دیکھیے بھئی، سبق کتاب پر آگے فصل، بدانکہ اسم بردو ضرب است: معرفہ و نکرہ۔ معرفہ آن است کہ موضوع باشد برای چیز معین، و آن بر ہفت نوع است. اول مضمرات، دوم اعلام چون زید و عمر و، و سوم اسمائے اشارات، چہارم اسمائے موصولہ و ایں دو قسم را مبہمات گویند۔ پنجہم معرفہ بندا چون یا رجل، ششہم معرفہ بَالف و لام چون الرجل، ہفتم مضاف بایک از ایںہا چون غلامہ و غلام زید و غلام ہذا و غلام الذی عندی و غلام الرجل۔ و نکرہ آن است کہ موضوع باشد برای چیز غیر معین، چون رجل و فرس۔ گذشتہ سبق میں اس میں غیر متمکن کی چند اقسام ہم نے پڑھی تھیں۔ مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس میں غیر متمکن جو ہے وہ آٹھ قسم پر ہے۔ پہلی قسم کون سی ہے؟ مضمرات۔ یہ نام آپ کو یاد ہونے چاہیے آٹھوں بھئی۔ پہلی قسم مضمرات۔ دوسری قسم اسمائے اشارہ۔ تیسری قسم اسمائے موصولہ۔ چوتھی قسم اسمائے افعال بھئی۔ پانچویں قسم اسمائے اصوات بھئی۔ اور چھٹی قسم اسمائے ظروف۔ ساتویں قسم اسمائے کنایات اور آٹھویں قسم مرکبِ بینائی۔ ضمیر آپ نے پڑھا تھا کہ ضمیر وہ ہے جو متکلم پر یا مخاطب پر یا ایسے غائب پر دلالت کرے جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہو، پہلے ہو چکا ہو۔ اور اسمائے اشارہ وہ ہے جو کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور وہ چیز مذکر ہو تو مثلاً کہیں گے ہذا، اور مؤنث ہو تو کیا کہیں گے ہذہ۔ تو کئی اسمائے اشارہ انہوں نے آپ کو بتلائے تھے بھئی مذکر کے لیے بھی، تثنیہ کے لیے بھی، جمع کے لیے بھی اور اسی طرح مؤنث کے لیے بھی مفرد، تثنیہ اور جمع کے لیے۔ اس کے بعد اگلی قسم اسمائے موصولہ بھئی، تیسری قسم اسم غیر متمکن کی، اور اسمائے موصولہ میں نے بتلایا تھا اس کا ترجمہ عموماً وہ جو کہ یا وہ جس نے کے تو اس کے ساتھ کیا جاتا ہے اور وہ جو کہ دیکھو معنی سمجھ میں نہیں آتا، وہ جس نے کے اس سے بھی معنی سمجھ میں نہیں آتا تو اس میں موصول جو ہے اس کے لیے ہمیشہ صلہ چاہیے صلہ اور صلہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ ہوتا ہے۔ تو اس میں موصول کے ساتھ جب صلہ ملے گا تو پھر اس میں موصول کا معنی آپ کو سمجھ میں آئے گا۔ جیسے الذی اس کا ترجمہ کیا کرتے ہیں ویسے وہ جو کہ یا وہ جس نے کے اور آگے ضربَ کا ملا دیا الذی ضربَ کا وہ جس نے آپ کی پٹائی کی تھی، اب بات سمجھ میں آ گئی کہ کس آدمی کی بات ہو رہی ہے جس نے پٹائی کی تھی بھئی۔ تو اس میں موصول اور اسمائے موصولہ کے اندر پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا وہ الف لام جو اس میں فاعل اور اس میں مفعول پر داخل ہو وہ بھی کیا ہے اس میں موصول ہے۔ اور پھر اس کے بعد اگلی قسم جو تھی وہ اسمائے افعال پڑھی۔ اسمائے افعال کچھ اسماء ہیں، اسم ہیں لیکن معنی کس کا ادا کرتے ہیں؟ فعل والا۔ تو ان میں سے کچھ جو ہیں وہ امر حاضر والا معنی ادا کرتے ہیں اور کچھ جو ہیں وہ فعل ماضی والا معنی ادا کرتے ہیں اور کچھ جو ہیں وہ فعل مضارع والا معنی ادا کرتے ہیں لیکن فعل مضارع والا جو معنی ادا کرے جو اس میں فعل وہ قلیل ہیں اس لیے مصنف نے ان کو شمار ہی نہیں کیا، ان کو گنوایا ہی نہیں اور کیا کہا کہ اس میں فعل کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر۔ ایک وہ جو امر حاضر کے معنی میں ہو اور ایک وہ جو فعل ماضی۔ امر حاضر کے معنی میں ہو جیسے رویدَ، رویدَ اس کا معنی ہے اَمْہل مہلت دے دے۔ دیکھو حکم دیا جا رہا ہے کہ مہلت دے دے۔ یا اسی طرح بلحَ اس بلحَ کا کیا معنی ہے؟ چھوڑ دے اُترک یا دع اُترک امر کا صیغہ بھئی دیکھو یہ اس کا معنی ادا کر رہا ہے بلحَ۔ اور اسی طرح حَیَّہل کا معنی ہے لاؤ بھئی یا متوجہ ہو جاؤ اور اسی طرح ہَلُمّہ کا معنی بھی ہے لے آؤ یا اس کا معنی ہے آ جاؤ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور دوسرا فعل ماضی کے معنی میں ہو جیسے ہیہاتَ، ہیہاتَ کا کیا معنی؟ بَعُدَ وہ دور ہو گیا۔ اور اسی طرح شَتَّانَ شَتَّانَ کا کیا معنی؟ جدا ہوا وہ جدا ہو گیا لیکن میں نے آپ کو بتلایا تھا ایک ہے فعل اور ایک ہے اسمِ فعل۔ اسمِ فعل میں مبالغہ ہوتا ہے کیا ہوتا ہے؟ تو ایک آدمی کے بارے میں بتلانا ہو کہ وہ دور ہوا تو آپ کہیں گے بَعُدَ، اور اگر آپ مبالغے کے ساتھ، مبالغہ کہتے ہیں کسی چیز میں زیادتی کو بیان کرنا، زیادہ تو جب آپ مبالغہ کرنا چاہیں مثلاً یہ کہنا چاہیں کہ وہ زیادہ دور ہوا یا بہت دور ہوا تو اس کے لیے پھر آپ اسمِ فعل بھی استعمال کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ ہہیہاتَ زیدٌ زید بہت دور ہوا یا شَتَّانَ زیدٌ بہت، ااا، جدا ہوا بھئی، زید بہت زیادہ جدا ہوا۔ اگلی قسم جو تھی وہ غیر متمکن کی وہ اسمائے اصوات ہیں۔ اسمائے اصوات بھئی، اصوات جمع ہے صوت کی اور صوت آواز کو کہتے ہیں یہ وہ اسماء غیر متمکن ہیں جن کے ذریعے آوازوں کو ذکر کیا جاتا ہے۔ کبھی خوشی یا غم کی یا تکلیف کی آواز کو نقل کیا جائے گا، کبھی دوسرے حیوان کی آواز کو نقل کیا جائے گا اور کبھی دوسرے حیوان کو بٹھانے کے لیے یا بلانے کے لیے یا ڈانٹنے کے لیے جو آواز ہے اس کے ساتھ ذکر کیا جائے گا۔ جیسے اُح اُح، یہ کس چیز کی آواز ہے؟ کھانسی کی آواز ہے دیکھو۔ سینے میں تکلیف ہے اس کی وجہ سے انسان اُح اُح کرتا ہے یا اسی طرح کوئی عربی میں مثلاً اردو میں کوئی چیز اچھی لگے پسند آئے تو کہتے ہیں واہ واہ، عربی میں کیا کہتے ہیں؟ بخ بخ بھئی، بخ بخ کہتے ہیں یا بَخَّا بَخَّا کہتے ہیں اور اسی طرح جانور کو بٹھانے کے لیے مثلاً اونٹ کو بٹھانے کے لیے عرب کیا آواز نکالتے ہیں؟ نخ یا نخن نخن بھئی تنوین کے ساتھ۔ اور جانوروں کی آواز اور نقل کرنے کے لیے مثلاً کوے کی آواز نقل کرتے ہیں کہ جہاں ہم اردو میں کہتے ہیں کوا کائیں کائیں کرتا ہے اور عرب کیا کہیں گے کہ کوا غاقی غاقی کرتا ہے بھئی۔ اچھا جی، اس کے بعد چھٹی قسم آئی تھی اسمائے ظروف۔ اسمائے ظروف میں انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کچھ ظرفِ زمان ہیں جو زمانے پر دلالت کرتے ہیں اور کچھ ظرفِ مکان ہیں جو جگہ پر دلالت کرتے ہیں۔ یہ آپ نے پڑھا تھا کہ ظرف برتن کو کہتے ہیں۔ عربی زبان میں ظرف کسے کہتے ہیں؟ برتن کو اور چونکہ ہمارا ہر فعل ہم جو بھی فعل کریں، کوئی بھی کام کریں وہ کسی نہ کسی زمانے میں ہوگا یا کسی نہ کسی جگہ میں ہوگا تو اس لیے جگہ اور زمانے کو ظرف کہتے ہیں کہ ہمارا فعل اس کے اندر ہوتا ہے جیسے مثلاً آپ پانی برتن کے اندر رکھیں تو آپ کیا کہتے ہیں پانی برتن میں ہے، پانی برتن میں ہے اسی طرح آپ جو بھی کام کریں وہ کسی نہ کسی زمانے میں ہوگا، اسی طرح وہ کسی نہ کسی جگہ میں ہوگا، آپ کوئی اپنا ایسا فعل بتا سکتے ہیں جہاں زمانہ نہ ہو یا جگہ نہ ہو؟ آپ جو بھی فعل کریں گے وہ کسی نہ کسی زمانے میں ہوگا اور کسی نہ کسی جگہ میں ہوگا یہ ہو ہی نہیں سکتا، آپ کوئی فعل کریں اور زمانہ بھی کوئی نہ ہو اور جگہ بھی کوئی نہ ہو۔ زمانہ اور جگہ ہے اس کو اس لیے ظرف کہتے ہیں کہ ہمارا فعل اس میں ہوتا ہے۔ تو ظرفِ زمان انہوں نے آپ کو کچھ گنوائے تھے کہ اذ ہے، اذا ہے، متیٰ ہے، کیف ہے، ایّانَ ہے، امسی، مذ، منذ، قطُ، عوض، قبلُ اور بعدُ وغیرہ۔ اسی طرح ظرفِ مکان آپ کو انہوں نے گنوائے تھے کہ حیثُ، قدّامُ، تحتُ، فوقُ وغیرہ بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ظرفِ زمان اور ظرفِ مکان صرف یہی نہیں ہیں جو انہوں نے ذکر کر دیے بلکہ ظرفِ زمان اور مکان اور بھی ہیں لیکن جو مبنی تھے وہ انہوں نے یہاں ذکر کر دیے بھئی مبنی، چند چند مبنی ذکر کر دیے۔ اور اس میں بھی پھر بتلایا تھا کہ ان میں سے بعض ظروف ایسے ہیں کہ ان کی تین حالتیں ہوتی ہیں، تین حالتیں وہ ہمیشہ مضاف‌الیہ چاہتے ہیں جیسے قبلُ اور بعدُ۔ قبلُ اور بعدُ یہ تو اس ظرفِ زمان کے اندر قبلُ اور بعدُ اور ظرفِ مکان کے اندر قدّامُ، تحتُ اور فوقُ، یہ ہمیشہ کیا چاہتے ہیں؟ مضاف‌‌الیہ قبلُ کا معنی پہلے، بھئی کس سے پہلے؟ زید سے پہلے، امر سے پہلے یا بکر سے پہلے تو وہاں مضاف‌الیہ چاہیے کہ قبلَ زیدٍ، قبلَ امرٍ۔ اور فوقُ کا معنی اوپر بھئی کس چیز کے اوپر؟ چھت کے اوپر، کمرے کے اوپر، مکان کے اوپر تو مضاف‌الیہ چاہیے، تو ان کے لیے ہمیشہ مضاف‌الیہ چاہیے ہوتا ہے اور ان کے استعمال کی پھر تین طریقے ہیں، کبھی لفظوں کے اندر ان کے ساتھ مضاف‌الیہ ذکر کر دیتے ہیں، جائنی زیدٌ قبلَ امرٍ میرے پاس زید آیا تھا کس سے پہلے؟ امر سے تو دیکھو قبلَ کے بعد مضاف‌الیہ چاہیے تھا اور آپ نے بھی لفظوں میں ذکر کر دیا اور کبھی یوں کرتے ہیں لفظوں سے تو ختم کر دیتے ہیں مضاف‌الیہ کو لیکن نیت کے اندر وہ پھر بھی مراد ہوتا ہے جیسے میں آپ کو کہنا چاہتا ہوں کہ زید امر سے پہلے آیا تھا تو میں آپ سے کہتا ہوں جائنی زیدٌ قبلُ، دیکھو امر کو میں نے ختم کر دیا، کیوں ختم کیا؟ کیونکہ آپ کو پتہ ہے کہ صرف آپ کس کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ زید اور امر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں کہ زید پہلے آیا تھا یا امر، تو اب میں امر کو تو میں اس کو امر کو حذف کر دیتا ہوں کہ آپ کو پتہ ہے کہ زید امر سے پہلے آیا ہے، بکر یا خالد کی بات یہاں نہیں ہو رہی تو میں اس کو حذف کرتا ہوں، جائنی زیدٌ قبلُ، پہلے کیا تھا؟ قبلَ امرٍ، قبلَ امرٍ پھر امر کو جب حذف کیا تو اب قبلَ نی پڑا بلکہ قبلُ مبنی کر دیا ضمہ پر، تو یہ مبنی ہے اور تیسری صورت یہ ہے کہ لفظوں سے بھی مضاف‌الیہ کو ختم کر دیں اور نیت سے بھی ختم کر دیں جائنی زیدٌ قبلًا، زید پہلے آیا تھا کس سے پہلے؟ یہ آپ نے ذکر ہی نہیں کیا، چاہے امر سے پہلے ہو، بکر سے پہلے ہو، خالد سے پہلے ہو کوئی آپ نے ذکر نہیں کیا۔ تو ان کے استعمال کی گویا کتنی صورتیں ہو گئیں؟ تین، ایک صورت کیا؟ مضاف‌الیہ عبارت میں ذکر ہو، دوسری کیا صورت؟ عبارت میں تو ذکر نہیں لیکن نیت میں موجود ہے، مراد ہے، اس کا ارادہ کیا ہے، مراد، مراد کا معنی جس کا ارادہ کیا جائے تو مراد ہے لیکن لفظوں میں موجود نہیں اور تیسری کیا صورت ہے کہ نیت میں بھی مراد نہیں، نیت میں بھی ارادہ نہیں اس کا اور لفظوں میں بھی موجود نہیں، لفظوں سے بھی اس کو ختم کر دیا تو کون سی صورت میں مبنی ہوگا؟ دوسری صورت جب لفظوں سے تو حذف کر دیا لیکن نیت میں موجود ہے، وہ مراد ہے، اس کا ارادہ ہے۔ اس کے بعد ساتویں قسم جو ہے وہ اسمائے کنایات تھے بھئی، اسمائے کنایات۔ اسمائے کنایات کہ ایک ہوتا ہے یاد رکھو صریح، یہ جگہ جگہ کتابوں میں آئے گا یہ لفظ تو یاد رکھنا، صریح کا معنی ہوتا ہے صاف لفظوں میں، صاف لفظوں، واضح لفظوں میں ایک بات کرنا، مثلاً میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں زید لمبے قد والا ہے تو میں صاف لفظوں میں کہتا ہوں بھئی زید لمبے قد والا ہے۔ جو بتانا چاہتا ہوں صاف لفظوں میں بتایا آپ کو کہ زید لمبے قد والا، لیکن اسی بات کو میں کنائے کے انداز میں کہتا ہوں، زید کی قمیض لمبی ہے اور ارادہ کیا ہے؟ میں قد بتانا چاہتا ہوں قمیض نہیں بتانا چاہتا، اگر قمیض ہی بتلا رہا ہوں پھر تو یہ صاف لفظوں میں بتا رہا ہوں پھر یہ صریح بن جائے گا تو میں مثلاً اس کا قد بتانا چاہتا ہوں لیکن لفظ میں دوسرے استعمال کر لیتا ہوں کیا کہتا ہوں زید کی قمیض لمبی ہے اور بتلانا کیا چاہتا ہوں کہ زید کا قد لمبا، تو لفظ میں ذکر کیا قمیض کو اور ارادہ کس کا کیا؟ قد کا، اس کو کہتے ہیں کنایہ، بولنا ایک لفظ اور ارادہ کرنا دوسرے معنی کا، تو اس کو کنایہ کہتے ہیں اور ایک ہے صریح صاف لفظوں میں، جو بات ذکر کی ہے ارادہ بھی اسی کا، میں زید کا قد بتانا چاہتا ہوں تو میں کہتا بھی یہی ہوں، زید لمبے قد والا ہے یا میں صرف قمیض بتانا چاہتا ہوں اور کیا کہتا ہوں زید کی قمیض لمبی، تو پھر اس کو صریح کہیں گے کیونکہ جو لفظ ہے اس کا معنی ہی مراد ہے اور اگر معنی دوسرا آپ ارادہ کر رہے ہیں تو پھر اس کو کیا کہیں گے کنایہ، تو یہ جو کنایہ ہوتا ہے یہ کبھی بات سے کنایہ کیا جاتا ہے کبھی عدد سے کنایہ کیا جاتا ہے، مثلاً آپ کسی کو بتلانا چاہتے ہیں میں نے اس کو اتنے پیسے دیے لیکن عدد نہیں بتلاتے کتنے پیسے کتنے تھے تو آپ پھر کہتے ہیں میں نے اس کو اتنے اتنے پیسے دیے، اتنے اتنے دیکھا عدد نہیں ذکر کیا کہ سو دیے، ہزار دیے، دس ہزار دیے، آپ کہتے ہیں میں نے اس کو اتنے اتنے پیسے دیے تو یہ اتنے اتنے کیا ہے؟ کنایہ ہے کس سے؟ عدد سے وہ عدد آپ نے ذکر نہیں کیا۔ اسی طرح آپ کسی کو کوئی بات بتلا رہے ہیں درمیان میں کچھ حذف کر لیتے ہیں کسی وجہ سے اور یوں کہتے ہیں کہ میں نے اس کو ایسے ایسے کہا یا کہتے ہیں میں نے اس کو یوں یوں کہا، بھئی کیا کہا وہ آپ نے نہیں ذکر کیا تو اس سے کنایہ کر لیا یوں یوں کہہ دیا یا ایسے ایسے کہہ دیا، تو یہ کنایہ ہے بعد سے تو یہ کنایات کبھی کنایہ بعد سے ہوگا کبھی کنایہ عدد سے۔ کنایہ عدد سے ہو تو اس کے لیے کم اور کذا استعمال کرتے ہیں اور اگر کنایہ کس سے ہو؟ بعد سے ہو تو اس کے لیے عربی میں کَیتا اور زَیتا استعمال کرتے ہیں۔ اور آٹھواں جو اس میں غیر متمکن آپ نے پڑھا وہ مرکبِ بینائی ہے جیسے احدَ عشرَ، مرکبِ بینائی آپ پڑھ چکے بھئی، مرکب غیر مفید کے اندر انہوں نے بتلایا تھا کہ مرکب غیر مفید تین قسم پر ہے یا وہ مرکبِ اضافی ہوگا یا مرکبِ بینائی ہوگا یا مرکبِ منعِ صرف ہوگا۔ مرکب بینائی بتلایا تھا کہ دو اسم ہوں اور درمیان میں کوئی حرف ہو اور اس حرف کو حذف کر کے دونوں اسموں کو ایک بنا دیں، جیسے احدَ عشرَ اصل میں کیا تھا؟ احدٌ و عشرُونَ، احدٌ الگ اسم تھا، عشرُونَ الگ اسم تھا اور درمیان میں و تھا، پھر اس و کو حذف کیا اور احدَ عشرَ کو جوڑ کر ایک ہی مرکب بنا دیا تو کیسے پڑھتے ہیں؟ احدَ عشرَ اور اس کو مرکبِ بینائی کہتے ہیں بینائی، بینا کا معنی ہے مبنی ہونا، مبنی ہونا تو چونکہ یہ مبنی ہے اس لیے اس مرکب کو کیا کہتے ہیں مرکبِ بینائی کہتے ہیں اس کے دونوں جز مبنی ہیں، احدَ کی دال پر بھی فتحہ پڑھیں گے اور عشرَ کی را پر بھی فتحہ، احدَ عشرَ۔ اب آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں فصل، بدانکہ اسم بردو ضرب است: معرفہ و نکرہ۔ اب اسم کی تقسیم کرنے لگے ہیں معرفہ اور نکرہ کے اعتبار سے بھئی۔ بھئی دیکھیے، چند سبق قبل مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر جملے کے الفاظ زیادہ ہوں تو سب سے پہلے کیا کرنا؟ اسم، فعل اور حرف کو پہچان لینا ان کو الگ الگ کر لینا کہ یہ اسم ہے، یہ فعل ہے اور یہ حرف۔ ذہن میں آیا؟ تو اگر جملے کے الفاظ زیادہ ہوں تو وہاں آپ نے چار کام کرنے ہیں، پہلا کیا؟ اسم، فعل اور حرف کو الگ الگ کر لو۔ دوسرا کام کیا کرنا ہے؟ معرب اور مبنی کو پہچان لینا ہے کہ کون کون سا لفظ معرب ہے اور کون سا مبنی۔ تیسرا کام یہ کرنا ہے کہ آپ نے پہچاننا ہے عامل کون ہے اور معمول کون؟ عمل کون سا لفظ کر رہا ہے اور کس لفظ پر عمل کر رہا ہے؟ تو عمل کرنے والا ہے عامل اور جس لفظ پر عمل کرے اس کو رفع، نصب یا جر دے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ معمول۔ تو آپ نے عامل اور معمول کو پہچاننا ہے۔ چوتھے نمبر پر پھر آپ نے یہ دیکھنا ہے کہ یہ لفظ آپس میں کس طرح جڑے ہوئے ہیں؟ کون سا لفظ کس کے ساتھ جڑ رہا ہے اور کس کے ساتھ نہیں جڑ رہا یہ آپ پہچان لیں گے۔ جب یہ چاروں چیزیں آپ کو پتہ لگ گئیں، اسم، فعل، حرف کا بھی پتہ لگ گیا، معرب، مبنی کا بھی پتہ چل گیا، عامل، معمول کا بھی پتہ چل گیا اور کون سا لفظ کس کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور کس کے ساتھ نہیں جڑا ہوا، یہ بھی جب آپ کو پتہ لگ گیا تو اب آپ کو مسند اور مسند الیہ کی پہچان ہو جائے گی کہ کون سا لفظ مسند ہے اور کون سا لفظ مسند الیہ ہے۔ جب مسند اور مسند الیہ دونوں کا آپ کو پتہ لگ گیا تو اب جملے کا صحیح معنی آپ کو پتہ چل جائے گا کیونکہ جملے کے تو دو ہی جز ہوتے ہیں، ایک مسند ہوتا ہے اور ایک مسند الیہ۔ مسند الیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے آسان لفظوں میں جس کے بارے میں بات کی جائے۔ اور مسند کسے کہتے ہیں؟ جو بات کی جائے۔ زید قائم میں نے کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں تو زید ہوا مسند الیہ اور کیا بات کی؟ قائم کہ وہ کھڑا ہے تو یہ ہوئی خبر۔ یہ ہوا مسند۔ تو زید یہاں ہوا مبتدا مسند الیہ اور قائم اس کی خبر تو مبتدا اور خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔ تو یہ تفصیل انہوں نے بیان کی تھی کہ یہ چار چیزیں پہچاننا تو پھر ان چار چیزوں کی پہچان کیسے ہوگی؟ اسم، فعل اور حرف کو کیسے پہچانیں گے؟ تو چنانچہ انہوں نے آپ کو پھر اسم، فعل، حرف کی نشانیاں بتلائیں۔ اسم کی دس گیارہ نشانیاں بتائیں۔ فعل کی بھی غالباً آٹھ نشانیاں وغیرہ بتائیں کہ اس سے آپ کو اسم اور فعل کا پتہ چل جائے گا اور حرف کو بھی آپ پہچان لو گے۔ اس کے بعد دوسرا کام کیا بتلایا تھا؟ معرب اور مبنی کو پہچاننا ہے تو مبنی کیا کیا ہوں گے؟ وہ انہوں نے آپ کو بتلا دیا۔ مبنی کی پہچان بھی کروا دی ان کا ذکر ہو گیا، بتلایا انہوں نے کہ مبنی الاصل تین چیزیں ہیں، کون کون سی؟ تمام حروف اور فعل ماضی اور اور فعل امر حاضر اور اسم کے اندر بتلایا تھا کہ اسم دو قسم پر ہے، ایک اسم غیر متمکن اور اسم متمکن۔ وہی غیر متمکن اس کو مبنی کہتے ہیں اور اس کی آٹھ قسمیں بھی آپ کو بتلا دیں۔ کہ کتنی قسم پر ہے؟ آٹھ قسم پر ہے وہ بھی بتلا دیا۔ مبنی اور ساتھ کیا تھا؟ معرب۔ اب معرب کی بحث آگے وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ اعراب کے اعتبار سے معرب کی قسمیں بیان کریں گے آگے مصنف تو اس معرب کی قسمیں بیان کرنے سے پہلے اسم کی کچھ خاص تقسیمیں وہ ذکر کریں گے۔ کہ معرفہ کسے کہتے ہیں؟ نکرہ کسے کہتے ہیں؟ مذکر کسے کہتے ہیں؟ مؤنث کسے کہتے ہیں؟ واحد کسے کہتے ہیں؟ تثنیہ کسے کہتے ہیں؟ جمع کسے کہتے ہیں؟ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ کتنی باتیں مصنف نے ذکر کی تھیں؟ چار۔ پہلی کیا تھی؟ اسم، فعل، حرف۔ اس کے لیے نشانیاں بتلادیں۔ دوسری بات کیا تھی؟ معرب اور مبنی کو پہچاننا ہے تو مبنی کون کون سے اسم ہیں وہ بھی انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ تمام ضمیریں، اسمائے اشارہ، اسمائے موصولہ وغیرہ آٹھ قسمیں ہیں۔ یہ مبنیات ہیں۔ اب کس کا ذکر آگے آئے گا؟ معرب کا لیکن معرب کے سمجھنے سے پہلے کچھ خاص تقسیمیں وہ ذکر کریں گے، کچھ اسم کی خاص قسمیں بتلائیں گے، وہ جاننا ضروری ہیں۔ یہ تقسیمیں آپ کے ذہن میں ہوں گی تو وہ آگے جو معرب کی وہ 16 قسمیں بیان کریں گے، وہ پھر آپ کو صحیح طور پر سمجھ میں آئیں گی۔ ترتیب سمجھ میں آرہی ہے؟ تو مبنی کی قسمیں گزر گئیں، اب کیا کرنے لگے ہیں معرب، لیکن معرب سے پہلے کیا کرنے لگے ہیں؟ کچھ خاص قسمیں ذکر کریں گے اسم کی۔ تو سب سے پہلے آپ کو بتلائیں گے کہ اسم جو ہے وہ دو قسم پر ہے۔ یا وہ معرفہ ہوگا یا نکرہ۔ توجہ ہے ادھر دیکھیے بھئی! اسم کتنی قسم پر ہوگا؟ دو۔ یا وہ معرفہ ہوگا یا نکرہ۔ یاد رکھو! معرفہ وہ ہے جو کسی معین چیز پر دلالت کرے، کوئی معین چیز اس سے سمجھ میں آ جائے، اس کو کہتے ہیں معرفہ اور جو غیر معین پر دلالت کرے اس کو کہتے ہیں نکرہ۔ نکرہ، مثلاً، مثلاً، آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام ہے زید۔ اس کے ماں باپ نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ زید۔ لہٰذا جیسے ہی میں زید بولوں گا، دیکھو! فورا آپ کے ذہن میں وہ ساتھی آ جائے گا۔ کہ کس کی بات ہو رہی ہے؟ تو دیکھا لفظ زید نے ایک معین ذات پر دلالت کر دی۔ زید میں نے جب بولا کوئی عمر آیا آپ کے ذہن میں؟ بکر آیا؟ خالد آیا؟ نہیں، کون آیا؟ زید۔ دیکھا! ایک معین ذات آپ کے ذہن میں آ گئی۔ تو معرفہ کس کو کہتے ہیں؟ جو کسی معین ذات پر دلالت کرے وہ سمجھ، یعنی وہ ذہن میں آئے، وہ سمجھ میں آ جائے۔ اور نکرہ وہ ہے جو غیر معین پر دلالت کرے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کتاب۔ کوئی خاص کتاب ذہن میں آئی؟ نہیں، ہر کتاب میرے سامنے جو یہ موجود ہے یہ بھی کتاب، آپ کے سامنے ایک ساتھی کے سامنے جو موجود ہے وہ بھی کتاب، دوسرے ساتھی کے سامنے جو موجود ہے وہ بھی کتاب، تیسرے ساتھی کے سامنے جو موجود ہے اس کا بھی کیا نام ہے؟ کتاب۔ تو دیکھو کتاب یہ نکرہ ہے، یہ غیر معین پر دلالت کر رہا ہے۔ دنیا کی ہر کتاب کو آپ کتاب کہہ سکتے ہیں۔ لیکن دنیا کے ہر آمی کو آپ زید نہیں کہہ سکتے۔ دنیا نہیں بلکہ اپنے درجے کی بھی ہر آدمی کو زید نہیں کہہ سکتے بلکہ ایک خاص معین ساتھی ہے، اس کا نام کیا ہے؟ زید۔ تو معرفہ کسے کہتے ہیں؟ جو کسی معین ذات یا چیز یا معنی پر دلالت کرے اور نکرہ کسے کہتے ہیں؟ جو غیر معین پر دلالت کرے۔ اب معرفہ کتنے ہیں؟ یہ آپ کو بتلائیں گے کہ معرفہ کی سات قسمیں ہیں۔ معرفہ کی سات قسمیں اور نکرہ اکثر طلبہ کو معرفہ اور نکرہ میں پہچان مشکل ہو جاتی ہے۔ بالکل آسان ہے۔ معرفہ سات قسمیں ذہن میں رکھو، جب کوئی اسم آ جائے، اس میں سے دیکھو کہ یہ معرفہ کی پہلی قسم ہے، دوسری ہے، تیسری ہے، چوتھی ہے، پانچویں ہے، چھٹی ہے یا ساتویں ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو، سمجھ جاؤ یہ کیا ہے؟ نکرہ ہے۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ ویسے تو ویسے ہی آپ کو پتہ لگ جائے گا، لیکن جس طالب علم کو مشکل پیش آتی ہے، وہ معرفہ کی یہ سات قسمیں ہر وقت ذہن میں رکھے، جو لفظ سامنے آئے، اس پر معرفہ کی یہ سات قسمیں منطبق کرنے کی کوشش کرے، دیکھے یہ پہلی قسم ہے، یا دوسری ہے، یا تیسری ہے، اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو، تو سمجھ جائے یہ معرفہ نہیں ہے بلکہ یہ نکرہ ہے۔ تو اب معرفہ کی یہ سات قسمیں ذکر ہونے لگی ہیں، ان کو آپ نے اچھی طرح یاد کرنا ہے۔ دیکھیے بھئی کتاب پر۔ فصل۔ بداں کہ اسم بر دو ضرب است، جان لے تو کہ اسم دو قسم پر ہے، ضرب کا معنی ہے قسم۔ قسم۔ بداں کہ جان لے تو کہ اسم بر دو ضرب است، اسم دو قسم پر ہے، یعنی اسم کی دو قسمیں ہیں، معرفہ اور نکرہ۔ معرفہ اور نکرہ یہ دو قسمیں۔ معرفہ آن است، یہ نون پر زبر پڑھنی ہے، آن است بھئی۔ معرفہ آن است، معرفہ وہ ہے کہ موضوع باشد برائے چیز معین، کہ جو موضوع ہو کسی معین چیز کے لیے۔ کہ موضوع باشد، کہ موضوع باشد، کہ موضوع ہو، کس کے لیے؟ معین چیز کے لیے۔ بھئی موضوع کا کیا معنی؟ موضوع کا معنی ہے مقرر کیا ہوا، متعین کیا ہوا۔ دیکھو۔ زید کے ماں باپ نے اپنے بیٹے کے لیے زید کا نام مقرر کیا، یا یوں کہو زید کے لیے، اپنے بیٹے کے لیے زید کا لفظ متعین کیا۔ اس کو وضع کہتے ہیں عربی میں، و ض اور ع۔ وضع۔ وضع کا کیا معنی؟ مقرر کرنا، متعین کرنا۔ تو معرفہ بھی کس کو کہتے ہیں؟ جو کسی معین چیز کے لیے وضع ہو، یعنی متعین کیا ہوا ہو۔ جیسے میں نے مثال ذکر کر دی۔ زید کے ماں باپ نے اپنے بیٹے کے لیے کون سا نام متعین کیا؟ زید۔ تو کہیں گے اس کے لیے زید کا لفظ موضوع ہے۔ موضوع کیا گیا ہے، یعنی وضع کیا گیا ہے، مقرر کیا گیا ہے، متعین کیا گیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وضع کا کیا معنی؟ مقرر کرنا اور موضوع جس کو مقرر کیا گیا ہو، متعین کیا گیا ہو۔ تو کہتے ہیں معرفہ آن است کہ موضوع باشد برائے چیز معین، معرفہ وہ ہے کہ جو وضع کیا گیا ہو برائے چیز معین، کسی معین چیز کے لیے۔ و آن بر ہفت نوع است، اور وہ سات قسم پر ہے۔ نوع کا بھی کیا معنی؟ قسم۔ و آن بر ہفت نوع است، اور یہ معرفہ جو ہے وہ سات قسم پر ہے۔ اول مضمرات، پہلی قسم کیا؟ مضمرات یعنی تمام ضمیریں، تمام ضمیریں۔ بھئی! ضمیریں جو ہیں نا، یہ معین ذات پر دلالت کرتی ہیں۔ جیسے اس کا بیان پیچھے ہو چکا۔ مثلاً میں آپ سے بات کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ میں نے زید کی پٹائی کی۔ اب میں نے، میں کہا، آپ سمجھ گئے نہیں سمجھے کہ کون مراد ہے؟ متکلم، جو بات کرنے والا وہ مراد ہے۔ اور میں آپ سے پوچھتا ہوں، کیف انتم؟ تم کیسے ہو؟ انتم سے کون مراد ہے؟ آپ سمجھ گئے نہیں سمجھے؟ معلوم ہوا آپ سب جو مخاطب ہیں میرے وہ آپ لوگ مراد ہیں۔ تو ضمیر جو ہے وہ ہمیشہ کسی معین ذات پر دلالت کرتی ہے۔ جب میں انا بولوں گا تو اس سے میں ہی مراد ہوں گا، زید یا عمر مراد نہیں۔ اور جب میں انتم کہوں گا تو انتم سے آپ میرے سامنے جو بیٹھے ہو آپ ہی مراد ہیں، کہیں دور بیٹھے ہوئے لوگ مراد نہیں۔ اور غائب، غائب کی ضمیر، غائب کی کون سی ضمیر ہے جو کس پر دلالت کرتی ہے؟ ایسے غائب پر جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہو۔ تو غائب کی ضمیر بھی کسی معین پر دلالت کرے گی۔ تو متکلم کی ضمیر بھی کسی متعین پر دلالت کرے گی جو بات کرنے والا ہے اور مخاطب کی ضمیر جو اس کے سامنے موجود ہیں جن کو وہ خطاب کر رہا ہے، جن سے وہ بات کر رہا ہے اور غائب بھی کسی معین غائب پر دلالت کرے گا جس کا پہلے ایک دفعہ ذکر ہو چکا ہو۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، زید میرا گہرا دوست ہے، وہ کل میرے پاس آیا تھا۔ دیکھو کس کا ذکر میں نے کیا؟ زید اور پھر آگے میں نے یہ نہیں کہا کہ زید میرے پاس آیا تھا بلکہ میں نے کہا وہ میرے پاس آیا تھا، یہ وہ کیا ہے اردو میں؟ ضمیر ہے اور یہ کسی معین پہ دلالت کر رہا ہے یا غیر معین پر؟ معین۔ یہاں وہ سے زید ہی مراد ہے کیونکہ اس کا ذکر ہوا ہے ابھی، اس سے عمر یا بکر یا خالد وغیرہ مراد نہیں۔ تو ضمیر وہ ہے جو کسی معین ذات پر دلالت کرے۔ معین ذات پر۔ پھر ان میں یاد رکھو! تین قسم کی ضمیریں ہو گئیں۔ ایک متکلم والی، ایک مخاطب والی اور ایک غائب والی۔ یہ تین قسمیں ہیں ضمیروں کی، پھر ان کے اندر یا مفرد ہوگا یا تثنیہ ہوگا یا جمع۔ یا مذکر ہوگا یا مؤنث۔ تو یہ جو تین قسمیں ہیں ان میں بھی سب سے زیادہ معرفہ، اونچے درجے کا معرفہ، وہ متکلم کی ضمیر ہے۔ یہ تینوں ضمیریں کیا ہیں؟ معرفہ۔ تینوں ضمیریں کیا ہیں؟ معرفہ۔ لیکن ان میں بھی سب سے اونچا درجہ وہ متکلم کی ضمیر کا ہے۔ (یعنی انا بھی، انا بھی معرفہ، انت بھی معرفہ، ہوا بھی معرفہ۔ لیکن انا، انت اور ہوا، ان کے اندر سب سے زیادہ معرفہ جس میں سب سے زیادہ تعریف ہے وہ انا ضمیر ہے۔ متکلم کی۔) کیونکہ معرفہ کا، معرفت کہتے ہیں پہچاننے کو۔ معرفہ وہ ہے جس کی آپ کو پہچان ہے۔ میں نے کہا زید، آپ فوراً ساتھی آپ کے ذہن میں آ گیا کیونکہ آپ کو اس کی پہچان ہے، وہ متعین ہے۔ جب وہ متعین ہے، معلوم ہو آپ کو اس کی پہچان ہے۔ تو معرفہ کو معرفہ کیوں کہتے ہیں؟ معین پر۔ اور آسان لفظوں میں کیا کہو؟ کیونکہ ہمیں اس کی پہچان ہوتی ہے۔ ذکر کرتے ہی ہم سمجھ جاتے ہیں کس کی بات ہو رہی ہے، کیا مراد ہے۔ تو معرفہ کو معرفہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کی انسان کو پہچان ہوتی ہے۔ اور انسان کو سب سے زیادہ اپنی پہچان ہے، مخاطب اور غائب سب کے مقابلے میں۔ ہر شخص سب سے زیادہ کس کو جانتا ہے؟ اپنے آپ کو جانتا ہے۔ تو اس لیے دیکھو متکلم جو ہے، متکلم کی ضمیر، اس میں تعریف سب سے زیادہ، وہ سب سے بڑا، سب سے اعلیٰ درجے کی معرفہ۔ دوسرے درجے پر جو مخاطب ہے، اس کا درجہ ہے کیونکہ مخاطب آپ کے سامنے ہے۔ اور تیسرا درجہ ہے غائب کا بھئی کیونکہ وہ آپ کے سامنے نہیں ہے، آپ کی نظروں کے سامنے نہیں ہے۔ تو سب سے اعلیٰ درجہ کس کا؟ ضمیروں میں؟ متکلم کا۔ دوسرا درجہ؟ مخاطب کی ضمیریں اور تیسرے نمبر پر غائب کی ضمیریں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں اول مضمرات پہلی قسم جو ہے معرفہ کی ضمیریں ہیں، دوم اعلام۔ اعلام جمع ہے علم کی۔ علم اور علم نام کو کہتے ہیں۔ دوسرے درجے پر جو معرفہ ہے وہ نام ہے۔ جیسے ابھی میں نے ذکر کیا، زید کے ماں باپ نے زید کا کیا نام رکھا؟ زید۔ دیکھو یہ اس کا علم ہے، نام ہے۔ اسی طرح آپ کا نام آپ کے والدین نے کچھ رکھا ہوگا، دوسرا ساتھی ہے اس کا نام والدین نے کچھ رکھا ہوگا، تیسرا ساتھی ہے اس کا نام والدین نے کچھ نام رکھا ہوگا، یہ سب علم ہیں۔ یہ آپ کے نام ہیں۔ اب جب بھی آپ کا نام لیا جائے گا، آپ ہی کی صورت ذہن میں آئے گی ساتھیوں کے، کسی اور کی صورت ذہن میں نہیں آئے گی۔ تو یہ ہے علم۔ علم کا کیا معنی؟ نام، نام۔ تو کہتے ہیں دوم اعلام، دوسرے نمبر پر اعلام یعنی علم ہیں۔ جو زید و عمر جیسے زید اور عمر، زید کسی کا نام ہے، عمر بھی کسی کا نام ہے تو یہ دوسرے درجے والے معرفہ ہوئے۔ سوم اسمائے اشارہ۔ تیسرے نمبر پر اسمائے اشارہ ہیں۔ اسمائے اشارہ۔ اسمائے اشارہ بھی کسی معین چیز پر دلالت کے لیے آتے ہیں۔ مثلاً دیکھو میرے سامنے یہ کتاب موجود ہے، میں اس کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہوں، ھذا۔ آپ سمجھ گئے نہیں سمجھے کہ اس سے کیا مراد ہے؟ سب سمجھ گئے۔ میں نے کتاب نہیں کہا، میں نے صرف ھذا اس کتاب کی طرف انگلی سے یا ہاتھ سے اشارہ کیا ہے تو آپ سمجھ گئے کہ ھذا سے یہ والی کتاب مراد ہے۔ اگر میں کسی قلم کی طرف اشارہ کروں اور کہوں ھذا، آپ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ ھذا سے کیا مراد ہے؟ یہ قلم مراد ہے، کتاب مراد نہیں۔ تو دیکھو! اس میں اشارہ بھی کسی معین چیز پر دلالت کرتا ہے۔ میں نے ہا سے اشارہ کیا اپنی کتاب، اپنی کتاب کی طرف تو جس کتاب کی طرف اشارہ کیا، وہی مراد ہے، جو آپ کے سامنے کتاب موجود ہے وہ والی کتاب مراد نہیں ہے۔ تو اس میں اشارہ بھی کیا کرتا ہے؟ معین چیز پر دلالت کرتا ہے۔ چہارم اسمائے موصولہ۔ چوتھی قسم جو ہے وہ اسمائے موصولہ ہے معرفہ کی۔ اسمائے موصولہ آپ پڑھ چکے، اس میں موصول وہ ہے کہ جس کے ساتھ صلہ ملانا پڑتا ہے، پھر ہی اس کا معنی سمجھ میں آتا ہے۔ جیسے الذی، وہ جو کہ۔ اگر میں کئی دفعہ بھی کہوں الذی، وہ جو کہ، الذی، وہ جو کہ، آپ کہیں گے بھئی ہمیں تو بات نہیں سمجھ میں آرہی، آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟ پھر آگے جب میں اس کا صلہ لاؤں گا۔ الذی ضربک، وہ جس نے آپ کی پٹائی کی تھی، اب آپ سمجھ گئے کس آدمی کی بات ہو رہی ہے۔ معلوم ہو کوئی متعین آدمی ہے جس نے آپ کی پٹائی کی تھی۔ تو یہ اسمائے موصولہ ہیں۔ دہرائو پہلی قسم کونسی معرفہ کی تمام ضمیریں، دوسرا، دوسرے علم بھئی، تیسرا، اسمائے اشارہ، چوتھا معرفہ اسمائے موصولہ۔ آگے دیکھیے۔ و ان دو قسم را مبہمات گویند اور ان دو قسموں کو مبہمات کہتے ہیں۔ ان دو قسموں کو مبہمات کہتے ہیں۔ کون سے دو آخری دو، آخری دو؟ کون سے ہیں آخری دو؟ اسمائے اشارہ اور اسمائے موصولہ جو ابھی گزرے۔ کہتے ہیں یہ جو آخری دو ابھی ابھی گزرے ہیں ان دونوں کو مبہمات کہتے ہیں۔ آپ کے ذہنوں میں آئے گا بھئی ابھی آپ نے بتایا یہ معرفہ ہیں اور معرفہ وہ ہے جو کسی متعین پر دلالت کرے اور مبہم تو کہتے ہیں غیر متعین کو۔ مبہم ہے کوئی چیز آپ کو پوری طرح سمجھ میں نہیں آ رہی تو آپ کیا کہتے ہیں مبہم ہے۔ تو اس کی ضد ہوا، بھئی یہ متعین بھی ہیں اور مبہم بھی ہیں۔ متعین بایں لحاظ کہ یہ کسی متعین ذات پر کیا کرتے ہیں دلالت کرتے ہیں لیکن مبہم بایں کو مبہمات اسمائے اشارہ اور اسمائے موصولہ کو اس اعتبار سے کہتے ہیں کہ اس میں اشارہ جب میں نے کہا ھذا اور کس کی طرف اشارہ کیا؟ کتاب کی طرف تو آپ سمجھ گئے کہ اس سے کیا مراد ہے؟ کتاب تو یاد رکھیے! ھذا ہوا اشارہ اور یہ جو کتاب ہے یہ ہے مشار إليه۔ جس چیز کی طرف اشارہ کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مشار إليه یعنی اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مشار اشارہ کیا گیا ہے إليه اس چیز کی طرف۔ تو جس چیز کی طرف اشارہ کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مشار إليه تو اس میں اشارہ کو مبہم کہتے ہیں کیونکہ یہ محتاج ہے مشار إليه کا۔ جب تک کوئی چیز مشار إليه نہیں ہوگی آپ کو ھذا کا معنی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ یہی ھذا، ھذا بول کر اگر میں کتاب کی طرف اشارہ کروں تو آپ سمجھ جاتے ہیں کہ مشار إليه کتاب ہے تو ھذا سے کیا مراد ہے؟ کتاب اور اگر یہی ھذا کا لفظ بولوں اور میں قلم کی طرف اشارہ کروں تو آپ سمجھ جاتے ہیں کہ مشار إليه کیا ہے؟ قلم معلوم ہوا ھذا سے کیا مراد ہے؟ قلم مراد ہے۔ اسی ھذا کے ذریعے اگر میں دیوار کی طرف اشارہ کروں تو آپ سمجھ جاتے ہیں کہ ھذا سے کیا مراد ہے؟ دیوار اور مشار إليه یہاں پر کیا ہے؟ دیوار تو اس میں اشارہ محتاج ہے مشار إليه کا۔ کس کا محتاج؟ مشار إليه کا۔ اگر آپ مشار إليه نہیں لاتے تو ھذا کا معنی ہی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ دیکھو اب میں بغیر کوئی اشارہ کیے ہوئے آپ کے سامنے کہتا ہوں ھذا کچھ سمجھ میں نہیں آیا آپ کو؟ نہیں۔ آپ کہیں گے بھئی مشار إليه کیا؟ پتہ تو چلے۔ تو یا تو وہ کبھی کبھار ہاتھ ہاتھ سے اشارہ کر دیا جاتا ہے کبھی لفظوں میں بھی مشار إليه لے آتے ہیں۔ ھذا الكتاب یہ والی کتاب یا ھذا القلم یہ والا قلم تو کبھی لفظوں میں وہ مشار إليه لے آتے ہیں کبھی اس کی طرف ہاتھ یا انگلی سے اشارہ کر دیا جاتا ہے۔ تو اس میں اشارہ کب ہمیں سمجھ میں آئے گا؟ جب مشار إليه کا پتہ ہو۔ اگر مشار إليه کا پتہ نہیں تو اس میں اشارہ بھی سمجھ میں نہیں آئے گا اور مشار إليه کا پتہ کیسے چلے گا؟ ہاتھ یا انگلی سے اشارہ کیا جائے یا لفظوں میں اس کو باقاعدہ ذکر کیا جائے۔ ھذا الكتاب جی مشار إليه کیا ہے؟ کتاب ہے لفظوں سے آپ کو پتہ چل گیا اور ایک میں کہتا ہوں ھذا کتاب کی طرف انگلی سے اشارہ کر رہا ہوں ھذا اب مشار إليه آپ کو سمجھ میں آگیا تو مشار إليه کے سمجھ آنے کی دو صورتیں ہیں یا اس کی طرف ہاتھ یا انگلی سے اشارہ کیا جائے یا اس کو لفظوں میں ذکر کیا جائے۔ تو اس میں اشارہ کس کا محتاج؟ مشار إليه کا۔ اس کے بغیر اس کا معنی سمجھ میں آئے گا؟ نہیں کہ جب تک مشار إليه کا پتہ نہیں ہوگا تب تک اس میں اشارہ کی تعین نہیں ہوگی کہ اس سے کیا مراد ہے۔ اسی طرح اس میں موصول ہے، اس میں موصول ہے۔ اس میں موصول کا معنی بغیر صلے کے سمجھ میں نہیں آئے گا جب تک اس کے ساتھ صلہ نہیں ملائیں گے اس کا معنی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ جیسے میں آپ کے سامنے کہتا ہوں الذی وہ جو کہ آپ کو پتہ چلا کس کی بات کر رہا ہوں؟ نہیں وہ جو کہ یہ تو ہر ایک پر صادق آ سکتا ہے جس نے آپ کی پٹائی کی تھی وہ اس کے لیے بھی میں الذی بول سکتا ہوں وہ جس نے آپ کا اکرام کیا تھا اور آپ کو چائے پلائی تھی اس وہ بھی الذی ہے اس تو اس میں موصول سے کون مراد ہے جب تک آگے صلہ نہیں آئے گا پتہ نہیں چلے گا تو میں کہتا ہوں الذی ضربک اب آپ سمجھ گئے کس کی بات ہو رہی ہے جس نے آپ کی پٹائی کی تھی اور اگر اس کے بجائے میں یوں کہہ دوں الذی أکرمک وہ جس نے آپ کا اکرام کیا تھا اب آپ سمجھ گئے کہ فلاں شخص کی بات ہو رہی ہے تو دیکھو صلہ بدلا تو اس کا معنی بھی بدل گیا کہ اس سے مراد کون ہے تو اس میں موصول کا معنی کب سمجھ میں آئے گا؟ جب اس کے ساتھ صلہ ملے گا اور بغیر صلے کے یہ مبہم ہے اس کا پتہ ہی نہیں چلے گا جیسے اس میں اشارہ بغیر مشار إليه کے مبہم ہے۔ تو اسمائے اشارہ اور اسمائے موصولہ ان کو کیا کہتے ہیں؟ مبہمات۔ مبہمات کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں اشارہ کس کا محتاج؟ مشار إليه کا اور اس میں موصول کس کا محتاج؟ صلے کا محتاج ہے بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں و ان دو قسم را مبہمات گویند اور ان دو قسموں کو مبہمات کہتے ہیں۔ پنجم معرفہ با ندا چوں یا رجل جیسے یا رجل۔ معارفہ با ندا ندا کہتے ہیں آواز دینا کسی کو ندا۔ معرفہ با ندا آواز دے کر کسی لفظ کو معرفہ بنایا جائے۔ بھئی دیکھیے عربی میں آواز دینے کے لیے یا کا لفظ عموماً استعمال کرتے ہیں یا اور بھی الفاظ ہیں وہ آگے آ جائیں گے ابھی اتنا یاد رکھیں۔ تو ندا کے لیے عربی میں کیا استعمال کرتے ہیں؟ یا کا لفظ۔ یا زید اے زید یا بکر اے بکر یا عمرو اے عمرو دیکھو آواز دینے کے لیے کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے۔ تو عربی میں کیا استعمال کرتے ہیں؟ یا تو اس کو کہتے ہیں ندا ندا آپ دوسرے کو کیا کر رہے ہیں؟ آواز دے رہے ہیں۔ ندا اور ندا کے لیے کیا استعمال کرتے ہیں؟ یا یا۔ یاد رکھو یہ جو یا ہے نا یا اور اسی طرح الف لام الف لام یہ جب کسی لفظ پر داخل ہو جائیں تو اس کو معرفہ بنا دیتے ہیں۔ یا حرف یا حرف ندا جو ہے یا جب کسی لفظ پر داخل ہو جائے تو اس کو کیا بنا دیتا ہے یہ؟ تو یہ اس لفظ کو معرفہ بنا دیتا ہے اسی طرح الف لام کسی لفظ پر داخل ہو جائے تو الف لام اس کو معرفہ بنا دیتا ہے۔ جیسے رجل ہے نکرہ نکرہ۔ رجل کا کیا معنی؟ کوئی آدمی یا ایک آدمی۔ تو مثلاً میرے سامنے زید کھڑا ہے میں کہہ سکتا ہوں وہ بھی کیا ہے؟ رجل بکر کھڑا ہے وہ بھی کیا ہے؟ رجل رجل کا معنی آدمی مرد مرد زید بھی کیا ہے؟ رجل بکر ہے وہ بھی کیا ہے؟ رجل عمرو ہے وہ بھی کیا ہے؟ رجل خالد بھی کیا ہے؟ رجل تو رجل نکرہ ہے اور یہ ہر چیز ہر رجل پر بولا جا سکتا ہے زید و عمرو بکر خالد دنیا کے جتنے رجل ہیں ان سب پر یہ رجل کا لفظ بولا جا سکتا ہے۔ لیکن اس پر جب میں الف لام لے آؤں الرجل اب ترجمہ ہوگا وہ آدمی۔ معلوم ہوا کسی متعین کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں تو اب یہ متعین ہو گیا کسی متعین پر دلالت کرے گا اور یاد رکھو اس کے لیے پھر عموماً وہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ الرجل کا کوئی آپ سے کہے ترجمہ کرو آپ کیا ترجمہ کریں گے؟ وہ آدمی۔ وہ آدمی۔ معلوم ہو کوئی متعین آدمی مراد ہے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں جاءني رجل أمسي کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا۔ جاءني رجل أمسي میں نے نکرہ ذکر کیا رجل کوئی آدمی آیا تھا کل میرے پاس۔ آپ اس آدمی کو نہیں جانتے نہ آپ کو اس کے نام کا پتہ ہے نہ صورت کا پتہ ہے نہ کپڑوں کا پتہ ہے کسی چیز کا نہیں پتہ۔ लेकिन ایک دفعہ جب میں نے ذکر کر دیا اب وہ متعین ہو گیا اور پھر میں آگے آپ سے کہتا ہوں تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ کیا کہتا ہوں؟ میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ آپ سمجھ گئے کہ نہیں سمجھ گئے کس کی بات کر رہا ہوں؟ کون سا آدمی؟ وہ جو کل گزشتہ کل آیا تھا تو جب ایک دفعہ چیز کو ذکر کر دیا جائے تو وہ متعین ہو جاتی ہے چاہے آپ نے اس کو دیکھا ہو چاہے نہ دیکھا ہو چاہے آپ اس کو جانتے ہوں چاہے بات سمجھ میں آ رہی ہے میں نے پہلے کیا کہا جاءني رجل أمسي کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا گزشتہ کل فاکرمتو تو میں نے اکرام کیا الرجل اب الف لام لے کر آؤں گا۔ اب رجلاً نہیں کہوں گا بلکہ کیا لاؤں گا؟ کیوں؟ کیونکہ میں کیا بتانا چاہتا ہوں؟ اگر میں کہوں نا فاکرمتو رجلاً تو معنی ہو جائے گا میں نے کسی آدمی کا اکرام کیا۔ کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا میں نے کسی آدمی کا اکرام کیا۔ تو ہو سکتا ہے وہی ہو ہو سکتا ہے کوئی اور ہو کوئی پتہ نہیں چل رہا یہاں پر کہ اکرام اسی آدمی کا کیا ہے یا کسی اور آدمی کا کیا ہے لیکن جب میں کہوں گا میں بتانا چاہتا ہوں میں نے اسی آدمی کا اکرام کیا تو پھر کیا لے کر آؤں گا؟ الف لام لے کر آؤں گا الرجل معرفہ اس کو لے کر آؤں گا اور کیسے کہوں گا؟ فاکرمتو الرجل کیا ترجمہ ہوگا؟ میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ کوئی آپ سے کہے گا کہ یہ اس کا لفظ آپ کہاں سے لے آئے؟ تو آپ کیا جواب دیں گے؟ یہ الف لام کا میں ترجمہ کر رہا ہوں الف لام کے ذریعے کیا ہوتا ہے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے معلوم ہوا الرجل سے ہر آدمی مراد نہیں کوئی خاص آدمی مراد ہے اس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے تو الف لام سے کوئی لفظ کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ بن جاتا ہے اور معرفہ کسے کہتے ہیں؟ جو کسی متعین ذات پر دلالت کرے اور الرجل سے ہر رجل مراد ہے یا کوئی متعین رجل ہے مراد ہے؟ متعین اس لیے یہ معرفہ ہے ایک متعین ذات پر دلالت کر رہا ہے۔ تو جیسے الف لام کسی لفظ پر داخل ہو وہ معرفہ بن جاتا ہے اسی طرح اگر یا حرف ندا یہ کسی اسم پر داخل ہو وہ بھی معرفہ بن جاتا ہے۔ اسی رجل پر یا داخل کر دو۔ یا رجل آپ کے سامنے ایک آدمی گزر رہا ہے بھئی آپ کو اس کے نام کا پتہ نہیں ہے آپ اس کو پہچانتے نہیں ہیں لیکن کسی وجہ سے آپ اس کو آواز دیتے ہیں یا رجل اے آدمی۔ تو یہ رجل معرفہ ہے کیونکہ اس پر آپ نے یا حرف ندا داخل کر دی اور یا حرف ندا بھی الف لام کی طرح کیا فائدہ دیتی ہے؟ لفظ کو کیا بنا دیتی ہے؟ معرفہ تو الرجل کیا تھا؟ معرفہ تو یا رجل میں بھی رجل کیا ہے؟ معرفہ آپ کہیں گے کیسے معرفہ ہے کیسے متعین ہو گیا؟ بھئی دیکھو ایک آدمی آپ کے سامنے گزر رہا ہے آپ نے کیا کہا یا رجل اے آدمی۔ جی کسی متعین کو کہا یا غیر متعین کو کہا؟ متعین آدمی آپ کے سامنے گزر رہا ہے متعین کو ندا دے رہے ہیں تو یا رجل اس میں رجل کیا ہو چکا؟ معرفہ ہو چکا یہ معرفہ ہے کیونکہ یا بھی لفظ کو معرفہ بناتا ہے جیسے الف لام لفظ کو کیا بناتا ہے؟ معرفہ۔ یا حرف ندا کیسے معرفہ بناتا ہے کسی لفظ کو؟ کیونکہ اس میں ندا کسی متعین کو ہوگی اگر ندا غیر متعین کو ہے تو پھر یہ پھر یہ معرفہ نہیں۔ اگر ندا غیر متعین کو ہو پھر یا داخل ہو جائے پھر بھی لفظ نکرہ کا نکرہ ہی رہے گا جیسے نابینا ہے نابینا۔ اب وہ نابینا ہے کسی جگہ کھڑا ہے اسے راستہ نظر نہیں آ رہا تو وہ کہتا ہے یا رجلاً اے آدمی آواز دیتا ہے۔ تو کیا وہ کسی متعین کو آواز دے رہا ہے یا جو بھی قریب سے گزر رہا ہو اس کو آواز دے رہا ہے؟ جو بھی قریب ہو وہ سارے اس کے منادی بن جائیں گے تو جب وہ کہتا ہے یا رجلاً تو اب معرفہ نہیں۔ کیونکہ کسی متعین کو آواز نہیں دے رہا تو بس ضابطہ یاد رکھیں جب یا کے ذریعے کسی متعین کو ندا دی جائے تو وہ معرفہ ہوگا غیر متعین کو ندا دی جائے تو وہ نکرہ رہے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ نابینا کی تو ویسے مثال دی جاتی ہے یہ نہیں کہ نابینا ہی کہے گا تبھی یا رجلاً نکرہ رہے گا۔ آپ بھی اس طرح کر سکتے ہیں آپ بھی جب کسی متعین کو یا کے ساتھ ندا دیں گے وہ کیا بن جائے گا؟ معرفہ اور کسی غیر متعین کو ندا دیں گے وہ کیا ہوگا؟ وہ نکرہ ہی رہے گا۔ تو کہتے ہیں پنجم معرفہ با ندا پانچواں جو ہے معرفہ معرفہ با ندا وہ جو ندا کی وجہ سے معرفہ ہو چوں یا رجل جیسے یا رجل۔ ششم معرفہ با الف و لام چھٹی قسم ہے جو معرفہ ہو الف و لام کی وجہ سے چوں الرجل۔ اس پر بھی کیا آیا الف لام اور الف لام بھی کسی لفظ کو کیا بنا دیتا ہے؟ معرفہ۔ ہفتم مضاف بایک ازیں ہا ساتویں قسم معرفہ کی مضاف جو مضاف ہو۔ جو مضاف ہو بایک ایک کسی ایک کو ازیں ہا ان میں سے۔ اصل میں کیا تھا ازیں ہا۔ ازیں ہا۔ این کا کیا معنی یہ یہ از کا معنی سے اور فارسی میں جمع کے لیے ہا ملاتے ہیں۔ فارسی میں جمع کے لیے ہا لفظ کے ساتھ جوڑتے ہیں یہ ایک جمع بنانے کا طریقہ ہے کتاب کا معنی ایک کتاب اور آپ کہنا چاہتے ہیں کئی کتابیں تو آپ کہیں گے کتابہا۔ قلم کا معنی ایک قلم اور آپ بتانا چاہتے ہیں کئی قلم تو کیسے کہیں گے؟ قلمہا تو یہاں پر بھی اسی طرح ازیں ہا یہ سب ترجمہ کیا ہوگا؟ یہ سب کہ مضاف بایک ازیں ہا وہ جو مضاف ہو ان میں سے کسی ایک کی طرف۔ ان میں سے کسی ایک کی طرف کون سے؟ یہ جو پہلے چھ قسمیں گزریں لیکن ان چھ میں سے ان چھ میں سے یہ معرفہ با ندا کو نکال دیں۔ باقی جو پانچ قسمیں رہ گئیں ان کی طرف جو مضاف ہوگا وہ بھی معرفہ بن جائے گا۔ پہلی قسم کیا تھی؟ مزمرات ضمائر یاد رکھو جو لفظ ضمیر کی طرف مضاف ہوگا وہ بھی معرفہ بن جائے گا۔ اگلی قسم کیا تھی؟ علم نام نام کی طرف جو مضاف ہوگا وہ بھی کیا بن جائے گا؟ معرفہ۔ اگلی قسم کیا تھی؟ اسمائے اشارہ اسمائے اشارہ کی طرف جو مضاف ہوگا وہ بھی کیا بن جائے گا؟ معرفہ۔ اس سے اگلی قسم اسمائے موصولہ اس میں موصول کی طرف جو مضاف ہوگا وہ بھی معرفہ بن جائے گا۔ اس سے اگلی قسم معرفہ با ندا اس کو چھوڑ دیں اور چھٹی قسم کیا ہے؟ معرفہ با الف و لام۔ معارفہ با الف و لام اس کی یعنی جو معرف باللام ہے جس پر الف لام آ گیا جیسے الرجل اس کی طرف جو مضاف ہوگا وہ بھی کیا بن جائے گا؟ معرفہ۔ تو معرفہ با ندا کو چھوڑ کر باقی جو پانچ قسمیں گزر چکی ہیں اب تک ان میں سے کسی کی طرف جو مضاف ہو جائے جو لفظ وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ دیکھو مثالوں سے بات سمجھ میں آئے گی۔ مثلاً غلام بھئی غلام۔ یا کتاب کہہ لو کتاب۔ کتاب نکرہ ہے۔ میرے سامنے جو موجود ہے یہ بھی کیا ہے کتاب۔ اس کو بھی کہہ سکتے ہیں کتاب آپ کے سامنے ہم نے ہر طالب علم کے سامنے جو موجود وہ بھی کیا ہے؟ کتاب۔ تو جب میں نے لفظ کتاب کہا، یہ ہر لفظ ہر کتاب پر بولا جا سکتا ہے۔ لیکن جب اس کی اضافت میں کر دوں ضمیر کی طرف۔ مثلاً: کتابی، میری کتاب۔ اب دیکھو صرف کون سی کتاب اس کون سی کتاب پر یہ بولا جائے گا؟ جو میری کتاب ہے اس پر یہ لفظ بولا جائے گا، جو آپ کی کتاب ہے اس پر یہ لفظ نہیں۔ تو یہ اضافت کی وجہ سے۔ یا آپ کہتے ہیں: کتابُہ۔ ہاں ضمیر ہے نا۔ کتابُہ کیا ترجمہ؟ اس کی کتاب۔ دیکھو کوئی متعین کتاب مراد ہے۔ کتابی، میری کتاب۔ دیکھو کوئی متعین کتاب مراد ہے۔ کتابُک، آپ کی کتاب۔ دیکھو کوئی متعین کتاب مراد ہے۔ تو جب کوئی اسم ضمیر کی طرف مضاف ہو جائے وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ۔ تو کتاب ویسے تو نکرہ تھا لیکن جب اس کی اضافت ضمیر کے ساتھ کر دی، ضمیر کے ساتھ اس کو جوڑ دیا جیسے کتابی، یا کتابُہ، یا کتابُک۔ تو یہ کیا بن چکا اب؟ معرفہ۔ اب یہ کسی معین کتاب پر دلالت کر رہا ہے۔ یا اس کی اضافت کر دو کسی نام کی طرف۔ جیسے زید عمر بکر۔ زید کی طرف اضافت کر دو۔ کتابُ زیدِن۔ کیا ترجمہ؟ زید کی کتاب۔ دیکھو معرفہ بن گیا معلوم ہوا زید کی کتاب مراد ہے بکر یا خالد کی کتاب مراد نہیں۔ تو یہ دیکھو یہ معرفہ بن گیا۔ یا اس میں اشارہ کی طرف اضافت کر دو۔ کتابُ ھٰذَا۔ مثلاً ھٰذَا میں آپ کی ایک طالب علم کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔ ھٰذَا سے کون مراد؟ طالب علم کی طرف میں ہا سے اشارہ کر رہا ہوں اور کیا کہتا ہوں؟ کتابُ ھٰذَا۔ اس کی کتاب۔ دیکھو معلوم ہوا کوئی متعین کتاب مراد ہے غیر متعین مراد نہیں۔ تو اس میں اشارہ کی طرف بھی جب اضافت کر دی جائے تو وہ لفظ معرفہ بن جاتا ہے۔ یا اللّذی کی طرف اشارہ میں اضافت کر دیتا ہوں۔ کتابُ اللّذی ضربَک۔ وہ آدمی جس نے آپ کی پٹائی کی تھی، اس کی کتاب۔ دیکھا اب یہ یہ بھی کیا ہے کسی متعین کتاب پر دلالت کر رہا ہے۔ تو اضافت کس کی طرف کر دو؟ ضمیر کی طرف یا یا علم کی طرف یا اسمائے اشارہ یا اس میں موصول۔ تو وہ لفظ کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ۔ اسی طرح اگر معرف باللام کی طرف اضافت کر دو۔ الرّجُل۔ الرّجُل کا کیا ترجمہ؟ وہ آدمی کسی کوئی معین مرد مراد ہے۔ اب اس کے ساتھ میں کتاب کا لفظ جو نکرہ ہے جوڑتا ہوں اور اضافت کرتا ہوں۔ کتابُ الرّجُل۔ اس آدمی کی کتاب۔ اب یہ کتاب کا لفظ کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔ کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔ ہاں معرفہ بن ندا جو ہوتا ہے، یا رجل، اس کی طرف اضافت نہیں ہو سکتی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے بھئی کہتے ہیں: مُزْ هفتُم مضاف الیہ کے آئیں ہاں ساتویں قسم وہ ہے جو مضاف ہو ان سب میں سے کسی ایک کی طرف چوں غلامُہ۔ کیا ترجمہ ہوگا؟ اس کا غلام۔ جی کس کی طرف اضافت ہوئی؟ ضمیر کی طرف۔ و غلامُ زیدِن کیا ترجمہ ہوگا؟ زید کا غلام۔ جی کس کی طرف اضافت ہوئی؟ علم کی طرف۔ و غلامُ ھٰذَا کیا ترجمہ؟ اس کا غلام۔ جی کس کی طرف اضافت ہوئی؟ اس میں اشارہ کی طرف۔ و غلامُ اللّذی عندی۔ غلام اس آدمی کا عندی جو میرے پاس ہے۔ وہ آدمی جو میرے پاس کھڑا ہے اس کا غلام۔ جی تو غلامُ اللّذی عندی۔ جی یہ غلام کی اضافت کس کی طرف ہے؟ اس میں موصول کی طرف اور عندی یہ کیا ہے اس کا صلہ ہے۔ موصول کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ صلہ تو یہ صلہ ہے۔ تو یہ غلام کا لفظ جب اللّذی کی طرف مضاف ہوا تو معرفہ بن گیا۔ و غلامُ الرّجُل۔ دیکھو غلام کی اضافت ہو گئی الرّجُل کی طرف کیا ترجمہ ہوگا؟ یہ ترجمہ نہیں کرنا آدمی کا غلام نہیں۔ نہیں۔ طلبہ عموماً یہ ترجمہ کرتے ہیں: غلامُ الرّجُل، آدمی کا غلام۔ نہیں بھئی الف لام کا بھی ترجمہ کرو۔ کیسے کہیں گے؟ غلامُ الرّجُل، اس آدمی کا غلام۔ تو دیکھو ان میں سے یہ جو پانچ تھے ان میں سے ان کی طرف جو نکرہ مضاف ہو جائے وہ بھی معرفہ بن جاتا ہے۔ و نکرہ آنست کہ موضوع باشد برای چیز غیر معین۔ اور نکرہ وہ ہے کہ جو موضوع ہو، جس کو متعین کیا گیا ہو برائے چیز غیر معین، کس کے لیے؟ غیر معین۔ غیر معین چیز کے لیے جس کو وضع کیا گیا ہو۔ جیسے کتاب۔ یہ دنیا کی ہر کتاب پر یہ لفظ بولا جا سکتا ہے۔ لیکن کتابُ زیدِن کیا یہ دنیا کی ہر کتاب پر بول سکتے ہیں؟ نہیں یہ صرف زید کی کتاب پر بول سکتے ہیں کسی اور کتاب پر نہیں۔ اسی طرح غلام، غلام کا لفظ دنیا کے ہر غلام پر بول سکتے ہیں۔ لیکن غلامی، میرا غلام، یہ ہر غلام پر نہیں بول سکتے۔ تو نکرہ آنست کہ موضوع باشد برائے چیز غیر معین اور نکرہ وہ ہے جو موضوع ہو کسی غیر معین چیز کے لیے چوں رجلُ جیسے رجل بھئی مرد، یہ کوئی بھی مرد ہو اس کو آپ اس پر یہ لفظ بول سکتے ہیں۔ و فرسُ۔ فرس گھوڑے کو کہتے ہیں۔ کوئی بھی گھوڑا ہو آپ اس کو فرس کہہ سکتے ہیں۔ لیکن فرسُ زیدِن، زید کا گھوڑا۔ اب یہ لفظ ہر گھوڑے پر نہیں بول سکتے، یہ صرف زید کے گھوڑے پر بول سکتے ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ معرفہ کی کتنی قسمیں ہو گئیں؟ سات قسمیں۔ اول تمام ضمیریں۔ دوسرے نمبر پر علم۔ تیسرے نمبر پر اسمائے اشارہ۔ چوتھے نمبر پر اسمائے موصولہ۔ پانچویں نمبر پر معرفہ بِنِدا وہ جو نِدا کی وجہ سے معرفہ بنے۔ چھٹے نمبر پر معرفہ بَالف و لام جس پر الف لام آئے اور ساتویں نمبر پر جو ان میں سے کسی ایک کی طرف مضاف ہو۔ اب شروع میں بھی میں نے ذکر کیا عموماً طلبہ کو پتہ نہیں چلتا کہ یہ لفظ معرفہ ہے یا نکرہ ہے۔ تو اب آپ نے یہ معرفہ ذہن میں رکھنے ہیں۔ جب معرفہ ذہن میں ہوں گے، تو آپ معرفہ اور نکرہ کو آرام سے پہچان لیں گے۔ کوئی بھی لفظ آیا آپ کے سامنے کتاب میں تو آپ اس میں غور کریں کہ یہ معرفہ کی سات قسموں میں سے کوئی قسم تو نہیں۔ اگر ان میں سے ہے تو معلوم ہوا یہ معرفہ۔ اگر ان میں سے نہیں تو یہ کیا ہے؟ نکرہ۔ تو جب بھی کوئی لفظ آئے غور کرو کہ یہ ضمیر تو نہیں۔ پھر دوسری قسم یہ کسی کا نام تو نہیں۔ پھر یہ دیکھو کہ یہ اس میں اشارہ تو نہیں۔ اور کیا دیکھو؟ اس میں موصول تو نہیں۔ اور معرفہ بِنِدا تو نہیں اس پر حروفِ نِدا تو نہیں داخل اور یہ دیکھو کہ اس پر الف لام تو داخل نہیں۔ اور یا ان میں سے ان پانچ میں سے کسی ایک کی طرف یہ مضاف تو نہیں ہو رہا آگے اس سے آگے مضاف الیہ تو نہیں آ رہا۔ اگر ان میں سے نہیں تو معلوم ہوا وہ نکرہ ہے۔ اور بالکل اسان ہے، ایک دو چار دفعہ آپ ان کو یاد کر کے دہرائیں گے تو آپ فورا جلدی سے پہچان سکیں گے کہ یہ لفظ معرفہ ہے یا نکرہ ہے بھئی۔ پھر ان میں سے یاد رکھنا۔ یہ جو سات ہیں نا سات معرفہ۔ ان میں سے چار تو وضع کے اعتبار سے معرفہ ہیں، ان کی ذاتی معرفہ ہے۔ پہلے چار، ضمیر۔ اسی طرح نام، علم۔ اسی طرح اس میں اشارہ۔ اس میں موصول۔ یہ ہیں ہی کیا؟ معرفہ۔ ضمیر ہے ہی کیا؟ معرفہ۔ شروع سے ہی معرفہ ہے۔ علم جو نام ہوتا ہے وہ شروع سے ہی کیا ہوتا ہے؟ معرفہ۔ جب کسی نے کسی کا نام، ایک بچے کا نام رکھا تو دیکھو معرفہ ہے۔ اس میں اشارہ اس کو بنایا ہی کس کے لیے گیا؟ معرفہ کے لیے۔ اور اسی طرح اس میں موصول، اس کو بھی بنایا ہی کس کے لیے گیا؟ معرفہ یعنی کسی معین ذات کے لیے۔ جب کہ اگلے تین جو ہیں، آخری تین وہ خود معرفہ نہیں۔ ہاں اس پر یا حرفِ نِدا آ جائے تو وہ معرفہ بن جائے گا۔ خود تو وہ نکرہ ہیں۔ رجل تو خود نکرہ ہے لیکن یا آ گیا تو یا رجل یہ کیا بن گیا؟ معرفہ۔ پھر اسی طرح رجل تو نکرہ ہے لیکن اس پر الف لام آ گیا، الرّجُل یہ کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔ اسی طرح مضاف، غلام۔ غلام تو نکرہ ہے لیکن اس کی اضافت ہو گئی ان پانچ میں سے کسی ایک کی طرف، یہ مضاف بنا اور آگے مضاف الیہ آ گیا تو یہ کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔ تو پہلے چار تو ہیں ہی کیا؟ معرفہ اور اگلے تین اگلے تین خود نکرہ لیکن جب ان پر یہ علامتیں آ جائیں گی تو وہ بن، یہ سبب آ جائیں گے تو وہ کیا بن جائیں گے؟ معرفہ اور یہ سبب آپ ہٹا دیں، پھر وہ نکرہ بن جائیں گے۔ یا رجلُ، یہ رجل کیا تھا پہلے؟ نکرہ۔ یا رجلُ اب کیا بن گیا؟ معرفہ۔ آپ یا کو ختم کر دیں، رجلُن اب پھر کیا بن گیا؟ نکرہ بن گیا۔ صرف غلام، غلام کیا ہے؟ نکرہ۔ غلامُ زیدِن، کیا بن گیا غلام؟ معرفہ بن گیا۔ آپ زید کو پھر مضاف الیہ کو ختم کر دیں، غلام پھر کیا بن گیا؟ نکرہ۔ رجلُن کیا ہے؟ نکرہ۔ الرّجُل کیا بن گیا؟ معرفہ۔ آپ الف لام کو ختم کر دیں، رجلُن پھر کیا بن گیا؟ نکرہ بن گیا۔ تو پہلے چار کیا ہیں؟ معرفہ۔ وہ رہتے ہی معرفہ ہیں، ان کو بنایا ہی معرفہ گیا ہے اور اخری تین وہ نکرہ تھے، پھر یہ سبب ان پر آیا تو وہ کیا بن گئے؟ معرفہ اور وہ سبب ختم کر دو، تو پھر کیا بن جائیں گے؟ نکرہ بن جائیں گے۔ فرق سمجھ میں آگیا۔ حاصلِ کلام پھر سن لو بھئی۔ آج آپ نے معرفہ اور نکرہ کے بارے میں پڑھا۔ انہوں نے آپ کو بتلایا معرفہ وہ ہے جو کسی معین ذات پر دلالت کرے۔ جیسے ہی وہ بولیں وہ لفظ آپ کے ذہن میں کوئی معین چیز آ جائے یا معین معنی آ جائے، اگر معین معنی آپ کے ذہن میں نہیں آتا معلوم ہوا یہ معرفہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ نکرہ ہے۔ زید میں نے جیسے ہی بولا آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام زید ہے فوراً آپ کے ذہن میں وہ آ گیا اور اگر کوئی آپ کے ذہن میں نہیں آیا، پھر اس کا مطلب ہے یہ نکرہ ہے معرفہ نہیں۔ تو معرفہ کی کتنی قسمیں ہیں؟ سات قسمیں ہیں۔ پہلی قسم تمام ضمیریں۔ اور ضمیریں پھر تین قسم پر: متکلم کی، مخاطب کی اور غائب کی۔ تو ان میں سب سے زیادہ تعریف کس میں؟ متکلم۔ انسان سب سے زیادہ کس کو پہچانتا ہے؟ اپنے آپ کو، تو متکلم کی ضمیروں کا درجہ سب سے پہلے۔ دوسرے درجے پر مخاطب۔ مخاطب دوسرے درجے پر کیوں؟ کیونکہ وہ آپ کے سامنے موجود ہے، آپ اس کو پہچانتے ہیں، آپ کے سامنے اس وقت موجود ہے، آپ اس سے بات کر رہے ہیں اور غائب کیا ہے آپ کی نظروں سے دور ہے، تو اس کا آخری درجہ ہے۔ دوسرا درجہ کس کا معرفہ میں؟ یاد رکھو یہ جو مصنف جس ترتیب سے معرفہ ذکر کر رہے ہیں ان کے درجے بھی اسی اعتبار سے ہیں۔ سب سے زیادہ تعریف ضمیروں میں ہے، وہ پہلے نمبر پر ذکر کیا۔ اس سے کم تعریف کس کے اندر ہے؟ نام میں ہے، اس کو دوسرے نمبر پر ذکر کیا۔ اس سے کم تعریف کس میں ہے؟ اسمائے اشارہ میں، اس کو تیسرے نمبر پر ذکر کیا۔ اس سے کم تعریف کس میں ہے؟ اسمائے موصولہ میں، اس کو چوتھے نمبر پر ذکر کیا۔ اس سے کم تعریف کس میں ہے؟ معرفہ بِنِدا میں، اس کو پانچویں نمبر پر ذکر کیا۔ اس سے کم تعریف کس میں ہے؟ معرفہ بَالف و لام میں، اس کو چھٹے نمبر پر ذکر کیا اور ساتویں نمبر پر ذکر کیا جو ان پانچ میں سے کسی کی طرف کیا ہو؟ مضاف ہو۔ یہ یہ آخری درجے والا نہیں ہے، یہ جس کی طرف مضاف ہوگا اسی درجے کا ہوگا۔ اگر کوئی لفظ مضاف ہو ضمیر کی طرف تو ضمیر کس درجے کی؟ پہلے درجے کی، تو یہ بھی پہلے درجے کا معرفہ ہوگا۔ غلامُہ، یہ کس درجے کا معرفہ؟ پہلے درجے کا۔ غلامی، یہ کس درجے کا معرفہ؟ پہلے درجے کا۔ غلامُ زیدِن، یہ کس کی طرف مضاف ہے؟ زید علم کی طرف اور علم کس درجے کا؟ دوسرے درجے کا، تو یہ غلام بھی کس درجے کا معرفہ بن گیا؟ دوسرے درجے والا۔ غلامُ ھٰذَا، ھٰذَا کس درجے والا معرفہ؟ تیسرے درجے والا، تو یہ غلام جو ہے یہ بھی کس درجے والا بن گیا؟ تیسرے درجے والا۔ غلامُ اللّذی ضربَک۔ یہ غلام کس کی طرف مضاف؟ اللّذی کی طرف اور اللّذی کس درجے والا؟ چوتھے درجے والا، تو یہ غلام بھی کس درجے والا معرفہ بن گیا؟ چوتھے درجے والا اور اسی طرح، اا غلامُ الرّجُلِ، یہ کس کی طرف مضاف؟ الرّجُل کی طرف اور الرّجُل کس درجے والا؟ چھٹے درجے والا، تو یہ غلام بھی کس درجے والا بن گیا؟ چھٹے درجے والا معرفہ بن گیا۔ ترتیب سمجھ میں آگئی؟ اور نکرہ کس کے لیے وضا کس کے لیے وضع ہے؟ غیر معین کے لیے نکرہ وضع ہے۔ اور نیز ان سات میں میں نے بتایا، ان سات میں سے چار جو ہیں وہ وضع کے اعتبار سے ہی معرفہ ہیں، وہ ہمیشہ معرفہ ہی رہیں گے۔ اور جو آخری تین ہیں، ان میں وہ اصل میں لفظ تو نکرہ تھا لیکن اس پر معرفہ والا سبب آ گیا، یعنی حرفِ نِدا آ گیا اس پر یا الف لام آ گیا یا وہ مضاف ہو گیا معرفہ کی طرف، تو پھر وہ معرفہ بن جائیں گے اور اگر آپ اس سبب کو ختم کر دیں، یعنی یا حرفِ نِدا کو ختم کر دیں، یا الف لام کو ختم کر دیں، یا مضاف الیہ کو ختم کر دیں، تو پھر وہ کیا بن جائے گا؟ نکرہ بن جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اور ایک اور قیمتی بات بھی یاد رکھنا۔ یاد رکھو علی الاطلاق سب سے زیادہ تعریف لفظ اللہ میں ہے۔ یہ سات قسمیں آپ نے پڑھیں، لیکن لفظ اللہ میں جو تعریف ہے، یہ سب سے زیادہ ہے، یہ یہ ضمیروں سے بھی بڑھ کر اس کے اندر تعریف ہے۔ یعنی اللہ کی ذات کو ہر شخص پہچانتا ہے۔ سب سے زیادہ تعریف کس لفظ میں؟ لفظ اللہ میں۔ اور یاد رکھو لفظ اللہ علم ہے۔ اللہ کی ذات۔ ذات باری تعالیٰ، وہ ذات جو تمام کائنات کی خالق و مالِق ہے، اس ذات کا نام، اس کا علم کیا ہے؟ اللہ بھئی۔ جیسے کسی شخص کا نام کیا ہوتا ہے زید، کسی کا نام عمر، کسی کا نام بکر یہ جو ہے اور تو ذات باری تعالیٰ کا نام کیا ہے؟ اللہ۔ تو علم ہے یہ علم اور علم تو کس درجے میں ہے؟ دوسرے درجے میں، لیکن لفظ اللہ دوسرے درجے میں نہیں، یہ علی الاطلاق سب سے زیادہ تعریف لفظ اللہ میں ہے بھئی۔ ضمیروں سے بھی زیادہ، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ یہ لفظ اللہ میں اور سب سے زیادہ تنقیر، سب سے کم درجے کا نکرہ جس میں سب سے زیادہ عموم ہے وہ شیءٌ ہے۔ شیءٌ۔ شیءٌ کا معنی چیز، یہ کتاب یہ بھی کیا ہے؟ شیءٌ۔ قلم بھی کیا ہے؟ شیءٌ۔ طالب علم بھی کیا ہے؟ شیءٌ۔ تو شیءٌ میں یہ سب سے زیادہ تنقیر ہے، تو علی الاطلاق سب سے زیادہ تنقیر کس میں؟ شیءٌ میں اور علی الاطلاق سب سے زیادہ تعریف کس میں؟ لفظ اللہ میں ہے بھئی، لفظ اللہ میں۔ چنانچہ علماء، بعض علماء نے خواب میں دیکھا۔ امام سیبوہی بھئی نحب کے بہت بڑے امام گزرے ہیں۔ امام سیبوہی کی بات نحب کے اندر پہاڑ کی طرح مضبوط سمجھی جاتی ہے، اتنا اونچا مقام ہے ان کا علم نحب کے اندر بھئی۔ نحب کے سب سے بڑے چوٹی کے امام بھئی اور امام سیبوہی جب ان کا انتقال ہوا، انتقال کے بعد کسی نے ان کو خواب میں دیکھا تو پوچھا اللہ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ کہا اللہ نے میری مغفرت فرما دی۔ پوچھا کس بات پر اللہ نے آپ کی مغفرت فرمائی؟ کہا اس بات پر کہ میری میرا میں اس بات کا قائل تھا، میری رائے یہ تھی کہ لفظ اللہ میں سب سے زیادہ تعریف ہے، اس بات پر اللہ نے میری مغفرت فرما دی۔ چلیے جی اللہ آپ سب کو بھی بڑا عالم بنائے اور سب کو خوب دین کی خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ چلیے بس بھئی ھٰذا ھوالمرام واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔