LESSONS NO. 99 1 فَصْلٌ: الْقِيَاسُ السَّفْسَطِيُّ وَهُوَ قِيَاسٌ مُرَكَّبٌ مِنَ الْوَهْمِيَّاتِ الْكَاذِبَةِ الْمُخْتَرَعَةِ لِلْوَهْمِ كَقِيَاسِ غَيْرِ الْمَحْسُوسِ عَلَى الْمَحْسُوسِ، نَحْوُ: كُلُّ مَوْجُودٍ مُشَارٌ إِلَيْهِ. وَلِلْوَهْمِيَّاتِ مُشَابَهَةٌ شَدِيدَةٌ بِالأَوَّلِيَّاتِ، وَلَوْلاَ رَدُّ الْعَقْلِ وَالشَّرْعِ حُكْمَ الْوَهْمِ لَدَامَ الاِلْتِبَاسُ بَيْنَهُمَا، أَوْ مِنَ الْكَاذِبَةِ الْمُشْبِهَاتِ بِالصَّادِقَةِ. صنعت خمسہ میں سے پانچویں قسم قیاسِ سفسطی ہے، قیاسِ سفسطی بھئی۔ آج ہم قیاسِ سفسطی کے بارے میں پڑھیں گے۔ قیاسِ سفسطی بھئی، یاد رکھیے، سفسطی نسبت ہے سفسطہ کی طرف بھئی۔ سفسطیٌ، یہ نسبت ہے کس کی طرف؟ سفسطہ کی طرف، جیسے لاہوریٌ نسبت ہے لاہور کی طرف۔ اور یہ آگے آپ کو بتلائیں گے کہ قیاسِ سفسطی جو ہے، یہ فاسد ہے، غلط ہے بھئی۔ قیاسِ سفسطی فاسد اور غلط ہوتا ہے۔ اور تو یہ سفسطی نسبت ہے سفسطہ کی طرف۔ اور یہ لفظ جو ہے، یاد رکھیے، یہ مرکب ہے دو یونانی لفظوں سے، صوف اورِ اصطا। صوف کے معنی حکمت کے، دانائی کے، اور اصطا کے معنی ملمع کی ہوئی، دھوکے والی بھئی۔ اصطا کے کیا معنی؟ دھوکے والی، ملمع کی ہوئی۔ یعنی مموہہ۔ مموہہ ماءٌ سے ہے۔ مموہہ لفظ بھئی، مموہٌ۔ تو مموہہ جو ہے، یہ ماءٌ سے ہے اور یہ وہ چیز جس پر سونے کا پانی چڑھایا گیا ہو، اسے مموہہ کہتے ہیں۔ تو بظاہر دیکھنے میں وہ بڑی چمکدار اور خوبصورت ہوگی، لیکن صرف اوپر ہی اوپر سونا ہے، اندر لوہا وغیرہ یا کوئی اور چیز ہے، تو یہ دھوکے والی چیز ہوئی بھئی۔ کیا ہوئی؟ دھوکے والی۔ تو یہ اس کو کہتے ہیں مموہہ بھی اور اسی طرح ملمع بھی بھئی، جس پر دوسری چیز چڑھائی گئی ہو۔ تو یہ ہے اصطا کا معنی۔ اصطا کے کیا معنی؟ مموہہ اور ملمع، یعنی یوں کہیں آسان لفظوں میں دھوکے والی بھئی، جب اوپر سونے کا پانی چڑھایا گیا اندر کوئی اور چیز ہے تو معلوم ہوا دھوکے والی چیز ہے بھئی۔ تو میں نے بتلایا سفسطہ یہ دو یونانی لفظوں سے بنا ہے: صوف اور اصطا۔ صوف کے معنی حکمت اور دانائی کے، اور اصطا کے معنی دھوکے والی۔ اور چنانچہ آگے یہ بھی آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو قیاسِ سفسطی کرنے والا ہے، اس کا جو ماہر ہے، جو اس طریقے سے کسی فلسفی شخص سے مناظرہ کرے، تو اس کو سوفسطائی کہتے ہیں بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ اس کو سوفسطائی کہتے ہیں۔ تو دیکھیے سوفسطائی، صوف اور اصطائی، دیکھو دونوں لفظ آ گئے، صوف اور اصطائی۔ تو یہ دو یونانی لفظ صوف اور اصطا سے بنا ہے اور یہی اس طریقے کو استعمال کرنے والا مناظرے کے اندر، اس کو سوفسطائی کہتے ہیں۔ اور اسی سے پھر سفسطہ فعل بنا لیا گیا بھئی، سفسطہ دحرجہ کے وزن پر۔ سفسطہ کس وزن پر؟ دحرجہ کے وزن پر فعل بنا لیا گیا بھئی، سفسطَ یسفسطُ سفسطۃً۔ تو یہ یہ اسی سوفسطائی سے یہ لفظ بنا ہے بھئی، سفسطہ بھئی۔ اور سفسطہ کے معنی دھوکے والی حکمت بھئی اور دھوکے والی حکمت بھئی۔ تو یہ قیاسِ سفسطی جو ہے، یہ اسی کی طرف نسبت ہے، یہ وہ قیاس ہے جو کس پر مشتمل ہو؟ دھوکے والی حکمت پر مشتمل ہو بھئی، جس میں دھوکہ ہو۔ بظاہر صورت قیاس کی ہے اور نتیجہ نکل رہا ہے، لیکن درحقیقت اس کے اندر دھوکہ ہے اور یہ قیاس غلط ہے، فاسد ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ سفسطی کس کی طرف نسبت ہے؟ سفسطہ کی طرف۔ اور سفسطہ یہ کس سے بنایا گیا؟ سوفسطائی سے۔ اور سوفسطائی کس سے مرکب ہے؟ صوف اور اصطا سے۔ اور یہ دو یونانی لفظ ہیں، صوف کے معنی حکمت کے اور اصطا کے معنی دانائی کے، تو اسی سے بابِ دحرجہ سفسطہ بنا لیا گیا بھئی۔ اور یاد رکھیے، یہ جو قیاسِ سفسطی ہے، یہ دو قسم کے قضیوں سے مرکب ہوتا ہے۔ ایک وهمیات ہیں اور ایک وہ قضیے جو ہیں تو کاذب، لیکن مشابہ ہیں صادق کے ساتھ۔ توجه ہے سب کی طرف بھئی؟ قیاسِ سفسطی جو ہے مرکب ہوتا ہے دو قسم کے قضیوں سے: ایک وهمیات اور دوسرے وہ وہ کواذب جو مشابہ ہوں صوادق کے ساتھ۔ کس قسم کے قضیوں سے مرکب ہوتا ہے؟ دو قسم کے۔ اول کیا ہیں؟ وهمیات۔ دوسرے؟ وہ کاذب قضیے جو مشابہ ہوں کس کے ساتھ؟ صادق قضیوں کے ساتھ بھئی۔ اب وهمیات کیا ہیں؟ اور وہ قضیے جو ہیں تو کاذب، لیکن مشابہ ہیں صادق کے ساتھ، وہ کیا ہیں؟ بھئی دیکھیے، انسان میں اللہ نے قوتِ واہمہ رکھی ہے، جیسے آپ تفصیل پڑھ چکے حواسِ خمسہ باطنہ کے اندر بھئی۔ حواسِ خمسہ باطنہ کے اندر وہاں پر آپ نے تیسری قسم کیا پڑھی تھی؟ وہم بھئی۔ پہلا کیا تھا؟ حسِ مشترک۔ اس کے بعد؟ خیال۔ حسِ مشترک، اس کے بعد؟ خیال۔ اس کے بعد؟ وہم۔ اس کے بعد؟ حافظہ۔ اس کے بعد؟ قوتِ متصرفہ۔ تو وہ پانچ قسمیں تھیں، اس میں تیسرے نمبر پر وہم تھا، تو یہ جو وہم ہے، یہ جو قوتِ واہمہ ہے، یہ انسان کے اندر اللہ نے رکھی ہے۔ اور یہ انسان، بعض اوقات انسان کو جو ہے، غلطی میں ڈالتی ہے بھئی۔ خیالی چیزوں کو صحیح کر کے پیش کرتی ہے۔ خیالی چیزوں کو صحیح کر کے پیش کرتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان غلطی میں پڑ جاتا ہے۔ ایک چیز جو غیر حقیقی ہوتی ہے، وہ یوں کر کے دکھائے گی جیسے حقیقی ہے بھئی۔ اور یہ قوتِ واہمہ اتنی قوی ہوتی ہے کہ بسا اوقات یہ قوتِ عاقلہ پر غالب آ جاتی ہے بھئی۔ عقل کے لیے تو صحیح اور غلط کی تمیز ہوگی، لیکن یہ قوتِ واہمہ کیا کرتی ہے؟ بعض اوقات قوتِ عاقلہ پر بھی غالب آ جاتی ہے بھئی، یہ اتنی قوی قوت ہے۔ آپ خود بھی اس کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں بھئی۔ آپ خود بھی اس کا، دیکھیے! کسی جگہ زندہ انسان ہوں، تو وہاں آپ کو کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا بھئی، ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن اگر کہیں پر میت پڑی ہوئی ہو اور کوئی بھی نہ ہو، تو آپ کو اس کے پاس بڑا خوف محسوس ہوگا۔ بڑا خوف بھئی، بلکہ اگر رات ہو اور رات گزارنا پڑ جائے، پھر تو آپ کا برا ہی حال ہو جائے بھئی۔ یہ خوف کس نے پیدا کیا آپ کے اندر؟ یہ قوتِ واہمہ نے بھئی۔ حالانکہ ڈرنا تو زندہ سے چاہیے، مردہ بیچارے میں تو روح ہی نہیں ہے، وہ تو حرکت بھی نہیں کر سکتا، اس سے ڈرنے کی کیا حاجت بھئی؟ کیا ضرورت بھئی؟ لیکن یہ خوف دل میں پیدا کیا کس نے؟ قوتِ واہمہ نے۔ تو یہ قوتِ عاقلہ پر بھی غالب، عقل تو بتلا رہی ہے کہ یہ تو مردہ ہے، ہل بھی نہیں سکتا، حرکت بھی نہیں کر سکتا، لیکن قوتِ واہمہ کیا کرتی ہے؟ انسان کے دل میں خوف پیدا کر دیتی ہے کہ کہیں یہ نقصان نہ پہنچا دے بھئی۔ تو اکیلا اس کے پاس وقت ہی نہیں گزارے گا اگر بالکل تنہا کوئی خالی جگہ ہو اور کوئی نہ ہو۔ نیز اور بھی آپ اس کا مشاہدہ کرتے ہیں بھئی۔ مثلاً دیکھیے! یہ برآمدے کے اندر اگر دو سو فٹ لمبی یا ڈیڑھ سو فٹ لمبی لکڑی پڑی ہو اور ایک فٹ کے لگ بھگ چوڑی ہو، ایک فٹ کے لگ بھگ چوڑی برآمدے کے اندر پڑی ہوئی ہے زمین پر، آپ ایک کونے سے اس پر چلنا شروع کریں، اطمینان سے دوسرے کونے تک چلے جائیں گے۔ ایک فٹ چوڑی ہے، چل سکتے ہیں یا نہیں اس پر آرام سے؟ زمین پر پڑی ہوئی ہے، آپ تسلی سے چل سکتے ہیں۔ لیکن یہی لکڑی دو بلڈنگوں کے درمیان رکھ دیں، ایک چھت سے دوسری چھت کے درمیان فضا، بیچ والا حصہ فضا میں ہو۔ اب کوئی آپ سے کہے: یہاں سے وہاں تک چل کر دکھاؤ! اول تو آپ کی ہمت ہی نہیں ہوگی اور جائیں گے بھی تو اتنے خوف میں کہ جسے لفظوں میں نہیں بیان کیا جا سکتا بھئی۔ بھئی یہ وہی لکڑی ہے جس پر آپ بڑے اطمینان سے، بے فکر ہو کر چل رہے تھے۔ ادھر ادھر گرنے کا خدشہ بھی دل میں نہیں پیدا ہوتا تھا کہ اتنی چوڑی لکڑی ہے، گر تو سکتا ہی نہیں۔ لیکن اب وہی لکڑی جو تھی، وہی جب دو چھتوں کے درمیان لگا دی گئی، تو قوتِ واہمہ نے اب آپ کو خوف میں ڈال دیا۔ اب اتنا خوف ڈال دیا، اتنی یہ غالب آ گئی عقل پر کہ اب آپ چلیں بھی تو اطمینان سے نہیں چلیں گے بھئی، کوئی ہمت کر بھی لے گا تو کبھی ایک طرف ڈولتا ہوا جائے گا، کبھی دوسری طرف ڈولتا ہوا اس پر جائے گا بھئی۔ یہ مشاہدہ کرتے ہیں یا نہیں آپ اس طرح کی چیزوں کا؟ تو یہ قوتِ واہمہ ہے بھئی، قوتِ واہمہ۔ تو یہ قوتِ عاقلہ پر بھی غالب آ جاتی ہے۔ تو یہ جو ہے، غیر، یہ جو ہے خیالی باتوں کو اس طرح کی چیزوں کو حقیقت بنا کر انسان کے سامنے پیش کر دیتی ہے اور انسان غلطی میں پڑ جاتا ہے۔ آپ نے وہمی لوگ دیکھے ہوں گے بھئی۔ اللہ وہم سے حفاظت فرمائے بھئی، بڑی بری بیماری ہے کہ آپ نے اگر کسی کو وہمی کو دیکھا ہو، وہ جو کام کرتا ہے، مثلاً وضو کرنا شروع کیا، تو کرتا ہی جا رہا ہے، کرتا ہی چلا جا رہا ہے بھئی۔ وہم اس کو کہتا ہے بھئی: ہاتھ اچھی طرح نہیں دھلے، چہرہ اچھی طرح نہیں دھلا، وہ پھر دھوتا ہے، پھر دھوتا ہے، بار بار دھوتا چلا جاتا ہے بھئی، بڑی تکلیف میں انسان پڑ جاتا ہے۔ تو یہ پھر اللہ نے اس کے مقابلے میں انسان کو عقل دی ہے اور شریعت کے ذریعے انسان کی رہنمائی کی ہے۔ تو شریعت اور عقل جو ہے، یہ وهمیات کو رد کرتی رہتی ہے، ورنہ انسان بہت غلطی میں پڑتا رہے بھئی۔ عقل اور شریعت کیا کرتی ہیں؟ وہ ان وهمیات کو رد کرتی ہیں اور انسان کو بتلاتی ہیں کہ نہیں، یہ وہمی بات ہے، یہ درست نہیں ہے، درست بات یہ دوسری بات ہے۔ اس کے تو یہ وہم کو رد کون کرتی ہیں؟ عقل اور شریعت رد کرتے ہیں اور انسان کو صحیح بات کی طرف، انسان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ تو تھے وهمیات، جو کس کی پیداوار ہوں؟ قوتِ واہمہ کے، وہ قضایا جو کس کی پیداوار ہوں؟ قوتِ واہمہ کے، یہ ہیں وهمیات۔ اور دوسری قسم ہے وہ قضایا جو ہیں تو کاذب، لیکن مشابہ کس کے ہیں؟ صادق کے۔ تو یہ دوسری قسم ہے جن سے قیاسِ سفسطی مرکب ہوتا ہے اور یہ ایسے قضایا ہوتے ہیں جو کسی لفظی یا معنوی مشابہت کی وجہ سے انسان کو درست لگتے ہیں۔ کس کی وجہ سے؟ لفظی یا معنوی مشابہت کی وجہ سے عقل ان کو صحیح سمجھنے لگتی ہے، حالانکہ یہ درست نہیں ہوتے، یہ کاذب ہیں، لیکن یہ لفظی اور معنوی مشابہت کی وجہ سے انسان کو کیا لگتے ہیں؟ شاید یہ صادق ہیں۔ شاید یہ صادق ہیں بھئی۔ مثلاً لفظی مشابہت کی مثال بھئی: کہ دیوار پر گھوڑے کی تصویر ہے، آپ کہتے ہیں: یہ گھوڑا ہے۔ یہ گھوڑا ہے۔ اور جو بھی گھوڑا ہوتا ہے، وہ ہنہنانے والا ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ یہ بھی ہنہنانے والا ہے، حالانکہ یہ بات تو درست نہیں۔ نتیجہ سمجھ میں آیا؟ آپ تصویر لگی ہوئی ہے، آپ نے کہا: یہ گھوڑا ہے۔ آگے صغریٰ کیا ملایا؟ ہر گھوڑا ہنہنانے والا ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ یہ بھی ہنہنانے والا ہے، حالانکہ یہ تو تصویر ہے، یہ تو بے جان ہے، یہ تو ہنہنانے والی نہیں۔ یہ غلطی کیوں لگی؟ لفظی مشابہت کی وجہ سے، کیونکہ جیسے زندہ گھوڑے کو گھوڑا کہا جاتا ہے، اسی طرح گھوڑے کی تصویر کو بھی کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ گھوڑا کہہ دیا جاتا ہے۔ تو یہاں پر جو صغریٰ کے اندر گھوڑا لفظ آیا تھا، اس سے زندہ گھوڑا نہیں، بلکہ کون سا گھوڑا مراد تھا؟ تصویر والا۔ اور جو کبریٰ کے اندر آیا: ہر گھوڑا ہنہنانے والا ہوتا ہے، اس میں کون سا گھوڑا مراد ہے؟ زندہ اور جاندار گھوڑا مراد ہے۔ تو حدِ اوسط دونوں جگہ ایک ہے ہی نہیں، ایک جگہ تصویر والا گھوڑا مراد، ایک جگہ جاندار گھوڑا مراد، تو اس کی وجہ سے دیکھو غلطی لگ گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جو یہ ہے تو کاذب، لیکن مشابہ کس کے ہے؟ صادق کے مشابہ ہے بھئی، انسان دھوکے میں پڑ جاتا ہے اس کی وجہ سے۔ تو حاصلِ کلام کیا ہوا کہ قیاسِ سفسطی کس سے مرکب ہوتا ہے؟ وهمیات سے اور وہ وہ کواذب جو مشابہ ہوں صوادق کے۔ وہ قضایا جو ہوں تو کواذب، لیکن مشابہ کس کے ہوں؟ صوادق کے۔ تو قیاسِ سفسطی مرکب ہوگا دو قسم کے قضایا سے: نمبر ایک وهمیات، نمبر دو وہ کواذب جو مشابہ ہوں کس کے؟ صوادق کے۔ اور پھر عقل اور شریعت رہنمائی کرتی ہے، انسان کو بتلاتی ہے کہ یہ درست نہیں ہے، یہ چیز غلط ہے اور درست چیز کی طرف اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی! فَصْلٌ: یعنی ھَذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ الْقِيَاسُ السَّفْسَطِيُّ: قیاسِ سفسطی جو ہے، وَهُوَ قِيَاسٌ مُرَكَّبٌ مِنَ الْوَهْمِيَّاتِ الْكَاذِبَةِ: وہ قیاس ہے جو مرکب ہو کس سے؟ الْوَهْمِيَّاتِ الْكَاذِبَةِ الْمُخْتَرَعَةِ لِلْوَهْمِ: ان وهمیات سے، الْكَاذِبَةِ: جو جھوٹے ہوں، الْمُخْتَرَعَةِ لِلْوَهْمِ: مخترعہ کے معنی گھڑے گئے بھئی، گھڑے ہوئے، جن کو اپنی طرف سے گھڑ لیا گیا ہو، بنا لیا گیا ہو بھئی۔ الْمُخْتَرَعَةِ لِلْوَهْمِ: وهمیات وہ قیاسِ سفسطی وہ قیاس ہے مرکبٌ من الوهمیات الکاذبۃِ جو مرکب ہو ان جھوٹے وهمیات سے المخترعۃ للوهمِ جو وہم کے گھڑے ہوئے ہوں۔ کس کے گھڑے ہوئے ہوں؟ وہم کے گھڑے ہوئے، بنائے ہوئے ہوں بھئی، یعنی قوتِ واہمہ نے ان کو گھڑ لیا ہے، ان کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے۔ کقیاسِ غیر المحسوسِ علی المحسوسِ: جیسے قیاس کرنا غیر محسوس کو محسوس پر بھئی، قیاس کرنا غیر محسوس کو کس پر؟ محسوس پر۔ نحوُ: جیسے کہ كُلُّ مَوْجُودٍ مُشَارٌ إِلَيْهِ: ہر موجود چیز جو ہے، مشارٌ الیہ ہے، یعنی اس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ ہر موجود چیز کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ دیکھیے! یہ وہمی قضیہ ہے بھئی، وہم نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ ہر موجود چیز کی طرف کہتے ہیں اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ بھئی، ایک چیز جب موجود ہے تو اس کی طرف کیا کیا جا سکتا ہے؟ اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ اب موجود چیزیں دو قسم پر ہیں بھئی: کچھ محسوس ہیں، کچھ غیر محسوس بھئی۔ کچھ آنکھوں سے دکھائی دیتی ہیں اور کچھ آنکھوں سے نہیں دکھائی دیتی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ محسوس یہاں کس معنی میں ہے؟ جو آنکھوں سے، میں نے پہلے بتلایا تھا جہاں حس کی بات آئی تھی حواسِ خمسہ ظاہرہ اور حواسِ خمسہ باطنہ، میں نے بتلایا تھا ایک محسوس عند المناطقہ ہے، اس محسوس کے کیا معنی؟ جس کا ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ سے ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟ محسوس۔ 2 کسی کو دیکھتے ہیں کس سے دیکھتے ہیں؟ آنکھوں سے۔ یہ جو دکھائی دینے والا ہے، یہ بھی ہے محسوس۔ آواز ہم سنتے ہیں کس کے ذریعے؟ کانوں کے ذریعے، یہ بھی کیا ہے؟ محسوس۔ خوشبو سونگھتے ہیں ناک کے ذریعے، یہ بھی کیا ہے؟ محسوس۔ کیونکہ ان سب چیزوں کا ادراک کس کے ذریعے ہو رہا ہے؟ حس کے ذریعے، کس کے ذریعے؟ حس۔ تو حس کے ذریعے جن کا ادراک ہو، ان کو محسوس کہا جاتا ہے اور وہ یہ سب اس کے اندر داخل ہیں، چاہے آنکھوں سے ان کا ادراک ہو، کانوں سے ہو، زبان چکھنے کے ذریعے ہو، چھونے کے ذریعے ہو یا سننے کے ذریعے ہو، جس صورت میں بھی ہو بھئی، یا سونگھنے کے ذریعے ہو۔ یہ سب محسوسات میں داخل ہیں۔ لیکن عام بول چال کے اندر محسوس کس کو کہتے ہیں بھئی عرف کے اندر؟ جو صرف آنکھوں سے دکھائی دے۔ محسوس کسے کہتے ہیں؟ آنکھوں سے دکھائی دے، تو یہاں پر بھی یہی ہے محسوس سے کیا مراد ہے؟ جو چیز آنکھوں سے دکھائی دے۔ تو غیر محسوس کو دیکھیے قیاس کرنا محسوس پر۔ ایک چیز دکھائی دینے والی نہیں ہے، اس کو کس پر قیاس کرنا؟ دکھائی دینے والی چیزوں پر، اور جو چیزیں دکھائی دی جاتی ہیں، ان کی طرف تو انسان اشارہ کر سکتا ہے، وہ گاڑی ہے، یہ کتاب ہے، وہ قلم ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یہ چیزیں کیا ہیں؟ گاڑی، کتاب، قلم وغیرہ محسوسات، دکھائی دینے والی ہیں۔ ان کی طرف تو اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ اور اسی پر قیاس کرتے ہوئے غیر محسوسات پر بھی یہی حکم کوئی لگا دیتا ہے اور کیا کہتا ہے؟ "کل موجود مشار الیہ" ہر موجود چیز مشار الیہ ہے، یعنی اس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ ہر موجود چیز کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ اب موجود چیزیں تو دو قسم کی ہیں، کچھ ہمیں آنکھوں سے دکھائی دیتی ہیں اور کچھ دکھائی نہیں دیتی۔ جو دکھائی دیتی ہیں وہ ٹھیک ہے، وہ تو مشار الیہ ہیں، ان کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے اور جو دکھائی نہیں دیتی، ان کی طرف تو اشارہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کہنے والے نے حکم لگا دیا، کیا حکم لگا دیا؟ "کل موجود مشار الیہ" تو دیکھیے غیر محسوس کو بھی کس پر قیاس کر لیا؟ محسوس پر، حالانکہ ہوا ہمیں دکھائی نہیں دیتی، ہوا کی طرف اشارہ کر کے بتلا سکتے ہیں یہ ہوا ہے؟ جی؟ دکھائی نہیں دیتی، اشارہ کیسے کرتے ہیں؟ جنات ہمیں دکھائی نہیں دیتے، اشارہ کر کے اپ بتلا سکتے ہیں یہ جنات ہیں؟ جی؟ تو جو چیز دکھائی دے گی، اشارہ تو اسی کی طرف ہو گا، تو جو اور جو چیز دکھائی نہیں دی جاتی دکھائی نہیں دیتی، اس کی طرف اشارہ نہیں ہو سکتا۔ تو لیکن وهم نے کیا کیا؟ غیر محسوس کو بھی کس پر قیاس کر لیا؟ محسوس پر اور کیا حکم لگا دیا؟ "کل موجود مشار الیہ" تو دیکھیے یہ وهمی قضیہ ہے، جھوٹا ہے، جسے کس نے گھڑ لیا ہے؟ وهم نے بھئی۔ "کقیاس غیر المحسوس علی المحسوس" جیسے قیاس کرنا غیر محسوس کو محسوس پر، "نحو کل موجود مشار الیہ" ہر موجود جو ہے وہ مشار الیہ ہے، اس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ "وللوہمیات مشابہۃ شدیدۃ بالأولیات" اور وہمیات جو ہے ان کی شدید مشابہت ہوتی ہے اولیات کے ساتھ۔ بدیہیات کی بھئی آپ نے چھ قسمیں پڑھی تھیں، کون کون سی چھ قسمیں تھیں؟ اولیات، فطریات، حدسیات، اولیات، فطریات، حدسیات، مشاہدات، تجربیات اور متواترات۔ ان میں سے دیکھیے اولیات پہلی قسم تھی جن میں عقل کو ذرہ برابر بھی غور نہیں کرنا پڑتا، فوراً ہی عقل ان کو تسلیم کر لیتی ہے جیسے آپ کہتے ہیں "الکل أعظم من الجزء" کل جز سے بڑا ہوتا ہے، یہاں ذرا بھی غور نہیں کرنا پڑا عقل کو، تو کہتے ہیں یہ جو وہمیات ہیں نا، ان کی شدید اور سخت مشابہت ہوتی ہے اولیات کے ساتھ۔ ان کو بھی انسان کن کی طرح سمجھ لیتا ہے جھوٹے وہمی قضیوں کو؟ اولیات کی طرح سمجھ لیتا ہے اور ان کو تسلیم کر لیتا ہے بھئی اولیات کی طرح۔ تو کہتے ہیں "وللوہمیات مشابہۃ شدیدۃ بالأولیات" اور وہمیات جو ہیں ان کی شدید مشابہت ہے اولیات کے ساتھ، "ولولا رد العقل والشرع" اور اگر نہ ہوتا رد کرنا عقل کا اور شریعت کا، یعنی اگر شریعت اور عقل کا رد کرنا نہ ہوتا "حکم الوہم" یہ مفعول ہے رد کے لیے، وهم کے حکم کو۔ اگر عقل اور شریعت یہ وهم کے حکم کو رد نہ کرتیں، "لدام الالتباس بینہما" تو البتہ ہمیشہ رہتا التباس ان دونوں کے درمیان۔ ہمیشہ ان میں کیا رہتا؟ التباس، التباس کا معنی ہے اشتباہ، اشتباہ۔ وہميات کی کس کے ساتھ شدید مشابہت ہے؟ اولیات کے ساتھ، تو اولیات کے ساتھ شدید مشابہت ہے اور کہتے ہیں اگر عقل اور شریعت یہ انسان کی رہنمائی نہ کرتیں یا عقل اور شریعت انسان کی رہنمائی کرتی ہیں اور وہمیات کو رد کر کے بتلاتی ہیں کہ بھئی یہ وہمی چیز ہے، یہ حقیقت سے اس کا تعلق نہیں ہے، یہ کون کرتے ہیں یہ چیز یہ رد کرنے کا کام کون کرتے ہیں؟ عقل اور شریعت۔ تو کہتے ہیں بھئی یہ وہمیات جو ہے، ان کی شدید مشابہت ہوتی ہے اولیات کے ساتھ، عقل اور شریعت ان کو رد کرتی ہے اور بتلاتی ہے کہ یہ چیزیں وہمی ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں "ولولا رد العقل والشرع حکم الوہم" اگر یہ عقل اور شریعت رد نہ کرتے "حکم الوہم" وهم کے حکم کو، یہ جو وهم نے حکم لگایا، یہ جو ایک وہمی قضیہ آپ کے سامنے پیش کیا وهم نے، یہ جو وهم کا یہ جو حکم ہے، اس کو اگر عقل اور شریعت رد نہ کرتے، "لدام الالتباس بینہما" تو البتہ ہمیشہ ان کے درمیان التباس اور اشتباہ رہتا، اولیات اور وہمیات میں انسان فرق ہی نہ کر پاتا۔ ان میں فرق کس کی وجہ سے کیا جاتا ہے؟ شریعت اور عقل کی وجہ سے۔ شریعت اور عقل انسان کی رہنمائی کرتی رہتی ہیں اور وہمیات کو رد کرتی رہتی ہیں بھئی، تو اس کی وجہ سے پھر وہ اشتباہ ختم ہو جاتا ہے۔ "أو من کاذبۃ" "أو من کاذبۃ" یہ عطف ہے وہ جو شروع میں آیا تھا "مرکب من الوہمیات" تو یہ "من کاذبۃ" کا عطف ہے "من الوہمیات" پر، کس پر؟ "من الوہمیات" تو وہ ایسے قیاسِ سفسطی، ایسا قیاس ہے جو مرکب ہو وہمیات سے "أو من کاذبۃ المشبہات بالصادقۃ" یا ان جھوٹے قضایا سے "المشبہات بالصادقۃ" جو مشابہ ہوتے ہیں کس کے ساتھ؟ قضائے صادقہ کے ساتھ بھئی، قضائے صادقہ۔ "أشبہ یشبہ إشباہ" کے معنی ہوتے ہیں مشابہ ہونے کے بھئی، مشابہ ہونے۔ تو مشبہات جو مشابہ ہوں بھئی۔ اور یہ کون سے قضیے ہیں؟ بتلا رہے ہیں "وہی قضایا یعتقدہا العقل" یہ وہ قضایا ہیں کہ اعتقاد رکھتی ہے ان کے بارے میں عقل۔ "وہی قضایا یعتقدہا العقل" یہ ایسے قضایا ہیں "یعتقدہا العقل" کہ عقل ان کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتی ہے "بأنہا أولیۃ" کہ یہ کس قسم کے قضیے ہیں؟ اولی ہیں، "أو مشہورۃ" یا مشہورہ ہیں، "أو مقبولۃ" یا مقبول ہیں، اب بھئی اولی بھی بات پہلے گزر چکی، مشہور کی بھی بات پہلے گزر چکی، مقبول یعنی جو صحیح ہیں، درست ہیں بھئی، قابلِ قبول ہیں بھئی، مقبول کا کیا معنی؟ جو قابلِ قبول ہوں، یعنی صحیح، "أو مسلمۃ" یا ایسے قضیے جو مسلم ہیں، تسلیم شدہ ہیں بھئی، جن کو کیا کرتا ہے فریقِ مخالف بھی تسلیم کرتا ہے۔ تو عقل عقل جو ہے "وہی قضایا" بات چل رہی ہے وہ قضایا جو جھوٹے ہیں لیکن سچوں کے مشابہ، وہ کون سے قضایا ہیں؟ بتلایا "وہی قضایا یعتقدہا العقل بأنہا أولیۃ أو مشہورۃ أو مقبولۃ أو مسلمۃ" کہ یہ قضایا اولیہ ہیں یا مشہورہ ہیں یا مقبولہ ہیں یا مسلمہ ہیں۔ بھئی کیوں عقل ان کے بارے میں یہ اعتقاد کیوں رکھتی ہے؟ کہتے ہیں "لمکان الاشتباہ" جائے اشتباہ کی وجہ سے، اشتباہ کی جگہ کی وجہ سے، یعنی اشتباہ کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ "لمکان الاشتباہ" اشتباہ کی وجہ سے "بہا" "ہا" ضمیر ان کو راجع یہ جو پیچھے گزرا اولیہ، مشہورہ، مقبولہ أو مسلمہ، ان کے ساتھ اشتباہ کی وجہ سے۔ یہ ہیں تو جھوٹے قضایا، لیکن عقل ان کو سچا سمجھنے لگتی ہے، کیونکہ ان کا اشتباہ آتا ہے ان قضیہ اولیہ، مشہورہ، مقبولہ اور مسلمہ قضایا کے ساتھ ان کا اشتباہ ہو جاتا ہے، یہ انہی کی طرح معلوم ہوتے ہیں، تو عقل کو اس میں دھوکا لگ جاتا ہے۔ تو ان کے ساتھ اشتباہ ہونے کی وجہ سے، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ "لمکان الاشتباہ بہا" ان کے ساتھ اشتباہ کی وجہ سے "لفظاً أو معنًى" اور یہ اشتباہ یا لفظوں کے اعتبار سے ہو گا یا معنی کے اعتبار سے اشتباہ ہو گا، لفظوں کی جیسے میں نے ایک مثال ذکر کر دی بھئی، جیسے دیوار پر تصویر ہو گھوڑے کی، اسے بھی گھوڑا کہتے ہیں، جو اصل گھوڑا جاندار ہوتا ہے، اس کو بھی گھوڑا کہتے ہیں، تو اس کی وجہ سے وہ قیاس میں دھوکا لگ گیا کہ کوئی شخص کیا کہتا ہے مثلاً؟ کہ یہ دیوار پر تصویر لگی ہے اور کہتا ہے یہ گھوڑا ہے اور کبرا ساتھ ملاتا ہے ہر گھوڑا ہنہنانے والا ہے، تو نتیجہ کیا نکلا؟ یہ گھوڑا ہنہنانے والا ہے، تو دیکھیے یہ قیاس بھی غلط، نتیجہ بھی غلط، اس لیے کیونکہ صغرا کے اندر جو گھوڑا ہے وہ تصویر والا گھوڑا ہے اور کبرا کے اندر جو ہر گھوڑا ہنہنانے والا ہے اس میں جو گھوڑا آیا، وہ کیا ہے؟ جاندار گھوڑا جو اصل جانور ہے جو۔ تو ان میں اشتباہ کی وجہ سے "لفظاً أو معنًى" ان کے ساتھ اشتباہ آتا ہے، یہ اولیہ، مشہورہ کے ساتھ ان قضائے کاذبہ کا باعتبار لفظوں کے اشتباہ ہوتا ہے یا باعتبار معنی کے اشتباہ ہوتا ہے "فتوقع فی الغلط" "توقع" کے اندر یہ ضمیر اشتباہ کو راجع بھئی، "فتوقع فی الغلط" تو یہ اشتباہ غلطی میں ڈال دیتا ہے۔ یہ اشتباہ کیا کرتا ہے؟ غلطی میں ڈال دیتا ہے۔ یا یا "فتوقع" کی ضمیر عقل کو راجع کر لیں بھئی۔ تو پھر عقل کیا کرتی ہے؟ غلطی میں واقع، عقل گمان کرتی ہے کہ یہ اولیہ ہیں، مشہورہ ہیں یا مقبولہ یا مسلمہ ہیں اس وجہ سے کہ ان کی مشابہت ہے، ان قضائے کاذبہ کی مشابہت ہے ان کے ساتھ لفظی یا معنوی طور پر، "فتوقع فی الغلط" تو یہ کس میں واقع کر دیتی ہے؟ غلطی میں واقع کر دیتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، تو لحاظ تو یہ ضمیر یا تو اشتباہ کو راجع کریں، زیادہ ظاہر یہی ہے کہ اشتباہ کو راجع، اور اشتباہ مصدر ہے اور "المصدر کالمنث قد یذکر وقد يؤنث" کبھی اس کی طرح مذکر ضمیر راجع کی جاتی ہے اور کبھی مؤنث، "فتوقع" کے اندر "ہی" ضمیر مؤنث کی اشتباہ کو راجع بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر عقل کی طرف راجع کریں تو پھر "یوقع" ہونا چاہیے بھئی۔ تو یہ غلطی میں واقع کر دیتا ہے یہ اشتباہ بھئی۔ تو صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اگر اسی حالت پر رکھتے ہیں "فتوقع" تو پھر تو ضمیر اشتباہ کو راجع کریں بھئی، اور اگر عقل کو راجع کرنا چاہتے ہیں پھر "یوقع" ہونا چاہیے بھئی، "توقع" نہیں بھئی، "یوقع" ہونا چاہیے۔ اور معنی دونوں اعتبار سے درست ہے بھئی، چاہے ضمیر عقل کو راجع کر لیں اور چاہے اشتباہ کو راجع کر لیں بھئی۔ "وہذہ الصناعۃ کاذبۃ مموہۃ غیر نافعۃ بالذات" اور یہ جو فن ہے، یہ قیاسِ سفسطی کا، یہ "کاذبۃ" جھوٹا ہے، "مموہۃ" مموہہ میں نے بتلایا ماءٌ سے ہے اور مموہہ اس کو کہتے ہیں جس پر سونے کا پانی چڑھایا گیا ہو بھئی، سونے کا پانی۔ تو یہ ایسا فن ہے، "کاذبۃ" جھوٹا ہے، "مموہۃ" دھوکے والا ہے، "غیر نافعۃ بالذات" اپنی ذات کے اعتبار سے یہ کوئی نفع دینے والا نہیں ہے، "نعم نافعۃ بالعرض" ہاں یہ نفع دینے والا ہے بالعرض، اپنی ذات کے اعتبار سے تو نفع نہیں دیتا، لیکن بالعرض یہ کیا کرتا ہے؟ نفع دیتا ہے، صفت ذات کے اعتبار سے نفع نہیں، یعنی صفت کے اعتبار سے نفع دیتا ہے "بأن صاحبہا لا یغلط ولا یغالط" کہ اس کا صاحب جو ہوتا ہے، یعنی اس حکمت والا، اس فن والا جو ہوتا ہے "لا یغلط" نہ تو وہ غلطی کرتا ہے "ولا یغالط" اور نہ اسے غلطی میں ڈالا جا سکتا ہے۔ وہ خود بھی غلطی نہیں کرتا، جو اس کا ماہر ہو گا وہ خود بھی غلطی نہیں کرتا اور کوئی دوسرا بھی اسے غلطی میں نہیں ڈال سکتا۔ "ویقدر علی أن یغالط غیرہ" اور وہ اس بات پر قادر ہوتا ہے کہ غیر کو غلطی میں ڈال دے۔ بھئی بالذات اپنی ذات کے اعتبار سے یہ قیاسِ سفسطی تو کوئی فائدہ نہیں دیتا، کیونکہ یہ تو وہمیات سے اور جھوٹے قضایا سے مرکب ہوتا ہے، تو انہوں نے کس چیز کا فائدہ دینا ہے، جب یقیناً جو نتیجہ آئے گا وہ بھی کس طرح کا ہو گا؟ جھوٹا ہی ہو گا، لیکن یہ صفت کے اعتبار سے نفع دیتا ہے، کس طرح صفت کے اعتبار سے نفع دیتا ہے؟ کہ جو اس کا ماہر ہو گا، وہ غلطی میں نہیں پڑتا، اس سے غلطی نہیں ہوتی اور دوسرا بھی کوئی اسے غلطی میں نہیں ڈال سکتا، اور ہاں یہ خود کیا کر سکتا ہے؟ دوسروں کو غلطی میں ڈال سکتا ہے۔ "ویقدر علی أن یغالط غیرہ" اور وہ قادر ہوتا ہے اس بات پر کہ اپنے علاوہ کو غلطی میں ڈالے "وأن یمتحن بہا" اور یہ کہ امتحان کرے اس کے ذریعے، اس کے ذریعے کیا کرے؟ دوسروں کا امتحان لے، دوسروں کی آزمائش کرے، "أو یعاندہ" یا اس کے ذریعے یا کیا کرے؟ اس کے ذریعے "عاند یعاند" کے معنی ہوتے ہیں حق کی مخالفت کرنا بھئی، حق کی مخالفت کرنا۔ تو یہاں بس مخالفت کرنے کے معنی میں ہے، "أو یعاندہ" یا کیا کرے؟ غیر کی مخالفت کرے بھئی، کوئی دوسرا چاہے حق پر ہی کیوں نہ ہو، یہ قیاسِ سفسطی والا اس کے ساتھ مخالفت کر کے اس کا مقابلہ کر سکتا ہے، کیا کر سکتا ہے؟ مقابلہ کر سکتا ہے۔ تو یہ خود غلطی میں نہیں پڑتا، اور کوئی اسے غلطی میں ڈالا بھی نہیں جا سکتا، لیکن یہ جب اس فن کا ماہر ہے، دوسرے کو غلطی میں بھی ڈال سکتا ہے، دوسروں کا اس کے ذریعے امتحان بھی لے سکتا ہے، آزمائش کر سکتا ہے بھئی، اور اسی طرح دوسروں کے ساتھ مخالفت اور ان کا مقابلہ بھی کر سکتا ہے۔ "وصاحب ہذہ الصناعۃ إن قابل الحکیم" اور اس فن والا اگر وہ کسی حکیم کا، کسی فلسفی کا مقابلہ کرے، "إن قابل الحکیم" اگر کسی فلسفی کا مقابلہ کرے، "یسمی سوفسطائیاً" تو اس کو سوفسطائی کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ اگر یہ اس فن کا، قیاسِ سفسطی کا جو ماہر ہے، اگر وہ کسی حکیم کا، یعنی فلسفی کا باقاعدہ مقابلہ کرتا ہے، تو اس کو اس قیاس والے کو سوفسطائی کہیں گے "وہذہ الصناعۃ وہذہ الصناعۃ سفسطۃً" اور اس صنعت کو کیا کہیں گے؟ سفسطہ کہیں گے۔ سفسطہ، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کب کہیں گے سفسطہ؟ جب وہ کسی فلسفی کا، حکیم کا، کسی دانا کا مقابلہ کرے "وہذہ الصناعۃ سفسطۃً" اور اس صنعت کو سفسطہ کہیں گے بھئی۔ "أي حکمتہ مموہۃً" سفسطہ کا کیا معنی؟ "حکمتہ مموہۃً ملمعۃً" وہ حکمت جو مموہہ ہے، ملمعہ ہے۔ مموہہ میں نے بتلایا بھئی، ماءٌ سے ہے اور مموہ کس کو کہتے ہیں جس پر سونے کا پانی چڑھایا گیا ہو، تو بظاہر وہ چمکدار دکھائی دے گی اوپر سے، بڑی خوشنما دکھائی دے گی، لیکن اندر دھوکا ہی ہو گا بھئی، کچھ بھی نہیں اندر۔ تو یہ مموہہ ایسی حکمت ہے جو دھوکے والی ہے، ملمع، ملمع بھی اسی کو کہتے ہیں بھئی جس پر کوئی اور چیز اوپر چڑھائی گئی ہو بھئی۔ تو یہ حکمتِ مموہہ ملمعہ ہے بھئی۔ "وإلا" اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی اگر اس فن والا حکیم کا مقابلہ نہیں کرتا، بلکہ کسی اور کا مقابلہ کرتا ہے۔ 3 تو یُس کسی اور سے ویسے با اس فن کو استعمال کرتا ہے کہیں اور، تو فیُسمّٰی مشاغبیًا۔ پھر اس کو کیا کہتے ہیں؟ مشاغبی کہتے ہیں۔ و هذه مشاغبةً۔ مشاغبی اور مشاغبہ کا معنی ہے بھئی جھگڑا کرنا، بحث کرنا۔ تو اگر یہ کسی حکمت والے کا مقابلہ کرے تو اس کو سوفسطائی کہیں گے اور یہ فن سفسطہ کہلائے گا یعنی دھوکے والی حکمت۔ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی حکیم کا، کسی فلسفی کا مقابلہ نہیں کرتا تو پھر اس کو مشاغبی کہیں گے اور اس کے اس فن کو کیا کہیں گے؟ مشاغبہ کہیں گے۔ مشاغبی کا کیا معنی؟ جھگڑنے والا، بحث کرنے والا، یا یوں کہیں بس شور مچانے والا، شور و غل کرنے والا بھئی، یہ مشاغبی ہے، بحث مباحثہ کرنے والا ہے بس۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ بھی اس طرح دیکھتے ہیں، کچھ آدمی ہوتا ہے جو ہر ہر بات میں بحث مباحثہ شروع کر دیتا ہے ناحق، ناحق کو نہیں دیکھتا۔ تو اس تو اسی طرح یہ بھی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں فیُسمّٰی مشاغبیًا و هذه مشاغبةً۔ ورنہ تو اگر ایسا نہ ہو تو اس کو مشاغبی کہتے ہیں اور اس صنعت کو مشاغبہ کہتے ہیں۔ و علی التقدیرین دونوں تقدیروں پر، دونوں صورتوں میں، چاہے یہ حکیم کا مقابلہ کرے جـ اور پھر اسے سوفسطائی کہا جائے۔ یا حکیم کا مقابلہ نہیں کرتا، ویسے ہی لوگوں سے بحث وغیرہ کرتا ہے تو چاہے یہ سوفسطائی ہو، چاہے مشاغبی ہو، دونوں صورتوں میں فصاحبه غالطٌ فی نفسه۔ اس کا اس فن والا جو ہوتا ہے، غالطٌ فی نفسه وہ غلطی میں ہوتا ہے فی نفسه اپنی ذات کے اعتبار سے۔ جھوٹی حکمت ہے نا تو اپنی ذات کے اعتبار سے وہ غلطی میں ہے اور مغالطٌ لغیره اور غیر کو غلطی میں ڈالنے والا ہے، خود بھی غلطی میں ہے اور دوسرے کو بھی غلطی میں ڈالنے والا ہے۔ و صنعته مغالطةٌ اور اس کا یہ فن کیا ہے؟ مغالطہ ہے، دوسروں کو غلطی میں ڈالنا۔ و هی قیاسٌ فاسدٌ اور یہ قیاسِ فاسد ہے۔ إما من جهة المادة فقط یا تو صرف یہ مادے کے اعتبار سے ہی فاسد ہو گا۔ أو من جهة الصورة فقط یا صرف صورت کے اعتبار سے یہ قیاس فاسد ہو گا۔ أو کلاهما یا دونوں کے اعتبار سے یہ قیاس کیا ہو گا؟ فاسد ہو گا۔ یہ دونوں صورتوں میں، حکیم سے مقابلہ کرے تو سوفسطائی کہلائے گا اور عام ویسے بحث مباحثہ کرے تو مشاغبی کہلائے گا۔ دونوں صورتوں میں، قیاسِ سفسطی نام ہی کس چیز کا تھا؟ دھوکے والی حکمت کا۔ تو اس کا کر- اس فن والا خود بھی غلط اور دوسروں کو بھی غلطی میں ڈالنے والا ہے۔ اور یہ صنعت جو ہے یہ مغالطہ ہے۔ اور یہ جو قیاس ہے، قیاسِ سفسطی، یہ یا تو صرف مادے کے اعتبار سے غلط ہو گا یا صورت کے اعتبار سے غلط ہو گا یا دونوں اعتبار سے غلط ہو گا بھئی۔ مادے اور صورت دونوں۔ مادے کے اعتبار سے کبھی غلطی ہو گی، کبھی صرف صورت کے اعتبار سے غلطی ہو گی اور کبھی دونوں اعتبار سے غلطی ہو گی۔ اور وہ کس طرح ہو گی؟ آگے تفصیلات آ جائیں گی بھئی۔ خوب طویل بحث کریں گے کہ کس طرح چیزیں انسان کو غلطی میں ڈالتی ہیں اور کس طرح کہاں مادے میں غلطی آتی ہے، کہیں معنی میں غلطی آتی ہے، صورت کے اندر غلطی آتی ہے اور کہیں دونوں کے اندر غلطی آتی ہے بھئی، جیسے ایک دو مثالیں آپ کے سامنے میں نے بیان کر دیں بھئی۔ ایک مثال میں نے کیا بیان کی؟ کہ یہ تصویر ہو اور ایک شخص کیا کہتا ہے؟ یہ گھوڑا ہے اور ہر گھوڑا ہنہنانے والا ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ جی، تو دیکھیے، یہاں پر جو ہے یہ لفظی اعتبار- لفظی اعتبار سے غلطی آئی کیونکہ یہ لفظِ گھوڑا مشترک تھا۔ یہ جیسے زندہ گھوڑے پر بولا جاتا ہے، اسی طرح تصویر والے گھوڑے پر بھی بولا جاتا ہے، تو اس وجہ سے غلطی آئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو صغریٰ کے اندر جو گھوڑا ذکر ہوا وہ اور تھا، کبریٰ کے اندر جو گھوڑا ذکر ہوا وہ اور تھا۔ تو لہٰذا اس وجہ سے اس کا نتیجہ غلط آیا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ خلاصۂ کلام کیا ہوا؟ قیاسِ سفسطی جو ہے، مرکب ہوتا ہے دو قسم کے قضیوں سے۔ ایک وہمیات ہیں جو عقل- جو وہم کی پیداوار ہوں۔ وہم نے گھڑے ہوں اپنی طرف سے جھوٹے اور آپ پڑھ چکے کہ وہم جو ہے، قوتِ واہمہ بڑی قوی قوت ہے جو انسان کو اللہ نے دی ہے۔ اور جو معانیِ جزئیہ کا ادراک کرتی ہے، آپ پہلے پڑھ چکے۔ اور یہ وہم جو ہیں، انسان کو غلطی میں ڈالتا ہے، جھوٹی چیزوں کو صحیح صورت بنا کر انسان کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ اور کس کے ذریعے حفاظت ہوتی ہے پھر؟ عقل اور شریعت کے ذریعے۔ اور دوسری قسم کے قضایا جن سے قیاسِ سفسطی مرکب ہوتا ہے، وہ ایسے جھوٹے قضایا ہیں جن کی مشابہت کس کے ساتھ ہوتی ہے؟ سچے قضایا کے ساتھ ان کی مشابہت ہوتی ہے۔ اور اس وجہ سے یہ غلطی میں ڈال دیتے ہیں۔ جی، اور بتلایا کہ اس کا فائدہ صرف یہ ہے کہ جو اس فن کا ماہر ہو گا، وہ خود وہ غلطی میں نہیں پڑے گا اور کوئی دوسرا بھی اسے غلطی میں نہیں ڈال سکتا۔ اس لیے کیونکہ وہ اس فن کی باریکیوں سے خوب اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کس طرح ایک دوسرے کو دھوکے میں ڈالا جاتا ہے، لہٰذا کوئی اسے دھوکے میں ڈالنے لگے گا تو فوراً خبردار ہو جائے گا اور سمجھ جائے گا اس کو۔ تو یہ شخص خود دھوکے میں نہیں پڑے گا۔ ہاں، اپنے اس فن کے ذریعے کیا کرے گا؟ دوسروں کو دھوکے میں بھی ڈال سکتا ہے، دوسروں کے امتحان بھی لے سکتا ہے۔ کوئی آتا ہے، فوراً اس سے کبھی کس قسم کی بات پوچھتا ہے، کبھی کس طرح کی بات پوچھتا ہے، اس کو پریشان کر دیتا ہے، اس کا امتحان بھی لے سکتا ہے۔ اور کیا کر سکتا ہے؟ کسی کے ساتھ مخالفت کرنی ہے تو باقاعدہ اس کا مقابلہ بھی کر سکتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اور یہی اگر مقابلہ کرے کسی حکیم کا تو پھر اس کو سوفسطائی کہتے ہیں اور اس کی جو حکمت ہے یہ سفسطہ ہے یعنی جھوٹی حکمت ہے۔ اور اگر یہ حکیم کا مقابلہ نہیں کرتا، ویسے ہی اس فن کا ماہر ہے، بحث بھی لوگوں وغیرہ سے کرتا ہے، تو اس کو مشاغبی کہتے ہیں بھئی۔ مشاغبی یعنی جھگڑنے والا، مخالفت کرنے والا، یا یوں کہیں شور و غل کرنے والا، شور مچانے والا بھئی۔ تو بہرحال، کہتے ہیں جو بھی کہا جائے، فی ذاته اپنی ذات کے اعتبار سے یہ جو اس قیاس کا ماہر ہوتا ہے، وہ خود بھی غلط ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی کیا کرتا ہے؟ غلطی میں ڈالتا ہے اور اس کا یہ فن جو ہے یہ مغالطہ ہے۔ اور یہ قیاس فاسد ہے اور یہ فاسد کبھی صرف صورتًا ہوتا ہے، کبھی مادۃً ہوتا ہے اور کبھی دونوں اعتبار سے ہوتا ہے۔ چلیے، بس، فهذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔