آگے دیکھیے سبق باکتاب میں۔ فصلِ چہارم: در ثلاثی مزید فیہ ملحق برباعی۔ ثلاثی مزید ملحق یا ملحق برباعی مجرد باشد یا ملحق برباعی مزید۔ اول را ہفت باب است۔ اول: فعللة، زيادة آن تکرارِ لام است، چون الجلببة، چادر پوشانیدن۔ تصریفه: جلبب یجلبب الیٰ آخره۔ دوم: فعولة، زيادة آن واؤ است بعد عین، چون السرولة، شلوار پوشانیدن۔ تصریفه: سرول یسرول الیٰ آخره۔ اچھا بھئی! پہلے گزشتہ سبق کا خلاصہ سن لیجیے بھئی۔ گزشتہ سبق میں آپ نے ثلاثی مزید فیہ مطلق بے ہمزۂ وصل کے ابواب پڑھے، اور ان میں پہلا باب تھا بابِ افعال۔ اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ اس کی علامت جو ہے وہ ہمزۂ قطعی ہے ماضی اور امر میں، اور اس کے اندر یہ بھی بتلایا کہ علامتِ مضارع مضموم ہوگی۔ آپ نے ضابطہ بھی پڑھا کل کہ علامتِ مضارع جو ہے وہ چار باب ہیں جن کے اندر ہمیشہ مضموم ہوتی ہے معروف میں بھی اور مجہول میں بھی۔ باقی ابواب میں تو مجہول میں تو علامتِ مضارع مضموم ہوتی ہے، لیکن معروف میں مفتوح ہوتی ہے۔ لیکن یہ چار باب ہیں جن میں معروف کے اندر بھی علامتِ مضارع مضموم ہوگی، اور وہ چار باب کون سے ہیں؟ بابِ افعال، بابِ تفعیل، بابِ مفاعلہ اور بابِ دحرجہ۔ اور اس کے لیے قانون بتلایا تھا کہ قانون کہ جس کے ذریعے آپ کو اگر بھول بھی جائے کہ کون سے چار باب ہیں تو آپ پھر بھی معلوم کر سکتے ہیں، کہ وہ ابواب جن کی ماضی کا پہلا صیغہ چار حروف پر مشتمل ہو، چاہے وہ زائد ہوں چاہے اصلی ہوں لیکن حروف کتنے ہونے چاہییں؟ چار۔ اور وہ صرف یہی چار باب ہیں۔ تو ان میں علامتِ مضارع مضموم ہوگی۔ اور اگر ماضی کے پہلے صیغے میں چار سے کم حروف ہوں یا چار سے زیادہ حروف ہوں تو ان سب میں علامتِ مضارع مفتوح ہوگی۔ اور پھر اس میں انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ اَکْرَمَ یُؤَکْرِمُ، یؤکرم میں بھی ہمزہ ہونا چاہیے تھا مضارع میں، لیکن اس ہمزہ کو گرا دیا گیا۔ کیوں؟ کیونکہ متکلم کا صیغہ جو ہے اُؤَکْرِمُ وہاں دو ہمزہ جمع ہو گئے تھے، اور ہمزہ کی ادائیگی تو ثقیلہ ہے تو دو جب ہمزہ جمع ہوئے زیادہ ثقل بڑھ گیا، تو لہٰذا ایک ہمزہ کو خلافِ قیاس حذف کر دیا گیا۔ اور جب ایک جگہ حذف کیا تو پھر پورے پوری گردان میں گرا دیا تاکہ پوری گردان ایک جیسی ہو جائے بھئی موافقت کے لیے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اس کے بعد دوسرا باب بابِ تفعیل پڑھا تھا، اور انہوں نے بتلایا تھا کہ اس کی علامت یہ ہے کہ اس میں عین مشدد ہوگا اور اس میں فا پر کوئی تا مقدم نہیں ہوگی۔ اور پھر ایک بہت قیمتی بات آپ کو بتلائی کہ یہ جو بابِ تفعیل ہے اس کا ایک مصدر فِعَّال وزن پر بھی آتا ہے، فا کے کسرہ اور عین کے شد کے ساتھ۔ اور اسی طرح اس کا ایک مصدر فَعَّال وزن پر بھی آتا ہے، معلوم ہوا سلام یہ کیا ہے؟ مصدر ہے، کس کا؟ بابِ تفعیل کا۔ اسی طرح کلام یہ بھی مصدر ہے بابِ تفعیل کا۔ تیسرا باب آپ نے کل پڑھا بابِ مفاعلہ، اور اس کی علامت انہوں نے یہ بتلائی تھی کہ فا کے بعد ایک الف زائد ہوگا البتہ فا سے پہلے تا زائد نہیں ہوگی بھئی۔ اور یہ بابِ مفاعلہ یاد رکھیے اس کی خاصیت مشارکت ہے، یہ جانبین سے فعل کو چاہتا ہے۔ ضَارَبَ زَیْدٌ عَمْرًوا، تو لفظوں میں زید فاعل اور عمرا مفعول، لیکن معنی کے اعتبار سے دونوں فاعل بھی ہیں اور دونوں مفعول بھی۔ یعنی زید نے عمر کو مارا ہے تو عمر نے زید کو مارا ہے۔ تو ترجمہ یوں کریں گے ضارب زید عمرا، زید اور عمر نے باہم ایک دوسرے کو مارا۔ تو یہ بابِ مفاعلہ ہے۔ اگلا باب جو آپ نے پڑھا بابِ تفعل تھا، اس میں بھی عین مشدد تھا البتہ فا پر تا مقدم تھی۔ اور اس سے اگلا باب بابِ تفاعل تھا، اس میں فا کے بعد الف زائد البتہ فا سے پہلے تا بھی زائد ہے یہاں پر، جبکہ بابِ مفاعلہ میں فا سے پہلے تا زائد نہیں تھی۔ اور یاد رکھیے جو بابِ تفاعل ہے اس کا بھی خاصہ مشارکت ہے، یہ بھی جانبین سے فعل کو چاہتا ہے۔ اور یہ جو بابِ مفاعلہ اور بابِ تفاعل ہیں، ان کی ماضی مجہول میں یہ جو الف آیا تھا فا کے بعد، ماضی مجہول میں وہ الف کس سے بدلتا ہے؟ واؤ سے بدلتا ہے ماقبل ضمہ کی وجہ سے۔ اور پھر انہوں نے آپ کو یہ ضابطہ بھی بتلایا تھا کہ بابِ تفعل اور بابِ تفاعل میں اگر دو تائے مفتوحہ جمع ہو جائیں مضارع میں، تو ایک تا کو حذف کرنا جائز ہے، جیسے قرآن میں آیا ہے تَنَزَّلُ الْمَلَائِکَةُ۔ اصل میں یہ کیا ہے؟ تَتَنَزَّلُ۔ یہ لام کے پیش سے پتہ چل رہا ہے، تنزلُ لام کا پیش بتلا رہا ہے یہ ماضی نہیں ہے۔ ماضی ہوتی تو کیا ہوتا؟ تنزَّلَ۔ تو اس میں تو آتی ہی ایک تا ہے، لیکن یہ لام کا پیش بتلا رہا ہے کہ یہ مضارع ہے۔ اور مضارع کے اندر تو پھر دو تا آتی ہیں، تو اس ضابطے سے پتہ چل گیا کہ ایک تا کو حذف کرنا جائز۔ معلوم ہوا تنزلُ قرآن میں تو ایک تا حذف ہے، ویسے عربی کلام میں آپ تتنزلُ بھی کہہ سکتے ہیں اور تنزلُ بھی کہہ سکتے ہیں، دونوں صورتیں جائز ہیں بھئی۔ اس کے بعد ایک اور قانون بتلایا تھا آپ کو، کہ اگر ان دو بابوں میں اگر فا جو ہے وہ تا، ثا، جیم، دال، ذال، زا، سین، شین، صاد، ضاد یا طاء، ظاء آ جائے، تو پھر جائز ہے کہ اس باب کی جو تا ہے، بابِ تفعل اور تفاعل، فا کی جگہ کیا آیا؟ تا، ثا، جیم، دال، ذال وغیرہ۔ تو تا کو بھی انہی حروف کی جنس سے بدل کر اس میں ادغام جائز ہے، اور پھر اس صورت میں شروع میں ہمزۂ وصل لانا پڑے گا۔ تو تفعل سے کیا بن جائے گا؟ اِفَّعُل، اور تفاعل سے کیا بن جائے گا؟ اِفَّاعُل۔ تو بعض علماء نے افعل اور افاعل کو علیحدہ باب شمار کیا ہے، لیکن صاحبِ علم الصیغہ نے آپ کو بتلا دیا کہ یہ علیحدہ باب نہیں ہیں، یہ وہی بابِ تفعل اور تفاعل ہیں، البتہ اس میں قانون جاری ہوا اور پھر شروع میں ہمزۂ وصل لایا گیا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اس کے بعد آپ نے رباعی مجرد اور رباعی مزید فیہ کے ابواب پڑھے۔ آپ نے پڑھا کہ رباعی مجرد کا ایک ہی باب ہے، اور وہ باب کون سا ہے؟ بابِ دحرجہ۔ اور اس باب کی علامت یہ ہے کہ اس کی ماضی کے اندر چاروں حرف اصلی ہیں، چار حرف آتے ہیں اور چاروں کیا ہیں؟ اصلی ہیں۔ اور صرف یہی اصلی حروف ہی ہیں ماضی میں، پہلے صیغے میں۔ دَحْرَجَ، یہ چاروں کیا ہیں؟ اصلی، اور بس۔ کیا معنی بس؟ عبارت میں آیا تھا چار حرفِ اصلی ہیں اور بس، یعنی زائد کوئی بھی نہیں۔ چار اصلی، باقی تو رباعی مزید بھی تو آگے آ رہا ہے، اس میں ماضی میں چار حرفِ اصلی بھی ہوتے ہیں اور زائد بھی، لیکن اس میں صرف چار حرفِ اصلی ہیں اور بس، زائد کوئی بھی نہیں۔ اور اس باب میں بھی علامتِ مضارع مضموم آتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے بتلایا کہ رباعی مزید فیہ جو ہے اس کے تین باب ہیں۔ ایک بے ہمزۂ وصل ہے اور دو با ہمزۂ وصل ہیں۔ بے ہمزۂ وصل جو ہے وہ بابِ تفعلل ہے۔ اس کی علامت کیا ہے؟ کہ ماضی کے پہلے صیغے میں چار حرفِ اصلی پر تا زائد ہے۔ تا کیا ہے؟ زائد ہے بھئی۔ اور با ہمزۂ وصل کے دو باب ہیں۔ ایک افعلال بھئی، افعلال کی علامت کیا تھی؟ اِفْعَلَلَّ، کہ دوسرا لام جو ہے وہ کیا ہے؟ مشدد ہے، اور ایک لام زائد ہے چار حرفِ اصلی پر۔ اور نیز ماضی اور امر میں ہمزۂ وصل بھی آتا ہے، افعللّ۔ اور دوسرا باب جو ہے، رباعی مزید فیہ کے کتنے باب؟ بابِ تفعلل، بابِ افعلال اور بابِ افعنلال۔ اور اس کی علامت کیا ہے؟ کہ عین کے بعد ایک نون زائد ہے، اور نیز ہمزۂ وصل بھی آتا ہے اس کے اندر ماضی اور امر کے صیغوں میں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ تھا گزشتہ سبق کا خلاصہ۔ اب آگے ہم ثلاثی مزید فیہ ملحق کے ابواب پڑھیں گے بھئی، دیکھیے کتاب پر۔ فصلِ چہارم: در ثلاثی مزید فیہ ملحق برباعی۔ چوتھی فصل ثلاثی مزید فیہ ملحق برباعی کے بارے میں۔ ثلاثی مزید ملحق جو ہے، آگے عبارت پر نظر ہے؟ ثلاثی مزید ملحق جو ہے، یا ملحق برباعی مجرد باشد یا ملحق برباعی مزید۔ ثلاثی مزید ملحق، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، تفصیل پہلے بھی گزر چکی لیکن پھر میں بیان کر دیتا ہوں۔ آپ نے پڑھا تھا کہ ثلاثی مزید دو قسم پر ہے، یا تو وہ مطلق ہوگا یعنی ملحق برباعی نہیں ہوگا، یا کیا ہوگا؟ ملحق برباعی۔ یعنی ہے تو ثلاثی، حروفِ اصلی تو تین ہیں، لیکن ایک یا زائد حروف بڑھا کر اس کو کس وزن پر لے گئے؟ رباعی کے وزن پر۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ملحق برباعی۔ تو ہے تو ثلاثی مزید، لیکن ملحق برباعی ہے۔ پھر یہ ملحق برباعی مجرد بھی ہو سکتا ہے اور ملحق برباعی مزید فیہ بھی ہو سکتا ہے۔ تو کل یہ اٹھارہ باب آپ کو بتلائیں گے، جو ملحق ہیں کس کے ساتھ؟ رباعی کے ساتھ۔ اور پھر آخر میں یہ بھی بتائیں گے کہ صرف یہی اٹھارہ باب نہیں ہیں ملحق کے، ملحق کے اور بھی باب ہیں جو علماء نے اپنی کتابوں میں ذکر کیے ہیں۔ لیکن ہم نے جو مشہور مشہور باب تھے وہ آپ کے سامنے ذکر کر دیے بھئی۔ چونکہ یہ مختصر کتاب ہے، اس میں زیادہ تفصیل بیان نہیں ہو سکتی، تو جو مشہور مشہور تھے وہ ہم نے ذکر کر دیے۔ البتہ یہ بات یاد رکھنا کہ اس کے اور بھی ابواب ہیں بھئی۔ تو یہ جو ملحق ہے، ثلاثی مزید ملحق، یا یوں کہو ثلاثی مزید ملحق برباعی، یا تو یہ ملحق ہوگا رباعی مجرد کے ساتھ یا یہ ملحق ہوگا رباعی مزید فیہ کے ساتھ۔ یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ثلاثی مزید ملحق، عبارت پر نظر ہے؟ ثلاثی مزید ملحق یا ملحق برباعی مجرد باشد یا ملحق برباعی مزید، یا تو یہ ملحق برباعی مجرد ہوگا یا ملحق برباعی مزید ہوگا۔ اول را ہفت باب است، پہلے کے سات باب ہیں۔ کون سا پہلا؟ جو ملحق برباعی مجرد ہے ملحق۔ دو قسمیں ہو گئیں نا، ایک ملحق برباعی مجرد اور دوسری ملحق برباعی مزید۔ تو ملحق برباعی مجرد جو ہے اس کے سات باب ہیں۔ تو کہتے ہیں اول را ہفت باب است، پہلے کے سات باب ہیں۔ اول: فعللة، کتابوں میں اسی طرح لکھا ہے؟ ہاں، یہ کتابت کی غلطی ہے۔ یہ جو شروع میں الف ہے نا، یہ الف نہیں ہے، یہ ایک ہے ایک، عدد ہے عدد۔ آگے دیکھ لیں، دوسرا آ رہا ہے فعولة، تیسرا آ رہا ہے فیعلة، چوتھا آ رہا ہے فعیَلة، سب کے ساتھ نمبر لگے ہوئے ہیں۔ معلوم ہوا یہ الف نہیں ہے اور زبر غلط لگا ہوا ہے، یہ کیا ہے؟ ایک عدد ہے۔ تو اس کو پڑھو اول پڑھ لیں اول۔ اول جو ہے فعللة۔ پہلا کیا ہے ملحق برباعی؟ اس کا وزن کیا ہے؟ فعللة۔ بھئی دحرجة کا کیا وزن ہے؟ دحرجة، فعللة۔ اس کا وزن بھی کیا ہے؟ فعللة۔ لیکن فرق یہ ہے کہ وہ دحرجة کے اندر دونوں لام کیا ہیں؟ اصلی، اور یہ تو ثلاثی ہے، تو اس میں ایک لام اصلی ہے اور ایک لام زائد ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر سن لیں، ثلاثی مزید فیہ ملحق وہ ثلاثی ہے جس میں ایک یا زائد حروف کا اضافہ کر کے کس وزن پر لے جائیں؟ رباعی کے وزن پر۔ ہے ثلاثی لیکن کس وزن پر لے گئے؟ رباعی کے وزن پر لے گئے۔ اور کس لیے لے کر جاتے ہیں؟ رباعی کے کسی خاصے کو حاصل کرنے کے لیے، تاکہ وہ معنی اس کے اندر آ جائے۔ میں نے بتلایا تھا ہر باب کے اپنے اپنے خاصے ہوتے ہیں، خاص معانی ہوتے ہیں۔ چنانچہ عرب پھر اس معنی کے لیے لفظ کو اس میں لے جاتے ہیں۔ جیسے میں نے بتلایا تھا بابِ افعال کا ایک خاصہ ہے تعدیہ، متعدی بنانا۔ یہ لازمی فعل کو کیا بنا دیتا ہے؟ متعدی۔ لہٰذا عرب بہت سے صیغوں کو جب ان کو متعدی بنانا ہو تو بابِ افعال میں لے جاتے ہیں۔ جیسے کَرُمَ، کرم کا کیا معنی؟ خود معزز ہونا، خود عزت والا ہونا۔ لیکن اگر اس کا آپ معنی کرنا چاہتے ہیں دوسرے کو عزت دینا، متعدی بنانا چاہتے ہیں تو بابِ افعال میں لے گئے: اَکْرَمَ۔ اب اس کا کیا معنی ہے؟ دوسرے کو معزز بنانا، دوسرے کو عزت دینا۔ یا اسی طرح ذَہَبَ کا معنی ہے جانا، لیکن اسی کو متعدی بنانا چاہتے ہیں: اَذْہَبَ، بابِ افعال میں لے گئے، اب معنی ہے لے جانا۔ اسی طرح جَلَسَ کا معنی بیٹھنا، خود بیٹھنا، اس کے لیے مفعول کی ضرورت نہیں۔ لیکن اس کو آپ متعدی بنانا چاہتے ہیں کہ دوسرے کو بٹھایا، تو اس کے لیے عرب کس میں لے جاتے ہیں؟ بابِ افعال میں: اَجْلَسَ یُجْلِسُ۔ تو یہ تعدیہ کیا ہے؟ بابِ افعال کا ایک خاصہ۔ اسی طرح بابِ افعال کا ایک خاصہ جو ہے سلبِ ماخذ ہے۔ ماخذ؟ جس سے اخذ کیا گیا، جس سے لیا گیا، جس سے اس کو بنایا گیا۔ اخذ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ لینا، پکڑنا۔ تو ماخذ، لینے کی جگہ، جس سے اخذ کیا گیا، لیا گیا، بنایا گیا۔ تو بابِ افعال کا ایک خاصہ کیا ہے؟ سلبِ ماخذ۔ جیسے طاقت، کس کو کہتے ہیں؟ قوت کو۔ لیکن اسی کو بابِ افعال میں لے جائیں: اَطَاقَ یُطِیْقُ۔ اب معنی کیا ہوا؟ سلبِ ماخذ۔ اور ماخذ کیا ہے؟ طاقت۔ سلبِ طاقت، یعنی جس میں طاقت نہ ہو۔ جس میں طاقت نہ ہو۔ اور اسی طرح فلوس کس کو کہتے ہیں؟ پیسوں کو۔ لیکن اسی کو بابِ افعال میں لے جائیں: اَفْلَسَ یُفْلِسُ اِفْلَاسًا۔ تو معنی وہ سلبِ ماخذ والا کریں۔ ماخذ کی نفی کر دیں۔ اور ماخذ کیا ہے؟ فلوس۔ یعنی فلوس جس کے پاس نہ ہوں، جس کے پاس پیسے نہ ہوں، غریب ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفلس۔ اسی طرح شکایت، شَکَا یَشْکُوْ کا کیا معنی؟ شکایت کرنا۔ اور اسی کو کس میں لے گئے؟ بابِ افعال میں: اَشْکٰی یُشْکِیْ۔ تو ترجمہ کر لیں، یہاں بھی سلبِ ماخذ ہے۔ ماخذ کیا؟ شکایت۔ سلبِ ماخذ؟ شکایت کو ختم کر دینا۔ تو اشکیتہ، میں نے اس کی شکایت ختم کر دی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اسی طرح بابِ دحرجہ کا ایک خاصہ ہے الباسِ ماخذ۔ بابِ دحرجہ کا ایک خاصہ کیا ہے؟ الباسِ ماخذ۔ ماخذ کسے کہتے ہیں بات سمجھ میں آئی؟ جس سے وہ باب بنا ہے، جس سے وہ لیا گیا، جس لفظ سے کو باب بنایا گیا۔ اب باب دحرجہ کا ایک خاصہ کیا؟ الباسِ ماخذ۔ الباسِ ماخذ، یعنی ماخذ پہنانا۔ ماخذ پہنانا۔ تو اس سے لہٰذا اس خاصے کو لینے کے لیے ثلاثی کو دحرجہ کے وزن پر لے جاتے ہیں۔ جیسے جورب، جورب جراب کو کہتے ہیں بھئی۔ جراب جو پاؤں کو گرم رکھنے کے لیے سردیوں میں پہنی جاتی ہے۔ اسی کو باب دحرجہ میں لے گئے، جورب یجورب جوربة، دحرج يدحرج دحرجة۔ اب جورب یجورب، اس کا ماخذ کیا ہے؟ جورب۔ کس سے بنا یہ باب؟ جورب کے لفظ سے پکڑ کے بنا لیا نہ باب۔ تو معنی کریں الباسِ ماخذ، ماخذ پہنانا۔ ماخذ کیا؟ جورب، تو معنی ہو گیا جراب پہنانا۔ جوربتہ، میں نے اس کو جراب پہنائی۔ دیکھا؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اسی طرح جلباب بڑی چادر کو کہتے ہیں۔ یہ الباسِ ماخذ، یہ کس کا خاصہ ہے؟ باب دحرجہ کا۔ جلباب کس کو کہتے ہیں؟ بڑی چادر کو۔ عربی میں جو بڑی چادر ہو اس کو جلباب کہتے ہیں۔ تو اب عرب نے جب یہ معنی ادا کرنا ہو کہ میں نے اسے بڑی چادر پہنائی، تو جلباب کا کیا معنی؟ چادر۔ اس سے اخذ کرتے ہوئے، جلباب ہے ماخذ۔ اس سے اخذ کرتے ہوئے باب دحرجہ بنا لیا کیونکہ دحرجہ کا ایک خاصہ کیا ہے؟ الباسِ، زبان سے دہراؤ، دحرجہ کا ایک خاصہ کیا ہے؟ الباسِ ماخذ۔ ماخذ پہنانا، اور باب بنا لیا جلبب يجلبب جلببة۔ تو اب ترجمہ کیا ہوگا؟ جلببتہ، میں نے اس کو جلباب پہنائی۔ دیکھا؟ الباسِ ماخذ۔ ترجمے پہ غور ہے؟ الباس کا کیا معنی؟ پہنانا۔ اور ماخذ جس سے وہ باب بنایا گیا ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ماخذ کو پہنا دینا دوسرے کو۔ تو یہ پہلا کیا تھا؟ جورب سے۔ جورب سے کیا بنا؟ جورب۔ تو کیا معنی ہوا؟ جراب پہنانا۔ اور جلبب کس سے بنایا؟ جلباب سے۔ تو الباسِ ماخذ کیا معنی؟ جلباب پہنانا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ اسی طرح قلنسوة، قلنسوة عربی میں ٹوپی کو کہتے ہیں۔ ٹوپی۔ اب اسی سے باب دحرجہ بنا لیا، الباسِ ماخذ کے لیے۔ کیا بنایا؟ قلسى يقلسي۔ قلسى يقلسي، قلسى کا کیا معنی؟ الباسِ ماخذ، ماخذ کیا؟ قلنسوة، ٹوپی۔ تو الباسِ قلنسوة، ٹوپی پہنانا۔ تو قلسى يقلسي کا کیا معنی؟ ٹوپی پہنانا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ جو ابوابِ ملحقات ہیں، ملحقات کے ابواب، یہ ہیں تو ثلاثی۔ لیکن رباعی کے کسی خاصے کو لینے کے لیے اس ثلاثی میں کوئی ایک حرف بڑھا کر یا زیادہ حروف بڑھا کر کس وزن پر لے جاتے ہیں؟ رباعی کے وزن پر، تاکہ رباعی والا وہ خاصہ اس کے اندر آ جائے۔ جیسے جلباب، جلباب کو کس میں لے گئے؟ دحرجہ میں۔ تو دحرجہ کا کون سا خاصہ اس میں آ گیا؟ الباسِ ماخذ۔ کون سا؟ زبان سے دہراؤ، الباسِ ماخذ اس کے اندر آ گیا۔ اسی طرح جورب کو کس میں لے گئے؟ جورب، جورب جراب کو کہتے ہیں بھئی۔ تو اس جورب کو کس میں لے گئے؟ بابِ، بابِ دحرجہ میں لے گئے۔ تو دوسرے کو جورب پہنانا، یعنی جراب پہنانا بھئی۔ حاصلِ کلام پھر سنو۔ ابوابِ ملحقات جو ملحق بالرباعی ہوتے ہیں، یعنی ہیں تو ثلاثی۔ لیکن ان میں ایک یا زائد حروف بڑھا کر کس وزن پر لے گئے؟ رباعی کے وزن پر لے گئے۔ اور کیا مقصد ہوتا ہے رباعی کے وزن پر لے جانے کا؟ رباعی کے کوئی خاصہ ہے اس کو حاصل کرنے کے لیے کہ وہ اس کے اندر آ جائے۔ جیسے رباعی کا ایک خاصہ میں نے ذکر کر دیا، دحرجہ کا، کیا؟ خاصہ بولو، خاصہ۔ الباسِ ماخذ، کیا ہے؟ الباسِ ماخذ، ماخذ پہنانا۔ تو پہلا باب دیکھیے بھئی اب کتاب پر، اول فعللة زيادةُ آن تكرارِ لام است۔ اس کی زیادت کیا ہے؟ تکرارِ لام، یعنی اس میں تکرارِ لام ہے، یہ زائد ہے۔ یعنی ایک لام زائد ہے، فعلل۔ جلبب، جلبب، مادہ ہے اس کا جیم، لام، با۔ جلبب، ایک با زائد ہے۔ یعنی ایک لام زائد ہے۔ تو یہ ہے ثلاثی۔ اور کس وزن پہ آ رہا ہے؟ دحرجہ کے، تو اس کو رباعی تو نہیں کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ ثلاثی ملحق بالرباعی۔ تو کہتے ہیں اول جو ہے فعللة زيادةُ آن تكرارِ لام است، اس کی زیادت جو ہے وہ تکرارِ لام ہے۔ چون الجلببةُ چادر پوشانیدن، جیسے الجلببةُ چادر پہنانا۔ تصريفه اس کی گردان جلبب يجلبب إلى آخره۔ یہ ملحقات کے ابواب تو آپ نے ابواب الصرف میں نہیں پڑھے، لیکن بابِ دحرجہ تو پڑھا ہے۔ تو اسی کے مطابق اس کی گردان ہوگی بھئی۔ تو آپ یوں کیجیے، جلبب کی گردان سنائیے دحرجہ کے مطابق صرفِ صغیر۔ جلبب يجلبب جلببة فهو مجلبب، وجلبب يجلبب جلببة فذاك مجلبب، لم يجلبب لم يجلبب لا يجلبب لا يجلبب لن يجلبب لن يجلبب، والأمر منه جلبب لتجلبب ليجلبب ليجلبب، والنهي عنه لا تجلبب لا تجلبب لا يجلبب لا يجلبب، والظرف منه مجلبب مجلببان۔ شاباش، شاباش بھئی۔ دیکھا؟ یہ ابواب آپ نے پڑھے نہیں لیکن یہ وزن وہی ہے۔ جب اس وزن کی گردان آپ کو آتی ہے، دحرجہ یاد ہے تو ان میں سے ہر ایک کی گردان آپ آسانی سے کر سکتے ہیں۔ آگے دیکھیے بھئی، دوم فعولة، زيادةُ آن واو است۔ اس کی زیادی کیا ہے؟ واؤ۔ بھئی فعولة، بروزنِ دحرجة۔ ہاں، ایک بات رہ گئی۔ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ دحرجہ میں تو چاروں حرف اصلی۔ اور جلبب میں میں تو ایک حرف کیا ہے؟ زائد۔ تو لہٰذا یہ تو رباعی کے وزن پر نہ ہوا۔ رباعی کا وزن تو کیا؟ فعلل، مثلاً اسی میں دیکھ لو، رباعی کا وزن کہ دحرجہ کا وزن کیا؟ فعللة۔ اور دوسرا باب کیا آ رہا ہے؟ فعولة، فعولة، تو یہ تو بالکل الگ وزن ہے۔ تو جواب پہلے گزر چکا ہے، پہلے جب بحث ہوئی تھی کہ یہاں وزنِ صوری مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ ایک وزنِ صرفی ہوتا ہے، ایک وزنِ صوری۔ وزنِ صرفی وہ جس میں اصلی کی جگہ اصلی آئے، زائد کی جگہ زائد آئے اور حرکات و سکنات بھی بالکل اسی کی طرح ہوں۔ جیسے منصور بروزنِ مفعول۔ یا جیسے استخراج بروزنِ استفعال۔ اور جبکہ وزنِ صوری یہ کہ صورت ایک جیسی ہو۔ دحرج، جلبب، دیکھو صورت ایک جیسی ہے۔ یا دحرج، فعول، صورت کیا ہے؟ ایک جیسی ہے۔ تو یہ وزنِ صوری ہے۔ اس میں اصل اور زائد کو نہیں دیکھنا۔ ہاں حرکات و سکنات کیا ہونی چاہییں؟ ایک جیسی ہونی چاہییں۔ آگے دیکھیے بھئی، دوم فعولة، زيادةُ آن واو است۔ فعولة، فعولة زيادةُ آن واو است بعد عين، اس کی زیادت واؤ ہے بعدِ عین، کس کے بعد؟ عین کے بعد۔ چون السرولة شلوار پوشانیدن، شلوار پہنانا۔ بھئی یہ سروال سے ہے، سروال سے۔ ماخذ کیا ہے؟ سروال۔ سروال کہتے ہیں شلوار کو۔ شلوار کو۔ اور اسی کو باب دحرجہ میں لے گئے۔ اور باب دحرجہ کا ایک خاصہ تھا اس کے لیے، اور وہ خاصہ کیا؟ الباسِ ماخذ، کیا؟ الباسِ ماخذ۔ اور ماخذ کیا سرولہ کا؟ سروال۔ تو سروال پہنانا، دیکھا؟ شلوار پہنانا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ چون السرولة شلوار پوشانیدن۔ اچھا، یہاں ایک اور بات بھئی۔ سوال یہ کہ ان ابواب کو ملحق کیوں بنایا؟ اکرم يكرم، استخرج يستخرج وغیرہ، ان کو تو ملحق قرار نہیں دیا۔ ان کو کیا قرار دیا؟ ملحق۔ ان کو کہا ثلاثی مزید فیہ مطلق اور ان کو کہا ثلاثی مزید فیہ ملحق۔ یہ فرق کیوں کیا؟ جواب پہلے گزر چکا ہے، پھر سمجھ لیں۔ کہ وہ جو ابواب ہیں نہ ثلاثی مزید فیہ مطلق، ان کے اپنے خاصے ہیں۔ میں نے بتلایا نہ ہر باب کے اپنے اپنے خاصے ہیں، خاص معانی ہیں۔ جب وہ عرب کو وہ معنی چاہیے ہوتا ہے تو کسی لفظ کو اس باب میں لے جاتے ہیں تو وہ معنی اس کے اندر آ جاتا ہے۔ تو وہ جو ابواب پہلے مزید فیہ مطلق کے گزرے ہیں، ان میں سے ہر باب کے اپنے اپنے خاصے ہیں بھئی۔ جبکہ یہ جو ملحقات ہیں جیسے جلبب یا سرول وغیرہ، ان کے اپنے اور خاصے نہیں ہیں۔ وہی رباعی والا ایک خاصہ ان کے اندر آ گیا۔ ان کے اپنے الگ اور خاصے نہیں۔ اگر ان کے اپنے الگ اور بھی خاصے ہوتے تو پھر ان کو الگ باب شمار کرتے۔ لیکن ان کے اپنے الگ خاصے ہی نہیں، تو ان کو علیحدہ باب بھی شمار نہیں کیا، ملحق بالرباعی کہہ دیا۔ بات سمجھ میں نہیں آئی میرا خیال۔ پچھلی بحث ذہن میں ہے؟ پھر سنو، خلاصہ کلام سنو۔ کہ یہ کچھ باب ہیں جن کو ملحقات کہا جاتا ہے۔ یہ ہیں تو ثلاثی لیکن ان میں ایک یا زائد حروف بڑھا کر ان کو رباعی کے وزن پر لے جاتے ہیں۔ اور کیا مقصد ہوتا ہے، کیوں لے کر جاتے ہیں؟ کیونکہ رباعی کا کوئی خاصہ لینا ہوتا ہے اس کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے کہ اس لفظ کے اندر وہ خاصہ آ جائے۔ جیسے رباعی کا ایک خاصہ کیا ہے؟ رباعی مجرد کا ایک خاصہ الباسِ ماخذ ہے۔ تو الباسِ ماخذ کے لیے جلباب کو کہاں لے گئے؟ بابِ دحرجہ کے وزن پر لے گئے۔ سروال کو کہاں لے گئے؟ بابِ دحرجہ سرولہ وزن پر بنا لیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ جو ملحقات ہیں، یہ ہیں تو ثلاثی، رباعی تو ہیں نہیں۔ تو اس لیے ان کو ملحق کہتے ہیں، رباعی نہیں کہتے ہیں، ملحق بالرباعی کہتے ہیں، رباعی نہیں کہتے۔ اور ان میں ایک یا زائد حروف بڑھا کر کون سا وزن بنا لیتے ہیں؟ رباعی والا وزن بنا لیتے ہیں۔ اور مقصد کیا ہوتا ہے کہ رباعی کا کوئی خاصہ جو ہے وہ مقصود ہوتا ہے کہ وہ اس میں آ جائے۔ تو ان کے اپنے الگ خاصے نہیں ہوتے۔ باقی جتنے باب ہیں نہ جو غیر ملحق ہیں، ان سب کے اپنے اپنے خاصے ہیں۔ ثلاثی مجرد، بابِ ضرب کے اپنے خاصے ہیں، بابِ فتح کے اپنے خاصے ہیں، بابِ نصر کے اپنے خاصے ہیں۔ کئی کئی خاصے ہیں بھئی۔ کبھی ایک خاصے کے لیے لفظ اس میں لے کر آتے ہیں، کبھی دوسرے خاصے کے لیے لفظ لاتے ہیں، کبھی تیسرے خاصے کے لیے اس میں لفظ لے کر آتے ہیں۔ اور اسی طرح بابِ افعال کے اپنے خاصے ہیں، بابِ تفعیل کے اپنے خاصے ہیں، بابِ مفاعلة کے اپنے خاصے ہیں، بابِ دحرجہ کے اپنے خاصے ہیں، بابِ تدحرجہ کے اپنے خاصے ہیں۔ تو جتنے باب آپ نے ابواب الصرف میں پڑھے، ان میں سے ہر ایک کے اپنے خاصے ہیں اور کئی کئی خاصے ہیں، آٹھ آٹھ، دس دس، اس سے بھی زیادہ خاصے ہیں ان کے بھئی۔ تو کبھی ایک خاصے کے لیے لفظ اس میں لے جاتے ہیں، کبھی دوسرے خاصے کو لینے کے لیے لفظ اس کے اندر لے جاتے ہیں۔ لیکن یہ جو ملحقات ہیں، ان کے اپنے اور کوئی بھی خاصے نہیں۔ ان میں ایک حرف بڑھا کر کس وزن پر لے گئے؟ رباعی کے وزن پر لے گئے۔ کس لیے؟ رباعی کا کوئی خاصہ حاصل کرنے کے لیے۔ اور اس خاصے کے علاوہ اس میں اور کوئی مزید خاصہ ہے ہی نہیں۔ جب کوئی اور خاصہ ہے ہی نہیں، تو پھر ان کو الگ باب بھی نہیں بنایا۔ اور نیز یہ ہیں بھی خلافِ قیاس۔ یہ بھی بات یاد رکھنا ہمیشہ۔ یہ ہوتے بھی کیسے ہیں؟ خلافِ قیاس۔ جیسے جلبب، اس میں ایک با کو بڑھا دیا۔ اگر قانون کے مطابق ہوتا، تو کسی میں بھی الباسِ ماخذ لینے کے لیے اس میں با کو، یا یوں کہو لام بڑھا دیتے۔ حالانکہ اور جگہ ایسا نہیں۔ دیکھو، اگلے باب آ رہے ہیں۔ کہیں پر با بڑھا رہے ہیں، کہیں پر واؤ بڑھا رہے ہیں، کہیں پر جو ہے وہ یا بڑھا رہے ہیں وغیرہ۔ تو مختلف حروف بڑھا رہے ہیں، قانون کوئی نہیں ہے۔ جبکہ مثلاً بابِ افعال میں جب بھی لے جانا تھا کسی لفظ کو، وہاں باقاعدہ قانون ہے کہ اس کے شروع میں کیا لے آؤ؟ ہمزہ لے آؤ۔ ذہب سے کیا بن گیا؟ اذهب۔ جلس سے کیا بن گیا؟ اجلس۔ کرم سے کیا بن گیا؟ اکرم۔ ان کے سب کے قوانین ہیں، لیکن یہاں کوئی قانون وغیرہ نہیں۔ خلافِ قانون بس کوئی ایک زیادت کر دی جاتی ہے۔ کبھی درمیان میں کر دیتے ہیں، کبھی آخر میں کر دیتے ہیں، کبھی شروع میں کر دیتے ہیں۔ کوئی قانون وغیرہ نہیں۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ ملحقات کن ابواب کو کہتے ہیں؟ جو ہیں تو ثلاثی، لیکن کس وزن پر لے گئے؟ رباعی کے وزن پر ایک یا زائد حروف بڑھا کر۔ اور کس لیے لے کر گئے؟ رباعی کے کسی خاصے کو حاصل کرنے کے لیے۔ اور تیسری بات یہ کہ یہ کیا ہوتے ہیں؟ خلافِ قیاس ہوتے ہیں، باقاعدہ کوئی قانون وغیرہ نہیں کہ آپ جب بھی واؤ بڑھا دیں، ایسا ہو جائے گا؟ نہیں۔ آپ جب بھی یا بڑھا دیں، ایسا ہو جائے گا؟ نہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے دوبارہ کتاب پر، تو کہتے ہیں دوم جو ہے فعولة، دوسرا جو ہے وہ باب فعول ہے۔ زيادةُ آن واو است بعد عين، اس کی زیادت جو ہے وہ واؤ ہے عین کے بعد۔ چون السرولة شلوار پوشانیدن، شلوار پہنانا۔ تصريفه اس کی گردان سرول يسرول إِلَى آخِرِهِ۔ جَلْبَبَ کا ماخذ کیا تھا؟ جِلْبَاب۔ کیا تھا؟ جِلْبَاب۔ اور اِلْبَاس سے ماخذ کیا معنی؟ جِلباب پہنانا۔ جی۔ سَرْوَلَ کا ماخذ کیا ہے؟ سِرْوَال۔ اور سَرْوَلَ کا کیا معنی؟ ہاں، سِرْوَال پہنانا، یعنی الباس سے ماخذ۔ جی، اب آپ سرول سے گردان سنائیے صرفِ صغیر بھئی۔ سَرْوَلَ يُسَرْوِلُ سَرْوَلَةً فَهُوَ مُسَرْوِلٌ وَسُرْوِلَ يُسَرْوَلُ سَرْوَلَةً فَذَاكَ مُسَرْوَلٌ لَمْ يُسَرْوِلْ لَمْ يُسَرْوَلْ لَا يُسَرْوِلُ لَا يُسَرْوَلُ لَنْ يُسَرْوِلَ لَنْ يُسَرْوَلَ الْأَمْرُ مِنْهُ سَرْوِلْ لِتُسَرْوَلْ لِيُسَرْوِلْ لِيُسَرْوَلْ وَالنَّهْيُ عَنْهُ لَا تُسَرْوِلْ لَا تُسَرْوَلْ لَا يُسَرْوِلْ لَا يُسَرْوَلْ وَالظَّرْفُ مِنْهُ مُسَرْوَلٌ مُسَرْوَلَانِ۔ شاباش شاباش۔ آگے دیکھیے بھئی، سوم، تیسرا۔ کتنے ابواب آئیں گے؟ سات۔ جو ملحق ہیں ملحق بالرباعی المجرد ہیں، یعنی دَحرَجَ کے ساتھ سات ابواب ملحق ہیں۔ پہلا کیا؟ فَعْلَلَ، یعنی جَلْبَبَ۔ دوسرا کیا؟ فَوْعَلَ، جیسے سَرْوَلَ۔ تیسرا آیا بھئی، سوم، فَعْيَلَةٌ، زیادتِ یا بعدِ فا، یا کا زائد ہونا فا کے بعد، چو السَّيْطَرَةُ، بر گماشتہ شدن۔ بر گماشتہ شدن، مقرر ہونا۔ کسی کام پر مقرر ہونا۔ تو السَّيْطَرَةُ بر گماشتہ شدن مقرر ہونا، تصریفہ، اس کی گردان سَيْطَرَيُسَيْطِرُ إِلَى آخِرِهِ۔ جی، سَيْطَرَيُسَيْطِرُ صرفِ صغیر سنائیے بھئی۔ سَيْطَرَيُسَيْطِرُ سَيْطَرَةً فَهُوَ مُسَيْطِرٌ وَسُيْطِرَيُسَيْطَرُ سَيْطَرَةً فَذَاكَ مُسَيْطَرٌ لَمْ يُسَيْطِرْ لَمْ يُسَيْطَرْ لَا يُسَيْطِرُ لَا يُسَيْطَرُ لَنْ يُسَيْطِرَ لَنْ يُسَيْطَرَ الْأَمْرُ مِنْهُ سَيْطِرْ لِتُسَيْطَرْ لِيُسَيْطِرْ لِيُسَيْطَرْ وَالنَّهْيُ عَنْهُ لَا تُسَيْطِرْ لَا تُسَيْطَرْ لَا يُسَيْطِرْ لَا يُسَيْطَرْ وَالظَّرْفُ مِنْهُ مُسَيْطَرٌ مُسَيْطَرَانِ۔ شاباش شاباش۔ تو دیکھا، سَيْطَرَيُسَيْطِرُ، سَيْطَرَةً فَهُوَ مُسَيْطِرٌ وَسُيْطِرَ۔ سُيْطِرَ اصل میں کیا تھا؟ سُيْطِرَ، یا تھی۔ پھر یا سے ماقبل ضمہ تھا، تو اس یا کو کس سے بدل دیا؟ واؤ سے بدل دیا، تو سُوطِرَ ہوا۔ تو اس میں یہ اعلال ہوا۔ آگے دیکھیے بھئی، چہارم، فَعْيَلَةٌ، فَعْيَلَةٌ، بزیادتِ یا بعدِ عین، یا کی زیادتی کے ساتھ بعدِ عین، کس کے بعد؟ عین کے۔ فَعْيَلَةٌ، دیکھو بھئی عین کے بعد کیا زائد آ رہی ہے؟ بھئی تیسرے نمبر پر کیا تھا؟ فَعْيَلَةٌ، وزن پہ نظر رکھو نا۔ فَعْيَلَةٌ، اس میں کیا زائد ہے؟ یا، اور کس کے بعد ہے؟ فا۔ تو یہی تو بیان کیا تھا پہلے زیادتِ یا بعدِ فا۔ اب یہ چوتھے میں آؤ، فَعْيَلَةٌ، اس میں کیا زائد ہے؟ فَعْيَلَةٌ، اس میں کیا زائد ہے؟ یا، اور کس کے بعد ہے؟ عین کے بعد۔ دیکھو تو تیسرے میں جو ہے عین سے پہلے یا زائد تھی اور چوتھے میں عین کے بعد۔ تو دیکھیے، کہتے ہیں فَعْيَلَةٌ بزیادتِ یا بعدِ عین، یا کی زیادتی کے ساتھ عین کے بعد، چو الشَّرْيَفَةُ، افزونی برگہائے کشت بریدن۔ افزونی، زائد زائد۔ برگہا، برگ کہتے ہیں پتوں کو۔ برگہائے کشت، کشت کہتے ہیں کھیتی کو بھئی۔ برگہائے کشت، کھیتی کے پتے۔ بریدن، کاٹنا۔ افزونی برگہائے کشت بریدن، کھیت کے زائد پتے کاٹنا۔ کھیتی کے زائد پتے کاٹنا۔ جو زائد پتے ہو گئے ہیں، بڑھ گئے ہیں، کسان کیا کرتے ہیں بعض اوقات، بعض فصلیں ہوتی ہیں، پھر ان میں صفائی وغیرہ کرتے ہیں بھئی، کاٹتے ہیں کچھ۔ تو افزونی، زیادہ جو ہیں، زائد ہیں۔ افزونی برگہائے کشت بریدن، کھیت کے، کھیتی کے زائد پتے کاٹنا۔ تصریفہ، اس کی گردان شَرْيَفَ يُشَرْيِفُ إِلَى آخِرِهِ۔ اچھا جی، آپ سنائیے بھئی شَرْيَفَ يُشَرْيِفُ کی گردان صرفِ صغیر بھئی۔ شَرْيَفَ يُشَرْيِفُ شَرْيَفَةً فَهُوَ مُشَرْيِفٌ وَشُرْيِفَ يُشَرْيَفُ شَرْيَفَةً فَذَاكَ مُشَرْيَفٌ لَمْ يُشَرْيِفْ لَمْ يُشَرْيَفْ لَا يُشَرْيِفُ لَا يُشَرْيَفُ لَنْ يُشَرْيِفَ لَنْ يُشَرْيَفَ الْأَمْرُ مِنْهُ شَرْيِفْ لِتُشَرْيَفْ لِيُشَرْيِفْ لِيُشَرْيَفْ وَالنَّهْيُ عَنْهُ لَا تُشَرْيِفْ لَا تُشَرْيَفْ لَا يُشَرْيِفْ لَا يُشَرْيَفْ وَالظَّرْفُ مِنْهُ مُشَرْيَفٌ مُشَرْيَفَانِ۔ شاباش شاباش۔ آگے دیکھیے بھئی کتاب پر۔ پنجم، فَوْعَلَةٌ۔ جی، فَوْعَلَةٌ میں کیا زائد ہے؟ واؤ زائد ہے فا کے بعد۔ یہی بیان کر رہے ہیں، بزیادتِ واؤ بعدِ فا، واؤ کی زیادتی کے ساتھ فا کے بعد، چو الْجَوْرَبَةُ، پائتابہ پوشانیدن۔ جیسے الجَوْرَبَةُ پائتابہ، پائتابہ، پائے کسے کہتے ہیں؟ پاؤں کو۔ پائتابہ، پاؤں کو گرم کرنے والا، یعنی جراب، جراب۔ پائتابہ پوشانیدن، جراب پہنانا۔ جوارب تو عربی میں ہے نا، پائتابہ کس میں ہے؟ فارسی میں۔ پائتابہ پوشانیدن، جراب پہنانا۔ تصریفہ، جَوْرَبَ يُجَوْرِبُ إِلَى آخِرِهِ۔ جی، جَوْرَبَ يُجَوْرِبُ سنائیے بھئی۔ جَوْرَبَ يُجَوْرِبُ جَوْرَبَةً فَهُوَ مُجَوْرِبٌ وَجُورِبَ يُجَوْرَبُ جَوْرَبَةً فَذَاكَ مُجَوْرَبٌ لَمْ يُجَوْرِبْ لَمْ يُجَوْرَبْ لَا يُجَوْرِبُ لَا يُجَوْرَبُ لَنْ يُجَوْرِبَ لَنْ يُجَوْرَبَ الْأَمْرُ مِنْهُ جَوْرِبْ لِتُجَوْرَبْ لِيُجَوْرِبْ لِيُجَوْرَبْ وَالنَّهْيُ عَنْهُ لَا تُجَوْرِبْ لَا تُجَوْرَبْ لَا يُجَوْرِبْ لَا يُجَوْرَبْ وَالظَّرْفُ مِنْهُ مُجَوْرَبٌ مُجَوْرَبَانِ۔ شاباش۔ آگے دیکھیے بھئی، ششم، فَعْنَلَةٌ، فَعْنَلَةٌ، اس میں کیا زائد ہے؟ نون۔ کہاں پر؟ عین کے بعد، شاباش۔ بزیادتِ نون بعدِ عین، نون کی زیادتی کے ساتھ عین کے بعد، چو الْقَلْنَسَةُ، کلاہ پوشانیدن۔ قَلْنَسَ، قلنسوۃ سے ہے۔ ماخذ کیا ہے؟ قلنسوۃ۔ اور قلنسوۃ کسے کہتے ہیں؟ ٹوپی کو۔ فارسی میں اسے کہتے ہیں کلاہ، کلاہ۔ چو الْقَلْنَسَةُ کلاہ پوشانیدن، ٹوپی پہنانا۔ تصریفہ، اس کی گردان قَلْنَسَ يُقَلْنِسُ إِلَى آخِرِهِ۔ جی، سنائیے بھئی۔ قَلْنَسَ يُقَلْنِسُ قَلْنَسَةً فَهُوَ مُقَلْنِسٌ وَقُلْنِسَ يُقَلْنَسُ قَلْنَسَةً فَذَاكَ مُقَلْنَسٌ لَمْ يُقَلْنِسْ لَمْ يُقَلْنَسْ لَا يُقَلْنِسُ لَا يُقَلْنَسُ لَنْ يُقَلْنِسَ لَنْ يُقَلْنَسَ الْأَمْرُ مِنْهُ قَلْنِسْ لِتُقَلْنَسْ لِيُقَلْنِسْ لِيُقَلْنَسْ وَالنَّهْيُ عَنْهُ لَا تُقَلْنِسْ لَا تُقَلْنَسْ لَا يُقَلْنِسْ لَا يُقَلْنَسْ وَالظَّرْفُ مِنْهُ مُقَلْنَسٌ مُقَلْنَسَانِ۔ شاباش۔ ہفتم، فَعْلَاةٌ۔ ساتواں جو ہے جو ملحق بالرباعی المجرد ہے، وہ ہے فَعْلَاةٌ۔ جی، فَعْلَاةٌ میں کیا زائد ہے؟ الف زائد ہے، کس کے بعد؟ لام کے بعد۔ یہی بیان کر رہے ہیں، بزیادتِ یا بعدِ لام، یا کی زیادتی کے ساتھ لام کے بعد۔ بھئی آپ نے تو الف کہا، انہوں نے کیا کہا؟ یا۔ کیونکہ یہ الف یہ اصل میں کیا تھی؟ یا۔ اصل میں کیا تھا؟ فَعْلَيَةٌ، فَعْلَيَةٌ۔ پھر یا متحرک ماقبل فتحہ کس سے بدلا؟ الف سے، تو فَعْلَاةٌ ہوا۔ یہ معنی ہے بزیادتِ یا بعدِ لام، یا کی زیادتی کے ساتھ لام کے بعد، چو الْقَلْسَاةُ، کلاہ پوشانیدن، ٹوپی پہنانا۔ یہ بھی اسی قلنسوۃ سے ہے، ق لام س، وہی مادہ ہے۔ اور اب دوسرا باب بنا لیا اس سے۔ تصریفہ، اس کی گردان قَلْسَى يُقَلْسِي قَلْسَاةً فَهُوَ مُقَلْسٍ وَقُلْسِيَ يُقَلْسَى قَلْسَاةً فَذَاكَ مُقَلْسًى، الْأَمْرُ مِنْهُ قَلْسِ وَالنَّهْيُ عَنْهُ لَا تُقَلْسِ وَالظَّرْفُ مِنْهُ مُقَلْسًى۔ جی، اس کی پوری گردان ذکر کی بھئی ذرا تفصیل کے ساتھ۔ وجہ یہ کہ اس کے آخر میں یا آ رہی ہے۔ تو وہ ناقص وغیرہ کے قوانین لگیں گے اس میں۔ اس میں چونکہ اعلال ہو رہا ہے جگہ جگہ، اس لیے اس کی پوری صرفِ صغیر ذکر کر دی۔ سنائیے بھئی اس کی صرفِ صغیر بھئی قَلْسَى يُقَلْسِي۔ قَلْسَى يُقَلْسِي قَلْسَاةً فَهُوَ مُقَلْسٍ وَقُلْسِيَ يُقَلْسَى قَلْسَاةً فَذَاكَ مُقَلْسًى لَمْ يُقَلْسِ لَمْ يُقَلْسَ لَا يُقَلْسِي لَا يُقَلْسَى لَنْ يُقَلْسِيَ لَنْ يُقَلْسَى الْأَمْرُ مِنْهُ قَلْسِ لِتُقَلْسَ لِيُقَلْسِ لِيُقَلْسَ وَالنَّهْيُ عَنْهُ لَا تُقَلْسِ لَا تُقَلْسَ لَا يُقَلْسِ لَا يُقَلْسَ وَالظَّرْفُ مِنْهُ مُقَلْسًى مُقَلْسَيَانِ۔ شاباش شاباش۔ دیکھا بھئی، جتنے اعلالات ہو رہے تھے، یہ سارے اعلال کرتے چلے گئے ساتھ بھئی۔ اب صاحبِ کتاب ان میں سے ایک ایک اعلال بیان کریں گے۔ ایک ایک اعلال، دیکھیے بھئی کتاب پر۔ جی، پہلا صیغہ کیا تھا ماضی کا؟ قَلْسَى۔ بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں اصلِ قَلْسَى قَلْسَيَ بود، قَلْسَى کی اصل قَلْسَيَ تھی۔ یا متحرک ماقبل مفتوح، یا کیا تھی؟ متحرک تھی، اور اس کا ماقبل مفتوح تھا، یا را الف کردند، تو یا کو الف کر دیا۔ و ہمچنین قَلْسَاةٌ مصدر، اور اسی طرح قَلْسَاةٌ مصدر ہے کہ قَلْسَيَةٌ بود، کہ اصل میں کیا تھا؟ قَلْسَيَةٌ تھا۔ تو پھر کیا کیا؟ یا متحرک ماقبل فتحہ، اس کو کس سے بدلا؟ الف سے۔ کیا بن گیا؟ قَلْسَاةٌ۔ و ہمچنین يُقَلْسَى مضارع مجہول، اور اسی طرح يُقَلْسَى مضارع مجہول، کہ اصلِ آن يُقَلْسَيُ بود، کہ اس کی اصل کیا تھی؟ يُقَلْسَيُ۔ پھر یا متحرک ماقبل فتحہ، یا کو کس سے بدلا؟ الف سے۔ تو کیا بن گیا؟ يُقَلْسَى۔ اعلال سمجھ میں آ رہے ہیں؟ و در مُقَلْسًى مفعول، اور مُقَلْسًى جو کہ مفعول ہے، کہ اصلِ آن مُقَلْسَيٌ بود، کہ اصل اس کی کیا تھی؟ مُقَلْسَيٌ۔ پھر کیا کیا؟ مُقَلْسَيٌ، ضمہ بر یا ثقیل تھا، یہ بعد میں دیکھتے ہیں۔ پہلے یہ متحرک سے ماقبل مفتوح تو نہیں، وہ پہلے دیکھتے ہیں۔ جی، مُقَلْسَيٌ، یا متحرک ماقبل فتحہ، اس کو کس سے بدلا؟ الف سے۔ کیا بن گیا؟ مُقَلْسَان۔ مُقَلْسَا بن گیا؟ مُقَلْسَن۔ مُقَلْسَان بن گیا۔ کیا بن گیا؟ مُقَلْسَان۔ کیوں؟ مُقَلْسَان، یہ نون کہاں سے آ رہا ہے؟ تنوین۔ تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نونِ ساکن کا نام ہے۔ تنوین کس کا نام ہے؟ توجہ ہے؟ جی، ہاں، ابواب الصرف میں آپ پڑھ چکے ہیں، تنوین نونِ ساکن کا نام ہے۔ دیکھو میں آپ کے سامنے ایک لفظ لکھتا ہوں، آپ نے اس کو پڑھ کے بتانا ہے۔ میں نے لکھا ز، یا، د، اور د کے اوپر میں نے دو پیش بھی ڈال دیے۔ اب اس کو ذرا پڑھو۔ توجہ ہے؟ جی، کیا لکھا؟ ز، یا، د، اور د کے اوپر میں نے دو پیش بھی لکھ دیے۔ اب اس کو پڑھو۔ زَیْدٌ۔ زَیْدٌ؟ یہ نون کہاں سے آیا؟ میں نے تو د لکھا ہے، نون تو میں نے لکھا ہی نہیں۔ ہاں، آپ کہیں گے یہ تنوین والا نون ہے۔ یہ کیا ہے؟ تو دیکھا، تنوین دراصل نونِ ساکن کا نام ہے، نونِ ساکن کا نام۔ جیسے ضَارِبٌ، کیسے لکھتے ہیں؟ ض، الف، ر، ب، اور ب پر دو پیش۔ آخر میں نون نہیں لکھتے۔ یہ تنوین دراصل کیا ہے؟ نون ہی ہے۔ تو یہ نونِ ساکن کا نام ہے۔ تو یہاں بھی اسی طرح تھا۔ مُقَلْسًى مفعول، اصل میں کیا تھا؟ مُقَلْسَيٌ۔ جی، پھر یا متحرک ماقبل مفتوح کس سے بدلا؟ الف سے۔ یا تو الف سے بدل گئی، لیکن آگے تنوین والا نون بھی تو موجود ہے۔ تو کیا بن گیا؟ مُقَلْسَان۔ جی، پھر الف بھی ساکن، نون بھی ساکن۔ کیا آیا؟ اجتماعِ ساکنین علی غیرِ حدہٖ۔ اول مدہ تھا، یعنی الف، اس کو گرا دیا۔ کیا بن گیا؟ مُقَلْسَن۔ کیا بن گیا؟ مُقَلْسَن۔ یہی بیان کر رہے ہیں کہ مُقَلْسًى مفعول کے اصل میں کیا تھا؟ مُقَلْسَيٌ تھا۔ دوبارہ دیکھیے کتاب پر۔ مُقَلْسًى مفعول، کہ اصلِ آن مُقَلْسَيٌ بود، کہ اس کی اصل جو ہے مُقَلْسَيٌ تھی۔ لیکن درآں الف بہ سببِ اجتماعِ ساکنین با تنوین بیفتاد۔ لیکن اس میں الف جو ہے، مُقَلْسَيٌ میں یا کس سے بدلی؟ الف سے۔ اور پھر وہ لیکن درآں الف بہ سببِ اجتماعِ ساکنین با تنوین بیفتاد۔ بھئی الف اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گرا، ادھر دیکھیے۔ الف کس کی وجہ سے گرا؟ کس کے ساتھ اجتماعِ ساکنین آیا تھا الف کا؟ تنوین کے، نونِ تنوین کے ساتھ۔ یہی بیان کر رہے ہیں، لیکن درآں الف بہ سببِ اجتماعِ ساکنین با تنوین بیفتاد۔ لیکن الف اس میں اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے با تنوین، کس کے ساتھ؟ تنوین کے ساتھ۔ تو یوں ترجمہ کرو، لیکن الف تنوین کے ساتھ اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے بیفتاد، گر گیا۔ وَ يُقَلْسِي مضارع کیا آیا تھا؟ قَلْسَى يُقَلْسِي۔ يُقَلْسِي اصل میں کیا تھا؟ يُقَلْسِيُ۔ دَحْرَجَ يُدَحْرِجُ، يُقَلْسِيُ۔ پھر ضمہ یا پر ثقیل تھا، تو اس کو گرا دیا۔ اگر یا متحرک سے ماقبل فتحہ ہوتا، تو اس یا کو ہم کس سے بدلتے؟ الف سے۔ تو جب بھی یا، یا واؤ متحرک ہوں، یا اور واؤ پر ضمہ بھی ثقیل ہوتا ہے اور کسرا بھی ثقیل ہوتا ہے۔ اس کو گراتے ہیں، لیکن گرانے سے پہلے دیکھ لیتے ہیں کہ اس واؤ یا یا سے پہلے فتحہ تو نہیں؟ اگر فتحہ ہو تو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے۔ اگر فتحہ نہ ہو، پھر اس ضمہ یا کسرا کو گرا دیتے ہیں۔ تو يُقَلْسِيُ یا پر کیا ہے؟ ضمہ، اور ضمہ یا پر ثقیل۔ اس یا کو ہم نے الف سے بدلنا ہے، کب؟ اگر ماقبل میں کیا ہو؟ فتحہ۔ لیکن ماقبل میں تو سین پر زیر ہے، يُقَلْسِيُ، تو اس کو الف سے نہیں بدل سکتے۔ تو پھر کیا کریں گے؟ بس صرف ضمہ کو گرا دیں گے، الف سے نہیں بدلیں گے۔ تو کیا بن گیا؟ يُقَلْسِي۔ یہی بیان کر رہے ہیں، وَ يُقَلْسِي مضارع معروف، مضارع معروف کہ اصلِ آن يُقَلْسِيُ بود، کہ اصل اس کی يُقَلْسِيُ تھی۔ یا را ساکن کردند، یا کو ساکن کر دیا۔ و ہمچنین مُقَلْسٍ اسمِ فاعل، اور اسی طرح مُقَلْسٍ اسمِ فاعل۔ ادھر دیکھیے بھئی، اسمِ فاعل مُقَلْسٍ ہے۔ یہ اصل میں کیا تھا؟ دَحْرَجَ يُدَحْرِجُ دَحْرَجَةً فَهُوَ مُدَحْرِجٌ۔ بناؤ بھئی، مُقَلْسِيٌ۔ جی، پھر کیا کیا؟ مُقَلْسِيٌ۔ خود بنا لو، بنانا کیا ہے؟ مُقَلْسٍ، اور چلنا کہاں سے ہے؟ مُقَلْسِيٌ سے۔ کس سے چلنا ہے؟ اور بنانا کیا ہے؟ مُقَلْسٍ۔ کیسے بنے گا؟ خود بناؤ، مُقَلْسِيٌ۔ جی۔ یا پر ضمہ ثقیل، اس کو گرا دیا۔ تو یا ساکن، آگے نون بھی ساکن۔ تو کیا بن گیا؟ پہلے پڑھو، کیا بن گیا؟ مُقَلْسِین۔ مُقَلْسِيٌ تھا، یا کا ضمہ گرا دیا۔ یا ابھی بھی ہے، اور نون بھی ہے آگے۔ تو مُقَلْسِین۔ تو کیا آیا؟ اجتماعِ ساکنین علی غیرِ حدہٖ۔ اجتماعِ ساکنین علی حدہٖ کیا ہوتا ہے؟ کہ اول ساکن مدہ ہو، یا یائے تصغیر ہو، اور ثانی ساکن مدغم ہو، مدغم ہو۔ فارٌّ، خوَیصَّةٌ۔ یہ دو مثالیں یاد رکھو۔ فارٌّ، الف کیا ہے؟ ساکن۔ حرفِ مدہ ہے۔ اور ثانی ساکن یعنی را کیا ہے؟ مدغم ہے۔ خوَیصَّةٌ، پہلا ساکن کیا ہے؟ یائے تصغیر۔ اور اگلا ساکن کیا ہے؟ مدغم ہے۔ تو اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہِ کسے کہتے ہیں؟ کہ پہلا ساکن مدہ ہو، یا یائے تصغیر ہو، اور ثانی ساکن مدغم ہو۔ دہرائو بھئی، زبان سے آپ کے لیے میں تکرار کروا رہا ہوں۔ جی، اجتماعِ ساکنین علیٰ حدہِ کسے کہتے ہیں؟ کہ اول ساکن کیا ہو؟ حرفِ مدہ ہو یا یائے تصغیر ہو، اور ثانی ساکن کیا ہو؟ مدغم ہو، یعنی وہاں شد آ رہا ہو۔ اور اس کی مثال یاد رکھو، پھر خود ہی یاد رہے گا۔ ایک مثال، فارٌّ۔ دیکھو اول ساکن مدہ ہے، اور ثانی ساکن مدغم ہے۔ اور خوَیصَّةٌ، اول ساکن یائے تصغیر ہے، اور ثانی ساکن صاد کیا ہے؟ مدغم ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اچھا، بات چل رہی تھی مقلصٍ۔ مقلصٍ میں کیا کیا؟ یا پر ضمہ ثقیل تھا، تو ضمہ گرا دیا۔ کیا بن گیا؟ مقلسین۔ یا اور نون دو ساکن جمع ہو گئے۔ یہ تو کون سا اجتماعِ ساکنین ہے؟ علیٰ غیرِ حدہِ۔ کیا اول مدہ اور ثانی مدغم ہے؟ نہیں، تو یہ اجتماعِ ساکنین علیٰ غیرِ حدہِ ہے۔ اس میں کیا کرتے ہیں؟ اگر اول مدہ ہو، اس کو کیا کر دیتے ہیں؟ گرا دیتے ہیں۔ اور اگر مدہ نہ ہو، تو پھر حرکت دے دیتے ہیں۔ جی، تو یہاں اول ساکن کیا ہے؟ یا۔ اور یا سے ماقبل کیا ہے؟ کسرا۔ تو معلوم ہوا یہ یا کیا ہے؟ حرفِ مدہ۔ یا سے پہلے زیر ہو، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مدہ۔ واؤ سے پہلے پیش ہو، تو اس واؤ کو کیا کہتے ہیں؟ حرفِ مدہ۔ تو یہاں یا کیا ہے؟ مدہ۔ تو اس کا کیا کریں گے؟ یا کو گرا دیں گے، تو کیا بن گیا؟ مقلصٍ۔ تو کہتے ہیں، "و ہمچنین مقلصٍ اسمِ فاعل" اور اسی طرح مقلصٍ اسمِ فاعل، "کہ اصلِ آن مقلصِیوٌ بود" کہ اس کی اصل مقلصِیوٌ تھی۔ "لیکن یائے آن بعدِ سکون بہ سببِ اجتماعِ ساکنین با تنوین بفتاد" لیکن اس کی یا بعدِ سکون، ساکن ہونے کے بعد، بہ سببِ اجتماعِ ساکنین، اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے، با تنوین، کس کے ساتھ اجتماعِ ساکنین؟ تنوین کے ساتھ۔ تنوین کے ساتھ اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے بفتاد، گر گئی، تو کیا بن گیا؟ مقلصٍ۔ "و ملحق بہ رباعی مزید یا ملحق بہ تفعلل است یا ملحق بہ افعنلال یا ملحق بہ افعلال" ملحق بہ رباعی مزید آ گئے۔ سات ابواب ملحق بہ رباعی مجرد گزر گئے۔ کون کون سے ہیں؟ نمبر ایک، بابِ فعللَ۔ نمبر دو، فعولَ۔ نمبر تین، فیعلَ۔ نمبر چار، فاعلَ۔ نمبر پانچ، فوعلةٌ۔ نمبر چھ، فعنلةٌ۔ نمبر سات، فعلاةٌ۔ یہ جو سات ابواب ہیں جو رباعی مجرد کے ساتھ ملحق ہیں۔ اب آگے آ گیا، کہتے ہیں، "و ملحق بہ رباعی مزید یا ملحق بہ تفعلل است یا ملحق بہ افعنلال یا ملحق بہ افعلال" یا تو وہ ملحق کس کے ساتھ ہوں گے؟ بابِ تفعلل کے ساتھ، یا ملحق بہ افعنلال، یا وہ افعنلال کے ساتھ ملحق ہوں گے، یا ملحق بہ افعلال، یا وہ افعلال کے ساتھ ملحق ہوں گے۔ "اول را ہشت باب است" پہلے کے آٹھ باب ہیں۔ کون سا پہلا؟ رباعی مزید۔ یا تو وہ ملحق ہوگا کس کے ساتھ؟ تفعلل کے ساتھ، یا افعنلال کے ساتھ، یا افعلال کے ساتھ۔ پہلے والے آٹھ ہیں، یعنی تفعلل کے ساتھ جو ملحق ہیں، وہ کتنے باب ہیں؟ آٹھ ہیں۔ تو "اول را ہشت باب است" پہلے کے آٹھ باب ہیں۔ اول، تفعللُ بزیادتِ تا قبلِ فا و تکرارِ لام۔ تفعللُ، اس میں کیا کیا زائد ہیں؟ کیا کیا زیادہ ہیں؟ زائد حروف، اصلی کتنے؟ تین ہیں، کیونکہ یہ ثلاثی مزید ہے، ملحق بہ رباعی ہے۔ تو تین اصلی ہیں۔ تو تفعللُ، کیا کیا اصلی؟ فا، عین اور ایک لام۔ تو زائد کیا رہ گئے؟ تا اور ایک لام۔ یہی بیان کر رہے ہیں: "بزیادتِ تا قبلِ فا و تکرارِ لام" تا کا زائد ہونا فا سے پہلے، و تکرارِ لام، اور لام کا مقرر ہونا۔ "چوں تجلببٌ چادر پوشیدن" چادر پہننا۔ یاد رکھیے! یہ جو بابِ تفعلل ہے نا، اس کا ایک خاصہ ہے مطاوعت۔ کیا خاصہ ہے؟ مطاوعت، مطاوعت۔ م-ط-ا-و-ع-ت، مطاوعت، مطاوعت۔ مطاوعت اسے کہتے ہیں کہ ایک فعل کے بعد ادھر سنو! ایک فعل کے بعد دوسرا فعل ذکر ہو، یہ بتلانے کے لیے کہ مفعول نے فاعل کے اثر کو قبول کر لیا ہے۔ ادھر دیکھیے، یہ ایک فعل، یہ دوسرا فعل۔ مطاوعت کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک فعل کے بعد دوسرا فعل ذکر ہو، یہ بتلانے کے لیے کہ مفعول نے فاعل کے اثر کو قبول کر لیا ہے۔ کہ مفعول نے فاعل کے اثر کو قبول کر لیا ہے۔ دیکھو، مثال سے وضاحت ہوگی۔ جیسے: جلببتہُ، کیا معنی؟ جلببتہُ، جلبَبَ کا کیا معنی تھا؟ چادر پہنانا۔ جلببتہُ، میں نے اسے چادر پہنائی۔ تو دیکھو، میں ہوا فاعل، اور وہ مثلاً زید جو ہے، جلببتُ زیداً، میں نے زید کو چادر پہنائی۔ تو میں ہوا فاعل، زید کیا ہوا؟ مفعول۔ آگے پھر کہیں گے، پہلا فعل کیا ذکر کیا؟ جلببتُ زیداً، آگے کہیں گے: فتجلببَ۔ جلببتُ زیداً، میں نے زید کو چادر پہنائی، چادر اوڑھائی۔ فتجلببَ، تو زید نے چادر اوڑھ لی۔ فتجلببَ زیدٌ، تو زید نے چادر اوڑھ لی۔ دیکھو! میں نے چادر پہنائی، اور آگے کیا کہا؟ فتجلببَ، زید نے چادر اوڑھ لی، یعنی میرے، یہ جو میں فاعل ہوں، اس کے اثر کو قبول کر لیا۔ میں نے کیا کیا تھا؟ اس کو چادر پہنائی تھی، اس نے اس اثر کو قبول کر لیا، یعنی چادر پہن لی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ دوسری مثال لے لو۔ دہرجَ یدہرجُ کا معنی ہے لڑھکانا، یعنی اونچی جگہ سے پتھر وغیرہ کو لڑھکا دینا۔ مثلاً آپ پہاڑ پر کھڑے ہیں، اور ایک بڑے پتھر کو آپ نے نیچے کی طرف دھکیل دیا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ لڑھکانا۔ اچھا، دہرجتُ حجراً، میں نے پتھر کو لڑھکایا۔ فتدہرجَ، تو وہ لڑھک گیا۔ دیکھا! اس نے کیا کیا؟ معلوم ہوا فاعل کے اثر کو قبول کر لیا۔ تو مطاوعت کسے کہتے ہیں؟ ایک فعل کے بعد دوسرا فعل ذکر ہو، یہ بتلانے کے لیے کہ مفعول نے فاعل کے اثر کو قبول کر لیا ہے۔ میں نے پتھر کو لڑھکایا، تو میں ہوا فاعل، اور پتھر کیا ہوا؟ مفعول۔ آگے تہدہرجَ بتلا رہا ہے کہ وہ پتھر لڑھک گیا۔ معلوم ہوا اس نے میرے فعل کے اثر کو قبول کر لیا۔ یا دوسری مثال لے لو، جیسے گزرا: قلنسَ یقلنسُ کا کیا معنی؟ ٹوپی پہنانا۔ جی، ماضی بناؤ: قلنستُ، قلنستُ زیداً، میں نے زید کو ٹوپی پہنائی۔ فتقلنسَ، تو اس نے ٹوپی پہن لی۔ میں نے ٹوپی پہنائی، تو اس نے ٹوپی پہن لی۔ دیکھا! معلوم ہوا ایک فعل کے بعد دوسرا فعل ذکر ہوا، یہ بتلانے کے لیے کہ مفعول نے فاعل کے اثر کو قبول کر لیا ہے۔ اب مطاوعت سمجھ میں آئی؟ ایک فعل میں ایک چیز ذکر ہوتی ہے، اور اگلا فعل آ کر بتلاتا ہے کہ مفعول نے اس اثر کو قبول کر لیا ہے۔ تو دیکھیے بھئی کتاب پر: "اول، تفعللُ بزیادتِ تا قبلِ فا و تکرارِ لام چوں تجلببٌ چادر پوشیدن" جیسے تجلببٌ چادر پہننا۔ جلببتُ زیداً، میں نے زید کو چادر پہنائی۔ فتجلببَ، تو اس نے چادر پہن لی۔ بات سمجھ میں آئی؟ چادر اوڑھ لی۔ جی، تجلببَ سے صرفِ صغیر سناؤ بھئی! تجلببَ یتجلببُ تجلبباً فہو متجلببٌ، و تُجُلبِبَ یُتَجَلَبَبُ تجلبباً فذاک متجلبَبٌ، لم یتجلبب لم یتجلبب، لا یتجلببُ لا یتجلبَبُ، لن یتجلببَ لن یتجلبَبَ، الأمر منہ تجلبب لتتجلبب لیاتجلبب لیُتجلبب، والنہی عنہ لا تتجلبب لا تُتجلبب لا یتجلبب لا یُتجلبب، والظرف منہ متجلبَبٌ متجلبَبانِ۔ شاباش! شاباش! دوم جو ہے: تفعوُلٌ۔ تفعوُلٌ، اس میں فا، عین اور لام تو اصلی۔ زائد کیا کیا ہیں؟ فا سے پہلے تا، اور عین کے بعد واؤ۔ یہی بیان کر رہے ہیں: "بزیادتِ تا قبلِ فا" تا کی زیادتی فا سے پہلے، "و واؤ" اور واؤ کی زیادتی "میانِ عین و لام" عین اور لام کے بیچ میں۔ "چوں تسرولٌ شلوار پوشیدن" شلوار پہننا۔ سرولتہُ، میں نے اسے شلوار پہنائی۔ فتسرولَ، تو اس نے شلوار پہن لی۔ دیکھا مطاوعت! تو یہ خاصہ حاصل کرنے کے لیے، یہ کون سا خاصہ؟ خاصۂ مطاوعت کے لیے کیا کیا؟ اس کو بابِ تفعلل میں لے آئے۔ جلباب کو کس میں لے آئے؟ پہلے لے کر گئے تھے دہرجَ میں، کس مقصد کے لیے؟ کون سا خاصہ حاصل کرنے کے لیے؟ الباسِ ماخذ۔ اور یہاں، اب جلباب کو لے آئے بابِ تدہرجَ کے اندر، کون سا خاصہ حاصل کرنے کے لیے؟ مطاوعت۔ کون سا خاصہ؟ مطاوعت۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جی، سنائیے بھئی تسرولٌ سے گردان، صرفِ صغیر! تسرولَ یتسرولُ تسرولاً فہو متسرولٌ، و تُسرُوِلَ یُتَسرَوَلُ تسرولاً فذاک متسرولٌ، لم یتسرول لم یُتسرول، لا یتسرولُ لا یُتسرولُ، لن یتسرولَ لن یُتسرولَ، الأمر منہ تسرول لتُتسرول لیلتسرول لیُتسرول، والنہی عنہ لا تتسرول لا تُتسرول لا یتسرول لا یُتسرول، والظرف منہ متسرولٌ متسرولانِ۔ شاباش! آگے دیکھیے کتاب پر: سوم، تفیعُلٌ۔ تفیعُلٌ، جی! اس میں کیا کیا زائد؟ فا سے پہلے تا، اور فا اور عین کے درمیان یا۔ کہتے ہیں: "بزیادتِ تا قبلِ فا" فا سے پہلے تا کی زیادتی کے ساتھ، "و یا بعدِ فا" اور یا کی زیادتی بعدِ فا، فا کے بعد۔ "چوں تشیطُنٌ شیطان شدن" شیطان ہونا۔ تشیطنَ کا معنی شیطان ہونا۔ اس کا ماخذ جو ہے، وہ شیطان ہے، شیطان۔ اور یہ خاصہ ہے تحول۔ تحول، یعنی ماخذ بننا، ایک شئے کا ماخذ بننا۔ تو ماخذ کیا؟ شیطان۔ تو تشیطنَ کا کیا معنی؟ شیطان بننا۔ دیکھا! تحول، کیا معنی؟ ماخذ بننا۔ تحول کا کیا معنی؟ ماخذ بننا۔ تو تشیّطنَ کا کیا معنی ہوا؟ شیطان بننا۔ اسی طرح آگے ایک آ رہا ہے سات نمبر پر: تعفُرُتٌ۔ تعفُرُتٌ، اس کا کیا معنی ہے؟ مل گیا آگے؟ خبیث شدن، خبیث ہونا۔ یہ اصل میں عفریت سے ہے۔ عفریت جو بڑا ہی مکار، خبیث اور شیطان ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عفریت۔ تو اسی سے باب بنا لیا۔ کیا باب؟ تعفرتَ۔ تعفرتَ کا کیا معنی؟ کون سا خاصہ ہے؟ تحول۔ کیا معنی تحول؟ ماخذ بننا، ماخذ بننا۔ تو تعفرتَ کا کیا معنی؟ کسی کا عفریت بننا، یعنی خبیث اور شیطان بننا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ دیکھا، اس خاصے کے لیے اس کو میں لے کر آئے بھئی۔ اچھا، تو "تفیعلٌ بزیادتِ تا قبلِ فا و یا بعدِ فا چوں تشیطنٌ شیطان شدن" شیطان ہونا۔ جی، سنائیے بھئی اس سے صرفِ صغیر! تشیطنَ یتشیطنُ... ہاں، اب یہ ذرا ہے مشکل۔ طاء آ رہی ہے، ادائیگی ثقیل ہوگی، ذرا اطمینان سے۔ تشیطنَ یتشیطنُ تشیطناً فہو متشیطنٌ، و تُشُوطِنَ یُتَشَیطَنُ تشیطناً فذاک متشیطَنٌ، لم یتشیطن لم یُتشیطن، لا یتشیطنُ لا یُتشیطنُ، لن یتشیطنَ لن یُتشیطنَ، الأمر منہ تشیطن لتُتشیطن لیتشیطن لیُتشیطن، والنہی عنہ لا تتشیطن لا تُتشیطن لا یتشیطن لا یُتشیطن، والظرف منہ متشیطَنٌ متشیطَنانِ۔ شاباش! شاباش! دیکھا بھئی! آپ ابواب الصرف آپ نے پڑھی ہے، اب آپ زبردست صرفی ہیں۔ جہاں جس قسم کے اعلال کی ضرورت ہوتی ہے، آپ بغیر تیاری کے کرتے چلے جاتے ہیں۔ جیسے تشیطنَ، اسی سے ماضی مجہول بنایا: تُشُوطِنَ۔ اصل میں کیا تھا؟ تُشُویِطَنَ۔ اور پھر یا کو کس سے بدلا؟ واؤ سے، کیونکہ اس سے ماقبل کیا تھا؟ ضمہ تھا بھئی، تو تُشُوطِنَ۔ آگے دیکھیے بھئی! چہارم، تفوعُلٌ۔ تفوعُلٌ، اس میں کیا کیا زائد؟ فا سے پہلے تا، اور فا کے بعد واؤ زائد ہے۔ تو "بزیادتِ تا قبلِ فا" فا سے پہلے تا کی زیادتی کے ساتھ، "و واؤ" اور واؤ کی زیادتی کے ساتھ "بعدِ فا" کس کے بعد؟ فا کے بعد۔ "چوں تجورُبٌ پائتابہ پوشیدن" جراب پہننا۔ جراب پہننا۔ جی، گردان سنائیے بھئی تجورُبٌ سے! تجوربَ یتجربُ... تجوربَ یتجربُ تجورباً فہو متجوربٌ، و تُجُورِبَ یُتَجَوَرَبُ تجورباً فذاک متجوربٌ، لم یتجرب لم یُتجورب، لا یتجربُ لا یُتجوربُ، لن یتجربَ لن یُتجوربَ، الأمر منہ تجورب لتُتجورب لیتجورب لیُتجورب، والنہی عنہ لا تتجورب لا تُتجورب لا یتجرب لا یُتجورب، والظرف منہ متجوربٌ متجوربانِ۔ شاباش! شاباش! دیکھا بھئی، یہ ابواب الصرف کی برکات ہیں بھئی! جو ابواب الصرف یاد کر لے، اس کی صرف میں اتنی زبردست بنیاد بن جاتی ہے کہ پھر کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور پھر ابواب الصرف بے انتہا آسان ہے بھئی! باقی جتنی بھی صرف کی کتابیں آپ اٹھائیں، وہ بہت مشکل ہیں بھئی! لیکن یہ بالکل آسانی سے یاد ہو جاتی ہے۔ کمزور سے کمزور طالبِ علم کو بھی پتہ نہیں چلتا اور وہ بہترین زبردست صرفی بن جاتا ہے۔ آگے دیکھیے بھئی! پنجم، تفعلنٌ جی، تفاعل میں کیا زائد ہے؟ ف سے پہلے تا۔ اور عین کے بعد نون۔ یہی بیان کر رہے ہیں بزیادت تا قبل ف، ف سے پہلے تا کی زیادتی کے ساتھ؛ و نون بعد عین، اور عین کے بعد نون کی زیادتی کے ساتھ۔ چوں تقلنس، کلاہ پوشیدن، ٹوپی پہننا۔ پیچھے آیا تھا تجورب، اس کا کیا معنیٰ تھا؟ جراب پہننا۔ اور جورب، ایک تھا باب دحرجہ سے، وہ کیا تھا؟ ملحق برباعی مجرد تھا۔ ایک ملحق برباعی مجرد تھا، جورب۔ اور یہ ملحق برباعی مزید فیہ ہے، تجورب۔ تو اس میں کیا ہے؟ مطاوعت ہے۔ جورب کا معنیٰ کیا تھا؟ جراب پہنانا۔ اور تجورب کا معنیٰ جراب پہننا۔ جوربت زیداً فتجورب، میں نے زید کو جراب پہنائی تو اس نے جراب پہن لی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ مطاوعت ہے بھئی۔ لیکن یہ ضروری نہیں، یاد رکھو، کہ ہمیشہ جب بھی استعمال ہوگا تجورب سے پہلے جورب ضرور آئے گا، نہیں نہیں۔ ہاں اس کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے: جوربت زیداً فتجورب۔ جلببت زیداً فتجلبب۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ اس طرح بھی استعمال ہو سکتا ہے لیکن ویسے بھی استعمال ہوں گے، علیحدہ بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ بتانا چاہتے ہیں کہ "میں نے اس کو جراب پہنائی" تو آپ کیا کہیں گے؟ جوربتہ۔ اور اگر آپ صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ "زید نے جرابیں پہنیں اور کھیلنے چلا گیا" تو آپ کہیں گے: تجورب زید۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دونوں فعلوں کا اکٹھا استعمال کرنا ضروری نہیں، لیکن بہرحال اس میں مطاوعت والا خاصہ ہے کہ یہ بتلاتا ہے کہ اس نے فاعل کے اثر کو کیا کر لیا ہے، قبول۔ اس کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی دونوں فعلوں کا اکٹھا استعمال ضروری نہیں، اکٹھے بھی ہو سکتے ہیں، علیحدہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اور زیادہ تر علیحدہ ہی ہوتے ہیں، کبھی کبھار اکٹھے بھی ہو جاتے ہیں۔ بس اتنا سمجھ لیں، ان میں، اس میں خاصیتِ مطاوعت ہے۔ تو آپ مطاوعت کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں اور ویسے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ جہاں متعدی استعمال کرنا چاہتے ہیں، وہاں بابِ دحرجہ سے جلبب استعمال کر لینا، اور جہاں آپ لازمی استعمال کرنا چاہتے ہیں تو وہاں بابِ تفاعل، تجلبب استعمال کر لینا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ چوں تقلنس، کلاہ پوشیدن، ٹوپی پہننا۔ جی، صرفِ صغیر سنائیے بھئی تقلنس کا۔ تقلنس یتقلنس تقلنساً فہو متقلنس و توقلنس یتقلنس تقلنساً فذاک متقلنس، لم یتقلنس لم یتوقلنس، لا یتقلنس لا یتوقلنس، لن یتقلنس لن یتوقلنس، الأمر منہ: تقلنس لِتتقلنس لِیتقلنس لِیوقتلنس، والنہی عنہ: لا تتتقلنس لا تتوقلنس لا یتقلنس لا یتوقلنس، والظرف منہ: متقلنس متقلنسانِ۔ شاباش بھئی، شاباش! آگے دیکھیے بھئی۔ ششم: تمفعل۔ تمفعل، اس میں کیا زائد ہے؟ تا اور میم، ف سے پہلے۔ بزیادت تا و میم قبل ف، تا اور میم کی زیادتی کے ساتھ قبل ف، ف سے پہلے۔ چوں تمسکن، مسکین شدن، مسکین ہونا، غریب ہونا۔ صرفِ صغیر سنائیے بھئی تمسکن کا۔ تمسکن یتمسکن تمسکناً فہو متمسکن و تمسکن یتمسکن تمسکناً فذاک متمسکن، لم یتمسکن لم یتمسکن، لا یتمسکن لا یتمسکن، لن یتمسکن لن یتمسکن، الأمر منہ: تمسکن لِتتمسکن لِیتمسکن لِیتمسکن، والنہی عنہ: لا تتمسکن لا تتمسکن لا یتمسکن لا یتمسکن، والظرف منہ: متمسکن متمسکنانِ۔ شاباش، شاباش! تو تمسکن کا معنیٰ مسکین ہونا یعنی غریب ہونا۔ اگلا باب دیکھیے بھئی۔ ہفتم: تفعلت۔ تفعلت، اس میں کیا زائد؟ ف سے پہلے تا، اور لام کے بعد بھی تا۔ تو کہتے ہیں: بزیادت تا قبل ف و تائے دیگر بعد لام۔ بزیادت تا قبل ف، ف سے پہلے تا کی زیادتی کے ساتھ؛ و تائے دیگر بعد لام، اور دوسری تا کس کے بعد؟ لام کے بعد۔ چوں تعفرت، خبیث شدن، خبیث ہونا۔ اس کا ماخذ کیا ہے؟ عفریت۔ عفریت کسے کہتے ہیں؟ جو بڑا مکار ہو، خبیث ہو، شیطان ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عفریت۔ تو اس میں کون سا خاصہ آیا بابِ تفعلت کا؟ تحول۔ کون سا آیا؟ تحول، یعنی ماخذ بن جانا، ماخذ ہو جانا۔ اچھا بھئی، آپ سنائیے بھئی تعفرت سے صرفِ صغیر بھئی۔ تعفرت یتعفرت تعفرتاً فہو متعفرت و تعفرت یتعفرت تعفرتاً فذاک متعفرت، لم یتعفرت لم یتعفرت، لا یتعفرت لا یتعفرت، لن یتعفرت لن یتعفرت، الأمر منہ: تعفرت لِتتعفرت لِیتعفرت لِیتعفرت، والنہی عنہ: لا تتعفرت لا تتعفرت لا یتعفرت لا یتعفرت، والظرف منہ: متعفرت متعفرتانِ۔ شاباش، شاباش! آگے دیکھیے بھئی۔ ہشتم: تفعلی۔ تفعلی، ہاں، یہ تفعلی نہیں ہونا چاہیے، تفعلٍ۔ کیا ہونا چاہیے؟ کیوں؟ کیونکہ یا پر ضمہ ثقیل ہے۔ تو ضمے کو گرا دیا، کیا بن گیا؟ تفعلین، یا بھی ساکن، آگے تنوین والا نون بھی ساکن۔ پھر یا اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گئی، کیا بن گیا؟ تفعلٍ۔ تو اس کے اندر بھی مقلسٍ والا اعلال ہوگا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ معلوم ہوتا ہے کتابت کی غلطی ہے بھئی۔ تفعلی، جی اس میں کیا کیا زائد؟ ف سے پہلے تا، اور لام کے بعد یا۔ ہاں، یا شاید اس وجہ سے لکھ دیا ہو مصنف نے خود ہی اس طرح لکھ دیا ہو، اصل صرف اصل بتلانے کے لیے۔ ورنہ فوراً اس میں اعلال ہوگا، لیکن اصل میں کیا ہے؟ تفعلی، تاکہ طالب علم کو اچھی طرح پتہ چل جائے کہ کون کون سے حروف اس میں زائد ہیں۔ ورنہ تو یا گر جاتی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو تفعلی بزیادت تا قبل ف، ف سے پہلے تا کی زیادتی کے ساتھ؛ و یا بعد لام، اور لام کے بعد یا کی زیادتی کے ساتھ۔ چوں تقلسٍ، کلاہ پوشیدن، ٹوپی پہننا۔ اس کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ تقلسٍ بھئی، تقلسٍ۔ کہتے ہیں: صرفِ صغیرِ ایں ابواب۔ جی، صرفِ صغیر سنائیے بھئی آپ تقلسى یتقلسى۔ تقلسى یتقلسى تقلسیاً فہو متقلسٍ و توقلسى یتقلسى تقلسیاً فذاک متقلسً، لم یتقلسَ لم یتقلسَ، لا یتقلسى لا یتقلسى، لن یتقلسى لن یتقلسى، الأمر منہ: تقلسَ لِتتقلسَ لِیتقلسَ لِیتقلسَ، والنہی عنہ: لا تتتقلسَ لا تتتقلسَ لا یتقلسَ لا یتقلسَ، والظرف منہ: متقلسً متقلسانِ۔ شاباش! صحیح سنایا یا غلط سنایا؟ ضمہ کر رہا ہے وقف پہ؟ جی، لائیں۔ وقف پہ بریک لگاؤ، بریک لگاؤ۔ سننے والے کو پتہ لگے اس نے یا گرا دی ہے۔ اور جہاں یا ہے، اس کو تھوڑا سا نمایاں پڑھو، سننے والے کو پتہ چلے یا موجود ہے۔ پھر سناؤ۔ تقلسى یتقلسى تقلسیاً فہو متقلسٍ و توقلسى یتقلسى تقلسیاً فذاک متقلسً، لم یتقلسَ لم یتقلسَ، لا یتقلسى لا یتقلسى، لن یتقلسى لن یتقلسى، الأمر منہ: تقلسَ لِتتقلسَ لِیتقلسَ لِیتقلسَ، والنہی عنہ: لا تتتقلسَ لا تتتقلسَ لا یتقلسَ لا یتقلسَ، والظرف منہ: متقلسً متقلسانِ۔ شاباش، شاباش! دیکھیے بھئی کتاب پر: صرفِ صغیرِ ایں ابواب را بر وزنِ صرفِ صغیرِ تسربلٌ باید گردانید۔ ان ابواب کی صرفِ صغیر جو ہے، صرفِ صغیرِ ایں ابواب را، ان ابواب کی صرفِ صغیر کو بر وزنِ صرفِ صغیرِ تسربلٌ باید گردانید، تسربلٌ کی صرفِ صغیر کے وزن پر گردان کر لینی چاہیے۔ کس وزن پر؟ تسربل کے وزن پر اس کی صرفِ صغیر کر لینی چاہیے۔ وہی تسربل تدحرج۔ تدحرج یتدحرج تدحرجا۔ کہنا یہ چاہتے ہیں، یہ جتنے آٹھ باب پڑھے، ان کی صرفِ صغیر تدحرج کے وزن پر کر لیں۔ جیسے آپ نے سنا دی۔ ساروں کی صرفِ صغیر آپ نے تدحرج کے وزن پر سنا دی۔ تو کہتے ہیں: صرفِ صغیرِ ایں ابواب را، ان ابواب کی صرفِ صغیر کو بر وزنِ صرفِ صغیرِ تسربلٌ، تسربل کی صرفِ صغیر کے وزن پر باید گردانید، گردان کر لینی چاہیے۔ و در بابِ آخر، اور آخری باب میں، یعنی تقرسی، کس کے اندر؟ بابِ تقرسی میں۔ تعلیلات بقیاسِ قلسى یقلسى باید کرد، اس کے اندر تعلیلات جو ہیں، قلسى یقلسى کے طریقے پر کر لینی چاہئیں۔ جیسے ابھی انہوں نے سنایا: تقلسى یتقلسى تقلسیاً۔ قلسى اصل میں کیا تھا؟ قلسَیَ۔ تقلسى اصل میں کیا تھا؟ تقلسَیَ۔ اور تقلسیاً اصل میں کیا تھا؟ تقلسیاً اصل میں کیا تھا؟ تدحرج یتدحرج تدحرجا۔ تو جی، تقلسُیاً تھا۔ پھر یا کی وجہ سے سین کو کیا دے دیا؟ کسرہ، تو کیا بن گیا؟ تقلسیاً، کیونکہ یا اپنے سے ماقبل کیا چاہتی ہے؟ کسرہ۔ تو دیکھو انہوں نے پوری صرفِ صغیر سنائی اور ساتھ ساتھ اعلال کرتے چلے گئے۔ تو یہ ابوابِ صرف کی برکات ہیں بھئی، عجیب مبارک ابواب ہیں والد صاحب کے، کہ جو طالب علم کر لے ان کو، اس کو صرف میں کبھی دشواری پیش نہیں آتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: و در بابِ آخر، اور آخری باب میں، یعنی تقرسی، کون سا باب؟ تقرسی میں، تعلیلات بقیاسِ قلسى یقلسى باید کرد، اس میں تعلیلات جو ہیں قلسى یقلسى کے طریقے پر باید کرد، کر لینی چاہئیں۔ و در مصدرش ضمۂ عین را بکسرہ بدل کردہ، اور اس کے مصدر میں عین کے ضمے کو کسرہ سے بدل دیا۔ تقلسُیاً، اس سین کے ضمے کو کس سے بدلا؟ کسرہ سے، یہی بیان کر رہے ہیں: و در مصدرش، اور اس کے مصدر میں ضمۂ عین را بکسرہ بدل کردہ، عین کے ضمے کو کسرہ سے بدل دیا۔ اعلالِ مقلسٍ کردہ‌اند، کون سا اعلال کر دیا؟ مقلسٍ والا اعلال کر دیا۔ مقلسٍ میں کیا اعلال ہوا تھا؟ مقلسِیٌ، مقلسِیٌ، یا پر ضمہ ثقیل تھا، ضمہ گرا دیا۔ پھر یا اور نون میں اجتماعِ ساکنین آیا تو یا بھی گر گئی تو مقلسٍ۔ اب لکھتے کیسے ہیں؟ سین کے نیچے دو زیر لکھ دیتے ہیں: مقلسٍ، یا گر گئی بھئی اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ہاں، یہ یا گرے گی حالتِ رفعی اور حالتِ جری میں۔ کس میں؟ یا پر فتحہ نہیں ثقیل۔ فتحہ پڑھتے ہیں، اسی لیے گردان میں انہوں نے کیا سنایا؟ تقلسى یتقلسى تقلسیاً، دیکھو یا پڑھی یا نہیں پڑھی؟ کیونکہ یا پر کیا ہے؟ فتحہ، اور فتحہ تو یا پر ثقیل نہیں۔ تو فتحہ کی صورت میں یا نہیں گرے گی، تقلسیاً ابھی آپ نے پڑھا۔ ہاں، یا پر اگر ضمہ آرہا ہو یا کسرہ، تو پھر یا پر وہ ضمہ اور کسرہ ثقیل ہوتا ہے، وہ ضمہ یا کسرہ گرے گا، اور پھر یا اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر جائے گی۔ لہٰذا تقلسٍ، تقلسٍ، حالتِ رفعی میں بھی تقلسٍ پڑھیں گے، حالتِ جری میں بھی تقلسٍ پڑھیں گے، اور حالتِ نصبی میں تقلسیاً پڑھیں گے۔ توجہ ہے کہ نہیں؟ تقلسیاً حالتِ نصبی میں پڑھیں گے، یا نہیں گرے گی۔ کیوں نہیں گرے گی؟ کیونکہ فتحہ یا پر ثقیل نہیں۔ اور حالتِ جری میں یا گر جائے گی، اور حالتِ رفعی میں بھی یا گر جائے گی۔ خود دیکھیں، حالتِ رفعی میں کیا ہوگا؟ تقلسِیٌ، تو یا پر ضمہ ثقیل، تو ضمہ گرا دیا۔ پھر یا کی اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گئی۔ اسی طرح حالتِ جری میں کیا ہوگا؟ تقلسِین، یا پر کسرہ ثقیل، کسرہ کو گرا دیا۔ تو کیا بن گیا؟ تقلسِین، یا اور نون میں اجتماعِ ساکنین، تو یا گر گئی، کیا بن گیا؟ تقلسٍ۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ یہی بیان کر رہے ہیں کہ و در مصدرش، اس باب کے مصدر میں، ضمۂ عین را بکسرہ بدل کردہ، عین کے ضمے کو کسرہ سے بدل کر، اعلالِ مقلسٍ کردہ‌اند، مقلسٍ والا اعلال کیا۔ ملحق بافعنلال را دو باب است، ملحق بافعنلال جو ہے اس کے دو باب ہیں۔ اول: افعنلالٌ۔ بس، جی افعنلال، اس میں بتائیے کیا کیا زیادہ؟ جی، ہمزہ بھی زیادہ، نون بھی زیادہ، اور لامِ ثانی بھی زیادہ، کیونکہ یہ ثلاثی ملحق ہے نا۔ ثلاثی مزید ملحق برباعی، تو اس میں ایک لام اصلی ہے، دوسرا لام زائد ہے۔ یہی بیان کر رہے ہیں: بزیادتِ لامِ دوم، دوسرے لام کی زیادتی کے ساتھ؛ و نون بعد عین، اور نون کی زیادتی عین کے بعد؛ و ہمزۂ وصل، اور کس کی زیادتی؟ ہمزۂ وصل کی۔ چوں اقعنساسٌ، جیسے اقعنساسٌ، سینہ و گردن بر آوردہ خرالمیدن۔ خرالمیدن کہتے ہیں ناز و نخروں سے چلنا۔ خرالمیدن کیا؟ ناز و نخروں سے، اور سینہ و گردن بر آوردہ، بر آوردن کا معنیٰ نکالنا۔ سینہ اور گردن بر آوردہ، سینہ اور گردن باہر نکال کر خرالمیدن، ناز و نخروں سے چلنا۔ جیسے پہلوان بھئی مقابلے کے لیے جب آتا ہے مقابلے کے لیے، تو وہ کیسے چلتا ہے؟ اپنا سینہ نکال کر بڑے فخر اور تکبر کے ساتھ چلتا ہے، یہ ہے اقعنساس بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ سینہ اور گردن نکال کر، اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے ناز و نخروں کے ساتھ چلنا۔ تو کہتے ہیں: اقعنساسٌ، سینہ و گردن بر آوردہ خرالمیدن، سینہ اور گردن باہر نکال کر ناز و نخروں سے چلنا۔ اقعنساس، جی صرفِ صغیر آپ سنائیے بھئی اقعنسس یقعنسس سے۔ اقعنسس یقعنسس اقعنساساً فہو مقعنسس و اقعنسس یقعنسس اقعنساساً فذاک مقعنسس، لم یقعنسس لم یقعنسس، لا یقعنسس لا یقعنسس، لن یقعنسس لن یقعنسس، الأمر منہ: اقعنسس لِتوقعنسس لِیقعنسس لِوقعنسس، والنہی عنہ: لا تقعنسس لا توقعنسس لا یقعنسس لا یقعنسس، والظرف منہ: مقعنسس مقعنسسانِ۔ شاباش بھئی، شاباش! آگے دیکھیے بھئی۔ دوم، دوسرا: افعنلاءٌ۔ افعنلاءٌ، جی اس میں کیا زیادہ؟ ہمزۂ وصل، اور عین کے بعد نون، اور کیا زیادہ؟ لام کے بعد... کیا کیا بتا رہے ہیں، ٹھہرو۔ بزیادتِ یا بعد اللام، و نون بعد العين، و ہمزہ... اور ایک آخر میں بھی تو حمزہ ہے۔ اچھا اس میں کیا کیا زائد، بھئی؟ ایک شروع میں حمزہ وصل، دوسرا ع کے بعد ن، اور آخر میں یہ جو حمزہ یعنی ی ہے۔ ی اصل میں کیا تھی؟ ی۔ یہ ی زائد ہے۔ اور یہ ل کے بعد الف ہے نا، یہ مصدر والا الف ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور بات کس کی چل رہی ہے؟ ماضی کے پہلے صیغے کی۔ تو اس کا ماضی کا پہلا صیغہ کیا ہوگا؟ افعنلَی۔ اور پھر ی کس سے بدلے گی؟ الف سے۔ افعنلٰی۔ دیکھا اس میں وہ الف نہیں ہے۔ ہاں مصدر میں یہ الف آ گیا۔ جیسے اسی طرح پچھلے باب میں بھی تھا: اِقعِنسَاسٌ۔ دونوں سینوں کے درمیان کیا تھا؟ الف۔ یہ تو مصدر والا الف ہے بھئی، باقی ماضی کے اندر یہ الف نہیں۔ تو "افعنلَاءٌ بزیادةِ یاءٍ بعدَ اللام" کس کی زیادی ہے؟ ی کی۔ "بعدَ اللام" کس کے بعد؟ ل کے بعد۔ یہ ل کے بعد آخر میں جو حمزہ آ رہا ہے نا اس "افعنلَاءٌ"، یہ حمزہ اصل میں کیا تھا؟ ی۔ اور ی اگر الفِ زائد کے بعد آئے تو کس سے بدلتی ہے؟ حمزہ سے۔ کس سے بدلتی ہے؟ حمزہ سے۔ "قال یقول قولاً فهو" قائلٌ۔ یہ حمزہ کہاں سے آیا؟ و سے۔ تو و اور ی کس کے بعد آ جائیں؟ الفِ زائد کے بعد، تو یہ کس سے بدلتے ہیں؟ حمزہ سے۔ تو یہاں بھی اسی طرح اصل میں تھا "افعنلَایٌ" بھئی۔ تو "بزیادةِ یاءٍ بعدَ اللام"، ل کے بعد ی کی زیادی کے ساتھ، "ونونٍ بعدَ العین"، اور ع کے بعد ن کی زیادی، "وہمزةِ وصلٍ"، اور حمزہ وصل کی زیادی، جیسے "اِسلِنقَاءٌ بَر قَفَا خُفتَن"، گدی پر سونا۔ قفا، قفا کہتے ہیں بھئی یہ گردن کا پیچھے والا حصہ جو کمر کی طرف ہے۔ جس پر ہم مسح کرتے ہیں۔ سامنے والے حصے پر مسح نہیں کرتے، کس حصے پر کرتے ہیں؟ جو کمر کی طرف ہے۔ اس کو کہتے ہیں قفا، اردو میں کہتے ہیں گدی۔ گدی کے بل سونا، یعنی سیدھا سویا آدمی، کمر زمین پر رکھ کر سوتا ہے، یہ کیا ہے؟ "بر قفا خفتن"، گدی پر سونا، کمر کے بل سونا۔ اس کو کہتے ہیں اِسلِنقَاء بھئی۔ اسلنقاء، معنی سمجھ میں آ گیا؟ "اسلنقاءٌ بر قفا خفتن"، گدی کے بل سونا یعنی کمر کے بل سونا۔ جی، سنائیے بھئی "اسلنقٰی یسلنقی"، صرفِ صغیر سنائیے۔ اِسلَنقٰی یَسلَنقِی اِسلِنقَاءً فَهُوَ مُسلَنقٍ، وَاُسلُنقِیَ یُسلَنقٰی اِسلِنقَاءً فَذَاکَ مُسلَنقًى، لَم یَسلَنقِ لَم یُسلَنقَ، لَا یَسلَنقِی لَا یُسلَنقٰی، لَن یَسلَنقِیَ لَن یُسلَنقٰی، اَلاَمرُ مِنهُ اِسلَنقِ لِتُسلَنقَ لِیَسلَنقِ لِیُسلَنقَ، وَالنَّہیُ عَنهُ لَا تَسلَنقِ لَا تُسلَنقَ لَا یَسلَنقِ لَا یُسلَنقَ، وَالظَّرفُ مِنهُ مُسلَنقًى مُسلَنقَیَانِ۔ شاباش! شاباش! دیکھیے بھئی کتاب میں: "اِسلَنقٰی یَسلَنقِی اِسلِنقَاءً فَهُوَ مُسلَنقٍ، اَلاَمرُ مِنهُ اِسلَنقِ، وَالنَّہیُ عَنهُ لَا تَسلَنقِ، اَلظَّرفُ مِنهُ مُسلَنقًى"۔ "در مصدرِ این باب کہ اصلش اِسلِنقَایٌ بود"، اس باب کے مصدر میں کہ اس کی اصل جو ہے "اسلنقایٌ" تھی، یعنی الف کے بعد کیا تھی؟ ی۔ "یاء بہ سببِ وقوعِ آن در طرف بعدِ الف حمزہ شد"، ی اس وجہ سے کہ وہ واقع ہوئی طرف میں یعنی کنارے پر، سب سے آخر میں آئی نا؟ تو "یاء بہ سببِ وقوعِ آن در طرف"، ی اس وجہ سے کہ "وقوعِ آن" کہ وہ واقع ہو گئی "در طرف" کس میں؟ طرف میں، یعنی کنارے میں، "بعدِ الف" کس کے بعد؟ الف کے بعد، "ہمزہ شد" کیا ہو گئی؟ حمزہ ہو گئی۔ پھر دیکھیے ترجمہ: "یاء بہ سببِ وقوعِ آن در طرف بعدِ الف حمزہ شد"، ی الف کے بعد طرف میں واقع ہونے کی وجہ سے کیا ہو گئی؟ حمزہ ہو گئی۔ "و در دیگر صیغ تعلیل بہ قیاسِ بابِ قَلسَی باید کرد"، اور دوسرے صیغوں کے اندر تعلیل جو ہے "بہ قیاسِ بابِ قلسَی باید کرد"، کس باب کے طریقے پر تعلیل کر لینی چاہیے؟ قلسَی کے باب پر بھئی۔ یہ قلسِیَ لکھا ہوا ہے، یہ غلط لکھا ہے، قلسَی، بابِ قلسَی۔ قلسَی کے باب کے طریقے پر کر لینی چاہیے۔ "ملحق بہ افعِلاّل را یک باب است"، ملحق بہ افعلال کا ایک باب ہے۔ "اِفوِعلاَلٌ بزیادةِ واوٍ بعدَ الفاء"، ف کے بعد کیا زائد ہے؟ و۔ "وتکرارِ لام"، اور ل کا تکرار۔ تو کہتے ہیں "ملحق بہ افعِلاّل را یک باب است"، ملحق بہ افعلال کا ایک باب ہے۔ "اِفوِعلاَلٌ بزیادةِ واوٍ بعدَ الفاء"، ف کے بعد و کی زیادی کے ساتھ، "وتکرارِ لام"، اور ل کے تکرار کے ساتھ، "چوں اِکوِہدَادٌ کوشش کردن"، کوشش کرنا۔ اکوہداد، کوشش کرنا۔ اِکوَہَدَّ یَکوَہِدُّ اِکوِہدَادًا فَهُوَ مُکوَہِدٌّ، اَلاَمرُ مِنهُ اِکوَہِدَّ اِکوَہِدِّ اِکوَہدِد، وَالنَّہیُ عَنهُ لَا تَکوَہِدَّ لَا تَکوَہِدِّ لَا تَکوَہدِد۔ جی! اکوہدَّ کی صرفِ صغیر سنائیے بھئی۔ اِکوَہَدَّ یَکوَہِدُّ اِکوِہدَادًا فَهُوَ مُکوَہِدٌّ، وَاُکوُهِدَّ یُکوَہَدُّ اِکوِہدَادًا فَذَاکَ مُکوَہَدٌّ، لَم یَکوَہِدَّ لَم یَکوَہِدِّ لَم یَکوَہدِد، لَم یُکوَہَدَّ لَم یُکوَہَدِّ لَم یُکوَہَدَد، لَا یَکوَہِدُّ لَا یُکوَہَدُّ، لَن یَکوَہِدَّ لَن یُکوَہَدَّ، اَلاَمرُ مِنهُ اِکوَہِدَّ اِکوَہِدِّ اِکوَہدِد، لِتُکوَہَدَّ لِتُکوَہَدِّ لِتُکوَہَدَد، لِیَکوَہِدَّ لِیَکوَہِدِّ لِیَکوَہدِد، لِیُکوَہَدَّ لِیُکوَہَدِّ لِیُکوَہَدَد، وَالنَّہیُ عَنهُ لَا تَکوَہِدَّ لَا تَکوَہِدِّ لَا تَکوَہدِد، لَا تُکوَہَدَّ لَا تُکوَہَدِّ لَا تُکوَہَدَد، لَا یَکوَہِدَّ لَا یَکوَہِدِّ لَا یَکوَہدِد، لَا یُکوَہَدَّ لَا یُکوَہَدِّ لَا یُکوَہَدَد، وَالظَّرفُ مِنهُ مُکوَہَدٌّ مُکوَہَدَانِ۔ شاباش بھئی! دیکھا بھئی، یہ بغیر تیاری کے آپ سارے ابواب سناتے چلے گئے بھئی، سارے باب سناتے چلے گئے۔ دیکھیے بھئی آگے کتاب پر: "در جمیعِ صیغِ این باب ادغام است"، اس باب کے سارے صیغوں کے اندر ادغام ہے۔ "تعلیل بہ وضعِ صیغِ اِقشَعَرَّ بر زبان باید آورد"، ان کی تعلیل جو ہے اقشعرَّ کے صیغوں کے طریقے پر، "بہ وضعِ صیغِ اقشعرَّ"، اقشعرَّ کے صیغوں کے طریقے پر ان کی تعلیل جو ہے "بر زبان باید آورد"، زبان پر کر لینی چاہیے، یعنی زبان کے ساتھ ان کو خوب دہرا لینا، دہرا لیں تاکہ زبان پر جاری ہو جائے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ آگے دیکھیے فائدہ: "در کتبِ مطوّلہ صرف ملحقاتِ دیگر بسیار ہم بر رباعی مجرد و ہم بر رباعی مزید فیہ شمرده‌اند"۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں، میں نے شروع میں بتلایا تھا کہ ملحقات صرف یہی ابواب نہیں، بلکہ اور بھی ہیں، لیکن یہاں صرف 18 ذکر کیے جو مشہور مشہور ہیں بھئی۔ یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "در کتبِ مطوّلہ"، لمبی کتابوں میں، یعنی بڑی کتابوں میں، "در کتبِ مطوّلہِ صرف"، صرف کی بڑی کتابوں میں، "ملحقاتِ دیگر بسیار ہم"، کہ دوسرے بھی بہت سے ملحقات، "بر رباعی مجرد"، اور بھی بہت سے ملحقات بر رباعی مجرد "و ہم بر رباعی مزید فیہ"، رباعی مجرد اور رباعی مزید فیہ کے ساتھ اور بھی بہت سے ملحقات "شمرده‌اند"، شمار کیے گئے ہیں۔ "دریں رسالہ بر مشہورات اکتفا کردیم"، اس رسالے میں، رسالہ کہتے ہیں چھوٹی کتاب کو، اس رسالے میں یعنی اس چھوٹی سی کتاب میں "بر مشہورات اکتفا کردیم"، ہم نے مشہور ابواب پر اکتفا کر لیا، صرف مشہور مشہور ذکر کر دیے، ورنہ اور بھی ملحقات ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیں: "در کتبِ مطوّلہِ صرف"، صرف کی لمبی کتابوں کے اندر، "ملحقاتِ دیگر بسیار ہم بر رباعی مجرد و ہم بر رباعی مزید فیہ شمرده‌اند"، اور بھی بہت سے ملحقات بر رباعی مجرد اور بر رباعی مزید فیہ شمار کیے ہیں، "دریں رسالہ بر مشہورات اکتفا کردیم"، اس رسالے میں ہم نے مشہور پر، مشہور ابواب پر اکتفا کیا۔ چلیے بس کرتے ہیں بھئی، اب آئیے اردو کی کتاب میں دیکھ لیجیے۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ فصلِ چہارم: ثلاثی مزید فیہ ملحق کے بیان میں۔ عبارت سب کو مل گئی؟ فصلِ چہارم: چوتھی فصل ثلاثی مزید فیہ ملحق کے بیان میں۔ ثلاثی مزید ملحق یا تو ملحق برباعی مجرد ہوگا یا ملحق برباعی مزید۔ اول کے سات باب ہیں: نمبر ایک: فَعلَلَةٌ، اس میں تکرارِ لام کی زیادی ہے، جیسے الجَلبَبَةُ: چادر پہنانا۔ ہاں، جیسے الجَلبَبَةُ: چادر پہنانا، تصریفہُ جَلبَبَ یُجَلبِبُ۔ الٰی آخِرهٖ۔ دوسرا جو ہے: فَعوَلَةٌ، اس میں ع کے بعد و زائد ہے، جیسے السَّروَلَةُ: شلوار پہننا۔ نہیں بھئی، شلوار پہننا نہیں، شلوار پہنانا۔ یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی۔ جیسے السَّروَلَةُ: شلوار پہنانا، تصریفہُ، اس کی گردان سَروَلَ یُسَروِلُ۔ الٰی آخِرهٖ۔ تیسرا باب: فَیعَلَةٌ، اس میں ف کے بعد ی زائد ہے، جیسے السَّیطَرَةُ: مقرر ہونا، تصریفہُ سَیَطَرَ یُسَیطِرُ۔ الٰی آخِرهٖ۔ نمبر چار: فَعَیَلَةٌ، اس میں ع کے بعد ی زائد ہے، جیسے الشَّریَفَةُ: کھیت کے غیر ضروری پتے کاٹنا، یعنی زائد پتے کاٹنا، تصریفہُ، اس کی گردان شَریَفَ یُشَریِفُ۔ الٰی آخِرهٖ۔ نمبر پانچ: فَوْعَلَةٌ، ف کے بعد و زائد ہے، جیسے الجَوْرَبَةُ: جراب پہنانا، تصریفہُ جَوْرَبَ یُجَوْرِبُ۔ الٰی آخِرهٖ۔ چھٹا باب: فَعْنَلَةٌ، ع کے بعد ن زائد ہے، جیسے القَلْنَسَةُ: ٹوپی پہنانا، تصریفہُ قَلْنَسَ یُقَلْنِسُ۔ الٰی آخِرهٖ۔ سات نمبر: فَعْلَاةٌ، ل کے بعد ی زائد ہے، جیسے القَلْسَاةُ: ٹوپی اوڑھانا، یعنی ٹوپی پہنانا۔ اوڑھانا، الف کے بعد و ہونا چاہیے بھئی۔ بہرحال پہنانا آسان لفظ ہے، وہ بہتر ہے۔ ٹوپی پہنانا، تصریفہُ قَلْسٰى یُقَلْسِی قَلْسَاةً فَهُوَ مُقَلْسٍ، وَقُلسِیَ یُقَلسٰی قَلسَاةً فَهُوَ مُقَلسًى، اَلاَمرُ مِنهُ قَلسِ، وَالنَّہیُ عَنهُ لَا تُقَلسِ، اَلظَّرفُ مِنهُ مُقَلسًى۔ قلسٰی کی اصل قَلسَیَ ہے، ی متحرک ماقبل مفتوح، ی کو الف سے بدل دیا۔ اسی طرح قَلسَاةٌ مصدر ہے کہ یہ قَلسَیَةٌ تھا۔ اور ایسے ہی یُقَلسٰی مضارعِ مجہول ہے کہ دراصل یُقَلسَیُ تھا۔ اور مُقَلسًى مفعول دراصل مُقَلسَیٌ تھا، مگر اس میں الف اجتماعِ ساکنین با تنوین کی وجہ سے گر گیا۔ اور یُقَلسِی مضارعِ معروف اصل میں یُقَلسِیُ تھا، ی کو ساکن کر دیا گیا۔ اسی طرح مُقَلسٍ اسمِ فاعل ہے کہ اصل میں مُقَلسِیٌ تھا مگر اس کی ی اجتماعِ ساکنین با تنوین کی وجہ سے گر گئی۔ ملحق برباعی مزید یا تو ملحق بتَفَعلُلٌ ہوگا یا ملحق باِفعِنلاَلٌ ہوگا یا ملحق باِفعِللاَلٌ۔ اول کے آٹھ باب ہیں: نمبر ایک: تَفَعلُلٌ، اس میں ت، ف سے پہلے اور تکرارِ لام زائد ہے، جیسے تَجَلبُبٌ: چادر اوڑھنا، چادر پہننا۔ تَفَاعُلٌ۔ نمبر دو: تَفَعوُلٌ، ف سے پہلے ت اور ع اور ل کے درمیان و زائد ہے، جیسے تَسَروُلٌ: شلوار پہننا۔ نمبر تین: تَفَیعُلٌ، ف سے پہلے ت اور ف کے بعد ی زائد ہے، جیسے تَشَیَطُنٌ: شیطان ہونا۔ نمبر چار: تَفَوْعُلٌ، ف سے پہلے ت اور ف کے بعد و زائد ہے، جیسے تَجَوْرُبٌ: جراب پہننا۔ نمبر پانچ: تَفَعْنُلٌ، ف سے پہلے ت اور ع کے بعد ن زائد ہے، جیسے تَقَلْنُسٌ: ٹوپی پہننا۔ نمبر چھ: تمَفَعُلٌ، ف سے پہلے ت اور م زائد ہیں، جیسے تَمَسْکُنٌ: مسکین ہونا۔ نمبر سات: تَفَعلُطٌ، ایک ت، ف سے پہلے اور دوسری ل کے بعد زائد ہے، جیسے تَعَفُرُطٌ: خبیث ہونا۔ نمبر آٹھ: تَفَعلٍ۔ دیکھا یہاں انہوں نے تَفَعلٍ کیا ہے، اور فارسی کتاب میں کیا تھا؟ تَفَعلِیٌ تھا۔ جی، تو معلوم ہوا وہاں وہ کتابت کی غلطی ہے۔ نمبر آٹھ: تَفَعلٍ، ف سے پہلے ت اور ل کے بعد ی زائد ہے، جیسے تَقَلْسٍ: ٹوپی پہننا۔ ان ابواب کی صرفِ صغیر تَسَربُلٌ کی صرفِ صغیر کے وزن پر کر لینی چاہیے۔ تسرّبل یعنی وہی تدحرج، باب بتلا رہے ہیں کہ صحیح کے طریقے پر کر لیں۔ اور آخری باب یعنی تَقَلْسٍ میں تعلیلات قَلْسٰى یُقَلْسِی کی طرح کر لینی چاہئیں اور اس کے مصدر میں ضمہ کو کسرہ سے بدل کر مُقَلْسٍ کی تعلیل کی گئی ہے۔ ملحق باِفعِنلاَلٌ کے دو باب ہیں: نمبر ایک: اِفعِنلاَلٌ، اس میں لامِ دوم اور ن بعدِ ع اور حمزہ وصل زائد ہیں، جیسے اِقِعنسَاسٌ: سینہ و گردن نکال کر چلنا۔ نمبر دو: اِفعِندَاءٌ، اس میں ی بعدِ لام اور ن بعدِ ع اور حمزہ وصل زائد ہیں، جیسے اِسلِنقَاءٌ: پشت پر لیٹنا یعنی کمر پر لیٹنا، تصریفہُ اِسلَنقٰی یَسلَنقِی اِسلِنقَاءً فَهُوَ مُسلَنقٍ، اَلاَمرُ مِنهُ اِسلَنقِ، وَالنَّہیُ عَنهُ لَا تَسلَنقِ، اَلظَّرفُ مِنهُ مُسلَنقًى۔ اس باب کا مصدر اصل میں اِسلِنقَایٌ تھا، ی طرف میں الف کے بعد واقع ہوئی اس لیے حمزہ سے بدل گئی۔ دوسرے صیغوں کی تعلیل بابِ قَلسٰى کے طرز پر کر لینی چاہیے۔ ملحق باِفعِللاَلٌ کا ایک باب ہے: اِفوِعلاَلٌ، اس میں ف کے بعد و اور تکرارِ لام زائد ہے، جیسے اِکوِہدَادٌ: کوشش کرنا۔ اِکوَہَدَّ یَکوَہِدُّ اِکوِہدَادًا فَهُوَ مُکوَہِدٌّ، اَلاَمرُ مِنهُ اِکوَہِدَّ اِکوَہِدِّ اِکوَہدِد، وَالنَّہیُ عَنهُ لَا تَکوَہِدَّ لَا تَکوَہِدِّ لَا تَکوَہدِد، وَالظَّرفُ مِنهُ مُکوَہَدٌّ۔ اس باب کے تمام صیغوں میں ادغام ہے، تعلیل اِقشَعَرَّ کے صیغوں کی طرح کر لینی چاہیے۔ فائدہ: صرف کی بڑی کتابوں میں ملحق برباعی مجرد اور ملحق برباعی مزید فیہ کے اور بھی کئی ابواب مذکور ہیں، اس رسالہ میں ہم نے مشہورات پر اکتفا کیا ہے، یعنی جو جو مشہور باب تھے ان پر اکتفا کر لیا، صرف وہی ذکر کر دیے۔ چلیے، بات اچھی طرح ساری سمجھ میں آ گئی؟ یہ علم الصیغہ کی مشکل بحثوں میں سے تھی بھئی، الحمد للہ اچھے طریقے سے حل ہو گئی۔ چلیے جی، الحمد للہ۔ چلیے بس، ہَذَا ہُوَ المَرَام وَاللهُ اَعلَمُ بِحَقِیقَةِ الکَلَام۔