LESSONS NO. 101 1 والمتعلق بالألفاظ من جهة التركيب فإما بالنظر إلى اختلاف المرجع، نحو: ما يعلمه الحكيم فهو يعمل بما يعلمه، فإن عاد الضمير إلى الحكيم صدق وإلا كذب. بگزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا کہ شئے اور شبہ شئے، یعنی مثل شئے کے درمیان امتیاز کا نہ ہونا— شئے اور مثل شئے کے درمیان امتیاز کا نہ ہونا— یا تو یہ الفاظ سے کے اعتبار سے ہوگا، الفاظ سے متعلق ہوگا، یا اس کا تعلق معانی سے ہوگا۔ کہ ایک شئے اور اس کے جو مثل ہے، اس جیسی چیز ہے، ان دونوں میں فرق نہ ہو، یا تو یہ کس کی وجہ سے ہوگا؟ اس کا تعلق الفاظ سے ہوگا یا معانی سے۔ اور پھر آپ نے پڑھا تھا وہ جس کا تعلق الفاظ سے ہے، وہ دو قسم پر ہے۔ ایک وہ جس کا تعلق الفاظ سے ہے ترکیب کے اعتبار سے، اور ایک قسم وہ جس میں الفاظ سے تعلق ہے ترکیب کے، تعلق کے علاوہ، ترکیب کے اعتبار سے نہیں۔ تو جو ترکیب کے اعتبار سے نہیں تھا، اس کی قسمیں آپ نے پڑھ لیں۔ اب وہ جو متعلق ہیں الفاظ سے اور ترکیب کے اعتبار سے، وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: والمتعلق بالألفاظ من جهة التركيب، اور وہ جو متعلق ہے الفاظ سے ترکیب کی جہت سے، ترکیب کے اعتبار سے، فإما بالنظر إلى اختلاف المرجع، پس وہ یا تو نظر کرتے ہوئے ہے اختلاف مرجع کی طرف۔ کس کی طرف نظر کرتے ہوئے؟ اختلاف مرجع۔ بھئی، ضمیر کے مرجع کے اندر وہاں پر اختلاف کی وجہ سے غلطی ہو جاتی ہے، جیسے: نحو: ما يعلمه الحكيم فهو يعمل بما يعلمه. ما يعلمه الحكيم، وہ چیز جس کو جانتا ہے حکیم، فهو يعمل، پس وہ حکیم عمل کرتا ہے بما يعلمه، اس پر جو اس کو، جس کو وہ جانتا ہے۔ وہ چیز جس کو حکیم جانتا ہے، یا یوں کہیں، وہ چیز جو حکیم کو معلوم ہے، پس وہ حکیم عمل کرتا ہے بما يعلمه، اس چیز پر جو اس کو معلوم ہے۔ تو دیکھیے: فإن عاد الضمير إلى الحكيم صدق، پس اگر یہ، یہ جو ضمیر ہے، یہ حکیم کی طرف لوٹے، تو یہ قضیہ صحیح ہے، درست ہے یہ کلام، وإلا كذب، ورنہ جھوٹ ہے بھئی۔ کس طرح؟ بھئی فهو، یہ هو ضمیر جو ہے نا هو، اگر اس کو حکیم کی طرف راجع کریں، فهو يعمل، کون عمل کرتا ہے؟ حکیم عمل کرتا ہے۔ تو پھر تو بات درست ہے جیسے میں نے ابھی ترجمہ کیا کہ حکیم کو جو معلوم ہوتا ہے، وہ اپنی معلومات کے مطابق عمل کرتا ہے۔ اور اگر اس هو ضمیر کو لوٹائیں "ما" کی طرف، کس کی طرف؟ "ما" کی طرف، ما يعلمه میں جو آ رہا ہے، تو پھر اس صورت میں معنی خراب ہو جائے گا، درست ہی نہ رہے گا بھئی۔ پھر کس طرح ہو جائے گا؟ دیکھیے بھئی: ما يعلمه الحكيم، وہ جو حکیم کو معلوم ہے، فهو يعمل، تو وہ معلوم عمل کرتا ہے! کون عمل کرتا ہے؟ معلوم عمل کرتا ہے بما يعلمه، اس پر جو حکیم کو معلوم ہے بھئی۔ تو دیکھیے، اب بتائیے، عمل کرنے والا وہ حکیم، وہ دانا شخص ہے یا جو اس کا معلوم ہے، وہ عمل کرنے والا ہے؟ حکیم عمل کرنے والا ہے، معلوم تو عمل کرنے والا نہیں بھئی۔ تو دیکھیے، یہ یہاں پر یہ اختلاف مرجع کی وجہ سے جو ہے، یہاں پر خرابی آتی ہے بھئی۔ یا اس کی ایک اور مثال بھئی، کہتے ہیں دمشق کی جامع مسجد میں، جامع کبیر کے اندر ایک مرتبہ دو گروہوں کے درمیان سخت لڑائی کا خطرہ تھا بھئی۔ ایک گروہ والے جو تھے، وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت کے قائل تھے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر، جیسا کہ تمام اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تمام صحابہ سے افضل ہیں بھئی۔ تو ایک گروہ کا یہ عقیدہ تھا، یعنی اہل سنت والجماعت تھے، اور دوسرا گروہ وہ، اس کا کہنا یہ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ وہ افضل ہیں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے۔ اب لڑائی کا خطرہ، اور جو خطیب تھا وہاں پر، تقریر کرنے والا، اب اس کو بھی اپنی جان کا خطرہ کہ اگر میں ایک کی بات کروں گا تو دوسرے مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے، اگر دوسرے کی بات کروں گا تو پہلے مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ تو اس نے کیا کیا؟ وہ اسی طرح کا ایک کلام لے کر آیا کہ کسی کو، ہر ایک نے سمجھا شاید یہ ہماری تائید کر رہا ہے۔ وہ جب منبر پر چڑھا تقریر کرنے کے لیے، تو انہوں نے کہا کہ تقریر بعد میں کرنا، پہلے یہ بتاؤ بھئی: أيهما أفضل؟ أبو بكر أو علي؟ کون افضل ہے، ابو بکر یا علی؟ ہمیں پہلے یہ بتلاؤ، پھر تقریر کرنا۔ خطیب نے فوراً جواب دیا: من كانت ابنته تحته فهو الأفضل. من كانت ابنته تحته فهو الأفضل، جس کی بیٹی اس کے تحت ہے، یعنی اس کی زوجیت میں ہے، وہ افضل ہے۔ جس کی بیٹی اس کی زوجیت میں ہے، اس کے تحت ہے، اس کے نکاح میں ہے، وہ افضل ہے۔ اب جو اہل سنت والجماعت والے تھے، وہ انہوں نے کہا، سوچا کہ یہ تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت اس نے بیان کر دی۔ کیونکہ کیا کہا؟ وہ جس کی بیٹی اس کی زوجیت میں ہے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں ہے۔ ضمیر کس کو لوٹا لی انہوں نے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، کہ جس شخص کی بیٹی حضور علیہ السلام کے عقد میں ہے، وہ افضل ہے، اور ظاہر سی بات ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا جو امہات المؤمنین میں سے ہیں، تو وہ تھیں حضور علیہ السلام کے زوجیت میں۔ اور جو فضیلت علی کے قائل تھے، انہوں نے تحته کی ضمیر جو ہے، اس کو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف لوٹایا بھئی۔ اچھا، پہلے انہوں نے کیا کیا؟ من كانت ابنته تحته فهو الأفضل، وہ شخص جس کی بیٹی تحته، کس کے تحت ہے؟ ه ضمیر کس کو لوٹائی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، وہ افضل ہے۔ اور دوسرے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت کے جو قائل تھے بھئی، انہوں نے کیا کیا کہ تحته کی ضمیر لوٹائی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف کہ كانت ابنته تحته، کہ حضور علیہ السلام کی بیٹی— یہ ابنته کی ه ضمیر انہوں نے حضور علیہ السلام کی طرف لوٹائی اور تحته کی ه ضمیر کس کو لوٹائی؟ حضرت علی رضی اللہ— کہ وہ شخص جس کی زوجیت میں حضور علیہ السلام کی بیٹی ہے، وہ افضل ہے۔ جس کی زوجیت میں حضور— اور حضور علیہ السلام کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا، وہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی زوجیت میں تھیں، تو وہ سمجھے شاید یہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت ذکر کر رہا ہے، اور اس طرح وہ لڑائی کا خطرہ ٹل گیا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی اچھی طرح؟ وإما بإفراد المركب، تو یا تو وہ بتلا رہے ہیں وہ جس کا تعلق الفاظ سے ہو ترکیب کے اعتبار سے، یا تو وہ اختلاف مرجع کی طرف نظر کرتے ہوئے ہوگا، وإما بإفراد المركب، یا مفرد کو مفرد کرنے کے اعتبار سے ہوگا، وہ غلطی کہاں سے آئے گی؟ وہ عدم التباس کہاں سے آئے گا؟ مرکب کو مفرد کر دینے سے۔ إفراد کا معنی ہے مفرد کرنا۔ بإفراد المركب، مرکب کو مفرد کر دینے سے، نحو: جیسے کہ النارينج حلو حامض. النارينج، نارنگی جو ہے، حلو حامض، کھٹ میٹھی ہے بھئی۔ حلو حامض، کھٹ میٹھی ہے بھئی۔ اب یہ کھٹ میٹھی، دیکھیے اکٹھا آیا، اور آپ جانتے ہیں یہ ایک الگ ذائقہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ ایک الگ ذائقہ ہے، لیکن اب یہاں پر حلو حامض، یہ کھٹ میٹھی، یہ مرکب ہے، یہ ایک ہی ذائقہ ہے، لیکن اگر ان دو، یہ مرکب کو الگ الگ کر دیا جائے اور حلو حامض کے بجائے حلو وحامض کہا جائے کہ نارنگی حلو وحامض، تو اس صورت میں کلام درست نہیں رہے گا کہ نارنگی حلو وحامض، میٹھی ہوتی ہے اور کھٹی ہوتی ہے، نہیں بھئی، ایسا تو نہیں ان کی، یہ تو نہیں نارنگی میں کہ میٹھی بھی ہے اور کھٹی بھی ہے، بلکہ اس میں ایک ہی ذائقہ ہے، جس کا کیا، جو مرکب ہے بھئی، جس کو کیا کہیں گے اردو میں؟ کھٹ میٹھی ہے بھئی۔ یہی استعمال کرتے ہیں آپ لوگ یا کیا کہتے ہیں بھئی؟ ہاں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ کھٹی میٹھی کہتے ہیں آپ؟ چلیے، جو بھی کہہ لیں، کوئی اس طرح کہتا ہے، کوئی کس طرح، تو یہ کھٹی میٹھی کہہ لیں یا کھٹ میٹھی کہہ لیں، دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ تو نارنگی کھٹی میٹھی ہوتی ہے۔ اب کھٹی الگ ہے اس میں اور میٹھی الگ ہے یا یہ ایک ہی ذائقہ ہے بھئی مقصود؟ یہ ایک مخصوص ذائقہ ہے، اسی کا کیا کہہ دیتے ہیں؟ کھٹی میٹھی۔ ہاں، اگر کہیں: کھٹی اور میٹھی، اس کا کیا مطلب ہے؟ کھٹی بھی ہے اور میٹھی بھی ہے، دونوں الگ الگ اس کے اندر ذائقے ہیں، نہیں، الگ الگ ذائقے اس کے اندر نہیں ہیں بھئی، یعنی یہ میٹھی بھی ہے اور کھٹی بھی ہے، پھر بات درست نہیں رہے گی۔ یہ بات کیوں، کس وجہ سے خراب ہوئی؟ کیونکہ مرکب کو ہم نے کیا کر دیا تھا؟ مفرد الگ الگ کر دیا تھا۔ نحو: النارينج حلو حامض، نارنگی کھٹی میٹھی ہے، صادق، یہ صادق ہے، وإن أفردا، اور اس کو اگر مفرد کر دیا جائے، وقيل، اور کہا جائے: هذا حلو وحامض، کہ یہ جو نارنگی جو ہے، میٹھی اور کھٹی ہے، لم يصدق، پھر یہ صادق نہیں رہے گا۔ وإما بجمع المنفصل، یا وہ دو جو الگ الگ چیزیں تھیں، ان کو جمع کرنے سے۔ منفصل، جدا جدا، الگ الگ۔ بجمع المنفصل، جدا جدا چیزوں کو جمع کرنے سے۔ اسی کا عکس، پہلے دو چیزیں اکٹھی تھیں، حلو حامض، ان کو آپ نے الگ الگ کیا تو بات درست نہ رہی، اب اس کا عکس کریں، دو چیزیں الگ الگ ہیں، آپ ان کو ملا دیتے ہیں، واؤ درمیان سے ختم کر دیتے ہیں، تو پھر بات درست نہیں رہے گی۔ مثلاً: زيد طبيب وماهر. زید طبیب ہے اور ماہر ہے۔ یعنی ڈاکٹر بھی ہے وماهر، اور ماہر، یعنی کسی اور چیز میں ماہر ہے بھئی، ماہر کسی اور چیز میں ہے۔ صدق، تو یہ کلام جو ہے صادق ہے، وإن جمع، اور اگر اس کو جمع کیا جائے، وقيل، اور کہا جائے: طبيب ماهر، أي زيد طبيب ماهر، اب کیا معنی بن گیا؟ زید ماہر ڈاکٹر ہے، ماہر طبیب ہے۔ پہلے کیا ترجمہ تھا؟ زید طبیب ہے اور ماہر ہے۔ تو ماہر تو کسی اور چیز میں مراد تھا، اسی لیے تو واؤ درمیان میں ذکر کیا تھا، لیکن اگر اس واؤ کو کوئی ختم کر دے، کیا پڑھے گا؟ زيد طبيب ماهر، زید ماہر ڈاکٹر ہے۔ معنیٰ ہی بدل گیا بھئی، پہلے اور معنیٰ تھا، اب اور معنیٰ بھئی۔ پہلے طبیب ہونا الگ بیان کیا تھا اور کسی چیز کے اندر مہارت الگ بیان کی تھی، اب اکٹھا کیا تو یوں معنیٰ بن گیا کہ زید ماہر ڈاکٹر ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اب ہو سکتا ہے بھئی وہ ڈاکٹر ماہر نہ ہو، ڈاکٹر تو ہے لیکن ماہر کسی اور چیز میں تھا، تو یہ معنیٰ تو مراد ہی نہیں، یہ نیا معنیٰ آ گیا بھئی، درست نہ رہا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اگر وہ ماہر ڈاکٹر بھی ہے، پھر تو الگ بات ہے بھئی، ہم وہ صورت ذکر نہیں کر رہے کہ جس میں ماہر ڈاکٹر ہو۔ وقيل طبيب ماهر، اور کہا جائے: طبيب ماهر، كذب، تو یہ جھوٹ ہوگا۔ فصل في الأغاليط التي تقع بسبب المعنى، أي هذا فصل، یہ فصل ہے، في الأغاليط، اغالیط جمع ہے اغلوطۃ کی۔ اغالیط کس کی جمع؟ اغلوطۃ، اور اغلوطۃ کہتے ہیں وہ چیز جس کو، جس کے ذریعے دوسرے کو غلطی میں ڈالا جائے۔ ایک ہے غلطی، ایک ہے مغالطہ۔ غلطی اور مغالطہ، غلطی تو جو انسان کرے، اور مغالطے کا معنیٰ ہے دوسرے کو غلطی میں ڈالنا، تو مغالطہ اور اغلوطۃ کا ایک معنیٰ ہے، دوسرے کو غلطی میں ڈالنا۔ تو اغالیط کس کی جمع؟ اغلوطۃ کی، اور اغلوطۃ کا کیا معنیٰ؟ دوسرے کو غلطی میں ڈالنا۔ فصل في الأغاليط التي تقع بسبب المعنى، یہ فصل ہے ان مغالطوں کے بیان میں التي تقع، جو واقع ہوتے ہیں، بسبب المعنى، معنیٰ کی وجہ سے۔ وهذا، أي جی، پہلے تو وہ مغالطے بیان ہوئے جو کس کی وجہ سے آتے تھے؟ لفظ کی وجہ سے، پھر وہ یا ترکیب کے اعتبار سے ہوتے تھے یا بغیر، ترکیب کے علاوہ کے اعتبار سے، اب جو معنیٰ کے اعتبار سے تھے، اس کا بیان شروع کیا۔ کہتے ہیں: وهذا أيضاً أقسام، یہ بھی کئی قسم پر ہے، لأنها إما من جهة المادة أو من جهة الصورة، کیونکہ یہ یا تو مادے کے اعتبار سے، مادے کی جہت سے ہوں گے يا صورت کی جہت سے۔ سمجھ میں آ رہا ہے؟ سبق سمجھ آ رہا ہے بھئی؟ نفسِ ترجمہ ہے آج بھئی، بس یہ صرف ایک اگلی مثال ہے، یہ سمجھنے والی ہے، باقی صرف نفسِ ترجمہ ہے۔ لأنها إما من جهة المادة، کیونکہ وہ مغالطہ یا تو مادے کے اعتبار سے ہوگا، أو من جهة الصورة، یا کس جہت سے ہوگا؟ صورت کی جہت سے ہوگا۔ أما التي من جهة المادة، باقی وہ مغالطہ جو مادے کی جہت سے ہو، كما يكون بحيث إذا رتب المعاني فيه، جیسے کہ وہ ہو قياس اس حیثیت سے کہ إذا رتب المعاني فيه، کہ جب ترتیب دیا جائے معانی کو اس کے اندر، على وجه، ایسے طریقے پر، يكون صادقاً، کہ یہ سچا ہو جائے، لم يكن قياساً، تو قیاس نہ رہے گا، وإذا رتب على وجه، اور جب ترتیب دیا جائے ان کو ایسے طریقے پر، يكون قياساً، کہ وہ قیاس ہو جائے، لم يكن صادقاً، تو وہ صادق نہ رہے گا۔ مغالطے کی وہ قسم بیان ہو رہی ہے جس میں معانی کے اعتبار سے غلطی آتی ہے، غلطی واقع ہوتی ہے۔ وہ مغالطہ جو کس اعتبار سے ہو؟ معنیٰ کے اعتبار سے ہو۔ پھر بتلایا، یہ کئی قسم پر ہے کیونکہ یہ مغالطہ یا تو مادے کی جہت سے ہوگا یا صورت کی جہت سے۔ مادے کی جہت سے ہو جیسے اس کی مثال بیان کر رہے ہیں کہ اگر معنیٰ کو ترتیب، معانی کو ہم اس میں ترتیب دیتے ہیں تو قیاس صحیح نہیں رہتا، اور قیاس کو صحیح کرتے ہیں تو معانی صحیح نہیں رہتے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنیٰ ہے: كما يكون بحيث إذا رتب المعاني فيه، کہ ہو اس طور پر کہ جب ترتیب دیا جائے اس کے اندر معانی کو، على وجه يكون صادقاً، ایسے طریقے پر کہ وہ صادق ہوں، لم يكن قياساً، تو قیاس نہیں ہوتا، وإذا رتب على وجه يكون قياساً، اور اس کو جب، جب معانی کو ترتیب دیا جائے ایسے طریقے پر کہ قیاس ہو، لم يكن صادقاً، تو وہ صادق نہیں رہتا، كقولك، جیسے آپ کا قول: الإنسان ناطق من حيث هو ناطق، یہ صغریٰ ہے بھئی، الإنسان ناطق من حيث هو ناطق، کبریٰ: ولا شيء من الناطق من حيث هو ناطق بحيوان. 2 الانسان ناطق من حيث هو ناطق، انسان ناطق ہے اس حیثیت سے کہ وہ ناطق ہے۔ ولا شيء من الناطق من حيث هو ناطق بحيوان، اور کوئی بھی چیز جو وہ ناطق ہو اس حیثیت سے کہ وہ ناطق ہو، وہ حیوان نہیں ہے۔ کوئی بھی چیز ناطق ہونے کی حیثیت سے حیوان نہیں ہے بھئی۔ کوئی بھی ناطق، ناطق ہونے کی حیثیت سے حیوان نہیں ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ فلا شيء من الإنسان بحيوان، کوئی بھی انسان حیوان نہیں ہے۔ کوئی بھی انسان حیوان نہیں ہے۔ نتیجہ صحیح نکلا، غلط نکلا؟ نتیجہ درست نہیں بھئی۔ بھئی، یہاں پر خرابی کیوں آئی؟ وجہ اس کی یہ بھئی، کیونکہ صغریٰ کے اندر انسان پر کیا حکم لگایا گیا؟ الإنسان ناطق، ناطق ہونے کا حکم لگایا گیا۔ تو ناطق محمول ہے انسان کے لیے، اور یہ انسان کے اجزاء اور ذاتیات میں سے ہے۔ ناطق کس میں سے ہے؟ انسان کے اجزاء اور ذاتیات میں سے ہے، انسان کے لیے فصل ہے یا نہیں ناطق بھئی؟ فصل ہے، تو یہ ذاتی ہے انسان کی ذاتیات میں سے ہے، انسان کے اجزاء میں سے ہے۔ اور انسان پر ناطق ہونے کا حکم لگایا گیا یہاں پر جو انسان کی ذاتیات میں سے ہے، اور کس حیثیت سے لگایا گیا؟ من حيث هو ناطق۔ انسان ناطق ہے، کس حیثیت سے؟ اس حیثیت سے کہ وہ ناطق ہے، تو انسان پر ناطق ہونے کا حکم ناطق ہونے کی حیثیت سے لگایا گیا، یعنی یوں کہیں، انسان کے لیے ناطق ہونے کو ثابت کیا گیا کس اعتبار سے؟ ناطق ہونے کی حیثیت سے۔ انسان کے لیے کیا ثابت کیا گیا؟ ناطق ہونا، کس حیثیت سے؟ ناطق ہونے کی حیثیت سے، حالانکہ ناطق انسان کی ذاتیات میں سے ہے، اس کے اجزاء میں سے ہے، اور ضابطہ ہے کہ کسی بھی چیز کی ذاتیات اس کے لیے بغیر کسی قید کے ثابت ہوتے ہیں۔ کسی بھی چیز کے ذاتیات اس کے لیے بغیر کسی قید اور بغیر کسی علت کے ثابت ہوتے ہیں، یہاں پر علت کیا بیان کی گئی؟ کہ ناطق انسان کے لیے کیوں ثابت ہے؟ کس علت کی بناء پر؟ کیونکہ وہ... توجہ ہے سبق کی طرف؟ بس یہ بات ہے ہی مشکل، آسان ترین الفاظ میں میں سمجھا رہا ہوں۔ سمجھ میں آئی بات؟ ہاں۔ انسان کے لیے کیا ثابت کیا گیا؟ ناطق۔ اور ناطق انسان کی ذاتیات اور اجزاء میں سے ہے، ناطق نہ ہو تو انسان ہو سکتا ہے؟ نہیں، ناطق تو انسان کے اجزاء میں سے ہے، ذاتیات میں سے ہے، اور جو چیز کسی کی ذاتی ہو، اجزاء میں سے ہو، وہ اس کے لیے بغیر کسی قید کے ثابت ہوتی ہے، وہاں کسی علت کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ تو اس کی ذاتیات میں سے ہے، یہ خود بخود اس کے لیے... کسی قید کی وجہ سے ثابت نہیں، لیکن یہاں پر انسان پر ناطق ہونے کا حکم لگایا گیا کس حیثیت سے؟ کہ وہ ناطق ہے، اس حیثیت سے اس پر ناطق ہونے کا حکم لگایا گیا۔ تو یہاں پر انسان کی ذات کا حکم، انسان پر لگایا گیا اور ایک قید کے اعتبار سے، اور یہ درست نہیں ہے بھئی، کیونکہ چیز کسی بھی چیز کی ذاتیات اس کے لیے بغیر کسی قید کے، بغیر کسی علت کے اس کے لیے ثابت ہوتی ہیں بھئی۔ بغیر کسی علت کے اس کے لیے ثابت ہوتی ہیں بھئی، کسی علت کی ضرورت نہیں، کسی قید کی ضرورت نہیں، انسان کے لیے ناطق ثابت ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو معلوم ہوا یہ قید درست نہیں، من حيث هو ناطق کی قید صغریٰ میں درست نہیں۔ تو یہ قید اگر صغریٰ میں لگائی جائے تو صغریٰ صادق نہیں رہتا، کاذب ہو جاتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ دوسرا کبریٰ میں آئیے، ولا شيء من الناطق، اور کوئی بھی ناطق من حيث هو ناطق بحيوان، اس حیثیت سے کہ وہ ناطق ہو، وہ حیوان نہیں ہے، لا شيء نفی کے لیے آیا نا؟ کوئی بھی ناطق اس حیثیت سے کہ وہ ناطق ہو، حیوان نہیں ہے۔ یہ یوں کہیں، کوئی بھی ناطق، ناطق ہونے کی حیثیت سے حیوان نہیں ہے۔ کوئی بھی ناطق، ناطق ہونے کی، ناطق کی قید کی وجہ سے وہ حیوان نہیں ہے۔ اور یہ بات بالکل صحیح ہے۔ انسان انسان حیوان ہے، لیکن کس وجہ سے حیوان ہے؟ ناطق ہونے کی وجہ سے... ناطق ہونے کی وجہ سے وہ حیوان نہیں ہے بھئی۔ ناطق ہونے کی وجہ سے وہ حیوان نہیں، تو یہاں پر یہ حکم لگایا گیا اور صحیح حکم لگایا گیا کہ کوئی بھی ناطق، وہ حیوان نہیں ہے، کس حیثیت سے؟ ناطق ہونے کی حیثیت سے کوئی بھی ناطق حیوان نہیں ہے، ناطق ہونے کی حیثیت سے کوئی بھی ناطق حیوان نہیں ہے بھئی۔ تو ناطق سے کس چیز کی نفی کی گئی؟ حیوان ہونے کی۔ اور مطلقاً نفی کی گئی يا کسی قید کے اعتبار سے نفی کی گئی؟ قید کے اعتبار سے، یہ نہیں کہا گیا کہ ناطق حیوان نہیں ہے، بلکہ کیا کہا گیا؟ ناطق اس حیثیت سے حیوان نہیں ہے کہ وہ... تو ناطق ہونے کی حیثیت سے وہ حیوان نہیں ہے، تو یہاں ناطق ہے فصل، ناطق ہے فصل جس سے نفی کی جا رہی ہے حیوان ہونے کی۔ ناطق سے کس چیز کی نفی کی جا رہی ہے؟ حیوان ہونے کی نفی کی جا رہی ہے، اور ناطق ہے فصل، تو فصل سے اسی کی جنس کی نفی کی جا رہی ہے۔ فصل سے حیوان اسی کے لیے جنس ہے نا، یہ فصل اسی جنس سے متصف ہے، تو ایک فصل سے اسی کی جنس کی نفی کی جا رہی ہے، اور یاد رکھیے، مطلق فصل سے، مطلق فصل سے اس کی جنس کی نفی کرنا صحیح نہیں۔ ناطق حیوان نہیں ہے، یہ درست ہے؟ یہ غلط ہے، کیونکہ مطلق ناطق سے کس چیز کی نفی کی جا رہی ہے؟ حیوان ہونے کی، یعنی اس کی جنس کی نفی کی جا رہی ہے، اور مطلق فصل سے جنس اس کی جنس کی نفی کرنا درست نہیں ہے، ہاں، کسی قید کے اعتبار سے نفی کرنا درست ہے بھئی۔ کسی قید کے اعتبار سے نفی کرنا درست ہے بھئی، تو یہاں پر بھی نفی حیوان ہونے کی کی جا رہی ہے کس قید کے اعتبار سے؟ ناطق ہونے کی قید کے اعتبار سے، اور اس حیثیت سے نفی کرنا درست ہے کہ کوئی بھی ناطق حیوان نہیں ہے، کس حیثیت سے؟ ناطق ہونے کی حیثیت سے، ناطق ہونے کی حیثیت سے تو وہ ناطق ہی ہے، حیوان نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کبریٰ کے اندر بھی من حيث هو ناطق کی قید ہے اور کبریٰ صحیح ہے۔ صغریٰ کے اندر بھی من حيث هو ناطق کی قید ہے اور صغریٰ صحیح نہیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ نتیجہ کیا نکلا؟ فلا شيء من الإنسان بحيوان، دیکھو، معانی صحیح نہیں، تو اس لیے قیاس صحیح نہیں بنا بھئی۔ معانی صحیح نہیں، اس لیے قیاس صحیح نہیں بنا۔ ہم معانی کو ٹھیک کرتے ہیں بھئی، معانی کو ٹھیک کرتے ہیں کس طرح؟ صغریٰ میں کیا خرابی تھی؟ اس میں قید ایک زائد تھی، اس کی وہ درست نہیں تھی، ہم قید کو ختم کر دیتے ہیں، من حيث هو ناطق، اب معانی ٹھیک ہو گئے۔ اور کبریٰ میں قید کو ختم نہیں کرتے، کیونکہ اگر کبریٰ سے قید کو ختم کریں گے تو کبریٰ غلط ہو جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا قید کو اگر صرف اگر قید کو صغریٰ سے ختم کریں تو صغریٰ صحیح ہو جائے گا، لیکن پھر قیاس صحیح نہیں رہے گا، پھر قیاس صحیح... کیونکہ ایک جگہ ایک میں قید ہے، ایک میں قید نہیں، یہ تو درست نہیں بھئی، حد اوسط کے اندر ایک جگہ قید ہو تو دوسری جگہ بھی کیا ہونی چاہیے؟ قید، جس طرح کا حد اوسط صغریٰ میں آئے، اسی طرح کا حد اوسط کہاں چاہیے؟ کبریٰ میں بھی، تو ایک کے اندر وہ مقید ہو گا، ایک میں وہ مطلق ہو گا، تو قیاس صحیح نہ رہے گا۔ تو ایک صورت تو یہ ہے کہ دونوں سے قید کو ختم کر دیا جائے، دونوں سے قید کو ختم کریں تو قیاس کی... تو ٹھیک بن جائے گا، حد اوسط دونوں میں ایک جیسا بن جائے گا، لیکن پھر کبریٰ صحیح نہیں رہتا بھئی، کیونکہ کبریٰ میں قید ضروری تھی، ورنہ وہ حکم جس کی نفی کی جا رہی ہے وہ صحیح نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اگر کیا کریں؟ صغریٰ سے ختم کریں صغریٰ تو ٹھیک ہو جائے گا، لیکن قیاس صحیح نہیں ہو گا، اور اگر دونوں سے ختم کریں تو پھر کبریٰ صحیح نہیں رہتا بھئی، تو لہٰذا اگر قیاس کو ٹھیک کرتے ہیں ہم تو معانی ٹھیک نہیں رہتے، اور معانی کو ٹھیک کرتے ہیں تو قیاس صحیح نہیں رہتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ صغریٰ میں دوبارہ سمجھ لیں، صغریٰ میں کیا خرابی ہے؟ انسان پر کے لیے کیا ثابت کیا گیا؟ ناطق ہونے کو، اور یہ ناطق ہونا انسان کی ذاتیات اور اجزاء میں سے ہے، اور کسی بھی چیز کی ذاتی اس کے لیے بغیر کسی قید کے ثابت ہوا کرتی ہے، حالانکہ یہاں پر کس کے ساتھ ثابت کیا جا رہا ہے؟ قید کے ساتھ، یہ درست نہیں ہے بھئی، اور کبریٰ کے اندر بھئی ناطق سے حیوان ہونے کی نفی کی جا رہی ہے، اور مطلق فصل سے اس کی جنس کی نفی کرنا صحیح نہیں ہوتا، لیکن مقید فصل سے نفی کرنا درست، اور یہاں پر مقید ہی سے نفی کی جا رہی ہے حیوان ہونے کی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ إذ باعتبار قيد من حيث هو ناطق يكذب الصغرى، اس لیے کیونکہ من حيث هو ناطق کی قید کے اعتبار سے يكذب الصغرى صغریٰ کاذب ہو جاتا ہے، ومع حذفيه عنها يكذب الكبرى، اور اس قید کو ان سے حذف کر لینے سے يكذب الكبرى کبریٰ کیا ہو جاتا ہے؟ کاذب ہو جاتا ہے، وإن حذف من الصغرى وأثبت في الكبرى، اور اگر اس کو حذف کیا جائے صغریٰ سے اور ثابت رکھا جائے کبریٰ میں، يلزم اختلال هيئة القياس، تو لازم آئے گا قیاس کی صورت میں خلل، قیاس کی صورت میں کیا لازم آئے گا؟ اختلال هيئة القياس، ہیئت قیاس جو ہے، صورت قیاس جو ہے وہ مختل ہو جائے گی، اس کا مختل ہونا لازم آئے گا، کیوں؟ لعدم الاشتراك، بوجہ اشتراک نہ ہونے کے، پھر تو اشتراک نہیں رہے گا، حد اوسط ایک جگہ ناطق کے ساتھ من حيث هو ناطق کی قید ہو گی، ایک جگہ ناطق کے ساتھ من حيث هو ناطق کی قید نہیں ہو گی تو اشتراک نہ رہے گا۔ وأما التي من جهة الصورة، اور باقی وہ غلطی یا وہ مغالطہ من جهة الصورة جو صورت کی جہت سے ہو، یہ پہلے تو مادے کے اعتبار سے تھا، اب صورت کی جہت سے، فكما يكون على هيئة غير ناتجة، جیسے کہ قیاس ہو ایسی صورت پر، ایسی ہیئت پر، ہیئت کا کیا معنیٰ؟ صورت، ایسی صورت پر غیر ناتجة جو نتیجہ دینے والی نہ ہو، وجميع ذلك سوء التاليف، اور یہ سارا جو ہے سوء التالیف، یہ غلط ترکیب کی وجہ سے ہوتا ہے، کس کی وجہ سے؟ غلط ترکیب کی وجہ سے ہوتا ہے بھئی۔ سو، غلطی بھئی، تالیف، ترکیب بھئی، غلط ترکیب کی وجہ سے، كقول القائل، جیسے کسی کہنے والے کا قول: الزمان محیط بالحوادث، زمانے نے، زمانہ احاطہ کرنے والا ہے، گھیرنے والا ہے بالحوادث، ہر قسم حوادث کو۔ زمانه گھیرنے والا ہے حوادث کا، یعنی واقعات کا، ہر قسم کے واقعات، سارے جتنے بھی واقعات ہوتے ہیں زمانے کے اندر ہوتے ہیں یا زمانے سے باہر ہوتے ہیں؟ کسی نہ کسی زمانے میں ہوں گے، یا ماضی میں یا حال میں یا مستقبل میں، تو زمانے نے سب کا احاطہ کیا ہوا ہے تمام واقعات کا، تو صغریٰ کیا بنا؟ کہ زمانہ وہ احاطہ کرنے والا ہے حوادث کا، یعنی واقعات کا، والفلك محیط بها أي بالحوادث، اور فلک نے، یعنی آسمان جو ہے وہ احاطہ کرنے والا ہے حوادث کا، یعنی واقعات کا۔ زمانه وہ بھی احاطہ کرنے والا ہے واقعات کا، اور آسمان جو ہے وہ بھی احاطہ کرنے والا ہے واقعات کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ بھئی، جو بھی چیزیں دنیا کے اندر جو کچھ بھی پیش آتا ہے، آسمان نے سارے کا احاطہ کیا ہوا ہے، یعنی گھیرا ہوا ہے، سب کو گھیرا ہوا ہے، تو جو کچھ بھی ہوا آسمان کے اندر ہی ہو گا یا باہر ہو گا؟ اندر ہی، اسی کے احاطے کے اندر ہی ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو زمانے نے بھی واقعات کا احاطہ کیا ہوا ہے، اور آسمان نے بھی واقعات کا احاطہ کیا ہوا ہے، فينتج، تو نتیجہ یہ دے گا: فالزمان هو الفلك، زمانہ وہ آسمان ہے۔ الزمان محیط بالحوادث، یہ ہے صغریٰ، والفلك محیط بها، اور فلک بھی، اس نے بھی احاطہ کیا ہوا ہے، حد اوسط کیا ہے؟ محیط بالحوادث، یہ کیا ہے؟ قیاس کی صورتیں یاد ہیں کہ بھول گئے؟ حد اوسط کیا ہے؟ محیط بالحوادث، یہ صغریٰ میں بھی آ رہا ہے، یہ کبریٰ میں بھی آ رہا ہے، تو یہ تو ختم ہو جائے گا، باقی کیا رہ گیا؟ الزمان اور الفلك، تو نتیجہ کیا آیا؟ الزمان هو الفلك بھئی، زمانہ آسمان ہے۔ یا یوں کہیں، زمانہ آسمان ہی ہے بھئی۔ اب آپ بتائیے، زمانہ آسمان ہے؟ زمانہ تو آسمان نہیں ہے بھئی، تو پھر نتیجہ تو یہ آیا، اور یہ کون سی شکل ہے بھئی؟ شکل اول میں حد اوسط صغریٰ میں محمول کی جگہ، اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ، شکل ثانی میں حد اوسط دونوں میں محمول کی جگہ، اور یہ شکل ثانی ہے، محیط بالحوادث، یہ کہاں پر آ رہا ہے دونوں میں؟ محمول، یہ شکل ثانی ہے، اور یہ نتیجہ درست نہیں آیا، کیوں نہیں آیا؟ کہتے ہیں: وهو شكل ثان، اور یہ شکل ثانی ہے، وقد فات فيه شرط اختلاف المقدمتين إيجاباً وسلباً، اور تحقیق فوت ہو گئی یہاں پر دونوں مقدموں کے اختلاف کی شرط، ایجاب اور سلب کے اعتبار سے۔ بھئی، شکل ثانی میں شرط تھی کہ صغریٰ اور کبریٰ مختلف ہونے چاہییں، ایک میں ایجاب ہو تو دوسرے میں سلب ہونا چاہیے، اگر صغریٰ موجبه ہے تو کبریٰ سالبه، اور اگر صغریٰ سالبه ہے تو کبریٰ موجبه ہونا چاہیے، حالانکہ یہاں پر دونوں آپ دیکھ لیجیے، الزمان محیط بالحوادث، اور کبریٰ ہے والفلك محیط بها، دونوں میں کوئی سالبه ہے؟ دونوں موجبه ہیں، حالانکہ کیا شرط تھی؟ ایک موجبه ہو تو دوسرے کو سالبه ہونا چاہیے، تو یہ شرط پوری نہیں، اس وجہ سے نتیجہ صحیح نہیں آیا بھئی۔ وقد فات فيه شرط اختلاف المقدمتين إيجاباً وسلباً، اور تحقیق فوت ہو گئی اس کے اندر دونوں مقدموں کے مختلف ہونے کی شرط، ایجاب اور سلب کے اعتبار سے، لكونهما موجبتين هاهنا، بوجہ ان دونوں کے موجبه ہونے کے، هاهنا، بوجہ ان دونوں کے یہاں پر موجبه ہونے کے۔ والآن نذكر بعض المغالطات التي سبب وقوعها فساد الصورة، اور اب ہم ذکر کرتے ہیں بعض وہ مغالطے کہ جن کے واقع ہونے کا سبب فساد صورت ہے۔ 3 کس کی وجہ سے مغالطہ آتا ہے؟ فسادِ صورت۔ صورت صحیح نہیں ہوتی، صورت فاسد ہوتی ہے، اس وجہ سے مغالطے واقع ہوتا ہے بھئی۔ فنقول من المغالطات۔ اب بعض مغالطات ذکر کر رہے ہیں بھئی جن کے اندر فسادِ صورت ہے، یاد رکھیے 14 مغالطے ذکر کریں گے مصنف بھئی۔ کتنے مغالطے؟ جن میں صورت صحیح نہیں۔ مثلاً دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں فنقول، پس ہم کہتے ہیں من المغالطات الصوریۃ، کہ مغالطاتِ صوریہ میں سے المصادرۃ علی المطلُوب، ایک مصادرت علی المطلوب ہے۔ مصادرت کا معنی ہوتا ہے اصرار کرنا، اصرار کرنا۔ مطلوب، یہ نتیجے کو کہتے ہیں۔ مصادرہ علی المطلوب کا لفظی معنی کیا ہوا؟ نتیجے پر اصرار کرنا۔ بھئی آپ کا ایک شخص سے، آپ کی ایک شخص سے بحث ہو رہی ہے، اس کا جو دعویٰ ہے وہ اسی پر اصرار کر رہا ہے یہ بات اسی طرح ہے۔ یہ بات اسی طرح ہے، یہ ہے مصادرہ علی المطلوب بھئی، اپنی بات پر جمے رہنا، اسی پر اصرار کرنا، یہ ہوا لفظی معنی۔ اصطلاح میں کسے کہتے ہیں، یہ سمجھ لو بھئی۔ یاد رکھیے اصطلاح میں مصادرہ علی المطلوب اس کو کہتے ہیں کہ دعوے کو دلیل کا جز بنا دیا جائے۔ دعوے کو دلیل کا جز بنا دیا جائے بھئی۔ کسے کہتے ہیں مصادرہ علی المطلوب؟ دعوے کو دلیل کا جز۔ آپ نے ایک دعویٰ کیا ہے، دوسرا آپ سے دلیل پوچھے گا کیا دلیل ہے اس بات کی؟ مثلاً بھئی، آپ کہتے ہیں العالمُ حادثٌ، پوچھے گا دلیل کیا ہے؟ آپ کیا دلیل دیں گے؟ قیاس بنائیں گے اسی طرح، کیا کہیں گے؟ العالم متغیرٌ وکل متغیرٍ حادثٌ، تو نتیجہ کیا نکلا؟ العالم حادث، دیکھو دعویٰ ثابت ہو گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن یہاں پر مصادرہ علی المطلوب کسے کہتے ہیں؟ کہ جو دعویٰ تھا اسی کو دلیل کا جز بنا دیا جائے، کیا کیا جائے؟ دلیل کا جز بنا دیا جائے۔ نحو زیدٌ انسانٌ، جیسے زید انسان ہے، یہ ہے دعویٰ، دلیل آگے ہے، لانه بشرٌ، کیونکہ زید کیا ہے؟ بشر ہے، وکل بشرٍ انسانٌ، اور ہر بشر انسان ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ لانہُ یہ ہا ضمیر کو ہٹاؤ ذرا زید کو لے آؤ تاکہ آپ کے لیے بات واضح ہو جائے۔ ان یا یوں کہیں، زیدٌ بشرٌ، زیدٌ وکل بشرٍ انسان، حدِ اوسط کیا ہے؟ بشر، اس کو ختم کیا کیا رہ گیا؟ زیدٌ انسان۔ کتاب پر نظر ہے بھئی، زیدٌ بشرٌ وکل بشرٍ انسان، بشر کو ختم کیا کیا رہ گیا؟ زیدٌ انسان۔ تو دعویٰ آپ کا کیا تھا؟ زید انسان ہے، دلیل پوچھی کسی نے، آپ نے کہا کیونکہ زید بشر ہے اور ہر بشر انسان ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ زید انسان، بھئی یہ تو مصادرہ علی المطلوب ہے، آپ نے دعوے کو دلیل کا جز بنا دیا، دعویٰ کیا تھا؟ زید انسان، اسی پر دلیل ذکر کر رہے ہیں نا، زید انسان ہے یہ ہے دعویٰ اور دلیل کا صغریٰ کیا ذکر کیا؟ لانه بشرٌ، کیونکہ زید کیا ہے؟ بشر، یعنی یوں کہیں زید بشر ہے، بھئی بشر انسان ہی کو تو کہتے ہیں، بشر کسے کہتے ہیں؟ انسان ہی کو تو کہتے ہیں، لہٰذا آپ نے جو دعویٰ، دعویٰ بھی کیا تھا؟ زید انسان، اور صغریٰ بھی کیا ذکر کیا؟ زید انسان ہے، زید بشر ہے، تو آپ نے دعوے کو کیا کیا؟ دلیل کا جز بنا دیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے مصادرہ علی المطلوب بھئی، چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔