فصل: الأحكام الشرعية تتعلق بأسبابها، وذلك لأن الوجوب غيب عنا، فلا بد من علامة يعرف العبد بها وجوب الحكم، وبهذا الاعتبار أضيفت الأحكام إلى الأسباب، فسبب وجوب الصلاة الوقت. اس فصل کے اندر مصنف رحمہ اللہ مختلف احکام شرعیہ کے اسباب بیان کریں گے۔ مختلف احکام شرعیہ کے اسباب بیان کریں گے۔ اور اس بات پر دلیل ذکر کریں گے کہ احکام شرعیہ کا تعلق اپنے اسباب کے ساتھ ہوتا ہے۔ کس بات پر دلیل قائم کریں گے؟ کہ احکام شرعیہ کا تعلق اپنے اسباب کے ساتھ ہوتا ہے۔ یاد رکھو، احکام شرعیہ کا تعلق اپنے اسباب سے، یعنی جو بھی احکام شرعیہ ہیں ادلہ اربعہ سے ثابت ہونے والے، قرآن، حدیث، اجماع اور اجتہاد سے جو بھی احکام ثابت ہوتے ہیں، ان کا تعلق اپنے اسباب کے ساتھ ہوتا ہے۔ یعنی انہیں اسباب کی ضرورت ہے، انہیں کس کی ضرورت ہے؟ اسباب کی ضرورت ہے۔ وجہ دراصل اس کی یہ ہے کہ اصل میں تو یہ احکام جو ہیں، واجب ہوئے ہیں اللہ کے واجب کرنے سے۔ ان احکام کو واجب کرنے والے کون ہیں؟ ان احکام کو واجب تو اللہ تعالی نے فرمایا ہے، تو اللہ کے واجب کرنے سے یہ ہم پر واجب ہوئے۔ لیکن ان کا حقیقی وجوب بندے پر کب ہوتا ہے، اس کا ہمیں پتہ نہیں چل سکتا، اس کے لیے کوئی علامت چاہیے۔ اس کے لیے کیا چاہیے؟ بھئی، آپ پر ایک چیز واجب ہو رہی ہے یا واجب نہیں ہو رہی، کب ہو رہی ہے، کس وقت ہو رہی ہے، یہ آپ کو پتہ چلے گا بھئی اس کے بغیر؟ اس لیے کہ وجوب، وجوب مصدر ہے، واجب ہونا۔ اللہ کے امر کی وجہ سے چیز کیا ہوگی؟ واجب ہوگی، لیکن یہ کیا یہ وجوب آپ کو کبھی آنکھوں سے نظر آیا ہے؟ ظہر کا وقت آتا ہے، آپ پہ ظہر کی نماز واجب ہو جاتی ہے، کبھی وجوب نظر آیا ہے آپ کو؟ نظر نہیں، وجوب تو غائب ہے ہم سے بھئی۔ ہمیں پتہ نہیں کہ کس وقت ہم پہ وجوب آتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو شریعت نے اس کے لیے اسباب بنائے ہیں بھئی، اسباب بنائے ہیں۔ یہ اسباب علامتیں ہیں، یہ ہمیں پہچان کروا دیتے ہیں کہ جب کہ یہ سبب پایا گیا، معلوم ہوا آپ پر کیا آ چکا ہے؟ وجوب آ چکا ہے۔ کیا آ چکا ہے؟ وجوب، بات سمجھ میں آئی؟ تو یہ جو اسباب ہیں، یہ علامتیں ہوتی ہیں جو بندے کو یہ بتلا دیتی ہیں کہ اب یہ چیز اس پر کیا ہو چکی ہے؟ واجب ہو چکی ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اللہ کے احکام مختلف قسم کے ہیں، مثلاً نماز ہے، روزہ ہے، زکوۃ ہے، حج ہے وغیرہ۔ اللہ نے یہ ہم پہ فرض فرمائے ہیں، لیکن کس وقت فرض فرمائے ہیں، کب ان کو ادا کرنا ہوگا، اس کا ہمیں بغیر علامتوں کے پتہ نہیں چلے گا۔ مثلاً نماز ہے بھئی۔ مثلاً نماز، اللہ کا حکم آیا "أقيموا الصلاة"، نماز قائم کرو، اب کب قائم کریں؟ صبح، دوپہر، رات، کس وقت قائم کریں بھئی ان کے؟ کب ان کا وجوب ہم پہ ہوگا، ہمیں اس کا پتہ نہیں چل سکتا۔ چنانچہ شریعت نے ایسے اسباب پیدا فرما دیے کہ جن کے ذریعے جو علامتیں ہیں، جن سے ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ چیز اب ہم پر کیا ہو چکی ہے؟ واجب ہو چکی ہے بھئی، واجب ہو چکی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اسباب کے ذریعے ہمیں پہچان ہوگی بھئی، پہچان ہوگی۔ تو اسی وجہ سے پھر احکام کی نسبت بھی کس کی جانب کی جاتی ہے؟ اسباب کی طرف، کہ یہ سبب۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یاد رکھو، یہاں پر سبب جو ذکر کریں گے، سبب سے مراد علت ہے۔ سبب سے کیا مراد ہے؟ بھئی، یاد رکھو، سبب کے بارے میں آپ نے پڑھا تھا، وہ "مفضي إلى الشيء" ہوتا ہے۔ اور جب کہ البتہ اپنی ذات کے اعتبار سے اس چیز کا تقاضا نہیں کرتا، جب کہ علت کیا ہوتی ہے؟ اپنی ذات کے اعتبار سے اس چیز کا تقاضا کرتی ہے۔ اور جب علت پائی جائے، تو وہ کیا تقاضا کرتی ہے کہ حکم کو بھی، حکم کو بھی ہونا چاہیے، حکم بھی پایا جائے۔ تو یہاں سبب بول کر علت مراد ہے، کبھی علت پر بھی کیا کرتے ہیں؟ مجازاً سبب کا اطلاق کرتے ہیں، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ سبب کہتے ہیں، سبب کہتے ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ احکام شرعیہ کا تعلق اسباب سے ہے، شریعت نے اسباب پیدا فرمائے، کیونکہ ہمیں کسی چیز کے حقیقی وجوب کا پتہ نہیں چلے گا۔ حقیقی وجوب تو آ رہا ہے اللہ تعالی کے امر کی وجہ سے، اللہ نے جو خطاب فرمایا۔ لیکن ہمیں اس چیز کے حقیقی وجوب کا پتہ نہیں چل سکتا، تو اس کے لیے کیا چاہیے؟ کوئی علامتیں چاہئیں، اور یہ اسباب کیا ہیں؟ علامتیں ہیں۔ ان کے ذریعے ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ چیز ہم پر کیا ہو چکی ہے؟ واجب ہو چکی ہے۔ تو کہتے ہیں "الأحكام الشرعية تتعلق بأسبابها"، احکام شرعیہ متعلق ہوتے ہیں "بأسبابها" اپنے اسباب کے ساتھ بھئی۔ "وذلك لأن الوجوب غيب عنا"، اور یہ اس وجہ سے ہے کہ وجوب ہم سے غائب ہے بھئی، وجوب ہم سے غائب ہے بھئی۔ تو وجوب آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔ "فلا بد من علامة يعرف العبد بها وجوب الحكم"، پس ضروری ہوا کسی ایسی علامت کا ہونا جس کے ذریعے پہچان لے بندہ حکم کے وجوب کو، جس کے ذریعے بندہ کیا کر لے؟ حکم کے وجوب کو پہچان لے۔ "وبهذا الاعتبار أضيفت الأحكام إلى الأسباب"، اور اس اعتبار سے کہ یہ وجوب جو ہے ہم سے غائب ہے اور یہ سبب ہمیں اس کی پہچان کرواتے ہیں، "أضيفت الأحكام إلى الأسباب" نسبت کی جاتی ہے احکام کی کس کی جانب؟ اسباب کی طرف ان کی نسبت کی جاتی ہے، کہ یہ سبب کی وجہ سے آیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ یہ سبب کی وجہ سے ہے بھئی۔ یہ مثلاً یہ کیا ہے، اس حکم کی علت ہے، کیا ہے؟ علت ہے، اس حکم کی نسبت اس کی طرف کی جاتی ہے کہ یہ اس حکم کی علت ہے۔ "فسبب وجوب الصلاة الوقت"، پس وجوب صلاۃ کا سبب وقت ہے بھئی۔ وجوب صلاۃ کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے۔ یہاں سے اب بھئی مصنف نے آپ کو بتلا دیں ایک دو باتیں، ایک تو یہ بتلایا کہ تمام احکام شرعیہ جو ادلہ اربعہ سے ثابت ہوتے ہیں، ان کا تعلق کس سے ہوتا ہے؟ اسباب سے۔ اور پھر دلیل بھی ذکر کر دی کہ کیوں سبب سے تعلق ہوتا ہے؟ اس لیے کہ وجوب ہم سے غائب ہے اور اس کے لیے آپ کو علامت چاہیے جس سے ہمیں وجوب کا پتہ چلے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اب بھئی کچھ احکام ہیں شریعت کے، ان کے وہ اسباب ذکر کر دیں گے بطور مثال کے بھئی۔ تو سب سے پہلے ارکان اسلام جو ہیں نماز، روزہ، زکوۃ، حج، ان کے اسباب ذکر کریں گے۔ چنانچہ سب سے پہلے نماز کے سبب کو ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں "فسبب وجوب الصلاة الوقت"، پس وجوب صلاۃ کا سبب وقت ہے، وقت کی وجہ سے نماز کیا ہوتی ہے؟ واجب ہوتی ہے۔ "بدليل أن الخطاب بأداء الصلاة لا يتوجه قبل دخول الوقت"، دو دلیلیں ذکر کریں گے بھئی اس بات پر۔ نماز کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے، وقت کی وجہ سے نماز واجب ہوتی ہے، اس پر دو دلیلیں ذکر کریں گے۔ پہلی دلیل "بدليل أن الخطاب بأداء الصلاة لا يتوجه قبل دخول الوقت"، اس دلیل کے ساتھ کہ خطاب جو ہے، یعنی اللہ نے جو امر فرمایا ہے، جو خطاب فرمایا ہے "بأداء الصلاة" نماز کی ادائیگی کا، "لا يتوجه قبل دخول الوقت" وہ دخول وقت سے پہلے متوجہ نہیں ہوتا۔ وقت کے داخل ہونے سے پہلے متوجہ نہیں ہوتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ تعالی فرما رہے ہیں "أقيموا الصلاة"، نماز قائم کرو، تو کیا ظہر کے وقت سے پہلے ظہر کی نماز ادا کر سکتے ہیں ہم؟ ظہر کی نماز ظہر سے پہلے ادا نہیں کر سکتے۔ معلوم، تو "أقيموا الصلاة" کے ذریعے تو طلب کیا جا رہا ہے نماز کو کہ نماز ادا کرو، اور ادائیگی ظہر سے پہلے نہیں ہو سکتی۔ تو معلوم ہوا یہ خطاب ہماری طرف کب متوجہ ہو رہا ہے؟ ظہر کے وقت کے داخل ہونے کے بعد۔ ظہر کے وقت کے داخل، بھئی اس خطاب کے ذریعے نماز کی ادائیگی کو طلب کیا جا رہا ہے اور وقت سے پہلے تو نماز کی ادائیگی جائز نہیں۔ معلوم ہوا یہ خطاب ہماری طرف کب متوجہ ہو رہا ہے؟ وقت کے داخل ہونے کے بعد۔ اگر وقت سے پہلے ہماری طرف متوجہ ہوتا، تو نماز پہلے بھی ادا کی جانا جائز ہونی چاہیے تھی بھئی۔ پہلے ہی ہم سے طلب ہو رہی ہے، تو اسی وقت ہم کیا کر لیتے؟ ادا کر لیتے۔ لیکن معلوم ہوا یہ امر ہماری طرف کب متوجہ ہو رہا ہے؟ وقت کے داخل ہونے کے بعد۔ اسی طرح عصر کا وقت آئے گا، تو پھر ہماری طرف خطاب متوجہ ہوگا "أقيموا الصلاة"، نماز قائم کرو، تو پھر ہم کیا کریں گے؟ عصر کی نماز، عصر کی نماز عصر سے پہلے ادا کر سکتے ہیں؟ نہیں۔ اس لیے کہ اس سے پہلے "أقيموا الصلاة"، نماز ادا کرو ہماری طرف متوجہ ہی نہیں ہے۔ اگر یہ ہماری طرف پہلے متوجہ ہوتا، تو عصر کی نماز عصر سے پہلے، ظہر کی نماز ظہر سے پہلے جائز ہونی چاہیے تھی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ پہلی دلیل ذکر کر رہے ہیں مصنف بھئی۔ پس وجوب صلاۃ کا سبب وقت ہے، "بدليل أن الخطاب بأداء الصلاة لا يتوجه قبل دخول الوقت"، اس دلیل کے ساتھ کہ نماز کی ادائیگی کا جو خطاب ہوا ہے، "لا يتوجه" وہ ہماری طرف متوجہ نہیں ہوتا "قبل دخول الوقت" وقت کے داخل ہونے سے پہلے، "وإنما يتوجه بعد دخول الوقت" اور یہ کب متوجہ ہوتا ہے؟ وقت کے داخل ہونے کے بعد۔ معلوم ہوا وقت سبب ہے وجوب صلاۃ کا۔ وقت ظہر کا آئے گا، تو ہم پر کیا واجب ہو جائے گی؟ ظہر کی نماز واجب ہو جائے گی۔ عصر کا وقت آئے گا، تو ہم پہ کون سی نماز واجب ہو جائے گی؟ عصر کی۔ مغرب کا وقت آئے گا، تو ہم پہ مغرب کی نماز واجب ہو جائے گی، فرض ہو جائے گی۔ تو معلوم ہوا نماز کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے، وقت ہے۔ "والخطاب"، یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کہا نماز کے وجوب کا سبب وقت ہے، اگر نماز کے وجوب کا سبب وقت ہے، تو پھر خطاب کا کیا فائدہ ہوا؟ اللہ کے امر کا کیا فائدہ ہوا بھئی، جب وجوب کس سے آ رہا ہے؟ تو سمجھ میں آیا؟ تو "أقيموا الصلاة" کا کیا فائدہ؟ تو وہ مصنف بتلا رہے ہیں بھئی کہ بھئی اس سے بھی وجوب آ رہا ہے، اس سے بھی کیا آ رہا ہے؟ لیکن دونوں میں فرق ہے۔ وقت سے آتا ہے نفس وجوب، اور خطاب سے آتا ہے وجوب ادا۔ امر کی بحث میں آپ پڑھ چکے ہیں، ایک ہوتا ہے نفس وجوب، ایک ہے وجوب ادا۔ تو وقت کی وجہ سے نفس وجوب آیا، اور امر کی وجہ سے وجوب ادا آتا ہے۔ جیسے آپ کسی کے ساتھ عقد کرتے ہیں، بیع و شراء والا معاملہ کرتے ہیں، تو عقد کرتے ہی آپ پر ثمن واجب ہو گئے، اور بائع پر کیا واجب ہوا؟ مبیع آپ کے حوالے کرنا۔ تو یہ جو آپ پر ثمن واجب ہوئے ہیں، یہ نفس وجوب ہے۔ کیا ہے؟ تو عقد سے نفس وجوب آپ پر آ گیا، اب فوراً ادا کرنا آپ کے ذمہ ضروری نہیں۔ لیکن جب بائع کہتا ہے: لاؤ بھئی، ثمن دے دو، تو اب کیا ہوا؟ وجوب ادا بھی آ گیا۔ اب ادا کرنا بھی واجب ہو گیا کہ کیا کر دو اس کو؟ تو ایک ہے نفس وجوب، ایک ہے وجوب ادا۔ نفس وجوب کس سے آیا کرتا ہے؟ جی؟ نفس وجوب آتا ہے وقت، سبب سے، وقت سے، اور وجوب ادا کس کی وجہ سے آتا ہے؟ خطاب کی وجہ سے بھئی۔ کس کی وجہ سے؟ فرق سمجھ میں آیا؟ یا ایسے ہی دوسری مثال، جیسے کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے، تو نکاح کرتے ہی نفس وجوب آ جاتا ہے کس کا؟ مہر کا یا نفقے کا بھئی۔ مہر اور نفقے کا نفس وجوب آ جاتا ہے، اور جب وہ عورت مطالبہ کرے کہ کیا کرے؟ مطالبہ کرے کہ نفقہ دو، مہر مجھے دے دو، تو اب کیا آ جائے گا؟ وجوب ادا آ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو عقد سے نفس وجوب آیا، اور آگے مطالبے کی وجہ سے کیا آیا؟ وجوب ادا۔ تو یہاں پر بھی یہ جو وقت ہے نماز میں، یہ وقت کی وجہ سے نفس وجوب آیا، اور خطاب کی وجہ سے وجوب ادا آیا کہ اب ادا کرنا بھی واجب ہو گیا۔ "والخطاب"، دیکھا یہی بات بتلا رہے ہیں، "والخطاب مثبت لوجوب الأداء"، اور خطاب وہ جو ہے وہ ثابت کرنے والا ہے وجوب ادا کو، "ومعرف للعبد"، اور پہچان کروانے والا ہے بندے کو—جی، آگے سبب الوجوب ہے؟ جی، اس سے پہلے "أن" ہونا چاہیے، "ومعرف للعبد أن سبب الوجوب"—یہ کتابت کی غلطی ہے، "أن" یہاں رہ گیا بھائی—"ومعرف للعبد أن سبب الوجوب قبله"، اور خطاب جو ہے وجوب ادا کو ثابت کرنے والا ہے، اور بندے کو اس بات کی پہچان کروانے والا ہے کہ "أن سبب الوجوب" کہ وجوب کا سبب جو ہے "قبله" اس خطاب سے پہلے ہی ہے۔ وجوب کا سبب اس خطاب سے پہلے ہی—دیکھو بھئی، ادھر دیکھو—ایک ہے نفس وجوب، نفس وجوب کس کی وجہ سے آیا؟ جی؟ وقت کی وجہ سے، اور پھر اس نفس وجوب کے بعد اب ہماری طرف کیا ہوا متوجہ؟ امر، خطاب ہماری طرف متوجہ ہوا کہ وہ جو نماز آپ پر واجب ہو چکی ہے، اس کو کیا کر دو؟ ادا کر دو۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو بتلائیے، پہلے کیا آیا ہم پہ؟ نفس وجوب، پھر کیا متوجہ ہوا؟ خطاب۔ تو خطاب نے ہمیں یہ پہچان کروا دی کہ نفس وجوب پہلے سے آ چکا ہے آپ پر۔ خطاب سے پہلے ہی آپ پر کیا آ چکا ہے؟ سبب وجوب پہلے پایا جا چکا ہے، اب جو ہم آپ سے نماز کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اس کا سبب پہلے سے پایا جا رہا ہے، یعنی وقت پہلے سے پایا۔ بات سمجھ میں آئی؟ کہ خطاب کیا پہچان کرواتا ہے بندے کو؟ کہ یہ جو وجوب کا سبب ہے، وجوب کا، نفس وجوب کا جو سبب ہے، وہ پہلے سے پایا جا رہا، اس خطاب سے وہ پہلے پایا جا رہا ہے۔ جب وہ پہلے پایا جا رہا ہے تو نفس وجوب آپ پر آ چکا ہے، اور جب نفس وجوب آ چکا ہے، تو اب اس کو کیا کر دو؟ ادا کر دو۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں "ومعرف للعبد أن سبب الوجوب قبله"، ہا ضمیر راجع ہے خطاب کو بھئی "قبله" کی۔ اب ترجمہ سنو: پہچان کروانے والا ہے، کون پہچان کرواتا ہے؟ خطاب۔ خطاب پہچان کرواتا ہے بندے کو کہ وجوب کا سبب، اور وہ کیا ہے؟ وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے نا، نفس وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت۔ تو خطاب بندے کو پہچان کرواتا ہے کہ وجوب کا سبب، یعنی وقت "قبله" اس خطاب سے پہلے آ چکا ہے، اس سے پہلے ہی موجود ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو اس لیے وہ پہلے سے نفس وجوب آپ پر آ چکا ہے، اب تم سے کیا کیا جا رہا ہے اس کا؟ مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پہلے نفس وجوب چاہیے، پھر کیا چاہیے؟ وجوب ادا چاہیے۔ "وهذا كقولنا"، اور یہ ہمارے اس قول کی طرح ہے: "أد ثمن المبيع"، بھئی، بائع نے بھئی ایک چیز بیچی بھئی آپ پر۔ تو پھر وہ آپ سے، تو عقد کرتے ہی آپ پر کیا آ گیا؟ نفس وجوب۔ پھر وہ مطالبہ کرتا ہے: "أد ثمن المبيع"، مبیع کے ثمن ادا کر دو۔ تو اب کیا آ جائے گا؟ وجوب ادا۔ یا اسی طرح بھئی ایک ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا، تو عقد کرتے ہی نفقہ واجب ہو گیا، نفس وجوب آ گیا نفقے کا۔ لیکن جب وہ مطالبہ ہوگا اس سے کہ "أد نفقة المنكوحة"، کہ ادا کر دو منکوحہ کے نفقے کو، تو اب اس مطالبے کے بعد کیا آ جائے گا؟ وجوب ادا بھی آ جائے گا۔ یہ ہمارے اسی قول کی طرح ہے۔ جیسے أَدِّ ثَمَنَ الْمَبِیعِ، ادا کر دو مبیع کے ثمن، وَأَدِّ نَفَقَةَ الْمَنْكُوحَةِ، اور ادا کر دو منکوحہ کے نفقہ کو، وَلَا مَوْجُودَ یُعَرِّفُهُ الْعَبْدُ هَاهُنَا إِلَّا دُخُولُ الْوَقْتِ۔ اور یہاں کوئی ایسی چیز موجود نہیں، یُعَرِّفُهُ۔ وَلَا مَوْجُودَ اس کو لائے نفی جنس بناؤ بھئی، لائے نفی جنس۔ یاد رکھو مصدر، اسمِ فاعل، اسمِ مفعول اور صفتِ مشبہ وغیرہ پر جو "لا" داخل ہو وہ عموماً لائے نفی جنس ہوتا ہے۔ کس پر داخل ہو؟ مصدر پر، اسمِ فاعل پر، اسمِ مفعول پر اور صفتِ مشبہ وغیرہ جو ہیں ان پر جو "لا" داخل ہو وہ عموماً کون سا "لا" ہو گا؟ لائے نفی جنس۔ جو اپنے اسم کو کیا کرتا ہے؟ نصب دیتا ہے اور کبھی بعض صورتوں میں مبنی ہوتا ہے، یہاں مبنی ہے بھئی، وَلَا مَوْجُودَ اور کوئی ایسا، ایسی چیز موجود نہیں، یُعَرِّفُهُ الْعَبْدُ، یُعَرِّقُ جو پہچان کروا دے، ها ضمیر راجع ہے یُعَرِّفُهُ کے آخر میں جو ها ضمیر ہے یہ راجع ہے نفسِ وجوب کو۔ کس کو؟ کوئی ایسی چیز موجود نہیں جو بندے کو جو نفسِ وجوب کی پہچان کروا دے، اَلْعَبْدَ یہ مفعولِ ثانی ہے، بندے کو۔ کوئی ایسی چیز موجود نہیں جو بندے کو نفسِ وجوب کی پہچان کروا دے، هَاهُنَا یہاں پر، إِلَّا دُخُولُ الْوَقْتِ مگر وقت کا داخل ہونا۔ کوئی اور چیز بتلا سکتی ہے؟ کسی اور چیز سے پتہ چلتا ہے آپ کو نفسِ وجوب آ چکا ہے، ظہر کی نماز آپ پر فرض ہو چکی ہے؟ نہیں، صرف وقت ہی ہمیں بتلاتا ہے اور کوئی معرف نہیں ہے بھئی، سوائے دخولِ وقت کے۔ فَتَبَیَّنَ أَنَّ الْوُجُوبَ یَثْبُتُ بِدُخُولِ الْوَقْتِ پس یہ بات ظاہر ہو گئی کہ وجوب ثابت ہوتا ہے دخولِ وقت سے۔ نفسِ وجوب کس سے آئے گا؟ دخولِ وقت سے آئے گا۔ پہلی دلیل سمجھ میں آ گئی؟ پہلی دلیل کیا ہوئی؟ جی؟ کہ بھئی ہمار، جو خطاب ہوتا ہے، خطاب کی وجہ سے کیا آیا کرتا ہے؟ وجوبِ ادا یعنی ادا کرنا واجب ہو جاتا ہے اور ظہر کی نماز ظہر سے پہلے ہم ادا کر سکتے ہیں؟ معلوم ہوا ظہر سے پہلے نفسِ ادا وجوبِ ادا ہم پر نہیں، سمجھ میں آیا؟ اور معلوم ہوا کہ ابھی ہم پر نماز واجب ہی نہیں کیونکہ اگر واجب ہوتی تو فوراً ہماری طرف خطاب متوجہ ہوتا اور ادائیگی بھی واجب ہو جاتی، اور ادائیگی تو ظہر سے پہلے ہے نہیں، معلوم ہوا نفسِ وجوب بھی نہیں، کیونکہ نفسِ وجوب آ چکا ہوتا تو فوراً کیا آ جاتا؟ وجوبِ ادا بھی آ جاتا، اور وجوبِ ادا وقت سے پہلے نہیں، معلوم ہوا ابھی نفسِ وجوب بھی نہیں آیا، تو ثابت ہوا کہ نفسِ وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں، وَلِأَنَّ الْوُجُوبَ ثَابِتٌ عَلَى مَنْ لَا یَتَنَاوَلُهُ الْخِطَابُ۔ اور دوسری دلیل یہ کہ وقت وجوب کا سبب ہے، دلیل بھئی، کہتے ہیں اس لیے کہ وجوب ثابت ہوتا ہے عَلَى مَنْ ان لوگوں پر بھی، لَا یَتَنَاوَلُهُ الْخِطَابُ اس پر بھی ثابت ہوتا ہے، لَا یَتَنَاوَلُهُ الْخِطَابُ جس کو خطاب شامل ہی نہ ہو، كَالنَّائِمِ وَالْمُغْمَى عَلَیْهِ جیسے سویا ہوا وَالْمُغْمَى عَلَیْهِ اور بے ہوش آدمی بھئی، جس پر غشی طاری ہوئی ہو بھئی، جس پر کیا ہوئی ہو؟ غشی طاری یعنی بے ہوشی طاری ہوئی ہو۔ بھئی دیکھو! اگر کوئی شخص سو جائے، تو اور پورا ظہر کا وقت وہ سویا رہا، یا ایک شخص بے ہوش ہو گیا ایک دن رات سے کم، تو یہ جب ہوش میں آتا ہے تو جتنی نمازیں اس کی رہ گئی ہیں ان کی اس کو اس پر قضا لازم ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک شخص سویا ہوا ہے اور وہ جب نیند سے بیدار ہوتا ہے، ایک دو نمازوں کا وقت درمیان میں گزر گیا، تو کیا آپ بتلائیے اس کے ذمہ قضا ہوتی ہے یا قضا نہیں ہوتی بھئی؟ جی؟ اس پر قضا ہوتی ہے۔ معلوم، اور قضا تو آتی ہے کسی فوت شدہ چیز کے بدلے میں، معلوم ہوا اس پر کوئی چیز واجب ہوئی تھی بھئی، وہ نماز اس پر کیا ہوئی تھی؟ وہ نماز اس پر واجب ہوئی تھی تو اس کے بدلے میں قضا ہے، اگر وہ واجب نہ ہوئی ہوتی تو قضا آتی؟ قضا تو آتی کس کے مقابلے میں ہے؟ فوت شدہ چیز کے بدلے میں بھئی، اور یہاں قضا آ رہی ہے، معلوم ہوا اس پر نماز کیا ہوئی تھی؟ واجب ہوئی تھی، لیکن وقت میں یہ ادا نہیں کر سکا تو فوت ہو گئی، اب کیا کرنا پڑے گی اس کی؟ قضا۔ اسی طرح اگر کوئی بے ہوش ہو، یاد رکھو لیکن بے ہوشی چوبیس گھنٹے سے کم ہو گئی، تو اگر کوئی شخص بے ہوش ہوا ہے، بعد میں ہوش آ جائے تو اس کو بھی کیا کہا جاتا ہے؟ جی؟ کہ وہ قضا کرے گا جتنی نمازیں اس کی رہ گئی ہیں، جب اس پہ قضا آ رہی ہے معلوم ہوا اس پہ ادا واجب ہوئی تھی، ادا کیا ہوئی تھی؟ واجب ہوئی تھی، اور یہ واجب یہ وجوب کس کی وجہ سے آیا تھا؟ وقت کی وجہ سے آیا تھا۔ کس کی وجہ سے آیا تھا؟ وقت کی وجہ سے آیا تھا، اس لیے کہ خطاب تو ان کو شامل ہی نہیں ہے بھئی، خطاب تو ان کی طرف متوجہ ہی نہیں ہے، تو سوئے ہوئے یا بے ہوش آدمی کو خطاب کیا جاتا ہے؟ اس کو کوئی حکم دیا جاتا ہے؟ خطاب، یہ تو بات کو سمجھتے ہی نہیں ہیں، اس وقت تو غفلت میں ہیں بھئی، تو جو سویا ہوا ہو، بے ہوش ہو اس کے ساتھ خطاب نہیں، اس سے کوئی بات نہیں کی جاتی، تو خطاب تو ان کو شامل ہی نہیں تھا اس لیے کہ یہ بات کو سمجھ ہی نہیں سکتے تھے، اور اس کے باوجود ان پہ وجوب آ رہا ہے بھئی۔ خطاب متوجہ نہیں اور وجوب ان پر آ رہا ہے، معلوم ہوا وجوب کس کی وجہ سے آیا؟ وقت کی وجہ سے آیا ہے، اور نیز اگر جو وقت گزر چُک، جو وقت ابھی آیا ہی نہیں، کیا اس کا وجوب بھی ان پہ آیا؟ ان کا وجوب ان پر نہیں آیا، تو وجوب جو آیا وہ بھی وقت کے داخل ہونے کی وجہ سے آیا، معلوم ہوا وقت کیا ہے؟ سبب ہے وجوبِ صلاۃ کا۔ معلوم ہوا وقت کیا ہے؟ سبب ہے وجوبِ صلاۃ کا، دوسری دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھیے بھئی! وَلِأَنَّ الْوُجُوبَ ثَابِتٌ عَلَى مَنْ لَا یَتَنَاوَلُهُ الْخِطَابُ اس لیے کہ وجوب ثابت ہے اس شخص پر بھی جس کو خطاب شامل نہیں ہے كَالنَّائِمِ وَالْمُغْمَى عَلَیْهِ جیسے سویا ہوا ہے اور بے ہوش ہے، وَلَا وُجُوبَ قَبْلَ الْوَقْتِ اور وقت سے پہلے وجوب بھی نہیں، فَكَانَ ثَابِتًا بِدُخُولِ الْوَقْتِ تو یہ وجوب ثابت ہے کس سے بھئی؟ دخولِ وقت سے بھئی، کس سے ثابت ہو گا؟ تو دو دلیلیں بھی ذکر کر دیں بھئی، پہلی دلیل میں یہ کہ خطاب وقت سے پہلے متوجہ نہیں ہوتا تو وجوبِ ادا بھی نہیں آتا، معلوم ہوا وجوب خطاب، خطاب کب متوجہ ہوتا ہے وقت کے داخل ہونے کے بعد، معلوم ہوا وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے، دوسری دلیل یہ ذکر کی کہ ان لوگوں پر بھی وجوب آ جاتا ہے جن کی طرف خطاب متوجہ ہی نہیں ہے، معلوم ہوا وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے۔ وَبِهَذَا ظَهَرَ، جی یہاں سے بھی ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ شبہ یہ پیدا ہوتا ہے ایک شبہ بھئی، شبہے کا جواب دے رہے ہیں۔ کہ آپ نے کیا کہا؟ اے صاحبِ اصولِ شاشی! آپ نے فرمایا کہ نماز کے وجوب کا سبب وقت ہے، نماز کے وجوب کا سبب، معلوم ہوا وقت ہے سبب اور نماز ہے مسبب، وقت کیا ہے؟ اور نماز کیا ہے؟ اور سبب ہمیشہ مسبب پر مقدم ہوتا ہے، مسبب کیا ہوتا ہے؟ مؤخر ہوتا ہے۔ تو لازمی بات ہے یہاں پر کہ پورے وقت کے بعد جو ہے ظہر کی نماز واجب ہونی چاہیے، سبب پورا پایا جائے تو پھر کیا پایا جائے گا؟ مسبب، تو لہٰذا جب ظہر کا پورا وقت گزرے گا تو پھر کیا آنا چاہیے؟ نماز کو ادا کرنا چاہیے، کیونکہ مسبب کب ہونا چاہیے؟ سبب کے بعد، صورت سمجھ میں آئی؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ اچھا! تو آپ نے وقت کو سبب قرار دیا، اگر وقت کو سبب قرار دیا جائے تو وہ نماز کا وجوب کیا ہوا؟ وجوبِ صلاۃ کیا ہوا بھئی؟ وہ مسبب ہوا، اور سبب کیا ہوتا ہے؟ مسبب پر مقدم ہوتا ہے، تو لہٰذا وقت کو مقدم ہونا چاہیے، اس کے بعد وجوبِ صلاۃ آئے گا بھئی، یعنی پورے وقت کے گزر جانے کے بعد ظہر کی نماز واجب ہونی چاہیے، حالانکہ اس کا قائل کوئی بھی، ظہر کی نماز ظہر کے وقت ہی میں ادا کرنی ہے، اس کے بعد ادا، وہ تو قضا ہو جائے گی بھئی۔ اچھا! تو کہتے ہیں وَبِهَذَا ظَهَرَ یہ جو ہم نے بھئی تقریر کر دی، اس سے یہ بات بھی ظاہر ہو گئی أَنَّ الْجُزْءَ الْأَوَّلَ سَبَبٌ لِلْوُجُوبِ کہ جزءِ اول سبب ہے وجوب کا، پورا وقت نہیں بھئی وجوب کا سبب، بلکہ جزءِ اول سبب ہے، ظہر کے وقت کا ظہر کا وقت جیسے ہی شروع ہوا، جزءِ اول جیسے ہی ظہر کا پایا گیا، کیا آ گیا ہمارے اوپر؟ ظہر کی نماز کا نفسِ وجوب آ گیا، نفسِ وجوب۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں ہماری اس تقریر سے یہ بات ثابت ہو گئی، ہم تو ہم نے کیا ذکر کیا تھا؟ اوپر تقریر میں جگہ جگہ ذکر کیا کہ دخولِ وقت سے آئے گا، دخولِ وقت سے آئے گا، وقت کے گزرنے کی بات نہیں کی انہوں نے کہ پورا وقت گزرے، بلکہ کس سے وجوب آ جائے گا؟ دخولِ وقت، وقت جیسے ہی داخل ہو گا، معلوم ہوا وجوب کس کی وجہ سے آ رہا ہے؟ اولِ جزء کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ وَبِهَذَا ظَهَرَ اور اس سے یہ بات بھی ظاہر ہو گئی أَنَّ الْجُزْءَ الْأَوَّلَ سَبَبٌ لِلْوُجُوبِ کہ جزءِ اول سبب ہے وجوب کے لیے، ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ طَرِیقَانِ پھر اس کے بعد دو طریقے ہیں بھئی، أَحَدُهُمَا نَقْلُ السَّبَبِیَّةِ مِنَ الْجُزْءِ الْأَوَّلِ إِلَى الثَّانِی۔ اچھا! اب انہوں نے کیا کہا؟ جزءِ اول کس چیز کا سبب ہے؟ نفسِ وجوب کا، جزءِ اول کیا ہے؟ تو باقی اجزاء کیسے سبب بنیں گے نماز کا بھئی؟ وجوبِ صلاۃ کا؟ اس کے پھر دو طریقے ہیں بھئی، ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلا جزء وجوب کا سبب بنا، اس جزء میں نماز ادا نہیں کی، اس جزء میں نماز شروع نہیں کی، یہاں تک کہ اگلا جزء آ گیا، جیسے ہی اگلا جزء آیا، اب یہ وجوب کا سبب یہ جزءِ ثانی بن رہا ہے، وہ سبَبیت وہ جو سبب بن رہا تھا بھئی وجوب کا، وہ سبَبیت منتقل ہوئی کس کی طرف؟ جزءِ، اب وجوب کا سبب کون سا جزء بن رہا ہے؟ جزءِ ثانی، پھر اس جزءِ ثانی کے ساتھ ہی اس نے فوراً نماز نہیں شروع کی، یہاں تک کہ جزءِ ثالث آیا، تو سبَبیت کس طرف منتقل ہو گئی؟ جزءِ ثالث کی طرف، اب سبب وجوبِ صلاۃ کا سبب کیا بن رہا ہے؟ جزءِ ثالث، اس کے ساتھ بھی اس نے فوراً نماز شروع نہیں کی، یہاں تک کہ جزءِ رابع آیا، تو اب سبَبیت کس کی طرف منتقل ہو گئی؟ جزءِ رابع کی طرف، تو اب وجوب کا سبب کیا بن رہا ہے؟ جزءِ رابع بن رہا ہے بھئی، جزءِ رابع بن رہا ہے بھئی۔ تو یہاں تک کہ آخری وجوب منتقل ہوتا چلا جائے گا دوسرے جزء سے، تیسرے جزء کی طرف، پھر چوتھے، پانچویں، چھٹے، ساتویں، آٹھویں، منتقل ہوتا رہے گا، یہاں تک کہ اس وقت کا آخری جزء آ جائے، جب آخری جزء آ جائے تو وجوب پکا ہو جائے گا، وجوب کیا ہو جائے گا؟ کیونکہ اب آگے تو وقت ہی نہیں ہے اس کا، تو بس اس آخری جزء سے کیا ہوا؟ وجوب پکا ہو گیا، پکا ہو گیا، اور اب وجوب کی نسبت پورے وقت کی طرف کریں گے، کیا کریں گے؟ کہ وقت کے گزر، کیا پورے وقت کی وجہ سے کیا ہوا ہے؟ اس نماز کا وجوب اس شخص پر آیا ہے۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ اولِ جزء سبب بنے گا نماز کا، پھر باقی اجزاء کیسے سبب بنیں گے؟ اس کا طریقہ بتلایا کہ انتقال کے طریقے پر، کس طریقے پر؟ تو کہتے ہیں وَبِهَذَا ظَهَرَ اور اس سے یہ بات ظاہر ہو گئی أَنَّ الْجُزْءَ الْأَوَّلَ سَبَبٌ لِلْوُجُوبِ کہ جزءِ اول سبب ہے وجوب کے لیے، ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ طَرِیقَانِ پھر اس کے بعد دو طریقے ہیں، أَحَدُهُمَا نَقْلُ السَّبَبِیَّةِ مِنَ الْجُزْءِ الْأَوَّلِ إِلَى الثَّانِی ایک طریقہ سببیت کا نقل کرنے کا ہے جزءِ اول سے جزءِ ثانی کی طرف بھئی، إِذَا لَمْ یُؤَدَّ فِی الْجُزْءِ الْأَوَّلِ جب اس کو ادا نہ کیا جائے کس میں؟ جزءِ اول میں، سمجھ میں آئی؟ یا إِذَا لَمْ یُؤَدِّ فِی الْجُزْءِ الْأَوَّلِ یعنی جب وہ شخص اس کو جزءِ اول میں ادا نہ کرے، فِی الْجُزْءِ الْأَوَّلِ جزءِ اول میں، ثُمَّ إِلَى الثَّالِثِ پھر نقل ہو گی سببیت کس کی طرف؟ ثالث کی طرف، وَالرَّابِعِ اور پھر کس کی طرف؟ چوتھے کی طرف، إِلَى أَنْ یَنْتَهِیَ إِلَى آخِرِ الْوَقْتِ یہاں تک کہ پہنچ جائے آخرِ وقت تک بھئی، وقت کے آخر تک، فَیَتَقَرَّرُ الْوُجُوبُ حِینَئِذٍ تو پختہ ہو جائے گا وجوب اس وقت بھئی، اب وجوب کیا ہو گیا؟ پختہ ہو گیا۔ سمجھ میں آیا؟ اس سے پہلے پختہ ہونے کا احتمال نہیں بھئی، ہو سکتا ہے پختہ نہ ہو بھئی وجوب، ابھی آگے تفصیل آ رہی ہے، لیکن اگر آخری وقت تک پہنچ گیا اور اس نے پھر بھی نہیں ادا کیا تو وجوب کیا ہو جائے گا؟ پختہ، اب اس کو قضا کرنی پڑے گی، کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گا۔ وَيُعْتَبَرُ حَالُ الْعَبْدِ فِي ذَلِكَ الْجُزْءِ وَيُعْتَبَرُ صِفَةُ ذَلِكَ الْجُزْءِ، اور اعتبار کیا جائے گا بندے کی حالت کا بھی اس جزء میں، اور وَيُعْتَبَرُ صِفَةُ ذَلِكَ الْجُزْءِ اور اس جزء، وہ جو وقت کا جزء ہے، اس کی بھی صفت کی بھی، اس کی صفت کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔ بھئی دیکھو بھئی! سببیت منتقل ہوتی رہی ایک سے دوسرے جزء کی طرف، تیسرے، چوتھے کی طرف، یہاں تک کہ وقت کا کیا آ گیا؟ آخری جزء آ گیا، اب آخری جزء میں کیا ہو جائے گا؟ وجوب پختہ ہو جائے گا، لیکن اس کے اندر دو چیزوں کی رعایت رکھنا پڑے گی، دو چیزوں کا اعتبار کرنا پڑے گا، بندے کی حالت کا بھی اعتبار کرنا پڑے گا، اور اس جزء وہ جو وقت کا جزء ہے اس کی بھی صفت کی بھی، اس کی صفت کا بھی اعتبار کرنا پڑے گا۔ کن چیزوں کا اعتبار کرنا پڑے گا؟ بندے کی حالت کا بھی اعتبار کیا جائے گا اور اس وقت کی صفت کا بھی اعتبار کیا جائے گا کہ وقت کامل ہے یا ناقص، وقت کامل ہو گا تو وجوب بھی کیسا آئے گا؟ کامل، وقت ناقص ہو گا تو وجوب بھی کیسا آئے گا؟ ناقص آئے گا، تو کتنی چیزوں کا اعتبار کرنا پڑے گا آخری جزء کے اندر؟ ایک دو چیزوں کا، اول کیا؟ بندے کی حالت کا اعتبار ہو گا، دوسرا؟ اس جزء کی صفت کا اعتبار ہو گا کہ کامل ہے یا ناقص ہے بھئی۔ وَبَيَانُ اعْتِبَارِ حَالِ الْعَبْدِ فِيهِ أَنَّهُ لَوْ كَانَ صَبِيًّا فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ بَالِغًا فِي ذَلِكَ الْجُزْءِ أَوْ كَانَ كَافِرًا فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ مُسْلِمًا فِي ذَلِكَ الْجُزْءِ أَوْ كَانَتْ حَائِضًا أَوْ نُفَسَاءَ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ طَاهِرَةً فِي ذَلِكَ الْجُزْءِ وَجَبَتِ الصَّلَاةُ، وَجَبَتِ الصَّلَاةُ یہ جزا ہے بھئی جزا۔ کہتے ہیں وَبَيَانُ اعْتِبَارِ حَالِ الْعَبْدِ بندے کے حال کے اعتبار کرنے کا بیان یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ، فِی أَوَّلِ الْوَقْتِ بَالِغًا فِی ذٰلِكَ الْجُزْءِ، اَوْ كَانَ كَافِرًا فِی أَوَّلِ الْوَقْتِ مُسْلِمًا فِی ذٰلِكَ الْجُزْءِ، اَوْ كَانَتْ حَائِضًا اَوْ نُفَسَاءَ فِی أَوَّلِ الْوَقْتِ طَاهِرَةً فِی ذٰلِكَ الْجُزْءِ وَجَبَتِ الصَّلَاةُ۔ یہ جزا ہے بھئی جزا۔ کہتے ہیں: "وبیان اعتبار حال العبد" بندے کے حال کے اعتبار کرنے کا بیان یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ تھا بھئی! اول وقت میں بچہ تھا کوئی بھئی اور آخر وقت میں وہ بالغ ہو گیا۔ آخر وقت میں کیا ہوا؟ بھئی، بچہ تو مکلف نہیں، اس پر تو نماز واجب نہیں، لیکن اگر آخر وقت میں وہ کیا ہوا؟ بالغ ہو گیا تو مکلف بن گیا، تو اس پر کیا نماز کیا ہو جائے گی؟ واجب ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اسی طرح اول وقت میں کوئی کافر تھا، آخر وقت میں کیا ہو گیا؟ مسلمان ہوا، تو دیکھا اس کی حالت کا بھی اعتبار کریں گے، اب وہ مکلف بن گیا، اب اس پر کیا آ جائے گا؟ وجوبِ صلاة آئے گا، وہ نماز اس پر واجب ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر کوئی عورت اول وقت کے اندر حالتِ حیض میں تھی اور آخر وقت میں پاک ہو گئی، تو کیا حکم لگائیں گے؟ اس کی حالت آخر وقت میں بندے کی حالت کا اعتبار کیا جا رہا ہے، دیکھو آخر وقت میں تو عورت کیا ہے؟ پاک ہے، تو اس پر کیا ہو جائے گی نماز؟ واجب۔ اسی طرح اگر عورت حاملہ تھی اور آخر وقت میں اس نے بچے کو جنم دیا اور نفاس کا، جی؟ یا نہیں، عکس کرو۔ نفاس کیا تھا؟ جی؟ اسے نفاس کا خون آ رہا تھا اور آخر وقت میں وہ نفاس سے پاک ہو گئی، تو اس پر کیا آ جائے... کیا ہو جائے گی؟ اس پر نماز واجب ہو جائے گی، نماز واجب ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اور اسی کا عکس کر لو بھئی! اگر اول وقت میں ایک عورت پاک تھی اور آخر وقت میں اس کو کیا آ گیا؟ حیض آ گیا، تو اب اس پر نماز واجب ہے؟ نہیں۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ کیونکہ اب وہ اس کو عذر لاحق ہو گیا، اب وہ مکلف ہی نہیں ہے بھئی، حائضہ پر نماز واجب ہی نہیں ہوتی۔ یا اسی طرح کوئی عورت اول وقت میں پاک تھی، حاملہ تھی، لیکن آخر وقت میں بچے کو جنم دیا، نفاس کا خون آیا، تو اب بھی اس کو عذر لاحق ہو گیا، تو اب اس پر نماز واجب نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس آخری جزء کے اندر بندے کی حالت کا اعتبار کیا جائے گا، دیکھا جائے گا کہ اب وہ اس حال میں اس پر وجوب آتا ہے یا نہیں؟ "وبیان اعتبار حال العبد" اور بندے کی حالت کے اعتبار کرنے کا بیان یہ ہے: "فیه" اس آخری جزء میں، "وبیان اعتبار حال العبد فیه" اس آخری وقت میں بندے کی حالت کے اعتبار کرنے کا بیان یہ ہے: "انه لو کان صبیاً فی اول الوقت" کہ اگر وہ بچہ تھا اول وقت میں، "بالغاً فی ذلک الجزء" اور بالغ تھا اس آخری جزء کے اندر، "او کان کافراً فی اول الوقت" یا کافر تھا اول وقت میں، "مسلماً فی ذلک الجزء" اور مسلمان تھا اس آخری جزء میں، "او کانت حائضاً او نفساء فی اول الوقت" یا عورت حائضہ تھی یا نفاس والی تھی اول وقت میں، "طاهرةً فی ذلک الجزء" اور پاک تھی آخری جزء میں، "وجبت الصلاة" ان سب پر کیا ہو جائے گی نماز؟ واجب ہو جائے گی، کیونکہ ان میں اہلیت پیدا ہو گئی بھئی۔ "وعلی هذا جمیع صور حدوث الاهلية فی اخر الوقت" اور اسی پر مبنی ہیں یا اسی پر قیاس کر لو... اسی پر کیا کر لو؟ قیاس کر لو، تمام صورتیں حدوثِ اہلیت کی۔ حدوثِ اہلیت کی... حدوث کا معنی پیدا ہونا، اہلیت پیدا ہونے کی ساری صورتوں کو اسی پر قیاس کر لو "فی اخر الوقت" آخری وقت میں۔ آخری وقت میں اگر کسی میں اہلیت پیدا ہو جائے تو اس کی ساری صورتوں کو اسی پر قیاس کر لو، یعنی ان پر بھی کیا ہو جائے گا؟ وہ نماز ان پر فرض ہو جائے گی۔ "وعلی العکس" اور اس کے عکس میں: "بان یحدث حیض او نفاس او جنون مستوعب او اغماء ممتد فی ذلک الجزء سقطت عنه الصلاة" یا اس کا عکس ہو کہ پیش آ جائے حیض بھئی! کیا پیش آ جائے؟ حیض پیش آ جائے آخری جزء کے اندر، پہلے جزء... پہلے تمام اجزاء میں پاک، آخری جزء میں حیض آیا، "او نفاس" یا نفاس آیا، "او جنون مستوعب" یا ایسا جنون آیا جو مستوعب ہے۔ جنونِ مستوعب آیا بھئی! جنونِ مستوعب کسے کہتے ہیں؟ جو ایک دن رات سے زائد ہو۔ بھئی، اگر جنون ایک دن رات سے کم ہے تو پھر میں نے بتلایا تھا اس پر نمازوں کی ادائیگی واجب ہے، بعد میں کیا کرے گا ان کی؟ قضا کرے گا، لیکن اگر ایک دن رات سے زیادہ جنون طاری رہا تو یہ جنونِ مستوعب ہے اور یہ اس... ان نمازوں کی فرضیت کو ساقط کر دیتا ہے، اب اس کے ذمے ان کی ادائیگی بھی واجب نہیں ہے۔ تو کسی پر اگر آخری وقت میں جنونِ مستوعب طاری ہوا، "او اغماء ممتد" یا اغماءِ ممتد بھئی! طویل بے ہوشی آ گئی، یعنی جو چوبیس گھنٹے سے زیادہ ہو، چوبیس گھنٹے سے... اچھا، یہ پیش آ گئیں "فی ذلک الجزء" اس آخری جزء کے اندر، "سقطت عنه الصلاة" تو اس شخص سے کیا ہو جائے گی؟ نماز ساقط ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ اب اس میں اہلیت ہی... اس کو عذر لاحق ہوا، عذر لاحق ہوا structure۔ "ولو کان مسافراً" بھئی، اگر ایک شخص مسافر تھا اول وقت کے اندر، آخری جزء کے اندر وہ مقیم ہو گیا۔ آخری جزء میں کیا ہوا؟ جہاں کا اس نے 15 دن ٹھہرنے کا ارادہ کیا تھا بھئی، آخری جزء کے اندر وہ شہر میں داخل ہو گیا۔ پہنچ گیا اپنی منزل تک بھئی! آخری جزء، تو کیا حکم لگائیں گے آپ بھئی؟ کتنی نماز پڑھے گا بھئی؟ چار پوری پڑھے گا، قصر اب وہ... اور اگر کوئی شخص اول وقت میں مقیم تھا اور آخری جزء میں وہ شہر سے نکل پڑا، سفر شروع کر دیا، تو اب وہ چار کے بجائے کتنی پڑھے گا؟ دو واجب ہوئیں اس پر، سمجھ میں آیا؟ "ولو کان مسافراً فی اول الوقت" اور اگر کوئی شخص مسافر تھا اول وقت کے اندر، "مقیماً فی اخره" اور مقیم تھا آخر وقت کے اندر، "یصلی اربعاً" کتنی رکعتیں پڑھے گا؟ چار، چار اس پر فرض ہوئیں۔ "ولو کان مقیماً فی اول الوقت" اور اگر وہ مقیم تھا اول وقت میں، "مسافراً فی اخره" اور مسافر تھا آخر وقت میں، "یصلی رکعتین" پھر کتنی نماز پڑھے گا؟ دو رکعتیں، قصر کرے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ انہوں نے کہا تھا کہ سببیت جو ہے کیا ہوتی ہے؟ اول جزء سبب بنتا ہے اور پھر اول جزء سے سببیت منتقل ہوتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ آخری جزء آ جائے اور جب آخری جزء آتا ہے تو وہ وجوب پختہ ہو جاتا ہے اور اس آخری جزء میں دو چیزوں کا اعتبار کیا جاتا ہے: بندے کی حالت کا بھی اعتبار کیا جائے گا اور اس آخری جزء کی صفت کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔ بندے کی حالت کے اعتبار کیسے کیا جائے گا؟ تفصیل مصنف نے بتلا دی کہ اگر ماقبل میں اس میں اہلیت نہیں تھی، آخری جزء کے اندر اہلیت آ گئی تو اب بھی اس پر کیا آ جائے گا؟ وجوب۔ اور اگر ماقبل میں اہلیت تھی اور آخری جزء میں اہلیت اس سے ساقط ہو گئی، ختم ہو گئی تو اب اس پر وجوب بھی نہیں آئے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اب بیان کر رہے ہیں کہ وہ صفت کا اعتبار کیسے کیا جائے گا؟ "وبیان اعتبار صفت ذلک الجزء" اور اس جزء کی صفت کے اعتبار کرنے کا بیان کیا یہ ہے: "ان ذلک الجزء ان کان کاملاً" کہ اگر وہ جزء کیا تھا؟ کامل تھا، "تقررت الوظیفة کاملةً" تو حکم بھی... یعنی واجب بھی ثابت ہوگا "کاملةً" اس حال میں کہ کیا ہوگا؟ کامل ہوگا۔ تو وہ جو واجب ہے وہ بھی کامل واجب ہوگا بھئی! وقت کیسا ہے؟ کامل، تو وجوب بھی کیسا آئے گا؟ کامل۔ "فلا یخرج عن العهدة بادائها فی الاوقات المكروهة" بھئی دیکھیے بھئی! آخر وقت کے اندر اس وقت کی صفت کا بھی اعتبار کرنا ہے۔ اگر وہ آخری جزء کامل تھا تو وجوب بھی کیسا آیا؟ کامل آیا، جب وجوب کامل آیا تو ادا بھی کیسی کرنی پڑے گی؟ کامل۔ اور اگر آخری جزء ناقص تھا تو وجوب بھی کیسا آئے گا؟ ناقص آئے گا، لہٰذا اب اس کو ناقص وقت میں بھی ادا کر سکتے ہیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ اگر وجوب... آخری وقت ناقص تھا تو وجوب بھی ناقص آئے گا، تو اس کو ناقص وقت میں بھی ادا کرنا صحیح ہے۔ لیکن اگر وجوب کامل تھا تو پھر ادا بھی کیسی ہونی چاہیے؟ کامل آئے گی، جب ادا کامل آئی تو اب اس کو مکروہ وقت میں ادا کرنے سے یہ صحیح نہیں، کیوں؟ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ مثلاً دیکھو بھئی! ظہر کی نماز بھئی، ظہر کی نماز۔ اب اس کا آخری جزء کیا ہے؟ کامل ہے، تو وجوب بھی کیسا آئے گا؟ کامل آئے گا، کامل آئے گا۔ جب وجوب کامل آیا تو ادا بھی کیسی ہونی چاہیے؟ کامل ہونی چاہیے اور تو لہٰذا اوقاتِ مکروہہ میں ادا کرے گا، تو یہ ادا کامل ہوئی یا ناقص ہوئی؟ اوقاتِ مکروہہ میں اگر ادا کرتا ہے، یہ تو ادا ناقص ہوئی، وجوب آیا تھا کامل اور ادا کر رہا ہے ناقص، لہٰذا یہ ادا صحیح نہیں۔ لیکن اگر وجوب کیسا آیا؟ ناقص آیا، تو ادا بھی کیسی جائز ہو سکتی ہے؟ ناقص بھی جائز ہو جائے گی، تو اس کو اب ناقص... اب وجوب ناقص آیا ہے تو لہٰذا اس کو اوقاتِ مکروہہ میں ادا کرتا ہے تو ادا کرنا جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو کہتے ہیں: جب جزء وہ کامل ہوگا تو وہ واجب بھی ثابت ہوگا کامل، "فلا یخرج عن العهدة" پس وہ ذمہ داری سے نکلے گا نہیں "بادائها فی الاوقات المكروهة" اوقاتِ مکروہہ میں اس کو ادا کرنے سے۔ جب وجوب کامل آیا تو ادا بھی کیسی چاہیے؟ کامل، لہٰذا اس کو اوقاتِ مکروہہ میں ادا کرنے سے ذمہ داری سے نہیں نکلے گا۔ "ومثاله فیما یقال" اور مثال اس کی اس قول کے اندر ہے جو کہا گیا ہے کہ: "ان اخر الوقت فی الفجر کامل" کہ آخری وقت فجر میں کامل ہے، "وانما یصیر الوقت فاسداً بطلوع الشمس" اور وقت فاسد ہو جاتا ہے طلوعِ آفتاب سے، "وذلک بعد خروج الوقت" اور یہ طلوعِ آفتاب کب ہوگا؟ فجر کا وقت نکلنے کے بعد۔ "فیتقرر الواجب بوفس الکمال" تو ثابت ہو جائے گا واجب وصفِ کمال کے ساتھ۔ "فاذا طلعت الشمس فی اثناء الصلاة بطل الفرض" پس جب طلوع ہو جائے گا سورج نماز کے دوران تو فرض باطل ہو جائے گا، "لانه لا یمکنه‌ اتمام الصلاة الا بوفس النقصان باعتبار الوقت" کیونکہ ممکن نہیں ہے اس شخص کے لیے نماز کو پورا کرنا مگر وصفِ نقصان کے ساتھ وقت کے اعتبار سے۔ دیکھیے بھئی! بھئی، آخری وقت فجر کا کیا ہے؟ آخری جزء ہے طلوعِ شمس تک بھئی، جیسے ہی طلوعِ شمس ہوگا، فجر کا وقت کیا ہوا؟ ختم ہو گیا اور یہ جو آخری جزء تھا طلوعِ شمس سے پہلے، یہ کامل تھا، یہ کیسا تھا؟ کامل تھا، لہٰذا وجوب بھی کیسا آیا؟ کامل آیا، جب وجوب کامل آیا تو ادا بھی کیسی ہونی چاہیے؟ کامل ہونی چاہیے، لہٰذا اب اگر کوئی ناقص ادا کرتا ہے تو ادا نہیں ہوگی بھئی۔ مثلاً ایک شخص فجر کی نماز پڑھ رہا تھا اور نماز کے دوران سورج نکل آیا، تو بھئی اب اس کی ادا کیسی ہو گئی؟ اب ادا کامل رہی یا ناقص ہو گئی بھئی؟ ادا اب ناقص ہو گئی اور حالانکہ وجوب تو کیسا آیا تھا؟ کامل آیا تھا اور اب وجوب کامل آیا تھا تو اب ادا بھی کامل ہونی چاہیے تھی، لہٰذا یہ ادا نہیں ہوگی، اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وجوب کیسا آیا تھا؟ ادا بھی کیسی ہونی چاہیے؟ کامل، اور جب سورج نکل آیا تو اب کامل ادا کی کوئی صورت ہے؟ اب تو کامل ادا کی کوئی صورت ہی نہیں، اب تو نقصان آ گیا بھئی، تو لہٰذا نماز کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ناقص وقت کے اندر اب وہ کامل ادا ممکن ہی نہ رہی، تو چونکہ ادا کامل ہوئی ہے... تو اس کو ادا... وجوب کیسا آیا ہے؟ کامل آیا ہے، تو لہٰذا اب ادا بھی کیسی ہونی چاہیے؟ کامل ہونی چاہیے کسی کامل وقت کے اندر بھئی۔ "ومثاله فیجیء" کہ یہ کہا گیا ہے کہ: "ان اخر الوقت فی الفجر کامل" کہ آخری وقت کیا ہے فجر کے اندر؟ کامل ہے، "وانما یصیر الوقت فاسداً بطلوع الشمس" اور وقت فاسد ہو جاتا ہے طلوعِ شمس سے، کیوں؟ اس لیے کہ اس وقت بھئی بت پرست... وہ آتش پرست جو ہیں، وہ کیا کرتے ہیں؟ سورج کی عبادت کرتے ہیں، سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی کیا کرتے ہیں؟ صبح صبح طلوعِ شمس کے وقت عبادت کرتے ہیں، عین سر پر جب آئے تب بھی عبادت کرتے ہیں اور جب غروب ہوتا ہے اس وقت بھی کیا کرتے ہیں؟ عبادت کرتے ہیں۔ تو لہٰذا... تو یہ وقت فاسد ہوا، شریعت نے اس کے اندر کیا کیا ہے؟ نماز وغیرہ پڑھنے سے منع کیا ہے، یہ وقت فاسد ہے۔ تو کہتے ہیں: "وانما یصیر الوقت فاسداً بطلوع الشمس" اور وقت فاسد ہو جائے گا طلوعِ شمس کے سبب سے، "وذلک بعد خروج الوقت" اور یہ طلوعِ شمس کب ہوگا؟ "بعد خروج الوقت" فجر کا وقت نکلنے کے بعد، جیسے ہی طلوعِ شمس ہوا، وقت فجر کا کیا ہوا؟ نکل گیا، ختم ہوا۔ "فیتقرر الواجب بوفس الکمال" تو ثابت ہو جائے گا واجب وصفِ کمال کے ساتھ بھئی، کس وصف کے ساتھ؟ کس قسم کا واجب آئے گا؟ وجوب کس قسم کا آئے گا؟ کامل آئے گا۔ "فاذا طلعت الشمس فی اثناء الصلاة" پس جب طلوع ہو جائے گا سورج نماز کے دوران، "بطل الفرض" تو فرض کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا، "لانه لا یمکنه‌‌ اتمام الصلاة" اس لیے کہ ممکن نہیں ہے اس شخص کے لیے نماز کو پورا کرنا "الا بوفس النقصان باعتبار الوقت" مگر وصفِ نقصان کے ساتھ وقت کے اعتبار سے۔ وقت کے اعتبار سے وصفِ نقصان ہی کے ساتھ اب نماز پوری کر سکتا ہے، کامل طور پر پوری... لہٰذا یہ اس کی نماز بھی باطل، کیونکہ وجوب تو آیا تھا کامل اور ادا کیسی کر رہا ہے؟ "ولو کان ذلک الجزء ناقصاً" اور اگر وہ آخری جزء ناقص ہوا، "کما فی صلاة العصر" جیسے کس میں ہوتا ہے؟ عصر کی... "فان اخر الوقت وقت احمرار الشمس" اس لیے کہ اس کا آخری وقت جو ہے عصر کی نماز کا "وقت احمرار الشمس" وہ سورج کے سرخ ہونے کا وقت ہے۔ وہ سورج کے... بھئی، آخری وقت کے اندر جب سورج غروب ہونے والا ہوتا ہے تو آپ دیکھتے ہیں بھئی سورج سرخ ہو جاتا ہے، اب اس پر نظر بھی جمتی ہے، پہلے اس پہ نظر... دن میں آپ نظر جما کے نہیں دیکھ سکتے، اس وقت سرخ ہو جاتا ہے نظر بھی دیکھ بھی سکتے ہیں۔ تو یہ آخری وقت سورج کے سرخ ہونے کا ہے، "والوقت عنده فاسد" "عنده" یعنی "عند احمرار الشمس"، اور احمرارِ شمس کے وقت جو وقت ہوتا ہے وہ کیا ہوتا ہے؟ فاسد، جیسے طلوع کے وقت وقت فاسد ہوتا ہے، کیوں فاسد ہوتا ہے؟ جی؟ کہ بت... آتش پرست کیا کرتے ہیں؟ سورج کی عبادت کرنے والے، آگ کی عبادت کرنے والے اس کے لیے کیا کرتے ہیں؟ اس وقت سجدے کرتے ہیں، عبادت کرتے ہیں، اسی لیے ان اوقات کی نسبت شیطان کی طرف بھی کی گئی ہے بھئی احادیث وغیرہ میں۔ تو اس وقت عبادت کرتے ہیں تو اس وقت یہ وقت فاسد ہوتا ہے۔ "فتقررت الوظيفة بصفت النقصان" تو جب آخری وقت بتلائیے ناقص تو وجوب بھی کیسا آیا؟ ناقص، یہی بات کر رہے ہیں "فتقررت الوظيفة" پس ثابت ہو جائے گا واجب "بصفت النقصان" کس کے ساتھ؟ صفتِ نقصان کے ساتھ۔ "ولهذا اوجب القول بالجواز عنده" ولہذا واجب ہوا یہ قول کرنا، یہ قول کرنا کیا ہوا؟ "ولهذا اوجب القول بالجواز" جواز کا قول واجب ہوا، یعنی اس آخری وقت میں عصر کی نماز کے جائز ہونے کا قول کیا ہوا؟ کہ یہ کہا جائے کہ آخری وقت میں نماز کیا ہوتی ہے عصر کی؟ جائز ہوتی ہے۔ بھئی دیکھو بھئی! ضابطہ یہ ہوا کہ اگر وقت کامل ہے، آخری جز کامل ہے تو وجوب بھی کامل آئے گا لہٰذا ادا بھی کیسی چاہیے؟ کامل چاہیے اور اگر آخری وقت ناقص ہے تو وجوب بھی ناقص آئے گا لہٰذا ادا بھی کیسی کر سکتا ہے؟ ناقص وقت میں کر سکتا ہے اور عصر کا آخری وقت ہے ناقص اس لیے کہ سورج سرخ ہو جاتا ہے تو لہٰذا جب آخری جز ناقص ہوا تو انہوں نے بتلایا تھا کہ اس جز کا اعتبار کیا جائے گا اس کی صفت کا، تو یہ جز ناقص ہوا تو وجوب بھی کیسا آیا؟ ناقص آیا، جب وجوب ناقص آیا تو اب اس نماز کو ناقص وقت میں ادا کرنا صحیح ہوا، لہٰذا اس وقت میں کوئی عصر کی نماز ادا کرتا ہے تو اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ صحیح ہو جائے گی، ادا ہو جائے گی بھئی اس لیے کہ وجوب کیسا آیا تھا؟ ناقص اور ادا بھی کیسی کر رہا ہے؟ ناقص، تو جائز ہونا چاہیے بھئی، اور اسی طرح اگر کوئی عصر کی نماز ادا کر رہا تھا، ادا کرتے کرتے سورج ڈوب گیا پھر بھی نماز ہو جائے گی اس لیے کہ یہ جو اس نے ادا کی ہے یہ ناقص کی ہے لیکن کوئی حرج نہیں کیونکہ وجوب بھی کیسا آیا تھا؟ ناقص آیا تھا تو ادا بھی ناقص کیا ہے؟ جائز ہوئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "فتقررت الوظيفة بصفت النقصان ولهذا اوجب القول بالجواز عنده" ولہذا واجب ہوا جواز کا قول کرنا، جواز کا قول کرنا کیا ہوا؟ جی، یہ جو وہ حکم... کے حکم جو صفتِ نقصان کے ساتھ ثابت ہوا ہے نا، حکم کس کے ساتھ ثابت ہوا ہے؟ اس نے واجب کر دیا اس نماز کے جائز ہونے کے قول کو، واجب کر دیا نماز کے جائز ہونے کے کہ وہ یہ یوں کہنا ضروری ہے، یوں کہنا کیا ضروری ہے؟ کیا کہنا؟ کہ نماز جائز ہونی چاہیے، یہ کہنا ضروری ہو گیا، کیوں ضروری ہو گیا؟ کیونکہ وجوب ناقص آیا ہے تو ادا بھی کیسی کر سکتا ہے؟ ناقص کر سکتا ہے تو لہٰذا اس وقت میں نماز کیا ہونی چاہیے؟ جائز ہونی چاہیے۔ لہٰذا واجب کیا ہوا القول بالجواز واجب کر دیا اس نے جواز کے قول کو "عنده" یعنی "عند احمرار الشمس" سورج کے سرخ ہونے کے وقت میں "مع فساد الوقت" باوجود وقت کے فاسد، وقت کے فاسد، ترجمہ غور سے سنو آخر سے، وقت کے فاسد ہونے کے باوجود احمرارِ شمس کے وقت عصر کے جائز ہونے کا قول کرنا واجب کر دیا اس بات نے، یہ قول کیا کر دیا اس بات نے؟ کس بات نے واجب کر دیا؟ کہ یہ جو عصر کی نماز کیسی واجب ہوئی تھی؟ ناقص، تو لہٰذا اب نماز بھی کیا ہونی چاہیے؟ یہ کہنا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس سنو، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔