گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا کہ راویوں کے احوال مختلف ہونے کی وجہ سے خبرِ واحد، خبرِ واحد پر عمل کرنے کی شرط یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ کے مخالف نہ ہو۔ اسی طرح وہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے، یعنی سنتِ مشہورہ کے خلاف نہ ہو اور ظاہر کے بھی خلاف نہ ہو۔ اس سلسلے میں حضور علیہ السلام کی ایک حدیث بھی نقل کی صاحبِ کتاب نے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے بعد تمہیں بڑی کثرت سے احادیث پہنچیں گی، جب تمہارے لیے تمہارے سامنے میری کوئی حدیث روایت کی جائے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو اور وہاں پر، وہاں سے دیکھ لو اس کو۔ اگر وہ کتاب اللہ کے موافق ہے تو اسے قبول کر لو اور اگر کتاب اللہ کے مخالف ہے تو اسے رد کر دو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ رد کر دو۔ اور پھر دوسری حدیث روایت کی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول، وہ فرماتے ہیں کہ راوی جو ہیں وہ تین قسم پر ہیں، کچھ وہ ہیں جو مخلص مومن ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، ساتھ رہے، اور کچھ وہ دیہاتی ہیں جو آئے انہوں نے کچھ بات سنی حضور کی اور کچھ نہیں سنی اور واپس گئے اور پھر اپنے لفظوں میں روایت بیان کر دی جس کی وجہ سے معنی کے اندر تبدیلی آگئی اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ معنی کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اور تیسرے وہ منافق جن کا نفاق لوگوں کو معلوم نہیں تھا اور انہوں نے اپنی طرف سے حدیثیں گھڑ گھڑ کر لوگوں کے درمیان، لوگوں میں روایت کی کہ حضور نے یوں فرمایا، حضور نے یوں فرمایا۔ تو یہ راوی تین قسم کے ہیں اور ان میں سے اب یقینی بات ہے کہ جو پہلی قسم ہے ان کی روایت حجت ہوگی اور باقی جو دو قسمیں ہیں ان کی روایت حجت نہیں ہوگی، حجت نہیں ہوگی۔ تو لہذا جب بھی کوئی روایت آئے تو اس کو کیا کریں گے ہم؟ کتاب اللہ کے ذریعے دیکھیں گے، سنتِ مشہورہ کے ذریعے دیکھیں گے اور ظاہر کے ذریعے دیکھیں گے بھئی۔ اگر وہ کتاب اللہ کے مخالف ہوئی یا سنتِ مشہورہ کے مخالف ہوئی یا ظاہر کے مخالف ہوئی تو اسے کیا کیا جائے گا؟ رد کیا جائے گا، اسے چھوڑ دیا جائے گا بھئی۔ اب اس کی نظیریں پیش کر رہے ہیں، مثالیں ذکر کر رہے ہیں بھئی مصنف بھئی۔ کہتے ہیں: "ونظير العرض على الكتاب في حديث مس الذكر فيما يروى عنه: من مس ذكره فليتوضأ، فعرضناه على الكتاب فخرج مخالفا لقوله تعالى: فيه رجال يحبون أن يتطهروا"۔ کہتے ہیں اس کی مثال مسِ ذکر والی حدیث ہے۔ مسِ ذکر والی۔ حدیث میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "من مس ذكره فليتوضأ" جو شخص اپنے ذکر کو ہاتھ لگائے اسے چاہیے کہ وضو کرے۔ اسے چاہیے کہ وضو کرے۔ معلوم ہوا مسِ ذکر ناقض للوضوء ہے، اس کی وجہ سے کیا ہے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ تو صاحبِ کتاب فرما رہے ہیں کہ ہم نے اس کو کتاب اللہ پر پیش کیا تو یہ اس آیت کے خلاف نکلی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "فيه رجال يحبون أن يتطهروا" ان اہل، اس مسجد والوں میں، یعنی مسجدِ قبا والوں میں ایسے لوگ ہیں جو پاک و پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، جو پاک رہنے کو کیا کرتے ہیں؟ پسند کرتے ہیں۔ جی، یہ تقریر لکھ لیجیے مولانا۔ حدیث میں ہے: "من مس ذكره فليتوضأ"۔ حضور علیہ السلام کی حدیث ہے: "من مس ذكره فليتوضأ" کہ جو شخص اپنے ذکر کو چھو لے، اب جو شخص اپنے ذکر کو ہاتھ لگا لے، اسے چاہیے کہ وضو کرے۔ اسے چاہیے کہ وضو کرے۔ عند الاحناف مسِ ذکر ناقض للوضوء نہیں ہے۔ عند الاحناف مسِ ذکر ناقض للوضوء نہیں ہے۔ یہ حدیث اس آیت کے خلاف ہے۔ یہ حدیث اس آیت کے خلاف ہے۔ "فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين"، "والله يحب المطهرين"۔ جی، یعنی اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں، یعنی اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں خوب پاک ہونے کو، جو پسند کرتے ہیں خوب پاک ہونے کو۔ اور اللہ پسند فرماتے ہیں، اور اللہ پسند فرماتے ہیں خوب پاک ہونے والوں کو، خوب پاک ہونے والوں کو۔ ترجمہ آیت کا سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ اس مسجد میں، مسجدِ قبا میں مسجد بنائی گئی اسلام کی پہلی مسجد مولانا، جس کے اندر جس کی بڑی فضیلت ہے بھئی۔ حدیث میں آتا ہے جو اس مسجد میں دو رکعت نفل پڑھ لے اس کو ایک عمرے کا ثواب ملے گا بھئی، دو رکعت پر بھئی۔ تو اس مس کے، وہاں کے لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ فرما رہے ہیں بھئی کہ اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں خوب پاک ہونے کو اور اللہ پسند کرتے ہیں خوب پاک ہونے والوں کو۔ حضور علیہ السلام نے، یہ، یہ آیت اہل کوئٹہ کے بارے میں نازل ہوئی، اہل قبا بھئی، قاف دو نقطوں والا، با، الف اور ہمزہ، قاف، با، الف اور ہمزہ۔ یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی۔ تو حضور علیہ السلام نے اہل قبا سے پوچھا، تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اہل قبا سے پوچھا کہ تم لوگوں میں ایسی کیا خصوصیت ہے؟ کہ تم لوگوں میں ایسی کیا خصوصیت ہے؟ کہ اللہ تعالی نے قرآن میں تمہاری مدح فرمائی ہے۔ کہ اللہ تعالی نے تمہاری مدح فرمائی ہے۔ اور تمہارے خوب پاک ہونے کو ذکر فرمایا ہے۔ اور تمہارے خوب پاک ہونے کو ذکر فرمایا ہے۔ انہوں نے جواب میں عرض کیا، انہوں نے جواب میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کہ یا رسول اللہ! اور تو کوئی ایسی خاص بات نہیں، اور تو کوئی ایسی خاص بات نہیں، صرف یہ ہے، صرف یہ ہے کہ ہم مٹی کے ڈھیلے سے استنجا کرنے کے بعد، کہ ہم مٹی کے ڈھیلے وغیرہ سے استنجا کرنے کے بعد پانی سے بھی استنجا کر لیتے ہیں، پانی سے بھی استنجا کر لیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا، اس سے معلوم ہوا کہ پانی سے استنجا کرنا اور پاک صاف ہونا اللہ کو پسند ہے، کہ پانی سے استنجا کرنا اور پاک صاف ہونا اللہ کو پسند ہے۔ تو اس، تو اس آیت میں، تو اس آیت میں تطہیر کو مطلقاً ذکر کیا گیا ہے۔ تطہیر بھئی ط کے ساتھ ہے، پہلے دو نقطوں والی پھر ط بھئی۔ اس آیت میں تطہیر کو مطلقاً ذکر کیا گیا ہے۔ اور ضابطہ ہے، اور ضابطہ ہے: "المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل"، "المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل"۔ معلوم ہوا استنجا بالماء کرنا، استنجا بالماء، معلوم ہوا استنجا بالماء سے من جميع الوجوہ طہارت حاصل ہوتی ہے۔ من جميع الوجوہ، من جميع الوجوہ طہارت حاصل ہوتی ہے، یعنی کامل طہارت حاصل ہوتی ہے، یعنی کامل طہارت حاصل ہوتی ہے۔ اور اگر مسِ ذکر کو حدث تسلیم کر لیا جائے، اور اگر مسِ ذکر کو حدث، ث کے ساتھ ہے بھئی، اور اگر مسِ ذکر کو حدث تسلیم کر لیا جائے جیسا کہ حدیث میں ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے، تو استنجا میں کامل تطہیر نہ آئی، تو استنجا میں کامل تطہیر نہ آئی۔ کیونکہ کامل تطہیر یہ ہے، کیونکہ کامل تطہیر یہ ہے، جی، لکھ لیا بھئی؟ کیونکہ کامل تطہیر یہ ہے کہ نجاست زائل ہو، کہ نجاست زائل ہو اور کوئی دوسری نجاست وہاں ثابت نہ ہو، اور کوئی دوسری نجاست وہاں ثابت نہ ہو۔ جب کہ یہاں، اگر مسِ ذکر حد، کو حدث تسلیم کر لیا جائے، جب کہ یہاں اگر مسِ ذکر کو حدث تسلیم کر لیا جائے تو اس صورت میں، تو اس صورت میں نجاستِ حقیقیہ سے تو طہارت حاصل ہوئی، تو اس صورت میں نجاستِ حقیقیہ سے تو طہارت حاصل ہوئی مگر نجاستِ حکمیہ، مگر نجاستِ حکمیہ یعنی حدث کا اثبات ہوا، یعنی حدث کا اثبات ہوا۔ لہذا تطہیر کامل نہیں رہتی، لہذا تطہیر کامل نہیں رہتی۔ نیز آیتِ ہذا میں مدح بھی مطلق ہے۔ نیز آیتِ ہذا میں مدح بھی مطلق ہے۔ جو تقاضا کرتی ہے، جو تقاضا کرتی ہے کہ استنجا بالماء، کہ استنجا بالماء من جميع الوجوہ حسن ہو، من جميع الوجوہ حسن ہو۔ نہ یہ کہ من وجہ حسن ہو اور من وجہ قبیح، نہ یہ کہ من وجہ حسن ہو اور من وجہ قبیح ہو۔ نہ یہ کہ من وجہ حسن ہو اور من وجہ قبیح ہو۔ ثابت ہوا یہ حدیث کتاب اللہ کے مخالف ہے۔ ثابت ہوا یہ حدیث کتاب اللہ کے مخالف ہے اور کتاب اللہ کو ترجیح ہے۔ اور کتاب اللہ کو ترجیح ہے۔ الگ سطر لکھیے بھئی۔ نیز اس حدیث کے متروک ہونے کی نیز اس حدیث کے متروک ہونے کی ایک قوی وجہ یہ بھی ہے نیز اس حدیث کے متروک ہونے کی ایک قوی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ظاہر کے بھی خلاف ہے۔ کہ یہ ظاہر کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے۔ اور اس میں عمومِ بلویٰ ہے۔ اور اس میں عمومِ بلویٰ ہے۔ بلویٰ: با، لام، واؤ اور یا مولانا، یا پر کھڑی زبر آ جائے گی واؤ پر۔ اور اس میں عمومِ بلویٰ ہے۔ یعنی کثرت سے عام لوگ اس میں مبتلا ہیں۔ یعنی کثرت سے عام لوگ اس میں مبتلا ہیں۔ اور صلوٰۃ و طہارت جیسے امور اس پر مبنی ہیں۔ اور صلوٰۃ و طہارت جیسے امور اس پر مبنی ہیں۔ عوام و خواص سب اس کے محتاج ہیں۔ عوام و خواص سب اس کے محتاج ہیں۔ لہٰذا اس قسم کے مسئلہ میں لہٰذا اس قسم کے مسئلہ میں حدیث کا مشہور ہونا ضروری ہے۔ حدیث کا مشہور ہونا ضروری ہے۔ جبکہ یہ حدیث خبرِ واحد ہے۔ جبکہ یہ حدیث خبرِ واحد ہے۔ الگ سطر میں لکھیے بھئی۔ بلکہ یہ حدیث احناف کے نزدیک ہمارے نزدیک بھی متروک نہیں ہے۔ بلکہ یہ حدیث ہمارے نزدیک بھی متروک نہیں ہے۔ ہم بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ حدیث محمول ہے ہمارے نزدیک یہ حدیث محمول ہے ہمارے نزدیک یہ حدیث محمول ہے میم، ح، میم، واؤ، لام۔ استحباب پر استحباب پر اور یہ حکم بھی اور یہ حکم بھی صرف اور یہ حکم بھی صرف خواص و اکابر کے لیے ہو گا۔ صرف خواص و اکابر کے لیے ہو گا۔ نہ کہ عوام کالانعام کے لیے۔ اور یہ حکم بھی صرف خواص و اکابر کے لیے ہو گا نہ کہ عوام کالانعام کے لیے۔ اس طرح احادیث میں جمع و تطبیق آ گئی۔ اس طرح احادیث میں جمع و تطبیق آ گئی اور تعارض باقی نہ رہا۔ اور تعارض باقی نہ رہا۔ جی، تقریر ختم ہوئی بھئی۔ جی، مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی، حدیث میں آتا ہے: مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ. حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: جس شخص نے اپنے ذکر کو ہاتھ لگایا اسے چاہیے کہ وضو کرے۔ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسِ ذکر ناقضِ وضو ہے۔ لیکن جب ہم نے اس حدیث کو کتاب اللہ پر پیش کیا تو یہ کتاب اللہ کے مخالف نکلی بھئی۔ کتاب اللہ میں کیا ہے؟ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا. تو یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا بھئی کیا بات ہے اللہ نے آپ کی تعریف فرمائی ہے قرآن میں؟ انہوں نے کہا کہ ہم کیا کرتے ہیں کہ ڈھیلے وغیرہ سے استنجا کرنے کے بعد پانی سے بھی استنجا کر لیتے ہیں۔ معلوم ہوا، پانی کے ساتھ استنجا کرنا اور پاک ہونا اللہ کو پسند ہے، جس پر اللہ نے ان کی مدح فرمائی۔ تو اس آیت میں تتہیر کا ذکر آیا اور طہ تتہیر مطلقا آئی بھئی، مطلقا آئی۔ وَالْمُطْلَقُ إِذَا أُطْلِقَ يُرَادُ بِهِ الْفَرْدُ الْكَامِلُ. معلوم ہوا کامل تتہیر ہے مراد یہاں، کیسی تتہیر مراد ہے؟ کامل تتہیر مراد ہے اور کامل تتہیر یہ ہے کہ مِنْ جَمِيعِ الْوُجُوهِ تتہیر ہو مولانا، وہاں نجاست کا اثبات نہ ہو، نہ نجاستِ حقیقیہ ثابت ہو اور نہ نجاستِ حکمیہ بھئی۔ دونوں اعتبار سے پاکی حاصل ہو۔ لیکن اگر ہم اس حدیث کو لے لیتے ہیں تو مسِ ذکر یہ کیا بن جائے گا؟ حدث، یعنی نجاستِ حکمیہ۔ نجاستِ حقیقیہ تو نہیں ہے بھئی، وہ تو وہ نجاست جس کا ظاہری بدن ہو مولانا، اجزا ہوں جس کے، بھئی وہ نجاست تو جا رہی ہے، ختم ہو رہی ہے، لیکن استنجا کرتے ہوئے مسِ ذکر تو ضرور ہو گا، تو نجاستِ حکمیہ ثابت ہو رہی ہے۔ نجاستِ حقیقیہ تو جا رہی ہے، لیکن نجاستِ حکمیہ کیا ہے؟ ثابت ہو رہی ہے اور تو نجاستِ حکمیہ، اور نجاستِ حکمیہ قوی ہے نجاستِ حقیقیہ سے بھئی۔ نجاستِ حکمیہ کیا ہے؟ قوی ہے نجاستِ حقیقیہ سے۔ تو کم معلوم ہوا جو ہلکی نجاست جا رہی ہے اور قوی نجاست ثابت ہو رہی ہے، تو یہ تو مولانا تنجیس ہو گئی، نجس کرنا، اپنے اپ کو ناپاک کرنا ہوا، نہ کہ پاک کرنا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نجاستِ حقیقیہ تو جا رہی ہے، لیکن مسِ ذکر تو ہو رہا ہے اور مسِ ذکر ہے ناقضِ وضو، تو نجاستِ حکمیہ آ رہی ہے اور نجاستِ حکمیہ کیا ہے، نجاستِ حقیقیہ سے زیادہ قوی ہے۔ تو معلوم ہوا ہلکی نجاست جا رہی ہے اور قوی نجاست آ رہی ہے، تو یہ تو اپنے اپ کو نجس کرنا ہوا، پاک کرنا ہوا ہی نہ۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو معلوم ہوا یہ قرآن کے خلاف ہے۔ نیز قرآن میں مدح بھی مطلق ہے۔ مدح بھی مطلق، معلوم ہوا استنجا بالماء جو ہے ہر اعتبار سے کیا ہے؟ حسن ہی حسن ہے، اس میں کسی قسم کی بھی قباحت نہیں ہے، قباحت نہیں ہے۔ معلوم ہوا یہ حدیث کتاب اللہ کے مخالف ہے اور کتاب اللہ کو ترجیح ہو گی۔ نیز مولانا اس حدیث کے متروک ہونے کی دوسری وجہ میں نے یہ ذکر کی کہ یہ حدیث ظاہر کے بھی خلاف ہے بھئی، کیونکہ یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے بھئی، صلوٰۃ و طہارت کا مسئلہ ہے، طہارت کا کوئی معمولی مسئلہ نہیں بھئی۔ نماز وغیرہ ہر چیز کا دارومدار اسی پر ہے۔ تمام عمومِ بلویٰ ہے اس کے اندر، کثرت سے عام لوگ اس میں مبتلا ہیں اور اس قسم کے، اور پھر بھی یہ خبرِ واحد ہے، خبرِ مشہور نہیں ہوئی، اگر یہ، یہ تو کیا ہونی چاہیے تھی؟ خبرِ مشہور ہونی چاہیے تھی، لیکن یہ خبرِ مشہور نہیں، اس وجہ سے اس کو کیا کیا گیا؟ ترک کیا گیا۔ اور تیسرا جواب یہ بھی کہ بھئی ہم بھی عمل کرتے ہیں، متروک ہے ہی نہیں ہمارے نزدیک بھی۔ ہمارے نزدیک کیا ہے حدیث میں؟ مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ، وضو کرنا چاہیے، مسِ ذکر ناقض للوضو ہے، نہیں بھئی۔ مس، جس حدیث میں کیا آیا؟ جس نے اپنے ذکر کو ہاتھ لگایا اسے چاہیے کہ وضو کرے، ہم کہتے ہیں یہ استحبا بی حکم ہے، وجوبی حکم نہیں۔ معلوم ہوا مسِ ذکر سے وضو ٹوٹا نہیں، لیکن استحباباً بڑے جو اکابر ہیں، بڑے علماء ان کو کیا کر لینا چاہیے؟ استحباباً وضو کر لینا چاہیے بھئی، کیا کر لینا چاہیے؟ استحباباً ہے یہ مولانا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اب احادیث میں جمع و تطبیق آ گئی مولانا اور تعارض باقی نہ رہا بھئی۔ دیکھیے بھئی، کتاب پر اب دیکھیے ذرا۔ جی، میں نے مسئلہ تفصیل سے آپ کو لکھوا دیا، کتاب میں مختصر ہے بھئی، آپ کی تاکہ اچھی طرح تسلی ہو جائے۔ وَنَظِيرُ الْعَرْضِ عَلَى الْكِتَابِ فِي حَدِيثِ مَسِّ الذَّكَرِ اور کتاب اللہ پر پیش کرنے کی نظیر جو ہے وہ مسِ ذکر کی حدیث میں ہے۔ فِيمَا اس حدیث کے اندر يُرْوَى عَنْهُ جو روایت کی گئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ جو شخص اپنے ذکر کو ہاتھ لگائے اسے چاہیے کہ وضو کرے۔ فَعَرَضْنَاهُ عَلَى الْكِتَابِ پس ہم نے اس کو پیش کیا کتاب اللہ پر فَخَرَجَ مُخَالِفًا لِقَوْلِهِ تَعَالَى تو وہ اللہ کے اس قول کے مخالف نکلی فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں خوب پاک ہونے کو۔ فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالأَحْجَارِ ثُمَّ يَغْسِلُونَ بِالْمَاءِ اس لیے کہ وہ لوگ جو ہیں وہ استنجا کرتے، استنجا کرتے تھے پتھروں کے ساتھ ثُمَّ يَغْسِلُونَ بِالْمَاءِ پھر دھو لیتے تھے پانی کے ساتھ، یعنی پھر اپنی شرمگاہ کو پانی سے دھو لیا کرتے تھے وَلَوْ كَانَ مَسُّ الذَّكَرِ حَدَثًا اگر مسِ ذکر جو ہے وہ حدث ہوتا لَكَانَ هَذَا تَنْجِيسًا تو یہ ان کا استنجا بالماء کیا ہوتا؟ یہ تنجیس، یعنی اپنے اپ کو نجس کرنا ہوتا، ناپاک کرنا ہوتا لا تَطْهِيرًا عَلَى الإِطْلاقِ عَلَى الإِطْلاقِ تطہیر نہ ہوتی بھئی، عَلَى الإِطْلاقِ تطہیر نہ، کیونکہ یہ تو تنجیس، کیونکہ نجاستِ حقیقیہ جا رہی ہے لیکن نجاستِ حکمیہ آ رہی ہے اور وہ زیادہ قوی ہے، تو یہ تو نجس کرنا ہوا۔ وَكَذَلِكَ اور اسی طرح قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلامُ حضور علیہ السلام کا قول ہے أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ نَفْسَهَا بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ بَاطِلٌ کہ جس عورت نے بھی نکاح کیا اپنا بغیر اپنے ولی کی اجازت کے تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔ خَرَجَ مُخَالِفًا لِقَوْلِهِ تَعَالَى وہ یہ حدیث مخالف نکلی اس اللہ کے قول کے فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ پس تم نہ روکو ان عورتوں کو پس تم، تم نہ روکو ان عورتوں کو کہ وہ نکاح کر لیں أَزْوَاجَهُنَّ اپنے سابقہ خاوندوں سے، تم ان عورتوں کو نہ روکو کہ وہ اپنے سابقہ خاوندوں سے، ان عورتوں کو اپنے سابقہ خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔ تو دیکھو یہاں معلوم کیا ہوا، نکاح کی نسبت کس کی طرف کی گئی ہے؟ عورت کی طرف بھئی، کس کی طرف کی گئی ہے؟ عورت کی طرف نکاح کی نسبت کی گئی ہے بھئی۔ دیکھو بھئی، مسئلہ یہ ہے عِندَ الأَحْنَاف عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے، اپنا نکاح کیا ہے؟ خود، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عورت اپنا نکاح خود نہیں کر سکتی، یہ حدیث ان کی دلیل ہے بھئی، یہ حدیث کیا ہے ان کی؟ دلیل ہے، عورت اپنا نکاح خود نہیں کر سکتی، بلکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عورت کی عبارت سے نکاح ہوتا ہی نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ عورت کی عبارت سے، عورت کے الفاظ سے نکاح ہوتا ہی نہیں ہے، یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔ جبکہ احناف کے نزدیک عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے۔ ہماری بہت سی دلیلیں ہیں، ایک دلیل یہ جو کتاب میں ذکر کی صاحبِ کتاب نے کہ یہ حدیث مخالف ہے اللہ کے اس قول کے: فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ، اس میں کیا کیا گیا ہے؟ نکاح کی نسبت کس کی جانب کی گئی ہے؟ عورت کی جانب، معلوم ہوا عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے، کتاب اللہ میں منع، کہا گیا کہ نہ منع روکو، نہ منع کرو بھئی۔ اسی طرح دوسری آیت ہے: فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، یہاں پر بھی حَتَّى تَنْكِحَ مونث کا صیغہ ہے، نکاح کی نسبت کس کی جانب کی گئی ہے؟ فَلا تَحِلُّ لَهُ، بھئی کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بارے میں ہے: فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ کہ اس کی وہ بیوی اس کے لیے حلال نہیں ہے اس کے بعد حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شخص سے نکاح کر لے، پھر وہ اس سے جماع کرے اور طلاق دے، تو یہاں بھی نکاح کی نسبت عورت کی طرف ہوئی ہے۔ اسی طرح ایک اور دلیل ہماری حضرت امِ سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح ہے بھئی، ام المؤمنین حضرت امِ سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا، سمجھ میں آیا بھئی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغامِ نکاح بھیجا بھئی، تو انہوں نے جواب میں کہا، جواب میں فرمایا کہ میرا ولی اس وقت حاضر نہیں ہے بھئی، میرا کوئی ولی اس وقت حاضر، حضور نے پیغامِ نکاح بھیجا، انہوں نے جواب میں یہ کہلوایا کہ میرا کوئی ولی اس وقت حاضر نہیں ہے، حضور علیہ السلام نے جواب میں فرمایا کہ تمہارا کوئی حاضر و غائب ولی ایسا نہیں جو جو مجھے پسند نہ کرتا ہو بھئی۔" تمہارا کوئی ایسا مولانا حاضر و غائب ولی ایسا نہیں ہے جو مجھے نہ پسند کرے بھئی، نہ پسند کرے۔ چنانچہ فوراً نکاح کر دیا گیا۔ معلوم ہوا بغیر ولی کی اجازت کے بھی کیا ہے عورت کا نکاح ہو جاتا ہے۔ ولی دیکھو حاضر ہی نہیں تھے ان کے اور نکاح ہو گیا۔ نیز اس حدیث یہ حدیث اس لیے بھی متروک ہے ہمارے نزدیک مولانا کہ اس حدیث کی راویہ ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ انہوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور ان کا اپنا عمل اس حدیث کے خلاف ہے بھئی۔ ان کا اپنا عمل کیا ہے اس حدیث کے خلاف ہے بھئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ شادی و نکاح کروایا کرتی اور اولیاء کو پوچھتی بھی نہیں تھی۔ اولیاء کو پوچھتی بھی نہیں تھی۔ اپنی بھتیجی حضرت حفصہ کا نکاح کروایا جبکہ ان کے والد عبدالرحمٰن بن ابن ابی بکر جو ہیں وہ کہیں گئے ہوئے تھے، انہوں نے بغیر پوچھے بس خود ہی نکاح کروا دیا ان کا بھئی۔ اور مشہور قانون ہے کہ جب ثقہ راوی کا عمل اپنی روایت کے خلاف ہو، روایت تو ان کی یہ ہے کہ عورت بغیر ولی کی اجازت کے اس کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ اور عمل ان کا اس کے خلاف ہے بھئی۔ اور مشہور قانون ہے کہ جب ثقہ راوی کا عمل اپنی روایت کے خلاف ہو، اپنی حدیث کے خلاف ہو تو یہ اس حدیث کے مؤول ہونے یا منسوخ ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔ معلوم ہوا یہ حدیث کیا ہے؟ اس راوی کے نزدیک بھی منسوخ ہے یا مؤول ہے یعنی اس میں کوئی تاویل ہے مولانا، کیا ہے؟ کوئی تاویل ہے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ کتاب میں مسئلہ مختصر ہے میں نے تفصیلاً آپ کو بتلا دیا۔ پہلی بات کتاب میں صرف آیت کا ذکر ہے۔ میں نے آیت کے ساتھ اور دلیلیں بھی ذکر کر دیں۔ پہلی دلیل یہ کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح دلیل ہے ہماری بھئی۔ جس میں انہوں نے اولیاء کی اجازت کے بغیر ان کا نکاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فعل بھی اس کی دلیل ہے۔ وہی اس حدیث کی راویہ ہیں اور وہی کیا ہیں اس حدیث کے خلاف ان کا عمل ہے۔ تو ان کا عمل حدیث کے خلاف ہونا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حدیث کیا ہے؟ منسوخ ہے یا اس میں کوئی تاویل ہے، مؤول ہے یعنی بھئی۔ دیکھیے بھئی مسئلہ کتاب میں بھئی: "وكذلك قوله عليه السلام" اور اسی طرح حضور علیہ السلام کا قول ہے: "أيما امرأة نكحت نفسها بغير إذن وليها فنكاحها باطل باطل باطل" جس عورت نے بھی اپنا نکاح اپنے ولی کی اجازت کے بغیر کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔ یہ حدیث "خرج مخالفا لقوله تعالى" اللہ کے اس قول کے مخالف نکلی: "فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن" پس تم نہ روکو ان عورتوں کو کہ وہ نکاح کریں اپنے سابقہ خاوندوں سے "فإن الكتاب يوجب تحقيق النكاح منهن" "يوجب أي يثبت" ثابت کرنا۔ اس لیے کہ کتاب، کتاب اللہ جو ہے وہ ثابت کرتی ہے "تحقيق النكاح منهن" ان عورتوں سے نکاح کے ثبوت کو بھئی۔ ان عورتوں سے نکاح کے اس بات کو کیا ہے کتاب اللہ ثابت کرتی ہے۔ ان عورتوں کی طرف سے بھی نکاح ثابت ہو جاتا ہے۔ وہ خود کریں جی تو ہو جائے گا بھئی۔ "ومثال العرض على الخبر المشهور روایت القضاء بشاهد و يمين فإنه خرج مخالفا لقوله عليه السلام البينة على المدعي واليمين على من أنكر" جی بھئی، صاحب کتاب نے دو مثالیں ذکر کیں۔ ایک مسِ ذکر والی حدیث بتلایا یہ کتاب اللہ کے مخالف نکلی۔ دوسری "أيما امرأة نكحت نفسها" یہ حدیث کہ یہ بھی کیا ہے کتاب اللہ کے مخالف ہے۔ اور بات کیا چل رہی ہے کہ خبرِ واحد پر تب عمل کیا جائے گا جب کہ وہ کتاب اللہ، سنتِ مشہورہ اور ظاہر کے مخالف نہ ہو، تو پہلی دو مثالیں ذکر کیں جو کتاب اللہ کے مخالف تھیں۔ اب وہ حدیث ذکر کریں گے جو سنتِ مشہورہ کے خلاف ہے بھئی، سنتِ مشہورہ کے۔ جی یہ مسئلہ لکھ لیجیے بھئی۔ یہ مسئلہ بھئی لکھ لیجیے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے: "أن النبي صلى الله عليه وسلم قضا بشاهد و يمين" قضا بھئی قاف دو نقطوں والا، ضاد اور یا۔ قاف دو نقطوں والا، ضاد اور یا، قضا۔ "بشاهد و يمين بشاهد و يمين" جی حدیث لکھ لی بھئی؟ جی؟ "أن النبي صلى الله عليه وسلم قضا بشاهد و يمين" یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ فرمایا۔ ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ فرمایا۔ جب قاضی کے سامنے الگ سطر لکھیے بھئی۔ جب قاضی کے سامنے مقدمہ پیش ہو جائے جب قاضی کے سامنے مقدمہ پیش ہو جائے تو عند الاحناف فیصلہ کے صرف دو طریقے ہیں۔ تو عند الاحناف فیصلہ کے صرف دو طریقے ہیں۔ اول یہ کہ مدعی دو گواہ پیش کرے۔ اول یہ کہ مدعی دو گواہ پیش کرے گا۔ اگر وہ دو گواہ لے آئے اگر وہ دو گواہ لے آئے تو اس کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ تو اس کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ اور اگر مدعی کے پاس دو گواہ نہ ہوں اور اگر مدعی کے پاس دو گواہ نہ ہوں یعنی ایک ہو یعنی ایک گواہ ہو یعنی ایک گواہ ہو یا ایک بھی نہ ہو یا ایک بھی نہ ہو تو پھر دوسرا طریقہ یہ ہے تو پھر دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مدعا علیہ قسم اٹھائے گا، کہ مدعا علیہ قسم کھائے گا۔ اور اس کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ اور اس کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ حاصل یہ ہے حاصل یہ ہے کہ عندنا کہ عندنا مدعی کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ مدعی کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ الگ سطر لکھیے بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک فیصلہ کے تین طریقے ہیں۔ فیصلہ کے تین طریقے ہیں۔ تیسرا طریقہ یہ ہے تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر مدعی کے پاس صرف ایک گواہ ہو کہ اگر مدعی کے پاس صرف ایک گواہ ہو تو مدعی ایک گواہ پیش کرے گا۔ تو مدعی ایک گواہ پیش کرے گا۔ اور دوسرے گواہ کے بدلے میں قسم کھائے گا۔ اور دوسرے گواہ کے بدلے میں قسم کھائے گا۔ پھر فیصلہ اس کے حق میں کر دیا جائے گا۔ پھر فیصلہ اس کے حق میں کر دیا جائے گا۔ ہاں! اگر مدعی نے قسم کھانے سے انکار کیا ہاں! اگر مدعی نے قسم کھانے سے انکار کیا تو پھر مدعا علیہ پر قسم آئے گی۔ تو پھر مدعا علیہ پر قسم آئے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃً، امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ دلیل کے طور پر مذکورہ بالا حدیث پیش کرتے ہیں۔ دلیل کے طور پر مذکورہ بالا حدیث پیش کرتے ہیں۔ جس میں ذکر ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ فرمایا۔ ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ فرمایا۔ احناف اس کے کئی جواب دیتے ہیں۔ احناف اس کے کئی جواب دیتے ہیں۔ جواب اول، جواب اول: یہ حدیث خبرِ مشہور کے خلاف ہے۔ یہ حدیث خبرِ مشہور کے خلاف ہے۔ خبرِ مشہور ہے، خبرِ مشہور ہے: "البينة على المدعي واليمين على من أنكر" "البينة على المدعي واليمين على من أنكر" یعنی گواہ لانا مدعی کے ذمہ ہیں۔ یعنی گواہ لانا، گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمہ ہیں اور قسم منکر کے ذمہ اور قسم منکر کے ذمہ تو حدیثِ مشہور کو ترجیح ہوگی۔ تو حدیثِ مشہور کو ترجیح ہوگی۔ جواب ثانی، جواب ثانی: یہ حدیث منسوخ ہے۔ یہ حدیث منسوخ ہے خبرِ مذکورہ بالا حدیثِ مشہور سے۔ یہ حدیث منسوخ ہے مذکورہ بالا حدیثِ مشہور سے۔ جواب ثالث: نبی علیہ السلام نبی علیہ السلام اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں خصومات کے فیصلے، خصومات بھئی خصومات خ، ص، و، م، ا، ت، خصومات کے فیصلے دو گواہوں سے، دو گواہوں یا یمین سے ہوتے، دو گواہوں یا یمین سے ہوتے۔ ایک گواہ اور ایک یمین سے نہیں۔ ایک گواہ اور ایک یمین سے نہیں۔ جواب رابع: یہ حدیث قرآن کے بھی خلاف ہے۔ یہ حدیث قرآن کے بھی خلاف ہے۔ قرآن میں آتا ہے: وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ، وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ۔ ذَوَيْ عَدْلٍ، زال، واؤ، یا۔ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ۔ نیز قرآن میں ہے: فَإِن لَّمْ يَكُونَا، فَإِن، نون ہے بھئی، فَإِن لَّمْ يَكُونَا، نون کے ساتھ الف بھی لگانا ہے بھئی تثنیہ کا صیغہ ہے۔ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ، رَجُلَيْنِ، فَرَجُلٌ، فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ، وَامْرَأَتَانِ، ہمزۂ وصلی گر جائے گا، وَامْرَأَتَانِ۔ فَإِن لَّمْ يَكُونَا، يَكُونَا نون کے ساتھ الف لگایا ہے بھئی تثنیہ کا صیغہ، فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ اور تم گواہ بنا لو دو عادل آدمیوں کو اپنے میں سے۔ پھر دوسری جگہ قرآن میں کیا ہے؟ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ اگر دو کیا ہوں؟ مرد نہ ہوں، فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ تو ایک مرد اور دو عورتیں۔ یہ آیت عام ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ یہ آیت عام ہے، معلوم ہوا ایک گواہ معتبر نہیں، معلوم ہوا ایک گواہ معتبر نہیں، بلکہ ہر مدعی بلکہ ہر مدعی دو مرد گواہ پیش کرے گا، دو مرد گواہ پیش کرے گا یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ تو ایک گواہ کے ساتھ قسم کو قبول کرنا، تو ایک گواہ کے ساتھ قسم کو قبول کرنا یہ قرآن پر زیادتی ہے، یہ قرآن پر زیادتی ہے اور خبرِ واحد کے ذریعے قرآن پر زیادتی جائز نہیں، اور خبرِ واحد کے ذریعے قرآن پر زیادتی جائز نہیں۔ جواب خامس: حضور علیہ السلام کا یہ فیصلہ مصالحت کے طور پر تھا نہ کہ قضاءً۔ حضور علیہ السلام کا یہ فیصلہ مصالحت کے طور پر تھا نہ کہ قضاءً۔ جواب سادس: یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں، یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں، بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے، بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یمین سے یا یوں قسم کر لو کہ قسم سے مدعی علیہ کی قسم مراد ہے، مدعی علیہ کی قسم مراد ہے اور شاہد سے جنسِ شاہد مراد ہے، اور شاہد سے جنسِ شاہد مراد ہے جو دو شاہدوں کو بھی شامل ہے، جو دو شاہدوں کو بھی شامل ہے۔ تو اب حدیث کا معنیٰ یہ ہوا، تو اب حدیث کا معنیٰ یہ ہوا کہ نبی علیہ السلام کا فیصلہ یمین اور شاہد کے ذریعے ہوتا تھا، کہ نبی علیہ السلام کا فیصلہ یمین اور شاہد کے ذریعے ہوتا تھا، شاہد مدعی کے ہوتے، شاہد مدعی کے ہوتے اور یمین مدعی علیہ پر ہوتی، اور یمین مدعی علیہ پر ہوتی۔ تو اس حدیث میں طریقہ قضا کا بیان ہے، تو اس حدیث میں طریقہ قضا کا بیان ہے، بناء بریں احادیث میں تطبیق ہو جائے گی، بناء بریں احادیث میں تطبیق ہو جائے گی، معلوم ہوا یہ حدیث بھی احناف کی دلیل ہے، معلوم ہوا یہ حدیث بھی احناف کی دلیل ہے نہ کہ احناف کے خلاف، نہ کہ احناف کے خلاف۔ جی، بحث ختم ہوئی مولانا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے کہ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ، حضور علیہ السلام نے فیصلہ فرمایا ایک شاہد، ایک گواہ اور ایک قسم کے ذریعے۔ تو، جی یہ حدیث ہے بھئی، وَعِنْدَ الأَحْنَافِ فیصلے کے صرف دو طریقے ہیں۔ مدعی یا تو دو گواہ لے آئے پھر فیصلہ اس کے حق میں، ورنہ پھر اگر دو گواہ نہیں لا سکا تو پھر قسم لی جائے گی کس سے؟ مدعی علیہ سے۔ مدعی کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تیسرا طریقہ بھی ہے فیصلے کا کہ اگر مدعی کے پاس دو گواہ نہیں، صرف ایک گواہ ہے تو پھر ایک گواہ کے بدلے وہ کیا کرے گا؟ ایک قسم کھا لے گا اور اگر جب قسم کھا لے گا، فیصلہ اس کے حق میں کر دیا جائے گا۔ ہاں اگر اس نے قسم سے انکار کیا، اب کس سے قسم لی جائے گی؟ مدعی علیہ سے قسم لی جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ اور یہ حدیث ان کی دلیل ہے کہ دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کے ذریعے فیصلہ فرمایا؟ ایک گواہ اور ایک قسم سے۔ احناف اس کے بڑے جوابات دیتے ہیں مولانا۔ پہلا جواب میں نے کیا دیا کہ یہ کیا ہے؟ خبرِ مشہور کے خلاف ہے، البَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گواہ پیش کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ مدعی کی، اور قسم کھانا کس کے ذمہ ہے؟ مدعی علیہ کے۔ معلوم ہوا مدعی کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں۔ نیز دوسرا جواب کہ یہ منسوخ ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ منسوخ ہے اس خبرِ مشہور کے ذریعے، پہلا تو تھا کہ دونوں میں تعارض آیا ترجیح کس کو دے دی؟ دوسرا اسی سے ہم نے جواب بنا لیا کہ یہ اسی کے ذریعے کیا ہے؟ منسوخ ہے۔ تیسرا جواب کیا دیا بھئی؟ کہ خلفائے راشدین کے زمانے میں، حضور علیہ السلام کے زمانے میں فیصلے کس طرح ہوتے تھے؟ دو گواہوں کے ذریعے اور قسم کے ذریعے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ نہیں۔ پھر یہ بھی آپ کو بتلایا کہ یہ بھئی قرآن کے بھی خلاف ہے بھئی، قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ گواہ جو ہیں دو مرد ہونے چاہئیں یا ایک مرد اور دو عورتیں، اور جبکہ یہاں تو صرف ایک مرد کا ذکر ہے حدیث میں، معلوم ہوا یہ قرآن پر زیادتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ قرآن پر زیادتی خبرِ واحد کے ذریعے جائز نہیں۔ ایک جواب یہ بھی دیا مولانا کہ حضور علیہ السلام کا یہ فیصلہ مصالحت کے طور پر تھا بھئی، صلح کے طور پر یہ فیصلہ کروایا، قضاءً یہ فیصلہ نہیں۔ اور ایک جواب کیا دیا بھئی؟ کہ یہ تو ہمارے خلاف ہے ہی نہیں بھئی، اس میں اس کا یہ معنیٰ نہیں جو آپ نے کیا کہ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ کہ حضور علیہ السلام نے فیصلہ فرمایا ایک گواہ اور ایک قسم کے ذریعے، آپ نے تو یہ ترجمہ کیا، حدیث کا یہ ترجمہ ہی نہیں ہے بھئی، بلکہ یہاں شاہد سے کیا مراد ہے؟ جنسِ شاہد مراد ہے، تو یعنی حضور فیصلہ فرماتے جنسِ شاہد کے ذریعے اور جنسِ شاہد دو کو بھی شامل ہے، کس کو شامل ہے؟ دو کو بھی شامل ہے۔ تو حدیث کا یہ ترجمہ ہوا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہ یقیناً حضور علیہ السلام جو ہیں قَضَى فیصلہ فرماتے بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ شاہد اور یمین کے ذریعے، حضور کس کے ذریعے فیصلہ فرماتے تھے؟ شاہد اور یمین کے ذریعے فیصلہ فرماتے تھے، شاہد کس کے ہوتے تھے؟ مدعی کے، اور یمین کس کی ہوتی تھی؟ مدعی علیہ کی، تو یہ تو ہماری ہی دلیل ہوئی، ہمارے خلاف یہ ہے ہی نہیں، تو احادیث میں تطبیق آ گئی مولانا، اس میں بھی وہی بات جو پچھلی حدیث میں تھی خبرِ مشہور میں، تعارض ہی باقی نہ رہا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ کچھ جوابات آپ کی تسلی کے لیے مولانا ذکر کیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ احناف کے پاس بڑے جوابات ہیں، بڑے جوابات بھئی، بیسیوں جوابات بھئی ہر مسئلے میں احناف کے پاس موجود ہیں بھئی۔ یہ چند ایک آپ کی تسلی کے لیے، ایک کے، کتاب میں ایک ذکر ہے میں نے آپ کو پانچ چھ لکھوا دیے، اگر کہتے ہیں تو اور بھی لکھوا دیتا بھئی، 10 15 ہو سکتے ہیں آرام سے۔ چلیے دیکھیے بھئی کتاب پر اب ذرا۔ وَمِثَالُ الْعَرْضِ عَلَى الْخَبَرِ الْمَشْهُورِ، اور خبرِ مشہور پر پیش کرنے کی مثال: رِوَايَةُ الْقَضَاءِ بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ، ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کر دینے والی روایت ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ وہ میں نے آپ کو لکھوا دی روایت، فَإِنَّهُ خَرَجَ مُخَالِفًا لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ اس لیے کہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے مخالف نکلی: البَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ بھئی، کہ بینہ کس کے ذمہ ہے، کس کی ذمہ داری ہے؟ مدعی کی، اور یمین منکر کے بھئی، مدعی علیہ کے بھئی، چلیے مولانا ھَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔