LESSONS NO. 89 1 فَصْلٌ: وَمِنَ الْأَقْيِسَةِ الْمُرَكَّبَةِ قِيَاسٌ يُسَمَّى قِيَاسَ الْخُلْفِ، وَمَرْجِعُهُ إِلَى قِيَاسَيْنِ: أَحَدُهُمَا اقْتِرَانِيٌّ شَرْطِيٌّ مُرَكَّبٌ مِنَ الْمُتَّصِلَتَيْنِ، وَثَانِيهِمَا اسْتِثْنَائِيٌّ إِحْدَى مُقَدِّمَتَيْهِ لُزُومِيَّةٌ - أَعْنِي نَتِيجَةَ الْقِيَاسِ الْأَوَّلِ - وَالْمُقَدَّمَةُ الْأُخْرَى مِمَّا اسْتُثْنِيَ فِيهِ نَقِيضُ التَّالِي. یہاں سے آپ کو قیاس مرکب کی ایک قسم بتانے لگے ہیں۔ بھئی! ابھی تک آپ نے جو پڑھے وہ قیاس مفرد تھے بھئی۔ ان میں ترکیب نہیں تھی۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے، آپ کی دلیل کئی قیاسوں پر مشتمل ہوتی ہے اور پھر بالآخر آپ اپنے نتیجے تک پہنچتے ہیں۔ قیاس کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ اپنے دعوے کو ثابت کیا جاتا ہے۔ کیا کیا جاتا ہے؟ اپنے دعوے کو ثابت کیا جاتا ہے۔ تو آپ کیا کرتے ہیں؟ ایک قیاس پہلے الگ بناتے ہیں، اس کا نتیجہ نکال کے دکھاتے ہیں، پھر اس نتیجے کو ملا کر ایک اور آگے قیاس بناتے ہیں اور پھر اس طرح بالآخر کہاں تک پہنچتے ہیں آپ؟ اپنے دعوے تک، اپنے دعوے کو ثابت کرتے ہیں۔ تو بعض اوقات قیاس خود مرکب ہوتا ہے کئی قیاسوں سے۔ ایک جو آپ اپنی دلیل اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے جو قیاس پیش کر رہے ہیں، کیا پیش کر رہے ہیں؟ قیاس، دلیل کا نام ہے نا۔ آپ حجت اور پڑھ چکے ہیں، حجت کی اقسام تین ہیں بھئی: قیاس، استقراء اور تمثیل۔ حجت کس چیز کا نام تھا؟ دلیل ہی کا تو نام تھا، حجت۔ تو دلیل آپ پیش کرتے ہیں، آپ نے ایک دعویٰ کیا ہے اور دعوے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے کیا ذکر کیا جاتا ہے؟ قیاس۔ بعض اوقات آپ کا قیاس ایک نہیں ہوتا بلکہ کئی قیاس مل کر پھر بالآخر آپ اپنے دعوے کو ثابت کرتے ہیں، کئی قیاسوں کو ملا کر۔ تو آپ کا قیاس جو ہے وہ مرکب ہو گیا۔ اس کے اندر، اس کے پیٹ میں ہی کئی قیاس موجود ہوتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ایک قیاس پہلے کیا، اس کا جو نتیجہ نکلا، پھر اس کے نتیجے کو آگے اگلے قیاس میں استعمال کر کے بالآخر کیا کیا آپ نے اپنے دعوے کو ثابت؟ ایک تو سیدھا طریقہ تھا جو آپ کا دعویٰ ہے، آپ قیاس پیش کرتے ہیں، صغریٰ کبریٰ ملاتے ہیں اور اپنا دعویٰ نکال کے دکھا دیتے ہیں کہ دیکھو یہ ہماری بات اسی طرح ہے۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً آپ کہنا چاہتے ہیں: العالم حادث، عالم کیا ہے؟ حادث ہے۔ تو آسان سی بات ہے، آپ نے صغریٰ ملایا: العالم متغیر، اور کبریٰ ملایا: وکل متغیر حادث، فوراً نتیجہ کیا آ گیا؟ العالم حادث۔ تو دیکھو ایک ہی قیاس ہے، صغریٰ کبریٰ ایک مرتبہ آئے: العالم متغیر وکل متغیر حادث، یہ قیاس تھا۔ لیکن بعض اوقات کیا کرنا پڑتا ہے؟ کئی قیاسوں کو ملا کر ایک قیاس بنانا پڑتا ہے، اس کو قیاس مرکب کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قیاس مرکب، پھر جا کر آپ اپنا دعویٰ ثابت کرتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے قیاس مرکب۔ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے یہ قیاس مرکب ہے کس چیز سے؟ کئی قیاسوں سے، کم از کم تو کتنے چاہیے؟ دو ضرور چاہیے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے اب کتاب پر: فصل یعنی هذا فصل، یہ فصل ہے۔ ومن الأقيسة المركبة، اقیسہ جمع ہے قیاس کی۔ ومن الأقيسة المركبة، اور اقیسہ مرکبہ میں سے، یعنی مرکب قیاسوں میں سے قياس يسمى قياس الخلف، ایک قیاس ہے جس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاس الخلف کہتے ہیں۔ قیاس الخلف یہ مرکب قیاس ہے۔ بھئی یاد رکھیے، خلف یہ پہلے بھی بات بیان ہو چکی، خلف کے معنی باطل اور محال کے ہیں۔ خلف کے کیا معنی ہیں؟ باطل اور محال کے۔ تو یہاں پر آپ قیاس خلف کو پیش کرتے ہیں، قیاس خلف کو۔ یعنی اس قیاس کے ذریعے یہ بتلایا جاتا ہے فریق مخالف کو، یعنی مقابل کو جس سے آپ کی بحث ہو رہی ہے، اس سے بتلایا جاتا ہے کہ ہمارا یہ دعویٰ ہے، اس دعوے کو ماننا پڑے گا آپ کو۔ اگر ہمارے اس دعوے کو آپ نہیں مانیں گے تو ایک محال چیز لازم آئے گی۔ کیا لازم آئے گی؟ محال، اور محال کا ہونا تو باطل ہے۔ محال جانتے ہو یا نہیں؟ کسے کہتے ہیں؟ ناممکن کو، جو ممکن ہی نہ ہو۔ کہ آپ کو ہمارا یہ دعویٰ ماننا پڑے گا، اگر ہمارا یہ دعویٰ نہیں مانیں گے تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ ایک محال چیز کو ماننا پڑے گا، محال چیز لازم آئے گی اور محال تو ہو نہیں سکتا۔ معلوم ہوا ہمارا دعویٰ ثابت ہے بھئی۔ صورت سمجھ... یہ محال کیوں لازم آیا؟ کیونکہ آپ نے ہمارے دعوے کو نہیں مانا تھا، تو ہمارے دعوے کو ماننا پڑے گا۔ اگر نہیں مانو گے تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ محال چیز لازم آئے گی اور محال تو ہو نہیں سکتی بھئی، ایک ناممکن چیز ہے وہ ہو ہی نہیں سکتی۔ اور یہ محال کیوں لازم آیا؟ کیونکہ آپ ہمارے دعوے کو نہیں مان رہے تھے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی! تو کہتے ہیں: ويسمى قياس الخلف، جسے قیاس خلف کہتے ہیں۔ ومرجعه إلى قياسين، اور اس کا مرجع دو قیاس ہیں بھئی، یہ لوٹتا ہے کس کی طرف؟ دو قیاسوں کی طرف یہ لوٹتا ہے بھئی۔ أحدهما اقتراني شرطي، ایک قیاسِ اقترانی شرطی ہے، قیاس اقترانی کسے کہتے تھے بھئی؟ جس میں کلمہ استثناء استعمال نہیں ہوتا تھا، الا یا لیکن استعمال... ایک قیاس استثنائی تھا جس میں کلمہ استثناء استعمال ہوتا تھا اور قیاس اقترانی کے اندر کلمہ استثناء استعمال نہیں ہوتا۔ اور پھر اس کی دو قسمیں پڑھی تھیں: یا یہ حملی ہوگا یا شرطی۔ حملی جس میں دونوں صغریٰ اور کبریٰ دونوں کیا ہوتے ہیں؟ قضیہ حملیہ ہوتے ہیں۔ اور ایک قیاس شرطی تھا جس میں یا تو دونوں صغریٰ اور کبریٰ دونوں قضیہ شرطیہ ہوں گے یا ایک شرطیہ ہوگا اور ایک حملیہ ہوگا۔ یہ قیاس اقترانی شرطی تھا بھئی۔ تو بتلا رہے ہیں کہ یہ جو قیاس خلف ہے، یہ لوٹنے والا ہے دو قیاسوں کی طرف: أحدهما اقتراني شرطي، ایک ان میں سے کیا ہوتا ہے؟ قیاس اقترانی شرطی مرکب من المتصلتين، جو مرکب ہوتا ہے دو متصلہ سے۔ قضیہ شرطیہ دو قسم پر ہے نا: ایک متصلہ یا منفصلہ۔ یہ مرکب ہے دونوں متصلہ سے، یہ قیاس اقترانی مرکب ہے کس سے؟ یعنی اس کا صغریٰ بھی قضیہ شرطیہ متصلہ ہوتا ہے، اس کا کبریٰ بھی قضیہ شرطیہ متصلہ ہوتا ہے۔ ایک تو یہ قیاس ہوتا ہے۔ وثانيهما استثنائي، اور دوسرا قیاس (مرکب قیاس ہے نا، تو دو قیاس بیچ میں آ رہے ہیں) پہلا قیاس دو متصلتین سے مرکب ہوگا وثانيهما استثنائي، اور دوسرا قیاس کون سا ہوگا اس کے اندر؟ استثنائی، وہ کسے کہتے تھے؟ جس میں کلمہ استثناء الا یا لیکن آئے بھئی۔ اور استثنائی جو ہے اس میں إحدى مقدمتيه لزومية، ایک مقدمہ اس کے دو مقدموں میں سے ایک مقدمہ کیا ہوگا؟ لزومیہ ہوگا، لزومیہ۔ بھئی آپ نے پڑھا تھا کہ متصلہ... قضیہ شرطیہ متصلہ دو قسم پر ہے: یا لزومیہ ہوگا یا اتفاقیہ ہوگا۔ یا لزومیہ ہوگا یا... ان كانت الشمس طالعة فالنهار موجود، اگر سورج طلوع ہے تو دن بھی موجود ہے۔ دیکھو یہ لزوم ہے، جب بھی سورج طلوع ہوگا کیا ہوگا؟ دن موجود ہوگا۔ یہ لزومیہ ہے، اور کبھی اتفاقیہ ہوتا ہے: ان كان زيد إنساناً فالحمار ناهق، اگر زید انسان ہے تو گدھا رینگنے والا ہے۔ بھئی! زید کے انسان ہونے کے ساتھ گدھے کا رینگنا لازم تو نہیں، وہ تو ایک الگ چیز ہے، اس کا اس سے تعلق ہی نہیں، لیکن اتفاقاً جمع ہو گئے ہیں یہاں پر۔ تو یہ قضیہ شرطیہ اتفاقیہ۔ یہ بتلا رہے ہیں کہ یہاں پہلا قیاس جو ہوگا وہ اقترانی شرطی ہوگا، توجہ ہے سبق کی طرف؟ اقترانی شرطی ہوگا اور اقترانی شرطی کے اندر قیاس ہے تو دونوں جو قضیے ہیں وہ شرطیہ ہوں گے، اور شرطیہ کون سے ہوں گے؟ متصلہ ہوں گے۔ صغریٰ بھی قضیہ شرطیہ متصلہ، کبریٰ بھی قضیہ شرطیہ متصلہ۔ پھر جو نتیجہ آئے گا، لازمی بات ہے وہ بھی قضیہ شرطیہ ہوگا۔ جب دونوں شرطیہ ہیں تو نتیجہ بھی کیا آئے گا؟ قضیہ شرطیہ آئے گا۔ تو یہ جو نتیجہ آیا، اس کو پھر اگلے قیاس میں استعمال کرنا ہے، کس کو؟ نتیجے کو۔ اور نتیجہ کیا آیا؟ قضیہ شرطیہ لزومیہ، وہی متصلہ لزومیہ آیا۔ کیا آیا؟ شرطیہ متصلہ لزومیہ آیا۔ اور اسی کے ساتھ پھر یہ قیاس استثنائی بنانا ہے، جس کے آخر میں لیکن لے کر آتے ہیں۔ تو کیا کریں گے آگے؟ یہ تو صغریٰ آ گیا، صغریٰ کہاں سے آیا؟ پہلے قیاس کا نتیجہ، قیاس اقترانی کا نتیجہ۔ اسی سے اب ہم نے دوسرا قیاس استثنائی بنانا ہے۔ قیاس استثنائی میں کیا کرتے تھے؟ صغریٰ قضیہ شرطیہ متصلہ ہوتا تھا، صغریٰ کیا ہوتا تھا؟ شرطیہ مثلاً متصلہ ہے اور کبریٰ... وہ اسی مقدم یا تالی اسی سے بناتے تھے، میں نے بتایا تھا۔ قیاس استثنائی میں نہ نتیجہ باہر سے آتا ہے، نہ کبریٰ باہر سے آتا ہے۔ اسی مقدم یا تالی سے کبریٰ بنتا ہے اور پھر اسی سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ نتیجہ بھی بنتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں پر بھی اب نتیجہ جو آیا پہلے قیاس کا، اس کو بنا لیں گے صغریٰ، اگلے قیاس کے لیے کیا بنا لیں گے؟ صغریٰ بنا لیں گے اور پھر اس سے استثناء کریں گے کس کا؟ نقیض تالی کا، کس کا استثناء کریں گے؟ نقیض تالی کا۔ نتیجہ کیا آیا تھا؟ نتیجہ شرطیہ متصلہ آیا تھا نا لزومیہ، نتیجہ کیا آیا تھا؟ شرطیہ متصلہ لزومیہ، اور چونکہ یہ قضیہ شرطیہ ہے تو یہاں مقدم اور تالی ہوا کرتا ہے۔ اگر حملیہ ہوتا تو موضوع اور محمول ہم کہتے، لیکن یہ تو ہے جو نتیجہ آیا وہ کیا ہے؟ شرطیہ متصلہ لزومیہ، اور اس کے اندر جو پہلے جزو کو کیا کہتے ہیں؟ مقدم، دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ تالی۔ تو یہ جو آگے ہم لیکن جو ہے اس میں یہ جو پیچھے تالی آ رہا ہے اسی کی نقیض کا استثناء کریں گے۔ تالی کا استثناء نہیں کریں گے، یہاں استثناء کی چار صورتیں ہوتی تھیں نا: یا عین مقدم کا استثناء ہوتا تھا یا عین تالی کا استثناء ہوتا تھا، یا نقیض مقدم کا استثناء ہوتا تھا یا نقیض تالی... یہاں کس کا استثناء کرنا ہے؟ نقیض تالی کا استثناء کرنا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو خلاصہ کلام پھر سن لیں: قیاسِ... یہ جو قیاس خلف ہے، کیا کریں گے؟ اس میں دو قیاس ہیں، پہلا قیاس کون سا ہے؟ اقترانی شرطی، اور اس اقترانی شرطی کے اندر صغریٰ اور کبریٰ دونوں کیا ہوں گے؟ شرطیہ متصلہ ہوں گے، تو نتیجہ بھی کیا آئے گا؟ شرطیہ متصلہ۔ پھر جو نتیجہ آئے گا، اسی سے ہم نے بنانا ہے کیا؟ قیاس استثنائی، کیا بنانا ہے؟ دوسرا قیاس بنانا ہے۔ تو اس پورے نتیجے کو اٹھا کر بنائیں گے صغریٰ، کیا بنائیں گے؟ صغریٰ، اور اس سے پھر استثناء کس کا کریں گے؟ نقیض تالی کا، کس کا استثناء کریں گے؟ نقیض تالی کا استثناء کریں گے، تو آگے جو ہے وہ اپنے دعوے تک ہم پہنچ جائیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکیھے اب کتاب پر، کہتے ہیں: یہ دو قیاس جو ہیں ان کا مرجع... یہ جو قیاس ہے، قیاس الخلف، اس کا مرجع دو قیاس ہیں: أحدهما اقتراني شرطي مركب من المتصلتين، ان میں سے دو قیاسوں میں سے ایک قیاس اقترانی شرطی ہے جو مرکب ہوگا دو قضیہ شرطیہ متصلہ سے وثانيهما استثنائي، اور دوسرا قیاس اس میں سے کیا ہوگا؟ استثنائی ہوگا وإحدى مقدمتيه لزومية، اور اس کے دو مقدموں میں سے ایک کیا ہوگا؟ لزومیہ ہوگا، کہاں سے آیا یہ مقدمہ لزومیہ بھئی؟ پہلے قیاس کا ہی نتیجہ ہے، خود بتلا رہے ہیں: أعني نتيجة القياس الأول، یعنی کہ قیاس اول کا نتیجہ، اسی کو صغریٰ بنانا ہے والمقدمة الأخرى، اور دوسرا مقدمہ یعنی کبریٰ جو ہے مم استثني فيه نقيض التالي، یہ اس قبیل سے ہوگا جس کے اندر کس کا استثناء کیا گیا ہوگا؟ تالی کی نقیض کا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب تقریر مفصل کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں: وتقريره، اس قیاس خلف کی تقریر یہ ہے أن يقال، کہ یوں کہا جائے: المدعى ثابت، ہمارا دعویٰ ثابت ہے۔ اب پھر یہی ساری تقریر کریں گے اسی طریقے پر، اس میں قیاس خلف بنا رہے ہیں۔ پہلا قیاس اقترانی شرطی بنائیں گے، پھر اس کے بعد جو نتیجہ آئے گا اس کو اگلے قیاس استثنائی کا صغریٰ بنا دیں گے اور اس سے کس کا استثناء کر دیں گے؟ نقیض تالی کا، پھر بالآخر ہم اپنے دعوے کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دعویٰ کیا ہے؟ یوں کہا جائے: المدعى ثابت، ہمارا دعویٰ ثابت، جو بھی آپ کا دعویٰ ہے، ہمارا دعویٰ ثابت۔ کیوں ثابت ہے؟ آگے قیاس شروع ہونے لگا ہے، قیاس خلف شروع ہونے لگا ہے، اور قیاس خلف میں کتنے قیاس ہیں؟ دو، پہلا کیا ہے؟ شرطیہ متصلہ سے بنا ہوا قیاس اقترانی ہے۔ دیکھیے: لأنه، یہاں سے آگے شروع ہو رہا ہے بھئی قیاس اقترانی شرطی۔ ہمارا دعویٰ ثابت ہے لأنه، اس لیے کیونکہ لو لم يثبت المدعى يثبت نقيضه، اگر دعویٰ ہمارا ثابت نہیں تو اس کی نقیض ثابت ہے۔ اگر ہمارا دعویٰ ثابت نہیں تو پھر کیا ثابت ہے؟ دعویٰ ہے مثلاً زید کھڑا ہے، زید... یا چلو اس کی تو... محال اس میں تو نہیں آ رہا، زید کھڑا ہے اس کی نقیض کیا بنے گی؟ زید کھڑا نہیں ہے، اور زید کھڑا نہ ہو یہ کوئی محال نہیں ہے، ہو سکتا ہے نہ کھڑا ہو۔ کوئی ایسی صورت بنا لو جس میں نقیض محال ہو۔ ہاں بھئی! دنیا کا سب سے اونچا پہاڑ ہمارے اس کمرے میں موجود نہیں ہے۔ دعویٰ کیا ہے؟ کوئی بنا لو بھئی جس کی نقیض محال ہو۔ دنیا کا سب سے اونچا پہاڑ اس کمرے میں موجود نہیں ہے۔ نقیض کیا بنے گی؟ اونچا پہاڑ موجود ہے، نقیض کیا بنے گی؟ موجود، اور موجود ہو سکتا ہے اس کمرے میں دنیا کا سب سے اونچا پہاڑ؟ یہ تو محال لازم آ رہا ہے، ٹھیک ہے؟ یہ اب ہم صورت وہ بنا رہے ہیں جس کے نقیض میں محال لازم آئے، تو دعویٰ ہمارا کیا؟ دنیا کا سب سے اونچا پہاڑ ہمارے اس کمرے میں موجود نہیں ہے، ہمارا یہ دعویٰ ثابت ہے۔ اگر یہ بات نہیں مانو گے تو پھر اس کی نقیض کو ماننا پڑے گا۔ یا تو مانو گے موجود نہیں یا پھر ماننا پڑے گا کہ موجود ہے، تو نقیض ہے، نقیض کیا بنی کہ موجود ہے، تو موجود ہے ماننا پڑے گا اور اس صورت میں کیا لازم آئے گا؟ محال، اور یہ محال کیوں لازم آیا؟ کیونکہ آپ نے ہمارا دعویٰ نہیں مانا تھا، ہم نے تو کہا تھا موجود نہیں ہے، تو آپ کو معلوم ہوا ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی! تقریرہ أن يقال، تقریر اس کی یہ ہے کہ یوں کہا جائے: المدعى ثابت، کہ دعویٰ ثابت ہے لأنه لو لم يثبت المدعى، یہ قیاس اب شروع ہو رہا ہے: لو لم يثبت المدعى يثبت نقيضه، اگر دعویٰ ثابت نہ ہو، یہ والا دعویٰ ثابت نہ ہو تو اس کی نقیض ثابت ہوگی، کیونکہ ارتفاعِ نقیضین تو نہیں ہو سکتا، دو چیزوں میں سے ایک تو ضرور ماننا پڑے گی: یا اصل کو یا اس کی نقیض کو ماننا پڑے گا۔ زید انسان ہے، زید انسان نہیں ہے، دو... یہ دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں تو ایک کو تو ضرور ماننا پڑے گا: یا تو ماننا پڑے گا زید انسان ہے یا ماننا پڑے گا زید انسان نہیں، کیونکہ ارتفاع نقیضین تو نہیں ہو سکتا، دونوں میں سے ایک ضرور صادق آئے گی، یہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں ہی صادق نہ آئیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ آپ پڑھ چکے ہیں بحث بھئی۔ کہتے ہیں: لو لم يثبت المدعى، اگر دعویٰ... یہ دعویٰ ثابت نہ ہو يثبت نقيضه، تو اس دعوے کی نقیض ثابت ہوگی۔ جی، یہ ہے صغریٰ، اب کبریٰ شروع ہو رہا ہے: وكلما يثبت نقيضه، اور جب بھی دعوے کی نقیض ثابت ہوگی ثبت المحال، کیا ثابت ہوگا؟ محال۔ یاد رکھیے یہ عربی میں لفظ ہے مُحَال، میم کے ضمہ کے ساتھ، لام غیر مشدد ہے۔ اور اردو میں استعمال ہوتا ہے مَحَال بھئی، اب شائع اسی طرح ہو گیا بھئی رائچ۔ 2 اسی طرح ہو گیا۔ تو اس کو اردو میں محال پڑھیں گے، اردو ار- اور عربی میں مُحال۔ تو اب کبرٰی شروع ہوا: "وکلما یثبت نقیضہ" اور جب بھی دعوے کی نقیض ثابت ہوگی، "ثبت المحال" تو کیا ثابت ہوگا؟ محال چیز ثابت ہو جائے گی۔ دوبارہ صغرٰی، کبرٰی کو ملائیں، نتیجہ آپ نے مجھے بتانا ہے۔ اگر دعویٰ ثابت نہیں تو اس کی نقیض ثابت ہے اور جب بھی نقیض ثابت ہوگی تو ایک محال چیز ثابت ہو جائے گی۔ توجہ ہے؟ نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟ ہاں، دوبارہ سنو، نتیجہ آپ بتائیں مجھے۔ ہمارا دعویٰ اگر ثابت نہیں تو اس کی نقیض ثابت ہے، اور جب بھی اس کی نقیض ثابت ہوگی تو ایک محال چیز ثابت ہو جائے گی۔ نتیجہ کیا نکلے گا؟ اگر ہم اپنا دعویٰ نہیں مانیں گے تو محال چیز ثابت ہوگی۔ نہیں، مقدم صغرٰی، کبرٰی کا بیان ہو چکا، حدِ اوسط کو گراؤ بھئی! جو ایک جیسے لفظ ہیں ان کو گراؤ بیچ میں سے۔ پہلا کیا ہے؟ اگر ہمارا دعویٰ ثابت نہیں تو اس کی نقیض ثابت ہے، تو اس کی نقیض ثابت ہے یہ حدِ اوسط ہے۔ اگلے کبرٰی میں پھر یہی آئے گا۔ کبرٰی کیا؟ اگر ہمارے دعوے کی نقیض ثابت ہو تو کیا لازم آئے گا؟ محال لازم آئے گا۔ تو حدِ اوسط کیا ہوا؟ اگر ہمارے دعوے کی نقیض ثابت ہو۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ، یہ کتاب پر نظر رکھیں۔ کتاب پر صغرٰی کیا ہے؟ "لو لم یثبت المدعی یثبت نقیضہ" کتاب پر نظر ہے؟ "لو لم یثبت المدعی یثبت نقیضہ" یہ کیا ہے؟ صغرٰی ہے یہ سارا۔ اس میں مقدم کیا ہے؟ "لو لم یثبت المدعی" یہ ہے مقدم، اور "یثبت نقیضہ" یہ کیا ہے؟ تالی۔ یہ سارا ہے صغرٰی، اور صغرٰی قضیہ شرطیہ ہے، اور قضیہ شرطیہ کے اندر ایک مقدم ہوتا ہے اور ایک تالی ہوتا ہے۔ تو مقدم کیا؟ "لو لم یثبت المدعی"، تالی کیا؟ "یثبت نقیضہ"۔ جی، آگے ہے کبرٰی شروع ہو رہا ہے: "وکلما یثبت نقیضہ ثبت المحال" اور جب بھی اس دعوے کی نقیض ثابت ہوگی تو ایک محال چیز ثابت ہوگی۔ یہاں پر مقدم کیا کبرٰی میں؟ "کلما یثبت نقیضہ" یہ کیا ہے؟ مقدم، اور "ثبت المحال" یہ کیا ہے؟ تالی۔ اب بتائیے حدِ اوسط کیا ہے یہاں پر؟ "یثبت نقیضہ" جو پہلے جو صغرٰی میں آیا، اور "کلما یثبت نقیضہ" جو کس میں آیا؟ کبرٰی، ان کو نکال دو باقیوں کو جوڑ دو۔ "لو لم یثبت المدعی ثبت المحال" اگر ہمارا دعویٰ ثابت نہ ہو تو کیا ثابت ہوگا؟ محال، دیکھو یہی نتیجہ نکال رہے ہیں۔ "ینتج" یہ قیاس نتیجہ دیتا ہے "لو لم یثبت المدعی" اگر دعویٰ ثابت نہ ہو "ثبت المحال" تو کیا ثابت ہوگا؟ محال۔ "وہذا اول القیاسین" یہ دو قیاسوں میں سے پہلا قیاس ہے اقترانی۔ اب ہم کیا کریں گے آگے؟ اب قیاسِ استثنائی بنانا ہے، اور قیاسِ اس- یہ جو نتیجہ آیا اسی کو کیا بنا دیں گے آگے؟ قیاسِ استثنائی کا صغرٰی بنائیں گے، کیا بنائیں گے؟ صغرٰی۔ "ثم نجعل النتیجۃ المذکورۃ صغریٰ" پھر ہم اس نتیجہ مذکوره کو صغرٰی بنائیں گے "ونقول" اور یوں کہیں گے: "لو لم یثبت المدعی ثبت المحال" اگر دعویٰ یہ، یہ دعویٰ اگر یہ دعویٰ ثابت نہ ہو تو کیا ثابت ہوگا؟ محال۔ "ونضم الیہ کبرٰی استثنائیاً" اور اس کے ساتھ ہم کبرٰی استثنائیاً ملا دیتے ہیں۔ کبرٰی کہاں سے لینا ہے؟ اسی سے، کس طریقہ پر؟ کس، کیسے؟ "لیکنَّ" کے ذریعے بنانا ہے نہ کبرٰی؟ کس طرح؟ کیا بنانا تھا کبرٰی؟ تالی کی نقیض بنانی تھی، تالی کون ہے؟ "ثبت المحال" یہ ہے تالی، اسی کے ساتھ لیکن- اسی کی نقیض بنا لو۔ اردو میں بتاؤ مجھے، یہ ہے محال ثابت ہے، اسی کی نقیض بناؤ۔ محال ثابت نہیں ہے، اور اس پر کیا لفظ لے آؤ؟ لیکنَّ، لیکنَّ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہی بات کر رہے ہیں: "ونقول لکن المحال لیس بثابت" لیکن محال تو ثابت نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب نتیجہ آپ مجھے بتائیے۔ اردو میں دیکھو، میں کہتا ہوں، ادھر توجہ کریں بھئی! اگر یہ دعویٰ ثابت نہیں تو محال ثابت ہے۔ اگر یہ دعویٰ ثابت نہیں تو محال ثابت ہے، لیکن محال تو ثابت نہیں ہے۔ نتیجہ کیا نکلے گا؟ یہ دعویٰ ثابت ہے۔ دوبارہ غور کرو، اگر ہمارا دعویٰ ثابت نہیں تو کیا ثابت ہے؟ تو وہ محال ثابت ہو جائے گا، اگر ہمارا دعویٰ ثابت نہیں ہوگا تو کیا ثابت ہو جائے گا؟ محال ثابت ہو جائے گا، لیکن محال تو ثابت نہیں ہو سکتا، نتیجہ کیا نکلا؟ ہمارا دعویٰ ضرور ثابت ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہی بیان کر رہے ہیں بھئی: "ونقول لکن المحال لیس بثابت" لیکن محال ثابت نہیں ہے، یہ آ گیا کبرٰی استثنائیاً۔ "فبالضرورۃ"، بالضرورۃ کا کیا معنی کیا تھا میں نے پہلے بتلایا تھا؟ کتابوں میں بالضرورۃ کا لفظ آئے تو اس کا معنی بالبداہۃ اور بالیقین کے کرنے ہیں۔ بالبداہۃ اور بالیقین۔ "فبالضرورۃ ثبت المدعی" تو یقینی طور پر مدعا ثابت ہے۔ یقینی طور پر مدعا، یا یوں کہیں بدیہی طور پر مدعا، ہمارا دعویٰ ثابت ہے۔ "والا"، اور اگر ایسا نہ ہو، اگر دعویٰ ثابت نہ ہو "لزم ارتفاع النقیضین" تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ دونوں نقیضین کا ارتفاع، دونوں کا اٹھ جانا لازم آئے گا، حالانکہ نقیضین دونوں نہیں اٹھ سکتیں۔ ایک ان میں سے ضرور صادق آئے گی۔ زید انسان ہے اور زید انسان نہیں ہے، یہ دونوں ہی نہ ہوں، ایسا نہیں ہو سکتا، یا تو زید انسان ہوگا یا زید انسان نہیں ہوگا، تو دونوں کا- دونوں نہیں اٹھ سکتے، تو آپ کو ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا۔ اگر دعویٰ نہیں مانتے تو پھر نقیض ماننا پڑے گی، اگر آپ دعویٰ بھی نہیں مانتے، نقیض بھی نہیں مانتے، پھر تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ ارتفاعِ نقیضین لازم آئے گا، حالانکہ ارتفاعِ نقیضین تو درست نہیں ہے۔ یہ معنی ہے۔ "والا لزم ارتفاع النقیضین" اور ورنہ لازم آئے گا دونوں نقیضوں کا اٹھ جانا، اور دونوں نقیضوں کا اٹھ جانا کیا ہے؟ صحیح محال ہے بھئی، ممکن ہی نہیں۔ "وان اشتہیت فہم ہذا المعنیٰ فی مثال جزئی" اشتہا کا معنی خواہش ہونا، "وان اشتہیت" اور اگر آپ کو خواہش ہے "فہم ہذا المعنیٰ" اس معنیٰ کو سمجھنے کی "فی مثال جزئی" کس کے اندر؟ مثالِ جزئی کے اندر، پہلے تو ایک عام بات کی تھی کہ ہمارا دعویٰ ثابت ہے، بتایا نہیں تھا دعویٰ کیا ہے، دعویٰ کیا ہے، اب ایک باقاعدہ دعوے کے ساتھ اسی مثال کو ذکر کریں گے۔ اگر آپ اس معنیٰ کو سمجھنا چاہتے ہیں مثالِ جزئی میں "تقول" تو آپ کہیں گے: "کل انسان حیوان" دعویٰ یہ ہے۔ "کل انسان حیوان" ہر انسان حیوان ہے، "یہ صادق" یہ ہماری، یہ دعویٰ صادق ہے "لانہ لو لم یصدق" اس لیے کہ اگر یہ دعویٰ صادق نہ ہو "لصدقت" تو یہ بات صادق آئے گی "بعض الانسان لیس بحیوان" بعض انسان حیوان نہیں ہے۔ آپ کو ماننا پڑے گا ہر انسان حیوان ہے، اگر یہ نہیں مانتے تو پھر کیا ماننا پڑے گا؟ بعض انسان حیوان نہیں، یہ بعض انسان حیوان نہیں یہ نقیض ہے، کس کی؟ "کل انسان حیوان" کی۔ "کل انسان حیوان" یہ کون سا قضیہ ہے؟ موجبہ کلیہ، اور موجبہ کلیہ کی نقیض کیا آتی ہے؟ سالبہ جزئیہ آتی ہے، موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ، یہ سالبہ جزئیہ ہی تو نکالا: "بعض الانسان لیس بحیوان" یہ اس کی نقیض، یا تو ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا، یا کس کو ماننا پڑے گا؟ ہم اس کے- ہمارا دعویٰ صحیح ہے، اگر دعویٰ نہیں مانو گے اس کو تسلیم نہیں کرتے، پھر یقینی بات ہے کس کو ماننا پڑے گا؟ نقیض کو تو ماننا پڑے گا، کیونکہ دونوں میں سے ایک کو تو ضرور ماننا ہے، دونوں اٹھ تو نہیں سکتے۔ ہمارا دعویٰ اگر تسلیم نہیں کرتے تو پھر آپ کو کیا بات ماننا پڑے گی؟ نقیض۔ تو وہ کہتے ہیں اگر آپ ہم- یہ ہمارا دعویٰ صادق ہے، کیونکہ اگر یہ صادق نہ آئے تو یہ بات صادق آئے گی کہ "بعض الانسان لیس بحیوان"۔ "وکلما صدق" اور جب بھی "بعض الانسان لیس بحیوان" جب بھی صادق آئے گی یہ بات، کون سی بات صادق آئے گی؟ "بعض الانسان لیس-" یہی وہ نقیض، یہ جب بھی یہ صادق آئے گی "لزم المحال" تو کیا لازم آئے گا؟ بعض انسان حیوان نہیں ہیں یہ تو ایک محال چیز ہے، تو اس صورت میں محال لازم آ- لازم آئے گا۔ "ینتج" تو یہ نتیجہ دیتا ہے "کلما لم یصدق المدعی" جب بھی ہمارا دعویٰ صادق نہیں ہوگا "لزم المحال" تو کیا لازم آئے گا؟ ایک محال لازم آئے گا۔ "لکن المحال لیس بثابت" لیکن محال تو ثابت نہیں، "فعدم ثبوت المدعی لیس بثابت" تو عدمِ ثبوتِ مدعا بھی ثابت نہیں ہے۔ عدمِ ثبوتِ مدعا یعنی دعوے کا عدمِ ثبوت بھی نہیں ہے۔ دعوے کا عدمِ ثبوت، جب عدمِ ثبوت نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ ثبوت ہے۔ عدم کا معنی نہ ہونا نا، عدم دعوے کا عدمِ ثبوت نہیں ہے تو نتیجہ کیا نکلا؟ دعوے کا ثبوت ہے بھئی۔ "فالمدعی ثابت" تو دعویٰ ثابت ہے۔ دیکھیے، تفصیل دیکھیں۔ اسی طرح قیاس بنائیے جو پیچھے انہوں نے بیان کیا تھا۔ دوبارہ دیکھو قیاسِ خلف بنائیں گے، دعویٰ ہمارا کیا؟ "کل انسان حیوان"، "کل انسان حیوان" ہمارا دعویٰ صادق ہے، اگر ہمارا دعویٰ صادق نہیں تو پھر تو اس کی نقیض صادق آئے گی، کیا صادق آئے گی؟ اور نقیض کیا ہے؟ "بعض الانسان لیس بحیوان"، "بعض الانسان لیس بحیوان" یہ صادق آئے گی، اور یہ جب صادق آئے گی تو ایک محال چیز صادق آئے گی، یہ صغرٰی شروع ہو گیا۔ قیاسِ اقترانی کا، اگر ہمارا دعویٰ نہیں مانتے تو پھر اس کے نقیض ماننا پڑے گی۔ صغرٰی کیا ہے؟ ہمارا دعویٰ "کل انسان حیوان" صادق ہے، اگر یہ صادق نہیں تو اس کی نقیض یعنی "بعض الانسان لیس بحیوان" صادق ہے، اور جب بھی "بعض الانسان لیس بحیوان" بعض انسان حیوان ہیں ہی نہیں، یہ صادق آئے گا تو کیا ثابت ہوگی؟ محال ثابت ہوگا، نتیجہ کیا آیا؟ توجه ہے؟ سبق کی طرف توجہ نہیں میرا خیال۔ پہلے صغرٰی بناؤ پھر کبرٰی، صغرٰی کس طرح تھا پہلے؟ اگر ہمارا دعویٰ ثابت نہیں تو اس کی نقیض ثابت ہے؟ اسی طرح یہاں بناؤ "کل انسان حیوان" ثابت ہے، اگر یہ نہیں ثابت تو "بعض الانسان لیس بحیوان" ثابت ہے۔ ٹھیک ہے؟ "بعض الانسان لیس-" یہ ثابت ہے، اور جب بھی "بعض الانسان لیس بحیوان" ثابت ہوگا تو کیا لازم آئے گا؟ محال لازم آئے گا، تو حدِ اوسط کیا تھا؟ کہ "بعض الانسان لیس بحیوان" ثابت ہوگا، توجہ ہے؟ دعویٰ کیا؟ ہمارا دعویٰ ثابت ہے، اگر دعویٰ ہمارا ثابت نہیں تو اس کی نقیض ثابت ہے، ٹھیک ہے؟ اور جب نقیض ثابت ہوگی تو محال ثابت ہوگا، یہ کبرٰی آ گیا۔ حدِ اوسط کیا تھا؟ اگر نقیض ثابت ہو، اگر نقیض ثابت ہے، جی۔ نشان لگائیے بھئی! نشان لگائیے کتاب پر: "لو لم یصدق لصدق بعض الانسان لیس بحیوان" لگا لیا نشان بھئی؟ بھئی جہاں آیا تھا نہ "کل انسان حیوان صادق"؟ مل گیا کہ نہیں ملا؟ "لانہ لو لم یصدق" یہ صغرٰی شروع ہو رہا ہے پہلے قیاس کا۔ "وان اشتہیت فہم ہذا المعنیٰ فی مثال جزئی تقول کل انسان حیوان صادق لانہ لو لم یصدق" یہ "لو لم" سے شروع ہو رہا ہے صغرٰی، اگر یہ دعویٰ صادق نہ ہو "لصدق بعض الانسان لیس بحیوان" تو یہ بات صادق آئے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے صغرٰی، "وکلما صدق بعض الانسان لیس بحیوان لزم المحال" یہ ہے کبرٰی، یہ ہے کبرٰی، نشان لگا رہے ہو؟ حدِ اوسط کیا ہے؟ "لصدق بعض الانسان لیس بحیوان" یہ پہلے میں آیا، اگلے میں کیا آیا؟ "کلما صدق بعض الانسان لیس بحیوان" اس کو نکال دو، کیا نتیجہ آیا؟ "لو لم یصدق لزم المحال" اگر ہمارا دعویٰ صادق نہیں تو کیا چیز لازم آئے گی؟ محال لازم آئے گا۔ یہ نتیجہ خود بتا رہے ہیں: "کلما لم یصدق المدعی لزم المحال" جب بھی ہمارا دعویٰ صادق نہیں ہوگا تو کیا بات لازم آئے گی؟ محال۔ یہ اب ہم نے اس کو صغرٰی بنا لیا اگلے قیاس کے لیے، اور تالی کیا ہے یہاں پر؟ "لزم المحال"، "لزم المحال"، اس کی نقیض کا استثناء کرو۔ تالی میں کیا تھا؟ محال لازم ہے۔ اس کی نقیض کیا ہے؟ محال لازم نہیں ہے، محال ثابت نہیں، ایک ہی بات ہے۔ "لکن المحال لیس بثابت" یہ دیکھو اس کا استثناء کر دیا۔ اور جب محال نہیں ثابت- ہمارا دعویٰ کیا ہے؟ اسی کو دیکھو انہوں نے نتیجہ یہی نکال رہے ہیں کس طرح؟ یہ جو نتیجہ آیا تھا پہلے قیاس کا، کیا نتیجہ آیا تھا؟ "کلما لم یصدق المدعی" یہ تھا مقدم، اور "لزم المحال" یہ کیا تھا؟ تالی، اور اسی تالی کی نقیض کا استثناء کیا: "لکن المحال لیس بثابت"۔ تو تالی کی جب نقیض کا استثناء کیا تو نتیجہ کیا آئے گا؟ نقیضِ مقدم آئے گا۔ کیا آئے گا؟ نقیضِ مقدم آئے گا نہ؟ اور مقدم کیا ہے؟ "کلما لم یصدق المدعی" یہ ہے مقدم، اسی کی نقیض بناؤ۔ اس میں کیا ذکر ہے؟ عدمِ ثبوتِ مدعا، کیا ذکر ہے؟ اس کی نفی کرو، عدمِ ثبوتِ مدعا ثابت نہیں ہے۔ عدمِ ثبوتِ- ذرا جو کتاب میں بات کر رہے ہیں، میں اس طرح سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں، بات وہی ہے جو آپ پہلے سمجھ چکے ہیں۔ اس وقت مقدم کیا ہے؟ اس میں کیا مقدم میں کیا کہا جا رہا ہے؟ مدعا صادق ہونے کا ذکر ہے یا صادق نہ ہونے کا ذکر ہے؟ نہ ہونے کا ذکر ہے نہ؟ تو اسی کو ذرا پکڑو، تو مقدم میں ہے عدمِ ثبوتِ مدعا، مقدم میں کیا ہے؟ عدمِ ثبوتِ مدعا، اسی کی نقیض لے آئیں، مقدم ہے عدمِ ثبوتِ مدعا ثابت ہے۔ عدمِ ثبوتِ مدعا ثابت ہے، اس کی نقیض لے آؤ، عدمِ ثبوتِ مدعا ثابت نہیں ہے، یہی بات کر رہے ہیں: "فعدم ثبوت المدعی لیس بثابت"۔ مدعا، دعوے کے ثابت نہ ہونا یہ ثابت نہیں ہے۔ معلوم ہوا دعویٰ ثابت ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام والله اعلم بحقیقۃ الکلام۔