دیکھیے بھئی کتاب پر۔ ہفتم اسم تفصیل و استعمال او بر سہ وجہ است با من چو زید افضل من عمرو یا با الف و لام چو جاءنی زید الافضل یا با اضافت چو زید افضل القوم و عمل او در فاعل باشد و آن ہو است فاعل افضل کہ درو مستتر است۔ هشتم مصدر بشرط آنکہ مفعول مطلق نباشد عمل فعلش کند چو اعجبنی ضرب زید عمرا۔ اسماء عاملہ کے بارے میں ہم پڑھ رہے تھے اور صاحب نہو میر نے آپ کو بتلایا کہ اسماء عاملہ جو ہیں وہ 11 قسم پر ہیں۔ پہلی قسم جو ہے اسماء شرطیہ ہیں۔ اسماء شرطیہ وہ ہیں جو ہیں تو اسم لیکن ان کے معنی میں ہے اور شرط والا معنی ادا کرتے ہیں اور وہ نو ہیں بھئی نو انھوں نے آپ کو بتلایا۔ اور یہ دو جملوں پر داخل ہوتے ہیں، پہلے کو شرط کہتے ہیں اور دوسرے کو جزا اور یہ فعل مضارع کو جزم دیتے ہیں۔ دوسرا جو تھا وہ اسماء افعال ہیں جو فعل ماضی کے معنی میں ہوں بھئی۔ تیسرا وہ اسماء افعال جو امر حاضر کے معنی میں ہوں۔ اور چوتھی قسم تھی اسم فاعل۔ جب وہ حال اور استقبال کے معنی میں ہو تو وہ اپنے فعل معروف والا عمل کرتا ہے بشرطیکہ چھ چیزوں میں سے کسی ایک پر اس نے اعتماد کیا ہو۔ اور وہ چھ چیزیں کون کون سی ہیں؟ نمبر ایک مبتدا، نمبر دو موصوف، نمبر تین ذوالحال، نمبر چار اسم موصول، نمبر پانچ ہمزہ استفہام اور نمبر چھ حرف نفی۔ تو یہ ان پر اعتماد ہوگا اور پھر یہ عمل کریں گے۔ اگر ان کا فاعل اسم ظاہر آیا تو اس کو بھی رفع دیں گے اور مفعول وغیرہ آئے تو ان کو یہ نصب دیں گے۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ ان کے لیے یہ جو شرطیں ذکر ہوئیں یہ اسم ظاہر میں عمل کے لیے ہیں۔ کس میں؟ اسم ظاہر میں۔ اگر یہ صرف ضمیر کے اندر عمل کر رہے ہوں جو انہی کے اندر چھپی ہو، جیسے زید قائم۔ یہ قائم اس وقت صرف ہوا ضمیر کو رفع دے رہا ہے جو اس کے اندر چھپی ہوئی ہے اور کسی چیز میں یہ عمل نہیں کر رہا، تو جب صرف یہ اپنی ضمیر میں عمل کر رہا ہو اور کسی چیز میں عمل نہ کر رہا ہو تو پھر کوئی شرط نہیں ہے، یہ ہر حال میں عمل کرے گا پھر چاہے یہ ماضی کے معنی میں ہی کیوں نہ ہو بھئی۔ تو دیکھو زید قائم امس، زید کھڑا تھا گزشتہ کل۔ تو یہ میں نے قیام زید کے لیے کب ثابت کیا؟ گزشتہ کل یعنی ماضی کے معنی میں، لیکن پھر بھی قائم اس کے اندر جو ہوا ضمیر ہے قائم اس کو رفع دے رہا ہے۔ تو ضمیر میں عمل کرنے کے لیے کوئی شرط نہیں ہے بھئی اور دوسری بات میں نے یہ آپ کو بتلائی تھی کہ جب اسم فاعل پر الف لام آ جائے تو پھر اس وقت بھی یہ اسم حال یا استقبال کی قید نہیں ہے، پھر یہ ہر صورت میں عمل کرے گا چاہے حال کے معنی میں ہو چاہے استقبال کے اور چاہے ماضی کے معنی میں ہو۔ اس کے بعد گزشتہ سبق میں آپ نے اسم مفعول کے بارے میں پڑھا اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ اسم مفعول میں بھی وہی شرطیں ہیں جو اسم فاعل میں تھیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اسم فاعل جو ہے وہ فاعل کو رفع دیتا ہے، وہ فعل معروف جیسا عمل کرتا ہے اور اسم مفعول نائب الفاعل کو رفع دیتا ہے، یہ فعل مجہول جیسا عمل کرتا ہے۔ لیکن اس میں بھی وہی شرطیں، یہ کس معنی میں ہونا چاہیے؟ حال یا استقبال کے معنی میں اور چھ چیزوں میں کسی ایک پر اعتماد ہو بھئی، چھ چیزوں میں سے کسی پر۔ اس کے بعد چھٹی قسم جو تھی وہ صفت مشبہ پڑھی اسماء عاملہ کی، چھٹی قسم بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ صفت مشبہ یہ بھی اپنے فعل معروف جیسا عمل کرتی ہے اور یہ ثبوت پر دلالت کرتی ہے، اسم فاعل جو ہے وہ حدوث پر دلالت کرتا ہے۔ حدوث کا معنی ہے ایک چیز نہ ہو، پھر پائی جائے اور پھر گزر بھی جائے، یعنی اس میں ایک چیز کا ہونا ہو اور ہونا کسی زمانے میں ہوتا ہے یا ماضی میں یا حال میں یا استقبال میں۔ جبکہ صفت مشبہ میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت ہوگا، اس میں زمانے کی قید نہیں ہوتی بھئی۔ زید ضارب، ضارب میں کیا ہے؟ ضرب کا حدوث ہے، ضرب کا ہونا بتلایا جا رہا ہے کہ زید نے پٹائی کی ہے یا پٹائی کر رہا ہے یا پٹائی کرے گا، دیکھو کسی نہ کسی زمانے میں ہوگی یہ پٹائی بھئی۔ تو اسم فاعل کس پر دلالت کرتا ہے؟ حدوث پر، دہرائیں بھئی زبان سے، اسم فاعل کس پر دلالت کرتا ہے؟ حدوث پر، حدوث کا کیا معنی؟ ہونا، ایک چیز کا ہونا اور ہونا کسی زمانے میں ہوتا ہے، ماضی میں، حال میں یا استقبال میں۔ جبکہ صفت مشبہ ثبوت کے لیے آتی ہے کہ ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہے، زید طویل، دیکھو یہ طویل کیا ہے؟ صفت مشبہ، زید لمبے قد والا ہے، اب اس میں زمانے کی قید نہیں کہ ماضی میں لمبے قد والا تھا یا ابھی حال میں ہے یا مستقبل میں ہے، بلکہ یہ لمبا قد جب ثابت ہو جائے تو ہر وقت انسان کے ساتھ رہتا ہے، تو اس میں دیکھو زید کے لیے لمبے قد کا ثبوت ہے، اس میں زمانے کی قید نہیں۔ تو آپ خود غور کر سکتے ہیں، جیسے میں کہتا ہوں زید آکل، زید کھانا کھانے والا ہے۔ میں نے بتلایا کھانا کھانے والا، آپ کو سمجھانے کے لیے بتایا ورنہ یہ معنی مناسب نہیں ہے بھئی، زید آکل، یہ ماضی میں اس نے کھایا ہوگا یا حال میں کھا رہا ہوگا یا مستقبل میں کھائے گا، تو اسی کے مطابق ترجمہ کریں، اگر ماضی میں کھایا ہے تو زید آکل، ترجمہ کریں زید نے کھانا کھایا، ماضی والا ترجمہ کریں، اگر حال والا معنی ہو زید آکل، پھر کیا ترجمہ ہوگا؟ زید کھانا کھا رہا ہے اور اگر مستقبل کی بات ہے تو اس کے مطابق ترجمہ کریں، زید آکل، کیا ترجمہ ہوگا؟ زید کھانا کھائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بہرحال فرق جو ہے وہ اسم فاعل جو ہے وہ حدوث پر دلالت کرتا ہے، اس میں زمانے کی قید ہوگی، جبکہ صفت مشبہ ثبوت پر دلالت کرتی ہے، اس میں زمانے کی قید نہیں ہوتی۔ اور میں نے مثال سے وضاحت کی تھی، سامع اور سمیع، سامع کسی شخص کو اس وقت کہیں گے جب وہ کوئی آواز سنے اور یہ آواز کو سننا یہ کسی زمانے میں ہوگا یا ماضی میں یا حال میں یا استقبال میں اور سمیع کا معنی یہ ہے کہ اس میں سننے کی صلاحیت ہے، تو سمیع اس میں اس کے لیے سمع کی صفت ثابت ہے، سننے کی صفت ثابت ہے، تو اس میں ہونا نہیں کہ آواز سنی ہے تو ہم سمیع کہہ رہے ہیں، نہیں، سمیع کا معنی ہے اس میں سننے کی صلاحیت ہے، آواز چاہے آئے یا نہ آئے اس میں سننے کی صلاحیت ہے، ہاں جب بھی آواز آئے گی وہ اس کو سن لے گا۔ تو فرق سمجھ میں آیا؟ تو زید سامع کا کیا معنی؟ زید نے سنا یا معلوم ہو کسی آواز کو سنا ہے یا سن رہا ہے یا سنے گا کسی نہ کسی زمانے میں اور زید سمیع کا کیا معنی؟ یعنی زید کے لیے سننے کی صفت ثابت ہے، وہ سن سکتا ہے، جب بھی آواز آئے گی وہ اس کو سن لے گا۔ تو صفت مشبہ میں زمانے کی قید نہیں ہوتی بھئی، لہذا اسی لیے صاحب نہو میر نے بھی یہاں حال اور استقبال کا لفظ ذکر نہیں کیا، اسم فاعل کا جب ذکر کیا تھا وہاں انہوں نے خود حال اور استقبال کا لفظ ذکر کیا تھا کہ بمعنی حال یا استقبال اور اسم مفعول کا ذکر کیا وہاں بھی بتلایا بمعنی حال و استقبال، لیکن صفت مشبہ میں انہوں نے حال و استقبال کی قید نہیں لگائی۔ تو صفت مشبہ اپنے فعل جیسا عمل کرتی ہے، صفت مشبہ میں نے یہ بھی آپ کو بتلایا تھا کہ یہ فعل لازم سے بنتی ہے، کبھی بھی فعل متعدی سے نہیں بنتی اور یہ اپنے فعل معروف جیسا عمل کرتی ہے، لیکن اس کا عمل اپنے فعل سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ یہ مفعول کو بھی نصب دیتی ہے، حالانکہ یہ فعل لازم سے بنی ہے اور فعل لازم کے لیے تو مفعول آتا ہی نہیں، تو یہ لیکن یہ بعض جگہ مفعول کو نصب دیتی ہے بھئی، ہم عربی کلام میں غور کرتے ہیں تو بعض جگہ دیکھتے ہیں صفت مشبہ مفعول کو نصب دے رہی ہے، تو پھر علماء حیران ہوتے ہیں کہ بھئی یہ تو فعل لازم سے بنی ہے اور یہ کیسے مفعول کو نصب دے رہی ہے؟ تو نحوی حضرات پھر بتلاتے ہیں کہ یہ یہ مفعول کو نصب دے رہی ہے، اس کا یہ عمل اس کے فعل سے زائد ہے، بڑھ کر ہے، یعنی عمل دینے میں یہ اپنے فعل سے بھی بڑھ گئی اور پھر اس کو مفعول نہیں کہتے، کیونکہ یہ تو فعل لازم سے بنی ہے، فعل لازم کے لیے تو مفعول نہیں آتا، اس کو پھر شبیہ مفعول کہتے ہیں یا مشابہ مفعول کہتے ہیں، یعنی مفعول کے مشابہ ہے، مفعول نہیں ہے یا شبیہ کا بھی وہی معنی بھئی، مفعول کے مشابہ ہے بھئی۔ اور صفت مشبہ کے بہت سے اوزان ہیں اور جیسے یہ حسن انہوں نے ذکر کیا، حسن یہ کیا ہے؟ صفت مشبہ ہے، اسی طرح فعیل وزن فعیل، شریف بھئی، شریف یہ صفت مشبہ ہے فعیل وزن، کریم یہ بھی فعیل وزن ہے، اسی طرح علیم یہ بھی کیا ہے؟ فعیل وزن، سمیع یہ بھی کیا ہے؟ فعیل، تو یہ فعیل وزن اس کا مشہور وزن ہے، اس وزن پر آپ کو جو بھی لفظ مل جائے سمجھ جائیں یہ صفت مشبہ ہے بھئی۔ تو اس کے عمل کے لیے بھی وہی اعتماد ضروری ہے، لیکن یہ چھ چیزوں پر اعتماد نہیں کرتی، بلکہ یہ صرف پانچ چیزوں پر اعتماد کرتی ہے، چھٹی چیز جو اسم موصول ہے اس پر اس کا اعتماد نہیں، کیونکہ اس پر جو الف لام آتا ہے وہ اسم موصول نہیں ہوتا، وہ حرف ہوتا ہے، وہ اس کو معرفہ بنانے کے لیے آتا ہے۔ تو باقی چیزوں پر اس کا اعتماد ہوگا، کبھی یہ مبتدا پر اعتماد کر کے عمل کرے گی، کبھی موصوف پر، کبھی ذوالحال پر، کبھی ہمزہ استفہام پر اور کبھی حرف نفی پر، تو ان پر اعتماد کر کے عمل کرے گی اور اس میں حال اور استقبال کی شرط بھی نہیں ہے۔ اور اس میں بھی اسی طرح ہے کہ اگر یہ صرف اپنی ضمیر میں عمل کر رہی ہو پھر کوئی شرط نہیں ہے بھئی، اس کا فاعل کیا ہو اسی کے اندر ضمیر ہو اور کوئی معمول آگے نہیں ہے تو پھر اس میں کوئی شرط نہیں ہے، اس میں ہر حال میں یہ عمل کرے گی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں ہفتم ہفتم اسم تفصیل و استعمال او بر سہ وجہ است با من چو زید افضل من عمرو یا با الف و لام چو جاءنی زید الافضل یا با اضافت چو زید افضل القوم و عمل او در فاعل باشد و آن ہو است فاعل افضل کہ درو مستتر است۔ ساتویں قسم آ گئی اسماء عاملہ کی بھئی اور وہ اسم تفصیل ہے، اسم تفصیل۔ وہ اسماء عاملہ ذرا جلدی جلدی دہرائیں، نمبر ایک اسماء شرطیہ، نمبر دو اسم فعل بمعنی ماضی، نمبر تین اسم فعل بمعنی امر حاضر، نمبر چار اسم فاعل، نمبر پانچ اسم مفعول، نمبر چھ صفت مشبہ اور نمبر سات آج ہم پڑھ رہے ہیں اسم تفصیل، پھر دہرائیں، نمبر ایک اسماء شرطیہ، نمبر دو اسم فعل بمعنی ماضی، نمبر تین اسم فعل بمعنی امر حاضر، نمبر چار اسم فاعل، نمبر پانچ اسم مفعول، نمبر چھ صفت مشبہ اور نمبر سات کیا ہے؟ اسم تفصیل ہے۔ اور یہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی، میں بار بار آپ کو بتلا رہا ہوں کہ جب بھی جملے کو کسی چیز سے جوڑنا ہو درمیان میں ربط ضروری اور اسی طرح شبہ جملہ کو جب کسی چیز سے جوڑنا ہو تو وہاں پر بھی درمیان میں ربط ضروری ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں، انہوں نے جتنی مثالیں ذکر کیں اسم فاعل کے اندر دیکھ لیں، ان سب میں وہ ربط دیتے جا رہے ہیں، زید قائم ابوہ، کتاب پر نظر ہے؟ یہ ابوہ کے آخر میں ہا ضمیر کیوں لائے؟ ربط دینے کے لیے، کیونکہ اس کے بغیر ربط نہیں بنتا تھا، آگے چو زید ضارب ابوہ عمرا، یہاں پھر ابوہ لے کر آئے، کیوں لے کر آئے؟ ربط دینے کے لیے اور اسی طرح مررت برجل ضارب ابوہ بکرا، یہاں پھر ابوہ کا لفظ لائے کیوں؟ ربط دینے کے لیے، اگلی مثال ہے جاءنی القائم ابوہ، یہاں بھی ابوہ ہا ضمیر لے کر آئے و جاءنی الضارب ابوہ عمرا، یہاں بھی ابوہ لے کر آئے ربط دینے کے لیے، آگے جاءنی زید راکبا غلامہ فرسا، یہاں غلامہ کے ساتھ یہ ہا ضمیر کیوں لائے؟ ربط دینے کے لیے، آگے آگے اسم مفعول کے اندر بھئی، زید مضروب ابوہ، یہاں ابوہ کے ساتھ ہا ضمیر کیوں لائے؟ دیکھیے بھئی کتاب پر۔ ہفتم اسم تفصیل و استعمال او بر سہ وجہ است با من چو زید افضل من عمرو یا با الف و لام چو جاءنی زید الافضل یا با اضافت چو زید افضل القوم و عمل او در فاعل باشد و آن ہو است فاعل افضل کہ درو مستتر است. ہشتم مصدر بشرط آنکہ مفعول مطلق نباشد عمل فعلش کند چو اعجبنی ضرب زید عمرا. اسماء عاملہ کے بارے میں ہم پڑھ رہے تھے اور صاحب نہو میر نے آپ کو بتلایا کہ اسماء عاملہ جو ہیں وہ 11 قسم پر ہیں۔ پہلی قسم جو ہے اسماء شرطیہ ہیں۔ اسماء شرطیہ وہ ہیں جو ہیں تو اسم لیکن ان کے معنی میں ہے اور شرط والا معنی ادا کرتے ہیں اور وہ نو ہیں بھئی نو انھوں نے آپ کو بتلایا. اور یہ دو جملوں پر داخل ہوتے ہیں، پہلے کو شرط کہتے ہیں اور دوسرے کو جزا اور یہ فعل مضارع کو جزم دیتے ہیں. دوسرا جو تھا وہ اسماء افعال ہیں جو فعل ماضی کے معنی میں ہوں بھئی. تیسرا وہ اسماء افعال جو امر حاضر کے معنی میں ہوں. اور چوتھی قسم تھی اسم فاعل. جب وہ حال اور استقبال کے معنی میں ہو تو وہ اپنے فعل معروف والا عمل کرتا ہے بشرطیکہ چھ چیزوں میں سے کسی ایک پر اس نے اعتماد کیا ہو. اور وہ چھ چیزیں کون کون سی ہیں؟ نمبر ایک مبتدا، نمبر دو موصوف، نمبر تین ذوالحال، نمبر چار اسم موصول، نمبر پانچ ہمزہ استفہام اور نمبر چھ حرف نفی. تو یہ ان پر اعتماد ہوگا اور پھر یہ عمل کریں گے. اگر ان کا فاعل اسم ظاہر آیا تو اس کو بھی رفع دیں گے اور مفعول وغیرہ آئے تو ان کو یہ نصب دیں گے. اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ ان کے لیے یہ جو شرطیں ذکر ہوئیں یہ اسم ظاہر میں عمل کے لیے ہیں۔ کس میں؟ اسم ظاہر میں. اگر یہ صرف ضمیر کے اندر عمل کر رہے ہوں جو انہی کے اندر چھپی ہو، جیسے زید قائم۔ یہ قائم اس وقت صرف ہوا ضمیر کو رفع دے رہا ہے جو اس کے اندر چھپی ہوئی ہے اور کسی چیز میں یہ عمل نہیں کر رہا، تو جب صرف یہ اپنی ضمیر میں عمل کر رہا ہو اور کسی چیز میں عمل نہ کرے تو پھر کوئی شرط نہیں ہے، یہ ہر حال میں عمل کرے گا پھر چاہے یہ ماضی کے معنی میں ہی کیوں نہ ہو بھئی. تو دیکھو زید قائم امس، زید کھڑا تھا گزشتہ کل. تو یہ میں نے قیام زید کے لیے کب ثابت کیا؟ گزشتہ کل یعنی ماضی کے معنی میں، لیکن پھر بھی قائم اس کے اندر جو ہوا ضمیر ہے قائم اس کو رفع دے رہا ہے. تو ضمیر میں عمل کرنے کے لیے کوئی شرط نہیں ہے بھئی اور دوسری بات میں نے یہ آپ کو بتلائی تھی کہ جب اسم فاعل پر الف لام آ جائے تو پھر اس وقت بھی یہ اسم حال یا استقبال کی قید نہیں ہے، پھر یہ ہر صورت میں عمل کرے گا چاہے حال کے معنی میں ہو چاہے استقبال کے اور چاہے ماضی کے معنی میں. اس کے بعد گزشتہ سبق میں آپ نے اسم مفعول کے بارے میں پڑھا اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ اسم مفعول میں بھی وہی شرطیں ہیں جو اسم فاعل میں تھیں. فرق صرف اتنا ہے کہ اسم فاعل جو ہے وہ فاعل کو رفع دیتا ہے، وہ فعل معروف جیسا عمل کرتا ہے اور اسم مفعول نائب الفاعل کو رفع دیتا ہے، یہ فعل مجہول جیسا عمل کرتا ہے. لیکن اس میں بھی وہی شرطیں، یہ کس معنی میں ہونا چاہیے؟ حال یا استقبال کے معنی میں اور چھ چیزوں میں کسی ایک پر اعتماد ہو بھئی، چھ چیزوں میں سے کسی پر. اور آگے امرن معتن غلامہ درہمان یہاں دیکھو غلامہ کے ساتھ ہا ضمیر لائے ربط دینے کے لیے و بکر معلوم ابنہ فاضلا یہاں ابنہ لائے. یہ ابنہ میں ہا ضمیر کیوں لائے؟ ربط دینے کے لیے اور اسی طرح خالد مخبر ابنہ عمرا فاضلا یہاں بھی ابنہ لائے ہا ضمیر اس کے ساتھ لائے کس لیے؟ ربط دینے کے لیے. اور آگے زید حسن غلامہ یہاں پر بھی غلامہ کے ساتھ ہا ضمیر لائے کس لیے؟ ربط دینے کے لیے. بھئی یہ ضمیر لے کر آئے غلامہ کا ہا، غلامہ کو فاعل بنایا حسن کے لیے، امر کو نہیں بنایا. زید حسن امر. زید حسن امر کیوں؟ کیونکہ پھر ربط نہیں آتا تھا. زید حسن امر. امر مثلاً زید کا کون ہے؟ زید کا غلام ہے اس کا نام کیا ہے؟ امر ہے تو غلامہ کہہ لو یا امر کہہ لو ایک بات ہے. زید کے غلام کا کیا نام ہے؟ امر ہے غلامہ کو اٹھاؤ اور ذرا امر رکھو، دیکھو خرابی آپ کو سمجھ میں اجائے گی. زید ہے مرفو لفظاً مبتدا حسن مرفو لفظاً صغہ صفت مشبہ اور امر مرفو لفظاً اس کا فاعل. صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر نہیں بن سکتی کیوں نہیں بن سکتی؟ ربط نہیں ہے تو یہ اس لیے وہ جگہ جگہ یہ ضمیریں لا رہے ہیں کہ اس کے بغیر بات ہی نہیں بنتی، تو اس لیے انہوں نے غلامہ کہا نام نہیں لیا اس کا بھئی. آگے دیکھیے بھئی ہفتم اسم تفصیل و استعمال او بر سہ وجہ از من چو زید افضل من عمرو یا با الف و لام چو جاءنی زید الافضل یا با اضافت چو زید افضل القوم. آگے اس میں تفصیل آگیا بھئی. اس میں تفصیل آپ گردانوں کے اندر پڑھ چکے ہیں بھئی، جیسے ضرب کی گردان پڑھی اور صرف صغیر اور اس میں آپ کیا کہتے ہیں افضل المذکر منہ ازرب والجمع ازارب. اور اسی طرح باب نصرہ سے کیسے پڑھا افضل المذکر مذکر منہ انصر والجمع اناصر. تو یہ ازرب انصر وغیرہ یہ جو افعل وزن ہے یہ اس میں تفصیل کا وزن ہے اور اس میں تفصیل کسی چیز کی زیادتی بیان کرتا ہے، کسی صفت کی زیادتی بیان کرتا ہے. زید ضارب کا معنی ہے زید پٹائی کرنے والا ہے یا پٹائی کر رہا ہے، معلوم ہوا ضرب اس کی صفت ہے، وہ کیا کر رہا ہے؟ ضرب لگا رہا ہے، لیکن اس میں تفصیل میں ضرب کی زیادتی بتلائی جائے گی. یعنی جس باب سے بھی آ رہا ہے اس چیز کی اس صفت کی زیادتی بیان ہوتی ہے. تو اس میں زیادتی بیان ہوتی ہے اور زیادتی بھی کسی چیز کے مقابلے میں بیان ہوگی، ویسے زیادتی نہیں. زید ازرب من عمر. زید زیادہ پٹائی کرنے والا ہے من عمر امر سے، زید امر سے زیادہ پٹائی کرنے والا ہے یا ترجمہ یوں کر لیں، زید امر کے مقابلے میں زیادہ پٹائی کرنے والا ہے. تو یہ مین جو ساتھ آتا ہے اس کا ترجمہ سے کے ساتھ کر لیں. زید امر سے زیادہ پٹائی کرنے والا ہے یا اس کا ترجمہ مقابلے کے ساتھ کر لیں، زید امر کے مقابلے میں زیادہ پٹائی کرنے والا ہے. معلوم ہوا امر بھی پٹائی کرتا ہے، زید بھی پٹائی کرتا ہے، لیکن کون زیادہ پٹائی کرنے والا ہے؟ زید اور ویسے زیادہ ہے یا امر کے مقابلے میں زیادہ ہے؟ امر کے مقابلے میں تو اس میں تفصیل میں ہمیشہ دوسری چیز کے مقابلے میں زیادتی بیان کی جاتی ہے اور کبھی ویسے زیادتی بیان کی جائے اس کے لیے پھر مبالغے کے صیغے استعمال ہوتے ہیں. جیسے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ زید بہت زیادہ پٹائی کرنے والا ہے، کسی سے مقابلہ نہیں میں کر رہا، ویسے بیان کر رہا ہوں کہ زید بہت زیادہ پٹائی کرنے والا ہے، تو پھر میں ضارب سے مبالغے کا صیغہ ضراب لے آؤں گا، زید ضراب، زید بہت زیادہ پٹائی کرنے والا ہے. تو دیکھو ضراب یہ مبالغے کا صیغہ ہے، مبالغے کا صیغہ اور یہ بھی ضرب کی زیادتی کو بیان کر رہا ہے لیکن یہاں کسی سے مقابلہ نہیں ہے، مقصود میں ویسے ہی بیان کر رہا ہوں کہ زید بہت زیادہ پٹائی کرنے والا ہے. لیکن جب کسی دوسرے کے مقابلے میں زیادتی بیان کرنا مقصود ہو تو پھر یہ ضراب جیسے مبالغے کے صیغے نہیں لاتے بلکہ پھر وہاں اس میں تفصیل لاتے ہیں. مثلاً میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ زید امر کے مقابلے میں زیادہ پٹائی کرنے والا ہے، تو اب میں ضراب نہیں لاؤں گا بلکہ ازرب لے کر آؤں گا، زید ازرب من عمر، زید زیادہ پٹائی کرنے والا ہے امر کے مقابلے میں. بات سمجھ میں آگئی؟ تو زیادتی بیان کرنے کے لیے دو قسم کے صیغے آتے ہیں، ایک مبالغے والے اور ایک اس میں تفصیل، لیکن فرق کیا کہ مبالغے والے جو صیغے ہیں وہ مطلقا زیادتی بیان کرتے ہیں، اس میں کسی کے ساتھ مقابلہ نہیں ہوتا، کسی دوسرے کے مقابلے میں زیادتی بیان نہیں ہوتی. جبکہ اس میں تفصیل کے اندر کسی دوسرے کے مقابلے میں زیادتی بیان ہوتی ہے. فرق سمجھ میں آیا کہ مطلق زیادتی بیان کرنا ہو تو کون سا صیغہ استعمال کرتے ہیں؟ مبالغے کے اور کسی کے مقابلے میں زیادتی بیان کرنا ہو تو اس میں تفصیل استعمال کرتے ہیں. زید ازرب من عمر، زید امر کے مقابلے میں زیادہ پٹائی کرنے والا ہے. یا دوسری مثال لے لو. زید بھی منع کرنے والا ہے اور امر بھی منع کرنے والا ہے. اور میں آپ کو صرف زید کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں کہ زید بہت زیادہ منع کرنے والا ہے. تو منع منع کرنے والے کو کیا کہتے ہیں؟ مانع، منع کرنے والا. منع یمنع کا معنی روکنا، منع کرنا، اس میں فاعل کیا آئے گا؟ مانع، زید مانع، اس کا تو ترجمہ ہے زید منع کرنے والا ہے. میں صرف یہ نہیں کہہ رہا منع کرنے والا ہے، میں کہنا چاہتا ہوں زید زیادہ منع کرنے والا ہے، بہت زیادہ منع کرنے والا ہے تو پھر کیا کہوں گا؟ زید مناع، فعال وزن پر لے آئیں گے، زید مناع. دیکھو اب کسی سے مقابلہ نہیں میں بیان کر رہا، امر کا ذکر یہاں نہیں ہے، امر کے مقابلے میں میں نہیں کہہ رہا، میں ویسے ہی کہہ رہا ہوں کہ زید بہت زیادہ منع کرنے والا ہے، تو میں پھر مبالغے کا صیغہ استعمال کروں گا زید مناع. اور اگر میں امر کے مقابلے میں زیادتی بیان کرنا چاہتا ہوں تو پھر میں اس میں تفصیل استعمال کروں گا. میں کہتا ہوں زید امر سے زیادہ منع کرنے والا ہے، تو اب مناع نہیں لاؤں گا بلکہ کیا کہوں گا؟ امنع، زید امنع من عمر، زید جو ہے امر کے مقابلے میں زیادہ منع کرنے والا ہے. اور مین کا ترجمہ سے کے ساتھ کریں یا مقابلے میں، مقابلے میں. زید امنع من عمر، زید زیادہ منع کرنے والا ہے من عمر، امر سے، زید امر سے زیادہ منع کرنے والا ہے. تو مین کا ترجمہ سے کے ساتھ کر لیں یا مین کا ترجمہ کے مقابلے میں کر لیں. زید امنع، زید زیادہ منع کرنے والا ہے من عمر، امر کے مقابلے میں، امر کے مقابلے میں. تو یہ اس میں تفصیل جو ہے ثلاثی مجرد سے ثلاثی مجرد سے آتا ہے اور افعل وزن پر ہوتا ہے، افعل. لیکن یہاں ایک قیمتی بات یاد رکھنا کہ یہی افعل وزن صفت مشبہ کے لیے بھی آتا ہے. آپ کے سامنے کوئی بھی لفظ آ جائے اور افعل وزن پر ہو، آپ فوراً آنکھیں بند کر کے یہ نہ کہہ دیں یہ اس میں تفصیل ہے بلکہ اسی افعل وزن پر صفت مشبہ بھی آتی ہے. اور اس کو افعل صفتی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ افعل صفتی. یہ جو افعل تھا یہ تو تھا اس میں تفصیل اور ایک اور افعل وہ دوسرا افعل جو صفت ہے، یعنی صفت مشبہ ہے، اس کو افعل صفتی کہتے ہیں. اور یہ ان ثلاثی مجرد کے ان بابوں سے آئے گا جن میں رنگ والا معنی ہو یا جن میں کوئی عیب والا معنی ہو. اس میں تفصیل ثلاثی مجرد سے آتا ہے، باقی ثلاثی مزید فیہ یا رباعی مجرد وغیرہ سے نہیں آتا اور ثلاثی مجرد کے بھی صرف ان بابوں سے آئے گا جن میں رنگ یا عیب والا معنی نہ ہو. جن بابوں میں رنگ یا عیب والا معنی ہو ان سے جو افعل وزن آئے وہ آپ سمجھ جائیں کہ وہ اس میں تفصیل نہیں ہے بلکہ افعل صفتی ہے، یعنی صفت والا افعل ہے، یعنی صفت مشبہ والا افعل ہے. بات سمجھ میں آگئی؟ جیسے ازرب، ازرب یہ اس میں تفصیل ہے، ازرب کا کیا معنی؟ کسی کے مقابلے میں زیادہ پٹائی کرنے والا، امنع یہ اس میں تفصیل ہے، کیا معنی؟ کسی کے مقابلے میں زیادہ منع کرنے والا، انصر یہ اس میں تفصیل ہے، کسی کے مقابلے میں زیادہ مدد کرنے والا، نصرہ سے ہے. جبکہ ابیض، ابیض آپ پڑھتے رہتے ہیں، ابیض کا معنی ہے سفید، یہ اس میں تفصیل نہیں ہے، اگر اس میں تفصیل ہوتا تو اس کا معنی ہوتا زیادہ سفید، حالانکہ اس کا معنی زیادہ سفید نہیں بلکہ سفید، صرف سفید ہے، یہ صفت مشبہ ہے، اس کو افعل صفتی کہتے ہیں. تو ازرب یہ بھی افعل وزن اور ابیض یہ بھی افعل وزن، لیکن ایک افعل اس میں تفصیل ہے اور ایک افعل صفتی ہے بھئی. تو دیکھو ابیض یہ رنگ بیان ہو رہا ہے اور میں نے بتایا ثلاثی مجرد کے جن بابوں کا رنگ والا معنی ہو، ان سے اس میں تفصیل نہیں آتا بلکہ افعل صفتی آتا ہے. تو ابیض کا کیا معنی؟ سفید، زیادہ سفید نہیں بلکہ سفید، اسی طرح احمر، احمر کا معنی ہے سرخ، سرخ. دیکھو اس میں بھی زیادہ والا معنی نہیں کرنا، زیادہ سرخ کیونکہ اس میں تفصیل نہیں ہے بلکہ یہ افعل صفتی ہے. اسی طرح ازرق، ازرق، ازرق کا معنی نیلا، نیلا. ہمزہ ہے، زا، را اور قاف دو نقطوں والا، ازرق، ازرق کا معنی ہے نیلا، نیلا. اور دیکھو یہ بھی رنگ ہے، یہ صفت ہے، یہ زیادہ نیلا نہیں کیونکہ اس میں تفصیل نہیں ہے. اور اسی طرح اخضر، ہمزہ، خ، ضاد اور را، اخضر کا معنی سبز، یہ افعل صفتی ہے، اس میں تفصیل نہیں، اگر اس میں تفصیل ہوتا پھر کیا معنی ہوتا؟ زیادہ سبز، حالانکہ اس کا معنی تو زیادہ سبز نہیں ہے. اسی طرح جس باب میں عیب والا معنی ہو اس سے بھی افعل وزن پر اس میں تفصیل نہیں آتا بلکہ صفت مشبہ آتی ہے. جیسے اعرج، عاریجا یعارجو کے معنی ہے لنگڑا ہونا، اعرج کا معنی ہوا لنگڑا. اب دیکھو یہ عیب ہے، لنگڑا ہونا کیا ہے؟ عیب ہے، تو اب اعرج کا یہ معنی نہیں زیادہ لنگڑا، بلکہ اعرج کا کیا معنی؟ لنگڑا، دیکھو یہ عیب والا معنی ہے تو یہ صفت مشبہ ہے، اس میں تفصیل نہیں ہے. اسی طرح اعمی، اعمی کا معنی ہے اندھا. دیکھو یہ افعل صفتی ہے، اس میں تفصیل نہیں ورنہ کیا معنی ہوتا؟ زیادہ اندھا. تو اندھا جو جو اندھا ہے، اندھا ہے بھئی اس میں زیادہ اور کم ہونے والی تو بات ہے ہی نہیں، تو یہ اعمی کیا ہے؟ افعل صفتی ہے، یہ صفت مشبہ ہے. بات سمجھ میں آگئی کیا حاصل کلام کیا؟ کہ یہ افعل وزن صرف اس میں تفصیل کے لیے نہیں آتا بلکہ صفت مشبہ کے لیے بھی آتا ہے. اور صفت مشبہ کس باب سے آئے گی؟ جن میں رنگ یا عیب ظاہری عیب والا معنی ہو تو وہاں سے صفت مشبہ آئے گی. अच्छा تو یہ اس میں تفصیل کی بات میں بیان کر رہا ہوں بھئی. آگے اس میں تفصیل کے استعمال کے طریقے آپ کو بتلائیں گے. یاد رکھو اس میں تفصیل جو ہے، اس کے استعمال کے تین طریقے ہیں. یا تو اس کے ساتھ مین استعمال ہوگا جیسے ابھی مثالیں گزریں، زید ازرب من عمر، دیکھو مین ساتھ ضرور آئے گا. اور وہ جس کے مقابلے میں زیادتی بیان کی جا رہی ہے وہ مین کے بعد آئے گا، زید ازرب من عمر. بتلایا جا رہا ہے زید زیادہ پٹائی کرنے والا ہے اور کس کے مقابلے میں؟ امر کے مقابلے میں، اور امر دیکھو مین کے بعد ہے، مین کے یعنی جس پر زیادتی بیان کی جا رہی ہے وہ مین کے بعد آتا ہے. تو اس میں تفصیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں، پہلا طریقہ یہ کہ کس کے ساتھ استعمال ہو؟ مین کے ساتھ. دوسرا طریقہ یہ کہ یہ الف لام کے ساتھ استعمال ہو. ازرب من عمر، یہ مین عمریں کو ختم کر دیں اور ازربو پر الف لام لے آئیں، زید الازرب. الازرب آ گیا، الف لام آ گیا، یہ دوسرا طریقہ ہے. معنی کیا ہوگا؟ زید ازرب من عمر کیا ترجمہ تھا؟ زید امر کے مقابلے میں زیادہ پٹائی کرنے والا ہے اور زید الازرب. اب تو الف لام آ گیا، اب کیا ترجمہ ہوگا؟ معلوم ہوا اب سب چیزوں کے مقابلے میں زیادتی بیان ہو رہی ہے، کیونکہ اس میں تفصیل ہے اور اس میں تفصیل ویسے زیادتی بیان کرتا ہے یا کسی چیز کے مقابلے میں؟ کسی چیز کے مقابلے میں اور یہاں کوئی چیز ذکر نہیں، معلوم ہوا سب چیزوں کے مقابلے میں زیادتی بیان کی جا رہی ہے. از ربو کا معنی ہے زید سب سے زیادہ پٹائی کرنے والا ہے۔ زید سب سے زیادہ پٹائی۔ دیکھو وہاں عمر ذکر تھا تو کس کے مقابلے میں زیادتی بیان ہوئی؟ عمر اور یہاں کوئی ذکر نہیں، معلوم ہوا سب کے مقابلے میں زیادتی بیان ہو رہی ہے۔ تو زید نل ازرب کیا معنی؟ زید سب سے زیادہ پٹائی کرنے والا ہے۔ زید نل افضل کیا معنی؟ زید سب سے افضل ہے، سب سے بہترین ہے، بات سمجھ میں آ گئی. یہ دوسرا طریقہ ہے اس میں تفضیل کا کہ الف لام کے ساتھ لے آؤ۔ تیسرا طریقہ یہ ہے اس میں تفضیل کے استعمال کا کہ اس کے اضافت کر دو۔ آگے مضاف الیہ کو لے آؤ۔ جیسے زید نل ازرب القومی، زید نل ازرب القومی، ازرب مضاف، القومی مضاف الیہ، تو یہ اضافت کے ساتھ تیسرا طریقہ ہے اس میں تفضیل کے استعمال کا، ازرب القومی۔ قوم مردوں کی جماعت کو کہتے ہیں، تین سے لے کر دس تک مردوں کی جماعت ہو اس کو عربی میں قوم کہتے ہیں، قوم۔ بات سمجھ میں آ گئی ایک اردو میں ہم قوم کا لفظ بولتے ہیں، یہاں قوم کا لفظ وہ قبیلے کے معنی میں ہوتا ہے، قبیلہ۔ عربی میں مردوں کی جماعت جس میں مرد ہوں، عورتیں نہ ہوں، صرف مردوں کی جماعت، تو زید نل افضل القومی یا زید نل ازرب القومی۔ زید زیادہ پٹائی کرنے والا ہے القومی، اس قوم یوں کہو اس قوم میں سے، اس قوم میں سے سب سے زیادہ پٹائی کرنے والا زید ہے، یعنی ان لوگوں میں سے سب سے زیادہ پٹائی کرنے والا زید ہے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے، زید نل ازرب القومی کیا معنی؟ ازرب کی اضافت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ القومی کی طرف، معلوم ہوا زید سب سے زیادہ پٹائی کرنے والا ہے کس کے مقابلے میں؟ اس قوم کے، یعنی اس قوم میں سے زید سب سے زیادہ پٹائی کرنے والا ہے۔ زید نل ازرب القومی۔ یا زید نل افضل القومی کیا معنی؟ زید ان لوگوں میں سے سب سے افضل ہے، ان سارے لوگوں میں سے وہ سب سے افضل ہے۔ معنی سمجھ میں آگیا۔ تو اس تفضیل میں ایک چیز کے اندر زیادتی بیان کی جاتی ہے، وصف کی زیادتی اور وہ وصف کی زیادتی کسی چیز کے مقابلے میں ہوگی۔ تو اس کے استعمال کے تین طریقے ہیں، کبھی یہ استعمال ہوگا من کے ساتھ، کبھی الف لام کے ساتھ اور کبھی اضافت کے ساتھ اور یاد رکھنا ایک وقت میں ایک ہی طریقے سے استعمال ہوگا۔ جب الف لام آگیا تو پھر من نہیں آئے گا ساتھ اور اگر من آگیا تو پھر الف لام نہیں آئے گا، اسی طرح جب اضافت ہو رہی ہو تو پھر مضاف اور تو الف لام ویسے بھی نہیں آ سکتا، لیکن آگے من بھی نہیں آئے گا بھئی، ایک وقت میں ایک ہی طریقے سے استعمال ہوگا۔ یا کس کے ساتھ؟ من کے ساتھ، یا الف لام کے ساتھ، یا اضافت کے ساتھ، تین طریقوں میں سے ایک طریقے سے آپ استعمال کریں گے اپنے کلام میں، اگر آپ من کے ساتھ لانا چاہتے ہیں تو پھر الف لام بھی نہ لانا اور اضافت بھی نہ کرنا۔ اگر آپ الف لام لانا چاہتے ہیں تو پھر اضافت بھی نہیں کرنی اور من نہیں، اور من کو بھی نہیں لانا اور اگر آپ اضافت کے ساتھ لانا چاہتے ہیں تو پھر الف لام بھی نہیں لانا اور من بھی نہیں۔ جی ترکیبی کیجیے۔ زید افضل من عمر۔ زید مرفوع لفظا مبتدا۔ افضل مرفوع یاد رکھو یہ جو اس میں تفضیل ہے یہ غیر منصرف ہے۔ غیر منصرف۔ غیر منصرف وہ ہے جس پر کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی۔ غیر منصرف پڑھا تھا یا نہیں 16 قسمیں بیان ہوئی تھیں جہاں اعراب کے اعتبار سے اسم کی 16 قسمیں ہیں، ان میں سے ایک کیا تھا؟ غیر منصرف۔ غیر منصرف پر کسرہ بھی نہیں آتا یعنی زیر نہیں آئے گی بلکہ اس کا جر بھی فتحہ کی صورت میں آئے گا۔ جر بھی کس صورت میں آئے گا؟ فتحہ کی صورت میں آئے گا اور نیز اس پر تنوین بھی نہیں آتی۔ تو دیکھو زید افضل من عمر، یہ افضل یہ غیر منصرف ہے اس لیے اس پر تنوین نہیں آرہی۔ پھر کیجیے ترکیب، زید مرفوع لفظا مبتدا، افضل مرفوع لفظا صیغہ اسم تفضیل۔ یاد رکھو یہ صیغہ اسم تفضیل اس نے بھی شبہ جملہ بننا ہے۔ اس نے بھی کیا بننا ہے؟ شبہ جملہ۔ اس میں فاعل بھی کیا بنتا تھا؟ شبہ جملہ، اس میں مفعول بھی کیا بنتا ہے؟ شبہ جملہ، اسی طرح صفت مشبہ بھی شبہ جملہ اور اس میں تفضیل بھی شبہ جملہ بنتا ہے۔ اور یہ جو ان میں سے سب سے کمزور عمل والا اس میں تفضیل ہے۔ اس میں فاعل، اس میں مفعول، صفت مشبہ اور اس میں تفضیل، ان میں سب سے کمزور عمل والا کون ہے؟ اسم اسم تفضیل ہے۔ اسم تفضیل اسی کے اندر ایک ضمیر چھپی ہوتی ہے یہ اس کو رفع دیتا ہے۔ کیونکہ اس کے لیے بھی فاعل چاہے۔ جیسے صفت کے صیغوں کے لیے ہمیشہ فاعل یا نائب فاعل چاہیے تھا، اس میں فاعل کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل، صفت اسم مفعول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل، صفت مشبہ کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل، اسی طرح اسم تفضیل کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل۔ تو یہ جو اسم تفضیل ہوتا ہے یہ ہمیشہ ایک ضمیر کو رفع دیتا ہے جو اسی کے اندر چھپی ہوتی ہے۔ اسی کے اندر چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ تو فاعل ضرور چاہیے، کیا کوئی فعل بغیر فاعل کے آ سکتا ہے؟ نہیں، اسی طرح یہ صفت کے صیغے بھی بغیر فاعل یا نائب فاعل کے نہیں آ سکتے، تو اس میں تفضیل ان میں سب سے کمزور ہے، یہ صرف اپنے اندر چھپی ہوئی ایک ضمیر کو رفع دیتا ہے۔ باقی اس میں ظاہر، اس میں ظاہر میں یہ بہت کم عمل کرتا ہے، بہت ہی کم ہے اور اس کی کچھ خاص شرطیں ہیں جو اگلی کتابوں میں آپ پڑھیں گے۔ بس جی اپنے اندر چھپی ہوئی ضمیر کو رفع دیتا ہے اور وہ ضمیر تو اس کے اندر چھپی ہوئی ہے، وہ تو کسی کو نظر بھی نہیں آ رہی، تو وہ عمل بھی لا عمل کی طرح ہے، گویا عمل کر ہی نہیں رہا۔ بات سمجھ میں آگئی، وہ ضمیر جس کو یہ رفع دے رہا ہے، کوئی رفع ظاہر ہو رہا ہے؟ نہیں، وہ تو ضمیر ہے، اس کے اندر چھپی ہوئی ہے اور وہ ضمیر بھی مبنی ہے اور مبنی پر اعراب ظاہر نہیں ہوتا۔ تو یہ ایسی ضمیر کو رفع دیتا ہے جو اسی کے اندر چھپی ہوئی ہے، تو یہ عمل بھی ایسے ہی شمار کرو گویا عمل کرتا ہی نہیں، تو دیکھو بڑا ہی کمزور ہے، بڑا معمولی سا عمل ہے، کس میں عمل کرتا ہے؟ ضمیر میں جو اس کے اندر چھپی ہوئی ہے، اس میں ظاہر میں یہ عمل نہیں کرتا۔ اس میں ظاہر میں بہت قلیل عمل ہے اس کا اور وہ کچھ شرطیں ہیں خاص جو اگلی کتابوں میں آپ پڑھ لیں گے۔ تو یہ سب سے کمزور ہے، عمل کرتا تو ہے، عمل کرتا تو ہے، فاعل تو ضرور چاہیے لیکن اس میں ظاہر میں عمل نہیں کرتا اپنے اندر چھپی ہوئی ضمیر میں کرتا ہے، تو بڑا معمولی سا اس کا عمل ہے۔ جی ترکیب ہم کر رہے تھے، زید مرفوع لفظا مبتدا، افضل مرفوع لفظا صیغہ اسم تفضیل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ خبر ہے زید کے لیے بھئی، خبر ہے۔ اور اس کے اندر ہوا ضمیر۔ اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع۔ کیونکہ اگر ہوا ضمیر نہیں نکالیں گے تو یہ شبہ جملہ بنے گا اور شبہ جملہ کو جوڑنے کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ ربط چاہیے تو ربط پھر نہیں رہے گا۔ تو پھر یہ مبتدا سے جوڑ نہیں سکے گا، تو اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، من جارہ، عمر مجرور، جار مجرور مل کر یہ اس متعلق ہوں گے افضل سے، اسی اس میں تفضیل سے۔ اس میں تفضیل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ ہوا ضمیر کس کو لوٹ رہی تھی؟ زید۔ یہ ربط آ گیا بھئی، تو یہ خبر مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ترجمہ کریں، زید افضل من عمر۔ زید افضل ہے کس کے مقابلے میں؟ عمر کے مقابلے میں۔ ہفتم اس میں تفضیل، ساتویں قسم جو ہے وہ اس میں تفضیل ہے واستعمال اور سے وجہ اور اس کا استعمال تین وجہ پر ہے، تین طریقوں پر ہے۔ اس میں تفضیل کا استعمال بر سے وجہ، تین طریقوں پر ہے، بامِن، من کے ساتھ، چو زید افضل من عمر۔ یا باالف لام، یا کس کے ساتھ ہوگا؟ الف لام کے ساتھ، چو جائنی زید نل افضل۔ آیا میرے پاس وہ زید ال افضل جو افضل ہے، ابھی معنی بتایا میں نے۔ مطلقا زیادتی بیان ہو رہی ہے یا کسی کے مقابلے میں؟ اس میں تفضیل ہے، کسی کے مقابلے میں زیادتی بیان ہو رہی ہے اور کس کے مقابلے میں کوئی ذکر ہے؟ نہیں، معلوم ہوا سب کے مقابلے میں زیادتی بیان ہو رہی ہے۔ جائنی زید نل افضل، ترجمہ کریں، آیا میرے پاس وہ زید جو سب سے افضل ہے، جب مفضل عل جس چیز پر زیادتی دی جا رہی ہے وہ ذکر نہ ہو تو پھر سب کا مقابلہ ذکر ہوتا ہے۔ جیسے اللہ اکبر، آپ اذان میں کہتے ہیں، نماز میں کہتے ہیں، اللہ اکبر۔ لفظ اللہ، مرفوع مبتدا اور اکبر یہ کیا ہے اس میں تفضیل اور اس میں تفضیل یہ تو کس کے لیے آتا ہے؟ مطلقا بڑائی بیان کرے گا یا کسی کے مقابلے میں بڑائی بیان ہوگی؟ کسی کے مقابلے میں بڑائی بیان ہوگی۔ پھر تو یہاں پر تو نہ الف لام ہے، نہ من ہے اور نہ اضافت ہے۔ تو یاد رکھیے، پھر علماء بتلاتے ہیں کہ یہاں من کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے اور وہ عبارت یہاں محذوف ہے، اکبر من کل شیء۔ اللہ اکبر من کل شیء، اللہ بڑے ہیں من کل شیء، ہر چیز سے، یعنی اللہ سب سے بڑے ہیں۔ اللہ اللہ سب سے بڑے ہیں اور من کل شیء کو عبارت میں ذکر نہیں کرتے کیونکہ کوئی چیز ہے ہی نہیں جو اللہ کے مقابلے میں جس کی بڑائی ہو۔ تو وہ ان کی بڑائی بھی اللہ کے مقابلے میں کچھ ہے ہی نہیں، لہذا ان کو ذکر ہی نہیں کرتے بھئی، بات سمجھ میں آگئی، تو اللہ اکبر کا کیا معنی؟ اللہ سب سے بڑے ہیں بھئی، سب سے بڑے ہیں۔ تو یہاں بھی اسی طرح جائنی زید نل افضل، آیا میرے پاس وہ زید، ال افضل جو سب سے افضل ہے۔ ترکیب کیجیے، جا فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلا مفعول، زید مرفوع لفظا، مرفوع کیوں؟ فاعل ہے، جا کے لیے فاعل، ہر فعل کے لیے فاعل، فعل معروف کے لیے۔ زید مرفوع لفظا فاعل ہے، لیکن آگے صفت بھی آ رہی ہے، تو اس کو پہلے موصوف بناؤ، زید مرفوع لفظا موصوف اور ال افضل مرفوع لفظا صیغہ اس میں تفضیل۔ اور اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل۔ اس میں تفضیل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ، اس میں تفضیل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، نہیں بن سکتی صفت۔ ہاں آپ نے ربط دینا ہے، ہمیشہ یاد رکھو میں بار بار ذکر نہیں کر رہا کہ آپ ہر دفعہ آپ نے ربط دینا ہے، ہوا ضمیر آ جائے اس کو دیکھیں یہ کس کو لوٹ رہی ہے، ال افضل، اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید۔ کیونکہ صفت کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصوف سے۔ تو اس میں تفضیل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر یہ فاعل ہوا کس کے لیے؟ جا کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہی سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جائنی زید نل افضل، یہ نون کہاں سے آیا؟ یہ تنوین والا نون ہے، زید اس کے آخر میں کیا تھی؟ تنوین اور ال افضل اس کے شروع میں الف لام ہے۔ الف لام میں ہمزہ وصلی ہے شروع والا اور ہمزہ وصلی درمیانی عبارت میں گر جاتا ہے، تو ہمزہ گر گیا۔ ال کا پھر آگے لام جو ہے وہ ساکن رہ گیا، تو لام بھی ساکن اور ماقبل میں زید کا نون بھی ساکن، تو اجتماع ساکنین آیا، دو سا کن اکٹھے ہو گئے۔ اور جب دو ساکن اکٹھے ہوں تو اگر اول حرف مدہ ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں، یعنی الف، واو یا یا ہو اور ماقبل کی حرکت ان کے موافق ہو تو اس کو گرا دیتے ہیں۔ لیکن ماقبل میں تو یہاں نون ہے، پہلے نون ہے اور پھر لام ہے، دونوں ساکن ہیں، تو نون تو حرف مدہ نہیں، اس کو گرا تو نہیں سکتے۔ پھر کیا کرتے ہیں؟ پھر اس کو حرکت دیتے ہیں پہلے والے کو اور الساکن اذا حرک حرک بالکسر، ساکن کو جب حرکت دیتے ہیں تو کسرہ والی حرکت دیتے ہیں، تو نون کو کسرہ دے دیا، تو کیا بن گیا؟ زید نل افضل۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ جائنی زید نل افضل، آیا میرے پاس وہ زید جو سب سے افضل ہے، جو سب سے بہترین ہے۔ یا با اضافت، تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اضافت کے ساتھ اس میں تفضیل استعمال ہو، چو زید افضل القومی۔ جی ترکیب کیجیے۔ زید مرفوع لفظا مبتدا، افضل مرفوع لفظا صیغہ اس میں تفضیل۔ مرفوع لفظاً صغہ اسم تفضیل اور مضاف مضاف بھی ہو رہا ہے نا مرفوع لفظاً صغہ اسم تفضیل مضاف اور اس کے اندر وہ ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل جی ہاں جو راجح ہے کس کو زید کو تو یہ آپ نے ربط دے دیا آگے القومی اس کا اعراب بولو مجرور لفظاً مجرور کیوں مضاف الیہ ہے مضاف الیہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے مجرور تو القومی مجرور لفظاً مضاف الیہ افضل صغہ اسم صغہ اسم تفضیل اپنے فاعل اور مضاف الیہ سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا زید افضل القومی زید ان لوگوں میں سب سے افضل ہے زید ان لوگوں میں سے بہترین ہے معنی سمجھ میں آیا و عمل اور فاعل باشد اب عمل بیان کرنے لگے ہیں بھئی اسمائے عاملہ بیان ہو رہے ہیں نا اسمائے عاملہ اور اسمائے عاملہ میں اسم تفضیل کو بھی ذکر کیا اور میں نے بتایا اس کا عمل بہت معمولی ہے یہ کس میں عمل کرتا ہے صرف صرف ضمیر میں عمل کرتا ہے وہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں و عمل اور فاعل باشد اور اس کا عمل فاعل میں ہوگا و ہو است اور وہ ہوا ضمیر ہے فاعل افعلو جو کہ افعلو کا فاعل ہے کہ فاعل افضل جو افضل کا فاعل ہے کہ در و مستتر است کہ اس میں چھپی ہوئی ہے آگے دیکھیے ہشتم مصدر آٹھواں جو ہے وہ مصدر ہے بھئی مصدر بھی عمل کرتا ہے ادھر دیکھیے مصدر بھی عمل کرتا ہے اور اپنے فعل جیسا عمل کرتا ہے اپنے فعل جیسا ضرب مصدر ہے اور ضرب فعل ہے ضرب فعل کیا عمل کرتا ہے اپنے فاعل کو رفع دے گا اور باقی چیزوں کو نصب دے گا سات چیزوں کو نصب دے گا اسی طرح ضرب بھی یہ سارے عمل کرے گا اپنے فعل والے اپنے فاعل کو رفع دے گا اور سات چیزوں کو نصب دے گا نصب دے گا مجھے آپ بتائیے ضرب یہ مصدر ہے ضرب بغیر فاعل کے ہو سکتی ہے تو اس کے لیے بھی فاعل چاہیے اور ضرب کے لیے کوئی مجرور چاہیے کہ نہیں چاہیے چاہیے معلوم ہوا اس کے لیے مفعول بھی چاہیے اور پھر یہ کسی زمانے میں بھی ہوگی اور کسی جگہ پر بھی ہوگی وغیرہ ساری وہ چیزیں جو عمل فعل کرتا تھا یہ مصدر بھی کرے گا لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ فعل معروف جو ہے اس کے لیے ہمیشہ فاعل چاہیے ایسا نہیں ہو سکتا فعل معروف آجائے اور فاعل نہ آئے جب بھی فعل آئے گا آپ نے فرحمن کس کو تلاش کرنا ہے فاعل کو توجہ ہے تو مصدر جو ہے اس کا فرق یہ ہے کہ مصدر کے لیے بھی ہمیشہ فاعل چاہیے لیکن مصدر کے ساتھ فاعل یا مفعول وغیرہ کا ذکر ضروری نہیں مفعول کا ذکر تو فعل کے ساتھ بھی ضروری نہیں تھا لیکن فاعل کا ذکر ضروری تھا لیکن مصدر کے ساتھ فاعل کا ذکر بھی ضروری نہیں ذکر کر دیا تو ٹھیک ہے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں فعل کے لیے جیسے فاعل ضرور چاہیے اسی طرح صفت کے صیغوں کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل ضرور چاہیے جب بھی ضرب آئے آپ نے کس کو تلاش کرنا ہے فاعل کو جب بھی ضارب آئے آپ نے کس کو تلاش کرنا ہے فاعل کو جب بھی مضروب آئے آپ نے کس کو تلاش کرنا ہے ہاں مضروب اس میں مفعول آئے نائب الفاعل کو اور جب بھی صفت مشابہ آئے آپ نے کس کو تلاش کرنا ہے فاعل کو جب بھی اس میں تفضیل آئے آپ نے کس کو کس کو تلاش کرنا ہے فاعل وہ اسی کے اندر ضمیر ہوگی مصدر کے لیے بھی اسی طرح فاعل ضرور چاہیے لیکن عبارت میں وہ ذکر ہونا ضروری نہیں آپ ضرب ذکر کر دیں اور فاعل کو ذکر ہی نہ کریں تو مصدر کے لیے بھی فاعل مفعول وغیرہ چاہیے لیکن ان کا ذکر ساتھ ضروری نہیں ہاں مصدر کے ساتھ اگر فاعل ذکر ہوا مصدر اس کو رفع دے دے گا مصدر کے ساتھ اگر مفعول ذکر ہوا مصدر اس کو نصب دے دے گا وہی عمل کرے گا جو فعل کرتا تھا توجہ ہے مصدر بھی کیا کرے گا اپنے فاعل کو رفع اور اپنے مفعول کو نصب لیکن یہ جو مصدر ہے اس کو زیادہ تر اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ اس کے بعد اگر فاعل یا مفعول لائیں تو اس کی طرف اس کی اضافت کر دیتے ہیں کیا کر دیتے ہیں اضافت کر دیتے ہیں مثلا میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ زید نے مارا عمر کو کس نے زید نے مارنے والا کون زید اور مارا کس کو عمر کو اور مجھے عمر کا یہ مارنا بڑا پسند آیا مجھے اچھا لگا تو میں کہوں گا اعجبنی مجھے پسند آیا مجھے اچھا لگا اعجبنی کیا چیز پسند آئی ضرب وہ ضرب پسند آئی کس نے مجھے یا یوں کہو مجھے تعجب میں ڈالا مجھے تعجب میں ڈالا اعجبنی تعجب میں ڈالا مجھے کس چیز نے تعجب میں ڈالا ضرب نے کون سی ضرب کس نے لگائی زید نے تو میں کہوں گا اعجبنی مجھے تعجب میں ڈالا کس نے تعجب میں ڈالا ضرب نے تو وہ ضرب فاعل بنے گا ضرب اعجبنی مجھے ضرب نے تعجب میں ڈالا بھئی کس نے کس کو مارا زید نے تو آگے میں فاعل لے آتا ہوں اعجبنی ضرب زید توجہ ہے اعجبنی ضرب زید یہ ضرب کیوں مرفوع فاعل ہے اعجبہ کا اس ضرب نے مجھے تعجب میں ڈالا ہے یا ضمیر مفعول کی ہے تعجب میں کس نے ڈالا میں نے ضرب کو تعجب میں ڈالا یا ضرب نے مجھے تعجب میں ڈالا ضرب نے تعجب میں ڈالا تو ضرب ہے فاعل ضرب ہے فاعل اور ضرب کس نے لگائی زید نے تو زید پر بھی رفع ہے اعجبنی ضرب زید یہ زید پر رفع یہ کیوں رفع رفع کیوں ہے جی یہ فاعل ہے مصدر کے لیے بھی فاعل چاہیے یا نہیں چاہیے ضرب خود بخود لگ جاتی ہے یا کوئی لگانے والا چاہیے لگانے والا چاہیے معلوم ہوا یہ ضرب کس نے لگائی ہے زید تو زید فاعل ہے ضرب کا اور ضرب فاعل ہے کس کا اعجبنی کا تو اعجبنی ضرب زید اب آپ سے کوئی پوچھے یہ ضرب پر رفع کیوں پڑا آپ کیا جواب دیں گے یہ فاعل ہے اور کوئی آپ سے پوچھے یہ زید پر رفع کیوں پڑا آپ کیا کہیں گے کس کا فاعل ہے ضرب کا فاعل ہے اور آگے امر کو میں منسوب لے آتا ہوں اعجبنی ضرب عمرو زیدا اعجبنی ضرب زید عمرو یہ عمرو پر نصب آیا کیوں مفعول ہے کس کے لیے ضرب کے لیے جیسے ضرب فعل کے لیے فاعل اور مفعول چاہیے ضرب کے لیے بھی کیا چاہیے فاعل اور مفعول تو ضرب مصدر نے عمل کیا زید کو رفع دیا اور عمرو کو نصب دیا لیکن عموماً اس طرح کہتے نہیں ہیں اعجبنی ضرب زید عمرا بلکہ عموماً مصدر کی اضافت کر دیتے ہیں فاعل یا مفعول کی طرف یہاں مصدر کے بعد کون ہے فاعل ہے تو فاعل کی طرف اضافت کر دو اعجبنی ضرب زید عمرا عمرو اسی طرح رہے گا مجھے تعجب میں ڈالا کس نے ضرب زید کے مارنے نے کس کو عمر کو زید کا عمر کو مارنا اس نے مجھے تعجب میں ڈالا زید کے عمر کو مارنے نے مجھے تعجب میں ڈالا معنی سمجھ میں آیا اور پھر مصدر میں ایک اور بات یاد رکھنا کہ مصدر تب عمل کرے گا جب یہ مفعول مطلق نہ ہو اگر یہ مفعول مطلق ہو پھر یہ عمل نہیں کرے گا توجہ ہے مصدر کے عمل کے لیے شرط ہے کہ وہ مفعول مطلق نہ ہونا چاہیے مفعول مطلق کسے کہتے ہیں وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو ضربتو ضرباً یہ ضرباً کیا ہے مصدر ہے اور منصوب ہے اور یہ ماقبل فعل کے معنی میں ہے ضربتو ضرباً یہ ضرباً کیا ہے مصدر ہے منصوب ہے اور ماقبل فعل کے معنی میں ہے معلوم ہوا یہ مفعول مطلق ہے ذہن میں بات آ گئی مفعول مطلق کسے کہتے ہیں وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو ضربتو ضرباً یہ ضرباً کیا ہے مفعول مطلق اور مفعول مطلق کیا ہوتا ہے منصوب ہوتا ہے اس لیے یہ منصوب ہے تو ضرباً کیا ہے مفعول مطلق یہ جو ضرباً مفعول مطلق ہے یہ عمل نہیں کرے گا یہ عمل نہیں کیوں نہیں کرے گا وجہ سمجھ لیں وجہ یہ کہ مصدر تو عمل کرتا ہے لیکن یہاں ضرباً مصدر ہے اور ضرباً کے ساتھ ضربتو فعل بھی ذکر ہے فعل بھی ذکر اور اسی فعل کا مصدر بھی ذکر ہے اور یاد رکھنا فعل عامل قوی ہے فعل قوی سب سے قوی عامل کیا ہے فعل ہے فعل اپنے ما بعد میں بھی عمل کرتا ہے اپنے ما قبل میں بھی عمل کرتا ہے ضربتو زیداً میں نے پٹائی کی کس کی زید کی اسی زیداً کو میں ضربتو پر مقدم بھی کر سکتا ہوں زیداً ضربتو زیداً ضربتو دیکھو ضربتو اپنے سے ماقبل والے کو بھی نصب دے رہا ہے حالانکہ عامل تو اپنے بعد آنے والے کو نصب دیتا ہے ضربتو زیداً زیداً کہاں تھا ضربتو کے بعد تھا اور عامل کیا کرتا ہے معمول جب بعد میں آئے تو اس کو نصب دیتا ہے لیکن فعل اپنے سے ما قبل میں بھی عمل کرتا ہے زیداً ضربتو زید ہی کی میں پٹائی کی تو یہ زیداً کیا ہے مفعول ہے اس کو نصب کون دے رہا ہے ضربتو حالانکہ وہ اس سے مؤخر ہے تو فعل قوی عامل ہے وہ اپنے سے ما قبل میں بھی عمل کرتا ہے اور اپنے سے ما بعد میں بھی جبکہ مصدر جو ہے وہ ضعیف عامل ہے وہ اپنے ما بعد میں تو عمل کرتا ہے ما قبل میں عمل نہیں کرتا تو یہاں پر ضربتو ضرباً فعل بھی موجود اور اسی کا مصدر مفعول مطلق بھی موجود تو ایک قوی موجود ہے ایک ضعیف جب قوی خود موجود ہے تو ضعیف کے عمل کی اجازت نہیں ہوگی جب مصدر جب مفعول مطلق ہو وہ عمل کیوں نہیں کرے گا کیونکہ اسی کا فعل موجود ہے تو عمل کون کرے گا اس کا فعل عمل کرے گا یہ مصدر عمل نہیں کرے گا ضربتو ضرباً یہ ضرباً عمل نہیں کرے گا کیوں نہیں کرے گا کیونکہ اسی کا فعل ضربتو موجود ہے جو عمل چاہیے وہ کر دے گا تو اس کے عامل بنانے کی ضرورت نہیں ہے وجہ سمجھ میں آگئی دیکھیے بھئی کتاب پر کہتے ہیں ہشتم مصدر بشرط ان کہ مفعول مطلق نہ باشد آٹھویں قسم اسمائے عاملہ کی وہ مصدر ہے بشرط ان کہ اس شرط پر کہ مفعول مطلق نہ باشد کہ یہ مفعول مطلق نہ ہو عمل فعلش کند یہ اپنے فعل والا عمل کرتا ہے عمل فعلش شین کس لیے آتا ہے فارسی میں اس کے لیے فعلش اس کا فعل کس کا فعل مراد ہے مصدر کا تو یہاں اس کے بجائے اپنا لفظ لے آؤ پھر ترجمہ ٹھیک بنتا ہے کہ یہ عمل فعلش کند یہ اپنے فعل والا عمل کرتا ہے تو کہتے ہیں ہشتم مصدر آٹھویں قسم مصدر ہے بشرط ان کہ مفعول مطلق نہ باشد بایں شرط کہ وہ مفعول مطلق نہ ہو عمل فعلش کند یہ اپنے فعل والا عمل کرتا ہے یعنی فاعل کو رفع دے گا اور مفعول کو نصب سارے وہی عمل کرے گا جو اعجبنی ضرب زید عمرا مجھے تعجب میں ڈالا زید کے عمر کو مارنے نے زید نے امر کی پٹائی کی۔ اس نے مجھے تعجب میں ڈالا۔ ترکیب کیجیے: أعجب فعل، نونِ وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، ضرب مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ فاعل ہے أعجب کے لیے، اس نے مجھے تعجب میں ڈالا ہے۔ ضرب مرفوع لفظاً مضاف، زید مجرور لفظاً مضاف إليه۔ تو زید لفظوں میں مجرور ہے مضاف إليه، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ مرفوع ہے، یہ ضرب کا فاعل ہے۔ کیونکہ میں نے بتایا مصدر استعمال کس طرح ہوتا ہے عموماً؟ مصدر اپنے فاعل یا مفعول کی طرف اضافت کر دیتے ہیں اس کی، کیا کرتے ہیں؟ اضافت۔ تو یہ زید اس کا فاعل ہے، لیکن مضاف إليه ہے مجرور ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ مرفوع ہے، کیونکہ فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ তো ضرب مرفوع لفظاً مضاف، زید مجرور لفظاً مضاف إليه۔ اور عمراً یہ منصوب لفظاً مفعول بہ ہے کس کے لیے؟ ضرب کے لیے، ضرب کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ أعجبتني کا مفعول پہلے گزر چکا ہے، یا ضمیر ہے، تو یہ عمراً یہ ضرب کے لیے مفعول بہ ہے۔ ضرب مصدر اپنے مضاف إليه اور مفعول بہ سے مل کر یہ فاعل ہوا کس کے لیے؟ أعجب۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ضرب سے جن چیزوں نے جڑنا ہے ان کو جوڑ کر پھر اس کو فاعل بنانا ہے۔ ضرب مصدر اپنے مضاف إليه اور مفعول بہ سے مل کر یہ فاعل، فاعل۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہاں مصدر کے بارے میں ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا۔ یاد رکھو یہ مصدر جیسے معروف آتا ہے، اسی طرح مجہول بھی آتا ہے۔ جیسے فعل معروف اور مجہول ہوتا ہے، اسی طرح مصدر بھی معروف اور مجہول ہوتا ہے، مجہول ہوتا ہے۔ جیسے دیکھو، ایک ہے پٹائی کرنا اور ایک ہے پٹائی کیے جانا، یعنی پٹائی ہونا۔ پٹائی ہونا ضرب زیدٌ، زید کیا ہے؟ پٹائی کرنے والا اور عمراً، کس کی پٹائی کی؟ عمر کی۔ تو عمر کی پٹائی ہوئی ہے۔ عمر کی پٹائی کی گئی ہے۔ زید زید پٹائی کرنے والا اور عمر کی پٹائی کی گئی تو پٹائی کرنا، یہ بھی مصدر اور پٹائی کیے جانا یا یوں کہہ لو پٹائی ہونا، یہ بھی کیا ہے؟ مصدر۔ اردو میں مصدر کی علامت ہے نا، آتا ہے اس کے آخر میں پٹائی کرنا، یہ بھی مصدر، پٹائی ہونا، یہ بھی مصدر۔ تو ایک جیسے فعل معروف ہے، اسی طرح مصدر معروف بھی آتا ہے اور جیسے فعل مجہول ہے، اسی طرح مصدر مجہول بھی آتا ہے۔ جیسے پانی پینا اور ایک ہے پانی پیا جانا۔ پانی پینا مصدر معروف اور پانی پیا جانا، یہ کیا ہے؟ مصدر مجہول۔ کھانا کھانا، یہ ہے مصدر معروف اور کھانا کھایا جانا، یہ کیا ہے؟ مصدر مجہول۔ دیکھو زید پٹائی کرتا ہے ضرب زیدٌ عمراً، پٹائی کرنے والا کون؟ زید۔ تو زید کی صفت ہے ضرب، یعنی یہ پٹائی کرنا ہے۔ زید کی صفت کیا ہے؟ ضرب زید کی صفت ہے۔ پٹائی کس نے کی؟ زید نے، تو یہ ضرب کس کی صفت؟ زید نے۔ زید کی صفت، زید ہے تو یہ والی ضرب ہے، زید نہ ہوتا تو زید والی ضرب ہوتی؟ نہیں۔ تو یہ ضرب زید کی صفت ہے، یہ زید نے لگائی ہے تو یہ ضرب ہے، زید نہ ہوتا تو یہ والی ضرب بھی نہ ہوتی۔ خالد بکر کی ضرب تو ہو سکتی تھی، لیکن اگر زید نہ ہوتا تو زید کی ضرب نہیں ہو سکتی تھی۔ اور کس کی پٹائی کی ہے؟ عمر کی۔ تو عمر پر ضرب واقع ہوئی ہے۔ تو عمر کی صفت ہے ضرب کیے جانا یا ضرب ہونا۔ عمر کی صفت کیا ہے؟ اس کی ضرب اس اس پر ضرب واقع ہوئی ہے۔ کیا ہوئی ہے؟ واقع ہوئی۔ زید ضرب لگانے والا ہے اور عمر کون ہے؟ اس پر ضرب واقع ہوئی ہے۔ اسی طرح مثلاً آپ کہتے ہیں، زید نے کھانا کھایا۔ زید نے کھانا کھایا۔ اور دوسرا آپ جملہ بولتے ہیں، کھانا کھایا گیا۔ کس نے کھایا؟ فاعل ذکر ہی نہیں ہے۔ تو جیسے کھانا کھانا یہ مصدر ہے، اسی طرح کھانا کھایا جانا یہ بھی کیا ہے؟ مصدر ہے۔ جیسے زید نے پانی پیا اور دوسرا جملہ آپ فاعل کو حذف کر دیتے ہیں، پانی پیا گیا۔ جملہ پورا ہے، لیکن فاعل کا ذکر نہیں۔ تو پانی پینا یہ بھی مصدر اور پانی کا پیا جانا یہ بھی مصدر ہے۔ لیکن ایک مصدر معروف ہے، ایک مصدر مجہول ہے۔ اردو میں دونوں کے وزن الگ الگ ہیں۔ پانی پینا یہ ہے مصدر معروف یا یوں کہو پینا، پینا یہ کیا ہے؟ مصدر معروف اور پیا جانا یہ کیا ہے؟ مصدر مجہول۔ کھانا کھانا، یہ کیا ہے؟ مصدر معروف اور کھایا جانا مصدر مجہول۔ مارنا یہ کیا ہے؟ مصدر معروف اور مارے جانا مصدر مجہول۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مست جیسے مصدر معروف ہوتا ہے، اسی طرح مصدر مجہول بھی ہوتا ہے۔ تو اردو میں تو دونوں الگ الگ ہیں، دیکھو کھانا الگ مصدر اور کھایا جانا الگ مصدر، پینا الگ مصدر اور پیا جانا الگ مصدر، مارنا الگ ہے اور مارے جانا الگ ہے۔ اردو میں تو پہچان ہو جاتی ہے الگ الگ ہیں معروف اور مجہول، لیکن عربی میں وہی ضرب مارنے کے لیے بھی استعمال اور مارے جانے کے لیے بھی استعمال، وہی شرب پینے کے لیے بھی استعمال اور پئے جانے کے لیے بھی استعمال، وہی عقل کھانے کے لیے بھی استعمال اور کھائے جانے کے لیے بھی استعمال۔ بتلانا یہ چاہتا ہوں کہ عربی میں جو مصدر آتا ہے، یہ معروف بھی استعمال ہوتا ہے اور مجہول بھی۔ یعنی ایک ہی وزن معروف کے لیے بھی ہے اور وہی وزن مجہول کے لیے بھی ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ ضرب کا معنی پٹائی کرنا بھی اور ضرب کا معنی پٹائی ہونا بھی، اس طرح شرب کا معنی پینا بھی اور شرب کا معنی پیا جانا بھی، عقل کا معنی کھانا بھی اور عقل کا معنی کھایا جانا بھی۔ تو ایک ہی مصدر عربی میں معروف کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور مجہول کے لیے بھی۔ اور مصدر معروف کے لیے تو فاعل چاہیے، مصدر مجہول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل چاہیے۔ بھئی، وہی ضابطے ہیں سارے، مصدر معروف کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل اور مصدر مجہول کے لیے نائب فاعل چاہیے۔ اور یہی نکتہ ہے گردانوں کے اندر۔ دیکھو بزرگوں کی ایک بات بھی بلاوجہ نہیں۔ آپ گردان پڑھتے ہیں صرفِ صغیر: ضرب یضرب ضرباً فھو ضارب۔ دیکھو، یہ صرفِ صغیر کہلاتی ہے۔ چھوٹی گردان ہے۔ آپ کہیں گے اس میں تو پندرہ بیس صیغے آتے ہیں، عام گردان میں تو چودہ صیغے آتے ہیں، نہیں بھئی، یہ چھوٹی گردان ہے، اس میں ایک ایک صیغے سے پوری پوری گردان کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ ضرب ماضی کے کتنے صیغے ہیں؟ چودہ، لیکن یہاں ہے ضرب یضرب ضرباً، صرف ضرب پہلا صیغہ لیا، باقی پوری گردان چھوڑ دی، اشارہ کر دیا کہ ضرب کی ماضی کی گردان کیسے شروع ہوگی؟ ضرب سے، باقی صیغے آپ خود کر لینا۔ مضارع کے کتنے صیغے؟ چودہ، لیکن یہاں یضرب صرف ایک صیغہ دے دیا کہ باقی گردان خود کر لینا اس وزن پر۔ پھر ضرب یضرب ضرباً یہ کیا آیا؟ مصدر اور یہ مفعولِ مطلق ہے۔ اس لیے منصوب ہے، کیونکہ یہ مصدر ہے اور مصدر ماقبل فعل کے معنی میں ہے اور جو مصدر ماقبل فعل کے معنی میں ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعولِ مطلق۔ اور مفعولِ مطلق کیا ہوتا ہے؟ منصوب، اس لیے اس کو منصوب رکھتے ہیں گردانوں میں کہ یہ مفعولِ مطلق ہے، ضرب یضرب ضرباً، فھو ضارب، یہ اس میں فاعل کا صرف ایک صیغہ لیا، باقی گردان آپ خود کر لینا۔ آگے کیا؟ ضرب، و ضرب، ضرب کی کتنے صیغے ماضی مجہول کے؟ چودہ، لیکن صرف ایک ضرب لائے، باقی گردان آپ خود پڑھ لینا۔ آگے مضارع مجہول آیا، یضرب، یضرب کی کتنے صیغے؟ چودہ، لیکن صرف یضرب لائے، اشارہ کر دیا، باقی گردان خود کر لینا۔ پھر آگے کیا لائے؟ ضرباً۔ ضرباً، سوال پیدا ہوتا ہے، بھئی یہ تو چھوٹی سی گردان ہے، چودہ صیغوں میں سے ایک ایک صیغہ لے کر بس اشارہ کرتے جا رہے ہیں، پھر یہ ضرباً دوبارہ کیوں لائے؟ ضرباً تو ایک دفعہ گزر چکا تھا، تو یہ تو بیکار رہا لانا۔ جواب آج آپ کو سمجھ میں آگیا کہ یہ دوسرا ضرباً جو لائے، یہ بیکار نہیں لائے، یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ وہ جو ضرباً تھا وہ مصدرِ معروف تھا، یہ جو ضرباً ہے، یہ کیا ہے؟ مصدرِ مجہول ہے اور بتلانا چاہتے ہیں کہ دونوں کا وزن بالکل ایک جیسا ہے، وہ بھی ضرباً، یہ بھی ضرباً۔ وہ فعلِ معروف کے بعد آیا تھا تو وہ کیا تھا مصدرِ معروف اور یہ فعلِ مجہول کے بعد آیا ہے تو یہ مصدرِ مجہول ہے، لیکن دونوں کا وزن ایک ہی ہے۔ آپ نے موقع پر غور کرنا ہے کہ یہ مصدرِ معروف ہے یا مصدرِ مجہول ہے۔ لفظوں میں آپ کو فرق نہیں نظر آئے گا، دونوں ایک جیسے صیغے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی، حاصلِ کلام پھر سن لیں۔ آج آپ نے اس میں تفصیل اور مصدر کے بارے میں پڑھا۔ اس میں تفصیل میں نے بتایا، وہ زیادتی بیان کرتا ہے کسی چیز کے مقابلے میں۔ آپ مطلقا کسی چیز میں زیادتی بیان کرنا چاہیں تو اس کے لیے مبالغے کے صیغے ہیں۔ جیسے ضارب سے کیا ہے مبالغے کا صیغہ؟ ضرّاب، مانع سے کیا ہے؟ منّاع، خوب منع کرنے والا۔ تو یہ مبالغے کے صیغے۔ تو اگر آپ مطلقا زیادتی بیان کرنا چاہتے ہیں، تو یہ عام مبالغے کے صیغے استعمال کریں، لیکن اگر آپ کسی چیز کے مقابلے میں زیادتی بیان کرنا چاہتے ہیں، تو پھر اس صورت میں اسمِ تفضیل استعمال کریں گے۔ اور پھر یہ بھی میں نے بتایا کہ اسمِ تفضیل افعل وزن پر آتا ہے صرف ثلاثی مجرد سے، ثلاثی مزید سے بھی نہیں آتا، رباعی مجرد اور رباعی مزید سے بھی نہیں آتا، کس وزن پر؟ افعل، لیکن افعل جو بھی آپ کے سامنے آجائے، آپ آنکھیں بند کرکے یہ نہ کہنا کہ اس میں تفضیل ہے، بلکہ آج آپ کو پتہ چل گیا کہ ایک افعل صِفتی بھی ہوتا ہے، یعنی صفتِ مشبہ اور وہ کن بابوں سے آتی ہے؟ جن میں رنگ اور عیب، ظاہری عیب والا معنی پایا جائے، تو ان سے جو افعل آتا ہے، وہ اسمِ تفضیل نہیں ہے، بلکہ وہ صفتِ مشبہ ہے۔ لہٰذا وہاں زیادہ والا ترجمہ نہیں کرنا، أبیض کا معنی زیادہ سفید نہیں، بلکہ اس کا معنی ہے سفید، أحمر کا معنی زیادہ سرخ نہیں، بلکہ اس کا معنی ہے سرخ، أعرج کا معنی زیادہ لنگڑا نہیں، بلکہ اس کا معنی ہے لنگڑا، أعمى کا معنی زیادہ اندھا نہیں، بلکہ اس کا معنی ہے اندھا، کیونکہ یہ سب صفتِ مشبہ ہیں۔ پھر اسمِ تفضیل کے استعمال کے تین طریقے آپ نے پڑھے کہ اس کے استعمال کے تین طریقے ہیں یا یہ استعمال ہوگا کس کے ساتھ؟ مِنْ کے ساتھ یا الف لام کے ساتھ یا اضافت کے ساتھ، لیکن ہوگا ایک وقت میں ایک ہی طریقے سے استعمال۔ اگر مِنْ کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے، تو اس پر الف لام بھی نہیں آ سکتا اور اس کی اضافت بھی نہیں ہو سکتی اور اگر اضافت کے ساتھ ہے، تو پھر الف لام بھی نہیں آ سکتا اور مِنْ بھی نہیں آ سکتا اور اگر الف لام کے ساتھ ہے، تو بھی اضافت بھی نہیں ہو سکتی اور مِنْ بھی نہیں آ سکتا۔ اور میں نے بتایا یہ بڑا کمزور عامل ہے، یہ صرف اپنی ضمیر میں عمل کرتا ہے جو اسی کے اندر چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ چھپی ہوئی، اس میں ظاہر میں یہ عمل بہت کم کرتا ہے اور اس کی کچھ خاص شرطیں ہیں جو اگلے درجات میں آپ پڑھیں گے۔ تو یہ کمزور عامل ہے اور یہ سب شبِ جملہ ہیں۔ یہ سب کیا ہیں؟ اسمِ فاعل، اسمِ مفعول، صفتِ مشبہ، اسمِ تفضیل، یہ سب کیا ہیں؟ شبِ جملہ ہیں اور اسی طرح یہ مصدر وغیرہ۔ اور مصدر میں نے بتایا کہ یہ عمل کرتا ہے اپنے فعل جیسا عمل کرتا ہے۔ اگر مصدرِ معروف ہے تو فعلِ معروف جیسا عمل کرے گا، اگر مصدرِ مجہول ہے تو فعلِ مجہول جیسا عمل کرے گا اور ایک شرط ہے اس کے عمل کے لیے کہ یہ مفعولِ مطلق نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اگر یہ مفعولِ مطلق ہے تو معلوم ہوا اس کا فعل بھی وہیں موجود ہے اس سے پہلے، تو مصدر بھی موجود اور ماقبل میں اسی کا فعل بھی موجود اور فعل قوی عامل ہے اور مصدر ضعیف عامل ہے، جب قوی موجود ہے تو پھر ضعیف کو عامل بنانے کی ضرورت نہیں۔ پھر سارا عمل وہ فعل کرے گا۔ اور یہ بھی آپ نے پڑھا کہ یہ عموماً اس کے استعمال کا طریقہ کیا ہے؟ کہ اس کے اپنے فاعل یا مفعول کی طرف اضافت کر دی جاتی ہے، کیا کر دی جاتی ہے؟ اضافت کر دی جاتی ہے اور نیز یہ بھی آپ نے پڑھا کہ مصدر بھی دو قسم پر ہے، معروف بھی ہے اور مجہول بھی ہے اور اسی وجہ سے گردانوں کے اندر یہ جو ضرباً ہے، دو دفعہ لایا گیا، یہ بتلانے کے لیے کہ ایک مصدرِ معروف ہے اور دوسرا مصدرِ مجہول اور دونوں کا وزن بالکل ایک جیسا ہوتا ہے، اس لیے تمام گردانوں میں آپ آپ دیکھ لیں، أکرم یكرم إکراماً، فھو مکرم، و أکرم یكرم إکراماً، وہی إکرام دونوں کے لیے آ رہا ہے، تمام بابوں میں مصدرِ معروف اور مجہول کا وزن ایک ہوتا ہے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ھذا هو المرام، واللہ أعلم بحقیقة الکلام۔