LESSONS NO. 98 1 القياس الشعري قياس مؤلف من المخيلات الصادقة أو الكاذبة المستحيلة أو الممكنة المؤثرة في النفس قبضا وبسطا وللنفس مطاوعة للتخييل كمطاوعته للتصديق بل أشد منه والغرض من هذه الصناعة أن ينفعل النفس بالترغيب والترهيب۔ صناعات خمسہ کی بحث چل رہی ہے۔ آپ نے پڑھا تھا کہ مادے کے اعتبار سے قياس پانچ قسم پر ہے، جنہیں صناعات خمسہ کہا جاتا ہے۔ ان میں سے تین قسمیں یعنی قياس برهانی، قياس جدلی اور قياس خطابی ہم پڑھ چکے ہیں۔ آج چوتھی قسم قياس شعری پڑھیں گے بھئی، قياس شعری۔ یاد رکھیے قياس شعری وہ قياس ہے جو خیالی باتوں سے مرکب ہو بھئی۔ جو کس سے مرکب ہو؟ خیالی باتوں سے مرکب ہو۔ پھر وہ خیالی باتیں سچی بھی ہو سکتی ہیں اور جھوٹی بھی بھئی۔ وہ خیالی باتیں سچی بھی ہو سکتی ہیں اور جھوٹی بھی ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ خیال، خیالی بات دل میں آئے، ہو سکتا ہے وہ سچی ہو، ویسا ہو بھی بھئی، اور ہو سکتا ہے وہ جھوٹی ہو، حقیقت میں ویسا نہ ہو بھئی۔ اور یہ جو ہیں، خیالی باتیں ایسی جو نفس میں مؤثر ہوتی ہیں، اثر ڈالتی ہیں۔ مثلاً کسی چیز کی تعریف کی جاتی ہے تو طبيعت کے اندر انبساط پیدا ہوتا ہے، اور طبیعت کھل جاتی ہے، خوشی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اس چیز کی رغبت دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔ اور بعض اوقات کسی چیز کی مذمت یا برائی یا خرابی بیان کی جاتی ہے—بعض اوقات کسی چیز کی خرابی یا مذمت بیان کی جاتی ہے—تو اس چیز کے بارے میں دل میں قبض کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، یعنی دل تنگ ہو جاتا ہے یا دل دل تنگ ہو جاتا ہے، اس سے نفرت کرنے لگتا ہے، اسے برا سمجھنے لگتا ہے، یا غم کی کیفیت دل پر طاری ہو جاتی ہے۔ تو یہ اس کے قياس شعری میں یہ مخيلات ایسے ہوتے ہیں جو نفس میں اثر ڈالتے ہیں۔ کبھی اثر خوشی پیدا کرنے کے اعتبار سے ہوتا ہے اور کبھی غم یا نفرت پیدا کرنے کے اعتبار سے بھئی۔ اور یہ نفس جو ہے یہ تصدیقات وغیرہ کے بجائے خیالی باتوں کو زیادہ قبول کرتا ہے، جلدی قبول کرتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور بالخصوص آپ بھی اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات ایک پوری تقریر انسان پہ اتنا اثر نہیں ڈالتی جتنا ایک شعر اس پر اثر ڈالتا ہے بھئی۔ تو یہ جو خیالی باتوں سے قياس جو مرکب ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قياس شعری کہتے ہیں بھئی۔ دیکھیے بھئی، فصل أي هذا فصل، یہ فصل ہے۔ القياس الشعري قياس مؤلف من المخيلات الصادقة أو الكاذبة، قياس شعری ایسا قياس ہے جو مرکب ہو مخيلات، خیالی باتوں سے۔ الصادقة أو الكاذبة، چاہے وہ سچی ہوں یا جھوٹی ہوں۔ المستحيلة أو الممكنة، یا محال ہوں یا ممکن۔ محال یعنی ناممکن ہوں یا ممکن ہوں۔ المؤثرة في النفس، اور نفس میں مؤثر ہوں۔ تو نفس میں مؤثر ہوں قبضا وبسطا بھئی۔ قبض کا معنی تنگ دل ہونا بھئی، تنگ، دل تنگ کرنا، دل کو تنگ بنا دینا۔ یعنی اس میں نفرت یا غم وغیرہ کی کیفیت پیدا کر دینا۔ اور بسط کا معنی ہے دل کا خوش کرنا بھئی۔ انقباض اور انبساط بھئی، یہ دو کیفیتیں ہیں انسان پر آتی ہیں۔ اور انقباض کی کیفیت آتی ہے، انسان تنگ دل ہوتا ہے، کسی چیز میں دل نہیں لگتا بھئی۔ اور انبساط کی کیفیت آتی ہے، دل خوش ہوتا ہے، تو سب ہر چیز اچھی لگنے لگتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ دو کیفیتیں ہیں، آپ بھی ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ کبھی کبھار عبادت کے اندر دل ہی نہیں لگتا، یہ ہے انقباض کی کیفیت بھئی۔ اور کبھی کبھار عبادت میں بڑا دل لگتا ہے، یہ ہے انبساط کی کیفیت بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ مؤثر ہوتے ہیں نفس میں قبض و بسط کے اعتبار سے۔ معنی سمجھ میں آ گیا قبض و بسط کا؟ وللنفس مطاوعة للتخييل، مطاوعت کا معنی ہے فرماں برداری کرنا۔ فرماں برداری کرنا، مراد ہے تسلیم کرنا۔ وللنفس مطاوعة للتخييل، اور نفس جو ہے وہ تسلیم کرتا ہے تخییل کو، یعنی خیالی بات کو۔ كمطاوعته للتصديق، جیسے کہ نفس جو ہے وہ قبول کرتا ہے، تسلیم کرتا ہے، کس چیز کو؟ جس طرح تصدیقات کو نفس قبول کرتا ہے، اسی طرح خیالی باتوں کو بھی قبول کرتا ہے۔ بل أشد منه، بلکہ خیالی باتوں کو اس سے زیادہ قبول کرتا ہے۔ والغرض من هذه الصناعة، اور غرض اور مقصد جو ہے اس فن سے، أن ينفعل النفس بالترهيب والترغيب، انَفَعَلَ يَنَفَعِلُ کے معنی ہوتے ہیں اثر قبول کرنا۔ کہ نفس جو ہے وہ اثر قبول کرتا ہے ترهیب اور ترغیب سے۔ ترہیب کا معنی ہے ڈرانا بھئی۔ اور ترغیب کا معنی ہے شوق دلانا بھئی۔ ترہیب کا کیا معنی؟ ڈرانا۔ اور ترغیب کا کیا معنی؟ شوق دلانا۔ تو نفس جو ہے وہ اثر قبول کرتا ہے ترہیب اور ترغیب سے۔ کسی چیز کی ڈرایا جائے، اس کی برائی بیان کی جائے، اس کی اس سے نفرت بتلائی جائے، نفرت کو بیان کیا جائے، تو نفرت آئے دل میں۔ کسی چیز کی برائی بیان کی تو دل میں نفرت آئے۔ یا کسی چیز کی اچھائی بیان کی، اس کی تعریف کی اور تو نفس اس میں رغبت کرنے لگتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ واشترط في الشعر أن يكون الكلام جاريا على قانون اللغة، اور شرط ہے شعر کے اندر کہ وہ ایسا کلام ہو، وہ کلام جو ہے وہ جاری ہونا چاہیے لغت کے قانون پر۔ کس پر جاری ہونا چاہیے؟ لغت کے قانون پر۔ آگے آپ کو بتائیں گے کہ مناطقہ کے ہاں بھئی، یاد رکھیے جو شعر ہوتا ہے، اس کا ایک مخصوص وزن ہوتا ہے اور وہ مخصوص ترنم ہوتا ہے اس کے اندر بھئی۔ مخصوص وزن ہوتا ہے اور مخصوص ترنم ہوتا ہے۔ تو جس کو یہ ذوق اللہ نے دیا ہو، وہ شعر کو سنتے ہی کہہ دے گا کہ یہ وزن اس کا ٹھیک ہے یا وزن ٹھیک نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک لفظ، ایک حرف ادھر ادھر کر دیں، اس شعر کے اندر سارا وزن خراب ہو جاتا ہے، اس میں ترنم نہیں رہتا بھئی۔ پڑھنے والا، سننے والا سنتے ہی کہہ دیتا ہے بھئی، اس کا وزن نہیں ٹھیک، یہ تو شعر درست نہیں معلوم ہوتا۔ البتہ مناطقہ جو ہیں، ان کے ہاں شعر میں وزن شرط نہیں ہے بھئی۔ ہاں بس اس میں خیالات، عمدہ خیال ہونا چاہیے بھئی۔ عمدہ قسم کے خیال اور عمدہ قسم کی فرضی بات اس میں ہو اور وزن ضروری نہیں۔ ہاں البتہ عربی لغت کے قوانین، یعنی صرف اور نحو کے اعتبار سے وہ درست ہونا چاہیے۔ صرفی اور نحوی اعتبار سے غلط نہ ہو بھئی۔ البتہ وزنِ شعری ان کے ہاں ضروری نہیں ہے بھئی۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ واشترط في الشعر، اور شعر میں شرط ہے، أن يكون الكلام جاريا على قانون اللغة، کہ وہ کلام جاری ہو لغت یعنی زبان کے قانون پر۔ مثلاً عربی کا ہے تو عربی زبان کے قوانین پر جاری ہو، نحو اور صرف کے خلاف نہ ہو۔ مشتملا على استعارات بديعة رائقة وتشبيهات أنيقة فائقة، اور مشتمل ہونا چاہیے استعارات—یاد رکھیے، ایک ہے استعارہ، ایک ہے تشبیہ۔ تشبیہ اس کو کہتے ہیں، لفظ سے ہی واضح ہے، ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ تشبیہ دی جائے اور حروفِ تشبیہ کے ساتھ۔ مشبہ بھی ذکر کلام میں اور مشبہ بہ بھی، جس کے ساتھ تشبیہ دی گئی۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "زید شیر کی طرح ہے"۔ تو دیکھیے، میں نے تشبیہ کس کو دی؟ زید کو، اور کس سے دی؟ شیر سے۔ تو زید ہوا مشبہ، شیر ہوا مشبہ بہ۔ اور حرفِ تشبیہ بھی لے کر آیا: "زید شیر کی طرح ہے، زید شیر کے مثل ہے، زید شیر کی طرح ہے"۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے تشبیہ بھئی۔ اور ایک ہے استعارہ بھئی، استعارہ۔ استعارے کے اندر بھی تشبیہ ہوتی ہے، لیکن لفظ کے اندر ہوتی ہے۔ یعنی اس میں حرفِ تشبیہ ذکر نہیں ہوگا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: "میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا آج"۔ اب شیر تو تیر نہیں چلا سکتا، معلوم ہوا آپ نے کس کو دیکھا ہے؟ کسی بہادر آدمی کو دیکھا ہے۔ کس کو؟ بہادر آدمی کو دیکھا۔ تو بہادر آدمی کو آپ نے شیر سے تشبیہ دے دی۔ اور عبارت میں صرف کس کو ذکر کر دیا؟ شیر کو۔ تو یہ جو آگے قرینہ آیا نہ "تیر چلا رہا تھا"، یہ قرینہ بتلا رہا ہے کہ یہاں تشبیہ ہے، اس بہادر آدمی کو کس سے تشبیہ دی گئی ہے؟ شیر سے، شیر جانور یہاں مراد نہیں ہے۔ تو یہ استعارہ ہوا بھئی۔ کیا ہوا؟ استعارہ۔ تو ایک ہے تشبیہ جس میں حرفِ تشبیہ ساتھ ذکر ہوتا ہے، مشبہ مشبہ بہ دونوں ہوتے ہیں؛ جبکہ استعارے کے اندر بھی یہی تشبیہ ہوتی ہے، لیکن تشبیہ دل میں ہوتی ہے، لفظوں کے اندر اس کا ذکر نہیں ہوتا۔ "میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا"، یہاں بھی تشبیہ ہے، لیکن میرے دل میں ہے۔ آپ سنتے ہی آپ بھی اس کو سمجھ گئے، لفظوں کے اندر میں نے نہیں کہا، وہ بہادر آدمی کس کی طرح تھا؟ شیر کی طرح، یہ میں نے نہیں کہا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے استعارہ بھئی۔ تو کہتے ہیں کہ کلام جو ہے وہ لغت کے قوانین پر جاری ہو، اس کے مطابق ہو، اور مشتمل ہو على استعارات بديعة رائقة، بديعة کے معنی انوکھے بھئی۔ رائقة کا معنی عمدہ۔ وتشبيهات أنيقة، أنيقة کے معنی بھی عمدہ۔ فائقة، فائق بلند جو ہو، کیا ہو؟ بلند ہو، یعنی اعلیٰ۔ تو یہ جو کلام، شرط یہ ہے شعر کے اندر کہ کلام جو ہے لغت کے قانون پر جاری ہو، اس کے مطابق ہو، اور مشتمل ہو على استعارات بديعة رائقة، ایسے عمدہ انوکھے استعارات پر۔ کس پر مشتمل ہو؟ عمدہ اور انوکھے استعارات پر، وتشبيهات أنيقة فائقة، اور عمدہ اعلیٰ تشبیہات پر۔ بحيث، اس حیثیت سے، يؤثر في النفس تأثيرا عجيبا، اس کے کہ وہ اثر ڈالے نفس میں تاثیراً عجيباً۔ تاثیر، یہ تا ہے بھئی، ساکن، تین نقطے ڈلے ہوئے ہیں، یہ تا ہے۔ تأثيرا عجيبا، کس قسم کے اثر ڈالے؟ عجیب، تاثیرِ عجیب اثر ڈالے۔ ويورث فرحا أو يوجب طرحا، فرح خوشی کو کہتے ہیں، طرح غم کو کہتے ہیں۔ ويورث، اور پیدا کرے فرحاً، کس کو؟ خوشی کو۔ أو يوجب طرحا، يوجب أي يثبت، ثابت کرے، یا ثابت کرے طرحاً غم کو۔ تو نفس میں عجیب اثر ڈالے، اور خوشی یا غم کو پیدا کرے بھئی۔ ومن ثم لا يجوز فيه استعمال الأوليات الصادقة، اور اسی وجہ سے جائز نہیں ہے اس کے اندر اولیاتِ صادقہ کا استعمال۔ اولیاتِ صادقہ بھئی، جن کو نفس سنتے ہی قبول کر لیتا ہے، اور غور و فکر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کیونکہ بڑی واضح بات ہوتی ہے بھئی، کسی غور کی وہاں ضرورت تھی نہیں۔ تو حالانکہ یہ تو قياس شعری ہے، یہاں تو کوئی عمدہ و اعلیٰ قسم کی خیالی بات ہونی چاہیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اولیاتِ صادقہ کا اس میں استعمال درست نہیں ہے، وہ جائز نہیں ہے۔ ويستحسن استعمال المخيلات الكاذبة، اور مستحسن ہے، پسندیدہ ہے اس کے اندر جھوٹے خیالی باتوں کا استعمال۔ جھوٹے مخیلات کا استعمال اس میں پسندیدہ ہے۔ كما قال العارف الجنجوي مخاطبا بولده، جیسے کہ عارف گنجوی، انہوں نے فرمایا ہے، خطاب کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو، اپنی اولاد کو، بولده فلتة كبده۔ فلذة كبده، جو ان کے جگر کا ٹکڑا تھا۔ اپنی اولاد، اپنے جگر کے ٹکڑے کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا بھئی۔ جگر کے ٹکڑے کو۔ كبد کہتے ہیں جگر کو۔ فلذة كبد، جگر کا ٹکڑا۔ اور فلذة كبده، اپنے جگر کے ٹکڑے کو، یعنی اپنے جگر گوشے کو، اپنے جگر گوشے۔ جیسے کہ عارف گنجوی نے اپنے اولاد، اپنے بیٹے جگر کے جگر گوشے کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ بیت—یہ آگے بیت شعر کو کہتے ہیں بھئی فارسی میں۔ اب آگے وہ شعر ذکر کرنے لگے ہیں جو عارف گنجوی نے اپنے بیٹے سے فرمایا۔ وہ بیٹے سے کہنے لگے: در شعر مپیچ و در فن او چوں اکذب اوست احسن او در شعر مپیچ، پیچیدن کا معنی ہوتا ہے الجھنا۔ مپیچ، نہ الجھ۔ در شعر مپیچ، شعر میں نہ الجھ۔ شعر میں نہ الجھ، و در فن او، اور نہ اس کے فن میں۔ شعر میں اور اس کے فن میں نہ الجھ، چوں اکذب اوست احسن او، کہ جو اس میں بڑا جھوٹا ہوگا، احسن او، وہ ان میں زیادہ اچھا ہوگا۔ جتنا شعر میں جھوٹ زیادہ ہوگا، اتنا ہی وہ اچھا اور پسندیدہ ہوگا بھئی۔ تو اپنے بیٹے کو کیا نصیحت کی کہ اشعار سے دور رہو، اشعار کہنے اور اشعار کہنے کی طرف توجہ نہ دو، اس کے اندر نہ الجھو، کیونکہ یہ ایسا فن ہے جس کے اندر جتنا بڑا جھوٹ ہوگا اتنا ہی پسندیدہ ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو شعر کے اندر جتنا جھوٹ ہو، وہ اتنا پسندیدہ ہوتا ہے۔ کیونکہ خیالی باتیں ہوتی ہیں نہ، تو جو جس کا جتنا جتنا زیادہ سے زیادہ اس نے خیالی بات کی جو جھوٹی ہے، لیکن بہرحال ایک نیا، اچھوتا خیال ہو، تو لوگ سن کر اس کو بڑا پسند کرتے ہیں، بڑا پسند کرتے ہیں۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جتنا جتنی بڑی اور جھوٹی خیالی بات ہوگی، اتنا ہی لوگ اس کو زیادہ پسند کریں گے۔ كقول القائل يصف الخمر، جیسے اس شخص کا قول ایک کہنے والے کا قول ہے، يصف الخمر، کس کی تعریف کرتے ہوئے؟ شراب کی تعریف کرتے ہوئے۔ لها البدر كأس وهي شمس يديرها هلال وكم يبدو إذا 2 کَاس کہتے ہیں شراب کا جام جب وہ لباط لب بھرا ہوا ہو۔ "لَهَا البَدْرُ كَأْسٌ" یہاں پر وہ جو شراب کا لباط لب بھرا ہوا جام ہے، اس کو وہ چودہویں رات کا چاند کہہ رہا ہے۔ کیا کہہ رہا ہے؟ چودہویں رات کا چاند۔ جی، تو کہتے ہیں "لَهَا البَدْرُ كَأْسٌ" کہ اس کے لیے چودہویں رات کا چاند جو ہے وہ اس کا جام ہے۔ "وَهِيَ شَمْسٌ" اور یہ اس حال میں کہ یہ سورج ہے۔ جو جام ہے اس کا بھرا ہوا، وہ جام کیا ہے؟ وہ جام، جام کیا ہے اس کا؟ چودہویں رات کا چاند۔ اور "وَهِيَ شَمْسٌ" اور یہ خود کیا ہے؟ سورج ہے۔ "يُدِيْرُهَا هِلَالٌ" اَدَارَ يُدِيْرُ کے معنی گھمانے کے، چکر دینے کے۔ گھماتا ہے اس کو ہلال۔ ہلال پہلے تین دن جو ہے یہ چاند ہلال کہلاتا ہے بھئی ابتدائی جو کمان کی شکل کا ہوتا ہے۔ اور اس کو گھماتا ہے ہلال، یعنی وہ جو ساقی ہے وہ جو پلانے والا ہے اس کا ہاتھ اور اس کی انگلیاں کس کی طرح ہیں؟ ہلال کی طرح ہیں۔ "وَكَمْ يَبْدُو" کم آیا ہے، یاد رکھیے یہ کم آپ نحو میں آپ نے پڑھا ہوگا دو قسم پر ہے۔ ایک کم استفہامیہ ہے اور ایک کم خبریہ۔ اس کم استفہامیہ کے ذریعے سوال ہوتا ہے، کم خبریہ کے ذریعے خبر دی جاتی ہے اور کم خبریہ کے ذریعے مقصد تکثیر کو بیان کرنا ہوتا ہے، کسی چیز کی کثرت کو بیان کرنا۔ بَدَا يَبْدُو کے معنی ظاہر ہونے کے۔ مَزَجَ کے معنی ہوتے ہیں ملانے کے۔ مَزَجَ کے معنی؟ ملانے کے۔ تو کہتے ہیں کہ یہ جو شراب ہوتی ہے یہ بے انتہا کڑوی ہوتی ہے۔ تو پھر اس کے ساتھ کبھی کوئی چیز ملاتے ہیں، کوئی کبھی کوئی چیز تاکہ اس کی وہ کڑواہٹ وغیرہ کم ہو۔ تو شاعر کہتا ہے "وَكَمْ يَبْدُو" اور کتنی ہی مرتبہ یعنی بہت کثرت سے ظاہر ہوتے ہیں "إِذَا مُزِجَتْ" جب اس کو ملایا جائے، اس شراب کو ملایا جائے یعنی اس میں پانی وغیرہ ملائیں۔ کیا ظاہر ہوتے ہیں؟ "نُجُومٌ" ستارے۔ کیا ظاہر ہوتے ہیں؟ اور بہت سے ستارے ظاہر ہوتے ہیں جب اس میں کوئی چیز ملائی جائے۔ بھئی پانی وغیرہ ملایا تو کہتے ہیں اس میں بلبلے بنتے ہیں۔ جیسے بھئی یہ بوتل پیپسی وغیرہ آپ نے دیکھی ہوگی، گلاس میں ڈالی جائے تو اس کے اندر بلبلے بنتے ہیں۔ تو اس طرح کہتے ہیں اس میں بھی پانی وغیرہ ملائیں تو بلبلے بنتے ہیں۔ تو دیکھیے، یہاں پر اب شراب کی تعریف کر رہا ہے، اس کے بھرے ہوئے جام کو چودہویں رات کا چاند کہا، شراب کو خود شمس یعنی سورج کہا، ساقی جو پلانے والا ہے اس کی انگلیوں کو ہلال کہا اور کہا کہ جب اس کو، اس کے اندر کوئی چیز ملائی جاتی ہے تو بہت سے ستارے ظاہر ہوتے ہیں یعنی وہ بلبلے جو ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ "لَهَا البَدْرُ كَأْسٌ وَهِيَ شَمْسٌ يُدِيْرُهَا" اس کے لیے چودہویں رات کا چاند جو ہے وہ جام ہے "وَهِيَ شَمْسٌ" اور اس حال میں کہ یہ سورج ہے شراب "يُدِيْرُهَا هِلَالٌ" اس کو گھماتا ہے یعنی چکر دیتا ہے یعنی پیش کرتا ہے اس کا جام جو ہے "هِلَالٌ" کیا چیز؟ ہلال جو ہے وہ پیش کرتا ہے اس کو "وَكَمْ يَبْدُو إِذَا مُزِجَتْ نُجُومٌ" اور بہت سے ظاہر ہوتے ہیں جب اس کو ملایا جائے ستارے بھئی، بہت سے ستارے ظاہر ہوتے ہیں۔ تو دیکھیے، شاعر شراب کی تعریف کر رہا ہے اور اس کے اندر ایک اس نے عجیب قسم کا خیال پیش کیا، سورج اور چاند اکٹھے کر دیے، ہلال کو بھی وہیں پر اکٹھا کر دیا اور ستاروں کو بھی لے آیا۔ حالانکہ سورج جس وقت نکلتا ہے، اس وقت نہ وہ چودہویں رات کا چاند ہوتا ہے، نہ ہلال ہوتا ہے، نہ ستارے۔ سورج کے تو آتے ہی یہ چیزیں تو چھپ جاتی ہیں، لیکن شاعر نے کہا یہ ایک عجیب چیز ہے، ایسا سورج ہے کہ اس کے ساتھ چودہویں رات کا چاند بھی آتا ہے، ہلال بھی آتا ہے اور اس کے ساتھ ستارے بھی ظاہر ہو جاتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یا جیسے ایک اور شاعر کہتا ہے: "یارِ من از نازکی زیرِ گل خوابیدہ بود، گل مبادا بیش گوید از خوابش بیدار کند" شاعر اپنے محبوب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دیکھو نازک چیز نازک چیز کے پاس ہوتی ہے۔ کہتے ہیں میرا محبوب بھی جو ہے وہ بڑا نازک ہے اور وہ بھی ایک نازک، انتہائی نازک چیز یعنی پھول کے پاس سو رہا ہے، پھول کے نیچے بھئی۔ "یارِ من از نازکی زیرِ گل خوابیدہ بود" میرا محبوب جو ہے وہ پھول کے نیچے سو رہا ہے نزاکت کی وجہ سے، کیونکہ وہ بھی نازک اور پھول بھی نازک۔ "گل مبادا بیش گوید از خوابش بیدار کند" لیکن میرا محبوب اتنا نازک ہے، اتنا نازک ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں پھول کھلے گا تو کہیں پھول کھلنے کی آواز سن کر وہ جاگ نہ جائے بھئی۔ اب پھول اور کلی کا کھلنا، اس کی تو کوئی آواز نہیں ہوتی، لیکن ایک فرضی اس نے خیالی بات کی اور حد درجے کی نزاکت بیان کی کہ اتنا نازک ہے کہ پھول جس اس کے کھلنے کی آواز دیکھو اس کی وجہ سے بھی کہیں وہ جاگ نہ جائے بھئی۔ تو یہ شعراء کی اس طرح کی باتیں بھئی۔ تو دیکھو جتنا بڑا جھوٹ ہوگا اتنا ہی پسندیدہ، دیکھو آپ کو بھی سن کر بڑا لطف آیا ہوگا بھئی، طبیعت اس کی طرف بڑی مائل ہوتی ہے بھئی۔ جی آگے دیکھیے: "وَقَالَ الشَّاعِرُ" اور ایک شاعر کہتا ہے شعر جی، یہ آگے شعر ذکر ہے: "لَا تَعْجَبُوا مِنْ بِلَا غِلَالَاتِهِ قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهُ عَلَى القَمَرِ" "لَا تَعْجَبُوا مِنْ بِلَا غِلَالَاتِهِ قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهُ عَلَى القَمَرِ" بھئی دیکھیے، یاد رکھیے یہ سورج اور چاند کا زمین پر اور اس کی چیزوں پر اثر پڑتا ہے۔ سورج کا اثر تو ظاہر ہے آپ دیکھتے ہیں، یہ نکلتا ہے تو روشنی ہو جاتی ہے، زمین کو حرارت پہنچاتا ہے، دھوپ کے اندر رکھی ہوئی چیز گرم ہو جاتی ہے اور گرمی کے اندر اس کی دھوپ میں کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ اور بھی اثرات، یہ سمندروں پر بھی اثرات ڈالتا ہے، اسی طرح چاند بھی بھئی۔ تو یہ اس کی وجہ سے سمندروں کا پانی اس پر اثر پڑتا ہے، اونچا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ نے کبھی دیکھا ہو کوئی نقشہ، کوئی تصویر، کوئی کیلنڈر، اگر سورج کی روشنی اس پہ پڑتی ہو ایسی جگہ لگا ہے کہ روزانہ اس پر دھوپ پڑتی ہے کافی دیر تک، آپ دیکھیں گے کچھ ہی عرصے میں اس کا رنگ پھیکا پڑنا شروع ہو جاتا ہے، رنگ اڑ جاتا ہے اس کا بھئی۔ تو یہ سورج کی روشنی کے اثرات، اسی طرح چاند جو ہے اس کے بھی اثرات پڑتے ہیں۔ سمندروں کے اندر اس کی وجہ سے جوار بھاٹا پیدا ہوتا ہے، پانی سمندر کا چودہویں رات کے اندر اور کئی کئی فٹ اونچا ہو جاتا ہے، ساحل پر اوپر آ جاتا ہے بھئی۔ تو یہ چاند کا اثر ہوتا ہے۔ اسی طرح کہتے ہیں یہ جو چاند ہے، یہ سوتی کپڑے پر بھی اثر ڈالتا ہے اور اس پر سوتی کپڑے پر یہ زیادہ دیر تک اس کی روشنی بار بار پڑتی رہے، وہ بڑی جلدی بوسیدہ ہو جاتا ہے اور پھٹ جاتا ہے۔ یہ کس کا اثر ہے؟ چاند کی روشنی کا۔ تو اب دیکھیے، شاعر کہتا ہے شاعر کا محبوب تھا، اس محبوب نے ایک دن پھٹی ہوئی بنیان پہنی ہوئی تھی۔ اب شاعر دیکھو کیسے عجیب خیالات اور خیالی باتیں پیش کر کے اسی کو عمدہ کر کے دکھا دیتا ہے۔ کیا کہتا ہے؟ "لَا تَعْجَبُوا" تم لوگ تعجب نہ کرو، حیرت کا اظہار نہ کرو "مِنْ بِلَا غِلَالَاتِهِ" بِلَا کا معنی ہے بوسیدہ ہونا۔ غِلَالَةٌ کہتے ہیں نیچے پہنے، قمیص کے نیچے پہنے جانے والی بنیان بھئی۔ غلالہ کسے کہتے ہیں؟ بنیان، وہ جو سوتی۔ تو یہ اور بِلَا کا کیا معنی؟ بوسیدہ۔ بَلِيَ يَبْلَى بِلًى کا معنی ہے بوسیدہ ہونا۔ "لَا تَعْجَبُوا مِنْ بِلَا غِلَالَاتِهِ" تم لوگ تعجب نہ کرو اس کی بنیان کے بوسیدہ ہونے سے، "قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهُ عَلَى القَمَرِ" جو اَزْرَار، اَزْرَار جمع ہے زِرٌّ کی، یہ بٹن کو کہتے ہیں۔ اَزْرَار کس کی جمع؟ زِرٌّ کی، اور زَرَّ کے معنی ہوتے ہیں بٹن بند کرنا۔ اَزْرَار بٹن، اور زَرَّ کے کیا معنی؟ بٹن بند کرنا۔ "قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهُ عَلَى القَمَرِ" تحقیق اس کے جو بٹن ہیں وہ بند کیے گئے ہیں عَلَى القَمَر کس پر؟ قمر، چاند پر۔ قمر کسے کہتے ہیں؟ چاند کو۔ پہلے تین دن جو ہے یہ ہلال کہلاتا ہے چاند، پھر چودہویں رات کو ہو تو بدر کہلاتا ہے اور درمیان کے ایام میں یہ قمر کہلاتا ہے، قمر بھئی۔ تو کہتا ہے کہ اس کے جو، یہاں بہرحال مطلق چاند کے معنی میں ہے کہ اس کے جو بٹن ہیں اس بنیان کے بھئی، وہ بند کیے گئے ہیں عَلَى القَمَر کس پر؟ چاند پر۔ یعنی کہنا یہ چاہتا ہے کہ میرے محبوب کی بنیان پھٹی ہوئی ہے، لیکن تمہیں اس سے ذرا بھی تعجب نہیں ہونا چاہیے، وجہ یہ کہ آپ لوگ تو جانتے ہیں کہ چاند کی روشنی جو ہے وہ سوتی کپڑے پر پڑتی رہے تو وہ پھٹ جاتا ہے، بوسیدہ ہو جاتا ہے، تو میرا محبوب بھی دراصل ایک چاند ہے، اس چاند نے یہ بنیان پہنی ہوئی ہے، یہ بنیان کے بٹن اس چاند پر ہیں، بنیان کے بٹن ہوں گے بھئی بٹنوں والی ہوگی، بنیان کے جو بٹن ہیں وہ چاند پر باندھے گئے ہیں، چاند پر بند ہیں اور چاند کی روشنی سے بنیان، سوتی کپڑا بوسیدہ ہو جاتا ہے، تو جو کپڑا چاند کے ساتھ لگا ہوا ہو، وہ تو ظاہر سی بات ہے ضرور پھٹے گا بھئی جلدی بھئی۔ تو دیکھو ایک عجیب سی اس نے خیالی بات ذکر کی، وہی بات جو بڑی بری لگ رہی تھی، بڑی عمدہ قسم کی معلوم ہونے لگی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ "فَشَبَّهَ المَحْبُوبَ بِالقَمَرِ" پس تشبیہ دی شاعر نے اپنے محبوب کو چاند کے ساتھ "وَقَالَ" اور کہا "لَا تَعْجَبُوا مِنْ اِنْشِقَاقِ غِلَالَاتِهِ" کہ تم تعجب نہ کرو اس کے، انشقاق کا معنی پھٹنا، تم تعجب نہ کرو اس کی بنیان کے پھٹنے سے "لِأَنَّهُ قَمَرٌ" کیونکہ وہ محبوب چاند ہے "زُرَّ عَلَيْهِ الغِلَالَةُ" جس پر بٹن بند کیے گئے ہیں بنیان کے "وَكُلُّ قَمَرٍ كَذَلِكَ" اور ہر وہ چاند جو ایسا ہو "فَغِلَالَاتُهُ تَنْشَقُّ" تو اس کی بنیان پھٹ جاتی ہے "يُنْتِجُ" یہ نتیجہ دیتا ہے "غِلَالَةُ المَحْبُوبِ تَنْشَقُّ" کہ محبوب کی بنیان پھٹ گئی، پھٹی ہوئی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ "وَقَدْ يُنْتِجُ اِجْتِمَاعَ النَّقِيْضَيْنِ" اور کبھی کبھار یہ اجتماع نقیضین کا نتیجہ دیتا ہے۔ بھئی آپ نے پڑھا ہے اجتماع نقیضین ممکن ہی نہیں ہے، محال ہے۔ زید کھڑا ہے، زید کھڑا نہیں ہے، دونوں میں سے ایک بات صادق ہوگی، دونوں کبھی بھی صادق نہیں ہو سکتیں۔ زید انسان ہے، زید لا انسان ہے، دونوں میں سے ایک بات صادق ہوگی، دونوں باتیں صادق نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں کبھی کبھار یہ قیاسِ شعری اجتماع نقیضین کا بھی فائدہ دیتا ہے۔ نحو مثال کے طور پر ایک شخص کہتا ہے: "أَنَا مُضْمِرُ الحَوَائِجِ بِاللِّسَانِ مُظْهِرُهَا بِالمَدَامِعِ" یہ ہے صغریٰ، "وَكُلُّ مُضْمِرِ الحَوَائِجِ صَامِتٌ وَكُلُّ مُظْهِرِهَا مُتَكَلِّمٌ" یہ ہے کبریٰ، "يُنْتِجُ" نتیجہ دیتا ہے: "أَنَا صَامِتٌ مُتَكَلِّمٌ" شاعر کہتا ہے، کہنے والا کہتا ہے: "أَنَا مُضْمِرُ الحَوَائِجِ" میں اضمر یضمر کے معنی چھپانے کے، حوائج ضرورتیں۔ "أَنَا مُضْمِرُ الحَوَائِجِ بِاللِّسَانِ" میں چھپانے والا ہوں ضرورتوں کو زبان سے، یعنی زبان سے کبھی اپنی ضرورتوں کا اظہار نہیں کرتا، زبان کے اعتبار سے اپنی ضرورتوں کو، اپنی حاجات کو چھپا کر رکھتا ہوں۔ "مُظْهِرُهَا بِالمَدَامِعِ" میں ظاہر کرتا ہوں ان ضرورتوں کو بالمدامع، مدامع جمع ہے مد مع کی، مد مع جو ہے آنسو بہنے کی جگہ یعنی آنکھ کو کہتے ہیں۔ کسے کہتے ہیں؟ آنکھ کو بھئی، جی۔ تو مراد یہاں آنسو ہیں بھئی، "مُظْهِرُهَا بِالمَدَامِعِ" میں ان کو کس کے ذریعے ظاہر کرتا ہوں؟ آنسوؤں کے ذریعے۔ کس کے ذریعے؟ کہتے ہیں شاعر، یہ کہنے والا کہتا ہے کہ میں اپنی زبان سے اپنی حاجتوں کو پوشیدہ رکھتا ہوں، آنسوؤں کے ذریعے ان کو ظاہر کرتا ہوں "وَكُلُّ مُضْمِرِ الحَوَائِجِ صَامِتٌ" اور ہر وہ شخص جو حاجتوں کو چھپانے والا ہو، صامت وہ خاموش ہوتا ہے۔ جو حاجتوں کو کیا کر رہا ہے؟ چھپا رہا ہے، لازمی بات ہے وہ خاموش ہے، زبان سے کہے گا وہ تو ظاہر ہو جائے گی، تو ہر حاجتوں کو چھپانے والا صامت خاموش ہوتا ہے۔ "وَكُلُّ مُظْهِرِهَا مُتَكَلِّمٌ" اور ہر وہ شخص جو حاجتوں کو ظاہر کرنے والا ہو، متکلم وہ کیا ہوتا ہے؟ متکلم۔ تو میں زبان کے اعتبار سے اپنی حاجتوں کو چھپانے والا ہوں اور ان کو ظاہر کرنے والا ہوں آنسوؤں سے اور ہر حاجتوں کو چھپانے والا خاموش ہوتا ہے اور ہر حاجتوں کو ظاہر کرنے والا متکلم ہوتا ہے، تو نتیجہ کیا؟ "يُنْتِجُ" یہ نتیجہ دیتا ہے: "أَنَا صَامِتٌ مُتَكَلِّمٌ" کہ میں خاموش متکلم ہوں، خاموش بھی ہوں اور اب یہ تو حالانکہ اجتماع نقیضین ہے، ایک شخص یا تو خاموش ہوگا یا متکلم ہوگا، تو یہ اجتماع نقیضین آیا اور بتلایا کہ یہ قیاسِ شعری ہے اور قیاسِ شعری میں شروع میں انہوں نے بتلا دیا تھا کہ اس میں وہ خیالی بات ہوتی ہے چاہے ممکن ہو چاہے محال ہو، کوئی بھی ہو سکتی ہے حالانکہ اجتماع نقیضین تو محال ہے، لیکن اس میں یہ بھی شاعر دکھا دیتا ہے بھئی کر کے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ "وَلَا يُشْتَرَطُ الوَزْنُ فِي الشِّعْرِ عِنْدَ أَرْبَابِ المِيْزَانِ" اور شرط نہیں وزن کی شعر میں عند ارباب المیزان، میزان آپ پڑھ چکے علم منطق کا نام ہے، ارباب میزان منطق والے، تو شعر کے اندر وزن کی شرط نہیں ہے منطق والوں کے نزدیک یعنی مناطقہ کے نزدیک۔ "نَعَمْ يُفِيْدُهُ حُسْنًا" ہاں یہ وزن جو ہے فائدہ دیتا ہے شعر کو حسن کا یعنی اس میں خوبصورتی پیدا کر دیتا ہے، اگر وزن ہو تو اس میں خوبصورتی پیدا ہو جائے گی۔ "وَالكَلَامُ الشِّعْرِيُّ إِذَا أُنْشِدَ بِصَوْتٍ طَيِّبٍ" اور کلامِ شعری کو جب اس کو پڑھا جائے، سنایا جائے، انشدا کا معنی ہے شعر پڑھنا یا سنانا، جب "إِذَا أُنْشِدَ" جب اس کو سنایا جائے، پڑھا جائے "بِصَوْتٍ طَيِّبٍ" اچھی آواز کے ساتھ "ازْدَادَتْ تَأْثِيْرُهُ فِي النُّفُوسِ" تو بڑھ جاتی ہے اس کی تاثیر نفوس میں۔ ایک تو خیال اچھا، پھر اس کے بعد اس میں وزن بھی ہے بھئی اور اس کا حسن بڑھ گیا، پھر اس کے ساتھ جب آواز بھی اچھی مل گئی تو اور حسن در حسن بڑھ گیا، تو اس سے نفوس پر اس کی تاثیر بڑھ جاتی ہے "حَتَّى رُبَّمَا يُزِيْلُ فَرْطُ بَهْجَةٍ العَمَائِمَ عَنِ الرُّؤُوسِ" یہاں تک کہ بسا اوقات زائل کر دیتا ہے یعنی گرا دیتا ہے فرطِ بہجۃ، فرط کہتے ہیں زیادتی کو، بہجۃ کہتے ہیں خوشی کو، یہاں تک کہ زائل کر دیتا ہے یعنی گرا دیتا ہے فرطِ بہجۃ، خوشی کی زیادتی، یہ خوش یہاں تک کہ خوشی کی زیادتی گرا دیتی ہے العَمَائِمَ عَنِ الرُّؤُوسِ سروں سے پگڑیوں کو، عمائم جمع ہے عمامۃ کی اور کس کو کہتے ہیں؟ پگڑی کو۔ 3 مطلب سمجھ میں آ گیا بھئی؟ بھئی میں نے بتلایا ایک تو خیال اچھا ہو، پھر اس کے بعد اس کا وزن ہو، اس میں حسن پیدا ہوا، پھر اس کی سنانے والے کی آواز بھی اچھی ہو، تو کہتے ہیں اس کا اثر بہت نفس پر بڑھ جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا، لوگ واہ واہ کی صدائیں بلند کرنے لگتے ہیں۔ اور خوشی کی اور جوش کی زیادتی سے جھومنے لگتے ہیں، یہاں تک کہتے ہیں کہ سروں سے پگڑیاں گر جاتی ہیں، اس جھومتے جھومتے بھئی۔ والاوائل من الحکماء یونانیین کانوا احرص الناس علی الشعر۔ اور کہتے ہیں جو پہلے تھے، اوائل، اول کی جمع، من الحکماء یونانیین، یونانی جو فلاسفہ میں سے پہلے لوگ تھے، ابتدائی، وہ کانوا احرص الناس، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ حریص تھے علی الشعر شعر پر۔ وہ لوگوں میں شعر پر، یعنی سب سے زیادہ حرص کرتے تھے شعر کے اندر۔ جو بات کرتے، کوشش کرتے تھے شعر میں ہو بھئی، کیونکہ اس کا آپ جانتے ہیں کہ شعر کا اثر بڑا، شعر کا بڑا اثر پڑتا ہے نفس پر۔ میں نے شروع میں بیان کیا، بعض اوقات ایک لمبی تقریر وہ اثر نہیں کرتی انسان پر، جو ایک چھوٹا سا شعر اس پر اثر کر جاتا ہے۔ تو یہ جو حکماء یونانیین تھے، یہ لوگوں میں سب سے زیادہ حرص کرتے تھے شعر پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ شعر کی وجہ سے کلام کا حسن بڑھ جاتا ہے۔ ایک شاعر مثلاً کہتا ہے: "لیلاۓ سخن کو آنکھ بھر کر دیکھو"۔ لیلاۓ سخن، بات کو کہتے ہیں بات۔ لیلاۓ سخن، بات کی جو لیلیٰ ہے، یعنی یہ جو بات ہے، کلام ہے، اس کو لیلیٰ کے ساتھ تشبیہ دے دی، کہ یہ کیا ہے؟ لیلیٰ یعنی محبوبہ ہے، معشوقہ ہے۔ کہتا ہے: "لیلاۓ سخن کو آنکھ بھر کر دیکھو، قاموس و لغات سے گزر کر دیکھو، الفاظ کے سر پر نہیں اڑتے معنی، الفاظ کے سینوں میں اتر کر دیکھو"۔ اسی طرح ایک اور شاعر بھئی ایک عجیب پیغام دیتا ہے مختصر لفظوں میں۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان دنیا میں بدحال ہیں۔ اور چاہتے ہیں اپنے اسلاف کی طرح، اپنے بزرگوں کی طرح دنیا کے اندر مقام چاہتے ہیں، کہ ہمارے اسلاف کا دنیا میں مقام تھا، اور لوگ ان کے نام سے کانپا کرتے تھے، کسی کی جرات نہیں ہوتی تھی کسی ایک مسلمان کو بھی تکلیف پہنچا دے۔ اور آج تمام کفار کی نگاہیں اور ان کے پنجے اور دانت مسلمانوں کی طرف ہیں اور ان پر وہ حملہ آور ہیں۔ تو مسلمان اس بات پر دل میں کڑھتا ہے، غمزدہ ہوتا ہے۔ اور سوچتا ہے کہ ہمیں ہمارے اسلاف جیسی عزت، مقام کیوں نہیں حاصل؟ شاعر کہتا ہے: "آن عزم بلند آور، آن سوز جگر آور"۔ آن عزم بلند آور، کہ ان کی طرح بلند عزم لے کر آؤ بھئی۔ آن سوز جگر آور، ان کی طرح جگر کی جلنا، جگر کی آگ لے کر آؤ۔ ان کے جگر میں، ان کے دل میں اللہ کی محبت تھی۔ آج ہمارے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول کی وہ محبت نہیں، اسی وجہ سے ہمارا یہ حال ہے۔ "شمشیر پدر خواہی، بازوۓ پدر آور"۔ باپ کی تلوار چاہتے ہو، تو پھر باپ جیسے بازو بھی لے کر آؤ بھئی۔ عجیب پیغام بھئی! کیا کہتا ہے؟ "آن عزم بلند آور، آن سوز جگر آور، شمشیر پدر خواہی، بازوۓ پدر آور"۔ تو اگر ہمیں دنیا کے اندر اپنا مقام، کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے، تو ہمیں پھر اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنا پڑے گا۔ دین کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کرنی ہوگی، اور جب دین کی محبت پیدا ہو جائے گی دلوں کے اندر، تو پھر خود بخود وہ مقام ہمیں مل جائے گا، اور کفار ہم سے خوفزدہ ہو جائیں گے بھئی۔ ہم آج کل، ہم دنیا میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک اور شاعر کہتا ہے: "تھے جنہیں ذوقِ فنا دار البقا کے بن گئے، اور ہم محوِ تماشا، خود تماشا بن گئے"۔ یہ دنیا کچھ بھی نہیں ہے بھئی۔ ایک اور شاعر مثلاً دنیا کی بے ثباتی ذکر کرتے ہوئے بتلاتا ہے: "ہستیِ رنگِ جہانِ گلستاں کچھ بھی نہیں، چیختیں ہیں بلبلیں، گل کا نشاں کچھ بھی نہیں، وہ جن کے محلوں میں ہزاروں قسم کے فانوس تھے، جھاڑے ان کی قبر پر ہیں اور نشاں کچھ بھی نہیں"۔ بڑے بڑے بادشاہ چلے گئے، ان کے اشاروں پر گردنیں اڑا دی جاتی تھیں، اور ہزاروں قسم کے فانوس ان کے محلوں میں تھے، اور سینکڑوں کنالوں پر ان کا ایک ایک محل ہوتا تھا، بلکہ ایکڑوں پر۔ ان کے بڑے بڑے محل، ان کے قلعے، جن کو آپ بھی، آج بھی دیکھتے ہیں، لیکن آج ان کی قبروں کا کیا حال ہے، کہ قبروں کا بھی پتہ نہیں، پتہ بھی ہے تو وہاں ویرانی کا راج ہے، کوئی پوچھنے والا ہی نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہماری حالت، ہم دین سے بالکل غافل ہو چکے ہیں، اسی وجہ سے، اسی وجہ سے اس دنیا کے اندر، اس زمانے کے اندر ہماری یہ حالت ہو گئی، کہ انتہائی تکلیف اور مصائب میں الجھ گئے ہم بھئی۔ ایک اور، ایک اور شاعر کہتا ہے: "نوقع الدنيانا بتمزيق ديننا، فلا ديننا يبقى ولا ما نوقع"۔ ہم دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے ہیں اپنی دنیا کو بہتر بنانے کے لیے اور اس کو پیوند لگانے کے لیے۔ دین کی ایک چادر دین کی ہے، ایک دنیا کی ہے۔ دین کی چادر کو ٹکڑے کر دیتے ہیں تاکہ دنیا کی چادر کو پیوند لگ جائیں، وہ اچھی نظر آئے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ تو ہماری دنیا رہتی ہے اور نہ ہی دین کی چادر باقی رہتی ہے۔ "نوقع الدنيانا بتمزيق ديننا، فلا ديننا يبقى ولا ما نوقع"۔ ایک شاعر کہتا ہے: "بزمین چو سجدہ کردم، ز زمین ندا برآمد، کہ مرا خراب کردی تو بہ سجدۂ ریائی"۔ کہتا ہے: میں نے زمین پر سجدہ کیا، تو زمین سے آواز آئی کہ تو نے میرے اس حصے کو خراب کر ڈالا، ریاکاری کا سجدہ کر کے۔ صحیح دل میں اللہ کی محبت والا سجدہ ہوتا تو وہ قابلِ قبول تھا۔ تم نے تو لوگوں کو دکھانے کے لیے سجدہ کیا ہے، ریاکاری کا سجدہ کر کے اور دھوکے کا سجدہ کر کے تم نے کیا کیا؟ مجھے خراب کر دیا۔ "بزمین چو سجدہ کردم، ز زمین ندا برآمد، کہ مرا خراب کردی تو بہ سجدۂ ریائی، بہ طوافِ کعبہ رفتم، بہ حرم اہم ندادند، کہ برونِ در چہ کردی کہ درونِ خانہ آئی"۔ کہتا ہے: زمین پر سجدہ کیا تو زمین سے آواز آئی، تو نے مجھے خراب کر دیا، ریاکاری کا سجدہ مجھ پر کر کر۔ پھر شاعر کہتا ہے: میں بیت اللہ کے طواف کے لیے گیا، تو حرم میں مجھے راستہ نہیں دیا گیا، مجھے داخل نہیں ہونے دیا گیا، اور مجھے کہا گیا کہ ہمارے گھر سے باہر تو نے کیا کمال دکھایا جو آج ہمارے گھر کے اندر آنا چاہتا ہے بھئی؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ مسلمانوں کی حالت بھئی! اک ھیسک سی دل میں اٹھتی ہے، اک درد جگر میں ہوتا ہے، ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتے ہیں، جب سارا عالم سوتا ہے۔ چلیے بس بھئی، ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔