ثم إذا تعارض الدليلان عند المجتهد فإن كان التعارض بين الآيتين يميل إلى السنة، وإن كان بين السنتين يميل إلى آثار الصحابة رضى الله تعالى عنهم والقیاس الصحيح، ثم إذا تعارض القياسان عند المجتهد يتحرى ويعمل بأحدهما لأنه ليس دون القياس دليل شرعي يصار إليه. پھر ثم إذا، پھر جب تعارض آ جائے دو دلیلوں کے درمیان عند المجتهد مجتہد کے نزدیک بھئی۔ بھئی، صاف صاف گزشتہ بحث میں آپ پڑھ چکے ہیں گزشتہ سبق میں بھئی کہ مجتہد سب سے پہلے کسی مسئلے کے حکم کو کہاں تلاش کرے گا؟ کتاب اللہ میں تلاش کرے گا، اگر وہاں اسے نہ ملے تو پھر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تلاش کرے گا۔ اور آخر میں پھر اگر اور کوئی دلیل نہ ہوئی تو پھر قیاس کرے گا۔ اب بتلا رہے ہیں کہ اگر تعارض آ جائے دو دلیلوں کے درمیان، دو دلیلوں کے درمیان کیا آ جائے؟ تعارض آ جائے یعنی برابر درجے کی دونوں دلیلیں ہیں ان میں تعارض آ رہا ہے ایک میں مثلاً حلت کا حکم ہے تو دوسرے میں حرمت آ رہی ہے، یا ایک کے اندر اثبات ہے تو دوسرے میں نفی ہے اس چیز کی بھئی۔ تو اب کیا کیا جائے گا؟ تو اس کے بارے میں بھئی مفصل بحث میں آپ کو لکھوا چکا ہوں سنت کے اندر بھئی کہ سب سے پہلے کیا کیا جائے گا؟ چار طریقے ہیں بھئی، پہلے احناف کے نزدیک نسخ کو دیکھا جائے گا اگر تاریخ کا پتہ چلے کہ کون سی نس پہلے آئی ہے، پہلے مقدم زمانے سے اس کا تعلق ہے اور کس کا تعلق مؤخر سے ہے تو جو مقدم ہے اس کو منسوخ قرار دے دیں گے اور جو بعد والی ہے اس کو کیا قرار دے دیں گے؟ ناسخ قرار دے دیں گے پہلی نس کے لیے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اگر نسخ پر عمل ممکن نہ ہو ہمیں پتہ ہی نہیں چل رہا کون سی نس زمانے کے اعتبار سے مقدم ہے اور کون سی مؤخر تو پھر دوسری صورت کیا ہے؟ ترجیح کی ہے بھئی کہ پھر ایک کو کیا قرار دے دیا جائے؟ راجح قرار دے دیا جائے اور دوسری کو مرجوح، اور راجح پر عمل کیا جائے اور مرجوح کو چھوڑ دیا جائے۔ اگر راجح مرجوح کا پتہ بھی نہیں چلا تو پھر تیسری صورت کیا ہے؟ جمع و تطبیق کی صورت بھئی کہ کوئی ایسی صورت اختیار کی جائے جن ان میں کیا ہو سکے؟ جمع اور تطبیق ہو سکے کہ دونوں پر عمل ہو جائے۔ اگر جمع و تطبیق بھی ممکن نہ ہو تو پھر کیا کریں گے؟ اس کیا کیا جائے گا؟ توقف کیا جائے گا یعنی نچلے درجے کی دلیل کی طرف ہم چلے جائیں گے۔ تو وہ جو دو نصوص جن میں تکراؤ آ رہا تھا ان میں تعارض دور کرنے کی اور کوئی صورت نہ تھی تو اب اس میں چوتھی صورت کیا تھی؟ توقف کیا جائے گا اور کس کی طرف چلے جائیں گے؟ نچلے درجے کی دلیل کی طرف چلے جائیں گے۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ جو دو نصوص تھیں وہ دونوں ساقط ہو جائیں گی، إذا تعارضا تساقطا، جب دونوں میں تعارض آیا تو دونوں کیا ہو گئیں؟ ساقط ہو گئیں بھئی، کوئی صورت نہیں ہے بھئی دونوں کو، میں سے کسی ایک پر عمل کرنے کی یا دونوں پر عمل کرنے کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو چنانچہ جب دو آیتوں میں تعارض آئے نسخ پر بھی عمل نہیں ہو سکتا اور ترجیح پر بھی عمل نہیں ہو سکا اور جمع پر بھی عمل نہیں ہو سکا تو پھر توقف کیا جائے گا یعنی نچلے درجے کی دلیل کی طرف جائیں گے اور کتاب اللہ کے بعد کس کا درجہ ہے؟ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ ہے، یعنی حدیث، تو حدیث کی طرف چلے جائیں گے۔ اور پھر اسی طرح اگر تعارض کس میں آیا؟ دو دو احادیث دو احادیث، دو حدیثیں ہیں ان کے اندر تعارض آیا تو پھر نسخ کی کوشش کریں گے یا نسخ پر عمل کریں گے یا پھر کیا کریں گے؟ ترجیح پر یا جمع پر اور اگر کسی صورت میں عمل نہ ہو سکا تو پھر کیا توقف کیا جائے گا اور نچلے درجے کی دلیل یعنی قیاس کی طرف چلے جائیں گے، کس کی طرف؟ قیاس کی طرف چلے جائیں گے۔ اور پھر آگے آپ کو بتلائیں گے صاحب کتاب کہ اگر دو قیاسوں میں تعارض آ جائے پھر کیا کریں گے بھئی؟ کہتے ہیں بھئی اگر دونوں مجتہد کے نزدیک دو قیاسوں میں تعارض آ جائے تو پھر وہ تحری کرے گا اور دونوں قیاسوں میں سے کسی ایک پر عمل کر لے گا، غور و فکر کرے گا اور کسی ایک پر کیا کر لے گا؟ عمل کر لے گا بھئی، اس لیے کہ قیاس سے نیچے اور کوئی شرعی دلیل نہیں ہے کہ قیاس کو چھوڑ کر اب ہم اس کی طرف چلے جائیں، قیاس سب سے نچلے درجے کی شرعی دلیل ہے بھئی۔ تو حاصل کلام یہ کہ قیاس جب دو قیاسوں میں تعارض آ جائے تو پھر وہ دونوں ساقط نہیں ہوں گے، دو آیتوں میں تعارض آیا تھا تو دونوں ساقط ہو گئی تھیں اور حدیث کی طرف چلے گئے تھے، یا دو حدیثوں میں تعارض آیا تو دونوں ساقط ہو گئی تھیں اور ہم قیاس کی طرف چلے گئے تھے، لیکن اگر دو قیاسوں میں تعارض آئے تو پھر یہ نہیں کہ دونوں قیاسوں کو ترک کر لیا جائے گا اس لیے کہ نیچے کوئی اور دلیل ہی نہیں جس کی طرف ہم جائیں تو لہٰذا اس صورت میں کیا کیا جائے گا؟ تحری کر کے مجتہد ان دونوں میں سے کسی ایک پر عمل کر لے گا بھئی۔ ثم إذا تعارض الدليلان، پھر جب دو دلیلوں کے اندر تعارض آ جائے عند المجتهد، مجتہد کے نزدیک، فإن كان التعارض بين الآيتين يميل إلى السنة، پس اگر تعارض جو ہے دو آیتوں میں ہوا تو وہ مائل ہو جائے گا سنت کی طرف، وإن كان بين السنتين، اور اگر تعارض دو سنتوں یعنی دو حدیثوں میں ہوا، يميل إلى آثار الصحابة رضي الله تعالى عنهم والقیاس الصحيح، اور اگر دو سنتوں میں تعارض آئے تو مائل ہو جائے گا إلى آثار الصحابة، صحابہ کے آثار کی طرف، یعنی قول صحابی کی طرف رجوع کیا جائے گا، والقیاس الصحيح، اور قیاس صحیح کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ اور پھر میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ ان میں سے بھی قول صحابی کو قیاس پر ترجیح ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ قول صحابی قیاس پر کیا ہے؟ ترجیح ہے اس کو، وہ اس پر مقدم ہے بھئی۔ ثم إذا تعارض القياسان عند المجتهد، اور پھر جب دو قیاسوں میں تعارض آ جائے مجتہد کے نزدیک، يتحرى، تو مجتہد تحری کرے گا، ويعمل بأحدهما، اور ان دونوں میں سے کسی ایک پر عمل کرے گا یعنی دونوں ساقط نہیں ہوں گے بلکہ تحری کر کے کسی ایک پر عمل کرے گا، لأنه ليس دون القياس دليل شرعي يصار إليه، اس لیے کہ قیاس سے نیچے کوئی ایسی دلیل شرعی نہیں ہے، ليس دون القياس، قیاس سے نیچے، قیاس سے کم کوئی ایسی کوئی دلیل شرعی نہیں ہے يصار إليه جس کی طرف کیا کیا جائے؟ رجوع کیا جائے۔ وعلى هذا قلنا، اسی بناء پر ہم کہتے ہیں، إذا كان مع المسافر إناءان طاهر ونجس لا يتحرى بينهما بل يتيمم، کہ اگر اسی بناء پر ہم کہتے ہیں اگر کسی مسافر کے پاس دو برتن ہوں ایک پاک ہے ونجس اور دوسرا کیا ہے؟ نجس، ایک برتن پاک ہے اور ایک نجس ہے بھئی۔ پاک ہے اور ایک نجس، اب پتہ نہیں کہ کون سا پاک ہے اور کون سا نجس ہے بھئی؟ اسے پتہ ہی نہیں ہے لیکن اتنا پتہ ہے کہ ایک ان میں سے کیا تھا؟ ایک پاک تھا اور ایک نجس تھا، تو اب وضو کے لیے پانی کی ضرورت ہوئی اور ان دونوں برتنوں میں پانی ہے لیکن یہ پتہ نہیں کس برتن کا پانی پاک ہے اور کس برتن کا پانی ناپاک ہے، تو کیا وہ تحری کرے گا؟ تحری کر کے ان دونوں میں سے کسی ایک پانی کے ساتھ وضو کر لے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، تحری یہاں نہیں، اس لیے کہ تحری تو ہے قیاس، اور قیاس پر عمل اس وقت کریں گے جب قیاس سے اوپر کوئی دلیل شرعی نہ ہو۔ قیاس سے اوپر کوئی دلیل قیاس کی طرف تو سب سے آخر میں ہم جائیں گے جب کوئی اور دلیل شرعی نہ ہو، اور یہاں پر قیاس سے اوپر اور دلیل شرعی موجود ہے، شریعت نے کیا کیا ہے؟ وضو کا قائم مقام تیمم کو قرار دیا ہے، شریعت نے وضو کا قائم مقام کسے قرار دیا ہے؟ تیمم کو بھئی، قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا، پس تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو بھئی۔ تو لہٰذا اب جب وضو کا قائم مقام اور اس کا بدل موجود ہے تو اب کیا کیا جائے گا؟ تیمم کیا جائے گا اور تحری کی طرف ہم نہیں جائیں گے کہ تحری کر کے کسی ایک پانی کو کیا کر لے؟ اس سے وضو کر لے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں کسی مسافر کے پاس دو برتن تھے طاہر اور نجس بھئی، لا يتحرى بينهما، تو وہ ان دونوں میں تحری نہیں کرے گا، بل يتيمم، بلکہ کیا کرے گا؟ تیمم کرے گا۔ ہاں، یہ تو تھا اگر وضو کے لیے پانی کی ضرورت تھی تو تحری نہیں کرے گا بلکہ کیا کرے گا؟ تیمم کرے گا۔ ہاں، اگر پینے کے لیے پانی کی ضرورت ہوئی پھر تحری کرے گا، اس لیے کہ اس کا بدل نہیں ہے، کسی چیز کو شریعت نے اس کا بدل بلکہ اس کا بدل اور کیا ہو سکتا ہے پانی کی پیاس تو کس سے بجھے گی؟ پانی سے بجھے گی، اسے پینے کے لیے پانی کی ضرورت ہے، بدل وغیرہ کوئی ہے نہیں تو اب کیا کرنا پڑے گا؟ تحری کر کے اور جس کے بارے میں دل کہے پاک ہے تو اس پانی کو پی لے گا۔ ولو كان معه ثوبان طاهر ونجس يتحرى بينهما، اور اگر اس مسافر کے پاس دو کپڑے تھے ایک پاک ہے اور دوسرا نجس ہے، طاهر ونجس بھئی، پڑھیں، نجس پڑھیں، طاهر ونجس، دو کپڑے تھے ایک پاک ہے دوسرا نجس ہے، يتحرى بينهما، تو ان دونوں میں تحری کرے گا بھئی، کیا کرے گا؟ تحری کرے گا، نماز پڑھنے لگا ہے مولانا، دو کپڑے ہیں ایک پاک ہے ایک ناپاک، اب پتہ نہیں کون سا پاک ہے کون سا ناپاک ہے، اب کیا کر لے؟ تحری کرے اور جس کے بارے میں اس کا دل اس کیا کہے کہ یہ والا پاک ہے اس کو پہن لے اور اس کے ساتھ نماز کو ادا کر لے، اس لیے کہ یہاں پر ننگے نماز پڑھنا تو جائز نہیں اور شریعت نے کپڑے کا بدل کسی اور چیز کو قرار نہیں دیا، تو قیاس سے، تحری سے اوپر کوئی اور دلیل ہی موجود نہیں ہے لہٰذا اب کیا کرنا پڑے گا؟ تحری کریں گے اور ایک کپڑے سے نماز ادا۔ تو کہتے ہیں يتحرى بينهما، ان دونوں میں تحری کر لے گا، لأن للماء بدلا وهو التراب وليس للثوب بدل يصار إليه، علت بیان کر رہے ہیں بھئی کیوں کپڑے کے پانی کے مسئلے میں تحری نہیں کریں گے اور کپڑے کے مسئلے میں تحری کریں گے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ پانی کا بدل ہے اور وہ کیا ہے؟ مٹی ہے بھئی، کیا ہے؟ مٹی ہے، مٹی کو اللہ تعالیٰ نے اس کا بدل قرار دیا ہے، وليس للثوب بدل، اور کپڑے کا کوئی بدل ایسا نہیں ہے يصار إليه، کوئی ایسا بدل نہیں ہے يصار إليه جس کی طرف کیا کیا جائے؟ رجوع کیا جائے۔ فثبت بهذا، پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی، أن العمل بالرأي إنما يكون عند انعدام دليل سواه شرعا، کہ رائے پر عمل إنما يكون اسی وقت ہوگا عند انعدام دليل، جب کوئی اور دلیل نہ پائی جائے سواه، اس رائے کے علاوہ شرعاً شرعی لحاظ سے۔ جب شرعاً، ترجمہ دیکھیے، پس یہ بات اس سے ثابت ہو گئی کہ رائے پر عمل کرنا اسی وقت ہوگا، اب ترجمہ آخر سے ہے، کہ جب شرعاً رائے کے علاوہ کوئی دلیل نہ پائی جائے، جب کوئی دلیل رائے کے علاوہ کوئی شرعی دلیل اور نہ ہو مولانا، قیاس سے اوپر اور کوئی شرعی دلیل نہ ہو پھر اب ہم کس کی طرف جائیں گے؟ قیاس اور رائے کی طرف جائیں گے۔ ثم إذا تحرى، یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں ایک ہے تحری محض، ایک ہے تحری مؤکد بالعمل۔ ایک ہے تحری محض اور ایک ہے تحری مؤکد بالعمل۔ تحری محض یعنی صرف تحری ہے، خالص تحری ہے، اور ایک تحری مؤکد بالعمل ہے یعنی اس کو پختہ کر دیا ہے، پکا کر دیا ہے عمل کے ذریعے، دونوں میں فرق ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ تحری جو عمل کے ساتھ پختہ ہو جائے وہ تحری محض سے باطل نہیں ہوگی۔ وہ وہ تحری جو کیا ہو؟ عمل کے ساتھ پختہ ہو جائے وہ تحری محض سے باطل یعنی تحری مؤکد بالعمل وہ تحری محض سے باطل نہیں ہوگی۔ دیکھیے مثال سے بات سمجھیے۔ ایک شخص ہے اس کے پاس وہی مسئلہ، دو کپڑے ہیں بھئی ایک پاک ہے ایک ناپاک ہے، اب اور کوئی کپڑا نہیں۔ اب پتہ نہیں کون سا پاک ہے کون سا ناپاک ہے، کیا کرے گا بھئی وہ؟ تحری کرے گا اور جس کپڑے کے بارے میں اس کی تحری واقع ہو گئی کہ یہ پاک ہے اس کپڑے کو پہن کر نماز ادا کر لے گا، اس کو کیا کر لے گا؟ اب جب اس نے اس تحری کے اندر نماز پڑھی ہے تو یہ تحری مؤکد اس تحری کی وجہ سے اس نے کیا کی ہے؟ نماز پڑھی ہے، تو یہ تحری مؤکد بالعمل ہو گئی، عمل کے ذریعے اس نے اس تحری کو کیا کر دیا؟ پکا کر دیا، اب بعد میں مثلاً اس نے ظہر کی نماز ایک کپڑے میں پڑھی تھی تو وہ تحری مؤکد بالعمل ہوئی، اب عصر کے وقت اس کی رائے بدل گئی، اب اس کی تحری یہ اس پہ واقع ہوئی کہ دوسرا کپڑا پاک ہے بھئی، دوسرا کپڑا؟ تو کیا اب دوسرے کپڑے میں اس کے لیے نماز جائز ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، دوسرے کپڑے کو پہن کر اب نماز ادا نہیں، اس لیے کہ یہ اس کپڑے پر اب اس کی تحری واقع ہوئی ہے اور یہ ہے تحری محض، اور پہلی تحری پر تو یہ عمل بھی کر چکا ہے تو وہ تحری کیا ہوئی؟ مؤکد بالعمل ہو چکی ہے، اور وہ تحری جو مؤکد بالعمل ہو چکی ہو وہ تحری محض سے باطل نہیں ہوگی۔ لہذا اسی کپڑے میں دوبارہ نماز پڑھے گا۔ اس کپڑے میں جس جس کے بارے میں دوسری تحری واقع ہوئی ہے، اس میں نماز اب وہ ادا نہیں کر سکتا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ثم إذا تحرى وتأكد تحريه بالعمل، پھر جب ایک شخص نے تحری کی اور پختہ ہو گئی، مضبوط ہو گئی اس کی تحری عمل کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ بھئی دیکھو ایک ہے خالی تحری، ایک وہ تحری ہے جس پر اس نے عمل بھی کر لیا۔ تو اس عمل کرنے کی وجہ سے وہ تحری کیا ہو گئی؟ قوی ہو گئی، مضبوط ہو گئی، پختہ ہو گئی۔ تو ایک ہے خالی تحری، ایک ہے تحری مؤکد بالعمل، یعنی وہ جو پختہ ہو چکی کس کی وجہ سے؟ عمل کی وجہ سے۔ جب عمل کر لیا تو اس تحری کا رتبہ بڑھ گیا، اس پر عمل ہو چکا ہے، یہ قوی ہو گئی۔ اب ایک خالی تحری ہے، وہ تحری اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ لہذا ایک کپڑے میں جب اس نے تحری کر کے نماز پڑھ لی، تو اس تحری پر عمل بھی ہو گیا، یہ تحری اعلیٰ ہو گئی، قوی ہو گئی، اور پھر عصر کو اس کی رائے بدل گئی کہ دوسرا کپڑا پاک ہو گا، وہ صرف تحری ہے اور یہ تحری مؤکد بالعمل ہے۔ تو اب تحریِ ثانی پر عمل کرنا جائز نہیں بھئی، کیونکہ وہ تحریِ محض ہے، وہ خالی تحری ہے، اور پہلی تحری تو کیا ہے؟ اس کے ساتھ عمل مل چکا ہے مولانا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ثم إذا تحرى، پھر جب تحری کی ایک شخص نے، وتأكد تحريه بالعمل، اور پختہ ہو گئی اس کی تحری عمل کی وجہ سے، لا ينتقض ذلك بمجرد التحري، تو یہ جو تحری مؤکد بالعمل ہے، یہ ٹوٹے گی نہیں—ینتقض کا معنی ٹوٹنا—لا ينتقض، یہ ٹوٹے گی نہیں، لا ينتقض ذلك، وہ وہ تحری، ذلك سے اس تحری مؤکد بالعمل کی طرف اشارہ ہے۔ تو وہ تحری جو اس پر عمل بھی ہو چکا، عمل کے ذریعے جو پختہ ہو چکی ہے، وہ ٹوٹے گی نہیں بمجرد التحري، کس کی وجہ سے؟ خالی تحری کی وجہ سے، تحریِ محض کی وجہ سے۔ وبيانه، بیان اس کا، وفيما، اس مسئلے کے اندر ہے، إذا تحرى، جب تحری کی ایک شخص نے، بين الثوبين، کس میں؟ دو کپڑوں میں، ایک ایک پاک ہے ایک نجس تھا بھئی۔ اب اس نے تحری کی، وصلى الظهر بأحدهما، اور اس نے ظہر کی نماز پڑھ لی ایک کپڑے کے ساتھ، ثم وقع تحريه عند العصر على الثوب الآخر، پھر تحری اس کی واقع ہوئی عصر کے وقت دوسرے کپڑے پر۔ اسے خیال آیا کہ دوسرا کپڑا پاک ہو گا مولانا، غالب گمان ہو گیا۔ لا يجوز له أن يصلي العصر بالآخر، جائز نہیں ہے اس کے لیے کہ عصر کی نماز کپ پڑھ لے دوسرے کپڑے کے ساتھ، لأن الأولى تأكدت بالعمل، اس لیے کہ پہلی تحری جو ہے وہ پختہ ہو چکی ہے عمل کی وجہ سے بھئی۔ پہلی تحری کیا ہو چکی ہے؟ عمل کی وجہ سے پختہ ہو چکی ہے، اس کے ساتھ عمل بھی آ کر مل چکا ہے، اس پر یہ عمل کر چکا ہے مولانا۔ فلا يبطل بمجرد التحري، تو وہ تحری باطل نہیں ہوگی محضِ تحری سے، خالی تحری سے وہ تحری باطل نہیں ہوگی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وهذا بخلاف، جی، یہ ایک اشکال کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں کیا بتلایا؟ کہ تحریِ محض سے وہ تحری باطل نہیں ہوگی جو تحری مؤکد بالعمل ہو چکی ہو۔ کہتے ہیں آئیے، ہم آپ کو دکھاتے ہیں، ایک تحری مؤکد بالعمل ہو چکی ہے، وہ تحریِ محض سے کیا ہو رہی ہے؟ باطل ہو رہی ہے۔ کہتے ہیں مثلاً ایک شخص بھئی، اس کو قبلے کا پتہ نہیں چل رہا بھئی ایک جگہ، کوئی بتانے والا بھی نہیں ہے، تو وہ تحری کرے گا اور ایک رخ پر نماز پڑھے گا بھئی۔ ایک رخ پر نماز پڑھ لے گا۔ جی، اب مثلاً اس نے ظہر کی نماز پڑھی بھئی اس رخ پر۔ پھر عصر کا وقت آیا، اب اس کی تحری ہوئی دوسری سمت میں کہ دوسری طرف ہے قبلہ۔ تو کہتے ہیں اب وہ دوسری سمت میں منہ کر کے نماز پڑھے گا بھئی۔ کیا کرے گا؟ تو یہ دیکھیے، پہلی تحری میں تو کیا کر چکا ہے وہ نماز پڑھ چکا ہے، تو وہ کیا ہوا؟ وہ تحری تو مؤکد بالعمل ہو چکی ہے، لہذا اس دوسری تحری جو ہے، یہ تو تحریِ محض ہے، اور تحریِ محض کے ساتھ آپ نے بتایا وہ تحری جو مؤکد بالعمل ہو باطل، لیکن یہاں آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ جی؟ کہ وہ دوسری طرف رخ کر کے نماز پڑھے گا، یا اسی طرح ایک ہی نماز میں، نماز پڑھ رہا تھا، ایک طرف تحری کی اور ایک دو رکعتیں پڑھ لیں۔ ایک دو رکعتیں پڑھنے کے بعد اس کی تحری دوسری طرف واقع ہو گئی، تو کہتے ہیں وہ رخ پھیر لے گا دوسری جانب کو۔ کیا کر لے گا؟ دوسری طرف پھیر لے گا۔ بھئی پہلی تحری تو کیا ہو چکی ہے؟ مؤکد بالعمل ہو چکی ہے، لہذا اس دوسری تحری پر عمل نہیں ہونا چاہیے، لیکن آپ، فقہائے کرام کیا لکھتے ہیں؟ عمل ہو گا، عمل ہو گا اس دوسری تحری پر۔ تو دیکھا آپ نے، وہ تحری جو مؤکد بالعمل تھی اس کو باطل قرار دے دیا کس کے ذریعے؟ تحریِ محض کے ساتھ۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، فرق ہے دونوں کے اندر۔ وہ کپڑے کے مسئلے میں اور اس مسئلے کے اندر ہی فرق ہے بھئی، ضابطہ وہی ہے کہ وہ تحری جو مؤکد بالعمل ہو، وہ تحریِ محض سے باطل نہیں، لیکن مسئلے میں فرق ہے۔ مسئلہ یہ کہ یہ قبلے کا مسئلہ ہے اور قبلہ انتقال کا احتمال رکھتا ہے۔ قبلہ کیا ہے انتقال کا احتمال رکھتا ہے۔ بھئی جیسے دیکھو، ابتدا کے اندر بھئی، تمام مسلمان کس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے؟ بیت المقدس کی طرف بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بیت المقدس بھی لفظ صحیح ہے، بیت المقدس، یہ بھی صحیح ہے۔ تو بیت المقدس کی طرف یا یوں کہیں بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے، حکم تھا کہ کس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو؟ بیت المقدس کی طرف۔ پھر مولانا، دوسرا حکم آیا کہ اب کس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو؟ بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔ تو دیکھا، قبلہ منتقل ہوا یا نہیں ہوا؟ قبلہ منتقل ہو گیا۔ تو پہلا جو حکم تھا اس کے، جو پہلی جو نص تھی، دوسری نص نے آ کر اس کو کیا کر دیا؟ منسوخ کر دیا۔ پہلی نص کو دوسری نص نے آ کر کیا کر دیا؟ منسوخ کر دیا، اور عمل کس پر ہوتا ہے، منسوخ پہ یا ناسخ پر؟ ناسخ پر عمل ہوتا ہے، منسوخ پر عمل نہیں۔ اسی طرح، قبلہ کے بارے میں مولانا، علماء کیا لکھتے ہیں؟ کہ جو شخص مسجد الحرام میں ہو، اس کے لیے عینِ قبلے کی طرف منہ کرنا ضروری ہے بھئی۔ کس کی طرف منہ کرنا ضروری؟ عینِ قبلے کی طرف وہ رخ کرے گا تو اس کی نماز ہوگی، ورنہ اس کی نماز ہی نہیں ہوگی۔ لیکن اگر باہر نکل آئے، بھئی مسجد کے اندر تھا، اسے تو قبلہ نظر آ رہا تھا، عینِ قبلے کی طرف رخ کرنا ممکن تھا، لیکن جب مسجد سے باہر آ جائے، تو کیا اب ہر شخص ممکن ہے کہ عینِ قبلے کی طرف رخ کیا جائے؟ جی، ہمیشہ تو ایسا نہیں ہوگا، کبھی اچانک ہو جائے عینِ قبلے کی طرف، ورنہ تو قبلہ جب ہمیں نظر ہی نہیں آ رہا اور قبلہ تو ایک کمرہ ہے چھوٹا سا مولانا، تو عین اس کی طرف رخ کرنا کیا ہو گیا؟ مشکل ہو گیا۔ تو اب کیا کیا جائے؟ تو علماء و فقہاء فرماتے ہیں کہ جب مسجد الحرام سے باہر ہو یا حرم سے باہر ہو، اس کے لیے قبلے، عینِ قبلے کی طرف رخ کرنا ضروری نہیں، بلکہ جہتِ قبلہ کی طرف رخ کرنا ضروری ہے۔ کس کی طرف؟ جہت، قبلے کی طرف یعنی منہ اس کا ہونا چاہیے، عینِ قبلے پہ ہو یا عینِ قبلے پہ نہ ہو۔ جہت مثلاً دیکھیے بھئی، پاکستان سے ہم، قبلہ ہمیں کس طرف پڑتا ہے؟ مغرب کی طرف قبلہ ہے، تو یہاں سے اب ہم نماز پڑھتے ہیں، تو ہمارے لیے عینِ قبلے کی طرف رخ کرنا نہیں ضروری۔ اگر عینِ قبلے کی طرف ضروری ہو جائے، پھر تو ہم میں سے کسی کی بھی نماز نہیں ہوگی، کیونکہ عینِ قبلہ، عینِ قبلے کی طرف رخ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ سے سیدھا ایک خط کھینچا جائے مولانا، جو آپ کے ناک اور ماتھے، دونوں میں سے گزرتا ہوا سیدھا جا کر کہاں ٹکرائے؟ بیت اللہ کو ٹکرائے، اور یہ تو ممکن نہیں مولانا، بڑا مشکل ہے بھئی۔ اتفاقاً کبھی ہو جائے تو ہو جائے، ورنہ ایسا اس لیے کہ اگر سوئی کی نوک کے برابر بھی اگر آپ کا رخ بدلا، کتنا بدلا رخ؟ زیادہ کی بات نہیں کر رہا، ہمارا رخ تو بڑا بدل جاتا ہے، کبھی ایک انچ ادھر کو ہو گیا سر، کبھی ایک انچ ادھر، دو انچ ادھر کو ہو گیا۔ اگر سوئی کی نوک کے برابر بھی آپ کا رخ تھوڑا سا ایک طرف ہو گیا، تو اب جو آپ سے ہم خط کھینچ کر لے کر جائیں گے، وہ بیت اللہ کے اس کے پاس سے بھی نہیں گزرے گا، اس سے کئی میل دور گزرے گا۔ کئی میل، کیونکہ یہاں سے ہزاروں میل دور ہے مولانا، اور ہر ایک ایک گز پہ ایک ایک سوئی کی نوک جتنا فرق پڑتا جائے گا۔ ہر گز پہ ایک ایک سوئی کی نوک بڑھتی گئی، بڑھتی گئی، بڑھتی گئی، تو یہ کئی میلوں تک بات پہنچ جائے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہذا، فقہاء فرماتے ہیں، جو دور کے لوگ ہیں ان کے لیے عینِ قبلے کی طرف رخ کرنا ضروری نہیں، بلکہ وہ کس طرف رخ کریں گے؟ جہتِ قبلہ کی طرف۔ کس کی طرف؟ یعنی قبلہ کی جہت جو ہے، قبلہ کی جو جانب ہے، اس جانب منہ کریں گے، عینِ قبلہ کی طرف منہ کرنا ضروری۔ کیسے جہت کتنی ہوگی؟ مثلاً دیکھو، مغرب کی طرف قبلہ ہمارے لیے ہے مولانا، اب ہمارے لیے جہتِ قبلہ مغرب سے 45 درجے دائیں طرف اور 45 درجے بائیں طرف، اس کے بیچ یہ ساری جہتِ قبلہ ہے۔ مغرب سے 45 درجے کا زاویہ کس طرف؟ دائیں طرف اور بائیں طرف بھئی، یہ سارا بیچ میں جتنا علاقہ آئے گا، یہ سارا یہ جہتِ قبلہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اس کی طرف جس کا رخ ہوگا، اس کی نماز صحیح ہے مولانا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دیکھا، انتقالِ قبلہ آیا یا نہیں آیا بھئی؟ جو مسجد الحرام میں تھے، ان کا قبلہ تھا عینِ کعبہ، اور جو مسجد الحرام سے باہر ہیں، ان کے لیے قبلہ کیا ہے؟ جہتِ کعبہ ہے۔ تو یہ انتقال کا احتمال رکھتا ہے۔ تو اسی لیے، یہاں پر بھی جب اس نے ایک تحری کے مطابق ایک نماز ادا کر لی، پھر عصر کے، ایک سمت میں نماز کیا کر لی؟ ادا کر لی، پھر دوسرے وقت میں اس کی تحری بدل گئی، دوسری طرف واقع ہوئی، تو یہ اس تحری کو کس کی طرح سمجھیں گے؟ ناسخ کی طرح سمجھیں گے، جیسے ایک نص بعد میں آ کر پہلی نص کو کیا کر دیتی ہے؟ نسخ کر دیتی ہے، اسی طرح یہ تحری بھی آ کر کیا کر دے گی؟ جیسے وہاں پر مولانا، پہلے حکم کو دوسرے حکم کے ذریعے کیا کر دیا گیا تھا؟ منسوخ کر دیا گیا تھا، قبلے کے اندر، تو یہاں پر بھی چونکہ قبلے کی، قبلے کے بارے میں تحری کی ہے، تو اور قبلہ تو انتقال کا احتمال رکھتا ہے، تو یہاں پر بھی گویا دوسری تحری کس کی طرح ہوگی؟ ناسخ کی طرح، اور پہلی تحری منسوخ کی طرح ہوگی بھئی۔ تو لہذا عمل ناسخ پہ کیا جاتا ہے، منسوخ پر عمل، اب دوسری طرف ہی رخ کر کے وہ نماز پڑھے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ وهذا بخلاف ما إذا تحرى في القبلة، یہ اس مسئلے کے خلاف ہے کہ جب، وهذا بخلاف ما، یہ اس صورت کے خلاف ہے، إذا تحرى في القبلة، جب اس نے تحری کی کس کے بارے میں؟ قبلہ کے بارے میں، یعنی کپڑے میں تحری، یہ قبلے کی تحری کے خلاف ہے۔ تو قبلے میں اس نے جب تحری کی، ثم تبدل رأيه، پھر اس کی رائے بدل گئی، نماز پڑھنے والے کی، ووقعت تحريه على جهة أخرى، اور اس کی تحری دوسری سمت کی طرف واقع ہوئی، توجه إليه، تو وہ دوسری طرف وہ متوجہ ہو جائے گا، اس طرف رخ کر لے گا، لأن القبلة مما يحتمل الانتقال، اس لیے کہ قبلہ ان چیزوں میں سے جو انتقال کا احتمال رکھتے ہیں، فأمكن نقل الحكم بمنزلة نسخ النص، پس ممکن ہوا حکم کو، یعنی تحری کے حکم کو نقل کرنا ممکن ہوا، بمنزلة نسخ النص، نص کے نسخ کے درجے میں، نص کے نسخ کے درجے میں۔ هذا مسائل الجامع الكبير في تکبیرات العيد وتبدل رأي العبد كما عرف، یہ مسائل ہیں جامع کبیر کے تکبیراتِ عید کے بارے میں اور بندے کی رائے کے تبدیل ہونے کے بارے میں جیسا کہ جانا گیا ہے۔ جی، تو امام محمد رحمہ اللہ جامع کبیر کے اندر بھئی، جی، تکبیراتِ عید کے بارے میں لکھتے ہیں بھئی۔ یاد رکھو یہ تکبیراتِ عید اس کے بارے میں کئی اقوال ہیں، کتنی تکبیریں کہی جائیں گی عید کی نماز میں، زائد تکبیریں، زائد تکبیریں۔ تو ایک مذہب اس میں حضرت عبداللہ ابن مسعود، عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ عید کی نماز میں چھ زائد تکبیریں ہوں گی، یعنی تین تکبیریں ہوں گی زائد ہر رکعت کے اندر، جبکہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ عید کی نماز میں 10 زائد تکبیریں ہوں گی، ہر رکعت میں کتنی ہوں گی؟ 5 زائد ہوں گی۔ جی 5، اور ہم احناف کے نزدیک، ہم کس کے مذہب پر عمل کرتے ہیں بھئی؟ کس کو، ہاں ان کے مذہب کو ہم نے ترجیح دی ہے اور ہر رکعت میں تین زائد واجب تکبیریں ادا کرتے ہیں۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی مجتہد نے مولانا، نماز شروع کروائی بھئی، نماز شروع کروائی، نماز پڑھا رہا ہے اور عید کی نماز، اور پہلے اس کی رائے کس کے بارے میں تھی؟ کہ کون سی روایت صحیح ہے؟ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کو اس نے ترجیح دی تھی، اور ان کے روایت کے مطابق اس نے پہلی رکعت میں تین زائد تکبیریں ادا کیں۔ پھر مولانا، جب پہلی رکعت ادا کر چکا، تو اس کی رائے بدل گئی مولانا، اس کی رائے کیا ہوئی؟ بدل گئی، اور اسے کون سی روایت راجح نظر آئی؟ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما والی روایت جو ہے، اسے راجح معلوم ہوئی، تو کہتے ہیں اب وہ دوسری کیا کرے گا؟ جی؟ اب دوسری رکعت میں 5 تکبیریں ادا کرے گا، ان کے مطابق عمل کرے گا۔ یہ اسی طرح نص کے منسوخ ہونے کی طرح ہے، جیسے ایک حکم آیا ہو، بعد میں آنے والی نص کیا کر دیتی ہے پہلی نص کے حکم کو؟ تو یہاں بھی یہ اسی کی طرح ہے، پہلی جو اس کی رائے ہے، دوسری رائے اس کی منسوخ کر دے گی اس پہلی رائے کو بھئی، اس کی دوسری رائے کیا ہے؟ وہ ناسخ بن جائے گی پہلی رائے کے لیے، اور پہلی رائے منسوخ ہوگی، اور عمل ناسخ پر کیا جاتا ہے نہ کہ منسوخ پر، تو وہ دوسری رائے پر عمل کرے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ مجتہد کے بارے میں ہے کہ وہ مجتہد کی رائے بدل جائے تو پھر وہ کیا کرے گا؟ عمل دوسری پر کرے گا۔ آپ لوگوں کے لیے اور ہمارے لیے نہیں ہے کہ ہماری رائے بدل جائے، ہم تو کس کے مقلد ہیں؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے، اور امام صاحب نے کس روایت کو ترجیح دی ہے؟ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کو، لہذا ہمارے اوپر، ہمارے لیے بھی اسی پر عمل کرنا ضروری ہے بھئی۔ تو حاصلِ جواب یہ ہوا مولانا، رائے ہے، دوسری رائے اس کی منسوخ کر دے گی اس پہلی رائے کو بھئی۔ اس کی دوسری رائے کیا ہے؟ وہ ناسخ بن جائے گی پہلی رائے کے لیے، اور پہلی رائے منسوخ ہو گی، اور عمل ناسخ پر کیا جاتا ہے، نہ کہ منسوخ پر، تو وہ دوسری رائے پر عمل کرے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ مجتہد کے بارے میں ہے کہ وہ مجتہد کی رائے بدل جائے، تو پھر وہ کیا کرے گا؟ عمل دوسری پر کرے گا۔ آپ لوگوں کے لیے اور ہمارے لیے نہیں ہے کہ ہماری رائے بدل جائے، ہم تو کس کے مقلد ہیں؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے، اور امام صاحب نے کس روایت کو ترجیح دی ہے؟ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کو، لہذا ہمارے اوپر، ہمارے لیے بھی اسی پر عمل کرنا ضروری ہے بھئی۔ تو حاصلِ جواب یہ ہوا مولانا کہ اگر وہ تحریِ ثانی نص کے منسوخ ہونے کی قبیل سے ہو، تو اس کے ذریعے تحریِ مؤکد بالعمل کو باطل کرنا جائز ہے، ورنہ باطل کرنا جائز نہیں۔ حاصلِ جواب کیا ہوا؟ کہ وہ تحریِ ثانی کیا ہو؟ اگر نص کو منسوخ کرنے کی قبیل سے ہو، تو تو اس کے ذریعے اس پہلی تحری کو باطل کرنا جائز ہے، ورنہ باطل کرنا جائز نہیں ہے، نہیں ہے بھئی۔ تو جبکہ کپڑے کے مسئلے میں جو تحری کی تھی، کہ پہلے دو نجس کپڑے ہیں اور پھر ایک کے بارے میں تحری کر کے ایک پر نجس ہونے کا حکم لگایا اور دوسرے میں کیا کر لی؟ نماز پڑھ لی، تو وہاں پر اب وہ تحری پہلے مؤکد بالعمل ہو چکی ہے، لہذا اب دوسرے کپڑے تحری دوبارہ کرے اور دوسرے کپڑے کے بارے میں تحری واقع ہو، تو اب دوسرے میں نماز پڑھنا جائز نہیں، بلکہ کیا کرے گا؟ پہلے ہی کپڑے میں نماز پڑھے گا، اس لیے کہ یہ تحری نص کے منسوخ ہونے کی قبیل سے نہیں ہے بھئی۔ نص کے منسوخ ہونے کی قبیل سے نہیں، اس لیے کہ دو کپڑوں میں دیکھیے بھئی، ایک کپڑے پر اگر نجاست لگی ہو، تو اس پر کیا حکم لگایا جائے گا؟ کہ یہ کپڑا نجس ہے، یہ کپڑا ناپاک ہے، تو اب کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اس حکم کو منسوخ کر کے دوسرے کپڑے پر حکم لگا دیا جائے کہ یہ کپڑا کیا ہے؟ وہ کپڑا پاک ہے اور یہ کپڑا کیا ہے؟ نجس ہے۔ ایسا یہ نص کے منسوخ ہونے کی قبیل سے نہیں، کیونکہ جب ایک کپڑے پہ نجاست لگی ہوئی ہے، تو وہاں سے نجاست اب دوسرے کپڑے میں حلول خود بخود نہیں کر سکتی کہ پہلا پاک، پہلے کو پاک قرار دے دیا جائے اور دوسرے کو اب ناپاک قرار دیا جائے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ نص کے منسوخ ہونے کی قبیل سے نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: هذا مسائل الجامع الكبير، جامع کبیر یہ کتاب ہے امام محمد رحمہ اللہ کی، یہ مسائل ہیں جامع کبیر کے فی تکبیرات العید، تکبیراتِ عید کے بارے میں وتبدل رأي العبد، اور بندے کی رائے کے بدلنے کے بارے میں كما عرف، جیسا کہ جانا گیا ہے اپنے مقام پر بھئی۔ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔