جی دیکھئے بھئی کتاب پر۔ بدان کہ مرکب غیر مفید ہمیشہ جزء جملہ باشد، چوں غلام زید قائم، و عندی احد عشر درهما، و جاء بعلبک۔ گزشتہ سے پیوستہ سبق میں آپ نے جملہ انشائیہ کی 10 اقسام پڑھی تھیں۔ یاد رکھو یہ 10 قسمیں آپ کو زبانی یاد ہونی چاہئیں۔ یہ جو نحو میر ہے اس کو طلباء زبانی یاد کرتے ہیں بھئی، کیونکہ ساری نحو کا خلاصہ انہوں نے چند صفحوں میں سمیٹ دیا ہے۔ طلباء اس کو عموماً زبانی یاد کرتے ہیں۔ تو آپ بھی کوشش کریں کہ کم از کم جو جو باتیں آئیں، جو جو چیزیں وہ بتلاتے جائیں ان کو خوب اچھی طرح سمجھیں اور ان کو یاد کرنے کی کوشش کریں۔ تو یہ جملہ انشائیہ کی 10 قسمیں آپ کو ہر وقت یاد ہونی چاہئیں، ہر وقت بھئی۔ اس کے بعد گزشتہ سبق میں آپ نے مرکب غیر مفید کے بارے کے بارے میں پڑھا تھا۔ مصنف نے آپ کو بتلایا کہ مرکب غیر مفید وہ ہے کہ جب کہنے والا اس پر خاموشی اختیار کر لے، اس پر وہ مرکب غیر مفید پر تکلم کرے اور پھر خاموش ہو جائے تو سننے والے کو کوئی خبر یا طلب معلوم نہ ہو۔ کوئی خبر یا طلب معلوم نہ ہو۔ خبر کس میں معلوم ہوتی ہے؟ جملہ خبریہ میں، اور طلب کس میں معلوم ہوتی ہے؟ جملہ انشائیہ میں۔ تو اس سننے والے کو کوئی خبر یا طلب معلوم نہ ہو۔ آسان لفظوں میں میں نے بتلایا تھا کہ مرکب غیر مفید کسے کہتے ہیں؟ جس میں بات پوری نہ ہو بھئی۔ اور انہوں نے بتلایا تھا کہ یہ تین قسم پر ہے: ایک مرکب اضافی، ایک مرکب بنائی اور ایک مرکب منع صرف۔ مرکب اضافی نام سے ہی پتہ چل رہا ہے اضافت والا۔ لاہوری کا کیا معنیٰ؟ لاہور والا، تو اضافی کا معنیٰ اضافت والا، جس میں اضافت ہو اضافت۔ اضافت نام ہے نسبت کا، ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف نسبت کرنا یہ اضافت کہلاتا ہے۔ تو مرکب اضافی کے اندر ایک چیز کی نسبت کی جاتی ہے دوسری چیز کی طرف، جیسے غلام زید، زید کا غلام۔ تو غلام کی نسبت کر دی کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ یہ غلام زید کا بھی ہو سکتا تھا، بکر کا بھی، خالد کا بھی، کسی بھی شخص کا، لیکن اس کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ زید کی طرف، غلام زید۔ ترجمہ کیا ہوگا؟ زید کا غلام۔ ترجمہ آخر سے ہوتا ہے بھئی، اردو کے اندر مضاف الیہ پہلے آتا ہے اور مضاف بعد میں، اور درمیان میں کا، کے اور کی کا لفظ لے آتے ہیں۔ تو غلام زید، کیسے ترجمہ کریں گے؟ زید کا غلام۔ تو دیکھو اس غلام کی نسبت کر دی زید کی طرف، تو غلام زید، اس میں پہلا جز کیا ہے؟ غلام، اس کو کیا کہیں گے؟ مضاف کہیں گے۔ اور دوسرا جز کیا ہے؟ زید، اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو مضاف الیہ کہیں گے بھئی۔ اور یہ بھی انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے، اس پر جر آتا ہے۔ کیا آتا ہے؟ جر آتا ہے۔ یعنی عموماً اس پر زیر آئے گی بھئی، زیر آئے گی۔ دوسرا جو تھا وہ مرکب بنائی ہے۔ مرکب بنائی، بناء سے ہی مبنی ہے، مبنی لفظ بنا ہے۔ تو مرکب بنائی اس کو کیوں کہتے ہیں؟ کہ اس کے دونوں جز مبنی ہوتے ہیں۔ مرکب بنائی کو مرکب بنائی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے دونوں جز مبنی ہوتے ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا عربی کے جو الفاظ ہیں وہ دو قسم پر ہیں: یا وہ معرب ہوگا یا مبنی۔ معرب وہ ہے وہ اسم جس کا آخر بدلتا ہو، جیسے زید، زیدا، زید۔ کبھی آپ دال پر پیش پڑھتے ہیں تنوین کے ساتھ، کبھی زبر پڑھتے ہیں اور کبھی زیر۔ اور کچھ الفاظ عربی میں ایسے ہیں جو بدلتے نہیں، برقرار رہتے ہیں، جیسے ھو۔ ھو ضمیر ہے، اب یہ بدلتی نہیں، یا جیسے ھذا، یہ اشارہ ہے، یہ اسم اشارہ ہے۔ تو یہ بدلتے نہیں، تو وہ اسم جس کا آخر بدلتا نہیں اس کو مبنی کہتے ہیں، اور وہ اسم جس کا آخر بدلتا ہے اس کو معرب کہتے ہیں۔ تو اس کو معرب کہتے ہیں۔ تو یہ جو مرکب بنائی ہوتا ہے، اس میں دو لفظ دو اسم ہوتے ہیں اور درمیان میں کوئی حرف ہوتا ہے، اور پھر اس حرف کو حذف کرتے ہیں اور دونوں اسموں کو ملا کر ایک بنا لیتے ہیں، جیسے احد عشر۔ اصل میں کیا تھا؟ احد و عشر۔ تو احد الگ اسم تھا، عشر الگ اسم اور درمیان میں واؤ تھا۔ پھر اس واؤ کو حذف کر دیا گیا اور دونوں کو ملا کر ایک کر دیا گیا، احد عشر۔ دیکھو اس کے دونوں جز مبنی ہیں، احد کی دال پر بھی زبر پڑھنا ہے اور عشر کی راء پر بھی زبر۔ اب یہ کہیں نہیں بدلیں گے بھئی، ہمیشہ اس کو کیا پڑھنا ہے؟ احد عشر۔ تو یہ کیا بن گیا؟ مبنی، کیا بن گیا؟ مبنی۔ تو اس کے دونوں جز چونکہ مبنی بن گئے اور مبنی کس حرکت پر ہیں؟ مبنی علی الفتح ہیں۔ تو اس لیے اس کو مرکب بنائی کہتے ہیں کہ اس کے دونوں جز کیا ہیں؟ مبنی ہیں۔ اور آپ کو انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ احد عشر سے لے کر تسعۃ عشر تک اسی طرح ہے۔ البتہ اس میں جو اثنا عشر ہے اس کا دوسرا جز تو مبنی ہی ہے، عشر، اثنا عشر، راء پر ہمیشہ فتحہ پڑھیں گے۔ لیکن پہلا جز معرب ہے۔ اور معرب کس کو کہتے تھے؟ جو بدلتا ہو، جس کا آخر بدلتا ہو۔ تو یہاں پر بھی کبھی پڑھیں گے اثنا عشر اور کبھی پڑھیں گے اثنی عشر۔ تو دیکھو یہ پہلا جز بدل رہا ہے وہ ہے معرب، اور عشر جو دوسرا جز ہے وہ نہیں بدل رہا وہ کیا ہے؟ وہ مبنی ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا کہ یہ مرکب بنائی صرف یہی نہیں ہے، احد عشر سے لے کر تسعۃ عشر تک، صرف یہی مرکب بنائی نہیں ہے۔ عربی میں اور بھی مرکب بنائی ہیں اسی طرح بھئی۔ اور مرکب بنائی میں ہمیشہ کیا کرتے ہیں؟ دو اسم ہوتے ہیں اور درمیان میں کوئی حرف ہوتا ہے، اس حرف کو حذف کرتے ہیں اور دونوں کو ملا کر ایک بنا لیتے ہیں اور دونوں جز کیا ہوتے ہیں؟ مبنی علی الفتح ہوتے ہیں۔ تیسری قسم تھی مرکب غیر مفید کی وہ مرکب منع صرف بھئی۔ مرکب منع صرف اس میں بھی دو اسموں کو ملا کر اکٹھا کر کے ایک بنا دیتے ہیں، لیکن یہاں پر درمیان میں کوئی حرف نہیں ہوتا۔ مرکب بنائی میں تو درمیان میں ایک حرف تھا جس کو حذف کر لیا گیا، مرکب منع صرف میں درمیان میں کوئی حرف نہیں ہوتا۔ تو دو اسم ہوتے ہیں، ان کو ملا کر ایک بنا لیا جاتا ہے اور پھر اس کے اندر اس کا جو پہلا جز ہوتا ہے، وہ اکثر علماء کے نزدیک مبنی علی الفتح ہوتا ہے۔ اور دوسرا جز معرب غیر منصرف ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ معرب غیر منصرف۔ جیسے بعل، بعل، ب، ع، ل۔ یہ بعل ایک بت کا نام تھا، اور بک، بک، ب اور ک مشدد، بک، بک، یہ ایک بادشاہ کا نام تھا۔ اس بادشاہ نے ایک شہر بنایا اور اس میں یہ بت تھا، تو اس بت کی نسبت سے اس کا نام اس نے کیا رکھ دیا؟ بعلبک۔ اور اس میں بعل پہلا جز اور بک دوسرا جز۔ پہلا جز مبنی علی الفتح، یعنی بعل پر آپ ہمیشہ زبر پڑھیں گے۔ اور بک یہ غیر منصرف ہوگا، معرب ہے یعنی اس کا آخر بدلے گا۔ لیکن کون سی قسم ہے معرب کی؟ غیر منصرف۔ میں نے بتلایا تھا غیر منصرف معرب کی ایک قسم ہے، جس کا آخر تو بدلتا ہے لیکن اس کے آخر میں زیر یعنی کسرہ نہیں آتا، اور نیز اس پر تنوین بھی نہیں آتی۔ پیش پڑھیں گے تو بغیر تنوین کے، زبر پڑھیں گے تو بغیر تنوین کے، اور زیر تو آ ہی نہیں سکتی۔ تو کبھی آپ اس کو کیسے پڑھیں گے؟ بعلبک، توجہ ہے؟ بعلبک، اور کبھی کیسے پڑھیں گے؟ بعلبک۔ اور کیا بعلبک پڑھیں گے کبھی؟ نہیں، کیونکہ یہ غیر منصرف ہے۔ اور غیر منصرف پر کسرہ یعنی زیر بھی نہیں آتی اور تنوین بھی نہیں آتی بھئی۔ دوسری مثال تھی اس کی حضرموت، حضرموت۔ حضر ایک اسم اور موت دوسرا اسم، دونوں کو ملا دیا۔ اب اس کو کیسے پڑھیں گے؟ حضرموت۔ حضر کی راء بدلے گی؟ نہیں، وہ ہمیشہ اسی طرح مبنی علی الفتح ہوگی۔ اور موت کا لفظ بدلے گا، کیسے؟ حضرموت اور حضرموت، بس پیش اور زبر آئے گا، تنوین بھی نہیں آئے گی اور زیر بھی نہیں آئے گی۔ تو یہ حضرموت پڑھنا بھی صحیح اور میم پر پیش پڑھنا بھی صحیح، حضرموت۔ حضرموت بھی اور حضرموت بھی، دونوں طرح پڑھنا صحیح ہے بھئی۔ اب آگے دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: بدان کہ مرکب غیر مفید ہمیشہ جزء جملہ باشد، چوں غلام زید قائم، و عندی احد عشر درهما، و جاء بعلبک۔ یہاں سے ایک چھوٹی سی بات بتلا رہے ہیں کہ بھئی، انہوں نے آپ کو بتلایا تھا مرکب مفید کسے کہتے ہیں؟ جس میں بات پوری ہو۔ مرکب مفید کسے کہتے ہیں؟ یعنی کہنے والا جب اس پر اس کو اس پر تکلم کر کے، اس کو بول کر خاموش ہو تو سننے والے کو کوئی خبر یا طلب معلوم ہو۔ اور جبکہ مرکب غیر مفید اس کے برعکس ہے، اس میں بات پوری نہیں ہوتی۔ کہنے والا جب اس کو بول کر خاموش ہوتا ہے تو سننے والے کو کوئی خبر یا طلب معلوم نہیں ہوتی۔ تو اس میں بات پوری نہیں ہوتی۔ اب آگے آپ کو بتلا رہے ہیں کہ یاد رکھو یہ جو مرکب غیر مفید ہے، یہ ہمیشہ جملے کا جز بنتا ہے۔ یہ ہمیشہ جملے کا جز بنتا ہے، پورا جملہ نہیں، کیونکہ پورا جملہ ہو پھر تو بات پوری ہو گئی۔ تو یہ پورا جملہ نہیں، یہ جملے کا ایک جز، ایک حصہ بنتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ حصہ بنتا ہے۔ بھئی دیکھو، میں نے آپ کو بتلایا تھا جملے کے لیے دو چیزیں بہت ضروری ہیں، ان کے بغیر جملہ ہو ہی نہیں سکتا۔ کون سی دو چیزیں؟ ایک مسند اور ایک مسند الیہ۔ پھر دہرائو، جملے کے لیے ہمیشہ کتنی چیزوں کی ضرورت؟ دو چیزوں کی: ایک مسند اور ایک مسند الیہ۔ آسان لفظوں میں، مسند الیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے بارے میں بات کی جائے، اور جو بات کی جائے وہ کیا ہے؟ مسند۔ یہ ہمیشہ تعبیر یاد رکھنا، آپ کو بات سمجھ میں آئے گی جملہ کسے کہتے ہیں۔ جملے میں ہمیشہ ایک چیز کے بارے میں کوئی بات کی جاتی ہے۔ توجہ ہے؟ جملے میں ہمیشہ کسی چیز کے بارے میں بات کی جاتی ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: میں آج بازار گیا تھا۔ دیکھو، کس کے بارے میں آپ نے بات کی؟ اپنے بارے میں، اپنے بارے میں: میں آج بازار گیا۔ کس کے بارے میں بات کی؟ اور کیا بات کی؟ کہ میں بازار گیا تھا۔ دیکھا، جب بھی آپ بات کرتے ہیں، جتنی باتیں میں اس وقت بول رہا ہوں یہ ساری ایک چیز کے بارے میں کسی نہ کسی چیز کے بارے میں میں بات کر رہا ہوں۔ تو دو چیزیں چاہئیں: ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کر رہا ہوں، اور ایک وہ بات چاہیے بھئی۔ آپ کہتے ہیں: آج کا سبق آسان ہے، یا آپ کہتے ہیں: آج کا سبق مشکل ہے، یا آپ کہتے ہیں: کل میرا امتحان ہوگا۔دیکھا، تو ہر جملے میں آپ دیکھ لیں، کسی چیز کے بارے میں آپ بات کرتے ہیں۔ "آج کا سبق آسان ہے"۔ جی، کس کے بارے میں بات کی؟ سبق کے بارے میں۔ اور کیا بات کی؟ آج کے سبق کی بات کی اور کیا بات کی کہ آسان ہے۔ یا آپ نے کہا "کل میرا امتحان ہوگا"، کس کے بارے میں بات کی؟ امتحان کے بارے میں، اور کیا بات کی؟ کہ کل ہوگا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ جتنی باتیں ہیں، آپ غور کر لیں، ایک وہ چیز چاہیے جس کے لیے، جس کی بات کر رہے ہیں اور جو بات کر رہے ہیں وہ بھی چاہیے۔ تو جملے میں ہمیشہ کتنے جز ہوتے ہیں؟ دو جز۔ ایک مسند الیہ اور دوسرا مسند۔ مسند الیہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے بارے میں بات کی جائے۔ اور مسند کسے کہتے ہیں؟ جو بات کی جائے۔ تو یہ جو مرکب غیر مفید ہے، یعنی مرکب اضافی اور مرکب بنائی اور مرکب منع صرف، یہ جملے کا جز بنتے ہیں۔ کیا بنتے ہیں؟ جز بنتے ہیں۔ یعنی یہ کبھی مسند بنیں گے اور کبھی مسند الیہ بنیں گے۔ جیسے یہ آگے مثالیں دے رہے ہیں: غلام زید قائم۔ غلام زید، یہ کیا ہے؟ غلام زید، جی، مضاف اور مضاف الیہ یعنی مرکب اضافی ہے۔ تو میں نے آپ سے کہا: غلام زید قائم۔ کیا ترجمہ ہوگا؟ زید کا غلام کھڑا ہے۔ کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے غلام کے بارے میں۔ تو غلام زید ہوا مبتدا۔ اور کیا بات کی؟ کہ وہ قائم، وہ کھڑا ہے۔ تو قائم کیا ہوئی؟ خبر ہوئی۔ تو دیکھا، مرکب اضافی مبتدا بن رہا ہے، یعنی مسند الیہ بن رہا ہے، جملے کا ایک جز ہے۔ اور قائم کیا ہے؟ مسند ہے۔ تو مسند اور مسند الیہ ملیں تو پورا جملہ بن گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دوسری مثال انہوں نے دی ہے: عندی احد عشر درهما۔ درهما، عندی احد عشر درهما، میرے پاس 11 درہم ہیں۔ یاد رکھو، اس میں "عندی" یہ ہے خبر مقدم۔ یہ جب آپ انشاء اللہ ماہر ہو جائیں گے، کچھ نحو سیکھ لیں گے، پھر آپ کے لیے یہ ترکیبیں وغیرہ بڑی آسان ہو جائیں گی۔ "عندی"، میرے پاس، یہ ہے خبر مقدم۔ اور "احد عشر" یہ کیا ہے؟ یہ مبتدا مؤخر ہے، اور "درهما" اس کی تمیز ہے۔ تو یہ گویا درهما مبتدا کا ہی حصہ ہے۔ احد عشر درهما، یہ کیا ہے؟ مبتدا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ میں نے بتلا دیا اصل مبتدا کون ہے؟ احد عشر، اور درهما اس کا ایک حصہ ہے، اسی کے ساتھ جڑ رہا ہے۔ تو گویا یہ سارا ہی مبتدا گویا بن گیا، یوں سمجھ لو آسان لفظوں میں۔ تو "عندی" کیا ہوا؟ خبر مقدم۔ اور "احد عشر" کیا ہے؟ مبتدا مؤخر۔ تو مبتدا اپنے، دیکھو مسند بھی آ گیا اور مسند الیہ بھی۔ خبر کو کیا کہتے ہیں؟ مسند، اور مبتدا کو کیا کہتے ہیں؟ مسند الیہ۔ تو دیکھو دو جز بن گئے اور بات پوری ہو گئی۔ "میرے پاس 11 درہم ہیں"، بات پوری ہے یا ادھوری ہے؟ پوری۔ اس کے بجائے اگر میں صرف یہ کہوں: 11 درہم، احد عشر درهما، احد، بار بار کہتا رہوں احد عشر درهما 11 درہم، تو مجھے آپ فوراً کہیں گے کہ آپ بات نہیں پوری کر رہے، پوری بات کریں تاکہ ہمیں سمجھ میں آئے 11 درہموں کو کیا ہوا، کہیں گم ہو گئے ہیں یا کیا ہوا بھئی۔ تو میں کہتا ہوں عندی احد عشر درهما، میرے پاس 11 درہم۔ تو عندی کیا ہے؟ خبر مقدم یعنی مسند ہے، اور احد عشر درهما، تو احد عشر کیا ہے؟ مبتدا ہے مؤخر، اور درهما کیا ہے؟ تمیز ہے۔ کیا ہے؟ ہاں، یہ چیزیں ابھی آگے آ جائیں گی، بس اتنا آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ احد عشر مرکب بنائی ہے اور وہ یہاں مسند الیہ بن رہا ہے، یعنی جملے کا ایک جز بن رہا ہے، پورا جملہ نہیں ہے۔ تیسری مثال ہے: جاء بعلبک۔ جاء بعلبک، جاء کا معنیٰ آنا، آنا۔ آیا، جاء بعلبک، بعلبک آ گیا۔ بعلبک فرض کریں کسی کا نام رکھ دیا، بعلبک آ گیا۔ تو جاء بعلبک، دیکھو یہاں پر جاء فعل۔ جاء فعل، اور بعلبک اس کا فاعل۔ تو فعل کیا ہوتا ہے؟ مسند۔ اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ۔ تو یہاں بھی دیکھیں بعلبک مسند الیہ ہے، یعنی جملے کا ایک جز ہے، پورا جملہ نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا بات بتلائی انہوں نے؟ کہ یہ جو مرکب غیر مفید ہوتا ہے، یہ پورا جملہ نہیں ہوتا بلکہ جملے کا جز ہوتا ہے۔ دیکھیے بھئی کتاب پر۔ بدان کہ، جان لے تو کہ، مرکب غیر مفید ہمیشہ جزء جملہ باشد، کہ مرکب غیر مفید جو ہے وہ ہمیشہ جزء جملہ باشد، وہ جملے کا جز ہوگا۔ دیکھو فارسی بڑی آسان ہے، بالکل اردو جیسے اکثر الفاظ اس کے اردو جیسے ہیں۔ اب اس جملے کو دیکھ لو: بدان کہ، تو جان لے کہ، یہ ایک نیا لفظ آیا فارسی کا۔ آگے کیا؟ مرکب غیر مفید ہمیشہ جزء جملہ باشد۔ صرف یہ باشد فارسی کا لفظ ہے۔ مرکب غیر مفید اردو میں بھی اسی طرح بولیں گے، ہمیشہ اردو میں بھی اسی طرح بولیں گے، جزء جملہ جملے کا جز اردو میں بھی اسی طرح کہیں گے۔ تو مرکب غیر مفید ہمیشہ جزء جملہ باشد، مرکب غیر مفید ہمیشہ جملے کا جز ہوگا۔ چوں غلام زید قائم، جیسے زید کا غلام کھڑا ہے۔ تو یہاں غلام زید مرکب اضافی کیا بن رہا ہے؟ مبتدا ہے، جملے کا جز ہے۔ مسند الیہ ہے، اور قائم اس کی خبر ہے یعنی مسند ہے۔ و عندی احد عشر درهما، میرے پاس 11 درہم ہیں۔ یہاں پر عندی کیا ہے؟ خبر مقدم یعنی مسند ہے، اور احد عشر کیا ہے؟ مبتدا مؤخر ہے یعنی مسند الیہ ہے، اور درهما یہ احد عشر کی تمیز ہے، یہ آگے آ جائے گا بیان اس کا۔ تو عندی احد عشر درهما میں مرکب بنائی جو ہے وہ مسند الیہ بن رہا ہے یعنی مبتدا۔ و جاء بعلبک، اور بعلبک آ گیا۔ تو یہاں پر جاء فعل ہے یعنی مسند ہے، اور بعلبک فاعل ہے یعنی مسند الیہ ہے۔ تو دیکھو مرکب منع صرف جو ہے وہ مسند الیہ یعنی فاعل بن رہا ہے۔ آگے دیکھیے: فصل۔ بدان کہ، تو جان لے کہ، ہر جملہ کمتر از دو کلمہ نہ باشد لفظاً چوں ضرب زید و زید قائم، یا تقدیرًا چوں اضرب کہ انت درو مستتر است، و ازیں بیشتر باشد و بیشتر را حدے نیست۔ یہاں سے آپ کو صاحبِ نحو میر، میر سید السند رحمہ اللہ، نحو میر کے مصنف کا کیا نام ہے؟ میر سید السند، اور انہی کو میر سید الشریف بھی کہتے ہیں، میر سید الشریف۔ میر سید السند بھی اور میر سید الشریف بھی۔ تو میر سید السند فرما رہے ہیں کہ یاد رکھو، یاد رکھو، جملہ جملہ جو ہے دو لفظوں سے کم نہیں ہوتا۔ جملے میں کم از کم کتنے لفظ چاہیے؟ دو۔ دو کیوں چاہیے؟ آپ کو بھی پتہ ہے۔ کیوں؟ کیونکہ جملے کے لیے ایک مسند چاہیے اور ایک مسند الیہ۔ تو ایک لفظ اگر مسند بنے گا تو دوسرا لفظ ہمیں کیا چاہیے؟ مسند الیہ کا۔ تو جملے میں کم از کم ہمیشہ کتنے لفظ ہوں گے؟ دو، کیونکہ ایک مسند اور ایک مسند الیہ بنے گا۔ ہاں، پھر یہ جو دو لفظ ہیں، کبھی لفظوں کے اعتبار سے ہی دو ہوں گے۔ کس کے اعتبار سے؟ بھئی، لفظ کو لفظ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ہم اس پر تلفظ کرتے ہیں۔ لفظ کو لفظ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ہم اس پر تلفظ کرتے ہیں۔ دیکھو میں بولتا جا رہا ہوں اور میرے الفاظ آپ سنتے جا رہے ہیں۔ یہ جو میں بول رہا ہوں، ان کو الفاظ کہتے ہیں۔ الفاظ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ دیکھو میں تلفظ کر رہا ہوں، زبان سے بول رہا ہوں اور ایک ایک لفظ ادا کرتا جا رہا ہوں۔ تو لفظ کو لفظ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ ہم اس پر کیا کرتے ہیں؟ تلفظ کرتے ہیں، یعنی زبان سے اس کو ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا گائے کی آواز آپ سنیں، تو یہ گائے کی آواز الفاظ ہیں؟ نہیں نہیں، الفاظ صرف وہ ہیں جو ہم زبان سے جس پر کیا کرتے ہیں؟ تلفظ کرتے ہیں۔ گائے کی آواز، گھوڑے کی آواز وغیرہ، بکری کی آواز، اس کو لفظ نہیں کہتے۔ لفظ کس کو کہتے ہیں؟ جس پر جس پر انسان کیا کرتا ہے؟ تلفظ کرتا ہے۔ وہ جو گائے وغیرہ بولتے ہیں، وہ آواز تو ضرور ہے لیکن لفظ نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا یاد رکھنا، انہوں نے کیا بتلایا؟ کہ جملے کے کم از کم کتنے الفاظ ہوں گے جملے میں؟ دو۔ ایک کیا بنے گا؟ مسند۔ دوسرا کیا بنے گا؟ مسند الیہ۔ تو دو لفظ تو ضرور چاہیے، لیکن یہ دو لفظ کبھی کبھی لفظوں کے اعتبار سے ہی دو ہوں گے۔ کبھی لفظوں کے اعتبار سے ہی دو ہوں گے، یعنی دونوں پر ہم الگ الگ تلفظ کریں گے، باقاعدہ زبان سے ان کو ادا کریں گے، جیسے زید عالم۔ کتنے لفظ ہیں؟ دو، اور دونوں پر میں کیا کر رہا ہوں؟ الگ الگ تلفظ بھی کر رہا ہوں، ان کو زبان سے ادا کر رہا ہوں۔ توجہ ہے؟ لفظ کو لفظ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ ہم اس پر تلفظ کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ جو کتاب میں جو کچھ لکھا ہوا ہے، یہ لفظ نہیں ہے۔ یہ جو کتاب میں لکھا ہے، یہ لفظ نہیں ہے۔ کیوں؟ یہ تو قلم سے کچھ ٹیڑھی میڑھی لکیریں کھینچی ہوئی ہیں بھئی۔ ہاں، جب ہم اس کو زبان سے ادا کریں گے تو یہ کیا بن جائیں گے؟ لفظ بن جائیں گے۔ تو یہ جو لکیریں ہیں مختلف قسم کی، الف، با، تا، ثا وغیرہ، یہ ان کو جوڑ کر ہم لکیر ان لکیروں کو جوڑتے ہیں، اور یہ مختلف الفاظ پر دلالت کرتی ہیں۔ ان سے وہ الفاظ ہمیں سمجھ میں آتے ہیں۔ مثلاً آپ کے سامنے میں نے لکھا: ز، یا، اور د۔ توجہ ہے؟ ز، یا، اور د، اور میں آپ سے کہتا ہوں پڑھو، آپ کیا پڑھیں گے؟ زید۔ آپ کیا پڑھیں گے؟ زید پڑھیں گے۔ بھئی میں نے تو ز، یا، د لکھا، کچھ ٹیڑھی میڑھی لکیریں لگائیں، کچھ ایک دو نقطے درمیان میں لگا دیے، اوپر ان کے اوپر اور نیچے۔ اور دیکھو، ان لکیروں نے ایک لفظ پر دلالت کر دی، اور اس اب جس آدمی کو بھی بلاؤ اور کہو اس کو پڑھو، وہ جو بھی اس زبان کو جانتا ہوگا، وہ اس کو پڑھے گا زید بھئی۔ دیکھا، تو یہ لکیریں ان الفاظ پر دلالت کرتی ہیں، وہ ہمیں سمجھ میں آتے ہیں۔ اور لیکن یہ جو لکیریں ہیں ان کو لفظ نہیں کہیں گے۔ ہاں، جب ان کو ہم زبان سے ادا کر دیں گے، جب ہم ان کو بولیں گے، تو پھر کیا ہوگا؟ یہ کیا بن جائیں گے؟ لفظ بن جائیں گے۔ تو لفظ کو لفظ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ ہم اس پر تلفظ، اور جب تک تلفظ نہیں وہ لفظ نہیں۔ لہٰذا دیکھو ہم جو کچھ بولتے ہیں، پہلے ذہن میں سوچتے ہیں پھر زبان سے بولتے ہیں۔ لیکن یہ عمل اتنی رفتار سے ہوتا ہے ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا بھئی۔ دیکھو جو میں تقریر کر رہا ہوں، یہ بلا سوچے سمجھے زبان چل رہی ہے یا میں ذہن میں باتوں کو ترتیب سے سوچتا جا رہا ہوں اور بولتا جا رہا ہوں؟ سوچتا جا رہا ہوں اور ساتھ ساتھ بولتا جا رہا ہوں۔ تو دماغ میں یہی لفظ پہلے سوچتا ہوں، لیکن جب تک وہ دماغ میں ہیں اس کو لفظ نہیں کہیں گے۔ لفظ کب کہیں گے؟ جب زبان پر آ جائیں گے، ہم اس پر تلفظ کر لیں گے۔ تو لہٰذا بات یہ چل رہی تھی کہ جملے کے لیے کتنے اجزاء چاہیے؟ دو ہمیشہ، دو لفظ چاہیے۔ اور ایک کیا ہوگا؟ مسند، اور دوسرا کیا ہوگا؟ مسند الیہ۔ تو دو لفظ تو ضرور چاہیے، لیکن یہ دو لفظ کبھی کبھی لفظوں کے اعتبار سے ہی دو لفظ ہوں گے۔ کبھی لفظوں کے اعتبار سے ہی دو ہوں گے، جیسے زید قائم۔ کتنے ہے، دو لفظ۔ ایک زیدٌ دوسرا قائمٌ۔ زیدٌ پر میں الگ تلفظ کر رہا ہوں اور قائمٌ پر، تو دیکھو لفظوں کے اعتبار سے یہ دو ہیں۔ دونوں پر الگ الگ تلفظ کر رہا ہوں۔ اور کبھی کبھار، کبھی کبھار تقدیرًا دو ہوں گے۔ کبھی کیا ہوں گے؟ تقدیرًا دو ہوں گے۔ لفظوں کے اعتبار سے ایک ہی ہوگا۔ جیسے میں آپ سے کہتا ہوں اِضْرِبْ، اِضْرِبْ۔ اب یہ اِضْرِبْ تو ایک ہی فعل ہے، ایک ہی لفظ ہے۔ لیکن اس کے اندر اس کا ترجمہ آپ کیا کرتے ہیں؟ تو مار، آپ پٹائی کریں۔ تو اس کے اندر آپ کا لفظ یعنی اَنْتَ ضمیر چھپی ہوئی ہے۔ آپ پٹائی کریں، تو پٹائی کر، تو اس کے اندر کون سا لفظ چھپا ہوا ہے؟ اَنْتَ ضمیر چھپی ہوئی ہے۔ تو دیکھو اِضْرِبْ، لفظ کتنے؟ ایک۔ تلفظ کے اعتبار سے ایک لفظ ہے، لیکن تقدیرًا کتنے ہیں؟ دو ہیں۔ تقدیرًا کا معنی ہے فرض کر لو۔ تقدیرًا کا کیا معنی؟ ہاں، یہ جگہ جگہ کتابوں میں آتا ہے، طلباء پڑھتے ہیں لیکن توجہ ان کی نہیں ہوتی کہ اس کا کیا معنی۔ قَدَّرَ یُقَدِّرُ تَقْدِیْر کا معنی ہے فرض کرنا۔ تو اِضْرِبْ بظاہر ایک ہے، لیکن اس کے اندر فرض کر لو کیا چھپی ہوئی ہے؟ اَنْتَ ضمیر چھپی ہوئی ہے، تو کتنے لفظ ہو گئے؟ دو ہو گئے۔ ایک وہ لفظ جس پر آپ تلفظ کر رہے ہیں، ایک وہ لفظ جو اس کے اندر چھپا ہوا ہے جس پر ہم تلفظ نہیں کر رہے۔ تو اِضْرِبْ کے اندر تلفظ تو ایک لفظ پر ہے، لیکن تقدیرًا یہ کتنے ہیں؟ دو ہیں۔ یعنی مان لو، فرض کر لو یہ کتنے ہیں؟ دو ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا جملے میں کم از کم کتنے الفاظ ہوں گے؟ دو۔ یا تو لفظًا دو ہوں گے یا تقدیرًا دو ہوں گے۔ چاہیے دو ضرور بھئی۔ اِضْرِبْ، اِضْرِبْ کے اندر کون سا لفظ چھپا ہوا ہے؟ اَنْتَ۔ تو تقدیرًا دو لفظ ہیں۔ اِضْرِبْ کا معنی ہے امر، حکم دیا جا رہا ہے۔ اور تو اِضْرِبْ فعل، یہ مسند ہے۔ توجہ ہے؟ یہاں پر پھر وہی مسند اور مسند الیہ چاہیے۔ اِضْرِبْ فعل ہے، اور فعل ہمیشہ کیا بنتا ہے؟ مسند بنتا ہے، کبھی بھی مسند الیہ نہیں بنتا۔ اور اَنْتَ اس کے اندر جو ضمیر ہے وہ فاعل ہے، یعنی مسند الیہ۔ پھر دہراؤ، اِضْرِبْ کیا ہے؟ فعل۔ اور اس کے اندر اَنْتَ ضمیر کیا ہے؟ فاعل ہے، یعنی مسند الیہ۔ تو دیکھا دونوں چیزیں آ گئیں، مسند بھی آ گیا اور مسند الیہ بھی۔ تو یہ کلام پورا ہوا۔ اِضْرِبْ، آپ پٹائی کریں، تو پٹائی کر۔ دیکھا، یہ پورا جملہ ہے۔ بات پوری سمجھ میں آ رہی ہے۔ کہنے والا کیا طلب کر رہا ہے آپ سے؟ پٹائی کو طلب کر رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو زَیْدٌ قَائِمٌ اس میں دو لفظ ہیں، دو جز ہیں، اور دونوں جز کیا ہیں؟ لفظًا ہیں۔ دہراؤ زبان سے، زَیْدٌ قَائِمٌ میں کتنے جز؟ دو جز، اور دونوں جز کس طرح ہیں؟ لفظًا ہیں۔ یعنی لفظوں کے اعتبار سے ہیں۔ کیا معنی لفظوں کے اعتبار سے؟ یعنی دونوں پر ہم علیحدہ علیحدہ تلفظ کر رہے ہیں۔ اور اِضْرِبْ میں بھی دو لفظ ہیں، لیکن دونوں لفظًا ہیں یا تقدیرًا ہیں؟ تقدیرًا ہیں۔ لفظوں کے اعتبار سے تو ہم ایک پر ہی تلفظ کر رہے ہیں، لیکن فرض کر لیا اس کے اندر دوسرا لفظ اسی کے اندر چھپا ہوا ہے۔ فرض کر لیا کہ دوسرا لفظ اسی کے اندر، تو دو لفظ ہیں، لیکن لفظًا دو نہیں ہیں بلکہ تقدیرًا دو ہے۔ یعنی تلفظ تو ہم ایک پر کر رہے ہیں اور دوسرا، دوسرا اس کے اندر چھپا ہوا ہے۔ دیکھیے بھئی کتاب پر، فَصْلٌ۔ بِدَانْ کِہْ ہِیْچْ جُمْلَہ کَمْتَرْ اَزْ دو کَلِمَہ نَہ بَاشَدْ۔ بِدَانْ کِہْ، تو جان لے کہ ہِیْچْ جُمْلَہ کَمْتَرْ اَزْ دو کَلِمَہ نَہ بَاشَدْ، کہ ہیچ جملہ، کوئی بھی جملہ، ہیچ کا معنی کوئی بھی۔ ہیچ جملہ، کوئی بھی جملہ کمتر از دو، کمتر از دو کلمہ نہ باشد، وہ دو کلموں سے کم نہیں ہوگا۔ کمتر یعنی کم کم۔ از دو کلمہ، از کا معنی سے، سے۔ کمتر از دو کلمہ، دو کلمہ سے کم نہ باشد نہیں ہوگا لفظًا، لفظوں کے اعتبار سے۔ بھئی کوئی بھی جملہ دو کلموں سے کم نہیں ہوگا، یعنی لفظًا یا تقدیرًا۔ یعنی لفظًا وہ دو ہوں گے یا تقدیرًا وہ دو ہوں گے، اس سے کم نہیں ہوں گے۔ لفظًا جیسے ضَرَبَ زَیْدٌ، دیکھو زید نے پٹائی کی۔ تو ضَرَبَ فعل، ضَرَبَ فعل اور زَیْدٌ فاعل۔ یعنی ضَرَبَ مسند اور زَیْدٌ کیا ہے؟ مسند الیہ۔ تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ۔ وَ زَیْدٌ قَائِمٌ، زَیْدٌ کیا بنے گا؟ مبتدا، یعنی مسند الیہ۔ اور قَائِمٌ مسند ہے، یعنی خبر ہے۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔ یا تقدیرًا، یا وہ دو کلمے کیا ہوں گے؟ تقدیرًا ہوں گے، اس سے کم جملہ نہیں ہوگا۔ چُوں اِضْرِبْ، جیسے کہ اِضْرِبْ۔ کِہ اَنْتَ دَرْ او مُسْتَتِرْ اَسْتْ، کہ اَنْتَ جو ہے در او اس کے اندر۔ اصل میں یہ تھا دَرْ اَوْ۔ دَرْ اَوْ، در کا کیا معنی؟ میں، میں۔ اور او کا کیا معنی؟ اس۔ دَرْ اَوْ، اس میں۔ دَرْ اَوْ، اس میں۔ پھر ان دونوں کو ملا دیا اور ہمزہ کو درمیان سے گرا دیا۔ کِہ اَنْتَ دَرَوْ، کہ اَنْتَ اس میں مستتر است، چھپا ہوا ہے۔ اِسْتِتَار کا معنی ہے چھپنا، چھپنا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس کو مستتر پڑھنا، عموماً طلباء اس کو مستتر پڑھتے ہیں، مستتر نہیں بھئی بلکہ مستتر، چھپا ہوا ہے۔ کِہ اَنْتَ دَرَوْ مُسْتَتِرْ اَسْتْ، کہ اس کے اندر اَنْتَ جو ہے وہ چھپا ہوا ہے۔ وَ اَزِیْن بِیْشْتَرْ بَاشَدْ۔ وَ اَزِیْن، بھئی آن، آن، آن کا کیا معنی فارسی میں؟ وہ، وہ۔ اور اِیْن، اِیْن، نون ہے آخر میں، اس کا کیا معنی؟ یہ۔ تو آن اور اِیْن، نون ہے آخر میں، لیکن عموماً نون کو غنہ کی صورت میں پڑھتے ہیں، آں، آں کا کیا معنی؟ وہ۔ اور اِیں، یہ۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے۔ وَ اَزِیْن، یہ اصل میں تھا وَ اَزْ اِیْن۔ اصل میں کیا تھا؟ وَ اَزْ اِیْن۔ اور اس سے، پھر درمیان سے ہمزہ گرا دیا اور دونوں کو ملا دیا۔ وَ اَزِیْن، اور اس سے، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ وَ اَزِیْن بِیْشْتَرْ بَاشَدْ، اور اس سے زیادہ بھی ہوگا۔ جملے میں کم از کم کتنے کلمے ہوں گے؟ آپ کو بتلا دیا جملے میں کم از کم دو کلمے ہوں گے، یا لفظًا دو ہوں گے یا تقدیرًا دو ہوں گے۔ وَ اَزِیْن بِیْشْتَرْ بَاشَدْ، اور اس سے زیادہ ہوں گے۔ یعنی دو سے، یعنی کہنا یہ چاہتے ہیں کہ کم از کم دو ہیں، لیکن دو سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں، تین، چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو، دس، کتنے ہی الفاظ ہو سکتے ہیں۔ تو اب آپ کو بتلا دیا کہ دو، کم از کم دو ہیں اور دو سے زیادہ لفظ ہوتے ہیں جملے میں۔ اور زیادہ کتنے ہوتے ہیں؟ آگے آپ کو بتلائیں گے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ 10 بھی ہو سکتے ہیں، 20 بھی ہو سکتے ہیں، 30 بھی ہو سکتے ہیں ایک ہی جملے کے اندر، یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں وَ اَزِیْن بِیْشْتَرْ بَاشَدْ، اور اس سے زیادہ ہوں گے۔ کس سے زیادہ ہوں گے؟ دو سے زیادہ ہوں گے۔ کہتے ہیں تو جملے میں دو سے زیادہ لفظ بھی ہوں گے۔ وَ بِیْشْتَرْ رَا حَدّے نِیْسْتْ۔ حد کہتے ہیں انتہا کو۔ اردو میں بھی آپ بولتے ہیں، یہ میری زمین کی حد ہے۔ بولتے ہیں یا نہیں؟ تو حد جو کنارہ، حد۔ تو کہتے ہیں وَ بِیْشْتَرْ رَا حَدّے نِیْسْتْ، اور زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ بھئی ایک جملے میں کم سے کم کتنے لفظ ہو سکتے ہیں؟ دو۔ اور زیادہ؟ کہہ رہے ہیں زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے، 10 ہوں، 20 ہوں، 40 ہوں، 50 ہوں، 100 ہوں، کوئی حد نہیں ہے۔ 100 ہوں، ہزار ہوں، جتنے بھی بنانا چاہیں، ملانا چاہیں، ملا سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں وَ بِیْشْتَرْ رَا حَدّے نِیْسْتْ، اور زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ بِدَانْ کِہْ چُوں کَلِمَاتِ جُمْلَہ بَسِیَار بَاشَدْ۔ بِدَانْ کِہْ، تو جان لے کہ چُوں کَلِمَاتِ جُمْلَہ بَسِیَار بَاشَدْ، کہ جب جملے کے جو کلمات ہیں، بسیار باشد، بسیار کا معنی زیادہ، زیادہ۔ جب جملے کے کلمات زیادہ ہوں، یاد رکھیے یہاں سے آگے اب صاحب نحو میر یعنی میر سید السند رحمہ اللہ آپ کو عبارت حل کرنے کا طریقہ سکھا رہے ہیں، کہ عبارت کیسے حل کرنی ہے، مطالعہ کیسے کرنا ہے، عبارت کو کیسے سمجھنا ہے۔ تو آپ کو بتلائیں گے کہ آپ کو انہوں نے اتنا تو بتلا دیا کہ ایک جملے میں دو سے زیادہ الفاظ ہو سکتے ہیں۔ اگر دو لفظ ہیں، پھر تو بڑا آسان ہے معاملہ، ایک کو مسند بنا دو، دوسرے کو مسند الیہ بنا دیں گے غور کر کے کہ کون مسند بن رہا ہے اور کون مسند الیہ بن رہا ہے۔ اور اگر دو سے زیادہ ہیں، 8 ہیں، 10 ہیں، 15 ہیں، اب اس جملے کو کیسے حل کریں، اس کا معنی ہم کیسے سمجھیں، تو وہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ سب سے پہلے یوں کرنا کہ پورے جملے میں غور کر کے اسم، فعل اور حرف کو الگ الگ کر دو، الگ الگ کر لو۔ یعنی خوب پہچان کر لو، یہ اسم ہے، یہ فعل ہے، یہ حرف ہے۔ سارے الگ الگ کر دیے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک ایک لفظ میں غور کر کے دیکھ لو، وہ اسم ہے، فعل ہے یا حرف۔ تو اسم اور فعل، اسم، فعل اور حرف کو پہچان لو، الگ الگ کر لو۔ اس کے بعد، اس کے بعد پھر کہتے ہیں ان میں غور کرو کہ یہ اسم جو ہے یا فعل جو ہے، یہ معرب ہے یا مبنی ہے۔ توجہ ہے؟ یہ معرب ہے یا مبنی ہے۔ معرب کو پہچان لو اس میں دیکھ لو، اور مبنی کو بھی ان ساروں میں پہچان لو کون کون سے مبنی ہیں۔ اس کے بعد کہتے ہیں پھر یہ غور کرو کہ کون عامل ہے اور کون معمول۔ کون عامل ہے اور کون معمول۔ یاد رکھو نحو کے اندر ایک لفظ دوسرے لفظ پر عمل کرتا ہے اور اس میں اس کے آخر کو بدلتا ہے۔ ایک لفظ دوسرے لفظ میں عمل کرتا ہے اور اس کے آخر کو بدلتا ہے۔ مثلاً آپ کہیں پڑھتے ہیں زَیْدٌ، اور کہیں پڑھتے ہیں زَیْدً، اور کہیں پڑھتے ہیں زَیْدٍ۔ یہ خود اپنی مرضی سے آپ نے نہیں پڑھنا بلکہ دیکھیں گے کہ اس میں کون عمل کر رہا ہے۔ اگر کوئی چیز، کوئی چیز جو ہے وہ رفع دینے، کوئی پیش دینے والی چیز ہے، تو پھر اس پر پیش پڑھیں گے زَیْدٌ۔ اور اگر کوئی زبر دینے والی چیز ہے، تو زَیْدًا زبر پڑھیں گے۔ اور اگر کوئی ایسا لفظ ہے جو اس کو زیر دے رہا ہے، تو پھر کسرہ پڑھیں گے زَیْدٍ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اگر ضمہ دینے والا عامل ہے تو اس پر کیا پڑھیں گے؟ ضمہ۔ اگر فتحہ دینے والا عامل ہے تو فتحہ، اور اگر کسرہ دینے والا عامل ہے تو کسرہ۔ تو موقعے کے مطابق زَیْدٌ، زَیْدًا اور زَیْدٍ پڑھیں گے۔ جیسے ابھی مثال گزری جَاءَ زَیْدٌ۔ جَاءَ زَیْدٌ، جَاءَ کا معنی آنا، یہ فعل ماضی ہے۔ جَاءَ زَیْدٌ، زید آ گیا۔ تو یہ فعل ہے، اور فعل کے لیے فاعل چاہیے۔ فعل کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل۔ تو جَاءَ فعل اور زَیْدٌ اس کا فاعل۔ اور یاد رکھو، یہ جو فعل ہے یہ عمل کرتا ہے اور اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے۔ کیا دیتا ہے؟ یعنی یوں کہو پیش دیتا ہے عموماً پیش بھئی، رفع دیتا ہے۔ یعنی ضمہ کہہ لو، کیا دیتا ہے؟ ضمہ۔ تو جَاءَ زَیْدٌ، یہ زَیْدٌ پر ہم نے کیا پڑھا؟ ضمہ پڑھا۔ کیوں آیا یہ ضمہ، خود بخود آیا یا جَاءَ کی وجہ سے آیا؟ جَاءَ کی وجہ سے۔ تو جب بھی عبارت میں جَاءَ زَیْدٌ آئے، تو آپ نے زَیْدٌ ہی پڑھنا ہے، وہاں پر آپ زَیْدًا یا زَیْدٍ نہیں پڑھ سکتے۔ تو جَاءَ کیا ہوا؟فعل، اور زیدٌ اس کے لیے فاعل۔ تو جس نے تبدیلی پیدا کی، اس کو کہتے ہیں عامل۔ تو جَاءَ کیا ہے؟ عامل۔ اور جس میں اس نے عمل کر کے اس کے آخر کو بدلا، یعنی زیدٌ، اس کو کہتے ہیں معمول۔ تو یہاں پر عمل کرنے والا کون؟ جَاءَ، یعنی فعل۔ تو اس کو کہیں گے عامل۔ اور جس پر عمل کیا، اس کو کیا کہیں گے؟ معمول۔ تو یہاں پر معمول کون؟ زیدٌ۔ تو جَاءَ زَیْدٌ میں جَاءَ عامل، اور زیدٌ معمول۔ عامل کیا کرتا ہے؟ معمول کے آخر کو بدلتا ہے۔ اور معمول جو ہے، وہ عامل کی وجہ سے اس کا آخر بدلتا ہے۔ تو صاحبِ نحومیر آپ کو بتلا رہے ہیں کہ جب آپ کے سامنے کوئی عبارت آئے، تو سب سے پہلے کیا کرنا اس میں؟ اسم، فعل اور حرف کو پہچان لینا، الگ الگ کر لینا۔ اس کے بعد کیا کرنا؟ معرب اور مبنی کو پہچان لینا، کون سا معرب ہے لفظ اور کون سا مبنی ہے۔ تیسرا کام آپ نے پھر اس میں یہ کرنا ہے کہ عامل اور معمول کو پہچاننا ہے؛ کون عمل کرنے والا ہے، اور کس میں عمل کر رہا ہے۔ دیکھو جَاءَ زَیْدٌ، اس میں ہم نے غور کیا۔ تو اس میں جَاءَ کیا ہے؟ فعل۔ اور زیدٌ کیا ہے؟ فاعل ہے۔ اور پھر اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ اس میں معرب کیا ہے اور مبنی کیا ہے؟ یہ آگے چل کر آپ پڑھیں گے۔ جَاءَ مبنی ہے، فعلِ ماضی ہے، وہ کیا ہے؟ مبنی۔ اور زیدٌ کیا ہے؟ معرب، یعنی جس کا آخر بدلتا ہے۔ اور پھر ہم نے غور کیا کہ اس میں عامل کون اور معمول کون؟ تو ہم نے دیکھا جَاءَ کیا ہے؟ عامل ہے۔ اور زیدٌ کیا ہے؟ معمول۔ تو اس طرح آپ نے عبارت کو حل کرنا ہے۔ کتنی چیزیں ہو گئیں؟ تین۔ پھر سنو! صاحبِ نحومیر کیا فرماتے ہیں؟ عبارت کو کیسے حل کرنا ہے؟ کوئی لمبا جملہ آئے تو سب سے پہلے کس کو پہچانو اس میں؟ اسم، فعل اور حرف کو پہچان لو۔ کون سا لفظ اسم ہے، کون سا فعل، کون سا حرف۔ ہو سکتا ہے اس میں دو اسم ہوں، تین ہوں، چار ہوں۔ اسی طرح فعل ہو اس کے اندر، ایک ہو، دو ہوں، تین ہوں۔ اسی طرح اس کے اندر حروف جو ہیں، دو، چار یا چھ، جتنے بھی حروف ہوں۔ تو آپ نے کیا کرنا ہے؟ ہر ایک کو پہچان لینا ہے۔ یہ پہلا عمل آپ نے کرنا ہے۔ دوسرا عمل کیا کرنا ہے؟ معرب اور مبنی کو پہچاننا ہے۔ معرب وہ ہے جس کا آخر بدلتا ہے، مبنی وہ ہے جس کا آخر بدلتا نہیں۔ تو آپ نے پہچان لینا ہے، ان میں دیکھ لینا ہے کون کون سا لفظ معرب ہے، اس کے آخر کو پھر ہم بدلیں گے، اور جو مبنی ہے اس کا آخر برقرار رہے گا۔ پھر تیسری چیز کیا دیکھنی ہے؟ عامل اور معمول، کہ عمل کرنے والا کون ہے اور کس میں عمل کر رہا ہے، اور اس پر ضمہ پڑھنا ہے یا فتحہ پڑھنا ہے یا کسرہ پڑھنا ہے۔ اس کے بعد کہتے ہیں چوتھا عمل یہ کرنا کہ دیکھنا ان کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق کیسا ہے، کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ یہ لفظ جڑے ہوئے ہیں۔ چوتھا کام کیا کرنا ہے؟ کہ کس طرح یہ لفظ آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دیکھو ایک چلو یہ آگے باتیں آ جائیں گی، جار کے ساتھ مجرور جڑ جاتا ہے، اور جار مجرور مل کر پھر کسی اور سے جڑتے ہیں۔ اسی طرح موصوف کے ساتھ صفت جڑ جاتی ہے، مبتدا کے ساتھ خبر جڑتی ہے، فعل کے ساتھ فاعل جڑتا ہے، تو یہ سارے آپس میں جڑتے ہیں۔ اسی طرح فعل کے ساتھ مفعول بہ بھی جڑتا ہے۔ بہرحال، یہ ساری چیزیں آگے آ جائیں گی۔ تو پہلی چیز کیا؟ آپ نے کس کو پہچاننا ہے؟ اسم، فعل اور حرف۔ دوسرا کام کیا کرنا ہے؟ معرب، مبنی کو پہچاننا ہے۔ تیسرا کام کیا کرنا ہے؟ عامل اور معمول کو پہچاننا ہے۔ اور چوتھا کام یہ کہ یہ آپس میں کس طرح جڑے ہوئے ہیں، کون کس کے ساتھ جڑ رہا ہے اور کس کے ساتھ نہیں جڑ رہا، وہ آپ نے غور کر لینا ہے۔ یہ چار عمل جب آپ کر لیں گے، تو آپ کو جملے کا معنی صحیح اور حقیقی طور پر معلوم ہو جائے گا۔ آپ کو جملے کا صحیح صحیح معنی سمجھ میں آ جائے گا۔ کتنے عمل کر لیں؟ چار۔ چوتھا عمل کیا؟ ان کا آپس کا جوڑ کیسا ہے، تعلق کیسا ہے، کون سا لفظ کس کے ساتھ جڑ رہا ہے اور کس کے ساتھ نہیں جڑ رہا، وہ آپ نے غور کرنا ہے۔ تو پھر آپ کو جملے کا صحیح صحیح معنی سمجھ میں آ جائے گا۔ یہ چار چیزیں انہوں نے بیان کر دیں۔ جوں جوں آپ نحو سیکھتے جائیں گے، یہ چاروں چیزیں آپ کے لیے آسان سے آسان تر ہوتی چلی جائیں گی۔ جوں جوں ہم آگے جائیں گے، یہ چاروں چیزیں آپ کے لیے آسان سے آسان تر ہوتی جائیں گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب صرف ترجمہ دیکھ لو۔ جی، ترجمہ دوبارہ شروع سے دیکھ لیں۔ فصل۔ بِدَانْ کِہْ ہِیْچْ جُمْلَہ کَمْتَرْ اَزْ دو کَلِمَہ نَہ بَاشَدْ۔ جان لے تو کہ کوئی جملہ دو کلموں سے کم نہیں ہوگا، لفظًا، یا تو لفظوں کے اعتبار سے۔ یعنی لفظوں کے اعتبار سے ہی کم نہیں ہوگا۔ چُوں زَرَبَ زَیْدٌ وَ زَیْدٌ قَائِمٌ۔ یا تقدیرًا، یعنی تقدیر یا تقدیرًا کم نہیں ہوگا۔ چُوں اِزْرِبْ، جیسے کہ اِزْرِبْ۔ یہ لفظ تو ایک ہی ہے، لیکن اَنْتَ دَرَوْ مُسْتَتِرْ اَسْتْ، لیکن اَنْتَ ضمیر اس کے اندر چھپی ہوئی ہے۔ وَ اَزِیْن بِیْشْتَرْ بَاشَدْ، اور جملے کے الفاظ اس سے زیادہ ہوں گے۔ وَ بِیْشْتَرْ رَا حَدّے نِیْسْتْ، اور زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے کہ 10 یا 20 یا 30، نہیں نہیں، کوئی حد نہیں ہے۔ زیادہ جتنے بھی ہوں، ہو سکتے ہیں۔ بِدَانْ کِہْ چُوں کَلِمَاتِ جُمْلَہ بَسِیَار بَاشَدْ۔ بسیار کا کیا معنی؟ بہت، یعنی زیادہ۔ جان لے تو کہ جب جملے کے کلمات جو ہیں وہ زیادہ ہوں، اِسْمْ وَ فِعْلْ وَ حَرْفْ رَا۔ اسم، فعل اور حرف کو۔ اسم و فعل و حرف را—میں نے آپ کو بتایا تھا کہ فارسی میں واؤ درمیان میں آتے ہیں، اسم کے درمیان واؤ لاتے ہیں۔ تو اس کو آپ نے علیحدہ نہیں پڑھنا۔ اِسْمْ وَ فِعْلْ وَ حَرْفْ، یوں نہیں پڑھنا، بلکہ واؤ سے ماقبل والے حرف پر پیش پڑھ دینا۔ اِسْمُ، اور دوسرا فِعْلُ۔ جی، تو اِسْمُ فِعْلُ حَرْفْ، اسم اور فعل اور حرف را۔ را کا کیا معنی؟ کو۔ را۔ بَا یَکْ دِیْگَرْ، ان کو ایک دوسرے کے ساتھ۔ بَا یَکْ دِیْگَرْ، ایک دوسرے کے ساتھ۔ تَمْیِیْزْ بَایَدْ کَرْدَنْ، جدا کرنا چاہیے۔ ان کو ایک دوسرے سے جدا کرنا چاہیے، یعنی پہچان کرنی چاہیے کہ یہ اسم ہے، یہ فعل ہے، اور یہ حرف۔ تو کہتے ہیں کہ چُوں کَلِمَاتِ جُمْلَہ بَسِیَار بَاشَدْ، جب جملے کے کلمات وہ زیادہ ہوں، اِسْمُ فِعْلُ حَرْفْ رَا بَا یَکْ دِیْگَرْ تَمْیِیْزْ بَایَدْ کَرْدَنْ، اسم، فعل اور حرف کو ایک دوسرے سے جدا کرنا چاہیے، یعنی ان کو ان کی پہچان کرنی چاہیے۔ وَ نَظَرْ کَرْدَنْ، اور غور کرنا چاہیے۔ نظر کردن کا کیا معنی؟ اور دیکھنا چاہیے، یعنی غور کرنا چاہیے کہ معرب است یا مبنی، کہ یہ معرب ہے یا مبنی۔ وَ عَامِلْ اَسْتْ یَا مَعْمُوْلْ، اور عامل ہے یا معمول۔ وَ بَایَدْ دَانِسْتَنْ، اور جاننا چاہیے۔ باید کا معنی چاہیے۔ دانستن کا معنی جاننا۔ و باید دانستن، اور جاننا چاہیے کہ تعلقِ کلمات، کہ کلموں کا تعلق جو ہے، بَا یَکْ دِیْگَرْ چِگُوْنَہ اَسْتْ، کہ کلموں کا تعلق ایک دوسرے کے ساتھ چگونه است، کیسا ہے۔ چگونه کا معنی؟ کیسا۔ کہتے ہیں: وَ بَایَدْ دَانِسْتَنْ کِہْ تَعَلُّقِ کَلِمَاتْ بَا یَکْ دِیْگَرْ چِگُوْنَہ اَسْتْ، اور جاننا چاہیے کہ کلمات کا تعلق ایک دوسرے کے ساتھ کیسا ہے، تَا مُسْنَدْ وَ مُسْنَدٌ اِلَیْہِ پَیْدَا گَرْدَدْ، تاکہ مسند اور مسند علیہ پیدا ہو جائیں۔ مسند اور مسند علیہ—یعنی آپ کو سمجھ میں آ جائیں۔ آپ جملے میں آپ نے اسم بھی، فعل، حرف کو الگ کر لیا۔ اس کے بعد آپ نے معرب، مبنی کو بھی پہچان لیا۔ پھر آپ نے ان میں یہ بھی غور کر لیا کون عامل ہے اور کون معمول۔ اور پھر آپ نے ان کے تعلق ایک دوسرے سے کس طرح ہیں، کس کون سا لفظ کس کے ساتھ جڑ رہا ہے اور کس کے ساتھ نہیں جڑ رہا، یہ بھی آپ نے غور کر لیا۔ جب یہ سارا کچھ آپ کر لیں گے، تو آپ کو مسند اور مسند علیہ کی پہچان ہو جائے گی، کہ کون سا لفظ مسند ہے اور کون سا مسند علیہ۔ یعنی کس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے اور کیا بات کی جا رہی ہے، وہ آپ کو سمجھ میں آ جائے گی۔ تو اس سارے کا فائدہ کیا ہوگا؟ آپ کو کس کی پہچان ہوگی؟ مسند اور مسند علیہ۔ اور جملے کے جز بھی کتنے ہوتے ہیں؟ دو ہی جز ہوتے ہیں۔ تو جب دونوں جزوں کا پتہ چل گیا، تو جملے کا ترجمہ آپ کو سمجھ میں آ گیا۔ تو کہتے ہیں: وَ بَایَدْ دَانِسْتَنْ کِہْ تَعَلُّقِ کَلِمَاتْ بَا یَکْ دِیْگَرْ چِگُوْنَہ اَسْتْ، اور جاننا چاہیے کہ کلمات کا تعلق ایک دوسرے کے ساتھ کیسا ہے، تَا مُسْنَدْ وَ مُسْنَدٌ اِلَیْہِ پَیْدَا گَرْدَدْ، تاکہ مسند اور مسند علیہ جو ہیں وہ پیدا ہو جائیں۔ پیدا ہو جائیں، یعنی آپ کو سمجھ میں آ جائیں۔ وَ مَعْنٰیِ جُمْلَہ بَـتَحْقِیْقْ مَعْلُوْمْ شَوَدْ، اور جملے کا جو معنی ہے با تحقیق، وہ تحقیقی طور پر معلوم شود، آپ کو معلوم ہو جائے۔ جملے کا معنی آپ کو تحقیقی طور پر، یعنی صحیح صحیح آپ کو معلوم ہو جائے۔ یہ معنی ہے۔ و معنای جملہ بتحقیق معلوم شود، اور جملے کا معنی جو ہے وہ تحقیقی طور پر آپ کو معلوم ہو جائے۔ تحقیقی طور پر کیا معنی؟ صحیح صحیح جملے کا معنی آپ کو صحیح صحیح معلوم ہو جائے۔ اچھا، چلیے بھئی! آج کے سبق کا خلاصہ پھر سن لیجیے۔ آج انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مرکبِ غیر مفید جو ہوتا ہے، وہ ہمیشہ جملے کا جز بنتا ہے، پورا جملہ نہیں بنتا۔ اور جملے کے تو دو ہی جز ہوتے ہیں، یا مسند ہوتا ہے یا مسند علیہ۔ تو یہ کبھی مسند بنیں گے اور کبھی مسند علیہ بنیں گے، موقع محل کے مطابق۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کو یہ بتلایا کہ کوئی بھی جملہ دو کلموں سے کم نہیں ہوتا، اس میں دو کلمے کم از کم ہوں گے۔ کلمہ کسے کہتے ہیں؟ کلمہ کسے کہتے ہیں؟ بھول گئے، بھول گئے! با معنی لفظ کو۔ کلمہ کسے کہتے ہیں؟ با معنی لفظ، وہ لفظ جس کا کچھ معنی ہو، اس کو کلمہ کہتے ہیں۔ اور نیز اسے مفرد بھی کہتے ہیں۔ آپ نے پڑھا تھا نا کہ لفظِ مستعمل دو قسم پر ہے، یا وہ مفرد ہوگا یا مرکب۔ تو اسی مفرد کو کلمہ بھی کہتے ہیں۔ تو کلمہ کا کیا معنی آسان لفظوں میں؟ کوئی بھی آپ سے پوچھے کلمہ کسے کہتے ہیں، آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ با معنی لفظ، یعنی وہ لفظ جس کا کچھ معنی ہو، اس کو کلمہ کہتے ہیں۔ تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ کوئی بھی جملہ دو کلموں سے کم پر مشتمل نہیں ہوگا۔ اور وہ دو کلمے یا تو لفظًا ہوں گے یا تقدیرًا۔ لفظًا کے ہونے کا کیا معنی؟ کہ دونوں پر ہم الگ الگ تلفظ کریں گے۔ اور تقدیرًا کا کیا معنی؟ کہ تلفظ تو ایک پر ہی کر رہے ہیں، لیکن ایک کلمہ دوسرے کے اندر چھپا ہوا ہے۔ تو جب ایک پر تلفظ کیا، تو فرض کر لو دونوں پر بھی ہم، دونوں پر ہی ہم نے تلفظ کر دیا۔ تقدیرًا کا کیا معنی؟ فرض کرنا، فرض کرنا۔ اور اس کے بعد پھر انہوں نے یہ بتلایا کہ جملے کے اندر دو سے زیادہ بھی کلمات ہو سکتے ہیں، اور زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے؛ 10، 20، 30، 40، 50، جتنے بھی کرنا چاہیں آپ ایک جملے میں لفظ اکٹھے کر سکتے ہیں۔ اور پھر انہوں نے آپ کو بتلایا کہ آپ کے سامنے جب کوئی جملہ آئے، کوئی عبارت لمبی آئے، اس میں زیادہ، اس جملے میں زیادہ الفاظ ہیں، تو آپ اس کو حل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس میں غور کر کے اسم، فعل اور حرف، ان کو پہچان لو۔ پھر اس کے بعد دوسرا عمل یہ کرو کہ غور کرو ان میں معرب کون سا ہے اور مبنی کون سا ہے۔ معرب یعنی جس کا آخر بدلتا ہے، مبنی جس کا آخر نہیں بدلتا۔ اور پھر اس کے بعد ان میں تیسری بات یہ غور کریں کہ ان میں عامل کون ہے اور معمول کون ہے۔ کون عمل کرتا ہے، اور دوسرا جس کا آخر عامل کی وجہ سے بدل جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ معمول۔ تو عامل اور معمول کو پہچان لیں۔ اس کے بعد چوتھا عمل یہ کریں کہ آپ دیکھیں کہ یہ الفاظ کا آپس میں تعلق کیسا ہے، کون سا لفظ کس لفظ کے ساتھ جڑ رہا ہے اور کس لفظ کے ساتھ نہیں جڑ رہا۔ جب آپ یہ سارے عمل کر لیں گے، تو آپ کو مسند اور مسند علیہ کی پہچان ہو جائے گی۔ اور جملے کے جز بھی کتنے ہوتے ہیں؟ دو: ایک مسند اور ایک مسند علیہ۔ تو جب ان دونوں کی پہچان آپ کو ہو گئی، تو آپ کو جملے کا معنی تحقیقی طور پر معلوم ہو گیا۔ تحقیقی طور پر معلوم ہونے کا کیا معنی؟ صحیح صحیح معنی آپ کو جملے کا معلوم ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے، بس بھئی! هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔