LESSONS NO. 21 1 فَصْلٌ. وَيَنبَغِي أَن يُعلَمَ أَنَّ الدَّلَالَةَ اللَّفظِيَّةَ الوَضعِيَّةَ الَّتِي لَهَا العِبرَةُ فِي المَحَاوَرَاتِ وَالعُلُومِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَنهَاءٍ: أَحَدُهَا المُطَابَقِيَّةُ، وَهِيَ أَن يَدُلَّ اللَّفظُ عَلَى تَمَامِ مَا وُضِعَ ذَلِكَ اللَّفظُ لَهُ؛ كَدَلَالَةِ الإِنسَانِ عَلَى مَجمُوعِ الحَيَوَانِ وَالنَّاطِقِ۔ أچھا بھئی! کل ہم دلالتِ مطابقی اور تضمنی کے بارے میں پڑھ رہے تھے۔ دلالتِ مطابقی کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ اپنے پورے معنی موضوع لہٗ پر دلالت کرے، اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ مطابقی۔ اور دلالتِ تضمنی کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ اپنے معنی موضوع لہٗ کے جز پر دلالت کرے۔ تو جب کل مرکب ہوگا تو اس پر جب پوری دلالت ہوگی تو یہ کیا کہلائے گی؟ دلالتِ مطابقی۔ اور جب کل ذہن میں آیا تو ایک ایک جز بھی آگیا، تو دلالتِ مطابقی کے ساتھ ساتھ کیا آگئی؟ دلالتِ تضمنی۔ دلالتِ تضمنی بھی خود بخود ساتھ ہوگئی؛ کیونکہ دلالت کسے کہتے تھے؟ ایک چیز سے دوسری چیز کا علم ہونا، اس کا ذہن میں آنا۔ تو یہ دلالتِ تضمنی ہوئی۔ اور دلالتِ مطابقی کو دلالتِ مطابقی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ مدلول جو ہے جس پر اس نے دلالت کی، وہ اور معنی موضوع لہٗ جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا تھا، دونوں میں مطابقت ہے، دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں۔ جیسے لفظِ انسان کو وضع بھی کیا گیا تھا حیوانِ ناطق کے لیے اور یہ لفظ بولا تو ذہن میں آیا بھی حیوانِ ناطق۔ تو جو ذہن میں آیا وہ ہے مدلول بھئی، جس پر اس نے دلالت کی، اور وضع جس کے لیے کیا گیا تھا وہ بھی کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ تو مدلول اور موضوع لہٗ یہ ایک دوسرے کے مطابق ہیں، ان میں مطابقت ہے، موافقت ہے، بالکل ایک جیسے ہیں؛ اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ مطابقی۔ اور دلالتِ تضمنی کو تضمنی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ مطابقی کے ضمن میں آتی ہے بھئی۔ جب پورا حیوانِ ناطق ذہن میں آگیا تو حیوان بھی آیا یا نہیں آیا؟ کیونکہ حیوانِ ناطق اسی کے اندر حیوان آگیا، اور ناطق بھی ساتھ آگیا۔ تو یہ جو ایک ایک جز پر دلالت ہوگئی، یہ جو ایک ایک جز ذہن میں آگیا تو یہ کیا کہلاتی ہے؟ دلالتِ تضمنی کہلاتی ہے۔ تو تضمنی ہمیشہ مطابقی کے ساتھ آئے گی بھئی؛ کیونکہ یہ تابع ہے دلالتِ مطابقی کے۔ تو دلالتِ تضمنی ہوئی تابع اور مطابقی ہوئی متبوع۔ اور تابع ہمیشہ متبوع کے ساتھ ہوگا۔ سمجھ میں آئی بات؟ بغیر متبوع کے نہیں بھئی۔ جی، اب دیکھیے ذرا کتاب پر بھئی۔ فَصلٌ، أي هذَا فَصلٌ، یہ فصل ہے۔ وَيَنبَغِي، اور مناسب ہے۔ أَن يُعلَمَ، کہ یہ جان لیا جائے۔ أَنَّ الدَّلَالَةَ اللَّفظِيَّةَ الوَضعِيَّةَ، کہ وہ دلالتِ لفظیہ وضعیہ۔ الَّتِي لَهَا العِبرَةُ فِي المَحَاوَرَاتِ وَالعُلُومِ، وہ دلالتِ لفظیہ وضعیہ جس کا اعتبار ہے گفتگو اور علوم کے اندر—محاورات کا کیا معنی؟ گفتگو اور بات چیت—جس کا اعتبار ہے بات چیت اور علوم میں۔ عَلَى ثَلَاثَةِ أَنهَاءٍ، وہ تین قسم پر ہے۔ أَحَدُهَا المُطَابَقِيَّةُ، ایک ان میں سے دلالتِ مطابقیہ ہے۔ وَهِيَ أَن يَدُلَّ اللَّفظُ عَلَى تَمَامِ مَا وُضِعَ ذَلِكَ اللَّفظُ لَهُ، اور وہ یہ کہ دلالت کرے لفظ—أَن يَدُلَّ اللَّفظُ، وہ یہ کہ دلالت کرے لفظ—عَلَى تَمَامِ مَا وُضِعَ ذَلِكَ اللَّفظُ لَهُ، عَلَى تَمَامِ مَا، اس پورے پر کہ دلالت کرے لفظ اس پورے پر وُضِعَ ذَلِكَ اللَّفظُ لَهُ، کہ جس کے لیے وضع کیا گیا ہے وہ لفظ بھئی۔ کہ جس کے لیے وہ لفظ بھئی۔ تو وہ تو وہ یہ کہ دلالت کرے لفظ بھئی، عَلَى تَمَامِ مَا اس پورے پر وُضِعَ ذَلِكَ اللَّفظُ لَهُ، جس کے لیے وہ لفظ وضع کیا گیا ہے۔ كَدَلَالَةِ الإِنسَانِ عَلَى مَجمُوعِ الحَيَوَانِ وَالنَّاطِقِ، جیسے کہ لفظِ انسان کی دلالت حیوان اور ناطق کے مجموعے پر۔ انسان کی دلالت کس پر؟ حیوان اور ناطق کے مجموعے پر۔ انسان بولتے ہی ذہن میں کیا آیا؟ حیوانِ ناطق، تو دیکھو حیوان اور ناطق ان کا مجموعہ پورا ذہن میں آیا بھئی۔ وَثَانِيهَا، اور ان میں سے دوسری جو ہے ان تین میں سے۔ التَّضَمُّنِيَّةُ، وہ دلالتِ تضمنیہ ہے۔ وَهِيَ أَن يَدُلَّ اللَّفظُ، اور وہ یہ کہ دلالت کرے لفظ۔ عَلَى جُزءِ المَعنَى المَوضُوعِ لَهُ، معنی موضوع لہٗ کے جز پر بھئی۔ عَلَى جُزءِ المَعنَى المَوضُوعِ لَهُ، معنی موضوع لہٗ کے جز پر، اس معنی موضوع لہٗ کے جز پر دلالت کرے۔ كَدَلَالَتِهِ عَلَى الحَيَوَانِ فَقَط، كَدَلَالَتِهِ ہے آپ کی کتابوں میں؟ تا کے ساتھ ہا ملی ہوئی ہے؟ ہا ملی ہونی چاہیے بھئی۔ ضمیر ساتھ ہونی چاہیے۔ كَدَلَالَتِهِ، ہا ضمیر راجع ہے انسان کو، لفظِ انسان کو۔ كَدَلَالَتِهِ، جیسے کہ لفظِ انسان کی دلالت عَلَى الحَيَوَانِ فَقَط، صرف کس پر؟ صرف حیوان پر۔ یا اسی طرح جیسے میں نے بتایا انسان کی دلالت صرف کس پر؟ ناطق پر، یہ کیا ہے؟ دلالتِ تضمنیہ ہے۔ وَثَالِثُهَا الدَّلَالَةُ الالتِزَامِيَّةُ، اور تیسری جو ہے ان میں سے وہ دلالتِ التزامی ہے بھئی، التزامی۔ بھئی! دلالتِ التزامی اسے کہتے ہیں کہ ایک لفظ آپ نے بولا، اس لفظ سے ایک تو پورا معنی موضوع لہٗ آیا۔ اور پورا موضوع لہٗ جب ذہن میں آگیا اور وہ موضوع لہٗ فرض کرو اس کے دو جز تھے یا تین تھے یا چار تھے، تو وہ سارے آگئے یا نہیں بھئی؟ چار، وہ مجموعہ پورے کے لیے لفظ وہ لفظ وضع تھا تو وہ سارے کے سارے کیا ہوئے؟ آپ کے ذہن میں آگئے۔ اور ساتھ ہی ایک اور چیز بھی ذہن میں آئی جس کے لیے یہ لفظ وضع نہیں ہے، لیکن وہ چیز اس موضوع لہٗ کے ساتھ لازم ہے۔ اس سے جدا نہیں ہوتی بھئی۔ آپ کو علم ہے یہ چیز اس سے جدا نہیں ہوتی، تو جـ- تو جب موضوع لہٗ ذہن میں آیا تو وہ دوسری چیز بھی ساتھ ہی خود ذہن میں آگئی۔ مثلاً سورج، سورج ایک چمکدار جسم کے لیے مثلاً وضع ہے، تو جیسے ہی میں نے سورج کہا چمکدار وہ چمکدار جسم آپ کے ذہن میں آگیا۔ اور سورج کے ساتھ روشنی لازم ہے بھئی۔ سورج کے ساتھ لازم ہے، اس سے جدا نہیں ہو سکتی، سورج ہو اور روشنی نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو سورج کے ساتھ روشنی لازم ہے، تو اس سورج کا جیسے ہی ذہن میں تصور آیا ساتھ ہی روشنی کا بھی تصور آگیا۔ حالانکہ روشنی کے لیے یہ لفظِ سورج وضع نہیں ہے، یہ تو وہ جو چمکدار ایک جسم ہے اس کا نام رکھا ہے ہم نے۔ وہ جو ایک چمکدار جسم ہے اس کا نام ہم نے رکھا ہے، لیکن جیسے ہی سورج کا تصور آیا ساتھ ہی کس کا تصور آگیا؟ روشنی کا تصور آگیا۔ اب روشنی کے لیے تو لفظِ سورج نہیں وضع، یہ تو اس چمکدار، چمکدار جسم کے لیے لفظ وضع ہے۔ لیکن آپ کو پتہ ہے کہ یہ روشنی جب بھی سورج ہوگا کیا ہوگی؟ روشنی ہوگی، دن ہوگا۔ تو یہ روشنی اس سے جدا نہیں ہوتی بھئی۔ تو لہٰذا جیسے ہی سورج کا تصور ذہن میں آتا ہے ساتھ ہی اس روشنی کا بھی تصور آجاتا ہے کہ سورج کے ساتھ کیا لازم ہے؟ روشنی۔ تو دیکھو اب لفظ، دلالت کسے کہتے تھے؟ ایک چیز کے علم سے دوسری چیز کا علم ہو جائے۔ تو یہاں سورج کے علم سے ساتھ ہی ایک اور چیز کا بھی علم آگیا اور وہ کیا ہے؟ روشنی۔ تو یہ دلالت ہوگئی۔ اور یہ روشنی کیا اس لفظ کے لیے معنی موضوع لہٗ ہے؟ روشنی اس کے لیے معنی موضوع لہٗ نہیں ہے بھئی۔ تو اس، یہ تو سورج تو کس چیز کا نام ہے؟ ایک چمکدار جسم کا۔ تو چمکدار بھی ہو اور جسم بھی ہو، یہ تو ہیں اس کے معنی، اس کے جز ہوگئے بھئی، جسم ہو اور چمکدار ہو۔ تو جب میں نے کہا سورج، تو جـ- جب چمکدار جسم پورا ذہـ- ذہن میں آگیا تو چمکدار بھی آگیا۔ جسم بھی آگیا ذہن کے اندر، تضمنی بھی ہوگئی۔ مطابقی کے ساتھ ساتھ تضمنی خود بخود آ جاتی ہے ساتھ بھئی، جب کل پہ دلالت ہوتی ہے تو جز پہ خود بخود دلالت ہو جاتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً میں کہتا ہوں درجہ ثانیہ والے، درجہ ثانیہ اب آپ میں سے ایک لڑکا نہیں ہے بلکہ پوری جماعت مراد ہے، پوری جماعت ہے درجہ ثانیہ والی۔ لیکن جب پوری جماعت ذہن میں آئی تو ایک ایک لڑکا بھی آگیا یا نہیں؟ پوری جماعت کا معنی ہی یہ ہے کہ ایک ایک لڑکا ذہن میں آگیا۔ تو اس کا اس کی دلالت کرنا پورے پوری جماعت پر، یہ کیا ہوئی؟ دلالتِ مطابقی۔ اور ایک ایک لڑکے پر جو جو ذہن میں آ رہا ہے، تو ذہن میں آیا دلالت ہوگئی یا نہیں؟ دلالت بھی کسے کہتے تھے؟ ایک لفظ کے بولنے سے دوسری چیز ذہن میں آ جائے، تو ایک ایک لڑکا بھی ذہن میں آگیا، تو یہ کون سی دلالت ہوگئی؟ تضمنی ہوگئی۔ اور اس کے ساتھ ایک اور چیز بھی ذہن میں آگئی۔ کیا؟ کہ بڑے بڑے منطقی ہیں یہ سارے بھئی۔ ثانیہ والے ہوں اور منطقی نہ ہوں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے، محنتی جماعت ہو، اچھی طرح پڑھنے والی ہو تو بڑے منطقی ہیں۔ تو اب بڑے یہ درجہ ثالثہ والـ- درجہ ثانیہ والے، اب ثانیہ والے اس میں کوئی منطق کا دخل ہے یا اس کے لیے وضع ہے؟ لیکن وہ ایک چیز خود بخود ساتھ ذہن میں آ رہی ہے، تو دلالت ہوگئی یا نہیں؟ دلالت اسی کو تو کہتے تھے ایک چیز سے دوسری چیز ذہن میں آ جائے۔ تو یہاں بھی درجہ ثانیہ والے کہا تو ساتھ ہی کیا ذہن میں آگیا؟ کہ یہ بڑے بڑے چھوٹے موٹے منطقی نہیں ہیں، بڑے منطقی ہیں بھئی۔ تو یہ بھی ذہن میں آیا، تو یہ معنی موضوع لہٗ سے خارج چیز ذہن میں آگئی۔ اور کیوں ذہن میں آئی؟ کیونکہ یہ ان کے ساتھ لازم ہے، ان سے جدا ہوتی ہی نہیں ہے۔ درجہ ثانیہ والے ہوں اور بڑے منطقی نہ ہوں۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو لہٰذا یہ چیز جو ساتھ ذہن میں آئی، یہ معنی موضوع لہٗ نہیں لیکن ذہن میں تو آگئی، ذہن میں آئی تو یہ ہوئی دلالت، اور یہ دلالت پھر کیا کہلائے گی؟ دلالتِ التزامی کہلائے گی بھئی۔ التزام سے، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ جس میں ایک چیز کیا ہوتی ہے؟ دوسری کے ساتھ لازم ہوتی ہے۔ تو سورج کا لفظ بولتے ہی روشنی بھی ذہن میں آگئی۔ اسی طرح انسان کس کے لیے وضع ہے؟ حیوانِ ناطق کے لیے، حیوانِ ناطق کے لیے۔ حیوانِ ناطق کا کیا معنی؟ ناطق نطق سے، بولنے والا۔ حیوانِ ناطق، بولنے والا جاندار، باتیں کرنے والا جاندار۔ اور کوئی جانور باتیں کرتا ہے بھئی؟ جو صرف انسان ہے۔ تو یہ باتیں کرنـ- تو ناطق کا معنی ہے باتیں کرنے والا جاندار، یا اسی طرح بعض کہتے ہیں معنی ہے اس کا کہ منطق میں اس سے مراد ہوتی ہے عقل، عقل رکھنے والا۔ کیا معنی؟ عقل رکھنے والا۔ تو چاہے وہ معنی کر لیں یا یہ معنی کر لیں۔ حیوانِ ناطق کا معنی باتیں کرنے والا جاندار، یا حیوانِ ناطق کا معنی کر لیں عقل رکھنے والا جاندار بھئی۔ ناطق کا کیا معنی کرتے ہیں؟ عقل و شعور، عقل و شعور رکھنے والا جاندار۔ تو جب عقل و شعور کرنے والا جاندار یہ آپ کے ذہن میں بات آگئی تو ساتھ ہی یہ بھی بات ذہن میں آگئی کہ بھئی جب یہ عقل رکھنے والا ہے تو جن علوم کے لیے عقل کی ضرورت پڑتی ہے، عقل تو اس کے پاس ہے، تو جن علوم کے لیے عقل کی ضرورت پڑتی ہے معلوم ہوا وہ علوم حاصل کرنے کی اس میں صلاحیت ہے۔ معلوم ہوا اس میں ان علوم کے حاصل کرنے کی صلاحیت ہے۔ تو یہ علم کی صلاحیت یہ بھی ساتھ ہی ذہن میں آگئی کہ انسان میں کیا ہے؟ علم کی صلاحیت ہے؛ کیونکہ علم کے لیے عقل چاہیے اور عقل تو اس میں ہے۔ تو لہٰذا تو یہ جو علم کی صلاحیت، یہ انسان کے مفہوم کا نہ یہ کل ہے، نہ جز ہے بلکہ یہ خارجی چیز ہے، خارجی الگ بات ہے۔ تو یہ بھی ساتھ ذہن میں آگئی۔ اسی طرح بھئی، لکھنے کا فن، لکھنا لکھنا بھی صرف کس کو آتا ہے؟ اور جانداروں کو نہیں بلکہ صرف انسان ہی لکھنے والا ہے، یہ فن صرف وہی جانتا ہے، تو وہ بھی ذہن میں آگئی۔ تو یہ جو لفظِ انسان کی دلالت ہے پورے معنی موضوع لہٗ پر، حیوانِ ناطق آپ کے ذہن میں آیا تو دلالت ہوگئی۔ یہ کون سی دلالت؟ دلالتِ پورا ذہن دلا- پورا ذہن میں آگیا حیوانِ ناطق، یہ ہوئی دلالتِ مطابقی۔ اور جب پورا حیوانِ ناطق آیا تو حیوان اور ناطق دونوں ہیں یا نہیں اس میں؟ تو حیوان پر بھی دلالت ہوگئی اور ناطق پر بھی، یہ کیا ہے؟ یہ دلالتِ تضمنی ہے۔ اور ساتھ اس کے علم کی قابلیت ہے اس میں، علم کی صلاحیت ہے اور اسی طرح یہ اس یہ لکھنے کے لکھنے کا فن، لکھنے کا ہنر جو ہے وہ اس کی صلاحیت بھی ہے اس میں، تو یہ دونوں چیزیں بھی آگئیں۔ یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالتِ التزامی۔ یا جیسے سورج بولا تو سورج کے ساتھ ہی کس کا تصور آگیا؟ روشنی۔ حالانکہ روشنی اس کا مفہوم کا جز نہیں، ایک خارجی چیز ہے، تو یہ کیا ہوئی دلالتِ التزامی۔ یا جیسے مثلاً سورج بولا اور اس کے ساتھ دھوپ کا تصور ذہن میں آگیا۔ سورج کا لفظ بولتے ہی دھوپ کا تصور ذہن میں آگیا۔ اب دھوپ کے لیے تو سورج کا لفظ نہیں وضع، لیکن دھوپ سورج کے ساتھ لازم ہے، جب بھی سورج نکلے گا کیا ہو جائے گی؟ دھوپ نکل آئے گی۔ تو یہ جو دھوپ پر اس کی دلالت ہو جائے گی، یہ کیا کہلائے گی؟ دلالتِ التزامی، جو معنی موضوع لہٗ بھی نہیں، معنی موضوع لہٗ کا جز بھی نہیں، اس سے خارج ہے، تو اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے، وہ بھی ذہن میں آ رہا ہے، یہ کیا دلالت ہوئی؟ دلالتِ التزامی ہوگئی بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تو معنـ- پورے معنی موضوع لہٗ پر جو دلالت ہو جاتی ہے، وہ کیا ہوتی ہے؟ مطابقی۔ اس کے جب کل پر دلالت ہوئی تو جز بھی، ان پر بھی دلالت ہوگئی، وہ جز بھی ذہن میں آ رہا ہے، یہ کیا ہوئی؟ دلالتِ تضمنی۔ اور اس کے ساتھ جو اس کا کوئی لازم ہو جو اس سے جدا ہی نہیں ہوتا، وہ بھی ساتھ ذہن میں آ جاتا ہے، تو اس لازم پر بھی دلالت ہوگئی، یہ کیا کہلائے گا؟ دلالتِ التزامی کہلائے گا بھئی۔ اسی طرح اندھا ہونا، نابینا نابینا ہونا اور بینائی دیکھـ- بینا ہونا، دیکھنے والا ہونا۔ تو نابینا ہونے کے ساتھ ہی بینا ہونے کا تصور بھی ذہن میں آ جاتا ہے۔ 2 جس میں دیکھنے کی صلاحیت تھی، لیکن اب وہ دیکھ نہیں پا رہا۔ جس میں کیا تھی؟ ایک جس میں دیکھنے کی صلاحیت تو ہے، لیکن اب وہ دیکھنے کے دیکھ اب وہ دیکھ نہیں پا رہا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اندھا کہتے ہیں بھئی۔ تو سمجھ میں آیا؟ ہر چیز کو اندھا نہیں کہہ سکتے۔ اندھا اسی کو کہیں گے جس میں دیکھنے کی صلاحیت تو تھی، لیکن اب اس وقت کسی عارض، کسی مرض کی وجہ سے وہ اس کی دیکھنے کی صلاحیت کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی۔ تو چنانچہ کسی انسان یا جانور کو تو اندھا کہیں گے، کیونکہ ان میں دیکھنے کی صلاحیت تھی، لیکن اب کسی مرض کی وجہ سے یہ کیا ہوا؟ یہ قوت اس کی ختم ہو گئی اور اس لیے ان کو اندھا کہیں گے۔ دیوار کو اندھا نہیں کہیں گے بھئی۔ کیوں نہیں کہہ سکتے؟ اس میں دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ تو لہٰذا، اندھے ہونے کے ساتھ ہی بینا ہونے کا تصور بھی ذہن میں خود بخود آ جاتا ہے۔ جب اندھا کہا، معلوم ہوا اس میں دیکھنے کی صلاحیت تھی، لیکن اس وقت کسی عارض کی وجہ سے یہ کیا ہو چکا؟ اپنی بینائی کھو چکا ہے۔ تو لہٰذا، اندھے ہونے کے ساتھ بینائی کا تصور خود بخود آئے گا بھئی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ کسی اور چیز کو جس میں دیکھنے کی صلاحیت ہی نہ ہو، اسے اندھا نہیں کہا جاتا۔ دیوار کو یا یہ قلم کو یا یہ کتاب کو اندھا کوئی بھی نہیں کہتا بھئی، حالانکہ ان میں بھی دیکھنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو اندھا صرف کسے کہتے ہیں؟ جس میں کیا ہو؟ دیکھنے کی صلاحیت ہو، لیکن پھر اس کے بعد کسی عارض کی وجہ سے اب وہ دیکھ نہیں سکتا بھئی۔ تو دیکھیے، اب کتاب پر کہتے ہیں: والثالثة الدلالة الالتزامية اور ان تین میں سے تیسری جو ہے، وہ دلالتِ التزامیہ ہے۔ وهي اور وہ یہ: أن لا يدل اللفظ على الموضوع له کہ دلالت نہ کرے لفظ اپنے معنیِ موضوع لہُ پر، اس پر دلالت نہ کرے، ولا على جزئه اور نہ اس کے جز پر دلالت کرے، بل على معنى خارجي بلکہ ایک ایسے معنیٰ پر جو اس سے خارج ہو، لازم للموضوع له جو لازم ہو موضوع لہُ کے لیے، لازم ہو اس پر دلالت کرے۔ اچھا بھئی، لازم کسے کہتے ہیں؟ لازم کا لفظ آیا، تو وہ بھی بتلانے لگے ہیں۔ نام سے ہی پتہ چل گیا۔ جو دوسرے سے جدا نہ ہوتا ہو۔ اس کے ساتھ ہے، ذہن خود اس کی طرف کہتے ہیں: واللازم هو ما ينتقل الذهن من الموضوع له إليه لازم وہ ہے کہ منتقل ہوتا ہو ذہن موضوع لہُ سے إليه اس کی طرف۔ لازم وہ چیز ہے کہ موضوع لہُ سے ذہن اس کی طرف منتقل ہوتا ہو۔ سورج سے ذہن کس کی طرف منتقل ہوتا ہے سورج بولنے سے؟ روشنی کی طرف۔ انسان بولنے سے ذہن میں اور کیا چیز آتی ہے، کس کی طرف منتقل ہوتا ہے ذہن؟ قابلیتِ علم اور قابلیتِ کتابت کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے، وہ بھی ذہن میں ساتھ آ جاتے ہیں بھئی۔ اور جیسے اندھا بولنے سے کس کی طرف ذہن چلا جاتا ہے؟ بینا ہونے کی طرف، بینا کی طرف ذہن چلا جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: كدلالة الإنسان على قابل العلم وصنعة الكتابة جیسے کہ انسان کی دلالت علم کی قابلیت پر وصنعة الكتابة اور لکھنے کے ہنر پر، وكدلالة لفظ العمى على البصر عمى کہتے ہیں اندھا ہونا بھئی، اور بصر بینا ہونا۔ دیکھنا۔ كدلالة لفظ العمى على البصر جیسے کہ عمىٰ کی دلالت بصر پر بھئی، عمىٰ کی دلالت بصر پر بھئی، یعنی نابینائی کی دلالت بینائی پر بھئی۔ بات یہاں تک سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اچھا بھئی، یہ تو آپ کو پتہ چل گیا۔ دلالتِ مطابقی کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ اپنے معنیِ موضوع لہُ کے کل پر، کل پر دلالت کرتا ہے۔ اور دلالتِ تضمنی کسے کہتے ہیں؟ معنیِ موضوع لہُ کے جز پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ جب کل پہ دلالت ہو گی اور کل کے ہیں جز بھی، اجزاء بھی ہیں، تو کل کے ساتھ کیا آ جائے گا؟ جز بھی آ جائے گا۔ مثلاً، میں نے کہا 'انسان'، آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ حیوانِ ناطق۔ تو دیکھو جب حیوانِ ناطق پورا آ رہا ہے، تو اسی کے اندر حیوان بھی آ رہا ہے اور ناطق بھی آ رہا ہے، ہر ہر جز ساتھ آ رہا ہے، تو یہ جو ہر ہر جز پہ دلالت ہے، یہ کون سی دلالت ہے؟ دلالتِ تضمنی۔ اور اگر لفظ دلالت کرے اپنے معنیِ موضوع لہُ کے خارج پر، ایسا خارج جو اس کے ساتھ لازم ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ التزامی۔ تو بس اب دلالتِ مطابقی، تضمنی اور التزامی کا مفہوم آپ نے یاد رکھنا ہے۔ آگے کہیں آ جائے اگر کہیں کہ یہ دلالتِ مطابقی ہے، تو آپ سمجھ جائیں کیا کر رہا ہے لفظ اپنے معنیِ موضوع لہُ کے کل پر دلالت کر رہا ہے۔ اور دلالتِ تضمنی کہیں یہ دلالتِ تضمنی ہے، تو آپ سمجھ جائیں کہ یہاں لفظ کیا کر رہا ہے اپنے معنیِ موضوع لہُ کے جز پر دلالت کر رہا ہے۔ اور کہیں آ جائے یہ دلالتِ التزامی ہے، تو کیا کہیں گے کہ لفظ اپنے معنیِ موضوع لہُ کے لازم پر دلالت کر رہا ہے، لازم جو اس سے جدا نہیں ہوتا، خود بخود ذہن اس کی طرف چلا گیا۔ اچھا، اب دیکھیے بھئی، میں نے کہا 'انسان'۔ آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ حیوانِ ناطق۔ یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالتِ مطابقی۔ اچھا، جب حیوانِ ناطق پورا آیا، تو حیوان بھی اسی میں ہے، ناطق بھی اسی میں ہے، تو یہ حیوان بھی ذہن میں آیا، یہ کیا ہے؟ دلالتِ تضمنی۔ اور ناطق بھی آیا، یہ کیا ہے؟ یہ بھی دلالتِ تضمنی۔ اور ایک اس کا لازم بھی ذہن میں آیا، وہ کیا؟ کون سی کس چیز پر دلالت ہوئی؟ قابلیتِ علم پر بھی اس کی دلالت کہ انسان ہے، تو اس میں علم کی قابلیت ہے، صلاحیت ہے۔ انسان ہے، تو اس کے اندر لکھنے کی صلاحیت ہے بھئی۔ تو یہ جو دلالت ہوئی، یہ کون سی ہے؟ دلالتِ التزامی ہے۔ تو دیکھو بھئی، دلالتِ التزامی کس سے آ رہی ہے، کس لفظ سے؟ انسان کے لفظ سے، کس لفظ سے ہو رہی ہے یہ دلالت؟ تینوں دلالتیں اکٹھی ہو رہی ہیں۔ موضوع لہُ کا کل بھی ذہن میں آ رہا ہے، اس کا ایک ایک جز بھی آ رہا ہے اور اس کا ایک خارجِ لازم بھی آ رہا ہے۔ تو لفظ اپنے کل پہ بھی دلالت کر رہا ہے یا نہیں؟ جز پہ بھی کر رہا ہے یا نہیں؟ دلالتِ التزامی کے ساتھ کل پہ بھی دلالت ہو گئی اور جز پہ بھی دلالت ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دلالتِ التزامی کے ساتھ جز پہ بھی دلالت ہو گئی اور کل پہ بھی۔ یعنی دلالتِ التزامی کے ساتھ مطابقی بھی آ گئی اور تضمنی بھی آ گئی۔ توجہ سے سننا بھئی! کیا ہوا دلالتِ التزامی کے ساتھ ساتھ لفظ نے کس پر دلالت کر دی؟ کل پر بھی دلالت کر دی اور جز پر بھی دلالت کر دی۔ اسی ایک لفظ 'انسان' نے کی ہے نہ یہ؟ تو دلالتِ التزامی اسی لفظِ انسان میں جیسے دلالتِ التزامی ہے، اسی کے اندر مطابقی بھی ہے، اسی کے اندر تضمنی بھی ہے۔ لیکن انہوں نے تعریف کی، کیا کی؟ التزامیہ دلالتِ التزامیہ وهي وہ یہ ہے: أن لا يدل اللفظ على الموضوع له کہ لفظ دلالت نہ کرے معنیِ موضوع لہُ پر۔ انسان ابھی دلالت کر رہا تھا، انسان کے ساتھ قابلیتِ علم بھی آ رہی تھی، یہ قابلیتِ علم کیا ہے؟ التزامی، اور ساتھ انسان حیوانِ ناطق پر بھی دلالت کر رہا ہے یا نہیں کر رہا؟ وہ بھی کر رہا ہے۔ حالانکہ یہ التزامی میں کہہ رہے ہیں: وهي أن لا يدل اللفظ على الموضوع له کہ لفظ کیا ہے معنیِ موضوع لہُ پر دلالت حالانکہ وہ کر رہا ہے یا نہیں کر رہا؟ اسی وقت جس وقت قابلیتِ علم آ رہی ہے، ساتھ ساتھ حیوانِ ناطق بھی تو ذہن میں آ رہا ہے۔ اور یہ کیا تعریف کر رہے ہیں دلالتِ التزامی کی؟ موضوع لہُ کا ذہن موضوع لہُ پر دلالت نہ ہو، حالانکہ ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی؟ اسی لفظ سے قابلیت بھئی، دلالت کسے کہتے تھے؟ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ لگے۔ تو لفظِ انسان سے آپ کو دو تین چیزوں کا پتہ لگ گیا۔ ایک کیا پتہ لگ گیا؟ حیوانِ ناطق کا بھی پتہ لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ حیوان بھی ذہن میں آیا، تو ایک ہی لفظ سے، پھر ناطق بھی اسی سے سمجھ میں آ رہا ہے۔ قابلیتِ علم بھی اسی سے سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو انسان سے یہ تینوں چاروں چیزیں سمجھ میں آ رہی ہیں، تو مطابقی بھی ہوئی، تضمنی بھی ہوئی اور التزامی بھی ہوئی۔ اور یہ کیا کہہ رہے ہیں التزامی یہ ہے کہ لفظ موضوع لہُ پر دلالت نہ کرے، موضوع لہُ کیا تھا انسان کا؟ حیوانِ ناطق۔ تو قابلیتِ علم کے ساتھ حیوانِ ناطق سمجھ میں آ رہا ہے یا نہیں آ رہا؟ وہ بھی آ رہا ہے، اور یہ کہتے ہیں کہ وہ لفظ اپنے معنیِ موضوع لہُ پر دلالت نہ، ولا على جزئه اور جز پر بھی دلالت نہ کرے۔ حالانکہ یہ تو یہاں کر رہا ہے۔ عین اسی وقت جب قابلیتِ علم ذہن میں آ رہی ہے، ساتھ ساتھ کل یعنی حیوانِ ناطق بھی آ رہا ہے اور جز یعنی حیوان اور ناطق بھی آ رہا ہے۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ لفظ اپنے دلالتِ التزامی کہ لفظ اپنے معنیِ موضوع لہُ پر دلالت نہ کرے اور اس کے جز پر بھی دلالت نہ کرے، حالانکہ یہ تو یہاں کر رہا ہے۔ تو جواب یہ بھئی، کہ یہ دلالتِ التزامی کی بات کر رہے ہیں، دلالتِ التزامی کے اندر جو ہے، دلالتِ التزامی کیا تھی؟ انسان کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ قابلیتِ علم پر۔ تو جب یہ قابلیتِ علم پر دلالت کر رہا ہے، یہ ہے دلالتِ التزامی، اس کے اندر دیکھو یہ نہ جز ہے اس کا اور نہ اس کا کل ہے بھئی۔ ویسے تو کل یا جز پہ وہ کرے گا دلالت اگر کل یا جز ہوں گے، لیکن جس کا نام ہم نے 'التزامی' رکھا ہے، التزامی یہ والی جو دلالت ہے، یہ خارج والی دلالت کو کہتے ہیں جس میں خارج پہ دلالت ہو رہی ہے، اس میں نہ جز پہ دلالت ہے اور نہ کل۔ بات سمجھ میں آئی؟ ویسے تو مطابقی ساتھ ہو گی، تضمنی بھی ساتھ ہو گی، لیکن نام ہم نے التزامی کس کا رکھا؟ جو خارجِ لازم پہ دلالت کرے۔ تو اس خارجِ لازم پر جو دلالت ہو رہی ہے، اس دلالت کے اندر کل والی دلالت مراد ہے؟ جز والی ہے؟ بس یہی بات کر رہے ہیں کہ وہاں کل پر بھی دلالت نہیں ہو گی اور جز پر بھی۔ کل پہ جو دلالت ہو گی، وہ مطابقی دلالت ہے، التزامی نہیں۔ جز پہ دلالت، وہ تضمنی ہے، یہ والی التزامی نہیں۔ تو التزامی کے اندر نہ کل پہ دلالت ہے نہ جز۔ اگر کل پہ دلالت ہو، وہ تو مطابقی ہے، التزامی نہیں۔ اگر جز پہ دلالت ہو، وہ تو تضمنی ہے، التزامی نہیں بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے کہ دلالتِ التزامی کے اندر جو ہوتا ہے، وہ لفظ موضوع لہُ کے کل یا جز پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ ایک معنیِ خارج پر دلالت کرتا ہے۔ اور پھر اسی کی مثال جیسے ذکر کی: كدلالة لفظ العمى على البصر عمىٰ کہتے ہیں اندھا پن، اندھا پن۔ بصر کہتے ہیں بینائی کو، بینائی، دیکھنا، دیکھنے کی طاقت جو ہے۔ تو دیکھو، اندھے پن کا تصور آتے ہی بینائی کا تصور ذہن میں آ جاتا ہے، کیونکہ اندھا پن وہیں ہو گا جہاں بینائی کی طاقت اور صلاحیت تھی۔ اندھا پن وہیں ہو گا جہاں پر کیا تھی؟ بینائی اور دیکھنے کی صلاحیت تھی، تو اندھا پن کہتے کس کو ہیں؟ بصر کا کیا معنی؟ بینائی۔ اسی بینائی کا عدم کیا کہلاتا ہے؟ اندھا پن کہلاتا ہے، اس کا نہ ہونا۔ تو عمىٰ کہتے ہیں عدمِ بصر کو، کس کو کہتے ہیں؟ عدمِ بصر، یعنی بصر بصارت کا نہ ہونا بھئی، بینائی کا نہ ہونا، یعنی نابینائی بھئی، نابینائی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو، اندھے پن کے ساتھ بینائی کا تصور لازم ہے، اندھا کہتے ہی اس کو ہیں جس میں بینائی کی طاقت تھی، لیکن اب وہ دیکھ نہیں پا رہا۔ تو جیسے ہی اندھا پن آئے گا، پہلے بینائی کا تصور آئے گا کہ بینائی کی صلاحیت ہے، لیکن اب کیا ہو چکی؟ اب کسی عارض یا مانع کی وجہ سے ختم ہو چکی، اسی کا اب عدم ہے، اسی بینائی کا کیا ہے اب؟ عدم ہے، اس کا نہ ہونا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا عمىٰ کے ساتھ بصر کا تصور خود بخود آ جائے گا، چنانچہ اندھا اسی کو کہتے ہیں جس میں دیکھنے کی صلاحیت پہلے ہو بھئی، اور پھر اب دیکھ نہیں پا رہا۔ اس کے تو جس میں دیکھنے کی صلاحیت ہو اور پھر وہ نہ دیکھ سکے، اسے اندھا کہتے ہیں، باقی کس چیز کو اندھا نہیں کہیں گے جس میں دیکھنے کی صلاحیت ہی نہ ہو، جیسے میں نے مثال ذکر کی دیوار ہے۔ دیوار کو کوئی بھی اندھا نہیں کہے گا۔ سمجھ میں آئی بات؟ یا آپ کی تپائی ہے، یہ جو بھی چیزیں آپ دیکھ لیں، موٹر سائیکل ہے، گاڑی ہے اور چیز، کوئی بھی ان کو اندھا نہیں کہے گا، کیونکہ ان میں تو دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں، اندھا تو کہتے ہی کسے ہیں جس میں کیا ہو؟ دیکھنے کی صلاحیت ہو، لیکن پھر کوئی مانع آ گیا، اب وہ دیکھ نہیں سکتا، بینائی اس کی ختم ہے بھئی۔ تو لہٰذا اندھے پن کے ساتھ بینائی کا خود بخود تصور آ جائے گا، کیونکہ اندھا پن اسی بینائی کے عدم کا تو نام ہے، اسی کے تو نہ ہونے کا نام ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ تو دیکھیے بھئی، صاحبِ کتاب نے، صاحبِ مرقاة نے سب سے پہلے آپ کو علم کے بارے میں بتلایا بھئی۔ علم کس کو کہتے تھے؟ کسی شے کی صورت کا ذہن میں آنا، یہ اس کا علم ہے۔ اور جب علم ہو گیا، تو وہ چیز کہلاتی ہے معلوم، کیا کہلاتی ہے؟ جس کا علم ہو گیا، وہ کیا کہلائے گی؟ معلوم۔ اور یہ علم رکھنے والا کہلائے گا عالم کہ یہ اس چیز کا عالم ہے، اس کو جاننے والا ہے بھئی۔ تو لہٰذا پہلے انہوں نے علم کی تعریف کی بھئی، اس کے بعد پھر بتلایا کہ یہ علم دو قسم پر ہے، یعنی وہ جو معلوم ہے، وہ دو قسم پر ہوتا ہے، کبھی اس کے ساتھ حکم ہو گا اور کبھی حکم نہیں ہو گا۔ اگر حکم نہ ہو، تو یہ ہے تصور، مثلاً صرف زید کا علم، صرف بکر کا علم۔ اور اگر ساتھ کوئی حکم بھی ہے، یعنی کوئی کیا کیا ہے اس پر؟ اس کے لیے کوئی چیز ثابت کی ہے یا اس سے کسی چیز کی نفی کی ہے اور اس کا یقین بھی ہے، تو یہ کیا آ گیا؟ حکم آ گیا، تو اب یہ کیا کہلائے گا؟ تصدیق کہلائے گا بھئی، تصدیق کہلائے گا۔ پھر بتایا تھا کہ تصور اور معلوم ہوا ہمارا جتنا بھی علم ہے، ہمارے ذہن میں جو بھی معلومات ہیں، یا وہ تصور کے قبیل سے ہیں یا تصدیق، کیونکہ علم انہی دو چیزوں کا تو نام ہے، تصور اور تصدیق کا۔ تو لہٰذا وہ یا تصور ہو گا یا تصدیق ہو گی۔ پھر تصور اور تصدیق دونوں دو دو قسم کے ہیں، کچھ بدیہی ہیں اور کچھ نظری۔ بدیہی وہ جس کے جاننے کے لیے نظر و فکر کی ضرورت نہ ہو، اور بدیہی اسے کہتے ہیں جس کے لیے نظر و فکر کی ضرورت نہ ہو، اس کے بغیر ہی حاصل ہو جائے۔ اور نظری کسے کہتے ہیں؟ جس میں نظر و فکر کی ضرورت پڑے بھئی۔ اور بدیہی کا دوسرا نام کیا ہے؟ ضروری۔ اور نظری کا دوسرا نام کیا ہے؟ کسبی بھئی۔ تو لہٰذا تصور، وہ یا بدیہی ہو گا یا نظری ہو گا۔ اور اسی طرح تصدیق بھی یا بدیہی ہو گی یا نظری ہو گی، اس کے حاصل کرنے کے لیے نظر و فکر کی ضرورت ہو گی۔ 3 تو پھر انہوں نے نظر و فکر کا معنی اپ کو بتایا۔ نظر و فکر کسے کہتے تھے؟ کچھ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر مجهول یعنی نہ معلوم چیز کو حاصل کرنا، یہ کیا ہے؟ یہ نظر و فکر ہے، نظر و فکر۔ نظر و فکر۔ اور پھر یہ جو تصور بھی مجهول ہو سکتا ہے، تصدیق بھی مجهول ہو سکتی ہے بھئی۔ تو تصور کو حاصل کیا کیا جائے گا؟ تصورِ نہ معلوم کو ہمیشہ کس سے حاصل کریں گے؟ تصورِ معلوم سے۔ اور تصدیقِ نہ معلوم کو کس سے حاصل کریں گے؟ تصدیقِ معلوم سے بھئی۔ تو یہ جو تصدیق، یہ جو تصورِ مجهول کو حاصل کیا کس کے ذریعے؟ تصورِ معلوم کو۔ کچھ معلوم تصور ترتیب دیے اور ان سے نہ معلوم تصور حاصل ہوا، تو یہ جو معلوم تصور تھے، ان کو کیا کہا جاتا ہے؟ شارح، معرف، اور قولِ شارح۔ اور جو تصورِ مجهول حاصل ہوا اسے کیا کہیں گے؟ معرف کہیں گے بھئی، معرف۔ اور اسی طرح کچھ تصدیقِ معلوم تھیں ان کو ترتیب دیا اور تصدیقِ مجهول حاصل کی، تو جو تصدیقِ معلوم تھیں ان کو کیا کہیں گے؟ دلیل اور حجت۔ اور جو تصدیقِ مجهول حاصل ہوئی اس کو کیا کہیں گے؟ نتیجہ اور مطلوب، اور اسی طرح دعویٰ بھی، دعویٰ بھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پھر انہوں نے اپ کو بتلایا کہ نظر کا معنی اپ نے سمجھ لیا کہ دو معلوم تصوروں یا معلوم تصدیقوں کو ملا کر ایک نہ معلوم تصور یا تصدیق کو حاصل کرنا، اور اس میں کبھی کبھار غلطی بھی واقع ہوتی ہے۔ اور اس غلط کو، اس غلطی سے بچاؤ کے لیے کسی ایک علم کی ضرورت تھی۔ تو اس علم کا کیا نام ہے؟ منطق ہے، جو اس نظر و فکر میں ہونے والی غلطی سے بچاتا ہے بھئی، بچاتا ہے۔ پھر اس کے بعد اس منطق کے، تعریف کی کہ وہ ان قوانین کے جاننے کا نام ہے جن کے ذریعے، جن کے ذریعے نظر و فکر میں غلطی سے حفاظت ہوتی ہے، اور غرض کا بھی پتہ چل گیا کہ اس کی غرض کیا ہے، یہ نظر و فکر میں غلطی سے بچاتا ہے۔ اور اس کا موضوع بھی پتہ چل گیا کہ موضوع اس کا کیا ہے، وہ معلوم تصورات اور معلوم تصدیقات ہیں، لیکن ویسے نہیں، اس حیثیت سے کہ وہ کہاں تک پہنچا دیں؟ مجهول تصورات اور مجهول تصدیقات تک پہنچا دیں بھئی۔ اس کے بعد پھر انہوں نے دلالت کی تعریفات شروع کیں بھئی، کہ دلالت پہلے میں نے بتلایا کہ دلالت کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک چیز کا اس طور پر ہونا کہ اس کے جاننے سے دوسری چیز کا علم ہو جائے۔ تو پہلی چیز جس سے علم ہوا اسے کہتے ہیں دال، اور جس چیز کا علم ہوا اسے کہتے ہیں مدلول، اور یہ جو دال سے مدلول کا پتہ چل رہا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت کہتے ہیں۔ پھر یہ دلالت جو ہے کبھی لفظی ہوگی دال کے اعتبار سے، دال لفظ ہو تو یہ دلالتِ لفظی، دال لفظ نہ ہو تو یہ دلالتِ غیر لفظی۔ پھر اس کے تین تین قسمیں ہیں: وضعیہ، طبعیہ، اور عقلیہ۔ وضعیہ وہ جس میں وضع کا دخل ہو، یعنی ہمارے مقرر کرنے سے دال مدلول پر دلالت کر رہا ہو۔ تو اسے دلالتِ وضعیہ کہیں گے۔ اور دلالتِ طبعیہ جس کے اندر دال جو ہے وہ طبیعت کے تقاضے سے پیدا ہوتا ہے اور اس سے پھر آگے مدلول کا پتہ چلتا ہے۔ اور دلالتِ عقلیہ جس میں دال، جس میں نہ وضع کا دخل ہو اور نہ طبیعت کا دخل ہو، تو وہ سب کیا ہے؟ دلالتِ عقلیہ۔ تو یہ کل چھ قسمیں ہو گئیں، پھر ان چھ میں سے بتلایا کہ منطقی جو ہے صرف کس سے بحث کرے گا؟ لفظیہ وضعیہ سے، کیونکہ اس میں فائدہ سب سے زیادہ ہے، اوروں میں اتنا فائدہ نہیں ہے۔ پھر دلالتِ لفظیہ وضعیہ جو ہے، آگے تین قسم پر ہے بھئی، کتنی قسم پر؟ تین۔ ایک مطابقی، ایک تضمنی، ایک التزامی۔ مثلاً ایک لفظ کو وضع کیا گیا ہے ایک معنیِ مرکب کے لیے، تو جس لفظ کو جیسے ہی بولیں گے وہ معنیِ مرکب ذہن میں آ جائے گا بھئی۔ کیا ہوگا؟ معنی پورا، جیسے انسان کو وضع کیا حیوانِ ناطق کے لیے بھئی، تو پورا حیوانِ ناطق ذہن میں آئے گا۔ اور جب پورا حیوانِ ناطق ذہن میں آیا، تو حیوان بھی آ گیا کہ نہیں؟ پورا جب آیا حیوان اور ناطق اکٹھا، تو اس میں تو حیوان بھی اندر داخل ہے، وہ بھی آ گیا۔ اور ناطق بھی آ گیا۔ تو یہ جو ایک جز سمجھ میں الگ الگ آ رہا ہے، حیوان بھی الگ سمجھ میں آ رہا ہے، ناطق بھی الگ سمجھ میں آ رہا ہے، اس پر جو دلالت ہو رہی ہے، یہ کیا ہے؟ دلالتِ تضمنی۔ اور اس موضوع لہ، اس کا کوئی ایک لازم بھی ہو تو وہ ایسا لازم جو اس سے جدا نہیں ہوتا بھئی، ہر حال میں اس کے ساتھ ہے۔ تو اس کی طرف بھی ذہن منتقل ہو جائے گا، اور وہ بھی ذہن میں آ جائے گا۔ وہ بھی ذہن میں آیا، تو دلالت اس پر بھی ہو گئی۔ انسان کے بولنے سے قابلیتِ علم بھی خود ذہن میں آ گئی، تو اس تو یہ ایک چیز سے دوسری چیز جو ذہن میں آتی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ تو اس پر بھی دلالت ہو گئی، تو یہ لفظ تو نہ موضوع لہ، یہ معنی تو نہ موضوع لہ ہے، نہ موضوع لہ کا جز ہے، بلکہ اس سے خارج ہے۔ البتہ اس کے ساتھ لازم ہے۔ تو یہ کون سی دلالت کہلائے گی؟ دلالتِ التزامی کہلائے گی بھئی۔ چلیے بھئی، تمام اسباق کا خلاصہ بھی ہو گیا۔ جی، چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔