LESSONS NO. 88 1 ولہم فی اثبات ان الامر المشترکۃ علۃ للحکم المذکور طرق عدیدۃ مذکورۃ فی الاصول. والعمدۃ فیہا طریقان احدهما الدوران عند المتاخرین والقدماء کانوا یسمونها بالطرد والعکس. گزشتہ سبق میں ہم نے لواحق قیاس کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ اور ان میں سے ایک استقراء تھا اور دوسرا تمثیل، بھئی۔ سب سے پہلے استقراء کے بارے میں پڑھا تھا کہ وہ حکم لگانا ہے سب پر اکثر جزئیات میں تتبع کر کے، اکثر جزئیات میں تلاش کر کے۔ آپ نے ایک حکم اکثر جزئیات میں دیکھا تو ساری کلی پر ہی وہ حکم لگا دیا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ استقراء۔ جیسے اس کی مثال انہوں نے ذکر کی کہ ہم نے تلاش کیا بہت سے جانوروں کو، سب کو دیکھا کہ وہ چباتے وقت اوپر والا جبڑا ہلاتے ہیں۔ تو تلاش اکثر میں کیا تھا، سب میں نہیں، لیکن حکم سب پر لگا دیا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ استقراء کہتے ہیں، بھئی۔ اور یہ ظن غالب کا فائدہ دیتا ہے، یقین کا فائدہ نہیں دیتا، اس لیے کیونکہ ممکن ہے کوئی جاندار ایسا بھی ہے جو ان کو... جاندار ایسا بھی ہو جو ان کو ملا ہی نہ ہو اور وہ... وہ اس طرح نہ کرتا ہو، جیسے مگرمچھ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ چباتے وقت اوپر والا جب جات ہلاتا ہے، بھئی۔ اس کے بعد دوسری قسم تمثیل پڑھی تھی اور تمثیل کس کو کہتے تھے؟ کہ ایک جزئی کے اندر جو حکم تھا وہ دوسری جزئی میں ثابت کرنا کسی علّتِ جامعہ کی وجہ سے۔ جیسے شراب حرام تھی، اس کی علت میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ نشہ آور ہے، تو یہی علتِ نشہ ہمیں دوسری جگہ مثلاً بھنگ میں ملا، تو وہاں پر بھی ہم نے یہی حکم لگا دیا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تمثیل۔ یعنی ایک جزئی میں حکم کو ثابت کرنا بجہ اس حکم کے دوسری جزئی میں پائے جانے کے۔ اور کس وجہ سے ثابت کیا دوسری جزئی میں حکم؟ علتِ جامعہ کی وجہ سے، علتِ جامعہ کی وجہ سے۔ اور یہاں میں نے بتلایا تھا کہ چار چیزیں ہوں گی، بھئی، چار چیزیں۔ ایک اصل ہے، ایک فرع ہے، ایک حکم ہے اور ایک علتِ جامعہ۔ اصل کیا ہے مثلاً جو میں نے مثال ذکر کی؟ شراب۔ فرع کیا ہے؟ بھنگ ہے اور حکم کیا متعدی کیا بھنگ کی طرف؟ حرام ہونے کا اور علتِ جامعہ کیا تھی؟ نشہ تھا، بھئی، علتِ جامعہ۔ اب آگے دیکھیے۔ کہتے ہیں: ولہم فی اثبات ان الامر المشترکۃ علۃ للحکم المذکور طرق عدیدۃ مذکورۃ فی الاصول. بھئی، میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ علماء اصولِ فقہ والے بھی تمثیل کو استعمال کرتے ہیں اس طریقے کو، لیکن اس کا نام کیا ہے ان کے نزدیک؟ قیاس ہے۔ علماء اصولِ فقہ والے تمثیل کو کیا کہتے ہیں؟ قیاس کہتے ہیں، بھئی، قیاس۔ تو ایک منطقی قیاس ہے اور ایک علماء اصولِ فقہ والوں کا قیاس ہے اور علماء اصولِ فقہ والوں کا قیاس جس کو مناطقہ تمثیل کہتے ہیں، تمثیل۔ اور تمثیل کا طریقہ متکلمین یعنی علمِ کلام کے ماہرین میں بھی رائج ہے اور وہ اس کو کیا کہتے ہیں؟ الاستدلال بالشاہد علی الغائب۔ تو وہ اصل کو شاہد کہتے ہیں اور فرع کو کیا کہتے ہیں؟ غائب کہتے ہیں، بھئی۔ تو یہ علماء متکلمین کا طریقہ بھی ہے، بھئی۔ اب یہ بات ثابت کرنے کے لیے کہ حکم کی علت وہ وصفِ مشترک ہے، یہ وصف... حکم کی علت یہ والا وصفِ مشترک ہے، اس کو ثابت کرنے کے کئی طریقے ہیں جو کہتے ہیں اصول کی کتابوں میں مذکور ہیں، بھئی۔ بھئی، ہم نے بھنگ پر کیا حکم لگایا؟ بھنگ پر ہم نے حرام ہونے کا حکم لگایا۔ کس وجہ سے لگایا؟ کیونکہ وہ بھی نشہ آور ہے۔ معلوم ہوا حرام ہونے کی علت کیا ہے؟ نشہ ہے۔ تو پہلے یہ تو ثابت کریں کہ حرام ہونے کی علت نشہ ہی ہے، کوئی اور چیز نہیں ہے، بھئی۔ پہلے کیا ثابت کرنا پڑے گا؟ کہ حرام ہونے کی وجہ، سبب اور علت کیا چیز ہے؟ نشہ۔ شراب کے تو اور بھی بہت سے اوصاف ہیں، یہ نشہ ہی کیوں آپ نے قرار دیا؟ اسی کو علت کیوں بنایا حرام ہونے کی؟ شراب کا تو رنگ بھی ہے، شراب تو بہنے والی بھی ہے، یہ بھی ایک وصف ہے اس کا بہنا، شراب کی بو بھی ہے، شراب کا ذائقہ بھی ہے، اور بھی اس کے بہت سے اوصاف ہیں۔ اسی وصف کو کیوں علت بنایا، بھئی؟ نشے ہی کو کیوں علت بنایا حرام ہونے کی، اور کسی وصف کو کیوں علت نہیں بنایا، بھئی؟ تو اس کے... یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہی وصف... یہی علت ہے حکم کی، یہی وصف حکم کی... توجہ ہے سبق کی طرف؟ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہی وصف حکم کی علت ہے، نشہ ہی حرام ہونے کی علت ہے، کوئی اور وصف نہیں، اس کے کئی طریقے ہیں، بھئی، کس طرح اس کو ثابت کیا جائے گا، بھئی، کس طرح۔ اور بتلائیں گے کہ عمدہ اور اعلیٰ جو ہیں طریقے دو ہیں۔ ایک کو دوران کہتے ہیں، ایک کو صبر و تقسیم کہتے ہیں۔ دوران اور... یہ کس چیز کے طریقے ہیں؟ یہ بات ثابت کرنے کے کہ یہی وصف علت ہے حکم کی، کوئی اور وصف حکم کی علت نہیں، یہی نشہ ہے جو باعث بن رہا ہے اس کے حرام ہونے کا، کوئی اور وصف باعث نہیں ہے، اس کا رنگ بھی نہیں، اس کی بو بھی نہیں، اس کا ذائقہ بھی نہیں وغیرہ، بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دو طریقے اعلیٰ ہیں اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ یہی وصف جو ہے، یہی حکم کی علت ہے، کوئی اور وصف نہیں ہے، بھئی۔ اور وہ دو طریقے کیا ہیں؟ ایک دوران اس کو کہتے ہیں ایک کو، اور دوسرے کو صبر و تقسیم کہتے ہیں، بھئی۔ دیکھیے اب کتاب پر۔ کہتے ہیں: ولہم... اور ان کے لیے یعنی کس کے نزدیک؟ علماء اصولِ فقہ۔ علماء اصول جو ہیں، علماء اصول کے فی اثبات ان الامر المشترکۃ علۃ للحکم المذکور... اس بات کے ثابت کرنے میں کہ یہ امرِ مشترک جو ہے، یہ علت ہے حکم کی، یہ امرِ مشترک یعنی یہ وصفِ مشترک جو ہے، یہ علت ہے حکم کی۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے علماء اصولِ فقہ جو ہیں ان کے طرق عدیدۃ... ان کے کئی طریقے ہیں مذکورۃ فی الاصول... جو کس میں ذکر کیے گئے ہیں؟ اصول کی کتابوں میں ذکر کیے گئے ہیں۔ والعمدۃ فیہا طریقان... اور عمدہ اس کے اندر دو طریقے ہیں۔ احدهما الدوران عند المتاخرین... ایک ان دو میں سے جو ہیں وہ دوران ہے متأخرین کے نزدیک، یعنی متأخرین اس کو دوران کہتے ہیں۔ متأخرین اس کو کیا کہتے ہیں؟ دوران کہتے ہیں، بھئی، یعنی بعد والے علماء اصولِ فقہ۔ والقدماء کانوا یسمونها بالطرد والعکس... اور قدماء اصولِ فقہ جو ہیں وہ اس کو طرد اور عکس کہتے تھے، بھئی۔ وہ اس کو کیا کہتے تھے؟ طرد اور عکس۔ اسی دوران کو قدماء جو تھے وہ کیا کہتے تھے؟ طرد اور عکس۔ متأخرین نے اس کا کیا نام رکھا؟ دوران رکھا، دوران۔ بھئی، دوران کسے کہتے ہیں؟ وہ یہ ہے کہ حکم جو ہے وہ... دوران کا معنی چکر لگانا، گھومنا۔ دوران کا کیا معنی؟ چکر لگانا اور گھومنا۔ تو دوران، یہ لغوی معنی میں نے بیان کیا۔ اصطلاحی معنی بھی اس کے... اسی طرح قریب ہے اس کے، بھئی، کہ وہ حکم کا چکر لگانا ہے اس وصف کے ساتھ۔ حکم کا چکر لگانا ہے اس وصف کے ساتھ۔ ہم نے مثلاً کس چیز کو علت بنایا تھا حرام ہونے کی؟ نشے کو۔ ہم دیکھتے ہیں جہاں جہاں یہ والا حکم آ رہا ہے شراب میں، وہاں پر یہ وصف یعنی نشہ موجود ہے۔ حرام... جہاں جہاں حرمت والا حکم ہے، وہاں وہاں پر نشہ موجود ہے۔ تو دوران یا طرد و عکس اس چیز کا نام ہے کہ جہاں بھی وہ حکم آ رہا ہے، ہم نے دیکھا وہاں وہ علت بھی پائی جا رہی ہے۔ جہاں وہ حکم ہے، وہاں وہ علت ہے، جہاں وہ علت ہے، وہاں وہ حکم ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ دوران کا معنی چکر لگانا، کیا معنی؟ اس حکم کے ساتھ یہ وصف چکر لگا رہا ہے۔ جہاں جہاں یہ حرام والا حکم ہمیں مل رہا ہے، وہاں یہ نشے والا بھی... حکم ساتھ اس کے... یہ وصف اس کے ساتھ ساتھ ہے۔ وجود کے اعتبار سے بھی اور عدم کے اعتبار سے بھی۔ جہاں حرام ہونے کا حکم ہے، وہاں نشہ بھی ہے۔ جہاں حرام ہونے کا حکم نہیں، وہاں نشہ بھی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو یہ ہے چکر لگانا ساتھ ساتھ۔ تو دوران کسے کہتے ہیں؟ چکر لگانا... حکم کا وصف کے ساتھ ساتھ چکر لگانا، وجود کے اعتبار سے بھی اور عدم کے اعتبار سے بھی۔ جہاں حکم ہے، وہاں یہ وصف ہے، جہاں حکم... یہ تو شراب کے وہ نشے کی مثال چھوڑیں، بس مطلق یاد رکھیں۔ ایک چیز کو ہم نے ایک حکم کی علت بنایا، ایک وصف کو، کس کو بنایا؟ ایک وصف کو ایک حکم کی علت بنایا، تو ہم دیکھتے ہیں کہ... کس وجہ سے بنایا؟ دوران کی وجہ سے۔ دلیل کیا چیز ہے اس کی؟ دوران اس کی دلیل ہے، دوران کے ذریعے تو ہم ثابت کر رہے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے؟ یہ حکم کی یہی علت ہے، کوئی اور حکم کی علت نہیں۔ تو یہ دوران اس کی دلیل ہوتا ہے۔ اور دوران کس چیز کا نام ہے؟ کہ ہم نے دیکھا جہاں جہاں یہ حکم پایا جا رہا ہے، وہاں پر یہ علت بھی پائی جا رہی ہے۔ جہاں پر یہ حکم نہیں ہے، وہاں پر وہ علت بھی نہیں ہے۔ معلوم ہوا یہی وصف حکم کی علت ہے، یہ اس کے ساتھ ساتھ ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ جہاں حکم ہوتا ہے وہاں ہمیں یہ علت ملتی ہے، جہاں علت ہوتی ہے وہاں ہمیں یہ حکم ملتا ہے، معلوم ہوا یہ اسی کا... یہ علت یہی ہے اس حکم کی، کوئی اور چیز علت نہیں ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں ان ان دو میں سے ایک دوران ہے متأخرین کے نزدیک اور قدماء جو ہیں اس کو طرد و عکس کہتے تھے، وہو ان يدور الحكم مع المعنى المشترك، اور وہ یہ کہ چکر لگاتا ہے حکم مع المعنى المشترك، کس کے ساتھ چکر لگاتا ہے؟ معنی مشترک کے ساتھ، وجوداً وعدماً، باعتبار وجود کے بھی اور عدم کے، یعنی جہاں وہ وصف ہوتا ہے ہمیں وہ حکم بھی ملتا ہے اور جہاں وہ حکم ہوتا ہے وہ وصف ہمیں... جہاں حکم ہوتا ہے وہاں وصف ہوتا ہے، جہاں وصف ہوتا ہے وہاں حکم ہوتا ہے، وجود کے اعتبار سے، جہاں جہاں ایک ان میں سے پائی جا رہی ہے بات وہ دوسرا بھی اس کے ساتھ ساتھ ہے۔ اور عدم میں بھی جہاں حکم نہیں وہاں وصف نہیں، جہاں وصف نہیں وہاں حکم نہیں، بھئی۔ تو کہتے ہیں: وهو ان يدور الحكم مع المعنى المشترك وجوداً وعدماً، اور وہ یہ کہ چکر لگائے حکم اس معنی مشترک کے ساتھ وجود اور عدم کے اعتبار سے، یعنی اذا وجد المعنى وجد الحكم، یعنی جب وہ معنی پایا جاتا ہے یعنی جب وہ وصف پایا جاتا ہے وجد الحكم تو حکم بھی پایا جاتا ہے، واذا انتفى المعنى، اور جب وہ معنی یعنی وہ وصف منتفی ہوتا ہے انتفى الحكم تو حکم بھی منتفی ہو جاتا ہے یعنی نہیں پایا جاتا۔ بات سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو ایک دلیل دوران ہے، ایک دلیل، بھئی، جس کے ذریعے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اس حکم کی یہی علت ہے۔ یہ علت اس حکم کے ساتھ ہر جگہ چکر لگا رہی ہے، معلوم ہوا یہی علت ہے اس کی۔ یہی اس کی علت ہے، بھئی، علت ہے۔ اور یاد رکھیے، اصل... ایک تھا اصل اور ایک کیا ہے؟ فرع... ایک اصل ہے اور ایک فرع ہے۔ اور اصل کے اندر تو حکم معلوم تھا، حکم کس پر لگایا پھر ہم نے؟ فرع پر لگایا، فرع پر۔ اور فرع پر حکم لگاتے ہیں کس وجہ سے؟ کس بنیاد پر؟ اس وصفِ مشترک کے اس میں پائے جانے کی وجہ سے۔ تو یہ جو وصفِ مشترک ہوتا ہے اس کو کہیں گے مدار، بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ مدار، کیونکہ اس پر حکم کا دارومدار ہے، جہاں جہاں نشہ ملے گا وہاں کیا حکم لگانا پڑے گا؟ حرام ہونے کا۔ تو یہ ہوا مدار، یہ کیا... نشہ یعنی علت کو کیا کہتے ہیں؟ مدار کہتے ہیں، بھئی، کیونکہ اس پر حکم کا دارومدار ہے۔ اور حکم کو دائر کہتے ہیں، دائر کا معنی گھومنے والا، چکر لگانے والا۔ تو جہاں جہاں وصف ہوتا ہے ساتھ ساتھ حکم بھی چکر لگاتا ہے، جہاں وصف آیا وہاں حکم بھی آ جاتا ہے، جہاں وصف نہیں آیا وہاں حکم بھی نہیں آتا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جو وصف ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مدار اور حکم کو کیا کہتے ہیں؟ دائر کہتے ہیں، دائر، بھئی۔ تو کہتے ہیں جب وہ حکم پایا جاتا... وہ وصف پایا جاتا ہے حکم بھی پایا جاتا ہے اور جب وہ وصف منتفی ہوتا ہے تو حکم بھی منتفی ہو جاتا ہے، فالدوران دليل على كون المدار، تو یہ دوران دلیل ہے على كون المدار، کس بات کی دلیل ہے؟ علی کون المدار اعنی المعنى علۃ للدائر ای الحکم۔ بھئی، دیکھیے مدار کا لفظ آیا اس کے ساتھ انہوں نے معنی بیان کر دیا، مدار کیا؟ اعنی المعنی، یعنی کہ معنی، وہ وصف ہے، بھئی۔ مدار میں نے تو بتلایا مدار کسے کہتے ہیں؟ وصف کو، اور دائر کس کو کہتے ہیں؟ حکم کو، وہی بیان کر رہے ہیں کہ دوران دلیل ہے اس بات کی کہ مدار جو ہے، مدار کون؟ اعنی المعنی یعنی کہ معنی، علۃ للدائر، وہ علت ہے کس چیز کی؟ دائر کی، ای الحکم یعنی کہ حکم کی۔ تو دیکھیے، اعنی المعنی ذرا اس کو بھی ہٹا دیں، ای الحکم اس کو بھی ہٹا دیں، کیا رہ گیا؟ کون المدار علۃ للدائر، کون المدار علۃ للدائر، اب ترجمہ دیکھو واضح ہو گیا، فالدوران دليل على كون المدار علۃ للدائر، پس دوران دلیل ہے مدار کے دائر کے لیے علت ہونے کی، کہ مدار کیا ہے؟ دائر کے لیے علت ہے، بس یہ وصف جو ہے یہ اس کے لیے علت ہے، جہاں یہ وصف ہو گا یہ حکم ہو گا، جہاں یہ وصف نہیں وہ حکم بھی نہیں۔ والطریق الثانی، اور دوسرا طریقہ جو ہے، الصبر والتقسیم، صبر و تقسیم کا ہے، بھئی، جو اکٹھا استعمال ہوتا ہے، صبر و تقسیم دونوں لفظ۔ دوسرا طریقہ کیا ہے؟ صبر و تقسیم۔ یاد رکھیے، صبر کا معنی ہے جانچنا، پرکھنا۔ تقسیم، تقسیم تو اردو میں بھی آپ استعمال کرتے ہیں، الگ الگ کرنا، تقسیم کرنا۔ تو صبر و تقسیم ہے، صبر و تقسیم۔ صبر و تقسیم وہ یہ، بھئی، کہ جو اصل ہے، اصل... اصل کیا تھا ہماری مثال میں مثلاً؟ شراب، اور فرع کیا ہے؟ بھنگ۔ اب اصل پہ صرف نظر رکھنی ہے۔ صبر و تقسیم اس چیز کا نام ہے کہ جو اصل ہے، اصل، اس کے اوصاف کو ایک ایک کر کے شمار کیا جاتا ہے۔ 2 اور دیکھا جاتا ہے کہ اس کے یہ سارے اوصاف میں سے کون سا وصف علت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، کون سا وصف علت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ تو بچوں ہے بھئی! اصل کے کیا کیے جاتے ہیں؟ اوصاف شمار کیے جاتے ہیں۔ ایک ایک کو پرکھا جاتا ہے کہ یہ علت ہے حکم کی یا یہ علت نہیں ہے بھئی۔ مثلاً بھئی، مثلاً بھئی، شراب ہے شراب۔ شراب کا حکم کیا بیان کیا شریعت نے؟ حرام ہے۔ بھئی، یہ کیوں حرام ہے؟ اس کی وجہ کیا؟ ہم ایک ایک اس شراب کا وصف پکڑتے ہیں اور اس میں غور کرتے ہیں، اس کو پرکھتے ہیں کہ اس اس کی وجہ سے تو نہیں حرمت کا حکم؟ پھر دوسرے کو دیکھتے ہیں اس کی وجہ سے تو نہیں کہیں حرمت کا حکم؟ مثلاً شراب کا ایک وصف ہے کہ یہ انگور سے بنتی ہے۔ کس سے بنتی ہے؟ ہم نے غور کیا کیا انگور سے بننے کی وجہ سے یہ حرام ہے؟ تو پتہ چلا نہیں، انگور سے بننے کی وجہ سے حرام نہیں۔ کیوں کہ انگور سے تو شیرہ بھی اس کا بنتا ہے لیکن وہ تو حرام نہیں ہوتا۔ شریعت نے تو اس کو حرام قرار نہیں دیا انگور کے شیرے کو۔ معلوم ہوا انگور سے بننا یہ علت نہیں ہے شراب کے حرام ہونے کی۔ پھر ہم نے غور کیا۔ شراب پتلی ہوتی ہے پانی کی طرح۔ تو کیا یہ پتلا ہونا اور بہنے والی ہونا اس وجہ سے شریعت نے اس کو حرام قرار دیا ہے؟ ہم نے غور کیا تو دیکھا نہیں، یہ وجہ بھی نہیں۔ اگر پتلی ہونا اور بہنے کی وجہ سے اگر یہ شراب حرام ہوتی پھر تو پانی بھی حرام ہونا چاہیے تھا۔ پھر تو کیا ہونا چاہیے تھا؟ پانی کو شریعت نے حرام قرار نہیں دیا۔ معلوم ہوا یہ وصف بھی حرام ہونے کی وجہ نہیں ہے، اس وجہ سے نہیں حرام کہا گیا۔ پھر ہم نے دیکھا شراب کا ایک مخصوص رنگ ہے۔ کیا اس رنگ کی وجہ سے یہ شراب حرام ہے؟ ہم نے غور کیا تو پتہ لگا نہیں نہیں، رنگ بھی وجہ نہیں۔ کیونکہ اس رنگ کے تو مختلف مشروبات بھی ہوتے ہیں، کسی کو شریعت نے کبھی حرام قرار نہیں دیا۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو معلوم ہوا یہ رنگ بھی سبب نہیں ہے حرام ہونے کا۔ پھر ہم نے دیکھا شراب کا ذائقہ جو ہے بڑا کڑوا ہوتا ہے، شاید اس وجہ سے شریعت نے حرام قرار دیا ہو۔ لیکن نہیں بھئی، کڑوا ہونے کی وجہ سے حرام نہیں شراب۔ اس طرح تو اور بھی بڑی کڑوی چیزیں ہیں لیکن شریعت نے کسی اور کو حرام قرار نہیں دیا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ شراب جو ہے وہ اس کی ایک مخصوص بو ہوتی ہے، شاید اس بو کی وجہ سے اس کا... لیکن وہ بھی پتہ لگا نہیں، یہ اس بو کی وجہ سے بھی حرام نہیں۔ پھر بالآخر کرتے کرتے آخری نشہ ہی رہ گیا۔ اس کو اس میں ہم نے غور کیا تو پتہ چلا ہاں، یہ وصف ہے جس کی وجہ سے اس کو شریعت نے حرام... یہ ہے سبر و تقسیم بھئی۔ ایک ایک وصف کو جانچا، پرکھا اور پھر تقسیم کر دیا کہ یہ والے نہیں بن سکتے سبب اور یہ والا وصف کیا ہے؟ سبب بن رہا ہے، علت بن رہا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بحث یہ چل رہی ہے نا کہ آپ کے کس طریقے سے ثابت کیا جائے گا کہ کوئی وصف اس حکم کی علت ہے؟ حرام ہونے کی علت کیا چیز ہے، کس طرح ثابت کریں گے؟ ایک طریقہ کیا تھا؟ دوران۔ کہ جہاں جہاں وہ حکم ہوتا ہے، ہم نے دیکھا وہاں پر وہ وصف بھی پایا جاتا ہے۔ معلوم ہوا وہ وصف ہے اس حکم کی علت بھئی۔ اور ایک ہے سبر و تقسیم والا طریقہ۔ وہ ہم ہم اس میں یہ نہیں دیکھتے کہ یہ حکم یہ جہاں جہاں نشہ پایا جا رہا ہے، وہاں پر حرام ہونے کا حکم، بلکہ اسی چیز اصل کے اوصاف کو پرکھتے ہیں۔ سارے اوصاف کو پرکھ لیا اور دیکھا ان میں سے کوئی بھی علت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا سوائے ایک کے یا سوائے دو کے۔ تو لہٰذا پھر ثابت ہو گیا یہی ایک یا دو وصف کیا ہیں؟ اس حکم کی علت ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی، اچھی طرح؟ دیکھیے اب کتاب پر۔ کہتے ہیں: "والطریق الثانی السبر والتقسیم"۔ دوسرا طریقہ جو ہے سبر و تقسیم ہے۔ "وهو أنهم یعدون اوصاف الاصل" اور وہ یہ کہ یہ علماء جو ہیں، یہ شمار کرتے ہیں اصل کے اوصاف کو۔ "ثم یثبتون" پھر وہ یہ ثابت کرتے ہیں "أن ما وراء المعنى المشترک غیر صالح لإقتضاء الحكم" کہ اس معنی مشترک کے علاوہ جو ہیں... اس معنی مشترک کے علاوہ اوصاف جو ہیں "غیر صالح" وہ صلاحیت ہی نہیں رکھتے "لإقتضاء الحكم" اس حکم کے تقاضا کرنے کی۔ باقی اوصاف اس حکم کا تقاضا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں کرتے بھئی۔ مثلاً کیا اوصاف تھے ہم نے شمار کیے؟ انگور سے بنی ہے، لیکن انگور سے بننے کا یہ وصف، یہ تقاضا ہی نہیں کرتا کہ اس کو کیا ہونا چاہیے؟ حرام۔ کیونکہ اگر یہ حرام ہونے کا تقاضا کرتا تو انگور سے بنی ہر چیز کو کیا ہونا چاہیے تھا؟ حرام۔ ہم نے دیکھا یہ پتلی ہے، بہنے والی ہے، لیکن دیکھا یہ وصف تقاضا نہیں کرتا اس حکم کا کہ اس کو کیا ہونا چاہیے؟ حرام۔ کیونکہ ورنہ تو ہر بہنے والی چیز کو کیا ہونا چاہیے تھا؟ حرام۔ ہم نے اس کے بعد اس کے رنگ کو دیکھا، لیکن پتہ چلا یہ وصف بھی صلاحیت نہیں رکھتا کہ یہ اس حکم کا تقاضا کرے، یعنی حرمت کا تقاضا کرے۔ کیونکہ اگر یہ وصف علت ہوتا تو پھر تو یہ جہاں بھی پایا جاتا، وہاں کون سا حکم پایا جاتا؟ حرام ہونے کا حکم پایا جاتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ وہ شمار کرتے ہیں اصل کے اوصاف کو، "ثم یثبتون" پھر ثابت کرتے ہیں "أن ما وراء المعنى المشترک" کہ اس معنی مشترک کے علاوہ جو ہیں، "غیر صالح" اس معنی مشترک کے علاوہ اور جو اوصاف ہیں "غیر صالح لإقتضاء الحكم" وہ صلاحیت نہیں رکھتے اس حکم کے تقاضا کرنے کی۔ "وذلك لوجود تلک الأوصاف فی محل آخر مع تخلف الحكم عنه" اور وہ اس وجہ سے کہ وہ اوصاف دوسری جگہ بھی پائے گئے "مع تخلف الحكم" ساتھ حکم کے پیچھے رہنے کے۔ وہ اوصاف ہمیں دوسری جگہ ملے لیکن حکم وہاں پر نہیں آیا۔ صرف وصف آیا، حکم پیچھے ہی رہ گیا۔ حالانکہ اگر وہ وصف علت ہوتا تو ساتھ ہی کیا آنا چاہیے تھا؟ وہی اگر وہ وصف اگر علت ہوتا اس حکم کی، تو اس وصف کے آتے ہی فوراً کیا آنا چاہیے تھا؟ حکم۔ لیکن ہمیں دوسری جگہ وہ وصف ملے لیکن حکم پیچھے رہ گیا، حکم نہیں آیا۔ حکم پیچھے رہنے کا کیا معنی؟ حکم نہیں آیا وہاں پر۔ اور اوصاف کو ہم نے شمار کیا۔ کیا شمار کیا مثلاً؟ انگور سے بنی ہے شراب، اس وصف کو ہم نے شمار کیے دیکھا، لیکن دوسری جگہ انگور کا شیرہ شیرہ جو ہے، وہ بھی انگور سے بنا ہے۔ یہاں پر وہ یہ انگور سے بننے والا وصف تو ہے لیکن حکم پیچھے رہ گیا، حکم نہیں ہے حرمت والا۔ پتلی بہنے والی ہے شراب، یہ وصف ہم نے دوسری جگہ دیکھا پانی میں ہے، لیکن حرام ہونے کا حکم نہیں۔ تو دوسری جگہ ہمیں دوسرے اوصاف میں صلاحیت ہی نہیں علت بننے کی۔ کیوں نہیں صلاحیت علت بننے کی؟ کیونکہ دوسری جگہ ہمیں وہ اوصاف ملتے ہیں اور حکم نہیں ملتا۔ حالانکہ اگر یہ وصف حکم کی علت ہوتا تو جہاں جہاں یہ وصف پایا جاتا، وہاں کیا پایا جانا چاہیے تھا؟ حکم بھی پایا... لیکن دوسری جگہ ہم دیکھتے ہیں یہ اوصاف پائے جا رہے ہیں لیکن حکم نہیں پایا جا رہا۔ تو پس ہاں، نشہ جہاں جہاں آ رہا ہے، وہاں پر کون سا حکم آ رہا ہے؟ حرام۔ معلوم ہوا نشہ ہی ایک وصف ہے جو اس کی علت ہے اس حرام ہونے کی۔ اور اوصاف نہیں۔ اور اوصاف ہوتے تو جہاں جہاں وہ پائے جاتے، وہاں کیا ہوتا؟ حرام ہونے کا حکم بھی ہوتا۔ لیکن وہاں تو حرام ہونے کا حکم نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: "لوجود تلک الأوصاف فی محل آخر مع تخلف الحكم عنه" اس وجہ سے کہ وہ اوصاف پائے گئے "فی محل آخر" دوسری جگہ میں "مع تخلف الحكم عنه" باوجود حکم کے اس سے پیچھے رہ جانے کے کہ حکم پیچھے رہ گیا اور صرف وصف ہے۔ معلوم ہوا یہ علت ہی نہیں ہے اس حکم کی ورنہ حکم ساتھ ہی آ جاتا۔ "مثلاً فی المثال المذكور یقولون" مثلاً مثال کے طور پر اس مذکورہ مثال میں مناطقہ کہتے ہیں کہ "إن علت حدوث البیت إما الإمكان" بھئی، یہ تو تھی اصول فقہ کی مثال میں بیان کر رہا تھا ذرا واضح تھی، آسان تھی۔ اب مناطقہ کی مثال بھئی۔ مناطقہ نے کیا مثال ذکر کی تھی؟ "العالم مؤلف فهو حادث كالبیت" کہ یہ جہان مرکب ہے، جب یہ مرکب ہے تو یہ حادث ہے کس کی طرح؟ کمرے کی طرح۔ کس کی طرح؟ کمرے کی طرح۔ جیسے کمرا مرکب ہوتا ہے، حادث ہوتا ہے۔ تو یہی مرکب ہونے کا وصف ہمیں اس جہان میں، اس دنیا میں بھی ملا کہ دنیا بھی مرکب ہے مختلف قسم کی چیزوں سے۔ تو اس کو بھی اس پر بھی وہی حکم لگا دیا۔ معلوم ہوا یہ بھی کیا ہے؟ جیسے وہ کمرا مرکب تھا تو حادث تھا۔ معلوم ہوا یہ جہان جب مرکب ہے تو یہ بھی کیا ہوا؟ حادث۔ جیسے شراب میں حکم تھا نشہ، وہ نشہ ہمیں بھنگ میں ملا تو ہم نے بھنگ پر بھی کیا حکم لگا دیا؟ حرام ہونے کا۔ یہاں بھی کمرے کمرا تو ہے حادث۔ ہم نے خود بنایا ہے نا کمرا۔ کمرا تو حادث ہے یقینی طور پر، ظاہر سی بات ہے۔ ہم نے اس کمرے کے اوصاف شمار کرنا شروع کیے۔ ان تمام اوصاف میں ایک وصف جو تھا، وہ ہمیں ملا پتہ لگا کہ اس وصف کی وجہ سے یہ حادث ہے، اور وہ وصف کیا تھا؟ مرکب ہونا۔ یہ کمرا مختلف چیزوں سے مرکب ہے، اینٹیں ہیں، سیمنٹ ہے، ریت ہے اور لکڑی ہے اور جو جو چیزیں اس کے اندر جن سے یہ بنا ہے۔ تو یہ مرکب ہونے کا وصف معلوم ہوا اس کی وجہ سے یہ حادث ہے۔ اس کی وجہ سے... اور یہی مرکب ہونے والا وصف ہمیں دنیا میں بھی نظر آیا، تو اس پر بھی کیا حکم لگا دیا؟ حادث ہونے کا حکم لگا دیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بیان کر رہے ہیں سبر و تقسیم کو۔ سبر و تقسیم کس کو کہتے تھے؟ کہ اصل کے اوصاف کو شمار کیا جائے اور پھر دیکھا جائے ان میں سے کون سا وصف علت ہے۔ کون سا وصف...؟ یہاں کمرا ہے، کمرے کا حکم کیا ہے؟ وہ حادث ہے۔ یہ حادث کیوں ہے؟ ہم کمرے کے ایک ایک وصف کو شمار کریں گے۔ کیا کریں گے؟ ایک ایک وصف کو شمار کریں گے اور پھر ثابت کریں گے کہ مرکب ہونے کا وصف وہ علت ہے حادث ہونے کی، کوئی اور علت نہیں۔ تو کمرے کا حکم کیا؟ حادث ہے۔ علت کیا؟ مرکب ہونا۔ تو مرکب ہونا ہے علت۔ حکم کیا؟ حادث ہونا۔ یہی علت ہمیں دنیا میں ملی، وہ بھی مرکب۔ تو وہاں بھی کیا حکم لگا دیا؟ حادث۔ اب اصل کون؟ کس پر دنیا کو قیاس کیا؟ کمرا۔ تو کمرا ہوا اصل۔ دنیا کیا ہوئی؟ فرع۔ حکم کیا ہوا؟ حادث ہونا۔ علت کیا ہوئی؟ مرکب ہونا۔ اب یہ علت آپ نے مرکب ہونے کو بنایا۔ کس کو بنایا؟ مرکب ہونے کو۔ اس کو ثابت کریں تو کس طریقے سے بیان کریں گے؟ سبر و تقسیم کے طریقے پر۔ آپ نے مرکب ہونے کو حکم کی علت بنایا، کمرے کے سارے اوصاف آپ شمار کر کے بتائیں گے کہ دیکھو یہ وصف بھی ہے کمرے کا، یہ وصف بھی ہے، یہ بھی ہے وصف، یہ بھی وصف ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی وصف بھی سوائے ترکیب کے اور کوئی وصف جو ہے علت نہیں بن سکتا اس حکم کی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب وہی بیان کرنے لگے ہیں۔ "مثلاً فی المثال المذكور یقولون" مثال کے طور پر اس مذکورہ مثال میں مناطقہ کہتے ہیں کہ "إن علت حدوث البیت إما الإمكان" کہ اس کمرے کے حادث ہونے کی علت جو ہے "إما الإمكان" یا تو کیا ہے؟ امکان ہے۔ "أو الوجود" یا کیا ہے؟ وجود ہے۔ "أو الجوهریة" یا جوہر ہونا ہے۔ "أو الجسمیة" یا جسم ہونا ہے۔ "أو التالیف" یا تالیف ہے، یعنی مرکب ہونا۔ تالیف اور ترکیب کا ایک معنی ہے، مرکب ہونا۔ یا تالیف ہے۔ توجہ سے بھئی! امکان، وجود، جوہر، جسم، تالیف۔ دیکھیے بھئی! پہلے تو یہ بات سمجھ لیں۔ امکان، یہ مصدر ہے مولانا، باب افعال سے۔ امکان کیا ہے؟ مصدر افعال۔ وجود، یہ بھی مصدر ہے بھئی وجود۔ آگے آیا جوہریت، یہ یاء مشدد اور تاء جوہر کے آخر میں لگائی گئی۔ یہ کسی اسم سے مصدر بنانے کے لیے یہ طریقہ ہے کہ اس کے آخر میں یاء مشدد اور تاء، گول تاء لگا دی جاتی ہے۔ تو یہ مصدر بن جاتا ہے۔ جوہریت کا کیا معنی ہوگا؟ جوہر ہونا۔ جوہریت کا کیا معنی؟ جوہر ہونا۔ جیسے ضارب کا معنی ہے پٹائی کرنے والا، لیکن اسی کے آخر میں یاء مشدد اور تاء لگا دو: ضاربیت۔ اب کیا ترجمہ ہوگا؟ ضارب ہونا۔ کیا معنی؟ ضارب ہونا۔ پہلے تھا ضارب پٹائی کرنے والا، اب پٹائی کرنے والا ہونا۔ یہ مصدری معنی بن گیا، آخر میں "نا" کا لفظ آ رہا ہے۔ اسی طرح جسمیت۔ جسم کا لفظ بھی مصدر نہیں تھا، اس کے آخر میں بھی یاء مشدد لگا دی اور گول تاء تو کیا بن گیا؟ جسمیت۔ کیا معنی کریں گے؟ جسم ہونا۔ "أو التالیف" تالیف تو تفعیل باب کا مصدر ہے۔ تو کچھ پہلے سے ہی مصدر تھے، ان کے ساتھ یاء مشدد اور تاء لگانے کی ضرورت نہیں پیش آئی۔ کچھ مصدر نہیں تھے، ان سے مصدر بنانا پڑا تو ان کے آخر میں کیا لگا دی؟ یاء مشدد اور تاء لگا دی، گول تاء بھئی۔ اب دیکھیے کہ وہ کہتے ہیں کہ کمرے کے کئی اوصاف ہیں۔ مثلاً کمرا جو ہے، وہ ممکن ہے۔ کس میں سے ہے؟ ممکنات میں سے ہے۔ کمرا کس میں سے ہے؟ ممکنات میں سے ہے۔ دوسری بات، کمرے کا ایک وجود ہے۔ کمرے کا وجود... یہ اوصاف گنوا رہے ہیں اصل کے کہ کون سا وصف علت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کون سا وصف علت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ تو کمرے کے اوصاف گنتے جا رہے ہیں کہ یہ وصف ہے، یہ بھی علت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ دوسرا وصف ہے، یہ بھی علت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ مثلاً پہلے امکان ہے۔ امکان کا کیا معنی؟ ممکن ہونا۔ کمرا بھی تو ایک ممکن ہے، ممکنات میں سے ہے۔ دوسرا وجود، کمرے کا بھی وجود ہے۔ تیسرا جوہر ہونا، کمرا جوہر ہے یا نہیں بھئی؟ جوہر کس کو کہتے تھے؟ جس کا اپنا الگ وجود ہو، جو اپنے وجود میں کسی محل کا، کسی غیر کا محتاج نہ ہو۔ تیسرا جسم، کمرے کا کیا ہے؟ جسم بھی ہے ایک۔ پانچواں وصف کیا ہے؟ تالیف، کمرا مرکب ہے کئی چیزوں سے۔ ان سب سارے اوصاف میں سے صرف ترکیب ایک ایسا وصف ہے جو حادث ہونے کی علت ہے۔ باقی ان میں سے کوئی بھی حادث ہونے کی علت نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب امکان کس کو کہتے ہیں، یہ ایک ایک چیز اچھی طرح سمجھ لیں۔ امکان اس کو کہتے ہیں کہ کوئی چیز اپنی ذات کے اعتبار سے نہ اپنے وجود کا تقاضا کرنے والی ہے، نہ عدم کا تقاضا کرنے والی ہے۔ اللہ کی ذات کے علاوہ باقی تمام چیزیں ممکنات ہیں بھئی۔ تمام چیزیں ممکنات ہیں، ممکن ہیں۔ اور جو اپنی ذات کے اعتبار سے نہ وجود کا تقاضا کرے نہ عدم کا۔ یعنی جس کا نہ ہونا ضروری ہو اور نہ نہ ہونا ضروری ہو۔ ہونا بھی ضروری نہیں اور نہ ہونا... وہ اپنی ذات کے اعتبار سے نہ ہونے کا تقاضا کرتی ہے اور نہ نہ ہونے کا۔ بھئی اللہ کی ذات واجب الوجود، واجب الوجود کا تو ہونا ضروری ہے۔ واجب الوجود کا تو ہونا واجب ہے، ضروری ہے۔ تو واجب الوجود کا ہونا ضروری۔ اور ایک ہیں، باقی چیزیں کیا ہیں؟ وہ ممکنات ہیں۔ نہ ان کا ہونا ضروری اور نہ نہ ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو بہرحال اتنا یاد رکھیں کہ ممکن وہ ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے نہ وجود کا تقاضا کرنے والا ہو، نہ عدم کا تقاضا کرنے والا ہو۔ نہ وجود کا تقاضا کرنے والا، نہ عدم کا۔ واجب الوجود، وہ تو اپنے وجود کے اعتبار سے اپنے ہونے کا تقاضا کرتا ہے کہ ہونا چاہیے اس کو ہر حال میں، جبکہ باقی چیزیں ایسی نہیں ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، بات کس کی چل رہی ہے؟ امکان کی۔ امکان کی۔ امکان کسے کہتے ہیں؟ کوئی چیز جو اپنی ذات کے اعتبار سے نہ اپنے وجود کا تقاضا کر رہی ہے اور نہ عدم کا تقاضا کر رہی ہے۔ نہ تو اس کا ہونا ضروری اور نہ نہ ہونا ضروری۔ بھئی یہ سب چیزیں، یہ سب ممکنات ہیں۔ یہ کتاب نہ ہوتی... 3 کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ یہ اپنے وجود کے اعتبار سے ہونے کا تقاضا کر رہا ہے اور نہ نہ۔ یہ کمرہ ہے، یہ اپنے وجود کے اعتبار سے نہ ہونے کا تقاضا کر رہا ہے اور نہ نہ۔ کیا اس کمرے کا ہونا ضروری تھا؟ جی؟ نہیں۔ یا نہ ہونا ضروری ہو؟ نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو وہ جب کہ واجب الوجود اس کا ہونا ضروری ہے، اس کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ اچھا، اب ایک ہے واجب الوجود، ایک ہے واجب الوجود کی صفات، اللہ کی صفات۔ جیسے اللہ قدیم، اللہ کی صفات بھی قدیم، ہمیشہ سے ہیں بھئی۔ اللہ عالم بھی ہیں، علم بھی رکھنے والے ہیں، علیم ہیں اللہ بھئی۔ اللہ رازق بھی ہیں، رزق دینے والے بھی ہیں۔ اللہ جو ہیں، سمیع بھی ہیں، سننے والے بھی ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ اللہ کی مثلاً ایک، دو، تین میں نے صفات گنوا دیں۔ یہ جو اللہ کی صفات ہیں، یہ جب سے اللہ کی ذات ہمیشہ سے ہے تو یہ صفات بھی ہمیشہ سے ہیں۔ اللہ کی ذات بھی قدیم، اللہ کی صفات بھی قدیم۔ صفات بھی قدیم۔ اب صرف ان صفات پہ نظر رکھو۔ یہ صفات اپنی ذات کے اعتبار سے نہ وجود کا تقاضا کرنے والی ہیں، نہ عدم کا تقاضا کرنے والی ہیں۔ اپنی ذات کے اعتبار سے نہ ان کا ہونا ضروری اور نہ نہ ہونا ضروری۔ واجب الوجود کی طرف نہ دیکھیں، واجب الوجود کی طرف نظر کریں گے تو واجب الوجود کے لیے ان کا ہونا ضروری ہے۔ واجب الوجود کے لیے جو بھی واجب الوجود ہوگا، وہ کیا ہوگا؟ علیم بھی ہوگا، سمیع بھی ہوگا، رازق بھی ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو واجب الوجود کے اعتبار سے ان کا ہونا ضروری، لیکن واجب الوجود کے بغیر صرف ان کی اپنی ذات پر نظر کی جائے۔ ان کی اپنی ذات کے اعتبار سے نہ ان کا ہونا ضروری اور نہ نہ ہونا ضروری۔ یہ ان کا ہونا کیوں ضروری ہوا؟ واجب الوجود کی وجہ سے، واجب الوجود ہے تو اس کے ساتھ ان صفات کا ہونا ضروری ہے تو یہ صفات بھی ضروری ہو گئیں بھئی۔ لیکن قطع نظر واجب الوجود سے صرف ان صفات پہ نظر کی جائے تو یہ ممکن ہیں، یعنی یہ نہ وجود کا تقاضا کرتی ہیں اپنے اور نہ عدم کا تقاضا کرتی ہیں۔ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بات سمجھ میں بھئی؟ جی؟ واجب الوجود کے لیے ان صفات کا ہونا ضروری، واجب الوجود کی طرف نظر کریں گے تو ان صفات کا ہونا ضروری ہے، لیکن واجب الوجود کے بجائے صرف کس طرف نظر کریں؟ صرف ان صفات کی طرف نظر کریں، ان صفات کا ہونا یا نہ ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔ یہ کس میں سے ہیں؟ ممکنات میں سے ہیں۔ معلوم ہوا یہ صفات کیا ہیں؟ ممکنات میں سے ہیں۔ کس میں سے ہیں؟ ممکنات میں سے۔ اور کمرے کا ایک، کمرے کی ایک صفت کیا تھی؟ ممکن ہونا، ممکن ہونا۔ معلوم ہوا ممکن ہونا حادث ہونے کی علت نہیں۔ جو بھی ممکن ہو وہ حادث ہو، یہ ایسا نہیں۔ کیونکہ اللہ کی صفات ممکن ہیں لیکن حادث نہیں، وہ تو قدیم ہیں۔ اللہ کی صفات تو کیا ہیں؟ کمرے کی ہم صفات شمار کر رہے ہیں۔ توجہ ہے بھئی؟ کمرے کی صفات شمار کر رہے ہیں، ہم نے یہ ثابت کرنا ہے حادث ہونے کی علت یہ وصف بھی نہیں، یہ بھی نہیں، یہ بھی نہیں، صرف مرکب ہونا علت ہے حادث ہونے کی۔ یہ چونکہ مرکب ہے اور مرکب ہونے کی وجہ سے چیز کیا ہوتی ہے؟ جو بھی مرکب ہوتا ہے وہ حادث ہوا کرتا ہے۔ یہ ہم نے ثابت کرنا ہے۔ تو ایک ایک وصف گنوا رہے ہیں کمرے کا۔ ایک وصف ہے کمرے کا ممکن ہونا، یہ کیا ہے؟ ممکن ہے۔ لیکن یہ ممکن ہونا، یہ علت نہیں ہے حادث ہونے کی، کہ جو بھی ممکن ہو وہ حادث بھی ہو، ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ کی صفات کیا ہیں؟ ممکن ہیں، لیکن وہ حادث نہیں، وہ تو کیا ہیں؟ اگر ممکن ہونا علت ہوتا حادث ہونے کی، تو صفات کو بھی کیا ہونا چاہیے تھا؟ حادث، حالانکہ وہ تو حادث نہیں۔ معلوم ہوا امکان علت نہیں ہے حدوث کی۔ معلوم ہوا امکان علت نہیں ہے حدوث کی، یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ دوسری بات، "او الوجود"، یا وہ وجود ہے۔ کمرہ حادث کیوں؟ آپ کہتے ہیں جی کیونکہ اس کا وجود ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، وجود ایسا وصف نہیں جو حادث ہونے، جس کی وجہ سے وہ چیز حادث ہو۔ وجود تو واجب الوجود کا بھی ہے۔ وجود کس کا ہے؟ واجب الوجود، اور واجب الوجود حادث ہے یا قدیم ہے؟ وہ تو قدیم ہے، معلوم ہوا وجود حادث ہونے کا تقاضا نہیں کر رہا، یہ علت نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تیسرا، "او الجوہریۃ"، یا جوہر ہونا، یہ بھی کمرے کا وصف ہے۔ شاید یہ علت ہو حادث ہونے کی، جوہر۔ تو یاد رکھیے، جوہر، یہ بھی حادث ہونے کی علت نہیں۔ کیونکہ یاد رکھیے جوہر جو ہے نا جوہر، جوہر دو قسم پر ہیں۔ جوہر دو، ایک مجرد، ایک غیر مجرد۔ مجرد یعنی جو مادے سے خالی ہے۔ مادے سے خالی، مادہ نہیں۔ ایک تو جوہر یہ ہے نا، مثلاً آپ بھی جوہر ہیں، یہ کتاب بھی جوہر ہے، ان کا مادہ ہے یا نہیں؟ کتاب کس سے بنی ہے؟ یہ صفحوں سے، یہ جلد سے، مادہ ہے ان کا۔ آپ کا، آپ بھی جوہر ہیں، آپ کا وجود کس سے بنا ہے؟ گوشت ہے، ہڈیاں ہیں وغیرہ، تو مادہ ہے اس کا۔ یہ کمرہ بھی کیا ہے؟ جوہر ہے، اس کے مادہ ہے بھئی، کیا چیز اس کا مادہ ہیں؟ اینٹ ہے، سیمنٹ ہے، ریت ہے، لکڑی ہے اور چیزیں ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھیے، یہ جوہر ہیں اور جوہر میں نے بتایا دو قسم پر، کچھ وہ جو مادہ ہیں، جن کا مادہ ہے، اور کچھ وہ ہیں جن کا مادہ کوئی نہیں۔ جیسے روح مثلاً، روح کیا ہے؟ ایک الگ چیز ہے یا نہیں؟ روح ایک الگ چیز ہے باقاعدہ، لیکن مادہ کوئی نہیں۔ لطیف چیز ہے، لطیف، جیسے دھواں ہوتا ہے بھئی۔ دھواں لطیف چیز ہے بھئی، دھوئیں کو آپ ہاتھ میں پکڑ سکتے ہیں؟ نہیں، لطیف ہے۔ اسی طرح روح بھی ہے، لطیف چیز ہے بھئی، اس کا مادہ کوئی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، تو کہتے ہیں یہ جو جواہر مجردہ ہیں، مناطقہ کہتے ہیں یہ جو جواہر مجردہ ہیں، یہ حادث نہیں ہیں، یہ قدیم ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ جواہر مجردہ وہ جواہر جو مادے سے خالی ہیں، ایک مجرد ہے جوہر، ایک غیر مجرد ہے۔ جو غیر مجرد ہے، اس کی بات نہیں کر رہے، بلکہ جو مجرد ہیں، مادے سے خالی ہیں، وہ کہتے ہیں یہ قدیم ہیں۔ اگرچہ اہل اسلام کا یہ نظریہ نہیں، لیکن بہرحال مناطقہ کی بات ہو رہی ہے اس وقت۔ مناطقہ کے نزدیک یہ جواہر مجردہ کیا ہیں؟ قدیم ہیں۔ تو دیکھو جوہر ہے اور قدیم ہے۔ معلوم ہوا جوہر ہونا حادث ہونے کی علت نہیں۔ کمرے کا ایک وصف کیا تھا؟ یہ جوہر ہے نا، معلوم ہوا جوہر ہونا حادث ہونے کی علت نہیں ہے۔ ورنہ تو جواہر مجردہ بھی جوہر ہیں، ان کو بھی حادث ہونا چاہیے تھا، لیکن وہ تو حادث نہیں، وہ تو کیا ہیں؟ قدیم ہیں۔ یہ میں نے بتلایا مناطقہ کا نظریہ ہے، اہل اسلام کا یہ نظریہ نہیں۔ تیسرا، جسم ہونا، جسم ہونا، شاید یہ وصف ہو حادث ہونے کی علت، کہتے ہیں نہیں، یہ وصف بھی حادث ہونے کی علت نہیں۔ آپ کہیں یہ کمرے کا جسم ہے، اس لیے حادث ہے، نہیں بھئی، اگر جسم ہونا علت ہوتا، تو جو چیز جسم ہوتی، وہ حادث ہوتی، وہ کیا ہوتی؟ حادث، لیکن کہتے ہیں فلکی اجسام، یہ ستارے، یہ آسمان، یہ جو اجسام ہیں فلکی، یہ، ان کا جسم ہے، لیکن یہ قدیم ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ ان کا جسم ہے یا نہیں؟ ان کا جسم، تو اگر جسم ہونا علت ہوتا حادث ہونے کی، تو ان کو بھی کیا ہونا چاہیے تھا؟ قدیم، لیکن یہ قدیم نہیں، قدیم نہیں، تو یہ معلوم ہوا جسم ہونا قدیم ہونا، حادث ہونے کی علت نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب صرف تالیف رہ گیا بس، باقی اوصاف ہم نے شمار کر لیے، کوئی بھی حادث ہونے کی علت نہیں ہے، ہاں صرف ایک تالیف ہے، مرکب ہونا، یہ علت ہے حادث ہونے کی۔ یہ مرکب ہونا علت ہے حادث ہونے کی علت ہے، سمجھ میں آیا؟ باقی اوصاف ہم نے شمار کر لیے، کوئی بھی حادث ہونے کی علت نہیں ہے بھئی۔ تالیف کیوں علت ہے حادث ہونے کی، مرکب ہونا؟ وجہ یہ، کہ یہ معلوم ہوا یہ کمرہ چونکہ مرکب ہے، اس لیے حادث ہے۔ اور یہی مرکب ہونا ہمیں دنیا میں ملا، تو ہم نے دنیا پر بھی کیا حکم لگا دیا؟ کہ دنیا بھی حادث ہے، کیونکہ جہاں ترکیب آئے گی، وہ چیز حادث ہو جائے گی۔ بھئی کیوں حادث ہو گی؟ وجہ یہ کہ تالیف کہتے کس کو ہیں، پہلے یاد رکھیں۔ تالیف اور ترکیب اس چیز کا نام ہے تالیف، تالیف اس کو کہتے ہیں کہ کئی چیزیں آپس میں اس طرح مل جائیں کہ ان کا ایک ہی نام ہو جائے۔ کئی چیزیں آپس میں اس طرح مل جائیں کہ ان کا ایک ہی نام ہو جائے۔ دیکھو اینٹیں الگ تھیں، ریت الگ تھی، سیمنٹ الگ تھا، لکڑی الگ تھی، لیکن یہ ساری چیزیں جب مل گئیں تو ایک ہی نام بن گیا، کیا بنا؟ کمرہ، یہ ہے تالیف، کہ بہت سی چیزوں کا اس طرح مل جانا کہ ان پر ایک ہی نام بولا جائے، اس کو کہتے ہیں تالیف۔ اور یہ تالیف علت ہے حادث ہونے کی، جہاں تالیف ملے گی، وہ چیز حادث ہو گی۔ کیوں؟ وجہ یہ کہ اس کے اجزا ہیں، معلوم ہوا یہ اپنے اجزا کی محتاج ہے۔ وہ چیزیں پہلے الگ الگ تھیں، بعد میں مل گئیں، معلوم ہوا پہلے یہ مرکب نہیں تھا، پہلے وہ چیزیں الگ الگ تھیں، پھر کیا ہوئیں؟ مل گئیں، تو معلوم ہوا جب بعد میں ملی ہیں، بعد میں یہ چیز بنی ہے، تو معلوم ہوا پہلے اس کا وجود نہیں تھا، جب پہلے وجود نہیں تھا تو اسی کو تو ہم کیا کہتے ہیں؟ حادث کہتے ہیں۔ یا اگر آپ کہتے ہیں یہ شروع سے ملے ہوئے تھے یہ اجزا، ہم کہیں گے اچھا، ہیں تو اجزا نا، آگے چل کے الگ ہونے کا امکان ہے یا نہیں ان کا؟ ہیں تو اجزا ہی، آگے چل کے تو الگ ہونے کا امکان ہے۔ تو چیز تو حادث ہو گئی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فانی ہو گئی ہے چیز یا فانی نہیں ہوئی بھئی؟ فنا ہو جانے والی ہے، تو معلوم ہوا یہ حادث ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو سارے اوصاف ہم نے گنوائے، ان اوصاف میں سے ایک وصف بھی علت نہیں ہے حادث ہونے کی سوائے تالیف کے، چنانچہ ہم نے تالیف کو علت قرار دے دیا حادث ہونے کی، کہ حادث ہونے کی علت کیا ہے؟ تالیف، یعنی مرکب ہونا۔ جو چیز بھی دنیا کی آپ کو مرکب ملے، بس آنکھیں بند کر کے حکم کیا لگا دیں گے؟ یہ حادث ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "ان علت حدوث البيت إما الإمكان" یا تو اس حدوثِ بیت کی علت یا تو امکان ہے، یعنی ممکن ہونا، "أو الوجود" یا اس کا وجود ہے، "أو الجوهرية" یا جوہر ہونا، "أو الجسمية" یا جسم ہونا، "أو التأليف" یا مرکب ہونا، "ولا شيء من المذكورات" اور ان مذکورات چیزوں میں سے کوئی بھی چیز جو ہے، "غیر التألیف" سوائے کس کے؟ تالیف کے، ان مذکورات چیزوں میں سے کوئی بھی چیز، وہ نہیں ہے "بصالح" صلاحیت رکھنے والی، ان مذکورات چیزوں میں سے کوئی بھی چیز سوائے تالیف کے وہ صلاحیت نہیں رکھتی "لكونه علة للحدوث" کہ وہ علت ہو کس کے لیے؟ حدوث کے لیے، "وإلا لكان كل ممکن" ورنہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہر ممکن، "وکل جوهر" اور ہر جوہر، "وکل موجود" اور ہر موجود، "وکل جسم حادثاً" اور ہر جسم کیا ہوتا؟ حادث، حالانکہ ہم نے بتایا کچھ ممکن ایسے ہیں جو قدیم ہیں، کچھ جوہر ایسے ہیں جو قدیم ہیں، کچھ موجود ایسے ہیں جو قدیم ہیں، کچھ جسم ہیں جو قدیم۔ اگر یہ چیزیں علت ہوتیں حادث ہونے کی، تو ہر ممکن، ہر جوہر یا ہر موجود یا ہر جسم کو کیا ہونا چاہیے تھا؟ حادث، "مع أن الواجب تعالی" باوجود اس کے کہ واجب تعالیٰ یعنی اللہ تعالیٰ جو ہیں، "والجواہر المجردۃ" اور جو جواہر مجردہ ہیں، "والأجسام الأثیریۃ" اور جو اجسام اثیریہ ہیں، جو فلکی اجسام ہیں، جو آسمانی اجسام ہیں بھئی، سورج، چاند، ستارے وغیرہ، آسمان بھئی، جو تو یہ جو آسمانی اجسام ہیں، "لیست کذلک" وہ ایسے نہیں ہیں، یعنی وہ حادث نہیں ہیں بھئی، واجب تعالیٰ بھی حادث نہیں، جواہر مجردہ بھی حادث نہیں، اجسام اثیریہ بھی حادث نہیں ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اجسام اثیریہ، میں نے بتلایا یہ آسمانی اجسام، فلکی اجسام جو ہیں سورج، چاند، ستارے، آسمان وغیرہ، یہ اجسام اثیریہ ہیں۔ اجسام اثیریہ سے یہ مراد ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ فلکی اجسام۔ اثیر، اثیر، اثیر جس کو انگریزی میں ایتھر (Ether) کہتے ہیں، ایتھر، اثیر، اور یہ قدیم نظریہ ہے، قدیم نظریہ۔ یہ کہتے ہیں کہ اس پوری کائنات کے اندر کوئی جگہ خالی نہیں ہے، ہر جگہ پر اثیر موجود ہے۔ کیا موجود ہے؟ اثیر کہتے ہیں یہ ایک لطیف مادہ ہے، ایک لطیف چیز ہے، جیسے دھواں ہوتا ہے نا، دھواں، دھوئیں کا تو چلو رنگ ہے، اس کا رنگ وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے، لیکن ساری جگہوں کو اس نے بھرا ہوا ہے، کوئی جگہ اس سے خالی نہیں ہے، کس سے؟ اثیر سے، اثیر۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اردو میں آپ کو شاید کتابوں میں اس کا لفظ ایتھر ہی ملے گا، وہ انگریزی سے ہی نقل ہو کر آیا، تو یہ کوئی جگہ اپ کو جو خالی نظر آئے، آپ کو خالی نظر آ رہی ہے، لیکن وہاں دراصل اثیر موجود ہے، ساری جگہ اثیر سے بھری ہوئی ہے، ہر طرف۔ پورا خلا بھرا ہوا ہے اثیر سے، اور اسی اثیر کے ذریعے روشنی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتی ہے، روشنی لہروں کی شکل میں سفر کرتی ہے، کہتے ہیں اسی اثیر کے ذریعے ہماری آواز ایک دوسرے تک پہنچتی ہے، آواز بھی لہروں کی شکل میں سفر کرتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اثیر، اس کو اثیر کہتے ہیں۔ تو بہرحال یہاں تو اجسام اثیریہ آیا، مراد فلکی اجسام ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ سبق اچھی طرح سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو خلاصۂ سبق سن لیجیے دوبارہ بھئی، خلاصۂ سبق۔ تمثیل کہتے ہیں ایک جزئی کے اندر ایک حکم کو ثابت کرنا اس وجہ سے، کیونکہ یہی حکم ایک دوسری جزئی میں بھی ثابت ہے۔ یہ یوں کہیں، ایک حکم جو ایک جزئی میں ثابت ہے، اس کو دوسری جزئی میں بھی ثابت کرنا بوجہِ علتِ جامعہ کے، علتِ جامعہ کی وجہ سے وہ اسی حکم کو دوسری جزئی کے اندر بھی ثابت کرنا، یہ تمثیل ہے بھئی، تمثیل۔ اور تمثیل کی بنیاد جو ہوتی ہے وہ علت پر ہوتی ہے، کہ آپ دوسری جزئی پر حکم کس وجہ سے لگاتے ہیں؟ کہ اس کے اندر بھی وہ علت پائی جاتی ہے۔ تو یہ بات ثابت کرنے کے لیے کہ اس حکم کی علت یہی والا وصف ہے، اس کے بتلایا کہ کئی طریقے ہیں۔ کئی طریقے ہیں اس کو ثابت کرنے کے لیے کہ یہی وصف حکم کی علت ہے اصل کے اندر بھی، جس کو اب پھر ہم جس حکم کو کس میں ثابت کر رہے ہیں؟ فرع میں۔ اور اس کے پھر مختلف طریقے ہیں کہ جن کے ذریعے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اس حکم کی یہی علت ہے بھئی، اور کوئی علت اس حکم کی نہیں ہے۔ اور اس کے دو طریقے کہتے ہیں عمدہ اور اعلیٰ ہیں، ایک کو دوران کہتے ہیں اور ایک کو سبر و تقسیم۔ دوران متاخرین کے نزدیک کہتے ہیں، جبکہ اسی دوران کا نام متقدمین کے نزدیک طرد و عکس ہے بھئی، طرد و عکس۔ اور یہ دوران یا طرد و عکس وہ یہ ہے کہ حکم جو ہے، وہ اس وصف کے ساتھ ساتھ چکر لگاتا ہے وجود اور عدم کے اعتبار سے، یعنی جہاں حکم، جہاں حکم ہوتا ہے وہاں وہ وصف بھی ہمیں ملتا ہے، اور جہاں حکم نہیں ہوتا ہم دیکھتے ہیں تو وہ وصف بھی نہیں ہوتا۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہی وصف اس حکم— 4 کم کی علت ہے، کیونکہ جہاں یہ حکم ہے وہاں وہ وصف بھی ہے اور جہاں یہ حکم نہیں ہے وہاں وہ وصف بھی نہیں ہے۔ تو ایک تو یہ دوران کو بطور دلیل کے پیش کیا جاتا ہے کہ اس حکم کا کی علت یہی وصف ہے۔ دوسرا سبر و تقسیم۔ سبر و تقسیم جس میں اصل کے اوصاف کو جانچا جاتا ہے، پرکھا جاتا ہے ایک ایک کر کے اور ثابت کیا جاتا ہے کہ باقی اوصاف علت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے، جبکہ یہ وصف جو ہم بیان کر رہے ہیں، یہ والا ایک وصف ہے یہ علت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ باقی اوصاف جو ہیں اصل کے، وہ علت بننے کی صلاحیت اس لیے نہیں رکھتے کہ وہ اوصاف دوسری جگہوں پر بھی موجود ہیں لیکن وہاں وہ حکم نہیں۔ معلوم ہوا وہ اوصاف حکم کی علت نہیں۔ جیسے مثال ذکر کی تھی کہ کمرا جو ہے وہ حادث ہے اور علت کیا ہے؟ مرکب ہونا اس کا، اور یہی مرکب ہونے کا وصف ہمیں عالم کے اندر بھی ملا۔ تو ہم نے عالم پر بھی کیا حکم لگا دیا؟ حادث ہونے کا۔ اب یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہی وصف جو ہے علت ہے حادث ہونے کی، کمرے کے حادث، کمرا اصل ہوا نہ اور عالم کیا ہوا؟ فرع۔ تو یہ ثابت کرنے کے لیے کہ کمرے میں حادث ہونے کی علت کیا ہے؟ مرکب ہونا۔ کمرے میں حادث ہونے کی علت کیا ہے؟ مرکب ہونا۔ تو ہم سبر و تقسیم کے ذریعے ثابت کرتے ہیں کمرے کے باقی اوصاف پر نظر ڈالتے ہیں۔ اس کے اور اوصاف کیا ہیں؟ مثلاً امکان ہے، وجود ہے، جوہریت ہے، جسمیت ہے۔ ان اوصاف کو ایک ایک کو ہم پکڑتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ یہ وصف بھی علت نہیں، یہ وصف بھی علت نہیں، یہ وصف بھی علت نہیں۔ مثلاً امکان، امکان حادث ہونے کی علت نہیں ہے کیونکہ امکان اگر حادث ہونے کی علت ہوتا تو جہاں جہاں امکان تھا وہاں یہ حکم ہوتا، لیکن ہم دیکھتے ہیں یہ امکان واجب تعالیٰ کی صفات میں پایا جا رہا ہے اور وہ حادث نہیں۔ معلوم ہوا اس حکم حادث ہونے کی علت نہیں، ورنہ تو جہاں امکان ہوتا وہاں کیا پایا جاتا؟ حادث ہونے کا حکم بھی۔ دوسرا وصف ہم نے دیکھا وجود۔ معلوم ہوا یہ وجود بھی جو ہے حادث ہونے کی علت نہیں، ورنہ جہاں وجود ہوتا وہاں وہ چیز کیا ہوتی؟ حادث۔ حالانکہ واجب تعالیٰ کا بھی وجود ہے لیکن حادث نہیں۔ معلوم ہوا یہ وجود بھی حادث ہونے کی علت نہیں، ورنہ جہاں وجود ہوتا وہاں کیا حکم ہوتا؟ حادث ہونے کا۔ جوہر ہونا، جوہر ہونا بھی ہم نے دیکھا یہ بھی حادث ہونے کی علت نہیں، ورنہ تو جہاں جہاں جوہر ہوتا وہ چیز کیا ہوتی؟ حادث۔ حالانکہ جواہر مجردہ جو ہیں وہ جواہر ہیں لیکن حادث نہیں۔ معلوم ہوا جوہر ہونا حادث ہونے کی علت نہیں۔ اس کے بعد جسم ہونا، اگر جسم ہونا حادث ہونے کی علت ہوتا تو جہاں جہاں جسم ہوتا وہ چیزیں کیا ہوتیں؟ حادث۔ حالانکہ اجسام اثیریہ جو ہیں، فلکی اجسام، ان میں وہ جسم ہیں لیکن وہ حادث نہیں۔ معلوم ہوا جسم ہونا بھی حادث ہونے کی علت نہیں۔ صرف اب ایک ہی وصف رہ گیا مرکب ہونا۔ معلوم ہوا وہی علت ہے کس چیز کی؟ حادث ہونے کی، کہ جو چیز بھی مرکب ہوگی وہ ہمیشہ کیا ہوگی؟ حادث، اور یہ جہاں جو بھی چیز ہم نے دیکھی مرکب ہے اس کو حادث پایا۔ معلوم ہوا حادث ہونے کی علت کیا ہے؟ مرکب ہونا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور یہ تو پہلے ہی بیان ہو چکا کہ یہ جو انہوں نے کہا کہ جواہر مجردہ حادث نہیں، اجسام اثیریہ حادث نہیں، یہ مناطقہ کا نظریہ ہے۔ کس کا نظریہ؟ مناطقہ کا، جبکہ اسلامی عقیدہ یہی ہے صحیح اسلامی عقیدہ، کہ اللہ کی ذات اور صفات کے علاوہ باقی سب چیزیں حادث ہیں بھئی۔ ہاں مناطقہ کہتے ہیں کہ بھئی جواہر مجردہ اور اجسام اثیریہ حادث نہیں ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔