والقسم الثاني من الرواة هم المعروفون بالحفظ والعدالة دون الاجتهاد والفتوى كأبي هريرة وأنس بن مالك رضي الله تعالى عنهما. فإذا صحت روایت مثليهما عندك، فإن وافق الخبر القياس فلا خفاء في لزوم العمل به، وإن خالفه كان العمل بالقياس أولى. أچھا بھئی! گزشتہ سبق میں مسئلہ یہ ذکر ہو رہا تھا کہ اگر کبھی تعارض آ جائے حديث مرفوع کے اندر اور قياس کے اندر، تو پھر کس پر عمل کیا جائے گا؟ صاحب کتاب نے آپ کو بتلایا کہ حديث مرفوع کے راوی صحابی کو دیکھ لو۔ حدیث کے روایت کرنے والے جو صحابہ ہیں وہ دو قسم پر ہیں: کچھ فقہاء ہیں اور مجتہدین ہیں، اور کچھ غیر مجتہدین ہیں۔ اگر مجتہد صحابی کی روایت ہو اور وہ قياس کے خلاف آ جائے، تو پھر عمل کس پر کیا جائے گا؟ اس حديث مرفوع پر عمل کیا جائے گا۔ اور پھر اس کی کئی مثالیں مصنف نے ذکر کیں۔ سب سے پہلے وہ روایت کی حدیث اعرابی، کہ جس کی آنکھ میں کمزوری تھی مسئلہ قہقہہ کے اندر۔ وہ روایت کی امام محمد نے اور اس کی وجہ سے قياس کو ترک کر دیا۔ حدیث اعرابی کیا تھی بھئی؟ کہ ایک صحابی مسجد میں تشریف لائے اور نظر کمزور تھی، گڑھے کے اندر گر گئے۔ پچھلی صفوں میں کچھ صحابہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے بعد فرمایا: "من ضحك منكم قهقهة فليعد الوضوء والصلاة جميعا"۔ جو تم میں سے قہقہہ لگا کر ہنسا ہے، اسے چاہیے نماز اور وضو دونوں لوٹا لے۔ تو یہاں پر قہقہے کی وجہ سے وضو کے ٹوٹنے کا حکم لگایا گیا حدیث کے اندر۔ وضو کا ٹوٹنا یہ خلاف القياس ہے، اس لیے کہ وضو خروج نجاست سے ٹوٹتا ہے اور قہقہے میں کوئی خروج نجاست نہیں۔ لیکن یہ حدیث چونکہ ایک مجتہد صحابی حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کی ہے، لہذا امام محمد نے اس روایت پر عمل کیا اور قياس کو ترک کر دیا۔ اس پر پھر میں نے ایک اعتراض و جواب بھی آپ کو لکھوایا کہ صحابہ کیوں ہنسے بھئی؟ وہ تو اللہ کے اتنے برگزیدہ بندے تھے۔ میں نے جواب بتلایا کہ کیونکہ وہ جدید الاسلام تھے، نئے نئے اسلام کے اندر داخل ہوئے تھے اور انہیں نماز وغیرہ کے بارے میں بھی اتنی پوری طرح پتہ نہیں تھا کہ نماز میں قہقہہ نہیں لگانا۔ پھر اس کے بعد دوسرا مسئلہ ذکر کیا بھئی کہ امام محمد رحمہ اللہ نے عورتوں کو مؤخر کرنے والی حدیث، مسئلہ محاذاة میں عورتوں کو مؤخر کرنے والی حدیث روایت کی ہے اور اس کی وجہ سے قياس کو چھوڑ دیا ہے۔ یہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أخروهن حيث أخرهن الله"، کہ عورتوں کو مؤخر کرو کیونکہ اللہ نے بھی ان کو مؤخر فرمایا ہے۔ یعنی عورت کی تخلیق مرد کی تخلیق سے مؤخر ہے، پہلے مرد کو پیدا کیا گیا پھر اس کے بعد عورت کو۔ تو حدیث میں آیا کہ جیسے اللہ نے ان کو مؤخر رکھا ہے، اسی طرح تم بھی نماز میں ان کو مؤخر رکھو۔ چنانچہ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عورت مرد کے ساتھ نماز میں کھڑی ہو جائے اور وہ شرائط پوری ہو جائیں، یعنی عورت مشتہاة بھی ہو، عاقل بھی ہو، درمیان میں کوئی آڑ بھی نہ ہو وغیرہ، امام نے نیت وغیرہ اس کی کی ہو، تو اس صورت میں مرد کی نماز نہیں ہوگی بھئی۔ اس لیے کیونکہ مرد کو کیا حکم دیا گیا ہے؟ "أخروهن"، ان عورتوں کو مؤخر رکھو، اور اس کے ساتھ عورت کھڑی ہوئی تو اس کی نماز نہیں۔ حالانکہ قياس یہ تقاضا کرتا ہے کہ مرد کی نماز باطل نہیں ہونی چاہیے، اس لیے کہ یہاں نماز کے منافی کوئی عمل نہیں پایا گیا۔ لیکن حدیث میں آیا ٹوٹ جائے گی بھئی نماز، نہیں ہوگی۔ تو امام محمد نے حدیث مرفوع تھی اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے، اور وہ مجتہد صحابی ہیں، ان کی حدیث قياس کے مقابلے میں آئی تو ترجیح حدیث کو دی جائے گی، حدیث پر عمل کیا اور قياس کو ترک فرما دیا۔ اس پر پھر میں نے ایک اشکال و جواب بھی آپ کو لکھوایا۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ جب مرد کی نماز ٹوٹ جاتی ہے تو عورت کی نماز بھی ٹوٹنی چاہیے۔ اس لیے کہ جب مرد کو حکم دیا گیا کہ عورتوں کو پیچھے رکھو، تو عورتوں کو بھی ضمناً حکم آ گیا کہ وہ مرد سے پیچھے رہیں، اس کے برابر میں کھڑی نہ ہوں۔ تو جیسے مرد نے خلاف ورزی کی، عورت نے بھی خلاف ورزی کی حدیث کی، اس کی بھی نماز ٹوٹنی چاہیے۔ تو جواب میں نے بتلایا تھا کہ مرد کو صراحتاً حکم ہے، لہذا مرد کے لیے فقہائے کرام نے کیا فرمایا کہ اس کی نماز ہی نہیں ہوگی۔ جبکہ عورت کے لیے صراحتاً نہیں ہے حکم، لہذا وہ صرف گنہگار ہوگی۔ اس کے بعد مولانا حدیث قے کی روایت امام محمد رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ہے اور قياس کو ترک فرما دیا اس حدیث کی وجہ سے۔ حدیث قے کیا ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: "من قاء أو رعاف في صلاته"، جس کو قے آئی یا نکسیر آئی اس کی نماز میں، "فلينصرف وليتوضأ وليبن على صلاته"، اسے چاہیے کہ پھر جائے، لوٹ جائے اور وضو کرے اور بنا کرے اپنی نماز پر جب تک اس نے کوئی کلام نہیں کیا۔ تو اس حدیث کے اندر مولانا قے کے ذریعے وضو کے ٹوٹنے کا ذکر کیا گیا ہے، حالانکہ قياس یہ تقاضا کرتا ہے کہ قے سے وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے، اس لیے کہ قے معدے کے اوپر والے حصے سے آتی ہے جو کہ محل نجاست نہیں۔ تو یہ حدیث قياس کے مخالف تھی، لیکن چونکہ اس حدیث کی راویہ مجتہدہ ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا، اس لیے امام محمد رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ترجیح دی اور قياس کو ترک کر دیا۔ یہ عام شارحین کی تقریر تھی۔ میں نے بتلایا کہ یہ تقریر درست نہیں اس مقام پر مولانا۔ دوسری تقریر میں نے آپ کے سامنے کی کہ اس کے ذریعے کس جانب اشارہ ہے کہ خلاف القياس حدیث کس طرح ہے؟ کہ اس حدیث میں پھر جا کر وضو کر کے آنے کے بعد اسی نماز پر بنا کرنے کا حکم ہے۔ حالانکہ درمیان میں عمل کثیر آیا، اور عمل کثیر کی وجہ سے نماز ٹوٹ جانی چاہیے، اسی پر اب بنا جائز نہیں ہونی چاہیے۔ تو اسی نماز پر بنا کرنے کا حکم یہ خلاف القياس ہے۔ لیکن حدیث میں چونکہ آیا ہے، تو امام محمد نے حدیث کو ترجیح دی اور قياس کو ترک فرمایا، لہذا اسی نماز پر بنا کرنا صحیح ہوا۔ اور پچھلی تقریر کو کیوں رد کیا؟ کیونکہ اس میں تو یہ کہنا لازم آتا ہے کہ قے نجس نہیں، حالانکہ قے بالاتفاق نجس ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قے نجس نہیں، ان کے نزدیک خروج قے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ جواب میں نے بتلایا کہ نہیں، یہ بات درست نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی قے نجس ہے۔ البتہ ان کے نزدیک اس سے وضو نہ ٹوٹنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک وضو مطلقاً خروج نجاست سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ جب خروج نجاست سبیل معتاد سے ہو، یعنی احد السبيلين سے نجاست خارج ہوگی تو وضو ٹوٹے گا ورنہ وضو نہیں ٹوٹے گا۔ باقی بدن سے کہیں سے خروج نجاست ہو تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اسی وجہ سے ان کے نزدیک خون باقی بدن میں سے کہیں سے نکل آئے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، حالانکہ دم بھی ان کے نزدیک نجس ہے جیسے قے ان کے نزدیک نجس ہے۔ اس پر پھر دوسرا اعتراض میں نے ذکر کیا کہ اگر قے نجس ہے تو پھر قلیل اور کثیر کا فرق نہیں ہونا چاہیے، قلیل کی صورت میں بھی کیا حکم لگانا چاہیے کہ وضو ٹوٹ گیا۔ لیکن فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ کثیر ملء الفم ہو تو وضو ٹوٹے گا، قلیل ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ حالانکہ قلیل کی صورت میں بھی تو خروج نجاست پایا گیا۔ جواب میں، میں نے پہلے بتلایا کہ ملء الفم کا معنی سمجھو۔ ملء الفم کون سی قے کو کہتے ہیں؟ جسے انسان روکنے سے اور واپس کرنے سے عاجز ہو۔ یہ معنی نہیں کہ منہ بھر ہو تو پھر وہ ملء الفم کہلائے گی، نہیں۔ وہ قے جسے انسان روکنے سے عاجز آ جائے، نہ روک سکے اسے، وہ کیا کہلائے گی؟ ملء الفم کہلائے گی۔ تو فم جو ہے من وجہ خارج ہے من وجہ داخل ہے۔ تو لہذا وہ قے جو خارج من الفم ہو اس کو تو ہم نے ناقض وضو قرار دیا، لیکن جو خارج الى الفم ہو اسے ناقض وضو قرار نہیں دیا۔ سمجھ میں آیا؟ کہ جو قے قلیل ہے، یعنی ملء الفم نہیں، وہ عدم خارج کے حکم میں ہے اور اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اور وہ قے جو کثیر ہے یعنی ملء الفم ہے، وہ خارج کے حکم میں ہے اور اس سے کیا حکم لگائیں گے کہ وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور پھر حدیث سہو کے اندر حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ذکر ہوئی جس میں سجدہ سہو کا ذکر ہے سلام کے بعد۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: "لكل سهو سجدتان بعد السلام"، ہر سہو کے دو سجدے ہیں سلام کے بعد۔ اور یہ سجدہ سہو کیا ہیں؟ نماز میں غلطی کی تلافی کے لیے کیے جاتے ہیں جو غلطی ہو جائے نماز میں۔ اور غلطی ہوئی ہے نماز میں، تو تلافی بھی کس میں ہونی چاہیے؟ نماز میں، لہذا دو سجدے سلام سے پہلے ہونے چاہیے تھے۔ لیکن حدیث میں کیا ہے؟ سلام کے بعد، تو یہ خلاف القياس ہے۔ لیکن چونکہ یہ حدیث ایک مجتہد صحابی کی ہے، اس کی وجہ سے امام محمد رحمہ اللہ نے قياس کو ترک فرمایا اور حدیث کو ترجیح دی، اس پر عمل فرمایا کہ سلام کے بعد کیے جائیں گے یہ سجدہ سہو۔ جی، اب آگے دیکھیے۔ والقسم الثاني من الرواة هم المعروفون بالحفظ والعدالة دون الاجتهاد والفتوى كأبي هريرة رضي الله تعالى عنه۔ اور دوسری قسم کے راوی وہ ہیں جو مشہور ہوں حفظ و عدالت میں، یعنی حافظے کے اندر اور عادل ہونے کے اندر وہ مشہور ہوں۔ حافظہ بھی ان کا قوی ہو اور کیسے ہیں؟ عادل ہیں۔ دون الاجتهاد والفتوى، نہ کہ اجتہاد اور فتوے میں، مجتہدین یا مفتی نہیں۔ اجتہاد کرنے کی ان میں صلاحیت نہیں۔ وہ ان صحابہ، وہ صحابہ ہوں جیسے کہ "كأبي هريرة"، جیسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ۔ مصنف کیا فرما رہے ہیں بھئی؟ کچھ صحابہ، پہلے تو ان صحابہ کا ذکر تھا جو معروف ہیں علم اور اجتہاد میں۔ اب ان صحابہ کا ذکر کر رہے ہیں کہ اگر روایت کرنے والے ایسے صحابی ہیں جو اجتہاد اور فتوے کی صلاحیت نہیں رکھتے، البتہ حفظ و عدالت میں مشہور ہیں، جیسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ۔ اس عبارت میں مصنف سے پھر تسامح ہوا ہے مولانا۔ کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو غیر مجتہدین صحابہ میں شمار کیا۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ مجتہد صحابی ہیں۔ تمام علماء نے ان کے مجتہد ہونے کی تصریح کی ہے۔ صحابی کے زمانے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ قاضی رہے ہیں۔ صحابہ کے زمانے میں قاضی رہے ہیں اور اس زمانے میں قاضی جو ہے صرف مجتہد ہی ہوا کرتا تھا۔ عام صحابی قاضی نہیں بن سکتا تھا، جو مجتہد ہوتا تھا وہی قاضی بنتا تھا، فیصلے کرنا پڑتے تھے مولانا۔ تو جب یہ قاضی رہے ہیں، یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ کیا تھے؟ مجتہد تھے جب صحابہ کے دور میں قاضی رہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اس امت کے عظیم مجتہد ہیں مولانا، عظیم محدث ہیں مولانا، عظیم محدث۔ سب سے زیادہ روایات حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہیں۔ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے کون ہیں؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ۔ آپ سے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار احادیث روایت کی گئی ہیں۔ ساڑھے پانچ ہزار، اور کسی صحابی سے اتنی زیادہ روایات منقول نہیں۔ اور مصنف نے مسئلہ مصراة کے اندر، بھئی آخری سطر میں دیکھیے۔ آخری سطر میں دیکھ رہے ہیں کتاب کی؟ "وعلى هذا ترك أصحابنا روایت أبي هريرة رضي الله تعالى عنه في مسألة المصراة"۔ مصراة کے مسئلے میں ہمارے فقہاء نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کو ترک فرما دیا۔ آگے مسئلہ ذکر ہوگا، تفصیل سے آئے گا۔ مصنف کیا فرماتے ہیں کہ ہمارے فقہاء نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کو مسئلہ مصراة میں کیا فرما دیا؟ ترک فرما دیا۔ کیوں ترک فرمایا؟ کیونکہ وہ خلاف القياس تھا۔ اور یہ حضرت ابو ہریرہ غیر مجتہد صحابی ہیں، غیر مجتہد صحابی۔ اور غیر مجتہد صحابی کی روایت جب قياس کے خلاف آئے تو کس پر عمل کیا جائے گا مصنف کے نزدیک؟ قياس پر عمل کیا جائے گا۔ پہلے تو بتلایا اگر مجتہد ہو پھر بھی تو کس پر عمل کریں گے؟ حدیث پر۔ اور اگر آگے بتلائیں گے ابھی، غیر مجتہد ہو تو کس پر عمل کریں گے؟ پھر قياس پر۔ تو وہاں پر مسئلہ مصراة کے اندر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث کو مصنف نے قياس کے ذریعے رد فرمایا مولانا۔ اگر مصنف کی یہ بات مان لی جائے تو اس سے تو تمام روایاتِ ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا رد کرنا لازم آئے گا۔ جب ایک کو رد کر دیا، معلوم ہوا رد ہو سکتی ہیں، تو اس سے کیا لازم آیا؟ اکثر، تمام کیا کرنی پڑیں گی؟ تمام احادیثِ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو رد کرنا لازم آئے گا مولانا۔ اور یہ بات درست نہیں۔ اس سے تو فتنو ں کے نئے نئے دروازے کھل جائیں گے مولانا۔ جس سے گمراہی اور فتنو ں کے کیا ہیں؟ نئے نئے دروازے کھل جائیں گے۔ اور مسئلہ مصراة میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کو رد فرمایا، حالانکہ وہ روایت تو صحیح مسلم کی ہے۔ صحیح حدیث ہے مولانا، اور مسلم شریف میں روایت ہے۔ اور صحاح ستہ کی اور بھی بہت سی کتابوں میں یہ حدیث مذکور ہے مولانا۔ لہذا قياس کے ذریعے اس حدیث کو رد کرنا سنگین غلطی ہے۔ سنگین غلطی ہے۔ جی بات سمجھ میں آئی بھئی؟ مصنف نے کیا کیا؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کس میں شمار کیا؟ غیر مجتہد صحابہ میں حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے بھئی، وہ صحابہ کے زمانے میں قاضی اور مفتی رہے ہیں اور اس زمانے میں قاضی اور مفتی صرف کون ہو سکتا تھا؟ مجتہد ہو سکتا تھا، یہ دلیل ہے اس بات کی کہ وہ مجتہد تھے مولانا، عظیم محدث ہیں مولانا اور اس امت کے سب سے بڑے محدث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں بھئی اور ان سے ساڑھے پانچ ہزار کے لگ بھگ احادیث مروی ہیں، کسی اور صحابی سے اتنی احادیث مروی نہیں ہیں بھئی۔ اور آگے مصنف مسئلہ مصراة کے اندر حدیثِ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رد کریں گے، ترک کریں گے قیاس کی وجہ سے اور یہ مصنف کی سنگین غلطی ہے مولانا، اس کی وجہ سے تو گمراہی اور فتنوں کے نئے نئے دروازے کھل جائیں گے، اس سے تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تمام احادیث کو رد کرنا لازم آئے گا مولانا۔ اور یہ حدیث صحیح حدیث ہے، مسلم شریف میں مذکور ہے مولانا، نہایت صحیح، قوی حدیث ہے اور صحاح ستہ کی دیگر بہت سی کتابوں کے اندر بھی مذکور ہے اور صحیح حدیث کو قیاس کے ذریعے رد کرنا سنگین غلطی ہے مولانا۔ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بھئی، کتاب پہ دیکھیے۔ اور جیسے حضرت انس ابن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، فإِذَا صَحَّتْ رِوَايَةُ مِثْلِهِمَا عِنْدَكَ بھئی، صَحَّتْ أي ثَبَتَتْ، جب ثابت ہو جائے ان جیسوں کی روایت عِنْدَكَ آپ کے نزدیک، اے مخاطب! جب آپ کے نزدیک ان جیسے صحابہ کی روایت ثابت ہو جائے فإِنْ وَافَقَ الْخَبَرُ الْقِيَاسَ پس اگر موافق ہوئی خبر یعنی حدیث کس کے؟ قیاس کے، فَلَا خَفَاءَ فِي لُزُومِ الْعَمَلِ بِهِ تو پھر اس پر عمل کے لازم ہونے میں کوئی خفا نہیں ہے، پھر تو بھئی جب خبر، حدیث کس کے موافق ہے؟ حدیث ہے غیر مجتہد صحابی کی لیکن قیاس کے مخالف نہیں ہے بلکہ قیاس کے موافق ہے، پھر تو کہتے ہیں کوئی خفا نہیں ہے اس بات میں کہ اس پر عمل کرنا کیا ہے؟ لازم ہے۔ وَإِنْ خَالَفَهُ اور اگر خبر کیا ہو؟ حدیث مخالف ہو قیاس کے، كَانَ الْعَمَلُ بِالْقِيَاسِ أَوْلَى تو قیاس پر عمل کرنا اولٰی ہے، قیاس پر عمل کرنا اولٰی ہے بھئی۔ اس عبارت میں مولانا مصنف نے کیا ذکر کیا؟ کہ غیر مجتہد صحابی کی روایت اگر قیاس کے موافق ہو، پھر تو اس پر عمل کیا جائے گا اور اگر غیر مجتہد صحابی کی روایت قیاس کے مخالف ہو تو پھر کس پر عمل کیا جائے گا؟ قیاس پر عمل کیا جائے گا۔ مصنف سے اس عبارت میں مولانا عظیم غلطی ہوئی ہے بھئی۔ مصنف سے لکھئیے، لکھئیے مولانا۔ لکھئیے بھئی، لکھئیے بھئی، بڑی لمبی تقریر اب چلے گی، لکھئیے بھئی جلدی جلدی۔ اس عبارت میں، اس عبارت میں مصنف سے، مصنف سے عظیم غلطی ہوئی ہے، عظیم غلطی ہوئی ہے، ایسی غلطی جس نے فقہ حنفی کو پوری دنیا میں بدنام کر دیا، ایسی غلطی جس نے فقہ حنفی کو پوری دنیا میں بدنام کر دیا، جبکہ احناف کا یہ مذہب نہیں ہے، جبکہ احناف کا یہ مذہب نہیں ہے۔ جی، الگ سطر مولانا، الگ سطر۔ کبھی کبھار نصوص میں تعارض آتا ہے، یہ الگ مستقل بحث ہے مولانا، بڑی طویل بحث ہے بھئی۔ کبھی کبھار نصوص میں تعارض آتا ہے، کبھی کبھار نصوص میں تعارض آتا ہے یعنی دو آیتیں، یعنی دو آیتیں یا دو حدیثیں ایک دوسرے کے متعارض ہوتی ہیں، مخالف ہوتی ہیں، یعنی دو آیتیں یا دو حدیثیں بظاہر کر لیں بھئی، بظاہر ایک دوسرے کے متعارض ہوتی ہیں اور بظاہر ایک دوسرے کے مخالف ہوتی ہیں۔ ایسے موقع پر، ایسے موقع پر دفعِ تعارض، ایسے موقع پر دفعِ تعارض اور فیصلہ کرنے کے چار طریقے ہیں۔ ایسے موقع پر دفعِ تعارض اور فیصلہ کرنے کے چار طریقے ہیں۔ تم کیوں نہیں لکھ رہے ہو بھئی؟ جی؟ کیسے طالب علم ہو بھئی، قلم کیوں نہیں ہے آپ کے پاس؟ سیاہی، ہر چیز ہونی چاہیے بھئی۔ جی، کیا لکھا مولانا؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم ہے یہ کتنی قیمتی ابحاث ہیں بھئی؟ یہ آپ کو عام کتابوں میں نہیں ملیں گی بھئی۔ یہ سنت کی جتنی بحث ہم کر رہے ہیں مولانا، عام شروحات میں آپ کو اس انداز میں نہیں ملے گی بھئی۔ تو دفعِ تعارض اور فیصلہ کرنے کے چار طریقے ہیں۔ نمبر ایک: جمع و تطبیق، جمع و تطبیق ط کے ساتھ ہے مولانا، ط کے ساتھ، قاف دو نقطوں والا ہے بھئی۔ نمبر ایک: جمع و تطبیق۔ نمبر دو: نسخ۔ نمبر دو: نسخ۔ نمبر تین: ترجیح۔ نمبر تین: ترجیح۔ نمبر چار: توقف۔ نمبر چار: توقف۔ یعنی کم درجے کی دلیل کی طرف رجوع کرنا، یعنی کم درجے کی دلیل کی طرف رجوع کرنا۔ البتہ ان چاروں کے طریقہِ عمل میں اختلاف ہے، البتہ ان چاروں کے طریقہِ عمل میں اختلاف ہے، البتہ ان چاروں کے طریقہِ عمل میں اختلاف ہے۔ قولِ اول، قولِ اول: ابن ہمام، ہا ہے، ہا مولانا شروع میں، سمجھ میں آیا ہا؟ وہ دو آنکھوں والی جو ہا ہے۔ ابن ہمام اپنی عظیم کتاب تحریر میں لکھتے ہیں، اپنی عظیم کتاب تحریر، تحریر ان کی کتاب کا نام ہے بھئی تحریر۔ ابن ہمام اپنی عظیم کتاب تحریر میں لکھتے ہیں کہ عند الشافعیہ ان کی ترتیب یوں ہے، کہ عند الشافعیہ ان کی ترتیب یوں ہے کہ اولاً جمع و تطبیق پر عمل کیا جائے گا، کہ اولاً جمع و تطبیق پر عمل کیا جائے گا تاکہ دونوں نصوص پر عمل ہو جائے، تاکہ دونوں نصوص پر عمل ہو جائے۔ یہ اس وقت ہے، یہ اس وقت ہے جبکہ جمع و تطبیق ممکن ہو، جبکہ جمع و تطبیق ممکن ہو۔ اور اگر جمع و تطبیق ممکن نہ ہو، اور اگر جمع و تطبیق ممکن نہ ہو تو نسخ پر عمل کیا جائے گا، اور اگر جمع و تطبیق ممکن نہ ہو تو نسخ پر عمل کیا جائے گا بشرطیکہ یہ علم ہو سکے، بشرطیکہ یہ علم ہو سکے کہ کون سی آیت یا حدیث، کہ کون سی آیت یا حدیث زمانہ کے اعتبار سے مقدم ہے، زمانہ کے اعتبار سے مقدم ہے اور کون سی مؤخر، اور کون سی مؤخر۔ تو مقدم کو منسوخ قرار دے کر چھوڑ دیا جائے گا، تو مقدم کو، تو مقدم کو منسوخ قرار دے کر چھوڑ دیا جائے گا اور مؤخر کو، اور مؤخر کو ناسخ قرار دے کر، اور مؤخر کو ناسخ قرار دے کر اس پر عمل کیا جائے گا۔ الگ سطر، الگ سطر لکھئیے بھئی۔ نسخ احکام میں جاری ہوتا ہے، نسخ احکام میں جاری ہوتا ہے نہ کہ اخبارِ محض میں، نہ کہ اخبارِ محض میں، کیونکہ اخبار میں، کیونکہ اخبار میں نسخ کی صورت میں، نسخ کی صورت میں کذب، کذب یا جہل لازم آئے گا، صورت میں کذب یا جہل لازم آئے گا اور شارع کی طرف کذب یا جہل کی نسبت درست نہیں، اور شارع کی طرف کذب یا جہل کی نسبت درست نہیں۔ الگ سطر۔ اگر نسخ پر بھی عمل کرنا ممکن نہ ہو، اگر نسخ پر بھی عمل کرنا ممکن نہ ہو یعنی مقدم و مؤخر کا پتہ نہ چل سکے، یعنی مقدم و مؤخر کا پتہ نہ چل سکے تو ترجیح پر عمل کیا جائے گا، تو ترجیح پر عمل کیا جائے گا یعنی ایک کو راجح قرار دے کر، راجح جیم اور حا ہے، حا بھئی عین نہ لکھ دینا کہیں، جیم اور حا، حقے والی حا بھئی۔ یعنی ایک کو راجح قرار دے کر اس پر عمل کیا جائے گا، یعنی ایک کو راجح قرار دے کر اس پر عمل کیا جائے گا اور دوسری کو مرجوح قرار دے کر، اور دوسری کو مرجوح قرار دے کر چھوڑ دیا جائے گا، چھوڑ دیا جائے گا۔ وجوہ ترجیح علماء نے، وجوہ ترجیح علماء نے 10 سے زائد بیان کی ہیں۔ علماء وجوہ ترجیح علماء نے 10 سے زائد بیان کی ہیں۔ بعض علماء 20 سے بھی زائد بتلاتے ہیں، بعض علماء 20 سے بھی زائد بتلاتے ہیں، جن کی تفصیل اصولِ حدیث کی کتابوں میں موجود ہے، جن کی تفصیل اصولِ حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ اور اگر ترجیح پر بھی عمل ممکن نہ ہو، اور اگر ترجیح پر بھی عمل ممکن نہ ہو، تو پھر چوتھا طریقہ توقف کا ہے۔ تو پھر چوتھا طریقہ توقف کا ہے، "ق" دو نقطوں والا ہے بھئی اس میں۔ یعنی دونوں، یعنی دونوں نصوص میں سے، یعنی دونوں نصوص لکھ لیں۔ یعنی دونوں نصوص میں سے کسی پر بھی عمل نہیں ہوگا، یعنی دونوں نصوص میں سے کسی پر بھی عمل نہیں ہوگا اور دیگر ادلہ کی طرف ذہاب کیا جائے گا، اور دیگر ادلہ کی طرف ذہاب کیا جائے گا۔ ذہاب "ذ" سے ہے بھئی، یعنی دیگر ادلہ کی طرف ہم چلے جائیں گے، یعنی دیگر ادلہ کی طرف ہم چلے جائیں گے۔ یہ شافعی طریقہ ہے، یہ شافعی طریقہ ہے۔ قولِ ثانی، قولِ ثانی۔ دوسرا طریقہ احناف کا ہے، دوسرا طریقہ احناف کا ہے۔ عند الاحناف، عند الاحناف، اولاً نسخ پر عمل کیا جائے گا، اولاً نسخ پر عمل کیا جائے گا۔ اگر نسخ پر عمل ممکن نہ ہو، اگر نسخ پر عمل ممکن نہ ہو، تو پھر ترجیح پر عمل کیا جائے گا، تو پھر ترجیح پر عمل کیا جائے گا۔ اگر ترجیح بھی ممکن نہ ہو، اگر ترجیح بھی ممکن نہ ہو، تو تیسرا طریقہ جمع و تطبیق ہے، تو تیسرا طریقہ جمع و تطبیق ہے، "ط" بھئی اور "ق" دو نقطوں والا آئے گا، جمع و تطبیق ہے۔ اگر ان تینوں طریقوں پر عمل ممکن نہ ہو، اگر ان تینوں طریقوں پر عمل ممکن نہ ہو، تو چوتھا طریقہ توقف ہے، تو چوتھا طریقہ توقف ہے۔ توقف کا معنی یہ ہے، توقف کا معنی یہ ہے کہ دونوں آیتیں یا دونوں حدیثیں، کہ دونوں آیتیں یا دونوں حدیثیں ساقط، "ق" دو نقطوں والا اور "ط" بھئی، کہ دونوں آیتیں یا دونوں حدیثیں ساقط اور متروک ہو جائیں گی، متروک "ترک" سے ہے بھئی "ک" چھوٹا آئے گا آخر میں، دونوں آیتیں یا دونوں حدیثیں ساقط اور متروک ہو جائیں گی اور ان سے نچلے درجے کی دلیل کی طرف، اور ان سے نچلے درجے کی دلیل کی طرف، اور ان سے نچلے درجے کی دلیل کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر دو آیتوں میں تعارض آئے، مثال کے طور پر دو آیتوں میں تعارض آئے اور تینوں طریقوں میں سے کسی پر بھی عمل ممکن نہ ہو، اور تینوں طریقوں میں سے کسی پر بھی عمل ممکن نہ ہو، تو پھر حدیث کی طرف جائیں گے، تو پھر حدیث کی طرف جائیں گے۔ اور اگر احادیث میں تعارض آئے، اور اگر احادیث میں تعارض آئے اور تینوں طریقوں میں سے کسی کے ذریعہ فیصلہ نہ ہو سکے، اور تینوں طریقوں میں سے، اور تینوں طریقوں میں سے کسی کے ذریعہ فیصلہ نہ ہو سکے، تو اس سے کم درجے کی دلیل، تو اس سے کم درجے کی دلیل، یعنی قولِ صحابی، یعنی قولِ صحابی یا قیاس کی طرف رجوع کیا جائے گا، یا قیاس کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ سوال: سوال، قیاس اور قولِ صحابی میں سے کس کو ترجیح دی جائے گی؟ قیاس اور قولِ صحابی میں سے کس کو ترجیح دی جائے گی؟ جواب: جمہور احناف کے نزدیک، جمہور احناف کے نزدیک قولِ صحابی کو قیاس پر ترجیح دی جائے گی۔ جمہور احناف کے نزدیک قولِ صحابی کو قیاس پر ترجیح دی جائے گی۔ سوال: حدیثِ مرفوع اور قیاس میں تعارض آ جائے تو کسے ترجیح دی جائے گی؟ حدیثِ مرفوع اور قیاس میں تعارض آ جائے تو کسے ترجیح دی جائے گی؟ جواب: اس سلسلے میں دو قول ہیں۔ اس سلسلے میں دو قول ہیں۔ قولِ اول، قولِ اول، جمہور ائمہ کے نزدیک، جمہور ائمہ کے نزدیک جب حدیثِ مرفوع، جمہور ائمہ کے نزدیک جب حدیثِ مرفوع اور قیاس میں تعارض آ جائے، اور قیاس میں تعارض آ جائے، تو حدیثِ مرفوع کو ترجیح دی جائے گی، تو حدیثِ مرفوع کو ترجیح دی جائے گی قیاس پر، ترجیح دی جائے گی قیاس پر۔ یہی مذہب ہے امامِ اعظم، یہی مذہب ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اور امامِ شافعی، اور امامِ شافعی، امامِ مالک، امامِ مالک اور امام احمد ابنِ حنبل، اور امام احمد ابنِ حنبل، حنبل "ح"، "ن"، "ب"، "ل"، "ح"، "ن"، "ب"، "ل" اور امام احمد ابنِ حنبل رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے، رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ حدیثِ مرفوع کا مقام نہایت بلند ہے، حدیثِ مرفوع کا مقام نہایت بلند ہے۔ قیاس کیا چیز ہے؟ قیاس کیا چیز ہے؟ حدیثِ مرفوع کا مقام نہایت بلند ہے، قیاس کیا چیز ہے؟ قیاس تو صرف رائے کا نام ہے، قیاس تو صرف رائے کا نام ہے اور رائے پر اس وقت عمل کیا جائے گا، اور رائے پر صرف اس وقت عمل کیا جائے گا جب حدیث موجود نہ ہو، جب حدیث موجود نہ ہو۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تو، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تو ضعیف حدیث کے آنے پر بھی، ضعیف حدیث کے آنے پر بھی قیاس کو ترک فرما دیتے، ضعیف حدیث کے آنے پر بھی قیاس کو ترک فرما دیتے ہیں۔ امام صاحب کا قول ہے، امام صاحب کا قول ہے: "ما جاء عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلناه على الرأس والعينين"، "ما جاء عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلناه على الرأس والعينين"، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی حدیث آئے، سے جو بھی حدیث آئے وہ اسے ہم بسر و چشم قبول کرتے ہیں، اسے ہم بسر و چشم قبول کرتے ہیں۔ نیز امام صاحب کا قول ہے، نیز امام صاحب کا قول ہے: "إذا جاء الحديث مخالفاً لرأيي فاضربوا رأيي على الجدار"، "إذا جاء الحديث مخالفاً لرأيي فاضربوا رأيي على الجدار"، لکھ لیا بھئی امام صاحب کا قول؟ کیا فرماتے ہیں: "إذا جاء الحديث مخالفاً لرأيي فاضربوا رأيي على الجدار"، یعنی اگر حدیث میری رائے کے مخالف آ جائے، یعنی اگر حدیث میری رائے کے مخالف آ جائے تو میری رائے کو دیوار پر دے مارو، تو میری رائے کو دیوار پر دے مارو۔ امام صاحب کا ایک اور قول ہے: إذا جاء حديث صحيح فهو مذهبي. جب صحیح حدیث آ جائے تو وہی میرا مذہب ہے۔ جب صحیح حدیث آ جائے کسی مسئلہ میں تو وہی میرا مذہب ہے۔ الگ سطر لکھیے بھئی۔ امام مالک رحمہ اللہ کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے کہ وہ حدیث مرفوع پر قیاس کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن یہ بات درست نہیں۔ ان کے نزدیک بھی حدیث مرفوع قیاس پر مقدم ہے۔ قول ثانی۔ عیسیٰ ابن ابان حنفی کا قول ہے، ابان الف سے ہے الف سے۔ عیسیٰ ابن ابان حنفی کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ اگر حدیث کا راوی فقیہ ہو تو حدیث کو ترجیح ہوگی قیاس پر۔ اور اگر حدیث کا راوی غیر فقیہ ہو تو قیاس کو ترجیح دی جائے گی۔ الگ سطر لکھیے بھئی۔ عیسیٰ ابن ابان حنفی کا یہ قول باطل و مردود ہے۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ بعض متاخرینِ احناف نے اس قول کو ترجیح دی ہے، مثلِ صاحبِ اصول الشاشی اور صاحبِ نور الانوار۔ نور اور الانوار آگے لکھیں، صاحبِ نور الانوار۔ ہم نور الانوار اور اصول الشاشی والے کے مقلد نہیں ہیں بلکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مقلد ہیں۔ نور الانوار اور اصول الشاشی والے کو ہم صرف اس لیے مانتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے اکابر کے اقوال نقل کیے ہیں۔ اللہ جزائے خیر دے اصول الشاشی کے شارح صاحبِ فصول الحواشی کو کہ انہوں نے اس قول کو رد کیا ہے۔ علامہ عینی رحمہ اللہ تعالیٰ بھی اس قول کو مردود کہتے ہیں۔ ابن ہمام نے بھی اسے شیطانی قول قرار دیا ہے۔ یہ قول بڑی غلط فہمیوں کا باعث ہے۔ اس قول نے پوری دنیا میں فقہ حنفی کو بدنام کر دیا۔ میرے والد محترم، ترمذیِ وقت، شیخ الحديث و التفسير حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ رحمتہ واسعہ اس قول پر سخت غصے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ قول فتنہ بنا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے آج تک مذہب حنفی بدنام ہے۔ یہ قول نہایت گمراہ کن، مردود، ظالمانہ اور شریرانہ ہے۔ یہ قول فقہ حنفی پر عظیم داغ ہے۔ بلکہ اس قول کو رد کرتے ہوئے حضرت شیخ ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ اتنے جلال میں آ جاتے کہ فرماتے کہ جی چاہتا ہے کہ جس عالم نے یہ قول کیا ہے اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں۔ نیز وہ یہ بھی فرماتے کہ یہ قول صرف مردود ہی نہیں بلکہ شیطانی قول ہے اور موجبِ گمراہی و ضلالت ہے۔ ضلالت ضاد کے ساتھ ہے بھئی۔ اس قول سے گمراہی اور فتنوں کے دروازے کھلیں گے اور یہی منکرینِ حدیث بھی کہتے ہیں۔ ابن ہمام نے بھی اسے شیطانی قول قرار دیا ہے۔ بحر الرائق—قاف دو نقطوں والا ہے بھائی—بحر الرائق، فتح القدیر—یہ کتابوں کے کچھ نام ہیں بھائی—فتح القدیر، عینی، نہر—نہر دو آنکھوں والی ھا ہے بھائی—نہر، طحاوی—طاء کے ساتھ طاء—طحاوی، مبسوط—مبسوط سین کے ساتھ اور طاء ہے آخر میں طاء—مبسوط، سب نے اس قول کو گمراہی قرار دیا ہے۔ تمام محققینِ احناف کے نزدیک حدیث مرفوع قیاس پر مقدم ہے۔ الگ سطر۔ الگ تحریر: شیخ روحانی بازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے عیسیٰ ابن ابان کے اس قول میں شک تھا کہ یہ ان کا قول بھی نہیں ہو سکتا۔ میں نے اس کی تحقیق کی۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ کہ یہ قول عیسیٰ ابن ابان حنفی کا بھی نہیں ہے۔ مجھے کہیں کتابوں میں ان کا یہ قول نہیں ملا۔ ہمارے اسلاف ان باتوں سے پاک ہیں۔ معلوم نہیں یہ قول کیسے ان کی طرف منسوب ہو گیا اور معلوم نہیں کس طرح کتابوں میں آ گیا۔ ہمارے ائمہ ثلاثہ—امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، اور امام محمد رحمہم اللہ—میں سے کسی سے یہ قول منقول نہیں اور نہ ہی ہمارے قدماء کا قول ہے اور نہ ہی ان کی کتابوں میں ہے، وہ اس سے بری ہیں۔ جی، لکھ لیا بھئی؟ جی، بحث ختم ہوئی بھئی۔ جی، اب مختصراً ان ساری باتوں کو سمجھا بھی دیتا ہوں جلدی جلدی بھئی۔ بات یہاں سے چلی تھی، مصنف نے کتاب کے اندر یہ ذکر کیا کہ اگر راوی صحابی غیر فقیہ ہو تو پھر کس کو ترجیح دی جائے گی؟ قیاس کو ترجیح دی جائے گی اور حدیث کو کیا کیا جائے گا؟ چھوڑ دیا جائے گا۔ مولانا، یہ بڑا عظیم گمراہی کا باعث بننے والا قول ہے۔ معلوم نہیں مصنف نے کیسے اس کو اختیار کر لیا بھئی۔ احناف کا یہ مذہب نہیں ہے بھئی، یہ احناف کا مذہب نہیں ہے بھئی۔ تو سب سے پہلے ذکر کیا مولانا، بحث کے اندر میں نے کہ کبھی کبھار نصوص میں تعارض آتا ہے۔ دو آیتوں میں مولانا بظاہر تعارض ہوگا، ٹکراؤ ہوگا۔ ایک میں ایک بات ہوگی، دوسری میں—مثلاً ایک میں کام کرنے کا حکم ہے، دوسری میں اس سے رکنے کا حکم ہے—تو ٹکراؤ آ گیا۔ اب کیا کریں بھئی؟ ایک میں حکم ہے کرو، ایک میں حکم کیا ہے؟ نہ کرو مثلاً। یا دو حدیث میں، احادیث میں تعارض آئے گا، ایک میں ہے ایسا کرو، دوسری میں ہوگا ایسا نہ کرو، ٹکراؤ آ گیا۔ پھر کیا کریں گے بھئی؟ تو اس میں دفع تعارض اور فیصلہ کرنے کے کتنے طریقے ہیں؟ چار طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ کیا ہے؟ جمع و تطبیق کا۔ جمع و تطبیق یہ ہے کہ دونوں کو، ایسی صورت نکالی جائے کہ دونوں پر عمل ہو جائے۔ کیا کیا جائے؟ ایسی صورت نکالی جائے کہ دونوں پر عمل ہو جائے۔ دوسرا طریقہ ہے نسخ کا، یعنی ایک کو ناسخ قرار دے، دوسرے کو منسوخ۔ لیکن اس کے لیے کیا ہونا چاہیے؟ زمان کے پتہ ہو کہ یہ پہلی حدیث یہ تھی مولانا، یہ مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن 2 ہجری میں فرمایا تھا یوں کرو، سن 8 ہجری میں جا کے حضور نے فرمایا یوں نہ کرو۔ تو معلوم ہوا وہ پہلے والا حکم کیا ہو گیا؟ منسوخ ہو گیا۔ تو جو مقدم ہے حدیث، اس کو کیا قرار دے دیا جائے گا؟ منسوخ، اور ثانی کو کیا قرار دیا جائے گا؟ ناسخ، اور عمل اس ناسخ پر کیا جائے گا، منسوخ کو کیا کر دیا جائے گا؟ چھوڑ دیا جائے گا۔ اور تیسرا طریقہ کیا ہے؟ ترجیح۔ اگر بھئی جمع و تطبیق بھی ممکن نہیں، نسخ پر بھی عمل نہیں ہو سکتا کیونکہ پتہ ہی نہیں چل رہا کون سی حدیث مقدم ہے زمانے کے لحاظ سے اور کون سی، تو پھر کیا کیا جائے گا؟ ترجیح دی جائے گی، ایک حدیث کو دوسری پر ترجیح دے دی جائے گی۔ جو راجح ہوگی اس پر عمل کریں گے، جو مرجوح ہوگی اس کو کیا کر دیں گے؟ چھوڑ دیں گے۔ اور کس کو راجح قرار دیں گے، کس کو مرجوح؟ میں نے بتایا اس کی 10 کے قریب وجوہ ہیں، بعض علماء نے 20 وجوہ لکھی ہیں بھئی جو حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں، تو اس کے ذریعے، ان وجوہ کو دیکھتے ہوئے ایک حدیث کو ترجیح دے کر اس پر عمل کیا جائے گا، کیونکہ دونوں پر تو عمل ممکن ہی نہیں۔ اگر جمع و تطبیق بھی نہیں ہو سکتی، نسخ بھی نہیں ہو سکتا، ترجیح بھی نہیں ہو سکتی، پھر توقف کیا جائے گا۔ یعنی دونوں آیتیں ساقط ہو جائیں گی، متروک ہو جائیں گی کیونکہ ان پر عمل ہی ممکن نہیں۔ یا دونوں حدیثوں میں ٹکراؤ ہے تو دونوں ساقط ہو جائیں گی، متروک ہو جائیں گی۔ اور اس سے نچلے درجے کی حدیث کی طرف ہم چلے جائیں گے۔ مثلاً دو آیتوں میں ٹکراؤ تھا، تعارض تھا مولانا، تو پھر کس، اب کوئی صورت نہیں، جمع و تطبیق بھی ممکن نہیں، نسخ بھی ممکن نہیں، اور ترجیح بھی ممکن نہیں، تو پھر توقف کیا جائے گا اور اس سے نچلے درجے کی دلیل کی طرف جائیں گے، اور آیت سے نیچے کون سی دلیل ہے؟ حدیث۔ کس کی طرف چلے جائیں گے؟ حدیث کی طرف چلے جائیں گے، کتاب اللہ سے سنت کی طرف آ جائیں گے۔ سنت کے ذریعے بھی دو، اب دو احادیث ہیں مولانا، ان میں ٹکراؤ ہے، تعارض ہے، کوئی فیصلے کی صورت نہیں، تو یہاں بھی توقف کریں گے اور نچلے درجے کی دلیل کی طرف جائیں گے، یعنی قول صحابی کی طرف چلے جائیں گے یا قیاس کی طرف چلے جائیں گے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ پھر قیاس اور قول صحابی میں سے کس کو ترجیح ہے؟ ہمارے نزدیک قول صحابی کو ترجیح ہے قیاس پر مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ قیاس۔ تو قول صحابی جب موجود ہو تو پھر قیاس کی ضرورت نہیں ہے، قول صحابی کو ہم لے لیں گے۔ ہاں، ان میں ترتیب میں اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سب سے پہلے کیا کیا جائے گا؟ جمع و تطبیق کی جائے گی۔ دو ایسی صورت نکالیں گے دونوں پر عمل ہو جائے۔ اس کے بعد دوسری، دوسرا کس پر عمل کیا جائے گا؟ نسخ پر عمل کیا جائے گا۔ اگر نسخ پر بھی عمل نہ ہو سکے پھر تیسرا کیا ہے؟ ترجیح پر۔ اگر ترجیح پر بھی عمل نہ ہو پھر کیا کریں گے؟ توقف کریں گے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ توقف کیا جائے گا۔ اب جبکہ احناف کے نزدیک ترتیب اور ہے مولانا। احناف کے نزدیک احناف کے نزدیک سب سے پہلے کس پہ عمل کریں گے؟ نسخ پہ، پھر اس کے بعد ترجیح پر، سمجھ میں آیا بھئی؟ ترجیح پر۔ تیسرا طریقہ کیا ہے؟ پھر اس کے بعد جمع و تطبیق پر عمل کیا جائے گا، اور اگر جمع و تطبیق بھی ممکن نہ ہو تو پھر کیا کریں گے؟ توقف کریں گے، نچلے درجے کی دلیل کی طرف جائیں گے۔ میں نے بتایا تھا کہ نسخ احکام میں جاری ہوتا ہے، اخبار کے اندر نسخ جاری— سمجھ میں آیا؟ حدیث میں ایک حکم دیا گیا ہے یوں کرو، اس کو ہم کہہ سکتے ہیں اگلے زمانے میں، یعنی کچھ عرصے کے بعد حضور نے اس حکم کو کیا فرما دیا؟ اخبار جس میں خبر دی گئی ہو گزشتہ باتوں کی، فلاں امت میں ایسا تھا، ایسا ہوا، ایسا ہوا، ان میں نسخ جاری نہیں ہوگا بھئی۔ کہ اس خبر کو ہی کیا کر دیا جائے؟ منسوخ کر دیا جائے، ایسا نہیں ہوا تھا بلکہ کیسا ہوا تھا؟ ایسا ایسا ہوا تھا۔ نہیں بھئی، یہ تو خبر ہے، خبر میں تو نسخ جاری نہیں ہوتا۔ یہ تو اگر خبر میں نسخ ہو کا معنیٰ تو یہ ہے کہ یا تو یہ پہلی خبر کیا تھی؟ اس میں کذب تھا۔ کیا تھا؟ کذب تھا، یا اس میں جہل تھا، پتہ ہی نہیں تھا اس وقت بات کا۔ اور شارع کی طرف کذب یا جہل کی نسبت ہو سکتی ہے؟ کیا کوئی ایسی چیز ہے جو اللہ کے علم میں نہ ہو؟ یا اللہ کی طرف کذب کی نسبت ہو سکتی ہے؟ ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔ معلوم ہوا نسخ احکام میں جاری ہوتا ہے، کچھ عرصے کے لیے حکم ہوتا ہے ایسا کرو، پھر کچھ عرصے کے بعد حکم کو کیا کر دیا جاتا ہے کبھی؟ بدل دیا جاتا ہے کہ ایسا اب نہ کرو بھئی۔ جی، پھر سوال پیدا ہوا کہ حدیث مرفوع اور قیاس میں سے کس کو ترجیح ہے؟ تو میں نے اس میں دو قول ذکر کیے بھئی۔ جمہور احناف کے نزدیک، بلکہ جمہور ائمہ کے نزدیک مولانا، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ، سب کے نزدیک کس پر عمل کیا جائے گا؟ حدیث مرفوع پہ عمل کریں گے، قیاس پر عمل— قیاس تو صرف رائے کا نام ہے۔ قیاس کیا چیز ہے کہ حدیث کے مقابلے میں آئے مولانا؟ قیاس تو تب کیا جاتا ہے جب کوئی حدیث مرفوع ہمارے پاس موجود نہ ہو، پھر رائے دی جاتی ہے کہ بھئی یہ یہ مسئلہ یوں سمجھ میں آتا ہے فلاں فلاں دلیل سے بھئی۔ لیکن جب حدیث مرفوع آ جائے تو پھر وہ، پھر تو ترجیح کس کو ہے؟ حدیث ہی کو ترجیح ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تو ضعیف حدیث بھی آتی تو بھی اس کو ترجیح دیتے تھے۔ سمجھ میں آیا؟ قیاس کو کیا فرماتے تھے؟ ترک فرماتے تھے۔ چنانچہ میں نے کئی ان کے اقوال ذکر کیے، وہ کیا فرماتے ہیں: "ما جاء عن رسول الله قبلناه على الرأس والعينين" جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث آ جائے، ہم نے اسے، ہم اسے بسر و چشم قبول کرتے ہیں بھئی۔ اسی طرح اگر میری رائے کے خلاف کوئی حدیث آ جائے تو میری رائے کو کسی دیوار پر دے مارو بھئی۔ نیز وہ فرماتے ہیں کہ جو بھی صحیح حدیث ہوگی وہی کیا ہے؟ میرا مذہب ہے بھئی، مذہب ہے۔ امام مالک کے بارے میں بعض علماء فرماتے ہیں کہ وہ قیاس کو ترجیح دیتے ہیں مولانا، سمجھ میں آیا؟ یہی باتیں آپ کو ان حواشیوں کے اندر بھی ملیں گی، لیکن اس انداز میں نہیں ملیں گی۔ حاشیے میں صرف یہ ذکر ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک قیاس کو حدیث مرفوع پر کیا ہے؟ ترجیح۔ لیکن میں نے بتایا یہ بات درست نہیں، امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی، وہ اتنے بڑے امامِ دنیا ہیں مولانا، وہ کیسے حدیث مرفوع پر اپنی رائے کو ترجیح دے سکتے ہیں بھئی؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ ان کی طرف بھی اس قول کی نسبت صحیح نہیں ہے بھئی۔ پھر اس پھر دوسرا قول کہ حدیث مرفوع اور قیاس میں تعارض آئے، دوسرا قول عیسیٰ ابن ابان کا ہے مولانا، وہ فرماتے ہیں اگر راوی فقیہ ہو تو حدیث کو ترجیح، اور اگر راوی غیر فقیہ ہو تو کس کو ترجیح؟ اور یہی قول صاحبِ اصول الشاشی بھی اپنی کتاب میں ذکر کر رہے ہیں، آپ دیکھ رہے ہیں بھئی، بحث جو اب تک ہوئی بھئی۔ انہوں نے بھی کہا راوی فقیہ ہو تو کس کو ترجیح؟ حدیث، راوی غیر فقیہ ہو تو کس کو ترجیح؟ قیاس کو مولانا، اور یہ بات درست نہیں ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ ہم یہ صاحبِ نور الانوار نے بھی یہی قول ذکر کیا جو آگے آپ پڑھیں گے اگلے سال کتاب، اور صاحبِ اصول الشاشی نے بھی یہ قول ذکر کیا، حالانکہ یہ قول مردود اور باطل ہے مولانا، اور موجبِ گمراہی اور ضلالت ہے بھئی۔ تمام فقہاء، تمام علماء نے ان اقوال— اس قول کو رد کیا ہے بھئی، اور اسے شیطانی قول قرار دیا ہے، اور میں نے ذکر کیا کس طرح حضرت شیخ ترمذی رحمہ اللہ اس قول پر بہت زیادہ غم اور غصے کا اظہار کرتے تھے بھئی، بہت زیادہ غم اور غصے کا اظہار کرتے۔ اس قول نے فقہاءِ حنفی کو پوری دنیا میں بدنام کر دیا بھئی۔ احناف پر آج بھی ہر ایک اعتراض کرتا ہے کہ تم تو قیاس کو ترجیح دیتے ہو حدیث پر بھئی۔ جگہ جگہ آپ دیکھیں گے، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فلاں پہ اعتراضات کر رہے ہیں کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ قیاس کو حدیث پر ترجیح— حالانکہ ایسا ہے؟ نہیں بھئی، ایسا نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک یہ اس اس قول کی وجہ سے جو ہے یہ زیادہ وہ تانہ تشنیع کرتے ہیں کہ دیکھو تمہاری کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں، کس کو ترجیح دیتے ہیں؟ قیاس کو ترجیح دیتے ہیں۔ چنانچہ حضرت شیخ رحمہ اللہ بہت غم اور غصے کا اظہار کرتے، لیکن پھر آخر میں وہ وہ فرماتے کہ میں نے تحقیق کی ہے بھئی، یہ عیسیٰ ابن ابان کا قول بھی نہیں ہے بھئی۔ پتہ نہیں کیسے کتابوں میں آ گیا، کس نے ذکر کر دیا، کہاں سے آیا، سمجھ میں نہیں آتی۔ کتابوں میں کہیں کہتے ہیں میں نے تلاش کیا، اتنے وسیع المطالعہ تھے، اتنے وسیع المطالعہ تھے کہ بیان نہیں ہو سکتا مولانا۔ آج کل اتنے مطالعے کا تو کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا جتنا مطالعہ ان کا تھا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور وہ فرماتے ہیں کہ مجھے کہیں کتابوں کے اندر ان کا قول نہیں ملا۔ ہمارے اسلاف اس قول سے پاک ہیں، وہ ایسا قول کبھی بھی نہیں کر سکتے۔ معلوم ہوا کسی نے ویسے ان کی طرف منسوب کیا اور یہی شائع ہوا اور کتابوں میں آ گیا بھئی کہیں سے بھئی۔ ہمارے اسلاف بھئی، ہمارے ائمہ ثلاثہ— امام اعظم ابو حنیفہ، امام محمد، اور امام یوسف رحمہ اللہ— تو ان میں سے تو کسی نے بھی اس کو ذکر نہیں کیا، نہ ان کی کتابوں میں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو احناف کے نزدیک حدیث مرفوع کیا ہوگی؟ قیاس پر مقدم ہوگی، یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ راوی فقیہ ہے یا غیر فقیہ ہے۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔