آگے سبق دیکھیے بھئی کتاب پر۔ ويمكن کہ صیغہ تثنیہ مذکر غائب ماضی معروف باشد از باب افعال، کہ در آخر نون وقایہ و یا متکلم بودا یا حذف شُدا و کسرہ نون بسبب وقف بی افتاد۔ اچھا بھئی گزشتہ سبق میں مختلف صیغے ہم حل کر رہے تھے بھئی۔ اور وہ صیغوں کے اعلالات وغیرہ ذکر ہوئے۔ اور البتہ ایک بڑی قیمتی بات مصنف نے آپ کو بتلائی کہ وزن فاعل اگر عربی زبان میں آ جائے، فاعل بھئی۔ اسی طرح وزن فاعل۔ اسی طرح وزن فعل۔ تو ان تینوں صورتوں میں عین کو ساکن کرنا جائز ہے بھئی۔ تو چاہے وزن فاعل ہو، لام جو ہے لام پر کوئی نہ کوئی حرکت ہونی چاہیے، لام ساکن نہ ہو، چاہے تنوین ہو چاہے تنوین نہ ہو، لیکن لام متحرک ہونا چاہیے، تو لام پر چونکہ کوئی بھی حرکت آ سکتی ہے اس لیے میں لام کو ساکن پڑھ رہا ہوں ورنہ ساکن ہو تو پھر عین کو ساکن نہیں کریں گے۔ بلکہ جب لام کیا ہو؟ متحرک ہو۔ فاعل، فاعل اور فعل۔ لام پر کیا ہونی چاہیے؟ حرکت ہونی چاہیے بھئی، تو پھر عین کو ساکن کرنا جائز ہے۔ لہذا فاعل اور فاعل اس کو کیا پڑھ سکتے ہیں؟ فعل، فعل پڑھ سکتے ہیں اور فعل کو کیا پڑھ سکتے ہیں؟ فعل پڑھ سکتے ہیں، صورت سمجھ میں آگئی۔ اس کے بعد لفظ قالین کے بارے میں بات آئی تھی کہ مصنف نے بتلایا تھا کہ بسا اوقات ایک صیغہ جو کسی دوسری زبان میں بھی استعمال ہوتا ہو تو اس کی وجہ سے بھی طالب علم جو ہے پریشان ہو جاتا ہے جیسے لفظ قالین ہے یہ بچھونے کو بھی کہتے ہیں اور عربی زبان میں بھی یہ صیغہ بھی ہے۔ پھر ایک واقعہ بھی ذکر کیا مناظرے کا کہ ایک طالب علم تھا میرا شاگرد تھا اور اس کا ایک بڑے طالب علم سے مناظرا ہوا تو اس طالب علم نے بڑے سے پوچھا کہ آسمان کون سا صیغہ ہے؟ تو وہ پریشان ہو گیا، چکرا گیا، بہت سوچا لیکن اسے کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ آسمان کون سا صیغہ ہے اور کہا کہ اس کی وجہ وہی اشتراک لفظی ہے کہ یہ لفظ چونکہ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے اس لیے طالب علم سنتے ہی پریشان ہو جاتا ہے کہ یہ اردو کا لفظ ہے اور یہ عربی صیغے کے طور پر مجھ سے پوچھ رہا ہے یہ تو عربی کا لفظ ہی نہیں ہے، یہ تو کس زبان کا لفظ ہے؟ اردو زبان کا لفظ ہے تو اس وجہ سے طالب علم پھر پریشان ہوتا ہے تو اس کے بارے میں پھر بتلایا جو گزشتہ سبق میں آئی تھی کہ صیغہ مشکل نیست، یہ صیغہ مشکل نہیں ہے، عبارت مل گئی بھئی گزشتہ سبق کی بالکل آخری سطر ہے بھئی یا آج کے سبق سے ایک سطر قبل، ورنہ صیغہ مشکل نیست، ورنہ صیغہ مشکل نہیں ہے، بر وزن افعلان، کس وزن پر ہے؟ افعلان وزن پر ہے، تثنیہ اس میں تفضیل است، تثنیہ ہے اس میں تفضیل کی، نون بسباب وقف ساکن شُدا اور نون جو ہے وقف کی وجہ سے ساکن ہو گیا۔ افعلان بھئی ادھر دیکھیے، اس میں تفضیل کیا آتا ہے؟ افعلو، افعلو اور پھر تثنیہ کیا آئے گی؟ افعلانی، پھر اس نون پر وقف کر دیا تو کیا بن گیا؟ افعلان، اچھا تو اسی وزن پر ہے آسمان تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا مادہ کیا ہے بھئی؟ یہ شروع میں الف مقصورہ جو آرہا ہے، الف مقصورہ جو آرہا ہے، یہ الف کے اوپر مد ڈالا ہوا ہے لہذا اس کو الف ممدودہ نہ کہنا بھئی، بات سمجھ آرہی ہے، الف ممدودہ وہ ہوتا ہے جس کے بعد حمزہ آتا ہے حمزہ، سماں، الف کے بعد کیا آرہا ہے؟ حمزہ تو یہ ہے الف ممدودہ، یہ الف مقصورہ ہے، الف مقصورہ کسے کہتے ہیں؟ عام الف، عام الف جیسے ضربا، ضربا دیکھا یہ با کو میں نے لمبا کیا ہے یا نہیں، عام الف کے برابر لمبا کیا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ الف مقصورہ یعنی چھوٹا الف ہے، الف ہے لیکن چھوٹا الف اور سماں اس کے اندر الف کو لمبا کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کیا ہے؟ الف ممدودہ ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آسمان کے شروع میں الف مقصورہ کہاں سے آگیا؟ اس کا مادہ کیا ہے؟ تو مادہ جو ہے وہ بنتا ہے جو یہ صیغہ کیا بتلا رہے ہیں؟ افعلان، اس صورت میں اس کا مادہ بنتا ہے حمزہ، سین، میم، یعنی اسم، مادہ کیا بنتا ہے؟ اسم، حمزہ، سین، میم، اس اسم سے ذرا بناؤ افعلو یہ شروع میں تو حمزہ اسم تفضیل والا ہے، یہ تو مادے والا حمزہ نہیں ہے، افعلو، فا کی جگہ حمزہ لاؤ، کیا بن جائے گا؟ ہاں شاباش! اصمو تو دو حمزہ اکٹھے ہوئے اور دوسرا حمزہ ساکن تھا تو اس کو پہلے کی حرکت کے موافق حرف علت سے بدلنا واجب، تو اس کو بدل دیا الف سے تو کیا بن گیا؟ آسمان، سین پر فتحہ ہے۔ افعلان دیکھو عین پر کیا ہے فتحہ، آسمان، صورت سمجھ میں آگئی، تو یہ آسمان اس میں تفضیل کا صیغہ ہے۔ دیکھیے عبارت پھر دیکھ لیجیے کہتے ہیں ویمکن کہ صیغہ تثنیہ مذکر غائب ماضی معروف باشد از باب افعال اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ صیغہ تثنیہ مذکر غائب ماضی معروف ہو باب افعال سے، کہ در آخر نون وقایہ و یا متکلم بودا کہ اس کے آخر میں نون وقایہ اور یا متکلم تھی، یا حذف شُدا، یا حذف ہو گئی، و کسرہ نون بسباب وقف بی افتاد اور نون کا کسرہ وقف کی وجہ سے گر گیا۔ بتلا دیا یہ آسمان دو صیغے ہیں، یہاں تک بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح، جی، اب یہ جو مصنف نے تقریر کی کہ آسمان یہ دو صیغے ہیں اس پر علم الصیغہ کے شارحین وغیرہ اعتراض کرتے ہیں۔ علم الصیغہ کا جو اردو نسخہ ہے اس کے حاشیے میں بھی آپ کو یہ اعتراض اور اس کی تفصیل مل جائے گی۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے جو دو صیغے بنائے، ان کا مادہ کیا بنتا ہے؟ حمزہ، سین، میم، لیکن حمزہ، سین، میم، اس مادے سے عربی میں کوئی لفظ استعمال ہی نہیں ہے، اس مادے سے کوئی فعل عربی میں استعمال ہی نہیں ہے بھئی کہ مادہ حمزہ، سین، میم ہو بھئی، آپ لغت بھی اٹھا کر دیکھیں گے وہاں آپ کو اس مادے کے اندر کوئی لفظ نہیں ملے گا بھئی۔ إِسْمٌ جو ہے وہ بھی دراصل سیموُن تھا، کیا تھا؟ سیموُن یا ویسُمُن تھا بھئی۔ لیکن حمزہ سین میم تو نہیں ہے بھئی۔ تو اگر اس کو واؤ مانے، کیا مانے؟ واؤ۔ پھر اس واؤ کو کس سے بدلا ہو؟ حمزہ سے۔ پھر یہ بات بن جاتی ہے کہ اصل کیا تھی؟ وِسْمُن اور پھر واؤ کو کس سے بدلا؟ حمزہ سے لیکن بہرحال حمزہ سین میم استعمال نہیں ہے۔ تو بہرحال مصنف نے جو دو تقریریں کیں، صیغے کیں کہ اس میں تفصیل کا صیغہ بھی ہو سکتا ہے اور ماضی کا صیغہ بھی ہو سکتا ہے، دونوں صورتوں میں اس کا مادہ کیا بنے گا؟ حمزہ سین میم۔ لیکن یہ مادہ میں نے بتلایا عربی زبان میں استعمال نہیں ہے لغت میں آپ اٹھائیں آپ کو اس مادے سے افعال وغیرہ نہیں ملیں گے۔ اور بعض شارحین نے پھر اس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ اس کا مادہ سین میم واؤ ہے لیکن ان کی تقاریر بھی اشکال سے خالی نہیں ہیں وہ کہتے ہیں اس کا مادہ سین میم واؤ ہے اور سِمُن سے بہت سے لفظ عربی زبان میں استعمال ہوتے ہیں۔ اسی سے بابِ افعال ہے یہ۔ بابِ افعال اور تو شروع میں ہاں بابِ افعال والا حمزہ تھا پھر اس کے بعد حمزہ استفہام بھی اس پر داخل ہو گیا تو اس صورت میں دوسرے حمزہ کو الف سے بدل دیا۔ کس سے بدل دیا؟ الف سے بدل دیا۔ مثلاً اس کا مادہ بنا سِمُن۔ سِمُن اس سے بناؤ ذرا سِمُن سے اکرام باب بناؤ ذرا بھئی؟ اسْموا۔ سین میم واؤ اسْموا اسْموا اکرام اسْموا پھر وہ چوتھی جگہ پر آیا تو کس سے بدل گیا؟ یا سے۔ تو کیا بن گیا؟ اسْمایا۔ پھر یا متحرک ماقبل فتحہ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے کیا بن گیا؟ اسْما۔ تو اسْما تثنیہ کیا آئے گا؟ اسْمایا ہاں اسْما اسْمایا اسْمَو اسْمَت اسْمتا اسْمَیْنا گردان سمجھ میں آرہی ہے؟ اچھا تو اسْما تھا پھر نونِ وقایہ اور یا آخر میں مل گئے۔ کیا بن گیا؟ اسْمانی۔ پھر یا گر گئی کیا رہ گیا؟ اسْمانی۔ پھر نون پر وقف کر دیا کیا بن گیا؟ اسْمان۔ لیکن دیکھو حمزہ حمزہ ہے شروع میں اور حمزہ کے بعد الف نہیں ہے تو آسمان نہیں بنا بلکہ اسمان بنا۔ توجہ ہے؟ پھر یہ آسمان کیسے بنا؟ اس پر حمزہ استفہام آگیا، کیا آگیا؟ حمزہ استفہام تو کیا بن گیا؟ آسْمان آسْمان تو دو حمزہ متحرک ہیں بھئی اور وہ کہتے ہیں پھر کہ دوسرے حمزہ کو الف سے بدلا گیا حالانکہ دوسرے حمزہ جب دونوں حمزہ متحرک ہوں تو پھر تو دوسرے کو الف سے نہیں بدلتے، الف سے تو تب بدلتے ہیں جب وہ ساکن ہو اور ماقبل فتحہ ہو یہاں تو دونوں حمزہ متحرک ہیں۔ اگر دو حمزہ متحرک ہوں پھر تو وہ ائمّۃ والا قانون لگتا ہے کہ ان میں سے اگر کسی ایک پر بھی کسرہ ہو تو دوسرے کو یا سے بدلتے ہیں اور اگر کسی پر بھی کسرہ نہ ہو تو دوسرے کو واؤ سے بدلتے ہیں تو لہٰذا یہ اس صورت میں بھی اگر ان شارحین کی تقریر بھی مان لی جائے تو پھر بھی ثانی حمزہ کو الف سے نہیں بدل سکتے واؤ سے بدلیں گے اور صیغہ کیا بن جائے گا؟ آوُسْمان آوُسْمان صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ آوُسْمان آسمان صیغہ نہیں بنتا۔ ہاں زیادہ سے زیادہ علم و صیغہ کہ مصنف کی طرف سے یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے حمزہ سین میم مادے کے ساتھ اس کا ذکر کیا، ویسے ہی بطور مشق کے عربی زبان میں یہ مستعمل نہیں ہے مادہ لیکن ویسے مشق کے طور پر کیا کر لیا؟ حمزہ سین میم سے کون سا صیغہ بنا لیا؟ آسمان صیغہ بنا لیا اور اس کی دو تقریریں بھی انہوں نے ذکر کر دیں۔ بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ آگے دیکھیے۔ کہتے ہیں والفظِ قالین دو احتمال دیگر دارد اور لفظِ قالین دو دوسرے احتمال بھی رکھتا ہے بھئی بات شروع ہوئی تھی لفظِ قالین سے اور وہاں بتلایا تھا کہ قالین صیغے میں طالبِ علم پریشان ہوتا ہے کس کی وجہ سے؟ اشتراکِ لفظی کی وجہ سے اور پھر اسی اشتراکِ لفظی پر واقعہ ذکر کیا اور اس میں آسمان صیغے کا ذکر بھی آیا تو بات کس کی چل رہی ہے؟ لفظِ قالین کی۔ اس میں ایک احتمال بتلا دیا کہ وہ کون سا صیغہ ہے؟ جمع مذکر اسمِ فاعل ناقص ہے بابِ ضرب سے جس کا معنی ہے دشمن رکھنے والا اور اصل میں کیا تھا قالیین اور پھر ایک یا گر گئی تو کیا بن گیا؟ قالین۔ اب دوسرا احتمال ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں والفظِ قالین دو احتمال دیگر دارد۔ لفظِ قالین میں دو احتمال اور بھی ہیں یکے آنکہ جمع مؤنث امرِ حاضر معروف باشد ناقص از مُفَاعَلَہ قال یُقَالِی مأخوذ از قیلن یہ آپ کی کتابوں میں قُلْیُن لکھا ہوگا یہ حرکات غلط لگی ہوئی ہیں، قِلَن قاف کے نیچے زیر ہونی چاہیے اور لام پر دو زبر لکھیں بھئی۔ لام پر دو زبر لکھیں۔ قاف لام یا اس کا مادہ ہے۔ تو یہ قِلَن لفظ ہے قاف کے نیچے زیر لگائیں اور لام پر دو زبریں لگائیں بھئی۔ اصل میں کیا تھا قِلْیُن قِلْیُن پھر یا متحرک ماقبل فتحہ اس کو کس سے بدلا؟ الف سے کیا بن گیا؟ قِلان نونِ تنوین بھی ہے نا قِلان پھر الف اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گیا کیونکہ الف بھی ساکن نونِ تنوین بھی ساکن تو کیا بن گیا؟ قِلَن قِلَن۔ قالین کے بارے میں بتلا رہے ہیں کہ یہ قِلَن سے ماخوذ ہے بابِ مُمُفَاعَلَہ ہے قال یُقَالِی اور کون سا صیغہ ہے؟ جمع دیکھو بھئی غور کرو جمع مؤنث امرِ حاضر معروف قال یُقَالِی بابِ مُمُفَاعَلَہ امر بناؤ بھئی! یُقَالِی اسے مخاطب کا صیغہ لاؤ تو قالی جی اسے امر بناؤ قالی دیکھا آخر سے یا گر گئی اور شروع سے تا گر گئی کیا بن گیا؟ قالی۔ آگے گردان کیسے ہوگی؟ قالی قالیہ قالو قالی قالیہ قالینا دیکھا یہ جمع مذکر حاضر امر کا صیغہ ہے اور ناقص ہے بھئی قال یُقَالِی سے دوبارہ دیکھیے کہتے ہیں والفظِ قالین دو احتمال دیگر دارد اور لفظِ قالین دو اور احتمال بھی رکھتا ہے، یکے آنکہ جمع مؤنث امرِ حاضر معروف باشد ناقص از مُفَاعَلَہ ناقص ہے بابِ مُفَاعَلَہ سے قال یُقَالِی مأخوذ از قِلَن یہ ماخوذ ہے قِلَن سے بمعنی دشمن داشتن، دشمن رکھنا، یعنی دشمنی کرنا۔ دیگر آنکہ واحد مؤنث حاضر معروف باشد از ہَمُو باب دوسرا یہ کہ واحد مؤنث حاضر معروف ہو اسی باب سے، نونِ وقایہ و یا متحرک در آخر آن لاحق شدہ۔ نونِ وقایہ اور یاء متحرک اس کے آخر میں مل گئے یاء حذف گشت یاء حذف ہوگیا و کسرہ نونِ وقایہ بہ سببِ وقف بیفتادہ اور نونِ وقایہ کا کسرہ وقف کی وجہ سے گر گیا اور نونِ وقایہ کا کسرہ وقف کی وجہ سے گر گیا۔ جی کون سا صیغہ بیان کر رہے ہیں؟ قالین بنائیے کیا بتلا رہے ہیں؟ واحد مؤنث حاضر بھئی اسی اسی امر سے بنا لو ابھی امر بنایا قالی قالیہ قالو قالی قالی اسی کے آخر میں نونِ وقایہ اور یا ملا دو کیا بن گیا؟ قالینی نون اور یاء وقایہ بھی ملاؤ قالینی سمجھ میں آرہی ہے بات؟ قالی واحد مؤنث کا صیغہ اور نونِ وقایہ اور یاء بھی ساتھ جوڑ دیا تو قالینی پھر یا گر گئی اور نون ساکن ہوگیا تو کیا بن گیا؟ قالین۔ دونوں تقریریں سمجھ میں آگئیں؟ آگے کہتے ہیں لیکن ایں ہر دو احتمال در قرآنِ مجید جاری نہمتوانست لیکن یہ دونوں احتمال قرآنِ مجید میں جاری نہیں ہو سکتے زیرا کہ معرف باللام واقع شد اس لیے کیونکہ قرآن میں جو ہے یہ معرف باللام واقع ہوا ہے۔ قالین میں تین احتمال ذکر کیے پہلا کیا بتلایا کہ اس میں فاعل ہے۔ قالیین تھا اصل میں دوسرا احتمال کیا ذکر کیا کہ یہ فعل ہے تیسرا احتمال بھی کیا ذکر کیا کہ یہ فعل ہے کہتے ہیں پہلے احتمال کے مطابق قالین اسم ہے اور دوسرے دونوں احتمالات کے مطابق یہ فعل ہے اور الف لام اسم پر داخل ہوتا ہے یا فعل پر؟ اسم پر لہٰذا قرآن میں تو اس پر الف لام آیا ہے تو لہٰذا پہلی توجیہی ها چلے گی کہ اس میں فاعل کا صیغہ ہے۔ باقی دو احتمالات قرآن میں جاری نہیں ہو سکتے کیونکہ اگر فعل مانے اس کو، تو فعل پر تو الف لام داخل نہیں ہو سکتا، حالانکہ قرآن میں تو اس پر الف لام داخل ہے۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے، لیکن یہ ہر دو احتمال در قرآن مجید جاری نہ میں تواند شد لیکن یہ دونوں احتمال قرآن مجید میں جاری نہیں ہو سکتے، زیرہ کہ معرف باللام واقع شدہ اسی کی کو قرآن میں معرف باللام واقع ہوا ہے۔ انّی لعملکم من القالین۔ دیکھا؟ القالین آیا ہے۔ قولینہ کہ اول صیغہ جوانہ موئ کتاب مشہورست از حمی بابا بست۔ کہتے ہیں قولینہ جو کتاب جوانہ موئ کا پہلا صیغہ ہے۔ جوانہ موئ ایک کتاب کا نام ہے بھئی۔ اس کتاب میں مشکل صیغے مصنف پوچھتے ہیں اور آگے پھر اعلال ذکر کرتے ہیں۔ جیسے یہ صاحبِ صیغہ کیا کر رہے ہیں؟ مشکل صیغے بھی پوچھ رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کو بیان بھی کرتے جا رہے ہیں۔ تو یہ کتاب ہے جوانہ موئ، اس کے اندر بھی مشکل صیغے وہ بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں اس کا جو پہلا صیغہ ہے اس کتاب کا، قولینہ۔ قولینہ۔ کہتے ہیں وہ بھی اسی باب سے ہے۔ اور وہ جمع مؤنث غائب اثبات ماضی مجہول ہے۔ کس طرح؟ قال یہ تو ماضی معروف ہے۔ مجہول بناؤ۔ قولی۔ قولی۔ قولی، قولیا، قولوں، قولیت، قولیتا، قولین۔ تو وہ بھی اسی باب مفععلہ سے ہے۔ اور کون سا صیغہ ہے؟ جمع مؤنث غائب ماضی مجہول بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں قولینہ کے اول صیغہ جوانہ موئ کتاب مشہورست۔ قولینہ جو کہ کتاب جوانہ موئ جو کہ مشہور کتاب ہے اس کا پہلا صیغہ ہے، ازہمی بابست۔ وہ بھی اسی باب سے ہے۔ جمع مؤنث غائب اثبات ماضی مجہول۔ جمع مؤنث غائب اثبات ماضی مجہول کا صیغہ ہے۔ فائدہ اب کتاب جوانہ موئ کا ذکر آیا تو اس کا اس کے بارے میں ایک فائدہ بتلا رہے ہیں۔ اور بتلائیں گے کہ اہل تحقیق کے ہاں اہل تحقیق علماء جو ہیں، ان کے نزدیک یہ کتاب معتبر نہیں۔ یہ کتاب مقبول نہیں۔ یہ کتاب پسندیدہ نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اس میں مصنف جو ہیں اکثر اعلالات جو ہیں وہ غلط کرتے ہیں۔ صیغوں کے اندر جو اعلالات بتاتے ہیں کہ یوں تبدیل ہوا، پھر یوں تبدیل ہوا تو وہ اس میں کیا کر جاتے ہیں؟ غلطی کر جاتے ہیں۔ کہتے ہیں فائدہ در کتاب مذکور اکثر صیغھا بہ اعلالات غیر صحیحہ قائم کردہ کہ اس مذکورہ کتاب میں اکثر صیغے جو ہیں وہ غیر صحیح اعلالات کے ساتھ یعنی غلط اعلالات کے ساتھ قائم کردہ قائم کیے ہیں۔ لہذا آ کتاب مقبول اہل تحقیق نیست۔ لہذا یہ کتاب اہل تحقیق کے نزدیک مقبول نہیں ہے، پسندیدہ نہیں ہے، معتبر نہیں۔ صیغہ ہفدھم۔ سترواں صیغہ بھئی۔ ہفدھم۔ اشدہ کہ در بلاغت اشدہ واقع است۔ کہتے ہیں قرآن میں اشدہ کا جو صیغہ آیا ہے، بلغ اشدہ کے اندر جو واقع ہے تو یہ اشدہ کون سا صیغہ ہے؟ آگے بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں جمع شدت است۔ یہ شدت کی جمع ہے۔ شدت یہ گول تا کے ساتھ ہونا چاہیے بھئی، عربی لفظ ہے۔ یہاں انہوں نے لمبی تا لکھ دی ہے۔ تو یہ کہتے ہیں شدت کی جمع ہے، بمعنی قوت۔ اور شدت کس معنی میں ہے؟ قوت۔ تو شدت کی جمع کیا؟ اشد۔ اشد۔ کیا ہے؟ اشد۔ اور قرآن میں تو کیا ہے؟ اشدہ۔ کیونکہ یہ مفعول ہے۔ کیا واقع ہو رہا ہے؟ مفعول۔ اور مفعول پر کیا آتا ہے؟ نصب۔ میں نے کیا بتایا؟ اشد۔ اور قرآن میں کیا ہے؟ اشدہ۔ اصل میں کیا تھا؟ اشد۔ اور پھر اس کی اضافت ہو گئی ہا ضمیر کی طرف اور اضافت کی وجہ سے تنوین گر جاتی ہے تو تنوین گر گئی تو کیا رہ گیا؟ اشدہ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں یہ جمع شدت است، بمعنی قوت۔ یہ شدت، بمعنی قوت کی جمع ہے۔ چو انعم، جمع نعمت جیسے کہ انعم جمع ہے نعمت کی۔ نعمت۔ دیکھو ادھر دیکھو۔ نعمت۔ شدت۔ ایک وزن ہے یا نہیں؟ اور نعمت کی جمع کیا؟ انعم۔ جیسے جیسے نعمت کی جمع انعم آتی ہے، اسی طرح شدت کی جمع اشدہ آتی ہے۔ اشدہ اصل میں تھا اشد، انعم۔ توجہ ہے؟ شدت، نعمت۔ ایک وزن ہے دیکھو۔ اور نعمت کی جمع کیا؟ انعم۔ اسی کے وزن پر بنا لو اشد۔ تو شدت کی جمع اشد جیسے کہ نعمت کی جمع انعم۔ پھر اشد میں کیا کیا؟ پہلے دال کی حرکت شین کو دے دی اور دال کا دال میں ادغام کیا تو اشد ہوا بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ بات سمجھ بھی آ رہی ہے یا میں تیز چل رہا ہوں؟ ہاں۔ تو کہتے ہیں چو انعم جمع نعمت جیسے کہ انعم جو ہے وہ نعمت کی جمع ہے۔ کذا فی البیضاوی جیسے کہ بیضاوی کے اندر ہے۔ میں نے بتلایا تھا بھئی بیضاوی قرآن مجید کی تفسیر ہے بھئی اور مشکل ترین تفاسیر میں سے ہے اور دورہ موقوف علیہ میں پڑھائی جاتی ہے بھئی۔ ساتویں سال میں۔ کذا فی البیضاوی جیسا کہ بیضاوی میں ہے و در قاموس احتمال بودن جمع شد کہ ہم بمعنی قوت است ہم نوشت۔ ایک بات تو ذکر کر دی کہ بیضاوی کے مطابق اشدہ جمع ہے کس کی؟ شدت کی، شدت کی۔ کہتے ہیں قاموس جو لغت کی کتاب ہے اس کے اندر اس کے شد کی جمع ہونے کا بھی احتمال ہے۔ کس کی جمع؟ شد۔ شد کی جمع اشد۔ بیضاوی والے تو کیا فرماتے ہیں؟ اشدہ کس کی جمع ہے؟ شدت کی۔ شدت کے آخر میں گول تا ہے اور شد کے آخر میں تو گول تا نہیں اور شین پر فتحہ بھی ہے بھئی تو بیضاوی والے فرماتے ہیں کہ یہ شدت کی جمع ہے اور قاموس میں یہ لکھا ہے کہ یہ شد کی جمع بھی ہو سکتی ہے اور شد کے معنی بھی قوت ہی کے ہیں بھئی، قوت اور طاقت۔ کہتے ہیں و در قاموس احتمال بودن جمع شد، قاموس کے اندر اس کے شد کی جمع ہونے کا احتمال کہ ہم بمعنی قوت است کہ وہ بھی قوت کے معنی میں ہے ہم نوشت۔ یہ بھی لکھا ہے۔ قاموس میں اس کا یہ احتمال بھی لکھا ہے۔ صیغہ ہجدھم۔ اٹھارویں کو کیا کہتے ہیں؟ ہجدھم۔ صیغہ ہجدھم لم یکو۔ جی۔ لم یکو کون سا صیغہ ہے؟ اصل میں کیا تھا؟ لم یکون۔ لم یکون۔ کان یکونو سے لم داخل ہوا تو واؤ گر گیا۔ کیونکہ واؤ بھی ساکن، نون بھی ساکن۔ کیا بن گیا؟ لم یکون۔ اور پھر اس میں کبھی کبھار نون کو بھی گرا دیتے ہیں۔ افادات کے اندر بھی مصنف نے ذکر کیا تھا بھئی۔ کہتے ہیں لم یکو بیان۔ در اصل لم یکون بود۔ یہ اصل میں لم یکون تھا، بموجب قاعدہ کہ از فعل ناقص نون آخر بہ وقت دخول جوازم جائز الحذف است، نون را حذف کردن۔ کہتے ہیں بموجب قاعدہ، اس قاعدے کی وجہ سے، کون سا قاعدہ؟ جو انہوں نے افادات میں ذکر کیا تھا کہ از فعل ناقص، کہ فعل ناقص سے نون آخر، آخر کا جو نون ہے، بہ وقت دخول جوازم، جوازم کے داخل ہونے کے وقت جائز الحذف است، اس کا حذف جائز ہے۔ اس ضابطے کے موافق نون را حذف کردند، نون کو حذف کر دیا۔ اس قاعدے کی وجہ سے نون کو حذف کر دیا۔ ضابطہ ذہن میں آ گیا؟ لم اكو دیکھا، لم اكو۔ اصل میں کیا تھا؟ لم یکون۔ متکلم کا صیغہ، اس میں بھی نون گر گیا۔ لم نکو۔ اصل میں کیا تھا؟ لم نکون تھا۔ نون گر گیا اس ضابطے سے۔ ان یکو۔ اصل میں کیا تھا؟ ان یکون۔ تو یہاں سے بھی نون اس ضابطے کی وجہ سے گر گیا۔ تو کہتے ہیں لم اكو، لم نکو، ان یکو ہم در قرآن مجید واقع شدند۔ یہ بھی قرآن مجید کے اندر واقع ہوئے ہیں۔ صیغہ نوزدھم بھئی۔ انیسواں صیغہ۔ انیس کو کیا، انیسویں کو کیا کہتے ہیں؟ نوزدھم بھئی۔ انیس کو کہیں گے نوزدہ اور انیسواں نوزدھم بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو انیسواں صیغہ جو ہے، یہدی۔ یہدی۔ یہ بتلا چکے ہیں، کون سا صیغہ ہے؟ اصل میں یَہْتَدِیْ یَہْتَدِیْ اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ باب افتعال میں عین کی جگہ اگر دال آ جائے یَہْتَدِیْ بر وزن یَفْتَعِلُ عین کی جگہ کیا آ رہی ہے دال۔ جب باب افتعال میں عین کی جگہ دال آ جائے تو تا کو بھی دال کر کے دال میں کیا کریں گے ادغام کریں گے تو کیا بن گیا یَہْتَدِیْ تھا تا کی حرکت ماقبل ہا کو دے دی اور تا کو دال کر کے دال میں ادغام کیا کیا بن گیا یَہَدِّیْ اور اسی میں ہا کو کسرہ دینا بھی جائز ہے یعنی یَہِدِّیْ پڑھنا بھی جائز ہے آپ پڑھ چکے ہیں بھئی۔ بات ذہن میں آئی کہ نہیں؟ یاد رکھیے پیچھے باب افتعال اور باب تفاعل کی تا سے متعلق کچھ خاص قوانین ذکر ہوئے تھے جہاں باب افتعال آیا تھا گردانیں انہوں نے بتلائی تھیں مختلف ابواب کی اور اسی طرح جہاں باب تفاعل آیا وہاں پر باب افتعال کی تا اور اسی طرح باب تفاعل کی تا وغیرہ جو ہیں اور اسی طرح باب استفعل کا جہاں ذکر آیا تھا تو وہاں اس کے باب استفعال کی تا سے متعلق کچھ خاص ضابطے ذکر کیے تھے تو آگے جتنے صیغے آ رہے ہیں ان میں وہی قوانین ذکر ہوں گے بھئی وہی قوانین اور ان قوانین کے مطابق تبدیلیاں اور اعلال وغیرہ ہوں گے۔ یہ جو آگے چند صیغے آ رہے ہیں ان میں وہ قوانین لگیں گے تو یہ سارے قوانین آپ پہلے پڑھ چکے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں یَہِدِّیْ بیان صیغہ واحد مذکر غائب اثبات مضارع معروف ناقص از افتعال باب افتعال سے دراصل یَہْتَدِیْ بود اصل میں یَہْتَدِیْ تھا چوں دال عین افتعال واقع شد جب عین افتعال جو ہے وہ دال واقع ہوئی جب عین افتعال دال واقع ہوئی تا را دال کردہ در دال ادغام کردن تو تا کو دال کر کے دال میں اس کا ادغام کر دیا و فارا کسرہ دادند اور فا کو فا کی جگہ ہا ہے نا یَہْتَدِیْ یَفْتَعِلُ تو اس ہا کو کیا دے دیا کسرہ یَہِدِّیْ تو کہتے ہیں فارا کسرہ دادند فا کو کسرہ دے دیا یَہِدِّیْ شو تو یَہِدِّیْ ہو گیا و فتحہ ہم جائز است اور فتحہ بھی جائز است یعنی یَہَدِّیْ ہم میں تواں گفت یَہَدِّیْ بھی کہہ سکتے ہیں۔ صیغہ بیستم بیسواں صیغہ یَخْتَصِمُوْنَ یَخْتَصِمُوْنَ بھئی اصل میں کیا تھا یَخْتَصِمُوْنَ یَخْتَصِمُوْنَ اور وہی ضابطہ جو ابھی یَہِدِّیْ کے اندر لگا کہ باب افتعال کا عین اگر صا د آجائے تو اس صورت میں بھی تا کو صا د کر کے صا د میں کیا کرتے ہیں ادغام کرتے ہیں تو کیا بن گیا یَخَصِّمُوْنَ اور اسی میں کیا پڑھنا جائز یَخِصِّمُوْنَ پڑھنا بھی جائز۔ تو کہتے ہیں یَخِصِّمُوْنَ در اصل یَخْتَصِمُوْنَ بود اصل میں یہ یَخْتَصِمُوْنَ تھا بسبب وقوع صاد بجاے عین افتعال کہتے ہیں عین افتعال کی جگہ پر صاد کے واقع ہونے کی وجہ سے کار بطاور یَہِدِّیْ کردند کار کا معنی ہوتا ہے کام یعنی عمل کار بطاور یَہِدِّیْ کردند یَہِدِّیْ کے طور پر کام عمل کیا گیا یعنی اسی کی طرح کا عمل کیا گیا شرح قاعدہ ایں ہر دو صیغہ در تصاریف ابواب گذشتہ است شرح قاعدہ ایں ہر دو صیغہ ان دونوں صیغوں کے ضابطے کی شرح اور وضاحت جو ہے در تصاریف ابواب گذشتہ است ابواب کی گردانوں میں گزر گئی ہے۔ صیغہ بیست و یکم بیسواں صیغہ وادَّکَرَّ وادَّکَرَّ کون سا صیغہ ہے صیغہ واحد مذکر ماضی معروف از افتعال اصل و کیا ہے حرف عطف اور صیغہ کیا ہے ادَّکَرَّ اور ادَّکَرَّ اصل میں کیا تھا اذْتَکَرَ اذْتَکَرَ ذال ہے اور پھر جب باب افتعال میں فا کی جگہ ذال آجائے تو تا کو کس سے بدلتے ہیں دال سے اور پھر چاہے اسی طرح رکھیں اذْتَکَرَ چاہے ذال کو دال کر کے دال میں ادغام کر دیں ادَّکَرَّ اور چاہیں تو دال کو ذال کر کے ذال میں ادغام کر دیں اذَّکَرَ تینوں صورتیں جائز ہیں۔ تو کہتے ہیں در اصل اذْتَکَرَ بود اصل میں یہ اذْتَکَرَ تھا بسبب وقوع ذال فای افتعال فای افتعال کے ذال ہونے کی وجہ سے ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ فای افتعال کے ذال ہونے کی بسبب وقوع ذال فای افتعال فای افتعال کی فای افتعال جو ہے وہ ذال ہونے کی وجہ سے ذال واقع ہونے کی وجہ سے تا را دال کردن تا کو دال کر دیا و ذال را دال نمودند اور ذال کو بھی دال کر دیا در دال ادغام کردن دال میں اس کا ادغام کر دیا۔ صیغہ بیست و دوم بائیسواں صیغہ مُدَّکِرٌ ازیں باب است مُدَّکِرٌ بھی اسی باب سے ہے و در تصاریف ابواب دانستہ اور ابواب کی گردانوں میں آپ نے جان لیا یعنی وہاں ذکر تھا ابواب کی گردانوں میں آپ نے جان لیا کہ دریں جا کہ اس جگہ میں اذْتَکَرَ اذْتَکَرَ نہیں اذْتَکَرَ اذْتَکَرَ ہاں یہ دوسرے ذال پر جو نقطہ لگا ہے یہ غلط ہے کتابت کی غلطی ہے آپ نے جانا ہے کہ دریں جا اس جگہ پر اذْتَکَرَ بفقہ ادغام فقی ادغام کے ساتھ و اذَّکَرَ اور اذَّکَرَ با ابدال دال با ذال دال کو ذال کے ساتھ بدل کر و ادغام اور ادغام کر کے ہم آمدہ یہ بھی آیا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی کیا؟ جب باب افتعال میں فا کی جگہ کیا آجائے ذال تو پھر تا کو ہمیشہ دال سے بدلیں گے جب دال سے بدل دیا اب آگے تین صورتیں ہیں یا تو اسی طرح رکھو فقی ادغام کے ساتھ اذْتَکَرَ یا دال کو ذال کر کے ذال میں ادغام کر دو اذَّکَرَ یا ذال کو دال کر کے دال میں ادغام کر دو ادَّکَرَّ تینوں صورتیں یہاں پر جائز ہیں بھئی۔ صیغہ بیست و سوم تئویسواں صیغہ تَدَّعُوْنَ تَدَّعُوْنَ کون سا صیغہ ہے بھئی جمع مذکر حاضر ہے باپ کون سا ہے تَدَّعُوْنَ جی باب افتعال ہاں یہ بھی باب افتعال ہے شاباش باب افتعال۔ تو کہتے ہیں بیان بھئی صیغہ جمع مذکر حاضر اثبات مضارع معلوم است ناقص واوی اور یہ کیا ہے ناقص واوی ہے دعا یدعو ہے نا مادہ از افتعال باب افتعال سے در اصل اصل میں یہ تَتْدَعِیُوْنَ بود اصل میں یہ تَتْدَعِیُوْنَ تھا تفتعلون تكتسبون کیا بن گیا تَدْتَعِیُوْنَ پھر کیا کیا فای کی جگہ دال آیا باب افتعال میں توجہ ہے؟ اور باب افتعال میں فا کی جگہ دال آجائے تو تا کو بھی دال میں بدلتے ہیں اور پھر دال کا دال میں ادغام کرتے ہیں۔ تو کیا بن گیا تَدَّعِیُوْنَ توجہ ہے؟ تَدَّعِیُوْنَ ابھی ایک اعلال کیا ہے نا باقی اعلال ہم نے نہیں کیا تَدَّعِیُوْنَ پھر اس کے بعد یا پر ضمہ ثقیل تھا اور وہ عین کو نقل کیا عین کی اپنی حرکت گرا دی اور یا کا ضمہ کس کو دے دیا؟ بھئی تَدَّعِیُوْنَ سے کیا بنانا ہے؟ تَدَّعُوْنَ بنانا ہے تو آپ خود دیکھ لیں کیسے بنے گا یا پر ضمہ ثقیل تھا کس کو دیا عین کو دیا عین کی اپنی حرکت پہلے گرا دی اور پھر ماقبل ضمے کی وجہ سے یا کس سے بدل گئی واو سے ایک واو پہلے تھا ایک واو یہ آیا تو اجتماع ساکنین آیا تو ایک واو کو گرا دیا تو کیا بن گیا تَدَّعُوْنَ۔ تو کہتے ہیں در اصل تَتْدَعِیُوْنَ بود اصل میں یہ تَتْدَعِیُوْنَ تھا۔ تا بسببِ فابودن دال شُدَا، تا جو ہے وہ فا کے دال ہونے کی وجہ سے۔ بھئی یہاں دو دفعہ لفظ دال آنا چاہیئے تا بسببِ فابودن دال، تا جو ہے وہ فا کے دال ہونے کی وجہ سے دال شُدا کیا ہو گئی؟ دال ہو گئی۔ تو یہاں دو دفعہ لفظ دال آنا چاہیئے بھئی۔ یہاں ایک دفعہ لکھا ہے نا فابودن دال دال شُدَا، دو دفعہ دال ہونا چاہیئے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ ترجمہ سنو! تا بسببِ فابودن دال، فا کے دال ہونے کی وجہ سے تا جو ہے دال شُدا وہ دال ہو گئی۔ در دال ادغام یافتہ اور دال میں اس نے ادغام پا لیا۔ و یا بقاعدہ ترمون حذَف گشتَا اور یا جو ہے وہ ترمون کے ضابطے سے حذَف ہو گئی۔ وہی یا پر ضمہ ثقیل تھا وہ کس کو دے دیا ما قبل کو دے دیا۔ صِیغہ بیست و چہارم، چوبیسواں صِیغہ مُّزْدَجَر مُّزْدَجَر کون سا صِیغہ ہے؟ بیان کہتے ہیں مصدرِ مِیمی است یہ مصدرِ مِیمی ہے۔ صحیح اور صحیح ہے ہفت اقسام میں از افتِعال کس باب سے ہے؟ بابِ افتِعال سے ہے، در اصل مُّزْدَجَرٌ بودَا اصل میں یہ کیا تھا؟ مُّزْدَجَر تھا بھئی۔ پھر یہ بابِ افتِعال میں فا کی جگہ اگر ضا آجائے تو تا کو کس سے بدلتے ہیں؟ دال سے تو کیا بن گیا مُّزْدَجَر؟ در اصل مُّزْدَجَرٌ بودَا اصل میں یہ مُّزْدَجَرٌ تھا بسببِ ضا بودنِ فا، ضا کے فا ہونے کی وجہ سے ضا کس جگہ آئی تھی؟ فا کی جگہ تو بسببِ ضا بودنِ فا، فا کے ضا ہونے کی وجہ سے تا دال شُدا تا جو ہے وہ دال ہو گئی و باعتبارِ وزن اور وزن کے اعتبار سے صِیغہ مَفْعُول و ظَرْف ہمِیشَہ توَّانَد شُد یہ مَفْعُول اور ظَرْف کا صِیغہ بھی ہو سکتا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جو ثلاثی مزید فیہ وغیرہ ہیں ان میں جو اسمِ مَفْعُول ہوتا ہے ظَرْف کا صِیغہ بھی اسی وزن پر آتا ہے اور عموماً اسی وزن پر ان کے مصادر بھی آتے ہیں ان کو مصدرِ مِیمی کہتے ہیں کیونکہ شروع میں کیا ہوتا ہے؟ مِیم ہوتا ہے۔ اکرم یُکْرِمُ اکراماً اس میں مَفْعُول کیا؟ مُکْرَم، ظَرْف بھی کیا؟ مُکْرَم اور اسی وزن پر اس کا مصدر بھی آئے گا مُکْرَم اسے کیا کہیں گے مصدرِ مِیمی۔ یہ معنی ہے ہے تو مصدرِ مِیمی لیکن وزن کے اعتبار سے صِیغہ مَفْعُول و ظَرْف ہمِیشَہ توَّانَد شُد یہ مَفْعُول اور ظَرْف کا صِیغہ بھی ہو سکتا ہے۔ شرحِ قاعدہ در تصاریفِ ابواب گذشتہ قاعدے کی شَرَح جو ہے وہ ابواب کی اس گردانوں کے اندر گزر گئی۔ صِیغہ بیست و پنجم، پچیسواں صِیغہ فَمنِضْطُرَّ فَمنِضْطُرَّ کون سا صِیغہ ہے؟ واحدِ مذکر غائب۔ ہاں اِضْطُرَّ اِضْطُرَّ اور شروع میں من آگیا۔ اور اِضْطُرَّ کا ہمزہ کیا ہے؟ وصلی ہمزہ وصلی ہے اور تو وہ گر گیا تو اِضْطُرَّ کا ضاد بھی ساکن اور ما قبل میں من کا نون بھی ساکن تو اجتماع ساکنین لا علی حدِّہِ آيا اور پہلا مدّہ ہوتا تو گرا دیتے لیکن پہلا تو نون ہے تو اس کو پھر حرکت دی تو کیا بن گیا فَمنِضْطُرَّ اور اِضْطُرَّ کون سا صِیغہ ہے؟ واحدِ مذکر غائب ماضی مجہول ہے بھئی بابِ افتِعال ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں فَمنِضْطُرَّ بیان بھئی اِضْطُرَّ صِیغہ واحدِ مذکر غائب اِثبات ماضی مجہول مضاف از افتِعال ہفت اقسام میں یہ کیا ہے؟ مضاف ہے بابِ افتِعال سے ہمزہ وصل بسببِ درج افتادہ ہمزہ سبب جو ہے درمیان میں ہونے کی وجہ سے گر گیا و الفِ ما با ساکنین اور ما کا جو الف ہے وہ اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے (یعنی اس کی وجہ سے) گر گیا و تا افتِعال بسببِ ضاد طا شُدا اور افتِعال کی جو تا ہے وہ ضاد کی وجہ سے طا ہو گئی کیونکہ بابِ افتِعال میں فا کی جگہ اگر ضاد آجائے تو تا کو کس سے بدلتے ہیں؟ طا سے بدلتے ہیں۔ صِیغہ سمجھ میں آگیا؟ آگے صِیغہ جو ہے بیست و ششم، چھبیسواں صِیغہ مَضْطُرِرْتُم مَضْطُرِرْتُم اصل میں کیا تھا؟ ما اِضْطُرِرْتُم ما اِضْطُرِرْتُم کون سا صِیغہ ہے؟ جمعِ مذکر مَضْطُرِرْتُم یہ تم سے پتہ لگ رہا ہے کہ نہیں؟ جمعِ مذکر حاضر ہے بھئی کس سے؟ ماضی بھئی ماضی مجہول بھئی۔ بیان در قرآنِ مجید اِلاَّ مَضْطُرِرْتُم اِلَيْهِ واقع است قرآنِ مجید میں اِلاَّ مَضْطُرِرْتُم اِلَيْهِ واقع ہے اِضْطُرِرْتُم صِیغہ جمعِ مذکر حاضر اِثبات ماضی مجہول است یہ جمعِ مذکر حاضر اِثبات ماضی مجہول ہے، مضاف اور ہفت اقسام میں کیا ہے؟ مضاف مادہ کیا ہے؟ مضاف ہے ضاد را را ضرر ضرر پچھلے صِیغے کا بھی یہی مادہ اس کا بھی یہی۔ تو مضاف از افتِعال مضاف ہے بابِ افتِعال سے ہمزہ وصل بسببِ درج افتادہ ہمزہ سبب جو ہے درمیان میں ہونے کی وجہ سے گر گیا و الفِ ما با ساکنین اور ما کا جو الف ہے وہ ساکنین کی وجہ سے گر گیا۔ فَمَضْطُرُّو شُدَا تو فَمَضْطُرُّو ہو گیا صِیغہ بیست و ہشتم، اٹھائیسواں صِیغہ لَمْ تَسْتَطِعْ یہ بھی وہی اسی باب سے ہے لَمْ تَسْتَطِعْ کہتے ہیں بیان در اصل لَمْ تَسْتَطِیْعُ بود اصل میں یہ لَمْ تَسْتَطِیْعُ تھا تا تا کو حذف کر دیا، تا کو حذف کر دیا اور اِعْلَال در ایں مثلِ لَمْ يَسْتَقִیمْ شُدَا اور اس میں لَمْ يَسْتَقִیمْ کی طرح اِعْلَال ہوا بھئی۔ کس کی طرح؟ لَمْ يَسْتَقִیمْ۔ لَمْ يَسْتَقִیمْ کیا تھا اصل میں؟ يَسْتَقِيْمُ سے بنا ہے نا کس سے؟ پھر لَمْ آیا تو مِیم بھی ساکن اور یا پہلے ہی ساکن تھی تو اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے یا گر گئی تو کیا بن گیا؟ لَمْ يَسْتَقִیمْ اسی طرح یہاں بھی ہوا ہے عَيْن سے پہلے لَمْ تَسْتَطِیْعُ میں عَيْن سے پہلے یا گری ہے۔ صِیغہ بیست و نہم، انتیسواں صِیغہ مُّزِیّاً مُّزِیّاً یہ کون سا صِیغہ ہے؟ بیان بھئی کہتے ہیں مصدرِ اَسْتِ نَاقِص یہ مصدر ہے ناقص ہے از مَضَا یَمْزِی کس سے؟ مَضَا یَمْزِی سے بھئی۔ در اصل مَضُوْیّاً بودَا اصل میں یہ کیا تھا؟ مَضُوْیّاً تھا یہ حرکات غلط لگی ہوئی ہیں آپ کی کتاب میں مَضُوْیّاً مَضُوْیُّن بھئی اِدھر دیکھیے مَضُوْیُّن فَعُولٌ فَعُولُن تو پھر وَو اور یا جمع ہو گئے ان میں سے اول ساکن تھا تو اس وَو کو بھی یا کر کے یا میں اِدغام کیا تو کیا بن گیا؟ جی؟ مَضُوْیُّن پھر یا کی وجہ سے ضاد کو کَسْرَہ دیا تو کیا بن گیا؟ مَضِیّاً تو کہتے ہیں ناقص ہے از مَضَا یَمْزِی مَضَا یَمْزِی سے در اصل مَضُوْیّاً بودَا اصل میں یہ مَضُوْیّاً تھا بقاعدہ مَرْمیّاً اِعْلَال کردَن اسمِ مَرْمیُّن کے ضابطے سے اِعْلَال کیا۔ مَرْمیُّن اصل میں کیا تھا؟ مَرْموِیُّن دیکھا وَو کو یا کر کے یا میں اِدغام کیا۔ پھر ما قبل کو کَسْرَہ دیا۔ و در ایں کَسْرَہِ فا ہم جائز است اور اس میں فا کا کَسْرَہ بھی جائز ہے۔ فا کیا ہے اس میں؟ ہاں مِیم ہے مَضَا یَمْزِی مادہ دیکھو نا تو یعنی اس میں مِضِیّاً پڑھنا بھی جائز اور مَضِیّاً پڑھنا بھی جائز۔ صِیغہ سیوم صِیغہ سیوم تیسواں صِیغہ 10 کو کہتے ہیں دَہ، 20 کو کہتے ہیں بِیسْت اور 30 کو کہتے ہیں سی۔ 40 کو کہتے ہیں چہل، 50 کو کہتے ہیں پنجاہ۔ اب دَہ کا معنی دس اور دسواں ہو تو کیا کہیں گے؟ دَہُم بِیسْت کا معنی بِیسْت اگر کہیں بِیسْت واں تو کیا کہیں گے؟ بِیسْتُم یا یا کو بھی گرا دو بِیسْتُم اور اور 30 کو کیا کہتے ہیں؟ سی، سی تو اس کے آخر میں ہمزہ اور مِیم جوڑ دیں گے سیئم۔ ایک ہے تیسرا وہ ہے سِیُّوم وَو مُشَدَّد ہے اور یہ ہے سیئم۔ تو دیکھیے کتاب پر صِیغہ سِیُّوم تیسواں صِیغہ عِصِیُّھُمْ عِصِیُّھُمْ یہ عِصِیٌّ کون سا صِیغہ ہے؟ یہ آپ کو بتلائیں گے یہ جمع ہے عَصَا کی، عَصَا کی اور فَعُول وزن پر ہے اصل میں کیا تھا؟ عُصُوٌّ عُصُوٌّ عَصَا لاٹھی کو کہتے ہیں عُصُوٌّ اور فَعُول وزن میں آپ نے پڑھا تھا کہ آخر میں اگر دو وَو جمع ہو جائیں تو کیا کرتے ہیں ان کو یا سے بدل دیتے ہیں ان کا اِدغام کرتے ہیں اور ما قبل کا ضَمَّہ کس سے بدل جاتا ہے؟ کَسْرَہ سے تو کیا بن گیا؟ عِصِیٌّ عِصِیٌّ۔ کہتے ہیں عِصِیٌّ جمعِ عَصَا اَسْت یہ عَصَا کی جمع ہے در اصل عُصُوٌّ بود اصل میں یہ عُصُوٌّ بقاعدۂ دِلِیٌّ ہر دو وَو یا شُدَا دِلِیٌّ کے ضابطے سے دونوں وَو یا ہوئے ضَمَّہ ہائے ما قبل کَسْرَہ گَشْتَا ما قبل کے ضَمّے جو ہیں وہ کَسْرَہ ہو گئے۔ ما قبل کے ضَمّے جو ہیں وہ کَسْرَہ ہو گئے۔ اصل میں کیا تھا؟ عُصُوٌّ تھا نا جی جی۔ پھر دونوں وَو کو یا سے بدل دیا اور یا کا یا میں اِدغام کر دیا اور ما قبل میں صَاد پہ بھی ضَمَّہ اور عَيْن پہ بھی ضَمَّہ تو دونوں ضَمَّے کس سے بدل گئے؟ کَسْرَہ سے تو کیا بن گئے؟ عِصِیٌّ بات سمجھ میں آگئی یہ معنی ہے ضَمَّہ ہائے ما قبل کَسْرَہ گَشْتَا دیکھو ہا آ رہی ہے جمع کے لیے ضَمَّہ ہائے ما قبل، ما قبل کے ضَمّے جو ہیں کَسْرَہ گَشْتَا وہ کَسْرَہ ہو گئے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ صِیغہ سِیُّو یَکُم صِیغہ سِیُّو یَکُم اکتیسواں صِیغہ لَنَسْفَعَنْ لَنَسْفَعَنْ کون سا صِیغہ ہے؟ کہتے ہیں بیان لَنَسْفَعَنْ یہ اصل میں کیا تھا؟ یہ لَنَسْفَعَنْ ہے اور یہ آخر میں نونِ خفیفہ ہے۔ آخر میں کیا ہے؟ نونِ خفیفہ ہے اور شروع میں لامِ تاکید ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے لامِ تاکید اور آخر میں کیا ہے؟ نونِ خفیفہ۔ تو کہتے ہیں لَنَسْفَعَنْ بر وزنِ لَنَفْعَلَنَّ صِیغہ متکلم مع الغیر لامِ تاکید با نونِ خفیف است کہتے ہیں متکلم مع الغیر (یعنی جمع متکلم) کا صِیغہ ہے لامِ تاکید با نونِ خفیف کس کے ساتھ؟ لامِ تاکید با نونِ تو کہتے ہیں صِیغہ متکلم مع الغیر لامِ تاکید با نونِ خفیف است یہ صِیغہ متکلم مع الغیر لامِ تاکید با نونِ خفیفہ ہے گاہِ نونِ خفیفہ را با مُشَاكَلَتِ تنوین بہ صورتش می نویسند بھئی اس صِیغے میں دراصل اشکال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ جو انہوں نے لکھا نا پہلا لَنَسْفَعَنْ عَيْن پر تنوین لکھی۔ عَيْن کو تنوین لکھی تو یہ تنوین در اصل وہ نونِ خفیفہ ہے۔ اور نونِ خفیفہ نونِ ساکن کا نام تنوین بھی کس کا نام؟ نونِ ساکن کا نام تو دونوں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں اس لیے کبھی کبھار نونِ خفیفہ کو تنوین کی صورت میں بھی لکھ دیتے ہیں جیسے یہاں ہے لَنَسْفَعَنْ تو یہ تنوین نہیں ہے دراصل کیا ہے؟ نونِ خفیفہ ہے۔ تو کہتے ہیں گاہِ نونِ خفیفہ را با مُشَاكَلَتِ تنوین کہتے ہیں کبھی کبھار نونِ خفیفہ کو تنوین کی مُشَاكَلَت، تنوین کی مشابہت کی وجہ سے مُشَاكَلَت؟ یعنی اس سے مشابہت ہے اس جیسی صورت ہے۔ تو گاہِ نونِ خفیفہ را کبھی نونِ خفیفہ کو با مُشَاكَلَتِ تنوین تنوین کے مشاگل، تنوین کے ہم شکل ہونے کی وجہ سے بہ صورتش می نویسند اسی تنوین کی صورت میں لکھ دیتے ہیں بہ ہمو وزن نوشتن اسی طریقے پر لکھ لیا لہٰذا صِیغہ اشکال پیدا کرد لہٰذا صِیغے نے اشکال پیدا کیا۔ صِیغہ سی و دووم بتیسواں صِیغہ نَبْغِی بیان نَبْغِی مثلِ نَرْمِی اَسْت نَبْغِی کس طرح ہے؟ نَرْمِی نَرْمِی کون سا صِیغہ ہے؟ جمع متکلم کا کون سی باب ہے؟ بابِ بابِ ضَرَبَ ہے اور ناقص ہے بھئی رَمَا یَرْمِی سے نرمی نَرْمِی۔ تو کہتے ہیں نَبْغِی مثلِ نَرْمِی اَسْت یہ نرمی کی طرح ہے یا را بہ ایں قاعدہ کہ در حالتِ وقف اچھا یہاں پر ایک اور قیمتی بات آپ کو بتلا رہے ہیں کہتے ہیں نَبْغِی توجہ ہے اصل میں کیا تھا؟ نَبْغِی یہ آخر میں یا کیوں گر گئی؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ کبھی کبھار ناقص کے آخر سے حرفِ علت کو عرب بغیر کسی وجہ کے حذف کر دیتے ہیں۔ مثلاً بولنا تھا نَدْعُو عرب کیا بولے گا؟ نَدْعُو بولنا تھا یَرْمِی عرب کیا بولے گا؟ یَرْمِی تو ان کا یہ انداز ہے کہ اگر صِیغہ ناقص کا ہو آخر میں حرفِ علت ہو تو کبھی اس کو بغیر وجہ کے بھی حذف کر دیتے ہیں۔ تخفیف کے لیے تو کہتے ہیں یا را بہ ایں قاعدہ یا کو اس ضابطے سے کہ در حالتِ وقف کے وقف کی حالت از آہ ہاں لیکن یہ درمیانِ کلام میں نہیں بلکہ کس وقت گراتے ہیں حرفِ علت کو؟ وقف کی صورت میں یعنی جب کلام کو ختم کر رہے ہوں کلام جملے کے آخر میں آگیا وہاں وقف کرنے لگے ہیں رکنے لگے ہیں تو یا یا وَو یا الف جو ہو اس کو گرا دیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں یار اب یہ قاعدہ کہ یا کو اس ضابطے سے کہ درحالتِ وقف کے وقف کی حالت میں از آخرِ ناقص حذفِ حرفِ علت جائز است کہ کہ وقف کی حالت میں ناقص کے آخر سے حرفِ علت کا حذف جائز ہے. اس ضابطے سے یا را حذف کر دیں. پیچھے کیا آیا تھا؟ یا را یا کو آگے آ رہا ہے حذف کر دیں حذف کرتے ہیں درمیان میں بتایا بھئی قاعدہ اس قاعدے سے. عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا را حذف کر دیں یا کو حذف کر دیا. محققینِ علمِ صرف لکھتاں اور علمِ صرف کے محققین نے لکھا ہے کہ علی الاطلاق محاورۂ عرب است کہ بے جزم و وقف ہم در یدعو یرمی یدعو یرمی میں گویاں. کہ علی الاطلاق محاورۂ عرب است کہ علی الاطلاق عرب کا محاورہ ہے یعنی ان کی گفتگو کا طریقہ ہے کہ بے جزم و وقف کہ بغیر وقف کے بھی در یدعو یرمی یدعو یرمی میں یدعو اور یرمی میں یدعو اور یرمی کہتے ہیں بھئی. عبارت سمجھ میں آ گئی؟ کہ علی الاطلاق آ محاورۂ عرب است علی الاطلاق عرب کا محاورہ ہے یعنی مطلقا کوئی خاص لفظ کوئی خاص صیغے سے نہیں ہے یہ متعلق بلکہ علی الاطلاق عرب کے یہ محاورہ ہے یعنی ان کی گفتگو کا طریقہ ہے کہ بے جزم و وقف ہم کہ بغیر جزم اور وقف کے بھی در یدعو یرمی یدعو اور یرمی میں یدعو یرمی میں گویاں یدعو یرمی کہتے ہیں یعنی واو اور یا کو گرا دیتے ہیں بات سمجھ میں آ گئی چلیے بس بھئی اب اردو کی کتاب میں بھی دیکھ لیجیے یہاں تک ساری باتیں سمجھ میں آ گئیں. اور یہ بھی ممکن ہے کہ بابِ افعال سے عبارت مل گئی سب کو؟ اور یہ بھی ممکن ہے کہ بابِ افعال سے صیغۂ تثنیہ مذکر غائب ماضی معروف ہو کہ آخر میں نونِ وقایہ اور یائے متکلم تھی یا حذف ہو گئی اور نون کا کسرہ وقف کی وجہ سے گر گیا. اور لفظِ قالین میں دو اور احتمال ہیں ایک یہ کہ بابِ مفاعلہ سے قال یقال ناقص کا صیغہ جمع مؤنث امر حاضر معروف ہو اور قیلن بمعنی دشمنی کرنا سے ماخوذ ہو. دشمنی کرنا. دوسرا یہ کہ اسی باب سے واحد مؤنث امر حاضر معروف ہو آخر میں نونِ وقایہ و یائے متکلم لگ کر یا حذف ہو گئی اور نونِ وقایہ کا کسرہ وقف کے باعث گر گیا لیکن یہ دونوں احتمال قرآنِ مجید میں جاری نہیں ہو سکتے کیونکہ انی لعملکم من القالین معرف باللام واقع ہوا ہے. قولین جو کتابِ مشہور جو انا موی کا پہلا صیغہ ہے وہ بھی اسی باب سے جمع مؤنث غائب اثباتِ ماضی مجہول ہے. فائدہ: کتابِ مذکورہ میں اکثر صیغوں کے اعلالات غلط بیان کر دیے گئے ہیں اس لیے یہ کتاب محققین کے نزدیک مقبول نہیں. اکیسواں صیغہ اشدہ جو بلغ اشدہ ہوں میں ہے. شدت بمعنی قوت کی جمع ہے جیسے نعمت کی جمع انعم تضاد البیضاوی اور قاموس میں یہ احتمال بھی لکھا ہے کہ شد کی جمع ہو جو قوت ہی کے معنی میں ہے. بائیسواں صیغہ لم یکو بیان در اصل لم یکن تھا کیونکہ قاعدہ ہے کہ فعلِ ناقص کا آخری نون بوقتِ جوازم جائز الحذف ہے اس لیے نون کو حذف کر دیا لم اكو لم نکو یوں بھی قرآنِ مجید میں واقع ہوئے ہیں. چھبیسواں صیغہ اچھا یہ اپنے نمبر لگا رہے ہیں بھئی معلوم ہوا فارسی کے اپنے نمبر ہیں یا یہ مصنف نے شاید نمبر نہیں لگائے تو وہ اپنے نمبر یہ لگا رہے ہیں لم اكو لم نکو یوں ان کو بھی شمار کر لیا تو پچھلا صیغہ تھا دیکھو لم یکو کتنا تھا بائیس اب کون سا ہے چھبیس اسی طرح ہیں ہاں تو یہ معلوم ہوا لم اكو لم نکو یوں ان کو بھی انہوں نے شمار کر لیا. تو بہرحال معلوم ہوا یہ ان کے نمبر اپنے لگائے ہوئے ہیں انہوں نے تو چھبیسواں صیغہ یہدی بیان افتعال سے صیغہ واحد مذکر غائب اثباتِ مضارع معروف ناقص ہے دراصل یہتد تھا کیونکہ افتعال کا عین کلمہ دال تھا تا کو دال سے بدل کر دال میں ادغام کیا اور فا کو کسرہ دے دیا یہدی ہوا اور فتحہ بھی جائز ہے یہدی بھی کہہ سکتے ہیں. ستائیسواں صیغہ یختصمون دراصل یختصمون تھا عینِ افتعال کی جگہ صاد ہونے کے باعث یہدی کا سا عمل کر دیا گیا. ان دونوں صیغوں کے قاعدہ کا بیان ابواب کی گردانوں میں ہو چکا ہے. اٹھائیسواں صیغہ و ذکرا بیان در اصل اذتکر تھا فِ افتعال ذال ہونے کے باعث تا کو دال سے بدلا اور ذال کو دال سے بدل کر دال میں ادغام کر دیا. انتیسواں صیغہ مذكر بیان اسی باب سے ہے اور تصاریفِ ابواب میں تم جان چکے ہو کہ یہاں فکے ادغام یعنی ادذکر اور دال کو ذال سے بدل کر ادذکر بھی جائز ہے. تیسواں صیغہ تدعون بیان افتعال سے ناقصِ واوی صیغہ جمع مذکر حاضر اثباتِ مضارع معلوم ہے در اصل تتدعیون تھا ف کے دال ہونے کے باعث تا دال ہو کر دالِ اول میں مدغم ہو گئی اور یا بقاعدۂ ترمونا حذف ہو گئی. اکتیسواں صیغہ مزدجر بیان افتعال سے مصدرِ میمی صحیح ہے یعنی ہفت اقسام میں صحیح ہے در اصل مزدجرون تھا ف کے زا ہونے کے باعث تا دال سے بدل گئی اور وزن کے اعتبار سے صیغہ مفعول و ظرف بھی ہو سکتا ہے قاعدہ کا بیان ابواب کی گردانوں میں ہو چکا ہے. بتیسواں صیغہ فمن اضطر بیان افتعال سے اضطر صیغہ واحد مذکر غائب اثباتِ ماضی مجہول مضاف ہے. ہمزۂ وصل درمیان میں آنے کے باعث گر گیا اور نونِ ساکن الساکن اذا حرک حرک بالکسر کے قاعدہ سے مکسور ہو گیا اور تِ افتعال ضاد کے باعث ط سے بدل گئی. تینتیسواں صیغہ مضطررتم بیان قرآنِ مجید میں الا مضطررتم إليه ہے افتعال سے مضاعف صیغہ جمع مذکر حاضر اثباتِ ماضی مجہول ہے ہمزۂ وصل درمیان میں آنے کے باعث گرا اور ما کا الف ساکنین کے باعث اور تِ افتعال ضاد کے باعث ط ہو گئی. چৌتیسواں صیغہ فما استطاعوا بیان در اصل فما استطاعوا تھا استفعال سے صیغہ جمع مذکر غائب نفی ماضی معروف اجوفِ واوی ہے تاِ استفعال حذف کر دی گئی اور ہمزۂ وصل درمیان میں ہونے کے باعث اور ما کا الف ساکنین کے باعث گر گیا فما استطاعوا ہوا. پینتیسواں صیغہ لم تستطیع بیان در اصل لم تستطیع تھا تا حذف کر دی گئی اور اعلال لم يستقيم کی طرح ہے. چھتیسواں صیغہ مضییا بیان مضا یمضی کا مصدرِ ناقص ہے در اصل مضویان تھا بقاعدۂ مرمي اعلال کیا گیا اور اس میں کسرۂ فا بھی جائز ہے. سینتیسواں صیغہ عصیہم بیان عصی کی جمع عصیون ہے در اصل عُصوب تھا بقاعدۂ دلیون دونوں واو یا سے بدل کر ما قبل کے ضمہ کسرہ سے بدل گئے. اٹھتیسواں صیغہ لانصفعم بیان لانصفعن بر وزن لانفعان صیغہ متکلم مع الغیر لامِ تاکید بانُونِ خفیفہ ہے کبھی نونِ خفیفہ کو تنوین کی مشابہت کے باعث اس کی صورت میں لکھ دیتے ہیں. یہاں اسی طرح لکھا گیا ہے اسی لیے صیغے میں اشکال پیدا ہو گیا. انتیسواں صیغہ نبغی بیان نبغی مثل نرمی ہے یا کو اس قاعدے سے حذف کیا گیا ہے کہ حالتِ وقف میں ناقص کے آخر سے حرفِ علت کا حذف جائز ہے اور محققینِ علمِ صرف نے لکھا ہے کہ علی الاطلاق عرب کا محاورہ ہے کہ بغیر جزم و وقف کے بھی یدعو یرمی کو یدعو یرمی کہہ دیتے ہیں. بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام.