LESSONS NO. 45 فَصْلٌ: اَلْكُلِّيُّ الرَّابِعُ الْخَاصَّةُ، وَهُوَ كُلِّيٌّ خَارِجٌ عَنْ حَقِيقَةِ الْأَفْرَادِ مَحْمُولٌ عَلَى أَفْرَادٍ وَاقِعَةٍ تَحْتَ حَقِيقَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَطْ، كَالضَّاحِكِ لِلْإِنْسَانِ وَالْكَاتِبِ لَهُ. کلیاتِ خمسہ میں سے آخری دو کلیات خاصہ اور عرضِ عام کے بارے میں آج ہم پڑھیں گے، بھئی۔ تو یاد رکھیے، خاصہ۔ چوتھی کلی خاصہ ہے اور خاصہ وہ کلی ہے جو اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو گئی، حقیقت میں داخل نہ ہو گئی۔ اس سے پیچھے جن کلیات، یعنی جن تین کلیات کا ذکر ہوا—جنس، نوع، اور فصل—وہ اپنے افراد کی حقیقت میں داخل تھیں، بھئی؛ جبکہ یہ خاصہ اور عرضِ عام جو ہیں، یہ اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہوتی ہیں۔ البتہ فرق صرف اتنا ہے کہ خاصہ جو ہے وہ ایک ہی حقیقت کے افراد پر بولا جاتا ہے؛ خاصہ نام ہی بتا رہا ہے، بھئی، کہ یہ ایک ہی حقیقت کے افراد کے ساتھ خاص ہوتا ہے؛ جبکہ عرضِ عام جو ہے وہ مختلف حقیقتوں کے افراد پر بولا جاتا ہے، یعنی اس میں مختلف حقیقتوں کے افراد داخل ہوتے ہیں، بھئی۔ جیسے، بھئی، خاصہ کی مثال جو ایک ہی حقیقت کے افراد پر بولا جائے، ایک ہی حقیقت کے افراد اس میں شامل ہوں، جیسے ضاحک، بھئی۔ ضاحک، یہ انسان کا خاصہ ہے، بھئی۔ تو دیکھیے، ضاحک—ہنسنے والا—اب یہ ضاحک خاصہ ہے انسان کا؛ ضحک صرف انسان کے ساتھ خاص ہے اور حیوانات میں ضحک نہیں ہے، بھئی؛ اور حیوانات میں ان میں ضحک نہیں ہے؛ تو یہ خاصہ ہوا انسان کا، بھئی۔ اور دیکھیے، یہ انسان کی حقیقت سے خارج ہے، انسان کی حقیقت تو حیوانِ ناطق ہے؛ تو ضاحک کیا ہے؟ حقیقت سے خارج ہے، بھئی، خارج ہے۔ تو یہ خاصہ ہے۔ اور عرضِ عام، جیسے میں نے ابھی بتایا کہ وہ مختلف حقیقتوں کے افراد پر بولا جاتا ہے؛ وہ ایک حقیقت کے افراد کے ساتھ خاص نہیں ہوتا، بلکہ کئی حقیقتوں کے افراد پر بولا جاتا ہے، وہ اس میں شامل، اس میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کی مثال جیسے ماشی، ماشی۔ ماشی، مَشَى يَمْشِي سے ہے، اپنے پاؤں پر چلنے والا، بھئی، پاؤں پر چلنے والا۔ اب ماشی، یہ جیسے انسان چلنے والا ہے، اسی طرح گھوڑا بھی چلنے والا ہے، اسی طرح گائے بھی چلنے والی ہے اپنے پاؤں پر، اسی طرح بھیڑ بکریاں وغیرہ بھی ہیں؛ تو دیکھو، مختلف حقیقتوں کے افراد جو ہیں وہ ان سب میں یہ پایا جا رہا ہے، بھئی۔ ان سب پر یہ صادق آتا ہے، وہ سب ماشی ہیں۔ تو یہ عرضِ عام ہے۔ ضاحک کیا تھا؟ خاصہ؛ اور ماشی کیا ہے؟ عرضِ عام۔ عرضِ عام، ر، ع کے ساتھ ساتھ ر پر بھی فتحہ پڑھنا ہے، بھئی، ر پر بھی فتحہ—عَرَضِ عام، عرض لفظ ہے، بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ آسان سی بات ہے۔ دیکھیے، بھئی، اب کتاب پر: فَصْلٌ (أي: هَذَا فَصْلٌ)، یہ فصل ہے۔ اَلْكُلِّيُّ الرَّابِعُ الْخَاصَّةُ، چوتھی کلی خاصہ ہے۔ وَهُوَ كُلِّيٌّ، اور وہ ایسی کلی ہے خَارِجٌ عَنْ حَقِيقَةِ الْأَفْرَادِ، جو اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہوتی ہے—یعنی حقیقت میں داخل نہیں، حقیقت سے باہر ہے، حقیقت سے خارج ہے— مَحْمُولٌ عَلَى أَفْرَادٍ وَاقِعَةٍ تَحْتَ حَقِيقَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَطْ، اور یہ محمول ہوتی ہے، یہ کلی، ایسے افراد پر جو واقع ہوتے ہیں صرف ایک ہی حقیقت کے نیچے؛ یہ محمول ہوتی ہے ایسے افراد پر جو ایک ہی حقیقت کے نیچے واقع ہوں، بھئی، ایک ہی حقیقت والے ہوں سارے—ان پر محمول ہوتی ہے، یعنی ان پر صادق آتی ہے، ان پر بولی جاتی ہے، بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ كُلِّيٌّ خَارِجٌ عَنْ حَقِيقَةِ الْأَفْرَادِ مَحْمُولٌ عَلَى أَفْرَادٍ وَاقِعَةٍ تَحْتَ حَقِيقَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَطْ، وہ ایسی کلی ہے جو خارج ہوتی ہے افراد کی حقیقت سے اور محمول ہوتی ہے ایسے افراد پر جو ایک ہی حقیقت کے تحت واقع ہوں صرف؛ كَالضَّاحِكِ لِلْإِنْسَانِ، جیسے کہ ضاحک انسان کے لیے—تو یہ ضاحک انسان کا خاصہ ہے— وَالْكَاتِبِ لَهُ، لہُ (ہٰ ضمیر انسان کو راجع ہے)، وَالْكَاتِبِ لِلْإِنْسَانِ، اور جیسے کاتب انسان کے لیے، یہ بھی خاصہ ہے؛ کاتب—لکھنے والا—تمام حیوانات میں سے لکھنے والا صرف کون ہے؟ انسان ہے، وہی لکھنا پڑھنا وہی جانتا ہے؛ تو یہ انسان کا خاصہ ہے، بھئی؛ خاصہ ہے، کاتب—لکھنے والا، بھئی، لکھنے والا۔ تو ضاحک بھی انسان کا خاصہ اور کاتب بھی انسان کا خاصہ ہے۔ فَصْلٌ (أي: هَذَا فَصْلٌ)، یہ فصل ہے۔ اَلْخَامِسُ مِنَ الْكُلِّيَّاتِ الْعَرَضُ الْعَامُّ، ر پر میں نے بتلایا عَرَض کے ر پر فتحہ پڑھیں اور عام کا م مشدد ہے، بھائی—الْعَامُّ۔ اَلْخَامِسُ مِنَ الْكُلِّيَّاتِ، پانچویں کلیات میں سے اَلْعَرَضُ الْعَامُّ، عرضِ عام ہے۔ وَهُوَ الْكُلِّيُّ الْخَارِجُ، اور وہ ایسی کلی ہے جو خارج ہو—یعنی اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو— اَلْمَقُولُ عَلَى أَفْرَادِ (یہاں افرادِہٖ نہیں ہونا چاہیے، بھئی، افرادِہٖ ضمیر یہاں درست نہیں)، اَلْمَقُولُ عَلَى أَفْرَادِ حَقِيقَةٍ وَاحِدَةٍ وَعَلَى غَيْرِهَا، جو بولی جائے ایک حقیقت کے افراد پر اور ان کے علاوہ پر—ایک حقیقت اور ان کے علاوہ، یعنی اور حقیقتوں کے پر بھی بولی جائے، بھئی، یعنی کئی حقیقتوں کے افراد پر یہ بولی جائے۔ معنی سمجھ میں آ گیا، بھئی؟ دوبارہ دیکھیے: وَهُوَ الْكُلِّيُّ الْخَارِجُ الْمَقُولُ عَلَى أَفْرَادِ حَقِيقَةٍ وَاحِدَةٍ وَعَلَى غَيْرِهَا، وہ ایسی کلی ہے جو خارج ہوتی ہے—یعنی کس سے خارج ہوتی ہے؟ اپنے افراد کی حقیقت سے—وہ ایسی کلی ہے جو خارج ہوتی ہے، بولی جاتی ہے ایسے افراد پر، بولی جاتی ہے ایک ہی حقیقت کے افراد پر اور ان کے علاوہ پر؛ كَالْمَاشِي، جیسے کہ ماشی—ماشی کا کیا معنی؟ چلنے والا، اپنے پیروں پر چلنے والا— كَالْمَاشِي، جیسے کہ ماشی ہے؛ اَلْمَحْمُولِ عَلَى أَفْرَادِ الْإِنْسَانِ وَالْفَرَسِ، جو کہ محمول ہے انسان اور فرس کے افراد پر؛ كَالْمَاشِي الْمَحْمُولِ عَلَى أَفْرَادِ الْإِنْسَانِ وَالْفَرَسِ، جیسے کہ ماشی جو کہ محمول ہے انسان اور فرس کے افراد پر—انسان بھی ماشی ہے، چلنے والا، فرس وہ بھی چلنے والا، اسی طرح بقر (بیل، گائے وغیرہ) بھی چلنے والے، غنم (بھیڑ، بکری) بھی چلنے والے—تو دیکھو، اور سب کی حقیقتیں الگ الگ ہیں، تو یہ مختلف حقیقتوں کے افراد پر بولا جا رہا ہے اور حقیقت سے خارج ہے، بھئی؛ کیا ہے؟ حقیقت سے خارج ہے؛ یہ ان سب کی حقیقت سے خارج ہے، یہ حیوان ہیں اور حیوان کی تعریف کے اندر ماشی نہیں آیا تھا، بھئی؛ حیوان کی کیا تعریف پڑھی تھی آپ نے؟ اَلْجِسْمُ النَّامِي الْحَسَّاسُ الْمُتَحَرِّكُ بِالْإِرَادَةِ—تو دیکھو، وہاں ماشی کا لفظ نہیں تھا، بھئی، تعریف میں۔ فَائِدَةٌ (أي: هَذِهِ فَائِدَةٌ)، یہ فائدہ ہے۔ دیکھو، مبتدا اور خبر میں مطابقت ہوتی ہے؛ پیچھے فَصْلٌ کا لفظ تھا، وہ مذکر تھا تو اس کے لیے مبتدا بھی ہم کیا نکالتے تھے؟ مذکر—هَذَا فَصْلٌ؛ اور یہ فَائِدَةٌ مؤنث ہے، اس کے ساتھ ۃ ملی ہوئی ہے، تو مبتدا بھی اس کے لیے مؤنث اسم اشارہ نکالیں گے—هَذِهِ فَائِدَةٌ، یہ ایک فائدہ ہے۔ وَإِذْ قَدْ عَلِمْتَ مِمَّا ذَكَرْنَا، اور جب تو نے جان لیا اس سے جو ہم نے ذکر کیا—کیا جان لیا؟— أَنَّ الْكُلِّيَّاتِ خَمْسٌ، کہ کلیات کتنی ہیں؟ پانچ ہیں— اَلْأَوَّلُ الْجِنْسُ، پہلی جنس ہے؛ وَالثَّانِي النَّوْعُ، اور ثانی نوع ہے؛ وَالثَّالِثُ الْفَصْلُ، اور تیسری فصل ہے؛ وَالرَّابِعُ الْخَاصَّةُ، اور چوتھی خاصہ ہے؛ وَالْخَامِسُ الْعَرَضُ الْعَامُّ، اور پانچویں عرضِ عام ہے— مصنف فرما رہے ہیں: جب آپ نے جان لیا اس سے جو ہم نے پیچھے ذکر کیا کہ کلیات یہ والی پانچ ہیں، فَاعْلَمْ، تو یہ جان لے—جب وہ جان لیا تو یہ بھی جان لے—کیا جان لے؟ أَنَّ الثَّلَاثَةَ الْأُولَى يُقَالُ لَهَا الذَّاتِيَّاتُ، کہ پہلی تین جو ہیں—أَنَّ الثَّلَاثَةَ الْأُولَى، پہلی تین کلیات جو ہیں—کون کون سی پہلی تین؟ جنس، نوع، اور فصل—يُقَالُ لَهَا الذَّاتِيَّاتُ، ان کو ذاتیات بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ حقیقت میں داخل ہیں تینوں، بھئی؛ وَيُقَالُ لِلْأُخْرَيَيْنِ الْعَرَضِيَّاتُ، اور دوسری دو جو ہیں، ان کو کیا کہتے ہیں؟ عرضیات کہتے ہیں، بھائی—کیونکہ یہ عرض ہیں، بھئی، یہ حقیقت میں داخل نہیں ہیں، بھائی— وَقَدْ يُخْتَصُّ اسْمُ الذَّاتِيِّ بِالْجِنْسِ وَالْفَصْلِ فَقَطْ، اور کبھی خاص کیا جاتا ہے ذاتی کے اسم کو جنس اور فصل کے ساتھ صرف۔ بھئی، ذاتی، کلی ذاتی، یہ تو تینوں کو شامل ہے—یہ تینوں ذاتیات کون کون سی ہیں؟ جنس، نوع، اور فصل—تو ان کو کلی ذاتی کہتے ہیں، کیونکہ یہ حقیقت میں داخل ہیں؛ اور آخری دو کو کیا کہتے ہیں؟ کلی عرضی—کلی عرضی کہتے ہیں، کیونکہ وہ حقیقت میں داخل نہیں، وہ عرض ہیں، بھائی—لیکن کہتے ہیں، کبھی کبھی ذاتی میں داخل تو تین ہیں، لیکن کبھی ذاتی کا لفظ بولا جاتا ہے اور صرف کس کو شامل ہوتا ہے؟ جنس اور فصل کو؛ داخل تو اس میں تین ہیں، لیکن کبھی کبھی ذاتی کے لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے اور مراد اس سے صرف یہ دو ہوتے ہیں، نوع اس سے مراد نہیں ہوتی۔ تو کہتے ہیں: وَقَدْ يُخْتَصُّ اسْمُ الذَّاتِيِّ بِالْجِنْسِ وَالْفَصْلِ فَقَطْ، اور کبھی کبھار خاص کیا جاتا ہے ذاتی کے اسم کو جنس اور فصل کے ساتھ صرف؛ وَلَا يُطْلَقُ عَلَى النَّوْعِ بِهَذَا الْإِطْلَاقِ لَفْظُ الذَّاتِيِّ، اور اطلاق نہیں کیا جاتا نوع پر اس والے اطلاق—یہ والا اطلاق کس کا؟ لفظِ ذاتی کا—یعنی نوع پر لفظِ ذاتی کا یہ اطلاق نہیں کیا جاتا، بھئی؛ یعنی نوع پر لفظِ ذاتی کا اطلاق، کبھی کبھار، بھئی، ذاتی کے اندر داخل تو تینوں ہیں—جنس، نوع، اور فصل—لیکن کبھی کبھار ذاتی کا لفظ بولا جاتا ہے اور اس سے صرف کون کون مراد ہوتے ہیں؟ جنس اور فصل مراد ہوتے ہیں، اور نوع پر اس طرح سے ذاتی کا اطلاق نہیں کیا جاتا کبھی کبھار، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو خلاصہ سبق کیا ہوا آج کا؟ کہ آج آپ نے خاصہ کے بارے میں پڑھا اور عرضِ عام کے بارے میں پڑھا۔ خاصہ کس کو کہتے ہیں؟ وہ کلی ہے جو اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو اور ایک ہی حقیقت کے افراد پر بولی جائے، بھئی، ایک ہی حقیقت کے افراد کے ساتھ خاص ہو، اوروں کے ساتھ، اوروں میں نہ پائی جائے؛ جبکہ عرضِ عام وہ کلی ہے جو اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو اور مختلف حقیقتوں کے افراد پر بولی جائے، بھئی، ان مختلف حقیقتوں کے افراد پر صادق آئے۔ جی، اور پھر اس کے بعد آپ کو یہ چھوٹی سی ایک بات بتلائی کہ یہ جو پانچ کلیات ہیں، ان میں سے پہلی تین جو ہیں وہ ذاتیات ہیں، تو ان میں سے ہر ایک کو کیا کہتے ہیں؟ کلی ذاتی؛ اور آخری دو جو ہیں وہ عرضیات ہیں، بھئی، وہ حقیقت سے خارج ہیں، تو ان کو کیا کہتے ہیں ہر ایک کو؟ وہ کلی عرضی ہیں؛ اور کبھی کبھار ذاتی کے لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے اور اس سے مراد صرف جنس اور فصل ہوتے ہیں، نوع پر اس طرح ذاتی کا اطلاق نہیں کیا جاتا کبھی کبھار، بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ چلیے، بس، بھئی۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔