LESSONS NO. 30 1 فصل۔ المتکثر المعنی له اقسام عدیدة۔ وجه الحصر ان اللفظ اللفظ الذي كثر معناه ان وضع ذلك اللفظ لكل معنى ابتداء باوضاع متعددة على حدة يسمى مشتركا كالعين وضعت تارة للذهب وتارة للباصرة وتارة للركبة۔ کل ہم نے متکثر المعنی لفظ جو ہے، اس کے اقسام شروع کی تھیں۔ متکثر المعنی وہ لفظ ہے جس کے ایک سے زیادہ معانی آتے ہوں بھئی۔ ایک لفظ ہو اور اس کے دو یا تین یا چار معانی ہوں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ متکثر المعنی۔ پھر بتلایا تھا کہ متکثر المعنی لفظ کو اگر ابتداء سے ہی ہر معنی کے لیے الگ الگ وضع کیا گیا تھا، ایک معنی کے لیے الگ مقرر کیا اور وضع کیا، دوسرے معنی کے لیے الگ وضع کیا، تیسرے معنی کے لیے الگ وضع کیا، تو دیکھو ہر معنی کے لیے باقاعدہ الگ الگ وضع کیا جا رہا ہے، مقرر کیا جا رہا ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ مشترک۔ اور اگر ہر معنی کے لیے الگ وضع نہیں تھا بلکہ وضع تو ایک ہی معنی کے لیے تھا لیکن بعد میں اس کو نقل کر کے دوسرے معنی میں استعمال کرنے لگے اور پہلے معنی کو بالکل چھوڑ دیا گیا، تو اس کو منقول کہیں گے۔ پھر یہ منقول میں نقل کرنے والے اگر عام لوگ ہوں، تو اسے منقولِ عرفی کہتے ہیں۔ اور اگر نقل کرنے والے اہل شریعت ہوں، تو اسے منقولِ شرعی کہتے ہیں۔ اور اگر نقل کرنے والی ایک مخصوص جماعت ہو، تو اسے منقولِ اصطلاحی کہتے ہیں۔ یہ تو منقول کی بات چل رہی تھی جس میں لفظ کو وضع ایک معنی کے لیے کیا گیا اور پھر نقل کر کے دوسرے معنی میں مشہور ہو گیا اور پہلے معنی کو بالکل چھوڑ دیا گیا۔ اور اگر پہلے معنی کو نہ چھوڑا ہو، وضع تھا ایک معنی کے لیے اور استعمال دوسرے میں بھی ہونے لگا، تو کبھی اپنے اصل معنی میں استعمال ہوتا ہے، کبھی دوسرے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ تو اس لفظ کو اگر اپنے اصل معنی میں استعمال کیا جائے، تو یہ لفظ حقیقت کہلاتا ہے۔ اور اگر دوسرے معنی میں استعمال ہو، تو یہ مجاز کہلاتا ہے بھئی۔ تقسیم سمجھ میں آ گئی؟ جی، اب دیکھیے، ترجمہ دیکھ لیجیے۔ فصل اي هذا فصل۔ یہ فصل ہے۔ المتکثر المعنی له اقسام عدیدة۔ متکثر المعنی لفظ جو ہے اس کی کئی اقسام ہیں۔ وجه الحصر، وجہ حصر۔ وجہ حصر کا معنی سمجھ میں آیا؟ حصر کا معنی ہوتا ہے بند کرنا۔ تو یہاں وجہ ذکر کریں گے کہ یہی قسمیں کیوں بنائیں، انہی میں اس کو کیوں بند کر دیا بھئی، انہی قسموں میں۔ تو اس کو وجہ حصر کہتے ہیں کہ مخصوص انواع و اقسام کے اندر کسی چیز کو بند کر دیا جائے۔ اس کی جو وجہ ذکر کی جائے، اسے وجہ حصر کہتے ہیں۔ تو وجہ حصر یہ ہے کہ ان اللفظ الذی کثر معناه، کہ وہ لفظ کہ جس کے معنی کثیر ہوں، ان وضع ذلک اللفظ لکل معنی ابتداء، اگر وضع کیا گیا ہو اس لفظ کو ہر معنی کے لیے شروع ہی سے، باوضاع متعددة علی حدة، علیحدہ الگ الگ کئی وضعوں کے ساتھ۔ بھئی دیکھو، ایک معنی کے لیے الگ مقرر کیا، دوسرے معنی کے لیے الگ مقرر کیا، تیسرے معنی کے لیے الگ، تو دیکھو کئی وضعیں آ گئیں، وضع کا معنی ہے نہ مقرر کرنا، تو کئی علیحدہ علیحدہ وضعوں کے ساتھ شروع ہی سے اگر لفظ کو ہر معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو، یسمی مشترکا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس لفظ کو مشترک کہتے ہیں۔ کالعین وضعت تارة للذهب، جیسے عین کا لفظ اس کو کبھی تو مقرر کیا گیا سونے کے لیے، وتارة للباصرة، اور کبھی آنکھ کے لیے، وتارة للرکبة، اور کبھی گھٹنے کے لیے۔ وان لم یوضع لکل معنی ابتداء، اور اگر لفظ کو وضع نہ کیا گیا ہو لکل، یاد رکھو 'کل'، 'کل' ہمیشہ مضاف الیہ چاہتا ہے، کل کا معنی سارا، پورا، تو پورا کوئی چیز ہوگی لازمی بات ہے، تو اس کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ مضاف الیہ کہ پوری کی پوری فلاں چیز یا فلاں شے، تو اس کے لیے ہمیشہ مضاف الیہ چاہیے۔ لیکن کبھی کبھی اپ کو آگے مضاف الیہ نہیں ملے گا، اس پر تنوین نظر آئے گی، جیسے یہاں ہے: وان لم یوضع لکل۔ تو یاد رکھیے، 'کل' ہمیشہ مضاف الیہ چاہتا ہے اور بعض اوقات اس کے مضاف الیہ کو حذف کر لیتے ہیں اور اس کے عوض اس پر تنوین لے آتے ہیں۔ تو یہ 'لکل' پر جو تنوین آ رہی ہے، یہ عوض ہے مضاف الیہ کا بھئی۔ ورنہ تو پہلے اس کے لیے تو مضاف الیہ چاہیے تھا بھئی، مضاف الیہ جب ہو تو 'کل' نے بننا ہے مضاف اور مضاف پر تو تنوین نہیں آتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ غلام زید، 'غلام' زیدین تو آپ نہیں کہتے، کیا کہتے ہیں؟ 'غلامُ' زید، غلام پر تنوین نہیں آ سکتی کیونکہ آگے مضاف الیہ آ رہا ہے، تو جب مضاف الیہ آ رہا ہو تو تنوین مضاف پر نہیں آتی۔ لیکن پھر کبھی کبھار مضاف الیہ کو کیا کر لیتے ہیں؟ حذف کر لیتے ہیں اور اس کے عوض مضاف پر کیا لے آتے ہیں؟ تنوین لے آتے ہیں اور یہ ہر جگہ نہیں ہوتا، چند ایک جگہ ہوتا ہے جیسے یہاں 'کل' کے اندر آیا بھئی: لکل، تو اصل میں یہ کیا تھا؟ لکل معنی بھئی، لکل معنی۔ وان لم یوضع لکل، اور اگر اس کو وضع نہ کیا گیا ہو، اس لفظ کو وضع نہ کیا گیا ہو ہر معنی کے لیے ابتداء شروع ہی سے، بل وضع اولا لمعنی، بلکہ اس کو وضع کیا گیا تھا پہلے ایک معنی کے لیے، ثم استعمل فی معنی ثان، معنی ثان، پھر اس کو استعمال کیا گیا دوسرے معنی میں، لاجل مناسبة بینهما، بوجہ مناسبت ہونے ان دونوں کے درمیان۔ میں نے بتلایا تھا بھئی، منقول میں ایک معنی کو چھوڑ کر دوسرے معنی میں لفظ استعمال کرنے لگے اور دونوں میں ہمیشہ کوئی مناسبت ہوگی، بغیر مناسبت کے نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ثم استعمل فی معنی ثان، پھر استعمال کیا گیا اس لفظ کو، کس لفظ کو؟ جس کو پہلے ایک معنی کے لیے وضع کیا گیا تھا، پھر استعمال کیا گیا فی معنی ثان، دوسرے معنی کے اندر، تو دوسرے معنی کے لیے اس کو وضع نہیں کیا گیا، وضع تو ایک ہی معنی کے لیے تھا، متحد المعنی تھا یہ، متکثر المعنی نہیں تھا، لیکن پھر دوسرے معنی کی طرف اس کو نقل کر دیا گیا کسی مناسبت کی وجہ سے، تو دیکھو وضع ہوا ایک معنی کے لیے اور اب مشہور ہو گیا ہے دوسرے معنی کے اندر، تو دو معنی ہو گئے اس کے، تو یہ کیا ہے؟ متکثر المعنی باعتبار ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ثم استعمل فی معنی ثان، پھر استعمال کیا گیا اس لفظ کو دوسرے معنی کے اندر، لاجل مناسبة بینهما، بوجہ مناسبت ہونے ان دونوں کے درمیان، ان دونوں معانی میں مناسبت ہونے کی وجہ سے۔ فان اشتهر فی الثانی، اگر یہ مشہور ہو گیا لفظ دوسرے معنی کے اندر، وترک موضوعه الاول، اور چھوڑ دیا گیا اس کے پہلے موضوع کو، یعنی پہلے معنی کو اس کے چھوڑ دیا گیا، یسمی منقولا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تو اس لفظ کو منقول کہتے ہیں، منقول کہتے ہیں۔ 'یسمی' کے اندر 'هو' ضمیر ہے جو راجع ہے 'لفظ' کو، یسمی هو، اسے کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ منقولا، اسے منقول کہا جاتا ہے، اس کا نام منقول رکھا جاتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ اچھا بھئی، پیچھے آیا تھا: ثم استعمل فی معنی ثان۔ یہ دیکھو، یہ معنی ہے موصوف اور ثان ہے اس کی صفت۔ معنی ہے موصوف اور ثان ہے صفت۔ اور آپ نے پڑھا ہے موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ تو آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ 'معنی' تو منصوب ہے، 'ثان' مجرور ہے، موصوف صفت کا اعراب ایک نہیں۔ لیکن بھئی، یہ دونوں کا اعراب ایک ہی ہے اس وقت۔ جو موصوف کا اعراب ہے، وہی صفت کا اعراب ہے۔ ہاں، پڑھنے میں ایک پر ایک کو 'معنی' پڑھ رہے ہیں، دوسرے کو 'ثان' ہم پڑھ رہے ہیں۔ تو یہ تلفظ میں اس طرح ہے، دراصل دونوں کا اعراب ایک ہی ہے۔ اور کیا اعراب ہے دونوں کا؟ مجرور ہے، کیونکہ 'معنی' موصوف ہے اور موصوف پر جو اعراب آتا ہے وہی صفت پر آتا ہے اور موصوف پر اس وقت 'فی' حرف جار داخل ہے، اور حرف جار کیا کرتا ہے؟ جس لفظ پر داخل ہو اسے جر دے دیتا ہے، تو 'معنی' پر 'فی' داخل ہوا تو یہ اس وقت مجرور ہے، تو 'معنی' ہوا موصوف، جب یہ مجرور ہے تو 'ثان' جو اس کی صفت ہے، وہ بھی مجرور ہے۔ تو سوال پیدا ہوگا کہ پھر 'معنی' کیوں ہم پڑھ رہے ہیں؟ جواب یہ کہ آپ نے نحومیر کے اندر بھئی 16 قسمیں پڑھی ہوں گی اعراب کے اعتبار سے اسم کی۔ تو یہ جو 'معنی' ہے، یہ اسم مقصور ہے بھئی۔ اسم مقصور وہ اسم ہوتا ہے جس کے آخر میں الف مقصورہ ہو۔ کیا ہو؟ الف مقصورہ ہو۔ جیسے موسیٰ، عیسیٰ، ان کے آخر میں کیا ہے؟ الف مقصورہ۔ تو یہ 'معنی' بھی اس کے آخر میں الف مقصورہ ہے۔ آپ کہیں گے الف مقصورہ تو نہیں، ہم تو 'معنی' نہیں پڑھنا اس کو، 'معنًى' پڑھنا ہے، کیا پڑھنا ہے؟ 'معنًى'، نون پر تنوین ہے بھئی 'معنًى'۔ تو الف اس وقت تو آپ کہیں گے نظر بھی نہیں آ رہا اور ہم پڑھ بھی نہیں رہے، ہم تو 'معنًى' پڑھ رہے ہیں بھئی، ورنہ تو کیا پڑھنا چاہیے تھا؟ 'معنی'۔ تو جواب یہ کہ الف یہاں تقدیراً موجود ہے۔ الف کیا ہے؟ تقدیراً موجود ہے، وہ گر چکا ہے لیکن تقدیراً گویا کہ ابھی بھی موجود ہے۔ گرا کس طرح؟ بھئی اصل میں یہ تھا 'معنیٌ'۔ کیا تھا؟ 'معنیٌ'۔ اور یہ حالت جری میں ہے، تو جر پڑھو: 'معنَیٍ' تھا، کیا تھا؟ 'معنَیٍ'۔ جی، پھر یا جو ہے، اس پر کسرہ آیا: 'معنَیٍ'۔ اور یا پر کسرہ ثقیل ہے۔ کیا ہے؟ یا پر کسرہ ثقیل ہے، اس کا پڑھنا دشوار ہے، مشکل ہے۔ تو لہٰذا، نہیں بلکہ یہاں دوسرا قانون لگے گا بھئی، دوسرا: 'معنَیٍ' تھا۔ یا متحرک ماقبل فتحہ آیا بھئی۔ 'معنَیٍ'، یا سے ماقبل نون ہے، اور یا متحرک ہے اور ماقبل اس کے فتحہ ہے، اس یا کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے بدلتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کیا بن گیا؟ 'معنان'۔ بھئی، وہ تنوین بھی تو نون ساکن کا نام ہے، تنوین کسے کہتے ہیں؟ نون ساکن کو تنوین کہتے ہیں۔ میں آپ کے سامنے لکھتا ہوں: ز، ا، د، اور د کے اوپر میں دو پیش لگا دوں، آپ کیسے پڑھیں گے؟ زیـدٌ۔ بھئی، میں نے تو ز، ا، د لکھے، یہ آپ نون کہاں سے پڑھ رہے ہیں؟ تو آپ کیا جواب دیں گے؟ یہ تنوین جو اوپر ڈلی ہوئی ہے، یہ نون ساکن ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ تو یہ نون ساکن ہے، اسی لیے زید کے اوپر اس کو ہم تنوین اوپر ہو تو اس کو کیسے پڑھتے ہیں؟ زیـدٌ، نون آخر میں پڑھتے ہیں۔ تو یہاں بھی اسی طرح 'معنَیٍ' تھا اور آخر میں وہ تنوین نون ساکن ہے، یا کو ماقبل فتحہ کی وجہ سے کس سے بدل دیا؟ الف سے۔ لیکن وہ نون آخر میں تنوین والا ابھی بھی موجود، تو کیسے پڑھیں گے؟ 'معنان'۔ کیا بن گیا؟ 'معنان'۔ پھر الف بھی ساکن، آگے نون بھی ساکن ہے۔ تنوین نون ساکن ہوتا ہے نا؟ تو وہ نون بھی ساکن، اس سے ماقبل والی یا الف بن گئی، الف بھی ساکن، تو دو ساکن اکٹھے ہو گئے اور یہ اجتماع ساکنین علی غیر حدہ ہے، یعنی دو ساکن ایسے طور پر جمع ہوئے کہ ان کا جمع ہونا دشوار ہے، جائز نہیں ہے۔ تو لہٰذا الف کو گرا دیا، اول حرف مدہ تھا الف، اسے گرا دیا، کیا رہ گیا؟ 'معنان' میں سے الف گراؤ، کیا رہ گیا؟ 'معنًى'۔ دیکھا، تو الف اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرا ہے، تو گویا ابھی بھی موجود ہے، تقدیراً کیا ہے؟ ابھی بھی موجود ہے۔ تو یہ 'معنًى' ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، اس پر اگر الف لام آ جائے، پھر 'المعنی' پڑھیں گے اس کو۔ کیونکہ پھر آخر میں وہ تنوین نہیں آئے گی۔ اگر یہاں الف لام ہوتا تو کیا ہوتا؟ المعنی۔ اصل میں یہ کیا تھا اس وقت؟ فی معنًى۔ اصل میں معنًى کیا تھا؟ معنَیٍ، 'فی' تھا نا، 'فی' کی وجہ سے جر پڑھیں۔ تنوین آخر میں پڑھ رہے ہیں، اگر الف لام ہو تو آخر میں تنوین نہیں آئے گی، پھر کیسے پڑھتے؟ المعنَیِ۔ اسی طرح ہوتا نا؟ المعنَیِ ہوتا، اور پھر وہی قانون لگتا: یا متحرک ماقبل فتحہ، اس کو کس سے بدلا؟ الف سے۔ کیا بن گیا؟ المعنیٰ۔ تنوین تو ہے ہی نہیں، لہٰذا الف نہیں گرے گا، پھر الف پڑھیں گے: فی المعنیٰ۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور 'ثان'، آپ کہیں گے اس پر پھر کسرہ کیوں ہے بھئی، اس پر کسرہ نہیں، ہاں، اس پر بھی جر ہے اس وقت۔ اس پر بھی کیا ہے؟ جر ہے۔ یہ اسم منقص ہے بھئی، اسم منقص 16 قسموں میں سے۔ اسم منقص کسے کہتے ہیں؟ جس کے آخر میں یا ہو اور یا سے ماقبل کسرہ ہو، جیسے قاضی، یہ بھی تھا ثانی۔ جی، اور ثانی ہے، یا ہے آخر میں اور اس پر یہ مجرور ہے، تو یا پر ذرا جر پڑھیں تنوین کے ساتھ، کیا بن جائے گا؟ ثانِیٍ، ثانِیٍ۔ اچھا، اب یا پر کسرہ، یا سے ماقبل فتحہ تو ہے نہیں، ورنہ ہم اس کو کس سے بدلتے؟ الف سے۔ ماقبل کے نون پر بھی کسرہ ہے، اس پر بھی کسرہ والی حرکت ہے۔ تو لہٰذا وہ قانون تو نہیں لگے گا، لیکن دوسرا قانون لگے گا کہ یا پر آپ جانتے ہیں ضمہ بھی ثقیل ہوتا ہے اور کسرہ بھی ثقیل۔ تو کسرہ کو گرا دیا۔ تو کیا رہ گیا؟ ثانِین، درمیان میں یا بھی ہے۔ آخر والا نون کون سا ہے؟ تنوین والا، ثانِین۔ تو یا بھی ساکن، نون بھی ساکن، پھر وہی قانون لگا اجتماع ساکنین علی غیر حدہ آیا، اول حرف مدہ تھا یعنی یا، اس کو گرا دیا، کیا رہ گیا؟ ثانٍ۔ دیکھو، یہ ثانٍ ہے حالت جری میں بھئی۔ حالت رفعی میں بھی اسی طرح 'ثانٍ' پڑھا جاتا ہے، حالت نصبی میں البتہ 'ثانیاً' ہوتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ثم استعمل فی معنی ثان، پھر اس کو استعمال کیا گیا دوسرے معنی کے اندر، لاجل مناسبة بینهما، بوجہ ان دونوں معانی میں مناسبت ہونے کی وجہ سے۔ فان اشتهر فی الثانی، اگر وہ لفظ مشہور ہو گیا دوسرے معنی میں، وترک موضوعه الاول، اور اس کے پہلے موضوع یعنی پہلے معنی کو چھوڑ دیا گیا، یسمی منقولا، تو اسے منقول کہتے ہیں۔ والمنقول بالنظر الى الناقل ينقسم الى ثلاثة اقسام، اور منقول جو ہے 2 بھئی، منقول کے تین قسمیں ہم نے بنائی تھیں، وہ کس کے اعتبار سے تھیں؟ نقل کرنے والوں کے اعتبار سے۔ اگر نقل کرنے والے عام لوگ ہوں تو منقولِ عرفی، اگر نقل کرنے والے اہل شرع ہوں تو منقولِ شرعی، اور اگر نقل کرنے والے مخصوص جماعت ہو تو منقولِ اصطلاحی۔ تو وہ نقل کرنے والوں کے اعتبار سے تقسیم تھی، یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ: الْمَنْقُولُ بِالنَّظَرِ إِلَى النَّاقِلِ کہ منقول جو ہے وہ ناقل کی طرف نظر کرتے ہوئے، يَنْقَسِمُ إِلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ وہ تقسیم ہوتا ہے تین قسموں کی طرف، أَحَدُهَا الْمَنْقُولُ الْعُرْفِيُّ ان تین میں سے ایک قسم جو ہے منقولِ عرفی ہے، بِاعْتِبَارِ كَوْنِ النَّاقِلِ عُرْفًا عَامًّا اس اعتبار سے کہ نقل کرنے والے عرفِ عام ہوں، یعنی عام لوگ ہوں۔ نقل کرنے والے عرفِ عام ہوں۔ وَثَانِيهَا الْمَنْقُولُ الشَّرْعِيُّ اور ان تین میں سے دوسری قسم جو ہے وہ منقولِ شرعی ہے، بِاعْتِبَارِ كَوْنِهِ أَرْبَابَ الشَّرْعِ اس اعتبار سے کہ اس کے نقل کرنے والے اربابِ شرع ہیں، یعنی اہل شریعت ہیں، شریعت والے ہیں۔ بِاعْتِبَارِ كَوْنِهِ، كَوْنِهِ کی 'ہ' ضمیر، بھئی پیچھے کیا آیا تھا؟ بِاعْتِبَارِ كَوْنِ النَّاقِلِ، منقولِ عرفی میں کیا آیا تھا؟ بِاعْتِبَارِ كَوْنِ النَّاقِلِ۔ تو كَوْنِ کے لفظ کے بعد النَّاقِلِ آیا تھا۔ تو آگے بِاعْتِبَارِ كَوْنِهِ أَرْبَابَ الشَّرْعِ، تو یہاں یہ كَوْنِهِ کی 'ہ' ضمیر اسی ناقل کو راجع ہے۔ اس اعتبار سے بِاعْتِبَارِ كَوْنِهِ أي بِاعْتِبَارِ كَوْنِ النَّاقِلِ کہ اس اعتبار سے کہ نقل کرنے والے جو ہیں وہ اہل شریعت ہوں۔ وَثَالِثُهَا الْمَنْقُولُ الْإِصْطِلَاحِيُّ اور تیسری قسم اس کی، وہ منقولِ اصطلاحی ہے، بِاعْتِبَارِ كَوْنِهِ عُرْفًا خَاصًّا وَطَائِفَةً مَخْصُوصَةً اس اعتبار سے کہ اس کے نقل کرنے والا جو ہے، وہ عرفِ خاص ہو اور مخصوص جماعت ہو، مخصوص گروہ ہو۔ طائفہ کہتے ہیں گروہ کو، بھئی۔ سمجھ میں آئی بات، بھئی؟ عرفِ عام، عام لوگ۔ عرفِ خاص، خاص لوگ، خاص جماعت، بھئی۔ مِثَالُ الْأَوَّلِ، اب ہر ایک کی مثال ذکر کریں گے، بھئی۔ مِثَالُ الْأَوَّلِ، پہلے کی مثال۔ پہلا کون تھا؟ منقولِ عرفی۔ كَلَفْظَةِ الدَّابَّةِ جیسے کہ دابہ کا لفظ، بھئی۔ دابہ، با مشدد ہے۔ كَلَفْظَةِ الدَّابَّةِ، جیسے کہ دابہ کا لفظ، كَانَ فِي الْأَصْلِ مَوْضُوعًا لِمَا يَدُبُّ عَلَى الْأَرْضِ کہ یہ اصل کے اندر موضوعًا وضع کیا گیا تھا لِمَا اس چیز کے لیے يَدُبُّ عَلَى الْأَرْضِ جو چلتا ہو زمین پر، یا جو رینگتا ہو زمین پر، بھئی۔ زمین پر رینگنے والے ہر جاندار کو، یا زمین پر چلنے والے ہر جاندار کو کیا کہا جاتا تھا؟ دابہ کا لفظ ان کے لیے وضع تھا، تو كَانَ فِي الْأَصْلِ مَوْضُوعًا لِمَا، تو یہ اصل کے اندر وضع کیا گیا تھا لِمَا، ما سے مراد جاندار، اس جاندار کے لیے يَدُبُّ عَلَى الْأَرْضِ جو زمین پر چلتا ہو، یا يَدُبُّ کا کیا معنی کریں؟ جو زمین پر چلتا ہو یا رینگتا ہو۔ جو زمین پر رینگتا ہو۔ ثُمَّ نَقَلَهُ الْعَامَّةُ پھر اس کو نقل کیا عام لوگوں نے، لِلْفَرَسِ گھوڑے کے لیے۔ کس کے لیے استعمال کرنے لگے یہ لفظ؟ گھوڑے کے لیے، أَوْ لِذَاتِ الْقَوَائِمِ الْأَرْبَعِ یا چار پاؤں والے کے لیے۔ قوام: پاؤں، بھئی۔ الاربع: کتنے پاؤں؟ چار پاؤں۔ اور ذات، بھئی، جیسے کہتے ہیں نا ذو مال، ذو مال کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مال والا۔ تو مذکر کے لیے 'ذو' کا لفظ استعمال ہوتا ہے، مونث کے لیے 'ذات' کا۔ اگر کہیں ذاتُ مالٍ، کیا معنی؟ مال والی۔ تو یہ بھی اسی طرح ذات کا لفظ آیا۔ تو پھر اس کو نقل کیا گیا، عام لوگوں نے نقل کیا گھوڑے کے لیے، أَوْ لِذَاتِ الْقَوَائِمِ الْأَرْبَعِ چار پاؤں والے کے لیے، یعنی چار پاؤں والے جانور، بھئی، چوپائے کے لیے۔ کس کے لیے؟ چوپائے کے لیے۔ تو اور دیکھو، دونوں میں مناسبت بھی ہے، بھئی۔ دابہ وضع کس کے لیے تھا؟ ہر وہ جاندار جو زمین پر چلنے والا ہے یا رینگنے والا ہے۔ اور پھر استعمال کس کے لیے کرنے لگے؟ گھوڑے کے لیے یا چوپائے کے لیے، اور گھوڑا بھی زمین پر چلتا ہے، چوپائے بھی زمین پر چلتے ہیں، تو دیکھو، دونوں معنی میں مناسبت بھی ہے۔ مِثَالُ الثَّانِي، دوسرے کی مثال، كَلَفْظِ... دوسرا کون، بھئی؟ منقولِ شرعی۔ مِثَالُ الثَّانِي، اس کی مثال، كَلَفْظِ الصَّلَاةِ جیسے صلاۃ کا لفظ، كَانَ فِي الْأَصْلِ بِمَعْنَى الدُّعَاءِ یہ اصل کے اندر دعا کے معنی میں تھا، ثُمَّ نَقَلَهُ الشَّارِعُ پھر اس کو نقل کیا شارع نے، یعنی حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے، إِلَى أَرْكَانٍ مَخْصُوصَةٍ مخصوص ارکان کی طرف، بھئی۔ وہ جو قیام، رکوع، سجدہ وغیرہ ہیں، ان کی طرف نقل کر کے ان کا نام کیا رکھ دیا؟ صلاۃ، بھئی۔ تو نقل کیا اس کو شارع نے ارکانِ مخصوصہ کی طرف۔ مِثَالُ الثَّالِثِ، تیسرے کی مثال، تیسرا کیا ہے؟ منقولِ اصطلاحی۔ كَلَفْظِ الْإِسْمِ جیسے کہ اسم کا لفظ، كَانَ فِي اللُّغَةِ بِمَعْنَى الْعُلُوِّ عین پر بھی پیش ہے، لام پر بھی پیش اور واؤ مشدد ہے۔ كَانَ فِي اللُّغَةِ بِمَعْنَى الْعُلُوِّ، یہ لغت، یعنی عربی زبان کے اندر علو کے معنی، یعنی بلندی کے معنی میں تھا۔ کس معنی میں؟ اسم کس معنی کے لیے وضع تھا؟ بلندی کے لیے۔ ثُمَّ نَقَلَهُ النُّحَاةُ پھر نحاۃ، جمع ہے نحوی کی، بھئی۔ پھر نقل کیا اس کو نحویوں نے، إِلَى كَلِمَةٍ مُسْتَقِلَّةٍ فِي الدَّلَالَةِ غَيْرِ مُقْتَرِنَةٍ بِزَمَانٍ مِنَ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ بھئی، وہی اسم کی تعریف کر رہے ہیں۔ اس کلمے کی طرف جو مستقل ہو فی الدلالۃ، کس کے اندر؟ دلالت میں۔ بھئی، حرف غیر مستقل ہوتا ہے دلالت میں، جبکہ اسم اور فعل کیا ہوتے ہیں؟ مستقل۔ تو یہ وہ کلمہ جو مستقل ہو دلالت کرنے میں، یعنی اپنے معنی پر دلالت کرنے میں مستقل ہو، غَيْرِ مُقْتَرِنَةٍ اور ملا ہوا نہ ہو بِزَمَانٍ کسی ایک زمانے کے ساتھ مِنَ الْأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ تین زمانوں میں سے۔ اور تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ ملا ہوا بھی نہ ہو، اس کو اسم کہنے لگے۔ تو دیکھو، اسم اصل میں وضع تھا بلندی کے لیے، اور پھر اس کو استعمال کرنے لگے لفظ کی ایک قسم، جس اپنے معنی پر مستقلاً دلالت کرتی ہے اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہوتا۔ اور دونوں میں مناسبت بھی ہے۔ ہر جگہ مناسبت ہوگی، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کہ اسم، فعل اور حرف میں سے اسم سب سے اعلیٰ ہے۔ اسم کیا ہے؟ سب سے اعلیٰ ہے۔ اور حرف سب سے ادنیٰ ہے۔ اسم اس لیے اعلیٰ ہے کہ یہ کلام میں مسند بھی واقع ہوتا ہے اور مسند الیہ بھی واقع ہوتا ہے۔ جبکہ فعل صرف مسند واقع ہوتا ہے، اور حرف نہ مسند واقع ہوتا ہے اور نہ مسند الیہ، تو وہ سب سے ادنیٰ ہوا۔ تو اسم سے دو اسم مل جائیں، کلام پورا بن جاتا ہے، جیسے 'زیدٌ قائمٌ' (زید کھڑا ہے)، پورا کلام ہے۔ اور دو فعل ملیں تو کلام پورا نہیں ہوگا، فعل کے ساتھ اسم کا ملنا ضروری ہے، 'ضرب زیدٌ'، تو زید کے ساتھ 'ضرب' کے ساتھ 'زید' کا ملنا ضروری، پھر ہی جملہ بنے گا، بھئی۔ یا اس کے اندر 'ھو' ضمیر نکالنی پڑے گی، وہ بھی اسم ہے۔ تو فعل پورا کلام ہونے کے لیے محتاج ہوتا ہے اسم کا، لیکن اسم پورا کلام ہونے کے لیے فعل یا حرف کا محتاج نہیں۔ تو اس لیے اسم ان تینوں سے اعلیٰ ہوا، بلند ہوا، بھئی۔ تو دیکھو، یہ مناسبت آگئی معنیِ لغوی کی اس دوسرے معنی کے ساتھ۔ وَإِنْ لَمْ يَشْتَهِرْ فِي الثَّانِي اور اگر وہ اسم، وہ مفرد جو ہے، وہ لفظ جو ہے، اگر وہ مشہور نہ ہوا ہو دوسرے معنی میں، وَلَمْ يُتْرَكِ الْأَوَّلُ اور پہلے معنی کو چھوڑا نہیں گیا۔ یعنی دوسرے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا اور پہلے معنی کو بھی نہیں چھوڑا گیا، اس میں بھی استعمال ہوتا ہے، بَلْ يُسْتَعْمَلُ فِي الْمَوْضُوعِ الْأَوَّلِ مَرَّةً بلکہ وہ لفظ استعمال ہوتا ہے دوسرے موضوع، یعنی دوسرے معنی کے اندر بھی، مرۃً: کبھی، وَفِي الثَّانِي أُخْرَى أي وَفِي الثَّانِي مَرَّةً أُخْرَى، اور دوسرے معنی میں بھی کبھی استعمال ہوتا ہے مرۃً اخرى: دوسری مرتبہ۔ مرۃ کا معنی آتا ہے ایک مرتبہ، کیا معنی؟ ایک مرتبہ۔ تو دیکھو، بَلْ يُسْتَعْمَلُ فِي الْمَوْضُوعِ الْأَوَّلِ مَرَّةً، بلکہ وہ لفظ استعمال ہوتا ہے پہلے معنی میں بھی ایک مرتبہ، وَفِي الثَّانِي أُخْرَى اي مَرَّةً أُخْرَى، اور دوسرے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے مرۃً اخرى: دوسری مرتبہ۔ سمجھ میں آئی بات؟ ہاں، با محاورہ اردو میں کیا ترجمہ کریں گے؟ کہ وہ استعمال ہوتا ہے کبھی پہلے معنی میں اور کبھی دوسرے معنی میں۔ فَيُسَمَّى بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْأَوَّلِ حَقِيقَةً تو اس کو پہلے معنی کی نسبت سے جو ہے وہ حقیقت کہتے ہیں، وَبِالنِّسْبَةِ إِلَى الثَّانِي مَجَازًا اور دوسرے معنی کی نسبت سے اس کو مجاز کہتے ہیں۔ كَالأَسَدِ جیسے اسد کا لفظ، بھئی۔ اسد شیر کو کہتے ہیں عربی میں۔ كَالأَسَدِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْحَيَوَانِ الْمُفْتَرِسِ وَالرَّجُلِ الشَّجَاعِ جیسے کہ اسد کا لفظ نسبت کرتے ہوئے حیوانِ مفترس... مفترس کا معنی ہے چیرنے پھاڑنے والا، بھئی۔ چیرنے پھاڑنے والا، یعنی شکار... تو یعنی خونخوار، بھئی، خونخوار۔ تو حیوانِ مفترس: خونخوار حیوان۔ تو جیسے اسد کا لفظ نسبت کرتے ہوئے خونخوار حیوان کے لیے وَالرَّجُلِ الشَّجَاعِ اور بہادر آدمی کے لیے۔ فَهُوَ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْأَوَّلِ... یاد رکھو، میں نے کہا، میں نے جنگل میں ایک شیر دیکھا، اس شیر سے کیا مراد ہے؟ بھئی، شیر کے دو معنی ہو گئے، ایک ہے وہ خونخوار درندہ، جنگلی درندہ، اور ایک اس کا معنی آگیا بہادر آدمی۔ اب میں نے آپ سے کہا: میں نے جنگل میں شیر دیکھا، کون سا معنی مراد ہے؟ شیر کا وہ جنگلی درندہ مراد ہے، وہ خونخوار درندہ۔ تو جب یہی لفظ اپنے معنیِ حقیقی میں استعمال ہو، جیسے یہاں ہے اس وقت 'میں نے جنگل میں شیر دیکھا'، تو یہ شیر اس وقت کہلائے گا حقیقت۔ کیا کہلائے گا؟ جیسے ہی میں نے حقیقت کہا، فوراً سمجھ گئے، کیا معنی حقیقت کا؟ یہ اپنے اصلی معنی میں استعمال ہو رہا ہے، لفظ کیا ہے اپنے اصلی معنی میں... اور جیسے ہی میں کہوں مجاز، مجاز کا لفظ سنتے ہی آپ سمجھ جائیں، معلوم ہوا لفظ اپنے اصل معنی میں استعمال نہیں ہو رہا۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، یا یوں کہیں: میں نے ایک شیر کو ہنستے ہوئے دیکھا۔ یہ شیر کے ساتھ جب میں نے کہہ دیا 'ہنستے ہوئے'، اس سے فوراً آپ کو پتہ چل گیا کہ جنگلی درندہ نہیں مراد شیر سے، بلکہ کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی، کیونکہ ہنسنا یہ تو انسان کا خاصہ ہے، جانور وغیرہ میں یہ نہیں، تو لہٰذا یہ ہنسنے نے آپ کو بتلا دیا کہ شیر سے کیا مراد ہے یہاں؟ بہادر آدمی۔ تو یہاں اس وقت شیر حقیقت ہے یا مجاز ہے؟ مجاز ہے، بھئی۔ اور اسی طرح میں کہتا ہوں: میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، یہ جیسے ہی تیر چلانے کا لفظ میں نے ساتھ ذکر کیا، آپ فوراً سمجھ گئے کہ اس سے کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی مراد ہے، تو اسد کا لفظ، یہ شیر کا لفظ اس وقت کیا ہے؟ مجاز ہے، بھئی۔ تو یہ لفظ حقیقت کہلاتا ہے یا یہ لفظ کیا کہلاتا ہے مجاز۔ اگر معنیِ حقیقی کے اندر استعمال ہو تو حقیقت، اگر معنیِ مجازی میں استعمال ہو تو مجاز۔ تو یہی بات کر رہے ہیں: فَهُوَ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْأَوَّلِ حَقِيقَةٌ، تو یہ لفظ پہلے معنی کی نسبت سے حقیقت ہے، یعنی یہ جو اسد کا لفظ ہے۔ اسد کے دو معنی کیے نا، ایک حیوانِ مفترس اور ایک رجلِ شجاع، تو حیوانِ مفترس پہلا معنی، اور رجلِ شجاع دوسرا معنی۔ تو یہ پہلے معنی کی نسبت سے یہ اسد کا لفظ حَقِيقَةٌ، کیا ہے؟ حقیقت ہے، وَبِالنِّسْبَةِ إِلَى الثَّانِي مَجَازٌ، اور دوسرے معنی، یعنی رجلِ شجاع کی نسبت سے یہ اسد کا لفظ مَجَازٌ، یہ مجاز ہے، بھئی۔ ایک اور قسم بھی علماء ذکر کرتے ہیں، اسے مرتجل کہتے ہیں۔ متکثر المعنی کی ایک اور قسم بھی علماء بیان کرتے ہیں، اسے کیا کہتے ہیں؟ مرتجل۔ میم، را، تا ہے دو نقطوں والی، جیم اور لام: مرتجل۔ فرق یہ ہے کہ منقول کے اندر دونوں معانی میں مناسبت ہوتی ہے، اور مرتجل... دونوں معانی میں جہاں مناسبت نہیں ہوتی۔ وضع تھا ایک معنی کے لیے اور استعمال ہونے لگا، مشہور ہو گیا دوسرے معنی میں، تو اس کو آپ نے پڑھا کیا کہتے ہیں؟ منقول۔ کیا کہتے ہیں؟ لیکن تب منقول کہیں گے جب پہلے اور دوسرے معنی میں مناسبت ہو، جیسے مثالیں گزر گئیں۔ صلاۃ وضع تھا دعا کے لیے اور استعمال ہونے لگا نماز میں، یا دابہ وضع تھا ہر چلنے والے، زمین پر ہر چلنے والے جانور کے لیے اور پھر استعمال ہونے لگا صرف چوپائے کے اندر، تو دونوں معانی میں مناسبت ہے۔ جیسے اسم کا لفظ وضع تھا بلندی کے لیے اور پھر وہ نحو میں اپنے مخصوص معنی کے اندر استعمال ہونے لگا، اور دونوں میں مناسبت ہے، بھئی۔ تو یہ مناسبت ہو تو یہ لفظ منقول کہلاتا ہے، اور اگر مناسبت نہ ہو تو پھر یہ مرتجل کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ مرتجل، جیسے اس کی مثال: جعفر... جعفر۔ اس کی مثال کیا ہے؟ جعفر اصل میں چھوٹی ندی کو کہتے ہیں، بھئی۔ چھوٹی ندی یا چھوٹا دریا ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ جعفر۔ پھر کسی آدمی کا نام رکھ دیا گیا۔ اب دیکھو، ندی اور آدمی میں کوئی مناسبت نہیں ہے، تو دیکھو یہ نقل ہوا ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف، بھئی، اور دونوں میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مرتجل کہتے ہیں، جب دونوں معانی میں کوئی مناسبت نہ ہو۔ اور مصنف نے اس کو ذکر نہیں کیا، بھئی۔ مصنف نے اسے ذکر نہیں کیا، انہی پانچ چھ قسمیں جو بنائیں، انہی میں متکثر المعنی کو بند کر دیا۔ وجہ یہ کہ بہت سے علماء جو ہیں، وہ مرتجل کو یا تو مشترک ہی میں داخل کر دیتے ہیں یا منقول ہی میں داخل کر دیتے ہیں، بھئی۔ یا کس میں داخل کر دیتے ہیں؟ مشترک میں یا منقول میں۔ مشترک میں بھی واضح ہے اس کا داخل ہونا، پہلے یہ لفظ گویا کہ وضع تھا کس کے لیے؟ چھوٹی ندی کے لیے، اور پھر کسی کا جب نام رکھا تو یہ وضع ہی الگ آگئی، تو دو الگ الگ وضعیں ہوئیں، تو یہ مشترک ہوا، بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ہے مرتجل، بھئی۔ اور کوئی بات پوچھنی ہو، بھئی؟ صحیح ہے، اپ نے بتایا تھا کہ یہ جو منقول ہے، اس میں عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جو پہلا معنی ہوتا ہے اس میں استعمال ختم ہو جاتا ہے۔ جی۔ تو دابہ تو ابھی بھی تمام جاندار کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ نہیں، عام استعمال نہیں ہوتا۔ دابہ اب... عرب کی بات کر رہے ہیں ہم، کس کی بات کر رہے ہیں؟ عرب کی بات کر رہے ہیں، تو اس کے عام استعمال کی بات چل رہی ہے، عام استعمال میں نہیں ہوتا اس طرح، بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اس پہلے معنی کو بالکل چھوڑ ہی دیا گیا ہے۔ قرآن میں بھی آتا ہے "وَمَا مِنْ دَابَّةٍ..." بھئی، قرآن اگر ایک معنی میں استعمال کرنے لگے، یہ ہمارے قوانین مبنی ہیں عرف پر، بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو عرف میں جب ایسا نہیں، تو ہم کہیں گے کہ یہ اس طرح نہیں ہے۔ ہاں، قرآن کسی ایک مخصوص معنی میں استعمال کر لے، وہاں کوئی قرینہ وغیرہ ساتھ ملا ہوگا، وہ قرینہ ہمیں بتلائے گا کہ یہاں اس کا یہ عام معنی... یہ جو لوگ استعمال کر رہے ہیں یہ معنی نہیں مراد، بلکہ وہ اس کا اصل معنی مراد ہے۔ 3 سمجھ میں آیا بھئی؟ تو قرآن میں اگر دابۃ کا لفظ ہر چلنے والے جاندار کے لیے استعمال ہوا ہے تو وہاں قرینہ ساتھ موجود ہوگا کوئی۔ بہرحال قرآن میں تو قرینہ ہے جو ہمیں بتلاتا ہے کہ اس سے مراد ہر چلنے والا جانور ہے۔ قرآن میں دابۃ کا لفظ آیا ہے اور اس سے مراد ہر چلنے والا جاندار ہے تو اس سے یہ اشکال آپ کے ذہن میں نہیں آنا چاہیے کہ دابۃ کا لفظ تو ہر چلنے والے جاندار کے لیے وضع تھا لیکن اس کو چھوڑ دیا گیا، اب صرف چوپاۓ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ میں نے بتلا دیا کہ ہماری بات کس پر چل رہی ہے؟ عام زبان کی بات چل رہی ہے، عام لوگوں کے اعتبار سے بات کر رہے ہیں ہم بھئی۔ تو قرآن میں تو وہاں قرینہ موجود ہے، وہ بتلاتا ہے، جبکہ عام لوگوں کے اندر دابۃ کا لفظ جب بھی استعمال ہوتا ہے وہ چوپاۓ کے لیے یا کسی سواری والے، عموماً سواری والے چوپاۓ کے لیے یہ استعمال ہوتا ہے، ہر جانور کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ اور اسی طرح قرآن میں تو پھر آیا ہے مچھلی کے بارے میں: تستخرجون منه لحماً طرياً، نکالتے ہو اس پانی سے، اس دریا سے کیا نکالتے ہو؟ تازہ گوشت۔ تو مچھلی پر لحم کا لفظ بولا گیا، حالانکہ عام عرف کے اندر مچھلی پر لحم کا لفظ نہیں بولا جاتا۔ تو چنانچہ آپ پڑھیں گے بھی آگے اصول شاشی وغیرہ کے اندر کہ کسی نے قسم اٹھا لی میں گوشت نہیں کھاؤں گا، تو اس میں مچھلی داخل نہیں، کیونکہ عرف کے اندر مچھلی پر گوشت کا اطلاق نہیں ہوتا، تو وہ اگر مچھلی کھا لے گا تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی بھئی۔ تو یہ جو قوانین ہمارے مبنی ہیں وہ عام عرف پر مبنی ہیں بھئی، بات سمجھ میں آگئی سب کو؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔