LESSONS NO. 91 1 فستمع، ان القیاس باعتبار المادۃ ینقسم الی اقسام خمسۃ۔ ویقال لها الصناعات الخمسۃ۔ احدها البرهانی، والثانی الجدلی، والثالث الخطابی، والرابع الشعری، والخامس المغالطي۔ بھئی گزشتہ سبق میں مادہ قیاس کے بارے میں ہم نے بحث شروع کی تھی۔ میں نے بتلایا تھا جس طرح حسی اور ظاہری چیزوں کے اندر ایک ان کی صورت ہوتی ہے اور ایک مادہ ہوتا ہے۔ صورت تو وہ ان کی جو شکل ہے بھئی، اور مادہ جس سے وہ بنی ہو وہ چیز بھئی وہ اس کا مادہ کہلاتا ہے۔ اسی طرح جو ہمارا کلام ہے، جو ہمارا قیاس ہے بھئی، اس قیاس کی ایک صورت ہوتی ہے اور ایک مادہ ہوتا ہے۔ صورت کے اعتبار سے تو وہ چار شکلیں بنتی ہیں آپ نے پڑھ لیں، شکل اول، شکل ثانی، شکل ثالث اور شکل رابع۔ جبکہ مادہ، مادہ وہ جملے اور وہ قضیے جن سے قیاس بنا ہے بھئی، وہ اس کا مادہ کہلاتے ہیں بھئی مادہ۔ اور وہ جملے اور قضیے کئی قسم کے ہو سکتے ہیں، تو قیاس بھی کئی قسم کا ہو گا۔ قیاس بھی کئی قسم کا ہو گا۔ اب آگے یاد رکھیے بھئی کہ یہ بات سمجھ لیں کہ وہ جملے اور قضیے کتنی قسم کے ہو سکتے ہیں جن سے قیاس بنتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک اور بات یاد رکھیے کہ جو آپ کا قیاس ہے، وہ جن جملوں اور قضیوں سے بنے، وہ تصدیق کے قبیل سے ہونے چاہئیں، تصور کے قبیل سے نہیں ہونے چاہئیں۔ یعنی آپ کا قیاس وہ اس کے جو قضیے اور جملے ہیں، وہ کیا ہونے چاہئیں؟ تصدیق ہوں، تصور نہ ہوں۔ اب آپ کے ذہن میں آئے گا کہ جملہ اور قضیہ ہو اور تصور بھی ہو، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو پہلے سمجھ لیجیے تصور کی قسمیں اور تصدیق کی قسمیں بھئی۔ یاد رکھیے تصور اور تصدیق دونوں کی کئی کئی قسمیں ہیں بھئی۔ تصور کئی قسم پر ہے، مثلاً آپ کے ذہن میں ایک چیز کا تصور آیا، کوئی حکم نہیں لگایا آپ نے اس پر، صرف تصور آیا اس کا، مثلاً "زید" یا مثلاً صرف "کتاب" یا صرف "قلم" یا صرف "سائیکل"، کوئی بھی ایک چیز مثلاً یہ آپ کے ذہن میں آئی، حکم وغیرہ کوئی نہیں، تو یہ تصور ہے۔ یہ کیا ہے؟ تصور۔ تو پہلی قسم تصور کی وہ تصور مفرد ہے، ایک چیز کا تصور۔ پھر اس میں کچھ کبھی زیادتی ہو گی، کبھی دو یا تین چیزوں کا تصور ہو گا بھئی، لیکن حکم کوئی نہیں لگایا۔ مثلاً زید کا بھی ذہن میں تصور آیا اور بکر کا بھی آ گیا ساتھ، یا خالد کا بھی ساتھ آ گیا، کتاب کا بھی تصور آیا، ساتھ قلم کا بھی تصور آ گیا، ساتھ کاپی کا بھی تصور آ گیا۔ تو دو تین چیزوں کے ذہن میں تصور آیا بھئی تصور آیا۔ اب یہ تصور ایک مفرد کا نہیں ہے بلکہ مرکب کئی چیزوں کا تصور ہے۔ لیکن درمیان میں کوئی نسبت وغیرہ نہیں ہے، زید کا تصور الگ ہے، بکر کا الگ ہے، خالد کا الگ ہے۔ یہ تصور کی دوسری قسم ہو گئی۔ تصور صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تیسری صورت دو چیزوں کا یا زیادہ کا مثلاً تصور آیا اور بیچ میں نسبت بھی ہے، لیکن نسبت تام نہیں ہے بلکہ ناقص ہے۔ مثلاً موصوف صفت کا تصور آیا، رجل شجاع، رجل موصوف شجاع اس کی صفت، بہادر آدمی۔ تو دیکھو دو چیزوں کا تصور آیا اور ان میں نسبت بھی ہے کہ ایک موصوف ہے، دوسری صفت ہے۔ یا مضاف مضاف الیہ ہیں دونوں بھئی، نسبت مضاف مضاف الیہ والی ہے، غلام زید، غلام کا بھی تصور آیا، زید کا بھی آیا اور دونوں میں نسبت بھی ہے کہ یہ غلام کس کا ہے؟ زید۔ لیکن حکم کوئی نہیں لگایا بھئی، نسبت ہے نسبت غیر تام ہے مولانا ناقص ہے یعنی اضافت والی نسبت ہے یا موصوف صفت والی۔ تو یہ بھی تصور ہے، یہ بھی کیا ہے؟ پہلی قسم تصور مفرد، دوسری قسم تصور مرکب بغیر کسی نسبت کے، تیسری قسم تصور مرکب ہے اور نسبت کے ساتھ ہے، لیکن نسبت ناقص ہے تام نہیں ہے۔ اچھا چوتھی قسم نسبت ہے اور نسبت تام بھی ہے، لیکن وہ انشائی ہے بھئی، کون سی ہے؟ انشائی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کوئی آپ سے کہتا ہے "محنت کرو"، دیکھو یہ امر ہے امر، اور امر کس قبیل سے ہے؟ انشائی قبیل سے ہے۔ یا "اپنے ساتھیوں کا خیال رکھو"، یہ بھی امر ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا "سستی نہ کرو"، دیکھو نہی آ گئی، یہ بھی کس قبیل سے ہے؟ یہ انشائی قبیل سے ہے۔ تو یہ بھی یاد رکھیے تصور ہے، یہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ تو کتنی قسمیں ہو گئیں؟ چار قسمیں ہو گئیں۔ تصور مفرد ہو گا یا تصور مرکب بلا نسبت ہو گا یا تصور مرکب نسبت کے ساتھ لیکن کیسی نسبت؟ ناقص ہو گی۔ چوتھی نسبت بھی ہے تام بھی ہے، لیکن کون سی نسبت ہے؟ انشائی ہے بھئی انشائی۔ پانچویں قسم بھئی، نسبت تام بھی ہو، لیکن شک، وہم یا تخییل کے قبیل سے ہو۔ شک، وہم یا تخییل، دو یا ہیں بھئی، تا، خاء، دو یا اور لام، یا تخییل کے قبیل سے ہو۔ یہ پانچویں قسم آ گئی۔ مثلاً بھئی، آپ خبر دیتے وقت، مثلاً آپ نے کہا "زید آ گیا ہے"، کیا کہا؟ "زید آ گیا ہے"، یہ آپ نے خبر دی۔ زید پر آپ نے حکم لگایا آنے کا آنے کا، اور یہ تام ہے یا غیر تام ہے بھئی؟ یہ نسبت تام ہے بھئی، آپ خبر دے رہے ہیں زید آ گیا ہے۔ تو اس میں، اس میں جو آپ نے خبر دی زید کے آنے کی، یہاں پانچ صورتیں ہو سکتی ہیں بھئی، پانچ صورتیں۔ آپ نے کہا "زید آ گیا ہے" اور آپ کو اس پر یہ پختہ طور پر پتہ ہے بھئی کہ زید آ گیا ہے۔ زید کے صرف آنے ہی کا خیال ہے، نہ آنے کا خیال بھی نہیں آپ کے ذہن میں، اتنی پکی خبر ہے آپ کے نزدیک جو آپ دے رہے ہیں۔ "زید آ گیا ہے"، زید کے نہ آنے کی طرف ذہن جاتا ہی نہیں ہے بھئی، اس کو کہتے ہیں یقین۔ کیا کہتے ہیں؟ یقین۔ اور ایک ہے کہ "زید" آپ نے کہا "زید آ گیا"، لیکن ساتھ تھوڑا سا ذہن اس طرف بھی گیا کہ شاید نہ زید نہیں آیا۔ زید نہیں، تو زیادہ خیال یہ ہے کہ زید آ گیا ہے، اور تھوڑا خیال کیا ہے کہ زید نہیں آیا۔ تو جو زیادہ خیال ہے، اس کو کہتے ہیں ظن، کیا کہتے ہیں؟ ظن۔ اور جو تھوڑا خیال ہے، وہ اس سے وہم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ وہم کہتے ہیں۔ آپ دیکھیے دوبارہ سنیں، آپ نے کہا "زید آ گیا ہے"، نہ آنے کی طرف ذہن گیا ہی نہیں، اتنا پکا ہے آپ کے ذہن میں یہ علم، اس کو کیا کہیں گے؟ یقین۔ اگر نہ آنے کی طرف بھی ذہن جاتا ہے، لیکن زیادہ ذہن کس طرف جاتا ہے؟ آنے کی طرف، تو جس طرف زیادہ ذہن ہے، اس کو کہتے ہیں ظن، ظاء کے ساتھ، اور جو کم خیال ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہم کہتے ہیں۔ اور اگر دونوں جانبیں برابر ہیں بھئی، دونوں جانبیں، تو اس کو کہتے ہیں شک۔ یعنی جتنا خیال ہے آپ کے ذہن میں کہ وہ آ گیا ہے، اتنا ہی یہ بھی ذہن میں ہے کہ وہ نہیں آیا ہے۔ یہ ہے شک بھئی، جس میں دونوں جانبیں برابر ہوتی ہیں۔ اور اگر یہ جو آپ نے کہا "زید آ گیا ہے"، یہ آپ کے ذہن میں خیال سا آیا، یہ کیا ہے آپ کے؟ خیال سا آیا تھا، آپ نے کون سی طرف ذہن زیادہ جاتا ہے، کون سی طرف کم جاتا ہے، اس طرف گئے ہی نہیں بس، ویسے ہی خیال سا آیا اور آپ نے کہہ دیا "زید آ گیا ہے"، اس کو کہتے ہیں تخییل بھئی، کیا کہتے ہیں؟ تخییل۔ تو کل پانچ قسمیں یہاں بن گئیں بھئی، یقین، ظن، وہم، شک اور تخییل۔ یقین، ظن، وہم، شک اور تخییل۔ یقین کون سی قسم؟ جس میں صرف ذہن کس طرف گیا ہے؟ آنے کی طرف، نہ آنے کا خیال ہی نہیں، اتنا پکا ہے آپ کو یہ علم بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ یقین۔ دوسری قسم جس میں زیادہ ذہن تو یہ ہے کہ آ گیا ہے، لیکن تھوڑا سا ذہن کس طرف گیا؟ کہ نہیں آیا، تو جس طرف زیادہ ذہن گیا اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظن، اور جس طرف کم ذہن گیا اس کو؟ وہم۔ اور اگر دونوں جانبیں برابر ہوں، جتنا خیال آنے کا ہے اتنا ہی خیال نہ آنے کا ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ شک کہتے ہیں۔ اور اگر زیادہ یا کم کی بات نہیں، بس ذہن میں خیال آیا، آپ نے اس طرف سوچا ہی نہیں کدھر زیادہ ہے، کدھر نہیں ہے، بس ایک خیال سا آپ کے ذہن میں آیا اور آپ نے بات کر دی بھئی، اس کو کیا کہیں گے؟ تخییل کہیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بات سمجھ میں آئی؟ تو کتنی قسمیں ہوئیں؟ پانچ: یقین، ظن، وہم، شک اور تخییل۔ اس میں سے یاد رکھیے، یقین اور ظن یہ تصدیق کی قسمیں ہیں، جبکہ باقی تین تصور کی قسمیں ہیں۔ یقین بھی کس کی قسم؟ تصدیق کی، ظن بھی کس کی قسم؟ تصدیق کی، لیکن وہم، شک اور تخییل یہ کس کی قسمیں ہیں؟ یہ تصور کی قسمیں ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ تصور کی قسمیں ہیں۔ تو خلاصہ کلام یہ کہ تصور گویا پانچ قسم پر ہوا، کتنے قسم پر؟ پانچ قسم پر۔ پہلی قسم کون سی؟ تصور مفرد۔ دوسری قسم تصور مرکب بلا نسبت۔ تیسری قسم تصور تصور بالنسبت لیکن نسبت کون سی ہو؟ نسبت ناقص ہو، غیر تام ہو۔ چوتھی قسم نسبت کون سی ہو؟ انشائی ہو۔ پانچویں قسم کہ وہ تصور کیا ہو؟ یا تخییل ہو یا وہم ہو یا شک ہو۔ تو یہ پانچ قسمیں ہو گئیں بھئی۔ بات سمجھ میں آئی، کتنی قسمیں ہوئیں؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ زبان سے دہرایا کریں بھئی، جب میں بار بار تکرار کروانے کا مقصد یہ ہے۔ کتنی قسمیں ہوئیں تصور کی؟ پانچ۔ پہلی کیا؟ تصور مفرد۔ دوسری قسم؟ مرکب بلا نسبت۔ تیسری قسم؟ مرکب بنسبت ناقص۔ چوتھی قسم؟ نسبت انشائی۔ پانچویں قسم؟ تخییل، شک اور وہم بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دوبارہ دہرائیں بھئی، پہلی قسم؟ تصور کتنے قسم پر ہوا؟ پانچ قسم پر۔ نمبر ایک تصور مفرد، دوسری مرکب بلا نسبت، تیسری قسم مرکب ہو نسبت بھی ہو لیکن نسبت کون سی؟ ناقص ہو۔ چوتھی قسم نسبت تام ہو لیکن انشائی ہو۔ پانچویں قسم نسبت تام ہو لیکن کس قبیل سے ہو؟ تخییل، شک اور وہم۔ اس سے اتنا آپ کو پتہ لگ گیا کہ تصور کبھی قضیہ اور جملہ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ جملہ انشائیہ اور جملہ تخییلیہ یا جملہ شکیہ یا جملہ وہمیہ، یہ سارے کیا ہیں؟ تصور ہیں۔ جملہ انشائیہ، جملہ شکیہ جس میں شک ہے، جملہ وہمیہ جس میں کیا ہے؟ وہم ہے، جملہ تخییلیہ جس کا صرف خیال آیا بھئی، سرسری سا خیال آیا، تو دیکھیے یہ جملے ہیں، قضیے ہیں بھئی، لیکن ہیں کس قبیل سے؟ تصور کے قبیل سے۔ اور میں نے آپ کو پہلے بتلایا تھا کہ قیاس جو ہے، قیاس جن قضیوں اور جملوں سے بنے، ان جملوں اور قضیوں کو تصور نہیں ہونا چاہیے بلکہ کیا ہونا چاہیے؟ تصدیق ہونا چاہیے بھئی تصدیق، اور یہ شک، وہم، تخییل اور انشاء یہ تو تصور کے قبیل سے ہیں، معلوم ہوا یہ کبھی بھی قیاس ان سے مرکب نہیں ہو سکتا، کیونکہ قیاس کے قضیوں کا کیا ہونا ضروری؟ تصدیق ہونا ضروری ہے۔ اب تصدیق کی قسمیں بھی اچھی طرح سمجھ لیں۔ تصدیق کی قسمیں۔ بھئی دیکھیے، یہ گزشتہ بحث سے اتنا تو آپ کو پتہ چل گیا کہ تصدیق کا سب سے ادنیٰ درجہ کیا ہے؟ ظن ہے، جس میں ایک جانب جس کا ذرا زیادہ خیال ہوتا ہے، یقین نہیں ہوتا لیکن ذرا زیادہ خیال ہوتا ہے، ظن، یہاں سے تصدیق کی ابتداء ہو جاتی ہے، یہ ظن کیا ہے؟ تصدیق ہے۔ پھر یہ اس میں تو تھا زیادہ خیال ہے، ہاں دوسری جانب کا بھی تھوڑا سا خیال آ جاتا ہے کہ شاید نہ آیا ہو، تو زیادہ خیال ہے جس جانب کا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظن، اور ظن کس قبیل سے ہے؟ تصدیق کے قبیل سے۔ اس سے ذرا اوپر آئیں بھئی، آپ کو یقین ہے بھئی، پختگی ہے اس علم پر، یہ جو علمی پختگی آپ کو حاصل، آپ نے کہا "زید آ گیا ہے" اور بڑے پکے طریقے سے کہا، اب یہاں پر دوسری جانب کا کوئی خیال ہی نہیں آپ کے ذہن میں بھئی، دوسری جانب کا (کوئی خیال نہیں)، یعنی آنا ہی آنا آپ کے ذہن میں ہے، نہ آنے کا شک اور وہم ذرا بھی نہیں آپ کے ذہن میں بھئی، خیال ذرا بھی نہیں ہے، تو یہ جو آنے کا، صرف ہے آپ کے ذہن میں، آنا ہی آنا ہے، دوسری جانب ذہن جاتا ہی نہیں ہے بھئی، اتنا پکا علم ہے آپ کا، یہ پھر یاد رکھیے دو قسم پر ہے۔ یا تو یہ تشکیک مشکک سے زائل ہو گا یا زائل نہیں ہو گا۔ تشکیک، شک کا، یشکک، تشکیک کا معنی ہوتا ہے دوسرے کو شک میں ڈالنا، اسی سے اسم فاعل ہے مشکک، شک میں ڈالنے والا۔ آپ کو یقین ہے "زید آ گیا ہے" اور اتنا پکا یقین، آپ کو پکا یقین ہے، اس میں پھر دو حال ہوں گے، یا تو یہ تشکیک مشکک سے زائل ہو سکتا ہے یہ علم یا زائل نہیں (ہو سکتا)۔ مثلاً ایک اور آدمی آیا، آپ نے تو کہا "زید آ گیا ہے"، آپ کو اس کا یقین بھی تھا بھئی، بڑا پکا علم تھا، لیکن اس نے کوئی اپنی دلیلیں وغیرہ ذکر کرنا شروع کر دیں کہ زید نہیں آیا، آپ بھی شک میں پڑھ گئے، تو دیکھو آپ کی وہ علمی پختگی برقرار نہ رہی، ٹوٹ گئی، ختم ہو گئی۔ پہلے تو نہ آنے کی طرف ذہن ہی نہیں جا رہا تھا، اب نہ آنے کی طرف بھی ذہن چلا گیا، کس وجہ سے؟ اس شخص کی دلیلوں کی وجہ سے، اس نے جو آپ کو شک میں ڈالا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اگر وہ علمی پختگی جس کی بناء پر آپ خبر دے رہے تھے، اگر وہ تشکیک مشکک سے زائل ہو جائے، کسی دلیل دینے والے کے دلیل دینے سے وہ آپ کی وہ علمی پختگی ٹوٹ جاتی ہے، باقی نہیں رہتی، تو اس کو کہتے ہیں تقلید بھئی، کیا کہتے ہیں؟ تقلید کہتے ہیں تقلید۔ اور اگر 2 تشکیکِ مشکک۔ تو یہ تشکیکِ مشکک سے جو زائل ہو سکتی ہے۔ اور اگر وہ علمی پختگی اتنی زیادہ ہے کہ ہزار تشکیک میں ڈالنے والے آ جائیں وہ آپ کے ذہن سے وہ اس بات کو بدل ہی نہیں سکتے، اتنی پختگی آپ کو حاصل ہے، تو اس کا نام ہے یقین بھئی۔ کیا نام ہے؟ یقین ہے۔ تو یقین اور تقلید دونوں، دونوں میں علمی پختگی ہوتی ہے۔ یوں کہیں دونوں میں یقین ہوتا ہے، لیکن جو تقلید والا یقین ہے وہ تشکیکِ مشکک سے ٹوٹ جاتا ہے۔ کوئی دوسرا آئے گا، چند باتیں کرے گا، چند دلیلیں دے گا تو آپ کا ذہن بھی اس میں متذبذب ہو جائے گا کہ واقعی کہیں ایسا نہ ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور جہاں یقین ہوگا وہ تشکیکِ مشکک سے زائل نہیں ہوگا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں اللہ ایک ہے۔ اب ہزار شک ڈالنے والے آ جائیں، اپنی دلیلیں دیں، سب کچھ کریں، یہ یقین کبھی آپ کے ذہن سے نہیں نکلے گا بھئی۔ تو یہ ہے یقین بھئی۔ اور جو تشکیکِ مشکک سے زائل ہو جائے اس کا کیا نام ہے؟ تقلید ہے بھئی۔ کیا نام ہے؟ تقلید۔ یہ تو یقین اسے کہیں گے جب یہ واقع کے بھی مطابق ہو۔ آپ نے کہا اللہ ایک ہے، یہ بڑا پکا علم آپ کو، کوئی شک میں ڈالے آپ اس میں کوئی شک آتا ہی نہیں آپ کے ذہن میں، اتنا پکا یقین ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، کوئی ہزار دلیلیں لے کر آ جائے آپ کے ذہن سے یہ بات نہیں کھرچ سکتا، شک نہیں ڈال سکتا۔ یہ کیا ہے؟ یقین۔ یہ تو وہ ہے جو واقع کے مطابق ہے بھئی۔ کس کے؟ تو یہ جو یقین ہے یہ پھر واقع کے مطابق ہو تو اس کو کہتے ہیں یقین، لیکن اگر واقع کے مطابق نہیں ہے اور ذہن میں اتنا پکا جما ہوا ہے کہ ٹوٹتا بھی نہیں ہے، تو اس کو کہتے ہیں جہلِ مرکب۔ کیا کہتے ہیں؟ جہلِ مرکب کہتے ہیں، جہلِ مرکب۔ مثلاً کافر ہے، وہ کہتا ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندگی نہیں۔ مرنے کے بعد اور اس بات پر اتنا پکا ڈٹ گیا ہے کہ ہزار دلیلیں بھی دے دو وہ مانتا ہی نہیں ہے بھئی۔ تسلیم ہی نہیں کرتا۔ تو دیکھو، یقین ہے اس کو۔ کیا ہے؟ یقین، لغوی معنی میں استعمال کر رہا ہوں۔ ایک منطقی جس کا نام یقین رکھتے ہیں وہ اور چیز ہے، ابھی گزر گیا۔ وہ واقع کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ جو اس کے علمی پختگی ہے، یہ واقع کے مطابق نہیں ہے۔ تو اس کو کہیں گے جہلِ مرکب۔ کیا کہیں گے؟ کیوں؟ کیونکہ یہ دگنی جہالت ہے۔ ایک تو جو اس کے ذہن میں بات جمی ہے وہ واقع کے خلاف ہے۔ دوسرا، کوئی سمجھائے تو اس کو سمجھتا بھی نہیں ہے اس بات کو۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جہلِ مرکب کہتے ہیں، جہلِ مرکب کہتے ہیں۔ جیسے ایک آدمی ہے، ہے بےوقوف، لیکن اپنے آپ کو سب سے بڑا عقلمند سمجھتا ہے۔ اتنا یقین ہے اس کو، آپ ہزار دفعہ اس کو سمجھائیں کہ بھئی دیکھیے آپ کے، آپ کے کام ہی بتاتے ہیں آپ کی عقل پوری نہیں ہے بھئی۔ لیکن نہیں، وہ تو اپنے آپ کو اتنا پکا ہوا ہوا ہے اس بات پر کہ آپ ہزار دلیلیں دے دیں اس کا یہ علم نہیں توڑ سکتے۔ اس کا تو یہی یقین ہے میرے جیسا عقلمند تو کوئی ہے ہی نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہے ہی کوئی نہیں بھئی۔ اس کو کہتے ہیں جہلِ مرکب۔ جیسے ابھی پرویز مشرف کو آپ نے دیکھا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ایک جہالت والی بات پہ ڈٹ جاتا تھا اور پھر کہتا تھا کہ مجھ سے بڑھ کر عقلمند تو کوئی ہے ہی نہیں۔ یہ ہے جہلِ مرکب کہ انسان جو ہے ایک بات جو خلافِ واقعہ ہے، اس پر ڈٹا ہو، اس پر پکا یقین اس کو ہو اور ہو وہ خلافِ واقعہ۔ تو اس کو جہلِ مرکب کہتے ہیں، اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی بھئی۔ اس شخص کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ اصلاح تو اسی کی ہوگی نا جس کو یہ بھی خیال ہو کہ شاید میں غلطی پر ہوں۔ تو وہ کہیں نہ کہیں سے بات سن کر، دلیل سن کر مان جائے گا۔ لیکن جو جہلِ مرکب میں مبتلا ہے اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یا جیسے ایک آدمی بھئی، اس کے پاس علم اتنا نہیں، لیکن اس کا خیال ہے میں سب سے بڑا عالم ہوں بھئی۔ اتنا پکا یقین ہے اس کو، ہزار دلیلیں دے دو، وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا بھئی۔ اور یہ بات کہ میں سب سے بڑا عالم ہوں، یہ ہے خلافِ واقعہ۔ تو خلافِ واقعہ علمی پختگی انتہا درجے کی ہو جو تشکیکِ مشکک سے زائل نہ ہوتی ہو اس کو کہتے ہیں جہلِ مرکب۔ تو تصدیق کی کتنی قسمیں ہو گئیں؟ چار۔ ظن، تقلید، یقین، جہلِ مرکب۔ کون کون سی؟ نمبر ایک ظن، نمبر دو تقلید، نمبر تین یقین، نمبر چار جہلِ مرکب۔ ظن میں ایک جانب ذہن زیادہ جاتا ہے اس کو ظن کہتے ہیں۔ دوسری جانب کا بھی خیال ہے ذہن میں۔ اس سے اوپر درجہ ہے تقلید کا۔ تقلید میں دوسری جانب کا خیال ہی نہیں علمی پختگی بڑھ گئی ہے۔ لیکن اگر کوئی تشکیکِ مشکک، کوئی مشکک شک ڈالے تو یہ تشکیکِ مشکک سے کیا ہو جائے گی؟ یہ پختگی ٹوٹ جائے گی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تقلید کہتے ہیں۔ اور اگر اس سے بھی اوپر کا درجہ ہے کہ تشکیکِ مشکک سے بھی وہ علم زائل نہیں ہوتا تو پھر اس کے دو حال ہیں اس میں۔ یا تو وہ واقع کے بھی مطابق ہوگا یا واقع کے مطابق نہیں۔ اگر واقع کے مطابق ہے تو اس کا نام ہے یقین۔ اگر واقع کے مطابق نہیں تو اس کا نام ہے جہلِ مرکب۔ کیا نام ہے؟ دوبارہ دہرائیں بھئی۔ پہلی قسم کیا ہے؟ ظن۔ دوسری قسم؟ تقلید۔ تیسری قسم؟ یقین۔ چوتھی قسم؟ جہلِ مرکب۔ ظن کے اندر دوسری جانب کا خیال تھوڑا سا آتا ہے یا نہیں آتا؟ آتا ہے۔ تقلید کے اندر دوسری جانب کا خیال آتا ہے؟ نہیں آتا، علمی پختگی بڑھ گئی۔ لیکن کیا کوئی شک ڈالنے والا شک ڈالے، کوئی دلیل پیش کرے تو یہ ٹوٹ سکتی ہے یا نہیں ٹوٹ سکتی؟ ٹوٹ سکتی ہے، تو یہ ہے تقلید بھئی۔ اور اگر نہیں ٹوٹ سکتی، پھر یہ دو حال سے خالی نہیں۔ یہ واقع کے بھی مطابق ہوگا، یعنی حقیقت کے مطابق ہوگا یا حقیقت کے مطابق نہیں۔ اگر حقیقت کے مطابق ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ یقین کہیں گے۔ اور اگر حقیقت کے مطابق نہ ہو تو؟ جہلِ مرکب کہیں گے۔ تو یہ چار قسمیں ہو گئیں تصدیق کی۔ اب یاد رکھیے بھئی، یاد رکھیے۔ ان میں سب سے اعلیٰ درجہ یقین کا ہے۔ اس سے نچلا درجہ تقلید کا ہے۔ اس سے نچلا درجہ ظن کا ہے۔ سب سے نچلا درجہ جہلِ مرکب کا ہے۔ جہلِ مرکب بھئی یقین تو سب سے زیادہ اس میں بھی ہے لیکن وہ تو واقع کے خلاف ہے بھئی۔ لہٰذا اس کا درجہ سب سے کم ہے۔ تو پہلا درجہ کس کا؟ یقین۔ دوسرا درجہ؟ تقلید۔ تیسرا درجہ؟ ظن۔ چوتھا درجہ؟ جہلِ مرکب۔ اب یہ جو آگے قیاس کی، یہ جو ہمارا قیاس ہے، یہ انہی سے مل کر بنا کرتا ہے۔ قیاس تصدیق سے ہی بنتا ہے نا، تو اس میں یہی چار قسمیں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ چار قسموں میں سے۔ تو یاد رکھیے، جو قیاس ایسے قضیوں سے مرکب ہو جو یقینی ہیں، جو یقینی، جو یقینی ہیں، اس کو کہتے ہیں قیاسِ برہانی۔ کیا کہتے ہیں؟ یہ نام آ رہے ہیں نا کتاب میں البرہانی والجَدَلی والخطابی والشاعری والسَفسَطی۔ جو یقینی یقینیات سے مرکب ہو جو قیاس، یقینی قضیوں سے اس کو کہتے ہیں قیاسِ برہانی۔ اور یہ سب سے اعلیٰ اور سب سے قوی قیاس ہے بھئی، کیونکہ یہ کس قسم کی تصدیقوں سے بنا ہے؟ یقینیات سے یہ بنا ہے۔ قیاس میں صغریٰ کبریٰ ملا کر نتیجہ نکالا جاتا ہے نا، تو یہ جو آپ کا قیاس ہے اگر یقینیات سے بنا ہو، صغریٰ اور کبریٰ وغیرہ بڑے یقینی ہیں، قطعی ہیں، تشکیکِ مشکک سے زائل ہو ہی نہیں سکتے، یہ اس کو کیا کہیں گے اس قیاس کو؟ قیاسِ برہانی کہیں گے اور یہ سب سے اعلیٰ قیاس ہے۔ اور باقی قسموں سے اگر قیاس مرکب ہو، یعنی ظن سے یا تقلید سے یا جہلِ مرکب سے، تو اس سے پھر باقی قسمیں بنیں گی۔ کسی سے، کسی کے ملنے سے جدلی قسم بنے گی، کسی کے ملنے سے خطابی، قیاسِ خطابی بنے گا، کسی کے ملنے سے قیاسِ شعری بنے گا اور کسی کے ملنے سے قیاسِ سفسطی ملے بنے گا بھئی۔ تو یقینیات سے جو قیاس بنے گا وہ ہے برہانی سب سے اعلیٰ۔ اور باقی جو ظن، تقلید اور جہلِ مرکب سے قیاسات بنیں گے ان کے کبھی اس کو کیا کہیں گے؟ قیاسِ جدلی کہیں گے، کبھی قیاسِ خطابی کہیں گے، کبھی قیاسِ شعری کہیں گے اور کبھی قیاسِ سفسطی کہیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بس خلاصہٴ بحث یہ کہ مادۂ قیاس یہ تصدیقات ہیں۔ مادۂ قیاس یہ جو تصدیقات ہیں، یقین، ظن، تقلید، جہلِ مرکب، یہ ہیں مادۂ قیاس۔ انہی سے قیاس بنتا ہے۔ اور ان جس طرح کے قضیوں سے وہ بنے گا، اسی درجے کا قیاس ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ مشکل بات تو نہیں کوئی؟ یہ چیزیں یہ جو قیاس ہیں بننا کس سے؟ تصدیق سے، اور تصدیق کی کتنی قسمیں؟ چار۔ تو ان کے اس چار قسموں کے اعتبار سے قیاسات جو بنتے ہیں وہ پانچ بنیں گے۔ کبھی اگر یقینیات سے بنا تو وہی قیاس کیا کہلائے گا؟ برہانی۔ اور اگر ظن، تقلید، جہلِ مرکب وغیرہ سے قیاس بنا ہے، تو وہ پھر قیاسِ جدلی یا خطابی یا شعری یا سفسطی وغیرہ میں سے کوئی ہوگا۔ اور یہی تصدیقات جو چار بیان ہوئیں جن سے یہ قیاسات بنتے ہیں، ان کو کیا کہتے ہیں؟ مادۂ قیاس۔ ان کو کیا کہتے ہیں؟ مادۂ قیاس۔ تو دیکھو یہ تصدیقات یہ قضیے جس طرح کے ہوں گے اسی طرح کا قیاس بھی بنے گا۔ اگر یہ مضبوط ہوئے تو قیاس بھی مضبوط ہوگا۔ اگر یہ کمزور ہوئے تو قیاس بھی کمزور ہوگا۔ تو یہ ہیں مادۂ قیاس بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے بھئی کتاب پر۔ "فَاسْتَمِعْ" بس آپ سن لیں "أَنَّ الْقِيَاسَ بِاعْتِبَارِ الْمَادَّةِ" کہ قیاس جو ہے مادے کے اعتبار سے "يَنْقَسِمُ إِلَى أَقْسَامٍ خَمْسَةٍ" یہ تقسیم ہوتا ہے پانچ قسموں کی طرف "وَيُقَالُ لَهَا الصَّنَاعَاتُ الْخَمْسَةُ" اور ان کو صناعاتِ خمسہ کہتے ہیں۔ یہ قیاس کی پانچ قسموں کو کیا کہتے ہیں؟ صناعاتِ خمسہ کہتے ہیں۔ "أَحَدُهَا الْبُرْهَانِيُّ" ان میں سے ایک جو ہے برہانی ہے "وَالثَّانِي جَدَلِيٌّ" اور دوسری قسم کیا ہے؟ "وَالثَّانِي الْجَدَلِيُّ" دوسری قسم جدلی ہے "وَالثَّالِثُ الْخَطَابِيُّ" اور تیسری قسم خطاب، مشہور خطابی ہے، لیکن خطاب خاء پر فتحہ بھئی، صحیح لفظ کیا ہے؟ خاء پر فتحہ۔ "وَالثَّالِثُ الْخَطَابِيُّ" اور تیسری قسم قیاسِ خطابی ہے "وَالرَّابِعُ الشِّعْرِيُّ" اور چوتھی قسم قیاسِ شعری ہے "وَالْخَامِسُ السَّفْسَطِيُّ" فاء ساکن ہے "وَالْخَامِسُ السَّفْسَطِيُّ" پانچویں قسم قیاسِ سفسطی ہے۔ "فَصْلٌ فِي الْبُرْهَانِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ" یہ فصل ہے یہ فصل ہے برہان سے کے بارے میں بھئی۔ قیاس کی پہلی قسم کیا پڑھی؟ قیاسِ برہانی۔ تو یہ اب اسی کے بارے میں بیان کرنے لگے ہیں۔ "فَصْلٌ فِي الْبُرْهَانِ" یہ فصل ہے برہان کے بیان میں "وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ" اور وہ جو اس سے متعلق ہیں۔ برہان اور برہان سے جو چیزیں متعلق ہیں ان کے بیان میں یہ فصل ہے۔ اس میں برہان کا بھی بیان ہوگا اور برہان سے جو چیزیں متعلق ہیں۔ برہان کس قیاس کو کہتے تھے؟ جو یقینیات سے مرکب ہو، جس کے صغریٰ، کبریٰ وغیرہ یقینی ہوں بھئی، اور یہ بڑا قوی قیاس ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں یہ فصل ہے برہان کے بارے میں "وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ" اور ان چیزوں کے بارے میں جو اس برہان سے متعلق ہیں۔ "اعْلَمْ" جان لے تو "أَنَّ الْبُرْهَانَ قِيَاسٌ مُؤَلَّفٌ مِنَ الْيَقِينِيَّاتِ" کہ برہان وہ قیاس ہے جو مرکب ہو یقینیات سے، یعنی کس قسم کے قضیوں سے جو یقینی ہوتے ہیں۔ "بَدِيهِيَّةً كَانَتْ أَوْ نَظَرِيَّةً" چاہے وہ یقینی قضیے بدیہی ہوں یا نظری ہوں۔ توجہ ہے ادھر بھئی؟ برہان کس قسم کے قضیوں سے بنے گا؟ یعنی اس کے یوں کہیں صغریٰ، کبریٰ بڑے یقینی ہوں گے۔ یقینی، پھر یہ جو صغریٰ اور کبریٰ ہیں، یہ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں، نظری بھی ہو سکتے ہیں۔ بدیہی کس کو کہتے تھے؟ جس میں غور و فکر نہیں کرنا پڑتا۔ نظری جس میں کیا کرنا پڑتا ہے؟ غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ تو اس کے صغریٰ اور کبریٰ یہ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی ہو سکتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو صغریٰ مثلاً بھئی، برہان، برہان بناتے ہیں جس کے صغریٰ، کبریٰ یقینی ہوں اور بدیہی ہوں۔ کیا ہوں؟ صغریٰ اور کبریٰ یقینی ہوں اور بدیہی ہوں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں، یہ چیز آگ ہے، سامنے آگ جل رہی تھی میں نے اس کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے کہا یہ چیز آگ ہے، اور آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ یہ یوں دوبارہ بنائیں، یہ چیز آگ ہے، اور ہر آگ جلانے والی ہے۔ ہر آگ نتیجہ کیا نکلا؟ یہ، حدِ اوسط پہ نظر رکھو بھئی، کیا کرتے ہیں حدِ اوسط؟ کتنی پرانی بات ہو گئی، اب تو یہ آسان کام تھا۔ یہ چیز آگ ہے، اور ہر آگ جلانے والی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ یہ چیز جلانے والی ہے۔ یہ چیز تو دیکھو یہ یہ صغریٰ اور کبریٰ ملائے اور نتیجہ بنایا۔ اور صغریٰ اور کبریٰ یہ چیز آگ ہے، اور ہر آگ جلانے والی ہے، یہ یقینی ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ یقینیات۔ ان میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں۔ تو یہ قیاسِ برہانی تھا اور اس کے مقدمات بدیہی تھے بھئی، یقینی بھی تھے اور بدیہی بھی تھے بھئی۔ غور و فکر کی ضرورت نہیں، دلیل دینے کی ضرورت نہیں۔ اور ایک قیاسِ برہانی وہ ہے جو نظریات سے بنا ہوگا۔ مثلاً میں کہتا ہوں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور جو بھی اللہ کا رسول ہوتا ہے وہ اس کی اطاعت واجب ہوتی ہے۔ قیاس سمجھ میں آ رہا ہے؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، صغریٰ۔ کبریٰ کیا؟ جو بھی اللہ کا رسول ہوتا ہے اس کی اطاعت واجب ہوتی ہے۔ نتیجہ کیا آیا؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہے۔ کی اطاعت واجب ہے۔ تو دیکھیے، یہاں صغریٰ تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہ صغریٰ نظری ہے۔ صغریٰ کیا ہے؟ نظری، دلیل چاہیے بھئی۔ کیا چاہیے؟ جیسے کافر کے سامنے بات کریں گے وہ دلیل مانگے گا یا نہیں مانگے گا اس پر؟ تو یہ صغریٰ نظری ہے، کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ دوسری بات، ہر اللہ کے رسول کی اطاعت ضروری ہے، یہ بھی نظری ہے۔ اس کے لیے بھی کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے بھئی۔ تو یہ دیکھو ایسا برہان ہے، ایسا قیاسِ برہانی ہے جو یقینیات سے مرکب ہے اور وہ یقینیات بدیہی تھے یا نظری تھے بھئی؟ نظری۔ تو معلوم ہوا یہ جو برہان ہے، یہ یقینیات سے مرکب ہوگا اور وہ یقینیات بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ معنی ہے "اعْلَمْ" جان لے تو "أَنَّ الْبُرْهَانَ قِيَاسٌ مُؤَلَّفٌ مِنَ الْيَقِينِيَّاتِ" کہ برہان جو ہے وہ ایسا قیاس ہے جو مرکب ہو یقینیات سے "بَدِيهِيَّةً كَانَتْ أَوْ نَظَرِيَّةً" چاہے وہ یقینیات بدیہی ہوں چاہے بدیہی ہوں یا نظری ہوں "مُنْتَهِيَةً إِلَيْهَا" ایسے نظری، یہ صفت ہے نظری کی، "نَظَرِيَّةً مُنْتَهِيَةً إِلَيْهَا" ایسے نظری، وہ یقینیات یا تو بدیہی ہوں گے یا ایسے نظری ہوں گے "مُنْتَهِيَةً إِلَيْهَا" جن کی 3 انتہا ہو رہی ہوگی بدیہیات پر بھئی۔ اس پر؟ بدیہیات پر انتہا ہو رہی ہوگی۔ بھئی دیکھیے، ابھی میں نے آپ کے سامنے مثال، دراصل یہاں بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ جو قیاسِ برہانی ہے اس کے جو صغریٰ اور کبریٰ ہوں گے وہ بدیہی ہوں گے۔ کیا ہوں گے؟ قیاس صغریٰ اور کبریٰ سے مل کر بنے گا نا، تو بعض علماء نے کیا لکھا کہ یہ جو برہان ہے جس کے صغریٰ اور کبریٰ یقینی ہوتے ہیں، یہ صغریٰ اور کبریٰ ہمیشہ بدیہی ہوں گے۔ کیا ہوں گے؟ صاحبِ کتاب بتائیں گے آپ کو کہ نہیں نہیں، ہم نے آپ کو بتا دیا۔ یہ صغریٰ اور کبریٰ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی۔ لیکن یہ جو نظری ہوں گے، یہ اس طرح کے ہوں گے جن کی انتہا بدیہی پر ہی ہو رہی ہوگی۔ توجہ ہے؟ یہ نظری جو تھے صغریٰ اور کبریٰ، یہ صغریٰ اور کبریٰ جو نظری تھے، ان کی انتہا کس پر ہو رہی ہوگی؟ بدیہی پر ہی ہو رہی ہوگی۔ یعنی ان میں پیچھے کی طرف آپ جائیں تو یہ بدیہی ہی نکلیں گے بھئی، بنے کس سے ہوں گے؟ بدیہی ہی سے یہ بنے ہوں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو قیاس، قیاس جن قضیوں سے مرکب ہوگا وہ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی۔ اور اگر نظری بھی ہیں تو ان نظری کی انتہا کس پر ہو رہی ہوگی؟ بدیہی پر، یعنی اس وقت تو یہ قیاس کے اندر، ادھر توجہ کیجیے بھئی، اس وقت تو قیاس کے اندر یہ جو صغریٰ اور کبریٰ ہیں نظری ہیں۔ لیکن اس صغریٰ اور کبریٰ کے اگر ذرا پیچھے کی طرف جائیں، یہ آئے کہاں سے؟ کہاں سے آئے ہوں گے وہ؟ بدیہی ہی سے آئے ہوں گے، کہاں سے آئے ہوں گے؟ بدیہی ہی سے آئے ہوں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے کہ، تو معلوم ہوا قیاسِ برہانی کے صغریٰ اور کبریٰ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی، اور نظری ہوں گے تو ایسے نظری ہوں گے جن کی انتہا کس پر ہو رہی ہوگی؟ بدیہی پر ہو رہی ہوگی، یعنی وہ شروع کہاں سے ہوئے، حاصل کہاں سے ہوئے ہیں؟ بدیہی ہی سے حاصل ہوئے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں کہ قیاس وہ، برہان وہ قیاس ہے جو مرکب ہو یقینیات سے "بدیهیۃً کانت او نظریۃً"، چاہے وہ یقینیات بدیہی ہوں یا نظری ہوں۔ بدیہی ہوں یا ایسے نظری ہوں "منتہیۃً الیہا"، جن کی انتہا کس پر ہو رہی ہو؟ بدیہیات پر۔ "ولیس الامر کما زعم"، اور معاملہ ایسا نہیں ہے جیسے کہ گمان کیا گیا ہے، جیسا کہ گمان کیا گیا ہے، "ان البرہان انما یتألف من البدیہیات فحسب"، کہ برہان وہ تو مرکب ہوتا ہے بدیہیات سے ہی، فحسب اور بس۔ بعض علماء نے کیا گمان کیا ہے کہ برہان ہمیشہ کس سے مرکب ہوتا ہے؟ بدیہیات ہی سے مرکب ہوتا ہے اور بس، یعنی صرف بدیہیات سے ہوتا ہے، نظریات سے مرکب نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں نہیں، یہ گمان ان کا صحیح نہیں ہے۔ قیاسِ برہانی وہ بدیہیات سے بھی مرکب ہوتا ہے اور ایسے نظریات سے بھی مرکب ہو سکتا ہے جن کی انتہا جن پر ہو رہی ہو؟ بدیہیات پر ہو رہی ہو۔ "کما زعم ان البرہان انما یتألف من البدیہیات فحسب"، جیسے کہ گمان کیا گیا ہے کہ برہان، یعنی قیاسِ برہانی جو ہے وہ مرکب ہوتا ہے بدیہیات سے ہی اور بس، یعنی صرف ان ہی سے مرکب ہوتا ہے نظریات سے مرکب نہیں ہوتا، اور بتلایا کہ یہ درست نہیں ہے۔ "لیس الامر کما زعم"، معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ گمان کیا گیا۔ خلاصۂ بحث کیا ہوا؟ کہ آپ نے تصور کی اقسام پڑھیں، کہ وہ کبھی تصورِ مفرد ہوگا، کبھی مرکب ہوگا، کبھی مرکب بغیر نسبت کے، کبھی کیا ہوگا؟ نسبتِ ناقصہ ہوگی، کبھی نسبتِ تامّہ ہوگی لیکن انشائی ہوگا، اور کبھی کبھار وہ تخئیل، وہم یا شک ہوگا۔ تو معلوم ہوا تصور جملہ بھی ہو سکتا ہے، قضیہ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ شک، وہم، تخئیل اور انشاء یہ کس قبیل سے ہیں؟ تصور کے قبیل سے ہیں۔ لیکن قیاس کو ہمیشہ کس سے مرکب ہونا چاہیے؟ تصدیق سے، تصور سے نہیں، تصور والے قضایا وہاں کام نہیں دیں گے، کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔ پھر تصدیق بتلایا آپ کو چار قسم پر ہے، کون کون سی؟ ظن، یقین، تقلید اور جہلِ مرکب۔ ظن، یقین، تقلید اور جہلِ مرکب۔ ظن جس میں جس جانب ذہن زیادہ جاتا ہے، ہاں دوسری جانب بھی ذہن میں کچھ نہ کچھ آتی ہے، اور یقین بلکہ اس سے اوپر تقلید ہے، تقلید جس میں یقین ہوتا ہے لیکن اگر کوئی شک ڈالنے والا شک ڈالے تو یہ یقین ٹوٹ سکتا ہے۔ اس سے اوپر درجہ یقین کا ہے کہ وہ کسی کے شک ڈالنے سے ٹوٹتا ہی نہیں ہے بھئی، تشکیک کے مشکک سے وہ زائل ہی نہیں ہوتا، اور اس کو یقین تب ہی کہیں گے جب یہ واقع کے بھی مطابق ہو، اللہ ایک ہے، محمد اللہ کے رسول ہیں، قیامت قائم ہوگی، جنت موجود ہے، جہنم موجود ہے، یہ سب چیزیں بھئی، جو کسی شک ڈالنے والے سے ختم نہیں ہو سکتیں بھئی۔ تو یہ واقع کے بھی مطابق ہیں، اور اگر اسی درجے کا یقین ہے لیکن واقع کے مطابق نہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ جہلِ مرکب کہیں گے بھئی، جہلِ مرکب۔ اور میں نے بتلایا یہی قیاس کے مادّے ہیں، یہ چار قسمیں ہی کیا ہیں؟ قیاس کا مادّہ ہیں، انہی سے قیاس بنتا ہے، اور جس درجے کے قضایا سے قیاس بنے گا اسی درجے کا قیاس ہوگا بھئی۔ اگر مضبوط قضایا تھے، یقین والے، تو قیاس بھی بڑا مضبوط ہوگا، اور کمزور قضایا تھے تو قیاس بھی بڑا کمزور ہوگا، تو ان کے اعتبار سے پانچ قسم کا قیاس بنتا ہے، قیاسِ برہانی، قیاسِ جدلی، خطابی، شعری اور سفسطی۔ اور ان میں سب سے مضبوط کون سا ہے؟ قیاسِ برہانی ہے، کیونکہ وہ یقینیات سے مرکب ہوتا ہے، اور وہ یقینیات بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور ایسے نظری بھی ہو سکتے ہیں جن کی انتہا کس پر ہو رہی ہو؟ بدیہی پر۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ قیاسِ برہانی کے مقدمات کیا ہوں گے؟ بدیہی ہی ہو سکتے ہیں، نظری نہیں، کہتے ہیں ان کی یہ بات درست نہیں ہے، بلکہ قیاسِ برہانی کے مقدمات نظری بھی ہو سکتے ہیں، البتہ ایسے نظری ہوں گے جن کی انتہا کس پر ہے؟ بدیہی پر ہی ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد، والله اعلم بحقيقة الكلام۔