کل کے سبق میں مولانا عام غیر مخصوص البعض کی چوتھی مثال ہم نے پڑھی تھی۔ اللہ کا یہ قول ہے: ﴿وَ أُمَّهٰتُكُمُ اللّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ﴾۔ پوری آیت کس طرح ہے؟ ﴿حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ اللّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ﴾۔ تو یہاں میں نے بتلایا تھا مولانا ایک ہمارا مذہب ہے، ایک امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مرضعہ کی حرمت ثابت ہوگی ایک روایت کے مطابق تین دفعہ دودھ پینے سے اور ایک روایت کے مطابق پانچ مرتبہ سے، پانچ مرتبہ۔ اور یہ بھی بتایا تھا کہ پانچ مرتبہ پینے سے یہ مراد نہیں کہ تھوڑا سا پیا بچے نے بس، نہیں۔ ایک مجلس میں جتنا بھی پی لے وہ سارا کیا ہے، ایک ہی مصہ شمار ہوگا بھئی۔ اور ان دلیل کیا ہے ان کی بھئی کہ تین یا پانچ سے؟ دلیل ان کی یہ حدیث ہے۔ حدیث میں آیا ہے: ”لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ وَلَا الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ“۔ مصہ فعل ہے بچے کا، املاجہ فعل ہے عورت کا۔ میں نے بتایا تھا مصہ کا کیا معنی ہے؟ بچے کا دودھ چوسنا۔ اور املاجہ کا کیا معنی ہے؟ عورت کا پستان بچے کے منہ میں دینا، تو یہ فعل ہے عورت کا۔ تو حدیث میں آیا ہے ایک مرتبہ بچے کے دودھ چوسنے سے یا دو مرتبہ چوسنے سے، یا ایک مرتبہ بچے کے منہ میں پستان دینے سے یا دو مرتبہ دینے سے، یہ ”لَا تُحَرِّمُ“ یہ حرام نہیں کرتے مرضعہ کو، رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ اور تو ہماری دلیل وہ کتاب اللہ کا عام ہے مولانا: ﴿وَ أُمَّهٰتُكُمُ اللّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ﴾ جنہوں نے تمہیں کیا کیا ہے، ﴿حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ﴾ حرام کر دی گئی ہیں تمہارے اوپر تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا۔ ﴿اَرْضَعْنَكُمْ﴾ یہ عام ہے۔ اس میں کچھ نہیں ذکر کہ تھوڑا پلایا یا زیادہ، بس دودھ پلایا۔ اب چاہے تھوڑا سا بھی پی لے، کیا ہو جائے گی رضاعت ہمارے نزدیک ثابت ہو جائے گی۔ دودھ پلانا آ پایا گیا بس، دودھ پلانا پایا گیا تو وہ ماں بن گئی اور اس دودھ پینے والے بچے پر کیا ہو گئی، ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی مولانا۔ وہ حرام، وہ ماں بن گئی، اس کی اولاد اس کی بھئی بہن بن گئے بھئی۔ تو اب مولانا اب حدیث سے تو ثابت ہو رہا ہے ایک دو مرتبہ سے حرمت نہیں ثابت ہوتی اور کتاب اللہ سے کیا پتہ چل رہا ہے مولانا؟ رضاعت پائی جائے بس، دودھ پینا پایا جائے فوراً۔ تھوڑے زیادہ کی وہاں تفصیل نہیں ہے بھئی۔ تو اب اگر ہم حدیث پر عمل کرتے ہیں تو کیا ہوا؟ تو جمع اور تطبيق کی کوئی صورت نہیں اور وہ عام غیر مخصوص البعض تھا، وہ قطعی تھا، یہ خبر واحد ہے، یہ ظنی ہے اور ظنی کے ذریعے قطعی پر ہم قطعی میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتے۔ تو لہذا ہمارے نزدیک ڈھائی سال کے اندر ایک قطرہ بھی پی لے مولانا بس پیٹ تک پہنچ جائے تو حرام ہو گئی بھئی، حرمت آ گئی۔ ”وَأَمَّا الْعَامُّ الَّذِي خُصَّ عَنْهُ الْبَعْضُ فَحُكْمُهُ أَنَّهُ يَجِبُ الْعَمَلُ بِهِ فِي الْبَاقِي مَعَ الِاحْتِمَالِ، فَإِذَا قَامَتِ الدَّلِيلُ عَلَى تَخْصِيصِ الْبَاقِي يَجُوزُ تَخْصِيصُهُ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ أَوِ الْقِيَاسِ إِلَى أَنْ يَبْقَى الثَّلَاثُ، وَبَعْدَ ذَلِكَ لَا يَجُوزُ فَيَجِبُ الْعَمَلُ بِهِ“۔ یہاں سے مولانا، یہ تو عام مخصوص البعض کی بات، غیر مخصوص البعض کی بات ابھی تک چل رہی تھی۔ اس کے بارے میں انہوں نے اپ کو بتا دیا کہ اس کا حکم کیا ہے؟ قطعی ہے، خاص کتاب اللہ کے خاص کی طرح۔ اب بات کریں گے عام مخصوص البعض کی، اس کا کیا حکم ہے؟ میں نے اپ کو پہلے ہی بتلا دیا تھا کہ ہمارے نزدیک وہ کیا ہے؟ ظنی ہے، قطعی نہیں بھئی۔ جی، تو عام مولانا عام۔ ”وَأَمَّا الْعَامُّ الَّذِي خُصَّ عَنْهُ الْبَعْضُ“ باقی وہ عام جس کے جس میں بعض کی تخصیص کر دی گئی ہو، جس میں سے بعض کی تخصیص کر دی گئی ہو، ”فَحُكْمُهُ“ اس کا حکم یہ ہے ”أَنَّهُ يَجِبُ الْعَمَلُ بِهِ فِي الْبَاقِي“ کہ اس میں عمل کرنا واجب ہے باقیوں کے اندر۔ بعض کی تو کیا کر دی؟ تخصیص کر دی، اس حکم سے نکال دیا اور جو باقی ہیں ان پر عمل کرنا واجب۔ ”مَعَ الِاحْتِمَالِ“ ساتھ ساتھ کس کے؟ احتمال تخصیص کے۔ یعنی باقی جو افراد بچ جائیں گے ان میں بھی کیا رہے گا تخصیص کا احتمال رہے گا، سمجھ میں آیا؟ مثلاً مثلاً میں کہتا ہوں: بھئی درجہ ثالثہ والے سب طلباء کو سو سو روپیہ دیا جائے، لیکن بعض طلباء کو نہ دیا جائے۔ لیکن بعض طلباء کو مثلاً میں کہتا ہوں زی،د عمرو، بكر کو نہیں دینے بھئی، باقیوں کو دینے ہیں۔ تو یہ کون سا عام ہوا مولانا؟ درجہ ثالثہ والے سب کو شامل ہے، عام ہے اور پھر اس میں سے اس کے حکم میں میں نے کچھ کی تخصیص کر دی کہ سب کو دینے ہیں سو، لیکن فلاں تین آدمیوں کو سو سو روپیہ نہیں دینا، تو یہ تخصیص آ گئی مولانا، سمجھ میں آیا؟ اب باقی سب کو سو سو روپیہ دینا واجب ہے، مگر ان میں بھی تخصیص کا احتمال رہے گا بھئی۔ تخصیص کا کیا رہے گا؟ تو باقی سب پر عمل واجب لیکن مع احتمال کہ ان میں بھی تخصیص کا احتمال رہے گا۔ تو جب تخصیص کا ان میں احتمال ہے باقیوں میں، تو وہ قطعی ہی رہے یا ظنی بن گئے؟ ظنی بن گئے، ہر ایک میں احتمال آ گیا کہ یہ بھی اس پہ بھی اس کی بھی تخصیص ہو سکتی ہے، اس کی بھی تخصیص ہو سکتی ہے، یہ بھی اس حکم سے نکل سکتا ہے، دوسرا بھی اس حکم سے نکل سکتا ہے، تیسرا بھی نکل سکتا ہے۔ تو قطعی نہ رہا بلکہ کیا بن گیا؟ ظنی بن گیا۔ ”فَحُكْمُهُ“ حکم اس کا یہ ہے ”أَنَّهُ يَجِبُ الْعَمَلُ بِهِ“ کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ کس پر؟ عام مخصوص البعض پر ”فِي الْبَاقِي“ باقی افراد کے اندر ”مَعَ الِاحْتِمَالِ“ ساتھ کس کے تخصیص کے احتمال کے باقی افراد میں۔ اچھا اب باقیوں کے بارے میں اگر کوئی دلیل اور قائم ہو گئی بھئی۔ مثلاً آپ نے غور کیا کہ یہ کیوں حکم دیا کہ زید، عمرو، بكر کو نہیں دینا؟ پتہ چلا آپ کو کہ یہ تین محنت نہیں کرنے والے، آپ کو علت پتہ چل گئی۔ کیا پتہ چل گئی؟ علت پتہ چل گئی کہ ان کی علت یہ ہے کہ یہ محنت نہیں کر رہے بھئی، اس لیے ان کو اس انعام سے نکال دیا گیا بھئی۔ اب یہ باقیوں کے بارے میں بھی ہر ایک میں احتمال ہے، جس کے بارے میں بھی دلیل قائم ہو جائے کہ یہ بھی محنت نہیں کرتا، اس کی بھی کیا کر دیں گے؟ تخصیص کر دیں گے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو باقیوں میں احتمال باقی ہے، اب اگر ان کے بارے میں بھی دلیل قائم ہو جائے، دلیل سے ثابت ہو جائے کہ یہ کیا کرتا ہے؟ محنت نہیں کرتا، تو اس کو بھی ہم کیا کر دیں گے؟ حکم سے نکال دیں گے۔ ”فَإِذَا قَامَتِ الدَّلِيلُ عَلَى تَخْصِيصِ الْبَاقِي“ جب کوئی دلیل قائم ہو جائے باقیوں کی تخصیص پر ”يَجُوزُ تَخْصِيصُهُ“ تو جائز ہے ان کی تخصیص کرنا ”بِخَبَرِ الْوَاحِدِ أَوِ الْقِيَاسِ“ خبر واحد کے ذریعے یا بھئی جب کچھ کو نکال دیا تو باقیوں میں عمل واجب، لیکن ساتھ احتمال بھی ہے، تو باقی کیا رہ گیا مولانا؟ ظنی بن گیا۔ عام مخصوص البعض کیا بن گیا؟ ظنی بن گیا اور خبر واحد اور قیاس بھی کیا ہیں؟ ظنی ہیں، تو اب ان کے ذریعے بھی تخصیص کرنا جائز ہے، تو ان کے ذریعے بھی تخصیص کرنا جائز ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ ”فَيَجُوزُ تَخْصِيصُهُ“ جائز ہے تخصیص کرنا مولانا اس باقیوں باقی میں ”بِخَبَرِ الْوَاحِدِ أَوِ الْقِيَاسِ“ خبر واحد کے ذریعے یا قیاس کے ذریعے ”إِلَى أَنْ يَبْقَى الثَّلَاثُ“ یہاں تک کہ تین باقی رہ جائیں۔ یہاں تک کہ جب تین رہ جائیں گے اس کے بعد تخصیص کی اجازت نہیں ورنہ عام کا عموم فوت ہو جائے گا مولانا۔ دیکھو تخصیص کتنے کی کی تھی میں نے؟ تین کی۔ پھر دلیل قائم ہوئی پتہ چلا فلاں بھی نہیں کرتا، وہ بھی خارج ہوا، اس کی بھی تخصیص کر دی آپ نے۔ سمجھ میں آیا؟ دوسرے کے لیے بھی دلیل قائم، تیسرے کے لیے بھی، آپ کرتے گئے، تخصیص کرتے چلے جائیں، کرتے چلے جائیں، یہاں تک کہ کتنے رہ جائیں؟ تین رہ جائیں۔ اب تین سے زیادہ تخصیص کی اجازت نہیں ورنہ تو عام کا عموم فوت ہو جائے گا۔ میں نے کہا تھا درجہ ثالثہ والے اور یہ جمع ہے اور جمع کا اطلاق کم از کم کتنے پر ہوتا ہے؟ تین پر، تو اب اگر تین سے بھی ہم چلے جائیں تو وہ جمع کی جمعیت ہی فوت کر دی آپ نے، عام کا عموم ہی فوت کر دیا۔ تو اگر مثلاً کتاب اللہ کے اندر عام مخصوص البعض آیا تھا اور وہ کیا تھا؟ ظنی، اس کے میں آپ نے تخصیص کس کے ذریعے کر دی؟ حدیث یا خبر واحد یا قیاس، تو تین افراد رہ گئے، تین کے بعد بھی اگر آپ مزید تخصیص کر دیں گے تو گویا آپ نے کتاب اللہ کے حکم کو ہی منسوخ کر دیا۔ کیا کر دیا؟ منسوخ کر دیا مولانا۔ اور کتاب اللہ کا نسخ تو جائز، جائز نسخ تو نہیں جائز کر سکتے، ہاں تخصیص آپ کرتے رہیں، لیکن یہاں تک کہ عام کا عموم جب تک بچا رہتا ہے آپ تخصیص کرتے رہیں، جب عموم فوت ہونے لگے تو اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ تو یہاں سے پتہ چل گیا جتنے عموم کی جتنے تخصیص ہو سکتی ہے کرتے چلے جائیں گے۔ اب مولانا ہمارے پاس الفاظ کی تین چار قسمیں ہیں۔ کچھ الفاظ وہ ہیں جو لفظوں میں بھی معنى جمع ہوتے ہیں، معنی کے اعتبار سے بھی جمع۔ جیسے مسلمون، مشركون، یہ لفظوں کے اعتبار سے بھی جمع۔ مسلمون کس کی جمع؟ مسلم کی، مشركون کس کی جمع؟ مشرک کی۔ اور ایک ہوتا ہے جو معنی کے اعتبار سے تو جمع ہوتا ہے، لفظوں کے اعتبار سے جمع نہیں، جیسے قوم اور رہط۔ قوم اور رہط کتنے افراد کو کم از کم کہیں گے؟ تین افراد، لیکن قوم کا لفظ ہے مفرد، اس کی جمع آگے کیا آتی ہے؟ اقوام، سمجھ میں آیا؟ تو قوم کا لفظ جمع تو ہے لیکن معنی کے اعتبار سے جمع ہے، لفظوں کے اعتبار سے تو یہ مفرد ہے، قوم۔ اس کی آگے پھر کیا بنتی ہے؟ جمع بنتی ہے۔ تو اگر لفظاً و معنًى دونوں لحاظ سے جمع ہو یا صرف معنی کے اعتبار سے جمع ہو، تو تخصیص کرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ تین رہ جائیں، کیونکہ وہ لفظوں کے اعتبار سے جمع ہے یا معنی کے اعتبار سے، تین سے زیادہ ہم اس سے زیادہ کی تخصیص کی اجازت نہیں ورنہ تو ان کی جمعیت کیا ہو جائے گی؟ فوت ہو جائے گی۔ اور کچھ الفاظ ایسے ہیں مولانا جو اس جیسے اسم جنس ہے مولانا۔ اسم جنس آپ نے کیا پڑھا کہ اس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور مثلاً میں انسان کہتا ہوں، انسان ایک بھی انسان ہے اور ساری دنیا کے بھی لوگ کیا ہیں؟ انسان ہیں۔ یا جیسے من اور ما ہے مولانا۔ تو ان کا اطلاق بھی کیا ہے؟ قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر بھی ہوتا ہے۔ ان سے ایک بھی مراد ہو سکتا ہے، ان سے سارے بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ یا جیسے مولانا نکرہ تحت النفی آ جائے۔ نکرہ تحت تو وہ بھی مولانا اس میں جنس کی طرح ہے۔ تو اس صورت میں مولانا مزید تخصیص کی بھی اجازت کر دیں گے ہم، کیونکہ انسان کا اطلاق کم از کم کتنے پر ہوتا ہے؟ تو جتنے پر اطلاق ہوتا ہے وہ باقی رہنے چاہئیں۔ تو آپ تخصیص کرتے جائیں، اور کی، مولانا دو رہ گئے، پھر اور تخصیص کی، ایک رہ گیا۔ اب ایک سے زیادہ اب تخصیص کی اجازت نہیں ورنہ تو کیا ہو جائے گا؟ اس کا اس کا حکم ہی منسوخ کر رہے ہیں گویا کہ آپ۔ اگر ایک کو بھی نکال دیں تو کوئی فرد باقی رہا؟ نہیں، تو اس کے آپ کیا کر رہے ہیں مولانا؟ حکم کو ہی گویا کہ منسوخ کر رہے ہیں بھئی، سمجھ میں آئی بات سب کو بھئی؟ تو یہ کہا جو کہا ”إِلَى“ تو جائز ہے ان میں ”يَجُوزُ تَخْصِيصُهُ“ ”فَإِذَا قَامَتِ الدَّلِيلُ عَلَى تَخْصِيصِ الْبَاقِي“ جب باقی کی تخصیص پر دلیل قائم ہو جائے ”يَجُوزُ تَخْصِيصُهُ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ أَوِ الْقِيَاسِ“ جائز ہے اس کی تخصیص خبر واحد کے ساتھ یا قیاس کے ساتھ ”إِلَى أَنْ يَبْقَى الثَّلَاثُ“ یہاں تک کہ کتنے رہ جائیں؟ تین۔ یہ کس کے اندر ہے؟ جو لفظاً و معنًى دونوں طرح جمع ہو یا معنًى کیا ہو؟ جمع ہو۔ سمجھ میں آیا؟ یہ ان میں ان کی بات کی ہے کتاب والے نے، صاحب کتاب نے۔ اور باقی جو اسم جنس وغیرہ ہے، نکرہ تحت النفی ہے مولانا، اور من اور ما وغیرہ ہیں، ان کا حکم یہ بیان نہیں کیا۔ ان میں میں نے بتایا تخصیص اور بھی کر سکتے ہیں آپ، یہاں تک کہ کتنے رہ جائیں؟ ایک فرد، ہاں اس ایک کے بعد پھر تخصیص کی اجازت نہیں ورنہ تو کیا لازم آئے گا مولانا؟ حکم کو منسوخ کرنا لازم آئے گا، ایک بھی فرد نہیں رہے گا باقی اس کے تحت بھئی۔ سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے یہ آپ کے حاشیے میں بھی یہ بات لکھی ہوئی ہے مولانا۔ چھ نمبر حاشیہ آخر سے ذرا دیکھیں، تین چار سطریں آخری۔ جی، مل گیا بھئی؟ ”فَإِنْ قِيلَ كَيْفَ يَصِحُّ قَوْلُهُ“ مل گیا؟ ”فَإِنْ قِيلَ“ اگر یہ کہا گیا ”كَيْفَ يَصِحُّ قَوْلُهُ“ کیسے صحیح ہے ماتن کا یہ قول کہ ”وَبَعْدَ ذَلِكَ لَا يَجُوزُ“؟ ”أَنْ يَبْقَى الثَّلَاثُ“ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ ”وَبَعْدَ ذَلِكَ“ اس کے بعد تخصیص باقی میں جائز نہیں، یہ کیسے صحیح ہے؟ ”وَقَدْ جَوَّزَ التَّخْصِيصَ“ جائز قرار دیا گیا اس قرار دیا ہے تخصیص کو کس میں مولانا؟ ”الْمُعَرَّفِ بِاللَّامِ“ جس پہ لام جنس داخل ہو رہا ہو ”وَالنَّكِرَةِ الْوَاقِعَةِ بَعْدَ النَّفْيِ“ اور وہ نکرہ جو کس کے بعد واقع ہو؟ نفی کے بعد ”وَمَنْ وَمَا“ اور من اور ما میں ”إِلَى أَنْ يَبْقَى الْوَاحِدُ“ یہاں تک کہ کتنے رہ جائیں؟ ایک رہ جائیں۔ ان میں تو تخصیص اور بھی باقی ہے اور صاحب کتاب فرما رہے ہیں تین کے بعد تخصیص کی اجازت نہیں، تو کہتے ہیں ”أُجِيبَ“ جواب دیا گیا ہے ”بِأَنَّ كَلَامَ الشَّيْخِ فِي الْعَامِّ الَّذِي هُوَ جَمْعٌ صِيغَةً وَمَعْنًى“ کہ شیخ کلام کر رہے ہیں اس عام کے بارے میں جو جمع صیغے کے اعتبار سے بھی اور معنی کے بھی، ”كَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ“ جیسے مسلمین اور مشرکین، ”أَوْ مَعْنًى“ یا اس کے بارے میں ہے جو کیا ہو؟ معنًى ہو فقط ”كَالْقَوْمِ وَالرَّهْطِ“ جیسے قوم اور رہط۔ مل گئی سب کو عبارت بھئی؟ ”وَبَعْدَ ذَلِكَ لَا يَجُوزُ“ اور اس کے بعد تخصیص جائز نہیں ہے مولانا ”فَيَجُوزُ الْعَمَلُ بِهِ“ تو اب اس پر عمل کرنا کیا ہے اب ان میں تین افراد میں عمل کرنا واجب ہے يا اس ایک فرد میں، ایک فرد بھئی اس میں جنس وغیرہ کی صورت میں اب اس ایک فرد پر عمل کرنا کیا ہے؟ واجب ہے۔ ”وَإِنَّمَا جَازَ ذَلِكَ“ یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں صاحب کتاب مولانا۔ کیا کہا ہے انہوں نے؟ بات یہ کی تھی عام غیر عام مخصوص البعض کا کیا حکم بتلایا آپ کو انہوں نے؟ کہ وہ ظنی ہے کہ کچھ کی جب تخصیص کر دی تو باقیوں پر میں عمل کرنا واجب ”مَعَ الِاحْتِمَالِ التَّخْصِيصِ“ ساتھ ساتھ کس کا احتمال ہوگا؟ سوال یہ کہ باقیوں میں تخصیص کا احتمال کیوں ہے؟ اس کی اب تشریح کرنا چاہتے ہیں، سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ کہ باقیوں میں تخصیص کا احتمال، کہتے ہیں ”وَإِنَّمَا جَازَ ذَلِكَ“ یہ جائز ہے یعنی باقیوں میں تخصیص کا احتمال اس لیے ہے مولانا۔ یا یوں کہو، باقیوں میں تخصیص کیوں جائز ہے بھئی؟ ہاں، تو کہتے ہیں دیکھو: مخصص وہ دلیل جس نے تخصیص کی، وہ دلیل بھئی دیکھو کتاب اللہ کا عام آیا اور اس عام میں سے بعض کی تخصیص کر دی گئی، وہ بھی کس نے کی؟ کتاب اللہ ہی نے کی۔ تو یہ دلیل کیا ہوئی؟ مخصص، اس نے کیا کی مولانا؟ تخصیص کی، سمجھ میں آیا؟ جیسے ”وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ“ اللہ نے بیع کو حلال تخصیص کر دی؟ میں نے نہیں بتایا کس کو دینا ہے، کس کو نہیں دینا۔ تو وہ دلیل جو تخصیص کرنے والی ہے وہ بعض معلوم افراد کی تخصیص کرے گی، بعض معین افراد کی تخصیص کرے گی، یا بعض مجہول افراد کی تخصیص کرے گی۔ بات سمجھ میں آئی؟ اگر مجہول کی تخصیص کی ہے مثلاً میں نے کیا کہا؟ سب کو سو سو دینا مگر بعض کو نہ دینا۔ اب وہ بعض معلوم ہیں؟ نہیں۔ میں نے مجہول کی تخصیص کی ہے۔ اب ہر ہر فرد میں احتمال آ گیا۔ یہ ثالثہ والا ہے، اس میں بھی احتمال آیا کہ ہو سکتا ہے اس کی تخصیص کی گئی ہو اور ہو سکتا ہے تخصیص نہ ہو۔ اس میں بھی احتمال آیا، ہو سکتا ہے اس کی تخصیص کی گئی ہو، ہو سکتا ہے اس کی تخصیص ہو سکتا ہے یہ اس بعض میں داخل ہو، ہو سکتا ہے داخل نہ ہو۔ تو ہر ہر فردِ معین کے اندر یہ احتمال آ جاتا ہے جب، کب؟ جب کہ تخصیص کس کی کی گئی ہو؟ بعض مجہول کی، تو احتمال آ گیا یا نہیں آ گیا؟ یہی بات کر رہے تھے کہ احتمال آ جائے گا۔ اور وہ دوسری صورت جس میں کیا تھا مولانا؟ میں نے بعض معین افراد کی تخصیص کر دی تھی، مثلاً میں نے کہا تھا: زید، عمر، بکر کو نہ دینا، تو وہاں پر جب میں نے تین معین کی تخصیص کی ہے لازمی بات ہے اس کی کوئی علت ہو گی، کیا ہو گی؟ اس کی کوئی علت ہو گی، کیونکہ جو حکم آئے گا ہمیشہ اس کی کیا ہو گی؟ کوئی نہ کوئی علت ہو گی۔ پس اگر اس کسی اور باقی افراد میں بھی کوئی ایسی دلیل قائم ہو جاتی ہے جو بتلاتی ہے کہ اس کے اندر بھی وہ علت موجود ہے، تو اس کی بھی خبرِ واحد اور قیاس کے ذریعے ہم کیا کر سکتے ہیں؟ خبرِ واحد یا قیاس آ جاتی ہے کہ اس کے اندر بھی کیا ہے؟ فلاں کے اندر بھی یہ علت موجود، اس کو بھی کیا کر دیں گے آپ؟ خارج۔ دوسرے کے بارے میں بھی قیاس آپ کو بتلاتا ہے اس میں بھی کیا ہے؟ موجود، اس کو بھی آپ کیا کر دیں گے؟ خارج۔ تیسرے کے بارے میں قیاس کہتا ہے کہ اس میں بھی یہ علت موجود، اس کو بھی آپ کیا کر دیں گے؟ خارج کر دیں گے۔ تو احتمال آیا یا نہیں مولانا ہر فرد میں کہ شاید اس کے بارے میں دلیل قائم ہو جائے، شاید اس کے بارے میں کیا ہو جائے؟ دلیل قائم ہو جائے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ تو دیکھو دلیلِ مخصص بعض معلوم افراد کی تخصیص کرے گی یا بعض مجہول، اگر مجہول کی کرے پھر تو ہر ہر معین فرد میں احتمال آ جاتا ہے کہ پتہ نہیں یہ تخصیص میں داخل ہے یا باقی ہے، اور اگر وہ بعض معین افراد ہیں تو پھر ان معین کے بارے میں کیا ہو گا؟ کوئی علت ہو گی، تو اب اس علت کے بارے میں کیا ہے؟ باقی افراد میں بھی اس علت کے پائے جانے کا امکان تو ہو گا، تو اس کے ان کے بارے میں بھی کوئی دلیل قائم ہو جائے تو ان کی بھی کیا کریں گے آپ؟ تخصیص، احتمال دونوں صورتوں میں آ جاتا ہے، سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ ﴿وَإِنَّمَا جَازَ ذٰلِكَ﴾ اور یہ تخصیص جائز ہے خبرِ واحد اور قیاس کے ذریعے، کیوں؟ ﴿لِأَنَّ الْمُخَصِّصَ الَّذِي﴾ یہ اس لیے کہ وہ دلیلِ مخصص ﴿الَّذِي أَخْرَجَ الْبَعْضَ عَنِ الْجُمْلَةِ﴾ جس نے نکالا ہے بعض افراد کو کس سے؟ جملہ افراد، مجموعہ افراد میں سے، ﴿لَوْ أَخْرَجَ بَعْضًا مَّجْهُولًا﴾ اگر اس نے نکالا ہے بعض مجہول افراد کو ﴿يَثْبُتُ الْإِحْتِمَالُ فِي كُلِّ فَرْدٍ مَُّعَيَّنٍ﴾ تو احتمال ثابت ہو جائے گا ہر فردِ معین میں ہر ہر فرد میں کہ احتمال ہو گا کہ پتہ نہیں یہ اس کا داخل ہے یا داخل نہیں، ﴿فَجَازَ أَنْ يَّكُونَ بَاقِيًا تَحْتَ حُكْمِ الْعَامِّ﴾ تو جائز ہے کہ وہ باقی ہو کس کے تحت مولانا؟ عام کے حکم کے تحت، مثلاً یہ فردِ معین ہے اس کے بارے میں بھی ممکن ہے کہ یہ باقی ہو کس کے تحت؟ عام کے حکم کے تحت باقی ہو، اس کو بھی کیا دیا جائے؟ سو روپیہ، ﴿وَجَازَ أَنْ يَّكُونَ دَاخِلًا تَحْتَ دَلِيلِ الْخُصُوصِ﴾ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اس دلیلِ خصوص کے تحت داخل ہو، ﴿فَاسْتَوَى الطَّرَفَانِ فِي حَقِّ الْمُعَيَّنِ﴾ تو دونوں جانبیں برابر ہو گئیں ہر معین فرد کے بارے میں۔ میں نے کیا کہا تھا؟ ثالثہ کے تمام افراد کو سو سو دینا لیکن بعض کو نہ دینا۔ اب ہر ہر فرد میں آ گیا بھئی، ہو سکتا ہے اس کو دینا ہو، ہو سکتا ہے اس کو نہ دینا ہو۔ تو ہر دونوں جانبیں برابر ہو گئیں یا نہیں؟ ہو سکتا ہے عام میں داخل ہو، ہو سکتا ہے کن میں داخل ہو؟ جن کی تخصیص کی گئی ہے۔ ﴿فَاسْتَوَى الطَّرَفَانِ فِي حَقِّ الْمُعَيَّنِ﴾ تو دونوں جانبیں برابر ہو گئیں ہر معین فرد کے بارے میں، ﴿فَإِذَا قَامَتِ الدَّلِيلُ الشَّرْعِيُّ﴾ پھر جب پس جب قائم ہو جائے دلیلِ شرعی ﴿أَنَّهُ مِنْ جُمْلَةِ مَا دَخَلَ تَحْتَ دَلِيلِ الْخُصُوصِ﴾ کہ یہ کن میں سے ہے؟ کہ یہ کن میں سے ہے؟ جن کی کیا کی گئی ہے؟ تخصیص کی گئی ہے۔ میں نے کہا تھا بعض کو نہ دینا، اب اگر کوئی دلیل قائم ہو جائے تو اس کی تخصیص کریں گے یا نہیں کریں گے کسی بھی فردِ معین کی؟ یہی بات کر رہا ہے، پس جب دلیلِ شرعی قائم ہو جائے ﴿عَلَى أَنَّهُ مِنْ جُمْلَةِ مَا﴾ کہ یہ ان مجموعہ افراد میں سے ہے ﴿مَا جَوْ كَه دَخَلَ تَحْتَ دَلِيلِ الْخُصُوصِ﴾ جو کہ دلیلِ خصوص کے تحت داخل ہیں، ﴿تَرَجَّحَ جَانِبُ تَخْصِيصِهِ﴾ تو اس کی تخصیص کی جانب کیا ہو جائے گی؟ ترجیح پا جائے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ راجح ہو جائے گی، اس کی کیا کر دی جائے گی مولانا؟ راجح ہو جائے گی، اس کی کیا کر دی جائے گی مولانا؟ بائی ہر فردِ معین میں کیا احتمال ہے؟ کہ ہو سکتا ہے یہ کس میں باقی ہو؟ عام کے حکم کے تحت، اور ہو سکتا ہے یہ کس میں ہو؟ میں نے کہا تھا نا بعض کو نہ دو، اب ہر ہر فرد میں ہے، پتہ نہیں یہ بعض میں ہے یا بعض میں نہیں۔ پس اگر دلیلِ شرعی قائم ہو جائے کہ یہ کس میں سے ہے؟ یہ فلاں فرد مثلاً تخصیص والوں میں سے ہے، تو اب کیا آ گئی؟ خبرِ واحد یا قیاس ظنی ہے اور کس کے لیے آیا؟ عام مخصوص البعض کے لیے آیا وہ بھی ظنی، تو لہٰذا اب اس صورت میں ظنی کے ساتھ ظنی آ گیا، تو اب اس کے اندر احتمال تھا دلیلِ شرعی قائم ہو گئی، تو اس کی بھی ہم کیا کر دیں گے؟ تو یہ تو یہ دلیل قائم ہو گئی تو تخصیص کی جانب ترجیح پا جائے گی، راجح ہو جائے گی، یعنی ہم اس کی کیا کر دیں گے؟ تخصیص کر دیں گے۔ ﴿وَإِنْ كَانَ الْمُخَصِّصُ أَخْرَجَ بَعْضًا مَّعْلُومًا﴾ اور اگر دلیلِ مخصص نے نکالا تھا کس کو؟ بعض معلوم کو ﴿عَنِ الْجُمْلَةِ﴾ کس سے؟ تمام افراد میں سے، ﴿جَازَ أَنْ يَّكُونَ مَعْلُولًا بِعِلَّةٍ﴾ تو جائز ہے کہ یہ معلول ہو کسی ایسی علت کا ﴿مَوْجُودَةٍ فِي هٰذَا الْفَرْدِ الْمُعَيَّنِ﴾ جو موجود ہو اس فردِ معین میں۔ بائی میں نے کہا تھا زید، عمر، بکر کو نہ دینا، میں نے بعض معین افراد کی کیا کر دی؟ تخصیص۔ اب باقی بھی ہر معین فرد کے اندر اس میں بھی اس میں ہو سکتا ہے اس کے اندر بھی وہ علت پائی جائے۔ تو ﴿فَإِذَا قَامَتِ الدَّلِيلُ الشَّرْعِيُّ عَلَى وُجُودِ تِلْكَ الْعِلَّةِ﴾ جب دلیلِ شرعی قائم ہو جائے اس علت کے وجود پر ﴿فِي غَيْرِ هٰذَا الْفَرْدِ الْمُعَيَّنِ﴾ اس فردِ معین کے علاوہ میں۔ بائی میں نے تو زید، عمر، بکر کے بارے میں کہا تھا، ان کے علاوہ میں بھی کسی کے بارے میں کوئی دلیل قائم ہو جاتی ہے تو ﴿تَرَجَّحَ جِهَةُ تَخْصِيصِهِ﴾ تو اس کی تخصیص کی جہت کیا ہو جائے گی؟ راجح ہو جائے گی، کیا ہو جائے گی؟ راجح ہو جائے گی، ﴿فَيُعْمَلُ بِهِ﴾ پس اس پر عمل کیا جائے گا اس عام پر، عام مخصوص البعض پر، ﴿مَعَ وُجُودِ الْإِحْتِمَالِ﴾ ساتھ ساتھ کس کے احتمال کے؟ احتمال کے وجود کے ساتھ بائی۔ بات سب کو سمجھ میں آئی؟ اچھی طرح؟ کوئی مشکل تو نہیں؟ مثلاً مولانا شریعت میں حکم آ گیا: مشرکین کو قتل کرو۔ مشرکین کو کیا کرو؟ لیکن ذمیوں کو قتل نہ کرو۔ ذمی کون؟ وہ کافر جو کیا؟ جزیہ دے کر مسلمانوں کے وطن میں رہے۔ تو غور کیا ہم نے تو کیا علت مثلاً ہمیں معلوم ہوئی؟ کہ ذمیوں کے قتل کا حکم کیوں نہیں دیا گیا؟ اس لیے کہ وہ مسلمانوں سے لڑتے نہیں، ان کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ تو یہ علت، اب جس میں بھی یہ علت پائی جائے گی اس کو وہ بھی اس حکم سے خارج ہو جائے گا، اسے بھی قتل نہیں، چنانچہ عورتیں ہیں وہ بھی مسلمانوں کو نقصان نہیں دے سکتیں، لڑ نہیں سکتیں، وہ بھی حکم سے خارج۔ لہٰذا حکم تو تھا مشرکین کو قتل کرو، عورت بھی مشرکہ ہے اسے بھی کیا کرنا چاہیے؟ لیکن علت اس میں پائی گئی یا نہیں پائی گئی تخصیص والی؟ تو اس کی تخصیص ہو گئی۔ بچے ہیں ان کی وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ لڑ نہیں سکتے تو ان کی بھی کیا ہو جائے گی؟ ان کی بھی تخصیص ہو گئی۔ بوڑھے ہیں وہ بوڑھے جو لڑ نہیں سکتے یا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ان کی بھی کیا ہو جائے گی؟ ہاں، جس وہ بوڑھے جو تدبیریں بتلائیں جنگ میں یوں کرو، یوں کرو، تجربہ کار لوگ ہیں اور نقصان پہنچاتے ہیں، ان کی تخصیص نہیں ہو گی، ان پر عمل واجب ہو گا ان کے بارے میں اور انہیں کیا کیا جائے گا؟ قتل کیا جائے گا۔ چلیے مولانا، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔