LESSONS NO. 67 1 فصلٌ: لَا بُدَّ فِي التَّنَاقُضِ فِي الْمَحْصُورَتَيْنِ مِنْ كَوْنِ الْقَضِيَّتَيْنِ مُخْتَلِفَتَيْنِ فِي الْكَمِّ، أَعْنِي الْكُلِّيَّةَ وَالْجُزْئِيَّةَ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا كُلِّيَّةً تَكُونُ الْأُخْرَى جُزْئِيَّةً. بھئی! گزشتہ سبق میں تناقض کی بحث آپ نے شروع کی تھی بھئی۔ اور آپ نے پڑھا تھا کہ دو قضیوں کے درمیان تناقض کے لیے آٹھ وحدتوں کا ہونا ضروری ہے۔ کتنی وحدتیں؟ آٹھ وحدتوں کا ہونا ضروری ہے، اور جن کو ایک شاعر نے ان اشعار میں جمع کیا تھا: در تناقض ہشت وحدت شرط دان وحدتِ موضوع و محمول و مکاں وحدتِ شرط و إضافت جزو و کل قوت و فعل است در آخر زماں آج آپ کو بتلائیں گے کہ دو قضیہ محصورہ جو ہیں، ان کے اندر تناقض کے لیے آٹھ شرطوں کے ساتھ ساتھ ایک نویں شرط بھی ضروری ہے بھئی۔ کس میں؟ دو قضیہ محصورہ۔ قضیہ محصورہ کس کو کہتے تھے؟ وہ قضیہ جس کے اندر کلیت یا جزئیت ذکر ہوتی ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ"۔ تو دیکھو تمام افرادِ انسان پر یہ حکم لگایا گیا ہے "كُلُّ" کے لفظ نے بتلایا۔ یا اسی طرح آپ کہتے ہیں: "بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ"۔ تو یہاں دیکھیے بعض حیوانات پر کیا حکم لگایا گیا؟ انسان ہونے کا۔ تو وہ قضیہ جس میں افراد کی مقدار بیان ہو یعنی ان کی کلیت یا جزئیت بیان ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟ قضیہ محصورہ۔ اور پھر آپ کو یہ بتلائیں گے کہ قضیہ محصورہ کے اندر آٹھ شرطوں کے ساتھ ساتھ ایک نویں شرط بھی ہے۔ آٹھ چیزوں میں تو وحدت ہونی چاہیے بھئی۔ یہ جو پہلے گزر گئی ہیں۔ ان آٹھ چیزوں میں وحدت ہو اور کمیت کے اندر بھئی، یعنی مقدار کے اندر، ان میں اختلاف ہونا چاہیے۔ یعنی اگر ایک قضیہ کلیہ ہے تو دوسرا جزئیہ ہونا چاہیے بھئی۔ دونوں کلیہ ہوں تو بھی صحیح نہیں ہو سکتا، تناقض نہیں ہوگا۔ دونوں جزئیہ ہوں تو بھی تناقض نہیں ہوگا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ دو قضیہ محصورہ کے درمیان تناقض کے لیے نویں شرط کیا ہے؟ کہ ان کے، ان کے کمیت میں اختلاف ہونا چاہیے۔ ایک میں کلیت ذکر ہے تو دوسرے میں جزئیت ذکر ہونی چاہیے بھئی۔ دیکھیے بھئی: "فصلٌ" یعنی "هَذَا فَصْلٌ"، یہ فصل ہے۔ "لَا بُدَّ فِي التَّنَاقُضِ فِي الْمَحْصُورَتَيْنِ" ضروری ہے دو محصورہ میں تناقض کے لیے "مِنْ كَوْنِ الْقَضِيَّتَيْنِ مُخْتَلِفَتَيْنِ فِي الْكَمِّ" دونوں قضیوں کا مختلف ہونا کم کے اندر یعنی مقدار میں۔ کم سے کیا مراد ہے؟ "أَعْنِي الْكُلِّيَّةَ وَالْجُزْئِيَّةَ" یعنی کہ کلی اور جزئی ہونا۔ "فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا كُلِّيَّةً تَكُونُ الْأُخْرَى جُزْئِيَّةً" پس جب ان میں سے ایک کلیہ ہو تو دوسرا جزئیہ ہوگا بھئی۔ "لِأَنَّ الْكُلِّيَّتَيْنِ قَدْ تَكْذِبَانِ" اس لیے کیونکہ دونوں کلیے کبھی کبھار جھوٹے ہوتے ہیں۔ یعنی ایک بھی صادق نہیں آتا اگر دونوں کلی ہوئے تو دونوں میں تناقض نہیں آئے گا بھئی، تناقض نہیں ہوگا۔ تناقض تو کس کو کہتے تھے؟ کہ دو قضیوں کا اس طور پر ہونا کہ ایک کا سچا ہونا وہ اپنی ذات کے اعتبار سے تقاضا کرتا ہے دوسرے کے جھوٹا ہونے کا۔ اور اگر دونوں کلیہ ہوں تو کبھی کبھار کیا ہوں گے دونوں؟ "قَدْ تَكْذِبَانِ" کبھی دونوں کیا ہوں گے؟ جھوٹے ہوں گے، یعنی صادق نہیں آئیں گے۔ "كَمَا تَقُولُ" جیسے کہ آپ کہتے ہیں: "كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ" ہر حیوان انسان ہے۔ یہ ایک قضیہ ہوا۔ اور قضیہ محصورہ ہے دیکھئے "كُلُّ" کا لفظ شروع میں آیا بھئی۔ "وَلَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِإِنْسَانٍ" اور کوئی بھی حیوان انسان نہیں ہے۔ یہ سالبہ ہوا اور کلیہ ہے کیونکہ "لَا شَيْءَ" شروع میں آیا بھئی۔ تو دیکھیے "كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ"، ہر حیوان انسان ہے۔ آپ بتائیے، یہ قضیہ سچا ہے یا جھوٹا ہے بھئی؟ ہر حیوان انسان ہے؟ حالانکہ حیوان میں تو گائے بھی آ گئی، بکری بھی آ گئی اور حیوانات بھی آ گئے، وہ سب تو انسان نہیں۔ تو دیکھیے یہ قضیہ کلیہ ہے اور صادق نہیں ہے بھئی۔ اور دوسرا ہے "وَلَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِإِنْسَانٍ"، کوئی بھی حیوان انسان نہیں ہے۔ یہ بھی دیکھیے قضیہ درست نہیں، سچا نہیں، صادق نہیں آ رہا۔ کیونکہ بعض حیوانات کیا ہیں؟ انسان ہیں۔ اور اس میں تو کیا کہا جا رہا ہے؟ کوئی بھی حیوان انسان نہیں ہے۔ تو دیکھیے، دو قضیے ہیں اور دونوں کلیہ ہیں اور جھوٹے ہیں بھئی، صادق نہیں آ رہے۔ "كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ" یہ بھی، اور دوسرا سالبہ ہے "وَلَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِإِنْسَانٍ"۔ دونوں کلیہ ہیں لہٰذا دونوں کیا ہوئے؟ صادق نہیں آ رہے، دونوں جھوٹے ہیں بھئی۔ "وَالْجُزْئِيَّتَيْنِ قَدْ تَصْدُقَانِ" اور دونوں جزئیہ جو ہیں وہ کبھی کبھار دونوں سچے ہوتے ہیں۔ "كَقَوْلِكَ" جیسے کہ آپ کا یہ قول ہے: "بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ" بعض حیوانات انسان ہیں۔ یہ صادق ہے یا نہیں بھئی؟ بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان ہیں، یہ صادق ہے۔ اور دوسرا "وَبَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ" بعض حیوان انسان نہیں ہیں، یہ بھی صادق ہے۔ تو دیکھو دونوں صادق ہیں۔ حالانکہ تناقض کس کو کہتے تھے؟ کہ ایک کا سچا ہونا دوسرے کے جھوٹا ہونے کا تقاضا کرتا ہے۔ حالانکہ اس میں جب دونوں کلیے تھے تو دونوں جھوٹے تھے، اور جب دونوں جزئی ہیں تو دونوں سچے ہیں بھئی۔ "وَيَكُونُ ذَلِكَ فِي كُلِّ مَادَّةٍ يَكُونُ الْمَوْضُوعُ أَعَمَّ فِيهَا" کہتے ہیں یہ ہر اس مادے کے اندر ہوگا جہاں پر موضوع زیادہ عام ہو بھئی۔ یعنی محمول سے۔ بھئی ایک ہے موضوع، ایک ہے محمول۔ پہلا جزو کیا کہلاتا ہے؟ موضوع۔ اور جس کا حمل کیا گیا، دوسرا جزو جو ہے وہ محمول۔ تو "كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ"، موضوع کیا ہے؟ حیوان۔ اور محمول کیا ہے؟ انسان بھئی، انسان۔ اب دونوں میں سے دیکھیے: حیوان زیادہ عام ہے کہ انسان زیادہ عام ہے؟ حیوان زیادہ عام ہے، حیوان کے افراد زیادہ ہیں۔ کیونکہ اس میں گائے بھی آ گئی، انسان بھی ہیں اس میں، اور اس کے علاوہ اور جاندار بھی اس میں داخل ہو گئے، تو یہ انسانوں سے بڑھ گئے بھئی۔ تو دیکھو، اس میں موضوع کیا ہے؟ محمول سے اعم ہے۔ اور جہاں پر بھی ایسا ہوگا، موضوع محمول سے اعم ہوگا، وہاں پر دونوں کلی بنائیں گے تو دونوں جھوٹے ہوں گے، ان میں تناقض نہ رہے گا۔ اور دونوں جزئی بنائیں گے تو دونوں صادق ہو جائیں گے، ان میں تناقض نہ رہے گا۔ تو تناقض کے لیے، یہ ثابت یہ کرنا چاہتے ہیں بھئی، کہ تناقض کے لیے کم کے اندر اختلاف ضروری ہے، ایک کلی ہو تو دوسرا جزئی ہونا چاہیے۔ مثلاً بھئی کوئی ایک پکڑ لیں بھئی: "كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ"۔ "كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ"، اس کا اس کی نقیض کیا آئے گی؟ بھئی دیکھیے بھئی دیکھیے، موضوع کو موضوع رکھیں، محمول کو محمول رکھیں، ان کو نہیں بدلنا آپ نے۔ صرف ایک موجبة ہے تو دوسرے کو سالبة بنانا ہے۔ پہلا کیا ہے؟ "كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ"۔ دوسرا، اب کلی نہیں بنانا کیونکہ ابھی آپ نے پڑھا کہ تناقض کے لیے کیا ضروری؟ کم کے اندر اختلاف ضروری، اگر ایک کلی ہے تو دوسرا کیا ہونا چاہیے؟ جزئی۔ تو "كُلُّ" کی جگہ کیا لے آؤ؟ "بَعْضُ" لے آؤ۔ اور موضوع محمول کو اسی طرح رکھیں، بس صرف سالبة بنا دو۔ پہلا موجبة تھا نا، تو دوسرا کیا ہوگا؟ سالبة۔ تو یہ تو ہمیشہ ہی ہوگا، ایک موجبة ہو تو دوسرا سالبة لانا پڑے گا بھئی۔ لیکن صرف کیا فرق کرنا ہے آپ نے؟ کم، کم کے اندر فرق لانا ہے بھئی۔ پہلا کیا تھا؟ "كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ"۔ دوسرا کیا ہوگا؟ موضوع کو موضوع رکھیں، محمول کو محمول رکھیں اسی طرح۔ "بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ"۔ "بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ"۔ پہلے کا کیا ترجمہ ہوا؟ "كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ"، ہر حیوان انسان۔ صادق ہے، کاذب ہے؟ کاذب۔ دوسرے کو دیکھو ذرا: "بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ"، بعض حیوان انسان نہیں ہیں۔ صادق ہے، کاذب ہے؟ یہ صادق ہے۔ تو دوسرے کا صدق تقاضا کر رہا ہے کہ پہلے کو کیا ہونا چاہیے؟ کاذب ہونا چاہیے، یہ ہے تناقض۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جب بھی دو قضیہ محصورہ کے درمیان تناقض لانا ہو تو کیا ضروری؟ آٹھ وحدتوں کے ساتھ ساتھ ایک نویں شرط بھی ہے اور وہ کیا؟ کم کے اندر دونوں کا اختلاف ہونا چاہیے، ایک کلی ہے تو دوسرا جزئی۔ موضوع محمول کی جگہ نہیں بدلنی بھئی۔ موضوع کو موضوع کی جگہ رکھنا ہے، محمول کو محمول کی جگہ رکھنا ہے۔ اور یہ تو پتہ ہی ہے آپ کو ایک موجبة ہو تو دوسرا کیا بنانا ہے؟ سالبة بنانا ہے۔ صرف اب کس میں اختلاف لانا ہے؟ کم کے اندر۔ ایک کلی ہے تو دوسرا جزئی، اور اگر پہلا جزئی ہے تو دوسرا کلی ہونا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو انہوں نے جو بتلایا نا کہ کبھی دونوں سچے ہوں گے اور کبھی دونوں جھوٹے ہوں گے، کہتے ہیں یہ ہر اس مادے کے اندر ہوگا جہاں موضوع زیادہ عام ہو بھئی، جہاں موضوع محمول کے مقابلے میں زیادہ عام ہو۔ تو لہٰذا اسی وجہ سے کم کے اندر اختلاف ہونا چاہیے، ایک کلی ہے تو دوسرا جزئی ہے بھئی۔ مناطقہ کلی قانون بناتے ہیں بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ کلی قانون۔ تو اگر، اگر اسی طرح رکھیں تو ٹھیک ہے، بعض جگہ شاید بات چل جائے۔ بعض جگہ نقیض بن جائیں ایک دوسرے کی، لیکن ہر جگہ تو نہیں بنے گا اور ہم نے تو کس قسم کا قانون بنانا ہے؟ جو ہر جگہ پر چلے بھئی۔ اور یہ اگر جہت میں، یہ اگر کم کے اندر اختلاف نہ ہو، کم کے اندر اگر اختلاف نہ ہو، تو جہاں بھی موضوع اعم ہوگا وہاں پر کبھی دونوں سچے ہو جائیں گے اور کبھی دونوں جھوٹے ہو جائیں گے، اور تناقض نہ رہے گا۔ حالانکہ تناقض کے لیے ضروری تھا، ایک سچا ہے تو دوسرا جھوٹا ہو بھئی۔ "وَلَا بُدَّ فِي تَنَاقُضِ الْقَضَايَا الْمُوَجَّهَةِ مِنَ الِاخْتِلَافِ فِي الْجِهَةِ" اور ضروری ہے قضایا موجہہ میں تناقض میں جہت میں اختلاف ہونا بھئی۔ بھئی آپ نے موجہات پڑھے تھے بھئی۔ آٹھ بسيط تھے اور سات مرکبات بھئی۔ ان آٹھ بسيط میں سے اب ان کو ذکر کر رہے ہیں، اس کے بعد مرکبات کو بھی ذکر کریں گے۔ یہاں بتلا رہے ہیں بھئی کہ قضایا موجہہ کے اندر، قضایا موجہہ کے اندر جہت میں بھی اختلاف ہونا چاہیے۔ بھئی جہت جو ساتھ ذکر ہوتی تھی، کسی میں بالضرورة ذکر ہوتا تھا، کسی میں بالدوام ذکر ہوتا تھا، وغیرہ۔ کسی میں بالإمكان العام ذکر ہوتا تھا، یہ جو جہت ہے۔ تو اس میں بھی اختلاف ضروری ہے۔ یعنی قضایا موجہہ کے اندر ایک دسویں شرط بھی ہے۔ پہلی آٹھ بھی، اس کے بعد اگلی نویں شرط بھی، اور اب ایک اور شرط بھی ان کے اندر آ گئی، کتنی ہو گئیں؟ دس۔ تو یہاں پر ایک دسویں شرط بھی ضروری ہے۔ آٹھ چیزوں میں تو اتحاد ضروری تھا۔ نویں چیز اس میں اختلاف ضروری تھا، یعنی ایک کلی ہو تو دوسرا کیا ہونا چاہیے؟ جزئی۔ اور دسویں چیز وہ بھی اختلاف ہے کہ جہت ایک میں اگر ایک جہت ذکر ہے تو دوسرے میں دوسری جہت ذکر ہونی چاہیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یعنی ایک میں فرض کرو، ایک میں بالدوام ہے تو دوسرے میں کیا ہونا چاہیے؟ بالضرورة یا بالإمكان العام ہونا چاہیے، اس میں بھی بالضرورة نہیں ہوگا بھئی۔ جہت میں بھی اختلاف ضروری۔ تو معلوم ہوا قضایا موجہہ جو ہیں ان کے اندر کتنی شرطیں ہو گئیں؟ دس۔ آٹھ چیزوں میں اتحاد اور دو چیزوں میں اختلاف: ایک کلیت اور جزئیت، اور دوسرا جہت کے اندر اختلاف ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَلَا بُدَّ فِي تَنَاقُضِ الْقَضَايَا الْمُوَجَّهَةِ مِنَ الِاخْتِلَافِ فِي الْجِهَةِ" اور ضروری ہے قضایا موجہہ کے تناقض میں جہت میں اختلاف کا ہونا۔ تو یہ دونوں کے لیے بات ذکر کر دی، مرکبات کے لیے بھی اور بسيط کے لیے بھی، سب میں اسی طرح شرط ہے چاہے وہ موجہات بسيط میں سے ہوں چاہے مرکبات میں سے ہوں۔ آگے اب دیکھیے الگ الگ دونوں کو ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ سب سے پہلے بسيط ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: "فَنَقِيضُ الضَّرُورِيَّةِ..." اچھا! بھئی یہ جہت میں کیوں اختلاف ہونا چاہیے؟ پہلے یہاں پر یہ پچھلی بات ہی پوری سمجھ لیں بھئی۔ انہوں نے کیا کہا؟ قضایا موجہہ میں تناقض کے لیے جہت میں بھی اختلاف ضروری ہے۔ جہت میں بھی اختلاف ضروری ہے۔ مثلاً دیکھیے، آپ کہتے ہیں: "كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ"۔ "كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ"۔ اس کی نقیض کیا ہوگی بھئی؟ پہلا میں نے کیا قضیہ بتلایا؟ "كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ"۔ نقیض کیا آئے گی؟ ہاں شاباش! سب سے پہلے وہ کل کو کس سے بدلنا ہے؟ بعض سے۔ اور پہلا موجبة ہو تو دوسرے کو کیا لانا ہے؟ سالبة۔ اگر پہلا سالبة ہے تو دوسرے کو کیا لانا ہے؟ موجبة۔ اگر پہلا جزئی ہے، بعض کا ذکر ہے، تو دوسرے میں کیا لاؤ؟ کل لاؤ۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو بنائیے آپ بھئی! پہلا تھا "كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ"۔ "بَعْضُ الْإِنْسَانِ..." شاباش! شاباش بھئی! "لَيْسَ بِكَاتِبٍ"۔ اب ذرا جہت کو نہ بدلو، دیکھو کیا فرق پڑتا ہے۔ انہوں نے تو کہا نا جہت کا بدلنا ضروری ہے۔ کیوں ضروری ہے دیکھو: "بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِكَاتِبٍ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ"۔ ہم نے ابھی جہت نہیں بدلی۔ پہلا کیا تھا؟ "كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ"۔ دوسرا کیا ہوا؟ "بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِكَاتِبٍ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ"۔ دیکھیے، جہت نہیں بدلی تو تناقض نہ رہا، دونوں صادق ہیں مولانا۔ دونوں کیا ہیں؟ کس طرح دیکھیے: "كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ"، کیا معنی ہوا اس کا؟ یہ کون سی کون سا قضیہ ہے بھئی؟ موجہات میں سے کون سا قضیہ ہے؟ ممكنة عامة ہے۔ کون سا ہے؟ "بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ" بھئی، لفظ بتلا رہے ہیں۔ یہ ممکنہ عامہ ہے۔ ممکنہ عامہ کسے کہتے تھے؟ جس میں جانبِ مخالف کے ضرورت کا سلب ہو۔ کیا ہو؟ جانبِ مخالف کے ضرورت کا سلب ہو۔ اچھا! یہاں اس قضیے میں "كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ"، ایجاب ہے یا سلب ہے؟ "كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ"، ایجاب ہے یا سلب ہے؟ ایجاب۔ اس کی جانب، ایجاب کی جانبِ مخالف کیا ہوتی ہے؟ سلب۔ اچھا! اور کیا تھا؟ ممکنہ عامہ میں کیا ہوتا ہے؟ جانبِ مخالف کے ضرورت کا سلب ہوتا ہے۔ یعنی یہاں... 2 اس قضیے میں ایجاب کتابت ہے، تو دوسرے میں کیا ہوگا؟ اور اس اس سے کیا معلوم ہوا اس سے؟ جانب مخالف کی ضرورت کا سلب۔ جانب مخالف کیا ہے؟ سلب کتابت۔ اس میں کیا ذکر ہے؟ ایجاب کتابت۔ کتابت کا اثبات ہو رہا ہے یا نفی ہو رہی ہے؟ اثبات ہے، تو یہ ایجاب کتابت ہے۔ جانب مخالف کیا ہوئی؟ سلب کتابت۔ تو سلب کتابت کی ضرورت کا سلب ہوگا۔ سلب کتابت کی ضرورت کا سلب ہوگا۔ کیا بات کی تھی؟ ممکنہ عامہ کس کو کہتے ہیں؟ جس میں جانب مخالف کی ضرورت کا سلب ہو جانب مخالف کی ضرورت کا سلب ہو جانب مخالف کی جگہ اب سلب کتابت رکھیں۔ سلب کتابت کی ضرورت کا سلب ہو۔ یعنی سلب کتابت ضروری نہیں۔ سلب کتابت کی ضرورت کا سلب یعنی سلب کتابت ضروری نہیں بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی بھئی؟ وہی ممکنہ عامہ کی بات چل رہی ہے بھئی۔ کیا بات کی میں نے؟ کل انسان کاتب بالإمكان العام، یہ کون سا قضیہ موجہہ ہے؟ ممکنہ عامہ۔ ممکنہ عامہ کس کو کہتے تھے؟ جس میں جانب مخالف کی ضرورت کا سلب ہو، جانب مخالف کی ضرورت کا سلب ہو۔ اچھا یہ تین لفظ ذہن میں رکھیں جانب مخالف کی ضرورت کا سلب۔ اب جانب مخالف کی جگہ لے آئیں یہاں پر کیا ہے ایجاب کتابت ہے، اثبات کتابت ہے انسان کے لیے، تو اس کا سلب لے آؤ کیا بنے گا؟ جانب مخالف اس کی لے آؤ سلب کتابت، کیا ہوگا؟ اور سلب کتابت کی ضرورت کا سلب یعنی سلب کتابت ضروری نہیں۔ سلب کتابت ضروری نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس قضیے کا کیا معنی ہوا؟ کل انسان کاتب بالإمكان العام، یعنی ہر انسان کا کاتب ہونا ممکن ہے، جب کاتب ہونا ممکن ہے تو سلب کتابت انسان کے لیے ضروری نہیں۔ سلب کتابت انسان کے لیے ضروری نہیں، بھئی انہوں نے کہہ دیا نا کاتب ہونا جب ممکن ہے تو معلوم ہوا سلب کتابت انسان کے لیے ضروری نہیں، یہ اس سے ثابت ہوا۔ اچھا، دوسرا کیا بنایا آپ نے؟ بعض، اس کی نقیض بنائی تھی ہم نے اور جہت کو ہم نے نہیں بدلا تھا، اور کلی کی جگہ کیا لے آئے تھے؟ جزئی، اور پہلے ایجاب تھا تو دوسرے میں کیا لائیں گے؟ سلب۔ تو کیا بنے گا؟ بعض الإنسان ليس بكاتب بالإمكان العام، اس کا کیا ترجمہ ہوا کہ بعض انسان جو ہیں، وہ ان کا کاتب نہ ہونا ممکن ہے، ان کا کاتب نہ ہونا ممکن ہے کہ وہ کاتب نہ ہوں۔ اور یہ ہے کون سا قضیہ؟ ممکنہ عامہ۔ ممکنہ عامہ کسے کہتے تھے؟ جانب مخالف کی ضرورت کا سلب۔ یہاں پر کیا ہے؟ جانب، یہاں پر ہے ایجاب یا سلب اس کے اندر بعض الإنسان ليس بكاتب بالإمكان العام؟ سلب۔ تو اس کی جانب مخالف کیا ہے؟ ایجاب کتابت۔ تو جانب مخالف کی ضرورت کا سلب، یعنی ایجاب کتابت کی ضرورت کا سلب، یہی ہوا نا؟ اس میں تو سلب ہے، اس کی جانب مخالف کیا ہوگی؟ ایجاب۔ تو ایجاب کتابت کی ضرورت کا سلب، یعنی ایجاب کتابت انسان کے لیے ضروری نہیں۔ تین لفظ ہیں بھئی، جانب مخالف کی ضرورت کا سلب۔ جانب مخالف کی جگہ وہ لے آنا وہ لفظ، ایجاب ہو تو سلب لے آنا، سلب ہو تو ایجاب۔ آگے کیا تھا کی ضرورت، ضرورت کی جگہ ضروری کا لفظ لے آنا، سلب کی جگہ نہیں کا لفظ لے آنا بھئی۔ تو یہاں پر کیا ہے؟ اس قضیے میں، بعض الإنسان ليس بكاتب، ایجاب ہے سلب ہے؟ سلب ہے، سلب کی جانب مخالف کیا ہوئی؟ ایجاب۔ تو اس میں ہے سلب کتابت، جانب مخالف میں کیا ہوگا؟ ایجاب کتابت۔ ایجاب کتابت کی ضرورت کا سلب، یعنی ایجاب کتابت ضروری نہیں۔ اس قضیے سے کیا ثابت ہوا؟ انسان کے لیے ایجاب کتابت ضروری نہیں، یعنی انسان کے لیے کاتب ہونا ضروری نہیں، اور بعض ہے، بعض انسانوں کے لیے کاتب ہونا ضروری نہیں جانب مخالف کی ضرورت کا سلب۔ پہلے قضیے سے کیا معلوم ہوا آپ کو؟ کل انسان کاتب بالإمكان العام، ہر انسان کا کاتب ہونا ممکن ہے، جانب مخالف کی ضرورت کا سلب بناؤ اس سے اسی قضیے سے ہمیں معلوم ہو رہا ہے، اس کی نقیض نہیں ہم بنا رہے، یہ ممکنہ عامہ ہے نا، اور ممکنہ عامہ کسے کہتے ہیں جس میں جانب مخالف کی ضرورت کا سلب ہو، اس کل انسان کاتب بالإمكان العام اس سے کیا بات سمجھ میں آئی کہ انسان سے سلب کتابت ضروری نہیں، ہر انسان سے سلب کتابت ضروری نہیں، یعنی یہ ضروری نہیں کہ ہر ان، کوئی بھی انسان کاتب نہ ہو، کوئی بھی انسان کاتب نہ ہو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جانب مخالف یہ کاپی نکالیں بھئی یہ لکھیں، اس طرح آپ کے ذہن میں بات نہیں بیٹھے گی۔ اچھا بھئی! لکھیے ایک سطر، ایک ہی سطر میں آپ نے دو قضیے لکھنے ہیں، ذرا چھوٹا کر کے تھوڑا لکھیں۔ پہلا قضیہ لکھیں: کل انسان کاتب بالإمكان العام کل انسان کاتب بالإمكان العام اچھا، اس سے تھوڑا سا فاصلہ دے کر اسی سطر میں لکھیں: بعض الإنسان ليس بكاتب بالإمكان العام بعض الإنسان ليس بكاتب بالإمكان العام لکھ لیا بھئی؟ بھئی یہ اس وقت دیکھیے، ادھر توجہ کرو بھئی، ہم تحقیق یہ کر رہے ہیں اس بات کی، انہوں نے کیا کہا؟ کہ دو قضیہ موجہہ کے درمیان تناقض کے لیے ایک دسویں شرط بھی ہے کہ جہت میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ اختلاف ہونا چاہیے۔ اب یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ جہت میں اختلاف کیوں ضروری ہے؟ لہٰذا ہم نے پہلے دو قضیے بنائے، دونوں کو بظاہر ایک دوسرے کے مخالف کر دیا ہم نے، ایک میں دیکھو ایجاب ہے تو دوسرے میں کیا ہے؟ سلب ہے۔ ایک میں کلیت ذکر ہے تو دوسرے میں کیا ذکر؟ جزئیت ذکر ہے، اور جہت کو ہم نے نہیں بدلا، دیکھو جہت کو نہیں بدلا تو دونوں میں تناقض نہ رہے گا، دونوں صادق ہو جائیں گے حالانکہ تناقض میں تو کیا ضروری تھا؟ کہ ایک کا صادق ہونا تقاضا کرتا ہے دوسرے کے کاذب ہونے کا بھئی۔ اب دیکھیے بھئی! پہلا قضیہ آپ نے کیا لکھا؟ کل انسان کاتب بالإمكان العام، اور یہ کون سا قضیہ موجہہ ہے؟ ممکنہ عامہ، اور ممکنہ عامہ میں کیا بیان کیا جاتا ہے؟ جانب مخالف کی ضرورت کا سلب، اس کے نیچے لکھیں اس قضیے کے نیچے: جانب مخالف کی ضرورت کا سلب۔ جانب مخالف کی ضرورت کا سلب۔ اچھا، اب ذرا جانب مخالف اس سے نچلی سطر میں لکھیں گے اسی کے نیچے بھئی، اسی ایک قضیے کے نیچے لکھتے جائیں گے بھئی، کیا لکھا پہلے؟ جانب مخالف کی ضرورت کا سلب، اب آپ نے مجھے بتانا ہے، اوپر قضیے پہ دیکھو ایجاب ہے یا سلب ہے؟ ایجاب ہے، تو جانب مخالف کیا ہوئی؟ سلب، اور کس چیز کا ایجاب ہے؟ ایجاب کتابت ہے، انسان کے لیے کس چیز کو ثابت کیا جا رہا ہے؟ کتابت، کاتب ہونے کو، تو جانب مخالف کیا ہوئی؟ سلب کتابت، اب اس سے نچلی لائن میں لکھو جانب مخالف کے نیچے والی لائن میں: سلب کتابت کی ضرورت کا سلب۔ سلب کتابت کی ضرورت کا سلب۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا، اس سے نیچے اب کیا لکھیں گے؟ کیا معنی ہوا؟ یعنی ہر انسان سے سلب کتابت ضروری نہیں۔ نچلی والی سطر میں لکھیں: ہر انسان سے سلب کتابت ضروری نہیں۔ ہر انسان سے سلب کتابت ضروری نہیں۔ یہ وہی ایک پہلا قضیہ ہم حل کرتے چلے جا رہے ہیں، کیا کیا مفہوم ہوا آخر میں آ کر؟ اوپر تھا نا کل انسان کاتب بالإمكان العام ہر انسان کا کاتب ہونا ممکن ہے، معلوم کیا معنی ممکن ہے؟ یہ آخری والا ترجمہ یعنی ہر انسان سے سلب کتابت ضروری نہیں، یعنی ہر انسان ہی کاتب نہ ہو یہ ضروری نہیں، ہر انسان ہی کاتب نہ ہو یہ ضروری نہیں۔ اچھا! دوسری طرف آئیے اب، بعض الإنسان ليس بكاتب بالإمكان العام، یہ کون سا قضیہ موجہہ ہے؟ ممکنہ عامہ ہے نا۔ اچھا! اور دیکھو کل کو آپ نے کس سے بدل دیا ہے؟ بعض سے، اور ایجاب کو کس سے بدل دیا ہے؟ سلب سے، صرف جہت نہیں بدلی، حالانکہ جہت کا بدلنا اب اس سے سمجھ میں آئے گا کہ کیوں ضروری ہے دیکھو، اس کے نیچے بھی اسی طرح لکھیے، پہلے کے نیچے کیا لکھا تھا؟ ہاں اس میں بھی یہی ہوگا بعینہ، جانب مخالف کی ضرورت کا سلب، اس کے نیچے لکھیں اب دوسرے قضیے کے نیچے: جانب مخالف کی ضرورت کا سلب۔ اچھا بھئی! اس قضیے کی جانب مخالف کیا ہوگی؟ اس میں ایجاب ہے یا سلب اوپر؟ سلب ہے، جانب مخالف کیا ہوگی؟ ایجاب، اور اوپر سلب کس چیز کا ہے؟ کتابت کا، کاتب ہونے کا، تو ایجاب بھی کس کا ہوگا؟ کتابت کا، تو اب نیچے لکھیے: یعنی ایجاب کتابت کی ضرورت کا سلب۔ ایجاب کتابت کی ضرورت کا سلب۔ لکھ لیا بھئی؟ ایجاب کتابت کی ضرورت کا سلب۔ اچھا، پچھلی میں اس اس سے نچلی لائن میں پچھلے قضیے میں کیا لکھا تھا؟ یعنی ہر انسان سے سلب کتابت ضروری نہیں، اور اس میں تو ہر کی بات نہیں، اور اس میں تو بعض کی بات ہو رہی ہے تو اب اس کے نیچے لکھیے: یعنی بعض انسانوں کے لیے ایجاب کتابت ضروری نہیں، یعنی بعض انسانوں کے لیے ایجاب کتابت ضروری نہیں۔ اس میں اور کچھ نیچے لکھا تھا بھئی؟ بس یہی تک لکھا تھا۔ دیکھو اب یہ دونوں قضیے صادق ہیں، پہلے کا کیا مفہوم سب سے نیچے نکلا؟ ہر انسان سے سلب کتابت ضروری نہیں، یعنی سب کے سب انسان کاتب نہ ہوں ایسا ضروری نہیں، ہو سکتا ہے بعض ان میں سے کیا ہوں؟ کاتب ہوں، ہو سکتا ہے بعض ان میں سے کیا ہوں؟ کاتب ہوں، اور دوسرے سے دیکھو کیا مفہوم نکلا سب سے آخر میں؟ بعض انسانوں کے لیے ایجاب کتابت ضروری نہیں، بعض انسانوں کے لیے ایجاب کتابت ضروری نہیں، پہلے قضیے سے جو آخر میں نتیجہ نکلا، کیا نکلا؟ یعنی ہر انسان سے سلب کتابت ضروری نہیں، ہر انسان سے سلب کتابت ضروری نہیں، یعنی معنی کیا ہوا؟ ہو سکتا ہے ان میں سے بعض کیا ہوں؟ کاتب ہوں، ممکن ہے، اچھا! اور یعنی ہر انسان کے ممکن ہے وہ کاتب ہو، اور دوسرے میں کیا نکلا نتیجہ؟ بعض انسانوں کے لیے ایجاب کتابت ضروری نہیں ہے، تو بات وہی ہوئی، نہ انسان سے سلب کتابت ضروری ہوا اور نہ ممکن ہونے کی بات ہوئی، تو دونوں یہاں پر دونوں میں تناقض ہے ہی نہیں بھئی! پہلے میں بھی کیا، پہلے میں کیا کہا؟ ہر انسان کا کاتب ہونا ہر انسان کا کاتب نہ ہونا ضروری نہیں، یعنی ہر انسان کا کاتب ہونا ممکن ہے، ممکن ہے ضروری تو نہیں کہا، ممکن ہے۔ اور بعض انسانوں کا کاتب نہ ہونا بھی ممکن ہے، دونوں باتیں ٹھیک ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دونوں بات دونوں میں تناقض رہا ہی نہیں، معلوم ہوا یہ بات ثابت ہوئی کہ دو قضیہ موجہہ جو ہوں ان میں تناقض کے لیے ایک دسویں شرط بھی ہے اور وہ دسویں شرط کیا؟ جہت میں اختلاف ہونا چاہیے۔ اگر یہاں دونوں جگہ جہت الگ الگ ہوتی پھر تناقض ممکن تھا، باقی تو ہم نے ساری شرائط پوری کر دیں، پہلا قضیہ دیکھو کلیہ ہے تو دوسرا جزئیہ ہے، پہلا موجبہ ہے تو دوسرا سالبہ ہے، موضوع محمول وغیرہ ہر چیز میں اتحاد ہے، لیکن جہت کیا ہے؟ ایک ہے تو تناقض نہ رہا باقی ساری شرائط پوری ہیں، معلوم ہوا جہت کا اختلاف بھی ضروری ہے تناقض کے لیے بھئی۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح؟ چلیے بس کرتے ہیں پھر باقی انشاء اللہ کل پڑھیں گے بھئی، چلیے بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔