LESSONS NO. 76 1 والأشكال أربعة: وجه الضبط أن يقال: الحد الأوسط إما محمول الصغرى وموضوع الكبرى كما في قولنا: العالم متغير، وكل متغير حادث، ينتج: العالم حادث، فهو الشكل الأول. وإن كان محمولاً فيهما فهو الشكل الثاني. بھئی، قیاس کی بحث ہم پڑھ رہے تھے، آپ نے پڑھا تھا قیاس وہ قول ہے جو مرکب ہو ایسے قضایا سے کہ ان کو تسلیم کر لینے کے بعد ایک اور قول کو بھی ماننا پڑے گا، ایک اور قول اس کے ساتھ لازم ہوتا ہے جسے نتیجہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ نتیجہ کہتے ہیں۔ اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ یہ قیاس دو قسم پر ہے: ایک قیاس استثنائی ہے، ایک قیاس اقترانی ہے۔ قیاس استثنائی وہ قیاس کہ جس میں قیاس میں نتیجہ یا نقیض نتیجہ مذکور ہو، جس میں نتیجہ یا نقیض نتیجہ مذکور ہو، یا آسان لفظوں میں یوں کہیے، قیاس استثنائی وہ ہے جس میں "لیکن" کے ذریعے نتیجے کی طرف اشارہ کر دیا جائے بھئی۔ اور جب کہ دوسری اگر دوسرا قیاس اقترانی ہے جس میں نتیجہ یا نقیض نتیجہ مذکور نہ ہو بھئی۔ جی اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ قیاس اقترانی دو قسم پر ہے: ایک حملی اور ایک شرطی۔ قیاس حملی وہ ہے جو مرکب ہو دو قضیہ حملیہ سے بھئی۔ قیاس میں کتنے قضیے ہوں گے؟ دو قضیے ہوں گے، تو یہاں پر دونوں قضیہ حملیہ ہوں اگر، تو یہ کیا ہے؟ قیاس حملی۔ اور اگر دونوں حملی نہ ہوں، تو پھر دونوں قضیہ حملیہ نہ ہوں، تو پھر یہ قیاس کون سا ہے؟ شرطی بھئی، قیاس اقترانی شرطی، کہ چاہے دونوں پھر شرطیہ ہوں دونوں مقدمے یا ایک شرطیہ ہو اور ایک حملیہ ہو۔ دونوں صورتیں اس میں آ گئیں۔ اس کے بعد آپ کو بتلایا تھا کہ نتیجے کا جو موضوع ہو، موضوع ہوتا ہے، اسے اصغر کہا جاتا ہے اور نتیجے کا جو محمول ہوتا ہے، اس کو اکبر کہا جاتا ہے۔ اصغر کو اصغر اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ افراد کے اعتبار سے کم ہوتا ہے یعنی وہ خاص ہوتا ہے، اور اکبر اس کے مقابلے میں عام ہوتا ہے یعنی کہ اس کے افراد زیادہ ہوتے ہیں۔ جی، تو یہ تو تھا نتیجے کا موضوع اصغر اور نتیجے کا محمول اکبر، اور قیاس کے اندر یہ موضوع جس کے اندر تھا یعنی اصغر جس مقدمے میں تھا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ صغریٰ، اور اکبر جس مقدمے کے اندر یعنی جس قضیے کے اندر تھا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کبریٰ کہتے ہیں بھئی، کبریٰ۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ صغریٰ اور کبریٰ میں سے صغریٰ اعلیٰ ہے اور کبریٰ اس سے ادکم درجے کا ہے بھئی۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ وہ جز جو دونوں کے اندر دونوں قضایا کے اندر مکرر آئے، قیاس کے اندر جو جز دونوں قضایا کے اندر مکرر آئے، اسے حد اوسط کہتے ہیں بھئی۔ اور پھر یہ جو قیاس کے دو مقدمے تھے، ایک کا نام تھا صغریٰ، دوسرے کا نام تھا کبریٰ، یعنی دو قضیے جو تھے ایک صغریٰ اور ایک کبریٰ، ان کو جو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جاتا ہے، قیاس کو صورت دی جاتی ہے، اس ملانے کو قرینہ اور ضرب کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ قرینہ اور ضرب، اور قرینہ میں نے بتلایا تھا کسے کہتے ہیں؟ هو أمر يشير إلى المطلوب، وہ چیز جو مطلوب کی طرف اشارہ کرے اسے کیا کہتے ہیں؟ قرینہ۔ تو یہ جو ہم ان کو ملائیں گے چونکہ اس سے نتیجے کی طرف اشارہ ہو گا، لہٰذا اس کو کیا کہتے ہیں ملانے کو؟ قرینہ، اور ضرب بھی کہتے ہیں، ضرب کا معنی قسم، چونکہ ایک قسم کی شکل حاصل ہو گئی، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضرب کہتے ہیں۔ اور پھر بتلایا تھا کہ یہاں چار شکلیں بنیں گی بھئی، چار شکلیں۔ کس طرح؟ کہ ایک ہے نتیجے کا موضوع اور ایک ہے محمول نتیجے کا، یہ موضوع اور محمول کہاں سے آئے؟ یہ صغریٰ اور کبریٰ سے آئے، اور ایک چیز کو ہم نے گرا دیا تھا، وہ کیا تھی؟ حد اوسط، کیا تھی؟ حد اوسط، وہ جو جز مکرر تھا دونوں کے اندر۔ تو یہ جو حد اوسط کو صغریٰ کے اندر اور کبریٰ کے اندر ہم نے رکھا، یہ صغریٰ میں ہو سکتا ہے موضوع کے مقام پر آئے، ہو سکتا ہے محمول کے مقام پر ہو، اور اسی طرح کبریٰ میں بھی حد اوسط ہو سکتا ہے موضوع کی جگہ پر آئے، ہو سکتا ہے محمول کی جگہ پر آئے، تو کل یہاں چار صورتیں بنتی تھیں بھئی، کتنی صورتیں؟ چار۔ ایک صورت یہ کہ حد اوسط دونوں میں موضوع کی جگہ پر آئے، صغریٰ میں بھی اور کبریٰ میں بھی۔ ایک صورت یہ کہ حد اوسط دونوں میں محمول کی جگہ پر آئے، صغریٰ میں بھی محمول کی جگہ اور کبریٰ میں بھی محمول کی جگہ۔ ایک صورت یہ کہ صغریٰ میں موضوع کی جگہ پر آئے اور کبریٰ میں محمول کی جگہ، یا اس کا عکس کر لیں، صغریٰ میں محمول کی جگہ اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ، تو یہ کل چار صورتیں بنتی ہیں، تو یہ جو صغریٰ اور کبریٰ میں حد اوسط کو اصغر اور اکبر کے پاس رکھنے سے جو ہیئت حاصل ہوئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ شکل کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ شکل کہتے ہیں، چار ہیئتیں چار شکلیں حاصل ہو رہی ہیں نا، تو یہ جو ہیئت حاصل ہوئی اس کو کیا کہتے ہیں؟ شکل کہتے ہیں۔ اب آگے مصنف کی تفصیل بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: والأشكال أربعة، شکلیں کتنی ہیں؟ چار ہیں بھئی، چار۔ وجه الضبط، ضبط کا معنی ہوتا ہے مرتب کرنا بھئی، یاد کرنا، یہاں حصر کے معنی میں ہے۔ وجہ حصر ذکر کر رہے ہیں، حصر کا کیا معنی ہوتا ہے؟ بند کرنا، حصر کا کیا معنی؟ بند کرنا۔ تو وجہ حصر یعنی ان چار میں بند کرنے کی وجہ، شکلیں چار ہی کیوں ہیں؟ پانچ یا چھ کیوں نہیں؟ تو وہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ میں نے بتلا دیا بھئی، صورتیں بنتی ہی چار ہیں بھئی، حد اوسط کہاں پر آئے گا دونوں میں؟ یا تو موضوع کی جگہ، ایک شکل، یا دونوں جگہ محمول کی جگہ پر، یہ دو شکلیں، یا صغریٰ میں موضوع کی جگہ اور کبریٰ میں محمول کی جگہ، تیسری شکل، چوتھی شکل صغریٰ میں محمول کی جگہ اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ، تو یہ چار شکلیں بنتی ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہی اب بیان کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وجہ حصر یہ ہے أن يقال، کہ یوں کہا جائے: الحد الأوسط إما محمول الصغرى وموضوع الكبرى، کہ حد اوسط یا تو صغریٰ کا محمول ہو گا وموضوع الكبرى اور کبریٰ کا، حد اوسط کس مقام پہ آ رہا ہے؟ توجہ رکھنا شکلوں پر بھئی، حد اوسط کہاں آیا؟ صغریٰ میں محمول اور کبریٰ میں موضوع، كما في قولنا، جیسے ہمارے اس قول کے اندر ہے: العالم متغير، یہ عالم بدلنے والا ہے، تبدیلیاں اس میں آتی رہتی ہیں، وكل متغير حادث، اور ہر متغیر حادث ہوتا ہے یعنی فانی ہوتا ہے، معلوم ہوا یہ عالم بھی کیا ہے؟ فانی ہے، فنا ہونے والا۔ حادث کس کو کہتے ہیں بھئی؟ جس پر جس پر پہلے عدم آیا ہو۔ حادث کسے کہتے ہیں یہ اصطلاحی لفظ بھئی؟ مسبوق بالعدم، جس پر پہلے عدم آیا ہو یعنی ایک زمانہ ایسا تھا جب اس کا وجود نہیں تھا، اب یہ کائنات بھئی کائنات، جیسے سائنسدان کہتے ہیں اربوں سال پرانی ہے یہ کائنات، کیا کہتے ہیں؟ اربوں سال پرانی ہے، لیکن بہرحال ایک حد ہے، بعض کہتے ہیں پانچ ارب سال، بعض کتنا بتلاتے ہیں؟ کہ پانچ ارب سال یہ پرانی ہے، زندگی اس پر جو ہے وہ تو اتنی طویل کوئی اتنی زیادہ پرانی نہیں، لیکن یہ خود کتنی پرانی ہے؟ پانچ ارب سال پرانی ہے، معلوم ہوا پانچ ارب سال پہلے اس کا وجود نہیں تھا۔ معلوم ہوا پانچ ارب سال پہلے اس کا وجود نہیں تھا، یہ تو یہ سائنسدان بھی تسلیم کرتے ہیں بھئی۔ تو تو اس پر معلوم ہوا ایک زمانہ تھا جب اس کا وجود نہیں تھا۔ تو جس پر پہلے عدم ہو آیا ہو، پہلے معدوم تھی، پھر اس کا وجود آیا ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حادث، اور اس کے مقابلے میں ہے قدیم، قدیم اس کو کہتے ہیں جو مسبوق بالعدم نہ ہو، جس پر کبھی پہلے عدم نہ آیا ہو، اور قدیم صرف اللہ کی ذات اور صفات ہیں بھئی، باقی کوئی چیز قدیم نہیں، یہ آسمان بھی نہیں، زمین بھی نہیں، فرشتے بھی نہیں، کوئی چیز نہیں بھئی۔ سب کے سب کیا ہیں؟ حادث ہیں، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں یہی بات بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: العالم متغير، یہ عالم متغیر ہے، بدلتا رہتا ہے، اس میں تبدیلیاں آتی ہیں، وكل متغير حادث، اور ہر وہ چیز جو بدلنے والی ہو وہ کیا ہے؟ حادث ہے، ينتج، یہ نتیجہ دیتا ہے: العالم حادث، کہ عالم حادث ہے۔ عالم، تو دیکھیے بھئی! یہ ہے شکل اول، فهو الشكل الأول، یہ کیا ہے؟ شکل اول ہے۔ اب ذرا یہ قیاس کیا تھا بھئی؟ العالم متغير وكل متغير حادث، یہ ہے قیاس بھئی، یہ کیا ہے؟ قیاس، اور نتیجہ کیا ہے؟ العالم حادث، اچھا صغریٰ کیا ہے اس کے اندر قیاس کے اندر؟ العالم متغير، یہ کیا ہے؟ صغریٰ، اور وكل متغير حادث، یہ کیا ہے؟ یہ ہے کبریٰ۔ بھئی نتیجے پر ذرا آؤ، انہوں نے کیا کہا تھا نتیجہ کیا بتایا انہوں نے؟ العالم حادث، نتیجے کا جو موضوع ہے وہ کیا ہے؟ العالم، یہ ہے اصغر بھئی، العالم کیا ہے؟ اصغر۔ تو یہ اصغر یہ کہاں پر آیا؟ پہلے مقدمے میں کہ دوسرے مقدمے میں قیاس میں؟ پہلے میں، تو جس میں نتیجے کا موضوع مذکور ہو، اس کو کیا کہتے تھے؟ جس میں اصغر ہو اس کو کیا کہتے تھے؟ صغریٰ، تو پہلا قضیہ العالم متغير یہ ہے صغریٰ، کیونکہ اس کے اندر اصغر العالم آیا۔ اور نتیجے کا محمول کیا ہے؟ حادث، یہ ہے اکبر بھئی، پچھلے قضیے مقدمے کے اندر دیکھیں: حادث، یہ پہلے مقدمے میں آیا دوسرے میں آ رہا ہے؟ دوسرے میں، وكل متغير حادث، اس کے اندر اکبر آیا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو کبریٰ کہیں گے، تو یہ جو صغریٰ اور کبریٰ کو ہم نے ملایا ایک، تو اور تو یہ ایک شکل حاصل ہوئی کس اعتبار سے؟ حد اوسط کس مقام پر ہے بھئی؟ اس اعتبار سے، حد اوسط بھئی کون سا جز دونوں مقدموں میں آ رہا ہے؟ العالم متغير پہلا مقدمہ یعنی صغریٰ، وكل متغير حادث دوسرا مقدمہ یعنی کبریٰ، کون سا جز مکرر ہے ان کے درمیان؟ متغير، یہ دونوں میں آ رہا ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ یہ حد اوسط ہے، یہ حد اوسط، تو یاد رکھیے طریقہ یہ ہے نتیجہ نکالنے کا کہ حد اوسط کو گرا دیتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ چنانچہ دیکھیے العالم متغير، یہاں سے متغیر کو گرایا صرف العالم کو لیا، اگلے میں سے وكل متغير حادث، یہاں سے وكل متغير کو گرا دیا، یہ حد اوسط ہے، کیا رہ گیا؟ حادث، تو العالم کو حادث سے ملایا، کیا نکل آیا؟ نتیجہ: العالم حادث، نتیجہ نکل آیا، طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جب بھی قیاس کریں گے کیا کریں گے؟ جو حد اوسط تھا اس کو گرا کر باقیوں کو آپس میں جوڑ لیں گے تو کیا نکل آئے گا؟ نتیجہ نکل آئے گا بھئی۔ اچھا! اب بتائیے بھئی، حد اوسط پہلے میں کیا ہے، موضوع یا محمول؟ محمول، یعنی صغریٰ میں محمول ہے، اور کبریٰ میں کیا ہے؟ موضوع، اس کو شکل اول کہا، کیا کہا؟ شکل۔ ذہن میں رکھنا بھئی، حد اوسط صغریٰ میں محمول اور کبریٰ میں موضوع، جی! آگے دیکھیے: وإن كان محمولاً فيهما، اور اگر اگر حد اوسط دونوں کے اندر محمول ہو، حد اوسط دونوں میں محمول ہو، فهو الشكل الثاني، تو وہ کیا ہے؟ شکل ثانی ہے، كما تقول، جیسے آپ کہیں: كل إنسان حيوان، ہر انسان حیوان ہے، ولا شيء من الحجر بحيوان، اور کوئی بھی پتھر حیوان نہیں ہے۔ كل إنسان حيوان، ہر انسان حیوان ہے، صغریٰ، ولا شيء من الحجر بحيوان، اور کوئی بھی پتھر حیوان نہیں، یہ کیا ہے؟ کبریٰ، جی! فالنتيجة... 2 نہیں آئے گا۔ پہلے میں حیوان کہاں آیا، موضوع کی جگہ یا محمول کی جگہ؟ محمول کی جگہ۔ دوسرے میں حدِ اوسط کہاں پر ہے؟ وہاں بھی محمول کی جگہ ہے اور انہوں نے بھی یہی کہا تھا، شکلِ ثانی میں حدِ اوسط دونوں جگہ کہاں آئے گا؟ محمول کی جگہ آئے گا۔ تو حیوان، حیوان کو ہم نے گرا دیا۔ آگے نتیجہ نکل آیا بھئی، لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ۔ لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ، کوئی بھی انسان پتھر نہیں۔ کیونکہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ ہر انسان حیوان ہے۔ ہر انسان حیوان، ہر انسان حیوان، اچھا۔ اور کوئی بھی پتھر حیوان نہیں، تو اب حیوان تو گر گیا۔ اب انسان اور حجر رہ گئے، کیا رہ گئے؟ انسان اور حجر رہ گئے، جب انہوں نے آپ کو بتا دیا کہ ہر انسان حیوان ہے اور آگے رہ گیا، اگلے میں آگیا کہ کوئی پتھر حیوان نہیں، تو حیوان اور انسان کو اب کس طرح ملائیں گے، کیا کہیں گے؟ ہر انسان تو حیوان ہے اور پتھروں میں سے کوئی بھی حیوان نہیں، تو معلوم ہوا کوئی بھی انسان پتھر نہیں ہے بھئی۔ صورت یہاں تھوڑا غور کرنا پڑتا ہے۔ پہلے میں غور کرنا ہی نہیں پڑتا تھا، یہاں کیا کرنا پڑے گا آپ کو؟ تھوڑا غور کرنا پڑے گا اور پھر نتیجہ آپ کو حاصل ہوگا اور نتیجہ نکالا لَا شَيْءَ، آپ کہیں گے پہلے میں تو آیا تھا، پہلا تو موجبہ ہے، کُلُّ إِنسَانٍ حَيَوَانٌ اور دوسرا ہے سالبہ، لَا شَيْءَ مِنَ الْحَجَرِ بِحَيَوَانٍ، تو نتیجہ موجبہ کیوں نہیں آیا، سالبہ کیوں نہیں، سالبہ کیوں آیا؟ یاد رکھنا آگے جا کر آپ کو بتائیں گے کہ موجبہ اور سالبہ اگر آجائیں تو نتیجہ ہمیشہ سالبہ آئے گا۔ نتیجہ ہمیشہ کیا آئے گا؟ سالبہ آئے گا۔ موجبہ اعلیٰ ہے، سالبہ ادنیٰ ہے اور نتیجہ ہمیشہ ادنیٰ والے کے مطابق آتا ہے۔ موجبہ میں تو اثبات ہوتا ہے، سالبہ میں نفی ہوتی ہے، اعلیٰ کون ہوا؟ موجبہ، جس میں ایک چیز کا دوسری کے لیے اثبات ہے اور تو معلوم ہوا سالبہ ادنیٰ ہے تو اور نتیجہ ہمیشہ کس کے تحت کون سا آتا ہے؟ ادنیٰ والے کی طرح آئے گا۔ ایک کلیہ ہے، ایک کلی ہے، ہاں، ایک قضیہ کلیہ ہے، ایک جزئیہ ہے۔ اعلیٰ کون؟ کلیہ اعلیٰ، جزئیہ ادنیٰ، لہٰذا جہاں کلیہ اور جزئیہ آجائیں اکٹھے تو وہاں نتیجہ ہمیشہ کیا آئے گا؟ جزئیہ آئے گا بھئی، بات سمجھ میں آئی؟ تو یہاں پر بھی ایک موجبہ ہے، ایک سالبہ ہے تو نتیجہ کیا آیا؟ سالبہ آیا بھئی۔ اچھا جی، یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ شکلِ اول میں کیا تھا؟ حدِ اوسط کس جگہ؟ محمول کی جگہ صغریٰ میں، صغریٰ میں محمول کی جگہ اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ۔ شکلِ ثانی، بھئی شکلِ اول کو تو وہ شکلِ اول اس لیے میں نے بتلایا اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ سب سے اعلیٰ ہے۔ اس میں ذہن فوراً نتیجے کی طرف منتقل ہوتا ہے بغیر غور و فکر کے، اس لیے اس کو پہلا نمبر دیا۔ اس شکلِ ثانی کو شکلِ ثانی دوسرے نمبر پر، دوسرا نمبر اس کو کیوں دیا بھئی؟ پھر تو تینوں میں غور و فکر کی ضرورت ہوگی اگر کہیں غور، ثالث بھی تو ہے اس کو دوسرے کی جگہ کیوں نہیں لائے؟ رابع کو دوسرے کی جگہ کیوں نہیں لائے؟ وجہ، وجہ سنیں بھئی، وجہ اس کی یہ بھئی، دیکھیے کہ شکلِ اول سب سے اعلیٰ اور اس میں حدِ اوسط پر نظر رکھنی ہے۔ شکلِ اول میں حدِ اوسط صغریٰ میں کہاں آیا تھا؟ محمول کی جگہ اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ، اچھا۔ شکلِ ثانی میں حدِ اوسط کہاں آیا ہے؟ دونوں میں محمول کی جگہ آیا۔ معلوم ہوا، اس کا غور کریں ذرا، اس کا صغریٰ، شکلِ اول کے صغریٰ کی طرح ہے؟ شکلِ اول میں محمول کہاں آیا تھا صغریٰ میں؟ محمول کی جگہ، یہاں بھی صغریٰ میں محمول کہاں آرہا ہے؟ محمول کی جگہ، تو اس کا صغریٰ اس کے صغریٰ کی طرح ہوگیا اور کبریٰ میں وہاں کہاں آیا تھا محمول؟ موضوع اور یہاں کہاں آرہا ہے؟ یہاں محمول کی جگہ، تو کبریٰ اس کا کبریٰ اس کے کبریٰ کی طرح نہیں، لیکن اس کا صغریٰ اس کے صغریٰ کی طرح ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اب یہ اس اور صغریٰ اور کبریٰ میں سے اعلیٰ کون؟ صغریٰ اعلیٰ ہے، تو اس کی مشابہت اعلیٰ چیز کے ساتھ ہوگئی لہٰذا اس کو ہم نے دوسرا نمبر دے دیا۔ اگلی شکل کے اندر اس کی کبریٰ کی مشابہت شکلِ اول کے ساتھ ہوگی۔ تو ایک، ایک شکل میں صغریٰ کے ساتھ مشابہت ہے، اس سے اگلی شکل میں کبریٰ کے ساتھ مشابہت ہے، تیسری شکل میں کسی کے ساتھ مشابہت نہیں ہوگی۔ تو ان میں سے پھر بہتر کون سا ہوا؟ ایک کی مشابہت شکلِ اول کے، شکلِ اول کا تو بتا دیا وہ سب سے اعلیٰ ہے۔ پھر باقی تین رہ گئے، تین میں سے ایک میں ایک کی مشابہت ایک کے صغریٰ کی مشابہت صغریٰ سے ہے، ایک شکل کے کبریٰ کی مشابہت پہلی شکل کے کبریٰ سے ہے اور ایک شکل کی مشابہت ان دونوں میں سے کسی کے ساتھ بھی نہیں ہے، تو ان تین میں سے سب سے اعلیٰ کون سا ہوا؟ ان تین شکلوں میں سے، جس کے صغریٰ کی مشابہت کس سے ہو؟ صغریٰ، کیونکہ صغریٰ اور کبریٰ میں سے صغریٰ اعلیٰ ہے نا، تو جس کی اعلیٰ کے ساتھ مشابہت وہ پہلے اس کو دوسرے پہ اس لیے لے آئے اور اس سے اگلے کی مشابہت کس کے ساتھ تھی؟ کبریٰ کے ساتھ تھی لہٰذا اس کو اس سے اگلے نمبر پر رکھا اور چوتھے نمبر والا اس کی کسی کے ساتھ بھی مشابہت نہیں تھی اس لیے اس کو سب سے آخر میں رکھا، وجہ سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَ مَوْضُوعًا فِيهِمَا، اور اگر حدِ اوسط دونوں میں موضوع ہو یعنی صغریٰ میں بھی اور کبریٰ میں بھی، فَهُوَ الشَّكْلُ الثَّالِثُ، تو وہ تیسری شکل ہے، نَحْوُ: كُلُّ إِنسَانٍ حَيَوَانٌ، ہر انسان حیوان ہے، وَبَعْضُ الْإِنْسَانِ كَاتِبٌ، اور بعض انسان کاتب ہیں۔ کون سا جز دونوں قضیوں میں مقرر آرہا ہے؟ إِنسَانٌ دونوں میں آرہا ہے اور یہ پہلے میں بھی موضوع کی جگہ، دوسرے میں بھی موضوع کی جگہ، تو یہ کون سی شکل ہوئی؟ شکلِ ثالث ہوئی۔ تو باقی کیا رہ گیا؟ حیوان اور کاتب، اچھا۔ ایک ہے کلی، كُلُّ إِنسَانٍ حَيَوَانٌ، ایک ہے وَبَعْضُ الْإِنْسَانِ كَاتِبٌ، ایک ہے جزئی تو نتیجہ کیا آئے گا؟ جزئیہ آئے گا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کیا کہیں گے؟ بَعْضُ الْحَيَوَانِ كَاتِبٌ، دیکھا یُنْتِجُ بَعْضُ الْحَيَوَانِ كَاتِبٌ کہ بعض حیوان کیا ہیں؟ کاتب ہیں۔ تو دیکھیے، شکلِ ثانی میں محمول صغریٰ کی مشابہت تھی شکلِ اول کے صغریٰ کے ساتھ اور شکلِ ثالث کے کبریٰ کی مشابہت شکلِ اول کے کبریٰ کے ساتھ ہے۔ اس میں بھی کیا تھا محمول، شکلِ اول میں حدِ اوسط کہاں آیا تھا؟ موضوع کی جگہ اور شکلِ ثالث میں بھی کبریٰ کے اندر حدِ اوسط کہاں آیا ہے؟ بات سمجھ بھی آرہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ سب کو سمجھ میں آرہی ہے بات؟ وَإِنْ كَانَ مَوْضُوعًا، جی، نتیجہ دیکھ لیا بھئی، بَعْضُ الْحَيَوَانِ كَاتِبٌ بھئی تو، یہ نتیجہ ہے۔ وَإِنْ كَانَ مَوْضُوعًا فِي الصُّغْرَى وَمَحْمُولًا فِي الْكُبْرَى، اور اگر حدِ اوسط موضوع ہو صغریٰ میں وَمَحْمُولًا فِي الْكُبْرَى اور محمول ہو کس میں؟ کبریٰ میں، اب دیکھیے اس کی کسی کے ساتھ بھی مشابہت نہیں۔ صغریٰ میں حدِ اوسط موضوع ہے حالانکہ شکلِ اول میں کیا تھا؟ محمول کی جگہ تھا اور محمول ہے کبریٰ کے اندر حدِ اوسط حالانکہ شکلِ اول میں وہ کیا تھا؟ موضوع کی جگہ، تو کسی سے بھی مشابہت نہ آئی، فَهُوَ الشَّكْلُ الرَّابِعُ، یہ شکلِ رابع چوتھی شکل ہے، نَحْوُ قَوْلِنَا: كُلُّ إِنسَانٍ حَيَوَانٌ وَبَعْضُ الْكَاتِبِ إِنسَانٌ۔ كُلُّ إِنسَانٍ حَيَوَانٌ یہ صغریٰ، وَبَعْضُ الْكَاتِبِ إِنسَانٌ یہ ہے کبریٰ، کون سا جز مقرر آرہا ہے؟ انسان، یہ انسان معلوم ہوا حدِ اوسط ہے بھئی، حدِ اوسط۔ اچھا، اب کیا رہ گیا؟ حیوان اور کاتب رہ گئے، حیوان اور کاتب، اچھا۔ پہلا کیا ہے؟ کلی، پہلا کلیہ ہے مقدمہ، دوسرا کیا ہے؟ جزئیہ، نتیجہ کیا آئے گا؟ جزئیہ آئے گا بھئی، دیکھیے یُنْتِجُ تو یہ نتیجہ دیتا ہے بَعْضُ الْحَيَوَانِ كَاتِبٌ کہ بعض حیوان، بعض حیوان کاتب ہیں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی سب کو؟ شکلِ اول کو پہلا درجہ کیوں دیا؟ کیونکہ اس میں ذہن فوراً نتیجے کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اس وجہ سے۔ شکلِ ثانی کو یہ دوسرا درجہ کیوں دیا؟ کیونکہ اس کی مشابہت ہے صغریٰ کے ساتھ یعنی اعلیٰ کے ساتھ۔ شکلِ ثالث کو ثالث کیوں پر لے کر آئے تیسرے نمبر پر؟ کیونکہ اس کی مشابہت ہے شکلِ اول کے کبریٰ کے ساتھ۔ رابع کو شکلِ رابع کو چوتھے نمبر پہ کیوں لے گئے؟ اس کے شکلِ اول کے کسی کے ساتھ مشابہت نہیں نہ صغریٰ کے ساتھ اور نہ کبریٰ کے ساتھ، جی۔ آگے دیکھیے، فَصْلٌ، أَيْ هَذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے، وَأَشْرَفُ الْأَشْكَالِ مِنَ الْأَرْبَعَةِ الشَّكْلُ الْأَوَّلُ، اور سب سے اشرف شکل یعنی سب سے افضل شکل بھئی، سب سے افضل شکلوں میں سے سب سے افضل جو ہے ان چار میں سے، سب سے افضل شکل الشَّكْلُ الْأَوَّلُ، وہ کون سی شکل ہے؟ شکلِ اول ہے۔ تو کہتے ہیں: وَأَشْرَفُ الْأَشْكَالِ مِنَ الْأَرْبَعَةِ الشَّكْلُ الْأَوَّلُ، اور ان چار شکلوں میں سے سب سے افضل جو ہے وہ شکلِ اول ہے، وَلِذَلِكَ، اور اسی وجہ سے، كَانَ إِنْتَاجُهُ بَيِّنًا، اس کا نتیجہ دینا بَیِّنًا، کیا ہے؟ واضح ہے۔ اس کا نتیجہ دینا، یہ بڑے واضح طریقے سے نتیجہ دیتی ہے، تو اس کا نتیجہ دینا واضح ہے بَدِيهِيًّا، بدیہی ہے، کیا معنی؟ بدیہی کس کو کہتے تھے؟ جس میں غور و فکر نہیں کرنا پڑتا، خود بخود ذہن کس کی طرف منتقل ہوجاتا ہے؟ نتیجے کی طرف۔ تو بدیہی، اس کا نتیجہ دینا واضح ہے، بدیہی ہے، خود بدیہی کا معنی بھی کر رہے ہیں بھئی دیکھیے، يَسْبِقُ الذَّهْنُ فِيهِ إِلَى النَّتِيجَةِ، سبقت کرتا ہے ذہن اس کے اندر نتیجے کی طرف۔ سبقت کرتا ہے یعنی جلدی سے چلا جاتا ہے، تیزی سے چلا جاتا ہے ذہن اس کے اندر نتیجے کی طرف، سَبْقًا طَبَعِيًّا، طبعی سبقت بھئی، مِنْ دُونِ حَاجَةٍ إِلَى فِكْرٍ وَتَأَمُّلٍ، بغیر فکر و غور و فکر کی حاجت کے۔ یعنی اس میں غور و فکر کی حاجت نہیں ہوتی، ذہن طبعی طور پر خود بخود بھئی کس طرف منتقل ہوجاتا ہے؟ نتیجے کی طرف۔ تو یہ معنی ہے: كَانَ إِنْتَاجُهُ بَيِّنًا بَدِيهِيًّا يَسْبِقُ الذَّهْنُ فِيهِ إِلَى النَّتِيجَةِ سَبْقًا طَبَعِيًّا مِنْ دُونِ حَاجَةٍ إِلَى فِكْرٍ وَتَأَمُّلٍ، اس کا نتیجہ دینا واضح ہے ایسا بدیہی ہے کہ ذہن سبقت کر جاتا ہے اس میں نتیجے کی طرف طبعی طور پر بغیر کسی ضرورت کے، غور و فکر کی طرف۔ وَلَهُ شَرَائِطُ وَظُرُوبٌ، یہ شکلِ اول ہے، اب اسی کی تفصیل بیان کرتے چلے جارہے ہیں بھئی، بتلایا یہ سب سے افضل ہے کیونکہ افضل کیوں ہے؟ کیونکہ اس میں ذہن فوراً کس کی طرف منتقل ہوجاتا ہے؟ نتیجے کی طرف، غور و فکر کی ضرورت نہیں پڑتی، البتہ بتلا رہے ہیں اس کی کچھ شرائط ہیں بھئی، وَظُرُوبٌ اور اس کی اقسام ہیں، ظرف کس کو کہتے ہیں؟ قسم کو۔ تو کہتے ہیں: لَهُ شَرَائِطُ وَظُرُوبٌ، اس کی شرطیں ہیں اور قسمیں ہیں۔ أَمَّا الشَّرَائِطُ فَاثْنَانِ، باقی شرطیں جو ہیں وہ دو ہیں۔ اس شکلِ اول کی دو شرطیں ہیں، شکلِ اول میں کیا تھا؟ حدِ اوسط کہاں آتا تھا؟ صغریٰ میں محمول اور کبریٰ میں موضوع، تو یہ دو شرطیں اب ذکر کر رہے ہیں کہ اس کی دو شرطیں ہیں: أَحَدُهُمَا إِيجَابُ الصُّغْرَى، ان دونوں میں سے ایک جو ہے إِيجَابُ الصُّغْرَى، صغریٰ کا ایجاب یعنی صغریٰ کا موجبہ ہونا۔ پہلی شرط یہ ہے بھئی شکلِ اول کے اندر، صغریٰ یعنی پہلا مقدمہ موجبہ ہونا چاہیے، سالبہ نہیں۔ کیا ہونا چاہیے؟ موجبہ ہونا چاہیے، سالبہ نہیں ہونا چاہیے۔ وَثَانِيهِمَا، دوسری شرط ان دونوں میں سے، كُلِّيَّةُ الْكُبْرَى، کبریٰ کا کلی ہونا۔ کبریٰ کا، یعنی کبریٰ کلی ہونا چاہیے، جزئی نہیں۔ تو دو شرطیں ہیں، آسان سی شرطیں ہیں۔ شکلِ اول کی کتنی شرطیں ہیں؟ دو۔ کیا، پہلی شرط کیا؟ صغریٰ موجبہ ہونا چاہیے، سالبہ نہیں۔ دوسری شرط؟ کبریٰ کلیہ ہونا چاہیے، جزئیہ نہیں۔ یاد رہیں گی یہ شرطیں بھئی؟ دوبارہ دہراؤ، صغریٰ کی کیا شرط ہے؟ موجبہ ہونا چاہیے، سالبہ نہیں۔ اور کبریٰ کی کیا شرط ہے؟ کلیہ ہونا چاہیے، جزئیہ نہیں۔ معلوم ہوا كُلُّ إِنسَانٍ حَيَوَانٌ، یہ تو کبریٰ بن سکتا ہے، بَعْضُ الْإِنْسَانِ كَاتِبٌ، معلوم ہوا یہ جی؟ یہ نہیں بن سکتا بھئی، بَعْضُ الْإِنْسَانِ كَاتِبٌ۔ یہ، یہ جزئیہ ہے بھئی، کلیہ نہیں ہے بھئی لہٰذا یہ کبریٰ نہیں بن سکتا، تو شکلِ اول کی دو آسان سی شرطیں ہیں: صغریٰ موجبہ ہونا چاہیے، سالبہ نہیں ہونا چاہیے اور کبریٰ کلیہ ہونا چاہیے، جزئیہ نہیں ہونا چاہیے۔ تو یہ دو شرطیں ہیں، تو کہتے ہیں: أَمَّا الشَّرَائِطُ فَاثْنَانِ أَحَدُهُمَا إِيجَابُ الصُّغْرَى وَثَانِيهِمَا كُلِّيَّةُ الْكُبْرَى، باقی شرائط جو ہیں بس وہ دو ہیں، ان دونوں میں سے ایک صغریٰ کا ایجاب ہے اس کا موجبہ ہونا ہے وَثَانِيهِمَا كُلِّيَّةُ الْكُبْرَى اور دوسرا کبریٰ کا کلی ہونا ہے، فَإِنْ يُفْقَدَا مَعًا، پس اگر یہ مفقود ہوئے دونوں اکٹھے ہی، اگر یہ دونوں شرطیں اکٹھ- مفقود کا معنی ہے گم ہونا، نہ ہونا بھئی۔ اگر یہ دونوں شرطیں مفقود ہوئیں اکٹھی، ایک بھی نہیں پائی جارہی یا دونوں میں سے کوئی ایک شرط مفقود ہوئی تو اس صورت میں کہتے ہیں پھر نتیجہ لازم نہیں۔ پھر نتیجہ لازم نہیں ہے بھئی، پھر یعنی نتیجہ آنا ضروری نہیں بھئی، جیسے کہتے ہیں پھر آپ غور و فکر کر سکتے ہیں، مختلف مثالیں بنا لیں، آپ کے سامنے خود ہی بات واضح ہو جائے گی۔ کس، کب نتیجہ ضروری نہیں ہے؟ جب دونوں نہ پائی جائیں، دونوں ہی شرطیں نہ ہوں یا دونوں میں سے ایک، بھئی یہ شرط تھی، شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، وضو ہے تو نماز ہے، وضو نہیں تو نماز بھی، تو یہ شرطیں ہیں ان کا ہونا ضروری ہے۔ ایک ان میں سے نہ ہوئی تو بھی نتیجہ لازمی نہیں، دونوں نہ ہوئیں پھر تو بطریقِ اولیٰ نتیجہ لازمی نہیں ہے، یہ معنی ہے: فَإِنْ يُفْقَدَا مَعًا، تثنیہ کا صیغہ ہے، اگر یہ دونوں اکٹھی ہی مفقود ہوئیں دونوں شرطیں یعنی نہ پائی گئیں، أَوْ يُفْقَدْ أَحَدُهُمَا، یا دونوں میں سے ایک مفقود ہوئی یعنی نہ پائی گئی، لَا يَلْزَمُ النَّتِيجَةُ، تو نتیجہ لازم نہیں ہے، كَمَا يَظْهَرُ عِنْدَ التَّأَمُّلِ، جیسے کہ ظاہر ہے، ہوتا ہے غور و فکر کے وقت بھئی، غور و فکر کر لیں تو یہ بات آپ پر ظاہر ہو جائے گی بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔