LESSONS NO. 40 1 فصلٌ، الاجناسُ العاليةُ عشرةٌ، وليس في العالم شيءٌ خارجًا عن هذه الاجناسِ، ويقالُ لهذه الاجناسِ العاليةِ المقولاتُ العشرُ أيضًا، إحداها الجوهرُ، والباقي المقولاتُ التسعُ للعرضِ. جی فصلٌ، اي هذا فصلٌ۔ یہ فصل ہے، الاجناسُ العاليةُ عشرةٌ، اجناسِ عالیہ 10 ہیں بھئی۔ بھئی بتلایا تھا جو سب سے اوپر جنس ہو جس کے اوپر اور کوئی جنس نہ ہو اسے جنسُ الاجناس کہتے ہیں اور جنسِ عالی کہتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ اجناسِ عالیہ جو ہیں یہ 10 ہیں، سب سے اوپر جو جنسیں ہیں وہ کتنی ہیں؟ 10 ہیں۔ تو کہتے ہیں الاجناسُ العاليةُ عشرةٌ، اجناسِ عالیہ جو ہیں وہ 10 ہیں، وليس في العالم شيءٌ خارجًا عن هذه الاجناسِ، اور نہیں ہے اس عالم کے اندر کوئی چیز خارج ان اجناس سے۔ اس عالم کے اندر بھئی، اس دنیا کے اندر جتنی بھی چیزیں ہیں وہ ان 10 اجناس سے خارج نہیں، وہ ان 10 میں سے کسی نہ کسی میں داخل ہیں بھئی۔ کوئی بھی چیز ہو وہ ان 10 کے اندر اندر ہے، ان 10 سے خارج نہیں۔ اس عالم کے اندر بھئی، عالم کے اندر۔ عالم کہتے ہیں ما سوى الله کو بھئی، اللہ کی ذات کے علاوہ جو ہے یہ سارا کیا کہلاتا ہے؟ عالم کہلاتا ہے۔ عالم کہلاتا ہے، تو واجب الوجود کی ذات کے علاوہ باقی جتنی چیزیں ہیں وہ وہ ان 10 اجناس سے خارج نہیں، وہ انہی کے اندر داخل ہیں جو 10 جنسیں آگے بیان کریں گے۔ ویقالُ لهذه الاجناسِ العاليةِ المقولاتُ العشرُ أيضًا، اور کہا جاتا ہے ان 10 ان اجناسِ عالیہ کو مقولاتِ عشرہ بھی۔ ان اجناسِ عالیہ، کتنی ہیں اجناسِ عالیہ؟ 10۔ ان 10 کو مقولاتِ عشرہ بھی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مقولاتِ عشرہ بھی ان کو کہتے ہیں، تو یہ ان کا دوسرا نام ہے مقولاتِ عشرہ۔ بھئی ان کو مقولاتِ عشرہ کیوں کہتے ہیں؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ اس کی یہ کہ یہ ہر جنسِ عالی جو ہے ہر جنسِ عالی ایک بنیادی حقیقت ہے۔ ہر جنسِ عالی کیا ہے؟ ایک بنیادی حقیقت ہے، کائنات کے اندر اس عالم کے اندر جتنی بھی چیزیں ہیں وہ انہی 10 کے اندر داخل ہیں بھئی، انہی 10 کے اندر۔ تو یہ 10 چیزیں تمام چیزوں کی بنیادی حقیقتیں ہیں بھئی، تمام چیزوں کی۔ بنیادی حقیقتیں ہیں۔ اور یہ تمام اجناس ہیں اور جنس آپ نے پڑھا کلی کا نام ہے، کس چیز کا نام ہے؟ اور کلی آپ نے پڑھا مفہوم کا نام ہے، ہر وہ چیز جو ذہن میں آئے وہ مفہوم ہے۔ تو کلی مفہوم کا نام ہوا یعنی ایک معنیٰ کا نام ہوا، کس چیز کا نام ہوا؟ جو ذہن میں آتا ہے۔ تو یہ 10 بنیادی حقیقتیں یوں کہیں 10 بنیادی معانی ہیں بھئی، کیا ہیں؟ 10 بنیادی معانی ہیں۔ اور معانی کو ایک دوسرے کو سمجھانے کے لیے اور ایک سے دوسرے تک منتقل کرنے کے لیے ہمیں قول کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ معنیٰ کو دوسروں تک منتقل کرنے کے لیے اور انہیں سمجھانے کے لیے ہمیں کس چیز کا سہارا لینا پڑتا ہے؟ قول کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تو یہ 10 بنیادی حقیقتیں سمجھانے کے لیے ہمیں قول کا سہارا لینا پڑتا ہے تو ان میں سے ہر ایک جو ہے وہ ایک مقولہ ہوا بھئی۔ کیا ہوا؟ ایک مقولہ ہوا، مقولہ مقولٌ کہی ہوئی بات بھئی۔ تو اس کو سمجھانے کے لیے ہمیں قول کا سہارا لینا پڑتا ہے تو ان میں سے ہر ایک بنیادی حقیقت جو ہے وہ ایک مقولہ ہوا اور یہ 10 ہیں تو کتنے مقولے ہو گئے؟ 10 بھئی، تو یہ 10 مقولے ہوئے تو اس لیے انہیں مقولاتِ عشرہ کہتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ ان میں سے ہر ایک جو ہے وہ بنیادی حقیقت ہے یعنی کہ بنیادی معنیٰ ہے اور ان کو اس کو سمجھانے کے لیے ہمیں قول کا سہارا لینا پڑتا ہے تو ان میں سے ہر ایک جو ہے وہ مقولہ ہوا، اس کو سمجھانے کے لیے قول کا سہارا لینا پڑے گا تو ہر ایک مقولہ ہوا اور کل یہ ہیں 10 تو کیا کہیں گے ان کو؟ مقولاتِ عشرہ کہیں گے، تو یہ وجہ ہے کہ ان کو مقولاتِ عشرہ کہا جاتا ہے بھئی۔ إحداها الجوهرُ، ان میں سے ایک جو ہے وہ جوہر ہے، والباقي المقولاتُ التسعُ للعرضِ، اور باقی 9 مقولے جو ہیں وہ عرض کے ہیں۔ بھئی ان 10 میں سے ایک تو ہے جوہر اور باقی 9 کس قبیل سے ہیں؟ عرض کے قبیل سے ہیں بھئی۔ والباقي المقولاتُ التسعُ للعرضِ، اور باقی مقولات 9 مقولات جو ہیں وہ عرض کے ہیں بھئی۔ ان 10 مقولات میں سے ایک تو جوہر ہے اور باقی کس کے ہیں؟ عرض کے ہیں۔ عرض، را پر فتحہ پڑھیں بھئی، عرض۔ تو 9 جو ہیں وہ عرض کے ہیں، یاد رکھیے ایک ہے جوہر، ایک ہے عرض۔ جوہر وہ ہے جو خود قائم ہے، جس کا اپنا وجود ہے بھئی۔ اپنے وجود میں یہ کسی محل کا محتاج نہیں ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں عرض وہ ہے جو اپنے وجود میں کسی محل کی محتاج ہو بھئی، اسے عرض کہا جاتا ہے۔ اسے کیا کہا جاتا ہے؟ جو اپنے وجود میں کس کے محتاج ہو؟ محل کی محتاج ہو، بھئی دیکھیے زید جو ہے، زید، زید کا اپنا الگ وجود ہے، یہ اپنے وجود میں کسی محل کا محتاج نہیں، کسی محل کا محتاج نہیں، زید کا اپنا الگ وجود ہے تو زید ہوا جوہر۔ اسی طرح قلم ہے، اس کا اپنا الگ وجود ہے تو جو جو چیز جس کا اپنا الگ وجود ہے وہ ہے جوہر کے قبیل سے، اور جو چیز اپنے وجود میں کسی محل کی محتاج ہو اسے عرض کہا جاتا ہے، عرض بھئی۔ جیسے دیکھیے بھئی، بہادری، بہادری بھئی اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہے جب تک یہ کسی کی ذات کے ساتھ قائم نہ ہو۔ مثلاً زید بہادر ہے، تو زید ہے تو بہادری بھی ہے، زید نہیں تو بہادری کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں، بہادری زید سے الگ ہو اس کا اپنا الگ کوئی وجود ہو، آپ نے آپ دکھا سکتے ہیں کسی کو بھئی؟ نہیں، بلکہ وہ کس کے ساتھ قائم ہے؟ زید کے ساتھ قائم ہے یا کسی اور کے ساتھ قائم ہے تو بہادری ہے ورنہ اپنا بہادری کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں، اسی طرح سخاوت ہے بھئی سخاوت، سخاوت دیکھو اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں، یہ اپنے وجود میں محل کی محتاج ہے کسی ذات کے ساتھ یہ قائم ہو، زید کے ساتھ قائم ہوگی تو ہم کہیں گے زید سخی ہے، زید سے الگ اس کا کوئی اپنا وجود ہے؟ اپنا الگ کوئی وجود نہیں، اسی طرح یہ سفیدی ہے، یہ دیوار ہے تو اس کے ساتھ جو یہ سفیدی قائم ہے اس کا وجود ہے، سفیدی کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہے بھئی سفیدی کا، اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اور مثلاً یہ جو میں بول رہا ہوں بات کرنا، یہ جو یہ بولنا یہ میرے ساتھ قائم ہے، اگر میں ہوں تو یہ جو بول رہا ہوں یہ بولنا بھی پایا جائے گا، اگر میں نہیں تو اس کا کوئی وجود بھی نہیں، تو عرض وہ ہے جوہر وہ ہوتا ہے جو اپنے وجود میں کسی محل کا محتاج نہیں، جبکہ عرض وہ ہے جو اپنے وجود میں کسی محل کی محتاج ہوتی ہے، محل ہو تو وہ اس کے ساتھ قائم ہوگی، اگر محل نہیں تو اس کے ساتھ قائم تو اس کا اپنا الگ وجود بھی نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ تو بس یعنی جو صفت ہوتی ہے صفت، وہ ہے عرض بھئی جو غیر کے ساتھ قائم ہے۔ اور جس چیز کا اپنا الگ وجود ہے، کتاب ہے، قلم ہے، یہ تپائی ہے آپ کے سامنے، یہ دیوار ہے، جو چیزیں آپ کو نظر آ رہی ہیں جن کا اپنا الگ وجود ہے وہ ہیں جوہر کے قبیل سے، اور ان کے ساتھ جو صفات قائم ہوتی ہیں وہ ہیں عرض بھئی عرض بھئی۔ یا جیسے موٹا ہونا یا پتلا ہونا، بھئی کوئی حیوان ہوگا تو ہم کہیں گے وہ موٹا ہے یا پتلا ہے، کیا موٹا اور پتلا ہونا بغیر وجود کے ہو سکتا ہے کسی بھئی؟ کسی محل کے ساتھ قائم ہوگا، اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا جیسے لمبائی اور چوڑائی وغیرہ بھئی، کوئی چیز ہوگی تو اس کی لمبائی اور چوڑائی ہم کہیں گے، اگر وہ چیز نہیں تو لمبائی اور چوڑائی کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہے بھئی۔ تو بس جوہر وہ ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے قائم ہو، کسی محل کا محتاج نہ ہو، اور عرض وہ ہے جو کسی اپنے وجود میں کسی محل کی محتاج ہوتی ہے، محل ہے تو اس کا وجود ہے، محل نہیں تو اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہے بھئی۔ جی، تو یہ ہے إحداها الجوهرُ، ان میں سے ایک جو ہے وہ جوہر ہے، والباقي المقولاتُ التسعُ للعرضِ، اور باقی کے 9 مقولات جو ہیں وہ عرض کے ہیں۔ والجوهرُ هو الموجودُ لا في موضوعٍ، جوہر وہ ہے جو موجود ہو یعنی جس کا وجود ہو، لا في موضوعٍ اي محلٍ، بھئی موضوع کا معنیٰ کر دیا محل۔ موجود تو ہو لیکن لا فی موضوع ہو یعنی لا فی محل، کسی محل میں نہ ہو یعنی کسی محل کا وہ محتاج نہ ہو۔ بل قائمٌ بنفسه، بلکہ وہ خود ہی قائم ہو اپنی ذات کے اعتبار سے یعنی اس کا اپنا الگ وجود ہو، كالأجسامِ، جیسے کہ جسم ہیں بھئی سارے جسم۔ والعرضُ، اور عرض جو ہے، هو الموجودُ في موضوعٍ، وہ ہے جو موجود ہو فی موضوعٍ اي محلٍ بھئی کسی محل میں۔ عرض وہ ہے جو کسی محل کے ساتھ قائم ہو بھئی، اس کا اپنا الگ وجود ہوتا ہی نہیں ہے وہ تو کوئی وہ جس محل کے ساتھ جس چیز کے ساتھ جڑی ہوئی ہے وہ اس کا محل ہے بھئی، وہ اس کا محل ہے، تو وہ محل ہے تو اس عرض کا وجود ہے۔ اپنا الگ اس کا کوئی وجود نہیں، اگر وہ محل نہیں تو اس کا اپنا الگ وجود بھی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں والعرضُ هو الموجودُ في موضوعٍ اي محلٍ، موضوع کا معنیٰ ہے محل بھئی، اور عرض وہ ہے جو موجود ہو فی موضوعٍ اي محلٍ کسی محل میں۔ والمقولاتُ العرضيةُ هي الكمُّ والكيفُ والإضافةُ والأينُ والملكُ والفعلُ والانفعالُ ومتى والوضعُ، یہ ہیں بھئی 9 مقولات عرض کے بھئی۔ ایک تو جوہر ہے اور باقی 9 کیا تھے؟ عرض، تو یہ عرض کے 9 مقولات ہیں بھئی، کم، کیف، اضافت، أین، ملک، فعل، انفعال، متٰی، وضع۔ یہ کن کن کو کہتے ہیں بھئی مختصراً سمجھ لیں بھئی۔ کم، کم وہ عرض ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کا تقاضا کرے۔ کم، جلدی جلدی لکھ لیجیے بھئی۔ کم وہ عرض ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کا تقاضا کرے، اور یہ مقداروں کو کہتے ہیں، اس میں مقداریں داخل ہیں، اور اس میں مقداریں داخل ہیں۔ کم وہ عرض ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کا تقاضا کرے بھئی، تقسیم کا تقاضا کرے، اور اس میں مقداریں داخل ہیں، جیسے لمبائی چوڑائی وغیرہ اور اسی طرح عدد وغیرہ بھئی۔ جیسے لمبائی چوڑائی وغیرہ اور عدد وغیرہ۔ بھئی دیکھیے ادھر آپ توجہ کریں کم دیکھیے، کم کی میں نے کیا بتلایا آپ کو؟ جو اپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کا تقاضا کرے اور اس میں مقداریں داخل ہیں، لمبائی چوڑائی وغیرہ اور عدد وغیرہ، بھئی دیکھیے مثلاً بھئی، یہ کتاب ہے میرے سامنے، اس کی دیکھیے مثلاً 6 انچ چوڑائی ہے اور 10 انچ لمبائی ہے بھئی۔ اب یہ جو چوڑائی ہے یہ پیمائش، یہ مقدار کا نام ہے۔ اور یہ اپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کا قبول کر لیتی ہے، تقسیم کا تقاضا کرتی ہے، آپ اس کو تقسیم کر سکتے ہیں، چوڑائی کتنی ہے مثلاً؟ 6 انچ ہے، تو اس کا آدھا کتنا ہو جائے گا؟ 3 انچ، اس 3 انچ کا آدھا کتنا ہو جائے گا؟ ڈیڑھ انچ، تو یہ اس طرح تقسیم کو اپنی ذات کے اعتبار سے ہی قبول کر لیتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اسی طرح بھئی آپ چیزیں شمار کرتے ہیں، کوئی چیز 10 ہے، 20 ہے، 30 ہے، 40 ہے، تو پھر اس کا آدھا آرام سے ہو جاتا ہے، اس کا آدھا، تو یہ اپنی ذات کے اعتبار سے کس کو قبول کر لیتی ہیں؟ تقسیم کو قبول کر لیتی ہیں، پھر یاد رکھیے یہ دو قسم پر ہیں، ایک کمِ متصل، ایک کمِ منفصل۔ کمِ متصل وہ ہے کہ جس میں متصل نام سے ہی پتہ چل رہا ہے بھئی ملا ہوا ہونا، متصل کا کیا معنیٰ؟ ملا ہوا۔ اس میں جہاں ایک کی انتہا ہو وہی سے دوسرے کی ابتدا ہوتی ہے۔ کمِ متصل، جس حد پر، جس حد پر ایک کی انتہا ہوتی ہے اسی حد سے دوسرے کی ابتدا ہوتی ہے، دوسرے جز کی ابتدا ہوتی ہے۔ بھئی دیکھیے ادھر بھئی، یہ تو کیا تھا کمِ متصل، اور کمِ منفصل میں ایسا نہیں ہوگا۔ دیکھیے بھئی، یہ مثلاً آپ کی زمین ہے، آپ کی اور آپ کے ساتھی کی ایک کنال زمین ہے مشترکہ، آپ اس کو تقسیم کرتے ہیں آپس میں، آدھی زمین آدھی آپ اپنے حصے آپ کے حصے میں آتی ہے اور آدھی زمین اس کے حصے میں آتی ہے، آپ نے حد بندی کر دی، نشان لگا دیا، یہاں سے لے کر یہاں تک میری زمین اور پھر یہاں سے لے کر یہاں تک آپ کی زمین۔ اب دیکھیے بھئی، جہاں پر آپ کی زمین کی انتہا ہو رہی ہے جو آپ کی زمین کی حد ہے، بعینہٖ وہی دوسرے کی زمین کی ابتدا ہے بھئی۔ تو دیکھیں دیکھو دونوں میں حد مشترک ہے، جہاں آپ کی زمین کی کیا ہو رہی ہے؟ انتہا، بعینہٖ جس کو آپ انتہا کہہ رہے ہیں بعینہٖ وہی کیا ہے؟ دوسرے کی زمین کی ابتدا ہے، تو دیکھو حد مشترک ہے دونوں کے اندر، جہاں ایک کی انتہا ہوتی ہے وہی سے دوسرے کی ابتدا ہوتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ کمِ متصل کہتے ہیں، اس کے مقابلے میں عدد ہے بھئی، وہاں اس طرح نہیں ہوتا بھئی، دیکھیے آپ یہاں ستون گن لیں، ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ، 10 ستون ہیں، تو جہاں ایک ستون... 2 متصل کہتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی اس اچھی طرح کہ کم متصل کسے کہتے ہیں اور کم منفصل؟ تو کم متصل میں یہ پیمائش وغیرہ آ گئی اور کم منفصل میں عدد وغیرہ داخل ہو گئے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ گائے وغیرہ شمار کرتے ہیں بھئی، ایک، دو، تین، چار، پانچ۔ ہر گائے کا اپنا الگ وجود ہے، اس کو اپ شمار کر رہے ہیں۔ اور کیا جہاں ایک گائے کی انتہا ہوتی ہے، وہیں سے دوسری گائے کی ابتداء ہوتی ہے؟ نہیں، الگ الگ ہیں بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ ہاں، لیکن وہ جو زمین وغیرہ جو پیمائش کے اندر ہے، لمبائی، چوڑائی میں جو ہوتا ہے، جہاں ایک حصے کی انتہا ہوتی ہے بعینہ وہی دوسرے حصے کی ابتداء ہے بھئی، تو وہ حد مشترک ہوتی ہے دونوں کے درمیان۔ جی، اگلا ہے کیف بھئی۔ عرض میں سے دوسرا ہے کیف۔ کیف وہ عرض ہے، کیف وہ عرض ہے، جو اپنی ذات کے اعتبار سے، کیف وہ عرض ہے، جو اپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کا تقاضا نہ کرے۔ جو اپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کا تقاضا نہ کرے، بلکہ غیر کے واسطے سے تقسیم کو قبول کرے۔ بلکہ غیر کے واسطے سے تقسیم کو قبول کرے، بلکہ غیر کے واسطے سے تقسیم کو قبول کرے۔ جیسے موٹا ہونا، پتلا ہونا، خوبصورت ہونا، بدصورت ہونا وغیرہ۔ دیکھو، یہ کیف وہ کیفیت کا نام ہے، کیفیت۔ کسی چیز کی کیفیت بھئی۔ اور وہ جو تھی مقدار، پیمائش وغیرہ، وہ تو اپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کو قبول کر لیتی ہیں اور تقسیم کا تقاضا کرتی ہیں۔ لیکن یہ اپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کو قبول نہیں کرتا، بلکہ غیر کے واسطے سے، یعنی اپنے محل کے واسطے سے تقسیم کو قبول کر سکتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اپنے محل کے واسطے سے۔ موٹا ہونا، یہ دیکھو، یہ کیفیت کا نام ہے۔ پتلا ہونا، یہ بھی کیا ہے؟ ایک کیفیت کا نام ہے۔ خوبصورت ہونا، یہ بھی ایک کیفیت کا نام ہے۔ بدصورت ہونا، یہ بھی ایک کیفیت کا نام ہے۔ تو وہ جو تھیں پہلی، وہ کم، وہ تو پیمائش، مقدار وغیرہ، عدد کا نام تھا۔ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہی کس چیز کو قبول کر لیتی ہیں؟ تقسیم کو قبول کر لیتی ہیں، وہاں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ لمبائی تھوڑی بھی ہو سکتی ہے، زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ تو وہ اپنی ذات کے اعتبار سے کسے قبول کر لیتی ہیں؟ تقسیم کو۔ لیکن یہ خوبصورت ہونا، بدصورت ہونا، موٹا ہونا یا پتلا ہونا، یہ اپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کو قبول نہیں کرتے بھئی۔ اپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کو قبول نہیں کرتے، بلکہ غیر کے واسطے سے، یعنی اپنے محل کے واسطے سے یہ تقسیم کو قبول کرتے ہیں بھئی۔ محل کے واسطے سے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ہاں، یہ بڑی پیچیدہ بحث ہے، اتنا یاد رکھیں، بس مختصر مختصر ہی سمجھیں۔ یہ اصل میں بحث ہے فلسفے کی، اور منطق کی بحث ہی نہیں ہے۔ مصنف نے یہاں ویسے ہی اس کو ذکر کر دیا، چونکہ اجناس کا ذکر آیا تھا، جنس عالی، جنس سافل وغیرہ، جنس الاجناس کا تذکرہ آیا تھا، تو مصنف نے بطور فائدے کے اس کو بھی ساتھ ذکر کر دیا، اگرچہ یہ منطق کی بحث نہیں ہے بھئی، فلسفے کی بحث ہے۔ جی، تیسرا کیا ہے؟ اضافت۔ اضافت۔ دو چیزوں کے درمیان ایسی نسبت، دو چیزوں کے درمیان ایسی نسبت ہونا کہ ایک کا سمجھنا دوسرے کے سمجھنے پر موقوف ہو۔ دو چیزوں کے درمیان ایسی نسبت ہونا کہ ایک کا سمجھنا دوسرے کے سمجھنے پر موقوف ہو۔ جیسے باپ، بیٹا۔ باپ، بیٹا، استاد، شاگرد وغیرہ۔ تعریف لکھ لی بھئی؟ اضافت کسے کہتے ہیں؟ ہاں، دونوں ایک کا سمجھنا ایک دوسرے پر موقوف، ایک کا سمجھنا دوسری پر موقوف، دوسرے کا سمجھنا پہلے پر موقوف۔ جیسے باپ اور بیٹا۔ باپ کسے کہتے ہیں؟ جس کا بیٹا ہو۔ بیٹا کس کو کہتے ہیں؟ جس کا باپ ہو۔ جب تک بیٹا نہیں سمجھ میں آئے گا، باپ نہیں سمجھ میں آ سکتا، اور جب تک باپ سمجھ میں نہ آئے، بیٹا سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ جیسے استاد اور شاگرد۔ استاد کسے کہتے ہیں؟ جس کا شاگرد ہو۔ اور شاگرد کسے کہتے ہیں؟ جس کا استاد ہو۔ ان کا سمجھنا ایک دوسرے پر موقوف ہے۔ جیسے مالک اور مملوک۔ مالک کسے کہتے ہیں؟ جس کے مملوک ہو۔ اور مملوک کسے کہتے ہیں؟ جس کا کوئی مالک ہو بھئی۔ جیسے خاوند اور بیوی۔ خاوند کسے کہتے ہیں؟ جس کی بیوی ہو۔ بیوی کسے کہتے ہیں؟ جس کا خاوند ہو۔ تو یہ سب کیا ہیں؟ یہ اضافت کی قبیل سے ہیں بھئی۔ نسبت ایک کا سمجھنا دوسری کے سمجھنے پر موقوف ہے، یہ اضافت ہے بھئی۔ کتنے ہو گئے؟ تین۔ چوتھا عرض جو ہے، وہ عین ہے، عین۔ الف، یا، نون بھئی۔ الف، یا، نون۔ عین۔ وہ ہیئت، وہ ہیئت اور وہ حالت ہے، ہیئت، ہا، یا، ہمزہ اور تا۔ ہا، یا، ہمزہ اور تا۔ وہ ہیئت اور وہ حالت جو کسی شے کو، جو کسی شے کو مکان میں ہونے کے اعتبار سے حاصل ہو۔ جو کسی شے کو مکان میں ہونے کے اعتبار سے حاصل ہو۔ لکھ لیا بھئی؟ وہ ہیئت، ہیئت اور حالت کا ایک معنی ہے۔ کہیں ہیئت کا لفظ آ رہا ہے تو سمجھ جانا اس کا کیا معنی ہے؟ حالت۔ تو وہ ہیئت اور وہ حالت ہے جو کسی شے کو مکان میں ہونے سے حاصل ہو۔ مکان؟ جگہ، جگہ بھئی۔ جگہ۔ اور پھر یہ دو قسم پر ہے بھئی۔ ایک عین حقیقی، ایک عین غیر حقیقی۔ ایک عین حقیقی اور ایک عین غیر حقیقی۔ عین حقیقی، کوئی چیز کسی جگہ پر اس طرح ہو کہ اس جگہ کو بھر دے۔ کہ اس جگہ کو بھر دے۔ کہ اس جگہ کو بھر دے۔ اور عین غیر حقیقی، جو اس طرح نہ ہو۔ جو اس طرح نہ ہو۔ جیسے زید کا گھر میں ہونا۔ جیسا زید کا گھر میں ہونا۔ زید کا؟ زید گھر میں ہے تو کیا اس نے سارے گھر کو بھر دیا ہے بھئی؟ جی؟ نہیں۔ اور ایک ہے وہ جگہ کو بالکل بھر لینا، یہ ہے عین حقیقی۔ بھئی، اس وقت آپ یہاں بیٹھے ہیں۔ آپ کا جو جسم ہے، اس نے ایک جگہ کو پر کیا ہوا ہے۔ اگر آپ یہاں نہ ہوتے تو یہاں ہوا ہوتی۔ لیکن اب آپ کا جسم ہے، تو اس نے اس جگہ کو پر کر دیا، ہوا ادھر ادھر ہو گئی بھئی۔ تو یہ آپ کے جسم نے جس فضا کو گھیرا ہوا ہے، یہ ہے عین حقیقی بھئی۔ چلیے، باقی کل کریں گے بھئی۔ چلیے بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔