آگے سبق دیکھیے بھئی۔ در باب تفعل خلجان کرده‌اند که زیادت الحاق قبل فا نمی‌آید، جز تا که به ضرورت ادای معنی مطاوعت قبل فا می‌آید، پس ميم برای الحاق نمی‌تواند شد۔ به همین جهت صاحب منشعب گفته که این باب شاذ از قبیل غلط است، ميم را اصلی گمان کرده تا بر آن آوردند۔ و مولانا عبد العلی صاحب در رساله هدایت الصرف تفعل را از ملحقات برآورده، داخل رباعی مزید فی کرده‌اند، و تحقیق این است که ملحق است۔ اچھا بھئی! پہلے گزشتہ سبق کا خلاصہ۔ گزشتہ سبق میں ہم نے ملحقات کے بارے میں پڑھا تھا۔ آپ نے پڑھا تھا کہ بعض اوقات ثلاثی کے اندر زیادی کرکے اس کو رباعی کے وزن پر لے آتے ہیں، تو اس کو ثلاثی مزید ملحق برباعی کہیں گے۔ اور پھر یہ کبھی ملحق برباعی مجرد ہوتا ہے اور کبھی ملحق برباعی مزید فی۔ اور ان کے کل 18 باب مصنف نے ذکر کیے اور یہ بھی بتلایا کہ یہی 18 باب نہیں ہیں، اس کے علاوہ مزید ملحقات کے ابواب بھی ہیں، لیکن یہ مختصر رسالہ ہے، تو اس میں ہم نے صرف مشہور مشہور ملحق ابواب ذکر کر دیے اور باقی ابواب صرف کی بڑی کتابوں میں مذکور ہیں، وہاں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اور پھر بتلایا تھا کہ رباعی مجرد جو ہے، باب فعلل، اس کے سات ملحقات ہیں، سات ملحقات۔ پہلا کیا تھا؟ فعلل، جیسے جلبب۔ ایک ہے دخرج بھی بروزن فعلل اور ایک جلبب بھی ہے بروزن فعلل، لیکن دونوں فعلل میں فرق ہے۔ دخرج بروزن فعلل، اس میں دونوں لام اصلی ہیں اور جلبب بروزن فعلل، اس میں ایک لام زائد ہے، کیونکہ اس کا مادہ جیم، لام، با ہے، یہ ثلاثی ہے اور اس کو ملحق کیا ہے کس کے ساتھ؟ رباعی کے ساتھ۔ تو جب یہ ثلاثی ہے، تو تین حرف اصلی ہوئے اور ایک کیا ہوا؟ زائد ہوا بھئی۔ اس پر اشکال ہوا تھا کہ اگر ایک با زائد ہے، تو اس کی جگہ وزن میں بھی با لانی چاہیے تھی اور یوں کہنا چاہیے تھا، یہ بروزن فعلبت ہے، تو پھر اس کو فعلل کیوں کہا؟ میں نے وجہ ذکر کی تھی کہ جب زائد حرف بھی اصلی کی جنس میں سے ہو، تو پھر اس کے لیے وہی حرف اصلی ہی وزن میں لے آتے ہیں۔ جیسے ایک با اصلی ہے، وہ تو اس کے مقابلے میں کیا لائیں گے؟ لام۔ جب ایک با اصلی ہے، تو دوسری جو زائد ہے، وہ بھی با ہی ہے، تو اس کے لیے بھی لام ہی لے آئیں گے بھئی۔ اور پھر یہ بتلایا تھا کہ یہ جو ملحقات ہوتے ہیں، ان میں ایک آدھ حرف کی زیادی کی جاتی ہے، کس لیے؟ تاکہ کس وزن پر آ جائیں؟ رباعی کے وزن پر۔ اور ایسا کس لیے کیا جاتا ہے؟ تاکہ رباعی کا کوئی خاصہ ان کے اندر آ جائے اور ان کے اپنے علیحدہ خاصے نہیں ہوتے اور نیز یہ خلافِ قانون ہوتے ہیں، کوئی قانون وغیرہ یہاں پر نہیں ہے کہ آپ کسی بھی باب کے اندر آخری حرف لام کو بڑھا کر آپ یہاں پر لے آئیں، ایسا نہیں ہے۔ کہیں ایک آدھ جگہ عربوں نے استعمال کیا ہے، جیسے جلبب کے اندر بھئی۔ اور دوسرا دیکھ لیجیے، سات ابواب تھے، پہلا ہے فعلل، جیسے جلبب۔ دوسرا آپ نے پڑھا فعولة، جیسے سرولة، دیکھو اس میں واؤ زیادہ کر دیا اور اسی دخرج کے وزن پر لے گئے۔ تیسرا ہے فیعلة، دیکھو اس میں یا زائد کر دی، جیسے سیطرة۔ چوتھا ہے جیسے فیعلة، دیکھو اس میں یا زائد ہے عین کے بعد بھئی۔ اور پانچواں ہے فوعلة، بروزن دحرجة، دیکھو اس میں عین سے پہلے واؤ زیادہ کر دیا۔ اور چھٹا ہے فعنلة، جیسے قلنسة، تو یہاں دیکھو عین اور لام کے درمیان نون زائد کر دیا۔ اور ساتواں باب ہے فعلاة، یہاں یہ اصل میں تھا فعلایة، تو لام کے بعد یا زائد ہے، تو دیکھیں کوئی قانون نہیں ہے۔ کسی میں لام کو بڑھا دیا، فعلل، جلبب۔ کسی میں عین اور لام کے درمیان واؤ بڑھا دیا، جیسے فعبل، سرول۔ کسی میں فا اور عین کے درمیان یا بڑھا دی، جیسے فیعل، سیطر۔ کسی میں عین اور لام کے درمیان یا بڑھا دی، جیسے فیعل، شریف۔ اور کسی میں فا اور عین کے درمیان واؤ بڑھا دیا، جیسے فوعل۔ کسی میں عین اور لام کے درمیان نون بڑھا دیا، فعنل۔ اور کسی میں لام کے بعد یا کو بڑھا دیا، جیسے فعلایة، کیا پھر بن گیا؟ فعلاة، جیسے جلسات۔ تو دیکھو کوئی ضابطہ نہیں، کوئی قانون نہیں، کسی میں ایک جگہ حرف بڑھا رہے ہیں، کسی میں دوسری جگہ حرف بڑھا رہے ہیں، کسی میں تیسری جگہ حرف بڑھا رہے ہیں، کسی میں چوتھی جگہ حرف بڑھا رہے ہیں اور وزن وہی، صورت کس کی بنا لیتے ہیں؟ دخرج کی۔ اور کون سا خاصہ لینے کے لیے؟ الباس ماخذ، الباس ماخذ۔ جیسے جلبب کا معنی؟ جلباب پہنانا، کسی کو جلباب پہنانا۔ سرول کا معنی؟ کسی کو سروال یعنی شلوار پہنانا۔ ہاں، سیطر کا معنی مقرر ہونا، یہ لازمی ہے۔ اور فیعلة، جیسے شریفة، کھیت کے زائد پتے وغیرہ کاٹنا۔ فوعلة، جیسے جوربة، کسی کو جراب پہنانا۔ اور فعنلة، جیسے قلنسة، کسی کو ٹوپی پہنانا۔ اور فعلاة، جیسے جلسات، کسی کو ٹوپی پہنانا۔ تو یہ عموماً اکثر آپ دیکھ رہے ہیں، یہ متعدی ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ اور انہی کو آگے آپ دیکھیں گے، باب تفعلل میں لے جاتے ہیں، تو پھر یہ لازمی بن جاتے ہیں۔ جلبب کا معنی؟ دوسرے کو جلباب پہنانا۔ اور تجلبب کا معنی؟ جلباب پہننا یعنی خود پہننا، تو یہ ہے لازم اور جلبب ہے متعدی اور تجلبب ہے لازمی۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا، تفعلل جو ہے، اس کے ساتھ آٹھ باب ملحق ہیں اور افعنلال کے ساتھ دو باب ملحق ہیں، آٹھ اور دو 10۔ اور افعلال کے ساتھ ایک باب ملحق ہے، تو کل کتنے ہو گئے؟ 11۔ یعنی رباعی مزید فی کے ساتھ 11 باب ملحق ہیں بھئی۔ جیسے تفعلل کے ساتھ کتنے باب ملحق ہیں؟ آٹھ۔ تفعلل، جیسے تجلبب، چادر پہننا، جلباب پہننا۔ تفوعل، جیسے تسرول، شلوار پہننا، دیکھو یہ لازمی ہے، خود شلوار پہننا۔ اور کچھ میں تحول والا خاصہ ہے، جیسے تفیعل، تشیطن یعنی ماخذ بننا، تو تشیطن کس سے ہے؟ شیطان سے یعنی شیطان بننا۔ اسی طرح تعفرت یعنی عفریت بننا یعنی مکار اور شیطان اور خبیث بننا، معنی سمجھ میں آ گیا؟ یا اسی طرح تمسکن، مسکین ہونا، مسکین ہونا۔ اور میں نے بتلایا تھا اس باب تفعلل کا خاصہ مطاوعت ہے، مطاوعت۔ مطاوعت کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک فعل کے بعد دوسرے فعل کو ذکر کیا جائے، یہ بتلانے کے لیے کہ مفعول نے فاعل کے اثر کو قبول کر لیا ہے، جیسے جلببت زیداً، میں نے زید کو جلباب اوڑھائی، جلباب پہنائی فتجلبب زید، تو زید نے جلباب اوڑھ لی۔ دیکھا؟ پہلا کیا تھا؟ متعدی۔ میں نے زید کو چادر اوڑھائی، اس کے لیے باب دخرج لے آئے، جلبب، جلببت زیداً۔ اور دوسرا کیا ہے؟ زید نے چادر اوڑھ لی، وہ لازمی تھا، اس کے لیے باب تفعلل لائے، تجلبب، تجلبب زید، کیا پتہ چل رہا ہے؟ کہ زید نے چادر اوڑھ لی ہے یعنی میں نے اس کو جو چادر اوڑھائی تھی، اس نے اس اثر کو قبول کر لیا اور چادر اوڑھ لی ہے بھئی۔ تو صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا جیسے سرولته، میں نے اس کو شلوار پہنائی، فتسرول، تو اس نے شلوار پہن لی، معلوم ہوا اس نے فاعل کے اثر کو قبول کر لیا۔ تو یہ مطاوعت ہے۔ لیکن یہ نہیں کہ آپ ہمیشہ دو فعلوں کو اکٹھا ہی استعمال کریں گے، جلببت زیداً فتجلبب، نہیں، ہمیشہ اکٹھا استعمال کرنا نہیں ہے لازمی۔ بس اتنا سمجھ لیں، ان میں اس میں خاصیت مطاوعت ہے، تو آپ مطاوعت کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں اور ویسے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ جہاں متعدی استعمال کرنا چاہتے ہیں، وہاں باب دخرج سے جلبب استعمال کر لینا اور جہاں آپ لازمی استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو وہاں باب تفعلل تجلبب استعمال کر لینا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، آئیے بھئی! آج کے سبق پر۔ دیکھیے بھئی! در باب تمفعل خلجان کرده‌اند که زیادت الحاق قبل فا نمی‌آید۔ بھئی! یہ جو باب تمفعل آیا نا، تفعلل کے جو ملحقات ہیں آٹھ، کس کے؟ تفعلل کے جو آٹھ ملحقات ہیں، اس میں چھٹے نمبر پر آیا تھا تمفعل بزیادت تا و ميم قبل فا، چون تمسکن، مسکین شدن، مسکین ہونا، غریب ہونا۔ اس کے بارے میں علماء نے اشکال کیا ہے اور بحث کی ہے بھئی۔ مصنف نے تو باب تمفعل کو کس میں شمار کیا؟ ملحقات میں، تفعلل کے ملحقات میں باب تمفعل یعنی تمسکن کو ذکر کیا۔ لیکن بتلائیں گے آپ کو آگے کہ اس کے اندر علماء نے بحث کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ملحقات میں سے نہیں ہے، ملحقات میں سے نہیں ہے بھئی۔ اور ایک مذہب بیان کریں گے صاحبِ منشعب کا اور ایک مذہب بیان کریں گے مولانا عبد العلی رحمہما اللہ تعالیٰ کا۔ صاحبِ منشعب بڑے صرفی گزرے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ باب تمفعل، مصنف نے تو کیا کہا؟ یہ کس وزن پر ہے؟ تمسکن، مصنف نے یوں کہا، مصنف نے تو کہا باب تمسکن بروزن تمفعل ہے۔ کیا ہے؟ تمفعل۔ تمفعل سے کیا پتہ چل رہا ہے؟ کہ میم بھی زائد ہے، میم کیا ہے؟ معلوم ہوا فا سے پہلے تا بھی زائد، تمفعل، فا سے پہلے تا بھی زائد اور میم بھی زائد۔ جبکہ صاحبِ منشعب، صاحبِ منشعب اور مولانا عبد العلی رحمہ اللہ، وہ فرماتے ہیں کہ نہیں، فا سے پہلے تا تو زائد آ سکتی ہے اور کوئی حرف زائد نہیں آ سکتا۔ اور یہ فا سے پہلے میم ہے، تو فا پر تو صرف کیا مقدم ہو سکتی ہے؟ تا، تا۔ اور تا بھی کس لیے آگے فا پر پہلے لاتے ہیں؟ مطاوعت کے لیے، جیسے جلبب سے کیا بن گیا؟ تجلبب۔ یا یوں کہیں، فعلل سے کیا فعلل سے کیا بن گیا؟ تفعلل۔ فا پر تا زیادہ ہوئی، کس لیے؟ مطاوعت کے لیے۔ جلبب کا معنیٰ تھا چادر اوڑھانا، تو تجلبب کا معنیٰ ہے چادر اوڑھنا۔ تو یہ مطاوعت کے لیے فا پر تا بڑھاتے ہیں اور کوئی حرف فا پر نہیں بڑھاتے۔ اور یہاں تو فا سے پہلے کیا ہے؟ میم، لہٰذا یہ میم، یہ درست نہیں ہے۔ اول تو اس پہ تو دونوں کا اتفاق ہے، توجہ ہے؟ صاحبِ منشعب بھی فرماتے ہیں اور مولانا عبد العلی صاحب بھی فرماتے ہیں کہ فا سے پہلے تا کے علاوہ اور کوئی حرف زائد نہیں ہو سکتا۔ تمسکن پہ نظر رکھیں، تمفعل نہیں، تمفعل تو مصنف نے وزن نکالا نا۔ یہ تو بعد میں ہم ذکر... کریں گے، بس صرف تمسکن پر نظر رکھو، تمسکن۔ تمسکن، صاحب منشعب کیا فرماتے ہیں؟ یہ میم، اس میم کو ہم زائد قرار نہیں دے سکتے، کیوں نہیں زائد قرار دے سکتے؟ مولانا عبد العلی صاحب بھی یہی فرماتے ہیں اور صاحب منشعب بھی، کہ میم کو ہم زائد قرار نہیں دے سکتے۔ کیوں نہیں زائد قرار دے سکتے؟ کیونکہ فا سے پہلے تا کے علاوہ کوئی اور حرف زائد نہیں لاتے اور وہ تا بھی کس لیے زائد لاتے ہیں؟ مطاوعت کے لیے لاتے ہیں، مطاوعت کا فائدہ دینے کے لیے لاتے ہیں اور کوئی حرف فا سے پہلے زائد نہیں لاتے۔ تو اس پر تو دونوں کا اتفاق کہ فا سے پہلے تا کے علاوہ اور کوئی حرف زائد نہیں لا سکتے۔ پھر یہ میم کیا ہے؟ تو صاحب منشعب نے لکھا ہے کہ یہ باب شاذ ہے۔ کیا ہے؟ شاذ ہے۔ لیکن ایک شاذ صحیح ہوتا ہے، فرماتے ہیں یہ شاذ ہے غلط کے قبیل سے۔ میں نے شاذ کی تعریف اپ کو بتلائی تھی۔ شاذ کسے کہتے ہیں؟ جو استعمال کے اعتبار سے ٹھیک ہو، عرب اسی طرح بولتے ہوں، لیکن ضابطے کے خلاف ہو۔ ہم قانون بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ قانون کے نیچے نہیں ا رہا۔ مثلاً عربی کے اندر ہمیں ایک ہزار لفظ ملے، فرض کرو ہم نے خوب تحقیق کی، ایک ہزار لفظ ملے۔ اب ہم ان کو دیکھ کر ایک قانون بنا رہے ہیں۔ اب اپ دیکھیں ان ایک ہزار میں سے ہم نے قانون بناتے بناتے صورت ایک ایسی صورت بنا دی کہ ان ایک ہزار میں سے 999 اس قانون کے مطابق ہو گئے، لیکن ایک لفظ کیا ہے، ابھی بھی قانون کے مطابق نہیں ہو رہا۔ تو سارے لفظ تو قانون کے نیچے اگئے، ایک لفظ رہ گیا، تو پھر علماء اس کو شاذ کہہ دیتے ہیں۔ کیا کہہ دیتے ہیں؟ شاذ۔ کیا معنی؟ استعمال کے اعتبار سے ٹھیک ہے، عرب اسی طرح بولتے ہیں، اس کو غلط نہیں ہم کہہ رہے۔ لیکن قانون ہم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، باقی سارے لفظ قانون کے نیچے ا رہے ہیں، یہ قانون کے نیچے نہیں ا رہا۔ جیسے وہ جو مثال گزری تھی کہ باب فتح سے جو بھی لفظ عربی زبان میں ائے گا، اس کا عین یا لام کیا ہوگا؟ حرف حلقی۔ ہم نے پورے کلام عرب کو چھان مارا، ساروں پہ یہ قانون زبردست فٹ ہو رہا ہے۔ جو بھی باب فتح ہمیں ملتا ہے، ہم دیکھتے ہیں اس کا عین یا لام کیا ہے؟ حرف حلقی ہے۔ لیکن ایک ادھ لفظ ہمیں ایسا مل گیا جیسے ابٰی یابٰی، جس میں جو ا تو اسی باب سے رہا ہے، لیکن اس کا عین یا لام حرف حلقی نہیں۔ تو اب ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ ہمارا قانون ہی غلط ہے، کیونکہ قانون میں تو سارے ا رہے ہیں یا نہیں ا رہے؟ ایک ادھ لفظ رہ گیا ہے، تو پھر اس لفظ کو شاذ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ لفظ استعمال کے اعتبار سے ٹھیک ہے، عرب اسی طرح بولتے ہیں، ہم نے اسی طرح عربوں سے سنا ہے۔ یہ قانون پہلے بنے یا عربی پہلے کے عرب بول رہے تھے؟ عربی پہلے بول رہے تھے، یہ صرف اور نحو سارے بعد میں بنے ہیں، علماء اسلام نے یہ فنون ایجاد کیے۔ تو عرب تو اسی طرح بولتے ہیں، لہٰذا ان کی زبان ہے، لفظ تو ٹھیک ہے، وہ اسی طرح بولتے ہیں۔ لیکن ہمارے قانون کے نیچے نہیں ا رہا، تو کیا کہتے ہیں یہ لفظ شاذ ہے۔ یعنی استعمال کے اعتبار سے ٹھیک ہے، عرب اسی طرح بولتے ہیں، لیکن قانون کے نیچے نہیں ا رہا، یا یوں کہو قانون کی گرفت میں نہیں ا رہا۔ معنی سمجھ میں ا رہا ہے؟ تو یہ ہے شاذ بھئی، جو استعمال کے اعتبار سے ٹھیک ہو اور قانون کی گرفت میں نہ ائے، قانون کے نیچے نہ ائے، اس کو شاذ کہتے ہیں۔ ایک ویسے شاذ، شاذ کا معنی ہے نادر۔ جو بہت کم ہو، بہت کم ہو، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ شاذ ہے، یہ شاذ ہے۔ یعنی بہت کم کہیں عربی میں ایا ہے ایسا، تو اس کو بھی کہتے ہیں یہ شاذ ہے۔ نادر ہے، یعنی بہت قلیل ہے، بہت قلیل ہے، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ شاذ۔ صاحب منشعب اور مولانا عبد العلی صاحب فرماتے ہیں کہ فا سے پہلے صرف تا کی زیادتی ہو سکتی ہے، کسی اور حرف کی زیادتی نہیں ہو سکتی۔ اس پر تو دونوں کا اتفاق۔ پھر اس کے بعد صاحب منشعب فرماتے ہیں کہ تمسکنَ، یہ شاذ ہے یعنی قلیل ہے۔ کیا ہے؟ بے انتہا قلیل ایا ہے۔ کہیں عربوں نے کسی ایک، دو، چار نے استعمال کیا ہوگا، باقی ہم نے کسی عرب سے ایسا نہیں سنا۔ بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ تو کسی ایک ادھ سے سنا ہے، تو علماء نے اس کو کتابوں میں درج کر دیا۔ تو یہ شاذ ہے، کیا ہے؟ شاذ، اور شاذ از قبیلِ غلط ہے، از قبیلِ صحیح نہیں۔ ایک تو شاذ وہ ہوتا ہے جو استعمال کے اعتبار سے صحیح ہوتا ہے، قانون کے نیچے نہیں ا رہا ویسے صحیح۔ تو صاحب منشعب فرماتے ہیں یہ شاذ ہے لیکن از قبیلِ غلط ہے۔ یہ کسی عرب سے غلطی ہوئی جس نے بھی یہ لفظ بولا، وہ کیا سمجھا؟ کہ شاید یہ میم اصلی ہے۔ تمسکنَ میں مسکنَ، میم کیا ہے؟ اصلی ہے، اور اس پر اس نے کیا بڑھا دی؟ تا، فا پر تا بڑھاتے ہیں یعنی بڑھاتے ہیں، تو اس عرب نے بھی اس میم پر کیا بڑھا دی؟ تا بڑھا دی۔ تو بولا تو عرب نے، ہمارے علماء نے، علماءِ صرف نے اس کو عربوں سے سنا اور لکھ بھی لیا، لیکن کوئی ایک ادھ عرب کسی نے یہ لفظ بولا اور یہ اس سے غلطی ہوئی ہے بھئی، یہ باب درست نہیں۔ کیونکہ فا سے پہلے میم زائد نہیں، تو اس عرب نے بھی میم کو اصلی سمجھا یعنی فا سمجھا، اور فا سے پہلے تو تا کی زیادتی ہو سکتی ہے، تو اس نے بھی اس پر کیا کر دی تا کی زیادتی کے ساتھ اس لفظ کو تمسکنَ بول دیا اور اسی طرح کتابوں کے اندر ا گیا۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ تو صاحب منشعب کیا فرماتے ہیں کہ یہ شاذ ہے لیکن صحیح شاذ نہیں بلکہ از قبیلِ غلط ہے، غلطی ہوئی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر۔ کہتے ہیں: در بابِ تمفعل خلجان کردہ اند۔ بابِ تمفعل میں خلجان کیا ہے۔ خلجان اصل میں کہتے ہیں تردد کو۔ کسی چیز میں تردد اور شک ہونا، تردد، شک اور بے چینی ہونا۔ یہاں مراد ہے اشکال، اعتراض۔ یہاں خلجان کا کیا معنی ہے؟ ویسے خلجان جو ہے وہ بے چینی، فکر اور تردد کو کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: در بابِ تمفعل خلجان کردہ اند۔ کہتے ہیں: ہم نے تو بابِ تمفعل پیچھے ذکر کر دیا۔ لیکن باقی صرفی حضرات نے اس میں کیا کیا ہے؟ اشکال کیا ہے، اعتراض کیا ہے، وہ اس کو بابِ تمفعل نہیں بناتے۔ بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: در بابِ تمفعل خلجان کردہ اند، کہ بابِ تفمفعل جو ہے یعنی تمسکن کے اندر علماءِ صرف نے اعتراض کیا ہے، اشکال کیا ہے کہ زیادتِ الحاق قبلِ فا نہ می اید، کہ الحاق کی زیادت جو ہے وہ فا سے پہلے نہیں اتی۔ بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ فا سے پہلے الحاق والی زیادتی نہیں ا سکتی۔ جز تا، سوائے کس کے؟ تا کے، کہ بضرورتِ ادائے معنائے مطاوعت، کہ وہ مطاوعت کے معنی کو ادا کرنے کی ضرورت کی وجہ سے قبلِ فا میں اید، فا سے پہلے اتی ہے۔ وہ تا مطاوعت کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فا سے پہلے اتی ہے۔ پھر ترجمہ سنو، دیکھو یہ ترجمہ ذرا مشکل ہے۔ کہ در بابِ تمفعل خلجان کردہ اند، بابِ تمفعل میں صرفیوں نے اعتراض اشکال کیا ہے کہ زیادتِ الحاق قبلِ فا نہ می اید جز تا کہ بضرورتِ ادائے معنائے مطاوعت۔ توجہ ہے؟ ترجمہ میں اخر سے کروں گا۔ کہ بضرورتِ ادائے معنائے مطاوعت، جو کہ مطاوعت کے معنی کو ادا کرنے کی ضرورت کی وجہ سے قبلِ فا میں اید، فا سے پہلے اتی۔ وہ تا مطاوعت کے معنی کو ادا کرنے کی ضرورت کی وجہ سے قبلِ فا میں اید، فا سے پہلے اتی ہے، یعنی صرف تا اتی ہے۔ پس میم برائے الحاق نہ می تواند شد، پس میم جو ہے وہ الحاق کے لیے نہ می تواند شد، نہیں ہو سکتا۔ میم الحاق کے لیے نہیں ہو سکتا۔ بہمی جہت، اسی وجہ سے صاحبِ منشعب گفتہ، میں نے بتایا منشعب کتاب کا نام ہے۔ اسی وجہ سے مصاحبِ منشعب یعنی منشعب کتاب کے جو مصنف ہیں گفتہ، انہوں نے فرمایا، یعنی اپنی کتاب کے اندر لکھا کہ ایں باب شاذ از قبیلِ غلط است، کہ یہ باب شاذ از قبیلِ غلط ہے، غلط کے قبیل سے ہے۔ یعنی غلطی ہوئی ہے بولنے والے سے۔ میم را اصلی گمان کردہ، میم کو اصلی سمجھا، تا بر ان اوردند، اس کے اوپر تا لے ائے۔ میم کو اصلی سمجھ کر اس پر کیا لے ائے؟ تا لے ائے، کیونکہ تا تو بڑھاتے ہیں، تو میم کو جب اصلی سمجھا تو میم کو فا سمجھے۔ اور فا سے پہلے تو تا لاتے ہیں، تو اس پر بھی کیا بڑھا دی؟ تا، لیکن یہ کہنے والے کی غلطی ہے۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ یہ میم اصلی نہیں۔ مولانا عبد العلی صاحب دوسری تقریر کرتے ہیں بھئی۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ میم زائد ہے ہی نہیں، یہ میم اصلی ہے۔ میم کیا ہے؟ زائد ہے ہی نہیں، یہ میم اصلی ہے۔ چنانچہ وہ بابِ تمفعل کو، وہ بابِ تمفعل کو ملحق کہتے ہی نہیں ہیں۔ وہ اس کو رباعی ہی میں داخل کر دیتے ہیں۔ کیونکہ جب میم بھی اصلی ہوا، میم کیا ہوا؟ تمسکنَ، وزن نکالو اب ذرا، میم اصلی ہے۔ تفعللَ، دیکھا، سیدھا بابِ تفعلل میں لے گئے اس کو کہ میم، سین، قاف، نون، یہ مادہ ہے۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ تو کہتے ہیں: و مولانا عبد العلی صاحب در رسالہ ہدایت الصرف، مولانا عبد العلی صاحب نے رسالہ ہدایت الصرف میں، یہ ان کی کتاب ہے کوئی ہدایت الصرف بھئی۔ رسالہ ہدایت الصرف میں تمفعل را از ملحقات بر اوردہ، تمفعل کو ملحقات سے باہر نکال کر داخلِ رباعی مزید فی کردہ اند، رباعی مزید فی میں داخل کیا ہے۔ ملحقات سے نکال دیے کہ ملحق ہے ہی نہیں، یہ میم تو اصلی ہے۔ مصنف فرماتے ہیں: و تحقیق ایں است، اور تحقیق یہ ہے کہ ملحق است، یہ کیا ہے؟ ملحق ہے۔ حاصلِ کلام کیا ہوا؟ صاحبِ منشعب بھی فرماتے ہیں یہ میم زائد نہیں ہو سکتا۔ اور مولانا عبد العلی صاحب بھی فرماتے ہیں یہ میم زائد نہیں ہو سکتا، کیونکہ فا سے پہلے صرف تا زائد اتی ہے ملحقات کے اندر۔ اور پھر صاحبِ منشعب فرماتے ہیں، یہ میم زائد نہیں ہو سکتا اور یہ باب شاذ ہے اور از قبیلِ غلط ہے، غلطی ہوئی ہے بولنے والے سے۔ کہ اس نے میم کو اصلی سمجھ کر اس پر تا کو بڑھا دیا، حالانکہ یہ درست نہیں ہے بھئی۔ جبکہ مولانا عبد العلی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ میم زائد ہے ہی نہیں، کیونکہ فا سے پہلے تا کے علاوہ کوئی اور حرف زائد نہیں ا سکتا، تو یہ میم اصلی ہے۔ جب یہ میم اصلی ہے تو یہ فا کلمہ ہوا۔ تو تمسکنَ کا وزن کیا ہوا؟ تفعللَ، تو وہ اس کو ملحق کہتے ہی نہیں ہیں، وہ اس کو سیدھا رباعی کہتے ہیں، رباعی مزید فی ہے یہ۔ یہ کیا ہے؟ رباعی مزید فی ہے۔ مصنف فرماتے ہیں: و تحقیق ایں است، اور تحقیقی بات یہ ہے کہ ملحق است، یہ کیا ہے؟ ملحق ہے۔ اب پہلے جواب دینے لگے ہیں۔ صاحبِ منشعب اور مولانا عبد العلی صاحب کو، انہوں نے کیا فرمایا تھا؟ کہ فا سے پہلے میم زائد نہیں ا سکتا، یعنی تا کے علاوہ کوئی زائد نہیں۔ اب جواب دیں گے کہ نہیں۔ فا سے پہلے تا کے علاوہ اور زائد حروف بھی ا سکتے ہیں۔ دیکھیے۔ کہتے ہیں: و تحقیق ایں است کہ ملحق است، تحقیقی بات یہ ہے کہ یہ ملحق ہے، و ایں تقیید، اور یہ قید لگانا کہ زیادتِ الحاق قبلِ فا نہ اید، کہ الحاق کی زیادت فا سے پہلے نہیں اتی، بے جا است، یہ کیا ہے؟ بے جا ہے، یعنی درست نہیں ہے، یہ قید درست نہیں ہے کہ فا سے پہلے تا کے علاوہ اور کوئی زیادت نہیں ا سکتی۔ صاحبِ فصولِ اکبری، یہ فصولِ اکبری صرف کی بڑی مشہور کتاب ہے اور بڑی معتبر آمد کتاب ہے، سمجھ میں آیا؟ اور سینکڑوں سال سے مدارسِ دینیہ میں پڑھائی جا رہی ہے۔ تو صاحبِ فصولِ اکبری یعنی فصولِ اکبری کے مصنف جو ہیں، انہوں نے اکثر صیغوں کو، اکثر صیغوں کو کہ دراں زیادت قبلِ فاءاست کہ ان میں زیادت قبلِ فاءاست، فاء سے پہلے زیادتی ہے، مثلِ نرجسا وغیرہ، جیسے نرجسا وغیرہ ہیں، از ملحقات شمرده، ان کو انہوں نے ملحقات میں سے شمار کیا ہے۔ فصولِ اکبری میں نے بتلایا صرف کی بڑی مشہور کتاب ہے بھئی اور سینکڑوں سال سے مدارس میں پڑھائی جا رہی ہے اور بڑی مشکل کتاب ہے بھئی، بڑی مشکل۔ بڑی مختصر کتاب ہے، مختصر سی بات کرتے چلے جاتے ہیں اور استاد کو پھر بڑی لمبی تقریر کرنا پڑتی ہے۔ تو مصنف فرماتے ہیں کہ صاحبِ منشعب نے بھی کہا فاء سے پہلے تاء کے علاوہ زیادت الحاق کے لیے نہیں ہو سکتی اور مولانا عبد العلی صاحب نے بھی کہا فاء سے پہلے تاء کے علاوہ کوئی اور زیادتی نہیں ہو سکتی۔ کہتے ہیں نہیں، آئیے ہم آپ کو دکھاتے ہیں فصولِ اکبری، جو صرف کی بڑی مشہور کتاب ہے اور بڑی زبردست کتاب ہے، ان کے مصنف نے بہت سے صیغوں کو ملحقات میں شمار کیا ہے، حالانکہ ان میں فاء سے پہلے تاء کے علاوہ اور حروف کی زیادتی ہے۔ ان میں فاء سے پہلے تاء کے علاوہ اور حروف کی زیادتی ہے، جیسے نرجسا۔ نرجسا، یہ نرگس سے ہے، نرگس۔ عربی میں تو گاف نہیں ہے نا، تو گاف کو جيم سے بدل دیا۔ گلِ نرگس یہ ایک پھول کا نام ہے۔ ایک پھول کا نام ہے اور اس کو طبیب لوگ دوائیوں میں استعمال کرتے ہیں۔ تو اسی سے نرجس بنا لیا، کیا بنا لیا؟ نرجس۔ عربی میں لے کے گئے، فارسی والے تو کہتے ہیں نرگس اور وہ کیا کہتے ہیں؟ نرجس۔ اور پھر اسی سے باب بنا لیا، نرجس، ینرجس، نرجسةً۔ تو نرجسا، یہ نرجسا بر وزنِ نفعلا ہے۔ نرجسا بر وزنِ نفعلا۔ معلوم ہوا، فاء سے پہلے کیا زائد ہے؟ نون زائد ہے اور آپ نے تو کیا کہا تھا، فاء سے پہلے تاء کے علاوہ اور کوئی زائد نہیں ہوتا۔ اور صاحبِ فصولِ اکبری اتنے بڑے صرفی گزرے ہیں، وہ ذکر فرما رہے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ فاء سے پہلے نون کی زیادتی بھی ہو سکتی ہے، بلکہ حاشیے والے نے اور مثالیں بھی دی ہیں بھئی۔ نرجسا کے اوپر حاشیہ دیکھیں، چار نمبر۔ یہ دیکھیے بھئی، مل گیا حاشیہ؟ چار نمبر حاشیہ بھئی۔ مل گیا سب کو؟ نرجسا کا کیا معنی بیان کر رہے ہیں؟ نرجسا، در دوا گلِ نرگس انداخت، دوائی میں گلِ نرگس ڈالنا۔ عربی میں اس کا باب ہی بنا دیا، نرجسا، نرجس زیدٌ، زید نے دوائی میں گلِ نرگس، نرگس کے پھول ڈالے۔ تو در دوا گلِ نرگس انداخت۔ وسوائے آن بہ زیادت قبلِ فاء در فصولِ اکبری مذکور است ترقلا۔ بنا بر وزنِ تفعلا۔ دیکھو ترقلا کس وزن پر ہے؟ تفعلا۔ اس میں فاء سے پہلے کیا زائد؟ تاء۔ بناز خرامید، ناز و نخروں سے چلنا۔ ناز و نخروں سے چلا۔ وہلقما بر وزنِ ہفعلا۔ دیکھا فاء سے پہلے کیا زائد؟ ہاء زائد ہے۔ اسی طرح ہفعلا، لقمهٔ کلان خورد، بڑا لقمہ کھایا۔ کوئی روٹی کھا رہا ہے، کھاتے ہوئے بڑا سا لقمہ بنا کر منہ میں ڈال لیا اس نے بھئی، اب اس سے کھایا بھی نہیں جا رہا، تو کیا کہیں گے؟ هلقم، هلقم فلانٌ۔ یا اسی طرح ومرحبا بر وزنِ مفعلا۔ بر وزنِ مفعلا، فاء سے پہلے کیا زائد؟ میم زائد ہے۔ مرحبا گفت، خوش آمدید کہنا۔ عرب کوئی مہمان آئے تو کیا کہتے ہیں؟ مرحبا، خوش آمدید۔ تو اسی سے باب بنا لیا مرحبا اور اس میں میم زائد۔ تو دیکھا ان مثالوں میں آپ نے دیکھا، کبھی فاء سے پہلے نون زائد ہے، کبھی ہاء زائد ہے، کبھی میم زائد ہے۔ معلوم ہوا الحاق کے لیے فاء سے پہلے تاء کے علاوہ اور حروف بھی زائد آ سکتے ہیں۔ تو یہ جواب دے دیا صاحبِ منشعب کو بھی، صاحبِ علم الصیغہ نے۔ صاحبِ منشعب نے بھی فرمایا تھا فاء سے پہلے میم کی زیادتی نہیں آ سکتی اور مولانا عبد العلی صاحب نے بھی فرمایا تھا فاء سے پہلے میم کی زیادتی نہیں آ سکتی، تو ان دونوں کو جواب دے دیا اور صرف کی نہایت معتبر کتاب فصولِ اکبری سے حوالہ دے دیا کہ دیکھو انہوں نے فاء سے پہلے میم، ہاء، نون وغیرہ کی زیادتی ذکر کی ہے الحاق کے لیے بھئی۔ یہ سارے کس میں، بابِ دحرجا میں لے کر گئے ہیں نا؟ تو یہ الحاق کے لیے زیادتی ہے۔ معلوم ہوا تمسکنا کے اندر بھی میم کو زائد شمار کیا جا سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ انہوں نے تو کہا تھا نا، شمار کر ہی نہیں سکتے، لیکن انہوں نے کہا نہیں، شمار کر سکتے ہیں۔ پہلے تو ان کو جواب دے دیا۔ انہوں نے کہا تھا فاء سے پہلے تاء کے علاوہ کچھ نہیں آ سکتا، انہوں نے بتا دیا نہیں، فاء سے پہلے تاء کے علاوہ اور حروف بھی آ سکتے ہیں۔ تو جب اور آ سکتے ہیں تو تمسکنا میں میم اور تاء کو بھی کیا کیا جائے گا؟ زائد شمار کیا جائے گا۔ آگے کہنے لگے ہیں کہ مناطِ الحاق بریں است۔ مناط کہتے ہیں دار و مدار۔ مناط کسے کہتے ہیں؟ دار و مدار۔ مناطِ الحاق بریں است، کہتے ہیں الحاق کا دار و مدار بریں است، اس بات پر ہے۔ یا یوں کہو، مدار الحاق کا مدار اس بات پر ہے کہ، اچھا، پہلے سمجھ لو اس بات کو، ادھر دیکھیے بھئی۔ ابھی تک کیا کیا؟ صاحبِ منشعب کا قول بھی ذکر کیا، مولانا عبد العلی صاحب کا قول بھی ذکر کیا اور پھر ان کو جواب بھی دے دیا کہ آپ کی بات یہ صحیح نہیں ہے۔ اب اپنی دلیل ذکر کرنے لگے ہیں کہ تمسکنا میں یہ تاء بھی زائد ہے اور میم بھی زائد ہے۔ تو کہتے ہیں کہ دیکھو یہ جو الحاق ہے نا الحاق، اس کا دار و مدار دو چیزوں پر ہے۔ جب وہ دو چیزیں پائی جائیں گی تو اس کو ملحق قرار دیا جائے گا، اگر دو چیزیں نہیں تو ملحق بھی قرار نہیں دیں گے۔ تو الحاق کا دار و مدار دو چیزوں پر ہے۔ ایک یہ کہ ثلاثی میں آپ زیادتی کر کے اس کو رباعی کے وزن پر لے جائیں۔ ثلاثی میں آپ زیادتی کر کے کس وزن پر لے جائیں؟ وزنِ صوری مراد، یعنی رباعی جیسی صورت دے دیں۔ دیکھو ابھی تک جتنے ابواب الحاق والے گزرے، سارے رباعی کے وزن پر آئے تھے یا نہیں؟ جیسے جلبب، سرول، قلنس، سارے دیکھ رہے تھے، کس وزن پر آ گئے تھے؟ رباعی کے۔ تو الحاق کا دار و مدار دو چیزوں پر ہے، فرماتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ثلاثی میں کوئی زیادتی کی جائے تو وہ کس وزن پر آ جائے؟ رباعی کے وزن پر۔ وزن ہونا ضروری ہے، وزن نہیں تو ملحق کیسے کرو گے؟ لہٰذا حروف بڑھا کر کس وزن پر لے گئے؟ رباعی کے وزن پر لے گئے۔ اور دوسری بات یہ کہ جو رباعی کے وزن پر آ گیا ہے، وہ کس لیے ہو؟ تاکہ رباعی کا کوئی خاصہ اس ثلاثی کے اندر آ جائے اور اس کے اندر اس خاصے کے علاوہ اپنے کوئی علیحدہ اور خاصے نہ ہوں۔ توجه ہے؟ الحاق کا دار و مدار کتنی چیزوں پر؟ دو۔ نمبر ایک کیا؟ کہ اس کو رباعی کے وزن پر ہونا چاہیے، ثلاثی میں زیادتی کی اور کس وزن پر لے گئے؟ رباعی کے وزن پر۔ وزن ہونا ضروری ہے، وزن نہیں تو ملحق کیسے کرو گے؟ لہٰذا حروف بڑھا کر کس وزن پر لے گئے؟ رباعی کے وزن پر لے گئے۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ ایسا کیوں کیا؟ کیوں اس وزن پر لے کر گئے؟ ہاں، خاص معنی کے لیے۔ اس رباعی کا کوئی خاص معنی اس باب کے اندر آپ لانا چاہتے ہیں، تو پھر اس باب میں وہی ایک خاصہ ہونا چاہیے، مزید خاصے نہیں ہونے چاہئیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا، ضرب سے لے کر ثلاثی مجرد کے سارے باب، ثلاثی مزید فیہ کے سارے باب، رباعی مجرد، رباعی مزید فیہ، ہر باب کے اپنے خاص خاص معانی ہیں۔ عرب نے جب وہ خاص معنی لینا ہو تو اس لفظ کو اس باب میں لے جاتے ہیں۔ جیسے کرم کا کیا معنی تھا؟ شریف ہونا، یعنی عزت والا ہونا۔ اور اگر آپ اس کو متعدی بنانا چاہتے ہیں کہ دوسرے کی عزت کی، دوسرے کو عزت دی، تو اس کو بابِ افعال میں لے گیا عرب اور کیا کہا؟ اکرم، یا بابِ تفعیل میں لے گئے، کرم۔ دیکھا، وہی کرم کو کہاں لے گئے؟ بابِ افعال یا تفعیل۔ یا اسی طرح ثلاثی میں ذہب کا کیا معنی ہے؟ جانا، لیکن میں اس کو متعدی بنانا چاہتا ہوں، لے جانا، تو میں کس باب میں لے جاؤں گا؟ بابِ افعال میں، اذهب کر دوں گا۔ اور جلس کا معنی ہے بیٹھنا، یہ ثلاثی مجرد ہے، لیکن میں اس کا معنی کرنا چاہتا ہوں بٹھانا، متعدی بنانا چاہتا ہوں، تو عرب کیا کرتے ہیں؟ کس باب میں لے جاتے ہیں؟ بابِ افعال میں لے جاتے ہیں۔ تو عرب مختلف معانی کے لیے لفظوں کو مختلف ابواب میں لے کر جاتے ہیں۔ تو ہر باب کے خاصے ہیں۔ ضرب کے اپنے خاصے، فتح کے اپنے خاصے، نصر کے اپنے خاصے، افعال کے اپنے خاصے، تفعیل کے اپنے خاصے، تفعل کے اپنے خاصے، کئی کئی خاصے ہیں بھئی۔ تو یہ جو الحاق والے باب ہیں، ان کے اپنے کوئی خاصے نہیں۔ یہ جو ملحقات ہیں، ان کے اپنے کوئی خاصے نہیں۔ مثلاً جلبب، جلباب کو عرب لے گئے بابِ دحرجا میں۔ جلباب کو کس میں لے گئے؟ بابِ دحرجا میں، جلبب۔ کس لیے؟ کون سا خاصہ لینے کے لیے؟ الباسِ ماخذ، تو جلبب میں صرف ایک ہی خاصہ ہے اور وہ کیا؟ الباسِ ماخذ اور کوئی خاصہ نہیں۔ اس کے اپنے الگ خاصے ہوتے تو ہم اس کو ملحق قرار ہی نہ دیتے، ہم اس کو علیحدہ باب شمار کر دیتے، ملحق بہ رباعی نہ کہتے۔ ثلاثی مزید فیہ ہی رکھتے اور الگ ایک باب بنا دیتے۔ آپ نے ثلاثی مزید فیہ کے کتنے باب پڑھے؟ بارہ، پھر تیرہ ہو جاتے۔ لیکن ہم نے جلبب، ہے تو ثلاثی، لیکن ہم نے ثلاثی مزید فیہ کے تیرہ باب نہیں بنائے، کیوں نہیں بنائے؟ کیونکہ اس کا اپنا اور کوئی خاصہ ہے ہی نہیں۔ اس سے صرف اسی کا ایک خاصہ لیا ہے، اگر یہ علیحدہ باب ہوتا تو پھر اس کے تو اور بھی خاصے ہونے چاہئیں تھے۔ تو گویا حاصلِ کلام کیا؟ الحاق کا دار و مدار دو چیزوں پر ہے۔ کس پر؟ ایک تو یہ کہ ثلاثی میں حروف کی زیادتی کر کے آپ اس کو کس وزن پر لے جاتے ہیں؟ رباعی کے وزن پر لے جاتے ہیں۔ تو وزن بھی رباعی والا ہونا چاہیے اور دوسری بات، کس لیے ایسا کرتے ہیں؟ کہ رباعی کا کوئی خاصہ اس کے اندر آ جائے۔ تو اس کے اندر رباعی کے اس خاصے کے علاوہ اور مزید خاصے نہیں ہوں گے۔ اگر مزید خاصے بھی اس کے اندر ہیں تو پھر تو معلوم ہوا یہ اس کے تابع نہیں، یہ تو اس کے ساتھ ملحق نہیں، اس کے تو اپنے خاصے ہیں۔ الحاق کا دار و مدار دو چیزوں پر ہو گیا۔ ایک تو یہ کہ ثلاثی میں ایک یا زائد حروف بڑھا کر کس وزن پر لے گئے؟ رباعی۔ اور دوسرا یہ، اس کے اپنے خاصے علیحدہ نہیں ہونے چاہئیں۔ وہی ایک آدھ خاصہ جو کہاں سے آیا؟ رباعی سے آیا، وہی خاصہ ہونا چاہیے، زائد خاصے نہیں ہونے چاہئیں۔ اور تمسکنا میں یہ دونوں چیزیں موجود ہیں۔ تمسکنا، تمسکن بر وزنِ تفعلل، دیکھا؟ شروع میں کیا ہے؟ تاء اور میم کی زیادتی کر دی۔ تسربل، یہ آپ نے کیا پڑھا تھا؟ تدحرج۔ آپ نے کیا پڑھا تھا؟ تدحرج۔ تدحرج، بن گیا یا نہیں؟ تمسکن، تدحرج، تسربل، دیکھا تفعلل جیسا وزن بن گیا۔ تو صورت بھی اس جیسی بن گئی اور اسی کا ایک خاصہ اس کے اندر آ گیا۔ تحول، ہونا، ہونا۔ کیا معنی؟ تشیطن کا کیا معنی تھا؟ شیطان ہونا، یعنی ماخذ بن جانا، ایک چیز کا ماخذ بن جانا۔ تو تشیطن کس سے ہے؟ شیطان سے، تو تشیطن کا کیا معنی ہوا؟ شیطان ہونا، شیطان بننا۔ کوئی شیطان ہو جائے، شیطان بن جائے، یعنی تکلیف دینے والا بن جائے تو کیا کہتے ہیں؟ تشیطن فلانٌ۔ اسی طرح مسکین سے باب بنا لیا تمسکنا۔ کیا معنی؟ مسکین ہونا، مسکین بننا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ اس میں تحول اور یہ تحول کس کا خاصہ ہے؟ یہ بابِ تفعلل کا خاصہ ہے۔ تو تمسکن کس وزن پر ہوا؟ تفعلل یعنی وزن صوری اس جیسا ہے، صورت اس جیسی ہے، وزن صرفی تو نہیں، وزن صرفی تو وہ ہے تفعلل اور یہ ہے تمفعل۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ لیکن صورت ایک جیسی ہے۔ تمسکن، تدحرج، تسربل صورت اسی کی طرح ہے۔ تو صورت بھی اس جیسی اور اسی کا ایک معنی بھی لے لیا، اس کے اپنے مزید کوئی خواص اپنے مزید کوئی خاصے بھی نہیں ہیں، تو الحاق کا مدار پایا گیا۔ یوں کہو آسان لفظوں میں، الحاق کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک تو یہ کہ ثلاثی میں اضافہ کرو اور اس کو کس وزن پہ لے جاؤ؟ رباعی۔ اور دوسری اس بات پر کہ اس میں اس کے خاصے کے علاوہ اپنا کوئی علیحدہ خاصہ نہیں ہونا چاہیے اور یہاں دونوں چیزیں موجود ہیں۔ تمسکن کے اندر یہ صورت بھی کس جیسی بن گئی؟ تدحرج اور تسربل جیسی، تفعلل جیسی صورت بھی بن گئی اور نیز اس کا اپنا علیحدہ کوئی خاصہ بھی نہیں ہے۔ معلوم ہوا اس کو ملحقات میں سے ہی شمار کرنا چاہیے، علیحدہ باب نہیں بنانا چاہیے کیونکہ اس کے اپنے علیحدہ خاصے نہیں ہیں۔ اور الحاق کی بنیاد جن دو چیزوں پر ہے وہ دونوں یہاں موجود ہیں۔ اس میں حروف بڑھا دیے، تا اور میم، کس لیے؟ تاکہ یہ کس وزن پر ہو جائے، رباعی مزید فیہ تفعلل کے وزن پر بھی ہو گیا اور اس میں اس کا خاصہ آیا اور اس کے اپنے کوئی خاصے مزید نہیں ہیں۔ یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: منات الحاق بریں است، الحاق کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ مزید فیہ، کہ ثلاثی مزید فیہ، بسببت زیادت بر وزن رباعی گردد، کہ ثلاثی مزید فیہ جو ہے زیادتی کی وجہ سے بر وزن رباعی گردد، رباعی کے وزن پر ہو جائے۔ و معنہ جدید از قبیل خواص علاوه معانی ملحق بہ پیدا نکند۔ و معنہ جدید اور کوئی نیا معنی، یعنی نئے خواص، و معنہ جدید اور کوئی نیا معنی از قبیل خواص، کس قبیل سے؟ خواص کی، خاصوں کی قبیل سے کوئی نیا معنی علاوه معانی ملحق بہ، ملحق بہ کے معانی کے علاوہ پیدا نکند، پیدا نہ کرے۔ پیدا نہ کرے۔ بھئی دیکھو، ایک ہے ملحق، ایک ہے ملحق بہ۔ جیسے تجلبب، تجلبب یہ ہے ملحق۔ اور کس کے ساتھ ملحق ہے؟ تفعلل کے ساتھ، تدحرج کے ساتھ۔ تو تدحرج کو کہیں گے ملحق بہ، یعنی اس کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ تو تجلبب کیا؟ ملحق۔ اور تدحرج جو خود رباعی ہے وہ کیا ہے؟ ملحق بہ۔ تو جو رباعی باب ہے جس کے ساتھ آپ نے ملایا اس کو کہیں گے ملحق بہ، اور جس کو ملایا وہ کیا ہے؟ ملحق۔ جیسے جلبب، یہ کیا ہے؟ ملحق۔ اور ملحق بہ کیا ہے؟ کس کے ساتھ جوڑا؟ دخرج کے ساتھ۔ تسربل، تسربل کیا ہے؟ ملحق۔ اور ملحق بہ کیا؟ کس باب کے ساتھ جوڑا؟ تدحرج، یعنی باب تفعلل کے ساتھ جوڑا۔ تو یہاں یہی بیان کر رہے ہیں کہ الحاق کا مدار کس چیز پر ہے؟ ایک تو کیا، وزن کس کا بن جائے؟ رباعی کا۔ دوسرا اس میں کوئی اور نیا معنی نہیں آنا چاہیے، صرف وہ ایک معنی جو کہاں سے لیا؟ ملحق بہ سے۔ ملحق بہ کا جو خاصہ ہے اس کے اندر آیا ہے اس کے علاوہ کوئی مزید خاصے اس کے اندر نہیں ہونے چاہئیں، یہی ذکر کر رہے ہیں۔ و معنہ جدید از قبیل خواص، اور کوئی نیا معنی خاصوں کی قبیل سے، پیدا نکند، درمیان میں ذرا چھوڑ دیں۔ و معنہ جدید از قبیل خواص پیدا نکند، اور کوئی نیا معنی خاصوں کی قبیل سے، خاصوں کی قبیل سے کوئی نیا معنی پیدا نہ کرے۔ علاوه معانی ملحق بہ، علاوہ کس کے؟ ملحق بہ کے معنی کے۔ جلباب کو کدھر لے گئے؟ جلبب میں۔ تو اس میں کوئی نیا خاصہ آیا؟ نیا خاصہ نہیں۔ سوائے کون سا خاصہ جو کس کا تھا؟ ملحق بہ کا۔ اور وہ کیا؟ الباس ماخذ۔ صرف وہ معنی ملحق بہ کے خاصے کے علاوہ کوئی اور نئے خاصوں والا معنی اس کے اندر نہ آئے۔ اب پھر ترجمہ دیکھ لیں: و معنہ جدید از قبیل خواص، اور کوئی نیا معنی خاصوں کی قبیل سے، علاوه معانی ملحق بہ، علاوہ کس کے؟ معانی ملحق بہ کے، پیدا نکند، اس میں پیدا نہ کرے۔ هر گاہ ایں منات یافتہ شد، جب یہ منات پایا گیا، جب یہ مدار تمسکن میں یہ دونوں چیزیں ہیں یا نہیں؟ کیا؟ الحاق کا مدار کتنی چیزوں پر؟ دو۔ نمبر ایک ثلاثی کو کس وزن پر لے جاؤ؟ رباعی کے۔ تو تمسکن، تفعلل، تو صورت بن گئی یا نہیں؟ تو یہاں پہلی چیز بھی پائی گئی۔ اور نیز دوسرا مدار کس چیز پر تھا؟ کوئی نیا خاصہ اس کے اندر نہ آئے سوائے ملحق بہ کے خاصے کے۔ تو تمسکن میں بھی کوئی نیا خاصہ پیدا نہیں۔ جب الحاق کا مدار جن دو چیزوں پر ہے وہ دونوں تمسکن کے اندر پائی گئیں، تو تمسکن کو بھی کیا قرار دیا جائے گا؟ ملحق قرار دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: هر گاہ ایں منات یافتہ شد، جب یہ مدار پایا گیا، در ملحق بودن تمسکن شبهہ نیست، تو تمسکن کے ملحق ہونے میں شبہ نہیں ہے۔ یعنی تمسکن کیا ہے؟ ملحق۔ دیکھا، ثابت کر دیا کہ تمسکن ملحقات میں سے ہے۔ صاحب منشعب نے کیا فرمایا تھا؟ کہ فا سے پہلے میم زائد آ ہی نہیں سکتا۔ مولانا عبد العلی صاحب نے بھی کیا فرمایا تھا؟ فا سے پہلے میم زائد آ ہی نہیں سکتا۔ تو ان کو جواب دے دیا کہ صاحب فصول اکبری نے میم کے علاوہ اور حروف بھی فا سے پہلے زائد ذکر کیے ہیں، لہٰذا آپ کا یہ دعویٰ صحیح نہیں۔ اور نیز پھر اپنی دلیل بھی ذکر کر دی کہ الحاق کا دارو مدار دو چیزوں پر ہے، اور وہ دونوں تمسکن کے اندر پائی جا رہی ہیں۔ جب دونوں پائی جا رہی ہیں تو اس کو بھی کیا قرار دینا پڑے گا؟ ملحق قرار دینا پڑے گا۔ کون سی دو چیزیں؟ ایک تو یہ کس وزن پر ہو گیا ہے؟ رباعی کے وزن پر۔ اور دوسرا یہ کہ اس میں کوئی نیا خاصہ بھی علاوہ ملحق بہ کے خاصے کے، کوئی نیا خاصہ اس کے اندر نہیں آیا۔ هر گاہ ایں منات یافتہ شد در ملحق بودن تمسکن شبهہ نیست، جب یہ مدار پایا گیا تو تمسکن کے ملحق ہونے میں شبہ نہیں ہے۔ و چو مسکین بر وزن مفعیل است نہ فعلیل، اور مسکین جیسا لفظ جو ہے، و چو مسکین، اچھا! مولانا عبد العلی صاحب نے کیا فرمایا تھا؟ تمسکن میں میم کیا ہے؟ اصلی۔ تو اس کا مادہ کیا ہوا تمسکن کا؟ میم اصلی ہے، میم، سین، کاف، نون۔ تمسکن، تو لہٰذا مسکین اس کا وزن نکالو ان کے مطابق، مولانا عبد العلی صاحب کے نزدیک مسکین کا کیا وزن ہوگا؟ میم تو اصلی ہے، فعلیل، کیا وزن ہوگا؟ فعلیل۔ دیکھا! فا، رباعی ہے نا، انہوں نے تو اس کو رباعی قرار دے دیا۔ فا، عین اور دو لام آ رہے ہیں یا نہیں؟ فعلیل۔ تو ان کے نزدیک یہ رباعی ہے۔ مصنف فرما رہے ہیں کہ نہیں، ہم نے آپ کو بتا دیا تمسکن کیا ہے؟ ملحقات میں سے ہے۔ معلوم ہوا اس میں تا بھی زائد اور میم بھی زائد۔ لہٰذا مسکین میں میم کو زائد قرار دیں گے، یہ اصلی نہیں۔ جب میم زائد ہے اب وزن نکالو، مصنف کے نزدیک مسکین کا کیا وزن؟ مسکین، میم زائد ہے، مفعیل۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یہ ثلاثی ہے۔ مفعیل میں دو لام ہیں؟ نہیں، رباعی میں تو دو لام ہوتے ہیں، تو مفعیل۔ تو مولانا عبد العلی صاحب کے نزدیک مسکین کا وزن کیا؟ فعلیل۔ اور مصنف نے اپنی تقریر کی اور بتلا دیا کہ نہیں، مسکین کا وزن فعلیل نہیں، بلکہ کیا ہے؟ مفعیل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: و چو مسکین، اور جیسے مسکین ہے، یعنی اس جیسے جو الفاظ ہیں، بر وزن مفعیل است، یہ مفعیل وزن پر ہے، نہ فعلیل، نہ کہ فعلیل۔ نیز مزید تقریر کر رہے ہیں ابھی۔ کہتے ہیں: و قاعدہ معینہ محققان صرف، کہ برائے زیادت حرف، مناسبت مزید فیہ با مادہ، بدلالت از دلالات ثلاثہ، یعنی مطابقی و تضمنی و التزامی، کافی است، مقتضی زیادت میم است، در تمسکن و مسکین۔ اب پہلے دلالت کو سمجھ لیں۔ آپ منطق میں دلالت مطابقی، تضمنی اور التزامی پڑھ چکے ہیں۔ اچھا، پھر سن لیں۔ دلالت کسے کہتے ہیں؟ دلالت اسے کہتے ہیں کہ ایک چیز سے آپ کو دوسری چیز کا پتہ لگ جائے۔ دلالت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز سے دوسری کا پتہ چل جائے، اس کو کہتے ہیں دلالت۔ جیسے آپ کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں، کھڑکی میں سے دھوپ کو آپ نے دیوار پر دیکھی، آپ کو کیا پتہ چلا؟ کہ سورج نکلا ہے۔ دیکھا! ایک چیز سے آپ کو دوسری کا پتہ چلا، دھوپ سے آپ کو سورج کا پتہ چلا، تو اس دھوپ نے سورج پر دلالت کر دی۔ یا جیسے آپ نے دور کہیں دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا، تو اس سے آپ کو کیا پتہ چلا کہ کہیں آگ جل رہی ہے۔ تو دیکھو، آپ نے آگ کو تو نہیں دیکھا، دھوئیں کو دیکھا، لیکن اس دھوئیں سے ایک اور چیز یعنی آگ کا آپ کو پتہ چل گیا۔ اس کو کہتے ہیں دلالت کہ دھوئیں نے کس پر دلالت کر دی؟ آگ پر دلالت کر دی۔ تو دلالت کسے کہتے ہیں کہ ایک چیز سے دوسری چیز کا آپ کو پتہ چل جائے، آپ کے ذہن میں آ جائے۔ مثلاً آپ کے ایک ساتھی کا نام ہے زید، میں نے جیسے ہی کہا زید، آپ کے ذہنوں میں فوراً زید کی صورت آ گئی۔ دیکھا! میں نے تو زبان ہلائی ہے، لیکن ذہنوں میں کیا آ گئی؟ زید کی صورت۔ تو دیکھا، اس لفظ نے، لفظ زید نے ذات زید پر کیا کر دی؟ دلالت کر دی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ کمرے کے اندر بیٹھے ہیں، کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ کو کیا پتہ چلا؟ کہ کوئی باہر آیا ہے۔ دیکھا! تو یہ کھٹکھٹانے نے باہر ایک شخص کے وجود پر دلالت کر دی۔ کھٹکھٹانے سے باہر آدمی کا پتہ چلا تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ ایک چیز سے دوسری چیز کا آپ کو پتہ چل جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت کہتے ہیں بھئی، دلالت کہتے ہیں۔ اب یاد رکھو، لفظ اگر اپنے پورے معنی موضوع لہ پر دلالت کرے اس کو کہتے ہیں دلالت مطابقی۔ اور اگر معنی موضوع لہ کے جز پر دلالت کرے تو اس کو کہتے ہیں دلالت تضمنی۔ اور اگر اپنے معنی موضوع لہ کے خارج پر دلالت کرے، اسے کہتے ہیں دلالت التزامی۔ مثلاً دیکھو، مثلاً دیکھو، میں نے آپ کے سامنے کہا سائیکل۔ دیکھو پوری سائیکل آپ کے ذہن میں آ گئی، جس میں دو پہیے ہوتے ہیں، ہینڈل ہوتا ہے، گدی ہوتی ہے اور اس کے حصے چین وغیرہ اور حصے جو ہوتے ہیں، وہ سارے آپ کے ذہن میں آ گئے۔ تو دیکھو، سائیکل نے پوری سائیکل پر دلالت کی، پوری سائیکل آپ کے ذہن میں آ گئی، اس کو کہیں گے دلالت مطابقی۔ کیا کہیں گے؟ یہ لفظ کیا کر رہا ہے؟ اپنے پورے سائیکل کا لفظ کس کے، اچھا، پہلے پھر وضع سمجھ لو، وضع سمجھ لو۔ وضع کا معنی ہے مقرر کرنا۔ وضع کا معنی ہے؟ مقرر کرنا۔ یاد رکھو، یہ جو میں تقریر کر رہا ہوں، آپ ایک ایک بات سمجھتے جا رہے ہیں، کیوں سمجھ رہے ہیں؟ کیونکہ ہم نے مختلف معانی کے لیے مختلف الفاظ مقرر کیے ہیں۔ جیسے ہی وہ لفظ بولتے ہیں وہ چیز ذہن میں آ جاتی ہے، وہ لفظ اس پر دلالت کر دیتا ہے۔ میں نے کہا گلاس، فوراً آپ کے ذہن میں پانی پینے والا ایک برتن آ گیا۔ میں نے کہا پیالی، آپ کے ذہن میں فوراً چائے پینے والا ایک برتن آ گیا۔ میں نے کہا پلیٹ۔ آپ کے ذہن میں فوراً ایک کھانا کھانے والا برتن آپ کے ذہن میں آ گیا۔ میں نے کہا گاڑی، فوراً آپ کے ذہن میں ایک سواری والی چیز آ گئی جس میں لوگ سفر کرتے ہیں۔ میں نے کہا موٹر سائیکل، آپ کے ذہن میں فوراً دو پہیوں والی ایک سواری آ گئی۔ میں نے کہا مدرسہ، آپ کے ذہن میں فوراً ایک جگہ آ گئی جہاں طلباء علم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ میں نے کہا مسجد، فوراً آپ کے ذہن میں ایک جگہ آ گئی جہاں لوگ نماز ادا کرتے ہیں۔ تو دیکھو، میں بول رہا ہوں لفظ اور لفظ ان چیزوں پر دلالت کر رہے ہیں۔ مسجد کس پر دلالت کر رہا ہے؟ عبادت گاہ پر۔ گاڑی کس پر دلالت کر رہی ہے؟ وہ جو سواری ہے۔ تو یہ جو لفظ دلالت کر رہے ہیں مختلف معانی پر، یہ خود بخود نہیں کر رہے، یہ ہم نے مقرر کیے ہیں۔ کیا کیے ہیں؟ اس کو کہتے ہیں وضع، مقرر کرنا۔ ہم نے مختلف معانی کے لیے مختلف الفاظ مقرر کر رکھے ہیں۔ مثلاً بہادری کا معنی اور ہے اور بزدلی کا معنی اور ہے۔ سچ بولنا اس کا معنی اور ہے، جھوٹ بولنا اس کا معنی اور ہے۔ یہ ہر ایک، ہر معنی کے لیے ہم نے لفظ مقرر کیے ہیں۔ لیکن یہی لفظ اگر میں کسی عربی آدمی کے سامنے کہوں، میں عربی کے سامنے کہوں گاڑی، اس کو کچھ پتہ نہیں چلے گا؛ کیونکہ انہوں نے گاڑی کے لیے یہ لفظ مقرر نہیں کیا، انہوں نے گاڑی کے لیے سیارہ کا لفظ مقرر کیا ہے۔ میں عرب کے سامنے موٹر سائیکل کہوں، اسے کچھ پتہ نہیں چلے گا؛ کیونکہ انہوں نے موٹر سائیکل کے لیے یہ لفظ مقرر نہیں کیا، وہ اس کو دراجة نارية کہتے ہیں۔ دراجة نارية۔ اور سائیکل کہوں، اسے کچھ پتہ نہیں چلے گا؛ کیونکہ سائیکل کو وہ سائیکل نہیں کہتے، اس کا نام انہوں نے دراجة رکھا ہے۔ دراجة۔ ہر زبان والوں نے معانی کے لیے اپنے اپنے لفظ مقرر کیے ہوئے ہیں۔ یہی باتیں جو میں آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں، آپ سمجھتے جا رہے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں اس لفظ کا یہ معنی ہے، اس کا یہ معنی ہے، اس کا یہ معنی ہے، کیونکہ آپ اردو بولنے والے ہیں۔ لیکن عرب کے سامنے میں یہ تقریر کروں تو انہیں کچھ بھی سمجھ میں نہیں آئے گا؛ کیونکہ انہوں نے یہ الفاظ مقرر نہیں کیے، انہوں نے اپنے الفاظ مقرر کیے ہیں۔ وہ بھی یہی چیزیں ذکر کرتے ہیں جب سبق پڑھاتے ہیں، یہی باتیں ذکر کرتے ہیں، لیکن وہ اپنے الفاظ استعمال کرتے ہیں؛ کیونکہ انہوں نے اپنے الفاظ مقرر کیے ہوئے ہیں ہر ہر معنی کے لیے۔ اور اسی طرح اگر انگریز کے سامنے ہو، انگریزی والوں نے اپنے الفاظ مقرر کیے ہوئے ہیں۔ تو ہر زبان والوں نے ہر قسم کے معانی کے لیے اپنے اپنے الفاظ مقرر کر رکھے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں وضع۔ وضع۔ تو وضع کا معنی کیا ہوا؟ مقرر کرنا، مقرر کرنا۔ تو دلالت کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک چیز سے دوسری چیز آپ کے ذہن میں آ جائے، دوسری چیز کا آپ کو پتہ لگ جائے۔ اور پھر ایک لفظ کو جس معنی کے لیے مقرر کیا جائے، وہ اس کا معنی موضوع لہُ ہے۔ وہ کیا ہے اس کا معنی؟ موضوع لہُ۔ جیسے سائیکل، ابھی میں نے مثال ذکر کی۔ سائیکل کس چیز کا نام ہے؟ ایک سواری ہے جس کے دو پہیے ہوتے ہیں اور ہینڈل ہے، گدی ہے، چین ہے اور اس کے حصے وغیرہ ہیں، آپ سب جانتے ہیں۔ تو اس کے لیے ہم نے کیا لفظ مقرر کیا ہے؟ سائیکل۔ تو یہ جیسے ہی میں سائیکل بولوں، آپ کے ذہن میں فوراً سائیکل آ جاتی ہے۔ اور یہ خود بخود سائیکل ذہن میں آتی ہے یا ہم نے اس کے لیے یہ نام مقرر کیا ہے؟ ہم نے یہ مقرر کیا ہے۔ عرب کے سامنے بولو تو اسے سمجھ میں نہیں آئے گی۔ تو یہ ہم نے مقرر کیا ہوا ہے۔ تو جس کے لیے وہ لفظ مقرر ہو، اس کو کہتے ہیں موضوع لہُ۔ وضع کا کیا معنی؟ مقرر کرنا۔ موضوع لہُ، جس کے لیے کیا کیا ہے؟ مقرر کیا ہے۔ تو لفظ سائیکل ہوا موضوع، اس کو مقرر کیا ہے۔ اور سائیکل خود کیا ہوئی؟ موضوع لہُ، جس کے لیے اس کو کیا کیا ہے؟ مقرر کیا ہے۔ یا جیسے میں کہتا ہوں گلاس۔ جیسے ہی گلاس بولا، پانی پینے والا ایک برتن آپ کے ذہن میں آ گیا۔ تو لفظ گلاس ہوا موضوع، اس لفظ کو ہم نے مقرر کیا ہے۔ اور کس کے لیے مقرر کیا ہے؟ پانی پینے والے برتن کے لیے، وہ کیا ہوا؟ موضوع لہُ۔ یا جیسے کسی کا بیٹا ہوا، اس نے اس کا نام رکھا زید۔ تو کیا اس کے لیے کیا لفظ مقرر کیا، کیا نام مقرر کیا؟ زید، تو زید ہوا موضوع۔ اور جس کے لیے، جس بچے کے لیے وہ مقرر کیا، وہ ہوا موضوع لہُ۔ اب جب بھی زید بولیں گے، آپ کے ذہن میں فوراً وہی بچہ آئے گا۔ تو موضوع وہ لفظ جس کو مقرر کیا گیا، وہ چیز جس کو مقرر کیا گیا۔ اور موضوع لہُ جس کے لیے وہ مقرر۔ تو سائیکل ایک لفظ ہے۔ اور جیسے ہی یہ بولیں تو وہ ایک سواری آپ کے ذہن میں آتی ہے، وہ کیا ہے؟ موضوع لہُ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر دہراؤ۔ دلالت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ لگ جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ جیسے میں نے کہا سائیکل، آپ کے ذہن میں فوراً وہ سواری آ گئی۔ اور خود بخود آئی یا اس کے لیے ہم نے یہ نام مقرر کیا ہے؟ مقرر کیا ہے۔ تو سائیکل ایک لفظ ہے اور وہ جو خارج میں ایک سواری ہے، وہ ہے اس کا موضوع لہُ۔ وہ کیا ہے اس کا؟ موضوع لہُ۔ تو جب میں نے کہا سائیکل، آپ کے ذہن میں پوری سائیکل آ گئی۔ اس کے پہیے بھی، گدی بھی، ہینڈل بھی، اس کے باقی حصے بھی سارے آپ کے ذہن میں آ گئے۔ تو دیکھا، سائیکل کے لفظ نے اپنے پورے موضوع لہُ پر دلالت کر دی۔ سائیکل کے لفظ نے، جس کے لیے مقرر کیا تھا، وہ سارا کا سارا ذہن میں آ گیا یا نہیں؟ تو سارے پر اس نے دلالت کر دی۔ تو اس کو کہیں گے دلالت مطابقی، کہ لفظ کیا کرے؟ اپنے پورے معنی موضوع لہُ پر دلالت کرے۔ جس چیز کے لیے مقرر کیا ہے وہ ساری پر دلالت کرے، وہ کیا ہے؟ دلالت مطابقی۔ اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے، جس لفظ کو جس چیز کے لیے مقرر کیا ہے، جب بھی بولو گے وہ ساری ذہن میں آئے گی۔ جیسے انسان، جیسے ہی میں نے انسان کہا، پورا انسان آپ کے ذہن میں آ گیا۔ یا جیسے میں کہتا ہوں کتاب، پوری کتاب آپ کے ذہن میں آ گئی کہ اس کے ارد گرد جلد بھی ہوگی، اس کے صفحات بھی ہوں گے، اس کے اندر لکھا بھی ہوا ہوگا، ساری چیز آپ کے ذہن میں آ گئی۔ تو جب بھی لفظ بولا جائے اور اس کا پورا معنی ذہن میں آتا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت مطابقی۔ اور جب پورا موضوع لہُ ذہن میں آیا تو اس کے اجزاء بھی آ گئے یا نہیں آ گئے؟ جب سائیکل پوری ذہن میں آ گئی تو پہیے بھی آ گئے یا نہیں؟ تو معلوم ہوا سائیکل نے اس سائیکل کے پہیوں پہ بھی دلالت کی۔ تو یہ دلالت تضمنی ہوئی۔ مطابقی کیا تھی؟ پوری سائیکل ذہن میں آئی۔ پوری آئی تو ساتھ پہیے آئے یا بغیر پہیوں کے آئی؟ پہیے ساتھ ہیں اور پہیہ سائیکل کا کل ہے یا جزو ہے؟ جزو ہے۔ تو جب آپ نے کہا سائیکل، پوری سائیکل ذہن میں آ گئی۔ اور جب پوری سائیکل ذہن میں آئی تو پہیے بھی ذہن میں آئے یا نہیں؟ ایک ایک جزو بھی ذہن میں آ گیا۔ پہیے بھی آ گئے، ہینڈل بھی آ گیا، گدی بھی آ گئی، اس کی چین بھی آ گئی، اس کے پیڈل بھی آ گئے، سارا کچھ ذہن میں آ گیا۔ تو ایک ایک جزو پر بھی دلالت ہو گئی۔ اسی لفظ سائیکل نے، پہیے بھی آ گئے یا نہیں؟ ان پہ بھی دلالت ہو گئی۔ گدی بھی آ گئی یا نہیں ذہن میں؟ گدی پہ بھی دلالت ہو گئی۔ ہینڈل بھی ذہن میں آیا یا نہیں؟ ہینڈل پہ بھی دلالت ہو گئی۔ پیڈل بھی ذہن میں آئے کہ نہیں؟ پیڈل پہ بھی دلالت ہو گئی۔ تو ایک ایک جزو پر بھی دلالت ہو گئی۔ اور یہ سائیکل کا لفظ ایک ایک جزو کے لیے وضع تھا؟ نہیں، یہ تو پوری سائیکل کے لیے وضع تھا۔ تو پوری کے ساتھ اجزاء بھی آ رہے ہیں۔ تو جو پوری ذہن میں سائیکل آ رہی ہے، اس کو کہیں گے دلالت مطابقی، پورے موضوع لہُ ہے۔ اور ایک ایک جزو جو ہے اس پر جو دلالت ہو رہی ہے، وہ کیا ہے؟ دلالت تضمنی ہے۔ اور سائیکل کے ساتھ ہی اس کا چلانا بھی ذہن میں آ گیا کہ لوگ اس پر کیا کرتے ہیں؟ سفر کرتے ہیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ سائیکل کا جزو ہے؟ چلانا، سائیکل کا چلانا کوئی سائیکل کا جزو ہے؟ نہیں۔ سائیکل کا جزو تو صرف یہ چیزیں ہیں جو پہیے ہیں، گدی وغیرہ۔ چلانا سائیکل کے ساتھ لازم ہے۔ جب بھی سائیکل بناتے ہیں، اس کو بناتے کس لیے ہیں تاکہ اس کو چلایا جائے۔ تو چلانے کا بھی ذہن میں تصور آ گیا، لیکن یہ چلانا یہ نہ سائیکل کا کل ہے اور نہ جزو ہے، ہاں اس کے ساتھ لازم ہے، وہ بھی ذہن میں آ گیا۔ تو یہ ہے دلالت التزامی۔ تو دلالت مطابقی کسے کہتے ہیں؟ کہ پورے معنی موضوع لہُ پر دلالت ہو۔ دلالت تضمنی کسے کہتے ہیں؟ موضوع لہُ کے جزو پر دلالت ہو۔ اور دلالت التزامی کسے کہتے ہیں؟ کہ موضوع لہُ کے لازم پر دلالت کرے۔ سائیکل کے ساتھ چلانا لازم ہے، اس کو بنایا ہی کس لیے گیا ہے؟ چلانے کے لیے۔ جیسے سورج کے ساتھ دن کا ہونا لازم ہے۔ جیسے ہی سورج کا تصور ذہن میں آتا ہے، دن کا بھی تصور آ جاتا ہے۔ حالانکہ دن یہ سورج کا کوئی حصہ ہے، سورج کا کوئی جزو ہے؟ نہیں، لیکن یہ سورج کے ساتھ لازم ہے۔ جیسے ہی سورج نکلے گا، کیا ہوگا؟ دن۔ تو سورج کے ساتھ ذہن میں خود بخود دن کا بھی تصور آ جاتا ہے۔ ایک اور مثال لے لو۔ چاقو، چاقو میں ایک اس کا اگلا لوہے والا حصہ ہے جس سے چیزوں کو کاٹتے ہیں، اس کو کہتے ہیں پھل، چاقو کا پھل۔ اور ایک اس کا دستہ ہے جو لکڑی وغیرہ یا پلاسٹک کا بنا ہوگا۔ اور اس سارے کو کہتے ہیں چاقو۔ تو جب میں نے چاقو کہا، پورا چاقو آپ کے ذہن میں آیا یا نہیں؟ جب پورا چاقو ذہن میں آیا تو دستہ بھی ذہن میں آیا یا نہیں؟ اور پھل بھی ذہن میں آ گیا اس کا، جو لوہے کا کاٹنے والا حصہ ہے۔ جب چاقو بولا، پورا چاقو ذہن میں آیا، یہ کیا ہے؟ دلالت مطابقی۔ اور جب پورا چاقو ذہن میں آیا تو دستہ ہے بیچ میں یا نہیں ہے؟ دستہ تو ہے، پھر ویسے تو پورا ہی نہیں ہو سکتا۔ تو چاقو کی دلالت صرف دستے پر بھی ہو گئی۔ اور چاقو کی دلالت صرف پھل پر بھی ہو گئی۔ پورے چاقو پر بھی ہوئی، وہ کیا؟ دلالت مطابقی۔ اور صرف دستے پر بھی ہوئی، دستہ بھی ذہن میں آیا یا نہیں؟ اور پھل بھی آیا یا نہیں آیا؟ تو چاقو کی دلالت صرف پھل پر، یہ کیا ہے؟ تضمنی، یعنی جزو پر، جزو پر، موضوع لہُ کے جزو پر۔ اور اسی طرح چاقو کا پھل، یہ بھی کیا ہے؟ چاقو کا ایک جزو ہے۔ تو لفظ کی دلالت معنی موضوع لہُ کے جزو پر، یہ کیا ہے؟ دلالت تضمنی۔ اور چاقو کے ساتھ ہی چیزوں کو کاٹنا بھی ذہن میں آ گیا کہ اس کے ذریعے کیا کرتے ہیں؟ چیزوں کو کاٹتے ہیں۔ حالانکہ یہ چیزوں کو کاٹنا، یہ چاقو کا جزو ہے؟ نہیں، یہ نہ کل ہے نہ جزو۔ ہاں، چاقو کے ساتھ لازم ہے، چاقو کو بنایا ہی کس لیے گیا ہے؟ چیزوں کو کاٹنے کے لیے۔ تو جیسے ہی چاقو ذہن میں آتا ہے، ساتھ ہی کاٹنے کا تصور بھی آ جاتا ہے۔ تو یہ ہے چاقو کا لازم، یعنی یہ ہے دلالت التزامی۔ تو چاقو بولا، پورا چاقو ذہن میں آیا، یہ ہے دلالت مطابقی۔ اور جب پورا ذہن میں آیا تو ساتھ چاقو کا دستہ بھی ہے اور پھل بھی ہے، تو یہ ایک ایک جزو پہ بھی دلالت ہو گئی، یہ کیا ہوئی؟ دلالت تضمنی۔ اور ساتھ ساتھ کاٹنا، یعنی چاقو کے ایک لازم پر بھی دلالت ہو گئی جو نہ اس کا جزو ہے اور نہ کل ہے، اس کے ساتھ لازم ہے، یعنی ہمیشہ اس کے ساتھ ذہن میں آ جاتا ہے۔ سورج جیسے ہی بولیں، فوراً دن ذہن میں آ جاتا ہے۔ سائیکل جیسے ہی بولیں، اس کو چلانے کا تصور ذہن میں آ جاتا ہے۔ چاقو جیسے ہی بولیں، اس کے ساتھ کاٹنے کا تصور ذہن میں آ جاتا ہے۔ حالانکہ یہ چیزیں نہ ان کا کل ہیں اور نہ جزو، ہاں ان کے ساتھ لازم ہیں۔ سورج جب بھی نکلے گا، دن لازم ہوگا، ضرور ہوگا۔ سائیکل جب بھی بنائیں گے، بنائیں گے کس لیے؟ چلانے کے لیے۔ چاقو جب بھی بنائیں گے، بنائیں گے ہی کس لیے؟ کاٹنے کے لیے۔ تو یہ چیزیں ان کے ساتھ لازم ہیں، ان سے جدا ہوتی ہی نہیں ہیں۔ تو اگر معنی موضوع لہُ کے کل پر دلالت ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالت مطابقی۔ اور جزو پر ہو تو؟ دلالت تضمنی۔ اور لازم پر ہو تو؟ دلالت التزامی۔ اور یاد رکھو، جب بھی آپ لفظ بولتے ہیں، تینوں دلالتیں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ طلباء سمجھتے ہیں شاید ایک وقت میں ایک ہوگی، نہیں۔ دلالتیں ساری ہو گئیں۔ میں نے جیسے ہی کہا سائیکل، کل سائیکل ذہن میں آئی؟ اس کا ایک ایک جزو بھی آیا؟ اور چلانا بھی آیا تو انوکھا لاتے ہیں ہو گیا۔ ہاں میں ارادہ کس کا کرتا ہوں، کبھی سائیکل بول کے میں پوری سائیکل مراد لے لوں گا۔ معلوم ہے میرا ارادہ دلالت مطابقی کا ہے۔ توجہ ہے میرا ارادہ دلالت مطابقی کا ہے، یہ مطلب نہیں کہ یہاں دلالت تضمنی اور التزامی نہیں ہے، دلالت مطابقی بھی ہے یہاں پر، تضمنی بھی ہے، التزامی بھی ہے تو گویا تین معنی آ رہے ہیں یہاں پر۔ سائیکل سے یا سائیکل مراد ہے، یا اس کا جز مراد ہے، یا اس کا چلانا مراد ہے، میں ان میں سے ایک کا ارادہ کر لیتا ہوں۔ تین معنی آ رہے ہیں ایک ہی لفظ کے، ایک کون سا معنی ہے؟ مطابقی، ایک کون سا ہے؟ تضمنی، ایک کون سا ہے؟ التزامی، اب میں ارادہ ایک معنی کا کروں گا، کبھی میں سائیکل بول کر پوری سائیکل مراد لوں گا۔ اور کبھی میں سائیکل بول کر اس کا جز مراد لے لوں گا، آپ بھی اس طرح کرتے ہیں، آپ بھی عام بول چال میں کرتے ہیں، آپ نے کبھی غور نہیں کیا۔ مثلاً آپ نے کہیں جانا تھا اور آپ کی سائیکل کا پہیہ ٹوٹ گیا، اگلا پہیہ ٹوٹ گیا، آپ سے اگلے دن ساتھی نے کہا بھئی آپ آئے کیوں نہیں؟ آپ کہتے ہیں میری سائیکل ٹوٹ گئی تھی۔ سائیکل ٹوٹی تھی یا اس کا ایک جز ٹوٹا تھا؟ جز ٹوٹا تھا دیکھا تو آپ کل بول کر جز مراد لے رہے ہیں۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ یا آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں کہ میں روز صبح قرآن کی تلاوت کرتا ہوں۔ قرآن کتنے پاروں کا نام ہے؟ تیس پاروں کا آپ روز تیس پاروں کی تلاوت کرتے ہیں یا ایک دو تین پاروں کی تلاوت کرتے ہیں؟ ایک دو یا تین کی، تو دیکھا کل بول کر کیا مراد لے رہے ہیں؟ جز مراد لے رہے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی تو یہ ہم عام استعمال کرتے ہیں اس طرح لیکن ہم نے کبھی غور نہیں کیا۔ تو لہذا جب بھی کوئی لفظ ہم بولیں، کل بھی ذہن میں آئے گا، اگر اس کے جز ہیں تو جز ذہن میں آئیں گے، اور اگر اس کا کوئی لازم ہے تو وہ لازم بھی ذہن میں آئے، تو دلالتیں تینوں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ جب پوری سائیکل ذہن میں آئی تو ایک ایک جز آیا یا نہیں تو تضمنی بھی ہو گئی اور اس کا چلانا بھی ذہن میں آیا تو دلالت التزامی بھی ہو گئی، ہاں ان میں سے ارادہ پھر ایک معنی کا کیا جاتا ہے۔ تو طلاب عموماً سمجھتے ہیں جہاں مطابقی ہوگی وہاں تضمنی نہیں ہوگی، جہاں تضمنی ہوگی وہاں التزامی نہیں ہوگی، نہیں نہیں، یہ ہوں گی تینوں اکٹھی جب یہ تینوں موجود ہوں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے، ایک چیز کا جز ہے تو دلالت تضمنی بھی ہوگی، اگر جز ہی نہیں ہے تو تضمنی کہاں سے؟ اگر جز نہیں ہے پھر تضمنی نہیں ہوگی وہاں پر، اور ایک چیز کا لازم ہے تو التزامی دلالت بھی ہوگی، اگر ایک چیز کا لازم ہی نہیں ہے تو التزامی کہاں سے؟ التزامی میں تو ہوتی کس پر دلالت ہے؟ لازم پر، جب لازم ہی نہیں ہے لیکن اگر ایک چیز ہے اس کا کل بھی ہے، پھر اس کے جز بھی ہیں، اس کا لازم بھی ہے، آپ جیسے ہی بولیں گے تینوں دلالتیں ہو گئیں، وہ پوری چیز ذہن میں آ گئی، جب پوری آئی تو ساتھ اس کا ایک ایک جز بھی آ گیا، کیونکہ اگر ایک ایک جز نہیں آیا تو کل کیسے آ گیا ذہن میں، تو ایک ایک جز بھی آ گیا اور ساتھ ہی اس کا لازم بھی آ گیا، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی تو دلالت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز سے آپ کو دوسری چیز کا پتہ لگ جائے۔ آپ گاڑی چلا رہے تھے، سرخ رنگ کی لائٹ جیسے ہی جلی، آپ نے گاڑی روک لی، دیکھا؟ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلا، صرف سرخ لائٹ جلی لیکن آپ کو پتہ چل گیا اب گاڑی کو کیا کرنا ہے؟ روکنا ہے، تو یہ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلا، یا جیسے ہی سبز لائٹ جلی، آپ نے گاڑی چلا دی۔ دیکھو، ایک چیز سے دوسری چیز کا کیا ہوا؟ پتہ چلا کہ اب گاڑی چلانے کا وقت ہے، اب چلا دیں گاڑی، آپ جا سکتے ہیں تو اس کو کہتے ہیں دلالت، جہاں بھی ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت، یہ میں جتنی تقریر کر رہا ہوں ایک ایک لفظ بولتا جا رہا ہوں، آپ کے ذہن میں اس کا معنی آتا جا رہا ہے، یہ ہے دلالت بھئی۔ جس معنی کے لیے اس لفظ کو مقرر کیا ہے، وہ پورا معنی وہ کیا کہلاتا ہے اس کا معنی موضوع لہ، یہ لفظ ہوا موضوع اور وہ معنی کیا ہوا موضوع لہ، پھر اس موضوع لہ کے اجزاء اگر ہوں تو وہ ہے کل اور اس کے جز بھی ہیں، لفظ جب بھی بولتے ہیں تو وہ اپنے پورے معنی موضوع لہ پر دلالت کرتا ہے تو یہ کیا ہوئی دلالت مطابقی اور پوری چیز ذہن میں آئی، معلوم ہوا اس کا ایک ایک جز بھی ذہن میں آیا، اگر کوئی جز ذہن میں نہیں آیا تو پھر تو پورے پر دلالت ہی نہ ہوئی، تو جب اس کے جز بھی ایک ایک ذہن میں آ گیا تو دلالت تضمنی بھی ہو گئی اور اگر اس کا کوئی لازم ہے تو وہ بھی ذہن میں آ گیا تو دلالت التزامی بھی ہو گئی۔ دلالتیں جتنی ہوں گی وہ ساری اکٹھی پائی جائیں گی۔ اور لیکن پھر ان میں سے ارادہ کسی ایک کا ہوگا، یا تو آپ پورے کل کا ارادہ کریں گے یا جز کا یا اس کے لازم کا بھئی لازم کا۔ تو یہاں بھی یہی بتانا چاہ رہے ہیں کہ محققین نے لکھا ہے، علمائے توجہ ہے؟ وہ کہتے ہیں علمائے محققین نے لکھا ہے کہ کسی حرف کو زائد قرار دینے کے لیے مزید فی کی اپنے مادہ کے ساتھ تین دلالتوں میں سے کوئی ایک دلالت بھی ہو تو یہ کافی ہے۔ کیا؟ ایک تو ہے نا مزید فی، مزید فی کس کو کہیں گے؟ جس میں حروف کیا ہوں؟ زائد ہوں اور ایک اس کا اصل مادہ ہے جیسے جل بابا اس کا اصل مادہ کیا؟ ج ل ب اور اس میں ایک ب کیا ہے؟ زائد ہے، تو کسی حرف کو زائد قرار دینے کے لیے مزید فی کی مناسبت کس کے ساتھ ہونی چاہیے؟ مزید فی کی مناسبت اپنے مادہ کے ساتھ اور یہ مناسبت یہ مناسبت چاہے دلالت مطابقی کے طریقے پر ہو، چاہے دلالت تضمنی کے طریقے پر، چاہے دلالت التزامی کے طریقے پر، پھر سنو، یہ دیکھو یہ ہے یہ ہے مزید فی اور یہ ساتھ ہے اس کا مادہ، اس کا مادہ، اس کو ہم اس کا مادہ قرار دیں گے اور مزید فی میں جو زائد حروف ہیں ان کو زائد قرار دیں گے، کب؟ جب اس مزید فی کی مناسبت ہو کس کے ساتھ؟ مادہ کے ساتھ، کس طریقے پر؟ تین دلالتوں میں سے کسی ایک طریقے پر، چاہے دلالت مطابقی ہو، چاہے تضمنی ہو، چاہے التزامی ہو۔ بات سمجھ میں آئی؟ پھر دیکھیں یہ دیکھیں یہ ہے میرے سامنے ایک مزید فی اور دوسری طرف یہ ہے اس کا مادہ، اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو اس کا مادہ قرار دیں گے، کب؟ جب اس مزید فی کی جس میں زائد حروف ہیں، اس کی مناسبت ہو اس مادہ کے ساتھ، پھر ہی مادہ قرار دیں گے کہ آنکھیں بند کر کے کسی بھی چیز کو اس کا مادہ قرار دے دیں گے؟ مناسبت ضروری ہے، تو اس مزید فی کی اس مادہ کے ساتھ مناسبت ہوگی تو اس کو اس کا مادہ قرار دیں گے، کون سی مناسبت؟ کہتے ہیں محققین سر فرماتے ہیں، تین دلالتوں میں سے کوئی بھی دلالت وہاں پائی جائے، چاہے دلالت مطابقی والی مطابقت ہو۔ اور کبھی دونوں میں دلالت کون سی ہوگی؟ تضمنی ہوگی۔ اور کبھی دلالت التزامی ہو وہ بھی کافی ہے۔ अच्छा चलिए मेरा ख्याल बस करते हैं भئی, आप भी थक गए, बाकी फिर इंशाاللہ اگلے سبق میں کر لیں گے۔ تو بہرحال یہ آپ نے دہرا کر آنا ہے بھئی کہ دلالت کسے کہتے ہیں، پھر موضوع کسے کہتے ہیں، موضوع لہ کسے کہتے ہیں اور دلالت مطابقی کسے کہتے ہیں، تضمنی کسے کہتے ہیں اور التزامی کسے کہتے ہیں، کل پھر آگے کر لیں گے بھئی۔ چلیے بھئی اب اردو کی کتاب میں دیکھ لیں۔ باب تمافعُل میں علمائے صرف نے اشکال کیا ہے یعنی اعتراض کیا ہے، عبارت مل گئی؟ باب تمافعُل میں علمائے صرف نے اشکال کیا ہے کہ الحاق کے لیے کوئی حرف فا سے پہلے زائد نہیں کیا جاتا بجز تا کے علاوہ، علاوہ تا کے کہ معنی متابعت ظاہر کرنے کے لیے فا سے پہلے آ جاتی ہے یعنی تا جو ہے وہ متابعت کا معنی ظاہر کرنے کے لیے فا سے پہلے آ جاتی ہے، لہٰذا میم الحاق کے واسطے نہیں ہو سکتا، اس لیے صاحب منشعب نے تو فرما دیا کہ یہ باب شاذ از قبیلہ غلط ہے۔ یہ کیا ہوئی ہے؟ یہ غلطی ہوئی ہے، غلطی سے کسی نے اضافہ کیا ہے میم پر تا کا، تو یہ باب شاذ از قبیلہ غلط ہے، میم کو اصلی سمجھ کر تا اس سے پہلے لے آئے، حالانکہ میم تو اصلی نہیں تو یہ غلط ہے۔ اور مولانا عبداللہ علی صاحب نے رسالہ ہدایت الصرف میں تمافعُل کو ملحقات سے نکال کر رباعی مزید فی میں داخل کر دیا یعنی انہوں نے میم کو اصلی قرار دے دیا تو ان کے نزدیک تمسکنا کس وزن پر ہے؟ تفاعللاشاباش۔ لیکن تحقیق یہ ہے کہ یہ ملحق ہے اور یہ قید کہ الحاق کی زیادتی فا سے پہلے نہیں ہوتی غلط ہے، صاحب فصول اکبری نے ایسے بہت سے صیغوں کو کہ جن میں زیادتی فا سے پہلے ہے، ملحقات میں شمار کیا ہے جیسے نرجساً وغیرہ، نرجس کا کیا معنی؟ دوائی میں گل نرگس ڈالنا، نرجساً وزن نکالو، نَفَعَلَ دیکھا یہاں نون زائد ہے۔ अच्छा तो ये उनको जवाब दे दिया कि صاحب فصول اکبری نے تو بتلایا ہے کہ فا سے پہلے تا کے علاوہ اور حروف کی زیادتی بھی ہو سکتی ہے، اب اپنی دلیل بھی دینے لگے ہیں، کہتے ہیں الحاق کا مدار اس بات پر ہے کہ مزید فی زیادتی کی وجہ سے رباعی کے وزن پر آجائے اور معانی ملحق بہ کے علاوہ کوئی نئے معنی از قبیلہ خاصیات اس میں پیدا نہ ہوں، تو جب یہ دونوں شرطیں موجود ہیں، تو تمسکنا کے ملحق ہونے میں شک اور شبہ نہیں، تو تمسکنا کے ملحق ہونے میں شبہ نہیں اور مسکین جیسے الفاظ مفعل وزن پر ہیں نہ کہ فعل اور محققین صرف کا جو معروف قاعدہ ہے، اچھا چلیے بس بھئی باقی یہ، ہاں یہ پھر کل کریں گے، یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی، حاصل کلام کیا ہوا آج کے سبق کا کہ علمائے صرف کیا فرماتے ہیں کہ تمسکنا کے ملحق ہونے میں اشکال ہے، صاحب منشعب فرماتے ہیں اور مولانا عبداللہ علی صاحب کہ فا سے پہلے تا تو زائد آ سکتی ہے میم زائد نہیں، جب میم زائد نہیں آ سکتا اور تمسکنا، تمفعلہ تو معلوم ہوا یہ تمفعلہ وزن نہ ہی، لہٰذا اس کو ملحقات میں شمار نہیں کر سکتے، ہاں صاحب منشعب فرماتے ہیں یہ شاذ ہے اور از قبیلہ غلط ہے، کسی سے کیا ہوئی ہے غلطی ہوئی ہے کہ میم کو اصلی سمجھ کر اس پر شروع میں تا کا اضافہ کر دیا، جبکہ مولانا عبداللہ علی صاحب تو فرماتے ہیں کہ میم زائد ہے ہی نہیں کیونکہ فا سے پہلے میم زائد نہیں آ سکتا، انہوں نے میم کو اصلی شمار کیا، جب اصلی شمار کیا تو اس کو انہوں نے رباعی کے اندر ہی داخل کر دیا ملحق نہیں، ملحق تو ثلاثی ہوتا ہے بلکہ کیا بنا دیا اس کو رباعی ہی قرار دے دیا لیکن مصنف فرماتے ہیں نہیں، تحقیق یہ ہے کہ فا سے پہلے تا کے علاوہ اور حروف کی زیادتی بھی آ سکتی ہے جیسے کس نے ذکر کیا ہے؟ صاحب فصول اکبری نے ذکر کیا ہے اور نیز الحاق کا مدار دو چیزوں پر ہے کہ ثلاثی میں اضافہ کر کے کس وزن پر لے جاؤ؟ رباعی کے وزن پر اور دوسری چیز یہ کہ اس میں رباعی کی خاصیات کے علاوہ کوئی نیا خاصہ بھی پیدا نہ ہو اور یہ دونوں چیزیں تمسکنا میں پائی جا رہی ہیں، جب یہ دونوں چیزیں اس میں موجود ہیں تو اس کو ملحقات میں شمار کرنے میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے اور لہٰذا مسکین جیسے الفاظ جو ہیں وہ مفعل وزن پر ہیں نہ کہ فعل، بات سمجھ میں آگئی، چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقت الكلام۔