دیکھیے بھئی کتاب پر ہفتم مثنی چو رجلانی ہشتم کلا و کلتا مضاف و مزمّر نہم اثنانی و اثنتانی رفعشاں بالف باشد و نصب و جر بای ما قبل مفتوح چون جاء رجلانی و کلاہما و اثنانی و رایت رجلین و کلیہما و اثنین و مررت برجلین و کلیہما و اثنین اچھا بھئی اعراب کے اعتبار سے ہم معرب کی قسمیں پڑھ رہے تھے مصنف نے آپ کو بتلایا کہ اعراب کے اعتبار سے اسم اسم متمکن جو ہے وہ سولہ قسم پر ہے اور ان سولہ قسموں کا اعراب جو ہے وہ تین قسم پر ہے یا رفع ہوگا یا نصب ہوگا یا جر ہوگا اور ان سولہ قسموں میں سے پہلی قسم کیا پڑھی آپ نے کیا نام تھا اس کا جی دہرائیں سارے جی نمبر ایک مفرد منصرف صحیح جیسے زید دوسری قسم مفرد منصرف جاری مجرائے صحیح جیسے دلو نمبر تین جمع مکسر منصرف جیسے رجال ان سب کا رفع ضمہ کے ساتھ تھا نصب فتح کے ساتھ اور جر کسرہ کے ساتھ چوتھی قسم جمع مؤنث سالم اور جیسے مسلمات اس کا رفع ضمہ کے ساتھ اور نصب اور جر کسرہ کے ساتھ پانچویں قسم غیر منصرف بھئی غیر منصرف کسے کہتے ہیں جس میں منع صرف کے دو اسباب پائے جائیں یا کوئی ایسا ایک سبب پایا جائے جو دو کے قائم مقام ہو اور اسباب منع صرف کل کتنے ہیں نو نو ہیں نمبر ایک عدل وصف تانیث معرفہ عجمہ جمع ترکیب وزن فعل اور الف نون زائدتان اور ان میں سے کون کتنے سبب ہیں جو دو سببوں کے قائم مقام ہیں تین نمبر ایک تانیث و الف مقصورہ نمبر دو تانیث و الف ممدودہ اور نمبر تین جمع منتہی الجمع بھئی جمع منتہی الجمع اور میں نے تفصیل بھی بیان کی تھی کہ یہ جو نو اسباب ہیں عدل کا کیا معنی ہے پھیرنا یعنی بدلنا صیغے کو ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف پھیر دینا بغیر کسی قانون کے جیسے کہ عمر اس کو کس سے پھیرا گیا ہے عامر سے دوسرا دوسرا ہے وصف وصف کا کیا معنی جو صفت ہو نمبر تین تانیث اور تانیث کی کتنی علامتیں ہیں چار نمبر ایک گولتا نمبر دو الف مقصورہ نمبر تین الف ممدودہ اور نمبر چار تائے مقدرہ بھئی تائے مقدرہ اور اسی کو مؤنث سماعی بھی کہتے ہیں اگلا سبب کیا ہے معرفہ معرفہ میں سے معرفہ کی تو سات قسمیں ہیں کون کون سی قسم سبب بنے گی صرف علم بنے گا اور باقی سبب نہیں بنیں گے باقی سبب نہیں بنیں گے اور اگلا عجمہ ہے عجمہ کا کیا معنی ہاں ہاں وہ تو میں نے آپ کو تفصیل بیان کی تھی جو غیر عرب عجمہ کا کیا معنی غیر عربی لفظ ہو دوسری زبان سے عربی زبان میں آیا ہو اور اگلا سبب کیا ہے جمع جمع سبب بنے گا جمع سے کیا مراد ہے کون سا صیغہ جمع منتہی الجمع مراد ہے اور جمع منتہی الجمع کسے کہتے ہیں جہاں الف جمع کے بعد دو حرف آجائیں یا تین آجائیں اور اگر ایک حرف ہو تو وہ مشدد ہو اگلا سبب تھا ترکیب ترکیب سے کون سی ترکیب مراد ترکیب سے کون سی ترکیب مراد کون سا مرکب مراد مرکب منع صرف اس کی مثال جیسے بالبک اور مرکب منع صرف کسے کہتے ہیں آپ نے پڑھا تھا دو اسموں کو ملا کر ایک اسم بنا دیا جائے اور اس یہ غیر منصرف کی طرح اس کو پڑھا جائے گا اور اگلا سبب وزن فعل وزن فعل سے کون سا وزن مراد جو فعل کے اندر آپ نے پڑھے ہیں اگلا سبب الف نون زائدتان اس سے کیا مراد ہے وہ الف اور نون جو کسی اسم کے اخر میں آئیں اور حروف اصلی نہ ہوں زائد ہوں وہ الف نون مراد ہیں جیسے عمران کے اخر میں یا عثمان کے آخر میں ہیں بھئی اور غیر منصرف کا حکم بھی انہوں نے آپ کو بتلایا بھئی اچھا اس کا اعراب کیا ہے غیر منصرف کا رفع ضمہ کے ساتھ نصب اور جر فتحہ کے ساتھ یہاں کسرہ آئے گا نہیں آئے گا تو اس کا جر بھی جر بھی فتحہ کے ساتھ آئے گا جیسے جاء نی عمر رایت عمر اور مررت بی عمر اس کے بعد چھٹی قسم اعراب کے اعتبار سے اسم کی جو آپ نے پڑھی وہ اسماء ستہ دہرائیں بھئی اسماء ستہ مکبرہ موحدہ مضافہ الی مضاف ہاں یا یوں کہیں جو یہاں لکھا ہے جس وقت کہ یہ مضاف ہوں کس کی جانب؟ یا متکلم کے علاوہ کی طرف تو یہ ساری شرطیں ہوں تو اس وقت پھر اس کا اعراب رفع کس کے ساتھ آئے گا واؤ کے ساتھ رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ واؤ کے ساتھ نصب الف کے ساتھ اور جر یا کے ساتھ جیسے جاء نی ابو کا اور رایت ابا کا مررت بی ابی کا شاباش بھئی تو یہ اسماء ستہ مکبرہ ہیں پھر میں نے یہاں آپ کو مکبر اور مصغر کے بارے میں بھی بتلایا تھا کہ اسم جب اپنی اصلی حالت پر ہو تو اس کو اسم مکبر کہتے ہیں اور جو اس کی تصغیر ہے اس کو مصغر کہتے ہیں تصغیر بھی کہتے ہیں اور مصغر بھی اور وہ عموماً کس وزن پر آتی ہے فعیل وزن فعیل اور بھی اوزان ہیں لیکن ثلاثی میں فعیل وزن پر آتی ہے اور وہ اسماء ستہ مکبرہ کون سے ہیں نمبر ایک ابو نمبر دو اخو نمبر تین حمو نمبر چار خانو نمبر پانچ فمو اور نمبر چھ ذو مال بھئی ذو مال میں سے کیا مراد ہے صرف ذو مراد ہے تو یہ اس طرح آپ نے تکرار کرنا ہے بھئی سارے اعراب جو ہیں ساری قسمیں جو ہیں ان کا بار بار تکرار کرنا ہے آگے دیکھیے بھئی ہفتم مثنی ساتویں قسم جو ہے وہ اسم متمکن کی اعراب کے اعتبار سے وہ مثنی ہے مثنی اسی کو تثنیہ بھی کہتے ہیں اور آپ پڑھ چکے تثنیہ کسے کہتے ہیں جی جو دو پر دلالت کرے نہیں یہ تعریف تو آپ نے نہیں پڑھی دو پر تو وہ دلالت کرے گا لیکن اصل میں تثنیہ کسے کہتے ہیں جس میں ہاں جو کسی اسم کے آخر میں الف نون یا ایسی یاء جس کا ماقبل مفتوح ہو اور نون مقصورہ ملا کر بنائی جائے جیسے رجل سے کیا بنے گا رجلانی اور رجلین پھر دہرائو تثنیہ کسے کہتے ہیں کہ کسی اسم کے آخر میں الف اور نون مقصورہ ملا کر تثنیہ بنایا جاتا ہے یا پھر ایسی یاء جس کا ماقبل مفتوح ہو اور نون مقصورہ جیسے رجل سے کیا بنے گا رجلانی اور رجلین تو تثنیہ اسی کو کہیں گے جس کو اس طریقے سے بنایا جائے یعنی اس کا مفرد تھا پھر اس کے آخر میں الف نون یا یاء نون ملا دی اگر ایسا نہیں پھر چاہے وہ دو پر دلالت ہی کیوں نہ کرے اس کو تثنیہ نہیں کہیں گے بات سمجھ میں آگئی دیکھو آگے آرہا ہے کلا و کلتا کلا اور کلتا میں نے بتلایا تھا یہ بھی یہ بھی دو پر دلالت کرتے ہیں لیکن ان کو تثنیہ نہیں کہتے دیکھو اس کو الگ بیان کر رہے ہیں ہشتم کلا و کلتا اور آگے نہم جو ہے اثنانی و اثنتانی حالانکہ یہ بھی دو پر دلالت کر رہے ہیں لیکن ان کو تثنیہ نہیں کہتے ان کو علیحدہ باقاعدہ ذکر کیا تثنیہ کیوں نہیں کہتے ان کو کیونکہ تثنیہ کے لیے کیا ضروری ہے؟ کہ اس کا کوئی مفرد ہو اور مفرد کے آخر میں الف نون یا یاء نون ملائی جائے اور ان کا کوئی مفرد علیحدہ نہیں ہے بات سمجھ میں آگئی جی تو کہتے ہیں ہفتم جو ہے ساتویں قسم جو ہے مثنی تثنیہ ہے چو رجلانی جیسے رجلانی ہشتم اٹھویں قسم ہے کلا و کلتا کلا کا معنی وہ دو یعنی مذکر اور کلتا کا معنی وہ دو یعنی مؤنث بھئی اور یہ عموماً اضافت کے یہ جب ضمیر کی طرح مضاف ہوں بھئی دیکھو انہوں نے خود کہا کلا و کلتا مضاف و مزمّر کلا اور کلتا جب یہ مضاف ہوں کس کی طرف؟ ضمیر کی طرف کلاہما یا کلتاہما اگر ضمیر کی طرف مضاف نہیں ہوں گے پھر ان کا یہ اعراب نہیں ہوگا پھر ان کا یہ اعراب تو کیا ضروری ہے شرط کلا اور کلتا جب مضاف ہوں کس کی طرف؟ ضمیر کی طرف تو یہ جو جو شرطیں ساتھ ذکر کرتے ہیں وہ آپ نے یاد کرنی ہیں چھٹی قسم کل پڑھی تھی کیا پڑھا تھا اسماء ستہ مکبرہ موحدہ جبکہ وہ یاء کے علاوہ کی طرف مضاف ہوں دیکھو یہ ساری شرطیں آپ نے ساتھ یاد کرنی ہیں اگر آپ صرف اسماء ستہ کہہ دیں تو بات پوری نہیں ہے اسماء ستہ کا اعراب اور بھی اس کی صورتیں ہیں مثلاً اگر وہ یاء کی طرف مضاف ہوں یہی اسماء ستہ ہوں اور یاء کی طرف مضاف ہوں تو اعراب اور ہوگا اگر یہی اسماء ستہ ہوں لیکن ان کی تثنیہ یا جمع ہو تو ان کا اور اعراب ہوگا تو اس لیے کہا اسماء ستہ ہوں مکبرہ ہوں یعنی ان کی تصغیر بھی نہ ہو ورنہ اعراب بدل جائے گا موحدہ یعنی مفرد ہوں تثنیہ یا جمع ہو تو بھی ان کا اعراب بدل جائے گا اور جس وقت کی یہ یاء متکلم کے علاوہ کسی کی طرف مضاف ہوں اگر مضاف یاء کی طرف ہوں تو بھی اعراب بدل جائے گا یا سرے سے مضاف ہوں ہی نہ بغیر اضافت کے استعمال ہوں تو بھی اعراب بدل جائے گا بات سمجھ میں آگئی تو یہ آپ نے جب یاد کرنا ہے یہ پورا پورا نام یاد کرنا ہے یہ شرطیں ہیں اس کے اعراب کی تو ساتویں قسم کیا پڑھی مثنی جیسے رجلانی ہشتم اٹھویں قسم کیا ہے کلا و کلتا مضاف و مزمّر کلا اور کلتا جب وہ کس کی طرف مضاف ہوں؟ ضمیر کی طرف نہم نویں قسم جو ہے اثنانی و اثنتانی اثنانی اور اثنتانی دیکھو مذکر کے لیے اثنانی دو اس کا معنی ہے دو اور مؤنث کے لیے بھی اور مؤنث کے لیے کہیں گے اثنتانی اس کا معنی بھی ہے دو تو یہ بھی دیکھو دو پر دلالت کر رہے ہیں لیکن ان کو تثنیہ نہیں کہتے مثنی نہیں کہتے اس لیے ان کو علیحدہ ذکر کیا اب آپ کو وجہ سمجھ آگئی ان کو کیوں تثنیہ نہیں کہتے کلا اور کلتا بھی دو پر دلالت کر رہے ہیں لیکن ان کو تثنیہ کیوں نہیں کہتے؟ کیونکہ تثنیہ نہیں اس لفظ پر غور کرو کلا اور کلتا کو تثنیہ کیوں نہیں کہتے؟ کیونکہ تثنیہ ہاں ایک پہلی بات یہ کہ تثنیہ اس کو کہتے ہیں جس کے آخر میں الف نون آئے ان کے آخر میں تو الف نون ہی نہیں اور نیز اس کا کوئی مفرد بھی ہو اور پھر اس میں تبدیلی کی گئی ہو یہاں ایسا بھی نہیں ہے اور اثنانی اور اثنتانی کو تثنیہ کیوں نہیں کہتے؟ کیونکہ ان کا کوئی مفرد نہیں ہے جن کے آخر میں الف اور نون ملایا گیا ہو یا یاء اور نون اگر مفرد ہوتا پھر ان کو بھی کیا کہتے؟ تثنیہ کہتے بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی جی تو کہتے ہیں رفع شان باالف باشد ان کا رفع الف کے ساتھ ہوگا و نصب و جر بياء ما قبل مفتوح اور نصب و جر یاء ما قبل مفتوح کے ساتھ نصب و جر کس کے ساتھ؟ یاء ما قبل مفتوح پھر سنو ان تینوں کا اعراب اکٹھا بتا رہے ہیں تینوں قسموں کا ایک ہی اعراب ہے رفع کس کے ساتھ؟ الف کے ساتھ جیسے رجلانی الف آیا کہ نہیں آیا اس میں؟ کلاہما کلتاہما دیکھو سب میں الف آ رہا ہے اور اسی طرح اثنانی اور اثنتانی الف آ رہا ہے نون سے پہلے بھئی تو رفع شان باالف باشد ان کا رفع الف کے ساتھ ہوگا و نصب و جر بياء ما قبل مفتوح اور نصب و جر ایسی یاء کے ساتھ جس کا ماقبل مفتوح ہوگا ایسی یاء جس کا ماقبل مفتوح ہوگا جیسے رجلانی یہ کس حالت میں ہے؟ رفع حالت ہے الف ہے رفع حالت میں اور حالت نصبی و جری میں کہیں گے رجلینی رجلینی اور کلاہما اور کلتاہما یہ کون سی حالت ہے؟ رفع حالت ہے الف ہے آخر میں اور الف ہے اور اضافت ہو رہی ہے ہما ضمیر کی طرف اور حالت نصبی جری میں کہیں گے کلیہما یا کلتیہما توجہ ہے؟ جی پہلے کیا تھا؟ کلاہما اب کیا بن گیا؟ کلیہما اور پہلے تھا کلتاہما اب کیا بن گیا؟ کلتیہما تو دیکھو ان کا رفع کس کے ساتھ ہے؟ الف کے ساتھ نصب اور جر ایسی یاء جس کا ماقبل مفتوح ہے دیکھیں یاء سے قبل والے حرف پر فتحہ ہے یہاں اسی طرح اثنانی اور اثنتانی یہ کون سی حالت میں ہیں؟ حالت رفعی میں کیونکہ الف ہے نون سے پہلے اسی کو نصبی جری حالت میں لے جائیں الف کو یاء سے بدل دیں گے اثنانی سے بن جائے گا اثنین اور اثنتانی سے بن جائے گا اثنتین یہ کون سی حالت ہے؟ نصبی اور جری دونوں حالتوں میں اس طرح آئے گا تو یہ تینوں قسموں کا اعراب انہوں نے بتا دیا ان کا رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ الف کے ساتھ اور نصب اور جر ایسی یاء جس کا ماقبل مفتوح ہو پھر دہرائیں رجلن سے تثنیہ کیا بنے گا حالت رفعی میں؟ رجلانی اور حالت نصبی جری میں؟ رجلینی شاباش اور کلا سے کلاہما حالت رفعی میں؟ کلاہما نصبی جری میں؟ کلیہما اور کلتا سے بنائیں حالت رفعی میں؟ کلتاہما اور حالت نصبی جری میں؟ کلتیہما اسی طرح اثنانی حالت رفعی میں کیسے کہیں گے؟ اثنانی اور حالت نصبی جری میں؟ اثنین اور اسی طرح اثنتانی حالت رفعی میں کیسے کہیں گے؟ اثنتانی اور حالت نصبی جری میں؟ اثنتین طریقہ سمجھ آگیا؟ جی کہیں پر لکھا ہو رجلانی رجلانی اور آپ کا ایک ساتھی کہتا ہے رجلانی یہ مجرور ہے کیونکہ نون کے نیچے زیر ہے آپ اس کو کیا بتلائیں گے؟ توجہ ہے؟ ایک جگہ رجلانی لفظ لکھا ہے آپ کا ساتھی کہتا ہے کہ رجلانی مجرور ہے کیونکہ نون کے نیچے زیر ہے آپ اس کو کیا بتلائیں گے؟ جی ہاں آپ اس کو کہیں کہ یہ مرفوع ہے یہ مجرور نہیں بلکہ مرفوع اور کس طرح مرفوع آپ کو کیسے پتہ چلا؟ الف آ رہا ہے نہیں توجہ میرا خیال سبق کی طرف الف دیکھ رہے ہیں کہ نہیں دیکھ رہے آپ تلفظ الف پر ہو رہا ہے رجلانی میں کیا پڑھ رہا ہوں؟ الف اور الف کس لیے آتا ہے تثنیہ میں؟ رفع کے لیے آتا ہے تو ایک ساتھی نے پھر سنیں آپ کے ساتھی نے کہا رجلانی یہ مجرور ہے آپ فورا جواب میں کیا کہیں گے؟ کہ یہ مرفوع ہے یہ نون کے نون اور نون کے نیچے زیر کو نہ دیکھیں بلکہ اس کا یہ تثنیہ ہے اور تثنیہ کا رفع کس کے ساتھ آتا ہے؟ الف اور اس وقت ہم الف پڑھ رہے ہیں رجلانی اور ایک جگہ پر لکھا ہوگا رجلینی رجلینی دیکھتے ہی آپ پہچان گئے کہ یہ کون سی حالت میں ہے؟ یا نصبی ہے یا جری ہے تو آپ نے نون کو نہیں دیکھنا یہ نون سے ماقبل الف اور یاء کو دیکھنا ہے کلاہما کلاہما دیکھتے ہی آپ کو پتہ چل گیا یہ کس حالت میں ہے؟ رفعی حالت میں کلاہما کلا تو ہے رفعی حالت میں اور یہ ہما ضمیر ہے اور کیا کہا تھا یہ کلا کس کی طرف مضاف ہوتا ہے؟ ضمیر کی طرف معلوم ہوا یہ ضمیر مضاف الیہ ہے اور مضاف الیہ کا کیا اعراب ہوتا ہے؟ میں نے بتایا تھا دو ہی مجرور ہیں کلام عرب میں ایک جس پر حرف جر داخل ہو اور ایک جو مضاف الیہ تو یہ ہما اس وقت کیا ہے؟ مضاف الیہ ہے تو یہ مجرور ہے مجرور ہے اور اعراب محلاً آئے گا کیونکہ یہ مبنی ہے مبنی ہے۔ اچھا تو کلا حالت رفعی میں کیسے پڑھیں گے؟ کلاہما یہ کون سی حالت میں ہے؟ کیسے پتہ چلا؟ الف سے اور کلیہما کون سی حالت میں ہے؟ نصبی اور جری میں کیسے پتہ چلا؟ یاء سے بات سمجھ میں آ رہی ہے اس طرح اعراب کو آپ نے پہچاننا ہے آپ نے ایک جگہ لفظ دیکھا اباکا یا یوں کہے آپ نے ایک جگہ لفظ پڑھا لکھا ہوا دیکھا ابازیدین اب آپ سے کوئی پوچھیں یہ ابازیدین اس کا اعراب بتاؤ آپ کیا بتلائیں گے؟ کہ نصبی حالت ہے کیسے پتہ چلا؟ یہ ابا کے الف سے پتہ چلا بات سمجھ میں آگئی تو اور اگر ابو زید لکھا ہوتا تو یہ کس حالت میں ہے؟ حالت رفع میں اور اگر ابی زید لکھا ہوتا تو کس حالت میں ہے؟ جری حالت میں۔ تو اس طرح آپ نے ہر جگہ حرکتوں پر نظر نہیں رکھنی، بلکہ جس لفظ کا جو اعراب یہ بتلا رہا ہے، کسی کا اعراب حرکت کے ساتھ ہے اور کسی کا اعراب حرف کے ساتھ ہے دیکھو! زید، زیداً، زیدٍ صرف حرکتیں بدل رہی ہیں اور ابوکا، اباکا، ابیکا حرکت بدل رہی ہے یا حرف بدل رہا ہے؟ تو یہ اعراب بالحرف ہے، ابوکا یہ و بتلا رہا ہے یہ رفع حالت میں ہے، اباکا یہ الف بتلا رہا ہے کہ یہ نصب حالت میں ہے اور ابیکا یہ یا بتلا رہی ہے کہ یہ جری حالت میں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح ایک جگہ مثلاً رجلانی لکھا ہے اور آپ کیا کہیں گے یہ کون سی حالت میں ہے؟ کیسے پتہ چلا آپ کو یہ رفع حالت میں ہے؟ رجلانی میں جو الف آ رہا ہے اور اگر رجلینی لکھا ہو تو آپ کیا کہیں گے یہ کس حالت میں ہے؟ نصبی یا جری۔ کس طرح پتہ چلا؟ یہ جو یا آ رہی ہے، یہ اور ماقبل مفتوح ہے۔ اسی طرح کلامہا اور کلتاہا کون سی حالت میں ہے؟ رفع میں کیسے پتہ چلا؟ الف سے۔ بس جب کلام اور کلتا کے ساتھ الف ہو، تو آپ سمجھ جائیں یہ مرفوع ہے۔ چاہے دوسرا دس دفعہ آپ کو بتلاۓ کہ یہ منسوب ہے یا مجرور ہے، لیکن آپ نے کہنا ہے نہیں بھئی! یہ کیا ہے؟ مرفوع۔ کیوں مرفوع ہے؟ الف ان کے ساتھ لگا ہوا ہے، اگر مرفوع نہ ہوتا تو یہ الف بدل چکا ہوتا۔ اور اسی طرح کليهما اور كلتيهما یہ کون سی حالت میں ہیں؟ نصبی اور جری حالت میں ہے۔ کس سے پتہ چلا؟ یا سے، یا ماقبل مفتوح سے پتہ چلا اور اثنانی اور اثناتانی یہ کس حالت میں ہیں؟ رفع حالت میں۔ کیسے پتہ چلا؟ الف سے۔ آپ کا ساتھی کہتا ہے بھئی! نون کے نیچے زیر ہے، یہ مجرور ہے، آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ کہ یہ نون یہ اعراب نہیں ہے، نون کے نیچے اعراب اس کا کس کے ساتھ آ رہا ہے؟ یہ الف جو ہے یہ اعراب ہے اور اس وقت اس پر رفع پڑ رہا ہے، جیسے میں پڑھتا ہوں، زیدٌ اور آپ اس کا کوئی ساتھی کہے یہ تو مجرور ہے، آپ مانیں گے کبھی؟ نہیں کیوں؟ کیونکہ آپ رفع اس پر ضمہ پڑھ رہے ہیں، اسی طرح یہاں پر جب الف پڑھ رہے ہوں، تو یہ آپ سمجھ جائیں یہ کیا ہے مرفوع ہے، کوئی کتنا ہی غلط کرنے کی کوشش کرے آپ نے، آپ نے بس یہ علامت یاد رکھنی ہے کہ الف کے ساتھ ہو تو مرفوع، یا کے ساتھ ہو تو منسوب یا مجرور ہے اور پھر منسوب یا مجرور وہ جملے کے اندر خود بخود آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ منسوب ہے یا مجرور، مجرور تو میں نے بتا دیا، دو ہی ہیں یا جس پر کیا داخل ہو مضاف، یعنی وہ مضاف الیہ بنے، یعنی مضاف الیہ مجرور ہے اور دوسرا جس پر حرف جر داخل ہو۔ تو کہتے ہیں رفع شان با الف باشد، ان کا رفع الف کے ساتھ ہوگا اور نصب و جر با یاء ماقبل مفتوح اور ان کا نصب و جر ایسی یا جس کا ماقبل مفتوح ہو، چوں جاء رجلانی وکلاهما واثنانی، دیکھو تینوں کو حالت رفع میں لا رہے ہیں، جاء رجلانی وکلاهما واثنانی۔ جی! رجلانی کا اعراب بتاؤ اس جملے میں مرفوع ہے۔ کلاهما مرفوع ہے۔ کلا مرفوع اور ہما ہما ابھی میں نے بتایا مضاف الیہ ہے اور مضاف الیہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور تو کلا مرفوع اور ہما مجرور۔ اور مجرور محلاً کیونکہ ضمیر ہے، مبنی ہے۔ واثنانی یہ کون سی حالت میں ہے؟ حالت رفع میں ہے۔ ورأیت رجلین وکليهما واثنين، جی! رجلین یہ کون سی حالت میں ہے؟ نصبی حالت میں، جری میں نہیں۔ کیونکہ مجرور تو دو ہی ہیں یا مضاف الیہ ہو یا اس پر حرف جر داخل ہو اور رجلین نہ یہ اس وقت مضاف الیہ ہے، نہ اس پر کوئی حرف جر داخل ہے۔ اسی طرح کليهما یہ کون سی حالت میں ہے؟ نصبی حالت میں ہے شاباش! واثنين اور یہ بھی کس حالت میں ہے؟ نصبی حالت میں ہے۔ نصبی میں کیوں ہے؟ جری میں کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ حرف جر بھی داخل نہیں اور یہ مضاف الیہ بھی نہیں۔ اس سے پہلے کوئی مضاف نہیں آیا بھئی۔ وممررت برجلين وکليهما واثنين، جی! یہاں رجلين کون سی حالت میں ہے؟ جری حالت میں۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ با جارہ داخل ہے اور آگے کليهما واثنين کا اسی پر عطف ہے، تو گویا ان پر بھی با داخل ہے۔ تو کليهما یہ کون سی حالت میں ہے؟ حالت جری میں اور اثنین یہ بھی کون سی حالت میں ہے؟ حالت جری میں۔ آگے دیکھیے بھئی، دہم جمع مذکر سالم دسویں قسم اسم متمکن کی جمع مذکر سالم ہے، چوں مسلمون جیسے مسلمون۔ یاز دہم اولو گیارھویں قسم جو ہے وہ اولو ہے، اولو۔ اولو یاد رکھیے یہ اسی ذو کی جمع ہے۔ ذو مال کا کیا معنی تھا؟ مال والا ایک کے لیے کہیں گے مال والا، ایک آدمی ہے، رجلٌ ذو مالٍ، ایسا آدمی جو کہ مال والا ہے اور اگر زیادہ ہوں، جمع ہوں تو پھر اولو مال کہتے ہیں۔ رجالٌ اولو مالٍ، ایسے مرد جو مال والے ہیں تو ذو مال کا کیا معنی؟ مال والا اور اولو مال کا کیا معنی؟ مال والے یہ گیارھویں قسم آ گئی، گیارھویں تو یہ کس کی جمع ہے؟ ذو کی یعنی یہ ذو کی جمع نہیں ہے، ذو کے اندر تو ذال اور واؤ ہے ادھر تو ذال اور واؤ نہیں لیکن یعنی ذو کا ہی معنی جمع کی یہ اولو ادا کرتا ہے۔ ویسے ہی یہ ذو کی جمع نہیں ہے جمع تو کس کو کہتے ہیں آپ پڑھ چکے ہیں؟ جس کا کوئی مفرد ہو اور اسی مفرد میں تبدیلی کر دی جائے جس کے بعد وہ جس کے بعد وہ دو سے زیادہ پر دلالت کرے جیسے کتاب کی جمع کتب، دیکھو اسی کتاب میں تبدیلی کی ہے، اسد کی جمع اسدون، اسی اسد میں تبدیلی کی ہے، رجل کی جمع رجال، دیکھو اسی رجل میں تبدیلی کی ہے اور یہاں ذو کی جمع میں بتلا رہا ہوں اولو تو یہ کوئی ذو میں تبدیلی کی ہے؟ نہیں، ذو تو یہاں ہے ہی بالکل تو یہ یعنی اس کے معنی کے اعتبار سے اس کی جمع ہے، لفظوں کے اعتبار سے اس کی جمع نہیں۔ ذو آتا ہے ایک کے لیے اور وہی معنی جمع کے لیے اولو ادا کرتا ہے۔ دواز دہم بارھویں قسم بھئی عشورونا تا تسعونا، عشرونا سے لے کر تسعونا تک، جو دہائیاں ہیں دہائیاں عشرونا کا کیا معنی بیس اور تسعونا تک یعنی نوے تک عشرونا بیس، ثلاثونا تیس، اربعونا چالیس، خمسونا پچاس، ستونا ساٹھ اور سبعونا ستر، ثمانونا اسی اور تسعونا نوے۔ دیکھو ان سب کے آخر میں بھی واؤ نون آ رہا ہے، جیسے مسلمون کے آخر میں کیا تھا؟ واؤ نون، واؤ ماقبل مضموم بھئی۔ تو ان کا یہ اب تینوں قسموں کا ایک ہی اعراب بتائیں گے۔ کہتے ہیں رفع شان بواؤ ماقبل مضموم باشد، رفع شان ان کا رفع بواؤ ماقبل مضموم، ایسا واؤ جس کا ماقبل مضموم ہو اس کے ساتھ آئے گا۔ جیسے مسلمون دیکھو مسلمون میں کیا ہے؟ واؤ ہے در آخر میں اور واؤ سے ماقبل مضموم ہے۔ تو ان کا یہ اب تینوں قسموں کا ایک ہی اعراب بتائیں گے۔ کہتے ہیں رفع شان بواؤ ماقبل مضموم باشد، ان کا رفع ایسے واؤ کی جس کا ماقبل مضموم ہو اس کے ساتھ ہوگا۔ ونصب و جر بياء ماقبل مکسور، اور ان کا نصب و جر ایسی یا جس کا ماقبل مکسور ہو، جس کا ماقبل مکسور ہو۔ جیسے مسلمون سے بنے گا مسلمینا۔ تو دیکھو مسلمونا، مسلمونا میں کیا ہے؟ واؤ ماقبل مضموم اور مسلمینا میں یاء ماقبل مکسور، ایسی یاء ہے جس کا ماقبل مکسور ہے، تو مسلمونا کون سی حالت میں؟ حالت رفعی میں اور مسلمینا کون سی حالت میں؟ حالت نصبی، جری، دونوں میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے لیکن جہاں جملے میں آئے گا وہاں آپ کو پتہ چل جائے گا۔ تو مسلمونا پھر مسلمونا حالت رفعی میں کس کے ساتھ؟ ایسا واؤ جس کا ماقبل مضموم ہو اور نصب و جر ایسی یاء جس کا ماقبل مکسور ہو۔ اسی طرح اولو، اولو کون سی حالت میں؟ حالت رفعی میں، کیسے پتہ چلا؟ واؤ ماقبل مضموم ہے۔ اور اسی کو حالت نصبی جری میں لے جائیں، کیسے پڑھیں گے؟ اولی اولی تو دیکھو یا ایسی یاء جس کا ماقبل مکسور ہے۔ اسی طرح عشرونا تا تسعونا، عشرونا حالت رفعی میں ہے، کیسے پتہ چلا آپ کو؟ واؤ ماقبل مضموم اور حالت نصبی جری میں کیسے پڑھیں گے؟ عشرینا، عشرینا، اسی طرح ثلاثونا کو کیسے پڑھیں گے؟ ثلاثینا، اربعونا کو اربعینا، خمسونا کو خمسینا، ستونا کو ستینا اور سبعونا کو سبعینا اور ثمانونا کو ثمانینا اور تسعونا کو تسعینا، طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو واؤ ماقبل مضموم ہو تو آپ سمجھ جائیں یہ حالت رفعی میں ہے اور یاء ماقبل مکسور ہو ان میں تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ حالت نصبی یا جری میں ہیں۔ اب آپ نے ایک جگہ مثلاً عبارت میں لفظ آیا مسلمونا اور مسلمونا دیکھتے ہی آپ نے کیا کہا یہ کون سی حالت میں ہے؟ حالت رفعی میں، معلوم ہے مرفوع ہے، اس وقت کیا ہے؟ مرفوع لیکن کوئی ساتھی آپ کو کہتا ہے نہیں بھئی! یہ مرفوع نہیں، مسلمونا نون پر تو زبر ہے، یہ منسوب ہے، اس وقت تو آپ اس کو کیا جواب دیں گے؟ جی! کہ یہ نون پر جو زبر ہے، یہ اعراب نہیں ہے، بلکہ اس کا اعراب کس کے ساتھ آرہا ہے؟ یہ واؤ جو ہے یہ اعراب ہے اور اس وقت اس پر رفع پڑھ رہے ہیں، جیسے میں پڑھتا ہوں زیدٌ اور آپ اس کا کوئی ساتھی کہے یہ تو مجرور ہے، آپ مانیں گے کبھی؟ نہیں کیوں؟ کیونکہ آپ رفع اس پر ضمہ پڑھ رہے ہیں، اسی طرح یہاں پر جب واؤ پڑھ رہے ہوں، تو یہ آپ نے سمجھ جائیں یہ کیا ہے؟ مرفوع ہے، کوئی کتنا ہی غلط کرنے کی کوشش کرے آپ نے آپ نے بس یہ علامت یاد رکھنی ہے کہ واؤ کے ساتھ ہو تو مرفوع، یا کے ساتھ ہو تو منسوب یا مجرور ہے اور پھر منسوب یا مجرور وہ جملے کے اندر خود بخود آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ منسوب ہے یا مجرور، مجرور تو میں نے بتا دیا، دو ہی ہیں ایک کون؟ مضاف الیہ اور اسے مضاف الیہ سے پہلے مضاف ہوتا ہے، یہاں کوئی مضاف ہے؟ نہیں اس سے پہلے تو فعل ہے بھئی اور مضاف صرف اسم ہوتا ہے، آپ نے اسم کی علامتیں پڑھی تھیں کہ اسم مضاف ہوتا ہے تو یہ مضاف الیہ نہیں اور نیز اس سے پہلے کوئی حرف جر بھی نہیں ہے۔ وماررت بمسلمینا وولی مال وعشرينا رجلاً، جی! یہاں مسلمونا کون سی یہ اس وقت منسوب ہے یا مجرور ہے؟ مجرور، جی! آپ کو کیسے پتہ چلا؟ واؤ ماقبل مضموم، شاباش اولو مال، اولو کس حال میں ہے اس وقت؟ کس حالت میں ہے؟ یہ یہ منسوب ہے یا مجرور ہے؟ مرفوع، کیسے پتہ چلا؟ واؤ ماقبل مضموم اور مالین یہ کون سی حالت میں ہے؟ جی! یہ مجرور ہے کیونکہ اولو مضاف چاہتا ہے ذو مال، ذو مضاف، مالین مضاف الیہ، ذو مضاف، مالین مضاف الیہ اور مضاف الیہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور، تو اولو مال، تو اولو تو ہوا مرفوع کیونکہ واؤ ماقبل مضموم ہے اور مالین یہ کیا ہوا؟ مجرور، کیسے پتہ چلا؟ یہ مضاف الیہ ہے اور مضاف الیہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور۔ جی! عشرونا رجلاً، عشرونا کون سی حالت میں ہے؟ حالت رفعی میں، کیسے پتہ چلا؟ واؤ ماقبل مضموم ہے اور رجلاً یہ منسوب ہے، بھئی۔ یہاں تک اعراب سمجھ میں آ گئے بھئی؟ جی! سیزدہم اسم مقصور، سیزدہم تیرھواں تیرھواں، اسم مقصور، تیرہویں قسم اسم مقصور ہے، وان اسم اور وہ وہ اسم ہے کہ در آخرش الف مقصورہ باشد جس کے آخر میں الف مقصورہ ہو۔ جس کے آخر میں کیا ہو؟ الف مقصورہ ہو، چوں موسیٰ جیسے کہ موسیٰ۔ الف مقصورہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں الف مقصورہ ہو۔ ہاں، الف مقصورہ کسےکہتے ہیں؟ جس کے بعد ہمزہ نہ ہو، ہاں! جس الف کے بعد ہمزہ نہ ہو، شاباش۔ الف مقصورہ کسے کہتے ہیں؟ وہ الف جس کے بعد ہمزہ ہو، وہ الف جس کے بعد ہمزہ نہ ہو اسے الف مقصورہ کہتے ہیں، یعنی چھوٹا الف اس کو زیادہ لمبا نہیں کھینچنا اور الف ممدودہ کسے کہتے ہیں؟ وہ الف جس کے بعد ہمزہ ہو۔ تو الف مقصورہ، تو جس اسم کے آخر میں بھی الف مقصورہ آ جائے اسے اسم مقصور کہتے ہیں۔ توجہ ہے؟ جس اسم کے آخر میں بھی کیا آ جائے؟ الف مقصورہ آ جائے اسے اسم مقصور کہتے ہیں، مثال دی ہے موسیٰ اور موسیٰ کے آخر میں ہے کھڑی زبر۔ طلبہ سمجھتے ہیں شاید کہ الف مقصورہ اس کھڑی زبر کو کہتے ہیں لیکن میں نے بتلایا کہ الف مقصورہ کھڑی زبر کو نہیں کہتے، یہ وہ الف، وہ الف ہے جو آخر میں ہے اور اس کے بعد ہمزہ نہ ہو اور وہ الف جس کے بعد ہمزہ ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ الف ممدودہ۔ جیسے عصا، عصا۔ العصا۔ دیکھو اس کے آخر میں بھی الف ہے لیکن کھڑی زبر تو نہیں ہے تو لیکن کیا کہیں گے آخر میں کیا ہے؟ الف مقصورہ ہے بھئی۔ تو یہ اسم مقصور ہے۔ اسم مقصور کسے کہتے ہیں جس کے آخر میں کیا آئے؟ الف مقصورہ آئے اور یاد رکھیں، الف پر اعراب نہیں آ سکتا، میں نے کل بھی بتلایا تھا، الف جو ہے الف پر کوئی حرکت نہیں آ سکتی، اگر الف کی صورت میں کوئی حرف لکھا ہے اور اس پر کوئی حرکت لگی ہوئی ہے، سمجھ جائیں کہ یہ ہمزہ ہے، الف نہیں ہے۔ الف پر حرکت نہیں آ سکتی، الف ہمیشہ ساکن ہوتا ہے۔ جب الف ہمیشہ ساکن ہے اور اسم مقصور کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں الف مقصورہ ہو۔ جب آخر میں الف ہے، الف پر تو اعراب آ ہی نہیں سکتا تو اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیر ہو گا۔ قدر یقدر تقدیر کا کیا معنی؟ فرض کرنا، پہلے بھی یہ بات گزر چکی ہے۔ قدر یقدر تقدیر کا کیا معنی؟ فرض کرنا، تو اس کا اعراب تقدیر ہے یعنی تینوں حالتوں میں فرض کر لینا کہ رفع یا نصب یا جر آ گیا ہے۔ مثلاً جاء موسیٰ، یہ کس حالت میں ہے؟ حالت رفعی میں اور رفع کون سا ہے؟ تقدیر۔ کیا معنی رفع تقدیر کا ہے؟ فرض کر لو رفع آ چکا ہے۔ رأیت موسیٰ، یہ کون سی حالت میں ہے؟ حالت نصبی میں ہے اور کون سا نصب آپ کو تلفظ سے پتہ چل رہا ہے؟ نہیں تو کیا کہیں گے یہ منسوب ہے، تقدیر۔ کیا معنی تقدیر ہے؟ فرض کر لو نصب آ چکا ہے۔ وممررت بموسیٰ، یہ کون سی حالت میں ہے؟ جری میں، کیسے پتہ چلا؟ با جارہ داخل ہے اور با جارہ ہمیشہ جر دیتی ہے۔ پھر بموسیٰ، یہاں موسیٰ پر جر نظر آ رہا ہے؟ نہیں لیکن یہ مجرور ہے اور کون سا مجرور ہے تقدیر یعنی فرض کر لو اس پر جر آ چکا ہے تو یہ جو قسم ہے اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیر ہوگا اسی طرح ایک اور قسم بھی اگے آنے والی ہے تو اس کا اعراب تقدیر ہے بات سمجھ میں آگئی پھر دیکھیں سیزدھم اسم مقصور تیرہویں قسم جو ہے اسم مقصور ہے و آن اسم است اور وہ اسم ہے کہ در آخرش الف مقصورہ باشد کہ اس کے آخر میں الف مقصورہ ہو چو موسی جیسے موسی چہار دہم غیر جمع مذکر سالم مضاف بياء متكلم چہار چہار دہم چودھویں قسم غیر جمع مذکر سالم یعنی جمع مذکر سالم کے علاوہ ترجمے پر نظر ہے غیر جمع مذکر سالم یعنی جمع مذکر سالم کے علاوہ مضاف بياء متكلم جب وہ مضاف ہو یاء متكلم کی طرف یاء متكلم کی جو ضمیر ہے یاء اس کی طرف جب مضاف ہو کون جمع مذکر سالم کے علاوہ اور کوئی بھی اسم جب مضاف ہو کس کی طرف یاء متكلم کی طرف تو اس کا یہ اعراب ہے چوں غلامی جیسے غلامی پھر دہرائیں تیرہویں قسم کیا ہے اسم مقصور اسم مقصور کسے کہتے ہیں جس کے آخر میں الف مقصورہ آئے چودھویں قسم چودھویں قسم کیا ہے کیا معنی غیر جمع مذکر سالم یعنی جمع مذکر سالم جمع مذکر سالم کی مثال مسلمون یعنی مسلمون جیسے لفظ کے علاوہ کوئی اور لفظ یعنی جمع مذکر سالم نہ ہو اس کے علاوہ کوئی اور لفظ ہو اور مضاف ہو کس کی طرف یاء متكلم کی طرف تو اس کا بھی اعراب یاد رکھیں تینوں حالتوں میں تقدیر ہے جیسے غلامی کیا معنی میرا غلام حالت رعی میں بھی کہیں گے غلامی حالت نسبی میں بھی کہیں گے غلامی حالت جری میں بھی کہیں گے غلامی اور یا اسی طرح کتاب کہہ لو حالت رعی میں کیسے پڑھیں گے کتابی اضافت کرو یا کی طرف حالت رعی میں کتابی حالت نسبی میں کتابی اور حالت جری میں کتابی دیکھو اس میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی تو اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیر ہے اگر رفع ہوا کتابی دیکھو کتاب ہے مضاف اور یا ضمیر ہے مضاف الیہ مضاف کا اعراب الگ بتانا ہے اور مضاف الیہ کا اعراب الگ بتانا ہے کتاب کا کیا اعراب مثلا مرفوع ہے مرفوع ہے تو کتابی جی کوئی رفع نظر آرہا ہے آپ کو نہیں تو مرفوع تقدیرن ہے کیا معنی مرفوع تقدیرن فرض کر لو رفع آ چکا ہے اور آگے یا کا اعراب بتاؤ یا مضاف الیہ ہے مضاف الیہ کا اعراب ہمیشہ کیا ہوتا ہے وہ مجرور ہوتا ہے تو یا ضمیر کیا ہے مجرور اور مجرور کون سا محلا ہے کیونکہ یہ مبنی ہے بھئی مبنی تو محل کے اعتبار سے یہ مجرور دوسری حالت میں لے آؤ نسبی حالت میں کتابی جی کتاب کا اعراب منصوب تقدیرن منصوب تقدیرن اور یا ضمیر وہ اسی طرح مجرور محلا اچھا حالت جری میں لے آؤ کتابی جی کتاب مجرور تقدیرن اور یا ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ تو بہرحال بات چل رہی ہے کتاب کے اعراب کی جب وہ مضاف ہو یا کی طرف کوئی بھی لفظ جب وہ مضاف ہو کس کی طرف یا متكلم کی طرف علاوہ کس کے جمع مذکر سالم جمع مذکر سالم نہیں جمع مذکر سالم جب یا کی طرف مضاف ہوگا تو وہ آخری قسم ابھی آنے والی ہے اس کو الگ بیان کریں گے تو جمع مذکر سالم کے علاوہ کوئی اور اسم جب مضاف ہو کس کی طرف یا متكلم کی طرف تو اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیر ہوتا ہے رفع بھی تقدیر نصب بھی تقدیر اور جر بھی تقدیر تقدیر کیا معنی فرض کر لیں آ چکا ہے اعراب تو اسم مقصور کا اعراب بھی تینوں حالتوں میں تقدیر اور جمع مذکر سالم کے علاوہ کوئی اسم جب یا کی طرف مضاف ہو تو اس کا اعراب بھی تینوں حالتوں میں توجہ ہے سبق کی طرف تو ان دونوں کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیر ہے تو سوال یہ کہ تقدیر کیوں کہتے ہو اس کو بھی مبنی کہہ دو نہیں بدل رہا نا آخر کیا کہہ دو مبنی کہہ دو لیکن آپ ہمیں کہتے ہیں یہ تقدیرن ہے ان کو تو کہاں شامل کرنا چاہیے تھا مبنی میں شامل کرنا چاہیے تھا تو جواب یاد رکھنا بھئی جواب یاد رکھنا بھئی مبنی کے اندر مبنی پر اعراب نہیں آتا اس کی صورت نہیں بدلتی وہ اعراب کو جگہ نہیں دیتا چاہے وہاں کوئی رکاوٹ ہو یا رکاوٹ نہ ہو جبکہ معرب یہاں یہ اسم مقصور اور یہ جو غیر جمع مذکر سالم مضاف بياء متكلم ان دونوں میں رکاوٹ ہے اس لیے اعراب نہیں آ سکتا اگر وہ رکاوٹ نہ ہوتی تو اعراب آ جاتا جیسے اسم مقصور کے آخر میں کیا آیا الف اور الف پر اعراب آ سکتا ہے نہیں الف پر تو حرکت آ ہی نہیں سکتی نہ نہ رفع نہ نصب نہ جر تو مجبوری کی وجہ سے اعراب فرض کر لیا کیا کر لیا آپ کہیں گے بھئی فرض کیوں کیا فرض بھی نہ کرو کہو یہ بدلتا ہی نہیں ہے بس لیکن نہیں بھئی فرض کرنا پڑے گا کیوں کیونکہ معرب اور مبنی کی تعریف آپ نے پڑھی تھی مبنی کسے کہتے ہیں جس کا آخر نہیں بدلتا اور معرب کسے کہتے ہیں جس کا آخر بدلتا ہے بھئی اور یہ معرب ہیں بھئی یہ کیا ہیں اور معرب کی تعریف کیا کی جس کا آخر بدلتا ہے اور یہاں تو نہیں بدل رہا ضابطہ ٹوٹ رہا تھا تو ضابطے کو بچانے کے لیے کیا کہا کہ فرض کر لو بدل رہا ہے فرض کر لو بدل رہا ہے جب فرض کر لیا بدل رہا ہے تو اب یہ معرب ہے بھئی کیونکہ معرب کسے کہتے ہیں جس کا آخر بدلتا ہے ان کا بھی آخر بدل رہا ہے لفظوں میں بے شک نہیں بدل رہا لیکن تقدیر بدل رہا ہے بات سمجھ میں آگئی تو یہاں اعراب نہیں آ سکتا رکاوٹ تھی کیونکہ آخر میں الف تھا اور الف کے اوپر اعراب نہیں آ سکتا اور دوسری قسم کوئی اسم جب مضاف ہو یا متكلم کی طرف علاوہ جمع مذکر سالم کے تو وہاں بھی اعراب نہیں آ سکتا جیسے کتابی اس کتاب پر اعراب نہیں آ سکتا بھئی رکاوٹ ہے رکاوٹ کیا کتابی کیونکہ اس کے بعد یا آ رہی ہے اور یا اپنے سے ماقبل کسرہ چاہتی ہے کتابی یہ یا چاہتی ہے کہ کتابی کی با پر کیا آئے کسرہ زیر آ جائے تو زیر آ گئی اعراب سے پہلے ہی زیر آ گئی کتابی غلامی قلمی جو بھی لفظ لائیں گے یا سے پہلے کیا آ جائے گی زیر آ جائے گی جب زیر آ گئی یا اپنے سے ماقبل زیر چاہتی ہے اب رفع نصب جر نہیں آ سکتا رفع بھی نہیں آ سکتا کیونکہ یا سے ماقبل رفع نہیں آ سکتا نصب بھی نہیں آ سکتا یہاں کیونکہ یا اپنے سے ماقبل کیا چاہتی ہے کسرہ اور جر بھی نہیں آ سکتا کتابی آپ کہیں اسی کو جر کہہ دیں جر بھی کسرہ کی صورت میں آتا ہے نا اور یہاں بھی کتابی میں یا سے یہ جو کتابی یہ جو یا سے پہلے با ہے اس پر کیا ہے کسرہ ہے تو آپ کہہ دیں یہ مجرور ہے لفظا آپ کہہ رہے ہیں یہ اپنے سے ماقبل کیا چاہتی ہے کسرہ تو اس لیے یہ اعراب یہاں نہیں آ سکتا مجبوری ہے بھئی ٹھیک ہے رفع بھی نہیں آ سکتا کیونکہ یہ اپنے سے ماقبل کسرہ چاہتی ہے نصب بھی نہیں آ سکتا کیونکہ یہ اپنے سے ماقبل کیا چاہتی ہے کسرہ لیکن جر تو آ سکتا ہے نا یا تو اپنے سے ماقبل کیا چاہتی ہے کسرہ اور جر بھی کبھی کس صورت میں آتا ہے کسرہ کی صورت میں جیسے زید زید اور زید تو جر بھی تو کبھی کسرہ کی صورت میں آتا ہے تو اس کو جر قرار دے دو کہتے ہیں نہیں بھئی اس کو جر بھی ہم نہیں کہہ سکتے کیونکہ جر تو جب عامل آئے گا تب آئے گا جر اور یہ عامل سے پہلے ہی جیسے ہی یا کے ساتھ اس کتاب یا لفظ کو جوڑو گے تو کسرہ پہلے ہی آ چکا ہے اعراب تو بعد میں آئے گا جب کیا آئے گا کوئی عامل آئے گا بھئی عامل رفع نصب جر خود آتے ہیں کسی عامل کی وجہ سے آتے ہیں عامل کی وجہ سے تو ابھی تو عامل آیا ہی نہیں ابھی ہم نے صرف دو لفظوں کو جوڑا اور جوڑ کر اب ہم نے جملے میں استعمال کرنا ہے تو جملے میں استعمال کرنے سے پہلے کتابی جوڑا تو کسرہ تو پہلے ہی آ گیا تو یہ جو کسرہ آیا ہے یہ یا کی وجہ سے آیا ہے عامل کی وجہ سے نہیں آیا تو لہذا یہاں پر جر بھی نہیں آ سکتا کیونکہ پہلے زیر موجود ہے تو یوں کہیں گے جر بھی تقدیرن ہے رفع بھی تقدیرن نصب بھی تقدیرن جر بھی تقدیرن فرق سمجھ میں آگیا اس میں اعراب کو تقدیر کیوں مانتے ہو کیونکہ یہ معرب ہیں یہ کیا ہیں معرب ہیں اور معرب تو کہتے ہی کس کو ہیں جس کا آخر بدلتا ہو اور ان کا تو آخر نہیں بدل رہا تھا اور ہیں یہ معرب ہم نے ان کو معرب کے اندر داخل رکھنا ہے تو ہمارا قانون ٹوٹ رہا تھا ہم نے قانون کیا بنایا کہ معرب وہ ہے جس کا آخر بدل اس کا آخر نہیں بدل رہا تو یہ معرب کی تعریف سے نکل رہے تھے تو ہم نے ان کو اندر ہی رکھنا تھا کیونکہ یہ معرب ہیں بھئی پھر ہم نے کیا کہا کہ فرض کر لو آخر بدل رہا ہے اب یہ ہمارا قانون بچ گیا اور یہ معرب کے اندر رہے کس طرح کیا تعریف کی تھی معرب وہ ہے جس کا آخر بدلے ان کا بھی آخر بدل رہا ہے فرض کر لیا یعنی بدل رہا ہے تو اب یہ بھی معرب ہیں پھر سوال پیدا ہوتا ہے بھئی نہیں کیوں آپ بزر اس کو معرب بنانا چاہتے ہیں آپ اس کو مبنی کیوں نہیں بنا دیتے بدل تو یہ رہا نہیں آپ فرض کر رہے ہیں نا فرض کیوں کر رہے ہو کوئی ضرورت ہی نہیں اس کو مبنی قرار دے دو تو جواب جواب آپ نے پڑھا تھا کہ مبنی الاصل تین چیزیں ہیں کتنی چیزیں تین چیزیں کون کون سی تمام حروف اور فعل ماضی اور امر حاضر معروف امر حاضر معروف اور اسم جو ہے اسم اسم میں غیر متمکن کی کتنی قسمیں ہیں آٹھ وہ مربیات ہیں اور یہ جو مربیات ہیں یہ سارے مبنی الاصل کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے مبنی بنے ہیں خود بخود مبنی نہیں بنے توجہ ہے اسم غیر متمکن یعنی مبنی کی کتنی قسمیں تھیں آٹھ قسمیں وہ آٹھ قسمیں خود بخود مبنی نہیں بنی وہ ان کی مشابہت تھی کس کے ساتھ مبنی الاصل کے ساتھ دیکھیے ذرا کتاب میں دیکھیں جہاں مبنی جہاں غیر متمکن کی بات آئی تھی مل گئی جہاں مبنی اصل کا بھی ذکر آیا تھا اور اس سے پہلے آیا تھا کہ و اسم غیر متمکن اسم است اسم غیر متمکن وہ اسم ہے کہ با مبنی اصل مشابہت دارد کہ وہ مبنی الاصل کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو تو یہ جتنی آٹھ قسمیں تھیں توجہ ہے پھر سن لو ذرا مبنی الاصل کتنی چیزیں تین نمبر ایک تمام حروف نمبر دو فعل ماضی نمبر تین فعل امر حاضر معروف امر حاضر معروف دیکھو تمام حروف حروف کی بات کی اسم کوئی بھی نہیں اور پھر فعل ماضی اور پھر فعل امر دیکھو اسم کوئی بھی نہیں ہے ان میں سے یا حروف ہیں یا فعل ہیں تو اسم جو مبنی بنتا ہے وہ اس کی ان میں سے کسی کے ساتھ مشابہت آتی ہے پھر اس کے بعد وہ مبنی بنتا ہے اور اس اعتبار سے وہ اسم غیر متمکن کہلاتا ہے اور اس کی کل کتنی قسمیں ہیں آٹھ یہ جو آٹھ قسمیں مبنی ہیں اسم کی یہ خود بخود نہیں بنی بلکہ ان کی مشابہت ہے کس کے ساتھ مبنی الاصل کے ساتھ تو مبنی اسم تب بنتا ہے جب اس کی مشابہت ہو مبنی الاصل کے ساتھ یعنی حروف کے ساتھ مشابہت ہو یا فعل ماضی کے ساتھ کوئی مشابہت ہو یا امر حاضر کے ساتھ کوئی مشابہت ہو تو پھر مبنی بنتا ہے اور یہ آٹھ قسموں کی مشابہتیں ہیں اس لیے یہ مبنی ہیں لیکن یہ جو آپ نے اسم مقصور پڑھا اور یہ جو آپ نے جمع مذکر سالم کے علاوہ کوئی اسم مضاف ہو یا متكلم کی طرف یہ دو قسمیں پڑھیں ان کی کوئی مشابہت نہیں ہے بھئی مبنی الاصل کے ساتھ جب مبنی الاصل کے ساتھ ان کی مشابہت نہیں تو ان کو ہم مبنی قرار دے سکتے ہیں نہیں خود بخود تو مبنی نہیں قرار دے سکتے جب مبنی بھی نہیں قرار دے سکتے اور معرب معرب ہی انہوں نے رہنا ہے اور معرب کی تو تعریف ہم نے کیا کی کہ اس کا آخر بدلتا ہے اور ان کا آخر تو نہیں بدل رہا تو مجبورا نحویوں کو کہنا پڑا کہ فرض کر لو ان کا آخر بدل رہا ہے اب دیکھو ضابطہ بچ گیا یہ معرب رہے اور قانون بھی ہمارا بچ گیا بات سمجھ میں آگئی تو جو یہ جو معرب میں جب اعراب تقدیر آتا ہے نا معرب میں تقدیر کیا معنی فرض کر لو تو وہاں کوئی مانع ہوتا ہے کوئی رکاوٹ ہوتی ہے جو اعراب کو آنے ہی نہیں دیتی جیسے الف مقصورہ آخر میں آیا تو وہ آخر میں اعراب کو نہیں آنے دے رہا کیونکہ الف ہے اور جیسے جو اسم علاوہ جمع مذکر سالم کے جب کس کی طرف مضاف ہو یا کی طرف وہ اعراب کو آنے نہیں دے گی یا کیونکہ یا اپنے سے ماقبل کیا چاہتی ہے کسرہ تو یہاں دیکھو رکاوٹ ہے رکاوٹ ہے جبکہ جو مبنی ہے نا مبنی باقی آٹھ قسمیں مبنی کی ان میں رکاوٹ ہو یا نہ ہو اعراب نہیں آ سکتا کیونکہ مبنی اعراب کو جگہ ہی نہیں دیتا وہاں رکاوٹ ہو یا نہ ہو اس کو نہیں دیکھنا بس وہاں اعراب آ ہی نہیں سکتا جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی ہؤلاء ہؤلاء یہ اس میں اشارہ ہے اس کا معنی ہے یہ سب یہ سب چاہے مذکر ہوں یا مؤنث یہ سب یہ سارے کے سارے جی اب ہؤلاء کے آخر میں کیا ہے ہؤلاء کے آخر میں حرف کون سا ہے حمزہ ہے اور حمزہ پر تو اعراب آ سکتا ہے جیسے شیء شیء شیء دیکھو حمزہ پر تینوں اعراب آ رہے ہیں لیکن ہؤلاء اس میں حمزہ کے نیچے زیر ہے آپ اس کو چاہے رفع والے مقام میں لے جائیں چاہے نصب والے مقام میں چاہے جر والے مقام میں اس کا آخر بدل نہیں رہا حالانکہ بدل سکتا ہے کوئی مانع موجود نہیں لیکن پھر بھی نہیں بدل رہا کیونکہ یہ مبنی ہے تو مبنی میں کوئی مانع ہو یا نہ ہو وہ اس کا آخر نہیں بدلے گا لیکن معرب میں اگر آخر نہیں بدل رہا اعراب تقدیر ہے تو سمجھ جائیں اعراب تقدیر کیوں ماننا پڑا مانع کوئی رکاوٹ ہے وہاں اگر یہ رکاوٹ نہ ہوتی تو اعراب آ جاتا جیسے کتابی یا کی طرف مضاف ہے اور یا اپنے سے ماقبل کیا چاہتی ہے کسرہ اعراب نہیں آ سکتا ہاں یہ ذرا یا کو ختم کر دو رکاوٹ کو ختم کر دو کتاب کتاب کتاب بغیر اضافت کے تینوں اعراب آ رہے ہیں یا نہیں آ رہے دیکھیے بھئی چہار دوم غیر جمع مذکر سالم مضاف بياء متكلم علاوہ جمع مذکر سالم کے جو وہ مضاف ہو یا متكلم کی طرف چوں غلامی جیسے کہ غلامی جی دو قسمیں بیان کیں تیرہویں قسم تھی اسم مقصور اور چودھویں قسم ہے غیر جمع مذکر سالم مضاف بياء متكلم اب دونوں کا ایک ہی اعراب ہے کیا اعراب دونوں کا ایک ہی اعراب ہے کہ تقدیر اعراب ہوں گے تینوں حالتوں میں وہ بیان کرنے لگے ہیں کہتے ہیں رفع شان بتقدیر ذمہ باشد ان کا رفع جو ہے وہ تقدیر ذمہ کے ساتھ ہوگا و نصب بتقدیر فتحہ اور نصب تقدیر فتحہ کے ساتھ (یعنی فتحہ فرض کر لینا) و جر بتقدیر کسرہ اور جر تقدیر کسرہ کے ساتھ (یعنی کسرہ فرض کر لینا) و در لفظ ہمیشہ یکساں باشند اور لفظ میں یہ ہمیشہ یکساں رہیں گے (یعنی ایک جیسے رہیں گے) رفع ہو نصب ہو یا جر یہ بدلیں گے نہیں لفظ میں ہمیشہ ایک جیسے رہیں گے تو کہتے ہیں و در لفظ ہمیشہ یکساں باشند اور لفظ میں یہ ہمیشہ ایک جیسے رہیں گے چوں جاء موسی و غلامی و رأیت موسی و غلامی و مررت بموسی و غلامی جی جاء موسی و غلامی یہ موسی کون سی حالت میں ہے رفعی حالت میں اور غلامی یہ بھی رفعی حالت میں ہے لیکن دونوں پر رفع تقدیرن ہے جی و رأیت موسی و غلامی یہ کون سی حالت میں ہے نسبی حالت میں ہے اور دیکھو نصب نظر نہیں آرہا تقدیرن ہے و مررت بموسی و غلامی یہ کون سی حالت میں ہے جری حالت میں کیسے پتہ چلا با جارہ سے اور لیکن جر نظر نہیں آرہا تو یہ جر یہاں تقدیرن ہے چلیے بس کریں بھئی حاصل کلام یہ کہ آج آپ نے اعراب کے اعتبار سے ساتویں قسم سے لے کر چودھویں قسم تک ساتویں قسم کیا تھی مثنی یعنی تثنیہ اور آٹھویں کیا ہے کلا اور کلتا اور نووی کیا ہے اثنانی اور اثناتانی ان کا رفع کس کے ساتھ الف کے ساتھ اور نصب و جر یاء اس کا ماقبل مفتوح ہو دسویں قسم تھی جمع مذکر سالم گیارھویں تھی اولو اور بارھویں تھی عشرون تا تسعون ان تینوں کا اعراب رفع کس کے ساتھ واو ماقبل مضموم اور نصب و جر یاء ماقبل مقصور کے ساتھ اور تیرہویں اور چودھویں قسم تیرہویں قسم ہے اسم مقصور اور چودھویں قسم ہے جمع مذکر سالم کے علاوہ کوئی اسم مضاف ہو کس کی طرف یاء متكلم کی طرف ان کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیرن آئے گا رفع بھی تقدیرن نصب بھی تقدیرن اور جر بھی تقدیرن ہوگا بات سمجھ میں آگئی چلیے بس بھئی ہذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الكلام