فصلٌ الفرضُ لغۃً ھو التّقدیرُ ومفروضاتُ الشّرعِ مقدّراتُہٗ بحيث لا يحتمل الزّیادۃَ والنّقصانَ۔ وفی الشّرعِ ما ثبتَ بدلیلٍ قطعيٍّ لا شبھۃَ فیہِ، وحکمُہٗ لزومُ العملِ بہٖ والاعتقادِ بہٖ۔ بھئی! اس فصل کے اندر مصنف فرض، واجب، سنت اور نفل کے بارے میں آپ کو بتلائیں گے۔ آپ سنتے رہتے ہیں کوئی چیز کہ یہ فرض ہے مثلاً نماز، وتر کے بارے میں آپ سنتے ہیں بھئی یہ واجب ہیں اور کئی امور ہیں جن کے بارے میں آپ کو بتلایا جاتا ہے یہ سنت ہیں، کچھ نفل ہیں، ان کے بارے میں بتلائیں گے۔ ہر ایک کا لغوی معنیٰ بھی بتلائیں گے اور شرعی معنیٰ بھی بتلائیں گے۔ اصطلاحی تعریف بھی ان کی کریں گے کہ شریعت میں کسے کہتے ہیں بھئی! اور ساتھ ساتھ ان کا حکم بھی بیان ہوگا۔ لغوی معنیٰ بھی ذکر کریں گے، شرعی شریعت میں کسے کہتے ہیں یہ بھی ذکر کریں گے اور حکم بھی بتلاتے جائیں گے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی! اور ساتھ ساتھ لغوی معنیٰ اور شرعی معنیٰ کے اندر مناسبت بھی ذکر ہوگی بھئی، لغوی معنیٰ اور شرعی معنیٰ کے درمیان مناسبت بھی۔ دیکھیے بھئی! آسان بحث ہے۔ الفرضُ لغۃً ھو التّقدیرُ، فرض جو ہے باعتبارِ لغت کے وہ اندازہ کرنا ہے۔ لغت میں کسے کہتے ہیں؟ اندازہ کرنا، جی۔ اب آگے مناسبت ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں ومفروضاتُ الشّرعِ مقدّراتُہٗ بحيث لا يحتمل الزّیادۃَ والنّقصانَ، مفروضاتِ شرع، شریعت کی فرض کردہ چیزیں یعنی شریعت کے فرائض جو ہیں، مقدّراتُہٗ وہ اس کے وہ مقرر کردہ اندازے ہیں۔ شریعت کے جو فرض ہیں وہ کیا ہیں؟ اس کے وہ مقرر کردہ اندازے ہیں، بحيث اس طور پر کہ لا يحتمل الزّیادۃَ والنّقصانَ کہ وہ مزید زیادتی اور کمی کا احتمال نہیں رکھتے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ لغت میں کسے کہتے ہیں؟ اندازہ کرنا اور یہ تو مناسبت کیا ہے ان کی؟ شریعت میں تو شرعی معنیٰ آگے آنے والا ہے بھئی، شریعت میں کسے کہتے ہیں بھئی۔ تو یہ بھی وہ شریعت کے وہ مقرر کردہ اندازے ہیں جو کمی بیشی کا احتمال نہیں رکھتے جیسے ظہر کی نماز چار رکعت فرض ہے، یہ کمی بیشی کا احتمال نہیں رکھتی کہ آپ تین پڑھ لیں یا پانچ پڑھ لیں۔ بھئی! تو فرض کا بھئی ایک معنیٰ آپ نے لغتاً پڑھا "هو التقدير"، اس کا کیا معنیٰ ہے؟ اندازہ کرنا۔ یا تقدیر کا دوسرا معنیٰ کر لیں مولانا، وہ زیادہ پسندیدہ ہے میرے نزدیک۔ تقدیر کا معنیٰ یہاں ہے مقرر کرنا، مولانا! کیا معنیٰ ہے؟ "الفرضُ لغۃً ھو التّقدیرُ"، فرض لغت کے اعتبار سے وہ مقرر کرنا ہے۔ فرض کسے کہتے ہیں بھئی؟ مقرر کرنا۔ "ومفروضاتُ الشّرعِ"، اور شریعت کی فرض کردہ جو چیزیں ہیں، "مقدّراتُہٗ"، اس کے وہ مقرر کردہ چیزیں ہیں وہ اس کے مقرر کی ہوئی چیزیں ہیں، "بحيث"، اس طور پر، "لا يحتمل الزّیادۃَ والنّقصانَ"، کہ وہ کمی اور زیادتی اور کمی کا احتمال نہیں رکھتے۔ فرض کا کیا معنیٰ بیان کیا بھئی؟ مقرر کرنا اور فرض بھی کس کو کہتے ہیں؟ شریعت کی وہ مقرر کردہ چیزیں جو کمی بیشی کا احتمال نہیں رکھتیں جیسے مولانا فجر کی دو رکعت ہے فرض نماز، اس میں کمی نہیں ہو سکتی کہ آپ ایک پڑھ لیں، زیادتی نہیں ہو سکتی کہ آپ تین پڑھ لیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو فرض کا لغوی معنیٰ ہے مولانا مقرر کرنا، جی۔ تو دو معنیٰ کر دیے بھئی، اندازہ کرنا کر لیں پھر بھی بات صحیح ہے اور مقرر کرنا کر لیں تو بھی جی زیادہ پسندیدہ ہے مقرر کرنا بھئی۔ تو کہتے ہیں "الفرضُ لغۃً ھو التّقدیرُ"، فرض جو ہے باعتبارِ لغت کے وہ مقرر کرنا ہے اس کا معنیٰ بھئی، "ومفروضاتُ الشّرعِ"، اور شریعت کی فرض کردہ چیزیں جو ہیں، "مقدّراتُہٗ"، اس کے وہ مقرر کردہ چیزیں ہیں، "بحيث"، اس طور پر، "لا يحتمل الزّیادۃَ والنّقصانَ"، کہ وہ احتمال نہیں رکھتیں زیادتی اور کمی کا۔ وفی الشّرعِ اور شریعت کے اندر فرض کہتے ہیں، ما ثبتَ بدلیلٍ قطعيٍّ وہ جو ثابت ہو دلیلِ قطعی کے ساتھ، لا شبھۃَ فیہِ ایسی دلیلِ قطعی جس کے اندر کوئی شبہ نہ ہو۔ جی، یہ شرعی شرعی تعریف آگئی۔ وحکمُہٗ حکم بتلا رہے ہیں، وحکمُہٗ لزومُ العملِ بہٖ والاعتقادِ بہٖ اور اس کا حکم جو ہے اس پر عمل کا لازم ہونا ہے اور اس پر اعتقاد کا لازم ہونا ہے۔ لزوم العمل بھی ہے اور لزوم الاعتقاد بھی ہے، عمل بھی لازم ہے اور اعتقاد بھی لازم ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ حتیٰ کہ اگر کوئی اس پر عمل نہیں کرتا تو اس کو فاسق کہیں گے اور کوئی اس کا اعتقاد نہیں رکھتا تو اس کو کافر کہیں گے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ والوجوبُ اب واجب کی بات کر رہے ہیں۔ والوجوبُ ھو السّقوطُ، وجوب جو ہے وہ سقوط ہے، سقوط کا معنیٰ گرنا، گرنا۔ یعنی واجب کا وجوب کا لغوی معنیٰ کیا ہے؟ گرنا ہے، یہ لغوی معنیٰ۔ اب وہ مناسبت بھی ذکر کر رہے ہیں تو واجب کو بھی واجب اس لیے کہتے ہیں بھئی کہ یہ بھی بندے پر بغیر اختیار کے گر جاتا ہے، اس پر لازم ہو جاتا ہے، اس پر لاگو ہو جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ واجب کو بھی۔ تو کہتے ہیں "والوجوبُ ھو السّقوطُ"، وجوب جو ہے وہ سقوط ہے، گرنا یعنی اس کا معنیٰ ہے، "یعنی ما يسقط على العبد"، یعنی وہ جو گر جائے علی العبد بندے پر، "بلا اختيار منه"، بغیر اس کے اختیار کے، جی یعنی اس پر لازم ہو جائے، اس پر لاگو ہو جائے۔ وقيل بعضوں نے کہا، "هو من الوجبة"، "وجبة" بالسکون الجیم بھئی، بعضوں نے کہا یہ "وجبہ" سے ہے وجبہ، وجوب کس سے ہے؟ بھئی ایک قول تو ذکر کر دیا یہ سقوط سے ہے، سقوط کا معنیٰ گرنا اور بعضوں نے کہا یہ وجبہ سے ہے، "وهو الاضطراب"، اور وجبہ کسے کہتے ہیں؟ اضطراب، مضطرب ہونا، بھئی متردد ہونا۔ جی، سُمِّي الواجبُ بذلك مناسبت ذکر کر رہے ہیں، "سُمِّي الواجبُ بذلك"، واجب کو موسوم کیا گیا واجب کے نام کے ساتھ، "لكونه مضطرباً بين الفرض والنفل"، اس لیے کہ یہ بھی متردد ہے فرض اور نفل کے درمیان بھئی۔ یہ بھی مضطرب ہے، متردد ہے کس کے درمیان؟ فرض اور نفل کے درمیان، پوری طرح فرض بھی نہیں، پوری طرح نفل بھی نہیں، دیکھو کیسے بھئی؟ کہتے ہیں "فصار فرضاً في حق العمل"، بھئی یاد رکھو! واجب پر عمل ضروری ہے لیکن اس کا اعتقاد ضروری نہیں ہے۔ تو یہ فرض کی طرح ہوا بایں اعتبار کہ جیسے فرض پر عمل ضروری ہوتا ہے اس پر بھی عمل ضروری ہے اور یہ نفل کی طرح ہے کہ جیسے جی جیسے اس کا اعتقاد نہیں ہوتا اس کا بھی اعتقاد نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں "فصار فرضاً في حق العمل"، فرض یہ فرض بن گیا ہے عمل کے حق میں یعنی عمل کے اعتبار سے، "حتى لا يجوز تركه"، یہاں تک کہ اس کا ترک کرنا جائز نہیں ہے، "ونفلاً"، اور یہ نفل ہو گیا ہے، "في حق الاعتقاد"، اعتقاد کے حق میں، "فلا يلزمنا الاعتقاد به جزماً"، پس لازم نہیں ہے ہمارے اوپر اعتقاد رکھنا اس پر جزماً یعنی قطعی طور پر، یقینی طور پر، یقینی طور پر اس پر کا اعتقاد رکھنا ضروری نہیں۔ وفی الشّرعِ شرع وفی الشرع اور شریعت میں کسے کہتے ہیں؟ "هو ما ثبت بدليل"، وہ حکم ہے جو ثابت ہو دلیل ایسی دلیل کے ساتھ، "فيه شبهة"، جس کے اندر کیا ہو؟ شبہ ہو، "کالآيۃ المؤولۃ والصحیح من الآحاد"۔ دیکھا! "وفی الشّرعِ ھو ما ثبت"، ثبت کے اوپر کیا لکھا ہے بھئی؟ "لزومہ"، جس کا لزوم ثابت ہو ایسی دلیل کے ساتھ جس میں شبہ ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ واجب بھی لازم ہوتا ہے بھئی، ثبوت تو آگے اس کا بھی آئے گا بھئی، نفل کا بھی آ جائے گا، سنت کا بھی آئے گا ثبوت، لیکن اس کا ثبوت کس طریقے پر آئے گا؟ لزوم کے طریقے پر کہ اس پر عمل کرنا کیا ہوگا؟ لازم ہوگا، جی۔ تو لزوم جب کہا تو اس کے ذریعے سنت اور نفل خارج ہو گئے۔ "کالآيۃ المؤولۃ"، جیسے اس کے آیتِ مؤولہ ہوتی ہے وہ آیت جس میں تاویل کی جائے بھئی۔ بھئی دیکھو جیسے قرآن میں آیا تھا کیا آیت تھی بھلا؟ "وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ"، یہاں قروء سے قروء سے ہم نے حیض والا معنیٰ کیا تھا قروء کا اور امام شافعی رحمہ اللہ نے طہر والا معنیٰ کیا تھا، اب دیکھو اس آیتِ قروء کا لفظ مشترک تھا تو ایک معنیٰ کو ہم نے ترجیح دے دی تو یہ آیت کیا ہوئی؟ مؤول ہوئی، کیا ہوئی؟ مؤول ہوئی، اب اس پر عمل تو واجب ہے لیکن اعتقاد ضروری نہیں، اعتقاد ضروری یہ اعتقاد رکھنا ضروری نہیں کہ اس کا ماننا حیض ہی ہے، ہو سکتا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کی بات صحیح ہو اور اس کا کیا معنیٰ ہو؟ طہر، تو لہٰذا اس پر عمل تو واجب ہوا لیکن اعتقاد واجب نہیں ہوا، تو واجب میں بھی اسی طرح عمل تو لازم ہوتا ہے اعتقاد واجب نہیں ہوتا۔ اسی طرح "والصحیح من الآحاد"، اور جیسے صحیح ہو بھئی آحاد میں سے یعنی صحیح خبرِ واحد ہو، بھئی صحیح خبرِ واحد ہو تو آپ نے پڑھا ہے کہ اس پر عمل واجب ہے لیکن اعتقاد واجب نہیں۔ "وحکمُہٗ ما ذکرنا"، اور اس کا حکم وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا۔ اس کا حکم کیا ہے؟ وہی حکم ہے بھئی یعنی اس پر عمل تو واجب ہے لیکن اعتقاد واجب عمل لازم ہے اعتقاد لازم نہیں۔ والسنۃُ، اب سنت کے بارے میں بتلا رہے ہیں۔ والسنۃُ عبارۃٌ عن الطریقۃِ المسلوکۃِ المرضیۃِ فی بابِ الدّینِ، سنت یاد رکھو لغت میں کہتے ہیں راستے کو، طریقے کو بھئی، کس کو کہتے ہیں؟ طریقہ، راستہ بھئی، جی اور شریعت میں کسے کہتے ہیں؟ وہ بتلا رہے ہیں، سنت عبارت ہے عن الطریقۃِ اس راستے سے، المسلوکۃِ جس پر چلا جائے یعنی اس پر عمل کیا جائے، المرضیۃِ جو پسندیدہ ہو، فی بابِ الدّینِ دین کے باب میں بھئی، جو طریقہ کیا ہو؟ اس پر چلا جائے یعنی اس پر عمل کیا جائے اور پسندیدہ ہو دین کے باب میں، سواءً کانت من رسولِ اللہِ صلّی اللہُ علیہِ وسلّمَ برابر ہے چاہے اس طریقہ کس سے ثابت ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو، او من الصّحابۃِ یا صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ثابت ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جی تو سنت کی کیا تعریف کی بھئی؟ والسنۃ سنت کا میں نے کیا لغوی معنیٰ بتلایا؟ طریقہ اور راستے کو کہتے ہیں چاہے خیر کا راستہ ہو، چاہے برائی کا راستہ ہو، دونوں کو سنت کہا جاتا ہے لیکن بعد میں خاص ہوا وہ پسندیدہ طریقہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یا صحابہ سے ثابت ہو، تو خیر کے راستے کے لیے آیا۔ تو دیکھا مناسبت بھی آگئی اس لغوی اور شرعی معنیٰ کے اندر، وہ بھی راستہ ہے یہ بھی کیا ہے؟ راستہ ہے۔ اور نیز دیکھیے بھئی! "المرضیۃ" کے اوپر "فی باب الدین" کے اوپر کیا لکھا ہے؟ "لا علی وجہ الفرض والواجب" بھئی، یہ قید بھی ضرور بڑھانا بھئی۔ کہ وہ طریقہ جس پر چلا جائے اور پسندیدہ ہو لیکن فرض اور واجب کے طریقے پر نہ ہو بھئی۔ فرض اور واجب کے طریقے پر اس لیے کہ واجب بھی تو وہ طریقہ ہے جو پسندیدہ ہے اور ثابت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے، واجب بھی تو اسی طرح ہے جو راستہ ہے جس پر عمل بھی کیا جاتا ہے اور حضور علیہ السلام سے بھی ثابت ہے اور صحابہ سے بھی ثابت ہے۔ تو لہٰذا یہ قید خاص لگاؤ بھئی کہ فرض اور واجب کے طریقے پر نہ ہو، اب واجب اور فرض نکل گئے تو کیا رہ گئے؟ سنتیں رہ گئیں۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ثابت ہو وہ تو ٹھیک ہے، یہ صحابہ سے جو ثابت ہو اس کو آپ نے کیسے سنت میں داخل فرما دیا؟ کہتے ہیں بھئی حدیث ذکر کر رہے ہیں، قال علیہ السلام، نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں: علیکم بسنتی، لازم پکڑو تم میری سنت کو، وسنۃ الخلفاءِ من بعدي، اور خلفائے راشدین کی سنت کو میرے بعد، عضّوا عليها بالنّواجذِ، عزّ یعزّ کے معنیٰ ہوتے ہیں دانتوں سے کسی چیز کو دبانا، کاٹنا بھئی، عضّوا دانتوں سے پکڑو علیہا اس کو بالـ عضّوا پکڑو علیہا اس پر بالنّواجذِ، نواجذ یہ ڈاڑھ کے دانت، ڈاڑھ کے دانتوں کے ساتھ اس کو پکڑو، "عضّوا عليها بالنّواجذِ"، ڈاڑھ کے دانتوں سے اس کو پکڑو یعنی دانتوں سے اس کو مضبوطی سے پکڑ لو، مراد ہے یعنی مضبوطی سے پکڑ لو کہ یہ کنایہ ہے، کہا جاتا ہے دانتوں ڈاڑھ سے کسی چیز کو پکڑنا یہ کنایہ ہے کس چیز سے؟ مضبوطی سے پکڑنا یعنی میرے اور خلفا حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں میرے اور خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لینا یعنی اس پر جمے رہنا، اس کو چھوڑنا مت بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ کنایہ ہے قوت کے ساتھ پکڑنے سے کہ اسے قوت کے ساتھ اور مضبوطی سے پکڑو بھئی۔ یہ سنت کی تعریف، وحکمُہا اور سنت کا حکم یہ ہے کہ ان یطالب المرءُ باحیائِہا کہ مطالبہ کیا جائے گا آدمی سے باحیائِہا ای باحیاء السنۃ، سنت کے زندہ کرنے کا، آدمی سے کیا مطالبہ کیا جائے گا؟ اس سنت کے زندہ کرنے کا مطالبہ یعنی اس سنت کو زندہ رکھو یعنی اس پر عمل کرتے رہو، کیا کرتے رہو؟ عمل کرتے رہو۔ و یستحقّ اللّائمۃَ بترکھا، اور وہ مستحقِ ملامت ہوگا اس کے ترک کرنے پر۔ اس کے ترک کرنے پر کیا ہوگا؟ مستحقِ ملامت ہوگا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ملامت بھی ہوگی اور حرمانِ شفاعت بھی ہوگا بھئی۔ جو سنت پر عمل نہیں کرتا آخرت میں اس کو ملا یہ واجب سزا تو نہیں ہوگی اس پر بھئی، فرض تو ہے نہیں، واجب تو ہے نہیں، ہاں آخرت میں ملامت ہوگی کہ تو نے پیغمبر کے راستے کو پوری طرح اس پر عمل نہیں کیا، ان کی سنتوں کو ترک کیا بھئی، اس لیے کہ دین تو نام ہی کس کا ہے؟ سنتوں کا ہے، ملامت کیا جائے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو شفاعت ہے اس سے محروم رہے گا، حضور اس کی سفارش نہیں فرمائیں گے بھئی، سنتوں کو زندہ کرو بھئی، ان پر عمل کرو بھئی۔ اسی لیے میں اپ سے کہتا ہوں بھئی کہ یہ جب چھینکو تو الحمد للہ اونچی آواز سے کہو اور باقی ساتھی کیا کریں اس کا؟ جواب دیں۔ یہ سنت ہے بھئی بالکل۔ یہ تو تقریباً متروک ہی ہو چکی ہے قریب قریب بھئی۔ اپ دیکھتے ہیں بھئی حتیٰ کہ علماء کی مجلس میں بھی اپ کو خال خال ہی کہیں ایسا ملے کہ وہ اس سنت پر عمل کرتے ہوں۔ سمجھ میں آیا؟ تو حدیث میں آیا بھئی کہ چھینکنے والے کو کیا کہنا چاہیے؟ الحمد للہ کہنا چاہیے اور سننے والے کو یرحمک اللہ کہنا چاہیے اور پھر چھینکنے والے کو جواب میں کیا کہنا چاہیے؟ یہدیکم اللہ و یصلح بالکم یا یصلح حالکم، دو روایتیں آتی ہیں بھئی۔ تو اس پر عمل کرو بھئی، عمل کرو بھئی۔ یہاں کرو گے تو مشق ہو گی بھئی، عادت ہو جائے گی، پختہ عادت ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں مستحقِ ملامت ہو گا اس کے ترک کرنے پر الا ان یترکہا بعذر مگر یہ کہ اس کو ترک کر دے کسی عذر کی وجہ سے۔ کوئی عذر پیش آ لے، اس کی وجہ سے ترک کر دے تو پھر اس پر ملامت نہیں ہے بھئی۔ و النفل، جی اب نفل کی بات بھئی۔ دیکھا، فرض، واجب، سنت، تینوں کا کے لغوی معنی بھی آ گئے، شرعی معنی بھی آ گئے اور حکم بھی آ گیا۔ اب نفل رہ گیا۔ و النفل عبارۃ عن الزِیادۃِ، اور نفل عبارت ہے زیادتی سے، زائد چیز کو کہتے ہیں، زائد کو۔ و الغنیمۃ تسمٰی نفلاً لانہا زیادۃٌ علٰی ما ہو المقصود من الجہادِ، اور غنیمت کو بھی نفل کہتے ہیں اس لیے کہ یہ زائد ہے اس چیز پر جو مقصود ہوتی ہے جہاد سے۔ جہاد سے، یا اس "من الجہاد" کو بیان بنا لو۔ جہاد کو بیان بنا لو، یعنی کہ جو جہاد ہے۔ مقصود تو ہے جہاد بھئی، مقصود کیا ہے؟ جہاد۔ یعنی اعلائے کلمۃ اللہ ہے، جہاد سے مقصد کیا ہوتا ہے؟ اعلائے کلمۃ اللہ ہوتا ہے۔ اللہ کے کلمے کو بلند کیا جائے، تو جو غنیمت مال حاصل ہوتا ہے وہ زائد ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے مقصد سے؟ زائد ہے۔ اسی لیے اس کو بھی نفل کہتے ہیں، غنیمت کو بھی بھئی۔ تو کہتے ہیں و الغنیمۃ تسمٰی نفلاً، غنیمت کو بھی نفل کہتے ہیں لانہا زیادۃٌ اس لیے کہ یہ زائد ہوتی ہے علٰی ما ہو المقصودُ جو کیا ہوتی ہے؟ مقصود ہوتی ہے من الجہادِ، جہاد سے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ تو اعلائے کلمۃ اللہ ہو جائے دنیا میں اور آخرت میں ثواب مل جائے۔ آخرت میں کیا مل جائے؟ ثواب مل جائے۔ تو یہ غنیمت اس سے زائد ہے مقصد سے۔ و فی الشرعِ، اور شریعت کے اندر عبارۃٌ یہ عبارت ہے عمّا، اس عبادت سے ہو زیادۃٌ علَی الفرائضِ و الواجباتِ، جو زائد ہوتی ہے فرائض اور واجبات سے۔ یعنی فرض اور واجب نہیں ہوتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ و حکمہُ، حکم اس کا یہ ہے ان یُثاب المرءُ علٰی فعلِہِ و لا یُعاقبُ بِنَرکِہِ، کہ ثواب دیا جاتا ہے آدمی کو ان کے کرنے پر و لا یُعاقبُ بِنَرکِہِ اور سزا نہیں دی جاتی اس کے ترک کرنے پر۔ کر لے تو ثواب، نہ کرے تو کوئی گناہ یا سزا نہیں، نفل زائد بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ و النفل و التطوعُ نظیرانِ، اور نفل اور تطوع اس کی نظیریں ہیں۔ نفل اور تطوع کیا ہیں اس کی؟ بھئی یاد رکھو، ایک لفظ نفل اوپر آیا تھا، اس سے وہ نفل نہیں مراد جو اپ نفل نماز پڑھتے ہیں۔ مطلق زائد، جو بھی چیز فرض اور واجب سے زائد ہے، چاہے وہ نفل نماز کی صورت میں ہے، چاہے وہ نفل صدقہ و خیرات کی صورت میں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور جو نیکی کے کام ہیں وہ سارے جو فرائض اور واجبات سے زائد ہیں وہ سب نفل میں داخل ہیں بھئی۔ اور یہاں جو آیا و النفل و التطوعُ نظیرانِ، یہاں نفل سے مراد نفلی نماز لے لیں۔ نفل سے کیا مراد لے لیں؟ تو کہتے ہیں وہ جو نفل ہے یعنی وہ جو نفلی نماز ہے اور تطوع، تطوع کہتے ہیں نیکی کے کام جو بطورِ اطاعت کے کیے جائیں۔ نیکی کے وہ کام جو بطورِ اطاعت کے کیے جائیں۔ بطورِ اطاعت کے، بطورِ عبادت کے کیے جائیں بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ نیکی کے وہ کام جو بطورِ اطاعت کے کیے جائیں، بطورِ عبادت کے کیے جائیں۔ تو کہتے ہیں نفل اور نیکی کے جو دوسرے کام ہیں جو بطورِ عبادت اطاعت کے کیے جاتے ہیں، نظیرانِ، یہ دونوں نظیریں ہیں نفل کی۔ کس کی نظیریں ہیں؟ نفل کی نظیریں ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، تو مولانا خلاصۂ بحث یہ ہوا کہ اس باب کے اندر بھئی مصنف نے اپ کو فرض، واجب، سنت اور نفل کے بارے میں بتلایا بھئی۔ ہر ایک کے لغوی معنی بھی بتائے، اصطلاحی اور شرعی معنی بھی بتلائے، پھر ان دونوں معانی کے درمیان مناسبت بھی ذکر کی اور ساتھ ساتھ حکم بھی ذکر کر دیا۔ تو یعنی ہر چیز، فرض، واجب، سنت، نفل، ہر ایک کے حوالے سے چار چار چیزیں مصنف نے ذکر کیں۔ ایک لغوی معنی ذکر کیا، ایک اصطلاحی معنی یا یوں کہیں شرعی معنی اس کا ذکر کیا، تیسری چیز ان دونوں معانی کے اندر، لغوی اور شرعی معنی کے اندر مناسبت کو ذکر کیا، اور چوتھی چیز اس کا حکم ذکر کیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو سب سے پہلے انہوں نے فرض کے بارے میں اپ کو بتلایا بھئی کہ فرض لغت کے اندر کس کو کہتے ہیں؟ اندازہ کرنا اور مقرر کرنا، دو معنی میں نے ذکر کیے بھئی۔ فرض کا معنی، فرض لغت میں فرض کا معنی آتا ہے اندازہ کرنا اور مقرر کرنا بھئی۔ اور اصطلاحِ شریعت کے اندر فرض کس کو کہتے ہیں؟ وہ حکم جو شریعت کے وہ حکم جو ثابت ہوں مولانا دلیلِ قطعی کے ساتھ، جس میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہ ہو مولانا، جس میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہ ہو۔ تو دیکھیے، لغوی معنی تھا اندازہ کرنا، اور یہ جو شریعت کی فرض کردہ چیزیں ہیں، یہ بھی کیا ہیں؟ اس کے اندازہ کی ہوئی چیزیں ہیں جن میں کسی قسم کی کمی بیشی کی گنجائش، کیونکہ یہ دلیلِ قطعی سے ثابت ہیں مولانا قطعی طور پر، ان میں کسی قسم کی کمی بیشی کی گنجائش، تو یہ مناسبت آ گئی اصطلاحی معنی اور لغوی معنی کے درمیان بھئی۔ لغوی معنی کیا تھا؟ اندازہ کرنا، اور اصطلاحی معنی کیا تھا؟ جو قطعی دلیل سے ثابت ہو، اور تو قطعی دلیل سے ثابت ہو، اور مناسبت کیا آ گئی بھئی؟ کہ بھئی جیسے یہ شریعت کی چیزیں ہیں، اس کے اندازہ کی ہوئی چیزیں ہیں، جن میں کسی قسم کی کمی بیشی کا امکان نہیں، کیونکہ یہ کس کے ذریعے ثابت ہو چکیں؟ دلیلِ، تو یہ بھی شریعت کی اندازہ کی ہوئی چیزیں ہیں۔ تو دیکھو، لغوی معنی آ گیا یا نہیں یہاں پر بھئی؟ لغت میں کیا تھا؟ اندازہ کرنا، اور یہاں بھی کون سا معنی ہم لے آئے؟ اندازہ، کہ شریعت کی اندازہ کردہ چیزیں ہیں بھئی۔ یہ مناسبت آ گئی۔ یا دوسرا معنی کر لو مقرر کرنا۔ فرض کا کیا معنی؟ مقرر کرنا، تو یہ فرض بھی کیا ہے؟ شریعت کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے، جس میں کسی قسم کی کمی بیشی کی گنجائش، تو دیکھو یہاں بھی مقرر کرنے والا معنی آ گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ مناسبت ہو گئی بھئی لغوی معنی کے ساتھ، اصطلاحی معنی کی بھئی۔ اچھا، دوسرا معنی بھئی، دوسری اس کے بعد واجب کے بارے میں بتلایا تھا بھئی۔ واجب کے دو معنی ذکر کیے تھے بھئی۔ کتنے معنی؟ دو معنی لغوی ذکر کیے تھے کہ بعضوں نے کہا واجب وجوب سے ہے، وجوب کا معنی ہے گرنا، اور بعضوں نے کہا واجب وجبۃٌ سے ہے جس کے معنی ہیں اضطراب کے مولانا، اضطراب کے۔ یہ لغوی معنی ذکر کیا، اور اصطلاحی معنی کس کا اس کا کیا کیا تھا؟ کہ واجب وہ ہے جس کا لزوم ثابت ہوا ہو ایسی دلیل کے ذریعے جس میں کیا ہو؟ شبہ۔ بھئی فرض تو ایسی دلیل سے ثابت ہوا جس میں کوئی شبہ نہیں، قطعی طور پر بھئی ثابت ہے۔ جبکہ واجب کے اندر کیا ہوتا ہے؟ وہ ثابت تو دلیل، اس کا لزوم تو دلیل سے ثابت ہے لیکن اس دلیل میں کیا ہے؟ اس دلیل کے اندر شبہ ہے مولانا۔ اور فرض کا کیا حکم کیا بتلایا تھا؟ کہ فرض کے اندر عمل بھی واجب ہے، یاد رکھو، اور اس کا اعتقاد بھی، عمل بھی ضروری، اعتقاد بھی ضروری۔ اگر جو عمل نہیں کرے گا اسے فاسق کہا جائے گا، عمل نہیں کرتا اعتقاد اگرچہ ہے، تو اس کو ہم کیا کہیں گے؟ فاسق۔ اور جو شخص اعتقاد ہی نہیں رکھتا سرے سے کہ ایسا ہے ہی نہیں، مثلاً پانچ نمازیں فرض ہیں ہی نہیں، اس کو ہم کیا کہیں گے؟ کافر کہیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ واجب میں اس کے برعکس مولانا، واجب کے اندر اعتقاد تو لازم نہیں ہے، البتہ عمل لازم ہے بھئی۔ اعتقاد تو لازم نہیں لیکن عمل لازم ہے، عمل لازم ہے۔ تو یہ جو واجب ہے، یہ نفل کی طرح ہوا بھئی۔ جیسے نفل کے اندر اعتقاد لازم نہیں، اسی طرح اس کے اندر بھی اعتقاد لازم نہیں۔ اور یہ فرض کی طرح ہوا بعینہٖ اعتبار کہ جیسے فرض میں عمل لازم ہوتا ہے، واجب کے اندر بھی عمل، تو واجب کی مشابہت نفل کے ساتھ بھی ہے اور فرض کے ساتھ بھی ہے۔ فرض کے ساتھ مشابہت کیا ہے؟ عمل کے اندر بھئی، اور نفل کے ساتھ مشابہت کس چیز میں ہے؟ اعتقاد کے اندر بھئی، اعتقاد کے اندر۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تھا واجب کا حکم مولانا۔ اب بھئی، دیکھو واجب کا لغوی معنی کیا ذکر کیا تھا پہلا؟ وجوب، وجوب کا کیا معنی تھا؟ سقوط، گرنا۔ تو واجب میں بھی اپ بتائیے بھئی، عمل کیا ہوتا ہے؟ لازم، عمل کیا ہوتا ہے؟ لازم۔ تو گویا مناسبت اب یہ آ گئی مولانا کہ اس کا عمل انسان پر گرا ہے اس طور پر کہ اس پر لازم ہو گیا ہے۔ اس پر ہم کا عمل جو ہے انسان پر لاگو ہوا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس میں بھی سقوط کا معنی آ گیا کہ واجب کا کیا، واجب کس سے تھا؟ وجوب، اور وجوب کا کیا معنی؟ گرنا، تو یہاں پر بھی انسان پر کیا چیز گری؟ کیا چیز لازم ہوئی؟ عمل بھئی، عمل کیا ہوا؟ لازم ہوا، اس پر لاگو ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ وجوب کے ساتھ معنی کے ساتھ مناسبت آ گئی، اور دوسرا معنی کیا ذکر کیا تھا؟ وجبۃٌ سے ہے جس کے معنی ہیں اضطراب، اس کے ساتھ بھی مناسبت ہے مولانا۔ وجبۃٌ کا معنی کیا ہے؟ اضطراب، اسی طرح واجب بھی مضطرب ہے بین النفل و الفرضِ، نفل اور فرض کے درمیان، نہ پوری طرح فرض ہے، نہ پوری طرح نفل ہے۔ تو دونوں معانی کے ساتھ کیا آ گئی؟ مناسبت آ گئی۔ پھر اس کی دو مثالیں بھی ذکر کر دی تھیں بھئی واجب کی۔ ایک آیتِ مؤولہ، پہلی کیا ذکر کی؟ وہ آیت جس کے اندر تاویل کی گئی ہو مولانا، تاویل کی گئی ہو۔ جیسے کون سی آیت میں نے ذکر کی بطورِ مثال کے؟ جیسے و ثلاثۃ قروء والی آیت بھئی۔ قزء کا لفظ مشترک ہے بین الحیض و الطہرِ، دونوں پر بولا جاتا ہے۔ لیکن یہ آیت میں کیا مراد ہے اس سے؟ احناف نے کیا مراد لیا اس سے؟ حیض مراد لیا، اور شوافع نے کیا مراد لیا؟ طہر مراد لیا۔ تو یہ جب مشترک کے کسی ایک معنی کو ترجیح دے دی جائے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ مؤول، تو یہ آیت بھی کیا ہو گئی؟ مؤول ہو گئی۔ اور مؤول یاد رکھیں بھئی اپ نے حکم اس کا پڑھا ہے کہ وہ کیا ہے؟ ظنی ہے، قطعی نہیں۔ تو یہ بھی واجب کی طرح یہاں پر بھی عمل لازم ہے، اعتقاد لازم نہیں۔ بھئی اب اس پر عمل لازم ہے، اسی طرح عمل کیا جائے گا کہ حیض کا ہی عدت کا حساب کس کے ذریعے لگایا جائے گا؟ حیض کے ذریعے، عمل تو ضروری ہے، البتہ اعتقاد ضروری نہیں کہ قروء سے یہاں مراد حیض ہی ہے۔ ہو سکتا ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کا قول صحیح ہو اور اس سے کیا مراد ہو؟ یہ تو اللہ ہی جانتے ہیں کہ حقیقت کے یہاں کیا مراد ہے قروء سے، حقیقتاً طہر مراد ہے یا حیض۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ آیتِ مؤولہ کے اندر ایک معنی کو ترجیح دے دی جاتی ہے، تو اس معنی پر عمل تو واجب ہوتا ہے، لیکن اس معنی کا اعتقاد رکھنا کہ ہے ہی اسی طرح، یہ ضروری نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح خبرِ آحاد میں سے جو صحیح ہو، وہ بھی واجب کی طرح ہے بھئی۔ اپ نے پڑھا خبرِ واحد کے اندر شبہ ہوتا ہے، لیکن جب وہ ثابت ہو جائے بھئی صحیح بھئی، اپنی شرائط کے ساتھ تو اس پر بھی کیا ہو جاتا ہے؟ عمل واجب ہو جاتا ہے، اگرچہ اعتقاد واجب نہیں ہوتا بھئی، اعتقاد واجب نہیں۔ اس کے بعد بھئی سنت کے بارے میں اپ کو بتلایا تھا۔ میں نے بتلایا تھا بھئی سنت لغت کے اندر راستے کو کہتے ہیں۔ کس کو کہتے ہیں؟ راستے کو کہتے ہیں، لیکن یہ راستہ نہیں جو اپ بظاہر میں دیکھتے ہیں مولانا، سڑک ہے یا گلی ہے، یہ راستہ، یہ والا راستہ نہیں مراد، راہِ عمل مراد ہے، عملی راستہ مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ عملی راستہ، اس کو سنت کہا جاتا ہے۔ مثلاً جیسے بھئی، تو جیسے ایک پیر بھئی، اپنے مریدین کی رہنمائی کرتا ہے کہ یہ یہ کام کرو، یہ یہ کام کرو، تو دیکھو یہ ان کو راہِ عمل بتلا رہا ہے۔ کیا بتلا رہا ہے؟ راہِ عمل، یہ والا جو عملی راستہ ہے، عمل سے جو متعلق ہے، یہ ایک راستہ کیا کہلاتا ہے؟ سنت بھئی، لغت میں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو سنت لغت کے اندر سنت کس کو کہتے ہیں؟ راستے کو، اور پھر یہ بھی یاد رکھنا کہ یہ خیر کے اندر بھی استعمال، راستہ وہ عملی راستہ چاہے خیر والا ہو، چاہے شر والا، دونوں کو سنت کہا جاتا ہے۔ دونوں کو کیا کہا جاتا ہے؟ سنت بھئی۔ حدیث کے اندر اپ نے پڑھا ہو گا بھئی: من سن سنتۃ حسنۃ فلہ اج رہا و اجر من عمل بہا ما دامت السماوات و الارض، جس نے کسی اچھے کام کو جاری کیا، من سن سنتۃ حسنۃ، جس نے کسی اچھی سنت کو جاری کیا، تو اس کے لیے اس کا اجر ہے اور جو کوئی عمل کرتا ہے اس کا اجر بھی اسے ملے گا قیامت تک بھئی۔ اور اسی طرح بھئی، آگے آتا ہے: و من سن سنتۃ سیئۃ فلہ اج رہا و اجر من عمل بہا ما دامت السماوات و الارض، اس جس نے کوئی برے کام کو جاری کیا، بری سنت کو جاری کیا، تو اسی کو اس کا بدلہ ملے گا اور جو لوگ اس پر بعد میں عمل کریں گے قیامت تک ان سب کا بدلہ بھی، ان سب کا گناہ بھی اس کو ملے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو سنت کا لفظ دیکھو استعمال ہوا خیر کے لیے بھی حدیث میں اور شر کے لیے بھی۔ تو معلوم ہوا سنت راہِ عمل کو کہتے ہیں، عملی راستے کو کہتے ہیں، جس کا تعلق عمل سے ہوتا ہے، چاہے وہ خیر والا ہو، چاہے وہ شر والا، لغت کے اندر بھئی۔ لیکن پھر اصطلاحِ شریعت کے اندر بھئی سنت سے مراد حضور علیہ السلام کا بتلایا ہوا اور خلفاء کا بتلایا ہوا، صحابہ کا بتلایا ہوا وہ راستہ ہے، وہ راہِ عمل ہے جو کس نے بتلایا ہمیں؟ حضور علیہ السلام نے اور صحابۂ کرام نے بھئی۔ تو یہ مناسبت آ گئی، دیکھا یہ بھی راستہ عملی راستہ ہوا جیسے وہ عملی راستہ تھا لغت میں بھئی۔ جی، اور حکم اس کا کیا تھا بھئی؟ کہ اس کے اندر آدمی سے مطالبہ کیا جائے گا عمل کرنے کا، کہا جائے گا کہ اسے کیا کرنا چاہیے؟ سنت پر عمل کرنا چاہیے، عمل کرنا چاہیے، اور جو کوئی سنت پر عمل نہیں کرتا تو وہ ملامت کا مستحق ہو گا اور آخرت میں حضور علیہ السلام کی شفاعت سے محروم رہے گا بھئی۔ اسے تو جو سنت پر عمل نہیں کرتا بھئی، دین تو سارا دراصل سنتوں ہی کا نام ہے، اسے ملامت بھی کی جائے گی کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر تم عمل نہیں کرتے بھئی، اور آخرت میں اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب نہیں ہو گی بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت نہیں فرمائیں گے کہ اس نے میری سنتوں پر عمل نہیں کیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ اور اس کے بعد نفل کے بارے میں بتلایا تھا بھئی۔ نفل کس کو کہتے ہیں؟ لغت کے اندر زیادتی کو کہتے ہیں۔ زائد چیز کو کیا کہا جاتا ہے؟ نفل۔ اسی وجہ سے جہاد کے اندر جو مالِ غنیمت حاصل ہو اسے بھی نفل کہا جاتا ہے، اس لیے کہ کیونکہ وہ مقصود سے زائد ہوتا ہے۔ مقصد تو تھا مولانا جہاد، اعلائے کلمۃ اللہ بھئی، یا آخرت کا ثواب بھئی، اور یہ اس سے زائد چیز ہوئی جو مل جاتی ہے مجاہدین کو بھئی۔ سمجھ میں آئی؟ تو یہ نفل کے لغوی معنی ہیں زیادتی کے، اور شریعت کے اندر بھی وہ عبادت ہے جو فرائض اور واجبات سے زائد ہیں مولانا، وہ کیا کہلاتی ہے؟ نفل کہلاتی ہے بھئی۔ اور حکم اس کا یہ ہے اپ نے پڑھا کہ اس کے کرنے پر تو ثواب ملتا ہے لیکن اس کے چھوڑنے پر سزا نہیں ملتی، سزا نہیں ملتی۔ چلیے، بس مولانا، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔