر۔ سوم بدلو واو تابع است کہ مقصود با نسبت او باشد و بدل بر چہار قسم است بدل الكل و بدل الاشتمال و بدل الغلط و بدل البعد بدل الكل آن است کہ مدلولش مدلول مبدل منہ باشد چو جاءنی زید اخوک و بدل البعد آن است کہ مدلولش جزء مبدل منہ باشد چو ضرب زید رأسہ اچھا بھئی ہم توابع کے بارے میں پڑھ رہے تھے اور آپ نے پڑھا کہ تابع وہ ہے جس پر وہی اعراب آتا ہے جو اس کے ماقبل پر آتا ہے۔ اور توابع پانچ ہیں ان پانچ میں سے ہم صفت کے بارے میں بھی پڑھ چکے، تاکید کے بارے میں بھی پڑھ چکے، آج بدل کے بارے میں پڑھیں گے۔ تو صفت، تاکید اور بدل یہ توابع میں سے ہیں اور ان پر وہی اعراب آتا ہے جو ان کے ماقبل پر ہوتا ہے۔ ماقبل پر اگر رفع ہو تو ان پر بھی رفع آئے گا، ماقبل یعنی متبوع پر اگر نصب ہو تو ان پر بھی نصب آئے گا اور اگر متبوع پر جر ہو تو ان پر بھی جر۔ یعنی صفت پر وہی اعراب آتا ہے جو موصوف پر آتا ہے، تاکید پر وہی اعراب آتا ہے جو مؤکد پر آتا ہے اور بدل پر وہی اعراب آتا ہے جو مبدل منہ پر آئے بھئی۔ کس پر آئے؟ مبدل منہ پر آئے بھئی۔ کل ہم نے تاکید کی تفصیل پڑھی تھی۔ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تاکید وہ تابع ہے جو متبوع کے حال کو پکا کرے نسبت میں یا شمول میں۔ اور یہ تاکید دو قسم کی ہے، ایک تاکید لفظی اور ایک تاکید معنوی۔ تاکید لفظی یہ ہے کہ بعینہ اسی پہلے لفظ کو دوبارہ لایا جائے، اس کا تکرار کیا جائے جیسے جاءنی زید زید۔ یہ زید ثانی جو ہے، یہ جو دوسری دفعہ زید لایا گیا، یہ پہلے زید کی تاکید ہے۔ یہ پہلے زید کو پکا کر رہا ہے نسبت کے اندر کہ جو آنے کی نسبت زید کی طرف کی گئی ہے، یہ نسبت اس سے زید ہی مراد ہے، کوئی زید کا اور سیکرٹری وغیرہ یا اس کا کوئی قریبی مراد نہیں۔ تو یہ تاکید لفظی ہے۔ تو تاکید لفظی بعینہ اس پہلے لفظ کا تکرار ائے یعنی اس کو دوبارہ لایا جائے تو اس کو تاکید لفظی کہتے ہیں۔ اور بعض اوقات وہی پہلا لفظ دوبارہ نہیں لایا جاتا بلکہ آٹھ نو الفاظ ہیں جیسے نفس، عین، کلا، کلتا، کل، اجمع، اقطع، ابتع اور ابسع۔ ان کے ذریعے بعض اوقات لفظوں کی تاکید لائی جاتی ہے۔ تو ان کے ذریعے جو تاکید لائی جائے اس کو تاکید معنوی کہتے ہیں کیونکہ یہ بعینہ اس پہلے لفظ کا تکرار نہیں تو یہ تاکید لفظی تو نہیں، البتہ معنی کے اندر یہ اپنے متبوع کو پکا کر رہے ہیں نسبت کے اعتبار سے یا شمول کے اعتبار سے، اس لیے ان کو تاکید معنوی کہتے ہیں۔ اور پھر ان کے بارے میں کل تفصیل بیان کی تھی کہ نفس اور عین ان کے ذریعے آپ مفرد کی تاکید بھی لا سکتے ہیں، تثنیہ کی تاکید بھی لا سکتے ہیں اور جمع کی تاکید بھی لا سکتے ہیں۔ اور اس میں صیغہ بھی بدلے گا اور ضمیر بھی بدلے گی۔ مفرد کے لیے مفرد کی ضمیر اور مفرد کا صیغہ۔ تثنیہ کے لیے تثنیہ کا صیغہ اور تثنیہ کی ضمیر یا جمع کا صیغہ اور تثنیہ کی ضمیر۔ اور جمع کے لیے جمع کا صیغہ اور جمع کی ضمیر لائیں گے۔ جبکہ کلا اور کلتا یہ بھی اضافت کے ساتھ استعمال ہوں گے، ان کے ساتھ ضمیر آئے گی اور یہ صرف تثنیہ کی تاکید کے لیے استعمال ہوتے ہیں کلا اور کلتا۔ مذکر کے لیے کلا اور مؤنث کے لیے کلتا۔ جبکہ کل، اجمع، اقطع، ابتع اور ابسع۔ ان کے ذریعے مفرد اور جمع کی تاکید لائی جاتی ہے، تثنیہ کی تاکید نہیں لائی جاتی۔ اور کل کے اندر صرف ضمیر بدلے گی، مفرد کے لیے مفرد کی ضمیر لائیں گے اور جمع کے لیے جمع کی جبکہ تثنیہ کی تاکید کے لیے یہ استعمال نہیں ہوتا۔ اور اجمع جو ہے اس کے ساتھ تو ضمیر نہیں آتی تو وہ اس میں یاد رکھیے صیغہ بدلے گا، مفرد کے لیے مفرد کا صیغہ لائیں گے اور جمع کے لیے جمع کا صیغہ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر ایک اور قیمتی بات میں نے آپ کو بتلائی تھی کہ بھئی یہ کل اور اجمع کے ذریعے جمع کی تاکید یہ بات تو ہمیں سمجھ میں آتی ہے۔ مفرد کی تاکید کل اور اجمع کے ذریعے لانے کا کیا معنی؟ مثلاً میں کہتا ہوں جاءنی زید کلہ، میرے پاس سارا زید آیا تھا، بھئی یہ تو بات ہی نہیں بنتی۔ زید تو جب بھی آئے گا سارا ہی آئے گا، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ نصف آئے اور نصف نہ آئے، تو پھر مفرد کی تاکید کیسے لا سکتے ہیں اس کے ذریعے؟ تو یاد رکھنا کہ کل اور اجمع کے ذریعے مفرد کی تاکید تب لائیں گے جب اس کے مفرد کے ٹکڑے ہو سکیں، چاہے وہ ٹکڑے حسان ہوں یعنی آنکھوں سے نظر آئیں، چاہے حکماً ہوں یعنی حکم لگا دیا جائے یا یوں کہو عام زیادہ آسان لفظوں میں کل اور اجمع کے ذریعے مفرد کی تاکید اس وقت لانا جائز ہے جب اس مفرد میں کے ٹکڑے ہو سکیں یعنی اس کی تقسیم ہو سکے، چاہے حقیقتاً تقسیم ہو چاہے حکماً۔ حقیقتاً تقسیم ہو اس کے ٹکڑے ہوں یعنی آنکھوں سے نظر آئیں، جیسے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں اکلت التفاحۃ کلھا۔ اکلت التفاحۃ کلھا، تفاحہ سیب کو کہتے ہیں، سیب اکلت التفاحۃ میں نے سیب کھایا کلھا سارا کا سارا، دیکھا التفاحہ مفرد ہے اور اس کی تاکید کل کے ساتھ لائی گئی اس لیے کیونکہ اس کے ٹکڑے ہونا ممکن ہے۔ سیب کے ٹکڑے کیے جا سکتے ہیں تو بس اس چیز کے ٹکڑے ہونے چاہئیں، یعنی اس میں تقسیم ہونی چاہیے، اگر وہ تقسیم کو قبول کرے چاہے حسّاً تقسیم کو کرے یعنی ظاہراً آنکھوں سے بھی نظر آئے اس کی تقسیم یا حسّاً تو تقسیم نہیں ہے تو پھر حکماً کم از کم اس تقسیم کو قبول کرے، جیسے اشتریت الغلام کلہ، میں نے سارے کے سارے غلام کو خرید لیا، اب دیکھو یہ غلام جو ہے، یہ اس کے حصے اور ٹکڑے ہو سکتے ہیں، حقیقتاً تو نہیں لیکن حکماً حکم لگا دیا جاتا ہے، دو آدمی مل کر غلام خریدتے ہیں تو کہتے ہیں یہ آدھا غلام ایک کا ہے اور آدھا غلام دوسرے کا، تو دیکھو یہ حکماً حکم لگا دیا گیا کہ اس کے دو حصے ہیں۔ حقیقت میں تو دو ٹکڑے کریں گے وہ تو زندہ ہی نہیں رہے گا وہ تو ختم ہو جائے گا، تو حکماً کیا ہے اس کے کتنے حصے کر دیے؟ دو حصے کر دیے یعنی حکم لگا دیا دو حصے ہونے کا، تو بعض چیزیں بعض چیزیں ایک ہوں گی لیکن اس میں ٹکڑے ہو سکتے ہیں، حصے ہو سکتے ہیں ظاہری کہ حقیقتاً بھی ٹکڑے ہو سکتے ہیں جیسے اکلت التفاحۃ کلھا کہ میں نے سارا سیب کھا لیا یا جیسے قرأت القرآن کلہ، میں نے پورا قرآن پڑھا۔ الگ الگ پارے دیکھا اس کے تیس حصے ہو گئے تو اس میں تیس سپارے ہیں، تو یہ قرآن ایک ہے لیکن اس کے حصے ہو سکتے ہیں۔ اس میں تقسیم ہو سکتی ہے تو جس چیز میں تقسیم ہو سکے چاہے حسّاً ہو چاہے حکماً اس کے لیے کل کو اور اجمع کو تاکید کے طور پر لا سکتے ہیں اور اگر اس کے حصے اور ٹکڑے نہیں ہو سکتے تو پھر اس مفرد کے لیے کل اور اجمع کو تاکید کے طور پر لانا صحیح نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ اقطع، ابتع اور ابسع یہ اجمع کے تابع ہیں، یعنی اس کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں اس کے بغیر نہیں۔ لہٰذا ان کو جب بھی استعمال کرنا ہے اجمع کے ساتھ استعمال کریں اور پھر ان کو اجمع کے ساتھ لانا ضروری نہیں چاہے آپ ان میں سے ایک کو بھی نہ لائیں، چاہے ایک کو لے آئیں، چاہے دو کو لے آئیں اور چاہے تینوں کو لے آئیں تو یہ اجمع کے تابع ہیں، اس کے بغیر استعمال نہیں ہوں گے اور نیز چونکہ یہ اجمع کے تابع ہیں تو اس پر کبھی مقدم بھی نہیں ہوں گے ہمیشہ اس کے بعد آئیں گے۔ آگے دیکھیے بھئی، سوم بدل واو تابع است کہ مقصود با نسبت او باشد و بدل بر چہار قسم است بدل الكل و بدل الاشتمال و بدل الغلت و بدل البعد۔ آج ہم بدل کے بارے میں پڑھیں گے۔ تابع کی تیسری قسم جو ہے بدل ہے۔ بدل یاد رکھو بدل سے ماقبل جو آئے اس کو کہتے ہیں مبدل منہ اور جو بعد میں آئے اس کو کہتے ہیں بدل۔ جاءنی زید اخوک آیا میرے پاس زید اخوک یعنی آپ کا بھئی۔ میرے پاس زید آپ کا بھئی آیا، تو اس کا ترجمہ یعنی کے ساتھ یا یعنی کے بغیر کر دیں، جاءنی زید میرے پاس زید آیا اخوک آپ کا بھئی، میرے پاس آپ کا بھئی زید آیا، ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ تو جاءنی زید۔ زید آپ کے بھئی کا نام ہے، تو زید کہہ لیں یا اخوک کہہ دیں ایک ہی بات ہے۔ اگر میں کہتا ہوں جاءنی اخوک، اس کا بھی یہی معنی کہ میرے پاس کون آیا تھا؟ زید، کیونکہ آپ کے بھئی کا کیا نام ہے؟ زید، تو میں کہوں جاءنی اخوک، اس کا معنی بھی ہے آپ کا بھئی آیا تھا، اور میں کہوں جاءنی زید، اس کا بھی معنی ہے کہ میرے پاس آپ کا بھئی زید آیا تھا۔ تو معلوم ہوا زید کہنا اور اخوک کہنا ایک ہی برابر ہے۔ جو زید ہے وہی کیا ہے آپ کا بھئی بھی ہے، تو زید کہہ لیں یا اخوک آپ کا بھئی کہہ لیں بات ایک ہی ہے۔ تو بعض اوقات دونوں کو استعمال کر لیا جاتا ہے اور یوں کہتے ہیں جاءنی زید اخوک۔ جاءنی زید اخوک، آیا میرے پاس زید یعنی آپ کا بھئی۔ یہ جو اخوک ہے، یہ بدل ہے زید سے کیونکہ دونوں ایک ہی ذات ہیں۔ یہ دونوں یہ اخوک یہ صفت کا صیغہ تو نہیں ہے، یہ تو صفت تو نہیں بن سکتی اس کی تو بدل بنے گا، کیا بنے گا؟ تو زید جو پہلے آیا اس کو بنائیں گے مبدل منہ اور جو بعد میں اخوک یہ اخوک میں اخ جو ہے مضاف اور کا ضمیر مضاف الیہ اور اخ جو ہے اسماء ستہ مکبرہ میں سے ہے اور اس کا رفع کس کے ساتھ آتا ہے؟ واو کے ساتھ، تو دیکھا یہاں پر بھی اخوک پیچھے زید پر رفع تھا تو اخوک یہ اخ لفظ کو بھی کیا لائے؟ مرفوع لائے۔ تو اخوک، اخ مرفوع لفظاً مضاف اور کا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ بدل اور زیدون کیا تھا؟ مبدل منہ، مبدل منہ اپنے بدل سے مل کر یہ فاعل بنے گا جاء کا، جاءنی زید اخوک، ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ مثلاً میں آپ کو بتلانا یہ چاہتا تھا میرے پاس آپ کا بھئی آیا، تو اس سے پہلے میں نے زید کو یعنی اس کے نام کو ویسے ساتھ ذکر کر دیا۔ میں نے اس کے نام کو ویسے ساتھ ذکر کرنا میں کیا چاہتا تھا؟ آپ کا بھئی آیا۔ میرے پاس آپ کا بھئی آیا تھا، لیکن آپ کا بھئی لفظ کہنے سے پہلے میں نے اس کے ساتھ ویسے ہی زید کا اضافہ یعنی اسی کے نام کا اضافہ کر دیا۔ تو یاد رکھو یہ جو بدل اور مبدل منہ ہوتا ہے، توجہ ہے؟ جاءنی زید اخوک بدل کون سا ہے ان میں سے؟ اخوک جو بعد میں آ رہا ہے اور جو پہلے آیا، وہ مبدل منہ ہے اور مبدل منہ پر جو اعراب آئے وہی کس پر آتا ہے؟ بدل پر بھی۔ مبدل منہ پر رفع ہو تو بدل پر بھی رفع، مبدل منہ پر نصب ہو تو بدل پر بھی نصب، مبدل منہ پر جر ہو تو بدل پر بھی جر ہوگا۔ تو یہ جو زید کو اس جملے میں جو ذکر کیا گیا، وہ ویسے ہی تمہید کے طور پر ذکر کیا گیا بھئی۔ تو یاد رکھو یہ جو مبدل منہ اور بدل ہے، مبدل منہ وہ جو پہلے آئے اور بدل جو بعد میں آئے۔ ان میں سے اصل مقصود بدل ہوتا ہے۔ اصل مقصود بدل ہوتا ہے۔ مبدل منہ کو ویسے ہی تمہید کے طور پر لے آتے ہیں۔ جیسے آپ بھئی کسی کے پاس گئے کوئی اپنا مسئلہ ذکر کرنا چاہتے ہیں، تو آپ جاتے ہی سیدھا مسئلہ ذکر کرتے ہیں یا پہلے ادھر ادھر کی ایک دو باتیں کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد اپنی بات ذکر کرتے ہیں؟ پہلے ادھر ادھر کی ایک آدھ بات ذکر کریں گے اور پھر آہستہ اپنے مسئلے کی طرف آ جائیں گے اور وہ ذکر کر دیں گے۔ تو تو وہ جو چند باتیں آپ شروع میں کرتے ہیں وہ ویسے ہی تمہید کے طور پر ذکر کرتے ہیں بھئی، آغاز کے طور پر کیا کرتے ہیں کچھ باتیں تو یہاں پر بھی مبدل منہ اور بدل ان میں سے اصل مقصود بدل ہوتا ہے۔ جاءنی زید اخوک، میں اصل میں جاءنی اخوک کہنا چاہتا تھا، کیا کہنا چاہتا تھا؟ ہاں شروع میں میں زید کو ویسے ہی تمہید کے طور پر شروع میں لے آیا۔ تو بدل اور مبدل منہ میں سے مقصود کون ہوتا ہے؟ بدل مقصود ہوتا ہے۔ جبکہ باقی توابع کے اندر یا تو جو پہلے آتا ہے جو متبوع جو پہلے آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ متبوع، جو بعد میں آئے اس کو تابع تو تابع کی کل کتنی قسمیں؟ پانچ، تو ان پانچ توابع میں سے باقی جگہ پر یا تو اول ہی مقصود ہوتا ہے یا دونوں مقصود ہوتے ہیں، لیکن بدل کے اندر معاملہ برعکس ہے، بدل کے اندر جو بعد میں آ رہا ہے یعنی جو بدل ہے وہ مقصود ہوتا ہے اور مبدل منہ کو شروع میں ویسے ہی تمہید کے طور پر ذکر کر دیا جاتا ہے، جاءنی زید اخوک تو اس میں اس میں مقصود کیا ہے؟ اخوک اور زید کو بطور تمہید کے ذکر کیا گیا۔ معلوم ہوا بدل اور مبدل منہ میں سے اصل مقصود کیا ہوگا؟ بدل ہوگا، بات سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے یہی تعریف کر رہے ہیں کہتے ہیں سوم بدل، تیسرا تابع جو ہے وہ بدل ہے اور وہ تابع است اور وہ وہ تابع ہے کہ مقصود بہ نسبت او باشد کہ نسبت کے ذریعے مقصود وہ ہوتا ہے مقصود بہ نسبت نسبت کے ذریعے جو مقصود ہو او باشد وہ وہ یعنی تابع وہ بدل ہوتا ہے۔ عبارت سمجھ میں آرہی ہے؟ پھر دیکھیں سوم بدل، تیسرا تابع جو ہے وہ بدل ہے اور وہ وہ تابع ہے کہ مقصود بہ نسبت او باشد کہ نسبت کے ذریعے مقصود وہ ہوتا ہے کون؟ بدل۔ بدل وہ تابع ہے کہ نسبت کے ذریعے وہ مقصود ہوتا ہے معلوم ہوا متبوع مقصود نہیں ہے بھئی، مقصود نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں بدل وہ تابع ہے کہ مقصود بہ نسبت او باشد کہ نسبت سے وہ مقصود ہوتا ہے اور بدل بر چہار قسم است اور بدل چار قسم پر ہے بدل الكل و بدل الاشتمال و بدل الغلت و بدل البعد یہ چار قسمیں ہیں بدل الكل، بدل البعد، بدل بدل کل مال اور بدل کل غلط۔ بدل کل غلط ان کو سمجھ لیں باقی آگے یہ تاریخ بیان کریں گے۔ سب سے پہلے بدل کل کو سمجھ لیں۔ یاد رکھو بدل کل وہ ہے کہ مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی چیز ہو، یعنی دونوں ایک ہی چیز پر دلالت کر رہے ہوں۔ زید، زید میں نے بولا آپ کے ذہن میں کس کی ذات آئی؟ زید کی۔ تو لفظ زید نے دلالت کی کس پر؟ ذات زید پر۔ لفظ زید نے کس پر دلالت کی؟ ذات زید پر۔ دیکھو میں ہم میں جو لفظ بولتا ہوں اس کا معنی آپ کے ذہن میں فوراً آتا چلا جاتا ہے اور اگر کوئی چیز ہے تو اس کی صورت ذہن میں آتی چلی جاتی ہے، اس کو کہتے ہیں دلالت۔ ایک چیز سے دوسری چیز ذہن میں آجائے، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ لگ جائے، اس کو کیا کہتے ہیں دلالت۔ میں نے کہا جیسے ہی کہا زید، فوراً آپ کے ذہن میں آپ کا ایک ساتھی ہے، آپ کا بھئی ہے اس کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی۔ میں نے کہا گلاس، فوراً ایک برتن کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی جس میں پانی پیا جاتا ہے۔ اسی طرح میں نے کہا کتاب، فوراً آپ کے ذہن میں ایک چیز کی صورت آگئی جس میں آپ پڑھتے ہیں۔ میں نے کہا قلم، فوراً آپ کے ذہن میں ایک چیز کی صورت آگئی جس کے ذریعہ آپ لکھتے ہیں۔ میں نے کہا سائیکل، فوراً آپ کے ذہن میں ایک چیز آگئی جس پر آپ سواری کرتے ہیں، اس کو چلاتے ہیں، اس پر سفر کرتے ہیں۔ تو بدل کل کی میں بات کر رہا تھا، بدل کل وہ ہے کہ مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہو۔ دونوں کا مدلول ایک ہی ہو۔ بھئی دال اور مدلول بھی سمجھ لو۔ ابھی میں نے بتایا کہ میں جو جو لفظ لیتا جا رہا ہوں آپ کے ذہن میں اس چیز کی صورت آتی جا رہی ہے۔ میں تو صرف زبان سے ایک لفظ بول رہا ہوں لیکن آپ کے ذہن میں مثلاً میں نے کہا گلاس، آپ کے ذہن میں فوراً ایک برتن کی صورت آگئی تو اس کو کہتے ہیں دلالت۔ ایک چیز سے دوسری چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آئے، میں نے تو صرف زبان کو حرکت دی لیکن آپ کے ذہن میں ایک برتن کی صورت آگئی۔ میں نے کوئی برتن آپ کے سامنے لا کر رکھا؟ نہیں، میں نے زبان سے صرف گلاس کہا۔ میں نے ایک لفظ بولا اور اس لفظ سے ایک چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی۔ میں نے کہا پہاڑ، فوراً ایک پہاڑ کی صورت آپ کے ذہن تو دیکھا یہ جو لفظ ہیں یہ اپنے معنی پر دلالت کرتے ہیں یعنی ان سے وہ معنی سمجھ میں آتا ہے۔ جیسے آپ کمرے میں بیٹھے ہیں، صبح صبح کا وقت تھا آپ کمرے میں بیٹھے تھے اچانک آپ کی نظر پڑی کہ کھڑکی میں سے کمرے کے اندر دھوپ آ رہی ہے، آپ سمجھ گئے۔ کیا سمجھے؟ کہ سورج نکل آیا ہے۔ بھئی آپ کی نظر تو صرف دھوپ پر پڑی ہے لیکن آپ کو پتہ کس کا چل گیا؟ سورج۔ اس کو کہتے ہیں دلالت۔ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے یا جیسے آپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا آپ کو فوراً پتہ چل گیا کہ نیچے نیچے آگ ہے۔ تو دیکھا دھوئیں سے آگ کا پتہ چلنا، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلنا اس کو کیا کہتے ہیں دلالت۔ پھر یہ جس چیز سے پتہ چلا اس کو کہتے ہیں دال، دال الف لام اور لام مشدد ہے، دال۔ اور جس چیز کا پتہ چلا اس کو کہتے ہیں مدلول۔ دھوئیں سے کس کا پتہ چلا؟ آگ کا۔ تو دھواں ہوا دال، یہ ہے یہ دلالت کر رہا ہے اور کس پر دلالت کی؟ آگ پر تو اس کو کہتے ہیں مدلول۔ تو دھواں ہوا دال اور آگ ہوئی مدلول۔ اسی طرح آپ نے دھوپ کو دیکھا اس سے آپ کو سورج کے نکلنے کا پتہ چل گیا تو دھوپ کیا ہوئی؟ دال اور سورج کا پتہ چلا وہ کیا ہے؟ مدلول۔ اسی طرح میں نے گلاس کا لفظ بولا اور آپ کے ذہن میں گلاس کی صورت آگئی تو یہ لفظ گلاس یہ کیا ہے؟ دال اور وہ جو صورت ذہن میں آئی وہ کیا ہے؟ مدلول۔ تو دال اور مدلول کا پتہ چل گیا؟ تو یاد رکھو بدل کل جو ہے اس میں مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہوتا ہے۔ دونوں سے ایک ہی چیز ذہن میں آتی ہے۔ جیسے جاءنی زید اخوکا۔ زید ہے مبدل منہ۔ میں نے جیسے ہی زید کہا آپ کے بھئی کا نام زید ہے تو جیسے ہی میں نے زید کہا آپ کے ذہن میں فوراً آپ کے بھئی زید کی صورت آگئی۔ تو لفظ زید نے دلالت کی کس پر؟ ذات زید پر۔ پھر میں نے کہا اخوکا، آپ کا بھئی، اس سے بھی آپ کے ذہن میں کس کی صورت آئی؟ زید ہی کی صورت آئی کوئی الگ صورت نہیں۔ تو دیکھا لفظ زید نے جس چیز پر دلالت کی تھی اخوکا اس بدل نے بھی اسی پر دلالت کی۔ تو بدل کل اس کو کہتے ہیں۔ بدل کل کہ مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہو۔ دونوں کا مدلول ایک ہی ہو۔ بھئی دال اور مدلول بھی سمجھ لو۔ ابھی میں نے بتایا کہ میں جو جو لفظ لیتا جا رہا ہوں آپ کے ذہن میں اس چیز کی صورت آتی جا رہی ہے۔ میں تو صرف زبان سے ایک لفظ بول رہا ہوں لیکن آپ کے ذہن میں مثلاً میں نے کہا گلاس، آپ کے ذہن میں فوراً ایک برتن کی صورت آگئی تو اس کو کہتے ہیں دلالت۔ ایک چیز سے دوسری چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آئے، میں نے تو صرف زبان کو حرکت دی لیکن آپ کے ذہن میں ایک برتن کی صورت آگئی۔ میں نے کوئی برتن آپ کے سامنے لا کر رکھا؟ نہیں، میں نے زبان سے صرف گلاس کہا۔ میں نے ایک لفظ بولا اور اس لفظ سے ایک چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی۔ میں نے کہا پہاڑ، فوراً ایک پہاڑ کی صورت آپ کے ذہن তো دیکھا یہ جو لفظ ہیں یہ اپنے معنی پر دلالت کرتے ہیں یعنی ان سے وہ معنی سمجھ میں آتا ہے۔ جیسے آپ کمرے میں بیٹھے ہیں، صبح صبح کا وقت تھا آپ کمرے میں بیٹھے تھے اچانک آپ کی نظر پڑی کہ کھڑکی میں سے کمرے کے اندر دھوپ آ رہی ہے، آپ سمجھ گئے۔ کیا سمجھے؟ کہ سورج نکل آیا ہے بھئی آپ کی نظر تو صرف دھوپ پر پڑی ہے لیکن آپ کو پتہ کس کا چل گیا؟ سورج، اس کو کہتے ہیں دلالت۔ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے یا جیسے آپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا آپ کو فوراً پتہ چل گیا کہ نیچے نیچے آگ ہے۔ تو دیکھا دھوئیں سے آگ کا پتہ چلنا، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلنا اس کو کیا کہتے ہیں دلالت۔ پھر یہ جس چیز سے پتہ چلا اس کو کہتے ہیں دال، دال الف لام اور لام مشدد ہے، دال اور جس چیز کا پتہ چلا اس کو کہتے ہیں مدلول۔ دھوئیں سے کس کا پتہ چلا؟ آگ کا تو دھواں ہوا دال، یہ ہے یہ دلالت کر رہا ہے اور کس پر دلالت کی؟ آگ پر تو اس کو کہتے ہیں مدلول تو دھواں ہوا دال اور آگ ہوئی مدلول۔ اسی طرح آپ نے دھوپ کو دیکھا اس سے آپ کو سورج کے نکلنے کا پتہ چل گیا تو دھوپ کیا ہوئی؟ دال اور سورج کا پتہ چلا وہ کیا ہے؟ مدلول۔ اسی طرح میں نے گلاس کا لفظ بولا اور آپ کے ذہن میں گلاس کی صورت آگئی تو یہ لفظ گلاس یہ کیا ہے؟ دال اور وہ جو صورت ذہن میں آئی وہ کیا ہے؟ مدلول۔ تو دال اور مدلول کا پتہ چل گیا؟ تو یاد رکھو بدل کل جو ہے اس میں مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہوتا ہے، دونوں سے ایک ہی چیز ذہن میں آتی ہے جیسے جاءنی زید اخوکا۔ زید ہے مبدل منہ، میں نے جیسے ہی زید کہا آپ کے بھئی کا نام زید ہے تو جیسے ہی میں نے زید کہا آپ کے ذہن میں فوراً آپ کے بھئی زید کی صورت آگئی۔ تو لفظ زید نے دلالت کی کس پر؟ ذات زید پر، پھر میں نے کہا اخوکا، آپ کا بھئی، اس سے بھی آپ کے ذہن میں کس کی صورت آئی؟ زید ہی کی صورت آئی، کوئی الگ صورت نہیں۔ تو دیکھا لفظ زید نے جس چیز پر دلالت کی تھی اخوکا اس بدل نے بھی اسی پر دلالت کی۔ تو بدل کل اس کو کہتے ہیں، بدل کل کہ مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، دونوں کا مدلول ایک ہی ہو۔ بھئی دال اور مدلول بھی سمجھ لو۔ ابھی میں نے بتایا کہ میں جو جو لفظ لیتا جا رہا ہوں آپ کے ذہن میں اس چیز کی صورت آتی جا رہی ہے، میں تو صرف زبان سے ایک لفظ بول رہا ہوں لیکن آپ کے ذہن میں مثلاً میں نے کہا گلاس، آپ کے ذہن میں فوراً ایک برتن کی صورت آگئی۔ تو اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آئے، میں نے تو صرف زبان کو حرکت دی لیکن آپ کے ذہن میں ایک برتن کی صورت آگئی۔ میں نے کوئی برتن آپ کے سامنے لا کر رکھا؟ نہیں، میں نے زبان سے صرف گلاس کہا، میں نے ایک لفظ بولا اور اس لفظ سے ایک چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی۔ میں نے کہا پہاڑ فوراً ایک پہاڑ کی صورت آپ کے ذہن تو دیکھا یہ جو لفظ ہیں یہ اپنے معنی پر دلالت کرتے ہیں یعنی ان سے وہ معنی سمجھ میں آتا ہے۔ جیسے آپ کمرے میں بیٹھے ہیں، صبح صبح کا وقت تھا آپ کمرے میں بیٹھے تھے، اچانک آپ کی نظر پڑی کہ کھڑکی میں سے کمرے کے اندر دھوپ آ رہی ہے، آپ سمجھ گئے، کیا سمجھے؟ کہ سورج نکل آیا ہے، بھئی آپ کی نظر تو صرف دھوپ پر پڑی ہے لیکن آپ کو پتہ کس کا چل گیا؟ سورج، اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے۔ یا جیسے آپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا آپ کو فوراً پتہ چل گیا کہ نیچے نیچے آگ ہے۔ تو دیکھا دھوئیں سے آگ کا پتہ چلنا، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلنا، اس کو کیا کہتے ہیں دلالت۔ پھر یہ جس چیز سے پتہ چلا اس کو کہتے ہیں دال، دال الف لام اور لام مشدد ہے، دال اور جس چیز کا پتہ چلا اس کو کہتے ہیں مدلول۔ دھوئیں سے کس کا پتہ چلا؟ آگ کا تو دھواں ہوا دال، یہ ہے یہ دلالت کر رہا ہے اور کس پر دلالت کی؟ آگ پر تو اس کو کہتے ہیں مدلول تو دھواں ہوا دال اور آگ ہوئی مدلول۔ اسی طرح آپ نے دھوپ کو دیکھا اس سے آپ کو سورج کے نکلنے کا پتہ چل گیا تو دھوپ کیا ہوئی؟ دال اور سورج کا پتہ چلا وہ کیا ہے؟ مدلول۔ اسی طرح میں نے گلاس کا لفظ بولا اور آپ کے ذہن میں گلاس کی صورت آگئی تو یہ لفظ گلاس یہ کیا ہے؟ دال اور وہ جو صورت ذہن میں آئی وہ کیا ہے؟ مدلول۔ تو دال اور مدلول کا پتہ چل گیا؟ تو یاد رکھو بدل کل جو ہے، اس میں مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہوتا ہے، دونوں سے ایک ہی چیز ذہن میں آتی ہے جیسے جاءنی زید اخوکا۔ زید ہے مبدل منہ، میں نے جیسے ہی زید کہا آپ کے بھئی کا نام زید ہے تو جیسے ہی میں نے زید کہا آپ کے ذہن میں فوراً آپ کے بھئی زید کی صورت آگئی۔ تو لفظ زید نے دلالت کی کس پر؟ ذات زید پر، پھر میں نے کہا اخوکا، آپ کا بھئی، اس سے بھی آپ کے ذہن میں کس کی صورت آئی؟ زید ہی کی صورت آئی، کوئی الگ صورت نہیں۔ تو دیکھا لفظ زید نے جس چیز پر دلالت کی تھی اخوکا، اس بدل نے بھی اسی پر دلالت کی۔ تو بدل کل اس کو کہتے ہیں، بدل کل کہ مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، بھئی دال اور مدلول بھی سمجھ لو۔ ابھی میں نے بتایا کہ میں جو جو لفظ لیتا جا رہا ہوں آپ کے ذہن میں اس چیز کی صورت آتی جا رہی ہے، میں تو صرف زبان سے ایک لفظ بول رہا ہوں لیکن آپ کے ذہن میں مثلاً میں نے کہا گلاس، آپ کے ذہن میں فوراً ایک برتن کی صورت آگئی، تو اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آئے، میں نے تو صرف زبان کو حرکت دی لیکن آپ کے ذہن میں ایک برتن کی صورت آگئی۔ میں نے کوئی برتن آپ کے سامنے لا کر رکھا؟ نہیں، میں نے زبان سے صرف گلاس کہا، میں نے ایک لفظ بولا اور اس لفظ سے ایک چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی۔ میں نے کہا پہاڑ، فوراً ایک پہاڑ کی صورت آپ کے ذہن تو دیکھا، یہ جو لفظ ہیں یہ اپنے معنی پر دلالت کرتے ہیں، یعنی ان سے وہ معنی سمجھ میں آتا ہے، جیسے آپ کمرے میں بیٹھے ہیں، صبح صبح کا وقت تھا، آپ کمرے میں بیٹھے تھے، اچانک آپ کی نظر پڑی کہ کھڑکی میں سے کمرے کے اندر دھوپ آ رہی ہے، آپ سمجھ گئے، کیا سمجھے؟ کہ سورج نکل آیا ہے، بھئی آپ کی نظر تو صرف دھوپ پر پڑی ہے، لیکن آپ کو پتہ کس کا چل گیا؟ سورج، اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے، یا جیسے آپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا، آپ کو فوراً پتہ چل گیا کہ نیچے نیچے آگ ہے، تو دیکھا دھوئیں سے آگ کا پتہ چلنا، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلنا، اس کو کیا کہتے ہیں دلالت، پھر یہ جس چیز سے پتہ چلا، اس کو کہتے ہیں دال، دال الف لام اور لام مشدد ہے، دال اور جس چیز کا پتہ چلا، اس کو کہتے ہیں مدلول۔ دھوئیں سے کس کا پتہ چلا؟ آگ کا تو دھواں ہوا دال، یہ ہے یہ دلالت کر رہا ہے، اور کس پر دلالت کی؟ آگ پر تو اس کو کہتے ہیں مدلول تو دھواں ہوا دال اور آگ ہوئی مدلول، اسی طرح آپ نے دھوپ کو دیکھا اس سے آپ کو سورج کے نکلنے کا پتہ چل گیا تو دھوپ کیا ہوئی؟ دال اور سورج کا پتہ چلا وہ کیا ہے؟ مدلول، اسی طرح میں نے گلاس کا لفظ بولا اور آپ کے ذہن میں گلاس کی صورت آگئی، تو یہ لفظ گلاس، یہ کیا ہے؟ دال اور وہ جو صورت ذہن میں آئی وہ کیا ہے؟ مدلول تو دال اور مدلول کا پتہ چل گیا؟ تو یاد رکھو بدل کل جو ہے، اس میں مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہوتا ہے، دونوں سے ایک ہی چیز ذہن میں آتی ہے، جیسے جاءنی زید اخوکا، زید ہے مبدل منہ، میں نے جیسے ہی زید کہا، آپ کے بھئی کا نام زید ہے تو جیسے ہی میں نے زید کہا، آپ کے ذہن میں فوراً آپ کے بھئی زید کی صورت آگئی۔ تو لفظ زید نے دلالت کی کس پر؟ ذات زید پر، پھر میں نے کہا اخوکا، آپ کا بھئی، اس سے بھی آپ کے ذہن میں کس کی صورت آئی؟ زید ہی کی صورت آئی، کوئی الگ صورت نہیں تو دیکھا، لفظ زید نے جس چیز پر دلالت کی تھی، اخوکا اس بدل نے بھی اسی پر دلالت کی، تو بدل کل اس کو کہتے ہیں، بدل کل کہ مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، بھئی دال اور مدلول بھی سمجھ لو، ابھی میں نے بتایا کہ میں جو جو لفظ لیتا جا رہا ہوں، آپ کے ذہن میں اس چیز کی صورت آتی جا رہی ہے، میں تو صرف زبان سے ایک لفظ بول رہا ہوں، لیکن آپ کے ذہن میں مثلاً میں نے کہا گلاس، آپ کے ذہن میں فوراً ایک برتن کی صورت آگئی تو اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آئے، میں نے تو صرف زبان کو حرکت دی، لیکن آپ کے ذہن میں ایک برتن کی صورت آگئی۔ میں نے کوئی برتن آپ کے سامنے لا کر رکھا؟ نہیں، میں نے زبان سے صرف گلاس کہا، میں نے ایک لفظ بولا اور اس لفظ سے ایک چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی، میں نے کہا پہاڑ، فوراً ایک پہاڑ کی صورت آپ کے ذہن، تو دیکھا، یہ جو لفظ ہیں یہ اپنے معنی پر دلالت کرتے ہیں، یعنی ان سے وہ معنی سمجھ میں آتا ہے، جیسے آپ کمرے میں بیٹھے ہیں، صبح صبح کا وقت تھا، آپ کمرے میں بیٹھے تھے، اچانک آپ کی نظر پڑی کہ کھڑکی میں سے کمرے کے اندر دھوپ آ رہی ہے، آپ سمجھ گئے، کیا سمجھے؟ کہ سورج نکل آیا ہے، بھئی آپ کی نظر تو صرف دھوپ پر پڑی ہے، لیکن آپ کو پتہ کس کا چل گیا؟ سورج، اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے، یا جیسے آپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا، آپ کو فوراً پتہ چل گیا کہ نیچے نیچے آگ ہے، تو دیکھا، دھوئیں سے آگ کا پتہ چلنا، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلنا، اس کو کیا کہتے ہیں دلالت، پھر یہ جس چیز سے پتہ چلا، اس کو کہتے ہیں دال، دال الف لام اور لام مشدد ہے، دال اور جس چیز کا پتہ چلا، اس کو کہتے ہیں مدلول، دھوئیں سے کس کا پتہ چلا؟ آگ کا تو دھواں ہوا دال، یہ ہے یہ دلالت کر رہا ہے، اور کس پر دلالت کی؟ آگ پر تو اس کو کہتے ہیں مدلول، تو دھواں ہوا دال اور آگ ہوئی مدلول، اسی طرح آپ نے دھوپ کو دیکھا، اس سے آپ کو سورج کے نکلنے کا پتہ چل گیا، تو دھوپ کیا ہوئی؟ دال اور سورج کا پتہ چلا وہ کیا ہے؟ مدلول، اسی طرح میں نے گلاس کا لفظ بولا، اور آپ کے ذہن میں گلاس کی صورت آگئی، تو یہ لفظ گلاس، یہ کیا ہے؟ دال اور وہ جو صورت ذہن میں آئی وہ کیا ہے؟ مدلول، تو دال اور مدلول کا پتہ چل گیا؟ تو یاد رکھو، بدل کل جو ہے، اس میں مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہوتا ہے، دونوں سے ایک ہی چیز ذہن میں آتی ہے، جیسے جاءنی زید اخوکا، زید ہے مبدل منہ، میں نے جیسے ہی زید کہا، آپ کے بھئی کا نام زید ہے تو جیسے ہی میں نے زید کہا، آپ کے ذہن میں فوراً آپ کے بھئی زید کی صورت آگئی۔ تو لفظ زید نے دلالت کی کس پر؟ ذات زید پر، پھر میں نے کہا اخوکا، آپ کا بھئی، اس سے بھی آپ کے ذہن میں کس کی صورت آئی؟ زید ہی کی صورت آئی، کوئی الگ صورت نہیں، تو دیکھا، لفظ زید نے جس چیز پر دلالت کی تھی، اخوکا اس بدل نے بھی اسی پر دلالت کی، تو بدل کل اس کو کہتے ہیں، بدل کل کہ مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، بھئی دال اور مدلول بھی سمجھ لو، ابھی میں نے بتایا کہ میں جو جو لفظ لیتا جا رہا ہوں، آپ کے ذہن میں اس چیز کی صورت آتی جا رہی ہے، میں تو صرف زبان سے ایک لفظ بول رہا ہوں، لیکن آپ کے ذہن میں مثلاً میں نے کہا گلاس، آپ کے ذہن میں فوراً ایک برتن کی صورت آگئی، تو اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آئے، میں نے تو صرف زبان کو حرکت دی، لیکن آپ کے ذہن میں ایک برتن کی صورت آگئی۔ میں نے کوئی برتن آپ کے سامنے لا کر رکھا؟ نہیں، میں نے زبان سے صرف گلاس کہا، میں نے ایک لفظ بولا اور اس لفظ سے ایک چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی، میں نے کہا پہاڑ، فوراً ایک پہاڑ کی صورت آپ کے ذہن، تو دیکھا، یہ جو لفظ ہیں، یہ اپنے معنی پر دلالت کرتے ہیں، یعنی ان سے وہ معنی سمجھ میں آتا ہے، جیسے آپ کمرے میں بیٹھے ہیں، صبح صبح کا وقت تھا، آپ کمرے میں بیٹھے تھے، اچانک آپ کی نظر پڑی کہ کھڑکی میں سے کمرے کے اندر دھوپ آ رہی ہے، آپ سمجھ گئے، کیا سمجھے؟ کہ سورج نکل آیا ہے، بھئی آپ کی نظر تو صرف دھوپ پر پڑی ہے، لیکن آپ کو پتہ کس کا چل گیا؟ سورج، اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے، یا جیسے آپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا، آپ کو فوراً پتہ چل گیا کہ نیچے نیچے آگ ہے، تو دیکھا، دھوئیں سے آگ کا پتہ چلنا، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلنا، اس کو کیا کہتے ہیں دلالت، پھر یہ جس چیز سے پتہ چلا، اس کو کہتے ہیں دال، دال الف لام اور لام مشدد ہے، دال اور جس چیز کا پتہ چلا، اس کو کہتے ہیں مدلول، دھوئیں سے کس کا پتہ چلا؟ آگ کا تو دھواں ہوا دال، یہ ہے یہ دلالت کر رہا ہے، اور کس پر دلالت کی؟ آگ پر تو اس کو کہتے ہیں مدلول، تو دھواں ہوا دال اور آگ ہوئی مدلول، اسی طرح آپ نے دھوپ کو دیکھا، اس سے آپ کو سورج کے نکلنے کا پتہ چل گیا، تو دھوپ کیا ہوئی؟ دال اور سورج کا پتہ چلا وہ کیا ہے؟ مدلول، اسی طرح میں نے گلاس کا لفظ بولا، اور آپ کے ذہن میں گلاس کی صورت آگئی، تو یہ لفظ گلاس، یہ کیا ہے؟ دال اور وہ جو صورت ذہن میں آئی وہ کیا ہے؟ مدلول، تو دال اور مدلول کا پتہ چل گیا؟ تو یاد رکھو، بدل کل جو ہے، اس میں مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہوتا ہے، دونوں سے ایک ہی چیز ذہن میں آتی ہے، جیسے جاءنی زید اخوکا، زید ہے مبدل منہ، میں نے جیسے ہی زید کہا، آپ کے بھئی کا نام زید ہے تو جیسے ہی میں نے زید کہا، آپ کے ذہن میں فوراً آپ کے بھئی زید کی صورت آگئی۔ تو لفظ زید نے دلالت کی کس پر؟ ذات زید پر، پھر میں نے کہا اخوکا، آپ کا بھئی، اس سے بھی آپ کے ذہن میں کس کی صورت آئی؟ زید ہی کی صورت آئی، کوئی الگ صورت نہیں، تو دیکھا، لفظ زید نے جس چیز پر دلالت کی تھی، اخوکا اس بدل نے بھی اسی پر دلالت کی، تو بدل کل اس کو کہتے ہیں، بدل کل کہ مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، بھئی دال اور مدلول بھی سمجھ لو، ابھی میں نے بتایا کہ میں جو جو لفظ لیتا جا رہا ہوں، آپ کے ذہن میں اس چیز کی صورت آتی جا رہی ہے، میں تو صرف زبان سے ایک لفظ بول رہا ہوں، لیکن آپ کے ذہن میں مثلاً میں نے کہا گلاس، آپ کے ذہن میں فوراً ایک برتن کی صورت آگئی، تو اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آئے، میں نے تو صرف زبان کو حرکت دی، لیکن آپ کے ذہن میں ایک برتن کی صورت آگئی۔ میں نے کوئی برتن آپ کے سامنے لا کر رکھا؟ نہیں، میں نے زبان سے صرف گلاس کہا، میں نے ایک لفظ بولا اور اس لفظ سے ایک چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی، میں نے کہا پہاڑ، فوراً ایک پہاڑ کی صورت آپ کے ذہن، تو دیکھا، یہ جو لفظ ہیں، یہ اپنے معنی پر دلالت کرتے ہیں، یعنی ان سے وہ معنی سمجھ میں آتا ہے، جیسے آپ کمرے میں بیٹھے ہیں، صبح صبح کا وقت تھا، آپ کمرے میں بیٹھے تھے، اچانک آپ کی نظر پڑی کہ کھڑکی میں سے کمرے کے اندر دھوپ آ رہی ہے، آپ سمجھ گئے، کیا سمجھے؟ کہ سورج نکل آیا ہے، بھئی آپ کی نظر تو صرف دھوپ پر پڑی ہے، لیکن آپ کو پتہ کس کا چل گیا؟ سورج، اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے، یا جیسے آپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا، آپ کو فوراً پتہ چل گیا کہ نیچے نیچے آگ ہے، تو دیکھا، دھوئیں سے آگ کا پتہ چلنا، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلنا، اس کو کیا کہتے ہیں دلالت، پھر یہ جس چیز سے پتہ چلا، اس کو کہتے ہیں دال، دال الف لام اور لام مشدد ہے، دال اور جس چیز کا پتہ چلا، اس کو کہتے ہیں مدلول، دھوئیں سے کس کا پتہ چلا؟ آگ کا تو دھواں ہوا دال، یہ ہے یہ دلالت کر رہا ہے، اور کس پر دلالت کی؟ آگ پر تو اس کو کہتے ہیں مدلول، تو دھواں ہوا دال اور آگ ہوئی مدلول، اسی طرح آپ نے دھوپ کو دیکھا، اس سے آپ کو سورج کے نکلنے کا پتہ چل گیا، تو دھوپ کیا ہوئی؟ دال اور سورج کا پتہ چلا وہ کیا ہے؟ مدلول، اسی طرح میں نے گلاس کا لفظ بولا، اور آپ کے ذہن میں گلاس کی صورت آگئی، تو یہ لفظ گلاس، یہ کیا ہے؟ دال اور وہ جو صورت ذہن میں آئی وہ کیا ہے؟ مدلول، تو دال اور مدلول کا پتہ چل گیا؟ تو یاد رکھو، بدل کل جو ہے، اس میں مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہوتا ہے، دونوں سے ایک ہی چیز ذہن میں آتی ہے، جیسے جاءنی زید اخوکا، زید ہے مبدل منہ، میں نے جیسے ہی زید کہا، آپ کے بھئی کا نام زید ہے تو جیسے ہی میں نے زید کہا، آپ کے ذہن میں فوراً آپ کے بھئی زید کی صورت آگئی۔ تو لفظ زید نے دلالت کی کس پر؟ ذات زید پر، پھر میں نے کہا اخوکا، آپ کا بھئی، اس سے بھی آپ کے ذہن میں کس کی صورت آئی؟ زید ہی کی صورت آئی، کوئی الگ صورت نہیں، تو دیکھا، لفظ زید نے جس چیز پر دلالت کی تھی، اخوکا اس بدل نے بھی اسی پر دلالت کی، تو بدل کل اس کو کہتے ہیں، بدل کل کہ مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، بھئی دال اور مدلول بھی سمجھ لو، ابھی میں نے بتایا کہ میں جو جو لفظ لیتا جا رہا ہوں، آپ کے ذہن میں اس چیز کی صورت آتی جا رہی ہے، میں تو صرف زبان سے ایک لفظ بول رہا ہوں، لیکن آپ کے ذہن میں مثلاً میں نے کہا گلاس، آپ کے ذہن میں فوراً ایک برتن کی صورت آگئی، تو اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آئے، میں نے تو صرف زبان کو حرکت دی، لیکن آپ کے ذہن میں ایک برتن کی صورت آگئی۔ میں نے کوئی برتن آپ کے سامنے لا کر رکھا؟ نہیں، میں نے زبان سے صرف گلاس کہا، میں نے ایک لفظ بولا اور اس لفظ سے ایک چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی، میں نے کہا پہاڑ، فوراً ایک پہاڑ کی صورت آپ کے ذہن، تو دیکھا، یہ جو لفظ ہیں، یہ اپنے معنی پر دلالت کرتے ہیں، یعنی ان سے وہ معنی سمجھ میں آتا ہے، جیسے آپ کمرے میں بیٹھے ہیں، صبح صبح کا وقت تھا، آپ کمرے میں بیٹھے تھے، اچانک آپ کی نظر پڑی کہ کھڑکی میں سے کمرے کے اندر دھوپ آ رہی ہے، آپ سمجھ گئے، کیا سمجھے؟ کہ سورج نکل آیا ہے، بھئی آپ کی نظر تو صرف دھوپ پر پڑی ہے، لیکن آپ کو پتہ کس کا چل گیا؟ سورج، اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے، یا جیسے آپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا، آپ کو فوراً پتہ چل گیا کہ نیچے نیچے آگ ہے، تو دیکھا، دھوئیں سے آگ کا پتہ چلنا، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلنا، اس کو کیا کہتے ہیں دلالت، پھر یہ جس چیز سے پتہ چلا، اس کو کہتے ہیں دال، دال الف لام اور لام مشدد ہے، دال اور جس چیز کا پتہ چلا، اس کو کہتے ہیں مدلول، دھوئیں سے کس کا پتہ چلا؟ آگ کا تو دھواں ہوا دال، یہ ہے یہ دلالت کر رہا ہے، اور کس پر دلالت کی؟ آگ پر تو اس کو کہتے ہیں مدلول، تو دھواں ہوا دال اور آگ ہوئی مدلول، اسی طرح آپ نے دھوپ کو دیکھا، اس سے آپ کو سورج کے نکلنے کا پتہ چل گیا، تو دھوپ کیا ہوئی؟ دال اور سورج کا پتہ چلا وہ کیا ہے؟ مدلول، اسی طرح میں نے گلاس کا لفظ بولا، اور آپ کے ذہن میں گلاس کی صورت آگئی، تو یہ لفظ گلاس، یہ کیا ہے؟ دال اور وہ جو صورت ذہن میں آئی وہ کیا ہے؟ مدلول، تو دال اور مدلول کا پتہ چل گیا؟ تو یاد رکھو، بدل کل جو ہے، اس میں مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہوتا ہے، دونوں سے ایک ہی چیز ذہن میں آتی ہے، جیسے جاءنی زید اخوکا، زید ہے مبدل منہ، میں نے جیسے ہی زید کہا، آپ کے بھئی کا نام زید ہے تو جیسے ہی میں نے زید کہا، آپ کے ذہن میں فوراً آپ کے بھئی زید کی صورت آگئی۔ تو لفظ زید نے دلالت کی کس پر؟ ذات زید پر، پھر میں نے کہا اخوکا، آپ کا بھئی، اس سے بھی آپ کے ذہن میں کس کی صورت آئی؟ زید ہی کی صورت آئی، کوئی الگ صورت نہیں، تو دیکھا، لفظ زید نے جس چیز پر دلالت کی تھی، اخوکا اس بدل نے بھی اسی پر دلالت کی، تو بدل کل اس کو کہتے ہیں، بدل کل کہ مبدل منہ اور بدل دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، بھئی دال اور مدلول بھی سمجھ لو، ابھی میں نے بتایا کہ میں جو جو لفظ لیتا جا رہا ہوں، آپ کے ذہن میں اس چیز کی صورت آتی جا رہی ہے، میں تو صرف زبان سے ایک لفظ بول रहा ہوں، لیکن آپ کے ذہن میں مثلاً میں نے کہا گلاس، آپ کے ذہن میں فوراً ایک برتن کی صورت آگئی، تو اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آئے، میں نے تو صرف زبان کو حرکت دی، لیکن آپ کے ذہن میں ایک برتن کی صورت آگئی۔ میں نے کوئی برتن آپ کے سامنے لا کر رکھا؟ نہیں، میں نے زبان سے صرف گلاس کہا، میں نے ایک لفظ بولا اور اس لفظ سے ایک چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی، میں نے کہا پہاڑ، فوراً ایک پہاڑ کی صورت آپ کے ذہن، تو دیکھا، یہ جو لفظ ہیں، یہ اپنے معنی پر دلالت کرتے ہیں، یعنی ان سے وہ معنی سمجھ میں آتا ہے، جیسے آپ کمرے میں بیٹھے ہیں، صبح صبح کا وقت تھا، آپ کمرے میں بیٹھے تھے، اچانک آپ کی نظر پڑی کہ کھڑکی میں سے کمرے کے اندر دھوپ آ رہی ہے، آپ سمجھ گئے، کیا سمجھے؟ کہ سورج نکل آیا ہے، بھئی آپ کی نظر تو صرف دھوپ پر پڑی ہے، لیکن آپ کو پتہ کس کا چل گیا؟ سورج، اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے، یا جیسے آپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا، آپ کو فوراً پتہ چل گیا کہ نیچے نیچے آگ ہے، تو دیکھا، دھوئیں سے آگ کا پتہ چلنا، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلنا، اس کو کیا کہتے ہیں دلالت، پھر یہ جس چیز سے پتہ چلا، اس کو کہتے ہیں دال، دال الف لام اور لام مشدد ہے، دال اور جس چیز کا پتہ چلا، اس کو کہتے ہیں مدلول، دھوئیں سے کس کا پتہ چلا؟ آگ کا تو دھواں ہوا دال، یہ ہے یہ دلالت کر رہا ہے، اور کس پر دلالت کی؟ آگ پر تو اس کو کہتے ہیں مدلول، تو دھواں ہوا دال اور آگ ہوئی مدلول، اسی طرح آپ نے دھوپ کو دیکھا، اس سے آپ کو سورج کے نکلنے کا پتہ چل گیا، تو دھوپ کیا ہوئی؟ دال اور سورج کا پتہ چلا وہ کیا ہے؟ مدلول، اسی طرح میں نے گلاس کا لفظ بولا، اور آپ کے ذہن میں گلاس کی صورت آگئی، تو یہ لفظ گلاس، یہ کیا ہے؟ دال اور وہ جو صورت ذہن میں آئی وہ کیا ہے؟ مدلول، تو دال اور مدلول کا پتہ چل گیا؟ کیا یہ کپڑا زید کا جز ہے؟ نہیں، یہ اس کا جز بھی نہیں۔ ہاں، اس کا زید کے ساتھ تعلق ہے کہ زید اس کو استعمال کرتا ہے یا وہ اس کا مالک ہے بھئی۔ کیا ہے؟ مالک تو زید کے ساتھ اس کا تعلق ہے تو یہ زید کا متعلق ہوا۔ تو یہ بدل الاشتمال ہے۔ بدل الاشتمال کسے کہتے ہیں؟ کہ بدل کا جو مدلول ہے، وہ مبدل منہ سے متعلق ہو، کیا ہو؟ مبدل منہ سے متعلق ہو۔ ثوبہ زید کو کپڑا۔ زید کا یہ کیا ہے؟ زید سے متعلق ہے۔ تو پھر دہرائیں۔ بدل الاشتمال کسے کہتے ہیں؟ کہ بدل کا جو مدلول ہے، وہ مبدل منہ سے متعلق ہو، اس کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔ ثوبہ زید کا کپڑا دیکھا، وہ زید کا کپڑا آپ کے ذہن میں آیا اور اس کا زید کے ساتھ تعلق ہے کہ زید اس کا مالک ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ پھر دہرائیں۔ بدل الاشتمال کسے کہتے ہیں؟ کہ بدل کا جو مدلول ہے، وہ مبدل منہ سے متعلق ہو، اس کے ساتھ اس کا تعلق ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں وہ بدل الاشتمال آنست۔ بدل الاشتمال وہ ہے کہ مدلولش کہ اس کا جو مدلول ہے، متعلق و مبدل منہ باشد، وہ مبدل منہ سے متعلق ہوتا ہے، اس کا مبدل منہ سے تعلق ہوتا ہے بھئی۔ جیسے چون صلیبا زید ثوبہ، چھینا گیا زید کو یعنی اس کے کپڑوں کو۔ پھر دہرائیں۔ بدل الکل کسے کہتے ہیں؟ کہ بدل اور مبدل منہ دونوں کا مدلول ایک ہو۔ بدل البعض کسے کہتے ہیں؟ کہ بدل کا جو مدلول ہے، وہ مبدل منہ کے مدلول کا جز ہو۔ بدل الاشتمال کسے کہتے ہیں؟ کہ بدل کا جو مدلول ہے، وہ مبدل منہ سے متعلق ہے۔ یا مبدل منہ کہو یا مبدل منہ کا مدلول کہہ لو، بات ایک ہی ہے۔ بدل کا جو مدلول ہے، وہ مبدل منہ کے مدلول کے ساتھ اس کا تعلق ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ پھر یہاں ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا، یہ جو بدل البعض ہے، اور اسی طرح یہ بدل الاشتمال ہے، اس میں ایک ضمیر ہونی چاہیے جو مبدل منہ کی طرف لوٹے۔ ضرب زید راسہ یہ راسہ کیا ہے؟ بدل البعض۔ کس کا سر؟ زید کا سر تو یہاں ضمیر ہونی چاہیے جو ہمیں بتلائے کہ یہ اس مبدل منہ کا جز ہے۔ اور صلیبا زید ثوبہ، ثوبہ میں بھی ہا ضمیر لائے، کیوں؟ یہ بتلانے کے لیے کہ یہ کپڑا کس کا ہے؟ زید کا ہے تو مبدل منہ کے ساتھ جو بدل البعض ہے، اس میں بھی ضمیر چاہیے اور بدل الاشتمال میں بھی ضمیر چاہیے۔ یہ ضمیر بتلائے گی کہ یہ مبدل منہ کا جز ہے یا مبدل منہ کے ساتھ اس کا تعلق ہے، اگر ضمیر نہیں ہوگی پھر ہمیں پتہ کیسے چلے گا کہ یہ کپڑا زید کا ہے یا کپڑا زید کا نہیں؟ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہذا بدل الغلط میں بھی کیا ضروری؟ کہ اس میں ایک ضمیر ہونی چاہیے جو کس کو لوٹے؟ مبدل منہ کو یہ ضمیر بتلائے گی کہ یہ مبدل منہ کا جز ہے، کسی اور چیز کا جز نہیں۔ اور اسی طرح بدل الاشتمال میں بھی ایک ضمیر ہونی چاہیے جو کس کو لوٹے؟ مبدل منہ کو لوٹے، یہ ضمیر بتلائے گی کہ اس کا تعلق کس سے ہے؟ مبدل منہ سے ہے، مبدل منہ سے۔ تو اسی لیے انہوں نے راسہ دیکھو ضمیر کے ساتھ، ضرب زید راسہ اس کو کس کے ساتھ ذکر کیا؟ ضمیر کے ساتھ۔ اور اسی طرح صلیبا زید ثوبہ، یہاں پر بھی یہ ہا ضمیر اسی لیے لے کر آئے۔ لیکن اس میں ایک اور بات بھی یاد رکھنا، یہ ضمیر کبھی لفظوں میں ہوتی ہے اور کبھی مقدر ہوتی ہے۔ کیا ہوتی ہے؟ مقدر ہوگی، یعنی فرض کر لو وہاں موجود ہے، عبارت میں پھر آپ کو نکالنا پڑے گی۔ جب اگے آپ ترکیب سیکھ لیں گے، آپ کو خود طریقہ آ جائے گا کس طرح ضمیر کو نکال لیتے ہیں۔ تو بدل البعض میں بھی ضمیر کا ہونا ضروری، جو کس کو لوٹے؟ مبدل منہ کو۔ بدل الاشتمال میں بھی ضمیر کا ہونا ضروری جو کس کو لوٹے؟ مبدل منہ کو۔ مبدل منہ کو، لیکن یہ ضمیر کبھی لفظوں میں ہوگی اور کبھی مقدر ہوگی، لفظوں میں آپ کو نظر نہیں آئے گی، لیکن وہاں موجود ہوگی، آپ کو عبارت کے اندر اس کو نکالنا پڑے گا۔ تو انہوں نے یہاں پر دیکھو لفظوں کے اندر دونوں ضمیریں دے دیں۔ تو بدل الاشتمال کسے کہتے ہیں؟ بدل کا جو مدلول ہے، مبدل منہ کے مدلول کے ساتھ اس کا تعلق ہے، اس کا تعلق ہے۔ اس کی ایک اور تعریف بعض علماء نے کی، بڑی پیاری تعریف بھئی، وہ بھی سمجھ لیں۔ اس سے آپ کو یہ سمجھنا اور آسان ہو جائے گا۔ دوسری تعریف وہ بعض علماء یہ کرتے ہیں کہ بدل الاشتمال وہ ہے، کہ مبدل، پہلے کون آتا ہے؟ کہ مبدل منہ وقوع فعل کا محل نہیں ہوتا۔ توجہ ہے؟ مبدل منہ وقوع فعل کا محل نہیں ہوتا۔ جیسے کیا تھا؟ صلیبا زید ثوبہ، مبدل منہ کیا ہے اس میں؟ توجہ ہے؟ صلیبا زید، یہ زید کیا ہے؟ مبدل منہ، جب میں نے کہا صلیبا زید، ابھی میں نے ثوبہ کو ذکر نہیں کیا، یہاں تک پہنچا تھا، آپ نے سنا، صلیبا زید، چھینا گیا، کس کو چھینا گیا؟ زید کو۔ تو دیکھو، جو مبدل منہ ہے، وہ وقوع فعل کے لیے محل نہیں بن سکتا۔ یعنی اس پر فعل واقع نہیں ہو سکتا۔ اب سننے والے کے ذہن میں آتا ہے کہ بھئی، زید کو تو نہیں چھینا جا سکتا۔ زید کو تو چھینا تو کسی چیز اور چیز کو جاتا ہے نا، انسان کو تو نہیں چھینا جائے گا بلکہ کسی اس کی کسی چیز کو چھینا جائے گا۔ تو صلیبا زید، ذکر تو زید کو کیا گیا ہے، لیکن زید یہ تو چھیننے کے فعل، فعل اس پر واقع نہیں ہو سکتا۔ چھیننے کا فعل اس پر اس سے کسی چیز کو چھینا جا سکتا ہے، خود زید کو چھیننے کا کیا معنی بھئی؟ تو لہذا، جو مبدل منہ آتا ہے، اولاً جس کو تمهید کے طور پر ذکر کیا، وہ وقوع فعل کا محل نہیں بن سکتا، وہ سلب کے فعل کو قبول نہیں کر رہا۔ میں تو بتا رہا ہوں کہ صلیبا زید، کس کو چھینا گیا؟ لیکن سننے والا کہہ رہا ہے نہیں بھئی، زید کو نہیں چھینا جا سکتا۔ تو میں نے تو زید کو نائب فاعل بنا دیا، صلیبا کے لیے، لیکن ذہن اس کو قبول نہیں کر رہا۔ سننے والے کا ذہن اس کو قبول نہیں کر رہا، وہ ابھی بھی منتظر ہے کہ آگے ایک اور لفظ آنا چاہیے جو اس فعل کو قبول کر لے اور چنانچہ آگے ثوبہ لفظ آیا اور اس نے فعل کو قبول کر لیا۔ صلیبا ثوبہ کیا کیا گیا؟ زید کے کپڑوں کو چھینا گیا، ہاں اب چھینے کا فعل زید کے کپڑوں پر واقع ہو سکتا ہے، اب ذہن نے تسلیم کر لیا۔ کیا تعریف ہوئی؟ بدل الاشتمال وہ ہے کہ مبدل منہ جو ہے، وہ فعل کو قبول نہیں کرتا۔ ذہن منتظر ہوتا ہے کہ کوئی اور لفظ آئے اور وہ فعل کو قبول کر لے، پھر دہراؤ۔ بدل الاشتمال کسے کہتے ہیں؟ کہ مبدل منہ فعل کو قبول نہیں کرتا، ذہن منتظر رہتا ہے کہ آگے کوئی اور لفظ آنا چاہیے جو کیا کرے؟ فعل کو قبول کرے۔ صلیبا زید، زید کو چھینا جا سکتا ہے؟ نہیں، تو یہ زید جو ہے، میں نے تو نائب فاعل بےشک لفظوں میں بنا دیا، لیکن یہ چھیننے کے فعل کو قبول نہیں کر رہا۔ ذهن بتلاتا ہے کہ نہیں بھئی، زید کو نہیں چھینا جا سکتا، زید کی کسی چیز کو تو چھینا جا سکتا ہے، زید تو انسان ہے، اس کو چھینا نہیں جا سکتا۔ انسان کے لیے چھیننے کا لفظ نہیں بولتے بھئی عام طور پر۔ انسان کے لیے تو اغوا کا لفظ بول سکتے ہیں، چھیننے کا لفظ نہیں۔ زید کو اغوا کیا گیا، یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے، زید کو چھینا گیا، یہ بات ہمیں سمجھ میں نہیں آتی۔ تو یہ چھیننے کا فعل، یہ زید اس کو قبول نہیں کر رہا۔ مبدل منہ اس فعل کو قبول نہیں کرتا، ذہن منتظر رہتا ہے کوئی اور لفظ آنا چاہیے آگے، جو فعل کو کیا کر لے؟ قبول کر لے، اور آگے پھر ثوبہ آیا اور اس نے فعل کو قبول کر لیا۔ اب ذہن مطمئن ہو گیا کہ ہاں زید کے کپڑے کو چھینا گیا ہے، ٹھیک ہے کپڑے کو تو چھینا جا سکتا ہے۔ تعریف سمجھ میں آئی؟ کیا تعریف؟ کہ مبدل منہ فعل کو قبول نہیں کر سکتا، وہ فعل کے وقوع کا محل نہیں بنتا، ذہن منتظر رہتا ہے آگے کوئی اور لفظ آئے جو وقوع فعل کو قبول کرے۔ وبدل الغلط آنست کہ بعد از غلط بلفظ دیگر یاد کنند۔ بدل الغلط یہ ہے بھئی۔ مثلاً میں آپ کو کہنا چاہتا تھا کہ میرے پاس زید آیا۔ کون آیا؟ لیکن زبان سے اس غلطی سے میں نے عمر کہہ دیا۔ جاءنی عمرو۔ کہنا کیا چاہتا تھا؟ زید اور کہہ کیا دیا؟ عمر۔ میں فوراً ہی اس کی اصلاح کرتا ہوں اور آگے زید بھی لے آتا ہوں۔ جاءنی عمرو زید۔ جاءنی عمرو زید، دیکھا۔ آپ یہ زید کیا ہے؟ بدل الغلط ہے۔ اور اس کو بدل الغلط کیوں کہتے ہیں؟ یہ معنی نہیں کہ یہ غلط ہے، یہ غلطی کی وجہ سے لانا پڑتا ہے، اس لیے اس کو بدل الغلط کہتے ہیں۔ میں نے جو عمر کہا تھا، وہ غلطی سے کہہ بیٹھا تھا، میں تو کہنا ہی کیا چاہتا تھا؟ میں تو کہنا چاہتا تھا جاءنی زید، لیکن کبھی کبھار انسان سے غلطی ہوتی ہے، زبان سے دوسرا لفظ ادا ہو جاتا ہے، تو وہاں پر پھر، پھر اس کی اصلاح فوراً کر لیتا ہے صحیح لفظ لا کر۔ جاءنی عمرو زید۔ میں کیا کہنا چاہتا تھا؟ زید آیا اور کہہ کیا بیٹھا؟ عمر۔ اور پھر فوراً ہی اصلاح کی، اگلے لمحے میں زید بھی لے آیا۔ جاءنی عمرو زید۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو بدل الغلط کسے کہتے ہیں؟ کہ جس میں مبدل منہ غلطی کی وجہ سے آتا ہے اور پھر فوراً ہی بدل لا کر غلطی کی اصلاح کر لی جاتی ہے۔ دیکھو کہتے ہیں وبدل الغلط آنست اور بدل الغلط وہ ہے کہ بعد از غلط بلفظ دیگر یاد کنند کہ بعد از غلط، کہ جو غلطی کے بعد، بلفظ دیگر یاد کنند، دوسرے لفظ کے ساتھ ذکر کیا جائے۔ بدل الغلط وہ ہے جس کو غلطی کے بعد دوسرے لفظ سے ذکر کیا جائے۔ میں نے پہلے کیا کہا؟ عمر، یہ غلطی کی وجہ سے تھا، تو پھر میں نے اس کو دوسرے لفظ یعنی زید سے ذکر کر دیا۔ پہلے لفظ میں غلطی ہوئی تو دوسرے کے ساتھ اس کو ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ وبدل الغلط آنست اور بدل الغلط وہ ہے کہ بعد از غلط، کس کے بعد؟ غلطی کے بعد، بلفظ دیگر یاد کنند دوسرے لفظ سے اس کو یاد کرتے ہیں یعنی ذکر کرتے ہیں۔ یاد کا معنی فارسی میں ذکر، ذکر، بلفظ دیگر یاد کنند دوسرے لفظ سے اس کو ذکر کرتے ہیں۔ پہلے لفظ میں غلطی ہوئی تو دوسرے کے ساتھ اس کو ذکر کر دیا۔ چوں مررت برجل حمار۔ مررت برجل حمار۔ جی۔ میں کیا کہنا چاہتا تھا؟ حمار کہنا چاہتا تھا، لیکن زبان پر غلطی سے کیا آ گیا؟ رجل آ گیا۔ مررت برجل، میں ایک آدمی پر گزرا۔ پھر ایک دم خیال ہو، تو میں نے رجل کہہ دیا، میں ایک گدھے پر گزرا، گدھے کے پاس سے گزرا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ مررت برجل حمار۔ ترکیب کیجیے، مررت فعل با فاعل، اور تا ضمیر، مرفوع محلاً اس کا فاعل، با جارہ، رجل مجرور لفظاً مبدل منہ، اور حمار، یہ کیا ہے؟ مجرور لفظاً بدل۔ دیکھو بدل پر وہی اعراب ہے جو مبدل منہ پر ہے۔ وہ مجرور تو یہ بھی مجرور۔ تو مبدل منہ اپنے بدل سے مل کر مجرور ہوا با جارہ کے لیے۔ با جارہ اپنے مجرور کے ساتھ یہ متعلق ہوا مررت فعل کے ساتھ، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ مررت برجل حمار، میں ایک آدمی پر گزرا، گدھے پر۔ میں ایک آدمی پر گزرا، گدھے پر، فوراً اصلاح کر دی۔ یا میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا، گدھے کے پاس سے، ایک دم آپ نے فوراً اصلاح کر دی۔ بدل کی ساری قسمیں آپ کو سمجھ میں آگئیں؟ اچھی طرح؟ بدل الکل کسے کہتے ہیں؟ کہ بدل اور مبدل منہ دونوں کا مدلول ایک ہو۔ بدل البعض کسے کہتے ہیں؟ کہ اس کا مدلول مبدل منہ کے مدلول کا جز ہو، بعض ہو۔ اور بدل الاشتمال کسے کہتے ہیں؟ کہ بدل کا جو مدلول ہے، مبدل منہ کے مدلول کے ساتھ اس کا تعلق ہو، اور بدل الغلط کسے کہتے ہیں؟ کہ جو غلطی کی وجہ سے اس غلطی کی تلافی کے طور پر پھر دوسرے لفظ کو ذکر کیا جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ بدل الغلط کہتے ہیں بھئی، بدل الغلط۔ اچھا، بدل کی ساری قسمیں آپ کو سمجھ میں آگئیں۔ اب میں آپ کے سامنے ایک مثال ذکر کروں گا، وہ ایک جملہ بولوں گا۔ آپ نے مجھے بتانا ہے کہ اس میں یہ بدل، یہ کون سا بدل ہے۔ جاءنی زید اخوہ۔ جاءنی زید اخوہ۔ زید ہے مبدل منہ، اخوہ ہے اس سے بدل۔ اب مجھے بتاؤ، یہ کون سا بدل ہے۔ بدل الکل۔ جی؟ بدل الکل۔ بدل الکل شاباش دیکھا۔ بدل الکل کس کو کہتے تھے؟ تعریف لگاؤ۔ کہ دونوں کا مدلول ایک ہو۔ ایک ہے زید، ایک اخوہ، ہا ضمیر کس کو راجع؟ زید کو۔ اور اخو زید، زید کا بھئی۔ کیا زید اور زید کا بھئی دونوں ایک ہی ذات ہیں؟ یا الگ الگ ہیں؟ الگ الگ۔ جی؟ الگ الگ ہیں دونوں، زید اور ہے، اس کا بھئی اور تو دیکھا آپ نے، مدلول پہ غور کرنا ہے۔ مدلول کے بغیر لفظوں کو ویسے ہی دیکھ کر فورا اس پر حکم نہ لگائیں کہ یہ بھی اخوہ کا کی طرح لفظ ہے۔ وہاں تھا زید جاءنی زید اخوہ، آپ کا بھئی، جو زید تھا، وہی آپ کا بھئی بھی تھا۔ لیکن یہاں ہے زید اخوہ، زید اور زید کا بھئی، دو ذکر ہو رہے ہیں، اور زید کی ذات الگ ہے، اور اس کے بھئی کی ذات، تو پھر یہ کون سا بدل ہے؟ بدل الغلط ہے۔ جی؟ بدل الغلط ہے اس یہ بدل الغلط ہے۔ یہ کیا ہے؟ بدل میں کہنا چاہتا تھا زید کا بھئی آیا، غلطی سے زبان پر کیا آ گیا؟ زید آ گیا۔ انہوں نے کیا کہا؟ بدل الاشتمال؟ بدل الاشتمال تو وہ ہے، جو فعل کو قبول نہ کرے، مبدل کہ مبدل منہ فعل کو قبول نہ کرے، جی۔ جاءنی زید اخوہ، جاءنی زید، یہ زید آ سکتا ہے یا نہیں آ سکتا؟ یہ تو فعل کو قبول کر رہا ہے۔ تو بدل الاشتمال میں، دیکھا وہ دوسری تعریف بھی ساتھ ملاؤ گے، تو کہیں غلطی نہیں ہوگی۔ کہ مبدل منہ، وہ فعل کو قبول نہ کرے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ بظاہر شبہ ہوتا ہے شاید یہ بدل الاشتمال ہے۔ اس لیے کیونکہ زید کے بھئی کا زید سے تعلق ہے بھئی، نہ اس کا کل ہے، نہ اس کا جز ہے، ہاں اس سے تعلق ہے۔ لیکن میں نے بتلایا کہ یہ بدل، کہ یہ، کہ یہ بدل الاشتمال بھی نہیں ہے۔ کیونکہ بدل الاشتمال کی تعریف اس پر صادق نہیں آتی، وہ جو دوسری تعریف کی ہے ذرا وہ لگائیں۔ کہ جہاں مبدل منہ وہ فعل کو قبول نہ کرتا ہو۔ اور یہاں کیا ہے فعل؟ جاءنی زید اخوہ۔ زید آ سکتا ہے یا نہیں؟ آپ بھی بولتے ہیں یا نہیں کہ زید آ گیا؟ تو یہاں تو زید کا لفظ، یہ جو مبدل منہ ہے، وہ تو فعل کو قبول کر رہا ہے۔ حالانکہ بدل الاشتمال میں وہ فعل کو قبول نہیں کرتا، ذہن منتظر رہتا ہے۔ تو یہاں زید، جو مبدل منہ ہے، وہ فعل کو قبول کر رہا ہے۔ لہذا اخوہ، اس میں جو بدل الاشتمال ہونے کا شبہ تھا، وہ بھی ختم ہو گیا۔ معلوم ہوا یہ بدل الاشتمال بھی نہیں۔ تو اب اخری صورت یہ رہ گئی کہ یہ بدل، بدل الغلط ہے۔ کہنے والا کہنا تو یہ چاہتا تھا، زید کا بھئی آیا، لیکن غلطی سے زبان پر کیا آ گیا؟ زید آیا، فورا ہی پھر اس کی اصلاح کر دی کہ زید نہیں، اس کا بھئی آیا۔ جاءنی زید، میرے پاس زید آیا، اخوہ اس کا بھئی یعنی بلکہ اس کا بھئی آیا میرے پاس۔ تو یہ بدل الغلط ہے۔ پھر یہاں ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا۔ ایک ہے مبدل منہ اور ایک ہے بدل۔ یاد رکھو! مبدل منہ معرفہ بھی ہو سکتا ہے اور نکرہ بھی۔ اور بدل بھی اسی طرح معرفہ بھی ہو سکتا ہے اور نکرہ بھی۔ تو کل یہاں چار صورتیں بنتی ہیں۔ کہ مبدل منہ ہو معرفہ اور بدل معرفہ بھی ہو سکتا ہے اور نکرہ بھی۔ تو دو صورتیں ہو گئیں۔ مبدل منہ کیا ہو؟ معرفہ۔ اور ایک صورت بدل بھی معرفہ، دوسری صورت بدل کیا ہو؟ نکرہ ہو۔ اور اگر مبدل منہ کیا ہو؟ نکرہ، تو پھر بدل میں پھر وہی دو احتمالات یا وہ معرفہ ہوگا یا نکرہ ہوگا۔ تو کل چار صورتیں بن گئیں۔ دو صورتوں میں مبدل منہ کو معرفہ رکھو اور دو صورتوں میں مبدل منہ کو نکرہ اور بدل کو بھی اسی طرح دو صورتوں میں معرفہ رکھو اور دو صورتوں میں نکرہ۔ پہلی صورت، مبدل منہ کیا ہو؟ نکرہ اور بدل بھی کیا ہو؟ نکرہ۔ یا مبدل منہ تو نکرہ ہے لیکن بدل کیا ہے؟ معرفہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تیسری صورت مبدل منہ کو بناؤ معرفہ اور بدل کو بھی کیا بنا دو؟ معرفہ۔ مبدل منہ بھی معرفہ، بدل بھی معرفہ۔ یا مبدل منہ تو معرفہ ہے لیکن بدل کو کیا بنا دو؟ نکرہ بنا دو۔ تو کل کتنی صورتیں ہو گئیں؟ چار صورتیں بن سکتی ہیں معرفہ اور نکرہ ہونے کے اعتبار سے۔ اور اس میں انہوں نے آپ کو بتلا دیا۔ مقصود مبدل منہ ہوتا ہے یا بدل مقصود ہوتا ہے؟ بدل مقصود ہوتا ہے۔ لہذا یہ جو بدل ہے، اس کو مبدل منہ سے اعلی ہونا چاہیے۔ بدل اور مبدل منہ تعریف و تنقیر میں نے بتلا دیے کتنی صورتیں بنتی ہیں؟ چار صورتیں تو بدل نے بدل مقصود ہے، لہذا اس کو مبدل منہ سے اعلی ہونا چاہیے۔ اگر اعلی نہیں ہے، تو کم از کم برابر ضرور ہونا چاہیے۔ لہذا اگر مبدل منہ نکرہ ہے، تو بدل معرفہ لے آؤ۔ کیا لے آؤ؟ معرفہ لے آؤ۔ اب دیکھو بدل اعلی ہے، وہ معرفہ ہے۔ یا اگر معرفہ نہیں لا سکتے، تو کیا لے آؤ؟ نکرہ لے آؤ۔ مبدل منہ بھی نکرہ اور بدل بھی نکرہ تو اس سے اعلی تو نہیں ہے لیکن کم از کم اس کے برابر تو ہے۔ تیسری صورت کیا؟ کہ مبدل منہ کیا ہو؟ معرفہ۔ تو اور بدل بھی کیا لے آؤ؟ معرفہ۔ دیکھو دونوں برابر ہیں۔ اعلی تو نہیں، لیکن کم از کم برابر تو ہے۔ لیکن اگر مبدل منہ معرفہ ہوا اور بدل نکرہ، تو اس صورت میں یاد رکھنا، یہ تو مقصود ہے، یہ تو کم درجے کا ہو گیا، تو اس صورت میں مبدل کی صفت لانا ضروری ہے۔ جب مبدل منہ ہو معرفہ اور بدل کیا ہو؟ نکرہ تو اس نکرہ کی صفت لانا لازمی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ جب صفت لائیں گے تو اس میں تخصیص پیدا ہو جائے گی۔ کیا پیدا ہو جائے گی؟ تخصیص۔ اور تخصیص سے کوئی چیز معرفہ تو نہیں بنتی لیکن معرفہ کے قریب ہو جاتی ہے۔ معرفہ کے قریب۔ اور جو چیز جس کے قریب ہو، اس کا وہی حکم ہوتا ہے۔ جیسے دیکھو، بادشاہ جو ہے، بادشاہ، بادشاہ کا سیکرٹری، اس کا حکم بھی بادشاہ کی طرح چلتا ہے۔ چونکہ وہ بادشاہ کا قریبی ہے، لہذا اس کا حکم بھی کس کی طرح چلتا ہے؟ بادشاہ کی طرح چلتا ہے اور بڑے بڑے وزیر بھی اس سے ڈرتے ہیں بھئی۔ تو جو جس کے قریب ہوتا ہے، اس کا وہی حکم ہوتا ہے۔ سیکرٹری چونکہ بادشاہ کا ہے، بادشاہ کے قریب ہے، تو اس سے بھی لوگ کس کی طرح ڈرتے ہیں؟ بادشاہ کی طرح۔ تو قریب الی الشیء حکم الشیء ہوتا ہے۔ جو جس چیز کے قریب ہو، اسی کا حکم مل جاتا ہے اس کو۔ اب دیکھو، تخصیص کسے کہتے ہیں؟ تخصیص کا معنی ہے باقی احتمالات کو ختم کرنا یا کم کرنا۔ باقی احتمالات کو ختم کرنا یا کم کرنا۔ مثلاً میں نے کہا غلام۔ دنیا میں فرض کرو اس وقت ایک کروڑ غلام ہیں۔ کتنے؟ ایک کروڑ۔ تو غلام میں نے لفظ بولا، یہ ان میں سے ہر ایک پر بولا جا سکتا ہے کہ یہ بھی غلام ہے، یہ بھی غلام ہے، یہ بھی غلام۔ تو اس غلام میں ایک کروڑ احتمال ہو گئے۔ کتنے لوگوں پر بولا جا سکتا ہے؟ ایک کروڑ افراد پر، دیکھو، ایک کروڑ احتمال ہو گئے غلام میں۔ لیکن فرض کرو، ان ایک کروڑ میں صرف دس لاکھ مسلمان ہیں، دس لاکھ مومن ہیں۔ تو اب میں غلام کی صفت لے آتا ہوں، غلام مومن، مومن غلام۔ اب یہ کتنے پر بولا جا رہا ہے؟ صرف دس لاکھ پر۔ پہلے غلام کا لفظ سارے ایک کروڑ پر بولا جا رہا تھا۔ اب جب میں صفت لے آیا، تو صفت نے اس کے اندر تخصیص پیدا کر دی، اس کے اندر احتمالات کم کر دیے۔ پہلے تو یہ ایک کروڑ پر بولا جا رہا تھا، اب کتنے پر بولا جا رہا ہے؟ دس لاکھ پر۔ تو یہ معرفہ تو نہیں بنا، لیکن معرفہ کے قریب آ گیا۔ معرفہ تو ہوتا ہے نا، جو کسی معین پر دلالت کرتا ہے۔ میں نے زید کہا، تو کتنے افراد آپ کے ذہن میں آئے؟ ایک، زید ہی آیا۔ تو معرفہ کسی متعین ذات پر دلالت کرتا ہے اور نکرہ غیر معین پر، لیکن جب نکرہ کی صفت لاؤ، تو اس میں احتمالات کم ہو جاتے ہیں۔ جب احتمال کم ہوئے، تو وہ معرفہ کے قریب آ گیا۔ معرفہ تو نہیں بنا، لیکن معرفہ کے قریب آ گیا یعنی اس کے احتمالات کم ہو گئے اور قریب الی الشیء حکم الشیء ہوتی ہے۔ جو جس چیز کے قریب ہو، اس کا وہی حکم مل جاتا ہے اس کو۔ تو معرفہ تو یہ نہ ہوا، لیکن معرفہ کے قریب ہو گیا، تو معرفہ والا حکم ہی اس کو دے دیا۔ گویا یہ معرفہ ہی ہو گیا، یوں سمجھو۔ گویا، لہذا مبدل منہ ہے معرفہ اور بدل کیا رہا ہے؟ نکرہ، تو اس کی صفت لے آؤ۔ صفت لاؤ گے تو اس میں کیا آ جائے گی؟ تخصیص۔ اور تخصیص سے یہ معرفہ تو نہ بنا لیکن معرفہ کے قریب ہو گیا۔ تو اور قریب الی الشیء حکم الشیء تو یوں ہی سمجھو، یہ بھی کیا بن گیا؟ معرفہ۔ لہذا اب اس کا بدل بننا ٹھیک ہو گیا۔ معرفہ سے نکرہ کا بدل بننا ٹھیک ہو گیا جب صفت لے آؤ۔ اگر صفت نہیں لاؤ گے، تو پھر نکرہ کو صرف نکرہ کو بدل نہیں بنا سکتے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ ایک ہے مبدل منہ جو پہلے آیا اور ایک ہے بدل جو بعد میں آیا، تو مبدل منہ مقصود نہیں بلکہ مقصود کون ہے؟ بدل۔ لہذا بدل کو مبدل منہ سے اعلی ہونا چاہیے اور اگر اعلی نہیں ہے، تو کم از کم برابر ہونا چاہیے۔ لہذا اگر مبدل منہ معرفہ ہو اور بدل بھی معرفہ ہو، تو بھی بات ٹھیک ہے۔ کیونکہ اس سے اعلی تو نہیں، لیکن کم از کم برابر تو ہے۔ اگر مبدل منہ بھی نکرہ ہو اور بدل بھی نکرہ ہو، تو بھی اس کے برابر ہے، پھر بھی معاملہ ٹھیک۔ مبدل منہ نکرہ ہو اور بدل معرفہ ہو، یہ بہترین یہ بھی ٹھیک، کیونکہ اس میں بدل کیا ہے؟ مبدل منہ سے اعلی ہے۔ ہاں ایک صورت میں مسئلہ بنتا ہے، جب مبدل منہ ہو معرفہ اور بدل کو کیا لائیں؟ نکرہ، تو اس صورت میں مسئلہ بنتا ہے کہ بدل جو مقصود ہے، وہ تو ادنی ہو گیا، نکرہ ہے اور مبدل منہ جو غیر مقصود ہے، وہ معرفہ ہے، تو اس صورت میں پھر بدل کی صفت لانا ضروری ہے۔ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: لنسفعن بالناصیہ، ناصیۃ کاذبہ۔ لنسفعن بالناصيتی، ناصیۃ کاذبہ۔ دیکھو، بالناصیہ، الناصیہ یہ ہے مبدل منہ اور ناصیۃ کاذبہ یہ ہے اس سے بدل اور مبدل منہ الناصیہ اس پر الف لام ہے اور آگے اس سے بدل کیا آیا؟ ناصیہ وہ نکرہ آیا۔ الناصیہ معرفہ ہے جو مبدل منہ اور آگے ناصیہ یہ کیا ہے؟ بدل، تو یہ تو نکرہ ہے اور بدل تو مقصود ہوتا ہے، لہذا اس کو مبدل منہ سے کم نہیں ہونا چاہیے، اس کو مبدل منہ سے اعلی ہونا چاہیے، اگر اعلی نہیں ہے، تو کم از کم اس کے برابر ہونا چاہیے اور یہ تو اس سے کم درجے کا ہے، لہذا اس کی صفت کاذبت لائی گئی، عربی قوانین کے مطابق اور اسے معرفہ تو نہ بنا، لیکن معرفہ کے قریب ہو گیا، لہذا اس کا بدل بننا صحیح ہو گیا۔ تو اس لیے اس کی ناصیۃ کاذبت یہ کاذبہ اس کی صفت لائی گئی۔ اس کا معنی بھی سمجھ لو۔ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن مجرموں کو ناصیہ سے پکڑا جائے گا۔ کس سے؟ ناصیہ اور قدموں سے پکڑا جائے گا۔ ناصیہ یاد رکھو، یہ سر کا اگلا حصہ، پیشانی کے بقدر، یہ سر کا اگلا حصہ جو ہے، یہ یہ کیا ہے؟ ناصیہ ہے، پیشانی، پیشانی سے اوپر جہاں بال شروع ہو گئے، یہ حصہ پیشانی کے لگ بھگ یعنی یوں اگر آپ پیشانی ان بالوں پر ہاتھ رکھیں، پیشانی آپ کی خالی رہے اور ہاتھ رکھیں، یہ جو ہاتھ کے نیچے حصہ ہے، یہ سارا کیا ہے؟ ناصیہ۔ پیشانی سے اوپر بالوں کے اوپر ہاتھ رکھا، یہ جتنا حصہ ہاتھ کے نیچے آیا یہ کیا ہے؟ ناصیہ، یعنی یہ سر کے اگلا حصہ مراد ہے۔ تو یہ سر کے اگلے حصے کے بال، ان سے مجرموں کو پکڑا جائے گا، مجرموں کو۔ بھئی اس کی کیا وجہ ہے؟ ناصیہ سے مجرموں کو کیوں پکڑا جائے گا؟ تو آج آج سائنس نے جب ترقی کر لی اور غور کیا ان چیزوں پر، تو اب پتہ چلا بھئی کہ ناصیہ سے انسان کو اس لیے پکڑا جائے گا کہ یہ جو دماغ ہے انسان کا، اس کے کئی حصے ہیں۔ ایک آگے والا حصہ ہے یہ جو ناصیہ کے نیچے ہے اور باقی دماغ پیچھے سر کی جانب ہے اور یہ جو انسان کے ذہن میں برے خیالات آتے ہیں، یہ گناہ کے جو منصوبے بنتے ہیں، یہ گناہ کے جو خیالات آتے ہیں، یہ سر کے اس اگلے حصے میں آتے ہیں، جسے کیا کہتے ہیں؟ ناصیہ، اسی لیے اس سے مجرموں کو پکڑا جائے گا اور نیز آگے ناصیۃ کاذبت، ناصیہ کو اللہ نے کاذب فرمایا، وہ ناصیہ جو جھوٹی ہے، یعنی غلط خیالات پیدا کرنے والی ہے، باطل خیالات، غلط خیالات، جھوٹے خیالات بنانے والی ہے، گناہ کی دعوت دینے والی ہے، اس لیے اس کی صفت کیا لائی گئی؟ کاذبہ۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور بدل کے بارے میں ایک اور بڑی قیمتی بات یاد رکھنا۔ یاد رکھو، یہ جو بدل ہے، یہ تکرار عامل کے درجے میں ہوتا ہے۔ یہ جو بدل ہے، یہ تکرار عامل کے درجے میں ہوتا ہے، یعنی گویا کہ عامل اس پر دوبارہ داخل ہو رہا ہے۔ مثلاً جاءنی زید اخوکا یہ زید کیا ہے؟ مبدل منہ اور اخوکا یہ کیا ہے؟ بدل اور بدل کس کے حکم میں؟ تکرار عامل، تکرار کا کیا معنی ہوتا ہے؟ ایک چیز کو دوبارہ لانا، گویا اس پر عامل دوبارہ داخل ہو رہا ہے اور زید اس کے اندر عامل کون تھا؟ جاء تھا، تو گویا وہی جاء اخوکا پر دوبارہ داخل ہو رہا ہے۔ آپ نے تو یوں کہا: جاءنی زید اخوکا، لیکن یہ اسی طرح ہے گویا آپ نے یوں کہا ہو: جاءنی زید، جاءنی اخوکا۔ جاءنی زید، جاءنی اخوکا، کہ گویا بدل کے لیے وہ عامل دوبارہ آ گیا ہے، کیونکہ وہ مقصود ہے اور جو پہلے عامل کی کل آئے تھے، وہ غیر مقصود کے لیے لائے تھے اور یہ تو مقصود ہے، تو اس کے لیے گویا عامل دوبارہ آ گیا ہے۔ تو جاءنی زید اخوکا، یہ کس درجے میں ہے؟ جاءنی زید، جاءنی اخوکا، آپ نے تو ایک جملہ بولا، لیکن گویا یہ کتنے جملوں کے درجے میں ہو گیا؟ دو جملوں کے درجے میں ہو گیا۔ یعنی بس یا یوں کہو کہ بس یہ تکرار عامل کے درجے میں ہے، گویا وہ جو عامل تھا مبدل منہ میں، وہی دوبارہ اب کس کے اندر عمل کر رہا ہے؟ بدل کے اندر عمل کر رہا ہے۔ یا جیسے صلب زید ثوبہ، یہ گویا کس درجے میں ہے؟ صلب زید، صلب ثوبہ، بات سمجھ میں آ گئی۔ اسی طرح ضرب زید راسہ، یہ کس درجے میں ہے؟ ضرب زید، ضرب راسہ، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور اسی طرح مررت برجل حمار، یہ کس درجے میں ہے؟ مررت برجل بحمار، با نے جر دیا ہے نا، اس عامل کو دوبارہ لے آؤ، مررت برجل بحمار، تو جو عامل ہے، وہ تو بدل تکرار عامل کے درجے میں ہے، گویا وہ عامل اس پر دوبارہ داخل ہو رہا ہے اور رجل کو جر کس نے دیا تھا؟ با جار نے، تو وہی با جاررا گویا حمار پر دوبارہ آ گئی ہے۔ مررت برجل بحمار۔ حاصل کلام اب سمجھ لیں آخر میں بھئی۔ آج آپ نے بدل کے بارے میں پڑھا۔ میں نے بتلایا کہ جو پہلے آئے اس کو کہتے ہیں مبدل منہ اور جو بعد میں آئے اس کو کہتے ہیں بدل اور بدل کا وہی اعراب ہوتا ہے جو مبدل منہ کا ہو، تو یہ توابع میں سے ہے۔ تابع بھی کسے کہتے ہیں؟ جس پر وہی اعراب ائے جو مطبوع پر ہو۔ اور بدل کون سا تابع ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ بدل وہ تابع ہے کہ وہ نسبت کے ذریعے مقصود ہوتا ہے۔ بدل کیا ہے؟ وہ تابع ہے جو نسبت کے ذریعے مقصود ہوتا ہے اور جو مبدل منہ یعنی مطبوع کو جو پہلے ذکر کیا گیا، وہ صرف تمہید کے طور پر ذکر کیا گیا، وہ اصل میں مقصود نہیں۔ اور پھر اس بدل کی چار قسمیں ہیں۔ بدل الکل، بدل البص، بدل الاشتمل اور بدل الغلط۔ بدل الکل کسے کہتے ہیں؟ کہ بدل اور مبدل منہ دونوں کا مدلول ایک ہی ہو۔ اور بدل الباس کسے کہتے ہیں؟ کہ بدل کا جو مدلول ہے، وہ جز ہے کس کا؟ مبدل منہ کے مدلول کا۔ اور بدل الاشتمل کسے کہتے ہیں؟ کہ بدل کا جو مدلول ہے، وہ متعلق ہے کس سے؟ مبدل منہ سے یا یوں کہیں مبدل منہ کے مدلول سے اور میں نے دوسری تعریف کی تھی کہ مبدل منہ فعل کو قبول نہ کرے، ذہن منتظر رہے، کوئی اور لفظ آنا چاہیے جو فعل کو قبول کر لے اور بدل الغلط کسے کہتے ہیں؟ کہ جس کا سبب غلطی بنے، غلطی سے ایک لفظ ادا ہو گیا، زبان سے، آگے آپ فورا بدل لا کر اس غلطی کی اصلاح کرتے ہیں۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا کہ یہ جو بدل ہوتا ہے، یہ تکرار عامل کے درجے میں ہوتا ہے اور نیز یہ بھی آپ کو بتلایا کہ بدل اور مبدل منہ میں سے بدل اصل مقصود ہے، لہذا اس کو مبدل منہ سے اعلی ہونا چاہیے، اگر اعلی نہیں ہے، تو کم از کم اس کے برابر ہو۔ ایک صورت میں وہ ادنیٰ بن رہا تھا کہ مبدل منہ معرفہ ہو اور بدل کیا ہو؟ نکرہ ہو۔ باقی صورتوں میں تو یا تو برابر تھا یا اس سے اعلی تھا۔ تو اس صورت میں یہ مبدل منہ تھا معرفہ اور بدل کیا تھا؟ اور بدل تھا نکرہ، تو اس صورت میں اس کے ساتھ صفت لانا ضروری ہے، تاکہ کم از کم کچھ تلافی تو ہو جائے جو اس کے اندر کمی آئی ہے، تو صفت لائیں گے تو اس کے اندر تخصیص پیدا ہو جائے گی اور تخصیص سے یہ معرفہ تو نہیں بنے گا لیکن معرفہ کے قریب ہو جائے گا اور قریب الی الشیء حکم الشیء ہے، تو لہذا گویا اس کو جو کمی آئی تھی، وہ کمی ایک لحاظ سے پوری ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔