LESSONS NO. 43 1 فَصْلٌ. اَلثَّالِثُ الْفَصْلُ، وَهُوَ كُلِّيٌّ مَقُولٌ عَلَى الشَّيْءِ فِي جَوَابِ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ، كَمَا إِذَا سُئِلَ الْإِنْسَانُ بِأَيِّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ فَيُجَابُ بِأَنَّهُ نَاطِقٌ. وَهُوَ قِسْمَانِ قَرِيبٌ وَبَعِيدٌ، فَالْقَرِيبُ هُوَ الْمُمَيِّزُ عَنِ الْمُشَارَكَاتِ فِي الْجِنْسِ الْقَرِيبِ، وَالْبَعِيدُ هُوَ الْمُمَيِّزُ عَنِ الْمُشَارَكَاتِ فِي الْجِنْسِ الْبَعِيدِ. فَالْأَوَّلُ كَالنَّاطِقِ لِلْإِنْسَانِ وَالثَّانِي كَالْحَسَّاسِ لَهُ. کلیات خمسہ کا بیان چل رہا تھا اور اس میں سے دو قسمیں، دو کلیاں آپ نے پڑھ لیں؛ جنس اور نوع، جنس اور نوع۔ پھر ان کے اندر بھی آپ نے پڑھا کہ جنس میں بھی کوئی جنس سافل ہے، کوئی جنس متوسط ہے اور کوئی جنس عالی ہے۔ اور اسی طرح نوع کے اندر بھی ترتیب ہے؛ کوئی نوع عالی ہے، کوئی نوع متوسط ہے اور کوئی نوع سافل ہے بھئی، کوئی نوع سافل ہے۔ اور یقیناً یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ نوع کی یہ جو قسمیں بنائی گئیں، یہ نوع اضافی کے اعتبار سے ہیں، کس اعتبار سے ہیں؟ نوع اضافی کے اعتبار سے ہیں ورنہ نوع حقیقی کے اندر یہ تقسیم نہیں ہو سکتی بھئی۔ آج ہم تیسری کلی فصل کے بارے میں پڑھیں گے، تیسری کلی کا نام فصل ہے بھئی، فصل۔ فصل، تو دیکھیے کتاب میں مصنف فرماتے ہیں بھئی: فَصْلٌ، أيْ هَذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ اَلثَّالِثُ الْفَصْلُ، تیسری فصل ہے، یعنی کلیات خمسہ میں سے تیسری کیا ہے؟ فصل ہے۔ وَهُوَ كُلِّيٌّ مَقُولٌ عَلَى الشَّيْءِ، اور وہ ایسی کلی ہے جو بولی جائے علی الشيء کسی شے پر، فِي جَوَابِ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ، "أيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ" کے جواب میں۔ بھئی "أيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ"، یاد رکھیے یہ مناطقہ کے اصطلاحی الفاظ ہیں بھئی، جیسے پہلے ایک گزرا "مَا هُوَ"۔ "مَا هُوَ" کے ذریعے پڑھا آپ نے کہ کسی چیز کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، حقیقت کے بارے میں۔ اور اگر ایک ہی حقیقت والے افراد کے بارے میں یا ایک ہی چیز کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا جائے تو جواب میں نوع واقع ہوتی ہے۔ اور اگر کئی حقیقتوں والے افراد ہیں، ان کا سوال "مَا هُوَ" کے ذریعے ان کے بارے میں سوال کیا جائے تو پھر جواب میں جنس واقع ہوا کرتی ہے بھئی۔ کیا واقع ہوتی ہے؟ جنس، کیونکہ جب کئی حقیقتوں والی چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو معلوم ہوا جواب میں ایسی چیز آنی چاہیے جو ان سب کے درمیان مشترک ہو، ایسی ماہیت آئے اور وہ جنس ہوا کرتی ہے، کیا ہوا کرتی ہے؟ جنس۔ جیسے پوچھا جائے: اَلْإِنْسَانُ وَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ مَا هِيَ؟ انسان، بقر اور غنم، یعنی بھیڑ بکری، ما ہی، یہ کیا چیز ہیں؟ تو جواب میں کیا آئے گا؟ حیوان بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ حیوان۔ تو "مَا هُوَ" کے جواب میں جنس اور نوع واقع ہوتے ہیں۔ کیا واقع ہوتے ہیں؟ جنس اور نوع۔ جبکہ "أيُّ شَيْءٍ" جو ہے "أيُّ شَيْءٍ"، اس کے ذریعے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے جو اس ماہیت کو دوسری ماہیتوں سے جدا کر دے۔ کس چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے؟ اس کے ذریعے ممیز کو طلب کیا جاتا ہے، ممیز جدا کرنے والی چیز۔ جب "أيُّ شَيْءٍ" کے ذریعے یاد رکھیے جب بھی کسی چیز کے بارے میں سوال ہو، تو جواب میں ایسی چیز لے کر آؤ جو اس ماہیت کو دوسری ماہیتوں سے جدا کر دے، ممتاز کر دے بھئی۔ تو جواب میں ممیز آئے گا، کیا آئے گا؟ ممیز کا کیا معنیٰ؟ جدا کرنے والی چیز۔ تو "أيُّ شَيْءٍ" کے ذریعے ممیز کو طلب کیا جاتا ہے کہ یہ ایسی چیز تو جواب میں ایسی چیز واقع ہو گی جو اسے دوسری ماہیتوں سے جدا کر دے، الگ کر دے۔ اب "أيُّ شَيْءٍ" کے ذریعے پھر دو طرح سوال ہوتا ہے، کبھی تو سوال ہو گا: "أيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ"، اور کبھی سوال ہو گا: "أيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي عَرَضِهِ"۔ "أيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ" اور کبھی "أيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي عَرَضِهِ"۔ جب "أيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ" کے ذریعے سوال ہو تو یاد رکھیے جواب میں فصل آیا کرتی ہے۔ کیا آیا کرتی ہے؟ فصل۔ اور "أيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي عَرَضِهِ" تو اس کے جواب میں خاصہ آتا ہے بھئی، خاصہ۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ یہ فصل جو ہے، یہ ذات اور حقیقت میں داخل ہوتی ہے، جبکہ خاصہ جو ہے وہ ذات اور حقیقت میں داخل نہیں ہوتا۔ جب سوال کیا "أيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ"، کیا چیز ہے وہ اپنی ذات میں؟ یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے، تو جواب میں ایسا ممیز آنا چاہیے جو اس کی ذات میں داخل ہو۔ سوال میں کیا تھا؟ "فِي ذَاتِهِ"، تو جواب میں ایسا ممیز جو اس کی ذات میں داخل ہو اور وہ فصل ہے بھئی۔ فصل ایسا ممیز ہے جو اس چیز کی ذات میں اور اس کی حقیقت میں داخل ہوتا ہے۔ اور جب سوال میں "فِي عَرَضِهِ" آئے، یعنی اپنے عرض کے اعتبار سے، اپنی صفت کے اعتبار سے، تو جواب میں ایسا ممیز چاہیے جو اس کی ذات میں نہ داخل ہو بلکہ اس کی صفت ہو بھئی۔ تو جواب میں خاصہ آئے گا، جیسے ضاحک انسان کے لیے۔ ضاحک کس کے لیے؟ انسان کے لیے۔ اگر انسان کے بارے میں پوچھا جائے: اَلْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي عَرَضِهِ؟ انسان کیا چیز ہے "فِي عَرَضِهِ"، کس میں؟ اپنی عرض یعنی اپنی صفت میں، اپنے صفت کے اعتبار سے؟ تو جواب میں کیا کہیں گے؟ ضاحک۔ اب ضاحک یہ انسان کی حقیقت میں تو نہیں داخل۔ ہاں، البتہ انسان کا خاصہ ہے، ضحک صرف انسان کے ساتھ خاص ہے اور کسی حیوان میں ضحک نہیں پایا جاتا۔ ضحک کا معنیٰ ہنسنا، ہنسنا۔ تو یہ ہنسنا، یہ انسان کا خاصہ ہے، کسی اور حیوان میں یہ وصف نہیں پایا جاتا۔ تو جب بھی سوال کیا جائے: "أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي عَرَضِهِ"، تو جواب میں کیا آیا کرتا ہے؟ خاصہ آتا ہے۔ اور جب بھی سوال کیا جائے: "أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ"، تو جواب میں کیا آئے گا؟ فصل آئے گی فصل بھئی۔ جیسے انسان کے بارے میں پوچھا جائے: اَلْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ؟ انسان کیا چیز ہے اپنی ذات میں یا اپنی ذات کے اعتبار سے؟ تو جواب میں کیا کہیں گے؟ ناطق، هُوَ نَاطِقٌ، هُوَ نَاطِقٌ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو "أَيُّ شَيْءٍ" کے ذریعے مناطقہ کس چیز کا سوال کرتے ہیں؟ ممیز کا، ایسی چیز جو اس کو دوسری ماہیتوں سے کیا کر دے؟ جدا کر دے۔ اور پھر اگر "فِي ذَاتِهِ" یعنی ذات کے اعتبار سے ممیز طلب کیا جائے تو جواب میں کیا آئے گا؟ جواب میں فصل آئے گی۔ اور اگر "فِي عَرَضِهِ" یعنی عرض کے اعتبار سے ممیز طلب کیا جائے تو پھر جواب میں کیا آئے گا؟ خاصہ آئے گا بھئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اصطلاحی لفظ ہے بھئی، اگرچہ معنیٰ "مَا هُوَ" وہ کیا ہے، "أَيُّ شَيْءٍ" وہ کیا ہے، ویسے لفظوں کے اعتبار سے غور کریں تو پھر لفظوں میں یہ فرق نہیں ہے بھئی، لیکن یہ اصطلاح کے اندر ہے مناطقہ جب "مَا هُوَ" کے ذریعے سوال کریں تو جواب میں حقیقت ذکر کی جاتی ہے، اور "أَيُّ شَيْءٍ" کے ذریعے جب سوال کریں تو جواب میں ممیز ذکر کیا جاتا ہے، وہ چیز جو اس کو دوسروں سے کیا کر دے؟ جدا کر دے بھئی، جدا کر دے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہی بات ذکر کر رہے ہیں: وَهُوَ كُلِّيٌّ مَقُولٌ عَلَى الشَّيْءِ فِي جَوَابِ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ، اور وہ ایسی کلی ہے جو بولی جاتی ہے کسی چیز پر "أَيِّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ" کے جواب میں، كَمَا إِذَا سُئِلَ الْإِنْسَانُ، جیسے کہ پوچھا جائے انسان کے بارے میں، بِأَيِّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ، کہ وہ کیا چیز ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، فَيُجَابُ بِأَنَّهُ نَاطِقٌ، تو جواب دیا جاتا ہے کہ وہ ناطق ہے۔ وَهُوَ قِسْمَانِ قَرِيبٌ وَبَعِيدٌ، اور یہ فصل جو ہے دو قسم پر ہے، قِسْمَانِ دو قسم پر ہے، قَرِيبٌ وَبَعِيدٌ، ایک قریب ہے، ایک فصل قریب ہے، وَبَعِيدٌ اور ایک فصل بعید ہے۔ بھئی قریب اور بعید نام سے ہی پتہ چل رہا ہے۔ فصل تو نام ہے ہی ممیز کا، اتنا تو پتہ ہے آپ کو، فصل کس چیز کا نام ہے؟ ممیز، جدا کرنے والی چیز ہے بھئی۔ دیکھو ناطق، یہ انسان کو جدا کرتا ہے باقی حیوانات سے۔ باقی حیوانات ناطق نہیں بھئی، جب آپ نے کہہ دیا ناطق، تو یہ باقی حیوانات سے کیا ہو گیا؟ جدا ہو گیا۔ جدا ہو گیا۔ تو معلوم ہوا فصل نام ہے ممیز کا۔ اب جدا کرے یہ فصل، اگر جنس قریب کے افراد سے جدا کرے تو یہ فصل قریب ہے، اور اگر جنس بعید کے افراد سے جدا کرے تو پھر یہ فصل بعید ہے، فصل بعید ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، اب یہاں ایک دو چیزیں ذرا لکھ لیجیے بھئی، ایک جسم کی تعریف اور ایک حیوان کی تعریف بھئی۔ جلدی جلدی لکھیے بھئی: اَلْجِسْمُ هُوَ جَوْهَرٌ قَابِلٌ لِلْأَبْعَادِ الثَّلَاثَةِ. اَلْجِسْمُ هُوَ جَوْهَرٌ قَابِلٌ، قابل دو نقطوں والا قاف بھئی، قَابِلٌ لِلْأَبْعَادِ، هُوَ جَوْهَرٌ قَابِلٌ لِلْأَبْعَادِ الثَّلَاثَةِ. لکھ لیا بھئی؟ یہ جسم کی تعریف ہے بھئی۔ آپ سے پوچھے جسم کسے کہتے ہیں؟ تو جواب میں آپ کیا کہیں گے؟ هُوَ جَوْهَرٌ قَابِلٌ لِلْأَبْعَادِ الثَّلَاثَةِ. هُوَ جَوْهَرٌ قَابِلٌ لِلْأَبْعَادِ الثَّلَاثَةِ. وہ جوہر ہے، جسم، دیکھیں ترجمہ بھی سمجھ لیجیے، وہ جوہر ہے قَابِلٌ جو قبول کرنے والا ہے لِلْأَبْعَادِ الثَّلَاثَةِ، ابعاد جمع ہے بعد کی، بعد۔ ابعاد ثلاثہ تین بعدوں کو، تین دوریاں، بعد کس کو کہتے ہیں؟ دوری، یعنی پیمائش مراد ہے، کیا مراد ہے؟ پیمائش بھئی۔ تو ابعاد ثلاثہ یاد رکھیے، ابعاد ثلاثہ طول، عرض اور عمق کو کہتے ہیں۔ ابعاد ثلاثہ کسے کہتے ہیں؟ طول، عرض اور عمق۔ طول لمبائی، عرض چوڑائی، عمق گہرائی۔ طول، عرض اور عمق؛ لمبائی، چوڑائی اور گہرائی۔ بھئی دیکھیے میں سامنے یہ مثلاً کتاب پڑی ہے موٹی سی بھئی، اب دیکھیے اس کی کچھ لمبائی ایک تو لمبائی ہے اس کی، پھر کچھ ایک طرف اس کی چوڑائی ہے، اور ایک جانب نیچے کی طرف اس کی موٹائی ہے بھئی، موٹائی۔ تو جسم اسے کہتے ہیں جو تین بعدوں کے اندر جو تین بعدوں کو قبول کرے بھئی، جس میں تین بعد پائے جائیں؛ لمبائی بھی ہو، چوڑائی بھی ہو اور گہرائی بھی ہو۔ ہر جسم کے اندر ایسا ہی ہو گا، اس کی کچھ نہ کچھ لمبائی ہو گی، کچھ نہ کچھ چوڑائی ہو گی اور کچھ نہ کچھ گہرائی ہو گی، یعنی اونچائی کہہ لیں بھئی، کچھ نہ کچھ اونچائی ہو گی بھئی۔ ہاں، جو بھی چیز جسم ہے، یہ آپ کے سامنے قلم پڑا ہے، اس میں بھی طول بھی ہو گا، عرض بھی ہو گا اور عمق بھی ہو گا؛ آپ خود بھی جسم ہیں بھئی، آپ کا بھی طول بھی ہو گا، عرض بھی ہو گا اور عمق بھی ہو گا بھئی؛ تو جو بھی چیز جسم ہے بھئی، کتاب ہے، قلم ہے، سپاہی ہے، سمجھ میں آیا؟ اور یہ کمرہ ہے، کوئی بھی چیز گاڑی ہے، سائیکل ہے، ہر چیز میں اس کے طول، عرض، عمق ہو گا اس کے اجزاء سب میں بھئی، تمام اجزاء میں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ طول، عرض، عمق۔ تو یہ جسم کی تعریف کی بھئی، دوبارہ تعریف کو دیکھیے: اَلْجِسْمُ هُوَ جَوْهَرٌ قَابِلٌ لِلْأَبْعَادِ الثَّلَاثَةِ، جسم وہ جوہر ہے جو قبول کرنے والا ہو تین بعدوں کو۔ تین بعدوں سے کیا مراد ہے؟ لمبائی، چوڑائی اور گہرائی بھئی، طول، عرض اور عمق، ان کو ابعاد ثلاثہ کہتے ہیں۔ ہر جسم اسی طرح ہو گا بھئی۔ آگے تعریف لکھیے حیوان کی۔ حیوان، حیوان کسے کہتے ہیں؟ آگے لکھیے: اَلْجِسْمُ النَّامِي الْحَسَّاسُ الْمُتَحَرِّكُ بِالْإِرَادَةِ. اَلْجِسْمُ النَّامِي الْحَسَّاسُ، حساس، سین ہے دونوں جگہ اس میں بھئی، اَلْحَسَّاسُ اَلْمُتَحَرِّكُ، چھوٹا کاف ہے آخر میں بھئی، اَلْمُتَحَرِّكُ بِالْإِرَادَةِ. لکھ لیا بھئی؟ یہ ہے حیوان کی تعریف بھئی: اَلْجِسْمُ النَّامِي الْحَسَّاسُ الْمُتَحَرِّكُ بِالْإِرَادَةِ. وہ جسم النَّامِي جو کیا ہو؟ بڑھنے والا ہو بھئی، بڑھنے والا۔ ہر حیوان پر یہ تعریف صادق آئے گی۔ وہ جسم ہو، بڑھنے والا ہو، اَلْحَسَّاسُ اور کیا ہو؟ حساس۔ حساس کا کیا معنیٰ ہے بھئی؟ جانتے ہو کہ نہیں جانتے؟ یاد رکھیے حساس وہ ہر حیوان کے اندر اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر یہ قوت اور یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ اپنے جسم پر ہونے والے تغیرات کا اسے اس کے جسم پر جو بھی تغیر پیدا ہوتا ہے، اس کا اسے علم ہوتا ہے بھئی، اس کا اسے اس کا پتہ چلتا ہے۔ ہاں، محسوس کرتا ہے وہ چیز کو، کیا کرتا ہے؟ محسوس۔ حساس محسوس حساس کا معنیٰ محسوس کرنے والا۔ حساس کا کیا معنیٰ؟ محسوس کرنے والا۔ تو ہر حیوان کے اندر اللہ نے یہ فطری قوت رکھی ہے کہ اس کے بدن پر جو بھی تغیر یا تبدیلی واقع ہوتی ہے، وہ اس کو محسوس کرتا ہے بھئی، اس کا اسے علم ہوتا ہے، اس کا اسے پتہ چلتا ہے بھئی، پتہ چل جاتا ہے اس سے۔ نیز اَلْمُتَحَرِّكُ بِالْإِرَادَةِ، وہ حرکت کرتا ہے اپنے ارادے سے، ہر حیوان کیا ہے؟ اپنے ارادے سے حرکت کرتا ہے بھئی۔ تعریف سمجھ میں آ گئی؟ حیوان کس کا نام ہے؟ وہ ایسا جسم ہے دیکھو، ایسا جسم ہے، جسم کہتے ہی پتہ چل گیا کہ وہ تین اس میں تین جس میں بعد ہیں، یعنی طول، عرض اور عمق ہے بھئی۔ اور النَّامِي، نامی وہ بڑھنے والا ہے، پہلے چھوٹا ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جاتا ہے عمر کے ساتھ ساتھ۔ اَلْحَسَّاسُ، وہ کیا ہے؟ محسوس کرنے والا ہوتا ہے۔ اَلْمُتَحَرِّكُ بِالْإِرَادَةِ، وہ اپنے ارادے سے حرکت کرنے والا ہے۔ 2 اب دیکھیے بات چل رہی تھی فصل قریب اور فصل بعید کی۔ فصل قریب، بھئی فصل نام ہے ممیز کا۔ اب اگر وہ جنس قریب سے جدا کرے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ جنس قریب کے جو افراد ہیں ان سے اس ماہیت کو جدا کرے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ فصل قریب۔ اور اگر جنس بعید کے افراد سے اس ماہیت کو جدا کرے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ فصل بعید۔ اب دیکھیے ترتیب کیا تھی انواع کے اندر بھئی۔ سب سے نیچے انسان ہے بھئی، انسان۔ انسان نوع حقیقی ہے۔ انسان کے اوپر کیا ہے؟ حیوان۔ حیوان جنس ہے۔ انسان ہے نوع، کیونکہ یہ ایسی کلی ہے جو ایسے کثیرین پر بولی جاتی ہے جن کی حقیقت ایک ہی ہے بھئی۔ انسان کے جتنے بھی افراد ہیں ان سب کی کیا حقیقت ہے؟ حیوان ناطق۔ اور حیوان یہ ایسی کلی ہے جو ایسے کثیرین پر بولی جاتی ہے جن کی حقیقتیں مختلف ہیں بھئی۔ انسان کی حقیقت اور، بقر یعنی گائے بیل وغیرہ کی حقیقت اور، گھوڑے کی حقیقت اور، اونٹ کی حقیقت اور بھئی، اور غنم بھیڑ بکری وغیرہ کی حقیقت اور ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو حیوان کیا ہوا؟ جنس۔ اور یہ انسان کے اوپر پہلی جنس ہے تو یہ جنس قریب ہے بھئی۔ اس سے اوپر جائیں بھئی۔ حیوان سے اوپر کیا ہے؟ جسم نامی۔ جسم نامی، یہ بھی جنس ہے کس کے لیے؟ انسان کے لیے۔ لیکن یہ جنس بعید ہے بھئی۔ اس سے اوپر چلے جائیں۔ جسم نامی سے اوپر کیا ہے؟ جسم مطلق۔ یہ بھی جنس ہے انسان کے لیے، لیکن یہ بھی کیا ہے؟ جنس بعید ہے بھئی۔ اسی طرح اس سے اوپر چلے جائیں۔ جسم مطلق کے اوپر کیا ہے؟ جوہر ہے بھئی۔ یہ بھی جنس ہے بھئی، لیکن یہ بھی کیا ہے؟ جنس بعید ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو انسان کے لیے حیوان کیا ہے؟ جنس قریب۔ اور جسم مطلق، یا جسم نامی، جسم مطلق، اور جوہر وغیرہ کیا ہیں؟ یہ بھی جنس ہیں، لیکن جنس بعید ہیں بھئی۔ تو اب اگر میں سوال کرتا ہوں: "الانسان، أي شيء هو في ذاته؟" تو جواب میں اگر آپ ایسا ممیز لائے جو جنس قریب کے افراد سے جدا کر دے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ فصل قریب۔ اور اگر آپ ایسا ممیز لائے جو جنس بعید کے افراد سے اس کو جدا کرے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ فصل بعید کہیں گے بھئی۔ مثلاً دیکھیے، میں نے پوچھا: "الانسان، أي شيء هو في ذاته؟" انسان وہ اپنی ذات کے اعتبار سے کیا چیز ہے؟ "أي شيء" سنتے ہی پتہ چل گیا میں کس چیز کو طلب کر رہا ہوں؟ ممیز کو۔ کس کو؟ ممیز کو۔ تو اب جواب میں آپ نے مثلاً کہا: "ناطق"۔ انسان کیا ہے؟ ناطق ہے۔ ناطق نے دیکھو کس میں آ کر جدا کیا؟ جنس قریب حیوان کے اندر ہی جدا کر دیا، کیونکہ حیوان دو قسم پر ہیں۔ کچھ ناطق ہیں اور کچھ غیر ناطق۔ انسان تو ناطق ہے، باقی بقر، غنم وغیرہ غیر ناطق ہیں۔ تو ان سے ہی آ کر جدا کر دیا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ فصل قریب۔ کیا کہیں گے؟ کیونکہ اس نے کون سی جنس کے افراد سے اس کو جدا کیا؟ جنس قریب کے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ فصل قریب۔ اور اگر جواب میں آپ "حساس" کہتے ہیں۔ اب حساس نے انسان کو جدا تو کیا، لیکن کس سے جدا کیا؟ حیوان وغیرہ سے جدا کیا؟ نہیں۔ کیونکہ ہر حیوان کی تعریف میں کیا لفظ آیا تھا؟ حساس۔ تو جنس قریب کے افراد سے تو اس کو جدا نہیں کیا، وہ سارے بھی حساس ہوتے ہیں۔ ہاں، جنس بعید یعنی جسم نامی کے افراد سے جدا کر دیا۔ جسم نامی دو قسم پر تھے بھئی۔ جسم نامی میں کیا کیا داخل ہیں؟ تمام حیوانات بھی داخل ہیں اور درخت اور پودے وغیرہ بھی داخل ہیں۔ حیوانات وہ تو ہیں حساس، لیکن پودے کیا ہیں؟ پودے کیا ہیں؟ غیر حساس ہیں بھئی۔ وہ کیا ہیں؟ غیر حساس۔ تو جب ہم نے حساس کہا، انسان کس سے جدا ہو گیا؟ درختوں اور پودوں وغیرہ سے۔ کس سے جدا ہوا؟ درختوں اور پودوں وغیرہ سے جدا ہو گیا، لیکن حیوانات سے جدا نہیں۔ تو حیوان میں اس نے جدا نہیں کیا، کس میں جا کر جدا کیا؟ جسم نامی کے اندر جو اس کے ساتھ افراد شریک تھے، ان سے آ کر اس کو جدا کر دیا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ فصل بعید۔ بحث بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں سمجھ میں آرہی بھئی؟ فصل قریب کسے کہیں گے؟ جو جنس قریب سے کیا کرے؟ جدا کرے۔ اور فصل بعید کسے کہیں گے؟ جو جنس بعید کے افراد سے جدا کرے بھئی۔ دیکھیے یہی تعریف کر رہے ہیں بھئی: "فالقريبُ، فالقريبُ هو المميز عن المشاركات في الجنس القريب"۔ پس فصل قریب جو ہے، وہ جدا کرنے والی ہے ان سے جو شریک ہیں اس کے ساتھ جنس قریب میں۔ جنس قریب میں جو اس کے شریک ہیں ان سے جدا کرنے والی فصل قریب ہے۔ "والبعيدُ هو المميز عن المشاركات في الجنس البعيد"۔ اور فصل بعید جو ہے، وہ ممیز ہے، وہ جدا کرنے والا ہے ان سے جو اس کے ساتھ شریک ہیں جنس بعید کے اندر۔ "فالأولُ كالاناطقِ للإنسانِ"۔ پس پہلا، پہلے کون بھئی؟ جنس قریب۔ جنس قریب جو ہے، "كالناطق للإنسان" جیسے کہ ناطق ہے انسان کے لیے۔ "والثاني" اور دوسری کون بھئی؟ فصل بعید۔ اور فصل بعید کی مثال ذکر کر رہے ہیں: "کالحساسِ له"۔ "له" یعنی "للإنسان"، یہ "لہ" ضمیر کس کو راجع ہے؟ انسان کو۔ جیسے کہ حساس ہے انسان کے لیے، یہ فصل بعید ہے بھئی۔ تو ناطق انسان کے لیے فصل قریب، کیونکہ اس نے حیوان کے افراد سے آ کر انسان کو کیا کر دیا؟ جدا کر دیا۔ اور حساس انسان کے لیے فصل بعید، کیونکہ اس نے جسم نامی کے افراد سے اس کو کیا کر دیا؟ جدا کر دیا۔ "وللفصلِ نسبةٌ إلى النوعِ فيسمى مقوماً"۔ یاد رکھیے، اب یہ جو فصل ہے، فصل نام ہے ممیز کا۔ کس کا نام ہے؟ ممیز کا، جدا کرنے والی چیز بھئی۔ اب اس فصل کی نسبت نوع کے ساتھ بھی ہے اور فصل کی نسبت جنس کے ساتھ بھی ہے۔ توجہ سے سننا بھئی! فصل کی نسبت نوع کے ساتھ بھی ہے اور فصل کی نسبت جنس کے ساتھ بھی ہے۔ نوع کی نسبت سے فصل کو مقوم کہتے ہیں۔ کس کی نسبت سے؟ نوع کی نسبت سے فصل کو کیا کہتے ہیں؟ مقوم۔ اور جنس کے ساتھ بھی اس کی نسبت ہے، اور جنس کی نسبت سے اس کو مقسم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مقسم کہتے ہیں۔ تو فصل کی کس کس کے ساتھ نسبت ہے؟ نوع کے ساتھ بھی اور جنس کے ساتھ بھی۔ نوع کی نسبت سے یہ کیا کہلاتی ہے فصل؟ مقوم، شاباش۔ اور جنس کی نسبت سے یہ کیا کہلاتی ہے؟ مقسم۔ مقوم اور مقسم بھئی، یہ دو نام ہیں اس کے۔ مقوم، یاد رکھیے، یہ قوام سے ہے، قوام سے۔ قوام کہتے ہیں کسی چیز کی، کے اجزائے ترکیبی جس سے وہ چیز بنی ہو۔ قوام کسے کہتے ہیں؟ قوام کہتے ہیں اجزائے ترکیبی، وہ اجزاء جو اس چیز کو ترکیب دیتے ہیں، اس کو بناتے ہیں بھئی۔ آسان سا لفظ، جس سے وہ چیز بنی ہو۔ انسان کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟ حیوان اور ناطق۔ حیوان اور ناطق سے یہ مل کر بنا ہے انسان بھئی، تو انسان کے اجزائے ترکیبی کیا ہوئے؟ حیوان اور ناطق۔ تو ایک جز ہوا حیوان، ایک جز ہوا ناطق، یہ ہیں انسان کے اجزائے ترکیبی۔ حیوان کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟ جسم ہو، اور کون سا جسم ہو؟ جسم نامی ہو۔ اور حساس ہو۔ اور متحرک بالارادہ ہو بھئی۔ یہ اس کے کیا ہیں؟ اجزائے ترکیبی۔ یہ ساری چیزیں جب ملیں گی تو کیا حاصل ہوگا ہمیں؟ حیوان حاصل، یہ اس کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ یہ وہ اجزاء ہیں جس سے یہ چیز ترکیب پاتی ہے، بنتی ہے بھئی۔ یعنی ماہیت مراد ہے، کیا ہے؟ ماہیت اور اس کی حقیقت بھئی۔ تو قوام کا کیا معنی ہوا؟ اجزائے ترکیبی۔ تو نوع کی نسبت سے فصل کو مقوم کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ اس کے قوام اور حقیقت میں داخل ہوتی ہے۔ یہ اس کے اجزائے ترکیبی بنانے والی ہے بھئی۔ انسان نوع، انسان کیا ہے بھئی؟ نوع۔ اس کے، انسان نوع ہے، حقیقت کیا ہے اس کی؟ حیوان ناطق، انسان۔ انسان کے لیے حقیقت کیا ہے؟ حیوان ناطق۔ اور دیکھیے، انسان کی فصل کیا ہے؟ فصل قریب؟ ناطق۔ حقیقت، دوبارہ توجہ سے سنو، انسان کی حقیقت کیا؟ حیوان ناطق۔ اور فصل کیا؟ ناطق۔ تو دیکھو ناطق، انسان کی حقیقت میں داخل ہے یا نہیں؟ انسان کی کیا حقیقت؟ حیوان ناطق۔ تو ناطق ایک جز ہوا یا نہیں ہوا؟ تو ناطق انسان کی حقیقت میں داخل ہے۔ تو دیکھو، یہ ناطق، یہ ہے فصل، اور یہ حیوان ناطق، یہ کیا ہے؟ نوع ہے۔ اور یہ فصل کیا ہے؟ نوع کی حقیقت میں داخل ہے بھئی۔ اس کی حقیقت میں داخل ہے، یہ اس کے لیے قوام ہے بھئی، اجزائے ترکیبی میں سے ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو فصل نوع کی نسبت سے کیا کہلاتی ہے؟ مقوم۔ مقوم کیوں کہلاتی ہے؟ کیونکہ یہ اس کے قوام میں داخل، قوام ہے اس کے لیے اور اس کی حقیقت میں داخل ہے بھئی۔ اس کی ماہیت میں یہ داخل ہے، اس لیے اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ مقوم کہا جاتا ہے۔ اور جنس کے لیے یہ فصل مقسم ہے۔ مقسم کا معنی تقسیم کرنے والی۔ جنس کے لیے، جنس کے لیے فصل کیا ہوتی ہے؟ مقسم کا کیا معنی؟ تقسیم کرنے والی۔ یہ جنس کو تقسیم کر دیا کرتی ہے۔ دو حصے کر دیتی ہے۔ انسان کے لیے جنس کیا ہے؟ حیوان۔ جنس قریب کیا ہے؟ حیوان۔ اچھا، اور فصل کیا ہے؟ ناطق ہے۔ اب جب میں نے کہا "ناطق"، تو حیوان کو اس نے تقسیم کر دیا۔ کیا کیا؟ جنس کی نسبت سے فصل کیا ہے؟ مقسم ہے۔ تو جیسے دیکھیے، انسان کے لیے جنس قریب کیا ہے؟ حیوان۔ اور انسان کے لیے فصل کیا ہے؟ ناطق ہے۔ تو جب آپ نے، میں نے پوچھا: "الانسان، أي شيء هو في ذاته؟" آپ نے جواب میں کیا کہا؟ "ناطق"۔ تو یہ دیکھو، ناطق نے حیوان کو، یہ جو ناطق ہے، یہ جو فصل ہے، یہ حیوان کو تقسیم کر دیتی ہے دو قسموں کی طرح بھئی۔ ایک قسم کیا بن گئی؟ ایک ناطق تو دوسری غیر ناطق بھئی۔ حیوان دیکھیے، حیوان سارے ناطق ہیں؟ حیوان، کچھ ناطق ہیں اور کچھ غیر ناطق ہیں۔ تو دیکھو حیوان کو اس نے تقسیم کر دیا دو قسموں کی طرح۔ ایک، جب آپ نے ناطق کہا تو دوسری قسم خود بخود سمجھ میں آگئی کہ کیا ہے؟ غیر ناطق ہے۔ تو اس نے حیوان کو تقسیم کر دیا۔ جبکہ نوع کو اس نے تقسیم نہیں کیا تھا۔ نوع کیا تھی انسان کے؟ انسان نوع ہے۔ انسان کو اس نے نہیں تقسیم کیا۔ آپ نے کہا "ناطق"۔ اب کوئی دو قسمیں بنیں انسان کی؟ نہیں۔ ہر انسان کیا ہے؟ ناطق ہے۔ یہاں نوع کے اندر دو قسمیں نہیں بن رہیں بھئی۔ نوع کے اعتبار سے یہ اس کی حقیقت میں داخل ہے۔ اور لیکن جنس کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کیا کر دیتی ہے فصل؟ جنس کو تقسیم کر دیتی ہے بھئی، دو قسمیں بنا دیتی ہے۔ یا جیسے فصل بعید لائیں۔ فصل بعید کیا ہے انسان کے لیے؟ حساس۔ تو جب آپ نے کہا "حساس"، تو اس نے تقسیم کر دیا۔ کس کو تقسیم کیا؟ حیوان کو نہیں۔ ہر حیوان کیا ہے؟ حساس ہے۔ چلو اس کو تو نہیں، اس جنس کو تو نہیں تقسیم کیا۔ اس سے اوپر ذرا جا کر دیکھیں: جسم نامی۔ اس کو کیا کر دیا؟ تقسیم کر دیا کہ معلوم ہوا یہ ایک قسم حساس ہے تو دوسری قسم غیر حساس۔ حیوانات تو سارے حساس ہیں، لیکن درخت، پودے وغیرہ غیر حساس ہیں بھئی، وہ غیر حساس ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو معلوم ہوا، یہ جو فصل ہے، یہ نوع کی نسبت سے مقوم ہے، یعنی یہ اس کے قوام اور حقیقت میں داخل ہوتی ہے، اس کو تقسیم نہیں کرتی۔ اور جنس کے لیے یہ کیا ہے؟ مقسم ہے، یعنی اس کو تقسیم کر دیتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں، دیکھیے۔ "وللفصلِ نسبةٌ إلى النوعِ" اور فصل جو ہے اس کی ایک نسبت ہے نوع کی طرف۔ اس کی ایک نسبت کس کی طرف ہے؟ اس کی ایک نسبت ہے نوع کی طرف، "فيسمى مقوماً" پس اس کو مقوم کہتے ہیں اس نسبت کے اعتبار سے۔ "لدخولهِ في قوامِ النوعِ وحقيقتهِ" بوجہ اس کے داخل ہونے کے نوع کے قوام میں اور اس کی حقیقت میں۔ کیونکہ یہ نوع کے قوام اور اس کی حقیقت میں فصل داخل ہوتی ہے۔ "ونسبةٌ إلى الجنسِ" اور اسی فصل کی ایک نسبت ہے کس کے ساتھ؟ جنس کے ساتھ بھی، جنس کی طرف بھی یعنی جنس کے ساتھ بھی۔ "فيسمى مقسماً" پس اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقسم کہتے ہیں اس نسبت۔ "لأنهُ يقسمُ الجنسَ" اس لیے کیونکہ یہ جنس کو تقسیم کر دیتی ہے۔ "ویحصلُ قسماً لهُ" اور حاصل کرتی ہے ایک قسم اس کے لیے، یعنی اس کی ایک قسم بنا دیتی ہے۔ کیا بنا دیتی ہے؟ ایک قسم اس کے لیے حاصل کرتی ہے یعنی ایک قسم بنا دیتی ہے، جبکہ دوسری قسم اس سے الگ ہو جاتی ہے۔ جیسے حساس نے جسم نامی کو دو قسموں میں تقسیم کر دیا بھئی۔ ایک قسم کیا ہوئی؟ حساس، تو دوسری کیا ہو گئی؟ غیر حساس۔ "كالناطقِ" جیسے کہ ناطق ہے۔ "فهو مقومٌ للإنسانِ" تو یہ مقوم ہے انسان کے لیے۔ "لأن الإنسانَ هو الحيوانُ الناطقُ" اس لیے کیونکہ انسان وہ حیوان ناطق ہے۔ "ومقسمٌ للحيوانِ" اور یہی ناطق جو ہے یہ مقسم ہے حیوان یعنی جنس کے لیے۔ "لأن بالناطقِ حصلَ للحيوانِ قسمانِ" اس لیے کیونکہ ناطق کے ذریعے حاصل ہوئی حیوان کی دو قسمیں۔ "أحدهما الحيوانُ الناطقُ والآخرُ الحيوانُ غيرُ الناطقِ" ان میں سے ایک حیوان ناطق ہے اور دوسرا حیوان غیر ناطق۔ اور دوسری قسم کیا؟ کیا ہے؟ حیوان غیر ناطق ہے بھئی، غیر ناطق۔ جی، تو خلاصہ بحث یہ ہوا کہ آج ہم نے تیسری کلی فصل کے بارے میں پڑھا۔ اور فصل کی تعریف انہوں نے کیا کی؟ "هو كلي مقول على الشيء في جواب أي شيء هو في ذاته"۔ وہ ایسی کلی ہے جو بولی جاتی ہے کسی چیز پر "أي شيء هو في ذاته" کے جواب میں۔ اور "أي شيء" یہ منطقہ کی اصطلاح ہے، اس کے ذریعے کس چیز کو طلب کیا جاتا ہے؟ ممیز کو طلب کیا جاتا ہے۔ اور پھر یہ "في ذاته"، ممیز فی ذاتہ بھی ہو سکتا ہے اور فی عرضہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ممیز فی ذاتہ کے بارے میں سوال کیا جائے، تو پھر جواب میں کیا آئے گی؟ فصل۔ اور ممیز فی عرضہ کے بارے میں سوال کیا جائے، تو پھر جواب میں کیا آئے گا؟ خاصہ آئے گا بھئی، خاصہ آئے گا۔ اور پھر بتلایا تھا کہ یہ جو فصل ہے، یہ ممیز ہے، جدا کرنے والا ہے۔ اگر یہ جنس قریب کے افراد سے جدا کرے اس ماہیت کو، تو اس کو کیا کہیں گے؟ فصل قریب۔ اور اگر جنس بعید کے افراد سے اس ماہیت کو جدا کرے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ فصل بعید۔ اور پھر اس کی نسبت اس کی نسبت ایک نوع کے ساتھ ہے، تو ایک نسبت اس کی جنس کے ساتھ بھی ہے۔ نوع کی نسبت سے اس کو کہتے ہیں مقوم، کیونکہ یہ اس کے قوام اور حقیقت میں داخل ہے۔ اور جنس کے اعتبار سے اس کو کیا کہیں گے؟ مقسم، کیونکہ جسم کو تقسیم، یہ جنس کو کیا کرتی ہے؟ تقسیم کرتی ہے، دو قسمیں بنا دیتی ہے بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔