LESSONS NO. 9 1 وينقسم إلى قسمين: أحدهما يقال له التصور، والثاني يعبر عنه بالتصديق. أما التصور فهو الإدراك الخالي عن الحكم، والمراد بالحكم نسبة أمر إلى أمر آخر إيجاباً أو سلباً، وإن شئت قلت إيقاعاً أو انتزاعاً، وقد يفسر الحكم بوقوع النسبة أو لا وقوعها، كما إذا تصورت زيداً وحده، أو قائماً وحده من دون أن تثبت القيام لزيد، أو تسلبه عنه. آج ہم تصور اور تصدیق کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ تصور اور تصدیق۔ تو آج ہم تصور اور تصدیق کے بارے میں پڑھیں گے، اور تصور اور تصدیق چونکہ قسمیں ہیں علم کی۔ علم کا پتہ ہو گا تو تصور اور تصدیق کی بھی سمجھ آئے گی بھئی۔ اسی لیے مصنف نے پہلے علم کی تعریف کی، اور اب تصور اور تصدیق کے بارے میں تفصیلات بیان کرنے لگے ہیں۔ لیکن یہ یاد رکھیے کہ گزشتہ سبق میں آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ علم دو قسم پر ہے: ایک علمِ حضوری اور ایک علمِ حصولی۔ علمِ حضوری کے اندر شئے معلوم، شئے مدرک جو ہے لذاتہٖ، اپنی ذات کے اعتبار سے خود ہی مدرِک کے پاس موجود ہوتی ہے، اور علمِ حضوری جو ہے وہ تحصیلِ صورت کا محتاج نہیں، اس میں صورت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ شئے خود مدرِک کے پاس موجود ہے۔ اور علمِ حصولی البتہ اس کے اندر حصولِ صورت کی حاجت پیش آتی ہے کہ صورت حاصل ہوئی تو یہ ہے علمِ حصولی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اللہ کا جو علم ہے وہ علمِ حضوری ہے، کیونکہ تمام چیزیں اللہ کے سامنے، اللہ کے پاس موجود ہیں۔ جبکہ ہمارا اکثر علم علمِ حصولی ہے، البتہ کچھ علم ہمارا حضوری ہے، جیسے ہمارا علم اپنی ذات پر اور اپنی صفات پر، یہ کیا ہے؟ علمِ حضوری ہے بھئی۔ تو ہماری اپنی ذات کا علم، ہماری ذات ہی تو علم حاصل کرنے والی ہے، عقل اسی کا تو آلہ ہے، تو یہ اپنے ہی بارے میں جو علم ہے اس کا وہ علمِ حضوری ہے کہ خود اسی کے پاس موجود ہے جس چیز... وہ شئے معلوم بھئی۔ اسی طرح اس کی صفات بھئی، صفات۔ اب آگے یہ یاد رکھیے کہ یہ جو آگے تقسیم ہونے والی ہے تصور اور تصدیق کی... تصدیق کی طرف علم کی، یہ تقسیم علمِ حصولی کی ہے، علمِ حضوری کی نہیں بھئی۔ یہ قسمیں تصور اور تصدیق کس علم کی ہیں؟ یہ علمِ حصولی کی قسمیں ہیں، علمِ حضوری کی نہیں۔ کیونکہ علمِ حضوری وہ تصور اور تصدیق کی طرف تقسیم نہیں ہوتا، بلکہ کون سا علم تقسیم ہوتا ہے؟ علمِ حصولی بھئی، علمِ حصولی۔ اچھا، تو اب علم کی تعریف پتہ چل گئی آپ کو، اب وہ تصور اور تصدیق کے بارے میں بتلانے لگے ہیں، اور تصور اور تصدیق کس کی قسمیں ہیں؟ علمِ حصولی کی۔ تصور اور تصدیق، یہ کس کا نام ہے؟ علم کا۔ کس چیز کا نام ہے؟ علم کا نام ہے۔ علم کی کچھ قسمیں ہیں، ان کو ہم تصور کہیں گے۔ کچھ قسمیں ہیں، ہم ان کو تصدیق کہیں گے۔ اب کس کو تصور کہیں گے، کس کو تصدیق کہیں گے، اس سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ ہماری بات دو طرح کی ہوتی ہے: ایک ملفوظ، ایک معقول بھئی۔ ہماری بات کتنی قسم کی ہوتی ہے؟ ایک معقول اور ایک ملفوظ۔ معقول جو عقل میں آئی، اور ملفوظ جو زبان پر آئی جس پر ہم نے تلفظ کیا بھئی۔ بھئی آپ جو بھی بات کرتے ہیں، بات کرنے سے پہلے وہ بات آپ کے ذہن میں آتی ہے، دماغ میں آتی ہے، اور جب تک یہ دماغ میں ہے اسے کہیں گے قولِ معقول بھئی۔ جب بھی آپ کوئی بات کرنے لگتے ہیں پہلے وہ بات آپ کے ذہن میں آتی ہے، آپ اس کا سوچتے ہیں، تو یہ جو بات آپ کے ذہن میں ہے اس کو کیا کہیں گے؟ قولِ معقول۔ اور جب اسی کو زبان سے ادا کر دیں گے، اس پر تلفظ کر دیں گے آپ، تو اس کو کیا کہیں گے؟ قولِ ملفوظ بھئی۔ دونوں کا فرق سمجھ میں آیا؟ قولِ معقول وہ بات جو آپ کے ذہن میں ہے۔ مثلاً آپ دوسرے کو کہنے... کہنا چاہتے ہیں کہ مجھے پیاس لگی ہے، تو پہلے ذہن میں یہ بات لے کر آئیں گے، تو یہ ہے ابھی ذہن میں ہے اس کو کیا کہیں گے؟ قولِ معقول۔ اور جب زبان سے کہہ دیا "مجھے پیاس لگی ہے" تو آپ نے اس بات پر تلفظ کر دیا تو یہ کیا ہے اب؟ قولِ ملفوظ ہے، قولِ ملفوظ۔ آپ منطق پڑھ رہے ہیں، یاد رکھیے منطقی بحث کرتا ہے قولِ معقول کے ساتھ۔ یہ ہمارے ذہن میں جو بات آتی ہے اس کے بارے میں وہ بحث کرتا ہے بھئی، اس کے بارے میں۔ اور جس طرح آپ نے پڑھا ہے بھئی، لفظوں میں کہی ہوئی بات کبھی مفرد کہلاتی ہے، کبھی مرکب کہلاتی ہے۔ پڑھا ہے یا نہیں بھئی؟ اور پھر یہ مرکب کبھی مرکبِ ناقص کہلاتا ہے اور کبھی مرکبِ تام اور جملہ کہلاتا ہے۔ اسی طرح عقل کے اندر جو باتیں آئیں وہ بھی کبھی تو مفرد ہوں گی، اور کبھی مرکبِ ناقص ہوں گی، اور کبھی مرکبِ تام۔ تو جس طرح کی بات ذہن کے اندر آئے گی آپ اسی طرح کے لفظوں کے ساتھ اسے ادا کریں گے۔ جیسی بات ذہن میں آئے گی اگر مفرد آئی ہے تو اس کو مفرد لفظوں سے ہی ادا کریں گے۔ اگر مرکبِ ناقص ذہن میں ہے تو مرکبِ ناقص کے لفظوں کے ساتھ اس کو ادا کریں گے۔ اور اگر مرکبِ تام آپ کے ذہن میں آیا، وہ قولِ معقول جو ہے وہ کیا ہے؟ مرکبِ تام، تو آپ قولِ ملفوظ بھی کس قسم کا لائیں گے؟ مرکبِ تام۔ تو یعنی جتنی باتیں آپ کے ذہن میں آئیں آپ اسی قدر الفاظ لاتے ہیں۔ ایک بات آئی تو ایک لفظ لاتے ہیں، دو آئیں تو دو لفظ لاتے ہیں، تین آئیں تو تین لفظ لاتے ہیں، چار باتیں آئیں تو چار لفظ لاتے ہیں، چار لفظ۔ منطقی نے تو بحث کرنی ہے قولِ معقول سے، لیکن ذہن میں آئی ہوئی بات دوسرے کو سمجھانے کے لیے الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اب آپ کے ذہن میں کیا بات ہے مجھے اس وقت تک علم نہیں ہو سکتا جب تک آپ اس پر تلفظ نہ کریں، زبان سے اس کو ادا نہ کریں۔ تو منطقی نے دراصل بحث تو کس سے کرنی ہے؟ قولِ معقول سے، لیکن قولِ معقول دوسرے کو بتلانے کے لیے، سمجھانے کے لیے کس چیز کا سہارا لیا جاتا ہے؟ الفاظ کا۔ الفاظ کے ذریعے دوسرے کو بات سمجھائی جاتی ہے۔ تو لہٰذا دراصل یہ جو مفرد ہونا، مرکبِ ناقص ہونا، مرکبِ تام ہونا، یہ اصل میں پہلے قولِ معقول میں جاری ہوں گے۔ تو اصلاً یہ قولِ معقول میں جاری ہوں گے، اور پھر جب آپ تلفظ کرتے ہیں، زبان سے ادا کرتے ہیں تو اس کو بھی ہم کہہ دیتے ہیں یہ مفرد ہے یا مرکبِ ناقص ہے یا مرکبِ تام ہے۔ تو یہ دراصل کس کی قسمیں ہیں پہلے؟ اصل کے اعتبار سے تو یہ قسمیں ہیں قولِ معقول کی۔ لیکن تبعاً جو لفظوں کے اندر آئے ان کو بھی ہم کیا کہہ دیتے ہیں؟ ان کے بھی یہی نام رکھ دیتے ہیں کہ یہ مفرد ہے یا مرکبِ تام ہے یا مرکبِ ناقص ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی کہ منطقی کس سے بحث کرتا ہے؟ قولِ معقول سے۔ قولِ معقول کسے کہتے ہیں؟ وہ بات جو ذہن میں آئی۔ اور اسی کو پھر زبان سے ادا کر دیں تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ قولِ ملفوظ کہلاتا ہے۔ اور منطقی کی اصل توجہ کس کی طرف ہے؟ قولِ معقول کی طرف، وہ اس سے بحث کرتا ہے۔ لیکن قولِ معقول دوسرے کو سمجھانے کے لیے کس چیز... کن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے؟ الفاظ کی ضرورت پڑتی ہے۔ جب تک آپ کہیں گے نہیں دوسرے کو آپ کے ذہن کی بات کا پتہ ہی نہیں چلے گا۔ اور جو ہم لفظوں میں کہتے ہیں کہ یہ مفرد ہے، مرکبِ تام ہے، مرکبِ ناقص ہے، اسی طرح جو عقل میں بات آئی وہ بھی کبھی مفرد ہو گی، مرکبِ تام ہو گی اور کبھی مرکبِ ناقص۔ لیکن اصلاً تو گویا یہ مفرد، مرکبِ تام، مرکبِ ناقص ہونا کس کی قسمیں ہیں؟ قولِ معقول کی۔ لیکن قولِ معقول کو آگے بتلانے کے لیے سہارا کس کا لیا جاتا ہے؟ الفاظ کا، تو پھر تبعاً قولِ ملفوظ میں بھی یہ قسمیں بن جاتی ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے بھئی، جو باتیں ہمارے ذہن میں آتی ہیں، اگر اکیلی چیز کا علم ہے تو اسے کہتے ہیں تصور بھئی۔ ایک چیز کا ذہن میں... ایک بات ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ تصور۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز کے لیے دوسری چیز کو ثابت کیا جاتا ہے۔ کیا کیا جاتا ہے؟ ثابت کیا جاتا ہے۔ مثلاً آپ کے ذہن میں صرف زید کا خیال آیا، صرف زید بھئی۔ تو یہ زید اکیلا ہے، یہ کہلائے گا تصور بھئی۔ کیا کہلائے گا؟ تصور کہلائے گا۔ لیکن اگر اس زید پر آپ کوئی حکم بھی لگا دیتے ہیں، کوئی چیز اس کے لیے ثابت کر دیتے ہیں، مثلاً آپ کے ذہن میں زید کے لیے عالم ہونے کا خیال آیا کہ "زید عالم ہے"، یہ بات آپ کے ذہن میں آئی۔ تو یاد رکھیے آپ نے زید کے لیے عالم ہونے کو ثابت کر دیا۔ کیا کر دیا؟ ذہن کے اندر آپ نے زید کے لیے کیا ثابت کر دیا؟ عالم ہونا۔ آپ نے کیا... بات کیا آئی ذہن میں آپ کے؟ "زید عالم ہے"، تو آپ نے زید کے لیے کیا ثابت کر دیا؟ عالم ہونا۔ اسی طرح میں کہتا ہوں: "میں پیاسا ہوں"، تو میں نے اپنے لیے کیا ثابت کر دیا؟ پیاسا ہونا۔ آپ کہتے ہیں: "ہم سبق یاد کرتے ہیں"، تو آپ نے اپنے لیے کیا ثابت کر دیا؟ سبق کا یاد کرنا۔ تو دیکھو ایک چیز دوسری کے لیے ثابت کر دی، یہ تصدیق کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ تصدیق کہلاتا ہے جس میں ایک چیز دوسری کے لیے ثابت کی جائے، ثابت کی جائے۔ سمجھ میں آ گئی بات اچھی طرح؟ جس میں تصدیق کے اندر کیا ہو گا؟ ایک چیز کے لیے دوسری چیز ثابت کی جائے گی، ثابت کی جائے گی۔ اور کبھی ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی کی جائے گی۔ اگر آپ کے ذہن میں زید کے لیے آیا کہ "زید عالم نہیں ہے"، تو آپ نے عالم... زید کے لیے عالم ہونا ثابت کیا یا اس سے نفی کی؟ زید سے عالم ہونے کی نفی کی۔ میں کہتا ہوں: "میں پیاسا نہیں ہوں"، تو میں نے اپنے لیے پیاسا ہونا ثابت کیا یا اس کی نفی کی؟ نفی کی۔ تو بس کسی چیز کے لیے کوئی چیز ثابت کی جائے یا کسی چیز کی اس سے نفی کی جائے تو یہ تصدیق کہلاتی ہے بھئی۔ کیا کہلاتی ہے؟ تصدیق کہلاتی ہے بھئی۔ اور یاد رکھیے کہ تصدیق کے اندر پختہ یقین ہونا ضروری ہے۔ آپ کے ذہن میں آیا "زید عالم ہے"، تو یہ تبھی تصدیق کہلائے گا جب آپ کو پکا یقین ہو کہ زید کیا ہے؟ عالم ہے۔ آپ نے ذہن میں سوچا "زید عالم ہے"، اگر آپ کو اس بات کا یقین ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ تصدیق کہیں گے۔ یا آپ کے ذہن میں آیا کہ "زید عالم نہیں ہے"، تو اس کا آپ کو یقین ہو تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ تصدیق کہیں گے۔ اگر یقین نہ ہو تو پھر اس کو تصدیق نہیں کہیں گے، بلکہ یہ پھر تصور میں داخل ہو جائے گا بھئی۔ تو معلوم ہوا تصدیق کے اندر ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے ثابت کیا جاتا ہے، اور نیز اس کا پختہ یقین بھی ہونا ضروری، جبکہ تصور میں ایسا نہیں ہو گا۔ پھر تصور کی بھئی کئی صورتیں بن جاتی ہیں، تصور کی۔ مثلاً کبھی ایک ہی چیز کا خیال دل میں آیا، مثلاً اکیلے زید کا، یہ کیا ہے؟ اکیلے زید کا خیال، یہ کیا ہے؟ اس کے لیے کچھ ثابت کیا؟ کسی چیز کی نفی کی؟ تو آسان سی بات ہے یہ کیا ہے؟ تصور ہے۔ کبھی تین چار چیزوں کا خیال آئے گا یا دس کا آئے گا، لیکن ایک کے لیے دوسری چیز ثابت نہیں۔ مثلاً میرے ذہن میں آیا زید، عمر، بکر، خالد، تین چار چیزیں آئیں۔ لیکن کیا ایک چیز کے لیے دوسری چیز ثابت ہے؟ ثابت نہیں، تو یہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ کبھی دو چیزوں کے درمیان نسبت بھی آ جائے گی بھئی۔ کیا آ جائے گی؟ نسبت بھی آئے گی لیکن تام نہیں ہو گی، ناقص ہو گی۔ یہ بھی تصور ہے۔ مثلاً میں نے کہا: "زید کا بھئی"۔ "زید کا بھئی"، تو یہ بھی یاد رکھیے اب زید کا بھئی، اس کے... زید کے بھئی کے لیے کوئی چیز میں نے ثابت کی؟ نہیں۔ ہاں، میں کہتا "زید کا بھئی عالم ہے"، "زید کا بھئی گھر چلا گیا"، تو پھر میں اس کے لیے کوئی چیز ثابت کرتا، لیکن میں نے تو صرف کیا... ذہن میں کیا آیا میرے؟ زید کا بھئی۔ اب ان دونوں میں نسبت ہے، تعلق ہے لیکن یہ نسبت کس قسم کی ہے؟ تام نہیں ہے، اس سے پوری بات سمجھ میں نہیں آئی۔ میں نے آپ سے کہا "زید کا بھئی"، آپ کو پوری بات سمجھ میں آ گئی؟ آپ کہیں گے بھئی پوری بات تو کریں اس کو کیا ہوا، وہ زندہ ہے، مر گیا ہے، گھر چلا گیا ہے، کوئی حکم لگے گا تو آپ کو بات کا پتہ چلے گا نا، جب تک حکم نہیں لگا آپ کو بھی اس کا علم نہیں۔ نسبت ہو گی، لیکن وہ نسبت کیا تھی؟ ناقص ہو تو اسے بھی کیا کہیں گے؟ تصور کہیں گے۔ چاہے دو تین لفظ ہوں، چاہے پانچ چھ لفظ ہوں، چاہے آٹھ دس لفظ ہوں، جب تک نسبتِ تام موجود نہیں، ایک چیز کے لیے دوسری چیز ثابت نہیں، اس وقت تک اسے تصدیق نہیں کہہ سکتے۔ تو "زید کا بھئی"، یہ... اس کو کیا کہیں گے؟ تصور۔ آپ اس میں اور اضافہ کریں: "زید کے بھئی کا پڑوسی"۔ تصور ہے یا تصدیق ہے؟ تصور ہی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان میں تو نسبتِ تام ہی نہیں ہے۔ اور کبھی نسبت ہوتی ہے، تام ہوتی ہے، لیکن اس میں تردد ہوتا ہے، شک ہوتا ہے۔ مثلاً آپ کے ذہن میں آیا "زید عالم ہے"، اب نسبتِ تام ہے۔ نسبت کیا ہے؟ تام ہے۔ یعنی بات پوری ہے، لیکن آپ کے ذہن میں تردد ہے۔ اس کے عالم ہونے میں اور عالم نہ ہونے میں۔ تو اگر تردد ہو، تو تردد کی صورت میں پھر... تردد یعنی شک۔ شک ہے، تو پھر اس صورت میں دونوں جانبیں برابر ہوں گی۔ ایک جانب کیا کہ "زید عالم ہے"، اور دوسری جانب کیا کہ "زید عالم نہیں ہے"۔ تو اگر دونوں جانبیں برابر ہوں، اس کا بھی 2 اور اگر تردد ہے لیکن ایک جانب راجح ہے، ایک کا خیال آپ کو زیادہ ہے۔ مثلاً آپ کے ذہن میں شک کس بارے میں آیا؟ زید کے عالم ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں۔ لیکن زیادہ خیال آپ کا یہ ہے کہ زید عالم ہے۔ تھوڑا سا البتہ یہ بھی البتہ ذہن میں خیال آتا ہے، وہم آتا ہے کہ شاید عالم نہ ہو، عالم نہیں ہے۔ تردد میں دونوں جانبیں برابر ہوں تو اسے کہتے ہیں شک۔ اور تردد کے اندر اگر ایک جانب راجح ہے، تو اس جانب راجح کو کہتے ہیں ظن، ظ کے ساتھ، ظ۔ تو اگر حکم یوں کہیں، حکم۔ حکم کے اندر اگر تردد ہو اور ایک جانب راجح ہو، دوسری مرجوح ہو، تو راجح کو کیا کہتے ہیں؟ ظن۔ اور جو مرجوح ہوتی ہے اسے وہم کہتے ہیں۔ اور جو مرجوح ہو اسے وہم کہتے ہیں۔ تو یاد رکھیے یہ جو شک ہے، جس میں دونوں جانبیں حکم کی برابر ہیں۔ ہونے کا بھی اتنا ہی خیال، نہ ہونے کا بھی یہ کس کی قسم ہے؟ تصور کی۔ کس کی قسم ہے؟ تصور کی۔ تو آپ کے ذہن میں آیا زید عالم ہے۔ لیکن تردد ہے ذہن میں۔ تو اس کو آپ کیا کہیں گے؟ اگر دونوں جانبیں برابر ہوں تو؟ شک۔ ذہن میں آیا کیا؟ زید عالم ہے۔ لیکن آپ کو یقین ہے یا آپ تردد کا شکار ہیں؟ اور دونوں جانبیں برابر ہیں یا کوئی ایک جانب راجح ہے؟ دونوں جانبیں برابر ہیں۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ شک، اور یہ کس کی قسم ہے؟ تصور کی قسم ہے۔ اور اگر ایک جانب راجح ہو، دوسری مرجوح ہو تو راجح کو کیا کہیں گے؟ ظن کہیں گے، اور یاد رکھنا ظن تصدیق کی قسم ہے۔ البتہ وہم جو ہے، وہ جو تھوڑا خیال تھا، وہ بھی تصور کی قسم ہے بھئی۔ وہ بھی کس کی قسم ہے؟ تصور۔ تو ظن کے اندر زیادہ خیال ہوتا ہے، راجح ہوتی ہے وہ جانب بھئی، راجح بھئی۔ تو یہ یقین کے قریب ہو گیا جب ایک جانب راجح ہوئی، اس لیے یہ تصدیق کی قسم ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا بات ہوئی اب تک؟ ہماری بات کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے۔ ایک معقول اور ایک ملفوظ۔ معقول کسے کہتے ہیں؟ وہ جو عقل میں بات ہے، اور ملفوظ کسے کہتے ہیں؟ جو زبان سے ہم کہہ رہے ہیں، جس پہ ملفوظ تلفظ سے ہے، جس پر ہم کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں۔ اور پھر یہ جو جن پر ہم تلفظ کرتے ہیں ان کے بارے میں آپ پڑھتے ہیں، کبھی آپ کہتے ہیں یہ مفرد ہے، کبھی یہ مرکب ہے، مرکب تام، کبھی کہتے ہیں مرکب ناقص ہے۔ اسی طرح ذہن میں آنے والی بات بھی کبھی مفرد ہوتی ہے، کبھی مرکب ناقص اور کبھی مرکب تام۔ اور منطقی بحث کس سے کرتا ہے؟ قولِ معقول سے بحث کرتا ہے۔ اور اصل میں تو یہ مفرد اور مرکب ہونے کے ساتھ موصوف کون ہوتا ہے؟ قولِ معقول۔ لیکن اس کی ادائیگی کے لیے چونکہ سہارا الفاظ کا لیا جاتا ہے، الفاظ کے ذریعے ان کو بتایا جاتا ہے تو اس لیے الفاظ کے اندر بھی طبعاً یہی قسمیں جاری ہو جائیں گی بھئی، مفرد، مرکب تام اور مرکب ناقص وغیرہ۔ پھر میں نے آپ کو بتایا کہ ذہن کے اندر کبھی تو اکیلی چیز آئے گی یا کبھی ایک چیز کے لیے دوسری چیز کو ثابت کیا جائے گا۔ اگر ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے ثابت کیا گیا تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ یہ تصدیق کہلاتا ہے۔ لیکن اس کے اندر اسی طرح، اگر ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی کی گئی، یہ بھی کیا کہلاتا ہے؟ تو زید عالم ہے، یہ کیا ہے؟ تصدیق۔ اور زید عالم نہیں ہے، یہ بھی کیا ہے؟ تصدیق۔ لیکن اس میں ضروری ہے کہ آپ کو یقین ہونا چاہیے بھئی تصدیق کے اندر۔ تصدیق کے اندر۔ اور تصور کے اندر میں نے بتایا اس کی کئی صورتیں بن جاتی ہیں۔ کبھی صرف ایک ہی چیز کا خیال ہوگا، یہ بھی تصور ہے۔ کبھی زیادہ چیزوں کا خیال ہوگا، لیکن ایک چیز کے لیے دوسری چیز ثابت نہیں ہوگی، تو یہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ کبھی دونوں کا آپس میں تعلق ہوگا، ان میں نسبت ہوگی لیکن نسبت تام نہیں ہوگی، یعنی بات جملہ پورا نہیں ہوگا، جیسے زید کا بھئی، زید کے بھئی کا پڑوسی، یہ سب کیا ہیں؟ تصور ہیں۔ اور کبھی ایک چیز کے لیے دوسری چیز ثابت ہوگی، زید عالم ہے، لیکن آپ کو تردد ہوگا۔ یقین نہیں ہے۔ تو اگر تردد ہے پھر دیکھیں دونوں جانبیں برابر ہیں یا برابر نہیں؟ اگر دونوں جانبیں برابر ہیں تو اسے کیا کہیں گے؟ شک کہیں گے، اور یہ بھی کس کی قسم ہے؟ تصور ہی کی قسم ہے۔ اور اگر ایک جانب راجح ہو اور دوسری مرجوح ہو تو جانبِ راجح کو کیا کہتے ہیں؟ ظن۔ اور جانبِ مرجوح کو وہم کہتے ہیں۔ جانبِ راجح کو ظن اور جانبِ مرجوح کو وہم کہتے ہیں، اور یہ ظن کس کی قسم ہے؟ تصدیق کی۔ البتہ وہم کس کی قسم ہے؟ یہ تصور کی قسم ہے بھئی، تصور کی قسم۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اسی طرح بھئی، آپ نے پڑھا ہے کہ ایک جملہ انشائیہ ہوتا ہے۔ جملہ انشائیہ، اس میں ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے ثابت نہیں کیا جاتا۔ میں نے آپ سے پوچھا، کیا زید آیا تھا؟ تو میں نے کوئی چیز زید کے لیے ثابت کی؟ نہیں، میں تو آپ سے سوال پوچھ رہا ہوں، ایک بات پوچھ رہا ہوں۔ یا میں آپ سے کہتا ہوں، زید کی پٹائی کرو۔ اِضْرِبْ زَیْداً۔ کیا میں نے زید کے لیے کوئی چیز ثابت کی ہے؟ نہیں، بلکہ آپ کو حکم دے رہا ہوں کہ زید کی کیا کرو؟ پٹائی کرو۔ تو یہ جو انشاء کے، یہ جملہ انشائیہ جو ہوتا ہے یاد رکھیے، یہ تصور کی قسم ہے، تصور ہے بھئی۔ کیونکہ تصدیق کی ہم نے کیا تعریف پڑھی؟ ایک چیز کے لیے کوئی دوسری چیز ثابت ہو یا اس کی نفی ہو، اور جملہ انشائیہ میں چونکہ ایسا نہیں ہوتا۔ ایک چیز کے لیے دوسری چیز ثابت نہیں ہے یا ایک سے دوسری چیز کی نفی نہیں، اس لیے ان جملہ انشائیہ کی جتنی قسمیں ہیں وہ سب کیا ہیں؟ تصور ہیں بھئی، تصور بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، چلیے بس پھر کل اس کو خوب اچھی طرح یاد کر کے آئیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقۃ الكلام۔