یکھیے بھئی کتاب پر۔ پنجم غیر منصرف و آن اسم است کہ دو سبب از اسباب منع صرف درو باشد و اسباب منع صرف نه است۔ عدل، وصف، تانیث، معرفہ، عجمہ، جمع، ترکیب، وزن فعل، الف و نون زائدتان، چو عمر، و احمر، و طلحہ، و زینب، و ابراہیم، و مساجد، و معدی کرب، و احمد، و عمران۔ رفع‌ش بہ ضمہ باشد و نصب و جر بہ فتحہ۔ چو جاء عمر، رایت عمر، و مررت بہ عمر۔ معرب کی بحث شروع ہوئی اور مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ اسم کا اعراب تین قسم پر ہے۔ رفع، نصب اور جر۔ میں نے بتلایا تھا یہاں تین طرح کے نام ہیں ایک رفع، نصب اور جر۔ میں تنوین کے ساتھ پڑھتا ہوں تاکہ صحیح تلفظ آپ کو سمجھ میں آجائے باقی تو وقف میں تنوین گر جاتی ہے۔ رفع، نصب، جر۔ اور ایک نام ہے ضمہ، فتحہ، کسرہ۔ میں نے بتلایا تھا رفع، نصب، جر یہ کس کے ساتھ خاص؟ معرب کے ساتھ۔ یاد رکھو اس کو بھئی یاد رکھو یہ کس کے ساتھ خاص؟ معرب کے ساتھ۔ اور ضمہ، فتحہ، کسرہ یہ کس کے ساتھ خاص؟ یہ مبنی کے ساتھ خاص ہے۔ اور ضمہ، فتحہ، کسرہ گول تا کے ساتھ یہ عام ہے یہ معرب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور مبنی کے لیے بھی۔ تو اسم کا اعراب تین قسم پر ہے رفع، نصب اور جر۔ اور بتلایا تھا کہ اس میں متمکن اعراب کے اعتبار سے سولہ قسم پر ہے۔ اس میں متمکن کسے کہتے ہیں؟ وہ اسم جو اعراب کو جگہ دینے پر قادر ہو یعنی جس پر اعراب اتا ہو۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ اسم تو سولہ قسم پر ہے لیکن جو اعراب ہے وہ نو قسم پر ہے بھئی، نو قسم پر۔ جیسے پہلی تینوں قسموں کا ایک ہی اعراب۔ پہلی تین قسمیں کون سی؟ پہلی قسم کیا۔ مفرد، منصرف، صحیح۔ یعنی مفرد ہو، تثنیہ، جمع نہ ہو۔ منصرف ہو، غیر منصرف نہ ہو۔ غیر منصرف پر میں نے بتلایا تھا کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں آتی۔ تو مفرد ہو، منصرف ہو اور صحیح ہو۔ صحیح کا کیا معنی؟ کہ آخر میں حرف علت نہ ہو۔ ایک صحیح آپ نے صرف میں پڑھا ہے کہ جس کے حروف اصلی یعنی ف ع ل کے مقابلے میں نہ تو ہمزہ ہو، نہ حرف علت ہو اور نہ دو حرف ایک جنس کے ہوں۔ جبکہ ایک صحیح جو ہے نحو میں ہے۔ نحوی چونکہ بحث کرتا ہے اعراب کے بارے میں اور اعراب آخری حرف پر آتا ہے لفظ کا جو آخری حرف ہوتا ہے اس پر اعراب آتا ہے تو بس جب آخری حرف حرف علت نہیں تو وہ صحیح ہے اور اگر آخری حرف حرف علت ہے تو وہ صحیح نہیں ہے۔ اور حروف علت کون کون سے ہیں؟ و، الف اور یا۔ ان کا مجموعہ کیا بنتا ہے؟ وائے ان کا مجموعہ بنتا ہے بھئی۔ تو پہلی قسم کیا؟ مفرد، منصرف، صحیح۔ جیسے زید، اس کا اعراب تینوں حالتوں میں کیسے آئے گا؟ رفع کس کے ساتھ؟ ضمہ کے ساتھ۔ فتحہ نہیں۔ رفع کس کے ساتھ آئے گا؟ ضمہ کے ساتھ۔ نصب کس کے ساتھ؟ فتحہ کے ساتھ اور جر کسرہ کے ساتھ۔ زید، زیداً، زید۔ دیکھو یہ جو اعراب ہیں یہ اب جتنی قسمیں آگے بیان کریں گے کچھ لفظی ہیں، کچھ تقدیر ہیں۔ لفظی وہ قسمیں جن میں تلفظ سے ہی پتہ چل جاتا ہے اعراب کا۔ دیکھو زید، میں نے کیا پڑھا کچھ پتہ چلا؟ کیا پڑھا؟ رفع پڑھا۔ دیکھو سننے سے تلفظ سے ہی آپ کو پتہ چل گیا یہ ہے اعراب لفظی۔ اور بعض اوقات آگے قسمیں آئیں گی جن میں اعراب کا پتہ تلفظ سے نہیں چلتا جیسے جاء موسی، رایت موسی، مررت بموسی۔ یہ اعراب دیکھو تینوں حالتوں میں موسیٰ کا لفظ اسی طرح رہتا ہے تو اس کو اعراب تقدیدی کہتے ہیں۔ یہ آگے قسم آ جائے گی بس فی الحال اتنا یاد رکھیں کہ یہ اعراب دو قسم پر ہوگا یا لفظی ہوگا یا تقدیدی۔ لفظی کون سا؟ جس کا تلفظ سے ہی پتہ چل جائے سننے سے ہی پتہ چل جائے۔ جی تو پہلی قسم کیا تھی؟ مفرد، منصرف، صحیح۔ یہ سولہ قسمیں آپ کو قل ہو اللہ کی طرح یاد ہونی چاہیے یہ آگے آپ کو بہترین ہر جگہ نحو میں کام آئیں گی اور یہ قسمیں آپ کے ذہن میں ہوں گی تو آپ آسانی سے عبارت حل کر سکیں گے اعراب نکال سکیں گے۔ بھئی اعراب کا پتہ چل جائے گا پھر اس کو پڑھنا کیسے ہے تو یہاں سے آپ کو پتہ چل جائے گا۔ تو پہلی قسم کیا؟ مفرد، منصرف، صحیح۔ دوسری قسم مفرد، منصرف جاری مجراے صحیح۔ اور جاری مجراے صحیح کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں حرف علت ہو اور ماقبل اس کا ساکن ہو۔ یعنی آخر میں و یا یا آئیں گے۔ الف نہیں آ سکتا بھئی کیونکہ الف ہمیشہ ساکن ہی رہتا ہے لیکن و اور یا پر حرکت آ سکتی ہے۔ جیسے دلو اور ضبی۔ دیکھو یا پر حرکت آ گئی دلو و پر حرکت آ گئی لیکن الف پر کبھی بھی حرکت نہیں آ سکتی۔ الف ہمیشہ ساکن رہتا ہے۔ اگر الف پر کبھی آپ کو حرکت نظر آئے تو وہ دراصل ہمزہ ہوتا ہے الف نہیں ہوتا لیکن الف کی صورت میں پھر ہمزہ، ہمزہ جو ہے اس کو کبھی الف کی صورت میں عربی میں لکھتے ہیں، کبھی واو کی صورت میں اور کبھی یا کی صورت میں۔ تو الف پر جب بھی حرکت آپ کو نظر آئے وہ الف نہیں ہوگا بلکہ کیا ہوگا؟ ہمزہ ہوگا۔ جو الف کی صورت میں لکھا گیا ہے۔ تو پہلی قسم کیا؟ مفرد، منصرف، صحیح۔ دوسری قسم مفرد، منصرف جاری مجراے صحیح۔ جاری مجراے صحیح کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں واو یا یا ہو اور ماقبل اس کا ساکن ہو۔ یہ جاری مجراے صحیح ہے۔ جاری مجراے کا کیا معنی؟ قائم مقام۔ یہ قائم مقام صحیح کے ہے یعنی اسی جیسا ہے جیسے مفرد، منصرف صحیح پر تینوں اعراب آتے تھے اس پر بھی تین طرح کے اعراب لفظی آ سکتے ہیں۔ دلو و ضبی، دلوان و ضبیان اور دلو و ضبی۔ دیکھو تینوں طرح کی حرکتیں و اور یا پر آ رہی ہیں۔ اور تیسری قسم تھی جمع، مکسر، منصرف۔ جمع ہو یعنی مفرد اور تثنیہ نہ ہو۔ مکسر ہو یعنی جمع سالم نہ ہو، مسلمون یا مسلمات کی طرح نہ ہو۔ اور منصرف ہو یعنی غیر منصرف نہ ہو۔ تو جمع، مکسر، منصرف جیسے رجال، اس پر بھی تینوں طرح کے اعراب آئیں گے لفظی اور حرکت کے ساتھ۔ جیسے رجال، رجالاً، رجالاً۔ جی تو پہلی تینوں قسمیں، پہلی قسم کیا؟ مفرد، منصرف، صحیح۔ دوسری مفرد، منصرف جاری مجراے صحیح۔ تیسری جمع، مکسر، منصرف۔ یہ آپ نے بار بار دہرانا ہے میں بھی اس لیے بار بار تکرار کروا رہا ہوں کہ کوئی آپ سے یہ قسمیں پوچھے تو آپ کو سوچنا نہ پڑے زبان پر رواں ہو جیسے صرف کی گردانیں آپ سینکڑوں مرتبہ دہراتے تھے تاکہ پھر کبھی نہ بھولیں تو اس کو بھی آپ نے خوب دہرانا ہے بھئی۔ تو ان تینوں کا رفع ضمہ کے ساتھ، نصب فتحہ کے ساتھ اور جر کسرہ کے ساتھ۔ چوتھی قسم جو ہم نے پڑھی وہ جمع مؤنث سالم بھئی۔ جمع ہو اور جمع بھی کون سی؟ مؤنث سالم یعنی الف اور لمبی تا کے ساتھ۔ جیسے مسلمات اور اس کا رفع کس کے ساتھ؟ ضمہ کے ساتھ اور نصب اور جر دونوں کسرہ کے ساتھ۔ یہاں فتحہ نہیں آئے گا بھئی آپ نے ہمیشہ خیال رکھنا ہے۔ یہاں یہ عبارت میں یہ الف تا کے ساتھ جمع مؤنث سالم آ جائے اور طلباء اکثر غلطی کرتے ہیں وہ نصب کی حالت میں مسلمات پڑھیں گے۔ بھئی لیکن آپ نے یاد رکھنا ہے اس پر اس پر فتحہ آ ہی نہیں سکتا بلکہ اس پر نصب کس شکل میں آتا ہے؟ کسرہ۔ یعنی یوں کہیں، یوں کہیں۔ اس کا نصب جر کے تابع ہے۔ اس کا نصب یعنی اس کا نصب کس طرح کا ہوتا ہے؟ جر جیسا ہوتا ہے۔ اس کا نصب کس جیسا ہوتا ہے؟ جر جیسا۔ ہاں تو لیکن ہے نصب ہی۔ جیسے دیکھو جاء نی مسلمات یہ کون سی حالت ہے؟ رفعی حالت اور رایت مسلمات یہ کون سی حالت ہے؟ نصبی حالت ہے۔ کوئی اعتراض کرنے والا کہے گا میں تو اس پر جر پڑھ رہا ہوں آپ اس کو منسوب کیسے کہہ رہے ہیں کہ اس پر نصب ہے تو آپ نے کیا جواب میں کہنا ہے کہ یہ جر نہیں ہے جر جیسی صورت ہے لیکن ہے یہ نصب کیونکہ یہ حالت نصبی میں ہے مفعول بہ بن رہا ہے اور آگے بتائیں گے مفعول بہ کیا ہوتا ہے؟ منسوب ہوتا ہے۔ تو رایت مسلمات یہ کون سی حالت میں ہے مسلمات؟ نصبی حالت میں ہے اور مررت بمسلمات دیکھو یہ با جارہ داخل ہے یہ کیا ہے؟ مججور۔ مججور دو ہی ہیں ہمیشہ یاد رکھنا۔ ایک جس پر مضاف آ جائے۔ مضاف کے آگے کیا آتا ہے؟ مضاف الہ تو ایک مضاف الہ مججور ہوتا ہے اور ایک جس پر حرف جر آ جائے اس کے علاوہ پوری عبارت میں آپ نے کہیں بھی جر نہیں پڑھنا یہ دو لفظوں پر ہی جر آئے گا۔ جی تو چوتھی قسم کیا؟ جمع مؤنث سالم۔ رفع کس کے ساتھ؟ ضمہ کے ساتھ، نصب اور جر کسرہ کے ساتھ۔ جیسے ہن مسلمات و رایت مسلمات و مررت بمسلمات۔ آگے سبق دیکھیے بھئی۔ پنجم غیر منصرف۔ غیر منصرف کا اعراب آ گیا. بھئی یاد رکھو ادھر دیکھیے۔ پہلے تو یہ سمجھ لیں غیر منصرف کسے کہتے ہیں؟ آپ کو بتلائےنگے کہ منع صرف کے نو اسباب ہیں۔ منع صرف کے نو۔ یعنی یوں کہو غیر انصراف کے نو اسباب ہیں۔ نو چیزیں آپ کو بتلائیں گے۔ ان نو میں سے کوئی سی دو کسی لفظ کے اندر آ جائیں تو وہ لفظ غیر منصرف ہو جاتا ہے۔ وہ کیا ہوتا ہے؟ غیر منصرف ہوتا ہے اور غیر منصرف کا حکم بھی آپ کو بتلائیں گے کہ اس پر کسرہ بھی نہیں آ سکتا اور تنوین بھی نہیں آ سکتی۔ جیسے عمر کا لفظ غیر منصرف ہے۔ تو حالت رفعی میں پڑھیں گے جاء نی عمر۔ देखو عمر تنوین میں نہیں پڑھ رہا بلکہ تنوین کے بغیر پڑھ رہا ہوں جاء نی عمر۔ اور نصب رایت عمر دیکھو تنوین آخر میں نہیں پڑھ رہا اور جر مررت بمرہ دیکھو اس پر کسرہ نہیں آ رہا، کسرہ نہیں۔ اس کا جر بھی کس شکل میں ہے؟ فتحہ کی صورت میں ہے۔ توجہ ہے؟ یعنی یہ مسلمات کے برعکس ہے۔ مسلمات میں نصب جر جیسا تھا اور یہاں پر جر جو ہے کس جیسا ہے؟ نصب جیسا ہے۔ پڑھیں بھئی جاء نی عمر حالت رفعی ہے پھر پڑھیں جاء نی عمر۔ رایت عمر یہ کون سی حالت ہے؟ نصبی حالت۔ اور مررت بعمرہ۔ دیکھو اب حالانکہ اس لفظ پر کیا داخل ہو رہی ہے؟ با جارہ اور با کیا کرتی ہے؟ جر دیتی ہے۔ تو پڑھنا تو چاہیے تھا بعمرین۔ کسرہ بھی آنا چاہیے تھا اور تنوین بھی لیکن غیر منصرف پر نہ کسرہ آتا ہے اور نہ تنوین آتی ہے تو لہذا اس پر اس کو اس کا جر بھی فتحہ کی صورت میں آتا ہے تو مررت بعمرہ۔ اب آپ سے کوئی کہے بھئی کہ یہ مررت بعمرہ اس عمر کا اعراب بتلاؤ۔ آپ کیا کہیں گے؟ جی؟ جی آپ سے اعراب پوچھ رہا ہوں میں۔ مررت بعمرہ، عمر کا اعراب بتاؤ۔ اس وقت اس وقت جو میں جملہ بول رہا ہوں مررت بعمرہ۔ جر ہے آنکھیں بند کر کے کہیں جر ہے۔ وہ کہے گا بھئی جر کہاں سے ہے؟ میں تو اس پر زبر پڑھ رہا ہوں۔ آپ کہنا اس کا جر کس شکل میں آتا ہے؟ اس کا جر آتا ہی زبر کی شکل میں ہے لیکن یہ مجرور ہے، حالت جری میں ہے۔ بھئی کیسے پتہ چلا یہ حالت جری میں ہے؟ اس پر با داخل ہو رہی ہے کیا داخل ہو رہی ہے؟ اور ہم نے نحو میں پڑھا ہے جس لفظ پر حرف جر داخل ہو جائے یا جو مضاف الہ ہو وہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور۔ ہاں پھر اس کا جر مختلف صورتوں میں آئے گا یہ سولہ قسمیں آپ کو بتا رہے ہیں۔ کبھی جر کسرہ اور تنوین کے ساتھ آئے گا مررت بزید، دیکھا؟ اور کبھی جر فتحہ کی صورت میں آئے گا مررت بعمرہ اور کبھی اور صورتوں میں بھی آئے گا جو آگے آ جائیں گی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ ہے جر ہی کیونکہ با جارہ آ گئی اور با جارہ جس لفظ پر بھی داخل ہو وہ کیا ہوگا؟ مجرور۔ ہاں جر اس کی مختلف شکلوں میں آ سکتا ہے۔ تو غیر منصرف اسے کہتے ہیں جس میں نو اسباب منع صرف میں سے کوئی سے دو اسباب آ جائیں۔ یا کوئی ایک ایسا سبب آ جائے جو دو کے قائم مقام ہے۔ غیر منصرف کسے کہتے ہیں؟ جس میں اسباب منع صرف نو ہیں نو۔ یہ آپ کو ابھی بتلائیں گے اور ان نو میں سے دو اسباب منع صرف کسی لفظ میں آ جائیں تو وہ لفظ کیا بن جاتا ہے؟ وہ لفظ غیر منصرف ہوتا ہے چاہے دو سبب آ جائیں ان نو میں سے یا کوئی ایک آ جائے ایسا جو دو کے قائم مقام ہے۔ جو دو کے ہاں وہ میں بھی آپ کو تفصیل بیان کرتا ہوں دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں پنجم غیر منصرف پانچویں قسم جو ہے اسم متمکن کی وہ غیر منصرف ہے۔ و آن اسم اور وہ وہ اسم ہے کہ دو سبب از اسباب منع صرف درو باشد کہ دو سبب از اسباب منع صرف کہ اسباب منع صرف میں سے دو سبب اسبابِ منع صرف میں سے دو سبب دار و باشد اس میں ہوں۔ اسبابِ منع صرف میں سے دو سبب اس کے اندر ہوں و اسبابِ منع صرف نو است اور اسبابِ منع صرف نو ہیں۔ نو کا کیا معنی؟ نو وہ اسبابِ منع صرف اب بتلانے لگے۔ عدل عدل ہے وصف ہے تانیث ہے معرفہ ہے عجمہ ہے جمع ہے ترکیب ہے وزنِ فعل ہے اور الف نون زائدتان ہیں۔ میری کتاب میں ہر ایک پہ نمبر ڈالے ہوئے ہیں۔ عدل پر ہے ایک، وصف پر ہے دو، تانیث پر ہے تین، معرفہ پر ہے چار، عجمہ پر ہے پانچ، جمع پر ہے چھ، ترکیب پر ہے سات، وزنِ فعل پر ہے آٹھ اور الف نون زائدتان پر ہے نو۔ آپ کی کتابوں میں ہیں؟ ہاں، بس یہ نو سبب ہیں ایک ایک پر انہوں نے نمبر لگا کر وضاحت کر دی۔ اب ان کو ذرا سمجھ لیں بھئی، زیادہ تفصیل تو بڑی کتابوں میں آئے گی، بس اتنا سمجھ لیں، عدل کا معنی ہوتا ہے پھیرنا، پھیرنا۔ تو ایک لفظ کو ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف پھیر دینا بغیر کسی قانون کے، اس کو عدل کہتے ہیں۔ ایک لفظ کو ایک دوسری صورت یعنی ایک لفظ کی صورت بدل کر دوسری صورت دے دینا اس کو کہتے ہیں عدل۔ جیسے ابھی آپ نے لفظ پڑھا عمر، عمر۔ عمر کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ اصل میں تھا عامر۔ پھر اس عامر سے بدل کر عمر بنا دیا گیا۔ توجہ ہے؟ اصل میں کیا تھا؟ عامر تھا۔ پھر درمیان سے الف کو ختم کر دیا اور عین کو ضمہ دے دیا اور میم کو فتحہ دے دیا تو عمر بن گیا۔ تو صورت بدل دی یا نہیں بدل دی؟ یہ ہے عدل، پھیر دیا اور کوئی قانون ہے کہ کس قانون کے تحت یہ بدلا؟ کہتے ہیں کوئی قانون نہیں۔ قانون قانون کوئی قانون نہیں، بس عربوں نے اس طرح اس کو پھیر دیا، اب وہ اس کو عمر استعمال کرتے ہیں۔ تو اس کے اندر اب آپ سے کوئی پوچھے عمر کے اندر کون سا سبب ہے؟ تو آپ کہیں گے عدل ہے۔ اس کے اندر کیا ہے؟ کیا معنی؟ عدل اس کی صورت کچھ اور تھی، اب پھیر کر پھیر کر یعنی بدل کر اور صورت بنا دی گئی۔ تو عدل کا معنی پھیرنا یا یوں کہو بدلنا، بدلنا، اس کو بدل دیا گیا۔ تو یہ ہے عدل۔ دوسرا سبب ہے وصف۔ وصف جس کو آپ صفت کہتے ہیں صفت۔ مثلاً اردو میں کہتے ہیں بہادر آدمی، دیکھو یہ بہادری اس آدمی کی صفت ہے تو یہ جو وصف ہے، یہ جو یہ اسبابِ منع صرف میں سے ہے۔ یہ وصف کیا ہے؟ اسبابِ منع صرف میں سے ہے۔ جیسے آپ کو مثال دیں گے۔ احمر احمر، حمزہ، حا، میم، را، احمر کا معنی سرخ، سرخ۔ ابیض ابیض، الف، با، یا اور ضاد، ابیض کا معنی ہے سفید، سفید۔ تو یہ دیکھو یہ وصف ہے، یہ سرخ ہونا اور سفید ہونا یہ وصف ہے۔ کوئی چیز ہوگی جو سرخ ہوگی یا سفید ہوگی، تو یہ سفیدی یا سرخی اس کا وصف ہے۔ تو یہ ابیض، یہ کیا ہے؟ وصف۔ اسی طرح احمر، یہ کیا ہے؟ وصف۔ ایک ہوتی ہے ذات، ایک ہوتا ہے اس کا وصف۔ جیسے میں کہتا ہوں زید بہادر آدمی ہے، تو زید دیکھو ایک ذات کا نام ہے، ایک شخص کا نام ہے۔ جیسے ہی میں کہتا ہوں زید، مثلاً آپ کا وہ ساتھی ہے، آپ اس کو جانتے ہیں تو جیسے ہی میں اس کا نام لوں گا، فورا آپ کے ذہن میں وہ ساتھی آ جائے گا۔ جیسے آپ کے اور جماعت والے ساتھی ہیں، کسی ساتھی کا نام لیتا ہے کوئی ساتھی، فورا آپ کے ذہن میں اس کی صورت آ جاتی ہے کہ اس ساتھی کی بات کر رہا ہے۔ تو جیسے تو زید کیا ہے؟ ذات، اور بہادری دیکھو زید کا وصف ہے۔ اب بہادری کا اپنا وجود نہیں۔ کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ بہادری کو زید سے الگ کر کے مجھے دکھا دیں؟ نہیں، بہادری تو زید کا وصف ہے، زید ہے تو زید کی بہادری بھی ہے، زید نہیں تو زید کی بہادری بھی نہیں۔ یہ اس سے الگ ہو ہی نہیں سکتا۔ جیسے پھول کی خوشبو۔ پھول ہے تو پھول کی خوشبو ہے اور اسی طرح وہ پھول کا رنگ ہے۔ پھول کا رنگ یا پھول کی خوشبو پھول سے علیحدہ کر دیں، علیحدہ نہیں ہو سکتی۔ تو پھول تو ذات ہے اور اس کا رنگ اور خوشبو اس کا وصف ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی، تو یہ جو وصف ہوگا، یہ بھی سبب بنے گا غیر انصراف کا۔ یہ بھی سبب بنے گا غیر انصراف کا۔ اور یہ بھی اس میں یاد رکھنا کہ اصل کے اعتبار سے وصف ہونا چاہیے، بہرحال یہ تو خیر اگلی کتابوں میں باتیں آ جائیں گی، اگر نہ بھی یاد رہیں کوئی حرج نہیں۔ بس بنیادی بات آپ کو پتہ ہونی چاہیے کہ عدل کا کیا معنی ہوتا ہے؟ عدل کا معنی ہوتا ہے بدلنا، پھیرنا، ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف پھیر دینا اور وصف جو کسی چیز کی صفت ہوتی ہے۔ وصف کسے؟ جو کسی چیز کی صفت ہوتی ہے۔ تانیث، تانیث یعنی مؤنث ہو۔ وہ لفظ کیا ہو؟ مؤنث ہو۔ اور تانیث کی علامتیں آپ پڑھ چکے ہیں۔ کتنی علامتیں ہیں؟ چار۔ چار انہوں نے بیان کی تھیں۔ نمبر ایک، گول تا اور دوسری الفِ مقصورہ، تیسری الفِ ممدودہ اور چوتھی تائے مقدرہ بھئی۔ یا تانیث مؤنث کا نام وغیرہ ہو، بھئی وہ بھی مؤنث ہے۔ اچھا، معرفہ، چوتھی قسم ہے معرفہ۔ معرفہ آپ پڑھ چکے، معرفہ کسے کہتے ہیں؟ جو کسی معین چیز پر دلالت کرے، جیسے ہی وہ بولے وہ لفظ آپ فورا سمجھ جائیں کس کی بات ہو رہی ہے اور اگر آپ نہیں سمجھے تو معلوم ہوا وہ معرفہ نہیں ہے۔ تو معرف اور اس کی کتنی قسمیں تھیں؟ سات۔ سات قسمیں نمبر ایک، تمام ضمیریں، نمبر دو، علم، نمبر تین، اسمائے اشارہ، نمبر چار، اسمائے موصولہ، نمبر پانچ، معرفہ با ندا، نمبر چھ، معرف باللام اور نمبر سات، ان پہلے ان میں سے جو معرفہ با ندا کے علاوہ باقیوں میں سے کسی ایک کی طرف جو مضاف ہو جائے، وہ بھی کیا اسی درجے کا معرفہ بن جاتا ہے۔ پھر دہراؤ، بار بار یہ چیزیں دہرایا کرو، کتاب کے آخر تک ہم پہنچیں گے، آپ کو انشاءاللہ خود ہی ازبر ہو جائیں گی۔ معرفہ کتنی قسم پر؟ سات۔ نمبر ایک، ترتیب سے، تمام ضمیریں، نمبر دو، علم۔ پھر دہراؤ شروع سے پہلی قسم تمام ضمیریں، نمبر دو، علم، نمبر تین، اسمائے اشارہ، نمبر چار، اسمائے موصولہ، نمبر پانچ، معرفہ با ندا، نمبر چھ، معرف باللام یا معرف باللام کہہ لیں اور نمبر سات، ان میں سے کسی ایک کی طرف جو مضاف ہو جائے اور میں نے بتایا تھا معرفہ با ندا کے علاوہ باقی جو پانچ ہیں ان کی طرف کوئی اسم مضاف ہو جائے، وہ بھی معرفہ بن جاتا ہے۔ تو یہ دیکھا یہ اسبابِ منع صرف ذکر کر رہے ہیں۔ پہلا کیا ہے؟ عدل، دوسرا وصف، تیسرا تانیث، چوتھا معرفہ لیکن یاد رکھنا معرفہ کی سات قسموں میں سے صرف علم یہاں مراد ہے۔ معرفہ کی سات قسموں میں سے صرف کون سبب بنے گا؟ علم، علم۔ باقی چھ قسمیں وہ سبب نہیں بنیں گی غیر انصراف کا۔ اگلی قسم ہے جی عجمہ، اگلا سبب ہے عجمہ۔ عجمہ کا معنی یہ ہے کہ لفظ عجمی زبان کا ہو۔ وہ لفظ کس زبان کا ہو؟ عجمی۔ یاد رکھو عرب جو ہے عرب، وہ اپنی یا عربی جو ہے دنیا کی فصیح ترین زبان ہے۔ اس میں اتنی وسعت ہے، ہر چیز کا کوئی نہ کوئی نام ہے، بلکہ ایک ایک چیز کے بیسیوں نام مل جاتے ہیں۔ مثال دیکھ لو جیسے تلوار، اردو میں تلوار کا ایک ہی نام ہے، عربی میں تلوار کے غالباً 80 یا 200 اس سے بھی زیادہ نام ہیں۔ ایک ہی چیز کے اتنے زیادہ نام، آپ اس زبان کی وسعت کا اندازہ لگا لیں بھئی۔ یا دوسری مثال لے لیں، شیر بھئی، شیر، جنگلی درندہ جو ہے، شیر اردو میں ایک ہی نام ہے یا ہو سکتا ہے ایک یا دو اور بھی ہوں۔ ایک دو نام ہوں گے اردو میں۔ عربی زبان میں شیر اور متعلقاتِ شیر جو ہیں وہ والد صاحب رحمہ اللہ، شیخ الحدیث والتفسیر مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ انہوں نے ایک نظم کی صورت میں جمع کیے شیر اور اس کے متعلقات کے نام اور وہ 600 سے زیادہ ہیں بھئی۔ آپ اندازہ لگائیے ایک زبان میں شیر اور اس کے متعلقات کے 600 سے زیادہ نام ہوں، یہ کتنی وسیع و زبان ہوگی۔ آج کل انگریزی دنیا پر چھائی ہوئی ہے کیونکہ وہ ترقی کر گئے، آگے نکل گئے اور جو ترقی کر جاتا ہے پوری دنیا پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ تو پہلے مسلمان اسلام پر چلتے تھے، اللہ نے وہ عروج نصیب فرمایا کہ پوری دنیا پر اسلام، اسلام کا عروج تھا اور ہر طرف دیکھیں یہ اردو بھی عربی انداز میں لکھی جاتی ہے، فارسی بھی عربی انداز میں لکھی جاتی ہے اور بھی کتنی ہی زبانیں ہیں یہ عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں کیونکہ اسلام کا عروج تھا، عربی کا عروج تھا تو زبانیں اسی رسم الخط میں لوگ لکھنے لگ پڑے تو یہ یہ رسم الخط پھیلتا چلا گیا دنیا میں۔ میں بات یہ کر رہا تھا انگریزی کا عروج ہے لیکن عربی کے سامنے انگریزی یوں معلوم ہوتی ہے جیسے کوئی چھوٹا سا بچہ ہو کسی بہت بڑے کسی بہت بڑے عالم کے سامنے چھ سات سال کا کوئی بچہ ہو اس بچے کے علم کا اندازہ لگاؤ اور اس بڑے عالم کے علم کا اندازہ لگاؤ تو عربی کے سامنے انگریزی اتنی چھوٹی سی زبان ہے۔ اتنی وسعت ہے، اتنی وسعت ہے عربی زبان میں۔ تو تو عرب جو ہیں وہ اپنی زبان پر ناز کرتے تھے، فخر کرتے تھے، اپنے آپ کو عرب کہتے تھے تو باقی ساری دنیا والوں کو وہ عجم کہتے تھے۔ عجم کا معنی ہے گونگے، گونگے، یعنی ہماری زبان تو ایسی زبان ہے، باقی تم جو کچھ بولتے ہو گونگوں جیسا ہی ہے۔ ہماری زبان کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں تمہاری زبانوں کی تو باقی دنیا والوں کو وہ عجم کہتے تھے، گونگے، گونگے۔ بات چل رہی تھی عجمہ کی، عجمہ کوئی عجمی لفظ ہو یعنی غیر عربی لفظ ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ غیر عربی لفظ، تو غیر عربی لفظ جب عربی میں آئے گا تو اس کے اندر عجمہ سبب پایا جائے گا، تو وہ سبب بنے گا غیر منصرف ہونے کا۔ چھٹا ہے جمع، جمع۔ جمع آپ نے پڑھا بھئی، ایک جمع مکسر ہے، ایک جمع سالم ہے۔ پھر اس جمع مکسر کے اندر ایک وزن ہے جس کو جمع منتہی الجموع کہتے ہیں، توجہ ہے؟ کیا کہتے ہیں؟ جمع منتہی الجموع۔ یہ آپ نے یاد رکھنا ہے، جمع منتہی الجموع وہ جمع جو جمعوں کی جس پر انتہا ہوتی ہے اور وہ جمع ہے جس میں دو حروف کے بعد الف آتا ہے اور الف کے بعد پھر دو یا تین حرف آتے ہیں۔ جیسے مساجد، توجہ ہے؟ مسجد کی جمع کیا؟ مساجد۔ دیکھو مسجد میں الف تھا؟ نہیں، نہیں، لیکن مساجد کے درمیان میں الف آگیا، یہ ہے الفِ جمع، یہ کیا ہے؟ بھئی الفِ جمع کیا معنی؟ بھئی جمع بنانے کے لیے الف لائے ہیں درمیان میں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ الفِ جمع۔ تو مسجد کی جمع کیا؟ مساجد، دیکھو مساجد کے اندر دو حروف ہیں، پھر الف ہے اور الف کے کتنے حروف؟ دو حروف، جیم اور دال، تو یہ ہے جمع منتہی الجموع کہ الفِ جمع کے بعد دو حروف آجائیں یا الفِ جمع کے بعد تین حروف آجائیں جیسے مصباح، مصباح صاد کے ساتھ، میم، صاد، با، الف اور حا، مصباح، یہ چراغ کو کہتے ہیں، دیا بھئی، دیا روشنی کے لیے جو جلاتے ہیں۔ اس مصباح کی جمع ہے مصابیح بھئی، مصابیح، دیکھو اس میں بھی کیا آیا؟ الفِ جمع اور الفِ جمع کے کتنے حروف ہو گئے؟ تین، با، یا اور حا، تو یہ ہے جمع منتہی الجموع، اس اس جمع کو کیا کہتے ہیں؟ جمع منتہی الجموع۔ پھر دہراؤ، جمع منتہی الجموع، کسے کہتے ہیں کہ الفِ جمع کے بعد دو یا تین حرف آجائیں یہ جمع منتہی الجموع ہے۔ تو جمع سے یہ والی جمع مراد ہے، ہر جمع نہیں۔ رجل کی جمع کیا؟ رجال، وہ مراد نہیں۔ اسد کی جمع کیا؟ اسد، اسد، یہ یہ جمع مراد نہیں۔ کتاب کی جمع کیا؟ کتب، یہ جمع مراد نہیں۔ بلکہ کون سی جمع مراد ہے؟ جمع منتہی الجموع اور جمع منتہی الجموع کسے کہتے ہیں؟ جس میں الفِ جمع کے بعد دو یا تین حرف آجائیں۔ دو یا تین حرف آجائیں۔ اب آپ سے میں پوچھتا ہوں، آپ نے مجھے بتلانا ہے، دوابہ، دوابہ، جمع ہے دابۃ کی، دوابہ، جی، یہ جمع منتہی الجموع ہے یا نہیں ہے؟ ہے، کیسے؟ الف کے بعد دو حرف آنے چاہیے، یہاں تو الف کے بعد ایک ہی حرف ہے۔ جی۔ جوا، بھئی یہ دو حرف ہیں، دوابہ، دیکھو یہ با مشدد ہے اور حرفِ مشدد دراصل دو حرف ہوتے ہیں۔ دوابہ، دیکھو آپ آرام سے ادا کریں، دوابہ، دیکھو پہلی با ساکن، دوسری با متحرک، دوابہ تو یہ الف کے بعد اگر حرفِ مشدد آجائے تو یہ بھی دراصل دو حرف ہیں۔ تو اسبابِ منع صرف میں جمع بھی ہے، جمع سے کون سی جمع مراد؟ جمع منتہی الجموع۔ اور پھر اس میں یاد یاد رکھنا، کہ یہ جمع خود دو سببوں کے قائم مقام ہے۔ یہ جمع یعنی جس جو لفظ اس وزن پر آ جائے، یعنی جمع منتہی الجَموع کا صیغہ ہو تو وہ غیر منصرف آپ نے پڑھنا ہے۔ دوسرا سبب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، بس ایک سبب آ گیا، کون سا سبب جمع؟ جب جمع منتہی الجَموع تو اب یہ کتنے سببوں کے قائم مقام؟ دو۔ انہوں نے بتلایا تھا نا کہ غیر منصرف وہ لفظ ہے جس میں نو اسبابِ منع صرف میں سے کتنے آ جائیں؟ دو آ جائیں تو یہاں آپ نے دوسرا نہیں تلاش کرنا، بس یہ ایک ہی سبب کتنے کے قائم مقام؟ دو کے قائم مقام، یہ دو کے برابر ہے۔ اسی طرح یہ جو تانیس آئی بھئی پیچھے، تانیس، تانیس بھی سبب تھا غیر انصراف کا آپ نے پڑھا۔ اس تانیس میں آپ نے بتایا تانیس کی کتنی علامتیں؟ چار، نمبر ایک گول تا، نمبر دو الف مقصورہ، نمبر تین الف ممدودہ، اور تائے مقدرہ۔ اس میں بھی یاد رکھنا یہ جو تانیس والا الف مقصورہ اور الف ممدودہ، یہ بھی دو سببوں کے قائم مقام ہیں۔ جب تانیس آ جائے کس کے ساتھ؟ الف مقصورہ کے ساتھ یا الف ممدودہ کے ساتھ تو پھر آپ نے دوسرا سبب تلاش نہیں کرنا، یہ سبب خود ہی کتنے کے قائم مقام؟ دو کے قائم مقام، لہٰذا وہ لفظ غیر منصرف پڑھنا ہے۔ آگے دیکھیے ترکیب بھئی۔ ساتواں سبب ہے ترکیب۔ ترکیب آپ پڑھ چکے ہیں مرکبِ منع صرف آپ نے پڑھا تھا، جیسے باعلَبَکّہ باعلَبَکّہ تو یہ بھی سبب ہے غیر انصراف کا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے ہے وزنِ فعل آٹھواں سبب ہے غیر انصراف کا وزنِ فعل، بھئی یعنی فعل والا وزن ہو۔ فعل کے اوزان آپ نے پڑھے؟ گردانیں پڑھی ہیں یا نہیں پڑھی؟ ضرب یضرب ضرباً فھو ضاربٌ، وضرب یضرب ضرباً، اسی طرح یضرب یضربان یضربون، اسی طرح مجہول ہے ضرب ضرب ضربوا، اسی طرح مضارع مجہول ہے یضرب یضربان یضربون۔ تو یہ جو فعل کے اوزان ہیں یہ بھی سبب بنتے ہیں غیر انصراف کا، ان کی وجہ سے بھی لفظ کیا بنتا ہے؟ غیر منصرف بنتا ہے، یہ جو فعل کے اوزان ہیں۔ وا الف و نون زائدتان، اور نواں سبب ہے الف و نون زائدتان، کسی لفظ کے آخر میں الف و نون آ جائیں اور وہ الف و نون حرف اصلی نہ ہوں بلکہ زائد ہوں، حرف اصلی کسے کہتے ہیں؟ جو فاء عین لام کے مقابلے میں ہوں، تو جو فاء عین لام کے مقابلے میں نہ ہوں، وہ الف نون لفظ کے آخر میں آ گئے تو یہ سبب بنیں گے غیر منصرف ہونے کا۔ عدل کا پتہ چل گیا؟ عدل کسے کہتے ہیں؟ لفظ، لفظ کو بدلنا، ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف۔ وصف کسے کہتے ہیں؟ کسی چیز کی جو صفت ہوتی ہے۔ تانیس جو مؤنث ہو، اور اس تانیس کے اندر الف مقصورہ اور الف ممدودہ وہ دو سببوں کے قائم مقام ہے۔ دہرائو زبان سے تانیس کے اندر جو الف مقصورہ اور الف ممدودہ ہے وہ دو سببوں کے قائم مقام ہے۔ اسی طرح معرفہ بھئی۔ معرفہ سے کون سی قسم مراد؟ علم مراد ہے، باقی قسمیں نہیں۔ عجمہ کا کیا معنی؟ ہاں ہاں۔ ہاں، غیر عربی لفظ۔ عجمہ کا کیا معنی؟ غیر عربی لفظ۔ ہماری اردو کا کوئی لفظ عربی میں چلا جائے تو دیکھو یہ غیر عربی ہے۔ انگریزی کا کوئی لفظ عربی میں آ جائے تو دیکھو یہ غیر عربی ہے۔ جیسے دیکھو، جیسے دیکھو، ٹیلی ویژن ٹیلی ویژن دیکھو انگریزی زبان کا لفظ ہے، اسی کو عربی میں لے گئے تو کہتے ہیں ٹیلی فیز یوں کیا کہتے ہیں؟ دیکھو۔ اب آپ سے کوئی پوچھے ٹیلی فیز یوں عربی ہے یا عجمی؟ تو آپ کہیں گے عجمی لفظ ہے، یعنی غیر عربی ہے، کسی اور زبان سے عربی میں آیا ہے، تو اس طرح اور زبانوں کے الفاظ بھی لوگ استعمال کرتے ہیں بولتے ہیں، تو وہ عجمی ہے، تو تو ان میں عجمہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ جمع جمع سے کیا مراد ہے؟ جمع منتہی الجَموع۔ جمع منتہی الجَموع کون سا صیغہ ہے؟ الفِ جمع کے بعد دو یا تین حرف آ جائیں اور یا ایک حرف ہو لیکن وہ مشدد ہو۔ ترکیب سے کون سی ترکیب مراد ہے؟ مرکبِ منعِ صرف۔ مرکبِ منعِ صرف۔ مرکبِ منعِ صرف یاد ہے؟ باعلَبکّہ، باعل الگ لفظ تھا، بَکّا الگ لفظ تھا، دونوں کو جوڑ کر ملا دیا تو یہ باعلَبکّہ۔ اگلا ہے وزنِ فعل۔ وزنِ فعل کا کیا معنی؟ فعل والا وزن ہو جو گردانوں میں آپ نے پڑھے ہیں۔ اور الف و نون زائدتان، اس سے کیا مراد ہے؟ ایسا الف اور ایسا نون جو زائد ہوں۔ کیا معنی زائد ہوں؟ حرف اصلی نہ ہوں، یعنی فاء عین لام کے مقابلے میں نہ ہوں۔ اب دیکھیے بھئی، مثالیں دینے لگے ہیں۔ چوں عمر، عمر، یہ غیر منصرف ہے، عمر تنوین نہیں پڑھنی بھئی عمر، اور نہیں اس پر کسرہ بھی نہیں آ سکتا، ہاں ایک بات یاد رکھنا قیمتی بات غیر منصرف پر جب الف لام آ جائے کیا آ جائے؟ الف لام آ جائے تو پھر کسرہ آ جائے گا۔ غیر منصرف پر الف لام آ جائے تو پھر اس پر کسرہ آ جائے گا، کسرہ آ جائے گا۔ اور نیز ایک اور بات یاد رکھنا کہ غیر منصرف جب مضاف ہو جائے پھر بھی کسرہ آ جائے گا۔ بس یہ ضابطہ یاد رکھنا، آگے جہاں استعمال آئے گا وہاں آپ کو پتہ لگ جائے گا، بس اتنا یاد رکھیں کہ غیر منصرف پر تنوین تو بالکل ہی نہیں آ سکتی، کسرہ دو صورت میں آ سکتا ہے، کون سی دو صورتیں؟ یا اس پر الف لام آ جائے یا وہ کیا بن جائے؟ مضاف بن جائے، یعنی آگے اس کے مضاف الیہ آ رہا ہو۔ اب دیکھیے بھئی عمر، تنوین پڑھیں گے؟ نہیں، کیوں؟ غیر منصرف ہے، اور غیر منصرف پر کسرہ بھی نہیں اور تنوین بھی نہیں۔ اچھا اب دو سبب کون سے ہیں؟ عمر، ایک تو عدل ہے، میں نے ابھی بتایا عمر اصل میں کیا تھا؟ عامر، تو ایک اس کے اندر عدل ہے، اور کتنے سبب چاہیے؟ دو سبب چاہیے، پھر یہ غیر منصرف بنے گا، ایک سبب سے غیر منصرف نہیں بنتا، تو ایک تو ہے اس میں عدل، دوسرا علم ہے، نام ہے، نام ہے تو یہ غیر منصرف۔ واحمر احمر، احمر کا کیا معنی؟ سرخ رنگ، جی سرخ۔ تو احمر یہ غیر منصرف ہے، ایک سبب کیا؟ وصف ہے، وصف ہے، صفت ہے۔ دوسرا سبب غور کرو، غور کرو اس میں، ہاں احمر، آخری حرف کو نہ دیکھیں، احمر، اکرم، اکریما پڑھا کہ نہیں پڑھا آپ نے؟ تو یہ اکرم آخری حرف کو چھوڑ دیں، اس کو ساکن ہی چھوڑ دیں۔ اکرم، احمر دیکھو ایک وزن ہے، تو وزنِ فعل بھی آیا اور وصف بھی ہے، دو سبب آ گئے، تو یہ غیر منصرف ہے۔ طلحۃ، یاد رکھو ایک تو یہ علم ہے، طلحہ نام ہوتا ہے کہ نہیں طلحہ طلباء کا؟ جی، تو طلحہ، اور نیز اس کے ساتھ گول تا جڑی ہوئی ہے، اور گول تا کس کی علامت ہے؟ تانیس کی، تو یہ نام تو مردوں کا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ تانیس والی گول تا جڑی ہوئی ہے، تو دو سبب ہو گئے، ایک علم، اور ایک تانیس، تو یہ غیر منصرف ہے، تو طلحۃ، تنوین نہیں پڑھیں گے بھئی، طلحۃ۔ آگے دیکھیے بھئی، زینب، زینب، زینب، ایک تو یہ علم ہے، نام ہے بھئی، اور دوسرا تانیس ہے۔ کیا ہے؟ تانیس ہے، کیونکہ یہ عورتوں کا نام ہے، عورتوں کا نام ہے۔ تو تانیس بھی آ گئی اور علم بھی، دو سبب آ گئے تو یہ غیر منصرف ہے، تو زینب، تنوین نہیں پڑھنی بھئی۔ وابراہیم، ابراہیم بھئی۔ ابراہیم اس میں کیا ایک؟ علم ہے، نام ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا، اور عجمہ ہے، عجمہ۔ جمع نہیں بھئی، یہ جمع نہیں ہے، یہ تو نام ہے، ابراہیم، تو عجمہ ہے۔ عجمی غیر عرب نام ہے، یہ کیا ہے؟ غیر عرب نام ہے، تو دو سبب ہو گئے، ایک علم، اور ایک عجمہ، اس میں آ گئے بھئی، علمیت اور عجمہ آ گئے اس میں۔ آپ حیران ہوں گے کہ یہ لفظ تو قرآن میں بھی آیا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر آیا ہے، تو وہ تو عرب ہیں، پھر آپ نے کیسے عجم عجمی کہا ان کو؟ بھئی، نہیں بھئی، حضرت ابراہیم علیہ السلام عربوں سے پہلے گزرے ہیں، اور عربی زبان اس وقت دنیا میں تھی ہی نہیں، اس کے بعد پھر آہستہ آہستہ عربی زبان بنتی چلی گئی بھئی۔ جیسے یہ اردو 300 سال پہلے اردو کا وجود نہیں تھا، تقریباً 300 سال پہلے۔ پھر عربی، فارسی اور اس طرح کے کچھ لوگوں کے یہ جو لشکر لشکر ہوتا تھا بادشاہ کا، اس میں یہ عرب، فارسی والے اور مختلف لوگ ہوتے تھے، تو ہر ایک کی اپنی زبان، تو وہ آپس میں مل کر رہتے تھے، کچھ لفظ ایک زبان کے استعمال ہو رہے ہیں، کچھ دوسری کے ہو رہے ہیں، کچھ تیسری زبان کے، کچھ چوتھی زبان کے، وہ آہستہ آہستہ آہستہ ایک بالکل نئی زبان بن گئی، تو یہ 300 سال پہلے اردو کا وجود ہی نہیں تھا، تو اسی طرح ایک زمانہ تھا عربی زبان کا وجود ہی نہیں تھا، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس وقت گزرے تھے، تو وہ عرب ہوئے یا غیر عرب ہوئے؟ غیر عرب ہوئے۔ غیر عرب ہوئے، تو تو لہٰذا ابراہیم میں ایک سبب کیا ہے؟ یہ علم ہے اور دوسرا سبب کیا؟ عجمہ ہے، یہ عجمی لفظ ہے،ینی غیر عرب ہے۔ ومساجد، جی، یہ بھی غیر منصرف، اس میں کون کون سے دو سبب؟ ایک جمع منتہی الجَموع، دوسرا جی شاباش! ہاں، دوسرا سبب تلاش ہی نہیں کرنا، کیونکہ یہ کون سا وزن ہے؟ جمع منتہی الجَموع کا، اور یہ کتنے سببوں کے قائم مقام؟ یہ دو کے قائم مقام ہے، یہ خود ہی کہیں آ جائے تو لفظ فوراً غیر منصرف بن جائے گا۔ مساجد، جی۔ معدی کرب، معدی کرب بھئی۔ یہاں ترکیب ہے، ترکیب۔ معدی ایک لفظ ہے اور کرب دوسرا لفظ ہے، اور ان دونوں کو جوڑ کر کیا بنا دیا گیا؟ معدی کرب، تو یہ غیر منصرف ہے، غیر منصرف۔ ایک تو اس میں ترکیب ہے، ترکیب، دوسرا نام نام ہے، یہ کیا ہے؟ نام ہے، ایک صحابی گزرے ہیں، حضرت عمرو ابنِ معدی کرب، یعنی معدی کرب کے بیٹے تھے حضرت عمرو رضی اللہ تعالی عنہ۔ اچھا بھئی، تو احمد، احمد، اس میں کون سے دو سبب؟ نمبر ایک، نمبر ایک علم، سب سے پہلا علم ہے، وہ تو فورا آپ پہچان لیا کریں کہ نام ہے کسی کا، علم ہے، دوسرا، وزنِ فعل، احمد، بر وزنِ اکرم، آپ نے اکریما پڑھا یا نہیں پڑھا؟ آپ کہیں گے اکریما، اس میں تو میم پر بھی زبر ہے، میں نے بتایا آخری حرف کو نہ دیکھیں بھئی، وہ فعل ہے اور یہ اسم ہے، تو اکرم، اور یہ کیا ہے؟ اح، احمد، جی۔ عمران، عمران، آخری لفظ آ گیا، اس میں علم، ایک تو یہ علم ہے، نام ہے بھئی، نام، اور دوسرا الف و نون زائدتان ہیں، یہ عین، م، ر، یہ اس کے حروفِ اصلی اور الف نون جو ہیں وہ زائد ہیں۔ دیکھیے آگے، کہتے ہیں رفْعُہ بَضَمَّہ باشَد، اس کا رفع ضمہ کے ساتھ ہوگا، اس کا رفع، کس کا رفع؟ غیر منصرف جس کی بات چل رہی ہے۔ غیر منصرف کا رفع بضمہ باشد، رفع ضمہ کے ساتھ ہوگا، ونصب و جَر بَفَتْحَہ، اور اس کا نصب اور جر دونوں فتحہ کے ساتھ آئیں گے، جیسے جاء عمر، ورأیت عمرا، ومَرَرْتُ بعمرا، دیکھو اس پر کسرہ بھی نہیں اور تنوین بھی نہیں آئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگ گئی؟ جی، کتنی قسمیں گزر گئیں اسم کی؟ پانچ قسمیں، پانچ قسمیں، پہلی قسم، مفردِ منصرفِ صحیح، دوسری قسم، مفردِ منصرف جاری مجرائے صحیح، تیسری قسم، جمعِ مکسرِ منصرف، اور ان تینوں کا رفع کس کے ساتھ؟ ضمہ کے ساتھ، نصب فتحہ کے ساتھ، جر کسرہ کے ساتھ۔ اور چوتھی قسم، جمع مؤنثِ سالم، اس کا رفع ضمہ کے ساتھ، نصب اور جر کسرہ کے ساتھ۔ پانچویں قسم، غیر منصرف، اس کا رفع ضمہ کے ساتھ، نصب اور جر فتحہ کے ساتھ، اور غیر منصرف کسے کہتے ہیں؟ جس میں نو اسبابِ منع صرف میں سے کوئی سے دو آ جائیں یا کوئی ایک ایسا سبب آ جائے جو دو کے قائم مقام ہو۔ دو کے قائم مقام کتنے اسباب ہیں؟ تین۔ تین، دو، کتنے؟ تین۔ تین، نمبر ایک ایک تو مؤنث ہو کس کے ساتھ؟ الفِ مقصورہ کے ساتھ، دوسرا مؤنث ہو کس کے ساتھ؟ الفِ ممدودہ کے ساتھ، اور تیسرا جمع منتہی الجَموع۔ پھر دہرائو بھئی، کتنے سبب ہیں جو دو کے قائم مقام ہیں؟ تین۔ نمبر ایک، تانیس بالالفِ المقصورہ، دوسرا تانیس بالالفِ الممدودہ، اور تیسرا جمع منتہی الجَموع، یہ دو سببوں کے قائم مقام ہیں۔ اور اسبابِ منع صرف کل کتنے؟ نو۔ نو، نمبر ایک، عدل، یہ زبانی یاد ہونے چاہیں، نمبر دو، وصف، نمبر تین، تانیس، نمبر چار، معرفہ، پانچ، عجمہ، چھ، جمع، سات، ترکیب، نمبر آٹھ، وزنِ فعل، اور نمبر نو، الف نون زائدتان، اس طرح بار بار دہرائو آپ دیکھیں گے آرام سے آپ کو یاد ہوگئے۔ ششم، اسما، ایہ ستہ مکبرہ وقتے کہ مضاف باشن بغیر یا متکلم۔ چھٹی قسم بھئی اس میں متمکن کی اسما ستہ مکبرہ۔ اسما ستہ مکبرہ چھ، چھ اسماے مکبرہ بھئی۔ الستہ ستہ کا معنی ہے چھ۔ مکبرہ یاد رکھو، میں نے آپ کو بتلایا تھا تصغیر بھئی۔ تصغیر کسی لفظ میں چھوٹا ہونے کا معنی لانا ہو تو اس کی تصغیر بناتے ہیں اور تصغیر عموماً فعیل وزن پر لاتے ہیں۔ کس وزن پر؟ فعیل وزن پر۔ تو کتاب کی تصغیر کیا آئے گی؟ کتیب۔ رجل کی تصغیر کیا آئے گی؟ رجیل۔ اور اسد کی تصغیر کیا آئے گی؟ اسید۔ فعیل وزن پر لے جاؤ۔ اسد کی تصغیر کیا آئے گی؟ اسید۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو فعیل وزن پر لے جاؤ۔ تو یہ تصغیر ہے۔ تو یہ تو ہے تصغیر جو فعیل وزن پر ہے۔ اور وہ جو اصل اسم ہے جو اپنی اصلی حالت پر ہے یعنی کتاب، ایک تو تصغیر ہے کتیب۔ کتیب تصغیر نہیں۔ اصل لفظ کیا ہے؟ کتاب۔ یہ کتاب اس کو اسم مکبر کہتے ہیں۔ یعنی اسم جب اپنی حالت پر ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مکبر اور جب اس کی تصغیر بنائیں تو وہ، وہ مصغر کہلاتی ہے یا تصغیر کہلاتی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اسم کیا ہو اپنی اصلی حالت پر ہو تو وہ کیا کہلاتا ہے؟ مکبر۔ جیسے رجل، یہ مکبر ہے یا تصغیر ہے؟ مکبر اور تصغیر کیا؟ رجیل۔ کتاب مکبر ہے یا تصغیر؟ مکبر اور تصغیر کیا؟ کتیب۔ اسد یہ کیا ہے؟ مکبر اور اسید یہ مصغر یا تصغیر ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو اسما ستہ مکبرہ۔ چھ اسم ہیں مکبرہ۔ کیا معنی؟ یعنی تصغیر نہ ہو۔ مکبرہ کیا معنی؟ تصغیر نہ ہو۔ وقتے کہ مضاف باشن۔ جس وقت کہ وہ مضاف ہوں، بغیر یا متکلم، یا متکلم کے علاوہ کی طرف۔ اسما ستہ مکبرہ یاد رکھنا۔ اسما ستہ، چھ، یہ چھ اسم ہیں، چھ اسم۔ آگے آ رہے ہیں۔ ابون، وا اخون، و حمون، و حنون، و فمون، و ذو، و ذو مال۔ یہ اس میں سے ذو مراد ہے۔ ذو۔ کتنے ہو گئے؟ ابون ایک، اخون دو، حمون تین، حنون چار، فمون پانچ، اور ذو چھ۔ یہ ذو مال لکھا ہے، اس میں سے صرف ذو مراد ہے۔ یہ چھ ہیں اسما ستہ اور یہ مستصغیر ہیں یا مکبر ہیں؟ مکبر۔ تصغیر ایک بھی نہیں ہے تو یہ مکبر ہیں۔ اسما ستہ مکبرہ۔ ان کا اعراب اب بتلانے لگے ہیں۔ لیکن جس وقت یہ مضاف ہوں علاوہ یا متکلم کی طرف۔ توجہ ہے؟ یہ ہمیشہ کیا ہوں جس وقت؟ مضاف ہوں۔ اور مضاف بھی غیر یا متکلم کی طرف ہوں، یعنی کسی بھی اسم کی طرف مضاف ہوں لیکن یا متکلم کی طرف مضاف نہ ہوں، اس وقت یہ اعراب ہے۔ اگر یا متکلم کی طرف مضاف ہوں گے تو پھر یہ اعراب نہیں جو ابھی بتلانے لگے ہیں۔ توجہ ہے؟ کون سے اسما؟ ستہ مکبرہ۔ وقتے کہ مضاف باشن۔ بغیر یاے متکلم۔ یہ سارا یاد کرنا ہے۔ ان میں سے ایک بھی شرط ختم ہوگی تو اعراب کی شکل بدل جائے گی۔ کتنے ہیں؟ کتنے اسما ہیں؟ ستہ۔ اور کون سے ہیں؟ مکبرہ۔ اور جس وقت کہ وہ مضاف ہوں، کس کی طرف؟ یا متکلم کے علاوہ کی طرف۔ یا کی طرف مضاف ہوں تو پھر یہ اعراب نہیں ہے۔ یا کے علاوہ کسی بھی اسم کی طرف جب وہ مضاف ہوں، یہ والے چھ اسم اور مکبر ہوں، ان کی تصغیر نہ ہو۔ اور نیز ایک اور قید بھی ہے، موحدہ، موحد ہوں۔ مفرد ہوں۔ کیا ہوں؟ یعنی تثنیہ وغیرہ جمع نہ ہو۔ تو جب یہ مضاف ہوں گے، تو پھر یہ اعراب ہوگا۔ کہ اعراب کیا ہوگا؟ آپ کو بتلائیں گے کہ ان کا رفع واو کے ساتھ آئے گا۔ اور نصب الف کے ساتھ۔ اور جر یا کے ساتھ۔ جیسے ابوك، ابوك، دیکھو، اب، پہلا لفظ کیا تھا؟ اب۔ اب کا معنی باپ۔ ابوك، آپ کا باپ۔ تو دیکھو، مضاف ہے، کس کی طرف؟ کاف ضمیر کی طرف۔ اور حالت رفع میں واو کے ساتھ ہے، ابوك۔ حالت نصبی ہوتی تو الف کے ساتھ ہوتا، اباك۔ حالت جری ہوتی تو یا کے ساتھ ہوتا، ابيك۔ توجہ ہے؟ ابھی تک جو اعراب آپ پڑھ رہے تھے، وہاں اعراب حرکت کے ساتھ آ رہا تھا۔ زيدٌ، زيداً، زيدٍ۔ صرف حرکت بدل رہی تھی۔ اب جو اعراب ہے، وہ حروف کی صورت میں آ رہا ہے۔ رفع کس کے ساتھ؟ واو کے ساتھ۔ نصب الف کے ساتھ۔ اور جر یا کے ساتھ۔ ابوك، اباك، اور ابيك۔ جیسے جاءني ابوك۔ رأيت اباك، دیکھو حالت نصبی ہے، اباك۔ و مررت بي ابيك۔ یہ ابيك کیوں پڑھا؟ یہ مجرور ہے۔ آپ کو کیسے پتہ چلا مجرور ہے؟ با جارہ اس پر داخل ہے۔ تو یہ اسما ستہ مکبرہ، موحدہ ایک قید بڑھا دیں۔ موحدہ کا معنی مفرد ہو، مفرد یعنی تثنیہ اور جمع نہ ہو۔ پھر دہرائیں، چھٹی قسم کون سی ہے؟ اسما ستہ مکبرہ موحدہ وقتے کہ مضاف باشن، بغیر یاے متکلم، بغیر یاے متکلم۔ پھر دہراؤ۔ اسما ستہ مکبرہ موحدہ وقتے کہ مضاف باشن، بغیر یاے متکلم۔ یہ پورا یاد کرنا ہے۔ یہ ساری شرطیں ہیں۔ اسما ستہ ہوں، یہی اسما ستہ مراد ہیں اور نہیں۔ مکبرہ ہوں، یعنی ان کی تصغیر نہ ہو۔ موحدہ ہوں، یعنی مفرد ہوں، تثنیہ جمع ان کی نہ ہو۔ اور جس وقت یہ کیا ہوں؟ مضاف ہوں، کس کی طرف؟ یا متکلم کی طرف۔ یا متکلم کے علاوہ کی طرف۔ پھر ان کا یہ اعراب ہے۔ رفع کس کے ساتھ؟ رفع، واو کے ساتھ۔ نصب، الف کے ساتھ۔ اور جر، یا کے ساتھ۔ اور یہ اعراب بالحرف کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ اعراب بالحرف۔ زيدٌ، زيداً، زيدٍ۔ وہاں بھی اعراب بدل رہا تھا، لیکن حروف بدل رہے تھے یا صرف حرکت بدل رہی تھی؟ صرف حرکت۔ زيدٌ، زيداً، زيدٍ۔ تو وہ اعراب بالحرکت کہلاتا ہے۔ اور یہ اعراب بالحرف کہلاتا ہے۔ حرف بدل رہا ہے۔ کبھی واو آ رہا ہے آخر میں، کبھی الف اور کبھی یا۔ تو ابوك، اباك، اور ابيك۔ دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں ششم اسما ستہ مکبرہ وقتے کہ مضاف باشن بغیر یاے متکلم۔ چھٹی قسم اسما ستہ جس وقت کہ وہ مکبر ہوں اور موحد یعنی مفرد ہوں اور جس وقت کہ وہ مضاف ہوں بغیر یاے متکلم، یاے متکلم کے علاوہ کی طرف۔ ابن، اگر اس کے ساتھ یا آ جائے تو پھر کہیں گے ابي۔ توجہ ہے؟ دیکھا، یا کی طرح جب مضاف ہوں گے تو اعراب بدل گیا۔ اب تینوں حالتوں میں اسی طرح پڑھیں گے۔ جاءني ابي۔ رأيت ابي۔ مررت بي ابي۔ دیکھو بدل ہی نہیں رہا، کیونکہ شرط نہیں پوری۔ شرط کیا لگائی تھی انہوں نے؟ یا کے علاوہ کی طرف مضاف ہوں۔ ابوك، یہ کس کی طرف مضاف ہے؟ کاف ضمیر کی طرف مضاف ہے۔ تو وقتے کہ مضاف باشن بغیر یاے متکلم۔ جس وقت کہ وہ مضاف ہوں یا متکلم کے علاوہ کی طرف۔ چوں ابون، وا اخون، و حمون، و حنون، و فمون، و ذو مال۔ ابون، اب باپ کو کہتے ہیں۔ اخون، اخ بھئی کو کہتے ہیں۔ حمون، حم عورت کے جو سسرالی رشتے دار ہوتے ہیں۔ حمون۔ حنون، حن شرمگاہ کو کہتے ہیں، چاہے مرد کی ہو یا عورت کیے۔ فم، فم منہ کو کہتے ہیں۔ زو، زو، یہ صفت بنانے کے لیے آتا ہے اسم جنس کو کسی کی، جیسے ذو مال، مال والا۔ مال والا۔ حالت رفعی میں کیا کہیں گے؟ زو مال۔ حالت نصبی میں، زا مال۔ وہ واو الف سے بدل دو۔ زا مال۔ اور حالت جری میں زی مال۔ تو کہتے ہیں رفع شان باو باشد۔ ان کا رفع جو ہے واو کے ساتھ ہوگا۔ و نصب با الف، اور نصب الف کے ساتھ۔ و جر بایا، اور جر یا کے ساتھ۔ چوں جاء ابوك، و رأيت اباك، و مررت بي ابيك۔ یہ سارے کر لو بھئی۔ دوسرا لفظ لے آؤ، ابوك کی جگہ اخ ہے، جی کیسے پڑھेंगे؟ جاء اخوك۔ رأيت اخاك۔ مررت بي اخيك۔ جی۔ अगला है हम، ہم۔ عورت کے سسرالی رشتے دار جو ہیں خاوند کی طرف۔ جی، کیسے پڑھेंगे؟ جاء حموکا نہیں پڑھنا۔ حموکی۔ کیونکہ کاف پر زبر ہو تو یہ مذکر کی ضمیر ہے اور کاف کے نیچے زیر ہو تو یہ مؤنث۔ تو تجھ عورت کے سسرالی رشتے دار۔ حموکی۔ حموکی۔ زیر کس کی علامت ہے؟ مؤنث کی۔ کاف کے نیچے زیر ہو تو یہ مؤنث کی ضمیر ہے۔ تو، تو جاء حموکی و رأيت حموکی، باقی اسی طرح الف لاؤ۔ رأيت حماکی اور مررت بي حميكي۔ جی، آگے ہنونا آیا۔ ہنوکا یا ہنوکی دونوں کیونکہ یہ مرد اور عورت دونوں کے تو ہنوکا و ہنوکی۔ ہناکا اور ہنیکا۔ अच्छा जी۔ فم، فم۔ جاء فموکا۔ بس حالت رفعی میں ویسے کہہ لو۔ ہاں، میم نہیں۔ میم واو سے بدل دو۔ فوکا۔ فوکا۔ ميم بھی کس سے ادا ہوتا ہے ہونٹوں سے۔ فم آپ ادا کریں، فم۔ دیکھو میم کہتے ہوئے دونوں ہونٹ جڑ گئے یا نہیں جڑ گئے؟ اور واو بھی کس سے ادا ہوتا ہے ہونٹوں سے۔ واو آپ ادا کریں دیکھو۔ تو میم کو واو سے بدل دیتے ہیں۔ یہ اصل میں تھا ہی واو، جس کو کس سے بدلا؟ میم سے۔ یہ اصل میں واو تھا۔ حالت رفعی میں کیا کہیں گے؟ فوکا۔ فوکا۔ حالت نصبی میں، فاكا۔ حالت جری میں، فيكا۔ پھر دہراؤ۔ حالت رفعی میں، فوکا۔ فوکا۔ آپ کا منہ۔ معنی کیا بن گیا؟ آپ کا منہ۔ اور حالت نصبی میں، فاكا۔ اور حالت جری میں، فيكا۔ معنی وہی ہے، بس جگہ بدل رہی ہے۔ رفع والے مقام میں فوکا کہنا ہے، نصب والے مقام میں فاكا اور جر والے مقام میں فيكا۔ اسی طرح زو مال۔ حالت رفعی میں کیسے کہیں گے؟ زو مال۔ اور حالت نصبی میں، زا مال۔ اور حالت جری میں، زی مال بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ چلیے بس کریں بھئی۔ حاصل کلام کہ آج ہم نے، آج ہم نے پانچویں اور چھٹی قسم پڑھی بھئی۔ لیکن اس میں روز بار بار ہم دہرائیں گے بھئی، تاکہ خوب آپ کو یاد ہو جائیں۔ آپ نے بھی خوب دہرانا ہے اس کو۔ جی کل کتنی قسمیں ہیں؟ اسما متمکن کی؟ 16 قسمیں۔ پہلی قسم؟ مفرد منصرف صحیح جیسے، زیدٌ۔ اور دوسری قسم؟ مفرد منصرف جاری مجری صحیح جیسے، دلوٌ۔ تیسری قسم؟ جمع مکسر منصرف جیسے، رجالٌ۔ ان سب کا رفع ضمہ کے ساتھ، نصب فتحہ کے ساتھ، جر کسرہ کے ساتھ۔ اگلی قسم چوتھی؟ جمع مؤنث سالم۔ جیسے، مسلماتٌ۔ اس کا رفع ضمہ کے ساتھ، نصب اور جر کسرہ کے ساتھ۔ اگلی قسم؟ غیر منصرف۔ غیر منصرف۔ غیر منصرف کسے کہتے ہیں؟ جس میں دو اسبابِ منعِ صرف آ جائیں یا ایسا سبب، ایک ایسا سبب آ جائے جو دو کے قائم مقام ہو۔ اور اسباب منعِ صرف کتنے ہیں؟ نو۔ نو ہیں۔ نمبر ایک، عدل۔ نمبر دو، وصف۔ نمبر تین، تانیث۔ نمبر چار، معرفہ۔ نمبر پانچ، عجمہ۔ نمبر چھ، جمع۔ نمبر سات، ترکیب۔ نمبر آٹھ، وزنِ فعل۔ نمبر نو، الف نون زائدتان۔ ان میں سے کتنے سبب ہیں جو دو کے قائم مقام ہیں؟ تین۔ کون کون سے؟ نمبر ایک، تانیث با الفِ مقصورہ۔ نمبر دو، تانیث با الفِ ممدودہ۔ اور نمبر تین، جمع منتہی الجموع۔ جو ہے اور غیر منصرف کا حکم کیا ہے؟ اس پر کسرہ بھی نہیں آ سکتی اور تنوین بھی نہیں آ سکتی۔ اور اس پر جر کس شکل میں آتا ہے؟ فتحہ کی صورت میں۔ ہے جر ہی لیکن صورت اس کی کیسی ہوتی ہے؟ فتحہ۔ لہذا آپ سے کوئی کہے مررت بي عمرَو۔ یہ کون سی حالت ہے؟ حالتِ جری۔ آپ یہ زبر کو نہ دیکھیں، آپ دیکھیں اس پر کیا داخل ہے با اور با جس پر بھی داخل ہوتی ہے اس کو جر دیتی ہے۔ تو یہ کونسی حالت میں ہے؟ حالت جری۔ اب اگر کوئی اعتراض کرے کہ یہ مجرور کیسے ہے؟ اس پر تو میں زبر پڑھ رہا ہوں مررت بي عمرَو۔ تو آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ کہ یہ جر ہی ہے لیکن اس کی صورت کس جیسی ہے؟ فتحہ جیسی۔ لیکن یہ ہے جر ہی بھئی تو مجرور ہی ہے یہ۔ اور غیر منصرف پر دو صورتوں میں کسرہ بھی آ سکتا ہے۔ تنوین تو نہیں آ سکتی لیکن کسرہ آ سکتا ہے۔ وہ کون سی دو صورتیں ہیں؟ نمبر ایک، جب اس پر الف لام آ جائے یا دوسری صورت جب یہ مضاف بن جائے۔ اس کے بعد اس میں متمکن کی چھٹی قسم پڑھی تھی۔ وہ کون سی قسم ہے؟ اسما ستہ مکبرہ موحدہ۔ جس وقت کہ وہ مضاف ہوں، کس کی طرف؟ یا متکلم کے علاوہ کی طرف۔ اور اسما ستہ مکبرہ کون سے ہیں؟ نمبر ایک، ابون۔ آگے اخون اور حمون، حمون اور حنون اور فمون اور زومال (یعنی زو ہے)۔ بات سمجھ میں آگئی۔ چلیے بس بھئی۔ ہادا ھو المرام۔ واللہ اعلم بحقیقت الكلام۔