LESSONS NO. 60 1 وَمِنْهَا الْمُنْتَشِرَةُ، وَهِيَ الْمُنْتَشِرَةُ الْمُطْلَقَةُ الْمُقَيَّدَةُ بِاللَّادَوَامِ بِحَسَبِ الذَّاتِ، مِثَالُهَا: بِالضَّرُورَةِ كُلُّ إِنْسَانٍ مُتَنَفِّسٌ فِي وَقْتٍ مَا لَا دَائِمًا، وَبِالضَّرُورَةِ لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِمُتَنَفِّسٍ وَقْتًا مَا لَا دَائِمًا. موجہات میں سے مرکبات ہم پڑھ رہے تھے، اور آپ نے مشروطه خاصه بھی پڑھا کہ یہ وہی مشروطه عامه ہے اور اس کے ساتھ کون سی قید ہے؟ لا دوام کی۔ عرفیہ خاصہ بھی آپ نے پڑھ لیا کہ یہ وہی عرفیہ عامہ ہے، اس میں البتہ لا دوام کی قید ہے۔ وجودیہ لا ضروریہ بھی پڑھ لیا کہ یہ وہی مطلقہ عامہ ہے، البتہ اس میں لا ضرورت کی قید ہے۔ اور وجودیہ لا دائما بھی پڑھا کہ یہ وہی مطلقہ عامہ ہے، البتہ اس میں لا دوام کی قید ہے۔ اور وقتیہ کے بارے میں آپ نے پڑھا کہ یہ وہی وقتیہ مطلقہ ہے جب اس کے ساتھ لا دوام کی قید ذکر کر دی جائے بھئی۔ تو آج مرکبات میں سے چھٹا منتشرہ ہم پڑھیں گے بھئی۔ کہتے ہیں: "وَمِنْهَا الْمُنْتَشِرَةُ" اور مرکبات میں سے جو ہے منتشرہ ہے، "وَهِيَ الْمُنْتَشِرَةُ الْمُطْلَقَةُ الْمُقَيَّدَةُ بِاللَّادَوَامِ بِحَسَبِ الذَّاتِ" اور یہ وہی منتشرہ مطلقہ ہے جو مقید ہے لا دوام بحسب الذات کی قید کے ساتھ۔ منتشرہ مطلقہ اور ساتھ قید کیا ہے؟ لا دوام۔ بھئی لا دوام اس کے ذریعے اشارہ کس کی طرف ہوتا ہے؟ مطلقہ عامہ کی طرف، اور لا ضرورت کے ذریعے ممکنہ عامہ کی طرف۔ تو منتشرہ کہتے ہیں یہ منتشرہ جو ہے وہ منتشرہ مطلقہ ہی ہے، البتہ اس میں قید ہے لا دوام کی۔ تو منتشرہ مطلقہ کیا تھا؟ کسی غیر معین وقت میں محمول کا ثبوت موضوع کے لیے یا محمول کی نفی موضوع سے ضروری ہوتی ہے کسی غیر معین وقت میں۔ "مِثَالُهَا بِالضَّرُورَةِ كُلُّ إِنْسَانٍ مُتَنَفِّسٌ فِي وَقْتٍ مَا لَا دَائِمًا" یقینی طور پر ہر انسان سانس لینے والا ہے کسی وقت میں لا دائما۔ لا دائما کے ذریعے اب کیا نکالیں گے ہم؟ مطلقہ عامہ۔ اور پہلا موجبه ہے یا سالبه؟ موجبه، جیم کے نیچے کسرہ پڑھیں بھئی موجبه۔ اور اسی اب بنائیں بھئی سالبہ بنائیں اور ہو مطلقہ عامہ اسی کو دیکھتے ہوئے: "لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِمُتَنَفِّسٍ بِالْفِعْلِ"، "وَبِالضَّرُورَةِ لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِمُتَنَفِّسٍ وَقْتًا مَا لَا دَائِمًا"۔ تو یہاں اب لا دائما کے ذریعے کون سا قضیہ نکالیں گے؟ مطلقہ عامہ۔ اور پہلا موجبه ہے، سالبہ ہے؟ سالبہ۔ تو اب موجبه مطلقہ عامہ نکالیں بھئی اسی کو دیکھ کر: "كُلُّ إِنْسَانٍ مُتَنَفِّسٌ بِالْفِعْلِ"۔ "وَمِنْهَا الْمُمْكِنَةُ الْخَاصَّةُ" اور انہی مرکبات میں سے ممکنہ خاصہ ہے، "وَهِيَ الَّتِي حُكِمَ فِيهَا بِارْتِفَاعِ الضَّرُورَةِ الْمُطْلَقَةِ عَنْ جَانِبَيِ الْوُجُودِ وَالْعَدَمِ جَمِيعًا"۔ کہتے ہیں ممکنہ خاصہ یہ وہ قضیہ ہے جس میں حکم لگایا جائے ضرورتِ مطلقہ کے اٹھ جانے کا، یعنی کہ اس کی نفی کا وجود اور عدم دونوں جانب سے۔ ایک تو اس میں ضرورتِ مطلقہ کے ارتفاع کا حکم لگایا جاتا ہے۔ بھئی ضرورتِ مطلقہ کا کیا معنی؟ بھئی دیکھیے میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ضروری ہونا کبھی مقید ہوتا ہے کس اعتبار سے؟ ذات کے اعتبار سے، کبھی وصف کے اعتبار سے، اور کبھی وقت کے اعتبار سے۔ اس میں کوئی قید نہیں ہوگی بس مطلقاً ضرورت کی نفی ہوگی۔ نہ ذات کی قید ہوگی، نہ وصف کی، اور نہ کسی وقت کی۔ تو اس میں وجود اور عدم دونوں جانب سے ضرورت کی نفی ہوگی۔ "كَقَوْلِكَ: بِالْإِمْكَانِ الْخَاصِّ كُلُّ إِنْسَانٍ ضَاحِكٌ" چاہیں تو اس کو آپ آخر میں لگا دیں: "كُلُّ إِنْسَانٍ ضَاحِكٌ بِالْإِمْكَانِ الْخَاصِّ"۔ تو دیکھو امکان عام نہیں کہا، امکان خاص کہا، معلوم ہوا یہ کون سا ہے؟ ممکنہ خاصہ۔ اور ممکنہ خاصہ میں کیا کیا جاتا ہے؟ ممکنہ عامہ پہلے بتائیں، اس میں کیا تھا؟ جانبِ مخالف کی ضرورت کا سلب۔ میں کہتا ہوں مثلاً: "كُلُّ إِنْسَانٍ ضَاحِكٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ" کیا معنی تھا؟ ہر انسان کا ضاحک ہونا ممکن ہے، جب ممکن ہے تو جانبِ مخالف کا ہونا ضروری نہیں۔ وہ کیا ہے جانبِ مخالف؟ ایجابِ ضحک ہے یہاں یا سلبِ ضحک ہے؟ ایجاب ہے، تو جانبِ مخالف کیا ہوئی؟ سلبِ ضحک۔ تو معلوم ہوا سلبِ ضحک انسان کے لیے ضروری نہیں، یہ ضروری نہیں کہ انسان نہ ہنسنے والا ہو بھئی۔ اب یہاں پر دونوں جانب سے ضرورت کی نفی ہوگی، ایجاب کے اندر بھی اور سلب کے اندر بھی۔ یوں کہو یہ جو ممکنہ خاصہ ہے، اس میں امکانِ عام میں تو ایک جانب سے ضرورت کا سلب ہوتا تھا، اس میں دونوں جانب سے ضرورت کا سلب ہوگا۔ یعنی انہوں نے کہا: "كُلُّ إِنْسَانٍ ضَاحِكٌ بِالْإِمْكَانِ الْخَاصِّ" ہر انسان ہنسنے والا ہے امکانِ خاص کے ساتھ، اور امکانِ خاص کا لفظ آتے ہی آپ سمجھ گئے کہ دونوں جانب سے ضرورت کا سلب ہے۔ یعنی اس بات میں بھی سلب ہے اور نفی میں بھی ضرورت کا سلب ہے ضرورت کا۔ بھئی یہاں کیا ذکر ہے؟ ایجابِ ضحک ہے یا سلبِ ضحک ہے؟ ایجابِ ضحک ہے۔ تو معلوم ہوا اس کا بھی سلب ہے، اس کی ضرورت بھی سلب ہے، اور جانبِ مخالف کی ضرورت بھی سلب ہے۔ اس کی ضرورت سلب کرو: ایجابِ ضحک، یہ انسان کے لیے ضروری نہیں، توجہ ہے سبق کی طرف؟ دونوں جانب کی ضرورت کی، وہاں تھا جانبِ مخالف کی ضرورت کا سلب، یہاں دونوں جانب کی ضرورت کا سلب ہے۔ دونوں جانب کی ضرورت کا سلب، تو دو جانبیں کون سی ہیں؟ ایک ایجاب ہے اور ایک سلب ہے۔ ایک یعنی اس میں ایجابِ ضحک ہے، ایک سلبِ ضحک۔ معلوم ہوا ایجابِ ضحک بھی انسان کے لیے ضروری نہیں، معلوم ہوا سلبِ ضحک بھی انسان کے لیے ضروری نہیں۔ تو دونوں جانب کی ضرورت کا سلب ہوتا ہے اس میں، کس میں؟ ممکنہ خاصہ میں۔ ممکنہ عامہ میں صرف جانبِ مخالف کی ضرورت کا سلب تھا، جانبِ مخالف ضروری نہیں تھی، یہاں پر دونوں جانبیں ضروری، ایجاب کی بھی ضروری نہیں اور سلب بھی ضروری نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یوں سمجھو دوسرے لفظوں میں آسان لفظوں میں کہ یہ دراصل دو ممکنہ عامہ ہوتے ہیں۔ جی؟ یہ تو تعریف کی ہے انہوں نے، ضرورتِ مطلقہ کا ارتفاع دونوں جانب سے، یہ ہے امکانِ خاص۔ اور امکانِ عام کہتے ہیں کس کو؟ جانبِ مخالف سے ضرورت کا سلب۔ تو دیکھیے بھئی اسی پر آئیے، مثال دیکھیے بھئی: "كُلُّ إِنْسَانٍ ضَاحِكٌ بِالْإِمْكَانِ الْخَاصِّ"، اور اگلا: "وَبِالْإِمْكَانِ الْخَاصِّ لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِضَاحِكٍ"، یہ سالبہ کی مثال ہے۔ پہلے موجبہ پر آئیے ذرا بھئی: "بِالْإِمْكَانِ الْخَاصِّ كُلُّ إِنْسَانٍ ضَاحِكٌ" ہر انسان ضاحک ہے امکانِ خاص کے ساتھ، امکانِ خاص آیا امکانِ خاص کا کیا معنی بیان کیا؟ دونوں جانب سے ضرورت کا سلب، دونوں جانب ضروری نہیں ہیں، نہ ہونا ضروری ہے اور نہ نہ ہونا ضروری ہے۔ اچھا، تو دونوں کو الگ الگ ذرا لکھو، ایک طرف لکھو: ایجاب ضروری نہیں۔ دوسری طرف لکھو: سلب ضروری نہیں۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا، اب آئیے ذرا ممکنہ عامہ پر، یہ دو لفظ اب یاد رکھنے ہیں، ابھی ہم پھر ان کی طرف آئیں گے۔ ممکنہ عامہ میں کیا تھا بھئی؟ پہلی مثال انہوں نے ذکر کی تھی: "كُلُّ نَارٍ حَارَّةٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ" یہاں قضیے میں کیا ذکر تھا؟ ایجاب ہے یا سلب ہے؟ ایجاب ہے۔ اور اس میں اس سے کیا معلوم ہوا تھا جانبِ مخالف کی ضرورت کا سلب کیا تھا یہاں سے؟ اس میں ہے ایجابِ حرارت، معلوم ہوا ایجابِ حرارت ممکن ہے، اس میں یہ ذکر ہے نا ایجابِ حرارت ممکن ہے آگ کے لیے، تو جانبِ مخالف کیا ہوئی؟ سلبِ حرارت۔ معلوم ہوا سلبِ حرارت ضروری نہیں، معلوم ہوا موجبہ ہو تو اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ سلب ضروری نہیں، موجبہ ہو تو اس سے کیا نکلتا ہے؟ سلب ضروری نہیں۔ یہ سلب کس سے نکلتا ہے؟ موجبہ سے۔ کس سے؟ سلب ضروری نہیں، یہ کہاں سے معلوم ہوتا ہے؟ موجبہ سے معلوم ہوتا ہے نا۔ تو یہاں جو آپ نے دو لفظ لکھے، کیا لکھا ایک؟ سلب ضروری نہیں۔ ذرا سلب ضروری نہیں اس پہ آ جاؤ، یہ سلب ضروری نہیں کس سے نکلتا ہے؟ موجبہ سے نکلتا ہے، تو ذرا یہاں موجبہ بناؤ۔ موجبہ بنانا ہے اور ساتھ امکانِ عام ذکر کرنا ہے، کیونکہ امکانِ عام کی صورت میں سلب ضروری نہیں نکلتا تھا نا۔ ٹھیک ہے؟ اب ہم پہلے ایجاب سے نکلتا تھا ایجاب، اب جب ایجاب ممکن ہے تو معلوم ہوا سلب ضروری نہیں۔ اب ذرا الٹا چلنا ہے: سلب ضروری نہیں، اس سے کیا معلوم ہوا؟ ایجاب ممکن ہے، جب سلب ضروری نہیں تو ایجاب ممکن ہے۔ تو یہاں ہم نے کیا لکھے دو لفظ؟ ایجاب بھی ضروری نہیں اور سلب بھی ضروری نہیں۔ اب سلب ضروری نہیں، یہ والا اب ہم کر رہے ہیں۔ سلب ضروری نہیں اس کا کیا معنی؟ ایجاب ممکن ہے۔ اب ایجاب ممکن ہے، یہ والا قضیہ اس کے نیچے بناؤ ذرا اس قضیے کو دیکھ کر "كُلُّ إِنْسَانٍ ضَاحِكٌ بِالْإِمْكَانِ الْخَاصِّ"۔ ایجاب ممکن ہے۔ موجبہ بنانا ہے نا موجبہ، ایجاب ممکن ہے۔ ہر انسان کے لیے ضاحک ہونا ممکن ہے، یہ بناؤ: "كُلُّ إِنْسَانٍ ضَاحِكٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ" یہ نکل آیا۔ یہی نکلا نا؟ "كُلُّ إِنْسَانٍ ضَاحِكٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ" اس سے کیا معلوم ہوا؟ جب ایجابِ ضحک ممکن ہے، تو کیا جانبِ مخالف کیا؟ سلبِ ضحک ضروری نہیں۔ اسی کے نیچے لکھا ہے نا آپ نے دیکھو: سلب ضروری نہیں۔ اچھا، اب دوسری طرف آؤ ذرا، دوسرا کیا تھا؟ ایجاب ضروری نہیں۔ یہ ایجاب ضروری نہیں، یہ کس میں آتا ہے؟ ادھر پیچھے آئیں، پیچھے پھر آئیں بھئی ممکنہ عامہ میں: "وَلَا شَيْءَ مِنَ النَّارِ بِبَارِدَةٍ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ" کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہیں ہے یہ ممکن ہے، کوئی بھی آگ ٹھنڈی نہ ہو یہ ممکن ہے۔ ایجاب ہے سلب ہے؟ سلب ہے۔ اور اس کی جانبِ مخالف کیا؟ ایجاب، کیا معنی؟ ایجاب ضروری نہیں، ایجاب ضروری نہیں، ایجاب ضروری نہیں یہ کس سے آیا؟ موجبہ سے یا سالبہ سے؟ سالبہ سے آیا نا، تو دیکھو آپ نے دوسرا لفظ کیا لکھا؟ ایجاب ضروری نہیں، اور ایجاب ضروری نہیں یہ کس سے نکلتا ہے؟ سالبہ ممکنہ عامہ سے۔ ایجاب ضروری نہیں معلوم ہوا سلب ممکن ہے۔ تو یہاں بناؤ، سالبہ ممکنہ عامہ بناؤ۔ سالبه بناؤ، اسی کو دیکھ کر "كُلُّ إِنْسَانٍ ضَاحِكٌ" کو دیکھ کر، اور ممکنہ عامہ ہو۔ کیا بنائیں گے؟ "لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِضَاحِكٍ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ"۔ لکھ لیا بھئی؟ "لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِضَاحِكٍ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ"۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا دیکھیے بھئی، میں نے بتلایا تھا، انہوں نے بتلایا کہ اس قضیے سے کیا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جانب ضروری نہیں، دونوں جانب سے ضرورت کا سلب ہے، دونوں جانب ضروری نہیں، یعنی ایجاب بھی ضروری نہیں اور سلب بھی۔ جب انہوں نے کہا ایجاب بھی، اب یہ جو دو لفظ میں نے لکھوائے ان پہ نظر رکھنا، جب انہوں نے کہا ایجاب ضروری نہیں، اس سے کس قضیے کی طرف اشارہ ہوا؟ کون سا سالبہ؟ سالبہ ممکنہ عامہ۔ اچھا، دوسرا انہوں نے کہا سلب بھی ضروری نہیں، سلب بھی ضروری نہیں یہ کہاں سے معلوم ہوتا تھا؟ موجبہ ممکنہ عامہ سے، تو جو اس کے نیچے آپ نے لکھ دیا معلوم ہوا ایجاب بھی ایجاب ممکن ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو ایک انہوں نے دوبارہ توجہ سے سنو، انہوں نے کہا سلب بھی ضروری نہیں، انہوں نے کہا ایجاب بھی ضروری نہیں، اور سلب ضروری نہیں یہ کس سے پتہ چلتا تھا؟ موجبہ ممکنہ عامہ سے۔ اور جب انہوں نے کہا سلب ضروری پہلے میں کیا بتایا میں نے؟ سلب ضروری نہیں، تو سلب ضروری نہیں کا پتہ کس سے چلتا تھا؟ موجبہ ممکنہ عامہ سے۔ اور انہوں نے دوسرا کیا کہا؟ ایجاب ضروری نہیں۔ 2 سالِبہ ممکنہ عامّہ سے۔ تو معلوم ہوا۔ کون سے دو قضیے آپ کے پاس آ گئے؟ دو ممکنہ عامّہ آ گئے، اور ایک موجَبہ ہے اور ایک سالِبہ ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ ممکنہ خاصّہ مرکب ہوتا ہے دو ممکنہ عامّہ سے۔ ایک موجَبہ ہوتا ہے، ایک سالِبہ ہوتا ہے۔ ایک آپ نے نکالا "کلُّ انسانٍ ضاحکٌ بالإمکان العام"، دوسرا آپ نے نکالا "لا شيءَ من الإنسان بضاحکٍ بالإمکان العام"۔ تو دیکھا، یہ ممکنہ خاصّہ مرکب ہوتا ہے کس سے؟ دو ممکنہ عامّہ، اور ان دونوں میں سے ایک موجَبہ ہوتا ہے اور ایک سالِبہ ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ کیونکہ اس میں دونوں جانب سے ضرورت کا سَلب ہے۔ ایجاب کا بھی ضرورت کا سَلب ہے اور ایجاب یعنی ایجاب بھی ضروری نہیں، اور سَلب بھی ضروری نہیں۔ بات سمجھ بھی آئی کہ ویسے سر ہلا رہے ہیں بھئی؟ آ گئی ہے سب کو سمجھ کہ نہیں آئی؟ اچھا۔ تو معلوم ہوا ممکنہ خاصّہ یہ مرکب ہوتا ہے دو ممکنہ عامّہ سے، جن میں سے ایک موجَبہ ہوتا ہے اور ایک سالِبہ ہوتا ہے۔ یہ جو دو ہم نے نکالے، ایک موجَبہ، ایک سالِبہ، یہ کس سے نکالے؟ ممکنہ خاصّہ موجَبہ سے۔ کس سے؟ "کلُّ انسانٍ ضاحکٌ بالإمکان الخاص"، یہ موجَبہ ہے یا سالِبہ ہے؟ یہ موجَبہ ہے، اس سے یہ دو ہم نے نکالے ہیں۔ آگے ہے "وبالإمکان الخاص لا شيءَ من الإنسان بضاحکٍ"، اور کوئی بھی انسان ضاحک نہیں ہے بالإمکان الخاص۔ یہ سالِبہ آ گیا نا؟ یہ ممکنہ خاصّہ کون سا ہے؟ موجَبہ ہے یا سالِبہ ہے؟ یہ سالِبہ ہے۔ لیکن نتیجہ اس کا بھی وہی نکلنا ہے، دونوں جانب سے ضرورت کا سَلب، یعنی ایجاب کا بھی سَلب اور سَلب یعنی ایجاب بھی ضروری نہیں اور سَلب بھی ضروری نہیں۔ جب کہا ایجاب ضروری نہیں، اب اپنے سامنے لفظوں پہ نظر رکھیں، جب انہوں نے کہا ایجاب ضروری نہیں، اس سے کون سا ممکنہ عامّہ آیا؟ سالِبہ ممکنہ عامّہ۔ اور جب انہوں نے کہا کہ سَلب بھی ضروری نہیں، تو اس سے کون سا آیا؟ موجَبہ ممکنہ عامّہ آیا۔ تو دونوں کا نتیجہ ایک، یعنی دونوں کا معنیٰ ایک ہی ہوتا ہے۔ ممکنہ خاصّہ چاہے موجَبہ ہو، چاہے سالِبہ ہو، دونوں ایک ہی چیز ہیں بھئی، دونوں کیا ہیں؟ لفظوں میں صرف فرق ہے، ایک میں ایجاب ہے، ایک میں سَلب، معنیٰ کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں، کیونکہ دونوں میں جانبَین سے ضرورت کا سَلب ہے۔ ایجاب بھی ضروری نہیں، سَلب بھی ضروری نہیں بھئی، یعنی یوں کہو دونوں ممکن ہیں، ایجاب بھی ممکن ہے اور سَلب بھی ممکن۔ انسان کے لیے ضاحک ہونا بھی ممکن ہے اور انسان کے لیے ضاحک نہ ہونا بھی ممکن ہے۔ معلوم ہوا انسان کے لیے ضاحک ہونا بھی ضروری نہیں اور انسان کے لیے ضاحک نہ ہونا بھی ضروری نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا ممکنہ خاصّہ چاہے موجَبہ ہو، چاہے سالِبہ ہو، دونوں کا مفہوم کیا ہوتا ہے؟ ایک ہی ہوتا ہے۔ مفہوم کیا ہوگا، دونوں سے کیا نکلیں گے؟ دو، دونوں مرکب ہوں گے دو ممکنہ عامّہ سے، ایک موجَبہ ہوگا اور ایک سالِبہ ہوگا بھئی، تو دونوں ایک۔ تو یہ جو، یاد رکھیے، اب دیکھیے ممکنہ خاصّہ پہ ذرا دوبارہ اس کی مثال پہ نظر رکھیں: "بالإمکان الخاص کلُّ انسانٍ ضاحکٌ"۔ ہر انسان ضاحک ہے بالإمکان الخاص۔ بھئی ہم بحث کس کی پڑھ رہے ہیں؟ مرکبات کی، اور ایک تھے بسائط اور کچھ ہیں مرکبات۔ بسائط جن کو کہتے تھے جن میں صرف ایجاب ہو یا صرف سَلب ہو۔ اور مرکبات جس میں ایک ہی قضیے میں ایجاب بھی ہوتا ہے اور سَلب۔ اس کے ذرا لفظوں پہ غور کرو، اس کے لفظوں میں صرف ایجاب ہے: "بالإمکان الخاص کلُّ انسانٍ ضاحکٌ"۔ یہاں کوئی لا ضرورت یا لا دوام کی قید ہے؟ تو یہ صرف ایجاب ہی ایجاب ہے، تو لفظوں کے اعتبار سے یہ جو ممکنہ خاصّہ ہے نا، یہ بسیطہ ہے۔ لفظوں کے اعتبار سے کیا ہے یہ؟ کیونکہ اس میں صرف ایجاب ہے، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے یہ مرکب ہے، کیونکہ معنیٰ کے اعتبار سے اس میں دو ممکنہ عامّہ ہیں، ایک موجَبہ اور ایک، بات سمجھ میں آئی؟ اسی طرح اس کے سالِبہ کو دیکھیں: "بالإمکان الخاص لا شيءَ من الإنسان بضاحکٍ"، اس میں صرف سَلب ہے۔ اور صرف ایجاب یا صرف سَلب ہو، وہ تو بسیطہ ہوتا ہے بھئی، کیا ہوتا ہے؟ تو لفظوں کے اعتبار سے یہ بسیطہ ہے، ہاں لیکن معنیٰ کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ مرکبہ، کیونکہ اس میں دو قضیے ہیں بھئی، ایک ممکنہ عامّہ موجَبہ اور ایک ممکنہ عامّہ سالِبہ۔ تو لہٰذا لفظوں کے اعتبار سے ممکنہ خاصّہ بسیطہ ہے، اور معنیٰ کے اعتبار سے مرکبہ ہے، اور مصنف نے معنیٰ کی رعایت رکھی، اسی لیے اس کو کس کے اندر ذکر کیا؟ مرکبات میں ذکر کیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیونکہ اصل تو معنیٰ ہی ہے بھئی۔ یہاں تک بات سب کو خوب اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی، "فصلٌ" یعنی "ہذا فصلٌ"، یہ فصل ہے۔ "اللادوّام إشارة إلى مطلقة عامّة"، بھئی لا دوام کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہوتا تھا؟ مطلقہ عامّہ، اور لا ضرورت کے ذریعے؟ ممکنہ عامّہ، وہی اب بیان کر رہے ہیں۔ "اللادوّام إشارة إلى مطلقة عامّة"، لا دوام جو ہے یہ اشارہ ہے مطلقہ عامّہ کی طرف، "واللاضرورة إشارة إلى ممکنة عامّة"، اور لا ضرورت یہ اشارہ ہے ممکنہ عامّہ کی طرف۔ اب مثالوں سے وضاحت کریں گے دیکھیے اسی بات کی، آسان بات ہے۔ "فإذا قلت"، پس جب آپ یہ کہیں: "کلُّ انسانٍ متعجبٌ بالفعل لا دائماً"۔ "کلُّ انسانٍ متعجبٌ بالفعل لا دائماً"، "کلُّ انسانٍ متعجبٌ بالفعل"، یہ کون سا قضیہ ہے؟ بالفعل، یہ کیا ہے؟ مطلقہ عامّہ، اور "لا دائماً" کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے؟ مطلقہ عامّہ ہی کی طرف اشارہ ہے۔ اچھا، مطلقہ عامّہ کے ساتھ لا دوام کی قید آ جائے تو اس کو کیا کہتے تھے؟ مطلقہ عامّہ کے ساتھ لا دوام کی قید آتی تھی، تو اس کو کیا کہتے تھے؟ وجودیہ لا دائمیہ۔ بھئی وہ مرکب، آپ نے مفردات میں سب کے اوپر لکیریں لگائی تھیں؟ ہاں، ادھر بھی لگائیں بھئی، یہ تو اس سے فوراً آپ کو ملے گا کون سا کہاں پر ہے۔ سب سے پہلے دوسری سطر میں مشروطه خاصّہ پر لکیر لگائیں اور ایک لکھیں۔ اسی سطر کے آخر میں آ رہا ہے عرفیہ خاصّہ، اس کے اوپر لکیر لگائیں اور دو نمبر لکھیں۔ نیچے ایک سطر چھوڑ کر اس سے اگلی سطر میں ہے درمیان کے قریب الوجودية اللاضرورية، اس کے اوپر لکیر کھینچیں اور تین نمبر لگائیں۔ اس سے نچلی سطر کے آخر میں ہے الوجودية اللادائمية بھئی، اس کے اوپر لکیر لگائیں اور چار نمبر لکھیں بھئی۔ اس سے نچلی سطر چھوڑ کر اس سے نچلی سطر کے شروع میں ہے "ومنها الوقتية"، اس وقتّیہ کے اوپر لکیر لگائیں اور پانچ نمبر لکھیں۔ اس سے نچلی سطر کے آخر میں ہے "ومنها المنتشرة"، منتشرہ کے اوپر لکیر لگائیں اور چھ نمبر لکھیں بھئی۔ سب سے آخری سطر کے شروع میں ہے الممكنة الخاصة، اس پر لکیر لگائیں اور سات نمبر لکھیں بھئی۔ دیکھا، بسائط میں لکیر لگانے سے آسانی ہو گئی تھی یا نہیں بھئی؟ فوراً آپ کو مل جاتا ہے کون سا کہاں پر ہے، یہاں بھی اب دیکھیے۔ اب دوبارہ آئیے بھئی، میں نے کہا "کلُّ انسانٍ متعجبٌ بالفعل"، یہ ہے مطلقہ عامّہ، اور اس کے ساتھ لا دوام کی قید ہے، مطلقہ عامّہ کے ساتھ لا دوام کی قید ہو، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ وجودیہ لا دائمیہ۔ تو کہتے ہیں جب آپ نے یوں کہا، "فکأنک قلت"، تو گویا کہ آپ نے یوں کہا، اب دیکھیے دونوں قضیے کھولیں گے۔ ایک تو ہے نا "کلُّ انسانٍ متعجبٌ بالفعل"، یہ تو اسی طرح رہے گا، اور "لا دائماً" کے ذریعے کون سا قضیہ نکالیں گے؟ یہ موجَبہ ہے یا سالِبہ، اچھا "لا دائماً" سے اشارہ کس کی طرف ہوتا ہے؟ یہ بھی مطلقہ عامّہ ہے، ایک دوسرا بھی ہم مطلقہ عامّہ نکالیں گے، لیکن ایجاب و سَلب میں مخالف ہوں گے، پہلا موجَبہ ہے تو اب دوسرا کیا نکالیں گے؟ سالِبہ، دیکھیے نکالیں گے یہ بھئی: "فکأنک قلت"، گویا کہ آپ نے یوں کہا "کلُّ انسانٍ متعجبٌ بالفعل"، یہ دیکھو پہلا تو اسی طرح لکھ دیا، اور "لا دائماً" کے ذریعے کیا نکلا تھا؟ "ولا شيءَ من الإنسان بمتعجبٍ بالفعل" بھئی، تو دیکھو یہ سالِبہ نکل آیا۔ "وإذا قلت"، اور جب آپ یہ کہیں: "کلُّ حیوانٍ ماشٍ بالفعل لا بالضرورة"۔ بھئی "کلُّ حیوانٍ ماشٍ بالفعل"، یہ کون سا قضیہ ہے؟ یہ مطلقہ عامّہ ہے، اور "لا بالضرورة" کی قید اس کے ساتھ ہے تو یہ کون سا بن جاتا ہے؟ وجودیہ لا ضروریہ، لا ضرورت کی قید تو صرف ایک ہی میں آتی تھی، آپ پڑھتے تھے وجودیہ کے وہ مطلقہ عامّہ کے ساتھ۔ اچھا، تو اب "لا بالضرورة" سے کس کی طرف اشارہ ہوتا ہے؟ ممکنہ عامّہ کی طرف، اچھا، اور یہ پہلا موجَبہ ہے یا سالِبہ ہے؟ "کلُّ حیوانٍ ماشٍ بالفعل"، موجَبہ ہے، تو لہٰذا ممکنہ عامّہ کون سا نکالیں گے؟ سالِبہ، ذرا بناؤ اس سے خود ہی: "لا شيءَ من الحيوانِ بماشٍ بالإمکان العام"۔ ہاں، "لا شيءَ من الحيوانِ بماشٍ بالإمکان العام"۔ دیکھیے اب یہ پورا، یہ تو گویا یوں کہا نا آپ نے "کلُّ حیوانٍ ماشٍ بالفعل"، یہ اسی طرح ہے، اور ساتھ کیا نکل آیا؟ "ولا شيءَ من الحيوانِ بماشٍ بالإمکان العام"، یہی دیکھو دونوں کھول کر بتائیں گے: "فکأنک قلت"، گویا کہ آپ نے یوں کہا "کلُّ حیوانٍ ماشٍ بالفعل"، یہ تو اسی طرح ہے، اور "لا بالضرورة" سے کیا پتہ لگ جائے گا؟ "ولا شيءَ من الحيوانِ بماشٍ بالإمکان العامِّ"، العام کا لفظ ہونا چاہیے، یہ کتابت کی غلطی ہے رہ گیا بھئی، "بالإمکان العامِّ"۔ یہاں تک بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بس یہاں انہوں نے صرف اسی چیز کی وضاحت کی جو آپ پہلے بھی کر چکے ہیں، کہ لا دوام کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے مطلقہ عامّہ کی طرف، اور لا ضرورت کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے ممکنہ عامّہ کی طرف، اور پھر ہر ایک کی ایک ایک مثال کے ساتھ وضاحت کر دی بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔