ثم الراوي في الأصل قسمان: معروف بالعلم والاجتهاد كالفلَفاء الأربعة وعبد الله بن مسعود وعبد الله بن عباس وعبد الله بن عمر وزيد بن ثابت ومعاذ بن جبل وأمثالهم رضي الله تعالى عنهم. هنا یہ مسئلہ ذکر کر رہے ہیں کہ اگر قیاس میں اور حديثِ مرفوع کے اندر تعارض آ جائے تو کس کو ترجیح دی جائے گی بھئی؟ کیا مسئلہ بیان کر رہے ہیں؟ قیاس میں اور حديثِ مرفوع میں تعارض آ جائے تو کس پر عمل کیا جائے گا؟ حديثِ مرفوع سے ایک بات ثابت ہو رہی ہے اور قیاس دوسری بات کا تقاضا کر رہا ہے، تو کس پر عمل کیا جائے گا؟ تو مصنف اب اس کی تفصیل بتلانے لگے آپ کو بھئی۔ ثم الراوي في الأصل قسمان. پھر کہتے ہیں: راوی اصل میں قسمان، دو قسم پر ہیں مولانا۔ معروف بالعلم والاجتهاد، ایک وہ جو معروف ہو علم اور اجتہاد میں بھئی۔ صحابہ کی بات کر رہے ہیں مولانا۔ سب سے پہلے روایت کہ حضور سے کون روایت کریں گے؟ صحابہ بھئی۔ تو صحابہ پھر کہتے ہیں دو قسم پر ہیں وہ حدیث کو جو روایت کرنے والے ہیں معروف بالعلم والاجتهاد، کچھ وہ صحابہ ہیں جو علم و اجتہاد میں معروف ہیں، یعنی مجتہدین صحابہ ہیں۔ کچھ صحابہ کیا ہیں؟ مجتہدین ہیں، اللہ نے انہیں اجتہاد کا ملکہ نصیب فرمایا تھا، وہ احادیث سے کیا کرتے تھے؟ مختلف قسم کے احکامات نکالنے کی قدرت رکھتے تھے بھئی۔ تو کچھ وہ صحابہ ہیں اور کچھ غیر مجتہدین ہیں بھئی، ان کا ذکر آگے آئے گا۔ تو کہتے ہیں: پھر راوی اصل میں دو قسم پر ہیں، کچھ وہ ہیں جو معروف ہیں، مشہور ہیں علم اور اجتہاد میں كالفلَفاء الأربعة، جیسے خلفائے اربعہ ہیں مولانا، خلفائے راشدین بھئی حضرت ابو بکر صدیق رضی الله تعالى عنه ہیں، اور حضرت عمر رضی الله تعالى عنه، حضرت عثمان غنی رضی الله تعالى عنه، اور حضرت علی رضی الله تعالى عنه۔ اور ان کے علاوہ مثالیں ذکر کر رہے ہیں جو مجتہدین صحابہ ہیں، اور جیسے عبد الله بن مسعود رضی الله تعالى عنه ہیں بھئی، اور عبد الله بن عباس رضی الله تعالى عنه ہیں، اور عبد الله بن عمر رضی الله تعالى عنه ہیں بھئی۔ یہ تینوں عبد اللہ نام ہے تینوں کا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو ان کو عبادلۂ ثلاثہ بھی کہتے ہیں۔ عبد اللہ کی جمع کیا ہے؟ عبادلہ، عبادلۂ ثلاثہ بھی کہتے ہیں ان کو بھئی۔ جیسے یہ تین ہیں مولانا وزيد بن ثابت، اور جیسے حضرت زید بن ثابت ہیں یہ بھی اجتہاد میں معروف ہیں، ومعاذ بن جبل، اور حضرت معاذ بن جبل ہیں، وأمثالهم، اور ان جیسے جو اور صحابہ ہیں، کچھ مثالیں ذکر کر دیں بھئی سارے صحابہ نہیں ذکر کیے کہ جو مجتہدین ہیں۔ جیسے نیچے مثال دی ہے أُبيّ بن كعب رضی الله تعالى عنه ہیں، اور اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی الله تعالى عنه، حضرت عائشہ رضی الله تعالى عنها ہیں وغیرہ بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ حضرت عائشہ رضی الله تعالى عنها بھی مجتہدہ تھیں بھئی۔ اور ان جیسے اور صحابہ جو ہیں رضی الله تعالى عنهم. فإذا صحت عندك روايتهم، صحت أي ثبتت، صحت کس معنی میں ہے یہاں پر؟ ثبتت. پس جب ثابت ہو جائے آپ کے نزدیک روايتهم، ان مذکورہ صحابہ کی روایت عن رسول الله عليه الصلاة والسلام، حضور علیہ السلام سے يكون العمل بروايتهم أولى، تو ان کی روایت پر عمل کرنا اولیٰ ہے من العمل بالقياس، قیاس پر عمل کرنے سے۔ مصنف رحمہ اللہ کیا فرما رہے ہیں بھئی کہ صحابہ دو قسم پر ہیں جو حدیث کی روایت کرنے والے ہیں، کچھ وہ صحابہ ہیں جو مجتہدین ہیں، اگر وہ صحابہ جو مجتہدین ہیں ان کی کوئی روایت آپ تک پہنچتی ہے بھئی، ان کی کیا ہے؟ کوئی روایت آپ تک پہنچتی ہے اور ثابت بھی ہو جاتی ہے آپ کے نزدیک بھی حضور علیہ السلام سے، یعنی اس میں باقی ساری شرطیں بھی پائی جا رہی ہیں، اب آگے جو راوی آ رہے ہیں سارے کیا ہیں؟ مسلمان ہیں، عادل ہیں، قوی حافظے والے ہیں اور عاقل ہیں، اور سند بھی کیا ہے؟ متصل ہے، حضور علیہ السلام تک پہنچتی ہے، درمیان میں راوی وغیرہ ساقط نہیں ہیں، یعنی جو ذکر ہی نہ ہوں بھئی۔ تو کہتے ہیں: جب اس قسم مجتہدین صحابہ کی روایت آپ تک پہنچے تو ان کی روایت پر عمل اولیٰ ہے قیاس پر عمل کرنے سے۔ ایک ہے قیاس، ایک ہے بھئی حدیثِ مرفوع آ جائے اور قیاس آ جائے، حدیث میں ایک حکم دیا جا رہا ہے ایسا کرو، اور قیاس کس چیز کا تقاضا کر رہا ہے؟ اس کے خلاف کا، اب کس کو ترجیح دی جائے گی؟ قیاس پر ہم عمل کریں گے یا حدیثِ مرفوع پر عمل کریں گے بھئی؟ بحث یہ چل رہی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ حدیثِ مرفوع آ جائے اور قیاس آ جائے تو اب کس پر عمل کیا جائے گا جب دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہیں بھئی؟ کہتے ہیں: اگر آپ کے پاس یہ مجتہدین صحابہ کی کوئی روایت پہنچے اور ثابت بھی ہو جائے آپ کے نزدیک، تو پھر اب کس پر عمل اولیٰ ہے؟ حدیثِ مرفوع پر عمل اولیٰ ہے بھئی۔ يكون العمل بروايتهم أولى، ان صحابہ کی روایت پر عمل اولیٰ ہے قیاس من العمل بالقياس، قیاس پر عمل کرنے سے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ مصنف سے اس عبارت میں تسامح ہوا ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اولیٰ ذکر کیا مصنف نے بھئی اولیٰ، کہ حدیث، حدیثِ مرفوع پر عمل کرنا اولیٰ ہے۔ اولیٰ ہے۔ اس سے بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ قیاس پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے، البتہ وہ غیر اولیٰ ہے۔ جائز ہے، لیکن کیا ہے؟ غیر اولیٰ، حالانکہ ایسا مسئلہ نہیں ہے، قیاس پر حدیث کے ہوتے ہوئے قیاس پر عمل کرنا جائز ہی نہیں ہے بھئی، جب حدیثِ مرفوع آ گئی اور صحیح حدیث آپ کے پاس آئی ہے تو پھر اب کس پر عمل کیا جائے گا؟ حدیثِ مرفوع پر عمل کیا جائے گا، قیاس کیا ہے؟ قیاس تو رائے کا نام ہے، مجتہد ایک رائے دیتا ہے کہ مجھے اس سے یہ سمجھ میں آیا مسئلہ یوں ہے بھئی، اور ایک طرف صریح حدیث ہے، حضور کا حکم ہے تو پھر کس پر عمل کیا جائے گا؟ حدیثِ مرفوع پر، قیاس پر عمل نہیں، تو مصنف نے اولیٰ کا لفظ استعمال کیا جس سے بظاہر یہ وہم پڑتا ہے کہ شاید قیاس پر بھی عمل جائز ہے البتہ وہ کیا ہے؟ غیر اولیٰ، حالانکہ مسئلہ ایسا نہیں ہے بھئی۔ ولهذا روى محمد رحمة الله تعالى حديث الأعرابي الذي كان في عينيه سوء في مسئله القهقهة وترك القياس به. اور اسی وجہ سے مولانا روایت کیا امام محمد رحمہ اللہ نے حدیثِ اعرابی کو، دیہاتی کی حدیث کو مولانا، ایک دیہاتی صحابی تھے ان کی حدیث کو روایت کیا الذي كان في عينيه سوء، جن کی آنکھ میں خرابی تھی مولانا، جن کی آنکھ میں خرابی تھی، یعنی نظر کمزور ہوگی بھئی، في مسألة القهقهة، کس مسئلے میں؟ قہقہے کے مسئلے میں، وترك القياس به، اور اس کے ذریعے قیاس کو ترک کر دیا بھئی۔ قیاس کو کیا کر دیا؟ ترک کر دیا۔ حدیثِ اعرابی ہے مولانا جو حضرت معبد جہنی، حضرت معبد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، صحابی کون ہیں؟ حضرت معبد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور اسی طرح یہ روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی، اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجتہدین صحابہ میں سے تھے، کن میں سے تھے؟ ہاں، انہی صحابہ کی بات چل رہی ہے جو مجتہدین ہوں، تو وہ مجتہدین صحابہ میں سے تھے، انہوں نے روایت کی ہے ایک حدیث مولانا ایک دیہاتی کی حدیث بھئی۔ روایت یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، ایک دیہاتی صحابی آئے دیہات وغیرہ میں رہتے تھے، وہ مسجد نبوی میں آئے، آنکھ میں خرابی تھی کوئی نظر وغیرہ بھئی کمزور ہوگی ان کی، آئے مسجد نبوی میں ایک گڑھا تھا اس میں گر گئے بھئی، مسجد نبوی میں کوئی گڑھا وغیرہ تھا نظر کمزور تھی نظر نہیں آیا اس میں گر گئے، پچھلی صفوں میں کچھ صحابہ کھڑے تھے ان کی نظر پڑ گئی، وہ بڑے زور سے قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔ نماز ختم ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا بھئی اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مڑے صحابہ کی طرف اور فرمایا: من ضحك منكم قهقهة، دیکھیے یہ آپ کے حاشیہ نمبر تین میں جو ہے یہ حدیث دی ہوئی ہے بھئی اس کو نشان زدہ کر لیجیے۔ من ضحك منكم قهقهة فليعد الوضوء والصلاة جميعا. جو تم میں سے قہقہہ لگا کر ہنسا ہے پس چاہیے اسے کہ وہ اعادہ کرے وضو کا اور نماز دونوں کا، وضو اور نماز مل گئی حدیث بھئی؟ من ضحك منكم قهقهة فليعد فليعد الوضوء والصلاة جميعا. جو تم میں سے ہنستا ہے قہقہہ لگا کر پس چاہیے اسے کہ وہ اعادہ کرے، لوٹا لے وضو اور نماز دونوں کو۔ یہ ہے حدیثِ اعرابی بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو دیکھا اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابہ کو جنہوں نے قہقہہ لگایا تھا نماز میں ان کو وضو بھی لوٹانے کا حکم دیا کہ دوبارہ وضو کریں اور نماز بھی دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا بھئی۔ نماز بھی، نماز دو کہ نماز کو وہ دہرائیں بھئی، دوبارہ پڑھیں نماز بھئی۔ اب دیکھو ٹھیک ہے قہقہہ لگانے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے مولانا، لیکن قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹ جائے یہ بات خلافِ قیاس ہے بھئی، اس لیے کہ وضو تو ٹوٹا کرتا ہے خروجِ نجاست سے، اور قہقہہ لگانے میں کوئی خروجِ نجاست نہیں، لہذا قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس قہقہہ، نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے، لیکن حدیثِ مرفوع سے کیا ثابت ہو رہا ہے کہ نماز میں قہقہہ لگانے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا حکم دیا؟ کہ وضو بھی دوبارہ کریں بھئی، معلوم ہوا وضو بھی ٹوٹ گیا ہے۔ اب یہ حدیث مولانا ایک طرف حدیثِ مرفوع تھی، ایک طرف قیاس تھا، لیکن امام محمد رحمہ اللہ نے کیا فرمایا؟ کہ قہقہہ لگانے سے کیا ہو جائے گی؟ نماز میں وضو ٹوٹ جائے گا اور وضو لوٹانا پڑے گا دوبارہ بھئی، صورت دیکھا؟ حدیثِ مرفوع حدیث تھی اور کس راوی کی تھی؟ ایسے راوی ایسے صحابی حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو مجتہد ہیں، تو لہذا ان کی وجہ سے آپ اس وجہ سے روایت پر عمل کیا جائے گا حدیث پر اور قیاس کو کیا کیا جائے گا؟ ترک کیا جائے گا بھئی، قیاس کو ترک کیا جائے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھیے ولهذا روى محمد رحمة الله، اور اسی وجہ سے روایت کیا امام محمد رحمہ اللہ نے حديث الأعرابي الذي كان في عينيه سوء في مسألة القهقهة، وہ حدیث ان دیہ، وہ دیہاتی صحابی کی جن کی آنکھ میں خرابی تھی قہقہے کے مسئلے میں، وترك القياس به، اور قیاس کو اس کے وجہ سے ترک کر دیا ہے بھئی حدیث کی وجہ سے، ورنہ تو قیاس کیا تقاضا کرتا تھا کہ وضو کو نہیں ٹوٹنا چاہیے بھئی، مسئلہ سمجھ میں آیا اچھی طرح؟ اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا کہ صحابہ اللہ کے برگزیدہ بندے تھے، وہ نماز میں کیسے قہقہہ لگا کر ہنس پڑے بھئی؟ بظاہر اشکال ذہن میں آتا ہے۔ تو علماء جواب دیتے ہیں مولانا کہ یہ صحابہ پچھلی صفوں کے صحاب میں کھڑے تھے اور جدید الاسلام تھے مولانا، نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے بھئی، ہمیں، انہیں نماز وغیرہ کے بارے میں پوری طرح پتہ ہی نہیں تھا بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو اس لیے چونکہ نئے نو مسلم ہوئے تھے احکام وغیرہ پوری طرح پتہ نہیں تھے اس لیے نماز میں وہ واقعہ دیکھا تو ان بے اختیار قہقہہ لگا کر ہنس پڑے بھئی۔ جی، وروى حديث تأخير النساء في مسألة المحاذاة وترك القياس به. اور روایت کیا ہے امام، وروى کے اندر 'هو' ضمیر وہ بھی راجع ہے امام محمد رحمہ اللہ کا نام جو پیچھے گزرا بھئی، اور روایت کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے حديث تأخير النساء، عورتوں کو مؤخر کرنے کی حدیث کو في مسألة المحاذاة، برابری کے مسئلے میں بھئی، محاذاة کے مسئلے میں بھئی عورتوں کو مؤخر کرنے کی روایت کی ہے وترك القياس به، اور اس حدیث کی وجہ سے قیاس کو کیا کر دیا ہے؟ ترک کر دیا ہے بھئی۔ بھئی یہ کون سی حدیث ہے؟ یہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے بھئی، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے بارے میں: أخرواهن حيث أخرهن الله، بھئی، جی حدیث لکھ لیجیے۔ أخرواهن أخرواهن حيث أخرهن الله . سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے بھئی۔ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا: أخرواهن، ان عورتوں کو مؤخر رکھو حيث أخرهن الله، کیونکہ اللہ نے ان کو مؤخر رکھا ہے بھئی، ان عورتوں کو کیا کرو؟ مؤخر کرو کیونکہ اللہ نے ان کو کیا فرمایا ہے؟ مؤخر فرمایا ہے بھئی۔ بھئی مرد کی تخلیق پہلے ہوئی ہے، عورت کی تخلیق بعد میں ہوئی ہے بھئی۔ پہلے کن کو پیدا کیا گیا حضرت ادم علیہ السلام کو اور اس کے بعد حضرت حوا کو بھئی۔ تو عورتوں کو تخلیق میں اللہ نے مؤخر فرمایا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نماز میں بھی ان کو مؤخر رکھو۔ نماز میں بھی ان کو مؤخر رکھو۔ اب چنانچہ اگر کوئی عورت کسی مرد کے ساتھ نماز میں برابر کھڑی ہو جائے بھئی، تو اس صورت میں فقہاء کرام لکھتے ہیں کہ اس شخص کی نماز ہی نہیں ہوتی بھئی۔ اس شخص کی نماز ہی اگر کوئی عورت کسی مرد کے ساتھ برابر میں کھڑی ہو جائے نماز میں تو پھر نماز ہی اس مرد کی نہیں ہوگی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا حکم فرمایا کہ عورتوں کو مؤخر رکھو نماز میں بھئی۔ سمجھ میں فقہاء نے کئی شرائط لکھی ہیں کہ وہ عورت کیا ہو، مشتہاة ہو اور مرد کے برابر میں کھڑی ہو اور مشتہاة ہو، مرد کے برابر میں کھڑی ہو اور درمیان میں کوئی آڑ وغیرہ بھی نہ ہو بھئی۔ تو اس صورت میں اور بھی کچھ شرائط لکھی ہیں بھئی فقہ کی کتابوں میں آپ نے پڑھی ہوں گی، تو اب اس مرد کی نماز نہیں ہوگی۔ سمجھ میں آیا مسئلہ بھئی؟ اب دیکھیے یہاں مرد کی نماز ہی نہیں ہوئی بھئی۔ اب قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ مرد کی نماز نہیں ٹوٹنی چاہیے، کیونکہ نماز کے منافی کوئی عمل پایا گیا؟ جی؟ اس نے بھی نماز کے منافی تو کوئی عمل نہیں کیا بھئی، وہ تو اپنی نماز ادا کر رہا ہے۔ لیکن دوسری طرف حدیث مرفوع ہے، وہ کیا کہہ اس میں کس چیز کا ذکر آیا ہے کہ عورت کو مرد سے پیچھے ہونا چاہیے، معلوم ہوا مرد کے برابر ہوئی تو مرد کی نماز نہیں ہوگی۔ تو یہ حدیث ایک طرف قیاس ہے، قیاس تقاضا کرتا ہے نماز باطل نہیں ہونی چاہیے، ایک طرف حدیث ہے جس سے کیا ثابت ہو رہا ہے کہ نماز باطل ہو جائے گی اس شخص کی بھئی۔ تو چنانچہ اس مسئلے میں بھی امام محمد رحمہ اللہ نے یہ حدیث چونکہ مجتہد صحابی کی ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی ہے اور وہ معروف ہیں اجتہاد کے اندر مشہور مجتہد صحابی ہیں، تو لہذا حدیث پر عمل کیا اور قیاس کو کیا فرمایا؟ ترک فرمایا بھئی۔ جی مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آیا بھئی؟ اس پر اشکال فقہاء کرام لکھتے ہیں مولانا، کہ مرد کی نماز ہی نہیں ہوگی، ہاں عورت کی نماز ہو جائے گی بھئی۔ کوئی عورت کیا ہے؟ مرد کے برابر کھڑی ہو مولانا، عورت مشتہاة ہے، عاقل ہے اور نماز بھی کامل ہے، رکوع سجدے والی ہے، درمیان میں آڑ بھی کوئی نہیں ہے، جماعت کی نماز امام نے عورت کی نیت بھی کی ہے، تو ان صورتوں میں کیا ہوگا؟ مرد کی نماز اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی جب مرد کی نماز نہیں ہوئی تو عورت کی نماز بھی تو نہیں ہونی چاہیے۔ بھئی حدیث میں کیا حکم دیا گیا؟ کہ عورتوں کو پیچھے رکھو، تو عورت کو بھی کیا ہونا چاہیے خود؟ پیچھے ہونا چاہیے، تو اس نے بھی تو حدیث کی خلاف ورزی کی ہے اور مرد کے برابر میں کھڑی ہوئی ہے، لیکن کیا بات ہے فقہاء کرام کہتے ہیں مرد کی نماز تو نہیں ہوگی لیکن عورت کی نماز ہو جائے گی۔ جواب یہ مولانا، کہ حدیث میں صراحتًا مردوں کو حکم دیا گیا ہے، "اخروهن" کون سا صیغہ ہے مولانا؟ مذکر کا صیغہ ہے، اے مردو تم پیچھے کرو عورتوں کو، تو صراحتًا حکم حکم ہوا مردوں کو، لہذا اب اگر اس کے مرد کے برابر میں کوئی عورت ہوئی تو مرد کے بارے میں ہم حکم لگائیں گے اس کی نماز ہی نہیں ہوئی اور عورت کو چونکہ صراحتًا حکم نہیں اس کے لیے تو حکم ضرورتًا ثابت ہوا۔ صراحتًا تو کس کے لیے ہے؟ مرد کے لیے، اور عورت کے لیے ضرورتًا ثابت ہوا، لہذا عورت کی نماز ہو جائے گی، البتہ وہ گناہ گار ہوگی۔ البتہ وہ کیا ہوگی؟ گناہ گار ہوگی بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ورواہ عن عائشة رضی الله تعالی عنها حدیث القیء وترك القیاس بہ. اور روایت کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے قے کی حدیث کو، اور قیاس کو اس کی وجہ سے ترک فرمایا ہے۔ قیاس کو اس کی وجہ سے ترک فرمایا ہے بھئی۔ جی، چار نمبر حاشیے میں یہ حدیث آپ کے دی ہوئی ہے، اس پر نشان لگا لیجئے جی۔ حدیث القی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا روایت کرتی ہیں "انه قال علیه الصلاة والسلام" کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "منقاء او رعف فی صلاته"، "فی صلاته" ہونا چاہیے بھئی۔ "منقاء" جس نے قے کی "او رعف" یا جسے نکسیر آئی بھئی، نکسیر وہ جو ناک سے خون آتا ہے بھئی۔ جس نے قے کی یا جسے نکسیر آئی "فی صلاته" اس کی نماز میں "فلینصرف" بس اسے چاہیے کہ پھر جائے، واپس لوٹ جائے "ولیتوضأ" اور اسے چاہیے کہ وضو کرے "ولیبن علی صلاته" اور چاہیے کہ وہ بنا کرے اپنی نماز پر "ما لم یتکلم" جب تک اس نے بات نہیں کی بھئی۔ جب تک اس نے بات جی، حدیث کا ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ "منقاء او رعف فی صلاته" جس کو قے آئی یا نکسیر آئی اپنی نماز میں "فلینصرف" اسے چاہیے کہ پھر جائے لوٹ جائے "ولیتوضأ" اور وضو کرے "ولیبن علی صلاته" اور بنا کرے اپنی نماز پر "ما لم یتکلم" جب تک اس نے کلام (یعنی لوٹ جائے بھئی، قے آ گئی نماز کے دوران مثلاً مولانا دو رکعتیں پڑھ چکا تھا، تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا تو اسے قے آ گئی یا نکسیر آئی، حدیث میں آتا ہے کہ وہ پھر جائے، اپنی جگہ سے چلا جائے، سیدھا جا کر وضو کرے اور وضو کر کے واپس آئے اور اسی نماز پر بنا کرے بھئی۔ اسی نماز پر کیا کرے؟ جہاں سے وہ نماز چھوڑی تھی وہیں سے آگے شروع کر دے بھئی۔ دو رکعتیں پہلے پڑھ چکا تھا اور کل چار رکعتیں پڑھنی تھیں تو باقی دو کیا کر لے؟ وہ اسی نماز پر بنا کرے۔ لیکن کب تک؟ "ما لم یتکلم" جب تک اس نے کسی اور سے کلام نہ کیا، اگر وہ جب وضو کرنے گیا درمیان میں کسی سے کلام کر لیا تو نماز ٹوٹ جائے گی مولانا، اب بنا نہیں کر سکتا)۔ اب دیکھیے، یہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث ہے اور حضرت عائشہ مجتہدہ ہیں بھئی اور یہ حدیث خلاف القیاس ہے بھئی۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ جی؟ کہ قے سے، حدیث میں آیا قے سے وضو ٹوٹ جائے گا، حالانکہ قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ قے سے وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے۔ اس لیے کہ قے جو ہے وہ نجس نہیں ہے مولانا، معدے کے اوپر والے حصے سے آتی ہے اور جو کہ محل نجاست نہیں ہے بھئی، لہذا قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ قے کے ساتھ وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے، لیکن حدیث میں کیا ذکر آ رہا ہے؟ کہ جسے قے آئے اسے پھر جا کر کیا کرنا چاہیے؟ وضو کرنا چاہیے، تو یہ حکم حدیث میں آیا اور خلاف القیاس ہے، لیکن یہ حدیث چونکہ ایسی صحابیہ کی ہے جو مجتہدہ ہیں، لہذا ایسی صورت میں کس طرح عمل کا کیا جائے گا؟ حدیث پر عمل کیا جائے گا اور قیاس کو ترک کیا جائے گا۔ قیاس کو ترک کیا جائے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھی طرح؟ قیاس کیا تقاضا کرتا ہے کہ قے سے تو وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے، کیونکہ قے کہاں سے آتی ہے؟ معدے کے اوپر والے حصے سے آتی ہے اور جو محل نجاست نہیں ہے، لہذا وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے۔ لیکن اس مسئلے میں چونکہ حدیثیں مرفوع آ رہی تھیں اور تھیں بھی ایسی صحابیہ کی جو مجتہدہ ہیں، تو امام محمد رحمہ اللہ نے حدیث پر عمل کیا اور قیاس کو کیا کر دیا؟ ترک کر دیا بھئی۔ یہ مولانا، عام شارحین کی تقریر ہے جو اس مقام پر کرتے ہیں بھئی۔ یہ کس کی تقریر ہے؟ عام شارحین کی، مولانا آپ اصول الشاشی کی جتنی شروحات اٹھائیں گے، دیکھیں گے سب نے یہ مسئلہ اسی طرح ذکر کیا ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ مسئلہ ایسا نہیں بھئی۔ مصنف یہاں سے یہ ذکر یہ مراد ان کی نہیں ہے جو شارحین تقریر کرتے ہیں بھئی۔ میں اس مقام پر دوسری تقریر کرتا ہوں اور امید ہے وہ تقریر حق ہوگی مولانا۔ مصنف یہاں سے یہ نہیں بتلانا چاہتے کہ قے کے خلاف قے سے تو وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے اور حدیث کیا ہے؟ خلاف القیاس ہے۔ بلکہ مصنف یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ اس حدیث میں نمازی کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر اسے قے آئے یا نکسیر آئے تو وہ پھر جائے، واپس جا کر وضو کرے اور آ کر پھر اسی نماز پر کیا کرے؟ بنا کرے۔ یہ خلاف القیاس ہے مولانا، اسی نماز پر بنا جائز نہیں ہونی چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے، اس لیے کہ اس شخص کو نماز کے دوران حدث لاحق ہوا ہے، بھئی اس کو قے آئی ہے یا نکسیر آئی ہے اور قے بھی نجس ہے اور نکسیر کے خون نکلا، خون بھی نجس ہے، اور احناف کے نزدیک خروج نجاست بدن سے ہو تو اس صورت میں وضو کیا ہوتا ہے؟ ٹوٹ جاتا ہے، وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو قے آئی یا نکسیر آئی تو وضو ٹوٹ گیا اور جب وضو ٹوٹ گیا تو اب نماز بھی کیا ہونی چاہیے؟ ٹوٹ جانی چاہیے، تو لہذا اب اسی نماز پر بنا صحیح نہیں ہونی چاہیے۔ نیز اس نے عمل کثیر بھی کیا ہے بھئی، وضو ٹوٹ گیا تو وضو کے ٹوٹنے کے بعد وہ پھر کر جائے، گھوم کر جائے، جا کر وضو کرے اور وضو کر کے پھر آئے، تو دیکھو اتنا عمل کثیر کیا، چل کر جانا پڑا، پھر وضو کرنا پڑا، پھر واپس آنا پڑا، تو یہ عمل کثیر بھی کیا ہے؟ نماز کے منافی ہے، اس سے بھی کیا ہے؟ نماز ٹوٹ جاتی ہے، نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ تو حدیث میں حدث کے لاحق ہونے اور عمل کثیر کے باوجود اسی نماز پر بنا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یہ اسی نماز پر بنا کرنا یہ خلاف القیاس ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اسی نماز پر بنا صحیح نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ حدث لاحق ہوا ہے اور نیز عمل کثیر کیا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو حق یہ ہے مولانا، اس مقام پر مصنف کا ارادہ اسی تقریر کا ہے جو میں نے کی ہے۔ جو عام شارحین کرتے ہیں اور جو اسی کتاب کے محشی حضرات آپ حاشیے میں بھی پڑھیں گے تو وہی عام شارحین کی تقریر درج ہے مولانا، وہ تقریر مصنف کی مراد نہیں ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اس کی تائید صاحب اصول الشاشی کے اپنے قول سے بھی ہوتی ہے بھئی۔ کتاب میں نکالیے مولانا، ذرا صفحہ نمبر 86 بھئی، دیکھیے۔ مصنف اصول الشاشی کا قول بھی میری اس تقریر کی تائید کرتا ہے۔ صفحہ نمبر 86 میں دیکھیے، سطر نمبر 5 میں "وقال لو شج في صلاته او احتلم يبني على صلاته بالقياس على ما إذا سبقه الحدث لا يصح لان الحكم في الأصل لم يعقل معناه فاستحالت تعديته إلى الفرع"، یہاں اس مقام پر یہی مسئلہ بیان ہوگا جو میں نے ذکر کر دیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جب اس مقام پر تقریر آئے گی تو آپ دیکھ لیجیے گا، یہی تقریر ہوگی جو میں نے ابھی اس حدیث کے مسئلے میں بیان کی بھئی۔ تو معلوم ہوا بھئی اس مقام پر کیا ہے؟ وہی تقریر ثانی کیا ہے؟ درست ہے، عام شارحین اور محشی حضرات جو تقریر کرتے ہیں وہ درست نہیں بھئی۔ تو میرے خیال میں مصنف یہ مسئلہ ذکر کرنا چاہتے ہیں، بہرحال عام شارحین وہ تقریر کرتے ہیں بھئی۔ اس تقریر کو میں نے اس لیے ترک کیا مولانا، کہ اس تقریر کی صورت میں کیا کہنا لازم آتا ہے؟ کہ قے نجس نہیں۔ یہی مسئلہ ذکر ہوا تھا نا؟ عام شارحین کیا کہتے ہیں؟ کہ قے نجس نہیں، لہذا اس سے وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے، حالانکہ مولانا، قے بالاتفاق نجس ہے۔ تمام فقہاء نے لکھا ہے کہ قے کیا ہے؟ نجس ہے، اور اس تقریر سے تو لازم آتا ہے، کیا کہنا پڑتا ہے؟ کہ قے نجس نہیں، وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے، لیکن حدیث میں کیا حکم دیا جا رہا ہے؟ ٹوٹنے کا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ٹوٹنے کا، لیکن میں نے کیا کہا کہ یہاں کیا تقریر کرنی چاہیے؟ کہ حدث اور عمل کثیر کی وجہ سے اسی نماز پر بنا جائز نہیں ہونی چاہیے، تو اسی نماز پر بنا کا حکم دیا جا رہا ہے، یہ حکم کیا ہے؟ خلاف القیاس ہے، خلاف القیاس ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا، کہ آپ نے کہا قے بالاتفاق نجس ہے، حالانکہ یہ بات اعتراض ہے اعتراض، درست نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے ہاں قے نجس نہیں۔ اسی لیے وہ فرماتے ہیں، کسی کو قے آئے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ نے کیا کہا بھئی یہ تقریر جو میں نے تقریر کی، اس کے اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ نے کہا کہ قے بالاتفاق نجس ہے، حالانکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تو قے نجس نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک قے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ جواب مولانا، یہ بات درست نہیں بھئی، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی قے نجس ہے بھئی۔ باقی رہی یہ بات کہ ان کے نزدیک قے سے وضو کیوں نہیں ٹوٹتا؟ وجہ یہ کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صرف خروج نجاست سے وضو نہیں ٹوٹتا، بلکہ ان کے نزدیک وضو تب ٹوٹتا ہے جب خروج نجاست ہو سبیل معتاد سے۔ جب کیا ہو بھئی؟ خروج نجاست ہو کس سے؟ سبیل معتاد سے، جب نجاست اس راستے سے خارج ہو جس سے عادتًا نجاست خارج ہوتی ہے، یعنی احد السبیلین سے، پیشاب وغیرہ کے جو دو راستے ہیں، ان سے نجاست خارج ہوگی تو وضو ٹوٹے گا ورنہ وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ یہ نہیں ہے کہ ان کے نزدیک قے نجاست نہیں ہے، قے ان کے نزدیک بھی نجست ہے مولانا۔ لیکن چونکہ وہ احد السبيلین سے خارج نہیں، لہذا اس سے وضو بھی نہیں ٹوٹے گا۔ وضو کس نجاست سے ٹوٹتا ہے ان کے نزدیک؟ جبکہ احناف کے نزدیک مولانا، خروج نجاست مطلقاً، بدن سے کہیں سے بھی خروج نجاست ہو تو وضو کیا ہو جایا کرتا ہے؟ ٹوٹ جاتا ہے۔ جبکہ ان کے نزدیک، خروج نجاست کہاں سے ہو بھئی؟ سبیل معتاد سے ہو مولانا تو پھر وضو ٹوٹے گا ورنہ وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے دم مولانا، دم، خون۔ اب امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک خون کے نکلنے سے بھی وضو نہیں ٹوٹتا، آپ کے کہیں زخم لگ گیا، خون نکل آیا، احناف کے نزدیک وضو ٹوٹ گیا لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ خون ان کے نزدیک نجست نہیں ہے، امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ خون کیا ہے؟ نجست ہے، تو پھر بھئی خون نکلا ہے وضو کیوں نہیں ٹوٹا؟ وہ کیا، ان کا کیا جواب ہے؟ کہ خروج نجاست تو یہاں پایا گیا لیکن سبیل معتاد سے نہیں ہے اور خروج نجاست سے تب وضو ٹوٹتا ہے جب وہ کس سے ہو؟ سبیل معتاد سے ہو، سبیل معتاد جس سے عادتاً نجاست خارج ہوتی ہو بھئی۔ جی، اشکال و جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ اشکال یہ ہوتا تھا کہ آپ نے کہا قے بالاتفاق نجست ہے، ہمیں یہ بات تسلیم نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قے نجست نہیں، اسی لیے ان کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹتا۔ جواب میں نے بتلایا کہ نہیں بھئی، ان کے نزدیک بھی قے نجست ہے، البتہ ان کے لیے خروج نجاست سے تب وضو ٹوٹتا ہے جب وہ کس سے ہو سبیل معتاد، یہ سبیل معتاد سے نہیں، یہ اسی طرح ہے جیسے دم مولانا، ان کے نزدیک نجست ہے لیکن اس کے خروج سے بھی وضو نہیں ٹوٹتا کیونکہ وہ کب، جبکہ وہ سبیل معتاد سے نہ ہو مولانا۔ اس پر پھر اشکال ہوتا ہے مولانا۔ کہ آپ نے کیا کہا؟ کہ قے نجست ہے۔ تو اگر قے نجست ہے تو پھر تو اس سے وضو فوراً ٹوٹنا چاہیے چاہے قلیل ہو یا کثیر ہو۔ حالانکہ آپ کیا کہتے ہیں؟ کثیر ہے تو وضو ٹوٹے گا، قے کثیر ہے تو وضو ٹوٹے گا اور قے قلیل ہے تو وضو، ملء الفم پڑھا ہے آپ نے یا نہیں پڑھا بھئی فقہ کی کتابوں میں؟ کہ اگر قے ملء الفم ہوئی، منہ بھر ہوئی تو وضو ٹوٹے گا اور اگر منہ بھر نہ ہوئی تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، تو یہ قلیل اور کثیر ہے، منہ بھر کیا ہے؟ ملء الفم کیا ہے؟ کثیر ہے اور اس سے جو ملء الفم نہ ہو وہ کیا ہے؟ قلیل ہے۔ اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ اشکال پھر یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کہا کہ قے نجست ہے، اگر قے نجست ہے تو قلیل اور کثیر کا فرق نہیں ہونا چاہیے بھئی، چاہے قلیل ہی کیوں نہ ہو قے، پھر بھی وضو ٹوٹنا چاہیے، وضو ٹوٹنے کا حکم لگانا چاہیے کیونکہ چاہے اگرچہ قلیل ہی کیوں نہ ہو، خروج نجاست تو پایا گیا یا نہیں پایا گیا بھئی؟ قے تو نجست ہے آپ نے کہا اور چاہے قلیل ہی کیوں نہ ہو خروج نجاست تو پایا گیا اور جب بھی خروج نجاست پایا جائے تو طہارت کو کیا ہونا چاہیے؟ زائل ہونا چاہیے، لیکن آپ کیا کرتے ہیں؟ قلیل اور کثیر میں فرق کرتے ہیں، ملء الفم ہو تو وضو ٹوٹنے کا حکم لگاتے ہیں، ملء الفم نہیں تو وضو ٹوٹنے کا حکم بھی نہیں لگاتے بھئی۔ جواب مولانا۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھیں مولانا، آپ نے آج تک ملء الفم پڑھا ہے، اس کا معنی کیا ہے؟ ملء الفم قے بھئی، منہ بھر قے سے کیا مراد ہے؟ جی؟ یاد رکھو، ملء الفم وہ قے ہے جسے انسان روکنے سے اور واپس کرنے سے عاجز آ جائے۔ قیمتی بات آپ کو بتلا رہا ہوں مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، لکھ لیجیے بھئی، لکھ لیجیے یہ بات۔ یہ معنی نہیں ہے اتنی قے ہو کہ منہ کو بھر دے، نہیں بھئی نہیں، ملء الفم کا یہ معنی نہیں۔ ملء الفم وہ قے ہے کہ جسے انسان روکنے سے اور واپس کرنے سے عاجز آ جائے، کہ جسے انسان روکنے سے اور واپس کرنے سے عاجز آ جائے۔ جی، لکھ لیا بھئی؟ تو ملء الفم وہ قے ہے جسے انسان روکنے سے اور واپس کرنے سے عاجز آ جائے بھئی۔ تو ہم اس قے کو ناقض وضو قرار دیتے ہیں جو ملء الفم ہو اور اس قے کو ناقض قرار نہیں دیتے جو ملء الفم نہ ہو بھئی۔ وجہ اس کی یہ کہ فم جو ہے، من وجہ داخل کے حکم میں ہے اور من وجہ خارج کے حکم میں ہے۔ فم من وجہ کیا ہے؟ داخل کے حکم میں ہے اور من وجہ خارج کے حکم میں ہے بھئی، آپ دیکھتے نہیں بعض احکامات میں فم پر داخل کا حکم لگایا جاتا ہے، بعض مسائل کے اندر خارج کا حکم لگایا جاتا ہے بھئی۔ دیکھو، وضو کے اندر چہرے کے دھونے کا حکم دیا گیا، معلوم ہوا چہرے کا دھونا فرض ہے اور چہرے میں منہ بھی آتا ہے یا نہیں آتا مولانا؟ لیکن کیا منہ کے اندر کا دھونا، کلی کرنا فرض ہے ہمارے نزدیک؟ فرض نہیں، فرض نہیں ہے معلوم ہوا اگر یہ داخل کے حکم میں ہے، کس کے حکم میں ہے؟ اگر یہ خارج کے حکم میں ہوتا تو خارج کا دھونا تو چہرے کے خارج کا دھونا تو فرض ہے، تو کلی کرنا بھی کیا ہونا چاہیے تھا؟ فرض ہونا چاہیے تھا، معلوم ہوا اسے کون سا حکم دیا یہاں فقہاء نے؟ داخل کا، کون سا؟ داخل، من وجہ یہ داخل ہے، اور من وجہ خارج بھی ہے مولانا۔ روزے میں اگر کوئی روٹی کا ٹکڑا منہ کے اندر رکھ لے، آپ کیا حکم فوراً لگائیں گے؟ روزہ ٹوٹ گیا؟ جی؟ نہیں بھئی، روزہ نہیں ٹوٹا جب تک اس روٹی کا کوئی ذرہ پیٹ، حلق میں چلا جائے پیٹ تک نہ پہنچ جائے روزہ ٹوٹنے کا حکم، منہ میں تو اس نے روٹی کا ٹکڑا رکھا بھئی اس شخص نے۔ تو یہاں پر مولانا منہ کو کون سے حکم، کون سا حکم دے دیا مولانا؟ خارج کا حکم دیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اگر یہ داخل کا حکم میں رکھتے تو پھر تو داخل روٹی ہوئی ہے منہ میں یا نہیں ہوئی بھئی؟ فوراً کیا ہونا چاہیے؟ روزہ ٹوٹنا چاہیے۔ معلوم ہوا فم، منہ جو ہے مولانا، من وجہ داخل کے حکم میں ہے اور من وجہ خارج، بعض مسائل میں داخل کے حکم میں ہے اور بعض میں خارج کے حکم میں ہے۔ پس ناقض وہ قے ہے جو خارج من الفم ہو نہ کہ وہ قے جو کہ خارج إلى الفم ہو۔ جلدی لکھیے بھئی۔ پس ناقض وہ قے ہے، پس ناقض وہ قے ہے جو خارج من الفم ہو، جو کہ خارج من الفم ہو، منہ سے خارج ہو، نہ کہ خارج إلى الفم ہو بھئی۔ منہ تک جو آئے وہ ناقض نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ بھئی، قے کبھی آدمی قابو کر لیتا ہے یا نہیں، روک لیتا ہے یا نہیں بھئی؟ وہ ناقض نہیں ہے بھئی۔ ہاں اگر قے منہ سے نکل آئی، معلوم ہوا منہ سے روک نہیں سکا، انسان اسے روکنے سے عاجز آ گیا، وہ ناقض ہے بھئی۔ معلوم ہوا اسے کون سا حکم دیا یہاں فقہاء نے؟ داخل کا، کون سا؟ داخل۔ جی، کیا لکھا بھئی؟ جی، پس ناقض وہ قے ہے جو خارج من الفم ہو نہ کہ وہ قے جو کہ خارج إلى الفم ہو۔ یعنی جس قے کا واپس کرنا ممکن ہے۔ یعنی جس قے کا واپس کرنا ممکن ہو، یعنی جس قے کا واپس کرنا ممکن ہو، وہ عدم خارج کے حکم میں ہے۔ وہ عدم خارج کے حکم میں ہے۔ اور جس قے کا واپس کرنا ممکن نہ ہو، اور جس قے کا واپس کرنا ممکن نہ ہو، یعنی کثیر ہو، یعنی کثیر ہو، وہ خارج کے حکم میں ہے، وہ خارج کے حکم میں ہے، اور اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ تو ناقض کون سی قے ہے؟ ناقض وہ قے ہے جو خارج من الفم ہو یعنی منہ سے نکل آئے، ہم اسے روک نہیں سکے، واپس نہیں لے جا سکے، وہ قے ناقض ہے مولانا۔ اور جو قے خارج إلى الفم ہے، یعنی منہ تک تو آئی، یعنی حلق تک آئی، بعض اوقات آپ دیکھتے ہیں بھئی حلق میں کیا ہوتا ہے؟ کچھ پانی وغیرہ معدے کا نکل آتا ہے لیکن ہم کیا کر رہے ہوتے ہیں؟ اسی کو واپس لے جاتے ہیں یا وہ واپس چلا جاتا ہے خود ہی، تو یہ قے ہے غیر ملء الفم، قے تو آ گئی مولانا، حلق تک آ گیا یا نہیں بھئی پانی؟ تو قے آ گئی لیکن اسے ہم نے روک لیا، واپس کر لیا، تو یہ ہے غیر ملء الفم، اور اگر ہم اسے روک نہ سکیں اور تھوڑی قے ہو گئی چاہے قلیل ہی کیوں نہ ہو، تو یہ کیا ہے؟ ملء الفم ہے اور اس سے وضو کیا ہوگا؟ ٹوٹ جائے گا، وضو ٹوٹ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ناقض کون سی قے ہوئی؟ خارج من الفم ہو، نہ کہ وہ قے جو خارج إلى الفم ہو، إلى الفم۔ جی، مسئلہ یہ والا مکمل ہوا بھئی، مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ مصنف کتاب کا خلاصہ، مسئلہ دوبارہ سن لو بھئی، مصنف کتاب فرماتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ نے حدیث قے کے اندر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت کی وجہ سے قیاس کو کیا کر دیا؟ ترک کر دیا، کیونکہ حضرت عائشہ مجتہدہ ہیں اور مجتہد صحابی کی حدیث جب قیاس کے خلاف آ جائے تو کس پر عمل کیا جائے گا؟ حدیث پر عمل کیا جائے گا اور قیاس کو ترک کیا جائے گا۔ اس مقام پر دو تقریریں میں نے کیں مولانا، ایک عام شارحین کی تقریر ہے بھئی، عام شارحین کیا فرماتے ہیں کہ یہ حدیث خلاف القیاس کس طرح ہے کہ اس حدیث میں قے کے ذریعے وضو کے ٹوٹنے کا حکم لگایا گیا ہے جبکہ قے کے ذریعے قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ قے کے ذریعے وضو کو نہیں ٹوٹنا چاہیے، اس لیے کہ قے معدے کے اوپر والے حصے سے آتی ہے جو کہ محل نجاست نہیں ہے، تو قیاس تقاضا کرتا ہے اب وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے اور حدیث میں کیا حکم دیا گیا؟ وضو کے ٹوٹنے کا حکم لگایا گیا ہے حدیث میں، تو یہ حدیث خلاف القیاس ہوئی، لیکن چونکہ یہ مجتہدہ کی روایت ہے، لہذا کیا کیا جائے گا؟ قیاس کو امام محمد نے ترک فرمایا اور حدیث پر عمل کیا بھئی۔ دوسری تقریر میں نے کی، کہ بھئی یہ تقریر درست نہیں بھئی، عام شارحین، تمام شارحین یہی تقریر کرتے ہیں بھئی، لیکن یہ تقریر اس مقام پر درست نہیں بھئی، اس لیے کہ اس تقریر سے تو یہ کہنا لازم آتا ہے کہ قے نجست نہیں ہے، حالانکہ قے تو بالاتفاق کیا ہے؟ نجست ہے مولانا۔ بتاؤ پھر کیا مسئلہ خلاف القیاس ہے بھئی؟ اس حدیث میں ہے کہ وہ کیا کرے؟ اس قے یا نکسیر آئے تو پھر جائے جا کر کیا کرے؟ وضو کرے، آئے اور پھر اسی نماز پر بنا کرے، یہ پھر اسی نماز پر بنا کرنا، یہ کیا ہے؟ خلاف القیاس ہے، کیونکہ اسے حدث لاحق ہوا ہے اور نیز اس نے عمل کثیر کیا ہے، تو اب اسے نماز پر بنا جائز نہیں ہونی چاہیے، جبکہ حدیث میں اسی نماز پر بنا کا حکم دیا جا رہا ہے، یہ خلاف القیاس ہے۔ لیکن چونکہ یہ حدیث کس کی ہے؟ مجتہدہ صحابیہ کی ہے، لہذا امام محمد نے حدیث پر عمل کیا اور قیاس کو کیا کر دیا؟ ترک، قیاس تو چاہتا تھا بنا صحیح نہیں ہونی چاہیے۔ پھر اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے اس تقریر میں کیا کہا کہ قے بالاتفاق نجست ہے مولانا، حالانکہ قے تو بالاتفاق نجست نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قے نجست نہیں، اسی لیے ان کے نزدیک قے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ بات درست نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی قے کیا ہے؟ نجست ہے، ہاں وضو اس لیے نہیں ٹوٹتا کہ ان کے، کیونکہ ان کے نزدیک مطلق خروج نجاست سے وضو نہیں ٹوٹتا بلکہ اس وقت وضو ٹوٹتا ہے جب خروج نجاست کہاں سے ہو؟ سبیل معتاد سے ہو، کس سے ہو؟ سبیل معتاد سے، یعنی احد السبيلین سے نجاست خارج ہوگی تو وضو ٹوٹے گا ورنہ وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے خون مولانا، خون کے نکلنے کی صورت میں بھی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹتا، جب کہ عام بدن پر زخم ہو اور اس سے خون نکلے۔ کیوں؟ اس لیے کہ ان کے نزدیک خون نجست تو ہے لیکن سبیل معتاد سے خارج، ہاں سبیل معتاد سے خارج ہوگا تو پھر وہ بھی کس چیز کا حکم لگاتے ہیں؟ وضو کے ٹوٹنے کا حکم لگاتے ہیں۔ اس پر پھر دوسرا اشکال ہوا کہ اگر کہ اگر آپ نے کہا قے نجست ہے تو پھر تو قلیل اور کثیر کا فرق نہیں ہونا چاہیے، کثیر سے بھی وضو جیسے ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح قلیل سے بھی کیا حکم لگانا چاہیے؟ کہ وضو ٹوٹ جائے، کیونکہ چاہے قلیل ہی کیوں نہ ہو، لیکن خروج نجاست تو ہے بھئی۔ اور قے نجس ہے۔ تو جواب میں نے بتلایا بھئی کہ بھئی سب سے پہلے تو قلیل اور کثیر میں ہم فرق کرتے ہیں، کثیر کسے کہتے ہیں جو ملء الفم ہو۔ اور ملء الفم کہتے کس کو ہیں بھئی؟ آپ نے آج تک پڑھا تو تھا لیکن تعریف کا علم نہیں تھا، آج آپ کو اس کی تعریف کا بھی پتہ چل گیا، ملء الفم کسے کہتے ہیں؟ جسے انسان روکنے اور واپس کرنے سے عاجز آ جائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ وہ روکنے اور واپس کرنے سے عاجز آ جائے۔ اور پھر بتلایا کہ ہمارے نزدیک ناقض وہ قے ہے جو ملء الفم ہو، جو ملء الفم نہیں وہ ناقض بھی نہیں۔ وجہ یہ کہ فم من وجہ داخل کے حکم میں ہے اور من وجہ خارج کے حکم میں ہے۔ لہذا ناقض وہ قے ہوگی جو خارج من الفم ہو، منہ سے باہر نکلے بھئی، منہ سے... منہ کو ہم نے داخل والا حکم دے دیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو منہ سے نکلے گی اور منہ سے کون سی قے نکلے گی؟ جو ملء الفم ہوگی۔ تو لہذا وہ قے ناقض نہیں جو خارج إلى الفم ہو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ خارج، تو لہذا وہ قے جو ملء الفم نہ ہو، وہ عدم خارج کے حکم میں ہے، اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اور جو قے ملء الفم ہو، وہ کیا ہے؟ خارج کے حکم میں ہے، کثیر ہے، لہذا اس سے کیا ہوگا؟ وضو ٹوٹ جائے گا۔ تو عام شارحین اس کی وہ دوسری تقریر اس لیے کرتے ہیں غالباً، وہ مغالطے کا سبب دراصل وہ "حدیث القے"، یہ قے کا لفظ ہے مولانا، کیا ہے؟ قے کا لفظ، یہ حدیث چونکہ "حدیث القے" کے نام سے مشہور ہے، تو اس قے سے اور متن میں بھی یہی قے کا لفظ آیا، تو اس سے مغالطہ لگا کہ شاید اسی قے کے مسئلے کی طرف کیا ہے مصنف کا اشارہ، حالانکہ ان کا قے کے مسئلے کی طرف نہیں اشارہ، ان کا اشارہ تو حدیثِ قے کی طرف ہے، اور حدیثِ قے میں خلاف القیاس کیا چیز ہے؟ کہ اسی صلاۃ پر کیا کرے؟ بنا کرے۔ یہ خلاف القیاس ہے، نہ کہ یہ خلاف القیاس ہے کہ قے سے وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے۔ قے سے تو وضو ٹوٹنا ہی چاہیے کیونکہ قے ہے ہی نجس مولانا، قے ہے ہی کیا؟ نجس بھئی، کتنی کراہت آتی ہے قے سے بھئی، آپ جانتے ہیں یا نہیں جانتے بھئی؟ قے تو ہے ہی نجس مولانا۔ تو یہ کیسے کہا گیا، کیسے کہہ سکتے ہیں ہم کہ قے نجس نہیں ہے مولانا؟ قے نجس نہیں۔ دیکھیے کتاب پر بھئی: وَرَوَى عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ حَدِيثَ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ وَتَرَكَ الْقِيَاسَ بِهِ اور روایت کیا حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیثِ سہو کو بھئی، سجدہ سہو والی حدیث روایت کی ہے امام محمد رحمہ اللہ نے، سجدہ سہو بَعْدَ السَّلَامِ کس کے بعد بھئی؟ سلام کے بعد، وَتَرَكَ الْقِيَاسَ بِهِ اور اس کی وجہ سے قیاس کو کیا کر دیا؟ ترک کر دیا ہے بھئی۔ حدیثِ سہو مولانا، دیکھیے حاشیہ نمبر 5 میں دی ہوئی ہے شروع میں بھئی، حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ السَّلَامِ لِكُلِّ سَهْوٍ ہر غلطی کے لیے سَجْدَتَانِ دو سجدے ہیں بَعْدَ السَّلَامِ کس کے بعد؟ سلام کے بعد بھئی، سلام کے بعد۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے کیا ثابت ہوا کہ نماز میں اگر کوئی کوتاہی، غلطی وغیرہ ہو جائے تو پھر کیا کر لو؟ سلام کے بعد کتنے سجدے کر لو؟ دو سجدے کر لو۔ تو یہ حدیثِ مرفوع ہے اور کس راوی کی ہے؟ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے اور حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا ہیں؟ مشہور ہیں کس چیز کے ساتھ؟ اجتہاد کے ساتھ، تو لہذا اب یہ حدیث اگرچہ قیاس کے خلاف ہے، لیکن قیاس کو ترک کیا جائے گا اور کس پر عمل کیا جائے گا؟ حدیث۔ بھئی یہ حدیث قیاس کے خلاف کس طرح ہے؟ وہ اس طرح مولانا کہ یہ حدیث میں کس چیز کا حکم دیا گیا؟ نماز میں کوئی غلطی ہو جائے تو کیا کر لو؟ دو سجدے کر لو، اور کب کرو بھئی؟ سلام کے بعد کرو بھئی، تو یہ دو سجدے اس غلطی کی تلافی کے طور پر ہیں جو نماز میں ہوئی ہے بھئی۔ اور وہ غلطی کوتاہی کس میں ہوئی ہے؟ نماز میں، لہذا جب یہ اس کی تلافی ہے، تو تلافی بھی کس کے اندر ہونی چاہیے؟ نماز کے اندر ہونی چاہیے، اور سلام سے تو بندہ کیا ہے؟ نماز سے باہر آ جاتا ہے، خارج ہو جاتا ہے من وجہ۔ تو لہذا قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ غلطی ہوئی نماز کے اندر تو تلافی بھی کس میں ہو؟ نماز میں ہو، لہذا یہ دو سجدے سلام سے پہلے ہونے چاہئیں یا بعد میں ہونے چاہئیں؟ سلام سے پہلے ہونے چاہئیں بھئی، دو سجدے کیا ہیں سلام سے؟ بھئی کوئی غلطی کس میں ہوئی ہے؟ نماز میں، تو دو سجدے بھی کس میں ہونے چاہئیں؟ معلوم ہوا سلام سے پہلے ہونے چاہئیں، سلام سے پہلے ہونے چاہئیں۔ لیکن حدیث میں کیا آیا ہے کہ سلام کے؟ تو یہ حدیث خلاف القیاس ہے مولانا، لیکن چونکہ یہ مجتہد صحابی کی حدیث ہے، لہذا امام محمد رحمہ اللہ نے قیاس کو ترک فرمایا اور کس پر عمل کیا؟ حدیث پر عمل کیا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے مولانا، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔