LESSONS NO. 8 1 دیکھیے بھئی کتاب پر۔ ثالثها الحاضر عند المدرك، رابعها قبول النفس لتلك الصورة، خامسها الإضافة الحاصلة بين العالم والمعلوم۔ علم کی بحث چل رہی ہے۔ کل میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ علم مبدءِ انکشاف ہے بھئی۔ مبدءِ انکشاف کا سرچشمہ ہے، انکشاف کے معنی ہیں چیز کا واضح ہو جانا بھئی۔ اس کا پتہ چل جانا، روشن ہو جانا۔ تو علم مبدءِ انکشاف ہے، انکشاف کا سرچشمہ ہے۔ علم سے چیز کا پتہ چلتا ہے، وہ انسان کے ذہن میں ممتاز ہو جاتی ہے، دوسری چیزوں سے الگ ہو جاتی ہے۔ پتہ چل جاتا ہے یہ چیز ہے، وہ دوسری چیز ہے، وہ اور وہ تیسری چیز ہے۔ تو چیزوں میں امتیاز حاصل ہوتا ہے علم کے ذریعے۔ اور اس کی مثال میں نے ذکر کی تھی، جس طرح تاریک کمرے کے اندر چراغ روشن کریں، تو چیزیں روشن ہو جاتی ہیں، واضح ہو جاتی ہیں، ان کا پتہ چل جاتا ہے۔ اسی طرح علم ایک نور ہے جس کے ذریعے چیزوں کا امتیاز حاصل ہوتا ہے، ان کی پہچان ہوتی ہے بھئی۔ اور اس علم کے لیے اللہ نے انسان کو ایک آلہ نصیب فرمایا ہے جسے عقل کہتے ہیں بھئی، عقل۔ تو عقل کے ذریعے انسان علم حاصل کرتا ہے۔ یہ انسان میں قوت رکھی ہے اللہ تعالی نے، قوتِ ادراکیہ، جاننے کی قوت۔ اور اس کو پھر آگے اللہ نے آلات نصیب فرمائے ہیں جس کے ذریعے یہ مختلف قسم کا علم حاصل کرتی ہے۔ اور پانچ آلاتِ ظاہری اس کو نصیب فرمائے ہیں، اور وہ کیا ہے؟ قوتِ باصرہ ہے، قوتِ شامہ ہے، قوتِ لامسہ ہے، قوتِ سامعہ ہے اور قوتِ ذائقہ ہے بھئی۔ تو مختلف قسم کے علوم ہیں جو سارے پھر عقل تک پہنچتے ہیں۔ آنکھیں، جو چیزیں نظر آنے والی ہیں ان کا علم پہنچاتی ہیں۔ کان جو ہیں، مختلف قسم کی آوازوں کا علم پہنچاتے ہیں۔ اور قوتِ لامسہ، لمس کی اور چھونے کی طاقت جس کے ذریعے چیزوں میں امتیاز ہوتا ہے۔ اور قوتِ ذائقہ کے ذریعے مختلف قسم کے ذائقوں کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اور قوتِ شامہ کے ذریعے مختلف قسم کی خوشبوؤں کا علم ہوتا ہے۔ تو یہ سب عقل کے آلات ہیں بھئی۔ اب یہ جو قوتِ باصرہ ہے، یہ اللہ تعالی نے آنکھوں میں رکھی ہے بھئی۔ آنکھوں کے ذریعے انسان دیکھتا ہے چیزوں کو۔ قوتِ سامعہ جو ہے اللہ تعالی نے کانوں کے اندر رکھی ہے، مختلف قسم کی آوازیں سننا یہ کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ کان کے ذریعے، اور قوتِ لامسہ جو ہے، یہ سارے بدن میں پھیلی ہوئی ہے بھئی، سارے بدن میں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور قوتِ ذائقہ زبان کے اندر اللہ تعالی نے رکھی ہے جس کے ذریعے مختلف ذائقوں کی پہچان ہوتی ہے، امتیاز ہوتا ہے، فرق ہوتا ہے ایک ذائقے کا دوسرے ذائقے سے۔ تو اب اس بات پر تو علماء کا اتفاق کہ علم مبدءِ انکشاف ہے۔ اس کے ذریعے چیزوں کی الگ الگ پہچان ہوتی ہے، چیزیں ذہن کے اندر ممتاز ہو جاتی ہیں۔ البتہ علم کی تعریف اور حقیقت کے اندر علماء کا اختلاف کہ یہ امتیاز کس چیز کے ذریعے ہوتا ہے؟ کس چیز کے ذریعے ذہن میں چیزیں ممتاز ہوتی ہیں؟ تو بعض علماء نے کیا تعریف کی علم کی؟ حصول صورة الشيء في العقل۔ عقل میں شئے کی صورت کا حاصل ہونا۔ تو انہوں نے اس حصول، یہ جو معنی مصدری ہے، اس کا نام علم رکھا کہ یہ علم ہے۔ کسی چیز کا جب حصول، حصول ہوگا اس کی صورت کا جو حصول ہے، اس سے چیز ذہن میں ممتاز ہوتی ہے اور دوسری چیزوں سے اس کا فرق ہوتا ہے، اس کا نام انہوں نے علم رکھا۔ بعضوں نے کہا نہیں، صورت کا حاصل ہونا یعنی یہ حصولِ صورت، حصولِ صورت اس سے چیز اس کا امتیاز نہیں ہوتا، اس کی پہچان نہیں ہوتی، بلکہ اس کی صورت جو حاصل ہوتی ہے، حصول سے آگے پھر اس کی صورت جو حاصل ہو گئی، وہ اس صورت کے ذریعے چیز جو ہے ذہن کے اندر ممتاز ہوتی ہے، دوسری چیزوں سے الگ ہو جاتی ہے اور ہمیں اس کی پہچان حاصل ہو جاتی ہے بھئی۔ تو وہ جو صورتِ حاصلہ ہے، اس کا نام انہوں نے علم رکھا۔ پہلے علماء نے کس کا نام علم رکھا؟ حصول کا، اور دوسروں نے صورتِ حاصلہ کا، وہ جو صورت حاصل ہوئی۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی بھئی، آئینے کے سامنے کوئی چیز رکھی جائے تو اس کی صورت جو ہے، اس کا حاصل ہونا پایا جائے گا آئینے میں بھئی، اور وہ صورت پھر آئینے میں آ جائے گی بھئی۔ تو بعضوں نے کہا، یہ جو آئینے کے سامنے چیز ہے اور اس کی صورت جو آئینے میں حاصل ہو رہی ہے، یہ حاصل ہونے کا نام کیا ہے؟ علم۔ بعضوں نے کہا یہ حاصل ہونے کا نام علم نہیں، بلکہ وہ جو اندر صورت آ گئی، اس صورت کا نام کیا ہے؟ علم۔ یہ صورت کے ذریعے چیز دوسروں سے ممتاز ہوتی ہے۔ پہلوں نے کہا اس حصول کے ذریعے کیا ہوتی ہے چیز دوسری چیزوں سے ممتاز ہوتی ہے، پتہ چلتا ہے کہ یہ زید ہے یا یہ عمرو ہے یا یہ بکر ہے۔ دوسروں نے کہا نہیں، اس کی وہ جو صورت حاصل ہو گئی، تو اس کے ذریعے امتیاز ہوتا ہے۔ اور میں نے بتایا یہ عقل بھی انسان کے اندر دراصل ایک روحانی آئینہ ہے جس میں مختلف چیزوں کی صورتیں اور معانی حاصل ہوتے ہیں اور پہچان ہوتی ہے بھئی۔ ثالثها، ان معانی میں سے تیسرا معنی، ثالثها الحاضر عند المدرك۔ اب یہ تیسری تعریف آ گئی بھئی۔ یہ علماء کہتے ہیں، انہوں نے علم کی تعریف کی: الحاضر عند المدرك، کہ علم کس چیز کا نام ہے؟ وہ چیز جو مدرِک کے پاس حاصل، مدرِک کے پاس حاضر ہو بھئی۔ مدرِک کے پاس حاضر ہو بھئی، اس کے پاس حاضر ہو، اس کے سامنے حاضر ہو بھئی۔ تو یاد رکھیے، علماء نے اس تعریف کو ترجیح دی ہے بھئی۔ اس تعریف کو ترجیح دی ہے۔ اس لیے کیونکہ اس کے اندر اللہ تعالی کا علم بھی، اللہ تعالی کے علم پر بھی یہ تعریف صادق آتی ہے۔ باقی یہ جو تعریفیں ہیں، یہ صرف انسان کے علم پر تو صادق آئیں گی، اللہ کے علم پر صادق نہیں۔ اس لیے کیونکہ اللہ کا علم جو ہے، وہ تحصیلِ صورت کا محتاج نہیں۔ وہاں صورت کے حاصل کرنے کی حاجت نہیں بھئی۔ اللہ کے سامنے تمام چیزیں موجود ہیں۔ تو یہ تعریف جو ہے، الحاضر عند المدرك، مدرِک، ادرک یدرک ادراک کے معنی ہیں جاننا۔ تو ادراک کا اصل معنی ہے ایک چیز کو پورے طور پر جان لینا بھئی۔ ادراک کا اصل معنی کیا ہے؟ پورے طور پر جان لینا، لیکن یہاں چاہے مطلق جاننے کے معنی میں ہے، چاہے پورے طور پر جانا جائے یا پورے طور پر نہ جانا جائے۔ تو انسان جو ہے، وہ ہر چیز کو پورے طور پر نہیں جانتا، لیکن ادراک تو کرتا ہے، چیز کو جانتا تو ہے، مختلف علم تو ذرائع کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ تو انسان، عقل بھی اس میں داخل ہو گئی اور اللہ کے علم پر بھی یہ تعریف صادق آئی کہ اللہ اب ہر چیز کا پورے طور پر علم رکھنے والے ہیں، ہر چیز کو پورے طور پر جاننے والے ہیں بھئی۔ ادراک کا معنی میں نے بتلایا تھا کسی چیز کو پورے طور پر جان لینا، پورے طور پر، لیکن یہاں مطلق جاننے کے معنی میں ہے، چاہے پورے طور پر جان لیں یا کچھ جان لیں۔ زید آپ کے سامنے آیا، آپ پورے طور پر اس کو نہیں جان سکتے بھئی۔ ظاہری طور پر یہ تو پتہ ہے یہ زید ہے، لیکن پوری تفصیل کا علم نہیں، اس کے بدن میں اللہ نے جو جو آلات لگائے ہیں بھئی، دماغ اس طرح کام کر رہا ہے، عقل اس طرح کام کر رہی ہے، کان اس وجہ سے باتیں سنتے ہیں کہ اس کے اندر یہ یہ چیزیں اللہ نے لگائی ہیں، ناک میں خوشبو اس لیے آتی ہے کہ ناک میں اللہ نے فلاں فلاں چیز لگائی ہے، اس سے خوشبو کا پتہ چلتا ہے، زبان پہ اللہ نے کیا کیا رکھا ہے، پورا سب کچھ پتہ چل گیا آپ کو زید کے بارے میں؟ جی؟ زید کی ظاہری چیزوں، باتوں کا تو پتہ چل جائے گا، اس کی پوشیدہ باتوں کا بھی آپ کو علم نہیں، تو لہذا پورے طور پر جاننا یہ اللہ کی علم کی صفت ہے، اللہ ہر چیز کا پورے طور پر علم رکھتے ہیں، انسان پورے طور پر علم نہیں رکھتا۔ تو یہاں پر ادراک آیا اور میں نے بتایا ادراک کا معنی تو ہے پورے طور پر جان لینا ایک چیز کو، لیکن اگر ادراک کا اسی معنی میں استعمال کریں تو پھر تو انسان مدرِک رہا ہی نہیں، وہ تو پورے طور پر کسی چیز کو بھی نہیں جانتا بھئی، چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی پورے طور پر وہ نہیں جانتا۔ تو یہاں ادراک کا معنی کیا کریں گے؟ جاننا، جاننا، مطلق جان لینا کسی چیز کو، چاہے اب وہ پورے طور پر ہو اور چاہے ظاہری طور پر کچھ اس کا علم آ جائے بھئی، اس کو ادراک کہتے ہیں۔ تو یاد رکھیے، یہ تعریف شامل ہوئی علمِ حضوری کو بھی اور علمِ حصولی کو بھی۔ ایک علمِ حضوری ہے، حاضر سے ہی، علمِ حضوری، اور ایک علمِ حصولی ہے بھئی، حصولی۔ اللہ کا علم جو ہے وہ علمِ حضوری ہے، علمِ حضوری۔ اور انسان کا علم وہ زیادہ تر حصولی ہے، اس میں بھی علمِ حضوری بھی ہے، بعض چیزوں کا علم حضوری ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر علم کون سا ہے؟ علمِ حصولی ہے بھئی، حصولی ہے۔ علمِ حضوری کسے کہتے ہیں؟ علمِ حصولی کسے کہتے ہیں؟ تو یاد رکھیے، علمِ حضوری وہ ہے جس میں شئےِ مدرَک، مدرِک تو جاننے والا، اس میں فاعل کا صیغہ ہے، مدرَک وہ چیز جس کو جانا گیا ہے، معلوم کیا گیا ہے، جو معلوم ہوئی ہے۔ تو یہاں پر علمِ علمِ حضوری جو ہے، اس میں شئےِ مدرَک اپنی ذات کے اعتبار سے ہی مدرِک کے پاس موجود ہوتی ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ علمِ حضوری میں شئےِ مدرَک جو ہے، وہ شئےِ معلوم جو ہے یوں کہیں، شئےِ معلوم اپنی ذات کے اعتبار سے ہی مدرِک کے پاس موجود ہوتی ہے۔ اسے تحصیلِ صورت، اس میں تحصیلِ صورت کی حاجت نہیں ہوتی بھئی۔ یہ اہم فرق ہے دونوں کے اندر بھئی، علمِ حضوری کے اندر تحصیلِ صورت کی حاجت نہیں، صورت حاصل کرنے کی حاجت نہیں ہوتی، جبکہ علمِ حصولی جو ہے، اس میں تحصیلِ صورت کی حاجت ہوتی ہے، صورت حاصل کرنے کی حاجت ہوتی ہے، صورت حاصل ہوگی تو علم بھی آئے گا، صورت ہی نہیں حاصل تو علم بھی نہیں۔ تو علمِ حضوری میں شئےِ مدرَک یا یوں کہیں شئےِ معلوم اپنی ذات کے اعتبار سے خود مدرِک کے پاس موجود ہوتی ہے، وہاں اس علمِ حضوری کے اندر تحصیلِ صورت کی حاجت نہیں بھئی۔ اللہ کا علم تحصیلِ صورت کا محتاج نہیں ہے کہ کسی شئے کے علم کے لیے کس چیز کی حاجت پیش آ جائے؟ تحصیلِ صورت، بلکہ اللہ کے سامنے تمام اللہ کے لیے تمام چیزیں اللہ کے سامنے ہیں بھئی، تمام چیزیں بھئی۔ تو یہاں اور علمِ حصولی کے اندر کس کی حاجت ہوتی ہے؟ تحصیلِ صورت کی، یعنی صورت کے واسطے سے چیز کا علم حاصل ہوتا ہے۔ پھر میں نے بتایا اللہ کا علم حضوری ہے، انسان کا علم کچھ حضوری ہے، زیادہ تر کس قسم کا ہے؟ حصولی ہے۔ تو انسان کا علم میں حضوری، مثلاً انسان کا علم اپنی ذات پر، یہ کیا ہے؟ علمِ حضوری۔ انسان کا علم اپنی ذات پر، یعنی انسان کو جو اپنا علم ہے کہ میری ذات ہے، یہ کیا ہے علمِ حضوری، کیونکہ شئےِ مدرَک اپنی ذات کے اعتبار سے اس کے پاس موجود ہے، اپنی ذات تو اس کے پاس ہی موجود ہے بھئی، اور علمِ حضوری میں بھی ہم نے کیا کہا تھا؟ کہ شئےِ مدرَک اپنی ذات کے اعتبار سے مدرِک کے پاس موجود ہو، تو یہاں پر بھی یہاں پر بھی شئےِ مدرَک جو ہے، یعنی انسان کی ذات خود ہی اس کے پاس موجود ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو انسان کا علم اپنی ذات پر، یہ کیا ہے؟ علمِ حضوری، علمِ حضوری۔ اور اسی طرح انسان کا علم اپنی صفات پر، یہ بھی کیا ہے علمِ حضوری ہے، اپنی صفات پر۔ ہر ایک کا، آپ کا اپنی صفات پر، دوسرے کا اپنی صفات پر، مثلاً خوشی ہے، غم ہے، بھوک ہے، پیاس ہے وغیرہ بھئی۔ انسان کبھی خوش ہوتا ہے، کبھی غمگین ہوتا ہے، کبھی اسے بھوک لگتی ہے، کبھی پیاس لگتی ہے وغیرہ، تو یہ جو جب اسے بھوک لگی تو بھوک اس کی صفت ہوئی مولانا، جب اسے پیاس لگی تو پیاس اس کی صفت ہوئی، اور اسی طرح جب خوشی ہوئی تو خوشی اس وقت اس کی صفت ہے، جب اسے غم لاحق ہوا تو اس وقت غم اس کی صفت ہے، تو یہ جو انسان کا علم ہے اپنی صفات پر، یہ کون سا علم ہے؟ علمِ حضوری ہے بھئی، علمِ حضوری ہے بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ کہ علمِ حضوری کسے کہتے ہیں جس میں شئےِ مدرَک خود اپنی ذات کے اعتبار سے مدرِک کے پاس موجود ہو۔ اور علمِ حصولی جس میں، جس میں حصول کس کے ذریعے ہوگا؟ صورت کے واسطے سے، صورت کے واسطے سے۔ جبکہ علمِ حضوری میں صورت کی حاجت نہیں بھئی، وہاں تحصیلِ علم صورت کا محتاج نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہذا، تو یہ تعریف کہتے ہیں زیادہ، سب سے بہتر ہے جس میں اللہ، یہ جو یہ صادق آتی ہے اللہ کے علم پر بھی اور انسان وغیرہ کے علم پر بھی: الحاضر عند المدرك، کہ وہ شئے کیا ہو؟ حاضر ہو، شئےِ معلوم حاضر ہو عند المدرك، مدرِک کے پاس۔ اور مدرِک کا لفظ آیا، باقی اور تعریف، اوپر والی تعریفوں میں عقل کا لفظ آیا تھا بھئی، عقل کا لفظ آیا تھا۔ اور وہ صرف انسان کے علم کو شامل تھیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ عقل جو ہے، انسان کو اللہ نے قوت نصیب فرمائی ہے جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ اور اللہ تعالی کی ذات بے انتہا بلند ہے مولانا، اللہ کے لیے لفظِ عقل کا اطلاق درست نہیں بھئی، ذاتِ باری تعالی کے لیے عقل کا لفظ استعمال کرنا درست نہیں۔ 2 تو اللہ تعالیٰ کے لیے عقل کا لفظ استعمال کرنا درست نہیں ہے، جائز نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کیا کہا الحاضر عند المدرک بھئی۔ اب مثلاً دیکھیے بھئی، انسان کے علم کے اعتبار سے ہم دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کیا تعریف کی؟ الحاضر عند المدرک، اور مدرک انسان میں کیا ہے؟ عقل، عقل۔ تو وہ چیز جو مدرک یعنی عقل کے پاس موجود ہو۔ تو یہ موجود ہونا دو قسم پر ہوا بھئی۔ کبھی خود اپنی ذات کے اعتبار سے وہ چیز موجود ہوگی، اور کبھی اپنی صورت کے واسطے سے موجود ہوگی بھئی۔ کبھی کبھار وہ چیز کیا ہوگی؟ خود اپنی ذات کے اعتبار سے موجود ہوگی، جیسے انسان کی اپنی ذات اور اس کی صفات۔ اور کبھی صورت کے واسطے سے وہ چیز اس کے پاس موجود ہوگی جیسے اور چیزوں کا علم بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھیے، میرے سامنے زید کھڑا ہے۔ اب اپ مجھے بتائیے۔ تعریف سمجھ میں آگئی؟ سب کو؟ اب مجھے ذرا بتائیے۔ میرے سامنے زید حاضر ہے۔ تو یہ زید کا علم جو مجھے اس وقت میرے سامنے کھڑا ہے، یہ علمِ حصولی ہوا یا علمِ حضوری ہوا؟ علمِ حضوری کیسے ہوگا بھئی؟ کیا زید کی علم مجھے ویسے ہی ہے یا صورت کے ذریعے ہو رہا ہے؟ صورت، اس کی صورت بن رہی ہے۔ میں نے بتایا عقل ایک روحانی آئینہ ہے جس کے اندر چیزوں کی صورت بنتی ہے، تو زید کی صورت ہمارے ذہن میں بنی۔ اور چنانچہ زید کہیں چلا بھی گیا، جب بھی میں زید کا لفظ کہوں گا، فوراً اپ کے ذہن میں اس کی صورت آجائے گی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ جو ہمارے سامنے کوئی چیز موجود ہو، حاضر ہو، تو اب اپ یہ نہ کہیں کہ علمِ حضوری ہے، بلکہ یہ بھی کیا ہے دراصل علمِ حصولی ہی ہے کہ جس کے اندر تحصیلِ صورت کی حاجت ہے، اس کے بغیر یہ علم حاصل نہیں۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اپ آنکھیں، زید، اپ آنکھیں بند کر لیں، زید کو لا کر سامنے کھڑا کر دیں، کوئی علم حاصل ہو رہا ہے اپ کو بھئی؟ علم حاصل ہی نہیں ہو رہا۔ کیوں نہیں ہو رہا؟ کیونکہ صورت نہیں حاصل ہو رہی۔ زید آنکھوں سے نظر آنے والی ایک چیز ہے، تو آنکھیں کھولیں گے تو وہ ہمیں دکھائی دے گا، اس کی صورت آئے گی، اور معلوم ہوا یہ جو سامنے مشاہد اور محسوس چیزیں انسان کے ہوتی ہیں، یہ دراصل کیا ہے؟ علمِ حصولی ہے، علمِ حضوری نہیں۔ جبکہ علمِ حضوری میں شے مدرک خود موجود ہوتی ہے مدرک کے پاس۔ انسان کی ذات اپنے پاس خود ہی ہے، انسان ہی مدرک ہے، ادراک کرنے والا ہے، جاننے والا ہے، تو اس کی اپنی ذات اور اپنی صفات، یہ کیا ہیں؟ جن کا علم، علمِ حضوری ہے بھئی، کہ یہ خود اسی کے پاس موجود ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ فرق سمجھ میں آگیا اچھی طرح؟ تو لہٰذا الحاضر عند المدرک بھئی، یعنی وہ چیز جو مدرک یعنی عقل کے پاس حاضر ہو۔ میں نے بتایا چاہے یہ حاضر ہونا بغیر واسطے کے ہی ہو، بغیر واسطے کے ہی ہو، اور جیسے انسان کی اپنی ذات اور اس کی صفات اس کے پاس حاضر ہیں، اور چاہے یہ حاضر ہونا صورت کے واسطے سے ہو بھئی۔ کس کے واسطے سے؟ صورت کے واسطے سے۔ چاہے وہ چیز اس کے سامنے موجود ہے تو بھی صورت اس کے ذہن میں حاضر، وہ چیز اس کے سامنے سے چلی گئی، پھر بھی صورت اس کے ذہن میں حاضر ہے، تو یہ حاضر عند المدرک ہے بھئی۔ رابعها قبول النفس لتلك الصورة، چوتھا، چوتھا معنی بھئی، ان معانی میں سے چوتھا جو ہے، قبول النفس لتلك الصورة، نفس کا اس صورت کو قبول کر لینا۔ نفس کا اس صورت کو قبول کر لینا، یہ چوتھی تعریف آگئی۔ بھئی بعض علماء نے پہلی تعریف پہ ذرا نظر رکھیں، انہوں نے کہا تھا علم نام ہے حصول کا، حصولِ صورت بھئی۔ دوسروں نے کہا بھئی حصولِ صورت نہیں، وہ جو صورتِ حاصلہ ہے، اس کا کیا نام ہے؟ علم ہے بھئی۔ یہ کہتے ہیں بھئی حصول بھی ہو جائے، حصول کے بعد صورتِ حاصلہ بھی آجائے، وہ صورتِ حاصلہ، تو حصول بھی علم نہیں، یہ صورتِ حاصلہ بھی علم نہیں، بلکہ نفس اس کو قبول کر لے، کیا کر لے؟ یہ اس کے بعد حالت آئے گی، پہلے حصول ہوگا، پھر اس کے بعد صورتِ حاصلہ آئے گی، اور پھر نفس اس کو کیا کر لے گا؟ قبول کر لے گا کہ یہ چیز ایسی ہی ہے، وہ صورت نفس میں یعنی ٹھہر جائے، کچھ قرار پکڑ لے، نفس اسے کیا کر لے؟ قبول کر لے کہ یہ چیز اسی طرح ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ کہتے ہیں یہ حصول کا نام بھی نہیں، صورتِ حاصلہ کا نام بھی نہیں، بلکہ اس کے بعد ایک جو حالت ہے جس میں نفس کیا کر لیتا ہے ایک چیز کو؟ قبول کر لیتا ہے کہ یہ اسی طرح ہے، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو وہ اس قبول کا نام رکھتے ہیں، علم رکھتے ہیں۔ خامسها، ان معانی میں سے پانچواں معنی، الإضافة الحاصلة بين العالم والمعلوم، وہ اضافت کا معنی ہے نسبت، نسبت، تعلق بھئی، تعلق۔ الإضافة الحاصلة، وہ تعلق جو حاصل ہوتا ہے بين العالم والمعلوم، عالم اور معلوم کے درمیان۔ یہ علماء فرماتے ہیں کہ علم نام ہے عالم اور معلوم کے درمیان تعلق کا۔ بھئی زید اپ کا ساتھی ہے، تو اپ کو معلوم، زید کا علم حاصل ہے بھئی، زید کا علم حاصل ہے، تو زید کیا ہوا؟ معلوم، اور اپ کیا ہوئے؟ عالم۔ کیا معنی عالم؟ یعنی زید کو جاننے والا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اپ ہوئے عالم زید کے، اور زید اپ کا معلوم ہوا، تو اسی طرح ہر چیز کا علم، مثلاً یہ قلم اپ کے سامنے پڑا ہے، یہ ہے معلوم، اور اپ اس کے کیا ہیں؟ عالم، اس کے جاننے والے۔ یا یہ کتاب اپ کے سامنے پڑی ہے، یہ ہوئی معلوم، اپ اس کو جاننے والے ہیں اور یہ جانی گئی ہے معلوم ہونے والی ہے، اور اپ کیا ہیں؟ عالم، ہاں، تو یہ معلوم ہے اور اپ عالم ہیں اس کو جاننے والے بھئی، پہچاننے والے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ علماء کیا تعریف کرتے ہیں؟ کہ علم کس چیز کا نام ہے؟ عالم اور معلوم کے درمیان تعلق کا نام ہے۔ بھئی دیکھیے، عالم کسے کہیں گے؟ جاننے والا کوئی کب کہلائے گا؟ جب کوئی چیز اس کو معلوم ہو، کسی چیز کا اس کو علم ہوگا تو اس کا عالم کہیں گے، کوئی چیز شے معلوم ہی نہ ہو تو کسی کو عالم کہہ سکتے ہیں؟ عالم کہیں گے ہی کیا، عالم کا معنی ہی کیا ہے؟ جاننے والا، معلوم ہوا یہ کسی چیز کو جاننے والا ہے، تو عالم کے لیے معلوم کا ہونا ضروری۔ جب تک کوئی شے معلوم نہیں ہوگی، کسی کو عالم نہیں کہہ سکتے۔ اچھا، اور معلوم کسے کہتے ہیں؟ جس کو جانا گیا، تو معلوم تبھی کوئی چیز کہلائے گی جب اس کے لیے کوئی عالم ہو، اس کو کوئی جاننے والا ہو، جب تک عالم نہیں، کوئی شے معلوم نہیں، اور جب تک معلوم نہیں، کوئی شے عالم نہیں۔ تو ہر عالم کے لیے کیا چاہیے؟ معلوم، اور ہر معلوم کے لیے کیا چاہیے؟ عالم۔ تو یہ جو شے ہوئی معلوم اور وہ جاننے والا ہوا عالم، تو یہ جو ان دونوں کے درمیان تعلق آگیا، ایک عالم کہلایا، دوسرا کیا کہلایا؟ معلوم، اس کے ذریعے وہ چیز جو ہے ذہن، تعلق دونوں کے اندر آیا، وہ چیز ذہن میں ممتاز ہوگئی، پہچان ہوئی اس کی ذہن کے اندر، اور چیزوں سے الگ ہوگئی، پتہ لگ گیا یہ زید ہے، عمرو، بقر وغیرہ نہیں ہے۔ تو یہ جو عالم اور معلوم کے درمیان تعلق آگیا، یہ کیا ہے؟ علم ہے بھئی، عالم اور معلوم میں تعلق آئے گا تو پھر یہ چیز دوسری چیزوں سے ممتاز ہوگی اور اس کی ہمیں پہچان حاصل ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح سب کو؟ تو یہ پانچ تعریفیں ہیں علم کی مولانا، پانچ تعریفیں۔ تو یہ خاص طور پر ایک دو جملے جو ہیں جو ہر تعریف میں اپ وضاحت کے لیے استعمال کریں گے، یہ بار بار میں بھی بولتا رہا تاکہ اپ کے ذہن میں بیٹھ جائیں بھئی، کہ بعضوں نے کیا کہا؟ حصول کے ذریعے چیز ذہن میں ممتاز ہوتی ہے، دوسری چیزوں سے الگ ہوتی ہے اور اس کی ہمیں پہچان ہوتی ہے، اس کا نام انہوں نے علم رکھا۔ بعضوں نے کہا وہ جو صورت حاصل ہوئی ہے شے سے، اس کے صورتِ حاصلہ کے ذریعے شے کیا ہوتی ہے؟ چیز ذہن میں ممتاز ہوتی ہے، دوسری چیزوں سے الگ ہوتی ہے، تو وہ صورتِ حاصلہ کیا ہے؟ علم ہے۔ اور بعضوں نے کہا کہ علم کس چیز کا نام ہے؟ کہ وہ شے حاضر ہو کس کے پاس؟ مدرک کے پاس، چاہے بالواسطہ حاضر ہو یا بلاواسطہ بغیر کسی واسطے کے۔ تو یہ جیسے اور بغیر واسطے کے حاضر ہونے کی مثال جیسے انسان کا علم اپنی ذات اور اپنی صفات پر، اور واسطے کے ساتھ انسان کا علم باقی چیزوں پر، باقی کیونکہ وہاں تحصیلِ صورت کی بہرحال ضرورت ہے۔ اور بعضوں نے کیا کہا؟ کہ نفس اس صورت کو کیا کر لے؟ قبول کر لے، اس کا نام علم ہے، اور بعضوں نے کہا کہ وہ جو عالم اور معلوم کے درمیان تعلق بنتا ہے، تعلق ہو جاتا ہے، اس تعلق کا نام کیا ہے؟ علم ہے بھئی اس تعلق کا نام۔ تو یہ تعلق آئے گا تو چیز اس کے چیز کی صورت ذہن میں ممتاز ہوگی اور وہ دوسری چیزوں سے الگ ہوگی بھئی، الگ ہوگی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقۃ الكلام۔