دیکھیے بھئی کتاب پر۔ فصل دوم در حروف عاملہ در فعل مضارع، و آن بر دو قسم است۔ قسم اول حروفے کہ فعل مضارع را بہ نصب کنند، و آن چار است۔ اول "ان" چون "ارید ان تقوم"، و آن با فعل بمعنے مصدر باشد یعنی "ارید قیامک"، و بدیں سبب او را مصدریہ گویند۔ اچھا بھئی، حروف عاملہ کے بارے میں ہم پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ وہ حروف جو عمل کرتے ہیں وہ دو قسم پر ہیں۔ کچھ اسم میں عمل کرتے ہیں اور کچھ فعل مضارع میں۔ پہلی فصل میں ان حروف کا بیان گزرا تھا جو اسم میں عمل کرتے ہیں۔ اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ وہ پانچ قسم پر ہیں۔ نمبر ایک: حروف جارہ۔ نمبر دو: حروف مشبہ بالفعل۔ اور نمبر تین: ما اور لا مشابہ بلیسٰ۔ اور نمبر چار: لا ئے نفی جنس۔ اور نمبر پانچ: حروف ندا۔ تو یہ پانچ قسم پر۔ تو حروف جارہ کے بارے میں انہوں نے آپ کو بتلایا کہ وہ سترہ حروف ہیں، اسم پر داخل ہوتے ہیں اور اسم کو جر دیتے ہیں۔ اس کے بعد حروف مشبہ بالفعل کے بارے میں بتلایا کہ وہ چھ حروف ہیں: انّ، انّ، کانّ، لکنّ، لیت، لعل۔ اور یہ ایک اسم اور ایک خبر پر داخل ہوتے ہیں۔ یا یوں کہو یہ دو اسموں پر داخل ہوتے ہیں۔ پہلے کو نصب دیتے ہیں اور دوسرے کو رفع۔ اور پہلے کو ان کا اسم کہتے ہیں جس کو یہ نصب دیتے ہیں اور دوسرے کو ان کی خبر جس کو یہ رفع دیتے ہیں۔ اس کے بعد ما اور لا مشابہ بلیسٰ، اس کے بارے میں پڑھا آپ نے۔ ما اور لا مشابہ بلیسٰ جو ہیں یہ لیسٰ کے مشابہ ہیں۔ یعنی جیسے لیسٰ دو اسم چاہتا ہے، پہلے اسم کو رفع دیتا ہے اور دوسرے کو نصب۔ اسی طرح ما اور لا بھی دو اسم چاہتے ہیں، پہلے کو رفع دیتے ہیں اور دوسرے کو نصب۔ نیز لیسٰ جیسے نفی کلام میں پیدا کرتا ہے اسی طرح ما اور لا بھی کلام میں نفی پیدا کرتے ہیں۔ اور پھر ما اور لا میں فرق یہ ہے کہ ما معرفہ اور نکرہ دونوں پر داخل ہوتا ہے۔ جبکہ لا جو ہے وہ صرف نکرہ پر داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد لا ئے نفی جنس کے بارے میں آپ نے پڑھا تھا، اس کے بارے میں کافی تفصیل بیان ہوئی تھی کہ لا ئے نفی جنس جو ہے یہ اصل میں جنس کی نفی کے لیے نہیں آتا بلکہ جنس سے صفت کی نفی کرتا ہے۔ جیسے "لا رجل ظریفٌ"، کیا معنی؟ کہ کوئی آدمی خوش مزاج نہیں ہے۔ تو یہاں آدمی کی نفی نہیں کی گئی کہ کوئی آدمی نہیں ہے بلکہ آدمی کی ایک صفت یعنی خوش مزاج ہونے کی نفی کی گئی ہے۔ تو لا ئے نفی جنس وہ جنس کی نفی کے لیے نہیں آتا بلکہ جنس سے صفت کی نفی کرتا ہے۔ تو اصل میں گویا یہاں مضاف محذوف ہے۔ ای لا ئے نفیِ صفتِ جنس، لا ئے نفیِ صفتِ جنس۔ تو مختصر کرنے کے لیے صفت کو حذف کر دیا اور لا ئے نفی جنس اس کا نام رکھ دیا۔ اور یہ لا ئے نفی جنس کا اسم کبھی منصوب ہوتا ہے، کبھی مبنی علی الفتح ہوتا ہے، اور کبھی یہ ملغٰی عن العمل ہوتا ہے یعنی عمل نہیں کرتا۔ میں نے تفصیل بیان کی تھی کہ لا ئے نفی جنس کا اسم مبنی علی الفتح ہوگا جب تین شرطیں پوری ہوں۔ پہلی شرط یہ کہ وہ اسم لا کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔ دوسری شرط کہ وہ نکرہ ہو۔ تیسری شرط کہ وہ مفرد ہو یعنی مضاف یا مشابہ مضاف نہ ہو۔ جب یہ تینوں شرطیں پوری ہوں گی تو لا ئے نفی جنس کا اسم مبنی علی الفتح ہوگا۔ جیسے "لا رجل فی الدار"۔ تو یہ "لا رجل"، یہ رجل کیا ہے اس وقت؟ مبنی ہے۔ کیسے پتہ چلا آپ کو یہ کہ مبنی ہے؟ کیونکہ اس پر تنوین نہیں آ رہی۔ مانعِ تنوین تو دو چیزیں ہیں۔ جس اسم پر تنوین آتی ہو اور اس پر دو چیزوں میں سے کوئی ایک آ جائے تو پھر اس پر تنوین نہیں آتی۔ یا تو اس پر الف لام آ جائے یا اس کی اضافت ہو جائے اور آگے مضاف الیہ آ جائے تو پھر تنوین نہیں آتی۔ لیکن "لا رجل فی الدار" یہاں نہ الف لام ہے نہ آگے مضاف الیہ ہے، پھر بھی اس پر تنوین نہیں آ رہی۔ معلوم ہوا یہ کیا بن چکا؟ مبنی بن چکا ہے بھئی۔ اور اگر تیسری شرط پوری نہ ہوئی، یعنی لا کا اسم لا کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور وہ نکرہ ہے لیکن تیسری شرط کہ مفرد ہو وہ شرط پوری نہیں یعنی مضاف ہے یا مشابہ مضاف ہے، تو اس صورت میں لا ئے نفی جنس کا اسم منصوب ہوتا ہے، اس پر نصب آتا ہے۔ جیسے "لا غلام رجلٍ ظریفٌ فی الدار"۔ تو "لا غلام رجلٍ"، یہ "غلام رجلٍ" یہ لا کے ساتھ جڑا بھی ہوا ہے، یہ نکرہ بھی ہے کیونکہ نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو جائے تو وہ نکرہ ہی رہتا ہے۔ البتہ تیسری شرط پوری نہیں یہ مفرد نہیں ہے بلکہ مضاف ہے۔ تو اس لیے یہ مبنی علی الفتح نہیں ہے بلکہ یہ منصوب ہے۔ اور اسی طرح مشابہ مضاف بھی بھئی۔ مشابہ مضاف میں نے آپ کو بتلایا تھا وہ ہوتا ہے، وہ اسم جو کسی دوسرے اسم کا محتاج ہو، کسی یا یوں کہو کسی دوسرے لفظ کا محتاج ہو اپنا معنی پورا ادا کرنے میں۔ جیسے "طالعٌ" کا معنی "چڑھنے والا"۔ اب کیا معنی؟ پہاڑ پر چڑھنے والا یا درخت پر چڑھنے والا یا چھت پر چڑھنے والا؟ تو اس کے لیے آگے ایک مفعول چاہیے۔ تو "طالعٌ جبلاً"، اب معنی پورا ہو گیا۔ معلوم ہوا کس پر چڑھنے والا؟ پہاڑ پر۔ تو جیسے مضاف محتاج ہوتا ہے مضاف الیہ کا، اسی طرح مشابہ مضاف جو ہے وہ بھی آگے ایک اسم کا یا ایک لفظ کا محتاج ہوتا ہے۔ تو دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔ دونوں کا لا ئے نفی جنس کا اسم اگر ساتھ جڑا ہوا ہو، نکرہ ہو، اور مفرد نہ ہو یعنی مضاف یا مشابہ مضاف ہو تو وہ منصوب ہوتا ہے۔ اور اگر پہلی دو شرطوں میں سے کوئی پوری نہ ہوئی یعنی لا کا اسم ساتھ جڑا ہوا نہیں ہے، یا لا کا اسم معرفہ ہے، تو پھر تکرارِ لا بھی ہوگا اور اس کے ساتھ ایک اور اسم بھی ویسا ہی آئے گا۔ جیسے "لا زیدٌ فی الدار ولا عمرٌو"۔ دیکھو زیدٌ ساتھ جڑا ہوا ہے لیکن نکرہ نہیں ہے بلکہ معرفہ ہے، تو ایک اور لا اور اس کے ساتھ ایک اور معرفہ لانا پڑا۔ "لا زیدٌ فی الدار ولا عمرٌو"۔ اور اگر نکرہ ہو لیکن درمیان میں فصل ہو تو بھی اسی طرح ہے۔ پہلی شرط کیا تھی؟ ساتھ جڑا ہو۔ وہ پوری نہ ہو یعنی درمیان میں فصل آ جائے۔ "لا فی الدار رجلٌ ولا امراۃٌ"، دیکھو ایک اور لا لانا پڑا۔ کیونکہ "لا فی الدار رجلٌ"، لا کے بعد "فی الدار" آ گیا، جار مجرور آ گیا۔ اسم دور چلا گیا تو ایک اور لا لانا پڑا اور ایک اور اسم لانا پڑا۔ تو لا اس صورت میں لا ملغٰی عن العمل ہے، لا عمل نہیں کرے گا۔ تو "زیدٌ" جو مرفوع ہے وہ ابتداء کی بناء پر ہے۔ اور ابتداء کسے کہتے ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا۔ کسے کہتے ہیں ابتداء؟ عاملِ معنوی۔ یاد رکھو دو ہی عاملِ معنوی ہیں۔ ایک اسم میں ہے، ایک فعل میں ہے۔ فعل میں عاملِ، فعلِ مضارع میں عاملِ معنوی کیا؟ کہ وہ عاملِ ناصب یا عاملِ جازم سے خالی ہو۔ جب کوئی ناصب بھی نہیں ہے، جازم بھی نہیں ہے تو وہ مرفوع ہوگا۔ بس یہ عاملِ معنوی ہے۔ طلباء پریشان ہوتے ہیں پتہ نہیں عاملِ معنوی کیا چیز ہے۔ بس فعلِ مضارع پر ناصب بھی نہیں ہے اور جازم بھی نہیں ہے تو وہ مرفوع ہے، اور یہی عاملِ معنوی ہے۔ یعنی لفظوں میں کوئی عامل نہیں تو عامل کیا ہوا؟ معنوی ہوا۔ اس لیے اس پر رفع آیا۔ کیونکہ رفع خود بخود نہیں آتا، رفع کے لیے کیا چاہیے؟ عامل چاہیے۔ تو یہاں پر فعلِ مضارع پر رفع آیا۔ آپ سے کوئی کہے یہ رفع کیوں آیا؟ تو رفع تو خود بخود نہیں آتا، اس کے لیے تو کوئی عامل چاہیے۔ تو کوئی اگر آپ سے پوچھے فعلِ مضارع میں عامل کیا ہے؟ اس پر رفع آپ کیوں پڑھ رہے ہیں؟ رفع تو خود بخود نہیں آتا۔ تو آپ کیا کہیں گے؟ عاملِ معنوی ہے۔ عاملِ معنوی ہے۔ کیا عامل ہے؟ کہ اس پر کوئی ناصب اور جازم عامل نہیں، تو یہ یہی عاملِ معنوی ہے۔ اسی طرح بھئی، اسم کے اندر بھی، اسم کے اندر جو عاملِ معنوی ہے وہ ہے ابتداء۔ اور یاد رکھنا یہ ابتداء صرف دو چیزوں میں عامل ہے۔ کون سی دو چیزیں ہیں؟ مبتدا اور خبر، بس یہ دو ہیں۔ ان کے اندر عاملِ معنوی ہے یعنی لفظوں میں کوئی عامل نہیں، لیکن دونوں پر رفع ہے۔ پھر رفع کیوں آ رہا ہے؟ ان میں عامل کیا ہے؟ معنوی۔ وہ ان کو رفع دے رہا ہے اور اس کا نام ہے ابتداء۔ مبتدا میں بھی عامل: ابتداء۔ خبر میں بھی عامل: ابتداء۔ اور ابتداء کسے کہتے ہیں؟ میں نے بتلایا تھا۔ کسی اسم کا عاملِ لفظی سے خالی ہونا اس طور پر کہ وہ مسند ہو یا مسند الیہ۔ دیکھا؟ اب صرف مبتدا خبر رہ گئے۔ مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ، اور خبر کیا ہوتی ہے؟ مسند۔ تو یہ مسند الیہ ہے اور یہ مسند ہے اور عاملِ لفظی سے خالی ہیں۔ بس اب ان میں عامل کیا ہوا؟ ابتداء، عاملِ معنوی ہوا۔ تو بس عاملِ لفظی سے خالی ہونا اور اس کے باوجود رفع کا آنا، معلوم ہوا ان میں عاملِ معنوی ہے۔ تو لہٰذا "لا زیدٌ فی الدار ولا عمرٌو"، تو یہاں "زیدٌ" میں عامل کیا ہے؟ ابتداء۔ اور لا ملغٰی عن العمل ہے۔ تو "زیدٌ" مرفوع ہے مبتدا ہونے کی وجہ سے۔ اور "لا فی الدار رجلٌ ولا امراۃٌ" یہاں پر بھی "رجلٌ" کیا ہے؟ مرفوع ہے۔ کس وجہ سے؟ ابتداء کی وجہ سے، یہ مبتدا ہے۔ لا ملغٰی عن العمل ہے۔ اور اگر، اگر تینوں شرطیں پوری ہوں لیکن لا کا تکرار ہو اور اس کے ساتھ ایک اور اسم کا بھی تکرار ہو۔ جیسے "لا حول ولا قوۃ الا باللہ"، تینوں شرطیں پوری ہیں۔ "لا حول"، دیکھو لا کا اسم لا کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور نیز نکرہ ہے، اور نیز مفرد ہے، مضاف یا مشابہ مضاف بھی نہیں۔ تینوں شرطیں پوری ہیں لیکن لا کا تکرار ہو رہا ہے، آگے ایک اور لا آ رہا ہے: "لا حول ولا قوۃ"، ایک اور لا بھی ہے اور اس کے ساتھ ایک اور اسم بھی ہے۔ تو ان جیسی جگہوں پر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا پانچ طرح پڑھنا جائز ہے۔ پہلی صورت کیا؟ "لا حولَ ولا قوۃَ الا باللہ" یعنی دونوں اسم مبنی علی الفتح ہو جائیں گے، دونوں اسم۔ اور یہ سب سے افصح لغت ہے بھئی۔ یعنی یہ اس طریقے سے پڑھنا سب سے اعلیٰ ہے۔ باقی صورتیں بھی پڑھنا ٹھیک لیکن سب سے اعلیٰ صورت یہ ہے کہ اسی طرح پڑھا جائے: "لا حولَ ولا قوۃَ الا باللہ"، دونوں جز مبنی علی الفتح ہوں۔ اور دوسری صورت ہے: "لا حولٌ ولا قوۃٌ الا باللہ"۔ اور تیسری صورت کیا؟ "ولا حولَ ولا قوۃٌ الا باللہ"۔ اور چوتھی ہے: "ولا حولٌ ولا قوۃَ الا باللہ"۔ اور پانچویں ہے: "ولا حولَ ولا قوۃً الا باللہ"۔ یہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا تین طرح کے نام ہیں: رفعٌ، نصبٌ، جرٌّ۔ یہ کس کے ساتھ خاص؟ معرب کے ساتھ۔ اور ضمٌّ، فتحٌ، کسرٌ۔ مبنی کے ساتھ۔ اور ضمہٌ، فتحہٌ، کسراۃٌ۔ یہ عام ہیں دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ پھر دہراؤ: رفعٌ، نصبٌ، جرٌّ، یہ کس کے ساتھ خاص؟ معرب کے ساتھ۔ ضمٌّ، فتحٌ، کسرٌ، مبنی کے ساتھ۔ اور ضمہٌ، فتحہٌ، کسراۃٌ، دونوں کے ساتھ، یہ عام ہیں دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تو "لا حولَ ولا قوۃَ الا باللہ" یہ دونوں جز کیا ہیں؟ مبنی ہیں، مبنی علی الفتح۔ مبنی علی النصب نہیں کہیں گے۔ حالانکہ فتح وہ بھی زبر کی صورت میں، نصب بھی عموماً زبر کی صورت میں، لیکن نام الگ الگ۔ تو یہ کیا ہے؟ مبنی ہے تو کیا کہیں گے؟ مبنی علی الفتح۔ اور "ولا حولٌ ولا قوۃٌ الا باللہ" یہاں پر معرب ہے، تو دونوں جز مرفوع ہیں۔ دونوں جز مرفوع ہیں۔ "ولا حولَ ولا قوۃٌ الا باللہ"، "لا حولَ" یہ کیا ہے؟ مبنی علی الفتح، اور "ولا قوۃٌ" یہ کیا ہے؟ مرفوع ہے، معرب ہے۔ آگے آیا "ولا حولٌ ولا قوۃَ الا باللہ"، "ولا حولٌ" یہ کیا ہے؟ مرفوع ہے، معرب ہے، اور "ولا قوۃَ الا باللہ" یہ مبنی علی الفتح ہے۔ آخری صورت آ گئی: "ولا حولَ ولا قوۃً الا باللہ"، "لا حولَ" یہ مبنی علی الفتح، "ولا قوۃً" منصوب ہے، معرب ہے۔ اور پانچویں قسم پڑھی تھی وہ حروف جو اسم میں عمل کرتے ہیں، وہ ہیں حروفِ ندا۔ اور انہوں نے آپ کو بتلایا حروفِ ندا پانچ ہیں: یا، ایا، ہیا، اے، اور ہمزہ مفتوحہ۔ اور ان کا منادیٰ اگر مفرد معرفہ ہو تو وہ مبنی علی الضم ہوگا۔ منادیٰ کیا ہو؟ مفرد معرفہ، دونوں شرطیں پوری ہوں، مفرد ہو۔ میں نے بتایا تھا مفرد نحو میں چار چیزوں کے مقابلے میں آتا ہے۔ کبھی مفرد کس کے مقابلے میں آئے گا؟ مرکب کے مقابلے میں۔ کبھی مفرد کس کے مقابلے میں؟ تثنیہ اور جمع کے مقابلے میں۔ اور کبھی مفرد... جی؟ تثنیہ اور جمع کے مقابلے میں۔ اور کبھی مفرد... جی، پھر دہرائیں۔ کبھی مفرد کس کے مقابلے میں آتا ہے؟ مرکب کے مقابلے میں۔ کبھی مفرد کس کے مقابلے میں آتا ہے؟ تثنیہ اور جمع کے مقابلے میں۔ اور کبھی مفرد کس کے مقابلے میں آتا ہے؟ جملے کے مقابلے... جو بھی ترتیب کوئی ضروری نہیں ہے۔ کبھی مفرد کس کے مقابلے میں آتا ہے؟ جملے کے مقابلے میں۔ اور کبھی مفرد مضاف یا مشابہ مضاف کے مقابلے میں آتا ہے۔ اور یہاں پر جو آیا کہ منادیٰ مفرد معرفہ ہو، تو یہ مفرد کس کے مقابلے میں؟ مضاف اور مشابہ۔ جب کہہ دیا مفرد ہو معلوم ہوا نہ مضاف ہو اور نہ مشابہ مضاف ہو۔ پیچھے جو لا ئے نفی جنس کے اندر بھی مفرد کی قید آئی تھی، وہاں بھی کیا مفرد کس کے مقابلے میں تھا؟ مضاف اور مشابہ مضاف کے مقابلے میں تھا۔ تو انہوں نے کہا کہ منادیٰ جب مفرد معرفہ ہو، مفرد ہو یعنی مضاف یا مشابہ مضاف نہ ہو، اور معرفہ ہو۔ معرفہ میں نے بتلایا تھا کہ جیسے الف لام کے ذریعے کوئی اسم معرفہ بن جاتا ہے، اسی طرح یہ حرفِ ندا جس اسم پر داخل ہوتے ہیں یہ بھی اس کو کیا بنا دیتے ہیں؟ معرفہ بنا دیتے ہیں۔ معرفہ بنا دیتے ہیں۔ تو یہ دونوں آلہ تعریف ہوئے۔ آلہ وہ چیز جس کے ذریعے کوئی کام سر انجام دیا جائے اس کو آلہ کہتے ہیں۔ جیسے قلم لکھنے کا آلہ ہے، عینک دیکھنے کا آلہ ہے۔ تو اس کو آلہ کہتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی الف لام اور "یا" کیا ہیں؟ آلہ تعریف۔ الف لام اور حروفِ ندا کیا ہیں؟ آلہ تعریف۔ یہ جس اسم پر داخل ہوتے ہیں اس کو معرفہ کر دیتے ہیں۔ تو لہٰذا انہوں نے کیا کہا؟ منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو مبنی علی... الزم ہوگا۔ مفرد ہو، کس کو نکال دیا؟ مضاف اور مشابہ مضاف کو، اور معرفہ ہو، تو معرفہ ہونا عام ہے، چاہے قبل النداء معرفہ ہو، چاہے بعد النداء معرفہ بن جائے۔ قبل النداء معرفہ ہو، مثلاً زید۔ زید کا لفظ علم ہے، تو یہ پہلے سے ہی معرفہ، اور ایک ہے رجل، رجل ویسے تو نکرہ ہے، لیکن جب اس پر حرفِ نداء داخل ہوگا "یا رجلُ"، اب یہ کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔ تو بس معرفہ ہونا عام ہے، چاہے پہلے سے ہی معرفہ ہو، چاہے حرفِ نداء کے داخل ہونے کی وجہ سے کیا بن جائے؟ معرفہ۔ تو جب یہ دونوں شرطیں پوری ہوں گی، کہ منادیٰ مفرد ہو اور معرفہ ہو، تو وہ مبنی علی الضم ہوگا۔ تو کیسے کہیں گے؟ "یا زیدُ"، "یا زیدُ"۔ جی، یہ مبنی ہے ضمہ پر۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مبنی ہے؟ جی، ہاں، شاباش، تنوین نہیں آرہی، حالانکہ تنوین ویسے تو زیدٌ پر تنوین آتی ہے: جاءنی زیدٌ، رأیتُ زیداً، مررتُ بزیٍد۔ لیکن یہاں تنوین نہیں آرہی، نہیں آرہی، معلوم ہوا یہ کیا بن چکا؟ مبنی، مبنی بن چکا۔ اور دونوں شرطیں پوری ہیں، دیکھو یہ مفرد ہے، مضاف یا مشابہ مضاف بھی نہیں، یہ زید کا لفظ، اور معرفہ ہے، پہلے سے ہی معرفہ ہے۔ یا دوسری مثال: "یا رجلُ"، تو یہ مبنی علی الضم نہ کہیں، مبنی ہوگا علامتِ رفع پر۔ منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو وہ مبنی ہوگا علامتِ رفع پر، جو بھی رفع والی علامت ہوگی اسی پر مبنی بن جائے گا۔ لہٰذا "یا رجلانِ"، یہ رجلانِ اس وقت کیا ہے؟ مبنی ہے، کیونکہ اس کا رفع آتا ہی کس کے ساتھ ہے؟ الف کے ساتھ۔ "یا مسلمون"، یہ مسلمون اس وقت کیا ہے؟ مبنی ہے۔ دونوں شرطیں پوری ہیں دیکھو "یا مسلمون" میں، یہ مفرد بھی ہے، مضاف یا مشابہ مضاف نہیں، اور نداء کی وجہ سے کیا بن چکا؟ معرفہ بھی بن چکا، تو دونوں شرطیں پوری۔ تو "یا مسلمون"، یہ اس وقت کیا ہے؟ مبنی ہے علامتِ رفع پر۔ اور اس سے آگے "یا"، یا جیسے "یا موسیٰ"، یہ بھی کیا ہے؟ مبنی ہے علامتِ رفع پر۔ "یا قاضی"، یہ بھی کیا ہے اس وقت؟ مبنی ہے علامتِ رفع پر، کیونکہ موسیٰ اور قاضی دونوں میں رفع تقدیراً آتا ہے، تو اسی حالت پر یہ مبنی بن جائیں گے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی، اور اگر یہ دونوں شرطیں پوری نہ ہوں یا ان میں سے کوئی ایک شرط پوری نہ ہو، تو پھر منادیٰ منصوب ہوگا۔ پہلی شرط اگر پوری نہ ہوئی، مفرد نہیں ہے بلکہ مضاف یا مشابہ مضاف ہے تو منصوب ہوگا، جیسے "یا عبدَ اللہِ"، عبدَ اللہِ، دیکھو عبد پر میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ نصب۔ لفظِ اللہ وہ تو مجرور ہے مضاف الیہ ہے، لیکن عبد پر نصب آیا کیونکہ یہ مضاف ہے۔ "یا طالعاً جبلاً"، دیکھو یہاں طالعاً کیا آیا؟ منصوب ہے، کیونکہ یہ مشابہ مضاف ہے، جبلاً آگے اس کا مفعول آرہا ہے۔ تو "یا عبدَ اللہِ"، یہ بھی منصوب، "یا طالعاً جبلاً"، یہ بھی منصوب، کیونکہ یہ مفرد نہیں ہے۔ اور اگر معرفہ نہ ہوں، جیسے اندھا کسی شخص کو آواز دے: "یا رجلاً خذ بیدی"، اے آدمی میرا ہاتھ پکڑ لے۔ اب اندھا کسی معین آدمی کو آواز دیتا ہے یا کوئی بھی پاس سے گزرنے والا اس کا ہاتھ تھام لے؟ اس کا کیا ارادہ ہوتا ہے؟ کسی معین کا یا غیر معین کا؟ غیر معین کا، کس کا؟ غیر معین کا۔ دیکھو آپ کے سامنے کئی آدمی جا رہے ہیں، آپ کسی معین کو آواز دیں گے: "یا رجلُ"، اے آدمی! لیکن اندھا ہے، اس کو تو پتہ ہی نہیں ہے، اس کو تو نظر ہی نہیں آرہا، وہ کیسے معین کو آواز دے گا؟ وہ آواز کس کو دے رہا ہے؟ غیر معین، تو "یا رجلاً"، دیکھو یہ رجل ابھی بھی نکرہ کا نکرہ ہے۔ اگرچہ حروفِ نداء سے تو لفظ کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ، لیکن معرفہ تو اس کو کہتے ہیں جو متعین ہو، یہ ابھی تک متعین نہیں ہوا، لہٰذا یہ ابھی بھی کیا ہے؟ نکرہ ہے۔ تو "یا رجلاً خذ بیدی"، یہ منادیٰ دیکھو منصوب ہے، کیونکہ دوسری شرط پوری نہیں۔ پہلی شرط کیا تھی؟ مفرد ہو، یہ بھی مفرد ہے، لیکن دوسری شرط کیا تھی؟ وہ معرفہ ہو، قبل النداء یا بعد النداء، اور یہ معرفہ نہیں ہے، تو یہ منصوب ہے۔ بلکہ یہ تو اندھے کی مثال دی ہے، بینا آدمی، دیکھنے والا آدمی بھی اگر کسی غیر معین کو آواز دیتا ہے تو بھی منصوب ہوگا۔ جیسے آپ کے سامنے اٹھ دس آدمی کھڑے ہیں، آپ ان میں سے آواز دیتے ہیں: "یا رجلاً خذ بیدی"، مثلاً کوئی شخص گر پڑا، کوئی شخص گر پڑا، اب وہ آواز دیتا ہے: "یا رجلاً خذ بیدی"، اے آدمی میرا ہاتھ تھام لو۔ اب وہ کسی معین کو کہے گا یا کوئی بھی آکر اس کا ہاتھ تھام لے؟ کوئی بھی آکر اس کا ہاتھ تھام لے، تو چاہے بینا شخص ہی کیوں نہ ہو، جب وہ غیر معین کو نداء دے گا تو وہ نکرہ ہوگا، اور جب نکرہ ہو تو وہ منصوب ہوگا، "یا رجلاً" پڑھیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کو آخر میں یہ بتلایا کہ اَیا اور ہَیا، یہ منادیٰ بعید کے لیے ہیں۔ اگر منادیٰ یعنی جس کو آواز دی جا رہی ہے وہ دور ہے، تو اَیا اور ہَیا استعمال کریں گے نداء کے لیے۔ اور اگر وہ قریب ہے منادیٰ، تو اس کو آواز دینے کے لیے اَی اور ہمزہ مفتوحہ استعمال کریں گے، اور یا عام ہے، وہ قریب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور بعید کے لیے بھی۔ اور لفظِ اللہ کے بارے میں بتلایا تھا کہ لفظِ اللہ کے لیے صرف یا استعمال ہوگا، باقی حروفِ نداء نہیں۔ "یا اللہ" تو کہہ سکتے ہیں، باقی حروفِ نداء یہاں استعمال نہیں کر سکتے۔ اور نیز میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ حروفِ نداء معرف باللام پر براہِ راست داخل نہیں ہو سکتے، کیونکہ یا بھی آلۂ تعریف اور الف لام بھی آلۂ تعریف، تو یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ تو درمیان میں مذکر کے لیے ایہا بڑھاتے ہیں اور مؤنث کے لیے ایتہا بڑھاتے ہیں، جیسے الرجل، اس پر الف لام ہے، اس پر یا داخل کرنا چاہتے ہیں، تو کہیں گے: "یا ایہا الرجلُ"۔ اور المرأۃ، یہاں پر یا داخل کرنا چاہتے ہیں تو الف لام پہلے ہی موجود ہے، لہٰذا کیسے کہیں گے؟ "یا ایتہا المرأۃُ"۔ اسی طرح اس میں موصول جس پر الف لام ہو، اس پر بھی یہی ایہا اور ایتہا لائیں گے، جیسے الذی پر آپ یا داخل کرنا چاہتے ہیں، تو کہیں گے: "یا ایہا الذی"۔ البتہ لفظِ اللہ اس کی خصوصیت ہے، اس پر الف لام داخل ہے، پھر بھی اس پر یا داخل ہوگا: "یا اللہ"، یا اللہ وہاں کہیں گے۔ آگے دیکھیے بھئی سبق۔ فصلِ دوم در حروفِ عاملہ در فعلِ مضارع۔ فصلِ دوم، دوسری فصل۔ در حروفِ عاملہ در فعلِ مضارع، وہ حروفِ عاملہ، وہ حروف جو عمل کرتے ہیں فعلِ مضارع میں۔ دوسری فصل ہے ان حروف کے بیان میں جو عمل کرتے ہیں فعلِ مضارع میں۔ فصلِ دوم دوسری فصل در حروفِ عاملہ در فعلِ مضارع، فعلِ مضارع میں عمل کرنے والے حروف کے بیان میں۔ و آن بر دو قسم است، اور وہ دو قسم پر ہے۔ دو قسم پر ہیں بھئی۔ وہ حروف جو اسم میں عمل کرتے تھے، وہ کتنی قسم پر تھے؟ پانچ، اور جو فعلِ مضارع میں عمل کرتے ہیں، وہ دو قسم پر ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو نصب دیں گے، کچھ وہ ہیں جو جزم دیں گے، تو دو قسمیں بیان کریں گے۔ قسمِ اول حروفِ کہ فعلِ مضارع را بر نصب کنند، پہلی قسم وہ حروف جو کہ فعلِ مضارع کو بر نصب کنند، اس کو نصب دیتے ہیں۔ و آنچہ ہر است، اور وہ چار ہیں۔ پہلی قسم وہ حروف جو فعلِ مضارع کو نصب دیتے ہیں، وہ کتنے ہیں؟ چار۔ اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ اول، پہلا جو ہے ان۔ ان ہے بھئی، ان، یہ نصب دیتا ہے، اور اس کو یاد رکھیں حرفِ مصدر بھی کہتے ہیں، یہ فعلِ مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس کو مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے۔ کس معنی میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے، جیسے اضربُ، اضربُ یہ فعلِ مضارع ہے۔ کیا معنی؟ کون سا صیغہ ہے؟ واحد متکلم، کیا معنی؟ میں پٹائی کرتا ہوں۔ اب اس پر ان لے آئیں ذرا، اب پڑھیں اور آخر میں نصب پڑھیں: ان اضربَ۔ توجہ ہے؟ ان اضربَ۔ دیکھو اس ان نے مضارع کو، کے لفظوں میں یہ عمل کیا کہ نصب دے دیا۔ پہلے کیا تھا؟ اضربُ، با پر پیش تھی، اب ان اضربَ، با پر کیا آگیا؟ زبر۔ تو لفظوں میں عمل یہ کرتا ہے کہ نصب دے دیتا ہے، اور معنی میں یہ عمل کرتا ہے کہ اب اس نے اس کو مصدر کے معنی میں کر دیا۔ اس نے فعلِ مضارع کو کس معنی میں کر دیا؟ مصدر کے معنی میں۔ تو بنائیں اس کا مصدر، ضربَ یضربُ کا مصدر کیا آتا ہے؟ ضربٌ، ضربٌ مصدر ہے۔ اور ان اضربَ، اضربَ کے اندر فاعل کون سی ضمیر ہے؟ انا، متکلم کی ہے، واحد متکلم کی۔ تو اس ضرب مصدر کی اب اضافت کر دو فاعل کی طرف۔ ان اضربَ، فاعل کیا تھا؟ انا، یعنی واحد متکلم، واحد متکلم کی ضمیر۔ اب اسی ضمیر کی طرف ضرب کی اضافت کر دو۔ تو ضرب کو بنا دو مضاف اور انا کو کیا بناؤ؟ توجہ ہے؟ ضرب کو بناؤ مضاف اور انا کو کیا بناؤ؟ مضافٌ الیہ، اور مضاف الیہ تو کیا ہوتا ہے؟ مجرور، اور انا، انا تو ضمیر مرفوع ہے بھئی۔ تو ہمیں جو مجرور ضمیر چاہیے۔ جیسے انا واحد متکلم کی ہے، اسی طرح واحد متکلم کی مجرور ضمیر ہمیں چاہیے۔ آپ نے پڑھا تھا پیچھے ضمیریں کتنی قسم پر ہیں؟ پانچ قسم پر: مرفوع منفصل ہوگی یا مرفوع متصل، پھر اس کے بعد منصوب منفصل ہوگی یا منصوب متصل، جبکہ مجرور ایک ہی ہے جو متصل ہوتی ہے۔ تو اب مجرور متصل لے آؤ۔ وہاں کیا مثال پڑھی تھی؟ جی، لی، لنا، لک، یا اسی طرح، یہ تو حرفِ لام حرفِ جار سے جڑی تھی، اور اس طرح مضاف الیہ بھی یہی تھی: کتابی، کتابنا، کتابک، کتابکما، کتابکم، کتابکِ، کتابکما، کتابکنّ، کتابہ، کتابہما، کتابہم، کتابہا، کتابہما، کتابہنّ۔ لام کے ساتھ، تو یہ اسم کے ساتھ بھی جڑتی ہے، یہ مجرور متصل، اور اسم کے ساتھ جو جڑے گی تو کیا بنے گی؟ مضاف الیہ، اور مضاف الیہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور۔ اور نیز یہ حروفِ جارہ کے ساتھ بھی جڑ سکتی ہے، اور حرفِ جار بھی کیا دیتا ہے؟ جر، تب بھی مجرور ہوگی۔ دیکھو حرفِ جار میں دیکھ لو: لی، یہ لام حرفِ جار ہے اور یا متکلم کی ضمیر ہے۔ لی، لنا، لک، لکما، لکم، لکِ، لکما، لکنّ، لہ، لہما، لہم، تھا، لہما، لہنّ۔ جی، اب یہاں پر کیا مصدر بنایا؟ ان اضربَ، مصدر کیا بنایا؟ ضرب، اور اس کی اضافت کس کی طرف کرنی ہے؟ انا جو فاعل کی ضمیر ہے، اور انا تو ہے مرفوع متصل بھی ہے، مرفوع منفصل بھی ہے، تو آپ مجرور متصل لے آؤ۔ کتابی، یا آئی تھی ضمیر یا نہیں؟ مضاف الیہ تھی، تو یا لے آؤ یہاں پر۔ انا اور یا ایک ہی بات ہے، انا سے بھی متکلم مراد اور یا سے بھی متکلم، لیکن انا آئے گی رفع والے مقام میں، اور یا آئے گی جر والے مقام میں، تو لے آؤ، کیا، کیسے بن جائے گا؟ ضربی۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو ان اضربَ، اس سے کیا بن گیا؟ ضربی۔ ضربی کا کیا معنی؟ میرا پٹائی کرنا۔ پھر سنو، اضربُ کا معنی تھا میں پٹائی کر رہا ہوں یا میں پٹائی کروں گا، حال والا معنی بھی ہو سکتا ہے اور استقبال والا بھی، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے فعلِ مضارع میں دونوں معنی کا احتمال ہوتا ہے، حال کا بھی اور استقبال۔ لیکن ایک وقت میں ایک ہی معنی ہوگا، دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ اضربُ کا معنی آپ، یا تو آپ کو یہ کرنا پڑے گا میں پٹائی کر رہا ہوں، یا اضربُ کا معنی آپ کو کرنا پڑے گا میں پٹائی کروں گا۔ دونوں معنی بیک وقت نہیں کر سکتے کہ میں پٹائی کر رہا ہوں اور پٹائی کروں گا، دونوں معنی نہیں کر سکتے۔ تو احتمال تو مضارع میں دونوں معنی کے ہوتے ہیں، لیکن ایک وقت میں ایک معنی آتا ہے۔ تو اضربُ کا ایک معنی کر لیں، مثلاً حال والا: میں پٹائی کر رہا ہوں۔ اور اس پر ان ناصبہ آیا: ان اضربَ، اس نے اس کو کس معنی میں کر دیا؟ کرکے دکھاؤ، کیا بن جائے گا؟ ضربی، ضرب اور یا کی طرف اضافت کر دی، فاعل کی طرف اضافت کر دی۔ کیا بن گیا؟ ضربی۔ ضربی کا کیا ترجمہ؟ میرا پٹائی کرنا، میرا مارنا، دیکھا؟ کتابی کا کیا معنی تھا؟ میری کتاب، قلمی: میرا قلم، تو ضربی: میری ضرب، یوں کہہ لو، میری ضرب۔ اب میری ضرب، بات پوری ہے؟ نہیں، آپ دس دفعہ کہیں میری ضرب، میری ضرب، وہ کہے گا بھئی بات تو پوری کریں، آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ تو مثلاً میری ضرب بڑی خطرناک ہوتی ہے، اب بات پوری ہو گئی۔ تو میری ضرب، دیکھو یہ مفرد بن گیا، مصدر کیا ہوتا ہے؟ مفرد، اور فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر کیا بنتا ہے؟ جملہ بنتا ہے۔ تو پہلے کیا تھا؟ جملہ، اب ان نے کیا کیا؟ اس کو کس معنی میں کر دیا؟ مصدر کے معنی میں، اب یہ مفرد بن گیا، اب پوری بات نہیں۔ توجہ ہے؟ پھر سن لیں۔ وہ حروف جو فعلِ مضارع پر داخل ہوتے ہیں اور اس کو نصب دیتے ہیں، ان میں پہلا حرف ان ہے۔ میں نے بتلایا یہ لفظوں میں بھی عمل کرے گا اور معنی میں بھی۔ لفظوں میں کیا عمل کرے گا؟ نصب دے گا۔ اضربُ، اب کیسے پڑھیں گے؟ ان اضربَ، ان کو بھی لے آؤ، پھر سنیں: اضربُ، کیسے پڑھیں گے؟ ان اضربَ۔ تو اس ان نے نصب بھی دیا، اور معنی میں کیا عمل کیا؟ مصدر کے معنی میں کر دیا، مصدر بنا کر دکھاؤ: ضربی۔ یہ یا کہاں سے آئی؟ یہ اسی کے اندر جو فاعل کی ضمیر تھی، اضربُ کے اندر انا ضمیر فاعل کی تھی، اسی کی طرف کیا کر دی؟ اضافت۔ لیکن انا کو براہِ راست مضاف الیہ نہیں بنا سکتے، کیونکہ انا تو کون سی ضمیر ہے؟ مرفوع، اور مضاف الیہ تو کیا ہوتا ہے؟ مجرور، تو ہم وہی ضمیر متکلم والی مجرور لے آئے۔ تو بن گیا ضربی، میری ضرب، میرا پٹائی کرنا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ اور اب بات پوری نہیں، اس کے لیے اور لفظ لانے پڑیں گے، پھر ہی بات پوری ہوگی ورنہ بات پوری نہیں ہوگی۔ دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: اول ان، پہلا جو ہے ان ہے، چون اريد ان تقومَ۔ جی، اب آپ نے ادھر دیکھیے بھئی: اريدُ، اراد یرید کا معنی ارادہ کرنا۔ اريدُ متکلم کا صیغہ ہے، میں ارادہ کرتا ہوں، ان تقومَ۔ ان تقومَ، ان نصب دے گا، ویسے تو قام يقومُ، میم پر کیا تھا؟ رفع۔ لیکن اب ان نے نصب دیا: اريد ان تقومَ۔ جی، ان تقومَ تَقُومَ سے مصدر بنائیے۔ اَنْ تَقُومَ، گردان کرو۔ قَامَ یَقُومُ، قَامَ یَقُومُ قِیَامًا۔ قَامَ یَقُومُ قِیَامًا، تو اس کا مصدر قِیَامًا آتا ہے۔ جی! اَنْ تَقُومَ، کون سا صیغہ ہے؟ کون سا صیغہ ہے؟ واحد مذکر حاضر۔ واحد مذکر حاضر، اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ اَنْتَ ہے۔ شاباش! توجہ ہے؟ گردانیں یاد ہیں؟ تو تَقُومُ کے اندر کون سی ضمیر؟ اَنْتَ ضمیر ہے۔ اب اس سے ہم نے، اس پر اَنْ آ گیا۔ اب ہم نے اسے مصدر بنانا ہے، تو تَقُومُ کا مصدر کیا بنا؟ قِیَام۔ اور اس میں سے فاعل، اس میں فاعل کیا تھا اس کے اندر؟ اَنْتَ۔ اب اس کی طرف اس کی اضافت کرنی ہے، تو قِیَام کی اضافت کریں اَنْتَ کی طرف۔ اور اَنْتَ تو کون سی ضمیر ہے؟ مرفوع ہے۔ ہمیں کون سی چاہیے؟ مجرور۔ مجرور لے کر آؤ بھئی۔ ہاں، کِتَابِی، وہاں چلے جاؤ۔ کِتَابِی، کِتَابُکَ، کِتَابِی، کِتَابُنَا، کِتَابُکَ، یہ کاف کون سی ضمیر ہے؟ واحد مذکر مخاطب۔ اور تَقُومُ میں صیغہ بھی کون سا تھا؟ واحد مذکر مخاطب۔ تو وہی ضمیر، کِتَابُکَ، کیا معنی؟ آپ کی کتاب۔ اور کَیْفَ اَنْتَ، اس کا بھی کیا معنی؟ یہ بھی دیکھو، کَیْفَ اَنْتَ، آپ کا کیا حال ہے؟ یہ بھی مخاطب، واحد مذکر مخاطب کی ضمیر۔ اور یہ کاف بھی کیا ہے؟ واحد مذکر مخاطب کی ضمیر ہے۔ تو یہ لے آئیں، تو کیسے بن جائے گا؟ اَنْ تَقُومَ، اس سے کیا بن گیا؟ قِیَامُکَ، کیا بن گیا؟ اب نصب نہیں پڑھنا، کیونکہ اَنْ چلا گیا۔ اَنْ ہی نے تو اس کو مصدر بنایا بھئی۔ خود تو نہیں بنا مصدر، تو اَنْ گیا اس کی جگہ کیا رکھ دو؟ قِیَامُکَ، کیا رکھ دو؟ قِیَامُکَ۔ جی! اور پیچھے تھا اُرِیدُ۔ اُرِیدُ فعل، اس کے اندر اَنَا ضمیر فاعل۔ تو آگے مفعول یا مجرور، آگے جو ہے اَنْ تَقُومَ، یہ اس کے لیے مفعول بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ اور مفعول منصوب ہوتا ہے، اس پر نصب پڑھتے ہیں۔ تو اَنْ تَقُومَ اٹھائیں اور یہاں قِیَامَکَ رکھ دیں۔ اُرِیدُ قِیَامَکَ، توجہ ہے؟ اُرِیدُ قِیَامَکَ، اَنْ تَقُومَ ختم ہوا۔ اَنْ نے کیا کام کیا؟ اور جملے کو کس معنی میں کر دیا؟ قَامَ یَقُومُ تو جملہ تھا۔ اور اس کو مصدر بنا دیا۔ تَقُومُ کا کیا معنی؟ وہ قیام کر رہا ہے یا وہ قیام کرے گا، حال یا استقبال۔ اب اَنْ نے داخل ہو کر کس معنی میں کر دیا؟ مصدر کے معنی میں، اور پھر اس کی اضافت کس کی طرف کر دی؟ فاعل کی ضمیر کی طرف۔ کیوں، اضافت ہم نے کیوں کی؟ یہ وجہ بتائیں۔ کیونکہ تَقُومُ کے اندر اَنْتَ ضمیر موجود تھی۔ اس کو بھی تو باقی رکھنا ہے، اس کو ختم تو نہیں کرنا۔ تو اس کی طرف کیا کر دیں گے اس کی؟ اضافت۔ تو کیا بن گیا؟ اَنْ تَقُومَ سے کیا بن گیا؟ قِیَامُکَ۔ اور پھر اَنْ تَقُومَ اٹھائیں اور اس کی جگہ قِیَامُکَ رکھ دیں۔ اُرِیدُ قِیَامُکَ، بات توجہ ہے؟ پھر اُرِیدُ کیا کرتا ہے؟ اُرِیدُ اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے اور مفعول کو نصب۔ تو اس کے اندر اَنَا ضمیر فاعل، اور یہ قِیَامُکَ کیا بن جائے گا؟ مفعول، اور مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ تو اُرِیدُ قِیَامَکَ۔ اُرِیدُ قِیَامَکَ، ترجمہ کیا ہوا؟ میں ارادہ کرتا ہوں، میں چاہتا ہوں قِیَامَکَ، آپ کا قیام۔ میں آپ کا قیام چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اٹھ جائیں۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ اُرِیدُ قِیَامَکَ، میں آپ کا قیام چاہتا ہوں۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ جب فعل پر اَنْ داخل ہو تو وہ کس طرح مصدر بنتا ہے؟ کہ اس گردان کا مصدر لے لیں گے اور اس کی اضافت کر دیں گے فاعل کی ضمیر کی طرف، اور پھر مرفوع ضمیر کی بجائے کون سی ضمیر لے آئیں گے؟ مجرور متصل لے آئیں گے۔ تو کہتے ہیں اول اَنْ، پہلا حرف جو ہے وہ اَنْ ہے جو فعل مضارع کو نصب دیتا ہے۔ چوں اُرِیدُ اَنْ تَقُومَ، جیسے اُرِیدُ اَنْ تَقُومَ۔ وَ اَنْ بَا فِعْل بَمَعْنٰے مَصْدَرْ بَاشَدْ، اور اَنْ فعل کے ساتھ، با کا معنی ساتھ۔ اَنْ جو ہے فعل کے ساتھ، یعنی اَنْ، ادھر دیکھیے، اَنْ فعل کے ساتھ مل کر کس معنی میں ہو جائے گا؟ مصدر کے معنی میں، وہی بیان کر رہے ہیں۔ وَ اَنْ بَا فِعْل بَمَعْنٰے مَصْدَرْ بَاشَدْ، اور اَنْ جو ہے فعل کے ساتھ، یہ مصدر کے معنی میں ہوگا۔ یَعْنِی اُرِیدُ قِیَامَکَ، دیکھو وہی عبارت انہوں نے بھی ذکر کر دی۔ میں آپ کا، میں چاہتا ہوں آپ کا قیام۔ یعنی میں آپ کا قیام چاہتا ہوں کہ آپ اٹھ جائیں، آپ قیام کریں۔ وَ بَدِیْن سَبَبْ اَوْ رَا مَصْدَرِیَّہ گُوئَنْدْ، وَ بَدِیْن سَبَبْ، اور اسی وجہ سے، اسی وجہ سے اَوْ رَا مَصْدَرِیَّہ گُوئَنْدْ، اس اَنْ کو مصدریہ کہتے ہیں، کیونکہ یہ فعل مضارع کو کس معنی میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے معنی میں۔ دُوُم لَنْ، دوسرا جو ہے لَنْ ناصبہ، آپ نے گردانوں میں بھی پڑھا ہوگا، لَنْ یَّضْرِبَ، لَنْ یَّضْرِبَا، لَنْ یَّضْرِبُوا۔ دیکھو یہ نصب دیتا ہے، لَنْ یَّضْرِبَ۔ اور جہاں نون اعرابی ہو، یہ نون اعرابی کو گرا دیتا ہے، لَنْ یَّضْرِبَا، دیکھو نون گر گیا۔ تو دُوُم لَنْ، چوں لَنْ یَّخْرُجَ زَیْدٌ۔ یَخْرُجُ زَیْدٌ کا معنی تھا زید نکلے گا۔ اور لَنْ یَّخْرُجَ زَیْدٌ، اب اس نے نفی پیدا کر دی، اور نفی میں بھی تاکید پیدا کر دی۔ ایک ہے نفی، لَنْ یَّخْرُجَ زَیْدٌ، یعنی لَا یَخْرُجُ زَیْدٌ، زید نہیں نکلے گا۔ توجہ ہے؟ نفی پیدا کر دی، اور ایک ہے نفی میں تاکید، یعنی اس میں زور پیدا کر دیا۔ زید ہرگز نہیں نکلے گا۔ لَنْ یَّخْرُجَ زَیْدٌ، دیکھو اس کا ترجمہ کیا کریں گے؟ زید ہرگز نہیں نکلے گا۔ ایک تو یہ اس فعل مضارع کو استقبال کے ساتھ خاص کر دیتا ہے۔ کس کے ساتھ؟ استقبال کے ساتھ۔ لَا لے آؤ نہ لَا، لَا یَخْرُجُ زَیْدٌ۔ تو وہ حال والا ترجمہ بھی ہو سکتا ہے اور استقبال۔ لَا یَخْرُجُ زَیْدٌ، زید نہیں نکل رہا، یا زید نہیں نکلے گا، دونوں ترجمے ہو سکتے ہیں۔ لَا یَضْرِبُ زَیْدٌ، دونوں ترجمے ہو سکتے ہیں، کیا معنی؟ زید پٹائی نہیں کر رہا، یا زید پٹائی نہیں کرے گا۔ لیکن لَنْ ناصبہ جب فعل مضارع پر داخل ہو، تو وہ اس کو استقبال کے ساتھ خاص کر دیتا ہے۔ اب حال والا ترجمہ نہیں کر سکتے۔ لَنْ یَّضْرِبَ، کیا ترجمہ؟ استقبال کے ساتھ، پٹائی نہیں کرے گا، استقبال۔ اب حال والا ترجمہ نہیں، پٹائی نہیں کر رہا، یہ ترجمہ آپ نہیں کر سکتے۔ بلکہ کون سا معنی کریں گے؟ استقبال۔ اور نیز عام نفی نہیں ہے، تاکید ہے، زور ہے اس کے اندر۔ زور ہے، تو یوں ترجمہ کریں گے، لَنْ یَّضْرِبَ زَیْدٌ، زید ہرگز پٹائی نہیں کرے گا۔ یا لَنْ یَّخْرُجَ زَیْدٌ، زید ہرگز نہیں نکلے گا۔ تاکید اور غیر تاکید سمجھ گئے؟ بھئی بعض اوقات ایک کلام کیا جاتا ہے، ایک بات کہی جاتی ہے، اور پھر اسی میں زور پیدا کیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک آدمی دوسرے سے کہتا ہے، دوسرے آدمی سے کہتا ہے، مت بیٹھو۔ بعض اوقات وہ ایک ہی لفظ بولتا ہے، مت بیٹھو۔ اور بعض اوقات کہتا ہے، مت بیٹھو، مت بیٹھو۔ کس میں زور زیادہ؟ دو دفعہ میں، جب دو دفعہ کہیں تو اس میں زور زیادہ ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، لَنْ یَّخْرُجَ زَیْدٌ، اب اس میں زور ہے، تاکید ہے۔ صرف یہ نہیں ہے کہ زید نہیں نکلے گا، بلکہ ترجمہ کیا کریں گے؟ زید ہرگز نہیں نکلے گا۔ کہتے ہیں چوں لَنْ یَّخْرُجَ زَیْدٌ، وَ لَنْ بَرَائے تَاْکِیدِ نَفِی اَسْتْ۔ کہتے ہیں یہ لَنْ ناصبہ جو ہے، یہ نفی کی تاکید کے لیے آتا ہے۔ ایک تو نفی پیدا کر دے گا اور دوسری تاکید۔ تاکید پیدا کر دے گا، اور ایک تیسری بات بھی میں نے بتلا دی کہ یہ اس فعل مضارع کو کس زمانے کے ساتھ خاص کر دے گا؟ استقبال کے ساتھ، اب حال والا ترجمہ نہیں کر سکتے۔ سِوُم کَیْ، تیسرا جو مضارع کو نصب دیتا ہے وہ حرف ہے کَیْ بھئی، کَیْ۔ چوں اَسْلَمْتُ کَیْ اَدْخُلَ الْجَنَّۃَ۔ اَسْلَمْتُ کَیْ، اَسْلَمْتُ، میں اسلام لایا۔ کوئی شخص مثلاً کہتا ہے، اَسْلَمْتُ، میں اسلام لایا، یا یوں کہیں، میں مسلمان ہوا کَیْ اَدْخُلَ الْجَنَّۃَ، تاکہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ تو دیکھو کَیْ نے اَدْخُلُ، اَدْخُلُ، اس پر رفع تھا۔ کَیْ آیا اس نے کیا دے دیا؟ نصب، کَیْ اَدْخُلَ الْجَنَّۃَ۔ تو چوں اَسْلَمْتُ کَیْ اَدْخُلَ الْجَنَّۃَ، میں اسلام لایا تاکہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ اس میں یاد رکھیں، ماقبل سبب ہوتا ہے ثانی کے لیے۔ ماقبل سبب ہوتا ہے کس کے لیے؟ ثانی کے لیے۔ ماقبل کون ہے؟ اَسْلَمْتُ۔ اور ثانی کیا ہے؟ دخولِ جنت، جنت میں داخل ہونے کا ذکر۔ اول میں اسلام لانے کا ذکر، ثانی میں دخولِ جنت۔ اور اسلام کا لانا یہ سبب ہے کس کے لیے؟ جنت میں داخل ہونے کے لیے۔ کوئی مسلمان ہوگا تو جنت میں جائے گا، مسلمان نہیں تو جنت میں بھی نہیں جائے گا۔ اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے بھئی۔ آمین! تو چوں اَسْلَمْتُ کَیْ اَدْخُلَ الْجَنَّۃَ، میں اسلام لایا تاکہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ تو دیکھو اَسْلَمْتُ، یہ ہے ماقبل، اور یہ سبب ہے کس کے لیے؟ دخولِ جنت کے لیے۔ تو یہ جو کَیْ ہے نا، یہ علت اور وجہ ذکر کرتا ہے۔ کَیْ کے ذریعے علت اور وجہ ذکر کی جاتی ہے۔ کَیْ کے ذریعے علت اور وجہ، اسلام لانے کی کیا وجہ ذکر کی؟ تاکہ جنت میں داخل ہو جاؤں بھئی۔ چَہَارُم، چوتھا لفظ جو ہے جو فعل مضارع کو نصب دیتا ہے وہ ہے اِذَنْ بھئی، اِذَنْ۔ چوں اِذَنْ اُکْرِمَکَ۔ دیکھو اُکْرِمُ، کون سا صیغہ ہے؟ واحد متکلم۔ اس پر اِذَنْ آیا، اِذَنْ اُکْرِمَکَ، اس نے نصب دے دیا۔ اُکْرِمُ کے میم پر اب آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ نصب، اِذَنْ اُکْرِمَکَ۔ اور یاد رکھو یہ جواب میں آتا ہے۔ یہ اِذَنْ کسی بات کے جواب میں۔ مثلاً کسی نے آپ سے کہا، اَنَا اٰتِیکَ غَدًا۔ اَنَا، اَنَا میں، اٰتِیکَ، میں آپ کے پاس آؤں گا، غَدًا، کل۔ غَدًا آنے والا جو کل ہے۔ اَنَا اٰتِیکَ غَدًا، کسی نے آپ سے کہا میں کل آپ کے پاس آؤں گا، تو آپ نے جواب میں کہا، اِذَنْ اُکْرِمَکَ، تو پھر میں آپ کا اکرام کروں گا۔ تو پھر میں آپ کا، تو دیکھو اِذَنْ جواب میں آیا۔ اس نے کیا کہا تھا؟ میں کل آپ کے پاس، میں کل میں آپ کے پاس آؤں گا، تو اِذَنْ کس، اِذَنْ جو ہے اس کو حرفِ جواب کہتے ہیں، یہ جواب میں آتا ہے۔ اور یہ فعل مضارع کو نصب دیتا ہے۔ تو کہتے ہیں چہارم اِذَنْ، چوں اِذَنْ اُکْرِمَکَ، پھر میں آپ کا اکرام کروں گا۔ دَر جَوَابِ کَسِے کَہ گُوئَدْ، دَر جَوَابِ کَسِے کَہ، کسے کوئی شخص، کوئی شخص۔ اور اس کے ساتھ کہ جڑ گیا، کَسِے کَہ۔ دَر جَوَابِ کَسِے کَہ گُوئَدْ، کسی شخص کے جواب میں جو کہتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہ چوں اِذَنْ اُکْرِمَکَ، جیسے اِذَنْ اُکْرِمَکَ۔ دَر جَوَابِ کَسِے کَہ گُوئَدْ، کسی شخص کے جواب میں جو کہتا ہے، اَنَا اٰتِیکَ غَدًا، کل میں آپ کے پاس آؤں گا۔ ایک شخص جو کہتا ہے کل میں آپ کے پاس آؤں گا، اس کے جواب میں کہنا اِذَنْ اُکْرِمَکَ، پھر میں آپ کا اکرام کروں گا یعنی عزت کروں گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ فعل مضارع کو نصب دینے والے کتنے حروف ہیں؟ چار۔ اَنْ اور لَنْ اور کَیْ اور اِذَنْ، یہ چار ہیں بھئی، چار۔ وَ بَدَانْ کَہ اَنْ بَعْدَ اَزْ شَشْ حُرُوفْ مُقَدَّرْ بَاشَدْ، اور تو جان لے کہ اَنْ جو ہے وہ چھ حروف کے بعد مقدر ہوگا۔ بھئی یہ تو تھا اَنْ لفظوں میں۔ اَنْ لفظوں میں تھا، اُرِیدُ اَنْ تَقُومَ، دیکھو اَنْ لفظوں میں ہے، باقاعدہ آپ اس پر کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ۔ اور یاد رکھو بعض جگہ اَنْ مقدر ہوتا ہے، لفظوں میں آپ کو دکھائی نہیں دے گا، لیکن وہاں فرض کر لو اَنْ موجود ہے، اور اس کے بعد نصب پڑھنا ہے۔ چھ جگہوں کے بعد کیا کر لو؟ فرض کر لو اَنْ موجود ہے۔ تو یہ وہی اَنْ ہے جو پہلے ذکر ہو چکا۔ اَنْ فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس کو کس معنی میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے۔ تو یہ ہی وہی اَنْ ہے، لیکن وہ لفظوں میں تھا اور یہ مقدر ہوتا ہے، یعنی فرض کرنا پڑتا ہے، اس لیے اس کو علیحدہ ذکر کر رہے ہیں۔ ورنہ یہ وہی اَنْ ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں وَ بَدَانْ کَہ اَنْ بَعْدَ اَزْ شَشْ حُرُوفْ مُقَدَّرْ بَاشَدْ، اور تو جان لے کہ اَنْ جو ہے چھ حروف کے بعد مقدر ہوگا۔ وَ فِعْلِ مُضَارِعْ رَا بَنَصَبْ کُنَدْ، اور فعل مضارع کو نصب دے گا۔ اَنْ چھ حروف کے بعد مقدر ہوگا۔ آپ فرض کر لینا وہاں اَنْ موجود ہے۔ اور پھر یہ کیا کرے گا؟ فعل مضارع کو نصب دے گا۔ وہاں آپ نے نصب پڑھنا ہے۔ اگر نصب نہیں پڑھیں گے تو آپ عربی زبان کے اعتبار سے غلطی کر رہے ہیں۔ ہم نے عربوں سے سنا ہے، چھ حروف کے بعد فعل مضارع پر نصب پڑھتے ہیں۔ حالانکہ وہاں اَنْ نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ نصب دینے والا کوئی بھی حرف نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا یہاں کیا مقدر ہے؟ ماننا پڑے گا۔ بھئی دیکھو! کچھ جگہیں ہیں وہاں پر ہم نے عربوں سے سنا ہے وہ فعل مضارع پر نصب پڑھتے ہیں۔ اور کچھ جگہیں ایسی ہیں وہاں پر فعل مضارع پر وہ جزم پڑھتے ہیں۔ اور نصب اور جزم، یہ فعل مضارع پر خود بخود آتے ہیں یا عامل چاہیے؟ عامل چاہیے۔ اور جزم دینے والا عامل جب جہاں جزم پڑھتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں بعض جگہ ہیں وہاں جزم دینے والا کوئی عامل نہیں، لیکن عرب پھر بھی کیا پڑھ رہے ہیں؟ جزم۔ معلوم ہوا وہاں جزم کا کوئی عامل مقدر ماننا پڑے گا۔ اور بعض جگہ عرب نصب پڑھتے ہیں اور وہاں نصب دینے والا کوئی عامل نہیں، تو پھر وہاں پر ہمیں عاملِ ناصب کو مقدر ماننا پڑے گا۔ اور وہ کون سا ہے؟ یہ اَنْ ہے بھئی۔ کیونکہ اس کے ذریعے پھر وہ ترجمہ ٹھیک ہو جاتا ہے، باقیوں کے ساتھ وہاں ترجمہ ٹھیک نہیں ہوتا، تو اَنْ مقدر وہاں مانتے ہیں۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اَنْ کو مقدر کیوں مانتے ہیں؟ کیونکہ عربوں سے ہم نے وہاں کیا سنا ہے ایسی جگہوں پر؟ نصب پڑھتے ہیں۔ اور نصب خود آتا ہے یا اس کے لیے کوئی عامل چاہیے؟ اور عامل وہاں کوئی بھی نہیں ہوتا، تو ہمیں کیا کرنا پڑتا ہے؟ اَنْ کو مقدر ماننا پڑتا ہے۔ بھئی اَنْ ہی کو کیوں مقدر مانتے ہو؟ کسی اور کو کیوں نہیں مانتے؟ چار نصب دینے والے گزر گئے، اَنْ اور لَنْ اور کَیْ اور اِذَنْ۔ بھئی اَنْ ہی کے ساتھ معنی ٹھیک بنتا ہے۔ کسی اور کے ساتھ وہاں معنی ٹھیک نہیں بنتا۔ تو کہتے ہیں: "وَاعْلَمْ أَنَّ 'أَنْ' بَعْدَ هذِهِ السِّتَّةِ حُرُوفٍ مُقَدَّرَةٌ بَاشَدْ"، جان لے تو کہ "أن" جو ہے، وہ چھ حروف کے بعد مقدر ہوگا، "وَ فِعْلِ مُضَارِعْ رَا بَه نَصَبْ كُنَدْ"، اور فعل مضارع کو نصب دے گا—حَتَّى، یعنی حَتَّى کے بعد۔ نحو: مَرَرْتُ حَتَّى أَدْخُلَ الْبَلَدَ۔ أَدْخُلُ نہیں، أَدْخُلَ۔ آپ سے اگر کوئی پوچھے: یہ أَدْخُلَ آپ نے کیوں پڑھا؟ نصب کس نے دیا؟ آپ کیا کہیں گے؟ حَتَّى کے بعد یہاں "أن" مقدر ہے۔ حَتَّى کے بعد "أن" مقدر ہے۔ ترجمہ سنو، بھئی! مَرَرْتُ، میں گزرا یا میں چلا، حَتَّى أَدْخُلَ الْبَلَدَ، یہاں تک کہ میں شہر میں داخل ہوں گا۔ میں چلوں گا، یہاں تک کہ میں شہر میں داخل ہوں گا۔ البتہ اس میں ایک شرط ہے، بھئی! ایک شرط۔ ایک حَتَّى سے ماقبل ہے، ایک حَتَّى کے مابعد ہے۔ تو حَتَّى کا ماقبل اور مابعد، ان کا زمانہ ایک نہیں ہونا چاہیے۔ جو ماقبل ہے، اس کا زمانہ پہلے ہونا چاہیے اور جو مابعد ہے، حَتَّى کے بعد ہے، اس کا زمانہ بعد میں ہونا چاہیے۔ دونوں کا زمانہ ایک نہیں ہونا چاہیے۔ جو حَتَّى سے پہلے ہے، اس کا زمانہ پہلے ہو اور بعد والے کا بعد میں۔ اب آپ مجھے بتائیے، ایک ہے چلنا اور ایک ہے شہر میں داخل ہونا، تو دونوں کا زمانہ ایک ہے یا الگ الگ؟ الگ! پہلے چلے گا، جائے گا، تو پھر ہی کیا ہوگا، شہر میں داخل ہوگا۔ تو نحو: مَرَرْتُ حَتَّى أَدْخُلَ الْبَلَدَ، میں چلوں گا، یہاں تک کہ میں شہر میں داخل ہو جاؤں۔ تو حَتَّى کے بعد "أن" مقدر ہوتا ہے۔ وَ لاَمُ الْجَحْدِ، اور لامِ جحد کے بعد۔ نحو: مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ، اور اللہ نہیں ہے کہ ان کو عذاب دے—یعنی اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے۔ یہ ہے لامِ جحد۔ لامِ جحد، یہ لِيُعَذِّبَ اس پر جو لام آیا، یہ کیا ہے؟ لامِ جحد۔ اور لامِ جحد کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھنا، لامِ جحد وہ ہے جو کانَ منفی کی خبر پر داخل ہو۔ یہاں کانَ آیا؟ کانَ آیا۔ اور منفی ہے، مثبت ہے؟ منفی ہے—مَا كَانَ، اس پر نفی داخل ہو رہی ہے۔ اور کانَ افعالِ ناقصہ میں سے ہے، یہ ایک اسم چاہتا ہے اور ایک خبر۔ تو "مَا كَانَ اللَّهُ"، لفظِ اللہ کیا ہوا اس کا اسم، اور "لِيُعَذِّبَهُمْ" یہ کیا ہے اس کی خبر۔ اور کانَ کی خبر پر لام آ گیا، تو اس کو کہتے ہیں لامِ جحد۔ جحد کا معنی ہوتا ہے انکار، انکار، نفی۔ پھر دہرائیں! لامِ جحد کسے کہتے ہیں؟ جو کانَ منفی کی خبر پر داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد "أن" مقدر ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر دہرائیں! لامِ جحد کسے کہتے ہیں؟ جو کانَ منفی کی خبر پر داخل ہوتا ہے، اور اس کے بعد "أن" مقدر ہوتا ہے۔ تو دیکھو، یہ نصب دے رہا ہے، وہ "أن" مقدر۔ جیسے: مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ، اور اللہ نہیں ہے کہ ان کو عذاب دے، یا یوں کہیں، اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے۔ وَ "أَوْ" بِمَعْنَى "إِلَى أَنْ" يَا "إِلاَّ أَنْ"، اور اسی طرح وہ "أَوْ" جو إِلَى أَنْ یا إِلاَّ أَنْ کے معنی میں ہو، جیسے: لأَلْزَمَنَّكَ أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي۔ وَ "أَوْ" بِمَعْنَى "إِلَى أَنْ" يَا "إِلاَّ أَنْ" نحو: لأَلْزَمَنَّكَ أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي۔ اور اسی طرح وہ "أَوْ" جو إِلَى أَنْ یا إِلاَّ أَنْ کے معنی میں ہو، اس کے بعد بھی "أن" مقدر ہوتا ہے۔ "أن" کتنی چیزوں کے بعد مقدر ہوتا ہے، انہوں نے کیا بتلایا؟ چھ چیزوں کے بعد۔ ان چھ میں سے نمبر ایک: حَتَّى۔ حَتَّى کے بعد "أن" مقدر ہوگا، اور اس میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ حَتَّى کا ماقبل اور مابعد دونوں کا زمانہ ایک نہ ہو، مابعد کی طرف نسبت کرتے ہوئے ماقبل کیا ہو؟ پہلے ہو۔ ماقبل پہلے ہو۔ اور دوسرا: لامِ جحد، اس کے بعد بھی "أن" مقدر ہوگا۔ لامِ جحد کسے کہتے ہیں؟ وہ لام جو کانَ منفی کی خبر پر داخل ہوتا ہے۔ اور یاد رکھو، یہ صرف کلام میں تاکید پیدا کرتا ہے، یعنی زور پیدا کرتا ہے۔ ایک، جیسے میں نے مثال دے دی، ایک آدمی دوسرے سے کہتا ہے: "مت بیٹھو"، اور ایک کہتا ہے: "مت بیٹھو، مت بیٹھو"۔ دیکھو، کس میں زور زیادہ ہے؟ دو مرتبہ میں جو کہے، اس میں زور زیادہ۔ تو جیسے دو دفعہ کہنے سے کلام میں زور بڑھ گیا، اسی طرح بعض حروف بڑھانے سے بھی کلام میں زور بڑھ جاتا ہے۔ تو یہاں بھی یہ لام، لامِ جحد کیا کر رہا ہے؟ کلام کے اندر زور پیدا کر رہا ہے، تاکید پیدا کر رہا ہے۔ اور اس کو اگر کلام سے نکال بھی دیا جائے، کلام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہاں، زور اس کے اندر کم ہو جائے گا۔ اور یہ خود جب موجود ہے تو کلام میں زور زیادہ ہے۔ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ، اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے۔ اور چوتھی جگہ: "أَوْ" آ گئی۔ یہ "أَوْ" جو ہے، کبھی کبھار یہ إِلَى أَنْ یا إِلاَّ أَنْ کے معنی میں ہوتا ہے۔ تو اس صورت میں بھی یہاں دیکھو، "أن" مقدر ہے۔ "أَوْ" کس معنی میں ہے؟ إِلَى أَنْ۔ دیکھا! "أن" مقدر ساتھ نکال لیا۔ یا کبھی کس معنی میں ہے؟ إِلاَّ أَنْ۔ جیسے، مثال سے بات سمجھ میں آئے گی: لأَلْزَمَنَّكَ أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي۔ لأَلْزَمَنَّكَ، یہ لام بھی تاکید کے لیے ہے۔ لأَلْزَمَنَّكَ، دیکھو، لام بھی تاکید کے لیے اور نونِ ثقیلہ بھی ساتھ آ رہا ہے۔ لَأَضْرِبَنَّ، پڑھا یا نہیں مثالیں؟ آپ نے گردانوں میں پڑھا ہوگا۔ تو لأَلْزَمَنَّكَ، یہ نون تاکید کے لیے آیا اور شروع میں لام تاکید کے لیے ہے۔ لأَلْزَمَنَّكَ، میں آپ کے ساتھ لازم رہوں گا۔ لأَلْزَمَنَّكَ، میں آپ کے ساتھ لازم رہوں گا—کیا معنی؟ یعنی میں آپ کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔ میں آپ کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔ أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي، اس کو إِلَى أَنْ کے معنی میں کر دو، یہاں تک کہ تُعْطِيَنِي، آپ دے دیں مجھے، حَقِّي، میرا حق۔ میں آپ کا ساتھ لازم رہوں گا، یہاں تک کہ آپ مجھے میرا حق دے دیں، میرا حق ادا کر دیں۔ مثلاً کسی شخص نے دوسرے کا قرض دینا ہے اور وہ ٹال مٹول کرتا ہے، ادا نہیں کرتا، اور یہ اس کی کوشش کر رہا ہے لیکن ادا نہیں کر رہا، تو آخر تنگ آ کر وہ کہتا ہے کہ لأَلْزَمَنَّكَ أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي، میں آپ کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا، یہاں تک کہ آپ مجھے میرا حق ادا کر دیں۔ میں آپ کے پیچھے پڑا رہوں گا، آپ کو چھوڑوں گا نہیں جب تک آپ مجھے میرا حق نہ ادا کریں۔ تو لأَلْزَمَنَّكَ، میں ضرور بالضرور آپ کے ساتھ لازم رہوں گا، یعنی آپ کے پیچھے پڑا رہوں گا، أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي، یا آپ کیا کر دیں، میرا حق مجھے دے دیں، یا یوں کہو، یہاں تک کہ آپ مجھے میرا حق دے دیں۔ جب میرا حق دے دیں گے، تو پھر میں آپ کا پیچھا چھوڑ دوں گا۔ تو یاد رکھو بھئی، لوگ بعض، آج کل تو ایسا زمانہ ہے، کوئی کسی سے قرض لیتا ہے، بھول جاتا ہے۔ کسی کے، دوسرے کے ذمے پیسے ہوں، وہ ادا ہی نہیں کرتا۔ حالانکہ اتنی خوفناک چیز ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کی نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے تشریف لاتے، تو پوچھتے تھے کہ اس پر کوئی قرض تو نہیں؟ اگر کوئی بتلاتا قرض ہے، تو حضور پیچھے ہٹ جاتے اور فرماتے کہ تم جنازہ پڑھ لو۔ جنازہ ہی اس کا نہیں پڑھاتے تھے۔ حالانکہ وہ صحابہ تھے بھئی، نیک نیت تھے بھئی، اور ان کا ارادہ بھی تھا قرض ادا کرنے کا، لیکن اس سے پہلے ہی، ادائیگی سے پہلے ہی موت آ گئی۔ لیکن حضور نمازِ جنازہ ہی ادا نہیں فرماتے تھے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو، اور حالانکہ ان کا تو ارادہ تھا، اور آج کل کے تو لوگ، ان کا تو ارادہ ہی نہیں ہوتا ادائیگی کرنے کا۔ یعنی اتنی، اتنی خوفناک چیز ہے کہ دیکھو، حضور علیہ السلام جنازہ پڑھانے سے پیچھے ہٹ جاتے تھے۔ پھر صحابہ میں سے کوئی عرض کرتا: یا رسول اللہ! میں اس کا سارا قرض ادا کر دوں گا۔ تو پھر حضور آگے ہو جاتے اور جنازہ پڑھا دیتے تھے۔ تو کسی کا کوئی حق آپ کے ذمے نہیں ہونا چاہیے۔ کسی کو یاد ہو یا نہ یاد ہو، اس کا حق اس کو ادا کر دیں، ورنہ آخرت میں بہت عظیم مؤاخذہ ہوگا بھئی، بہت عظیم مؤاخذہ ہوگا۔ تو کسی کا کوئی حق اپنے ذمے نہ رہنے دیں بھئی۔ اور کسی کا حق آپ کے ذمے ہو، اس کو پہنچا دیں، اور اس، پھر اس کو اس پر، اس میں بتانا بھی ضروری نہیں کہ یہ آپ کے، میرے ذمے پیسے کسی زمانے میں رہتے تھے، وہ میں آپ کو ادا کر رہا ہوں۔ نہیں، ہو سکتا ہے وہ بھول گیا ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور دینے والے کو شرم آ رہی ہے کہ اب میں جا کر کہوں گا کہ میں نے آپ کے پیسے دینے تھے یا آپ کے میں نے پیسے کھائے تھے، بس کسی بہانے سے اس کو پہنچا دو، اس کو دے دو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کسی بہانے سے کہ بس یہ میری طرف سے آپ یہ پیسے رکھیں، دل میں نیت وہی ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں؟ وہ قرض ادا کر رہا ہوں۔ تو کہتے ہیں: لأَلْزَمَنَّكَ أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي، میں آپ کے پیچھے پڑا رہوں گا، یہاں تک کہ آپ مجھے میرا حق دے دیں۔ تو دیکھو، یہ "أَوْ" کے بعد تُعْطِيَ، یہ فعلِ مضارع پر میں نصب پڑھ رہا ہوں۔ تو یہ "أَوْ" کے بعد کیا ہے؟ "أن" مقدر ہے۔ اور کیوں؟ ہر "أَوْ" کے بعد يا وہ "أَوْ" جو إِلاَّ أَنْ یا إِلَى أَنْ کے معنی میں ہو؟ دیکھو، یہاں إِلَى أَنْ کے معنی میں ہے: میں آپ کے پیچھے پڑا رہوں گا، إِلَى أَنْ تُعْطِيَنِي، یہاں تک کہ آپ مجھے کیا کر دیں، میرا حق دے دیں، یا إِلاَّ أَنْ تُعْطِيَنِي حَقِّي، مگر یہ کہ آپ مجھے میرا حق دے دیں۔ ایک "أَوْ" ویسے آتا ہے عبارت میں، ہر "أَوْ" کے بعد "أن" مقدر نہیں ہوگا، بلکہ یہ جب إِلَى أَنْ یا إِلاَّ أَنْ کے معنی میں ہو۔ میں آپ کے پیچھے پڑا رہوں گا، اور میرا یہ پیچھے پڑنا کب ختم ہوگا؟ جب آپ مجھے میرا حق دے دیں گے۔ تو دیکھو، ماقبل میں جو چیز ذکر کی، اس کی انتہا کس پر ہوگی؟ مابعد کے وجود پر۔ میں آپ کا پیچھا کروں گا، میرا پیچھا کرنا کب ختم ہوگا؟ جب آپ میرا حق دے دیں گے۔ تو جب میرا حق دے دیں گے، تو پیچھا کرنے کی انتہا ہو جائے گی۔ تو یہاں دیکھو، إِلَى أَنْ، یہاں تک کہ، یا إِلاَّ أَنْ، مگر یہ کہ—اس کے ساتھ ترجمہ کریں گے۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ لأَلْزَمَنَّكَ أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي، میں ضرور بالضرور آپ کے ساتھ لازم رہوں گا، یعنی میں آپ کا پیچھا کرتا رہوں گا، إِلَى أَنْ تُعْطِيَنِي حَقِّي، یہاں تک کہ آپ مجھے میرا حق دے دیں۔ تو "أَوْ" کس معنی میں ہے؟ إِلَى أَنْ۔ یا إِلاَّ أَنْ: میں ضرور بالضرور آپ کے پیچھے پڑا رہوں گا، إِلاَّ أَنْ تُعْطِيَنِي حَقِّي، مگر یہ کہ آپ مجھے میرا حق دے دیں۔ تو إِلَى أَنْ یا إِلاَّ أَنْ، دونوں میں سے ایک۔ دراصل یہ اختلاف ہے۔ عام جمہور نحوی—جمہور کا معنی اکثر، اکثر—اکثر نحوی، جو بڑے ائمہ گزرے ہیں، ان کے نزدیک یہ "أَوْ" إِلَى أَنْ کے معنی میں ہے۔ یہ "أَوْ" إِلَى أَنْ کے معنی میں ہے، جبکہ امام سیبویہ—یہ نحو کے بہت بڑے امام گزرے ہیں—ان کے نزدیک یہ "أَوْ" إِلاَّ أَنْ کے معنی میں ہے۔ تو عام نحویوں کے نزدیک یہ "أَوْ" کس معنی میں ہے؟ إِلَى أَنْ۔ اور امام سیبویہ کے نزدیک؟ إِلاَّ أَنْ کے معنی میں ہے۔ تو عام نحویوں کی بات کو بھی ذکر کر دیا، اور امام سیبویہ، ان کی بات نحو کے اندر پہاڑ کی طرح مضبوط ہوتی ہے، تو ان کے قول کو بھی ذکر کر دیا کہ وہ "أَوْ" جو إِلَى أَنْ یا إِلاَّ أَنْ کے معنی میں ہو، تو وہاں پر "أن" مقدر ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وَ "أَوْ" بِمَعْنَى "إِلَى أَنْ" يَا "إِلاَّ أَنْ" نحو: لأَلْزَمَنَّكَ أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي، کہ میں ضرور آپ کے ساتھ لازم رہوں گا یا یہ کہ آپ مجھے میرا حق دے دیں۔ وَ وَاوُ الصَّرْفِ—چلیے، بس کریں بھئی! یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ آج آپ نے پڑھا وہ حروف جو فعلِ مضارع کے اندر عمل کرتے ہیں۔ وہ دو قسم پر ہیں: کچھ نصب دیتے ہیں اور کچھ جزم۔ سب سے پہلے نصب جو دیتے ہیں، ان کا بیان شروع کیا کہ نصب جو ہے، وہ چار حروف دیتے ہیں۔ ایک "أن" ہے، ایک "لن" ہے، ایک "کَی" ہے، اور ایک "إِذَنْ" ہے۔ "أن" جو ہے، اس کو "أن" مصدریہ بھی کہتے ہیں۔ یہ فعلِ مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس کو کس معنی میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے۔ اور میں نے طریقہ بھی بتلا دیا کہ مصدر کے معنی میں کیسے کریں گے؟ کہ اس فعل کا مصدر نکال لیں گے، اور پھر اس کی اضافت کر دیں گے، کس کی طرف؟ فاعل کی طرف، فاعل کی طرف اس کی اضافت کر دیں گے، اور پھر ضمیر کون سی لے آئیں گے اضافت کے وقت؟ مجرور متصل ضمیر لے آئیں گے۔ تو اس کو "أن" مصدریہ کہتے ہیں۔ دوسرا "لن" ناصبہ ہے، یہ فعلِ مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس کے اندر نفی پیدا کر دیتا ہے، اور نفی بھی کون سی؟ تاکید والی، اور نیز فعلِ مضارع کو کس کے ساتھ خاص کرتا ہے؟ مستقبل کے ساتھ۔ تیسرا ہے "کَی"۔ "کَی" جو ہے، سبب بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ "کَی" یہ بتلاتا ہے کہ ماقبل جو ہے، وہ ماقبل کا سبب جو ہے، مابعد ذکر ہو رہا ہے۔ أَسْلَمْتُ كَيْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ، میں اسلام لایا تاکہ میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ تو اسلام لانا، یہ سبب ہے کس کے لیے؟ دخولِ جنت کے لیے۔ چوتھا جو ہے، "إِذَنْ" ہے، جیسے: إِذَنْ أُكْرِمَكَ۔ کسی نے آپ سے کہا: أَنَا آتِيكَ غَدًا، میں آپ کے پاس کل آؤں گا، تو آپ جواب میں کیا کہتے ہیں: إِذَنْ أُكْرِمَكَ۔ تو دیکھو، یہ جواب میں "إِذَنْ" لے کر آتے ہیں، کسی کی بات کے جواب میں، تو اس لیے اس کو حرفِ جواب کہتے ہیں، اور یہ مضارع کو نصب دیتا ہے۔ اور پھر بتلایا تھا کہ یہ حرفِ "أن" جو ہے، چھ حروف کے بعد مقدر ہوتا ہے۔ اور چھ میں سے نمبر ایک کیا ہے؟ حَتَّى۔ حَتَّى کے بعد مقدر ہوگا، لیکن اس میں کیا ضروری؟ حَتَّى کے ماقبل اور مابعد کا زمانہ الگ الگ ہو۔ مابعد کی طرف دیکھتے ہوئے ماقبل کیا ہو؟ پہلے ہو۔ ماقبل جو ہے، جو پہلے ہے وہ پہلے ہو اور جو بعد میں ہے وہ بعد میں ہو۔ اور دوسرا ہے لامِ جحد، اس کے بعد بھی "أن" مقدر ہوگا۔ لامِ جحد کسے کہتے ہیں؟ وہ لام جو کانَ منفی کی خبر پر داخل ہو، اور یہ کیا، یہ اس نفی میں تاکید پیدا کرتا ہے، زور پیدا کر دیتا ہے، اور اس کے بعد "أن" مقدر ہوتا ہے۔ اور چوتھا: وہ "أَوْ" جو إِلَى أَنْ یا إِلاَّ أَنْ کے معنی میں ہو۔ إِلاَّ أَنْ، یہ کس کے نزدیک ہے اس کا معنی؟ جمہور نحویوں کے نزدیک، اور إِلاَّ أَنْ، یہ اس کا معنی کون بیان کرتے ہیں؟ امام سیبویہ۔ جیسے: لأَلْزَمَنَّكَ أَوْ تُعْطِيَنِي حَقِّي، میں آپ کے ساتھ ضرور لازم رہوں گا، یہاں تک کہ آپ مجھے میرا حق دے دیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔