LESSONS NO. 24 1 ثم المفرد على أنحاء ثلاثة لأنه إن كان معناه مستقلا بالمفهومية أي لم يكن في فهمه محتاجا إلى ضم ضميمة فهو اسم إن لم يقترن ذلك المعنى بزمان من الأزمنة الثلاثة. گزشتہ سبق میں آپ نے مفرد اور مرکب کے بارے میں پڑھا کہ مفرد کسے کہتے ہیں؟ کیا تعریف پڑھی آپ نے مفرد کی؟ لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہ ہو اور مرکب وہ ہے کہ لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ ہو بھئی۔ اور پھر میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ مفرد کی تین قسمیں ہیں بھئی۔ پہلی قسم یہ کہ مفرد کا جز ہی نہ ہو سرے سے۔ دوسری قسم جز تو ہو لیکن وہ جز معنی دار نہ ہو۔ اور تیسری قسم کہ جز ہو اور معنی دار ہو لیکن اس کا ارادہ نہ ہو، وہ مراد نہ ہو بھئی۔ تو یہ مفرد ہے، جیسے کسی کا نام عبداللہ رکھا۔ اب اس کے اندر "عبد" ایک جز ہے، لفظ "اللہ" ایک جز ہے اور ان کا معنی بھی ہے۔ "عبد" بندے کو کہتے ہیں اور لفظ "اللہ" یہ نام ہے ذاتِ باری تعالی کا، لیکن یہاں پر ہر جز سے اپنا معنی یہاں مقصود نہیں ہے بھئی، مقصود نہیں ہے۔ تو تین قسمیں ہم نے بنائی تھیں بھئی، اور حق بھی یہی ہے کہ تین ہی قسمیں ہونی چاہئیں بھئی۔ بعض کتابوں کے اندر چار قسمیں بنائی گئیں، بعض کے اندر پانچ قسمیں بنائی گئیں۔ لیکن سہل، آسان اور بہترین تقسیم یہی ہے جس کو صاحبِ مرقاة نے ذکر کیا، اور ان کی تین مثالوں سے ہی پتہ لگ رہا ہے کہ وہ کتنی قسمیں بنا رہے ہیں؟ تین قسمیں بنا رہے ہیں مفرد کی بھئی۔ تسہیل المنطق کے اندر چار قسمیں بنائی گئیں، آپ نے پڑھی ہوں گی بھئی۔ اور اس میں ایک قسم یہ عبداللہ ہے جب کسی کا نام ہو، اور ایک قسم حیوانِ ناطق ہے جب وہ کسی کا نام ہو۔ لیکن دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوا بھئی، یاد رکھنا۔ عبداللہ جب کسی کا نام ہو تو یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے حیوانِ ناطق کسی کا نام ہو بھئی۔ کیونکہ وہاں بھی لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہیں، یہاں بھی لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہیں، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے بھئی، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ شخص حیوانِ ناطق ہے لیکن وہ مقصود نہیں، تو پھر حیوانِ ناطق اور عبداللہ میں یہ فرق کیا نہ کہ وہ شخص جس کو حیوانِ ناطق نام رکھا گیا وہ اصل میں کیا ہے؟ وہ ہے بھی حیوانِ ناطق ہی، لیکن مراد ہماری نہیں؟ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ انہوں نے کیا فرق کیا کہ جس کا نام رکھا گیا وہ ہے بھی حیوانِ ناطق ہی، اور لیکن یہاں لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہیں، بھئی اگر وہ حیوانِ ناطق ہے تو اسی طرح وہ اللہ کا بندہ "عبداللہ" یعنی اللہ کا بندہ بھی تو ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو جیسے وہ اس کا مصداق بن رہا تھا اس کا بھی مصداق بن رہا ہے، دونوں کا مصداق بن رہا ہے اور دونوں چونکہ علم ہیں اس لیے ایک ایک جز کا معنی اس پر دلالت مقصود نہیں ہے بھئی۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں وہ حیوانِ ناطق تو ہے تو یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اللہ کا بندہ نہیں ہے بھئی؟ بعینہٖ اس پر صادق آتا ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ ہاں یہ ایک حقیقت ہے، ایک اس کی حقیقت اعتبار سے صادق ہے، ایک ویسے اس کے اوپر لفظ صادق آرہا ہے، بہرحال صادق تو دونوں آرہے ہیں اس کے اوپر پوری طرح بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو حقیقت کی بات ہی نہیں ہے یہاں پر دلالت کے اندر کہ دونوں میں پھر فرق کیا جائے۔ بات تو صرف اتنی ہے کہ لفظ کا جز اپنے معنی کے جز پر دلالت نہ کر رہا ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آئی سب کو؟ تو دونوں کا وہ مصداق ہے بھئی، اگر حیوانِ ناطق کے اصل معنی کا وہ مصداق ہے تو عبداللہ کے اصل معنی یعنی اللہ کا بندہ بھی وہ ہے، اس کا بھی وہ مصداق ہے بھئی، تو دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے بھئی۔ تو حق یہی ہے کہ تقسیم اسی طرح ہونی چاہیے، مفرد کی تین ہی قسمیں بننی چاہئیں۔ ہاں اگر تاویل کرکے چار یا پانچ بنا لی جائے تو وہ ویسے ہی بات کو لمبا کرنے والی بات ہے، اصل میں تین ہی قسمیں بنتی ہیں بھئی۔ اور اس کے مقابلے میں مفرد کے مقابلے میں مرکب آیا تھا، مفرد کے اندر تو تین صورتیں تھیں، یا لفظ کا سرے سے جز ہی نہیں، جب جز نہیں تو جز سے معنی کا بھی جز نہیں ہوگا، اور یا لفظ کا تو جز ہے لیکن معنی کا جز نہیں ہے، یا لفظ کا جز ہے اور معنی کا بھی جز ہے لیکن لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت مقصود نہیں، اس کے مقابلے میں مرکب ہے اور مرکب کے اندر پھر تین شرطیں ہیں۔ پہلی شرط یہ کہ لفظ کا جز ہو، دوسری شرط وہ جز کیا ہو؟ اس کا ہر جز کا معنی بھی ہو بھئی جز کا، اور پھر اس لفظ کے جز سے معنی کے جز کا ارادہ بھی ہو بھئی۔ جیسے آپ کہتے ہیں "زیدٌ قائمٌ"، "زیدٌ قائمٌ"، تو دیکھو "زید" سے ذاتِ زید مراد ہے اور "قائمٌ" سے کھڑے ہونے کا معنی مراد ہے کہ زید کھڑا ہے، تو دیکھو ہر جز اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہے۔ یا جیسے کسی کو آپ کہتے ہیں "رامی السہم" تیر چلانے والا، تیر چلانے والا، تو دیکھو یہاں پر "رامی" چلانے والا پھینکنے والا اور "السہم" تیر دو لفظ ہیں اور دونوں اپنے اپنے معنی پر دلالت کر رہے ہیں، چنانچہ دونوں کو آپ معنی کرتے ہوئے آپ کہتے ہیں تیر چلانے والا بھئی۔ پھر اس کے بعد آپ نے پڑھا بھئی کہ مفرد تین قسم پر ہے جیسے نحوی تقسیم کرتے ہیں کلمہ کی کہ کلمہ تین قسم پر ہے، ایک اسم، ایک فعل اور ایک حرف، اسی طرح منطقہ بھی مفرد کی تقسیم کرتے ہیں اور تین قسمیں بناتے ہیں۔ پہلی اسم، دوسری کلمہ، تیسری اداۃ۔ نحویوں کے ہاں نام تھے اسم، فعل، حرف۔ منطقہ کے ہاں نام کیا ہیں؟ اسم، کلمہ اور اداۃ تین نام ہیں بھئی، تین نام ہیں۔ اور پھر اداۃ وہ ہے جس کا اپنا معنی مستقل نہ ہو یعنی اپنے معنی پر مستقلاً دلالت وہ نہ کرتا ہو، جبکہ اسم وہ ہے، اسم اور فعل وہ ہیں جو اپنے معنی پر مستقلاً دلالت کرتے ہیں، کسی چیز کو ساتھ ملانے کی ضرورت نہیں، پھر اسم اور فعل میں یہ فرق ہے کہ فعل کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ملا ہوا ہوگا جبکہ اسم کے اندر ایسا نہیں ہوگا بھئی۔ معنی مستقل ہونے اور نہ ہونے کی میں نے مثال ذکر کی تھی بھئی کس طرح معنی مستقل کس طرح ہوتا ہے اور کس طرح نہیں ہوتا، جیسے دیکھیے بھئی "ابتداء"، "ابتداء" کا معنی ہے شروع کرنا، اسی طرح "من" یہ بھی یہی شروع کرنے کا معنی دیتا ہے، لیکن "ابتداء" جیسے ہی میں نے یہ لفظ بولا آپ کو فوراً شروع کرنے کا معنی سمجھ میں آگیا، اور میں اگر "من" کئی دفعہ بھی کہہ دوں آپ کو اس سے شروع کرنے کا معنی سمجھ میں نہیں آئے گا، کیونکہ یہ معنی پر مستقلاً دلالت نہیں کرتا اس کے ساتھ کوئی اور کلمہ ملائیں گے تو پھر یہ اپنے معنی پر دلالت کرے گا، جیسے آپ کہتے ہیں "سرت من المسجد إلى البيت" میں مسجد سے اپنے گھر تک گیا، مسجد سے اپنے گھر تک گیا، تو یہاں دیکھیے یہ "من المسجد" کیا ملانا پڑا "من" کے ساتھ؟ مسجد سے، یہ مسجد کا ساتھ ملانا بتلا رہا ہے کہ ابتداء چلنے کی کہاں سے ہو رہی ہے؟ مسجد سے ہو رہی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ اچھا اس کے بعد فعل اور اسم میں یہ فرق ہے کہ اسم میں تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ساتھ نہیں ملا ہوگا، جبکہ فعل کے اندر تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ساتھ ملا ہوگا، فعل کا اپنا معنی الگ ہوگا اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا ہوگا، دیکھو "ضرب"، ض، ر، ب "ضرب"، تو اس کا مادہ کیا ہے؟ ض، ر، ب، "ضرب" اور "ضربٌ" اس کا معنی کیا ہوتا ہے "ضربٌ" کا؟ پٹائی کرنا، اور "ضَ رَ بَ" یہ مخصوص جو شکل ہے، تینوں حروف پر فتحہ پڑھ رہے ہیں، اس سے ایک زمانہ سمجھ میں آرہا ہے، وہ کون سا زمانہ؟ ماضی کا، یہ تو فعل کا اپنا معنی الگ ہوگا اور اس کے ساتھ زمانہ ملا ہوگا، اپنا معنی ہے "ضرب" کا پٹائی کرنا، لیکن ساتھ ایک زمانہ بھی ہے اور زمانے پر دلالت فعل کی شکل کرتی ہے صورت کرتی ہے، ض، ر، ب زمانے پہ دلالت نہیں کر رہا بلکہ زمانے پر کیا چیز دلالت کر رہی ہے؟ اس فعل کی جو صورت ہے، جو ض پر بھی آپ فتحہ پڑھ رہے ہیں، ر پر بھی فتحہ پڑھ رہے ہیں، ب پر بھی فتحہ پڑھ رہے ہیں، یہ مخصوص صورت بھئی کس پر دلالت کر رہی ہے؟ زمانے پر۔ آپ اسی کی صورت بدل دیں "یضربُ"، "یضربُ" اب کون سا زمانہ آگیا؟ حال یا حالیہ استقبال آگیا، حالانکہ مادہ وہی ہے ض، ر، ب، تو معنی ض، ر، ب یعنی پٹائی کرنے کا معنی بھی ہوگا یہاں پر، یہ فعل کا اپنا معنی ہے اور زمانہ بھی ملا ہوا ہے اور وہ زمانہ سمجھ کس سے آرہا ہے؟ یہ جو "یضربُ" کی خاص شکل ہے اس سے ہمیں زمانہ سمجھ میں آرہا ہے، ورنہ مادہ یہاں بھی وہی ہے ض، ر، ب، وہاں بھی مادہ وہی تھا ض، ر، ب۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو فعل کی جو صورت ہوتی ہے وہ زمانے پر دلالت کرتی ہے اور خود فعل کا وہ جو مادہ ہے وہ اس کے اصل معنی پر دلالت کرتا ہے بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ تو اسم کے لہٰذا اب آپ سے کوئی کہے "ماضی"، "حال"، "استقبال" یہ فعل ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ فعل ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ یہ معنی پر مستقلاً دلالت کر رہے ہیں، کسی اور ماضی کہنے سے زمانے کا پتہ لگ گیا یا نہیں آپ کو؟ حال کہنے سے زمانے کا پتہ چلا یا نہیں بھئی؟ اور مستقبل کہنے سے آنے والے زمانے کا پتہ چل گیا، کسی اور لفظ کو ساتھ ملانے کی ضرورت نہیں، تو معنی مستقل بھی ہے اور تین زمانوں میں سے ایک زمانہ بھی ہے، ماضی میں کون سا زمانہ ہے؟ گزرا ہوا، حال کے اندر موجودہ، استقبال کے اندر مستقبل والا، لہٰذا کوئی شخص آپ سے کہتا ہے یہ ماضی، حال، استقبال یہ تینوں فعل ہیں، آپ کہیں گے نہیں بھئی نہیں، یہ فعل نہیں ہیں، وہ کہتا ہے یہ یہ فعل ہیں، آپ کہیں گے نہیں بھئی یہ فعل نہیں ہیں، کیوں؟ کیونکہ یہ تو عین زمانے کا نام ہے، ماضی عین گزرے ہوئے زمانے کا نام ہے، حال عین موجودہ زمانے کا نام ہے، استقبال عین آنے والے زمانے کا نام ہے، ہم نے کہا تھا فعل کا اپنا معنی الگ ہوتا ہے اس کے ساتھ زمانہ ملا ہوتا ہے، اور یہ تو عین زمانہ ہے، ان کا کوئی الگ معنی ہے؟ فعل کا اپنا معنی الگ ہوتا ہے، "ضرب" کا اپنا معنی کیا تھا؟ پٹائی کرنا، اس کے ساتھ زمانہ ملا ہوا تھا، یہاں ان کا اپنا الگ کوئی معنی نہیں ہے، تو اپنا الگ معنی ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ زمانہ ملا ہوا ہونا چاہیے، جیسے اور مثال کر لیں "شرب"، تو ش، ر، ب اس کا اپنا معنی کیا ہے "شرب" کا؟ پینا، لیکن یہ جو ش پر فتحہ ہے، ر پہ کسرہ ہے، ب پر زبر ہے، یہ صورت کون سا زمانہ بتلا رہی ہے؟ ماضی کا، تو اپنا معنی دیکھو پینا وہ الگ ہے اور ساتھ زمانہ ملا ہوا ہے، تو ضروری ہے کہ فعل کا اپنا معنی الگ ہو اور اس کے ساتھ کوئی زمانہ ملا ہوا ہو، جبکہ ماضی، حال اور استقبال میں اس طرح نہیں، ان کا اپنا الگ کوئی معنی نہیں ہے، وہ تو وہی زمانے ہی کا نام ہے بھئی، فرق سمجھ میں آگیا؟ تو لہٰذا اسم کی کیا تعریف ہوئی؟ وہ مفرد ہے جس کا اپنا معنی مستقل ہو اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا نہ ہو۔ فعل وہ ہے، وہ مفرد ہے جس کا اپنا معنی مستقل معنی ہو اور وہ اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ملا ہوا ہو، اور حرف وہ ہے جو جس کا اپنا معنی مستقل نہ ہو یعنی اس پر وہ مستقلاً دلالت نہ کرتا ہو بھئی۔ تو وہاں اس کے ساتھ کسی چیز کو ملانا پڑے گا پھر اس کا معنی سمجھ میں آئے گا بھئی، دیکھیے اب کتاب پر بھئی۔ ثم المفرد على أنحاء ثلاثة، انحاء بھئی نحو کی جمع ہے، پہلے بھی کئی مرتبہ آچکا، اس کے کئی معانی آتے ہیں، ایک معنی قسم کے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: ثم المفرد على أنحاء ثلاثة، پھر مفرد جو ہے وہ تین قسم پر ہے، لأنه إن كان معناه مستقلا بالمفهومية، اس لیے کہ اگر اس مفرد کا معنی جو ہے وہ مستقل ہو مفہوم ہونے کے اعتبار سے، أي لم يكن في فهمه محتاجا إلى ضم ضيمة، بھئی مستقل ہونے کا کیا معنی خود بتلا رہے ہیں: أي لم يكن في فهمه محتاجا إلى ضم ضيمة، یعنی وہ نہ ہو اپنے فہم اپنے سمجھنے میں محتاج، اپنے سمجھنے میں محتاج نہ ہو إلى ضم ضيمة کسی چیز کے ملانے کا، ضم کا معنی ہوتا ہے ملانا، اور ضمیمہ وہ چیز جس کو دوسرے کے ساتھ ملایا گیا ہو۔ تو حرف بھی کسی دوسری چیز کو اپنے ساتھ اس ملانا ملائے گا تو اس کا معنی سمجھ میں آئے گا، اس کے ساتھ کوئی اور چیز نہیں ملائے گا تو اس کا معنی بھی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: أي لم يكن في فهمه محتاجا إلى ضم ضيمة، یعنی نہ ہو وہ اپنے سمجھنے کے اندر محتاج کسی ضم کسی چیز کے ملانے کا، فهو اسمٌ، اسم کی اب تعریف کرنے لگے ہیں: تو وہ مفرد اسم ہے، إن لم يقترن ذلك المعنى بزمان من الأزمنة الثلاثة، اگر نہ ملا ہوا ہو وہ معنی مقترن کے معنی ملنے کے، کہ وہ مفرد اسم ہوگا إن لم يقترن ذلك المعنى بزمان من الأزمنة الثلاثة، اگر ملا ہوا نہ ہو وہ معنی تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے ساتھ، وہ نہ ملا ہوا ہو تو پھر اسم ہے، جیسے ضاربٌ، وہی ض، ر، ب مادہ ہے اور ضربٌ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ پٹائی کرنا، اور یہاں ضاربٌ میں کوئی زمانہ نہیں، کیونکہ ضاربٌ کا کیا معنی ہے؟ پٹائی کرنے والا بھئی، پٹائی کرنے والا، تو یہ کسی زمانے پہ دلالت نہیں کر رہا۔ وكلمةٌ، اور وہ مفرد کلمہ ہوگا، إن اقترن به، اگر مل جائے اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ، بہِ کی ہ ضمیر کس کو راجع؟ زمانے کو راجع بھئی، تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ مل جائے۔ تو وہ کلمہ ہوگا إن اقترن به اگر مل جائے اس کا معنی تین زمانوں میں سے کسی زمانے کے ساتھ، وإن لم يكن معناه مستقلا، اور اگر اس مفرد کا معنی مستقل نہ ہو، فهو أداةٌ، تو وہ اداۃ ہے، في عرف الميزانيين، میزانیین یعنی منطقی بھئی جو ہیں، مناطقہ کے عرف میں، کس کے عرف میں؟ تو یہ اداۃ ہے مناطقہ کے عرف میں، وحرفٌ في 2 یعنی یہ بات یاد رکھنا۔ یہ بات لے لیجیے یعنی اسے یاد رکھیے۔ فصل یعنی ھذا فصل، یہ فصل ہے۔ اعلم، جان لے تو انہ قد ظن بعضھم۔ بھئی یہاں سے ایک شبہے کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں بعض لوگ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید جو چیز جو چیز نحویوں کے ہاں فعل ہے وہ مناطقہ کے ہاں کلمہ ہے۔ بعض لوگوں کا کیا خیال ہے؟ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے بھئی جیسے مناطقہ نے تقسیم کی ہے اسم، کلمہ، ادات، اسی طرح نحویوں کی بھی تقسیم ہے اسم، فعل اور حرف۔ تو شاید یہ سارے ایک جیسے ہیں جو نحویوں کے ہاں اسم وہ مناطقہ کے ہاں بھی اسم، جو نحویوں کے ہاں فعل وہ مناطقہ کے ہاں کلمہ ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ لیکن کہتے ہیں ایسا نہیں ہے۔ جو چیز نحویوں کے ہاں فعل ہو وہ ضروری نہیں کہ مناطقہ کے ہاں بھی کلمہ کہلائے۔ مثلاً مثال دیں گے جیسے اضرب اور نضرب۔ اضرب یہ اس کو علم نحو میں آپ نے پڑھا یہ کیا ہیں؟ فعل ہیں، اضرب بھی فعل اور نضرب بھی فعل ہیں، اور یہ فعل کس کی قسم ہے؟ کلمہ کی، تو یہ مفرد ہیں ان کے نزدیک۔ جبکہ یاد رکھیے اضرب اور نضرب مناطقہ کے ہاں سرے سے مفرد ہی نہیں ہیں بلکہ یہ مرکب ہیں۔ بلکہ یہ کیا ہیں؟ مفرد ہی نہیں ہیں فعل یعنی کلمہ تو چھوڑیں یہ مفرد ہی نہیں ہیں یہ تو مرکب کی جو مفرد کی ضد ہے اس کے مقابل ہے، یہ اس کی قسم میں سے ہے۔ کس طرح؟ کہتے ہیں دیکھیے بھئی مرکب کی آپ نے کیا تعریف کی تھی؟ کہ لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا جائے، تو کہتے ہیں یہاں پر بھی لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت کر رہا ہے بھئی۔ اضرب، یہ ہمزہ جو شروع میں ہے یہ متکلم پر دلالت کرتا ہے اور ض، ر، ب یہ اس کے اس معنی حدثی یعنی پٹائی کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ ہمزہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ متکلم پر، اضرب کون سا صیغہ ہے؟ واحد متکلم کا، تو ہمزہ کہتے ہیں دلالت کرتا ہے متکلم پر اور ض، ر، ب کس پر دلالت کر رہے ہیں؟ پٹائی کرنے پر، وہ جو معنی حدثی ہے۔ اسی طرح نضرب، نضرب میں نون کس پر دلالت کر رہا ہے؟ متکلم پر، جمع متکلم مع الغير پر یعنی جمع متکلم پر اور ض، ر، ب کس پر دلالت کر رہے ہیں؟ معنی حدثی یعنی پٹائی کرنے پر۔ تو دیکھو جز لفظ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ جز معنی پر دلالت کر رہا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا جب جز لفظ جز معنی پر دلالت کر رہا ہے اور وہ دلالت مقصود بھی ہوتی ہے اس کے ذریعے، تو لہذا یہ مفرد رہا ہی نہیں بلکہ کیا بن گیا؟ مرکب بن گیا بھئی۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ یہ نہ سمجھنا اضرب کے شروع میں یہ الف ضمیر ہے، نہیں ضمیر نہیں ہے۔ نضرب کے شروع میں آپ کہیں یہ نون شاید ضمیر ہے، نہیں بھئی نہیں، ضمیر نہیں۔ کیونکہ ضمیر ہو تو اس نے اس کے لیے فاعل بننا ہے۔ کیا بننا ہے؟ فاعل بننا ہے اور فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہوتا، نہیں ہوتا۔ حالانکہ یہاں پر ہمزہ ض، ر، ب پر مقدم ہو گیا، نضرب میں نون کیا ہے؟ ض، ر، ب پر مقدم ہو گیا۔ جبکہ فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ پھر کیا معنی الف ہمزہ سے متکلم کیسے سمجھ میں آ رہا ہے؟ نضرب میں نون سے متکلم کیسے سمجھ میں آ رہا ہے؟ بھئی اضرب صیغہ بولتے ہی آپ کو جب شروع میں ہمزہ آیا فورا کیا سمجھ میں آیا یہ کون سا صیغہ ہے؟ واحد متکلم کا، اسی طرح نضرب کا صیغہ بولتے ہی آپ کو کیا پتہ چلا؟ جمع متکلم کا، تو دیکھو یہاں آپ کو اتنا پتہ چل رہا ہے کہ اضرب کون سا صیغہ ہے؟ واحد متکلم کا، معلوم ہوا کوئی چیز تو ہے جو دلالت کر رہی ہے اس بات پر کہ یہ کیا ہے؟ واحد متکلم کا صیغہ ہے۔ تو یہاں پر یہ ہمزہ سے ہمیں واحد متکلم خود سمجھ میں آیا، یعنی اس پر دلالت ہوئی ہے، یہ ضمیر نہیں ہے لیکن اس پر کیا ہو گئی؟ دلالت اسی کو کہتے ہیں نا کہ ایک چیز کے بولنے سے دوسری چیز سمجھ میں آ جائے۔ دلالت لفظیہ میں ایک چیز کے بولنے سے دوسری چیز، تو اضرب بولنے سے جیسے ض، ر، ب پٹائی کرنے کا معنی آپ کے ذہن میں آیا اسی طرح واحد متکلم کا بھی آپ کے ذہن میں آ گیا، تو یہ دلالت ہو گئی، دلالت اسی چیز کا تو نام تھا کہ ایک چیز سے دوسری چیز ذہن میں آ جائے۔ اور نضرب بولتے ہی آپ کے ذہن میں کیا آ گیا؟ ض، ر، ب پٹائی کرنے کا معنی بھی آیا اور نون کی وجہ سے جمع متکلم کا معنی، تو یہاں دلالت ہوئی ہے، یہ الف اور نون ضمیریں نہیں ہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو اچھی طرح؟ تو یہ ضمیریں نہیں ہیں بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ نحویوں کے ہاں تو فعل ہیں لیکن مناطقہ کے ہاں یہ کلمہ ہی نہیں ہیں بلکہ یہ تو کس کی قسم ہے؟ مرکب کی قسم ہے، معلوم ہوا جو بھی نحوی فعل ہو وہ مناطقہ کے ہاں کلمہ ہونا ضروری نہیں۔ کلمہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ اعلم، جان لے تو انہ قد ظن بعضھم کہ بعض لوگوں نے گمان کیا ہے کہ ان الکلمۃ عند اھل المیزان کہ کلمہ جو ہے اہل میزان یعنی مناطقہ کے نزدیک کہ کلمہ جو ہے مناطقہ کے نزدیک ھیا ما یسمی فی علم النحو بالفصل یہی وہ چیز ہے جس کو کہا جاتا ہے علم نحو میں فعل بھئی۔ ھیا ما یسمی یہ وہی چیز ہے کہ بعضوں نے یہ گمان کیا کہ وہ جو کلمہ ہے عند اہل المیزان مناطقہ کے نزدیک ھیا ما یہ وہی چیز ہے کہ یسمی جسے کیا کہا جاتا ہے؟ فی علم النحو بالفصل جسے علم نحو میں فعل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ولیس ھذا الظن بصواب، صاحب مرقات فرما رہے ہیں ولیس ھذا الظن بصواب اور یہ گمان درست نہیں ہے، صواب کا معنی درست بھئی، یہ گمان درست نہیں ہے فان الفعل فان الفعل اعم من الکلمۃ اس لیے کیونکہ فعل کیا ہے؟ کلمہ سے عام ہے۔ ایک چیز فعل ہو اور کلمہ نہ ہو بھئی، تو فعل عام ہے اور کلمہ خاص ہے۔ اس لیے کیونکہ فعل عام ہے کلمہ سے، الا تری کیا آپ دیکھتے نہیں؟ ان النحو، اضرب و نضرب، کہ جیسے نحو یہاں مثال کے معنی میں ہے، کہ ان نحو اضرب و نضرب کہ اضرب اور بلکہ مثال کے طور پر اضرب اور نضرب وامثالہ اور ان اور ان جیسے لفظ جو ہیں فعل عند النحاۃ یہ فعل ہیں نحویوں کے نزدیک، اضرب، نضرب اور ان جیسے یعنی تضرب وغیرہ کیا ہیں؟ فعل ہیں نحویوں کے نزدیک وليس بکلمۃ عند المنطقیین اور یہ کلمہ نہیں ہیں مناطقہ کے نزدیک۔ نحویوں اگر یہ دونوں ایک جیسے ہوتے، جو نحویوں کا فعل ہوتا وہ مناطقہ کے نزدیک کلمہ ہوتا تو اس کو بھی کیا ہونا چاہیے تھا؟ اضرب اور نضرب اور تضرب کو بھی کیا ہونا چاہیے تھا؟ کلمہ ہونا چاہیے تھا، لیکن یہ کلمہ نہیں، معلوم ہوا جو بھی فعل ہو اس کا کلمہ ہونا ضروری نہیں۔ تو کہتے ہیں کہ یہ جو ہیں فعل ہیں نحویوں کے نزدیک وليس بکلمۃ عند المنطقیین اور یہ کلمہ نہیں ہیں منطقیوں کے نزدیک لان الکلمۃ من اقسام المفرد اس لیے کیونکہ کلمہ جو ہے وہ مفرد کی اقسام میں سے ہے ونحو اضرب مثلا اور اضرب جیسے لفظ مثال کے طور پر ليس بمفرد یہ مفرد ہی نہیں ہے بل ھو مرکب بلکہ یہ مرکب ہے لدلالۃ جزء اللفظ علی جزء المعنی بوجہ دلالت کرنے جز لفظ کے کا جز معنی پر، اس وجہ سے کہ جز لفظ دلالت کرتا ہے کس پر؟ جز معنی پر بھئی۔ فان الھمزۃ تدل علی المتکلم پس یہ جو ہمزہ جو ہے وہ دلالت کرتا ہے متکلم پر والضاد والراء والباء علی المعنی الحدثی اور ض، ر، ب جو ہیں معنی حدث پر دلالت کرتے ہیں۔ حدث کہتے ہیں یاد رکھیے وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو، اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں یعنی معنی مصدری۔ مصدر کو حدث کہتے ہیں بھئی حدث، حدث کا کیا معنی؟ وہ معنی توجہ سے سننا، وہ معنی جس کا اپنا الگ کوئی وجود نہ ہو وہ غیر کے ساتھ قائم ہو، وہ غیر ہے تو اس کا یہ بھی ہے، وہ غیر نہیں تو یہ بھی نہیں۔ دیکھیے میں آپ سے کہتا ہوں ضرب زید، کیا معنی ہوا؟ زید نے زید نے پٹائی کی، دیکھیے زید نے جب پٹائی کی تو ضرب پائی گئی یا نہیں پائی گئی؟ ضرب پائی گئی اور یہ ضرب کس کے ساتھ قائم ہے؟ زید کے ساتھ، زید ہے تو یہ والی ضرب ہے، زید نہیں تو یہ والی ضرب بھی نہیں۔ زید نہ ہوتا اور یہ والی ضرب ہو سکتی تھی؟ آپ ضرب لگاتے وہ آپ کی ضرب ہونی تھی، آپ کی صفت ہونی تھی، یہ زید والی ضرب نہیں ہونی تھی، تو آپ پٹائی کریں گے تو وہ ضرب آپ کے ساتھ قائم ہے، آپ کا وجود ہے تو اس ضرب کا بھی وجود ہے، آپ کا وجود نہیں تو اس ضرب کا وجود بھی نہیں، شربت الماء آپ نے پانی پیا، کون سا فعل پایا گیا؟ شرب، پینا، یہ مصدر ہے اور یہ آپ کے ساتھ قائم ہے، آپ ہیں تو یہ والا شرب بھی ہے، آپ نہیں تو یہ شرب بھی نہیں، بھئی شرب کبھی خود بھی ہو سکتا ہے بغیر کسی شاہ پینے والے کے؟ شرب کبھی بغیر شارب کے نہیں، ضرب کبھی بغیر کسی ضارب کے نہیں، عقل بغیر کسی عاقل کے نہیں بھئی، تو کوئی بھی مصدر اس کے لیے کوئی موصوف چاہیے جس کے جس میں وہ پایا جائے، خود بخود اس کا وجود نہیں، شرب اکیلا نہیں جب تک کوئی شارب نہیں ہوگا، شارب ہے تو شرب بھی پایا جائے گا، ضارب ہے تو ضرب بھی پائی جائے گی بھئی۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا حدث کسے کہتے ہیں؟ مصدر کو، کس کو؟ مصدر اور مصدر کسے کہتے ہیں؟ ہدایۃ النحو میں بھی یہ بات آ جائے گی، ابھی سے سمجھ لیں، مصدر اور حدث ایک معنی ہے۔ مصدر کو حدث کسے کہتے ہیں؟ مصدر کو اور کیا معنی ہے؟ وہ معنی جس کا اپنا الگ کوئی وجود نہ ہو اور وہ کسی غیر کے ساتھ قائم ہو، وہ غیر ہے تو اس کا بھی وجود ہے، وہ غیر نہیں تو اس کا بھی وجود نہیں، وہ ضارب ہے تو یہ ضرب ہے، وہ شارب ہے تو یہ شرب ہے، وہ شارب نہیں تو شرب بھی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور میں نے کیا بتلایا؟ یہ ہمزہ اور نون ضمیریں نہیں ہیں کیونکہ ضمیر کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہوتی، لیکن بات چل رہی ہے دلالت کی بھئی کہ ایک چیز سے دوسری چیز ذہن میں آ جائے، اس کو کہتے تھے دلالت، تو دلالت یہاں ہو رہی ہے، ہمزہ کا جیسے ہی ہمزہ صیغے کے شروع میں آیا، اس کے سنتے ہی فوراً آپ کا ذہن کس کی طرف چلا گیا؟ کہ یہ کون سا صیغہ ہے؟ متکلم کا صیغہ ہے اور آگےادہ جو ہے وہ معنی مصدری پہ دلالت کر دے گا، اضربہو، تو ہمزہ سے پتہ چل رہا ہے متکلم کا اور ض، ر، ب سے پٹائی کرنے کا، اور اشربہو، تو الہمزہ سے پتہ چل رہا ہے متکلم کا اور ش، ر، ب سے پینے کا معنی سمجھ میں آ رہا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا جو نحوی فعل ہو اس کا منطقی کلمہ ہونا ضروری نہیں۔ ہو سکتا ہے ہو وہ منطق جو نحو میں بھی فعل ہو اور منطق میں بھی کلمہ ہو۔ جیسے ضرب اور یضرب۔ ضرب اور یضرب، اس کو نحوی کہتے ہیں فعل ہے۔ اور مناطقہ بھی کہتے ہیں یہ کلمہ ہے۔ نحوی بھی فعل کہتے ہیں اور مناطقہ بھی فعل یعنی کلمہ کہتے ہیں، مناطقہ کے نزدیک فعل کا کیا نام ہے؟ کلمہ، تو نحوی کہتے ہیں یہ فعل ہے ضرب، یضرب، اور مناطقہ کیا کہتے ہیں؟ یہ کلمہ ہے، کلمہ ہے بھئی۔ اس کی دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں بھئی جز لفظ جز معنی پر دلالت نہیں کر رہا جب ان کے اندر ضمیر نہ ہو۔ جب ان کے اندر ضمیر نہ ہو تو جز لفظ جز معنی پر دلالت نہیں کر رہا، دلیل اس کی یہ کہ اس ضرب کے آگے اگر کوئی لفظ آئے تو وہ اس کا فاعل بن سکتا ہے۔ لیکن اضرب کے آگے کوئی صیغہ آئے تو اس کا فاعل نہیں بن سکتا۔ ضرب کے آگے مثلاً آپ زید کہتے ہیں تو کیا بن گیا؟ ضرب زید، اب بات پوری ہو گئی تو یہ اس کا فاعل بن گیا، معلوم ہوا اس کے اندر پہلے فاعل نہیں تھا، جب فاعل نہیں تھا تو بات بھی پوری نہیں تھی اور اضرب کے آگے کوئی صیغہ آ جائے مثلاً اضرب کے آگے ہم انا لے آتے ہیں تو یہ انا اضرب کے لیے فاعل نہیں بن سکتا بلکہ یہ اضرب میں جو انا ضمیر ہے اسی کے لیے تاکید بنے گا، تاکید اسی کو کہتے ہیں نا جو ایک لفظ پہلے لائے تھے اسی کو دوبارہ لے آئیں، جائنی زید زید، یہ زید ثانی کیا ہے؟ زید اول کے لیے تاکید ہے، تو یہاں بھی اضرب کے اندر انا ضمیر تھی اسی ایک اسی طرح کے ایک اور ضمیر آ گئی، آپ انا لے آئے تو یہ نہیں کہیں گے یہ جو آگے انا آئی ضمیر یہ اضرب کے لیے کیا ہے؟ فاعل ہے بلکہ یہ اس کے اندر جو فاعل تھا اس کے لیے تاکید بنے گی، کیا بنے گی؟ کیونکہ اس کے اندر بھی انا تھا آگے بھی کیا ضمیر آئی؟ انا، تو اسی جیسا لفظ دوبارہ آئے تو وہ پہلے کے لیے کیا کہلاتا ہے؟ تاکید کہلاتا ہے، تو دیکھو فرق ہے ان دونوں کے اندر، فرق سمجھ میں آیا؟ ضرب کے آگے کوئی لفظ آئے تو وہ اس کے لیے فاعل بن سکتا ہے ضرب زید، یضرب زید، وہ فاعل بن جائے گا، لیکن اضرب اور نضرب کے آگے کوئی لفظ آ جائے وہ ان کے لیے فاعل نہیں بن سکتا کبھی بھی، جیسے اضرب کے آگے انا آ جائے، نضرب کے آگے نحن آ جائے، تو یہ فاعل نہیں بنیں گے بلکہ کیا کہلاتے ہیں؟ تاکید کہلاتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر یہ یاد رکھنا۔ سبق کی بات تو مکمل ہوئی، ایک زائد چیز آپ کو بتاؤں بھئی۔ جو بھی نحوی اسم ہو ضروری نہیں کہ وہ منطقی بھی اسم ہو، اسے منطق میں بھی اسم کہیں۔ جو بھی جس کو نحوی اسم کہتے ہوں ضروری نہیں کہ مناطقہ بھی اس کو کیا کہتے ہوں؟ اسم کہتے ہوں۔ جیسے بلکہ یہ یاد رکھو۔ منطقی اعتبار سے بھی اسم ہوگا، ایک اسم ہوگا اور نحوی اعتبار سے بھی اسم ہوگا۔ ایک چیز ہوگی، ایک لفظ جو منطقی اعتبار سے بھی اسم اور نحوی نحو والے بھی اسے کیا کہتے ہیں؟ اسم، مناطقہ بھی اسے کیا کہتے ہوں؟ اسم، جیسے زید، عمر، بکر وغیرہ۔ رجل، فرس۔ مناطقہ کے نزدیک بھی یہ اسم کیونکہ تین زمانوں معنی مستقل ہے اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں۔ اور نحویوں کے نزدیک بھی یہ اسم۔ تو مناطقہ کے نزدیک زید، عمر، بکر وغیرہ مناطقہ کے نزدیک بھی اسم اور نحویوں کے ہاں بھی اسم۔ اس کے مقابلے میں نحویوں کے نزدیک ایک چیز ہے اسم فعل، ہوتا اسم ہے لیکن معنی فعل والا ادا کرتا ہے۔ معنی کون سا؟ جیسے روید بمعنی امہل کے کہ تو مہلت دے دے، تو یہ فعل یا علیک علیک، کس معنی میں؟ الزم کے معنی میں کہ تو لازم ہو جا، اس کے ساتھ ہو جا۔ تو یہ اسم فعل ہے، تو نحوی اس کو اسم فعل کہتے ہیں یعنی ان کے نزدیک یہ اسم ہے، معنی کون سا ادا کر رہا ہے؟ فعل۔ لیکن یاد رکھیے مناطقہ کے ہاں مناطقہ کے ہاں یہ کلمہ ہے بھئی۔ کیا ہے؟ کلمہ ہے، کیونکہ اس کا معنی مستقل ہے اور تین زمانوں میں سے ایک زمانہ بھی اس کے ساتھ پایا جا رہا ہے۔ مستقبل والا۔ 3 تو اسے مہلت دے دے۔ معلوم ہوا کس زمانے میں مہلت دے دے؟ آئندہ مستقبل میں دوسرے کو مہلت دے دے۔ تو لہذا مناطقہ، نحویوں کے ہاں یہ اسم اور مناطقہ کے ہاں یہ کلمہ ہے مناطقہ کے ہاں بھئی۔ اور اسی طرح فعل بھی بھئی، نحویوں کے ہاں جو فعل ہو وہ ضروری نہیں کہ مناطقہ کے ہاں بھی فعل ہو اور مناطقہ کے ہاں بھی کلمہ ہو۔ اور مناطقہ کے ہاں جو کلمہ ہو وہ ضروری نہیں کہ نحویوں کے ہاں بھی کیا ہو؟ فعل ہو۔ جیسے اضرب، نضرب مثال ذکر کر دی۔ نحویوں کے ہاں فعل ہے لیکن مناطقہ کے ہاں یہ کلمہ نہیں۔ دوسری مثال مناطقہ کے ہاں کلمہ ہو لیکن نحویوں کے ہاں فعل نہ ہو، جیسے یہی اسمائے افعال۔ یہ مناطقہ کے نزدیک کیا ہیں؟ کلمہ ہیں، لیکن نحویوں کے ہاں یہ فعل نہیں، اسم ہیں، اسم ہیں۔ اسی طرح یاد رکھنا نحوی افعالِ ناقصہ کی بحث لاتے ہیں کتابوں میں اور فعل بھی شمار کرتے ہیں، افعالِ ناقصہ۔ کانا کیا ہے؟ فعل ناقص۔ صارا کیا ہے؟ فعل ناقص۔ تو نحوی اس کو فعل کہتے ہیں، لیکن مناطقہ اس کو ادات کہتے ہیں۔ کانا، صارا وغیرہ کو کیا کہتے ہیں؟ ادات۔ ادات جو ربط کا کام، کیونکہ یہ بھی ربط کا کام دیتے ہیں بھئی، ربط کا کام اور زمانے پر دلالت کرتے ہیں، جیسے زیدن قائم کا معنی تھا: زید کھڑا ہے، اور کان زیدن قائما کا معنی ہے: زید کھڑا تھا، تو اس نے دونوں میں ربط بھی دیا اور زمانے کا معنی ساتھ ادا کیا، تو اس لیے ان کو افعالِ ناقصہ کو مناطقہ کیا کہتے ہیں؟ ادات کہتے ہیں، جبکہ نحوی کیا کہتے ہیں؟ فعل کہتے ہیں۔ چلیے بس ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔