آگے سبق دیکھیے بھئی! افادہ؛ فیما بین بصریین وکوفیین اختلاف اس طرح ہے کہ فعل ازل است کیا ہے مصدر، کوفیاں بہ اول قائل اند اور بصریہ بہ ثانی۔ وصل اختلاف درہمیں است کہ فعل ماضی را مادہ و اصل قرار داد، مشتق منہو باید گفت و مصدر را فراموش متق ازاں یا بالعکس۔ پس بصریہ بہ امر معنوی استدلال کرتے ہیں۔ اچھا بھئی! پہلے گزشتہ سبق کا خلاصہ سن لیجیے بھئی۔ گزشتہ سبق میں کل اور خض کا جو افادہ ذکر ہو رہا تھا، اس کا آخری حصہ ہم نے پڑھا تھا۔ کل اور خض کا پورا افادہ پھر سن لیجیے۔ مصنف رحمتہ اللہ نے بتلایا کہ کل، خض اور مر جو ہے، ان کے شروع سے دو ہمزہ حذف ہوئے ہیں اور باقی صرفی حضرات فرماتے ہیں کہ یہ خلاف القیاس حذف ہوئے ہیں۔ کوئی ضابطہ اور قانون نہیں، بغیر ضابطے کے یہ حذف ہوئے ہیں خلاف القیاس ہیں۔ اس لیے وہ اس کو شاذ کہتے ہیں، جبکہ میرے استاد محترم ایسی تقریر فرماتے تھے جس سے ان کا شضوز ختم ہو جاتا تھا۔ وہ فرماتے تھے کہ ان صیغوں کے اندر قلب مکانی ہوا ہے۔ یعنی کاف کو ہمزہ کی جگہ لے گئے اور ہمزہ کو کاف کی جگہ لے گئے اور اس کے بعد پھر اس کے اندر یسلو والا قانون لگا تو کل اور خض اور مر بن گئے بھئی۔ اس پر اشکال ہوا کہ یسلو والا قانون تو جوازی ہے اور کل، خض اور مر ان میں حذف تو وجوبی ہے، تو جواب دیا تھا کہ ہم ضابطے کی تقریر اس طرح کرتے ہیں کہ یہ ساری چیزیں ضابطے کے مطابق ہو جائیں گی۔ اور وہ تقریر یہ کہ یسلو والا قانون جوازی ہے۔ لیکن اگر اس صیغے میں قلب مکانی ہوا ہو یا وہ فعل افعال قلوب میں سے ہو تو پھر اس صورت میں یہ ضابطہ وجوبی ہے اور باقی تمام صورتوں میں جواز ہے، جواز ہے۔ اور مر جو ہے اس کے اندر تو مر بھی آیا ہے اور امر بھی آیا ہے، تو بتلایا کہ یہ اس کے اندر قلب بھی ہوا ہے اور عدم قلب بھی ہے، بعض جگہ قلب ہوا، بعض جگہ قلب نہیں ہوا۔ جہاں قلب نہیں ہوا تو امر اپنی اصل شکل پر برقرار ہے اور جہاں قلب ہوا تو وہاں دونوں ہمزہ حذف ہو گئے اور مر بن گیا، تو کل اور خض میں تو قلب ہوا ہے وہاں عدم قلب کی کوئی صورت نہیں ہے، ہم نے عربوں سے صرف کل اور خض سنا ہے، او کل اور او خض نہیں سنا۔ معلوم ہوا وہاں قلب بھی وجوبی اور حذف بھی وجوبی ہو گیا، جبکہ یہاں پر امر اور مر کے اندر جو ہے یہ عرب دونوں طرح استعمال کرتے ہیں قلب کے ساتھ بھی اور غیر قلب کے ساتھ ہی، یعنی امر بھی بولتے ہیں اور مر بھی بولتے ہیں۔ پھر اس کے بعد بتلایا تھا کہ قلب مکانی جو ہے کلام عرب میں بہت زیادہ ہوتا ہے، کبھی جو ہے فا کو عین کی جگہ لے جاتے ہیں اور عین کو فا کی جگہ لے آتے ہیں، جیسے آدُرُن کے اندر ہوا جو کہ جمع ہے دار کی۔ اور دوسری صورت یہ ہے قلب کی کہ کبھی کبھار عین کو لام کی جگہ لے جاتے ہیں اور لام کو عین کی جگہ لے آتے ہیں جیسے قسیون کے اندر ہے جو جمع ہے قوس کی۔ اور کبھی کبھار قلب میں ایسا کرتے ہیں کہ لام کو اٹھا کر فا کی جگہ لے آتے ہیں اور فا عین کی جگہ چلی جاتی ہے اور عین جو ہے وہ لام کی جگہ چلا جاتا ہے جیسے اشیاء کے اندر بھئی کہ یہ اصل میں شیئا تھا، اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی آپ نے اشیاء کی اصل شیئا نکالی، کیا ضرورت ہے اتنی لمبی بات کرنے کی؟ سیدھا سیدھا کہہ دیں کہ اشیاء شیئ کی جمع ہے بروزن افعال بھئی، اور افعال جمع کا عام وزن ہے ہر جگہ استعمال ہوتا ہے، جیسے قلم کی جمع اقلام اور جیسے مثال کی جمع امثال، تو یہ افعال یہ تو جمع کا مشہور وزن ہے تو آپ یہ کہہ دیں کہ یہ اشیاء کس وزن پر ہے؟ افعال وزن پر ہے، یہ شیئا نکالنے اور پھر اس میں قلب ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ تو جواب دے دیا تھا کہ بھئی! اگر قلب نہیں مانو گے تو یہ اشیاء کا لفظ تو عرب غیر منصرت بولتے ہیں، پھر تو اس کے اندر غیر انصراف کا کوئی سبب نہیں رہے گا اور غیر منصرت ہونا بغیر سبب کے یہ خلاف القیاس ہے۔ لہٰذا یہ اس بات کی طرف دعوت دیتا ہے کہ یہاں کس چیز کا اعتبار کر لو؟ قلب کا اعتبار کر لو، جب قلب کا آپ نے اعتبار کر لیا اور اس کی اصل شیئا مان لی تو اب مسئلہ حل ہو گیا کیونکہ اب یہ بغیر سبب کے غیر منصرت نہیں ہے بلکہ اس کے آخر میں جو الف ممدودہ ہے شیئا، یہ الف کے بعد جو ہمزہ آئے یہ کیا ہے؟ الف ممدودہ تو یہ اشیاء میں یہ الف کے بعد ہمزہ ہے الف ممدودہ موجود ہے اور الف ممدودہ یہ دو سببوں کے قائم مقام ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد یہ بھی بتلایا تھا کہ قلب کو پہچانیں گے کیسے؟ قلب کی نشانی کیا ہے؟ تو بتلایا تھا، ایک نشانی تو یہ ہے کہ اسی مادے کے دوسرے الفاظ دیکھ لیں، وہاں لفظوں کی ترتیب سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہاں قلب ہوا ہے، مثلاً آدر، آدر میں کیا ہے؟ دال کے ساتھ را جڑی ہوئی ہے اور جبکہ اسی مادے کے اور لفظ جو ہیں دار ہے پھر اس کی جمع دور ہے پھر اس کی تصغیر دویرۃ ہے، ان ساروں کے اندر دال کے ساتھ را جڑی ہوئی نہیں ہے بلکہ درمیان میں واو آرہا ہے، معلوم ہوا آدر کے اندر کیا ہوا ہے؟ قلب ہوا ہے تو قلب کا پتہ اسی مادے کے اور لفظوں کو دیکھنے سے پتہ چل جاتا ہے، یا جیسے قسیون، اسی مادے سے ہم نے دیکھا تو مفرد ہے قوس اور اسی کا فعل ہم نے دیکھا تو فعل ہے تقووس، تو اور صیغوں کو دیکھا اور الفاظ کو دیکھا تو پتہ چلا کہ اصل ترتیب اس میں کیا ہے؟ ق، و، س اور قسیون کے اندر تو ترتیب بدل گئی ہے، معلوم ہوا یہاں قلب ہوا ہے بھئی جگہ بدلی گئی ہے حروف کی۔ تو قلب کی ایک نشانی کیا؟ کہ اسی مادے کے اور الفاظ کو دیکھ لیں تو آپ کو قلب کا پتہ چل جائے گا۔ نیز اسی طرح قلب کی ایک نشانی یہ ہے کہ اگر آپ قلب نہ مانیں تو لفظ کا بغیر کسی سبب کے غیر منصرت ہونا لازم آئے گا جیسے اشیاء، اشیاء کی اصل اگر آپ افعال نکال لیں یعنی قلب نہ مانیں تو پھر تو وہ بغیر سبب کے غیر منصرت رہے گا، خلاف ضابطہ ہو جائے گا، لیکن اگر آپ اس میں قلب کو مان لیں گے تو پھر وہ ضابطے کے مطابق ہو جائے گا، تو اس سے بھی قلب کا پتہ چل گیا کہ یہاں قلب ہوا ہے، بات سمجھ میں آگئی، دوسری نشانی کیا؟ کہ اگر قلب کو نہ مانیں تو لفظ کا بغیر کسی سبب کے غیر منصرت ہونا لازم آتا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ اسی طرح کہتے ہیں میرے استاد محترم فرماتے تھے کہ قلب کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اگر قلب نہ مانیں تو صیغے کے اندر اعلال یا تخفیف خلاف قیاس آ جائے گی یعنی ضابطے کے خلاف ہو جائے گی جیسے کل، خض اور مر، ان میں اگر آپ قلب نہیں مانتے تو پھر ان کو شاذ کہنا پڑے گا، ان میں جو دو ہمزہ حذف ہوئے ان کو خلاف القیاس ماننا پڑے گا اور اصل کیا ہے؟ یہ اعلال ضابطے کے مطابق ہونا چاہیے یا خلاف القیاس ہونا چاہیے؟ ضابطے کے مطابق ہونا چاہیے۔ تو لہٰذا اس کے اندر اگر آپ قلب مان لیں گے تو پھر یہ ضابطے کے مطابق ہو جائے گا اور یہ جو ہمزہ کا حذف ہوا ہے وہ خلاف القیاس نہیں رہے گا، تو اور میرے استاد محترم فرماتے کہ جس طرح اشیاء کے اندر صرفی حضرات نے قلب مان لیا کیوں مانا؟ تاکہ خلاف القیاس نہ رہے، اسی طرح کل، خض اور مر میں بھی قلب مان لو تاکہ یہ خلاف القیاس نہ رہیں بھئی۔ اس کے بعد ایک اور افادہ کل آپ نے پڑھا تھا اور وہ یہ کہ لم یکن اور این یکون، یہ جو یکونو ہے اس پر جب کوئی جزم دینے والا عامل داخل ہو تو پھر واو گر جاتا ہے، کیسے کہتے ہیں: این یکو اور لم یکو، تو واو گر گیا اجتماع ساکنین کی وجہ سے، لیکن اس میں مزید عرب جو ہے ایک اور تبدیلی کرتے ہیں کہ کبھی کبھار اس کے نون کو بھی گرا دیتے ہیں اور این یکو کے بجائے کیا کہتے ہیں؟ این یکو اور لم یکو میں کیا کہتے ہیں؟ لم یکو، تو یہ جو نون کا گرنا ہے، صرفی حضرات فرماتے ہیں یہ خلاف القیاس ہے۔ کہتے ہیں میرے استاد محترم اس کے لیے بھی ضابطہ ذکر فرماتے تھے اور وہ ضابطہ یہ کہ ہر وہ نون جو فعل ناقص کے آخر میں آئے، ہر وہ نون جو کہاں پر آئے؟ فعل ناقص کے آخر میں آئے جب اس فعل ناقص پر عامل جازم داخل ہو جائے تو اس نون کو گرانا جائز ہے۔ اس پر پھر اشکال ہوا کہ یہ تو صرف یکونو ایک فعل ناقص ہے جس کے آخر میں نون آ رہا ہے تو ضابطہ تو ایسا ہو جو کئی افراد پر صادق آئے یہ تو صرف ایک ہی فرد ہے اس کا جس پر یہ ضابطہ صادق آ رہا ہے، تو بتلایا تھا کہ بھئی! ہم نے تو ضابطہ کلی بنایا ہے، اگر فرد ایک ہے تو اس سے ضابطے کو کوئی نقصان نہیں ہوتا، اگر کوئی اور فرد ہوتا اور ضابطے کے تحت نہ آتا، ضابطہ اس پر نہ لگتا، پھر ضابطے کے لیے نقصان تھا، تو کلی ضابطے کا ایک فرد میں بند ہونا ضابطے کے لیے نقصان دہ نہیں، نقصان دہ کیا چیز ہے؟ کہ کچھ الفاظ جو ہیں ان میں ضابطے کے مطابق اعلال نہ ہو رہا ہو، شرطیں وغیرہ پوری ہوں اور پھر بھی اعلال نہ ہو رہا ہو، یہ چیز ضابطے کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ اس صورت میں ان الفاظ کو شاذ کہنا پڑتا ہے اور حالانکہ علماء کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ضابطہ ایسا بنائیں کہ کوئی چیز بھی شاذ نہ رہے سارے ضابطے کے اندر آ جائیں، بات سمجھ میں آگئی تو معلوم ہوا کلی ضابطے کا ایک فرد میں بند ہونا یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ نہیں ہے، نقصان دہ یہ ہے کہ کوئی فرد ایسا ہو جس پر ضابطہ نہ لگ رہا ہو بھئی، شرطیں وغیرہ پوری ہیں اور ضابطہ نہیں لگ رہا یہ ضابطے کے لیے نقصان دہ ہے، بلکہ اس کی مثال بھی موجود ہے بعض محققین نے لفظ اللہ جو ہے، لفظ اللہ جو ہے اس کے شروع میں جو ہمزہ ہے وہ ہمزہ وصلی ہے اور ہمزہ وصلی جو ہے درمیان عبارت میں گر جاتا ہے، اسی طرح حرف ندا جب داخل ہوا تو ہمزہ وصل درمیان میں آ گیا تو یہاں بھی وہ گر جاتا ہے جیسے یبنا اخی، دیکھو ابن کا ہمزہ وصلی گر گیا، تو لفظ اللہ کے شروع میں بھی ہمزہ ہے اور یہ ہمزہ وصلی ہے تو یا حرف ندا جب اس پر داخل ہو تو یہ ہمزہ گرنا چاہیے لیکن ہم عربوں سے سنتے ہیں کہ وہ یہ ہمزہ گراتے نہیں ہیں بلکہ اس بات ہمزہ کے ساتھ اس کو پڑھتے ہیں اور کیسے پڑھتے ہیں؟ یا اللہ، یا اللہ، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس کے لیے بعض محققین نے باقاعدہ ضابطہ ذکر فرمایا ہے کہ اللہ کے ناموں میں سے وہ نام جس کے شروع میں ایسا الف لام آ جائے جو ہمزہ کا عوض ہو، ہمزہ کے بدلے میں آیا ہو تو اس الف لام کا جو ہمزہ ہے وہ اس پر جب حرف ندا داخل ہوگا تو وہ قطعی بن جائے گا، اب بعض علماء فرماتے ہیں کہ لفظ اللہ اسی طرح ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی یہ علم ہے اور علم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی جیسے کسی کا نام زید، حمر، بکر وغیرہ ہے تو اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی تو یہ ذات باری تعالی کے لیے علم ہے، جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ لفظ اللہ جو ہے الٰہ سے بنا ہے، اصل میں یہ الٰہ تھا اور الٰہ معبود کو کہتے ہیں، پھر اس کے شروع سے ہمزہ کو گرا کر اس کے بدلے میں الف لام لے آئے اور پھر لام کا لام میں ادغام کیا تو اللہ ہو گیا بھئی، تو یہ جو الف لام ہے یہ ہمزہ کا عوض ہے اور اللہ کے کسی اور نام کے اندر ایسا نہیں ہے کہ الف لام ہمزہ کا عوض ہوں تو ان علماء محققین نے ضابطہ یہ ذکر فرمایا کہ جو بھی لفظ کہ اللہ کے ناموں میں سے کسی بھی نام کے شروع میں ایسا الف لام آ جائے جو ہمزہ کا عوض ہو تو جب اس پر حرف ندا داخل ہوگا تو یہ جو الف لام جو ہمزہ کا عوض ہے اس کا ہمزہ قطعی بن جائے گا اور گرے گا نہیں جیسے یا اللہ تو انہوں نے کلی ضابطہ بیان کیا لیکن اس کا ایک ہی فرد ہے اللہ کے ناموں میں سے صرف لفظ اللہ میں الف لام ہمزہ کا عوض ہے اور کسی نام میں بھی ہمزہ کا عوض نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی تو یہ بھی میرے استاد محترم کے بتلائے ہوئے ضابطے کی طرح ہے، وہاں بھی وہ ضابطہ کلی جو ہے ایک فرد میں بند تھا اور یہاں پر بھی یہ ضابطہ کلی ایک فرد میں بند ہے اور اس سے ضابطے کو کوئی نقصان نہیں۔ اس کے بعد اگلا افادہ ہم نے پڑھا تھا، اگلا افادہ یہ تھا کہ قانون یہ ہے کہ باب افتعال کے اندر اگر فا کی جگہ یا آ جائے یا واو آ جائے اور وہ یا اور واو کسی سے بدلے نہ ہوں یعنی اصلی ہوں تو اس واو یا یا کو تا سے بدل کر تا میں ادغام کرتے ہیں جیسے اتّصرا، اصل میں کیا تھا؟ ایْتَصَرا، یا کو تا کر کے تا میں ادغام کیا تو اتّصرا ہوا اور جیسے اتّقدا، اصل میں کیا تھا؟ ایْتَقَدا، تو واو کو تا کر کے تا میں ادغام کیا تو اتّقدا ہوا، لیکن اگر یہ یا اور واو کسی سے بدل کر آئیں تو پھر ان کو تا کر کے تا میں ادغام نہیں کرتے بھئی، جیسے ایْتَقَلا اور ایْتَمرا، ایْتَقَلا دیکھو اس میں یہ جو جہاں یا آ رہی ہے یہ دراصل ہمزہ تھی بھئی مادہ اس کا کیا ہے؟ عکل، اکلا، اور ایتمرا کے اندر بھی جو یا ہے یہ دراصل کیا تھی؟ ہمزہ تھی مادہ اس کا کیا ہے؟ امر بھئی امرا، تو لہٰذا دیکھو اس لیے ان کے اندر یہ یا تا ہو کر تا میں مدغم نہیں ہوئی۔ لیکن اتَّخَذَ جو ہے اس کا مادہ اخذ ہے اور وہ اصل میں ائتخذ تھا، پھر ہمزہ کس سے بدلا؟ یا سے، تو کیا بنا ایْتَخَذَ، اب یہ یا جو آئی ہے یہ تو ہمزہ سے بدل کر آئی ہے قانون کے مطابق اس کو تا کر کے تا میں ادغام نہیں کریں گے لیکن ہم نے عربوں سے سنا ہے وہ اس کا ادغام کرتے ہیں اور یا کو تا کر کے تا میں ادغام کیا تو اتّخذ ہو گیا۔ کر کے تا میں ادغام کرتے ہیں اور کیا بولتے ہیں اتخذا تو ہم نے عربوں سے اتخذا سنا ہے ایاتخذا نہیں سنا بھئی تو یہ لفظ جو ہے وہ قانون کے اندر نہیں آرہا تھا قانون کے مطابق تو بدلنا نہیں چاہیے تھا یاء کو لیکن عربوں سے ہم نے سنا ہے وہ بدل کر بولتے ہیں اس کو تا کر کے بولتے ہیں اتخذا بولتے ہیں بھئی تو اس لفظ کو تمام صرفی حضرات نے شاذ قرار دیا کہتے ہیں میرے استاد محترم ایسی تقریر فرماتے جس سے اس کا شاذ ہونا ختم ہو جاتا تھا وہ فرماتے تھے کہ یہ اتخذا جو ہے اس کا مادہ اخذ نہیں ہے اخذ نہیں ہے بلکہ اس کا مادہ تخذ ہے تا خ ذا یا یوں کہو فعل بول دو تخذا ہے بھئی کیا ہے تخذا ہے اب قاعد ضابطے کے مطابق ہو گئی کہ اتخذا اصل میں کیا تھا اتخذا اب تو مادہ تخذ ہوا نا اخذ تو نہ ہوا تخذ اب اس سے بناؤ باب افتعال فا کی جگہ کیا آگئی تا تو کیا بن گیا اتخذا پھر تا کا تا میں ادغام ہوا اب تو یہاں یاء یا واو ہے ہی نہیں جب یاء اور واو ہے ہی نہیں تو اس ضابطے کے خلاف یہ ہے ہی نہیں یہ تو بالکل عام ضابطے کے مطابق آرہا ہے کہ دو حرف ایک جنس کے جمع ہو جائیں تو ان کا آپس میں کیا کرتے ہیں ادغام کرتے ہیں تو یہاں بھی ادغام ہوا یہاں واو اور یاء تو آئی ہی نہیں سرے سے تو اب اس کا شاذ ہونا ختم ہو گیا اور پھر دلیل بھی ذکر فرمائی کہ یہ جو تخذا بمہینے اخذ کے میں نے ذکر کیا تفسیر بیضاوی کے اندر بھی یہ بات ذکر کی ہے مصنف نے کہ تخذا کس معنی میں آتا ہے اخذ کے معنی میں آتا ہے بھئی تو کہتے ہیں پس اتخذا جو ہے وہ ایتکلا اور ایتمارا کی طرح نہیں ہے بلکہ یہ اتبعا کی طرح ہے جیسے اتبعا کا اصل مادہ کیا ہے تبا ع یا یہ فعل بول دیں تبیعہ ہے کیا ہے تبیعہ اس کا مادہ ہے تو اس کا مادہ بھی تخذا ہے بھئی بات سمجھ میں آگئی اب آئیے بھئی آج کے سبق کی طرف آگے دیکھیے افادہ فيما بين بصريين وكوفيين اختلاف درین کہ فعل اصل است یا مصدر अच्छा भाई अगला افادہ متعلق ہے مصدر اور فعل میں سے اصل کون ہے اصل کون ہے یاد رکھیے علماء کے دو گروہ ہیں بھئی ایک بصرہ والے ہیں اور ایک کوفہ والے بصرہ میں بھی بڑے بڑے علم کے پہاڑ گزرے ہیں بھئی کوفہ کے اندر بھی بڑے بڑے علم کے پہاڑ گزرے ہیں ان علماء کا بعض مسائل کے اندر اختلاف ہے جیسے نحو کے اندر ان کا تقریباً کوئی 110 مسائل کے اندر اختلاف ہے جیسے آپ نے اسم میں بھی پڑھا ہوگا کہ بعض فرماتے ہیں اسم کی اصل وسمن ہے اور بعض فرماتے ہیں کہ اس کی اصل سمون ہے تو اس طرح کوئی تقریباً 110 مسائل ہیں علم نحو میں جن کے اندر یہ علماء اختلاف کرتے ہیں بصرہ والے ایک قول پر ہیں تو کوفہ والے دوسرے قول پر ہیں اور سارے بڑے بڑے علماء ہیں بھئی تو اسی طرح یہاں پر بھی یہ مصدر اور فعل کے اندر بھی ان کا اختلاف ہے بھئی بصرہ والے کہتے ہیں کہ مصدر اصل ہے اور کوفہ والے کہتے ہیں کہ فعل اصل ہے توجہ سے بھئی اور یہ جو اختلاف ہے یہ جو بصرہ والے کہتے ہیں کہ کہ مصدر اصل ہے بات سمجھ میں آرہی ہے بس اتنا یاد رکھیں یہ بھول جاتا ہے کہ کون کس بات کا قائل ہے بصرہ میں صاد آرہا ہے اور مصدر میں بھی کیا آرہا ہے صاد تو جو بصرہ والے ہیں وہ کیا فرماتے ہیں مصدر اصل ہے اور کوفہ کے اندر فا آرہی ہے اور فعل میں بھی کیا ہے فا ہے تو کوفہ والے کیا فرماتے ہیں کہ فعل اصل ہے بھئی تو بصرہ والے فرماتے ہیں کہ مصدر اصل ہے اور کوفہ والے فرماتے ہیں کہ فعل اصل ہے بھئی اور یہ بات یاد رکھیے کہ یہ اختلاف مصدر اور فعل کے اصل اور فرع ہونے میں جو ہے وہ مطلق مطلقاً اصالت اور فرعیت میں نہیں ہے یعنی بصرہ والے یہ نہیں کہتے کہ مصدر ہر اعتبار سے اصل ہے اور کوفہ والے یہ نہیں کہتے کہ فعل ہر اعتبار سے اصل ہے یعنی اختلاف کس میں ہے اصل اور فرع ہونے میں لیکن مطلق مطلقاً اصل اور فرع ہونے میں اختلاف نہیں ہے مطلقاً کیا معنی ہر اعتبار سے ہر اعتبار سے مصدر اصل ہے اور کوفہ والے کہیں کہ ہر اعتبار سے فعل اصل ہے ایسا نہیں ہے ایسا نہیں ہے اصل اختلاف اس میں ہے کہ اشتقاق کے اعتبار سے اصل کون ہے اور فرع کون بصرہ والے کہتے ہیں اشتقاق کے اعتبار سے مصدر اصل ہے اور فعل اس کی فرع اور کوفہ والے کہتے ہیں اشتقاق کے اعتبار سے فعل اصل ہے اور مصدر اس کی فرع ہے بات سمجھ میں آئی اشتقاق تو آپ جانتے ہیں اشتقاق کسے کہتے ہیں کہ ایک لفظ سے دوسرا لفظ بنے اس کو کیا کہتے ہیں اشتقاق بھئی اشتقاق جو لفظ بنے اس کو کہتے ہیں مشتق اور جس سے بنے اس کو کیا کہتے ہیں مشتق منہ مشتق منہ اور جو بنے اس کو کیا کہتے ہیں مشتق تو بصرہ والے کیا کہتے ہیں کہ مصدر اصل ہے اور فعل فرع ہے یعنی مصدر مشتق منہ ہے اس سے اشتقاق ہوا ہے اور کس کا اشتقاق ہوا ہے فعل کا تو وہ فعل کیا ہے مشتق ہے توجہ ہے بصرہ والے کیا فرماتے ہیں مصدر کیا ہے اصل یعنی مشتق منہ اور فعل کیا ہے فرع یعنی مشتق جبکہ کوفہ والے کیا فرماتے ہیں کہ فعل اصل ہے اشتقاق میں اور مصدر اس کی فرع فعل اصل ہے کیا معنی یعنی مشتق منہ ہے اور مصدر فرع ہے یعنی مشتق ہے تو مشتق منہ اور مشتق کا پتہ چل گیا مشتق منہ کسے کہتے ہیں جس سے لفظ بنے اور جو لفظ بنے اس کو کیا کہتے ہیں مشتق کہتے ہیں بھئی تو یہ جو اختلاف ہے اصل اور فرع ہونے میں کوفہ والے کیا فرماتے ہیں کہ فعل اصل ہے اور بصرہ والے کیا فرماتے ہیں مصدر اصل ہے یہ اصل اور فرع ہونے کا جو اختلاف ہے مطلق اصالت اور فرعیت میں نہیں ہے بلکہ کس چیز میں ہے اشتقاق کے اندر اختلاف ہے بات سمجھ میں آرہی ہے یہ اختلاف مطلقاً اصالت اور فرعیت کے اندر نہیں ہے فعل اور مصدر کے بلکہ اشتقاق کے اندر ہے اشتقاق کے مسئلے میں اختلاف کرتے ہیں کہ کون سا لفظ کس سے مشتق ہوا ہے مصدر فعل سے مشتق ہے یا فعل مصدر سے مشتق ہے مطلقاً اصالت اور فرعیت میں اختلاف نہیں مطلقاً اصالت اور فرعیت اس لیے اختلاف نہیں کیونکہ معنی کے اعتبار سے معنی کے اعتبار سے مصدر اصل ہے بالاتفاق بھئی کوفہ والے کیا کہتے تھے فعل اصل ہے اشتقاق میں ورنہ معنی معنی کے اعتبار سے تو کوفہ والی بھی کہتے ہیں مصدر اصل ہے اور فعل اس کی فرع توجہ ہے تو معنی کے اعتبار سے مصدر کے اصل ہونے پر تو اتفاق ہے اس میں تو کوئی اختلاف ہی نہیں کوفہ والی بھی کیا کہتے ہیں معنی کے اعتبار سے اصل کون مصدر ہے کیونکہ مصدر کا معنی ہر فعل میں ہے لیکن ہر فعل کا معنی مصدر میں نہیں بات سمجھ میں آرہی ہے اور اسی طرح عمل عمل کے اعتبار سے تو بالاتفاق فعل اصل ہے مصدر تو عامل ضعیف ہے بھئی فعل عامل قوی ہے بھئی بات سمجھ میں آگئی تو اختلاف کس چیز میں ہے اشتقاق کے اعتبار سے ہے کہ اصل کون اور فرع کون مطلق اصل اور فرع ہونے میں نہیں ہے کوفہ والے بھی اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ مطلقاً فعل اصل ہے اور بصرہ والے بھی اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ مطلقاً مصدر کیا ہے اصل بلکہ یہ اختلاف صرف کس چیز میں ہے اشتقاق کے اعتبار سے اختلاف ہے کہ مصدر اصل ہے یا فعل اصل ورنہ معنی کے اعتبار سے معنی کے اعتبار سے تو بالاتفاق مصدر اصل ہے اور عمل کے اعتبار سے بالاتفاق فعل اصل ہے توجہ ہے معنی کے اعتبار سے بالاتفاق مصدر اصل ہے کیونکہ مصدر کا معنی ہر فعل میں ہے لیکن فعل کا معنی مصدر میں نہیں کس طرح دیکھو مصدر کیا ہے ضرب مارنا پٹائی کرنا یہ پٹائی کرنا ضرب کے اندر ہے یا نہیں لیکن ساتھ زمانہ بھی ہے یہ پٹائی ہوئی ہے لیکن کس زمانے میں ہوئی ہے ماضی کے زمانے میں اور یضرب کے اندر بھی ضرب ہے یا نہیں مارنا مارنے کا معنی ہے البتہ زمانہ اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے حال یا مستقبل جڑا ہوا ہے امر کے اندر اضرب اس کے اندر بھی ضرب کا معنی ہے یعنی مصدر والا معنی ہے البتہ ساتھ زمانہ جڑا ہوا ہے کہ مستقبل میں پٹائی کر بات سمجھ میں آرہی ہے تو ہر فعل کے اندر مصدر کا معنی موجود توجہ ہے ہر فعل کے اندر مصدر کا معنی موجود لیکن ہر فعل کا معنی مصدر میں موجود نہیں جیسے ضرب ضرب کا کیا معنی پٹائی کرنا بھی اور ساتھ زمانہ بھی ہے کونسا زمانہ ماضی والا اب یہ ضرب ضرب کے اندر مارنا تو ہے لیکن زمانہ ہے ساتھ اس میں تو زمانہ ہے ہی نہیں بات سمجھ میں آگئی مصدر کا معنی ہر صیغے میں ہے لیکن ہر صیغے کا معنی مصدر میں نہیں معلوم ہوا یہ فعل کا معنی جو ہے وہ کس سے بنا ہے مصدر کے معنی سے تو اس میں مارنے کا معنی بھی آ گیا اور ساتھ ایک معنی کا اضافہ بھی کر دیا کیونکہ مشتق اور مشتق منہ میں فرق ہوگا یا نہیں ہوگا فرق تو ہوگا کچھ فرق تو ہوگا تو اس میں کیا ملا دیا ساتھ زمانہ بھی ملا دیا تو دیکھا معلوم ہوا یہ فعل کا معنی جو ہے وہ کس سے بنا ہے مصدر کے معنی سے تو معنی کے اعتبار سے اصل کون مصدر ہے اس میں اتفاق ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں اسی طرح عمل کے اعتبار سے بھی کوئی اختلاف نہیں ہے یہاں تک بات سمجھ میں آگئی اب دیکھیے بھئی کتاب پر ترجمہ افادہ فيما بين بصريين وكوفيين اختلاف است بصرہ والوں اور کوفہ والوں کے درمیان اختلاف ہے یعنی بصرہ اور کوفہ کے جو علماء صرف و نحو ہیں ان کے درمیان اختلاف ہے درین اس میں کہ فعل اصل است یا مصدر کہ فعل اصل ہے یا مصدر کوفیان باول قائلند کوفہ والے جو ہیں وہ اول کے قائل ہیں اول کس کا ذکر آیا فعل کہ فعل اصل است یا مصدر کہ فعل اصل ہے یا مصدر تو کوفیان باول قائلند کوفہ والے وہ پہلی بات کے قائل ہیں یعنی فعل اصل ہے وبصريان بسانی اور بصرہ والے دوسری بات کے قائل ہیں یعنی مصدر اصل ہے واصل اختلاف در همین است اور اصل اختلاف اسی میں ہے کہ آیا فعل ماضی را مادہ و اصل قرار داد مشتق منہ باید گفت و مصدر را فرع و مشتق از آن یا بالعکس کہتے ہیں اصل اختلاف در همین است اسی میں ہے کہ آیا آیا سوال کے لیے آتا ہے کیا کیا آیا کا کیا معنی کیا تو کہتے ہیں اختلاف اسی میں ہے کہ آیا فعل ماضی را مادہ و اصل قرار دے کر کیا فعل ماضی کو مادہ اور اصل قرار دے کر مشتق منہ باید گفت اس کو کیا کہنا چاہیے مشتق منہ کہنا چاہیے و مصدر را فرع و مشتق از آن اور مصدر کو اس کی فرع اور اس سے مشتق کہنا چاہیے یا بالعکس یا اس کا یا اس کے برعکس یا اس کے برعکس یعنی مصدر کو اصل اور مشتق منہ کہنا چاہیے اور فعل کو اس کی فرع اور اس سے مشتق کہنا چاہیے اس میں اصل اختلاف ہے عبارت سمجھ میں آگئی آگے دیکھیے پس بصريان به امر معنوی استدلال می کنند اچھا یہاں سے دلیل ذکر کر رہے ہیں ان کی دلیل یہ کہ بصرہ والے جو ہیں وہ کیا فرماتے ہیں کہ مصدر اصل ہے اور وہ معنوی دلیل پیش کرتے ہیں جس کا تعلق معنی سے ہے وہ کس طرح کی دلیل پیش کرتے ہیں؟ معنوی یعنی جس کا تعلق کس سے ہے؟ معنی سے۔ وہ کہتے ہیں دیکھو یہ جو مصدر کا معنی ہے یہ فعل کے لیے اصل ہے۔ مصدر کا معنی ہر فعل میں پایا جا رہا ہے۔ ہر مشتق میں پایا جا رہا ہے معلوم ہوا مصدر اصل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ معنی مصدر جو ہے وہ تمام افعال میں اور تمام اسمائے مشتقہ میں پایا جاتا ہے۔ معلوم ہوا معنی مصدر اصل ہے سب کے لیے۔ سب کے معنی کے لیے معنی مصدر کیا ہے؟ اصل۔ ایک ہے مصدر کا معنی ایک ہے فعل کا معنی ایک ہے اسم فاعل کا معنی توجہ ہے؟ جی ایک ہے اسم مفعول دیکھو مشتقات ذکر کر رہا ہوں فعل کا معنی فعل ماضی کا معنی فعل مضارع کا معنی ایک اسی طرح اسم فاعل کا معنی اسی طرح اسم مفعول کا معنی اسی طرح ظرف کا معنی اسی طرح اسم اعلی کا معنی اسی طرح اسم تفضیل کا معنی جتنے بھی آپ مشتقات وغیرہ ہیں ان میں غور کر لیں تو مصدر کا معنی ان سب کے لیے اصل ہے ان سب میں مصدر کا معنی پایا جا رہا ہے لیکن ان کے معنی مصدر میں پائے جائیں نہیں بھئی ایسا نہیں۔ فعل کا معنی مصدر میں نہیں ہے کیونکہ مثلاً دیکھو فعل ماضی، فعل ماضی میں کیا موجود؟ مارنے کا معنی بھی ہے اور زمانہ ماضی بھی ہے اور ضرب ان کے اندر تو زمانہ ماضی نہیں یا اسی طرح فعل مضارع دیکھ لو فعل مضارع میں حال یا استقبال ہے تو مارنے کا معنی بھی ہے اور حال یا استقبال حالانکہ مصدر میں تو حال یا استقبال والا معنی نہیں۔ لہذا فعل کا معنی معنی کی بات کر رہا ہوں فعل کا معنی مصدر کے معنی کے لیے اصل نہیں کیونکہ وہ تو وہاں پورا موجود ہی نہیں ہے فعل کے معنی میں تو زمانہ بھی ہے لیکن وہ زمانہ تو مصدر میں موجود نہیں اگر آپ فعل کے معنی کو لفظ کی بات نہیں کر رہا معنی کی بات کر رہا ہوں توجہ ہے؟ فعل کے معنی کو مصدر کے معنی کے لیے اصل قرار دیں تو پھر اس کا تو مطلب ہے فعل کا پورا معنی مصدر میں ہونا چاہیے لیکن فعل کا تو پورا معنی مصدر میں ہے ہی نہیں فعل کے اندر تو مارنے کا بھی معنی ہے اور زمانہ بھی ہے اور مصدر میں مارنا تو ہے لیکن زمانہ نہیں۔ تو معلوم ہوا فعل کا معنی توجہ ہے؟ فعل کا معنی لفظ کی بات نہیں کر رہا بار بار میں دہرا رہا ہوں کس کی بات کر رہا ہوں؟ معنی معلوم ہوا فعل کا معنی مصدر کے معنی کے لیے اصل نہیں بلکہ مصدر کا معنی فعل کے معنی کے لیے اصل ہے۔ کس طرح؟ ضرب ضرب کا کیا معنی؟ مارنا وہی مارنا بھی ملایا اور ساتھ اس کے ساتھ زمانہ بھی ملا لیا تو کس کا معنی بن گیا؟ فعل کا معنی بن گیا فعل اس کے ساتھ اگر ماضی کا معنی ملایا تو فعل ماضی والا معنی بن گیا اسی مارنے کے ساتھ اگر حال یا استقبال والا معنی ملایا تو کس کا معنی بن گیا؟ مضارع والا معنی بن گیا معلوم ہوا معنی کے اعتبار سے اصل کون؟ مصدر مصدر ہے مصدر کا معنی وہ اصل ہے تمام افعال و اسمائے مشتقات کے معنی کے لیے تو جب معنی کے اعتبار سے مصدر اصل ہے تو لفظوں کے اعتبار سے بھی مصدر کو کیا مان لو؟ اصل پھر سنو تو جب معنی کے اعتبار سے مصدر اصل ہے سب کے لیے تو لفظوں کے اعتبار سے بھی مصدر کو سب کے لیے اصل مان لو کہ یہ سارے لفظ مصدر کے لفظ سے بنے ہیں مصدر مشتق منہ ہے اور یہ سارے اس سے مشتق ہیں دلیل سمجھ میں آگئی حاصل دلیل کیا ہوا کہ بصرہ والے فرماتے ہیں کہ مصدر کا معنی وہ اصل ہے اور مادہ ہے تمام افعال کے لیے بھی اور تمام مشتقات کے معنی کے لیے بھی جب مصدر کا معنی سب کے لیے اصل ہے آپ بھی تسلیم کرتے ہیں اے کوفہ والوں آپ بھی کیا کرتے ہیں؟ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مصدر معنی کے اعتبار سے کیا ہے؟ اصل ہے میں نے بتایا نا ابھی معنی کے اعتبار سے بالاتفاق مصدر کیا ہے؟ اصل تو جب معنی کے اعتبار سے آپ بھی مانتے ہیں کہ مصدر اصل ہے اور فعل وغیرہ اس کی فرع تو لفظوں کے اعتبار سے بھی آپ مان لیں کہ مصدر اصل ہے اور فعل وغیرہ اس کی فرع یعنی وہ مصدر ہی سے بنے یعنی ان کا اشتیاق کس سے ہوا ہے؟ مصدر سے ہوا ہے بات سمجھ میں آگئی جبکہ کوفہ والے وہ لفظی دلیل ذکر کرتے ہیں بصرہ والے کونسی دلیل ذکر کرتے تھے؟ معنوی معنی کو دلیل بناتے تھے اور کوفہ والے لفظی دلیل ذکر کرتے ہیں لفظ کو دلیل بناتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ دیکھو اعلال کے اندر اکثر مصدر جو ہے وہ فعل کے تابع ہوتا ہے اعلال کے اندر اکثر مصدر جو ہے وہ فعل کے تابع ہوتا ہے فعل میں اعلال ہو تو مصدر میں بھی اعلال ہوتا ہے جیسے قام میں اعلال ہوا تو قیامن میں بھی اعلال ہوا قیامن اصل میں کیا تھا قوامن تو یہاں و ی سے بدل گیا کیونکہ قام میں اعلال ہوا تھا تو کوفہ والے کیا کہتے ہیں لفظی دلیل ذکر کر رہے ہیں اعلال لفظوں میں ہوتا ہے کہ معنی میں ہوتا ہے؟ لفظوں میں اعلال لفظوں میں ہوتا ہے تو لفظی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں دیکھو فعل کے اندر اعلال ہو تو مصدر میں بھی اعلال ہوتا ہے اور فعل میں اعلال نہ ہو تو مصدر میں بھی اعلال نہیں ہوتا جیسے قاوماً یہاں و میں اعلال نہیں ہوا تو قوامن جو مصدر ہے اس کے اندر بھی اعلال نہیں ہوا تو جب اعلال میں فعل اصل ہے مصدر کے لیے اور اعلال ایک لفظی چیز ہے تو اشتقاق کے اندر بھی فعل کو اصل قرار دینا چاہیے کیونکہ اشتقاق بھی لفظی چیز ہے ایک لفظ سے دوسرا لفظ بن رہا ہے بھئی تو اشتقاق بھی کیا ہے لفظی چیز اور ہم نے جو دلیل ذکر کی وہ بھی کونسی ہے لفظی ہے لفظ سے متعلق ہے بات سمجھ میں آگئی تو بصرہ والے کس طرح کی دلیل دیتے ہیں؟ معنوی معنوی یعنی معنی سے متعلق ہے اور کوفہ والے کس طرح کی دلیل دیتے ہیں؟ لفظی یعنی لفظ سے وہ متعلق ہے بھئی بات سمجھ میں آرہی ہے دیکھیے اب ترجمہ کہتے ہیں بس بصریہ بامر معنوی استدلال می کنند پس بصرہ والے جو ہیں وہ امر معنوی سے یعنی ایک معنوی چیز سے استدلال کرتے ہیں استدلال کہتے ہیں دلیل بنانا وہ ایک معنوی چیز سے دلیل بناتے ہیں ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ کہتے ہیں بصرہ والے جو ہیں وہ ایک معنوی چیز سے دلیل بناتے ہیں تو کہتے ہیں بصریہ بامر معنوی استدلال می کنند بصرہ والے جو ہیں ایک امر معنوی سے استدلال کرتے ہیں کہ معنا مصدر مادہ و اصل برائے معانی جمیع افعال و اسمائے مشتقہ است کہ مصدر معنی جو ہے وہ مادہ اور اصل ہے برائے معانی جمیع افعال و اسمائے مشتقہ تمام افعال اور اسمائے مشتقہ کے معنی کے لیے معنا مصدر جو ہے وہ معنی مصدر یعنی مصدر کا جو معنی ہے وہ اصل اور مادہ ہے کس کے لیے؟ تمام افعال اور اسمائے مشتقہ کے معنی کے لیے ان کے معنی کے لیے مصدر کا معنی اصل ہے اور مادہ ہے اور یہ اس کی فرع ہیں جب معنی کے اندر وہ اس کی فرع ہیں تو لفظ کے اندر بھی ان کو اس کی فرع ہونا چاہیے پس لفظ مصدر هم مادہ و اصل برائے جمیع مشتقات باشد پس مصدر کا لفظ بھی تمام مشتقات کے لیے مادہ اور اصل ہوگا دلیل سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں و کوفیاں ب امور لفظیہ استدلال می کنند اور کوفہ والے جو ہیں وہ لفظی چیزوں سے استدلال کرتے ہیں مثلا مثال کے طور پر اکثر مصدر تابع فعل اکثر مصدر جو ہے وہ فعل کے تابع در اعلال می باشد اعلال میں ہوتا ہے اکثر مصدر جو ہے وہ اعلال میں فعل کے تابع ہوتا ہے فعل میں اعلال ہو تو مصدر میں ہوتا ہے فعل میں اعلال نہ ہو تو مصدر میں بھی نہیں ہوتا تو کہتے ہیں مثلاً اکثر مصدر تابع فعل در اعلال می باشد مثلاً اکثر جو ہے مصدر وہ اعلال میں فعل کے تابع ہوتا ہے و اعلال از امور لفظیاست اور اعلال جو ہے وہ لفظی امور میں سے ہے لفظی چیز لفظی چیزوں سے ہے یعنی اس کا تعلق لفظ سے ہے تو کہتے ہیں و اعلال از امور لفظیاست اور اعلال جو ہے وہ لفظی امور میں سے ہے پس مصدر را فرع فعل در لفظ و مشتق ازاں می باید گفت پس مصدر کو بھی فرع فعل فعل کی فرع در لفظ کس میں؟ لفظ میں پس مصدر کو بھی لفظ میں فعل کی فرع و مشتق ازاں می باید گفت اور اس سے مشتق کہنا چاہیے اے بصرہ والو آپ نے دلیل میں معنی کو ذکر کیا حالانکہ اشتقاق کا تعلق لفظوں سے ہوتا ہے تو آپ نے ایسی دلیل ذکر کی جس کا تعلق معنی سے ہے اور ہم نے ایسی دلیل ذکر کی جس کا تعلق کس سے ہے؟ لفظ سے ہے لفظ سے ہے اور کس چیز کے لیے یہ دلیلیں ذکر کی جا رہی ہیں؟ اشتقاق کے لیے اور اشتقاق کا تعلق تو لفظ سے ہے لہذا اس کے لیے کوئی لفظی دلیل ذکر کرو معنوی دلیل ذکر نہ کرو اور لفظی دلیل ہمارے پاس موجود ہے لہذا معلوم ہوا کہ جب اعلال کے اندر یعنی اور لفظی چیزوں کے اندر فعل اصل ہے یعنی جیسے اعلال میں فعل اصل ہے تو اشتقاق جیسی لفظی چیزوں میں بھی فعل کو کیا قرار دے دو؟ اصل قرار دے دو اور مصدر کو اس کی فرع قرار دے دو بات سمجھ میں آگئی یہی دوبارہ ترجمہ دیکھیں کہتے ہیں و اعلال از امور لفظی است پس مصدر را فرع فعل در لفظ و مشتق ازاں می باید گفت و اعلال لفظی امور میں سے ہے لفظی چیزوں میں سے ہے پس مصدر کو لفظوں میں فعل کی فرع اور اسے مشتق جو ہے میں بایست گفت کہنا چاہیے یہاں تک تو وہ اصل اختلاف ذکر کر رہے تھے کہ اصل اختلاف کس میں ہے؟ اشتقاق میں ہے اور پھر ایک ایک دلیل بھی دونوں کی ذکر کر دی کہ بصرہ والے دلیل میں معنی کو ذکر کرتے ہیں اور کوفہ والے دلیل میں لفظ کو ذکر کرتے ہیں اب آگے ان کے استاد محترم کی تقریر شروع ہو رہی ہے وہ کوفہ والوں کے مذہب کو ترجیح دیتے ہیں عام علماء کیا کرتے ہیں؟ عام علماء وہ بصرہ والوں کے مذہب کو ترجیح دیتے ہیں اسی لیے آپ نے ابواب الصرف میں بھی پڑھا کہ مصدر سے ان ان چیزوں کا اشتقاق ہوتا ہے دیکھا وہاں مصدر کو اصل قرار دیا اشتقاق میں اور فعل وغیرہ کو اس کی فرع قرار دیا تو عام علماء کس مذہب کو قوی قرار دیتے ہیں؟ بصرہ والوں کے کہتے ہیں نہیں میرے استاد محترم فرماتے تھے کہ نہیں کوفہ والوں کا مذہب قوی ہے اور زبردست ہے کیونکہ اشتقاق ایک لفظی معاملہ ہے تو اس کے لیے کوئی لفظی دلیل ہونی چاہیے جبکہ بصرہ والے جو ہیں وہ ایسی دلیل ذکر کر رہے ہیں جس کا تعلق کس سے ہے؟ معنی سے ہے بھئی بات سمجھ میں آگئی دیکھیے کہتے ہیں جناب استادنا المرحوم مذہب کوفیین را ترجیح می دادند کہتے ہیں میرے استاد محترم جو ہیں وہ کوفہ والوں کے مذہب کو ترجیح دیتے و فی الواقع دلائل قویہ بر رجحان مذہب کوفیین قائم است و فی الواقع اور واقع کے اندر دلائل قویہ قوی دلائل بر رجحان مذہب کوفیین قائم است کوفہ والوں کے مذہب کے راجح ہونے پر موجود ہیں کیا فرما رہے ہیں مصنف کہ واقع کے اندر کوفہ والوں کے مذہب کے راجح ہونے پر بڑے قوی دلائل موجود ہیں عام علماء تو کس کو ترجیح دیتے ہیں؟ بصرہ والوں کے مذہب کو لیکن واقع کے اندر اگر آپ غور کریں تحقیق کریں اور گہری نظر سے دیکھیں تو کوفہ والوں کے دلائل زیادہ قوی ہیں بھئی بات سمجھ میں آگئی ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے و فی الواقع دلائل قویہ بر رجحان مذہب کوفیین قائم است اور واقع میں بڑے قوی دلائل مذہب کوفیین کے راجح ہونے پر موجود ہیں اول اینکہ اب تین دلائل ذکر کریں گے کوفہ والوں کے مذہب کے راجح ہونے پر کتنے دلائل ذکر کریں گے؟ تین دلائل کہتے ہیں میرے استاد محترم ذکر فرماتے تھے ان کو اب ذکر کر رہے ہیں اول اینکہ پہلی دلیل یہ کہ گفتگو در اشتقاق است کہ گفتگو کس بارے میں ہے؟ اشتقاق اشتقاق کے بارے میں یعنی یہ بحث اس بارے میں چل رہی ہے اشتقاق کے بارے میں چل رہی ہے کہ اشتقاق میں مصدر اصل ہے یا فعل اصل ہے توجہ ہے؟ یہ گفتگو اور یہ بحث کس بارے میں ہو رہی ہے؟ اشتقاق کے بارے میں ہونی ہو رہی ہے اور اشتقاق کس میں سے ہے؟ لفظی چیز ہے یا معنوی چیز ہے؟ لفظی چیز ہے معنی سے بھی کہتے ہیں اس کا تعلق ہے کیونکہ جب لفظ بدلتا ہے تو معنی بھی ساتھ ساتھ بدلتے چلے جاتے ہیں لیکن اصل تعلق اس کا کس سے ہے؟ لفظ سے ہے لہذا کہتے ہیں ادھر دیکھیے لہذا کہتے ہیں مصدر اور فعل کے لفظوں پر غور کرو ذرا لفظوں پر ذرا غور کر کے دیکھو کس میں مادہ اور اصل بننے کی صلاحیت ہے اور کس میں مادہ اور اصل بننے کی صلاحیت نہیں اگر آپ غور کریں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کس میں غور کرنا ہے؟ فعل اور مصدر کے لفظ میں لفظ میں کیونکہ بات کس کی چل رہی ہے؟ اشتقاق کی اور اشتقاق کس چیز سے تعلق رکھتا ہے؟ لفظ سے تو اشتقاق ایک لفظی چیز ہے تو اس کے لیے ہمیں فعل اور مصدر کے لفظوں میں غور کرنا چاہیے ایک فعل کا لفظ ہے ایک مصدر کا لفظ ہے کس میں مادہ بننے کی صلاحیت ہے اور کس میں مادہ بننے کی کی صلاحیت نہیں۔ آپ اسی میں غور کر لیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا۔ فعل کا لفظ ہی آپ کو بتا دے گا کہ یہ مصدر کے لیے مادہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن مصدر کا لفظ فعل کے لیے مادہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، کیونکہ مصدر کے اندر اکثر ایسے حروف آ جاتے ہیں جو زائد ہوتے ہیں، فعل میں وہ نہیں ہوتے۔ مثلا دیکھو، اکرم۔ اور ایک ہے اس کا مصدر، کیا؟ اکرام۔ اکرم اور اکرام میں غور کرو۔ کس میں مادہ بننے کی صلاحیت ہے؟ اکرم کے اندر۔ شروع میں حمزہ ہے، پھر کاف ہے، پھر را ہے اور پھر میم۔ اور یہ چاروں اکرام میں موجود ہیں یا نہیں؟ یہ چاروں اکرام میں موجود ہیں۔ البتہ اس میں درمیان میں ایک الف زائد آگیا۔ اصل مادہ تو وہ ہے جو پورا کا پورا موجود ہو اور اکرام پورا کا پورا اکرام میں موجود ہے یا نہیں؟ پورا کا پورا اکرام میں موجود ہے۔ لیکن اگر آپ اکرام کو اصل قرار دیں تو اکرام پورا اکرم میں ہونا چاہیے یا نہیں؟ پورا ہونا چاہیے لیکن اکرام پورا کا پورا اکرم میں ہے؟ نہیں، اس کے اندر جو ایک الف ہے وہ تو اکرم میں نہیں ہے۔ بات سمجھ آ رہی ہے؟ تو مادہ تو وہ ہونا چاہیے جو پورا کا پورا دوسرے کے اندر پایا جائے بھئی۔ ہاں، کچھ زائد ہو جائے وہ الگ چیز ہے، لیکن مادہ تو پورا ہونا چاہیے تو اکرم تو پورا اکرام میں موجود لیکن اکرام کے سارے حروف تو اکرم میں موجود نہیں۔ معلوم ہوا مادہ اور اصل ہونے کی صلاحیت کس میں ہے؟ فعل میں ہے۔ مصدر میں نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا کہ فعل میں مادہ اور اصل بننے کی صلاحیت ہے، مصدر میں مادہ اور اصل بننے کی صلاحیت نہیں۔ اور مثالیں دیکھ لیں بھئی، بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی بھئی۔ مثلاً ھدا یھدی اس سے مصدر آتا ہے ہدایت۔ کیا آتا ہے؟ ہدایت۔ تو مصدر ہے ہدایت اور فعل ہے ھدا۔ ھدا میں دیکھو ہ، دال، یا اور یہ تینوں حروف ہدایت میں موجود ہیں یا نہیں؟ تو فعل کے سارے حروف کیا ہیں؟ مصدر کے اندر موجود ہیں۔ لیکن مصدر کو اگر دیکھیں آپ، ہدایت، اس کے اندر تو ایک الف بھی ہے، اس کے آخر میں تو گول تا بھی ہے، تو کیا یہ ہدایت پورا کا پورا ھدا میں موجود ہے؟ یھدی میں موجود ہے؟ اھدی میں موجود ہے؟ نہیں بھئی۔ تو معلوم ہوا مادہ اور اصل بننے کی صلاحیت کس کے اندر ہے؟ فعل کے اندر ہے بھئی۔ اور دیکھ لیں جیسے دیکھو بھئی قاتل یقاتل مقاتلتاً مقاتلتاً قاتل اس کے کیا کیا حروف ہیں؟ ق، الف، تا اور ل۔ اور یہ سارے کے سارے حروف مقاتلتہ اس میں موجود ہیں یا نہیں؟ یہ سارے موجود ہیں، ق بھی ہے، الف بھی ہے، تا بھی ہے، ل بھی ہے۔ لیکن مقاتلہ کے اگر سارے حروف دیکھیں، مقاتلہ کے تو شروع میں میم بھی ہے، آخر میں گول تا بھی ہے، وہ تو قاتلہ کے اندر موجود نہیں۔ تو فعل کے سارے حروف تو مصدر میں موجود ہیں لیکن مصدر کے سارے حروف تو فعل کے اندر موجود نہیں۔ تو کس میں مادہ بننے کی صلاحیت ہے؟ فعل کے اندر مادہ بننے کی صلاحیت ہے، مصدر میں مادہ بننے کی صلاحیت نہیں۔ معلوم ہوا فعل اصل ہے اور مصدر کیا ہے اس کی فرع ہے اشتقاق کے اندر بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ لفظوں میں ہی غور کر لیں تو پتہ چلے گا کہ فعل سے تو مصدر کا اشتقاق ہو سکتا ہے، مصدر سے تو فعل کا اشتقاق نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اس کے لیے مادہ بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ یہ کس کی دلیل چل رہی ہے؟ کوفہ والوں کی۔ کتنے دلائل ذکر کریں گے؟ تین بھئی، پہلی دلیل چل رہی ہے بھئی، اب دیکھیے کتاب پر۔ اولین کہ پہلی دلیل یہ کہ گفتگو در اشتقاق است، کہ گفتگو کس بارے میں ہے؟ اشتقاق کے بارے میں، گفتگو یعنی بات چیت یعنی بحث، بحث، بحث جو ہے وہ اشتقاق کے بارے میں ہے، و اشتقاق از امور لفظیہ است، اور اشتقاق لفظی چیزوں میں سے ہے، اگرچہ علاقہ بمعنی هم دارد، اگرچہ یہ معنی کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے، علاقہ کہتے ہیں تعلق۔ اشتقاق کا تعلق معنی سے بھی ہے، لیکن در اصل اس یہ کیا ہے؟ لفظی چیز، بھئی اشتقاق میں ایک لفظ سے دوسرا بنے گا، مثلاً بصرہ والوں کی بات مانتے ہیں ہم، فرض کرو ضرب سے کیا بنا؟ ضرب۔ تو معنی بھی بدلا یا نہیں؟ اور ضرب سے یضرب بنا تو معنی بدلا یا نہیں؟ اور یضرب سے ضارب بنا تو معنی بھی بدلا یا نہیں؟ تو دیکھو معنی کے ساتھ بھی تو اشتقاق کا تعلق ہے، معنی بھی بدلتا چلا جاتا ہے، لیکن اصل تعلق اس کا کس کے ساتھ ہے؟ لفظ کے ساتھ ہے، معنی کے ساتھ نہیں۔ اصل تعلق کس سے ہے؟ لفظ کے ساتھ۔ تو اشتقاق جب لفظی چیز ہے، تو اس کے لیے لفظی دلیل ہونی چاہیے، لفظوں میں غور کرنا چاہیے بھئی، معنی کو دلیل نہیں بنانا چاہیے۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں و اشتقاق از امور لفظیہ است، اشتقاق جو ہے وہ لفظی چیزوں میں سے ہے، اگرچہ علاقہ بمعنی هم دارد، اگرچہ یہ معنی کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے، پس در لفظ فعل ماضی و مصدر تأمل باید کرد، تأمل کا معنی ہے غور، پس جو ہے فعل ماضی کے لفظ اور مصدر کے لفظ میں تأمل باید کرد، غور کرنا چاہیے کہ آیا لفظ فعل لیاقت مادہ بودن میں دارد یا لفظ مصدر۔ آیا آیا کا کیا ترجمہ ہے؟ کیا، کیا، کہ کیا لفظ فعل، فعل ماضی کا جو لفظ ہے لیاقت مادہ بودن میں دارد؟ یہ مادہ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیاقت کا معنی ہے صلاحیت، لیاقت مادہ بودن میں دارد، یہ مادہ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے یا لفظ مصدر؟ کیا لفظ مصدر؟ بات سمجھ آ رہی ہے؟ پھر تو دیکھو، کہتے ہیں پس در لفظ فعل ماضی و مصدر تأمل باید کرد، پس فعل ماضی اور مصدر کے لفظ میں غور کرنا چاہیے کہ آیا لفظ فعل لیاقت مادہ بودن میں دارد یا لفظ مصدر، کہ کیا فعل ماضی کا لفظ جو ہے وہ مادہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے یا لفظ مصدر، نہ کہ لفظ مصدر۔ و عند التأمل، اور غور و فکر کے وقت مدرک میں گردد، یہ بات معلوم ہو جاتی ہے۔ مدرک میں گردد، معلوم۔ و عند التأمل مدرک میں گردد، اور غور و فکر سے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ لفظ فعل لیاقت مادیت دارد نہ لفظ مصدر، کہ لفظ فعل جو ہے وہ مادہ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے نہ کہ لفظ مصدر، مادیت مادہ ہونا۔ کسی لفظ سے مصدر جب بناتے ہیں نا تو اس کے آخر میں یائے مشدد اور گول تا ملا دیتے ہیں۔ کسی لفظ سے آپ مصدر بنانا چاہتے ہیں، تو توجہ ہے؟ کسی لفظ سے مصدر بنانا چاہتے ہیں تو اس کے آخر میں یائے مشدد اور گول تا ملا دیں تو وہ مصدر بن جائے گا۔ جیسے فاعل، اب فاعل سے آپ مصدر بنانا چاہتے ہیں تو یائے مشدد اور گول تا ملا دیں، فاعلیت۔ کیا معنی؟ اب مصدر والا ترجمہ کرو۔ فاعل ہونا، مصدر کے آخر میں نا آتا ہے نا، تو فاعل سے کیا بن گیا؟ فاعلیت، کیا معنی؟ فاعل ہونا۔ اور اسی طرح مادہ سے کیا بن گیا؟ مادیات یعنی مادہ ہونا۔ تو کہتے ہیں و عند التأمل مدرک میں گردد کہ لفظ فعل لیاقت مادیت دارد نہ لفظ مصدر، اور غور و فکر سے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ فعل کا جو لفظ ہے وہ مادہ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے نہ لفظ مصدر، نہ کہ لفظ مصدر۔ زیرا کہ، زیر کا کیا ترجمہ؟ اس لیے کہ، کیونکہ یا اس لیے کہ۔ زیرا کہ جملہ حروف کہ در فعل ماضی یافتہ می شود، اس لیے کہ وہ سارے حروف جو کہ فعل ماضی کے اندر پائے جاتے ہیں، بالضرور در مصدر یافتہ می شود، وہ یقینی طور پر مصدر میں پائے جاتے ہیں۔ ولا عکس، اور اس کا عکس نہیں ہے۔ بالضرورت کا لفظ بالضرورت کا لفظ کتابوں میں آئے تو اس کا معنی ہوتا ہے بدیہی طور پر یا یقینی طور پر۔ بدیہی اور نظری جانتے ہیں یا نہیں؟ بدیہی وہ جو غور و فکر کے بغیر فورا ہی سمجھ میں آجائے اسے بدیہی کہتے ہیں اور جس چیز میں غور و فکر کرنا پڑے اسے نظری کہتے ہیں۔ تو بالضرورت کا کیا ترجمہ؟ بدیہی طور پر، یعنی بغیر غور و فکر کے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے یا بالضرورت کا کیا ترجمہ کر لیں؟ یقینی طور پر، اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں۔ پھر ترجمہ دیکھو۔ زیرا کہ جملہ حروف کہ در فعل ماضی یافتہ می شود، اس لیے کہ وہ سارے حروف جو کہ فعل ماضی میں پائے جاتے ہیں، بالضرورت در مصدر یافتہ می شود، وہ یقینی طور پر مصدر میں پائے جاتے ہیں۔ یا بدیہی طور پر وہ مصدر میں پائے جاتے ہیں۔ ولا عکس، اور اس کا عکس نہیں ہے، یعنی مصدر کے سارے حروف فعل کے اندر نہیں پائے جاتے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ یعنی بدیہی طور پر ماضی کے سارے حروف کس میں ہیں؟ مصدر میں ہیں۔ غور و فکر کی ذرا بھی ضرورت نہیں۔ آپ ویسے ہی نظر ڈال لیں۔ ضرب یہ ضرب کے اندر سارے حروف موجود ہیں۔ قاتل، یہ مقاتلہ کے اندر سارے حروف موجود ہیں۔ ھدا، یہ ہدایت کے اندر سارے حروف موجود ہیں۔ یقینی طور پر، بدیہی طور پر، غور و فکر نہیں کرنا پڑتا، کسی قسم کا شک اور شبہ اس میں نہیں۔ لیکن اس کا برعکس نہیں ہے کہ مصدر کے سارے حروف فعل میں ہوں، ایسا نہیں ہے۔ و ہم جزء ہفت وزن مصادر ثلاثی، یعنی قاتل، فسق، شکر، طلب، خنق، صغر، ہدن، و در تفاعل و تفاعل و تفاعل در ہمہ اوزان۔ حروف مصدر، حروف مصدر را، را ہے آپ کی کتابوں میں؟ یا را کتابت کی غلطی ہے، اس کو یہاں نہیں ہونا چاہیے۔ در ہمہ اوزان حروف مصدر از حروف فعل ماضی زائد است۔ اسی بات کی تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ ابھی کیا بات بیان کی؟ کہ آپ لفظوں میں غور کر لیں فعل کے اور مصدر کے۔ فعل کے لفظ میں غور کریں تو آپ دیکھیں گے فعل کے جتنے حروف ہیں وہ مصدر میں آپ کو ملیں گے۔ اور مصدر کے جتنے حروف ہیں وہ آپ کو فعل کے اندر نہیں ملیں گے۔ صرف دس مصدر ہیں، دس قسم کے مصدر ہیں، جن کے سارے حروف آپ کو فعل میں ملیں گے۔ توجہ ہے؟ صرف دس قسم کے مصدر ہیں جن کے سارے حروف آپ کو ماضی میں ملیں گے۔ اور باقی دس کے علاوہ جتنے بھی مصادر ہیں ان کے سارے حروف ماضی میں نہیں ملیں گے۔ جب کہ ماضی دنیا کی کوئی بھی اٹھا کر دیکھ لو اس کے سارے حروف آپ کو مصدر میں ہمیشہ ملیں گے۔ تو ماضی جتنی بھی ہوں، سب کے حروف مصدر میں ملیں گے۔ لیکن مصدر صرف دس ہیں جن کے حروف کس میں ملیں گے؟ ماضی میں ملیں گے اور نہیں ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی۔ کچھ ثلاثی مجرد سے ہیں، سات ثلاثی مجرد سے ہیں اور تین ثلاثی مزید فی سے ہیں، ان کو اب ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ہم جزء ہفت وزن مصادر ثلاثی، ہم کیا ترجمہ ہوتا ہے؟ بھی، لیکن یہ شروع میں آ رہا ہے تو اس کا ترجمہ کر لیں اسی طرح۔ یا اس کا ترجمہ کر لیں نیز، نیز، اردو میں پڑھتے ہیں یا نہیں؟ وہ ذہین بھی ہے، نیز اس نے محنت بھی کی۔ بات سمجھ میں آئی تو نیز اچھا، تو کہتے ہیں ہم جزء ہفت وزن مصادر ثلاثی، کہتے ہیں نیز، نیز اور جزء کا کیا معنی؟ علاوہ۔ اور نیز مصادر ثلاثی کے سات وزن کے علاوہ، عبارت میں نظر آیا؟ ہم جزء ہفت وزن مصادر ثلاثی، نیز مصادر ثلاثی کے سات اوزان کے علاوہ۔ وہ کون سے سات اوزان ہیں؟ وہ آگے ذکر کر رہے ہیں۔ یعنی قاتل، قتل کرنا، فسق، نافرمانی کرنا، شکر، شکر کرنا، طلب، طلب کرنا، خنق، گلا دبانا، گلا گھونٹنا، صغر، چھوٹا ہونا، ہدن، ہدایت دینا، رہنمائی کرنا۔ یہ والے سات وزن ثلاثی کے و در تفاعل و تفاعل و تفاعل، اور کس میں؟ تفاعل، تفاعل اور تفاعل جو یہ ثلاثی مزید فی کے جو مصادر ہیں، ان کے علاوہ در ہمہ اوزان، تمام اوزان میں حروف مصدر از حروف فعل ماضی زائد است۔ مصدر کے حروف فعل ماضی کے حروف سے زائد ہیں۔ تو یہ ثلاثی مجرد کے یہ سات وزن ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ سات وزن ہیں، فعل، فعل، فعل، فعل، فعل، فعل اور فعل، یہ سات وزن جو ہیں یہ صرف یہ سات وزن مراد ہیں بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ ثلاثی کے، ادھر دیکھو۔ ثلاثی مجرد کے یہ والے سات مصادر اور ثلاثی مزید فی کے یہ والے تین مصادر یہ تفاعل، تفاعل اور تفاعل، اس کے علاوہ جتنے اوزان کے ہیں مصدر کے، آپ سب میں دیکھ لیں، مصدر کے جو حروف ہیں وہ ماضی کے حروف سے زائد ہیں۔ جب زائد ہیں تو وہ مادہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے کیونکہ وہ سارے کے سارے ماضی میں موجود نہیں ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اب پھر ترجمہ ذرا با محاورہ دیکھ لو۔ کہتے ہیں ہم جزء ہفت وزن مصادر ثلاثی، یعنی قاتل، فسق، شکر، طلب، خنق، صغر، ہدن و در تفاعل و تفاعل و تفاعل، در ہمہ اوزان حروف مصدر از حروف فعل ماضی زائد است، نیز مصادر ثلاثی کے سات اوزان اور تفاعل، تفاعل اور تفاعل کے تمام اوزان میں، ترجمے پر نظر ہے؟ در ہمہ اوزان، تمام اوزان میں، ان سات مصادر اور ان تین مصادر کے علاوہ تمام اوزان میں حروف مصدر، مصدر کے جو حروف ہیں، از حروف فعل ماضی زائد است، وہ فعل ماضی کے حروف سے زائد ہیں۔ و ظاہر است، اور یہ بات ظاہر ہے کہ لیاقت مادیت ہم او می دارد، کہ در جملہ فروعیہ۔ یافتہ شود، نہ آنکہ یافتہ نہ شود۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ لیاقت مادیت، کیا ترجمہ کریں گے؟ مادہ ہونے کی صلاحیت۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ لیاقت مادیت ہم و مدارد کہ مادہ ہونے کی صلاحیت وہی رکھتا ہے کہ در جملہ فروع یافتہ شود جو تمام فروع کے اندر پایا جائے نہ آنکہ یافتہ نہ شود، نہ کہ وہ جو پایا نہ جائے۔ مادہ ہونے کی صلاحیت وہی رکھتا ہے کہ تمام فروع میں پایا جائے، نہ کہ وہ جو کہ نہ پایا جائے۔ اور وہ فعل ہے۔ فعل کے حروف تمام مصادر میں موجود ہیں، لیکن مصادر کے تمام حروف ہر فعل کے اندر موجود نہیں ہیں۔ وہم مزید علیہ احق و الیق است با اصالت و مادیت نہ مزید۔ بھئی ایک ہے مزید، ایک ہے مزید علیہ۔ جیسے دیکھو! فعل ماضی کیا ہے؟ اکرما۔ اور اس کا مصدر کیا ہے؟ اکرام۔ تو اکرما کے کتنے حروف؟ چار۔ اور اکرام کے کتنے حروف؟ پانچ حروف بھئی۔ تو زائد حروف کس میں ہیں؟ اکرام میں۔ تو اکرام ہوا مزید، یعنی اس میں زیادتی کی گئی ہے، اس میں حروف کو بڑھایا گیا ہے۔ اور کس کے حروف کو بڑھایا؟ اکرما کے، تو اکرما ہوا مزید علیہ۔ مزید علیہ اس پر، علیہ اس پر اضافہ کیا۔ اکرما کیا ہوا؟ مزید علیہ اور اکرام کیا ہوا؟ مزید۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ جس پر اضافہ کیا جائے، وہ کیا ہے؟ مزید علیہ اور جس میں اضافہ کیا، وہ کیا ہے؟ مزید۔ توجہ نہیں ہے، توجہ نہیں۔ جس پر اضافہ کیا گیا، وہ کیا ہے؟ مزید علیہ۔ جس پر اضافہ کیا گیا مزید علیہ۔ اور جس میں اضافہ کیا، وہ کیا ہے؟ مزید ہے۔ اور مادہ اور اصل ہونے کی صلاحیت مزید میں ہوتی ہے یا مزید علیہ میں؟ مزید علیہ میں۔ مزید علیہ میں، کس میں؟ مزید علیہ میں کہ وہ مادہ ہے، دیکھو! اکرما سارا کا سارا لے لیا، اکرام کے اندر لے آئے اور ساتھ ایک حرف اور بھی بڑھا دیا۔ تو یہ کیا بن گیا؟ مزید بن گیا۔ تو مادہ تو ہر ہر ایک میں موجود ہونا چاہیے اور پھر زائد حروف بھی لاؤ گے تاکہ صورت ذرا بدلتی جائے بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو کس صلاحیت میں مادہ ہونے کی؟ مزید میں یا مزید علیہ میں؟ مزید علیہ میں مادہ ہونے کی صلاحیت ہے کہ وہ ہر لفظ میں پایا جائے اور ساتھ پھر اگر اضافہ بھی ہو جائے معنی کے بدلنے کے لیے۔ تو یہ بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وہم مزید علیہ احق و الیق است با اصالت و مادیت نہ مزید۔ احق کا معنی ہے اس میں تفضیل ہے، احق زیادہ حقدار۔ اس میں تفضیل ہے، احق کیا معنی؟ اور الیق یہ بھی اس میں تفضیل ہے، زیادہ لائق، زیادہ لائق۔ کہتے ہیں: وہم مزید علیہ احق و الیق است با اصالت و مادیت نہ مزید۔ اور نیس مزید علیہ جو ہے، مزید علیہ کون ہے؟ فعل۔ فعل کے الفاظ کیا ہیں؟ انہی پر مصدر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: نیس مزید علیہ جو ہے احق و الیق است وہ زیادہ حقدار اور زیادہ لائق ہے با اصالت و مادیت، مادہ اور اصل ہونے کا۔ کس چیز کا؟ مادہ اور اصل ہونے کا۔ مزید علیہ جو ہوتا ہے وہ زیادہ حقدار ہے مادہ ہونے کا اور اصل ہونے کا نہ مزید نہ کہ مزید۔ و بودن ہمہ حروف فعل ماضی در جملہ مصادر عیان است۔ و بودن اور ہونا ہمہ حروف فعل ماضی فعل ماضی کے تمام حروف کا در جملہ مصادر تمام مصادر میں عیان است یہ بات ظاہر ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ فعل ماضی کے تمام حروف تمام مصادر میں موجود ہیں۔ کہتے ہیں: بودن ہمہ حروف فعل ماضی در جملہ مصادر عیان است فعل ماضی کے تمام حروف کا تمام مصادر کے اندر ہونا عیان است یہ بات ظاہر ہے۔ در اخشوشان و ادھیمام۔ یہ اب ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ آپ نے ابھی ہمیں بتایا کہ فعل ماضی کو اصل قرار دینا چاہیے اور مصدر کو اس کی فرع قرار دینا چاہیے کیونکہ فعل ماضی کے جو حروف ہیں وہ تمام مصادر کے اندر موجود ہیں لیکن تمام مصادر کے حروف وہ فعل ماضی کے اندر موجود نہیں ہیں۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آئیے ہم آپ کو مثال دکھاتے ہیں کہ فعل ماضی کے تمام حروف مصدر میں موجود نہیں، جیسے ماضی ہے اخشوشانا اور مصدر ہے اخشیشان۔ اور اخشوشانا کے اندر واؤ آ رہا ہے اور اخشیشان میں وہ واؤ موجود نہیں۔ اسی طرح ادھیاما۔ ادھیاما میں آپ دیکھیں، ادھیاما میں ہاء اور میم کے درمیان ایک الف موجود ہے ادھیاما، لیکن ادھیمام یہاں پر ہاء اور میم کے درمیان الف موجود نہیں ہے بلکہ یا موجود ہے۔ اعتراض سمجھ میں آرہا ہے کہ آپ نے کیا کہا تھا کہ فعل ماضی کے تمام حروف مصدر میں ہمیشہ موجود ہوتے ہیں، ہم آپ کو مثال دکھاتے ہیں کہ فعل ماضی کے تمام حروف مصدر میں موجود نہیں۔ اخشوشانا یہاں جو دو شین ہیں ان کے درمیان واؤ آ رہا ہے لیکن اس کا مصدر اخشیشان یہاں پر دو شین کے درمیان وہ واؤ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ یا ہے۔ تو تمام حروف ماضی کے وہ تو مصدر کے اندر موجود نہیں۔ اسی طرح ادھیاما فعل ماضی ہے، اس میں ہاء اور میم کے درمیان کیا موجود ہے؟ الف موجود ہے، لیکن اس کا مصدر ادھیمام یہاں پر ہاء اور میم کے درمیان وہ الف نہیں ہے بلکہ کیا موجود ہے؟ یا تو آپ کی بات تو درست نہ رہی، آپ نے تو کیا کہا تھا کہ ماضی کے تمام حروف کس میں موجود ہوتے ہیں؟ مصدر میں۔ تو جواب دیں گے کہ نہیں بھئی! ماضی کے تمام حروف مصدر میں موجود ہیں ہاں اخشوشانا میں واؤ تھا، اخشیشان میں وہی واؤ یا سے بدل گیا کیونکہ پہلے شین پر کسرہ آ گیا۔ تو اخشیشان کے اندر بھی وہ واؤ موجود تھا لیکن وہاں واؤ سے ماقبل یعنی پہلے شین کے نیچے کسرہ آ گیا اور آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں کہ واؤ سے ماقبل کسرہ آ جائے تو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ یا سے۔ تو لہذا اخشیشان میں بھی وہ واؤ یا سے بدل گیا۔ اسی طرح آپ نے کیا کہا ادھیاما کے اندر ہاء اور میم کے درمیان الف موجود ہے، ہم کہتے ہیں کہ وہ الف مصدر میں بھی موجود ہے لیکن دراصل وہ بدل گیا کیونکہ ماقبل کسرہ آیا۔ ادھیاما مصدر کیا ہے؟ ادھیمام دیکھو! یہاں ہاء اور میم کے درمیان جو یا ہے یہ دراصل الف تھی، لیکن ہاء پر زیر آ گئی تو ماقبل کسرہ کی وجہ سے وہ الف کس سے بدل گیا؟ یا سے بدل گیا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے بھئی کتاب پر! کہتے ہیں: در اخشوشان و ادھیمام کہ واؤ موجود در اخشوشانا و الف موجود در ادھیاما یافتہ نہ شود۔ کہتے ہیں: اخشیشان اور ادھیمام میں کہ وہ جو واؤ موجود تھا در اخشوشانا اخشوشانا میں و الف موجود در ادھیاما اور وہ جو الف موجود تھا ادھیاما کے اندر وہ اخشیشان اور ادھیمام میں یافتہ نہ شود وہ پایا نہیں جاتا۔ وجہش اینکه اس کی وجہ یہ ہے کہ واؤ و الف در مصدر بسبب کسرہ ماقبل حسب اقتضائے قاعدہ یا گردیدہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ واؤ اور الف مصدر میں بسبب کسرہ ماقبل ماقبل کے کسرہ کی وجہ سے حسب اقتضائے قاعدہ قاعدے کے تقاضے کے مطابق یا گردیدہ یا ہو گئے۔ وہ واؤ اور الف کیا ہو گئے؟ یا ہو گئے یعنی یا سے بدل گئے کیونکہ آپ نے ضابطہ پڑھا ہے معتل کے ضابطوں میں کہ واؤ یا الف سے پہلے اگر کسرہ آ جائے تو ان کو کس سے بدلتے ہیں؟ یا سے بدلتے ہیں۔ پس بالفعل واؤ و الف در مصدر موجود است۔ پس اصل میں واؤ اور الف مصدر میں موجود ہیں۔ و اگر مصدر مادہ بودے ماضی اخشوشانا و ادھیمام آمدے۔ وہم چنی ہمہ افعال و اسما مشتقہ۔ بھئی بتلا رہے ہیں، تقریر یہ چل رہی ہے کہ فعل ماضی جو ہے وہ مادہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ اصل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن مصدر جو ہے وہ مادہ اور اصل ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ ماضی کے تمام حروف تو آپ کو مصدر میں ہمیشہ ملیں گے، لیکن مصدر کے تمام حروف آپ کو فعل ماضی میں ہمیشہ نہیں ملیں گے۔ جیسے ابھی مثال ہم نے ذکر کر دی اخشیشان اور ادھیمام۔ اس کے سارے حروف تو اخشوشانا اور ادھیاما میں موجود نہیں، لیکن اخشوشانا اور ادھیاما کے تمام حروف کس میں موجود ہیں؟ اخشیشان اور ادھیمام میں موجود ہیں، البتہ وہ واؤ اور الف کس سے بدل گئے ہیں؟ ماقبل کسرہ کی وجہ سے یا سے بدل گئے ہیں۔ اب آگے آ رہا ہے اگر مصدر مادہ بودے یہاں سے الٹا بصرہ والوں پر اعتراض کر رہے ہیں کہ اے بصرہ والو! آپ تو کیا کہتے ہیں؟ مصدر اصل ہے اور ماضی کیا ہے؟ اس کی فرع۔ اگر مصدر اصل ہوتا تو مصدر کے تمام حروف ماضی کے اندر موجود ہونے چاہیے تھے اور اخشیشان مصدر کے اندر دو شین جو ہیں ان کے درمیان کیا ہے؟ یا تو یہ یا تو ماضی میں بھی ہونی چاہیے تھی، لہذا اگر مصدر کو دیکھیں اور مصدر سے ماضی بنائیں تو وہ تو اخشوشانا ہونی چاہیے تھی، اخشوشانا تو نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح مصدر ادھیمام کو اگر دیکھیں تو اس میں ہاء اور میم کے درمیان یا ہے تو لہذا اس سے ماضی جو ہے ادھیہما ہونی چاہیے، ادھیاما نہیں ہونی چاہیے۔ اعتراض سمجھ میں آرہا ہے کہ اگر آپ کی بات مان لیں اور مصدر کو اصل قرار دے دیں تو مصدر کے سارے حروف ماضی میں موجود ہونے چاہیے تو اس صورت میں تو ماضی اخشوشانا اور ادھیاما ہونی چاہیے، لیکن ماضی تو اخشوشانا اور ادھیاما نہیں ہے اور کہتے ہیں اسی طرح ہے تمام افعال اور تمام اسمائے مشتقہ کے اندر بھی۔ آپ ان دونوں بابوں کے تمام افعال دیکھ لیں، ماضی، مضارع، امر وغیرہ دیکھ لیں یا آپ ان کے اسمائے مشتقہ دیکھ لیں، ان کا اسم فاعل دیکھ لیں، ان میں مفعول دیکھ لیں، ان میں ظرف وغیرہ دیکھ لیں، آپ دیکھیں گے کہ ماضی کے تمام حروف تو سب کے اندر موجود ہیں لیکن مصدر کے حروف سب کے اندر موجود نہیں ہیں۔ بات سمجھ میں آرہی ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ مصدر اصل ہے اور ماضی کیا ہے؟ اس کی فرع ہے تو پھر اشکال کیا ہوا کہ اخشیشان کے اندر تو یا ہے اور اخشوشانا کے اندر تو یا نہیں۔ اگر آپ یہ جواب دینے کی کوشش کریں کہ یا تھی لیکن وہ یا کس سے بدل گئی؟ واؤ سے بدل گئی۔ ادھیمام میں یا ہے، لیکن ادھیاما میں وہ یا کس سے بدل گئی؟ الف سے۔ کہتے ہیں: نہیں یہ بھی آپ نہیں کہہ سکتے اس لیے کہ یہاں پر ایسا کوئی ضابطہ موجود نہیں ہے کہ اخشیشان کی یا کو واؤ سے بدلا جائے۔ کہ آپ کہیں اصل میں تو تھا اخشیشان پھر یا کس سے بدل گئی؟ واؤ سے۔ کہتے ہیں ایسا کوئی ضابطہ ہی نہیں ہے کہ جس کے جس کے مطابق آپ کہیں یا کو بدل کر واؤ کر دیا گیا، کوئی ضابطہ ہے تو ہمیں بتائیں۔ اسی طرح ادھیمامہ آپ کہیں ادھیاما اصل میں تو کیا تھا؟ ادھیمامہ بنا مصدر سے ہی ہے، اصل میں یا تھی پھر وہ یا کس سے بدل گئی؟ الف سے بدل گئی۔ کہتے ہیں ایسا کوئی ضابطہ ہی نہیں ہے کہ جس کے مطابق یہ یا کس سے بدل جائے؟ الف سے بدل جائے۔ معلوم ہوا بات وہی ہے جو ہم نے کی۔ ہم نے تو بتا دیا اخشوشانا کی واؤ مصدر میں جا کر کس سے بدلا؟ یا سے اور ضابطے کے مطابق بدلا یا ویسے ہی بدلا؟ ضابطے کے مطابق کہ واؤ سے ماقبل کسرہ آیا تو وہ کس سے بدل گیا؟ یا سے۔ اسی طرح ہم نے کہا ادھیاما اصل ہے اور ادھیمام اس کی فرع ہے اور ادھیمام میں بھی وہ الف تھا، لیکن ماقبل کسرہ کی وجہ سے کس سے بدل گیا؟ یا سے بدل گیا ہے۔ تو ہم نے تو جو بھی بات کی ضابطے کے مطابق بات کی اور اگر آپ کی بات مان لیں کہ اخشیشان اور ادھیمام اصل ہیں تو پھر تو ماضی کے اندر بھی یہ یا ہونی چاہیے تھی اور آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ یا واؤ سے بدل گئی ہے، یہ اصل میں یا تھی پھر کس سے بدل گئی؟ واؤ سے بدل گئی۔ آپ اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ کوئی ایسا ضابطہ ہی نہیں ہے کہ جس سے یہ یا بدل کر واؤ بن جائے یا الف بن جائے ان دو لفظوں کے اندر بھئی، اخشیشان اور ادھیمام میں۔ بات سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے اب ترجمہ! کہتے ہیں: و اگر مصدر مادہ بودے اور اگر مصدر مادہ ہوتا ماضی اخشوشانا و ادھیمام آمدے تو ماضی جو ہے وہ اخشوشانا اور ادھیمام آتے و ہم چنی ہمہ افعال و اسمائے مشتقہ اور اسی طرح تمام افعال اور اسمائے مشتقہ ان میں بھی اسی طرح ہوتا۔ زیرا کہ قاعدہ و وجہ برائے ابدال یا بہ واؤ در اخشوشانا و بہ الف در ادھیمام یافتہ نہ شود اس لیے کہ کوئی قاعدہ و وجہ اور کوئی وجہ برائے ابدال یا بہ واؤ کس چیز کے لیے؟ یا کو واؤ سے بدلنے کے لیے در اخشوشانا کس میں؟ اخشوشانا میں و بہ الف در ادھیمام اور یا کو الف سے بدلنے کے لیے در ادھیمام کس میں؟ ادھیمام میں یافتہ نہ شود پایا نہیں جاتا۔ ایسا کوئی ضابطہ پایا نہیں جاتا کہ اخشیشان میں اصل میں کہیں اخشیشان تھا اور پھر یا کو کس سے بدلا گیا؟ واؤ سے۔ یا ادھیمامہ اصل میں کیا تھا؟ ادھیمامہ تھا اور پھر یا کو کس سے بدلا گیا؟ الف سے۔ ایسا کوئی ضابطہ بھی موجود نہیں ہے۔ لہذا معلوم ہوا اے بصرہ والو! آپ کی بات درست نہیں، کوفہ والوں کی بات بڑی مضبوط ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اچھا ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی! یہ آخر میں سے ذرا ترجمہ دوبارہ دیکھ لیں۔ زیرا کہ قاعدہ و وجہ برائے ابدال یا بہ واؤ در اخشوشانا و بہ الف در ادھیمام یافتہ نہ [متن کا اختتام] شونہ اور الف سے بدلنے کے لیے ادغام ما میں پایا نہیں جاتا۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ جی۔ و در مصدر تفعیل کہ حرف مکرر ماضی یافتہ نہمی شود۔ اچھا۔ یہ ایک اور سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ آپ نے ہمیں بتایا کہ فعل کو اصل قرار دو اور مصدر کو اس کی فرع قرار دو اشتقاق کے اندر۔ اس لیے کیونکہ فعل کے تمام حروف تو مصدر میں پائے جاتے ہیں لیکن مصدر کے تمام حروف تو فعل میں پائے نہیں جاتے۔ کہتے ہیں ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ فعل کے تمام حروف مصدر میں موجود نہیں۔ جیسے کرّم کرّم۔ اور اس کا مصدر کیا ہے؟ تکریم۔ توجہ ہے باب تفعیل کا کوئی بھی فعل لے آئیں یا جیسے حمّد اس سے کیا بنے گا؟ تحمید۔ تو دیکھو کرّم کے اندر را مشدد ہے اور جو حرف مشدد ہوتا ہے وہ دراصل دو حروف ہوتے ہیں۔ تو گویا کرّم میں ایک کاف ہے، دو را ہیں اور ایک میم ہے لیکن تکریم اس میں تو صرف ایک را ہے دوسری را موجود نہیں۔ معلوم ہوا فعل کے تمام حروف مصدر کے اندر موجود نہیں۔ تو جواب دیں گے کہ یہ جو باب تفعیل کا مصدر ہے اس کے اندر بھی دراصل وہ حرف مکرر موجود تھا جو ماضی کے اندر موجود ہے۔ کرّم میں کتنی را ہیں؟ دو تو تکریم کے اندر بھی دو را موجود تھیں۔ اور تکریم اصل میں کیا تھا؟ تکریرم۔ کیا تھا؟ تکریرم تھا۔ اور پھر دوسری را کو یا سے بدل دیا گیا تو کیا بن گیا؟ تکریم۔ اسی طرح تحمید مصدر جو ہے اصل میں کیا تھا؟ تحمیمد۔ تحمیمد۔ اور پھر دوسرے میم کو کس سے بدل دیا گیا؟ یا سے۔ اور کہتے ہیں تو ہم نے دوسرے حرف کو کیا کیا؟ یا سے بدل دیا اور مضاعف کے اندر ایسا ہوتا رہتا ہے کہ دو ہم جنس حروف میں سے دوسرے کو حرف علت سے بدل دیا جاتا ہے ثقل کو ختم کرنے کے لیے۔ کس کو ختم کرنے کے لیے؟ ثقل کو۔ تو یہ کرّم یہ مضاعف تو نہیں کیونکہ ایک را اصلی ہے اور ایک را زائد ہے لیکن مضاعف جیسی صورت تو ہے مضاعف میں کیا ہوتا ہے؟ دو حرف ایک جنس کے ہوتے ہیں تو کرّم میں بھی کیا ہے؟ دو را ہیں ایک جنس والی ہیں تو مضاعف تو نہیں لیکن مضاعف جیسی صورت ہے اور مضاعف میں عرب کیا کرتے ہیں؟ جب دو حرف ایک جنس کے ہوں تو اکثر وہ ایسا کرتے ہیں دوسرے حرف کو حرف علت سے بدل دیتے ہیں ثقل کو دور کرنے کے لیے۔ جیسے قرآن میں آتا ہے دساھا۔ اور وہاں پر آپ تفاسیر اٹھاکر دیکھیں تو مفسرین حضرات آپ کو بتائیں گے کہ یہ دسا اصل میں تھا دسسا سا۔ دسا اصل میں کیا تھا؟ دسسا سا۔ تو یہ جو آخر میں سین تھا اس کو پھر الف سے بدل دیا تو کیا بن گیا؟ دسا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ اور کبھی کبھار کہ کبھی کبھار پہلے کو بھی بدل دیا کرتے ہیں بھئی۔ مضاعف کے اندر کبھی کبھار دو جو مکرر حرف آرہے ہیں ان میں سے پہلے کو بھی ماقبل کے موافق حرف علت سے بدل دیتے ہیں۔ جیسے دینار دینار یہ اصل میں کیا تھا؟ دینار دو نون تھے پھر ایک نون کو یا سے بدلا تو کیا بن گیا؟ دینار۔ بھئی کیسے پتہ چلا یہاں دو نون تھے؟ کہتے ہیں اس کی جمع تکثیر دیکھ لو۔ دینار کی جمع تکثیر ہے دنائیر۔ دیکھو دنائیر میں کتنے نون ہیں؟ دو اور دینار میں ایک معلوم ہوا یہاں ایک اور نون بھی تھا جو کس سے بدل چکا ہے؟ یا سے بھئی۔ تو مضاعف میں ایسا ہوتا رہتا ہے تو لہذا باب تفعیل کے اندر جو یا آتی ہے دراصل یہ وہی حرف مکرر ہے جس کو یا سے بدل دیا جیسا کس میں کرتے ہیں؟ مضاعف میں کرتے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی۔ کہتے ہیں وہ در مصدر تفعیل کہ حرف مکرر ماضی یافتہ نہمی شود۔ کہتے ہیں مصدر تفعیل میں جس میں ماضی کا حرف مکرر پایا نہیں جاتا۔ محققان گفتند محققین نے کہا ہے بھئی۔ یعنی علماء محققین نے کہا ہے کہ اصل یائے تفعیل آن حرف مکرر بود۔ کہ اصل یائے تفعیل آن کہ اس کی یائے تفعیل کی جو اصل ہے حرف مکرر بود وہ حرف مکرر تھی۔ اس یا کی اصل کیا تھی؟ وہی حرف مکرر تھی۔ مثلاً تحمید در اصل تحمیمد بود۔ مثال کے طور پر تحمید اصل میں تحمیمد تھا۔ میم دوم را بيا بدل کردوند۔ دوسرے میم کو یا سے بدل دیا۔ اکثر در مضاعف حرف دوم را برای دفع ثقل بحرف علت بدل می کنند۔ اکثر مضاعف میں دوسرے حرف کو برای دفع ثقل، ثقل کو دور کرنے کے لیے بحرف علت بدل می کنند، حرف علت سے بدل دیتے ہیں۔ چنانچہ در دساھا جیسے کہ دساھا میں کہ اصلش دسسا سا بود کہ اس کی اصل جو ہے وہ دسسا سا تھی۔ سین آخر را با الف بدل کردوند۔ آخر کے سین کو الف سے بدل دیا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ سوال ای کہ گفتی تبصرہ و تسمیہ۔ جی اعتراضات چلتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کیا کہا تھا کہ ماضی کے تمام حروف تو مصدر میں پائے جاتے ہیں لیکن مصدر کے تمام حروف ماضی میں نہیں پائے جاتے۔ لہذا ماضی میں اصل بننے کی صلاحیت ہے مصدر میں اصل بننے کی صلاحیت نہیں۔ تو پھر ایک اشکال یہ ہوا کہ شوشنہ کا واو تو شیشان میں نہیں۔ ادہامہ کا الف تو ادھیمام میں نہیں۔ تو اس کا جواب دے دیا۔ پھر دوسرا اعتراض کیا کہ کرّمہ کی دوسری را تو تکریم میں موجود نہیں۔ حمّده کی دوسری میم تو تحمید میں موجود نہیں۔ تو اس کا بھی جواب دے دیا کہ نہیں موجود ہے لیکن کس سے بدل گئی ہے؟ یا سے بدل گئی ہے۔ اب ایک اور اعتراض کرنے لگے۔ اعتراض یہ دیکھئے بھئی۔ سوال ای کہ گفتی یہ جو تو نے کہا تبصرہ و تسمیہ و سلام و کلام مصادر تفعیل۔ یہ مستر، یہ تفعیل کے مصادر ہیں۔ باب تفعیل کے مصادر آپ نے پڑھا ہے کہ ناقص، لفيف اور محموز اللام سے باب تفعیل کا مصدر کیا آتا ہے؟ تفعیلۃ۔ اور اسی طرح سلام اور کلام یہ بھی کیا ہیں؟ باب تفعیل کے مصادر ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ای کہ گفتی یہ جو آپ نے کہا تبصرہ و تسمیہ و سلام و کلام مصادر تفعیل۔ تو یہ تبصرہ تسمیہ سلام کلام یہ سارے کیا ہیں؟ باب تفعیل کے مصادر۔ اور آگے آرہا ہے و قتال و قیتال مصادر مفاعلہ۔ یہ قتال اور قیتال یہ باب مفاعلہ کے مصادر ہیں۔ قاتل یقاتل مقاتلۃ و قتالا۔ تو مقاتلہ جیسے مصدر ہے باب مفاعلہ کا۔ اسی طرح قتال بھی آتا ہے فعال بھی آتا ہے اور فعال بھی آتا ہے۔ تو کہتے ہیں آپ کی آپ نے کیا کہا؟ ماضی کے تمام حروف مصدر میں موجود ہوتے ہیں۔ لیکن تفعیلۃ سلام کلام جو باب تفعیل کے مصادر ہیں اور قتال اور قیتال جو باب مفاعلہ کے مصادر ہیں۔ یہاں آکر آپ کی بات ٹوٹ جاتی ہے۔ آپ کی یہ بات ٹوٹ۔ آپ نے کیا بات کی تھی کہ فعل کے تمام حروف کس میں پائے جاتے ہیں؟ مصدر میں۔ لیکن ان کے ذریعے آپ کی بات ٹوٹ جاتی ہے۔ یعنی ان میں تو سارے فعل والے حروف موجود نہیں ہیں۔ تو نقض، نقض کا معنی ہے توڑنا، توڑنا۔ اور اعتراض کو بھی کیا کہتے ہیں؟ نقض کہتے ہیں۔ تو آپ کی بات ٹوٹ جاتی ہے یعنی آپ اس پر بات پر اعتراض ہوتا ہے۔ چہ در این مصادر جملہ حروف ماضی موجود نیست۔ کیونکہ ان مصادر میں ماضی کے تمام حروف موجود نہیں ہیں۔ بھئی ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے۔ آگے جواب دیں گے۔ جواب۔ کہتے ہیں گفتگو در اصل مصادر است۔ کہتے ہیں ہماری بحث جو ہے وہ اصل مصادر میں ہے۔ کہ کلیتاً در باب باشد جو کلی طور پر باب میں ہوں۔ کس میں ہوں؟ کلی طور پر۔ کہتے ہیں یہ جو مصادر ہیں نا یہ قلیل الوجود ہیں۔ یہ مصادر کیا ہیں؟ قلیل الوجود۔ قلیل الوجود تھوڑے بہت چند ایک مصادر ہیں جو الگ آئے ہیں۔ باقی عام مصادر جو ہیں ان کے بارے میں ہماری بات چل رہی ہے۔ عام مصادر میں آپ جب بھی دیکھیں گے ماضی کے تمام حروف ضرور ملیں گے۔ آپ نے کیا کہا۔ تبصرہ، تسمیہ، سلام اور کلام کو ذکر کیا۔ بھئی یہ تو کم استعمال ہونے والے مصادر ہیں۔ باب تفعیل کے۔ باب تفعیل کا اصل مصدر تو تفعیل وزن پر آتا ہے اور اس میں ہم نے ابھی بتا دیا کہ یہ جو یا ہے وہ حرف مکرر سے بدل کر آئی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو یہ قلیل الوجود مصادر کا اعتبار نہیں کریں گے بلکہ کثیر الوجود مصادر جو ہیں ان کا اعتبار کرنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اسی طرح آپ نے کیا کہا۔ باب مفاعلہ کے اندر قتال اور قیتال۔ ان کے اندر ماضی کے تمام حروف نہیں۔ کہتے ہیں بھئی باب مفاعلہ کا اصل جو عام مصدر ہے وہ مفاعلہ آتا ہے۔ یہ قتال اور قیتال یہ تو قلیل الوجود مصادر ہیں۔ ان کا اعتبار نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں گفتگو در اصل مصادر است کہ کلیتاً در باب باشد۔ کہتے ہیں گفتگو بحث جو ہے اصل مصادر میں ہے کہ جو کلی طور پر باب میں ہوں۔ مصادر قلیل الوجود اعتبار را نہ شاید۔ وہ مصادر جو قلیل الوجود ہیں اعتبار را نہ شاید۔ وہ اعتبار کے لائق نہیں۔ شایدا کا معنی ہوتا ہے لائق ہونا۔ اعتبار را نہ شاید۔ وہ اعتبار کے لائق نہیں۔ ان کا اعتبار نہیں کریں گے۔ و سلام و کلام۔ باقی سلام اور کلام کو بھی آپ نے اعتراض میں ذکر کر دیا۔ کہتے ہیں سلام اور کلام کے بارے میں تو علماء نے لکھا ہے یہ مصدر ہیں ہی نہیں۔ یہ اسم مصدر ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ اسم مصدر ہیں۔ اسم مصدر ہیں۔ ہماری بحث مصادر کے بارے میں چل رہی ہے۔ اسم مصدر کے بارے میں تو بحث ہی نہیں ہے۔ ان کو لے کر تو آپ اعتراض کر ہی نہیں سکتے کیونکہ یہ تو مصادر ہیں ہی نہیں۔ یہ تو کیا ہیں؟ اسم مصدر۔ اسم مصدر کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھو اسم مصدر وہ ہے جو مصدر تو نہیں۔ لیکن معنا مصدر والا ادا کر رہا ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اسم مصدر کہتے ہیں۔ کہتے ہیں و سلام و کلام را اسم مصدر گفتان۔ اور سلام اور کلام کو اسم مصدر جو ہے وہ کہا ہے یعنی صرفیوں نے اس کو اسم مصدر کہا ہے۔ و اصل وزن تفعیلۃ۔ اچھا پھر آپ نے کیا کہا۔ تفعیلۃ وزن لے کر اعتراض کیا۔ تبصرۃ، تسمیۃ۔ بات سمجھ میں آرہی ہے۔ تو ایک تو جواب دے دیا کہ ہماری بات ان مصادر میں ہے جو کلی طور پر ابواب میں آتے ہیں جو قلیل الوجود مصادر ہیں ان کا اعتبار نہیں۔ اور باقی مزید بھی جواب دے رہے ہیں کہ بھئی سلام کلام یہ تو ان کو علماء نے کیا کہا ہے مصدر نہیں ہے بلکہ اسم مصدر۔ لہذا ان کو لے کر بھی آپ اعتراض نہیں کر سکتے۔ اور باقی آپ نے تسمیۃ یعنی تفعیلۃ وزن لے کر اعتراض کیا۔ تو کہتے ہیں تسمیۃ جو تفعیلۃ وزن ہے اس کے بارے میں بھی صرفیوں نے لکھا ہے کہ تفعیلۃ اصل میں تفعیل تھا وہی تفعیل باب تفعیل کا جو مصدر یہ اصل میں کیا تھا؟ تفعیل تھا۔ پھر یا کو حذف کر دیا۔ اور اس کے عوض آخر میں تا لے آئے گول تا تو کیا بن گیا؟ تفعیلۃ۔ تو یہ دیکھو سارے حروف موجود ہیں یا نہیں۔ اسی تفعیل ہی سے تو یہ بنا ہے بھئی اور تفعیل کے اندر یہ یا کس سے بدل کر آئی تھی اسی حرف مکرر سے بھئی۔ کہتے ہیں و اصل وزن تفعیلۃ، تفعیل بر آوردند۔ اور تفعیلۃ وزن کی اصل جو ہے تفعیل بر آوردند۔ وہ تفعیل نکالی ہے۔ یعنی علماء صرف نے تفعیلۃ کی اصل تفعیل نکالی ہے۔ و گفتہ اور فرمایا ہے کہ تسمیۃ مثلاً در اصل تسمیو بود۔ کہ تسمیۃ مثال کے طور پر اصل میں تسمیو تھا بر وزن تفعیل، تسمیو تھا یارحذف کردہ۔ یا کو حذف کر کے تا در آخر عوض دادن۔ تا جو ہے وہ آخر میں بطور عوض کے دے دی۔ اچھا یا کو گرا دو اور۔ تسمیہ لے آؤ۔ کیا بن گیا؟ تسمیون یا کو گرا دو اور آخر میں گول تا لے آؤ۔ تسمیة واؤ ہے تسمیة پھر واؤ ما قبل کسرہ کی وجہ سے یا واؤ چوتھی جگہ پر آیا اس لیے وہ کس سے بدل گیا؟ یا سے بدل گیا تو کیا بن گیا تسمیة تو کہتے ہیں واؤ واؤ بسبب رباعیت یا شدہ اور واؤ چوتھی جگہ پر ہونے کی وجہ سے یا ہو گیا تو واؤ چوتھی جگہ پر آیا کس سے بدل گیا؟ یا سے۔ ودرقی تال اچھا اور اعتراض میں آپ نے کیا ذکر کیا تھا؟ کہ قیتال جو ہے اس میں قاتلہ کے سارے حروف موجود نہیں۔ کہتے ہیں نہیں بھئی موجود ہیں۔ قیتال یہ جو یا ہے دراصل الف تھی۔ کیا تھی؟ الف لیکن قاف کے نیچے چونکہ کسرہ تھا اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ الف سے ما قبل کسرہ آجائے تو اس کو یا سے بدلتے ہیں تو یہ الف یا سے بدل گیا تو کیا بن گیا؟ قیتال۔ توجہ ہے قاتلہ ماضی اعتراض کیا تھا؟ کہ قیتال مصدر میں قاتلہ کے سارے حروف موجود نہیں۔ قاتلہ میں الف ہے قیتال میں الف نہیں قاف کے بعد بھئی۔ تو بتلایا کہ الف قیتال میں بھی تھا لیکن قاف کے کسرہ کی وجہ سے وہ الف کس سے بدل گیا؟ یا سے تو کیا بن گیا قیتال تو قیتال میں ماضی کے سارے حروف موجود ہیں۔ اور اسی قیتال میں تخفیف کی اور یا کو گرا دیا تو کیا بن گیا؟ قتال تو گویا حاصل کلام یہ کہ ماضی کے حروف ہمیشہ ہر مصدر میں موجود ہوتے ہیں۔ ہاں اعلال وغیرہ کی وجہ سے بدل جائیں یہ گر جائیں تو الگ بات ہے لیکن موجود ضرور ہوتے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں ودرقی تال الف کے درماضی بودا قیتال میں وہ الف جو کہ ماضی میں تھا بسبب کسرہ ما قبل یا شدہ وہ ما قبل کے کسرہ کی وجہ سے یا ہو یا ہوگیا۔ وقیتال مخفف آنست اور قیتال اسی کا مخفف ہے یعنی اسی قیتال میں کیا کر دی؟ تخفیف کر دی بھئی اس کو زبان پر ہلکا کرنے کے لیے یا کو گرا دیا۔ پس در جملہ مصادر ہما حروف فعل ماضی ولو تقدیر موجودست۔ حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ پس در جملہ مصادر تمام مصادر میں ہما حروف فعل ماضی فعل ماضی کے تمام حروف جو ہیں ولو تقدیر اگرچہ تقدیر ہی ہوں موجودست موجود ہیں۔ تمام مصادر میں ماضی کے تمام حروف موجود ہیں اگرچہ تقدیر ہی ہوں۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اخشوشنہ کا وہ اخشیشان میں موجود ہے اگرچہ بدل گیا۔ کرمہ کی را تکریم میں موجود ہے اگرچہ بدل گئی۔ اور اسی طرح سمی کا میم تسمیہ میں موجود ہے۔ کیونکہ تسمیہ اصل میں کیا تھا؟ تسمیون میم کس سے بدلا ہے؟ یا سے بدلا اور پھر اسی تسمیون سے کیا بن گیا؟ تسمیة بن گیا۔ تو اگرچہ اس وقت تو موجود نہیں لیکن اصل میں تھا یہ یوں کہو اس وقت بھی تقدیر موجود ہے۔ صرف اعلال کی وجہ سے صیغے کی صورت بدل گئی ہے۔ اسی طرح قاتلہ کا الف بھی قیتال میں موجود ہے اور قیتال میں بھی موجود ہے کیونکہ وہاں سے بھی تخفیف کے لیے حذف کیا ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔ یہ معنی ہے پس در جملہ مصادر ہما حروف فعل ماضی ولو تقدیر موجودست۔ پس تمام مصادر میں فعل ماضی کے تمام حروف موجود ہیں اگرچہ تقدیر ہوں۔ یہ پہلی دلیل مکمل ہوئی بھئی۔ اب آگے آگئی دوسری دلیل دوم آنکہ پہلی دلیل کیا تھی؟ کہ اشتقاق چونکہ لفظی معاملہ ہے لہٰذا اس کا فیصلہ بھی لفظوں سے کیا جائے گا اور دیکھیں گے کس کے لفظ میں مادہ اور اصل بننے کی صلاحیت ہے۔ تو ہم نے دیکھا ماضی کے اندر مادہ بننے کی صلاحیت ہے اس لیے کہ ماضی کے جتنے حروف ہیں وہ ہمیشہ مصدر کے اندر ہوتے ہیں لیکن مصدر کے سارے حروف ہمیشہ ماضی میں نہیں ہوتے۔ اب اگلی دلیل آئی دیکھیے بھئی دوم آنکہ فعل بے مصدر یافتہ می‌شود۔ اچھا دوسری دلیل سن لو بھئی سمجھ لو۔ دلیل یہ کہ لیس اور عسی کہتے ہیں افعال موجود ہیں لیکن ان کے مصادر عربی زبان میں نہیں ملتے بھئی۔ لیس کس میں سے ہے؟ افعال ناقصہ میں سے اور عسی جو ہے افعال مقاربہ میں سے ہے۔ لیس کا بھی مصدر ہم نے عربوں سے نہیں سنا اور عسی کا بھی مصدر ہم نے عربوں سے نہیں۔ توجہ ہے لیس بھی فعل اور عسی بھی فعل لیکن ان کے مصدر موجود نہیں۔ ان کے مصدر موجود نہیں۔ اور اے بصرہ والو اگر ہم آپ کی بات مان لیں کہ مصدر اصل ہے اور فعل اس کی فرع تو یہاں فرع تو موجود ہے اور اصل موجود نہیں۔ یہ تو ایسے ہی ہو گیا جیسے بغیر جڑوں کے ہی شاخیں نکل آئیں بھئی اور بغیر جڑوں کے شاخیں ہو سکتی ہیں یا بغیر جڑوں کے تنا ہو سکتا ہے؟ نہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ جڑیں ہوں گی تو تنا بنے گا اور پھر شاخیں نکلیں گی بھئی۔ تو لہٰذا دوسری دلیل چل رہی ہے دوسری دلیل کیا کہ لیس اور عسی ایسے فعل ہمیں ملتے ہیں جن کے فعل تو موجود ہیں لیکن مصدر موجود نہیں۔ تو اگر فعل کو اصل قرار دیں اور مصدر کو اس کی فرع قرار دیں پھر تو بات ٹھیک بن جاتی ہے کہ یہ فعل ہے اصل ہے اصل موجود ہے فرع موجود نہیں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر آپ مصدر کو اصل قرار دیتے ہیں اور فعل کو فرع قرار دیتے ہیں جیسے بصرہ والے کرتے ہیں تو پھر تو یہاں پر تو فرع بغیر اصل کے پائی گئی اور فرع تو کبھی بھی بغیر اصل کے نہیں ہو سکتی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ کہتے ہیں دوم آنکہ دوسری دلیل یہ کہ فعل بے مصدر یافتہ می‌شود فعل جو ہے بغیر مصدر کے پایا جاتا ہے مثلاً لیس و عسی جیسے لیس اور عسی۔ پس اگر مصدر اصل باشد پس اگر مصدر اصل ہو وجود فرع بے وجود اصل لازم آید تو فرع کا وجود بغیر اصل کے وجود کے لازم آئے گا بھئی اور یہ درست نہیں۔ مصدر بے فعل نہ آمدہ جبکہ مصدر بغیر فعل کے نہیں آیا۔ وبعض مصادر را اچھا آگے اب ایک اعتراض ذکر کر رہے ہیں۔ ایک اعتراض جو طلبہ کے ذہن میں آ سکتا ہے۔ آپ نے ہمیں کیا کہا کہ فعل کو اصل قرار دینا چاہیے مصدر کو اصل قرار نہ دو۔ کیونکہ بعض افعال ایسے ہمیں ملتے ہیں جن کا مصدر نہیں ملتا۔ تو اگر مصدر کو اصل قرار دے دیں تو پھر خرابی لازم آئے گی کہ فرع بغیر اصل کے پائی گئی۔ حالانکہ فرع تو بغیر اصل کے نہیں پائی جاتی۔ تو فعل کو اصل مان لو تو فعل اصل ہے وہ بغیر فرع کے بھی آ جائے تو کوئی حرج نہیں۔ جبکہ مصدر تو بغیر فعل کے کلام عرب میں نہیں آیا۔ اس پر بعضوں نے کہا ہم آپ کو بعض مصادر دکھاتے ہیں کہ وہ بغیر فعل کے آئے ہیں۔ بغیر فعل کے ہیں۔ جیسے متن اور تقسیم۔ متن ہر سخت چیز کو کہتے ہیں اور تقسیم کا معنی تقسیم کرنا تو متن من تا اور نون متن اور تقسیم یہ دو مصادر ایسے ہیں کہ جن کا فعل نہیں آیا اس میں فاعل وغیرہ تو آئے ہیں لیکن فعل نہیں آیا۔ تو جواب دیں گے کہ ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم نہیں ہے۔ متن کا آپ نے کہا فعل نہیں آیا اور تقسیم کا فعل نہیں آیا ہم نے لغت اٹھائی تو لغت کے اندر ان کا فعل موجود ہے۔ معلوم ہوا جو کہ بعضوں نے یہ لکھا کہ ان کا فعل نہیں آیا ان کی یہ بات صحیح نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے لغت میں متن اور تقسیم کا فعل موجود ہے لغت سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب ان کا فعل استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا آپ کا یہ کہنا کہ ان کا فعل نہیں آیا درست نہیں۔ آپ کا اعتراض درست نہیں۔ تو کہتے ہیں وبعض مصادر را کہ عقیما گفتند بعض مصادر کے جن کو عقیمہ کہا ہے۔ عقیمہ۔ عقیمہ کہتے ہیں بھئی بانجھ عورت۔ عقیمہ کسے کہتے ہیں؟ بانجھ عورت۔ بانجھ عورت وہ عورت کہ کسی بیماری مرض وغیرہ کی وجہ سے اب وہ بچے پیدا کرنے کے قابل نہ رہے تو اس کو کہتے ہیں عقیمہ کہ یہ بانجھ ہے بچوں کو جنم نہیں دے سکتی۔ یعنی اس میں صلاحیت ہی پھر نہیں رہتی بچے بچوں کو جنم دینے کی تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عقیمہ۔ تو یہ مصدر کہتے ہیں بعض مصادر کو عقیمہ کہا گیا ہے یعنی یہ مصادر بانجھ ہیں۔ جیسے عورت وہ عورت جس کی اولاد نہ ہو سکے اس کو کیا کہتے ہیں؟ بانجھ۔ اسی طرح یہ مصادر بھی عقیمہ ہیں کہ ان سے آگے کوئی فعل وغیرہ نہیں آیا جیسے متن اور تقسیم۔ کہتے ہیں نہیں بھئی یہ بات آپ کی مسلم نہیں تسلیم شدہ نہیں ہے لغت میں ان کے افعال موجود ہیں۔ تو ان کو عقیمہ کہنا صحیح نہیں۔ تو کہتے ہیں وبعض مصادر را کہ عقیما گفتند کہتے ہیں بعض مصادر کے جن کو عقیمہ کہا ہے صرفیوں نے مثل متن و تقسیم جیسے متن اور تقسیم کہ ازیں ہر دو کہ ان دونوں سے جز فعل نہ آمدہ اس میں فعل کے علاوہ اور صیغے نہیں آئے۔ پس بودن اینہا ان چونی مسلم نیست پس ان کا ہونا پس بودن اینہا پس ان کا ہونا ان چونی اس طرح اس طرح ہونا کہ ان سے فعل نہیں آیا مسلم نیست یہ مسلم نہیں یہ تسلیم شدہ نہیں ہے یہ ثابت نہیں ہے۔ چنانچہ از قاموس واضح می‌شود۔ چنانچہ لغت کی کتاب قاموس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے۔ لغت کی کتاب قاموس میں ان کے فعل مذکور ہیں باقاعدہ۔ معلوم ہوا ان کو عقیمہ کہنا صحیح نہیں۔ یہ دوسری دلیل بھئی۔ دوسری دلیل کا حاصل کیا ہوا؟ کہ فعل کو اصل کہو مصدر کو اصل نہ کہو۔ اگر آپ مصدر کو اصل کہیں گے تو لیس اور عسی میں کیا جواب دیں گے؟ ان کا تو مصدر ہی نہیں ہے تو بغیر مصدر کے فعل کیسے پایا گیا؟ بغیر اصل کے فرع کیسے پائی گئی؟ اس کا حاصل یہ ہوا کہ آپ نے کہا مصدر کو اصل قرار دو جبکہ ہم کیا کہتے ہیں؟ فعل کو اصل قرار دے دو۔ فعل کو اصل۔ اور دلیل اس کی یہ ہے اور کہ اصل کا وجود تو بغیر فرع کے ہو سکتا ہے لیکن فرع کا وجود بغیر اصل کے نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ایسے افعال تو آپ کو ملیں گے جن کا مصدر موجود نہیں۔ لیکن ایسے مصدر نہیں ملیں گے آپ کو جن کا فعل موجود نہ ہو۔ معلوم ہوا فعل اصل ہے وہ بغیر مصدر کے بھی پایا جا رہا ہے کیونکہ وہ اصل ہے اگر وہ فرع ہوتا تو بغیر مصدر کے کبھی بھی نہ پایا جاتا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ اب آگے آگئی تیسری دلیل۔ سوم ان کے تیسری دلیل یہ ہے کہ بصریان بودن معنا مصدری را مادہ برای معانی افعال ومشتقات دلیل پر اشتقاق لفظ فعل از لفظ مصدر قرار دادند۔ یہ معنی بعد تعامل در حقیقت اشتقاق لفظی محض باطل میں گردد۔ اچھا یہ تیسری دلیل آگئی بھئی۔ یاد رکھیے یہ تیسری دلیل بھی ہے کوفہ والوں کی اور یہ جواب بھی ہے بصرہ والوں کو۔ بصرہ والوں نے کیا دلیل ذکر کی تھی کہ مصدر اصل ہے کیوں؟ کیونکہ مصدر کا معنی باقی سب کے معنی کے لیے اصل ہے۔ تو اب اس کا جواب دینے لگے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی دیکھیے بات ہماری چل رہی ہے اشتقاق کے بارے میں۔ اور اشتقاق کے بارے میں آپ ذرا غور کریں کہ اشتقاق کہتے کسے ہیں؟ اس کا تعلق لفظ سے زیادہ ہے یا معنی سے زیادہ ہے؟ تو ہم نے غور کیا تو دیکھا اشتقاق تو ایک لفظی چیز ہے ایک لفظ سے دوسرا لفظ بن رہا ہے بھئی۔ معنی بھی بدل رہا ہے لیکن اصل کیا ہے؟ لفظ لفظ سے بن رہا ہے بھئی۔ تو اشتقاق ایک لفظی چیز ہے اس کا تعلق لفظ سے ہے اور آپ مصدر کو اصل قرار دینے کے لیے دلیل میں کس کو پیش کر رہے ہیں؟ معنی کو اور یہ بات کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔ لفظی چیز کے لیے لفظی معاملے کے لیے لفظ کو دلیل بنانا چاہیے نہ کہ معنی کو بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے بھئی۔ تو یہ تیسری دلیل بھی ہے اور بصرہ والوں کو جواب بھی ہے۔ دیکھیے سوم ان کے تیسری دلیل یہ ہے کہ بصریان بودن معنا مصدری را مادہ برای معانی افعال ومشتقات۔ بصرہ والے جو ہیں بودن معنا مصدری را مادہ۔ معنی مصدری کا مادہ ہونا معنی مصدری کا مادہ ہونا توجہ ہے۔ بودن معنا مصدری را مادہ۔ معنی مصدری کا مادہ ہونا برائے معانی افعال ومشتقات افعال و مشتقات کے معانی کے لیے۔ دلیل پر اشتقاق لفظ فعل از لفظ مصدر لفظ مصدر سے لفظ فعل کے اشتقاق پر دلیل قرار دادند انہوں نے قرار دی ہے۔ انہوں نے قرار دی ہے۔ دلیل پر اشتقاق لفظ فعل از لفظ مصدر ترجمہ آخر سے ہوگا لفظ مصدر سے لفظ فعل کے اشتقاق پر دلیل قرار دادند انہوں نے قرار دی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ پھر اب با محاورہ پورا ترجمہ سنو۔ بصریان بودن معنا مصدری را مادہ برای معانی افعال ومشتقات دلیل پر اشتقاق لفظ فعل از لفظ مصدر قرار دادند۔ ترجمہ ہوگا معانی افعال و مشتقات سے۔ اس کو ہم شروع میں لے آئیں گے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ معانی افعال و مشتقات کو کہاں لے آئیں گے؟ شروع میں۔ کہتے ہیں کہ بصرہ والوں نے معانی افعال و مشتقات کے لیے معنی مصدری کے مادہ ہونے کو معانی افعال و مشتقات کے لیے معنی مصدری کے مادہ بنے کو دلیل بنایا ہے توجہ ہے دلیل قرار داد اندھ دلیل قرار دیا ہے دلیل بنایا ہے کس چیز کو؟ افعال و مشتقات کے معنی کے لیے پھر ادھر سمجھو سمجھ لو اس کو ایک ہے افعال و مشتقات کا معنی ایک ہے مصدر کا معنی انہوں نے کیا کہا؟ مصدر کا معنی وہ اصل ہے اور مادہ ہے کس کے لیے؟ تمام افعال و مشتقات کے معنی کے لیے اور اس بات کو دلیل بنایا اس بات پر کہ لفظ فعل لفظ مصدر سے مشتق ہے اختلاف کس میں تھا؟ اشتقاق میں ہے بصرہ والے کیا کہتے ہیں؟ کہ فعل مصدر سے مشتق ہے اور اس کے لیے دلیل کس چیز کو بنایا؟ معنی مصدر کو کہ معنی مصدر وہ تمام افعال اور تمام مشتقات کے معنی کے لیے اصل ہے وہ کہتے ہیں کہ چونکہ معنی مصدر مصدر کا جو معنی ہے وہ تمام مشتقات کے معنی کے لیے اصل ہے اور مادہ ہے کون مادہ ہے؟ مصدر کا معنی کس کے معنی کے لیے؟ تمام مشتق تمام مشتقات کے معنی کے لیے مصدر کا معنی اصل ہے اور مادہ ہے جب مصدر کا معنی اصل ہے تو مصدر کا لفظ بھی اس کو بھی کیا مان لو؟ اصل مان لو جب مصدر کے معنی کو اصل مان رہے ہو تو مصدر کے لفظ کو بھی کیا مان لو؟ اصل مان لو بات سمجھ میں اگئی یہی بات اب بیان کر رہے ہیں دیکھیے ترجمہ بصريان بودن معنی مصدری را مادہ برای معنی افعال و مشتقات دلیل بر اشتقاق لفظ فعل از لفظ مصدر قرار دادند پہلے ترجمہ یہاں سے دیکھ لو دلیل دلیل قرار داد اندھ دلیل قرار دی ہے بصرہ والوں نے لفظوں پہ نظر رکھنا کتاب پہ بصریان بصرہ والوں نے دلیل اگے لفظ ا رہا ہے دلیل دلیل قرار داد اندھ دلیل قرار دی ہے بصرہ والوں نے دلیل قرار دی ہے کس چیز پر؟ بر اشتقاق لفظ فعل از لفظ مصدر کہ لفظ مصدر سے لفظ فعل کا اشتقاق ہے کہ لفظ مصدر سے لفظ فعل فعل کا اشتقاق ہے بصرہ والوں نے اس پر دلیل قرار دیا ہے کس چیز کو؟ وہ درمیان میں ذکر کر دیا بودن معنی مصدری را مادہ برای معنی افعال و مشتقات افعال و مشتقات کے معنی کے لیے مصدر کے معنی کے مادہ ہونے کو افعال و مشتقات کے معنی کے لیے مصدر کے معنی کے مادہ ہونے کو مشتقات اور افعال کے جو معنی ہیں ان کے لیے مصدر کا معنی اصل ہے اور مادہ ہے توجہ ہے مشتقات اور افعال جو ہیں ان کے معنی کے لیے مصدر کا معنی اصل ہے اور مادہ ہے زبان سے دہراؤ مشتقات اور افعال کے معنی کے لیے معنی کے لیے مصدر کے معنی کے مادہ اور اصل ہونا مصدر کے معنی کا مصدر کا معنی مادہ اور اصل ہے کس کے لیے؟ مشتقات اور افعال کے معنی کے لیے مصدر کا معنی اصل اور مادہ ہے کس کے لیے؟ مشتقات اور افعال کے معنی کے لیے تو مشتقات اور افعال کے معنی کے لیے مصدر کے معنی کے اصل اور مادہ ہونے کو ان بصرہ والوں نے دلیل بنایا ہے کس چیز پر؟ کہ فعل مشتق ہے کس سے؟ مصدر سے بات سمجھ میں اگئی پھر سن لو بصرہ والوں نے تمام مشتقات اور افعال کے معنی کے لیے مصدر کے معنی کے مادہ اور اصل ہونے کو دلیل بنایا ہے کس چیز پر؟ کہ فعل مشتق ہے کس سے؟ مصدر سے اچھا دعوی ان کا کیا ہے؟ کہ فعل مشتق ہے کس سے؟ مصدر اور دلیل کس چیز کو بنایا؟ معنی کو دلیل بنایا کہ مصدر کا معنی چونکہ مادہ ہے اور اصل ہے تمام باقی مشتقات کے معنی کے لیے تو جب معنی کے لیے اصل اور مادہ ہے تو لفظ کے لیے بھی کیا ہوگا؟ مادہ ہوگا اسی سے فعل بنا ہے بات سمجھ میں اگئی اب دیکھ لیجیے ترجمہ بھئی سوم اینکه تیسری دلیل یہ ہے کہ بصريان بودن معنی مصدری را مادہ برای معنی افعال و مشتقات کہ بصرہ والوں نے معنی مصدری کے مادہ ہونا بر افعال و مشتقات افعال و مشتقات کے معنی کے لیے دلیل بر اشتقاق لفظ فعل از لفظ مصدر قرار دادند اس کو انہوں نے مصدر سے لفظ فعل کے اشتقاق پر دلیل بنایا ہے ترجمہ سمجھ میں اگیا आगे कहते हैं ई माना बाद तअमूल दर हकीकत इश्तिकाक लफ्जी महज़ बातल में गर्दद यह वाला माना यह वाली वजह जो है माना यह माना यानी यह यह इल्लत और यह वजह यह दल माना से यहां मुराद है इल्लत और वजह या दलील यह इल्लत जो है किस चीज को इल्लत बनाया؟ बसर वालों ने क्या कहा؟ किसको असल बनाओ इश्तिकाक में बसर वालों ने क्या कहा؟ مصدر کو असल बनाओ اور فعل کو اس کی فرع بناؤ اور دلیل کیا ذکر کی؟ کیونکہ مصدر کا جو معنی ہے وہ تمام مشتقات کے لیے مادہ ہے اور اصل ہے تو یہ جو علت انہوں نے ذکر کی کہ اس وجہ سے مصدر کو इश्तिकाक में भी असल قرار دو جب ہم نے اس وجہ کے اندر غور کیا তো पता चला یہ તો بالکل غلط وجہ ذکر کی اس کی یہاں তো بات ہی نہیں بنتی ഇश्तिकाक تو ایک لفظی چیز ہے اور اپ دلیل میں معنی کو ذکر کر رہے ہیں لفظی چیز کے لیے لفظی چیز کو دلیل میں ذکر کرنا چاہیے نہ کہ معنوی چیز کو بات سمجھ میں اگئی تو کہتے ہیں ای معنی یہ جو وجہ ہے یہ جو سبب ہے بعد تامل غور و فکر کے بعد در حقیقت اشتقاق لفظی اشتقاق لفظی کی حقیقت میں ای معنی یہ جو وجہ ہے یہ جو علت ہے بعد تامل در حقیقت اشتقاق لفظی اشتقاق لفظی کی حقیقت میں غور کرنے کے بعد یہ معنی جو ہے महज़ बातल में गर्दद महज़ बातल ہو جاتا ہے महज़ باتल یعنی غلط ثابت ہو جاتا ہے کہتے ہیں حقیقت اشتقاق لفظی این است कि इश्तिकाक لفظی کی حقیقت یہ ہے بھئی دیکھو یہاں تک بات سمجھ میں اگئی بصرہ والوں کی بات کی تھوڑی اور تفصیل چونکہ اگے ذکر ا رہا ہے اس کا تو اس لیے یہیں پر سمجھ لیں بصرہ والے کہتے ہیں کہ مصدر کا معنی تمام مشتقات کے معنی کے لیے اصل ہے اور مادہ ہے یہ آپ نے بھی مان لیا کہ مصدر کا معنی اصل اور مشتقات کا معنی اس کی فرع اور معنی معنی تو بغیر لفظ کے نہیں ہو سکتا معنی تو تبھی دلا معنی تو تبھی آئے گا جب پہلے کیا آئے؟ لفظ ہی اس معنی پر دلالت کرے گا نا لفظ ہوگا تو معنی پر دلالت ہوگی تو جب آپ نے معنی کو اصل مان لیا تو لفظ کو بھی کیا کر لو؟ اصل مان لو بھئی کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے سونا چاندی اور پھر ان سے زیور بنائے جائیں سونا چاندی اور پھر اس سے زیور تو پہلے سونا چاندی موجود ہوتے ہیں پھر اس سے آگے زیور اور برتن وغیرہ بنا لیتے ہیں تو مصدر کی مثال ہے سونے اور چاندی کی طرح اور اس سے جو آگے فعل وغیرہ اور مشتقات وغیرہ بنے ان کی مثال ہے زیور اور برتن کی طرح توجہ ہے زیور اور برتن کی طرح جب زیور اور برتن آپ نے سونے سے بنا لیے تو ان میں وہ سونا موجود ہے کہ نہیں وہ موجود ہے اسی طرح مصدر سے آپ جتنے بھی مشتقات بنا لیں ان کے اندر بھی وہ مصدر والا معنی موجود ہے بھئی دلیل سمجھ میں آ رہی ہے তো اس کا آگے جواب دیں گے جواب دیں گے کہ بھئی اشتقاق کے اندر ایسا نہیں ہوتا اشتقاق کے اندر ایسا نہیں ہوتا کہ ایک لفظ پہلے ہو کہ مشتق منہ پہلے ہو اور مشتقات بعد میں ہوں نہیں نہیں ایسا نہیں ہے کہ پہلے مصدر تھا پھر اس سے ایک صیغہ بنا پھر دوسرا بنا پھر تیسرا بنا پھر چوتھا بنا نہیں نہیں مشتقات میں ایسا نہیں ہوتا اشتقاق میں دو لفظ اکٹھے موجود ہیں ضرب بھی موجود ہے ضرب بھی موجود ہے اور دونوں میں مناسبت بھی ہے ضرب کا معنی ہے مارنا اور ضرب کا معنی ہے زمانہ ماضی میں مارا دیکھا معنی میں بھی کیا ہے مناسبت موجود ہے جب لفظوں میں بھی مناسبت ہو معنی میں بھی مناسبت ہو تو پھر ہم کہہ دیتے ہیں کہ ان کے درمیان اشتقاق ہوا ہے ایک مشتق منہ ہے اور دوسرا کیا ہے؟ مشتق ہے بات سمجھ میں آ رہی ہے ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے مصدر ہوتا ہے اور پھر اسے ایک ایک لفظ بنتا چلا جاتا ہے نہیں نہیں لفظ اکٹھے ہی موجود تھے ایک ہی زمانے کے اندر تھے ہاں ہم نے ایک کو مشتق منہ قرار دے دیا اور ایک کو کیا قرار دے دیا مشتق کیوں قرار دیا؟ کیونکہ کیونکہ ان کے لفظوں میں بھی مناسبت تھی اور معنی میں بھی مناسبت تھی ضرب اور ضرب یضرب ضارب مضروب یہ سارے لفظوں میں دیکھو کیا ہے ان سب لفظوں میں مناسبت موجود ہے تو لہذا ان میں سے ایک کو ہم اصل قرار دے دیں گے اور باقیوں کو اس سے مشتق قرار دے دیں گے ایسا نہیں ہے کہ پہلے صرف ضرب تھا یا پہلے صرف ضرب تھا بعد میں اس سے یضرب بنا بعد میں اس سے ضارب بنا بعد میں اس سے مضروب بنا نہیں یہ سارے ایک ہی زمانے میں موجود تھے ہم نے صرف کیا کر لیا؟ ایک کو اصل قرار دے دیا اور باقیوں کو فرع قرار دے دیا یہ معنی نہیں جیسے پہلے جڑیں ہوتی ہیں پھر اس سے آہستہ آہستہ شاخیں نکلتی ہیں یہاں ایسا معاملہ نہیں ہے بھئی جیسے سونا اور چاندی بھئی سونا اور چاندی تو پہلے موجود ہوتے ہیں برتن اور زیور تو بعد میں بنتے ہیں تو ان کا تو زمانہ ہی الگ الگ ہے سونے چاندی پہلے موجود اس کا زمانہ پہلے ہے اور برتنوں کا زمانہ بعد میں ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہے کہ ایک لفظ پہلے تھا اور باقی لفظ بعد میں آئے ان کا زمانہ الگ الگ ہے نہیں نہیں یہ سارے ایک ہی زمانے میں موجود ہیں ہاں ہم نے ان کے درمیان اشتقاق مان لیا اس کا اعتبار کر لیا ورنہ درحقیقت یہاں ایسا نہیں ہے کہ ایک لفظ پہلے تھا پھر اس سے باقی لفظ بنتے چلے گئے لفظ سارے اکٹھے موجود تھے لیکن ہم نے جب ان میں مناسبت دیکھی لفظوں میں بھی مناسبت دیکھی معنی میں بھی مناسبت دیکھی تو ایک کو کیا قرار دے دیا مشتق منہ اور دوسرے کو کیا قرار دے دیا مشتق قرار دے دیا یہاں زمانے کا فرق نہیں ہے بات سمجھ میں آگئی یہ اسی طرح ہے جیسے دیکھو ایک ہے چابی کا گھومنا ایک ہے تالے کا کھلنا ہم کیا کہتے ہیں؟ چابی پہلے گھومتی ہے اور تالا بعد میں کھلتا ہے اسی طرح ہے؟ ہاں لیکن ایسا نہیں ہے دونوں کا زمانہ ایک ہی ہے جوں جوں چابی گھومتی جا رہی ہے تالا کھلتا جا رہا ہے جوں ہی چابی پوری گھومے گی تالا بھی پورا کھل جائے گا ساتھ ہی تو دونوں کا زمانہ ایک ہی ہے یا جیسے سورج کا نکلنا اور دن کا ہونا ہم کیا کہتے ہیں؟ سورج پہلے نکلے گا دن پھر ہوگا نہیں نہیں جوں جوں سورج نکلتا جا رہا ہے اسی زمانے کے اندر دن بھی ہوتا جا رہا ہے بھئی دیکھا زمانہ ایک ہی ہے بھئی یہ جیسے کہتے ہیں ضرب تو زیدا تاديبا میں نے زید کی پٹائی کی کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے کہ ضرب لگے گی تو ادب سیکھ جائے گا معلوم ہوا ضرب پہلے ہے ادب بعد میں سیکھے گا نہیں نہیں زمانہ ایک ہی ہے جوں جوں ضرب لگتی جا رہی ہے وہ ادب سیکھتا جا رہا ہے بھئی یہاں بھی کوئی زمانے کا فرق نہیں تو یہاں اشتقاق میں بھی اسی طرح ہے یہ نہیں کہ مشتق منہ پہلے تھا اور مشتق بعد میں بنا زمانہ الگ تھا نہیں نہیں تھے ایک ہی زمانے کے اندر लेकिन ہم نے کیا کر لیا ایک کو مشتق منہ قرار دے دیا اور دوسرے کو مشتق قرار دے دیا یعنی دونوں کا زمانہ ایک ہی ہے زمانے الگ الگ نہیں ہے اب ایک کو مشتق منہ قرار دینا ہے اور ایک کو مشتق قرار دینا ہے تو اس کے لیے پھر دلائل چاہیے بھئی بات سمجھ میں آگئی اب دیکھیے کہتے ہیں وہ حقیقت اشتقاق لفظی این است اور اشتقاق لفظی کی حقیقت یہ ہے कि दर दो लफ्ज तनासुब बाशद लफ्जों व माना कि दो लफ्ज़ों के अंदर मुनासिबत हो लफ्जों के ऐتبار سے بھی و معن و معن کے اعتبار سے بھی و ہر جا از لفظ اعتبار بنائے لفظ دیگر سہل باشد ادھر دیکھو دو لفظوں میں مناسبت ہو اب ایک کو اصل قرار دینا ہے اور ایک کو فرع تو آسانی جس طرح ہو جس کو اصل بنانے میں آسانی ہو اس کو اصل قرار دیں گے اور یہاں پر آسانی کس میں ہے کس کو اصل قرار دو؟ فعل کو اصل قرار دو کیونکہ فعل کے سارے حروف کیا ہیں تمام مصادر میں موجود ہیں اور مصادر کے تمام حروف جو ہیں تمام افعال میں موجود نہیں حاصل کیا ہوا؟ کہ اشتقاق میں کیا ہوتا ہے کہ یہ سارے لفظ ایک ہی زمانے میں موجود ہیں તો جب ان میں لفظوں میں بھی مناسبت ہو اور معنی میں بھی مناسبت ہو تو پھر ہم کہتے ہیں ان میں اشتقاق ہوا ہے اور کس کو پھر اصل قرار دیتے ہیں جس میں آسانی ہو بھئی کہ دوسرا اس سے بن سکتا ہے اس طریقے سے آسانی سے جس کو مشتق منہ قرار دینے میں کیا ہو؟ آسانی ہو تو کہتے ہیں و ہر جا از لفظ اعتبار بنائے لفظ دیگر سہل باشد اور ہر جگہ کہ جہاں پر ایک لفظ سے اعتبار بنائے لفظ دیگر بنا کا معنی ہے بنانا بنانا بنا یبنی یبنی بنائے ابنی بناء ان جی اور اس میں مفعول کیا آتا ہے؟ مبنیّ جس کو بنایا گیا ہو۔ تو کہتے ہیں وخرج از لفظ اعتبارِ بنائے لفظ دیگر سہل باشد اور جہاں پر بھی کسی لفظ سے اعتبارِ بنائے لفظِ دیگر دوسرے لفظ کی بنا کا اعتبار دوسرے لفظ کے بنانے کا اعتبار، دوسرے لفظ کے بنانے کا اعتبار سہل باشد آسان ہو تو لفظ دوم را مبنی و مشتق از لفظ اول قرار دہند تو دوسرے لفظ کو مبنی اور مشتق، مبنی بنایا گیا، دوسرے لفظ کو کہ وہ بنایا گیا ہے، اور مشتق اور مشتق ہے از لفظِ اول قرار دہند پہلے لفظ سے قرار دے دیتے ہیں۔ لفظ دوم را مبنی و مشتق از لفظِ اول قرار دہند دوسرے لفظ کو پہلے لفظ سے مبنی اور مشتق قرار دیتے ہیں بھئی معنی سمجھ میں آگیا۔ صورتِ صوغِ اوانی و حلی از ذہب و فضّہ کہ مادہ ذہب یہ وہی بات ذکر کر رہے ہیں جو میں نے ذکر کر دی کہ بصرہ والے دلیل میں کیا ذکر کرتے تھے کہ جس طرح سونے سے زیور اور برتن بنائے جاتے ہیں تو اسی طرح یہاں پر بھی مصدر سے یہ الفاظ بنے ہیں۔ کہتے ہیں نہیں بھئی سونے اور چاندی سے جو برتن بنتے ہیں اس پر آپ قیاس نہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ وہاں سونا پہلے موجود ہے اور برتن بعد میں بن رہے ہیں، زیور بعد میں بن رہے ہیں تو دونوں کا زمانہ الگ الگ ہے حالانکہ یہاں پر مشتق اور مشتق منہ کے وجود کا زمانہ ایک ہی ہے الگ الگ نہیں۔ صوغ، صوغ کا معنی ہے ڈھالنا، ڈھالنا۔ زیور بنانے والا کیا کرتا ہے؟ سونے اور چاندی کو مختلف صورتوں میں ڈھالتا ہے، مختلف شکلیں ان کی بناتا ہے اس کو ڈھالنا کہتے ہیں۔ تو صوغ کا معنی ڈھالنا۔ اوانی، اوانی جمع ہے آنیۃ کی اور آنیۃ جمع ہے اناء کی اور اناء یہ برتن کو کہتے ہیں۔ فقہ وغیرہ کی کتابوں میں آپ نے پڑھا ہوگا اناء ان کسے کہتے ہیں؟ برتن، اس کی جمع ہے آنیۃ اور آنیۃ کی جمع ہے اوانی یعنی یہ جموع الجمع ہے، جمع کی جمع ہے۔ حلیّ، حلیّ بھئی یہ جمع ہے حلیّ کی توجہ ہے؟ حلیّ جمع ہے حلیّ کی اور حلیّ کہتے ہیں زیور کو۔ زیور کو۔ ذہب کہتے ہیں سونے کو، فضّہ کہتے ہیں چاندی کو۔ अच्छा تو کہتے ہیں صورتِ صوغِ اوانی و حلیّ از ذہب و فضّہ کہتے ہیں سونے اور چاندی سے زیور اور برتن کے ڈھالنے کی صورت، ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ آخر سے کر رہا ہوں۔ صورتِ صوغِ اوانی و حلیّ از ذہب و فضّہ چاندی اور سونے سے زیور اور برتنوں کے ڈھالنے کی جو صورت ہے کہ مادہ ذہب و فضّہ علیحدہ اولاً موجود است کہ سونے اور چاندی کا جو مادہ ہے وہ علیحدہ پہلے سے موجود ہے و در آں تصرف کردہ اور اس کے اندر تصرف کر کے تبدیلی کر کے اوانی و حلیّ میں سازند برتن اور زیور بناتے ہیں ایجا نست یہاں پر ایسا نہیں ہے۔ یہاں پر ایسا مشتق کے اندر ایسا نہیں ہے۔ ایجا نست یہاں پر ایسا نہیں ہے کہ مشتق منہ علیحدہ اولاً موجود بود کہ مشتق منہ پہلے سے علیحدہ موجود تھا و در آں تصرف کردہ اور پھر اس میں تصرف کر کے مشتق را ساختہ اند مشتق کو اس سے بنایا۔ یہاں ایسا نہیں ہے کہ مشتق منہ پہلے دوبارہ ترجمے پہ نظر رکھیں ایجا نست یہاں پر ایسا نہیں ہے کہ مشتق کہ مشتق منہ پہلے علیحدہ سے موجود تھا اور پھر اس میں تصرف کر کے اسے مشتق بنا لیا ایسا نہیں ہے بلکہ یہاں دونوں کا زمانہ ایک ہے۔ کہتے ہیں تحققِ مشتق منہ و مشتق، تحقق کا معنی پایا جانا، موجود ہونا۔ تحققِ مشتق منہ و مشتق مشتق منہ اور مشتق کا ہونا کا پایا جانا بہ اعتبارِ وضع و استعمال در زمانِ واحد است مشتق منہ اور مشتق کا وجود اور ان کا پایا جانا وضع اور استعمال کے اعتبار سے در زمانِ واحد است ایک ہی زمانے میں ہے۔ وضع اور استعمال وضع کا کیا معنی؟ وضع کرنا، مقرر کرنا ایک لفظ کو ایک معنی کے لیے مقرر کرنا۔ یعنی مصدر، مصدری معنی کے لیے ضرباً لفظ کو مقرر کیا۔ فعل ماضی کے لیے ضربَ کے لفظ کو مقرر کیا اور اسی طرح فعل مضارع کے لیے یضربُ کے لفظ کو مقرر کیا اور اس میں فاعل کے لیے ضاربٌ کے لفظ کو مقرر کیا یہ ہے وضع۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ جو ہم باتیں کرتے ہیں نا یہ ہے وضع۔ جیسے، مثلاً میں بولتا ہوں گلاس، فورا ایک ذہن میں آپ کے ایک برتن آگیا کہ نہیں؟ معلوم ہوا اس برتن وہ جو پانی پینے والا برتن ہے اس کے لیے ہم نے یہ لفظ گلاس وضع کیا ہے، مقرر کیا ہے۔ اور اسی طرح میں نے کہا چائے، فورا آپ کے ذہن میں ایک پی جانے والی چیز آگئی، اس چیز کے لیے ہم نے چائے کا لفظ مقرر کیا ہے۔ اسی طرح دودھ بھئی، یہ بھی ایک پی جانے والی چیز ہے اس کے لیے ہم نے دودھ کا لفظ مقرر کیا ہے۔ اسی طرح کتاب بھئی، ایک پڑھی جانے والی چیز اس کے لیے ہم نے کیا لفظ مقرر کیا ہے؟ کتاب بھئی۔ اسی طرح کمرہ ہے اچھا، جو بھی آپ زبان کے اندر لفظ بولتے ہیں ان میں سے ہر ایک کو ہم نے کسی معنی کے لیے مقرر کیا ہے جیسے ہی وہ لفظ بولتے ہیں آپ کو فورا چیز سمجھ میں آجاتی ہے جیسے دیکھو میں اس وقت تقریر کر رہا ہوں، جو جو لفظ بولتا جا رہا ہوں آپ معنی سمجھتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ ہم نے ان معانی کے لیے یہ الفاظ مقرر کیے ہیں۔ ہاں عرب کے سامنے میں یہ اردو بولوں، اس کو سمجھ میں بات نہیں آئے گی کیونکہ اس نے ان چیزوں کے لیے یہ لفظ مقرر نہیں کیے، انہوں نے اور لفظ مقرر کیے ہوئے ہیں۔ अंग्रेज़وں نے اپنے لفظ مقرر کیے ہوئے ہیں۔ وہی چائے ہے اسی کو عرب والے اور نام لیں گے، انگریز اور نام لیں گے، اردو والے اور نام لیں گے کیونکہ ہر ایک کی وضع اپنی اپنی ہے، الگ الگ ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں تحققِ مشتق منہ و مشتق بہ اعتبارِ وضع و استعمال در زمانِ واحد است مشتق منہ اور مشتق کا پایا جانا وضع اور استعمال کے اعتبار سے ایک ہی زمانے میں ہے، یعنی ایک ہی زمانے میں ان کی وضع بھی ہے اور ایک ہی زمانے میں ان کا استعمال بھی ہے، زمانہ الگ الگ نہیں۔ پس در دلیلِ اشتقاق آگے حاصلِ کلام ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں حاصلِ کلام یہ کہ بصرہ والوں نے بصرہ والوں نے کیا کیا؟ اپنی دلیل میں یہ ذکر کیا تھا کہ جس طرح سونے چاندی سے زیور اور برتن بنائے جاتے ہیں اسی طرح اشتقاق میں بھی ایک لفظ سے باقی الفاظ بنائے جاتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہہ رہے ہیں آپ اس کو سونے چاندی سے زیور اور برتن بنانے پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، سونے چاندی اور پھر زیور اور برتن کا زمانہ الگ الگ ہے لیکن یہاں پر مشتق اور مشتق منہ کے وجود اور استعمال دونوں اعتبار سے زمانہ ایک ہی ہے۔ پس در دلیلِ اشتقاقِ فعل از مصدر پس مصدر سے فعل کے اشتقاق کی دلیل میں ک소وغِ اوانی و الحلی من الذہب والفضّۃ ذکر نمودن جیسے کہ ڈھالا جاتا ہے برتنوں اور زیورات کو سونے اور چاندی سے ذکر نمودن اس کو ذکر کرنا قیاس مع الفارق است یہ کیا ہے؟ قیاس مع الفارق ہے۔ کس چیز کی دلیل میں؟ کہ فعل مصدر سے مشتق ہے اس دلیل میں اس سونے چاندی اور زیور وغیرہ کو ذکر کرنا یہ قیاس مع الفارق ہے۔ فارق کہتے ہیں فارق کا معنی مختلف، مختلف۔ دیکھو ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کرتے ہیں، مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کرتے۔ ایک جیسی چیزوں کو مثلا شراب حرام ہے۔ شراب کیا ہے؟ حرام۔ اب آج کے زمانے میں ایک نئی چیز نکل آئی ہیروئن، یہ تو اس زمانے میں نہیں تھی، اب اس کا حکم کیا؟ تو علماء نے اس کو شراب پر قیاس کیا۔ جیسے شراب پینے سے انسان کو نشہ ہو جاتا ہے، مدہوش ہو جاتا ہے، اسی طرح ہیروئن سے بھی نشہ ہو جاتا ہے، مدہوش ہو جاتا ہے۔ تو اس کو کس پر قیاس کیا؟ شراب پر۔ اور اس جب شراب جیسی ہے، تو شراب والا ہی حکم اس کو بھی دے دیا یعنی جیسے شراب حرام ہے، ہیروئن بھی کیا ہے؟ حرام۔ تو ایک جیسی چیزوں کو اپس میں قیاس کیا جاتا ہے، مختلف چیزوں پر قیاس نہیں کیا جاتا، لہٰذا یہاں پر آپ کا مشتق اور مشتق منہ کو سونے چاندی اور ان سے بنے زیورات پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ قیاس تو آپ تب کرتے جب یہ چیزیں ایک جیسی ہوتیں، لیکن یہ تو ایک جیسی ہیں ہی نہیں، سونے اور چاندی کے اندر زمانے الگ الگ ہیں وہاں پر، سونے چاندی اور اس کے زیور کا زمانہ الگ الگ ہے جبکہ یہاں پر مشتق اور مشتق منہ کا زمانہ الگ الگ نہیں ہے، زمانہ زمانہ ایک ہی ہے۔ تو لہٰذا دونوں ایک جیسی ہوئیں یا الگ الگ ہو گئیں چیزیں؟ دی مشتق اور مشتق منہ ان کو کس پر قیاس کیا تھا؟ سونے چاندی سے زیور اور برتن بنانے پر، سونے چاندی سے زیور اور برتن بنانا ان کا زمانہ تو الگ ہے اور مشتق اور مشتق منہ کا زمانہ تو ایک ہی ہے۔ تو دونوں ایک جیسی چیزیں ہوئیں یا الگ الگ ہو گئیں؟ الگ الگ چیزیں ہیں۔ سونا، چاندی اور برتن، یہ الگ صورت، الگ چیز، یہ اس جیسی نہیں ہے۔ دونوں ایک جیسی نہیں، جب ایک جیسی نہیں، تو ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اشتقاق کو آپ اس طرح سونے سے چیزیں ڈھالنے پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ قیاس ایک جیسی چیزوں کو اپس میں کیا جاتا ہے، مختلف چیزوں کا آپس میں قیاس نہیں کیا جاتا، تو یہ بھی قیاس مع الفارق ہے، یعنی مختلف چیز پر قیاس ہے۔ किस चीज़ पर قیاس ہے؟ अब फिर ترجمہ دیکھ لیں۔ پس در دلیلِ اشتقاقِ فعل از مصدر پس مصدر سے فعل کے اشتقاق کی دلیل میں پس مصدر سے فعلِ اشتقاق توجہ نہیں ہے میرا خیال تھک گئے ہیں سارے، ہیں؟ پس در دلیلِ اشتقاقِ فعل از مصدر پس مصدر سے فعل کے اشتقاق کی دلیل میں ک소وغِ اوانی و الحلیّ من الذہب والفضّۃ ذکر نمودن قیاس مع الفارق است جیسے کہ ڈھالنا ہے برتنوں اور زیورات کا سونے اور چاندی سے ذکر نمودن اس بات کو ذکر کرنا قیاس مع الفارق است یہ کیا ہے؟ قیاس مع الفارق ہے، ایک قیاس ہے ایک مختلف چیز پر، حالانکہ قیاس تو مختلف چیز پر نہیں کرتے، قیاس تو اسی جیسی چیز پر کیا کرتے ہیں۔ یہاں پر اشتقاق میں زمانہ ایک ہی ہے اور وہاں پر سونے چاندی اور اس سے بنے زیورات اور برتنوں کا زمانہ الگ الگ ہے، بات سمجھ میں آگئی، اچھی طرح تو حاصل کلام ان کا یہ ہوا کہ بصرہ والوں کا اشتقاق کو برتن اور زیور ڈھالنے پر قیاس کرنا یہ قیاس درست نہیں ہے بھئی۔ یہ قیاس مع الفارق ہے کیونکہ دونوں چیزیں الگ الگ ہیں، ایک کے اندر زمانہ ایک اور ایک کے اندر زمانہ الگ الگ ہے۔ اشتقاق میں زمانہ ایک ہی ہوتا ہے مشتق اور مشتق منہ کا اور جبکہ برتن اور زیور ڈھالنے میں اصل یعنی سونے چاندی کے وجود کا زمانہ اور ہے اور برتن اور زیورات کے وجود کا زمانہ اور ہے بھئی۔ اور قیاس تو مناسبت کے وقت کیا جاتا ہے اور یہاں تو دونوں میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔ آگے دیکھیے بھئی فائدہ غیر محققین در بیانِ اِختلاف و تحریر دلائلِ طرفین عجیب خبط میکنند۔ کہتے ہیں غیر محققین در بیانِ اِختلاف و تحریر دلائلِ طرفین کہتے ہیں غیر محققین جو ہیں یعنی وہ علماء جو محققین نہیں ہیں جو بغیر تحقیق کے بات کرتے ہیں وہ جو ہیں در بیانِ اِختلاف اس اختلاف کو بیان کرنے میں وتہریر دلائلِ طرفین اور دونوں جانب کے دلائل تحریر کرنے میں عجیب خبط میکنند، عجیب غلطی کرتے ہیں۔ خبط کا ایک معنی ہے غلطی بھئی۔ اسی طرح خبط کہتے ہیں بے سوچے سمجھے کچھ کرنا، بے سوچے سمجھے کوئی کام کرنا اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ خبط کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ کہتے ہیں غیر محققین علماء جو ہیں یعنی جو بغیر تحقیق کے بات کرتے ہیں وہ اس اختلاف کو بیان کرنے میں وتہریر دلائلِ طرفین اور دونوں طرف کے دلائل لکھنے میں عجیب خبط میکنند، عجیب غلطی کرتے ہیں۔ یہ یوں ترجمہ کر لیں، عجیب خبط میکنند، عجیب نا سمجھمی کرتے ہیں۔ بے سوچے سمجھے کوئی کام کرنا اس کو کیا کہتے ہیں خبط، تو ترجمہ یوں کر لیں عجیب خبط میکنند، عجیب نا سمجھی کرتے ہیں۔ تقریرِ اختلاف در مطلقِ اصالت و فرعیت میکنند اچھا میں نے شروع میں بیان کیا تھا کہ یہ جو کوفہ اور بصرہ والوں کا اختلاف ہے، مطلقِ اصالت و فرعیت میں اختلاف ہے یا اصالت و فرعیت اشتقاق کے اعتبار سے اس میں اختلاف ہے؟ اشتقاق کے اعتبار سے، اشتقاق کے اعتبار سے جو اصل اور فرع ہونا ہے اس میں اختلاف ہے، مطلقاً اصل اور فرع ہونے میں اختلاف نہیں ہے بھئی۔ یہی بیان کر رہے ہیں کہ ادھر دیکھیے بعض علماء کیا فرماتے ہیں وہ مطلقاً اصل اور فرع ہونے میں اختلاف ذکر کرتے ہیں، وہ بات کو یوں ذکر کرتے ہیں جیسے کہ کوفہ اور بصرہ والوں کا اختلاف اس بات میں ہے کہ مطلقاً مصدر اصل ہے یا مطلقاً فعل اصل ہے، حالانکہ اس میں تو اختلاف نہیں ہے بھئی۔ یہی ذکر کر رہے ہیں دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں عجیب غلطی کرتے ہیں کہ تقریرِ اختلاف در مطلقِ اصالت و فرعیت میکنند اختلاف کی تقریر مطلق اصل اور فرع ہونے میں کرتے ہیں و در بیانِ استدلال میکند اور استدلال کو بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ بصریہ با این جہت مصدر را اصل میکند کہ بصرہ والے اس جہت سے مصدر کو اصل کہتے ہیں کہ فعل از مصدر مشتق است کہ فعل کیا ہے؟ مصدر سے مشتق ہے۔ و کوفیہ بایں جہت فعل را اصل میں گوید اور کوفہ والے اس جہت سے فعل کو اصل کہتے ہیں کہ مصدر تابع فعل است در اعلال کہ مصدر جو ہے وہ فعل کے تابع ہے اعلال میں۔ اِدھر دیکھیے بھئی کہتے ہیں بعض علماء عجیب غلطی کرتے ہیں میں نے تو آپ کے سامنے بیان کر دیا کہ مطلق اصالت و فرعیت میں اختلاف نہیں لیکن بعض علماء کیا کرتے ہیں وہ اس بات کو اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے کوفہ اور بصرہ والوں کا مطلق اصالت و فرعیت میں اختلاف ہے بھئی۔ بصرہ والے مطلقاً مصدر کو اصل قرار دیتے ہیں اور کوفہ والے مطلقاً فعل کو اصل قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ بات درست نہیں اور پھر جب دلائل بیان کرتے ہیں تو دلائل میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ بصرہ والے مصدر کو اس لیے اصل قرار دیتے ہیں کہ مصدر اشتقاق میں اصل ہے۔ یعنی بصرہ والوں کی دلیل کیا ہے؟ مصدر اشتقاق میں اصل ہے کہتے ہیں حالانکہ اسی میں تو اختلاف ہے جس کو تم دلیل ذکر کر رہے ہو وہ کیا کہتے ہیں پھر سنو وہ کیا کہتے ہیں بصرہ والے کیا کہتے ہیں کہ مصدر اصل ہے کس وجہ سے دلیل کیا ہے؟ کیونکہ مصدر اشتقاق میں اصل ہے بھئی یہ تو غلط تقریر کر رہے ہیں اشتقاق ہی میں تو اختلاف ہے آپ اس کو دلیل بنا رہے ہو؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے تو وہ کہتے ہیں جی کہ بصرہ والے مصدر کو اس لیے اصل کہتے ہیں کہ مصدر اشتقاق میں اصل ہے اور کوفہ والے فعل کو اس لیے اصل قرار دیتے ہیں کہ فعل اعلال میں اصل ہے بھئی تو اصل جو اختلاف تھا اس کو دلیل کے طور پر بیچ میں ذکر کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں و در بیان استدلال میں گویند اور استدلال بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ بصریہ بایں جہت مصدر را اصل میں گویند کہ بصرہ والے جو ہیں اس جہت سے مصدر کو اصل کہتے ہیں کہ فعل از مصدر مشتق است کہ فعل مصدر سے مشتق ہے۔ دیکھا دلیل ذکر کر دی حالانکہ اسی میں تو اختلاف ہے وکوفیہ بایں جہت فعل را اصل میں گویند اور کوفہ والے اس جہت سے فعل کو اصل کہتے ہیں کہ مصدر تابع فعل است در اعلال کہ مصدر فعل کے تابع ہے اعلال میں۔ باز محاکمہ می کنند اس کے بعد محاکمہ کرتے ہیں دلائل کیا ذکر کی ہے؟ بصرہ والوں کی دلیل کیا؟ مصدر کیوں اصل ہے کیونکہ یہ اشتقاق میں اصل ہے کوفہ والے کہتے ہیں فعل اصل ہے کیوں اصل ہے کیونکہ یہ اعلال میں اصل ہے پھر وہی علماء بغیر تحقیق کے ایک بات کرتے چلے جا رہے ہیں آگے پھر فیصلہ بھی کرتے ہیں ان دونوں میں فیصلہ بھی کرتے ہیں اور کیا فیصلہ کرتے ہیں کہ بھئی دونوں کی بات اپنی جگہ ٹھیک ہے اشتقاق کے اعتبار سے مصدر اصل ہے اور اعلال کے اعتبار سے فعل اصل ہے بھئی۔ کہتے ہیں حالانکہ یہ تقریر صحیح نہیں ہے صحیح تقریر وہی جو ہم نے بیان کر دی کہ اصل اختلاف تو اشتقاق ہی میں ہے بھئی بات سمجھ میں آ گئی کہیں۔ کہتے ہیں باز محاکمہ می کنند باز کا معنی ہے پھر پھر محاکمہ کا معنی ہے فیصلہ کرنا باز محاکمہ می کنند پھر وہ علماء جو ہے وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ مصدر من حیث الاشتقاق اصل است کہ مصدر جو ہے وہ اشتقاق کی حیثیت سے اصل ہے و فعل من حیث الاعلال اصل است اور فعل جو ہے اعلال کی حیثیت سے اصل ہے۔ و اصل حقیقت آن است کہ تحریر نمودیم مصنف فرما رہے ہیں کہ اصل حقیقت وہی ہے کہ تحریر نمودیم جو ہم نے تحریر کر دی جو ہم نے لکھ دی۔ بلجملہ کہتے ہیں حاصل کلام یہ کہ عند بصریہ شش اسم مشتقں اب ادھر دیکھیے بھئی حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ بصرہ والوں کے نزدیک بصرہ والے کس کو اشتقاق میں اصل کہتے ہیں؟ مصدر کو معلوم ہوا مصدر مشتق منہ اور فعل کیا ہے؟ مشتق۔ جبکہ کوفہ والے کس کو اصل قرار دیتے ہیں؟ فعل کو تو فعل ہوا مشتق منہ اور مصدر کیا ہوا؟ مشتق۔ مصادر کیا ہوا؟ مشتق۔ تو کوفہ والوں کے نزدیک مشتقات بڑھ گئے کیونکہ مصدر بھی کیا ہوا؟ مشتق ہوا۔ تو ویسے تو مشتقات چھ شمار کرتے ہو لیکن کوفہ والوں کے نزدیک مصدر کو بھی اس میں شمار کرو تو وہ کتنے ہو جائیں گے؟ سات ہو جائیں گے بات سمجھ میں آ رہی ہے یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں وبجملہ عند بصریہ شش اسم مشتقاً خلاصہ یہ کہ بصرہ والوں کے نزدیک چھ اسم مشتق ہیں اس میں فاعل و اسم مفعول و اسم ظرف و اسم آلہ و صفت مشبہ و اسم تفضیل یہ چھ اسم مشتق ہیں بصرہ والوں کے نزدیک اور مصدر کیا ہے؟ اصل ہے۔ و عند کوفیاں اور کوفہ والوں کے نزدیک ہفت سات ہیں بھئی مشتقات کتنے ہیں؟ تو کہتے ہیں و عند کوفیاں ہفت اور کوفہ والوں کے نزدیک سات ہیں شش مذکور و یک مصدر چھ جو یہ مذکور ہو گئے و یک مصدر اور ایک مصدر۔ و اصل اختلاف در اشتقاق است اور اصل اختلاف اشتقاق میں ہے کہ فعل از مصدر مشتق است یا مصدر از فعل کہ فعل مصدر سے مشتق ہے یا مصدر فعل سے و دلائل قویہ مقتضی ترجیح ثانی است اور قوی دلائل جو ہیں وہ دوسرے کی ترجیح کا تقاضا کرنے والے ہیں۔ بڑے قوی دلائل جو ہیں وہ دوسرے کی ترجیح کا تقاضا کرنے والے ہیں دوسرا کیا پیچھے دو باتیں ذکر کی نا کہ فعل از مصدر مشتق است کہ فعل مصدر سے مشتق ہے یا مصدر از فعل یا مصدر کس سے مشتق ہے؟ فعل سے۔ تو پہلی بات کس کی ہے؟ کہ فعل از مصدر مشتق است یہ کس کی ہے؟ فعل از مصدر مشتق است یہ پہلی بات ہے یہ کس کا مذہب ہے؟ بصرہ والوں کا یا مصدر از فعل یا مصدر فعل سے مشتق ہے یہ کس کا مذہب؟ کوفہ والوں کا بات سمجھ میں آ گئی تو کہتے ہیں و دلائل قویہ مقتضی ترجیح ثانی است اور قوی دلائل دوسرے کی ترجیح کے تقاضا کرنے والے ہیں دوسرے کی ترجیح کے مقتضی ہیں۔ کہ مذہب کوفیان است جو کہ کوفہ والوں کا مذہب ہے بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی اچھا چلیے بس بھئی اب آیئے بھئی اردو کی کتاب میں بھی دیکھ لیں بھئی۔ افادہ بصریین و کوفیین کے درمیان اس میں اختلاف ہے کہ فعل اصل ہے یا مصدر عبارت مل گئی سب کو؟ کہتے ہیں افادہ بصریین و کوفیین کے درمیان اس میں اختلاف ہے کہ فعل اصل ہے یا مصدر پہلا قول کوفیین کا ہے اور دوسرا بصریین کا اور اصل اختلاف اس میں ہے کہ آیا فعل ماضی کو مادہ اور اصل قرار دے کر مشتق منہ کہا جائے اور مصدر کو فرع اور اس سے مشتق یا بالعکس۔ پس بصریین امر معنوی سے استدلال کرتے ہیں کہ معنی مصدری تمام افعال و اسمائے مشتقہ کے معنی کا مادہ اور اصل ہیں لہٰذا لفظ مصدر بھی تمام مشتقات کا مادہ اور اصل ہوگا اور کوفین امور لفظی سے استدلال کرتے ہیں مثلاً یہ کہ اکثر مصدر اعلال میں فعل کا تابع ہوتا ہے اور اعلال امور لفظی میں سے ہے لہٰذا مصدر کو لفظ میں فعل کا تابع اور اسے مشتق کہنا چاہیے۔ جناب استادنا المرحوم مذہب کوفیین کو ترجیح دیتے تھے اور فی الواقع یعنی واقع میں اور فی الواقع دلائل قویہ مذہب کوفیین کے رجحان پر قائم ہیں رجحان یعنی راجح ہونا۔ اور یعنی واقع میں قوی دلائل جو ہیں کوفہ والوں کے مذہب کے راجح ہونے پر قائم ہیں آگے دیکھیے اول یہ کہ بحث اشتقاق میں ہے اور اشتقاق امور لفظی میں سے ہے اگرچہ تعلق معنی سے بھی رکھتا ہے لہٰذا فعل ماضی اور مصدر کے لفظ میں غور کرنا چاہیے کہ آیا لفظ فعل ماضی مادہ ہونے کی لیاقت رکھتا ہے یا لفظ مصدر اور تامل سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مادہ ہونے کی لیاقت لفظ فعل میں ہے لفظ مصدر میں نہیں اس لیے کہ وہ تمام حروف جو فعل ماضی میں پائے جاتے ہیں وہ مصدر میں ضرور پائے جاتے ہیں ولا عکس اور اس کا عکس نہیں ہے۔ آگے دیکھیے نیز مصادر ثلاثی کے صرف سات وزن قتلٌ، فسقٌ، شکرٌ، طلبٌ، خنقٌ، صغرٌ، ہدنٌ اور تفاعلٌ، تفاعلٌ اور تفعللٌ۔ تو یہ ثلاثی مجرد کے یہ سات وزن ہیں بھئی بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ سات وزن ہیں فعلٌ، فعلٌ، فعلٌ، فعلٌ، فاعلٌ، فعلٌ اور فعلٌ یہ سات وزن جو ہیں صرف یہ سات وزن مراد ہیں بھئی بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی نیز مصادر ثلاثی کے صرف سات وزن قتلٌ، فسقٌ، شکرٌ، طلبٌ، خنقٌ، صغرٌ، ہدنٌ اور تفاعلٌ، تفاعلٌ اور تفعللٌ کے علاوہ تمام اوزان میں مصدر کے حروف فعل ماضی کے حروف سے زائد ہیں اور ظاہر ہے کہ مادہ ہونے کی لیاقت وہی رکھتا ہے جو تمام فروع میں پایا جائے نہ کہ جو نہیں پایا جاتا۔ نیز مزید علیہ اصالت و مادیت کے لیے احق و الیق ہے نہ کہ مزید۔ اور فعل ماضی کے تمام حروف کا مصدر میں پایا جانا بالکل ظاہر ہے اغشو شماع کا واو اور ادھاما کا الف جو اغشیشان اور ادھیمام میں نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مصدر میں واو اور الف کسرہ ما قبل کے باعث قاعدہ کے مطابق یاء سے بدل گئے ہیں۔ پس فی الاصل واو اور الف مصدر میں موجود ہیں اور اگر مادہ مصدر ہوتا تو ماضی اغشیشان اور ادھیمام اتی اور اسی طرح تمام افعال و اسمائے مشتقہ میں ہوتا کیونکہ یاء کو اغشیشان میں واو سے اور ادھاما میں الف سے بدلنے کا نہ کوئی قاعدہ پایا جاتا ہے نہ کوئی سبب۔ اور تفعیل کے مصدر میں جو ماضی کا حرف مکرر نہیں ہوتا محققین فرماتے ہیں کہ یاء تفعيل کی اصل وہی حرف مکرر ہے مثلاً حمیداً در اصل تمممدن تھا دوسرے میم کو یاء سے بدل دیا گیا ہے اور مضاعف میں اکثر حرف دوم کو دفع ثقل کے لیے حرف علت سے بدل دیتے ہیں چنانچہ دسّاحاً میں جس کی اصل دسّساحاً ہے آخری سین کو الف سے بدلا گیا ہے۔ سوال تمہارا یہ جواب تفعیل کے مصادر تبصرہ تم و تسمیہ تم و سلام و کلام اور مفاعلہ کے مصدر قتال و قیتال سے منتقض ہو جاتا ہے یعنی ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ ان مصادر میں ماضی کے تمام حروف موجود نہیں۔ جواب گفتگو اصل مصادر میں ہے جو باب میں کلیتاً ہوتے ہیں قلیل الوجود مصادر قابل لحاظ نہیں پھر سلامٌ و کلامٌ کو تو اسم مصدر کہا گیا ہے اور وزن تفعیلتٌ کی اصل تفعیلٌ قرار دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مثلاً تسمیتٌ دراصل تسمیون تھا یاء حذف کرکے آخر میں تا عوض کے لیے آئے اور واو رابعیت کے باعث یاء سے بدل گئی اور قیتال میں کسرہ ما قبل کے باعث وہ الف جو ماضی میں تھا یاء سے بدل گیا اور قیتال اسی کا مخفف ہے۔ پس جملہ مصادر میں ماضی کے تمام حروف ولو تقدیراً موجود ہیں۔ دوسرے یہ کہ فعل بغیر مصدر کے پایا جاتا ہے جیسے لیس و عسا پس اگر مصدر اصل ہو تو وجود فرع بغیر وجود اصل کے لازم آتا ہے اور مصدر بغیر فعل کے نہیں آتا اور بعض مصادر کو جو عقیمہ کہہ دیا گیا ہے مثلاً متن و تقسیم کہ ان دونوں سے سوائے فاعل کے کوئی صیغہ نہیں آتا تو ان کا ایسا ہونا مسلم نہیں ہے یعنی ثابت شدہ نہیں ہے تسلیم شدہ نہیں ہے چنانچہ قاموس سے واضح ہو جاتا ہے۔ تیسرے یہ کہ بصریین معانی افعال و مشتقات کے لیے معنی مصدری کے مادہ ہونے کو دلیل اس پر بناتے ہیں کہ لفظ فعل لفظ مصدر سے مشتق ہے اشتقاق لفظی کی حقیقت میں غور کیا جائے تو یہ بات باطل محض ہو کر رہ جاتی ہے اشتقاق لفظی کی حقیقت یہ ہے کہ دو لفظوں میں لفظاً اور معنٰا مناسبت ہو اور جہاں ایک لفظ سے دوسرے لفظ کو ماخوذ فرض کرنا آسان ہوتا ہے تو لفظ دوم کو لفظ اول سے ماخوذ اور مشتق قرار دیتے ہیں برتنوں اور زیورات کو سونا چاندی سے ڈھالنے کی صورت یہاں نہیں کہ سونا چاندی کا مادہ پہلے علیحدہ موجود ہوتا ہے اس میں تصرف کرکے برتن یا زیور بناتے ہیں بلکہ مشتق اور مشتق منہ کا تحقق باعتبار وضع و استعمال کے زمانے واحد میں ہوتا ہے۔ پس دلیل میں فعل کے مصدر سے اشتقاق کو صوغ العوانی والحلی من الذہب والفضہ پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ فائدہ غیر محقق لوگ یہ اختلاف اور طرفین کے دلائل بیان کرنے میں عجیب خبط کرتے ہیں وہ اختلاف مطلق اصالت و فرعیت میں ذکر کرتے ہیں اور دلائل یوں بیان کرتے ہیں کہ بصریین اس لیے مصدر کو اصل کہتے ہیں کہ فعل مصدر سے مشتق ہے اور کوفیین اس لیے فعل کو اصل کہتے ہیں کہ مصدر اعلال میں فعل کا تابع ہے پھر محاکمہ کرتے ہیں کہ مصدر من حیث الاشتقاق اصل ہے اور فعل من حیث الاعلال اصل ہے۔ اور اصل حقیقت وہی ہے جو ہم بیان کر چکے۔ فعل جملہ بصریین کے نزدیک اس میں مشتق چھ ہیں اس میں فاعل اس میں مفعول اس میں ظرف اس میں آلہ صفت مشبہ اس میں تفضیل اور کوفیین کے نزدیک سات چھ مذکورہ اور ایک مصدر اور اصل اختلاف اشتقاق میں ہے کہ فعل مصدر سے مشتق ہے یا مصدر فعل سے اور دلائل قویہ ترجیح ثانی کے مقتضی ہیں جو کوفیین کا مذہب ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی چلیے بس بھئی ہٰذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔