LESSONS NO. 37 1 فَصْلٌ. وَقَدْ يُقَالُ لِلْجُزْئِيِّ مَعْنًى آخَرُ وَهُوَ مَا كَانَ أَخَصَّ تَحْتَ الأَعَمِّ, فَالإِنْسَانُ عَلَى هَذَا التَّعْرِيفِ جُزْئِيٌّ لِدُخُولِهِ تَحْتَ الحَيَوَانِ, وَكَذَا الحَيَوَانُ لِدُخُولِهِ تَحْتَ الجِسْمِ النَّامِي, وَكَذَا الجِسْمُ النَّامِي لِدُخُولِهِ تَحْتَ الجِسْمِ المُطْلَقِ, وَكَذَا الجِسْمُ المُطْلَقُ لِدُخُولِهِ تَحْتَ الجَوْهَرِ. فصل. أي: هذا فصل. بھئی، کلی اور جزئی کی تعریف پہلے گزر چکی ہے۔ کلی آپ کو بتلایا تھا، وہ مفہوم ہے جس میں شرکت ہو سکے، جو کثیرین پر صادق آئے، اور جزئی وہ ہے جو جس میں شرکت نہ ہو سکے، جو کسی متعین پر صادق آئے، اسے جزئی کہا جاتا ہے۔ آج جزئی کا ایک اور معنی بیان کر رہے ہیں بھئی، ایک اور مفہوم، اور وہ جو میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ہر خاص تحت العام جو ہے، اس کو بھی جزئی کہا جاتا ہے۔ ہر خاص تحت العام بھئی۔ ہر وہ خاص جو کس کے تحت ہو، جو کس کے نیچے ہو؟ عام کے نیچے ہو۔ بھئی، پہلی تعریف جو کی تھی، اس کے مطابق زید، عمرو، بکر، یہ جزئی تھے؛ کیونکہ یہ متعین پر صادق آتے ہیں اور ان میں شرکت نہیں ہو سکتی۔ یا اسی طرح ”یہ دیوار“، تو ”یہ دیوار“ جب میں اشارہ کر رہا ہوں تو ایک متعین دیوار ہے، اس میں شرکت نہیں ہو سکتی۔ یا میں کہتا ہوں ”یہ کتاب“، یا میں کہتا ہوں ”وہ قلم“۔ تو جب بھی کسی متعین چیز کی طرف اشارہ کر دیا، تو پھر اب وہاں شرکت کا احتمال نہیں رہتا، وہی متعین چیز مراد ہوتی ہے اور وہ جزئی ہے بھئی۔ لیکن وہ یاد رکھیے، وہ جزئیِ حقیقی ہے بھئی، جزئیِ حقیقی۔ تو پہلی تعریف کے مطابق زید، عمرو، بکر، یہ دیوار، وہ کتاب، یہ قلم، یہ چیزیں جزئی ہیں بھئی۔ لیکن دوسری تعریف کیا کی جزئی کی؟ کہ ہر وہ خاص جو کس کے تحت ہو؟ عام کے تحت ہو۔ اس کو بھی جزئی کہتے ہیں، لیکن اس کو یاد رکھیے، جزئیِ اضافی کہتے ہیں، جزئیِ اضافی۔ اضافت کا معنی ہوتا ہے نسبت، نسبت۔ تو یہ کسی دوسری چیز کی نسبت سے جزئی کہلاتی ہے، خود جزئی ہونا اس کا ضروری نہیں بھئی، خود اس کا جزئی ہونا ضروری نہیں۔ جیسے دیکھیے بھئی! زید، یہ کس کے تحت ہے؟ انسان کے تحت۔ تو زید ہوا خاص، اور انسان ہے عام، کیونکہ یہ بہت سوں پر صادق آتا ہے۔ تو یہاں یہ جزئی کی دوسری تعریف بھی صادق آ گئی کہ یہ جزئیِ اضافی بھی ہے، کیونکہ جزئیِ اضافی کس کو کہتے تھے؟ ہر وہ خاص جو عام کے تحت ہو بھئی، عام کے تحت ہو۔ تو زید جزئیِ حقیقی بھی ہے، کیونکہ پہلی تعریف بھی صادق آ رہی ہے، جو متعین ذات پر دلالت کرے، جس میں شرکت نہ ہو سکے؛ اور دوسری تعریف بھی اس پر صادق آ رہی ہے، کیونکہ یہ خاص تحت العام ہے بھئی، خاص تحت العام۔ اسی طرح انسان کے اوپر ہے حیوان۔ انسان ہے خاص، حیوان ہے عام؛ کیونکہ انسان تو صرف زید، عمرو، بکر، میرے اور آپ وغیرہ، ہم لوگوں پر یہ انسان صادق آتا ہے۔ جبکہ حیوان ہم پر بھی صادق آتا ہے اور جانوروں پر بھی، گائے، بکری وغیرہ ان پر بھی صادق آتا ہے۔ تو حیوان ہوا عام، اور انسان ہوا خاص۔ تو انسان وہ خاص ہے جو عام کے تحت ہے۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ جزئیِ اضافی۔ تو انسان جزئیِ اضافی تو ہے، لیکن جزئیِ حقیقی نہیں ہے۔ زید جزئیِ اضافی بھی تھا اور جزئیِ حقیقی بھی۔ بکر جزئیِ اضافی بھی ہے اور جزئیِ حقیقی بھی۔ خالد جزئیِ اضافی بھی ہے اور جزئیِ حقیقی بھی۔ یہ دیوار جزئیِ حقیقی بھی ہے اور جزئیِ اضافی بھی۔ لیکن اس کے مقابلے میں انسان، وہ جزئیِ اضافی تو ہے کیونکہ وہ خاص تحت العام ہے، لیکن جزئیِ حقیقی نہیں؛ کیونکہ جزئیِ حقیقی تو کسے کہتے تھے؟ جو کسی متعین فرد پر صادق آئے، اس میں شرکت نہ ہو سکے؛ اور انسان میں شرکت ہو سکتی ہے یا نہیں بھئی؟ یہ تو کثیرین پر صادق آتا ہے۔ تو یہ جزئیِ حقیقی نہیں، البتہ جزئیِ اضافی۔ اسی طرح جو حیوان ہے، وہ جسمِ نامی کے تحت ہے بھئی۔ وہ کس کے تحت ہے؟ جسمِ نامی۔ نامی کا معنی میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں: بڑھنے والا، جس میں زیادتی ہو۔ پہلے چھوٹا ہو، پھر بڑھتا چلا جائے۔ انسان بھی پہلے چھوٹا ہوتا ہے، پھر بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اور بھی جانور جو ہیں، پہلے پیدائش کے وقت چھوٹے ہوتے ہیں، پھر آہستہ آہستہ بڑے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ تو جسمِ نامی، بڑھنے والا جسم، یہ جانوروں اور انسانات انسانات پر بھی صادق آیا، اور اس کے علاوہ اور کیا چیز ہے جو بڑھنے والی ہے؟ ہاں، پودے وغیرہ، شاباش! پودے اور درخت جو ہیں، وہ بھی بڑھنے والے ہیں، پہلے چھوٹے ہوتے ہیں، پھر آہستہ آہستہ بڑے، تو لہٰذا حیوان صرف جانوروں پر صادق اور جسمِ نامی جانوروں کے ساتھ ساتھ پودوں اور درختوں پر بھی صادق، تو حیوان ہوا خاص، اور جسمِ نامی ہوا عام۔ تو حیوان ایسا خاص ہے جو عام کے تحت ہے۔ تو حیوان جزئیِ اضافی ہوا، لیکن جزئیِ حقیقی نہیں؛ کیونکہ جزئیِ حقیقی تو کسے کہتے تھے؟ جو کسی متعین پر صادق آئے، اور حیوان تو سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں، بلکہ کروڑوں، بلکہ اربوں ہیں، تو یہ تو کثیرین پر صادق آتا ہے۔ پھر یہ جو جسمِ نامی ہے، یہ جسمِ مطلق کے تحت ہے بھئی۔ جسمِ مطلق جسمِ مطلق، جو جسم ہو بس، چاہے وہ نامی ہو یا نامی نہ ہو۔ تو جب جسمِ نامی تھا کہا، تو اس میں صرف وہ جسم داخل ہوئے جو بڑھتے ہیں آہستہ آہستہ؛ اور جب کہا جسمِ مطلق، تو اس میں جسمِ نامی بھی آ گیا—وہ بھی جسم ہے یا نہیں؟— اور، تو نامی بھی اس میں داخل ہوئے، اور غیرِ نامی بھی داخل ہو گئے جو بڑھتے نہیں ہیں۔ مثلاً کوئی مثال دے دیں جو چیزیں نہیں بڑھتیں؟ پتھر ہے، یہ کتاب ہے آپ کی، یہ قلم ہے، دروازہ ہے، کوئی بھی چیز آپ لے لیں جو بڑھنے والی جانوروں اور پودوں کے علاوہ ہے، وہ سب کیا ہیں؟ غیرِ نامی ہیں، وہ غیرِ نامی ہیں۔ تو لہٰذا جب جسمِ مطلق کہا، تو اس میں ہر قسم کا جسم آ گیا، چاہے وہ نامی ہو، چاہے غیرِ نامی۔ تو جسمِ مطلق ہوا عام، اور اس کے نیچے کیا تھا؟ جسمِ نامی، تو جسمِ نامی ہوا خاص۔ تو لہٰذا جسمِ نامی، وہ بھی جزئی ہے بھئی، کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے جزئی ہے؟ اوپر والے کی طرف نسبت کرتے ہوئے بھئی۔ جیسے انسان جزئیِ اضافی تھا، کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے؟ حیوان کی طرف؛ اور حیوان جزئیِ اضافی تھا، کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے؟ جسمِ نامی کی طرف؛ اور جسمِ نامی، وہ جزئیِ اضافی ہے، کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے؟ جسمِ مطلق کی طرف۔ ”مطلق“ کا لفظ بڑھا دیتے ہیں، میں نے بتلا دیا ویسے ہی بتلانے کے لیے تاکہ وضاحت ہو جائے۔ مطلق کا معنی جس میں کوئی قید نہ ہو، یعنی اس میں نہ نامی کی قید ہے، نہ غیرِ نامی کی، ہر قسم کا جسم اس میں داخل ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر یہ جو جسمِ مطلق ہے، یہ جوہر کے تحت ہے بھئی۔ یہ کس کے تحت ہے؟ جوہر بھئی، جوہر۔ یہ سب سے اوپر ہے بھئی، جوہر۔ مناطقہ کہتے ہیں بھئی کہ یہ سب سے اوپر عام ان میں کیا ہے؟ جوہر ہے۔ تو جوہر کے اندر پانچ چیزیں داخل ہیں: ایک ہیولیٰ، ایک صورت، ایک جسم— ہیولیٰ، صورت، جسم— اور عقل، اور نفس بھئی، نفس بھئی، یعنی کہ روح بھئی۔ کیا؟ روح۔ تو جوہر جو ہے، یہ پانچ چیزیں اس میں داخل ہیں بھئی جوہر میں: ہیولیٰ، صورت، جسم، عقل، اور نفس بھئی، یعنی روح بھئی۔ تو دیکھو، جوہر جو ہے، وہ عام ہے، اور اس جسم جو ہے اس کے جسمِ مطلق، وہی جسم، یعنی جسمِ مطلق، وہ خاص ہے۔ تو جسمِ مطلق وہ خاص ہے جو تحت العام ہے، یعنی تحت الجوہر ہے؛ تو لہٰذا جسمِ مطلق کو بھی کیا کہیں گے؟ جزئیِ اضافی کہیں گے، کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے؟ جوہر کی طرف نسبت کرتے ہوئے بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ جوہر کی طرف نسبت کرتے ہوئے ہیولیٰ؟ ہیولیٰ مادے کو کہتے ہیں۔ کسی بھی چیز کے یوں سمجھیں میٹیریل جو ہے نا، وہ ہیولیٰ ہے۔ آگے بھئی، پھر اس کے بعد یہ بیان کریں گے نسبت جزئیِ اضافی اور جزئیِ حقیقی کے اندر۔ تو یاد رکھیے، جزئیِ اضافی اور جزئیِ حقیقی، ان میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے۔ ان میں کون سی نسبت ہے؟ عموم و خصوص مطلق کی، یعنی عموم و خصوص مطلق کا کیا معنی تھا؟ پہلی کلی دوسری کے ہر فرد پر صادق آئے اور دوسری پہلی کلی کے بعد، ہاں، تو وہ تو کلیوں میں نسبت تھی۔ یہاں جزئیوں میں نسبت ہے بھئی۔ تو دونوں، ایک تو دُسر دوسرے کے ہر فرد پر صادق آئے، اور دوسرا پہلے کے ہر فرد پر صادق نہ آئے۔ اب دیکھیے۔ اب ایک تو دوسرے کے ہر فرد پر صادق آئے گا، لیکن دوسرا پہلے کے ہر فرد پر صادق نہیں ہے۔ زید جزئیِ حقیقی بھی ہے اور جزئیِ اضافی بھی۔ تو زید جزئیِ حقیقی ہے، لیکن اس پر کیا صادق آ رہا ہے؟ جزئیِ اضافی بھی صادق آ رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی؟ انسان، وہ جزئیِ اضافی تو ہے، لیکن جزئیِ حقیقی نہیں ہے بھئی۔ اور اس سے اوپر بھی سارے جو ہیں، وہ جزئیِ اضافی تو ہیں، جزئیِ حقیقی نہیں۔ تو جو بھی جزئیِ حقیقی ہے، وہ جزئیِ اضافی ضرور ہے: زید، عمرو، بکر، خالد، یہ دیوار، وہ قلم، یہ سب جزئیِ حقیقی ہیں، لیکن ان کو کیا کہیں گے؟ جزئیِ اضافی بھی تو کہیں گے، کیونکہ یہ خاص تحت العام بھی تو ہیں۔ زید، عمرو، بکر خاص ہیں اور کس عام کے تحت ہیں؟ انسان کے تحت ہیں۔ تو یہ خاص تحت العام بھی ہیں اور اور جزئیِ حقیقی بھی ہیں۔ تو معلوم ہوا، جو بھی جزئیِ حقیقی ہے، وہ جزئیِ اضافی ضرور ہے؛ لیکن جو جزئیِ اضافی ہے، وہ ضروری نہیں کہ جزئیِ حقیقی بھی ہو، ہو سکتا ہے ہو، ہو سکتا ہے نہ ہو۔ جیسے انسان اور حیوان، جو بھی انسان ہے، وہ حیوان ضرور ہے؛ لیکن جو بھی حیوان ہو، وہ ضروری نہیں کہ انسان ہو۔ تو انسان اور حیوان میں کیا نسبت تھی؟ عموم و خصوص مطلق کی۔ تو بعینہٖ وہی نسبت یہاں بھی ہے۔ دیکھیں۔ دوبارہ سن لیں۔ انسان اور حیوان میں کون سی نسبت ہے؟ عموم و خصوص مطلق کی، کس طرح؟ کہ جو بھی انسان ہے، وہ حیوان ضرور ہے؛ لیکن جو بھی حیوان ہے، وہ ضروری نہیں کہ وہ انسان ہو۔ اسی طرح، جو بھی جزئیِ حقیقی ہے، وہ ضرور جزئیِ اضافی بھی ہے؛ لیکن جو بھی جزئیِ اضافی ہو، وہ ضروری نہیں کہ جزئیِ حقیقی بھی ہو بھئی۔ تو کون سی نسبت ہوئی ان دونوں کے درمیان، جزئیِ اضافی اور جزئیِ حقیقی میں؟ عموم و خصوص مطلق کی۔ جی، اب دیکھیے بھئی کتاب پر! فَصْلٌ. أَيْ: هَذَا فَصْلٌ. یہ فصل ہے۔ وَقَدْ يُقَالُ لِلْجُزْئِيِّ مَعْنًى آخَرَ. ”يُقَالُ“ بمعنی ”يُذْكَرُ“ کے ہے یا ”يُبَيَّنُ“ کے ہے۔ اور کبھی کبھار بیان کیا جاتا ہے جزئی کے لیے ایک اور معنی۔ کبھی کبھار جزئی کا ایک اور معنی بھی بیان کیا جاتا ہے یا کبھی کبھار جزئی کا ایک اور معنی بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ ایک معنی تو آپ پہلے پڑھ چکے، ایک اور معنی بھی جزئی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ وَهُوَ مَا كَانَ أَخَصَّ تَحْتَ الأَعَمِّ. اور وہ مفہوم ہے جو اخص تحت الاعم ہو بھئی، جو اخص تحت الاعم ہو۔ اچھا، میں نے لفظ ”خاص“ اور ”عام“ استعمال کیا۔ یہ لفظ استعمال کر رہے ہیں ”اخص“ اور ”اعم“۔ میں نے ویسے آپ کو سمجھانے کے لیے بھئی۔ تو یہ جو لائے ہیں نا ”اخص“ اور ”اعم“، یہ اسمِ تفضیل لائے ہیں۔ کیا لائے ہیں؟ اسمِ تفضیل۔ اور اسمِ تفضیل، جس میں ایک چیز کو دوسری چیز کے مقابلے میں زیادہ بتلایا جاتا ہے۔ کیا کیا جاتا ہے؟ ”زَيْدٌ أَضْرَبُ مِنْ عَمْرٍو“ کیا معنی؟ زید عمرو سے زیادہ پٹائی کرنے والا ہے۔ تو دیکھو، ”أَضْرَبُ“ اسمِ تفضیل لائے، اس کا معنی کیا ہوا کہ یہ زید پٹائی کرنے میں عمرو سے زیادہ ہے۔ تو یہاں بھی ”أَخص“ لے کر آئے، یعنی ایک دوسرے کی نسبت جزئیِ اضافی نسبت ہے نا، خاص ہے کس کی طرف دیکھتے ہوئے؟ اوپر والے عام کی طرف دیکھتے ہوئے۔ اور اوپر والا عام ہے کس کی طرف دیکھتے ہوئے؟ نیچے والے کی طرف دیکھتے ہوئے۔ تو اس لیے یہاں، تو عام ہونا بھی دوسرے کے مقابلے میں ذکر ہو رہا ہے اور خاص ہونا بھی دوسرے کے مقابلے میں ذکر ہو رہا ہے، اس لیے اس میں تفضیل لائے، کہ وہ مفہوم ہے جو زیادہ خاص ہو کس کے مقابلے میں؟ جو اس کے اوپر ہے۔ اور اوپر والا جو ہے وہ زیادہ عام ہو کس کے مقابلے میں؟ جو اس کے نیچے والا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ تو کہتے ہیں: وَهُوَ مَا كَانَ أَخَصَّ تَحْتَ الأَعَمِّ. وہ مفہوم ہے جو اخص تحت الاعم ہو۔ فَالإِنْسَانُ عَلَى هَذَا التَّعْرِيفِ جُزْئِيٌّ. پس انسان اس تعریف پر جزئی ہے۔ پہلے تو انسان کلی پڑھا تھا ہم نے، لیکن اب بتا رہے ہیں یہ جو جزئی کی یہ ہم نے تعریف کی، اس کے مطابق انسان بھی جزئی، یعنی اس پر یہ معنی صادق آتا ہے۔ کیوں؟ لِدُخُولِهِ تَحْتَ الحَيَوَانِ. اس وجہ سے کہ یہ داخل ہے حیوان کے تحت بھئی، تو یہ اخص تحت الاعم ہوا بھئی۔ وَكَذَا الحَيَوَانُ اور اسی طرح حیوان بھی بھئی، جزئی ہے۔ لِدُخُولِهِ تَحْتَ الجِسْمِ النَّامِي. بموجب اس کے داخل ہونے کے جسمِ نامی کے، کہ یہ کس کے تحت داخل ہے؟ جسمِ نامی کے تحت۔ وَكَذَا الجِسْمُ النَّامِي اور اسی طرح جسمِ نامی ہے، یعنی وہ بھی جزئی ہے۔ لِدُخُولِهِ تَحْتَ الجِسْمِ المُطْلَقِ. بموجب اس کے داخل ہونے جسمِ مطلق کے تحت، یعنی یہ کس کے تحت داخل ہے؟ جسمِ مطلق کے تحت۔ وَكَذَا الجِسْمُ المُطْلَقُ اور اسی طرح جسمِ مطلق، لِدُخُولِهِ تَحْتَ الجَوْهَرِ. بموجب اس کے داخل ہونے کے جوہر کے تحت۔ وَالنِّسْبَةُ بَيْنَ الجُزْئِيِّ الحَقِيقِيِّ وَبَيْنَ هَذَا الجُزْئِيِّ اور نسبت جزئیِ حقیقی کے درمیان وَبَيْنَ هَذَا الجُزْئِيِّ اور اس جزئی کے درمیان، یہ جو ابھی ہم پڑھ رہے ہیں بھئی، یہ کون سی ہم پڑھ رہے ہیں؟ جزئیِ اضافی، وہ نسبت بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: وَالنِّسْبَةُ بَيْنَ الجُزْئِيِّ الحَقِيقِيِّ اور نسبت جزئیِ حقیقی کے درمیان وَبَيْنَ هَذَا الجُزْئِيِّ اور اس جزئی کے درمیان— یہ والی جزئی کون سی بھئی؟ المُمَسَّى بِالجُزْئِيِّ الإِضَافِيِّ— جس کو، جس کا نام رکھا گیا ہے جزئیِ اضافی۔ 2 عموم و خصوص من وجہ میں عموم و خصوص من وجہ میں تین مادے ہوتے تھے۔ ایک مادہ اجتماع کا ہوتا تھا اور دو افتراق کے۔ جیسے سفید اور حیوان۔ کہیں آ کے دونوں اکٹھے ہو جاتے ہیں، سفید بھی ہو اور حیوان بھی ہو، جیسے مثلاً سفید گھوڑا، سفید گائے، سفید بکری۔ یہ سفید بھی ہے اور حیوان بھی۔ اور کبھی دونوں الگ الگ ہوتے ہیں، سفید ہوگا، حیوان نہیں ہوگا، جیسے سفید دیوار۔ یہ سفید تو ہے، لیکن حیوان نہیں۔ اور کبھی حیوان ہوگا اور سفید نہیں ہوگا، جیسے ہاتھی۔ حیوان تو ہے، لیکن سفید نہیں۔ تو لہذا تین مادے ہوتے تھے وہاں پر۔ جبکہ عموم و خصوص مطلق میں دو مادے ہوتے ہیں بھئی دو۔ ایک مادہ ہوتا ہے اجتماع کا اور ایک ہوتا ہے افتراق کا۔ اجتماع یعنی جہاں دونوں اکٹھی ہو جاتی ہیں بھئی کلیہ مثلاً اکٹھی ہو جائیں یا وہ دونوں مفہوم اکٹھے ہو جائیں بھئی دونوں مفہوم بھئی۔ تو دیکھیے زید، اس میں دونوں مفہوم اکٹھے ہو گئے۔ یہ جزئی اضافی بھی ہے اور جزئی حقیقی۔ اس زید کو آپ جزئی حقیقی بھی کہہ سکتے ہیں۔ زید کو آپ جزئی اضافی بھی کہہ سکتے ہیں۔ دونوں چیزیں اس پر صادق آ رہی ہیں۔ جبکہ انسان، اس پر جزئی اضافی تو صادق آ رہا ہے لیکن جزئی حقیقی صادق نہیں آ رہا۔ تیسرا مادہ نہیں۔ جزئی حقیقی تو کہیں، دیکھو زید کے اندر آ کر جزئی حقیقی بھی ہے اور جزئی اضافی۔ انسان میں صرف کیا ہے؟ وہ صرف جزئی اضافی ہے۔ ایسی کوئی مثال آپ نہیں پیش کر سکتے جو جزئی حقیقی ہو اور جزئی اضافی نہ ہو۔ یعنی تیسرا مادہ یہاں نہیں ہے۔ ایک مادہ اجتماع کا اور ایک افتراق کا۔ اجتماع وہ ہے جہاں جزئی حقیقی بھی صادق آئے اور جزئی اضافی بھی۔ اور افتراق والا مادہ، وہاں صرف کیا صادق آئے گا؟ جزئی اضافی تو صادق آئے گا اور جزئی حقیقی کبھی بھی صادق نہیں۔ تو وہی دو مادے اب بیان کرنے لگے ہیں کہ یہ دونوں عموم، ان میں عموم و خصوص مطلق ہے، آپ خود دیکھ لیں، کیونکہ ایک مادہ اجتماع کا ہے اور ایک مادہ افتراق کا ہے۔ دیکھیے: "لِاجْتِمَاعِهِمَا فِي زَيْدٍ مَثَلًا"، بوجہ ان دونوں کے جمع ہو جانے کے زید کے اندر مثال کے طور پر۔ زید جزئی اضافی بھی ہے اور جزئی حقیقی بھی۔ "وَصِدْقِ الْإِضَافِيِّ بِدُونِ الْحَقِيقِيِّ فِي الْإِنْسَانِ"، اور بوجہ اضافی کے صادق آنے کے بغیر جزئی حقیقی۔ جزئی اضافی تو صادق آتی ہے اور جزئی حقیقی صادق نہیں آتی "فِي الْإِنْسَانِ"، کس کے اندر؟ انسان میں۔ "فَإِنَّهُ جُزْئِيٌّ إِضَافِيٌّ"، اس لیے کیونکہ وہ کیا ہے؟ جزئی اضافی ہے "وَلَيْسَ بِجُزْئِيٍّ حَقِيقِيٍّ"، اور وہ جزئی حقیقی نہیں ہے۔ کیوں؟ جزئی حقیقی کیوں نہیں؟ کہتے ہیں: "لِأَنَّ صِدْقَهُ عَلَى كَثِيرِينَ غَيْرُ مُمْتَنِعٍ"، اس لیے کیونکہ اس کا کثیرین پر صادق آنا ممتحنع نہیں ہے، یہ تو کثیرین پر صادق آتا ہے، اور جزئی حقیقی کا تو ہم نے بتایا تھا وہ کثیرین پر صادق نہیں آتی۔ تو دیکھیے دو مادے ذکر کر دیے۔ پہلا کونسا؟ "لِاجْتِمَاعِهِمَا فِي زَيْدٍ"، یہ ہے مادہ اجتماع۔ آگے "وَصِدْقِ الْإِضَافِيِّ بِدُونِ الْحَقِيقِيِّ"، یہ مادہ افتراق ہے بھئی۔ تو دو مادے ہیں یہاں صرف۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔