LESSONS NO. 92 1 ثم البديهيات ستة، أحدثها الأوليات، وهي قضايا يجزم العقل فيها بمجرد الإلتفات والتصور، ولا يحتاج إلى واسطة كقولك: الكل أعظم من الجزء. وثانيها الفطريات، وهي ما يفتقر إلى واسطة غير غائبة عن الذهن أصلا، ويقال لهذه القضايا: قضايا قياساتها معها. بھئی، مادۂ قياس کی بحث چل رہی ہے۔ اور مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ مادہ کے اعتبار سے جو قياس ہے، وہ پانچ قسم پر ہے بھئی۔ اور انہیں صناعاتِ خمسہ کہا جاتا ہے۔ ایک ان میں سے قياسِ برہانی ہے، ایک قياسِ جدلی ہے، ایک قياسِ خطابی ہے، ایک قياسِ شعری ہے اور ایک قياسِ سفسطی ہے۔ اور مادۂ قياس سے کیا مراد ہے؟ میں تفصیلاً بیان کر چکا ہوں کہ وہ تصدیقات جن سے قياس بنتا ہے، وہ مادۂ قياس ہیں۔ اور وہ تصدیق کئی قسم پر ہو سکتی ہے: ظن کے قبیل سے بھی ہو سکتی ہے، تقلید کے قبیل سے بھی ہو سکتی ہے، یقین کے قبیل سے بھی ہو سکتی ہے اور جہلِ مرکب بھی بھئی۔ ظن، تقلید، یقین اور جہلِ مرکب۔ ظن، جس میں غالب گمان ہوتا ہے، ہاں، دوسری جانب بھی ذہن میں موجود ہوتی ہے، جانبِ مخالف بھی۔ جبکہ تقلید، اس میں یقین ہوتا ہے، دوسری جانب ذہن میں نہیں ہوتی، لیکن یہ اس قسم کا یقین ہے جو تشکیکِ مشکک سے زائل ہو جاتا ہے، اگر کوئی اس کو توڑنا چاہے، توڑ سکتا ہے۔ اور ایک ہے یقین، یقین وہ ہے جو تشکیکِ مشکک سے زائل نہ ہو اور یہ واقع کے مطابق ہوتا ہے۔ جبکہ جہلِ مرکب میں بھی یقین اسی درجے کا ہوتا ہے، لیکن یہ واقع کے مطابق نہیں ہوتا بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہلِ مرکب بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا سب سے قوی ان میں جو قسم ہے قياس کی، وہ قياسِ برہانی ہے، کیونکہ وہ یقینیات سے مرکب ہوتا ہے۔ کس سے مرکب ہوتا ہے؟ یقینیات سے مرکب ہوتا ہے۔ اور پھر یہ بھی انہوں نے آپ کو بتلایا کہ وہ جو قضایا ہیں جو یقینیات ہیں، وہ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور ایسے نظری بھی، جن کی انتہا کس پر ہو رہی ہو گی؟ بدیہی پر ہو رہی ہو گی۔ ایسے بدیہی، ایسے نظری جن کی انتہا بدیہی پر ہو رہی ہو گی، یعنی وہیں سے آئے ہوں گے یہ بھئی۔ تو کہتے ہیں بعضوں نے جو گمان کیا کہ برہان جو ہے وہ بدیہیات ہی سے بنتا ہے، کہتے ہیں ان کا یہ گمان صحیح نہیں۔ بدیہیات بھی ہو سکتے ہیں، نظریات بھی، لیکن وہ نظریات آئے کہاں سے ہوں گے؟ بدیہیات ہی سے آئے ہوں گے بھئی۔ اب بدیہیات کی قسمیں بتلانے لگے ہیں بھئی۔ کیونکہ قياسِ برہانی اس میں بتایا کہ یا وہ یقینیات بدیہی ہوں گے یا ایسے نظری ہوں گے جو کہاں سے آئے ہوں گے؟ بدیہی سے۔ تو اب بدیہی کی اقسام گنوا، بتلا رہے ہیں آپ کو بھئی۔ کہتے ہیں: ثم البديهيات ستة، پھر بدیہیات چھ ہیں۔ چھ ہیں۔ احدها الأوليات، ان میں سے ایک کیا ہے؟ اولیات۔ ایک یہ اولیات ہے، دوسرا آگے آ رہا ہے فظريات، اسی طرح ایک ہے حدسیات، حسيات، اور ایک آگے آئے گا مشاهدات، ایک قسم آئے گی تجربیات اور ایک قسم آئے گی متواترات بھئی۔ چھ قسمیں یہ بیان کریں گے: اولیات، فطریات، حدسیات، مشاهدات، تجربیات اور متواترات بھئی۔ سب سے پہلے اولیات کا بیان ہے: کہتے ہیں: أحدها الأوليات، ان چھ میں سے ایک اولیات ہیں۔ هي قضايا، یہ ایسے قضایا ہیں يجزم العقل فيها، کہ جن میں عقل یقین کر لیتی ہے بمجرد الإلتفات والتصور، محض توجہ اور تصور ہی کے ذریعے ولا يحتاج إلى واسطة، اور یہ محتاج نہیں ہوتی کسی واسطے کے كقولك، جیسے کہ آپ کا قول: الكل أعظم من الجزء، کل جو ہے وہ بڑا ہوتا ہے جز سے۔ بھئی دیکھیے، بدیہیات کی چھ قسمیں ہیں۔ کتنی قسمیں؟ چھ قسمیں۔ پہلی قسم اولیات ہے بھئی۔ اولیات وہ قضایا، جہاں موضوع کا تصور، محمول کا تصور اور نسبت کا تصور کرتے ہی اس کا یقین حاصل ہو جاتا ہے، ذہن کو سوچنا نہیں پڑتا۔ ذہن کو ذرا برابر بھی نہیں سوچنا پڑتا۔ کس کس کا تصور کیا؟ مثلاً میں نے کہا: الكل أعظم من الجزء، کل جز سے بڑا ہوتا ہے۔ تو آپ نے کل کا تصور کیا، جز کا تصور کیا اور نسبت کا تصور کیا اور بس صرف اتنا۔ موضوع، محمول اور نسبت کا تصور کرتے ہی یہ جو حکم اس کے اندر لگایا گیا ہے اس کا یقین حاصل ہو گیا آپ کو کہ واقعی ایسا ہے بھئی۔ کس چیز کا تصور کیا؟ موضوع، محمول اور اس کے درمیان نسبت۔ بس اس کا تصور کرتے ہی یقین حاصل ہو گیا آپ کو، کسی دلیل وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑی، ذہن کو سوچنا نہیں پڑا ذرا بھی۔ میں نے کیا کہا تھا؟ الكل أعظم من الجزء، کل جز سے بڑا ہوتا ہے۔ آپ کا ذہن فوراً حرکت میں آیا کل کے بارے میں، کل کسے کہتے ہیں، جز کسے کہتے ہیں؟ اور حکم کیا لگایا گیا ہے کہ جز کل سے بڑا ہوتا ہے، فوراً یقین ہو گیا، کسی دلیل وغیرہ کی طرف جانے کی ضرورت نہیں پڑی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اولیات وہ ہیں، اولیات، جن میں موضوع و محمول اور نسبت کا تصور کرتے ہی ذہن کو وہ جو حکم لگایا گیا ہے قضیے کے اندر، اس کا یقین ہو جاتا ہے۔ ذہن کو ذرا بھی سوچنا نہیں پڑتا، ذہن کو ذرا بھی کسی دلیل وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑتی، خود بخود ذہن قبول کر لیتا ہے، مان لیتا ہے کہ ہاں اسی طرح ہے بات بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اولیات ہیں۔ جیسے آپ سے کہا جائے کہ پانج سو کا نوٹ 10 کے نوٹ سے بڑا ہوتا ہے۔ فوراً آپ کے ذہن میں 500 کا نوٹ کا تصور آیا، 10 کے نوٹ کا تصور آیا، کیا حکم لگایا گیا ہے کہ 500 کا نوٹ 10 کے نوٹ سے بڑا ہوتا ہے، فوراً ہی یقین کر لیا آپ کے ذہن نے، ذرا بھی کسی دلیل وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ تو اس میں غور و فکر کی ذرا بھی ضرورت نہیں پڑتی، فوراً ذہن اس بات کو یقین اس پر کر لیتا ہے، اس کو تسلیم کر لیتا ہے۔ یہ ہیں اولیات۔ یہ کیا ہیں؟ اولیات۔ ہاں، پھر اس میں بعض اوقات کوئی شخص کمزور ذہن والا ہے بہت زیادہ یا کسی کی عمر کم ہے، بچہ ہے چھوٹا، ہو سکتا ہے ان کو غور و فکر کی ضرورت پڑے۔ جس کا ذہن بڑا کمزور ہے یا کوئی کم عمر ہے وغیرہ، اس کی وجہ سے آ جائے، لیکن تو اس کا وہ کم عمری کی وجہ سے یا کم عقلی کی وجہ سے تو ایسا ہو سکتا ہے، ورنہ اس میں کبھی انسان کو غور کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مثلاً بچے سے پوچھا جائے کہ مور بڑا ہوتا ہے کہ اس کی دم بڑی ہوتی ہے؟ مور جانتے ہیں کہ نہیں بھئی؟ مور بڑا ہوتا ہے کہ اس کی دم بڑی ہوتی ہے؟ تو ہو سکتا ہے شاید وہ بچہ کہہ دے اس کی دم بڑی ہوتی ہے۔ حالانکہ مور تو پورے کا نام ہے، اس میں تو دم بھی آ گئی اور دھڑ بھی آ گیا۔ تو لازمی بات ہے ایک طرف صرف دم ہے، ایک طرف دم اور دھڑ سمیت ہے، تو یقینی بات ہے وہ بڑی ہے، وہ بڑا ہو گا۔ لیکن بچہ کیا ہے؟ کم عمری کی وجہ سے اس کو سوچنا پڑا اور دوسری طرف اس کا ذہن چلا گیا۔ لیکن عام شخص جو ہو گا، وہ فوراً کہاں تک پہنچ جائے گا؟ یقین، سنتے ہی یقین کر لے گا، اس کو پتہ لگ جائے گا، اس کو غور و فکر کی اس میں حاجت ہی نہیں پیش آئے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس کے مقابلے میں دوسری قسم آ رہی ہے فطریات بھئی۔ فطریات وہ ہیں، مثلاً میں نے آپ سے کہا کہ چار جفت ہے۔ چار جفت ہے۔ آپ کو فوراً یقین حاصل ہو گیا کہ چار کیا ہے؟ جفت۔ یا میں نے آپ سے کہا 16 جفت ہے، سنتے ہی فوراً آپ کو یقین حاصل ہو گیا کہ 16 جفت ہے۔ فوراً یقین ہوا۔ لیکن ساتھ ساتھ یہاں موضوع کا بھی تصور کیا، محمول کا بھی تصور کیا اور ان کے درمیان حکم کا بھی، لیکن ساتھ ساتھ خود بخود ایک دلیل بھی ذہن میں آ گئی۔ میں نے کیا کہا تھا؟ چار جفت۔ خود بخود بات ایک ساتھ دلیل بھی ذہن میں آ گئی، کیونکہ چار دو برابر حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ واسطہ آ گیا بیچ میں۔ کیا آ گیا؟ واسطہ۔ اور یہ واسطہ ذہن میں موجود تھا، خود بخود فوراً آ گیا، خود بخود فوراً آ گیا۔ تو اس کو کہیں گے فطریات بھئی۔ کیا کہیں گے؟ فطریات۔ کہ موضوع، محمول اور حکم کا تصور کرتے کرتے خود بخود ساتھ ذہن میں دلیل بھی آ گئی بھئی۔ آپ کو غور و فکر نہیں کرنا پڑا بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ ذہن خود بخود اس کی طرف چلا گیا، خود ذہن میں آ گئی بھئی۔ آپ کو جیسے ہی میں نے کہا 16 جفت ہے، 16 جفت، آپ نے فوراً کہا بالکل ایسی بات ہے، 16 جفت ہے، تسلیم کر لیا۔ 16 اور جفت ہونے کا حکم نسبت، اور 16 اور جفت کا تصور کیا اور نسبت کا، فوراً ہی ذہن نے اس کو مان لیا۔ لیکن ساتھ ساتھ خود ہی کیا آ گئی ذہن میں؟ فوراً خود بخود ذہن میں دلیل آ گئی کہ جو 16 پر جفت ہونے کا حکم لگایا جا رہا ہے، کیوں لگایا جا رہا ہے؟ کیونکہ 16 دو برابر حصوں میں تقسیم۔ تو دو برابر حصوں میں تقسیم ہونے کی دلیل خود بخود ساتھ ذہن میں آ گئی بھئی۔ تو جب یہ دلیل ساتھ آ جائے، سمجھ جائیں یہ فطریات کے قبیل سے ہے۔ فرق کیا ہے اولیات اور فطریات میں؟ دیکھو، باریک سا فرق ہے، تھوڑا سا۔ واسطہ اولیات میں بھی ہوتا ہے، واسطہ فطریات میں بھی ہوتا ہے۔ لیکن اولیات میں ذہن واسطے کی طرف جاتا نہیں۔ اولیات کی کیا مثال ذکر کی تھی؟ کل جز سے بڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی واسطہ موجود ہے، دلیل یہاں بھی موجود ہے، کیونکہ جز وہ حصہ ہے کل کا، اس کے ساتھ اور حصے ملیں گے تو کل بنے گا۔ تو اب جب اس کے ساتھ اور حصے مل کر کل بنے گا تو وہ اس سے بڑھ جائے گا یا نہیں بڑھ جائے گا؟ اس سے بڑھ جائے گا بھئی۔ تو دلیل یہاں پر بھی موجود ہے، دلیل فطریات کے اندر بھی موجود ہے، کیونکہ کہ چار جفت ہے، کیوں جفت ہے؟ کیونکہ یہ دو برابر حصوں میں تقسیم۔ دلیل وہاں بھی موجود، لیکن اولیات میں ذہن دلیل کی طرف جاتا ہی نہیں، اس کا خیال بھی نہیں آتا ذہن کے اندر بھئی، کسی واسطے کا وہ محتاج ہی نہیں ہے۔ جبکہ فطریات کے اندر ایسا ہوتا ہے کہ وہ دلیل موجود ہوتی ہے ذہن میں پہلے سے اور ساتھ ہی فوراً خود بخود آ جاتی ہے بھئی۔ یہ نہیں کہ سوچنا پڑے ذرا بھی، نہیں۔ جیسے ہی وہ سنا، سنتے ہی خود بخود کیا آ گئی ساتھ ہی؟ دلیل بھی آ گئی۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ واسطہ اولیات میں بھی ہوتا ہے، واسطہ فطریات میں بھی ہوتا ہے، لیکن اولیات کے اندر ذہن کو ضرورت ہی نہیں ہوتی دلیل کی طرف، وہ اس کی طرف جاتا ہی نہیں ہے بس، سنتے ہی فوراً کہہ دیتا ہے بات اسی طرح ہے۔ جبکہ فطریات میں اس کو سنتے ہی خود بخود ساتھ ہی کیا ہو جاتی ہے؟ دلیل بھی آ جاتی ہے بھئی۔ بات، فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ باریک سا فرق ہے دونوں کے اندر بھئی، دونوں کے اندر۔ جی، اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ تو کہتے ہیں: البديهيات ستة، بدیہیات چھ ہیں۔ أحدها الأوليات، ان میں سے ایک اولیات ہیں۔ هي قضايا، وہ ایسے قضایا ہیں—یہ اولیات جو ہیں، وہ ایسے قضایا ہیں— يجزم العقل فيها، کہ عقل ان میں یقین کر لیتی ہے بمجرد الإلتفات والتصور، محض توجہ اور تصور کرنے سے ہی۔ اس کا تصور کرتے ہی، اس کا ذہن میں آتے ہی، عقل کیا کر لیتی ہے اس کا؟ یقین کر لیتی ہے ولا يحتاج إلى واسطة، اور عقل کسی واسطے کی محتاج نہیں ہوتی كقولك الكل أعظم من الجزء، جیسے کہ آپ کا قول: الكل أعظم من الجزء، کل جز سے بڑا ہوتا ہے۔ وثانيها الفطريات، اور دوسری قسم جو ہے ان کی، فطریات ہے۔ وهي ما يفتقر إلى واسطة، اور یہ وہ قضایا ہیں جو محتاج ہوتے ہیں کس چیز کے؟ واسطے کے محتاج ہوتے ہیں۔ لیکن وہ واسطہ کیسا ہوتا ہے؟ غير غائبة عن الذهن أصلا، وہ یقینی طور پر ذہن سے غائب نہیں ہوتا، ذہن ہی میں موجود ہوتا ہے۔ وہ ذہن سے بھئی، وہ جو میں نے کہا چار جفت ہے، فوراً ساتھ ہی آپ نے یقین کیا، ساتھ ہی خود بخود ایک دلیل بھی آ گئی۔ کیا دلیل آئی تھی؟ کیونکہ چار دو برابر حصوں میں تقسیم۔ تو دیکھو یہ واسطہ آیا، لیکن یہ واسطہ ذہن سے غائب نہیں تھا، ذہن ہی میں موجود تھا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معنی ہے: ایسا واسطہ غير غائبة عن الذهن أصلا، جو ذہن سے قطعی طور پر غائب نہ ہو بھئی، جو غائب نہ ہو ذہن سے قطعی طور پر، ذہن ہی میں قطعی طور پر موجود ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اولیات میں واسطے کی طرف ذہن نہیں جاتا۔ فطریات میں ذہن واسطے کی طرف جاتا ہے۔ تو الكل أعظم من الجزء، آپ کا ذہن واسطے کی طرف گیا؟ نہیں گیا۔ لیکن اگر گیا ہے تو یہی فطریات کے قبیل میں چلا گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اگر آپ کا ذہن واسطے کی طرف جا رہا ہے تو سمجھ جائیں آپ کے لیے یہ فطریات کے قبیل سے ہے۔ کیونکہ اولیات میں واسطہ نہیں، واسطے کی طرف ذہن نہیں جاتا۔ تو وہی اولیات جب ذہن واسطے کی طرف متوجہ ہو جائے تو وہی اولیات کس میں چلے گئے؟ فطریات۔ اور اگر واسطے کی طرف ذہن نہیں گیا تو اولیات کے قبیل سے، واسطے کی طرف ذہن گیا تو کس قبیل سے؟ فطریات کے قبیل سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بات ہو رہی ہے بدیہی کی بھئی، یہ تو یہ بدیہیات ہیں، دوسری قسم آ گئی۔ ایک پہلی قسم اولیات، جن میں واسطے کی طرف ذہن نہیں جاتا۔ فطریات، جن میں واسطے کی طرف ذہن جاتا ہے بھئی۔ ويقال لهذه القضايا، اور کہا جاتا ہے ان قضایا کو، کیا کہتے ہیں ان کو؟ قضايا قياساتها معها، یہ ایسے قضایا ہیں جن کے قياسات ان کے ساتھ ہی ہیں۔ یہ جو فطریات ہیں، توجہ ہے سبق کی طرف؟ یہ جو فطریات ہیں، ان کو کیا کہتے ہیں؟ یہ ایسے قضایا ہیں جن کے قياس ان کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ قياس ان کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ دلیل ان کے ساتھ ہی ہوتی ہے، دلیل بنانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ خود بخود ذہن میں آ جاتی ہے دلیل، وہ ان کے ساتھ ہی۔ میں نے تو صرف اتنا کہا: الأربعة زوج، چار کیا ہے؟ جفت ہے۔ صرف اتنا کہا اور خود بخود دلیل آپ کے ذہن میں آئی یا نہیں آئی؟ کیا دلیل آئی؟ کہ اس کے دو برابر حصے ہوتے ہیں۔ تو دیکھو یہ قضیہ ہے، قياس اس کے ساتھ ہی ہے بھئی، خود بخود ذہن میں آ جاتا ہے۔ تو یہ، ان کو کہتے ہیں: قضايا قياساتها معها، ایسے قضیے جن کے قياس ان کے ساتھ ہی ہیں۔ فوراً ہی آپ کے ذہن میں خود بخود قياس آ گیا۔ مثلاً کیا قياس آئے گا؟ کہ چار دو برابر حصوں میں تقسیم ہوتا ہے، صغریٰ۔ اور جو دو برابر حصوں میں تقسیم ہوتا ہے وہ جفت ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ چار جفت ہے بھئی۔ تو حدِ اوسط کیا آیا؟ دو برابر حصہ 2 ف میں تقسیم ہونے والا، بھئی۔ دو برابر حصوں میں تقسیم۔ تو یہ قضایا تھے، ایسا قضیہ تھا جس کا قیاس اس کے ساتھ ہی آگیا تھا، تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ قضایا قیاساتہا معہا۔ ان میں واسطہ ہوتا ہے اور وہ واسطہ ذہن میں پہلے سے ہی موجود ہوتا ہے، غائب نہیں ہوتا ذہن سے۔ تو کہتے ہیں: ویقال لہذہ القضایا قضایا قیاساتہا معہا۔ کہ ان کو ایسے قضایا کہا جاتا ہے، ان قضایا کو کہا جاتا ہے ایسے قضایا جن کے قیاسات ان کے ساتھ ہوتے ہیں، نحو الاربعۃ زوج، جیسے کہ چار جفت ہے۔ فان من تصور، پس بے شک جس نے تصور کیا مفہوم الاربعۃ، چار کے مفہوم کا، وتصور مفہوم الزوج، اور تصور کیا جفت کے مفہوم کا، کہ بانۃ ہو الذی ینقسم بمساویین، بھئی اس رخ کہ جفت کا کیا تصور کیا بھئی؟ کہ وہ، وہ چیز ہے جو، وہ ہے جو تقسیم ہو جاتا ہے دو برابر حصوں میں، فحکم بداہۃ، تو اس نے بدیہی طور پر یہ حکم لگا دیا بان الاربعۃ زوج، کہ چار جفت ہے۔ جس نے تصور کیا اربعہ کا اور مفہوم زوج کا، تو بداہۃً یہ حکم لگا دے گا بھئی، بدیہی طور پر، بھئی اس کے ذہن میں یہ بات آجائے گی کہ بان الاربعۃ زوج، کہ چار بھی جفت ہے۔ ونحو قولنا، اور جیسے کہ ہمارا یہ قول بھئی: الواحد نصف الاثنين، واحد کیا ہے؟ دو کا آدھا ہے۔ فان العقل يحکم بہ، کیونکہ عقل اس کا فیصلہ کر دیتی ہے بعد ان یلاحظ مفہوم، مفہوم نصف الاثنين والواحد، بعد اس کے جب وہ ملاحظہ کر لے دو کے نصف کے مفہوم کا اور واحد کا۔ کیا آیا تھا، قضیہ کیا تھا؟ الواحد نصف الاثنين۔ تو واحد ہے موضوع، نصف الاثنين کیا ہے؟ محمول۔ تو موضوع اور محمول کا تصور کرتے ہی خود بخود کیا پتہ لگ گیا کہ یہ، یہ صحیح ہے، یہ حکم صحیح ہے، یقینی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ والثالثہا الحدسیات، اور تیسری قسم جو ہے ان بدیہیات کی وہ حدسیات ہیں۔ بھئی حدسیات کسے کہتے ہیں یاد رکھیے؟ یہاں دو باتیں سمجھ لیں بھئی، ایک ہے حدس اور ایک ہے فکر۔ حدس اور فکر بھئی، حدس اور فکر، دال ساکن ہے حدس میں بھئی۔ بھئی فکر پہلے گزر چکی تفصیل بھئی۔ فکر کس کو کہتے تھے؟ کتاب کے شروع میں آپ نے تعریف پڑھی تھی نظر و فکر کی بھئی، کہ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر نا معلوم چیز تک پہنچنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ نظر و فکر۔ تو فکر جو ہے نا اس میں، یہ، یہ حدس اور فکر، یہ ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے مقابل ہیں، یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ حدس میں ذہن فوراً نتیجے کی طرف منتقل ہوتا ہے، غور ذرا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ فکر میں غور کرنا پڑتا ہے۔ دو حرکتیں کرنا پڑتی ہیں یہاں ذہن کو، کس کے اندر؟ فکر کے اندر۔ پہلے فکر جائے گی چیزوں، غور کرے گا انسان کا ذہن، دوڑے گا اور جو اس کے پاس ذہن میں باتیں محفوظ ہیں ان میں سے چھانٹ کر وہ چیزیں نکالے گا جو اس کو کام آسکتی ہیں، جو ضرورت پیش آرہی ہے جن کی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ بھئی ہم کوئی چیز دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، سونگھتے ہیں، چکھتے ہیں وغیرہ، سارا کچھ ہمارے ذہن میں محفوظ ہوتا چلا جاتا ہے۔ خوشبوئیں بھی محفوظ ہو رہی ہیں، رنگ بھی محفوظ ہو جاتے ہیں اور اسی طرح آوازیں سنیں وہ بھی محفوظ ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ آپ کی آنکھیں بند ہوں لیکن آپ کا بھئی آپ کے قریب سے بولے، صرف آواز سن کر آپ کو پتہ لگ گیا یا نہیں بھئی کون بول رہا ہے اس وقت؟ یا آپ کا کوئی اور ساتھی آپ کے پاس سے بولتا ہے، آنکھیں بند ہیں لیکن آواز سنتے ہی، کیوں؟ کیونکہ ذہن میں وہ آواز ذہن نے محفوظ کی ہوئی تھی بھئی۔ وہ فوراً ذہن سے نکال کر بتلا دیتا ہے آپ کا دماغ کہ یہ فلاں کی آواز ہے۔ ذرا بھی غور و فکر نہیں کرنا پڑتا بھئی، اتنی پہچان ہوچکی ہے آپ کے ذہن کو سن سن کر بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ یا اسی طرح کوئی خوشبو ہے وہ آنکھیں بند ہیں، خوشبو سونگھ رہی، آپ فوراً بتا دیں گے کہ یہ فلاں خوشبو ہے بھئی، یہ فلاں پھول ہے وغیرہ بھئی۔ تو ذہن میں یہ چیزیں محفوظ ہوتی ہیں، یہ باتیں بھئی۔ تو جب، یہ جو فکر ہوتی ہے، فکر میں ہم نے پہنچنا ہے نتیجے تک۔ مبادی سے کہاں تک؟ مبادی جو ابتدائی باتیں آپ کے ذہن میں محفوظ ہیں، انہی کے ذریعے ہم نے کہاں تک پہنچنا ہے؟ نتیجے تک۔ فکر کسے کہتے تھے؟ معلوم چیزوں کے ذریعے کہاں تک پہنچنا؟ نامعلوم، تو یہاں پر دو کام کرنے پڑتے ہیں ذہن کو۔ معلوم چیزوں میں سے لفظ وہ، یعنی منتخب کرنے پڑتے ہیں کون کون سے معنی ہمارے کام کے ہیں یہاں پر۔ آپ کے پاس مثلاً ایک چیز کے بارے میں 20 باتیں ذہن میں محفوظ ہیں، فوراً دماغ جب مطلوب، جو چیز مقصود ہے جہاں تک آپ پہنچنا چاہتے ہیں، ذہن فوراً حرکت کرے گا اور وہاں سے ان 20 میں سے منتخب کرکے وہ چیز لے آئے گا۔ یہ دو تین معنی کام کے ہیں بھئی، اور پھر آپ ان کو، دوسرا کام، یہ تو تھا انتخاب کر لیا آپ نے، منتخب کر لیں، کن کن چیزوں کی، کن کن معنی کی ضرورت ہے۔ پھر جب ان کو منتخب کر لیا، اب ذہن دوسری حرکت کرتا ہے، ان کو ترتیب دیتا ہے۔ اور ترتیب دے کر پھر مطلوب تک پہنچ جاتا ہے بھئی۔ کہاں تک پہنچ جاتا ہے؟ مطلوب تک پہنچ جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جیسے آپ نے گھڑی بنانی ہے، آپ کے سامنے بہت سارے پرزے پڑے ہیں اور پرزے پڑے ہیں۔ تو آپ کیا کریں گے؟ سب سے پہلا کام کیا کریں گے؟ ان پرزوں میں سے وہ گھڑی کے پرزے نکالیں گے جو مطلوب ہیں، جو جن کے ذریعے آپ گھڑی بنا سکتے ہیں۔ پہلا کام انتخاب، وہ پرزے منتخب کرکے الگ کر لیں گے۔ جب منتخب کرکے الگ کر لیے، پہلا کام پورا ہوگیا۔ اب دوسرا کام کریں گے، کیا کریں گے؟ ان کو ترتیب دیں گے تو گھڑی بن جائے گی بھئی۔ تو دو کام کرنے پڑے، کون کون سے؟ انتخاب اور دوسرا کام ترتیب۔ جب کسی معنی تک پہنچنا ہو وہاں بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ پہلے جو معنی آپ کو پہلے سے ذہن میں حاصل ہیں، انہی میں ذہن انہی کی طرف حرکت کرتا ہے تیزی سے اور اس میں سے چھانٹ کر وہ معنی لے آتا ہے جن کی ہمیں ضرورت ہے بھئی۔ پھر اس کے بعد دوسرا کام کیا کرتا ہے؟ ان کو ترتیب دے دیتا ہے اور پھر مطلوب تک پہنچ جاتا ہے، مطلوب حاصل ہو جاتا ہے۔ مثلاً بھئی، انسان۔ آپ نے انسان کی حقیقت تک پہنچنا ہے، انسان کی حقیقت کیا ہے، اس کی ماہیت کیا ہے؟ اب انسان کے بارے میں بہت سی باتیں آپ کے ذہن میں محفوظ ہیں: اس کی اس طرح کی شکل ہوتی ہے، اس طرح آنکھیں ہوتی ہیں، اس طرح ناک ہے، اس طرح دو ہاتھ ہیں، دو پاؤں ہیں، اور یہ اسی طرح یہ حیوان ہے، اسی طرح یہ بولنے والا بھی ہے، اسی طرح یہ چلنے والا بھی ہے، صفات وغیرہ بہت سی چیزیں آپ کے ذہن میں ہیں اس کے بارے میں۔ اب آپ نے حقیقت معلوم کرنی ہے اس کی، آپ کا ذہن تیزی سے حرکت کرے گا۔ پہلی حرکت، وہ جو انسان کے بارے میں بہت ساری باتیں آپ کے ذہن میں موجود ہیں، ان کے اندر تیزی سے حرکت کرے گا اور اس میں سے چھانٹ کر لے آئے گا کہ یہ دو چیزیں کام کی ہیں اس سلسلے میں: ایک حیوان اور ایک ناطق۔ ایک حیوان اور ایک ناطق، تو یہ آپ نے چھانٹ لیا، منتخب کر لیا۔ اب دوسرا کام کیا کرے گا ذہن؟ دوسری حرکت کیا ہوگی؟ ان کو ترتیب دے گا کہ حیوان ہے جنس، اس کو پہلے ہونا چاہیے، ناطق ہے فصل، لہذا اس کو بعد میں ہونا چاہیے۔ تو آپ نے ان کو ترتیب سے جوڑا: حیوان ناطق، تو مطلوب حاصل ہوگیا۔ کیا تھا مطلوب؟ انسان کی حقیقت، تو وہ حاصل ہوگئی کہ انسان کی کیا حقیقت ہے؟ حیوان ناطق ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ ہے فکر۔ یہ تفصیل بیان ہو رہی ہے نظر و فکر کی، تو فکر کے اندر ذہن کو سوچنا پڑتا ہے، غور کرنا پڑتا ہے۔ اور اگر ذہن فوراً ہی مطلوب تک پہنچ جائے، اس کو کہتے ہیں حدس بھئی، حدس کہتے ہیں بھئی۔ غور و فکر نہیں کرنا پڑتا، فوراً مبادی سے مطلوب تک پہنچ جاتا ہے۔ تو نظر، تو فکر اور حدس ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ حدس میں ذہن مبادی سے مطلوب کی طرف فوراً پہنچ جاتا ہے، غور نہیں کرنا پڑتا۔ جبکہ فکر کے اندر غور کرنا پڑتا ہے، دماغ لڑانا پڑتا ہے، سوچنا پڑتا ہے بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ حدس کے اندر غور نہیں کرنا پڑتا اور فکر میں غور کرنا پڑتا ہے، سوچنا پڑتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ حدس اور یہ ہے فکر۔ بات چل رہی تھی حدس کی، اس کے ساتھ ساتھ میں نے فکر کو بھی بیان کر دیا جیسے صاحب کتاب بھی بیان کریں گے، تاکہ حدس اچھی طرح سمجھ میں آجائے بھئی۔ وبضدہا تتمیز الاشیاء، چیزوں کا پتہ ان کی ضد سے چلتا ہے بھئی، وضاحت ہوتی ہے۔ دن کا پتہ رات سے چلتا ہے، سردی کا پتہ گرمی سے چلتا ہے، صبح کا پتہ شام سے، تو ہر چیز کا پتہ ضد کے ذریعے اس کی وضاحت ہو جاتی ہے بھئی۔ تو یہاں جب فکر کی وضاحت ہوگئی تو حدس بھی خود بخود سمجھ میں آگیا۔ فکر میں غور کرنا پڑتا ہے، حدس میں غور نہیں کرنا پڑتا، ذہن فوراً تیزی سے منتقل ہوتا ہے نتیجے کی طرف بھئی۔ اور یہ بتلائیں گے آپ کو، کبھی تو اللہ کی طرف سے خاص برکات ایک شخص کو حاصل ہوتی ہیں اس وجہ سے۔ خاص انوارات ہوتے ہیں اس کے اوپر اللہ کی طرف سے، ذہن کی بڑا قوی ذہن اللہ نے اس کو عطا کیا ہوتا ہے، وہ فوراً مبادی سے نتیجے کی طرف ایک دم پہنچ جاتا ہے اس کا ذہن بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی نتیجے کی طرف؟ اور بعض اوقات کیا کرنا پڑتا ہے؟ اور جبکہ عام لوگ بھئی، عام لوگوں کو ایک چیز میں غور کرنا پڑتا ہے اور ایک کو اللہ نے ذہن تیز دیا ہوتا ہے، خاص برکات اس کو حاصل ہوتی ہیں، وہ فوراً مبادی سے ایک دم نتیجے کی طرف پہنچ جاتا ہے، اس کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح حدس کا پتہ چل گیا؟ تو یاد رکھو، فکر میں ترتیب دینا پڑتا ہے، چھانٹ کانٹ چیزوں کو چھانٹنا پڑتا ہے پھر ترتیب دینا پڑتا ہے۔ تو فکر میں یوں کہیں دلیل ساتھ آتی ہے۔ یاد رکھیے حدس میں بھی دلیل ساتھ آتی ہے لیکن ایک دم آجاتی ہے، ایک لمحے کے اندر فوراً آگئی، یعنی سوچنا نہیں پڑا۔ سوچنا نہیں پڑا۔ تو اس میں دلیل کی ضرورت حدس میں بھی ہے۔ کس میں؟ حدس میں دلیل کی ضرورت ہے، لیکن چونکہ غور نہیں کرنا پڑا فوراً ہی آگئی، سنتے ہی فوراً ذہن میں آگئی، وہ دلیل ساتھ آگئی۔ اور جس میں دلیل کی ضرورت پڑے اسے بدیہی نہیں کہتے، اسے نظری کہتے ہیں، آپ پڑھ چکے ہیں۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ جس میں دلیل کی ضرورت پڑے اسے تو بدیہی نہیں کہا جاتا، بدیہی میں تو غور و فکر اور دلیل کی ضرورت نہیں، لیکن نظری میں کیا چاہیے ہوتا ہے؟ غور و فکر، بلکہ باقاعدہ دلیل کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تو ذہن میں اشکال آتا ہے کہ یہ حدس میں بھی تو دلیل کی ضرورت ہے، اس کو بھی بدیہی نہیں ہونا چاہیے، نظری ہونا چاہیے۔ تو جواب یاد رکھنا کہ بھئی یہاں ٹھیک ہے دلیل کی ضرورت ہے، لیکن چونکہ ذہن فوراً منتقل ہوتا ہے، فوراً دلیل ساتھ ہی آئی، فوراً ذہن منتقل ہوا، غور ذرا برابر بھی نہیں کرنا پڑا، اس لیے اس کو بدیہیات میں سے شمار کیا جاتا ہے۔ کس میں سے؟ بدیہیات، کیونکہ اس میں غور کرنا ہی نہیں پڑا، فوراً سنتے ہی ساتھ ہی اسی لمحے میں دلیل آئی اور ساتھ ہی فوراً ہی کیا آگیا؟ نتیجہ بھی آگیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: والثالثہا الحدسیات، اور تیسری قسم ان بدیہیات کی وہ حدسیات ہیں۔ وہی ظہور المبادی دفعۃ واحدۃ، اور یہ مبادی کا ظاہر ہونا ہے دفعۃ واحدۃ، ایک ہی مرتبہ میں یعنی فوراً ہی فوراً ہی۔ من دون ان یکون ہناک حرکۃ فکریۃ، بغیر اس کے کہ وہاں پر کوئی فکری حرکت ہو۔ کوئی ذہنی حرکت وہاں پر نہیں ہوتی بھئی۔ فکر میں تو ذہنی حرکت، بتایا میں نے دو حرکتیں ہوتی ہیں، لیکن یہاں پر کسی حدس میں کوئی ذہنی حرکت نہیں، فوراً کیا آجائے ذہن میں؟ فوراً مبادی ظاہر ہوئے پھر فوراً نتیجے تک چلا گیا بھئی۔ والفرق بین الحدس والفکر، اور حدس اور فکر میں فرق یہ ہے: انہ لا بد فی الفکر من الحرکتین للنفس، کہ فکر کے اندر ضروری ہیں دو حرکتوں کا ہونا نفس کے لیے۔ بخلاف الحدس، برخلاف کس کے؟ حدس کے۔ فان الذهن بعد ما حصل له المطلوب بوجه ما، برخلاف حدس کے، فکر میں ضروری ہیں نفس کے لیے دو حرکتیں، برخلاف کس کے؟ حدس کے۔ آگے فان الذهن، یہ فکر کی بات ہو رہی ہے یاد رکھنا۔ بخلاف الحدس، صرف یہ لفظ صرف یہ بتلانے کے لیے لے کر آئے، پیچھے ذکر کیا تھا فکر میں ذہن کی دو حرکتیں ہوتی ہیں، برخلاف کس کے؟ حدس کے، کہ اس میں دو اس میں یہ حرکتیں نہیں ہوتیں، بس۔ اب بات وہی فکر کی چل رہی ہے، پیچھے بتایا اس میں دو حرکتیں ہوتی ہیں، کون کون سی؟ وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ فان الذهن بعد ما حصل له المطلوب بوجه ما، پس بے شک ذہن جو ہے، بعد اس کے جبکہ حاصل ہے اس کو مطلوب کسی طریقے سے۔ يتہرک فی المعانی المخزونۃ، وہ ذہن حرکت کرتا ہے فی المعانی المخزونۃ، ان معانی کے اندر المخزونۃ، جو اس کے پاس محفوظ ہیں بھئی، اس کے پاس پڑے ہوئے ہیں۔ انسان کے بارے میں ہمیں بہت سی باتیں ذہن میں موجود تھیں مثلاً یہ کھاتا ہے، پیتا ہے، چلتا ہے، سوتا ہے وغیرہ بھئی، بہت سی باتیں ذہن میں تھیں۔ وہ یہ معانی مخزونہ تھے، محفوظ معانی ہمارے ذہن میں تھے۔ تو ذہن جو ہے: یتحرک فی المعانی المخزونۃ، ذہن حرکت کرتا ہے ان محفوظ معانی میں، والمبادی المکنونۃ، اور ان مکنون کا معنی چھپے ہوئے، پوشیدہ، والمبادی المکنونۃ، اور ان چھپے ہوئے مبادی میں۔ بھئی آپ نے یہ حیوان اور ناطق کہاں سے اٹھایا؟ ذہن میں جو انسان کے بارے میں کچھ معلوم تھا، بہت سی باتیں معلوم تھیں، ذہن میں محفوظ تھیں، ذہن میں چھپی ہوئی پڑی تھیں، انہی میں ذہن نے حرکت کی اور کس کس کو اٹھا کر لے آیا؟ حیوان کو اور ناطق کو۔ تو یہ جو چیزیں ذہن میں محفوظ تھیں، بہت سارے معانی، ان کی بات کر رہے ہیں کہ ذہن حرکت کرتا ہے ان محفوظ معانی کے اندر والمبادی المکنونۃ، اور ان اور پوشیدہ اور وہ جو پوشیدہ مبادی ہیں ان کے اندر، طالباً، اس حال میں کہ یہ طلب کرنے والا ہے۔ بھئی یہ حرکت کیوں کر رہا ہے ذہن؟ طلب کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ طلب کر رہا ہے اس چیز کو جس کے ذریعے مطلوب تک پہنچ سکے بھئی۔ طالباً لما یکون لها تناسب بالمطلوب، طلب کرنے والا ہے اس چیز کو جس کی مناسبت ہو مطلوب کے ساتھ۔ حتی یجد معلومات مناسبۃ لها، یہاں تک کہ وہ پا لیتا ہے ذہن ایسی معلومات، معلومات مناسبۃ لہ، ایسی معلومات جو اس مطلوب کے مناسب ہوں۔ وها هنا تمت الحرکۃ الاولى، یہاں آکر پہلی حرکت پوری ہوئی۔ بتلایا تھا بھئی فکر کے اندر کتنی حرکتیں ہیں؟ دو حرکتیں۔ پہلی حرکت پوری ہوگئی، پہلی حرکت۔۔۔ 3 اب کیا چیز ہے ذہن نے، وہ جو ذہن کے اندر محفوظ معانی تھے دوڑ کر گیا ذہن اور ان کے اندر تلاش کی کہ کون کون سی چیزوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے جس کے ذریعے میں کہاں تک پہنچوں؟ مطلوب تک، تو وہ چیزیں اکٹھی کر لیں اس نے۔ یہ تھی پہلی حرکت بھئی۔ تو کہتے ہیں وھٰہنا تم الحركة الاولى، اور یہاں پر پوری پہلی حرکت پوری ہو گئی، ثم يرجع قہقریٰ۔ قہقریٰ کہتے ہیں الٹے پاؤں لوٹنا، الٹے پاؤں واپس ہونا۔ ثم يرجع قہقریٰ، پھر ذہن لوٹتا ہے الٹے پاؤں۔ ذہن فوراً، بھئی پہلا کام پورا ہو گیا، یہ گیا تھا وہ الماری کے اندر جو اس نے ذہن کے اندر الماری بنی ہوئی تھی جس میں معانی پڑے تھے، وہاں اس نے کیا کیا؟ اس کی خوب چھان بین کی، جو جو کام کی چیزیں تھیں نکالیں، فائل کے اندر رکھیں اور پھر واپس آ گیا۔ اب کیا کرنا ہے دوسرا کام؟ اب دوسرا کام کیا کرنا ہے؟ مطلوب چیزیں اس نے اکٹھی کر لیں۔ اب ترتیب دینی ہے، اب وہ دوسرا کام کرنا ہے، تو پہلا ہو گیا فوراً الٹے پاؤں واپس آ گیا وہاں سے۔ یہ معنی ہے کہ یہاں پر پوری پہلی حرکت پوری ہو گئی، ثم يرجع قہقریٰ، پھر یہ لوٹتا ہے الٹے پاؤں، ويتحرك ثانياً، اور پھر دوسری مرتبہ یہ حرکت کرتا ہے، مرتباً لتلك المعلومات المخزونة، اس حال میں کہ یہ ترتیب دینے والا ہوتا ہے ان معلوماتِ مخزونہ کو، وہ جو محفوظ معلومات تھیں جن کو یہ نکال کر لے کر آیا ہے، اب کیا کر رہا ہے ان کو؟ ترتیب دیتا ہے، التى المعلومات المخزونة التى وجدھا، ان معلوماتِ محفوظہ کو جن کو اس نے پایا ہے، جن کو یہ لے آیا ہے، ان کو ترتیب دیتا ہے، ترتيباً تدريجياً، تدریجی طور پر بھئی، آہستہ آہستہ یعنی درجہ بدرجہ کیا کرتا ہے؟ ترتیب دیتا ہے، حتى وصل إلى المطلوب، یہاں تک کہ مطلوب تک پہنچ جاتا ہے بھئی۔ وتم الحركة الثانية، اور پھر کیا ہو جاتی ہے دوسری حرکت؟ پوری ہو جاتی ہے۔ فمجموع ہاتين الحركةين يسمى بالفكر، تو ان دو حرکتوں کا مجموعہ جو ہے یہ فکر کہلاتا ہے۔ ان دو حرکتوں کا مجموعہ؟ پہلی حرکت کیا تھی؟ انتخاب کرنا۔ دوسری حرکت کیا تھی؟ ترتیب دینا۔ مثلاً، اب دیکھیے مثال سے اور بات واضح ہو جائے گی۔ مثلاً إذا كنت تصورت الإنسان بوجه من الوجوه، مثلاً جیسے آپ نے تصور کیا انسان کا بوجه من الوجوه کسی بھی طریقے سے طریقوں میں سے، بہت سے طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے کیا کر لیا آپ نے؟ انسان کا تصور کیا، كالكاتب والضاحك، مثلاً جیسے کہ وہ کاتب ہے اور ضاحک ہے، یہ چیزیں آپ کو معلوم تھیں۔ ثم صرت طالباً لماهية الإنسان، پھر آپ طالب ہو گئے انسان کی ماہیت کے، اس کے طالب بن گئے، اس کو طلب کرنے لگے، فحركت ذهنك نحو المعانی التى عندك مخزونة، پھر فحركت ذهنك، پھر آپ نے حرکت دی اپنے ذہن کو نحو المعانی التى، ان معانی کی طرف التى عندك مخزونة، جو آپ کے پاس محفوظ تھے، فوجدت الحيوان والناطق مناسباً لمطلوبك، پھر پس آپ نے پایا حیوان اور ناطق کو کہ وہ مناسب ہیں آپ کے مطلوب کے، فتم الحركة الأولى، تو پہلی حرکت تام ہو گئی، پوری ہو گئی، ومبدأه المطلوب المعلوم من وجه، مبدا کیا ہے؟ مبدا، کہ وہ مطلوب من وجہ معلوم ہے، وہ مطلوب کیا تھا؟ یہ من وجہ معلوم ہے، ومنتهاه الحيوان والناطق۔ بھئی پہلی حرکت جب آپ نے کی، تو کچھ باتیں انسان کے بارے میں پتہ تھیں یا نہیں تھیں؟ کچھ باتیں تو پتہ، ایک بالکل پتہ ہی نہ ہو وہاں کیا حرکت کرے گا ذہن بھئی؟ کن معانی کی طرف جا کر ڈھونڈے گا؟ کچھ تو پتہ ہوگا نا؟ تو تبھی جائے گا اور پھر ان معانی کے بارے میں دیکھے گا، انتخاب کرے گا، کسی نہ کسی درجے میں علم ضرور ہونا چاہیے بھئی، اب ایک چیز کا سرے سے پتہ ہی نہیں ہے وہاں آپ کہاں جا کر معانی کو ذہن میں دیکھیں گے جب اس کا کوئی معنی ذہن میں اس کے بارے میں ہے ہی نہیں؟ تو لہٰذا مبدا کیا ہوا یہاں؟ ابتداء کہاں سے ہوئی؟ وہ انسان جس کے بارے میں کچھ نہ کچھ آپ کو پتہ تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پہلی حرکت کا مبدا اور منتہا بیان کر رہے ہیں۔ کہاں سے ابتداء ہوئی تھی؟ کہاں پر انتہا پہلی حرکت کی؟ پہلی حرکت کی ابتداء کہاں سے ہوئی؟ اس مطلوب سے جس کے بارے میں کچھ آپ کو پتہ تھا۔ اور اس کی انتہا کہاں پر ہوئی؟ وہ چیزیں آپ چن کر لے آئے، کون سی؟ حیوان اور ناطق۔ تو ابتداء ہوئی تھی وہ مطلوب جو انسان کی حقیقت مطلوب ہے، اس انسان کے بارے میں کچھ نہ کچھ آپ کو پتہ تھا۔ یہاں سے حرکت شروع ہوئی، اس کے بارے میں جو معانی تھے ان میں جا کر آپ نے انتخاب کیا اور کون سے دو معنی نکال کر لائے؟ حیوان اور ناطق، یہ ہے پہلی حرکت بھئی، اس کا مبدا اور یہ اس کا منتہا، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے ومبدأه المطلوب المعلوم من وجه، اور اس جو یہ جو ہے اس کا مبدا جو ہے وہ مطلوب جو معلوم ہے من وجہ، ومنتهاه الحيوان والناطق، اور اس کا منتہا جو ہے وہ حیوان اور ناطق یہ دو لفظ ہیں، یہ دو معانی ہیں۔ ثم ترتب الحيوان والناطق، پھر آپ ترتیب دیتے ہیں حیوان اور ناطق کو بان تقدم الحيوان الذی هو الجنس، بان طور کہ آپ مقدم کرتے ہیں اس حیوان کو جو کہ جنس ہے، على الناطق الذی هو الفصل، اس ناطق پر جو کہ فصل ہے۔ ترتیب کس طرح دیتے ہیں؟ حیوان جنس ہے اور ناطق فصل ہے، تو آپ جنس کو مقدم کر دیتے ہیں اور فصل کو مؤخر کر دیتے ہیں، وقلت، اور پھر آپ یوں کہتے ہیں: الحيوان الناطق، الحيوان الناطق، تو دیکھو یہ انسان کی ماہیت تک آپ پہنچ گئے۔ و‌ها هنا انقطعت الحركة الثانية، دیکھا ترتیب دے دی تو و‌ها هنا انقطعت الحركة الثانية، یہاں پر دوسری حرکت منقطع ہو گئی، ختم ہو گئی، پوری ہو گئی۔ وحصل المطلوب، اور کیا حاصل ہو گیا؟ مطلوب۔ یہ دو حرکتیں بیان ہوئیں، یہ کس کے اندر ہوں گی؟ فکر میں، اور حدس میں؟ اس میں ایسی حرکتیں نہیں، دیکھیے خود بیان کرنے لگے ہیں: وأما الحدس ففيه انتقال الذهن من المطلوب إلى المبادی دفعة، اور جبکہ حدس جو ہے اس میں ذہن کا انتقال ہوتا ہے، ذہن منتقل ہوتا ہے من المطلوب، مطلوب سے إلى المبادی، کس کی طرف؟ مبادی کی طرف، دفعة، اچانک، فوراً بھئی، فوراً۔ فکر میں بھی وہ دو کام کیے تھے، وہی دو کام حدس میں بھی ہوں گے۔ لیکن فکر میں غور کرنا پڑا، وقت لگا۔ حدس میں، آن ایک لمحے میں یہ سارا کچھ ہو جائے گا بھئی، فوراً بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں حدس کے اندر انتقال ہوتا ہے ذہن کا مطلوب سے لے کر إلى المبادی، مبادی تک، دفعة، فوراً ہی، ومنها إلى المطلوب كذلك، اور اس پھر ان مبادی سے مطلوب کی طرف اسی طرح، یعنی دوسری حرکت بھی اسی طرح ہوگی بھئی، فوراً پہلی حرکت اور فوراً ہی دوسری حرکت۔ وأكثر ما يكون الحدس عقب الشوق والتعب، کہتے ہیں اکثر جو حدس ہوتا ہے عقب الشوق والتعب، تعب 'ع' پر فتحہ ہے، یہ اکثر شوق اور مشقت کے پیچھے ہوتا ہے۔ شوق اور تعب کہتے ہیں تھکن کو، مشقت بھئی، محنت بھئی، اکثر یہ شوق اور محنت کے بعد آتا ہے حدس۔ کس کے بعد آتا ہے؟ شوق اور محنت کے بعد حدس آتا ہے۔ وقد تكون بدونها، اور کبھی کبھار بغیر ان کے بھی آ جاتا ہے، میں نے بتلایا اللہ کی طرف سے خاص انوارات، خاص برکات ہوتی ہیں، خاص قوت دے دی جاتی ہے کسی شخص کو، قوی ذہن دے دیا جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو معلوم ہوا حدس کے حصول کی دو صورتیں ہیں: یا تو خود انسان شوق سے لگا رہے، محنت کرتا رہے تو حدس حاصل ہو جائے گا، یا اللہ کی طرف سے خاص رحمت ہو تو بھی حدس حاصل ہو جائے گا۔ بھئی! اور وضاحت ہو جائے حدس کی، دیکھو ذرا حدس میں، حدس اور فکر کیا ہے؟ دیکھو، ابھی اگر آپ عبارت پڑھتے ہیں، تو آپ ایک ایک لفظ پہ غور کرتے ہیں کہ اس پر کیا پڑھنا ہے اور کیوں پڑھنا ہے؟ وجہ کیا ہے؟ الفاظ، بھئی آپ نے کہا "جاء زيدٌ"، میں نے کہا آپ سے "جاء زيدٌ"، یہ زید، یہ مرفوع کیوں؟ اس پر رفع کیوں؟ آپ فوراً ذہن دوڑانے لگے کہ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اور ذہن دوڑاتے دوڑاتے کئی نحو کی باتیں آپ کے ذہن میں آئیں، بالآخر آپ کو بات ملی، کیا؟ کہ یہ فاعل ہے بھئی، یہ فاعل ہے۔ دوسری بات بھی آپ کو ملی کہ فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے۔ اب اگر آپ نے کہا کیونکہ یہ فاعل مرفوع ہے۔ لیکن یہی جب آپ نے محنت کی، شوق سے پڑھتے رہے، تو ایک وقت آتا ہے پھر آپ کو سوچنا ہی نہیں پڑتا۔ کوئی آپ سے پوچھے کہ "جاء زيدٌ"، یہ "زيدٌ" مرفوع کیوں ہے؟ فوراً کہیں گے، کیونکہ یہ فاعل ہے۔ دیکھو وہی بات جس پہ پہلے آپ کو سوچنا پڑتا تھا، اب فوراً، ذرا بھی نہیں سوچنا پڑتا، فوراً ذہن مبادی سے مطلوب تک پہنچ گیا بھئی اور باتیں بھی ساتھ خود ہی آ گئیں بھئی، دلیلیں بھی خود بخود آ گئیں بھئی، دلیل بھی پوچھے گا آپ سے، آپ فوراً بیان کر دیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ محنت اور شوق کے بعد کیا حاصل ہو جاتا ہے؟ حدس حاصل ہو جاتا ہے۔ چلیے بس کریں بھئی، بس بس، ھٰذا ہو المرام والله اعلم بحقيقة الکلام۔