LESSONS NO. 63 1 واما المنفصلة فهي التي حكم فيها بالتنافي بين شيئين في موجبة وبسلب التنافي بينهما في سالبة. بھئی، اپ نے پڑھا تھا کہ قضیہ شرطیہ دو قسم پر ہے: ایک قضیہ متصلہ ہے اور ایک منفصلہ۔ متصلہ وہ تھا جس میں دو چیزوں کے درمیان اتصال کو بیان کیا جاتا ہے یا دو چیزوں کے درمیان اتصال کا سلب کیا جاتا ہے۔ جبکہ قضیہ منفصلہ جس نام سے ہی ظاہر ہے، فصل سے ہے، فصل کا معنیٰ جدائی کے ہوتا ہے۔ تو یہ وہ قضیہ ہے جس میں دو چیزوں کے درمیان منافات کو بیان کیا جاتا ہے۔ منافات یعنی کہ دو چیزیں ایک دوسرے کے ضد ہوں تو ضد ہوں۔ دونوں جمع نہیں ہو سکتی بھئی۔ مثلاً اپ کہتے ہیں: ھذا العدد اما زوج او فرد. یہ عدد یا تو جفت ہے یا طاق ہے۔ یہ عدد یا تو جفت ہے یا طاق ہے۔ جفت جفت اس عدد کو کہتے ہیں جو دو برابر حصوں میں تقسیم ہو جائے بھئی، اسے جفت کہتے ہیں مثلاً دو، اس کو دو اس کے دو برابر حصے بن جائیں گے: ایک، ایک بھئی۔ چار ہے، چار کے دو تقسیم کریں تو دو برابر حصے بن جائیں گے: دو اور دو۔ اسی طرح چھ ہے، چھ کو تقسیم کریں گے تو اس کے دو برابر حصے بن جائیں گے یعنی تین اور تین۔ جبکہ اس کے مقابلے میں طاق ہے بھئی، طاق وہ عدد جو دو برابر حصوں میں تقسیم نہیں ہوتا مثلاً تین بھئی، اسی طرح پانچ بھئی، اسی طرح سات بھئی۔ صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟ تو اب دیکھیے، اپ کہتے ہیں: ھذا العدد اما زوج او فرد. یہ عدد یا تو زوج ہے یعنی جفت ہے یا طاق ہے۔ تو اپ نے کیا بیان کیا؟ دو چیزوں کے درمیان منافات بیان کر دی۔ کون کون سے؟ زوج اور جفت ہونے، کہ زوج یہ دو زوج ہے یا جفت ہے بھئی، دونوں نہیں ہو سکتے بھئی۔ دونوں ایک دوسرے کے ضد ہیں، جو جفت ہے وہ طاق نہیں، جو طاق ہے وہ جفت نہیں، تو اس کو کہتے ہیں قضیہ منفصلہ۔ بات سمجھ میں ا گئی اچھی طرح بھئی؟ اسان سی بات ہے۔ کہتے ہیں: واما المنفصلة فهي التي حكم فيها، اور باقی قضیہ منفصلہ پس یہ وہ قضیہ ہے جس کے اندر حکم لگایا جائے بالتنافي بين شيئين، دو چیزوں کے درمیان تنافی کا یعنی منافات کا، دو چیزیں یعنی یوں کہ دو چیزوں میں ضد ہونے کا حکم لگایا جائے، في موجبة، کس کے اندر؟ موجبہ کے اندر، وبسلب التنافي بينهما، اور دو چیزوں کے درمیان سلبِ منافات کا حکم لگایا جائے، في سالبة، کس کے اندر؟ سالبہ کے اندر۔ مثلاً اپ کہتے ہیں: ليس البتة اما ان يكون ھذا العدد زوجا او منقسما بمتساويين. ليس البتة، ایسا نہیں ہے یقینی طور پر کہ اما ان يكون ھذا العدد زوجا، کہ یہ یا تو یہ عدد زوج ہو او منقسما بمتساويين، یا یہ کہ وہ تقسیم ہونے والا ہو دو برابر حصوں میں۔ یا دو تقسیم ہونے والا ہو دو برابر حصوں میں۔ یہ عدد یا تو زوج ہو یا دو برابر حصوں میں تقسیم ہونے والا ہو، ایسا نہیں ہے۔ یعنی ان دو چیزوں میں منافات نہیں ہے۔ جب اگر جفت ہوگا تو کیا دو میں تقسیم ہونے والا نہیں ہوگا یا ہوگا؟ ہوگا بھئی، دو میں تقسیم ہونے والا ہوگا۔ تو ان دو میں منافات نہیں ہے، دیکھو سلبِ منافات کیا بھئی، کیا کیا؟ سلبِ منافات۔ تو موجبہ میں اثباتِ منافات ہوگا اور سالبہ میں سلبِ منافات ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ آئی ہے۔ پھر آگے دیکھیے بھئی، فصل ای ھذا فصل، یہ فصل ہے، الشرطية المنفصلة على ثلاثة اضرب، شرطیہ متصلہ جو ہے وہ تین قسم پر ہے۔ اضرب جمع ہے ضرب کی، ضرب کا ایک معنیٰ قسم کے بھی ہیں بھئی۔ تو یہ شرطیہ منفصلہ تین قسم پر ہے۔ تین قسمیں اپ کو بتائیں گے بھئی: ایک منفصلہ حقیقیہ، ایک منفصلہ مانعة الجمع، اور ایک منفصلہ مانعة الخلو بھئی، مانعة الخلو۔ بھئی منفصلہ حقیقیہ وہ ہے کہ دو چیزوں کے درمیان منافات کو بیان کیا جائے یعنی ان دونوں کا جمع ہونا بھی ممکن نہ ہو کیونکہ منافات ہے، اور دونوں کا اٹھنا بھی ممکن نہ ہو۔ دونوں کا ہونا بھی ممکن نہ ہو اور دونوں کا اٹھنا بھی ممکن نہ ہو۔ مثلاً اپ کہتے ہیں: ھذا العدد اما زوج او فرد. یہ عدد یا تو جفت ہے یا طاق ہے۔ دیکھو دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ نہیں ہو سکتا ایک ہی عدد جفت بھی ہو اور طاق، ایسا نہیں ہو سکتا، ان دونوں میں منافات ہے۔ جفت ہوگا تو طاق نہیں، طاق ہے تو جفت نہیں بھئی۔ اور ان دونوں کا اٹھنا بھی ممکن نہیں ہے، کہ کوئی عدد ایسا ہو جو نہ جفت ہو اور نہ طاق ہو۔ دونوں میں سے ایک ضرور ہوگا، تو یہ ہے قضیہ منفصلہ حقیقیہ بھئی، نہ دونوں کا جمع ہونا ممکن ہو اور نہ دونوں کا اٹھ جانا یعنی ارتفاع ممکن ہو بھئی، تو یہ قضیہ حقیقیہ ہے۔ جبکہ قضیہ منفصلہ مانعة الجمع وہ ہے جس میں دونوں کا جمع ہونا ممکن نہ ہو، ہاں اٹھ جانا ممکن ہو، مانعة الجمع، دیکھو یہ لفظ ہی بتلا رہا ہے کہ دو چیزوں کا جمع ہونا ممکن نہ ہو لیکن اٹھ جانا ممکن ہو۔ مثلاً اپ کہتے ہیں: ھذا الشيء اما حجر او شجر. یہ چیز یا تو پتھر ہے یا درخت ہے۔ اب دونوں جمع نہیں ہو سکتے، پتھر بھی ہو اور درخت بھی ہو، یہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں دونوں کا اٹھ جانا ممکن ہے، ہو سکتا ہے یہ چیز نہ پتھر ہو، نہ درخت ہو، مثلاً کوئی اور چیز ہو، کتاب ہو، قلم ہو، تپائی ہو۔ صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟ تو قضیہ حقیقیہ کے منفصلہ حقیقیہ کے اندر دونوں کا جمع ہونا بھی ممکن نہیں تھا اور دونوں کا اٹھنا بھی ممکن نہیں تھا، جبکہ قضیہ مانعة الجمع میں دونوں باتوں کا جمع ہونا تو ممکن نہیں لیکن دونوں کا اٹھ جانا ممکن ہے۔ جبکہ تیسرا وہ مانعة الخلو کہلاتا ہے، مانعة الخلو۔ خ، ل، و ہے، مانعة الخلو بھئی، آگے ذکر ا رہا ہے اس کا۔ مانعة الخلو وہ ہے جس میں دونوں کا اٹھ جانا ممکن نہ ہو، جمع ہونا ممکن ہو۔ مانعة الجمع میں تو جمع ہونا ممکن نہیں تھا اور اٹھ جانا ممکن تھا، جبکہ مانعة الخلو میں اس کا عکس ہے۔ دونوں کا جمع ہونا تو ممکن ہے لیکن دونوں کا اٹھ جانا ممکن نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں ا گئی؟ مثلاً اپ کہتے ہیں: اما ان يكون زيد في البحر او لا يغرق. یا تو زید کس میں ہے؟ سمندر میں ہے، دریا میں کہہ لیں، پانی میں کہہ لیں۔ یا تو زید دریا میں ہے او يغرق، یا وہ غرق ہو رہا ہے، ڈوب رہا ہے۔ ان دونوں کا جمع ہونا مانعة الخلو ہے، دونوں کا اٹھ جانا ممکن نہیں، جمع ہونا ممکن ہے۔ دریا میں ہو اور غرق ہو رہا ہو، ڈوب رہا ہو بھئی۔ غرق کا کیا معنیٰ؟ ڈوبنا۔ ہاں دونوں کا اٹھنا ممکن نہیں ہے، کیسے؟ کیا ذکر کیا؟ دریا میں نہ ہو، کیا ذکر کیا تھا میں نے؟ اما ان يكون زيد في البحر او لا يغرق. دریا میں ہو اور دوسرا جز تھا ڈوب نہ رہا ہو، ان کا عکس کریں: دریا میں نہ ہو اور آگے کیا تھا؟ ڈوب رہا ہو۔ پہلے تھا ڈوب نہ رہا ہو، اب کر دیں ڈوب رہا ہو۔ دریا میں نہ ہو اور ڈوب رہا ہو، ایسا نہیں ہو سکتا بھئی۔ دریا میں نہیں ہے تو پھر کہاں سے ڈوبے گا بھئی؟ ڈوبتا کس میں ہے انسان؟ پانی میں ہی ڈوبتا ہے نا، جب پانی میں نہیں ہے تو ڈوبے گا کیسے بھئی؟ تو جمع ہونا تو ان کا ممکن ہے لیکن دونوں کا اٹھ جانا ممکن نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اسان سی بات ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: الشرطية المنفصلة على ثلاثة اضرب، شرطیہ منفصلہ جو ہے وہ تین قسم پر ہے، لانها ان حكم فيها بالتنافي او بعدمه، اس لیے کیونکہ اس کے اندر یا تو اگر اس اگر اس میں حکم لگایا جائے بالتنافی منافات کا دو چیزوں میں یعنی دونوں دو چیزوں میں ضد ہونے کا، او بعدمه یا عدمِ تنافی کا حکم لگایا جائے عدمِ منافات کا، بين النسبتين، دو نسبتوں کے درمیان، في الصدق والكذب معا، صدق اور جھوٹ میں، سچ اور جھوٹ میں اکٹھا، سچ اور جھوٹ میں اکٹھا، كانت المنفصلة حقيقية، تو یہ منفصلہ حقیقیہ ہے۔ بھئی دیکھیے، قضیہ منفصلہ اس کی ایک قسم بتائی جو حقیقیہ ہے، جس میں تنافی یا عدمِ تنافی کا حکم لگایا جاتا ہے دو نسبتوں کے درمیان في الصدق والكذب معا، سچ اور جھوٹ دونوں کے اندر بھئی، سچ اور جھوٹ دونوں کے اندر منافات کا حکم لگایا جاتا ہے۔ کس طرح؟ ھذا العدد اما زوج او فرد. دونوں سچے ہوں، یہ نہیں ہو سکتا، منافات ہے۔ یعنی دونوں سچے ہونے کا کیا معنیٰ؟ جفت بھی ہو اور طاق بھی ہو، وہی بات جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں، دونوں سچے ہوں: جفت بھی ہو عدد اور طاق بھی ہو، بیک وقت ایسا نہیں ہو سکتا، منافات ہے ان میں بھئی۔ اور نہ جھوٹا ہونے میں بھی منافات ہو یعنی یہ عدد نہ جفت ہو اور نہ طاق ہو، ایسا بھی نہیں ہو سکتا بھئی، دونوں جھوٹ ہوں، یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟ تو صدق سے مراد کیا ہے؟ اجتماع دونوں کا، اور کذب سے کیا مراد ہے؟ ارتفاع دونوں کا۔ دونوں چیزوں کا، دونوں نسبتوں کا اجتماع بھی جائز نہیں اور دونوں چیزوں کا ارتفاع بھی جائز نہیں ہے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے: لانها ان حكم فيها بالتنافي او بعدمه بين النسبتين في الصدق والكذب معا، اس لیے کیونکہ اگر حکم لگایا جائے اس قضیے کے اندر منافات کا یا عدمِ منافات کا دو نسبتوں کے درمیان سچ اور کذب کے، صدق اور جھوٹ میں اکٹھا ہی، كانت المنفصلة حقيقية، تو وہ منفصلہ جو ہے وہ حقیقیہ ہے، كما تقول، جیسے کہ اپ کہتے ہیں: ھذا العدد اما زوج او فرد، یہ عدد یا تو زوج ہے یا فرد ہے۔ صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟ تو یہ دراصل دو قضیے ہیں بھئی، کیونکہ قضیہ شرطیہ ہے نا اور قضیہ شرطیہ کتنے قضیوں کی طرف کھلتا ہے؟ دو۔ تو اپ نے گویا یوں کہا: ھذا العدد زوج او ھذا العدد فرد، یہ عدد یا تو زوج ہے یا یہ عدد فرد ہے۔ فلا يمكن اجتماع الزوجية والفردية في عدد معين، پس ممکن نہیں ہے کہ زوج ہونا اور فرد ہو زوج یعنی جفت ہونا اور طاق ہونا کہ یہ جمع ہو جائیں فی عدد معين کسی معین عدد میں۔ کوئی معین عدد لے لیں، چھ لے لیں، سات لے لیں، 20 لے لیں، 50 لے لیں، اس عدد کے اندر زوجیت بھی جمع ہو جائے اور فردیت بھی جمع ہو جائے، وہ جفت بھی ہو، وہ طاق بھی ہو، ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ تو یہ معنیٰ ہے: فلا يمكن اجتماع الزوجية والفردية في عدد معين، ممکن نہیں ہے جمع ہونا زوجیت جفت ہونے اور طاق ہونے کا کسی معین عدد میں، ولا ارتفاعهما، اور نہ ان دونوں کا اٹھ جانا یعنی ان دونوں زوجیت اور فردیت کا اٹھ جانا بھی ممکن نہیں ہے۔ وان حكم بالتنافي او بعدمه صدقا فقط، اور اگر حکم دو چیزوں کے درمیان منافات یا عدمِ منافات کا صدقاً نہیں صدقاً، حکم لگایا جائے منافات یا عدمِ منافات کا صدقا فقط صرف سچا ہونے کے اعتبار سے، یعنی دونوں سچے نہیں ہو سکتے، یعنی دونوں جمع نہیں ہو سکتے، ہاں اٹھ جانا ممکن ہے، جیسے ھذا الشيء اما حجر او شجر، دونوں جمع نہیں ہو سکتے، دونوں سچے نہیں ہو سکتے کہ درخت بھی ہو اور پتھر بھی ہو یہ چیز، یہ نہیں ہو سکتا، ہاں دونوں کا اٹھ جانا ممکن ہے کہ ہو سکتا ہے کوئی تیسری چیز ہو، نہ درخت ہو اور نہ پتھر ہو۔ اٹھ جا ان دونوں باتوں کا نہ ہونا، اٹھ جانے سے کیا مراد ہے؟ نہ ہونا۔ وان حكم بالتنافي او بعدمه صدقا فقط، اور اگر حکم لگایا جائے منافات یا عدمِ منافات کا صدقا فقط صرف سچا ہونے کے اعتبار سے، تو كانت مانعة الجمع، تو یہ کون سا قضیہ ہو گیا؟ مانعة الجمع ہوگا، كقولك: ھذا الشيء اما شجر او حجر، یہ چیز یا تو درخت ہے یا پتھر ہے۔ یہ دو چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں بھئی، کہ شجر بھی ہو ایک ہی چیز اور وہی حجر بھی ہو۔ ہاں دونوں کا اٹھنا یعنی صادق نہ انا یہ ممکن ہے، ایک چیز ہو سکتا ہے نہ شجر ہو اور نہ حجر ہو بلکہ کتاب ہو جائے، کوئی اور چیز ہو جائے تیسری چیز۔ فلا يمكن ان يكون شيء معين حجرا وشجرا معا، پس یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی معین چیز وہ پتھر بھی ہو اور شجر درخت بھی ہو معا اکٹھی بھئی، ایک ہی وقت میں پتھر بھی ہو اور درخت بھی ہو، یہ ممکن نہیں ہے۔ ہاں ويمكن ان لا يكون شيئا منهما، یہ ممکن ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز نہ ہو بلکہ کوئی تیسری چیز ہو وہ۔ وان حكم بالتنافي وسلبه كذبا فقط كانت مانعة الخلو، اور اگر حکم لگایا جائے منافات کا وسلبه اور سلبِ منافات کا كذبا فقط صرف جھوٹا ہونے کے اعتبار سے، یعنی یہ دونوں جھوٹے نہیں ہو سکتے، یعنی یہ دونوں ان دونوں کا ارتفاع نہیں ہو سکتا بھئی، دونوں کا ارتفاع نہیں ہو سکتا، تو كانت مانعة الخلو، تو یہ کیا ہوگا؟ مانعة الخلو ہوگا بھئی۔ خلا يخلو خلوا کے معنیٰ ہوتے ہیں خالی ہونے کے۔ پچھلا تھا مانعة الجمع، جمع ہونا منع تھا وہاں بھئی، اور یہاں مانعة... 2 کقول القائل: جیسے کسی کہنے والے کا قول: إما أن يكون زيد في البحر أو لا يغرق، یا تو زید سمندر میں ہے یا وہ غرق نہیں ہو رہا۔ سمندر میں ہے اور غرق نہیں ہو رہا، ان کا جمع ہونا تو ممکن ہے، سمندر میں ہو اور غرق نہ ہو رہا ہو، بھئی تیر رہا ہے وہ۔ لیکن دونوں کا اٹھ جانا، دونوں کا ارتفاع یا دونوں کا جھوٹا ہونا، یہ ممکن نہیں ہے کہ سمندر میں نہ ہو اور ڈوب رہا ہو، یہ نہیں ہو سکتا۔ فارتفاعهما، پس ان دونوں کا اٹھ جانا بآن لا يكون زيد في البحر، زیداً ہے بھئی؟ زید کے بعد الف ہے؟ جی، یہ الف نہیں ہونا چاہیے۔ فارتفاعهما، پس ان دونوں کا اٹھ جانا، ان دونوں نسبتوں کا بآن لا يكون زيد في البحر ويغرق محال، اور ان دونوں باتوں نسبتوں کا اٹھ جانا بدیں طور کہ زید سمندر میں ہو، نہیں، زید سمندر میں نہ ہو اور ڈوب رہا ہو، سمندر میں نہ ہو اور ڈوب رہا ہو، محال، یہ کیا ہے؟ یہ محال ہے بھئی، یہ محال۔ وليس اجتماعهما محالاً، ہاں اور ان دونوں کا اجتماع محال نہیں ہے بآن يكون في البحر ولا يغرق، بدیں طور کہ وہ سمندر میں ہو اور ڈوب نہ رہا ہو بھئی، یعنی تیر رہا ہو۔ فصل: المنفصلة بأقسامها الثلاثة، اچھا بھئی! یہ جو اوپر قسمیں آئیں، ایک کا نام رکھا مانعة الجمع، ایک کا نام مانعة الخلو اور ایک کا نام رکھا حقیقیہ۔ مانعة الجمع میں جمع ہونا ممکن نہیں تھا، مانعة الخلو میں خالی ہونا ممکن نہیں تھا، جبکہ حقیقیہ کے اندر نہ جمع ہونا ممکن تھا اور نہ دونوں سے، دونوں کا ارتفاع ممکن تھا، نہ جمع ہونا ممکن تھا اور نہ دونوں کا ارتفاع ممکن تھا۔ تو اس کو حقیقیہ کہتے ہیں کیونکہ یہ منفصلہ ہے، منفصلہ۔ تو حقیقتاً انفصال ان دو چیزوں میں ہی ہے، اسی لیے اس کا نام حقیقیہ رکھا۔ منفصلہ میں انفصال بیان کیا جاتا ہے نا، تو حقیقتاً انفصال ان میں ہے، صحیح طور پر جدائی ان چیزوں میں ہے کہ نہ دونوں اٹھ سکتی ہیں اور نہ دونوں جمع ہو سکتی ہیں، اس لیے اس کا نام حقیقیہ رکھا۔ جبکہ دوسرے کا نام جس میں جمع ممکن نہیں تھا اس کا نام مانعة الجمع رکھا اور جس میں خالی ہونا ممکن نہیں تھا اس کا نام مانعة الخلو رکھا بھئی۔ فصل: أي هذا فصل، یہ فصل ہے۔ المنفصلة بأقسامها الثلاثة قسمان، منفصلہ اپنی تینوں قسموں کے ساتھ قسمان، دو قسم پر ہے بھئی۔ بھئی منفصلہ کی تینوں قسمیں جو ہیں شرطیہ، اوہو! حقیقیہ، مانعة الجمع اور مانعة الخلو، یہ تینوں کے ساتھ دو قسم پر ہیں یعنی ان میں سے ہر ایک دو دو قسم پر ہے۔ عنادية وإتفاقية، ایک عنادیہ ہے اور ایک اتفاقیہ ہے۔ والعنادية عبارة عن أن يكون فيه التنافي بين الجزءين لذاتيهما، عنادیہ عبارت ہے اس سے کہ ہو منافات بین الجزءین، دونوں جزوں کے درمیان لذاتيهما، ان کی ذات کے اعتبار سے۔ منافات کیا ہو؟ بھئی منفصلہ کی بات چل رہی ہے نا، اگر منافات ذات کے اعتبار سے ہو، آپ غور کر لیجیے جو بھی مثال ہے منفصلہ کی، اگر ذات کے اعتبار سے دو چیزوں میں منافات ہے، دو جمع نہیں ہو سکتیں یا دونوں اٹھ نہیں سکتیں وغیرہ اپنی ذات کے اعتبار سے تو اس کو کیا کہیں گے؟ عنادیہ۔ کیا کہیں گے؟ عنادیہ۔ عنادیہ عناد سے ہے، عناد۔ عناد کا معنی ہے مخالفت اور ضد۔ مخالفت اور ضد۔ اگر دونوں کی ذات کے اعتبار سے ان میں مخالفت اور ضد ہے، یعنی ذات ہی ایک کی، ایک چیز کا تقاضا کر رہی ہے تو دوسرا، دوسری بات کا تقاضا کر رہی ہے بھئی، اکٹھی نہیں ہو سکتیں یا دونوں اٹھ نہیں سکتیں، اسے کیا کہیں گے؟ عنادیہ۔ یہ معنی، والعنادية عبارة عن أن يكون فيه التنافي بين الجزءين لذاتيهما، عنادیہ عبارت ہے اس سے کہ ہو منافات دو جزوں کے درمیان ان کی ذات کی وجہ سے۔ والاتفاقية عبارة عن أن يكون فيه التنافي بمجرد الاتفاق، اتفاقیہ نام ہی بتلا رہا ہے کہ یہ اتفاقاً جو ہے ان میں منافات آ گئی دو چیزوں کے درمیان، ان کی ذات کی وجہ سے ان میں منافات نہیں۔ مثلاً بھئی! ایک آدمی ہے اس کا رنگ بھی کالا ہے اور وہ کاتب بھی نہیں ہے۔ رنگ کالا ہے اور کاتب نہیں۔ اب آپ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: إما أن يكون هذا أسود أو كاتباً، یا تو یہ کالا ہے یا کاتب ہے۔ دونوں چیزیں اس میں جمع ہیں؟ کالا ہے تو کاتب نہیں۔ اور اگر کاتب مانتے ہو پھر کالا نہیں ہے بھئی۔ کاتب مانو گے تو پھر کالا نہیں ہوگا بھئی، کیونکہ یہ تو کاتب نہیں ہے۔ تو کاتب اگر کالا ہے تو کاتب نہیں ہے یہ بھئی، اور اگر کاتب مانو گے تو پھر یہ کالا نہیں ہوگا بھئی، کیونکہ یہ تو کاتب نہیں ہے بھئی، پھر کوئی اور ماننا پڑے گا کسی اور کو بھئی، یہ تو کاتب نہیں ہے۔ تو یہاں دیکھیے دو چیزوں میں منافات آئی، لیکن ان کی ذات میں منافات ہے یا اتفاقاً منافات آ گئی؟ کوئی کالا ہو، حبشی ہو اور کاتب بھی ہو، ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ ہو سکتا ہے۔ یہ تو کالا تھا لیکن کاتب نہیں تھا، لیکن یہ ہمیشہ ایسا نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھو یہ اتفاقاً ایسا ہوا، اس لیے اس کو اتفاقیہ کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: والاتفاقية عبارة، اور قضیہ اتفاقیہ وہ عبارت ہے عن أن يكون فيه التنافي، کہ منافات ہو دونوں جزوں کے درمیان بمجرد الاتفاق، محض اتفاق سے ہی ایسا ہو بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔