LESSONS NO. 36 1 فَصْلٌ فِي النِّسْبَةِ بَيْنَ الْكُلِّيَّيْنِ: اعْلَمْ أَنَّ النِّسْبَةَ بَيْنَ الْكُلِّيَّيْنِ تَتَصَوَّرُ عَلَى أَنْحَاءٍ أَرْبَعَةٍ؛ لِأَنَّكَ إِذَا أَخَذْتَ كُلِّيَّيْنِ فَإِمَّا أَنْ يَصْدُقَ كُلٌّ مِنْهُمَا عَلَى مَا يَصْدُقُ عَلَيْهِ الْآخَرُ فَهُمَا مُتَسَاوِيَانِ، كَالْإِنْسَانِ وَالنَّاطِقِ. اچھا بھئی! آج ہم دو کلیوں کے درمیان نسبت کے بارے میں پڑھیں گے۔ دو کلیوں کے درمیان نسبت۔ کوئی سی بھی دو کلیاں لیں آپ، ایک مفہوم بھی کلی ہو اور دوسرا مفہوم بھی کلی ہو، تو ان دونوں کے درمیان یاد رکھیے، چار نسبتوں میں سے ایک نسبت ضرور ہو گی۔ یا تو ان میں تساوی کی نسبت ہو گی، یا تباین کی نسبت ہو گی، یا عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہو گی، یا عموم و خصوص من وجہ کی نسبت۔ کتنی نسبتیں ہوں گی؟ چار میں سے کوئی ایک ضرور ہو گی: یا تباین، یا تساوی، یا عموم و خصوص مطلق، یا عموم و خصوص من وجہ۔ تساوی یہ ہے کہ دو کلیوں میں سے ہر کلی دوسری کلی کے ہر ہر فرد پر صادق آئے۔ دو کلیوں میں سے... تماثل مثل سے ہے نہ، ایک دوسرے کے مثل ہیں، ایک دوسرے جیسی ہیں۔ تو ایک کلی دوسری کلی کے ہر ہر فرد پر صادق آئے، دو کلیاں پکڑیں نہ آپ نے ان میں نسبت دیکھ رہے ہیں، تو پہلی کلی دوسری کلی کے ہر ہر فرد پر صادق آئے اور دوسری کلی پہلی کلی کے ہر ہر فرد پر صادق آئے، جیسے انسان اور ناطق۔ ہر انسان ناطق ہے اور ہر ناطق انسان ہے۔ ناطق کا جو بھی فرد پکڑیں اس پر صادق آئے گا کہ وہ انسان ہے۔ ناطق کا جو بھی فرد پکڑیں اس پر کیا صادق آئے گا؟ کہ وہ انسان ہے، کیونکہ ہر انسان ناطق ہے۔ اور انسان کا جو بھی فرد ہو اس پر صادق آئے گا کہ وہ ناطق ہے، مثلاً زید، عمرو، بکر وغیرہ۔ تو زید، عمرو، بکر وغیرہ یہ انسان ہیں، یعنی ان میں سے ہر ایک حیوانِ ناطق ہے، انسان ہے۔ تو جب یہ انسان ہیں تو انسان کہتے ہی کسے ہیں؟ حیوانِ ناطق کو، تو ان پر ناطق صادق آئے گا یا نہیں آئے گا؟ ان پر ناطق بھی صادق آئے گا پھر۔ زید انسان ہے، عمرو انسان ہے، بکر انسان ہے۔ تو دیکھو زید، عمرو، بکر ان سب پر انسان ہونا صادق آ رہا ہے۔ تو اسی طرح ان پر ناطق بھی صادق آئے گا: زید ناطق ہے، عمرو ناطق ہے، بکر ناطق ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دو کلیوں میں سے ہر کلی ایک دوسرے کے تمام افراد پر صادق آئے تو ان کو کیا... تو اس نسبت کو کیا کہا جاتا ہے؟ تساوی۔ دوسری نسبت ہے تباین کی، کہ آپ نے دو کلیوں کا تصور کیا اور ایک کلی ان دونوں میں سے... ایک پہلی کلی ہے جو ہے، دوسری کے کسی فرد پر صادق نہیں آتی اور دوسری کلی پہلی کے کسی فرد پر صادق نہیں آتی، تو اس نسبت کو کہیں گے تباین۔ پہلی میں تو ہر ہر فرد پر دونوں صادق آ رہی تھیں اور یہاں پر کوئی کلی کسی دوسری کے افراد پر صادق نہیں آئے گی۔ مثلاً کتاب اور قلم۔ کتاب اور قلم... بھئی اب قلم کے بھی افراد ہیں، آپ سب کے پاس قلم ہے، تو یہ ہر ایک پر صادق آتا ہے یہ قلم ہے، یہ قلم ہے، یہ بھی قلم ہے، یہ بھی قلم ہے۔ کتابیں آپ میں سے ہر ایک کے سامنے ہیں، تو یہ ایک بھی کتاب، دوسری بھی کتاب، تیسری بھی کتاب، تو یہ مفہوم کلی ہیں۔ اور کوئی کلی دوسری کلی کے کسی فرد پر صادق نہیں آتی۔ کوئی کتاب آپ اسے قلم نہیں کہہ سکتے۔ پہلے تو انسان... ہر انسان کو کیا کہہ سکتے تھے؟ ناطق، لیکن اب کسی کتاب کو بھی قلم... کسی ایک کتاب کو بھی قلم نہیں کہہ سکتے۔ اور کسی ایک قلم کو بھی کتاب نہیں کہہ سکتے۔ تو دونوں میں سے کوئی کسی پر بھی صادق نہیں آتا۔ جیسے انسان اور گدھا... کسی انسان پر گدھا صادق نہیں آتا اور کسی گدھے پر انسان صادق نہیں آتا، دونوں کا مفہوم ہی الگ ہے، معنی ہی الگ الگ ہے بھئی۔ اسی طرح آپ کوئی بھی مثال بنا سکتے ہیں۔ تو اس طرح جب دو کلیوں میں سے کوئی کلی کسی دوسری کے کسی فرد پر صادق نہ آئے تو اس کو اس نسبت کو کیا کہتے ہیں؟ تباین کہتے ہیں، تباین۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تیسرا ہے عموم و خصوص مطلق بھئی، عموم و خصوص مطلق۔ عموم و خصوص مطلق یہ ہے، یہ دیکھیے بھئی، یہ آپ نے دو کلیاں ان کا تصور کیا، ایک یہ کلی ہے، ایک یہ کلی۔ یہ جو پہلی کلی ہے یہ تو دوسری کے ہر ہر فرد پر صادق آ رہی ہے، لیکن دوسری کلی پہلی کلی کے ہر ہر فرد پر صادق نہیں آتی، جیسے حیوان اور انسان۔ انسان پر تو حیوان صادق آئے گا، جو بھی انسان ہے وہ حیوان بھی ہے، جو بھی انسان ہے حیوان بھی ہے کیونکہ انسان کی تعـ... انسان کہتے ہی کس کو ہیں؟ حیوانِ ناطق کو، تو ہر ایک حیوان ہے۔ تو ہر انسان حیوان ہے، لیکن ہر حیوان انسان تو نہیں، کیونکہ اس میں تو گدھا بھی آ گیا، اس میں تو گائے بھی آ گئی، اس میں تو اونٹ بھی آ گیا، انسان بھی آیا اور اور دوسری چیزیں بھی آ گئیں۔ تو جو انسان... انسان کے افراد اس میں آئے ان پہ تو انسان ہونا صادق آئے گا، لیکن گائے، بکری، اونٹ وغیرہ یہ بھی حیوان کے افراد ہیں، ان پر انسان صادق نہیں آتا بھئی۔ تو دیکھو، حیوان تو انسان کے ہر فرد پر بھی صادق آتا ہے اور اس کے علاوہ اور چیزوں پر بھی صادق آتا ہے، تو یہ ہوا عام۔ کیا ہوا؟ یہ عام ہے۔ اور انسان اس کے مقابلے میں خاص ہے، کہ وہ حیوان کے بعض افراد پر تو صادق آتا ہے لیکن بعض افراد پر صادق نہیں آتا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو اس کو کہتے ہیں عموم و خصوص مطلق، کہ دو کلیوں میں سے ایک کلی دوسری کلی کے ہر فرد پر صادق آئے لیکن دوسری کلی پہلی کلی کے ہر فرد پر صادق نہ آئے بھئی۔ یہ عموم و خصوص مطلق ہے، ان میں ایک عام مطلق ہوتا ہے اور ایک خاص مطلق۔ حیوان کیا ہے؟ عام مطلق، اور انسان کیا ہے؟ خاص مطلق۔ چوتھی نسبت ہے عموم و خصوص من وجہ۔ عموم و خصوص من وجہ یہ ہے کہ آپ نے مثلاً دو کلیوں کا تصور کیا، پہلی کلی بھی انسان... پہلی کلی بھی دوسری کلی کے بعض افراد پر صادق آتی ہے اور بعض پر صادق نہیں آتی، اور دوسری کلی بھی پہلی کے بعض افراد پر صادق آتی ہے اور بعض پر صادق نہیں... بھئی، اس سے پچھلی عموم و خصوص مطلق میں تو تھا ایک کلی دوسری کے ہر فرد پر صادق آتی ہے لیکن دوسری پہلی کے ہر فرد پر صادق نہیں۔ اب اس میں دونوں جانب سے اس طرح ہو گا: پہلی کلی بھی دوسری کلی کے ہر فرد پر صادق نہیں آئے گی، بعض پر صادق آئے گی بعض پر نہیں، اور دوسری کلی بھی پہلی کلی کے ہر فرد پر صادق نہیں آئے گی بلکہ بعض پر صادق آئے گی اور بعض پر صادق نہیں آئے گی۔ جیسے ابيض اور حیوان، سفید اور حیوان۔ اب آپ بتائیے بھئی، ہر سفید کیا وہ حیوان ہے؟ نہیں، یہ دیوار سفید ہے، آپ کا کوئی مثلاً قلم ہے وہ سفید ہے، تو اس کو حیوان تو نہیں کہہ سکتے۔ ہاں، بعض حیوان بھی سفید ہوتے ہیں جیسے بطخ ہے۔ تو اس بطخ پر صادق آئے گا کہ یہ سفید ہے، نیز اس پر کیا صادق آئے گا؟ حیوان ہونا بھی صادق آئے گا۔ تو سفید کے بہت سے افراد تھے، آپ کے کپڑے بھی سفید، دیوار بھی سفید، آپ کا قلم بھی سفید، اسی طرح بطخ بھی سفید، تو کتنے ہی افراد بن گئے! لیکن حیوان ہونا ان میں سے بعض پر صادق آتا ہے اور بعض پر صادق... بطخ پر تو حیوان ہونا صادق آئے گا لیکن باقی دیوار، قلم وغیرہ پر صادق نہیں آئے گا۔ اسی طرح دوسری میں دیکھ لیں: حیوان۔ حیوان بھی مختلف قسم کے ہیں: ہاتھی سیاہ ہے، انسان کا رنگ اور ہے، گدھے کا رنگ اور ہے، گائے کا مختلف رنگ ہوتے ہیں، اگر گائے سفید ہے پھر تو اس پہ بھی سفید صادق آئے گا۔ تو دیکھیے، تو یہ حیوان کے افراد ہیں: ہاتھی ہے، انسان ہے، گائے ہے اور بطخ ہے۔ تو ان میں سے بعض پر تو سفید ہونـ... سفید صادق آئے گا، بطخ کیا ہے؟ سفید، یا فرض کرو گائے ہے وہ بھی سفید ہو اس پہ بھی آئے گا صادق کہ یہ سفید ہے۔ لیکن باقی ہاتھی وغیرہ پر یہ صادق... تو دیکھو، دوسری کلی بھی بعـ... پہلی کلی کے بعض افراد پر صادق آ رہی ہے اور بعض پر صادق نہیں آ رہی۔ تو یہ عموم و خصوص من وجہ ہے۔ عموم و خصوص من وجہ، کہ پہلی کلی دوسری کلی کے بعض افراد پر صادق آئے اور بعض پر صادق نہ آئے، اور دوسری کلی بھی پہلی کے بعض افراد پر صادق آئے اور بعض پر صادق نہ آئے بھئی۔ اور یاد رکھیے، یہاں پہ تین مادے ہوتے ہیں۔ عموم و خصوص من وجہ میں تین مادے ہوتے ہیں، تین قسم کے، تین قسم کے۔ ایک مادہ اجتماع ہو گا، جہاں دونوں اکٹھی ہو جائیں گی۔ ایک مادہ کیا ہو گا؟ مادہ اجتماع، جہاں دونوں کلییاں اکٹھی ہو جائیں گی، صادق آئیں گی، جیسے سفید بطخ۔ اس کو کہہ سکتے ہیں: یہ سفید ہے، پہلی کلی کیا تھی؟ سفید، اور دوسری کیا تھی؟ حیوان، تو دیکھو اس بطخ کو ہم کہہ سکتے ہیں یہ سفید ہے، تو پہلی کلی بھی صادق آ رہی ہے۔ دوسری کلی بھی صادق آ رہی ہے: یہ حیوان ہے۔ یہ مادہ اجتماع ہے، دونوں کلییاں کیا ہو رہی ہیں اس میں؟ اکٹھی ہو رہی ہیں۔ اور دو مادہ افتراق ہوں گے: ایک مادے پر ایک کلی صادق آئے گی، دوسری کلی نہیں صادق آئے گی، اور دوسری مادے پر دوسری کلی صادق آئے گی اور پہلی کلی صادق نہیں آئے گی۔ جیسے دیکھیے بھئی: سفید کپڑے۔ اب ان کو آپ کہہ سکتے ہیں یہ سفید ہے، سفید ہیں، لیکن اس کو حیوان نہیں کہہ سکتے۔ تو دیکھو، صرف ایک کلی صادق آ رہی ہے، دوسری صادق نہیں آ رہی۔ تو یہ تو تھی "سفید ہے، حیوان نہیں"۔ دوسری صورت بنائیں جہاں حیوان تو صادق آئے، سفید ہونا صادق نہ آئے، جیسے ہاتھی۔ تو اس کو... یہ تو کہہ سکتے ہیں یہ حیوان ہے، لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سفید ہے، تو یہ دیکھو، یہاں تین مادے ہوں گے: ایک مادہ اجتماع کا اور دو مادے افتراق کے بھئی، افتراق۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو دو کلیوں میں ہمیشہ چار نسبتوں میں سے ایک نسبت ضرور ہو گی۔ پہلی نسبت کون سی؟ تساوی، کہ پہلی کلی دوسری کلی کے اور دوسری کلی پہلی کلی کے ہر ہر فرد پر صادق ہو۔ دوسری؟ تباین، کہ پہلی کلی دوسری کلی کے کسی فرد پر صادق نہ آئے اور دوسری پہلی کے کسی فرد پر صادق نہ آئے۔ تیسری ہے عموم و خصوص مطلق، کہ ایک کلی... پہلی کلی تو دوسری کلی کے ہر فرد پر صادق آئے لیکن دوسری پہلی کے ہر فرد پر صادق نہ آئے، بعض پر صادق آئے، بعض پر صادق نہ آئے، جیسے حیوان اور انسان۔ اور چوتھی نسبت ہے عموم و خصوص من وجہ، کہ پہلی کلی دوسری کلی کے بعض پر صادق آئے، بعض پر صادق نہ آئے، اور دوسری کلی پہلی کے بعض افراد پر صادق آئے اور بعض پر صادق نہ آئے، اس کو عموم و خصوص من وجہ کہتے ہیں۔ دیکھیے بھئی، اب کتاب پر۔ فَصْلٌ فِي النِّسْبَةِ بَيْنَ الْكُلِّيَّيْنِ أَيْ هَذَا فَصْلٌ فِي النِّسْبَةِ بَيْنَ الْكُلِّيَّيْنِ، یہ فصل ہے دو کلیوں کے درمیان نسبت کے بیان میں۔ فِي النِّسْبَةِ أي فِي بَيَانِ النِّسْبَةِ فِي بَيَانِ النِّسْبَةِ، نسبت سے پہلے "بیان" مضاف محذوف نکال لیں گے بھئی۔ یہ فصل ہے دو کلیوں کے درمیان نسبت کے بیان میں، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اعْلَمْ، جان لے تو، أَنَّ النِّسْبَةَ بَيْنَ الْكُلِّيَّيْنِ، کہ نسبت دو کلیوں کے درمیان، تَتَصَوَّرُ، اس کا تصور کیا جا سکتا ہے، عَلَى أَنْحَاءٍ أَرْبَعَةٍ، چار قسم پر، لِأَنَّكَ إِذَا أَخَذْتَ كُلِّيَّيْنِ، اس لیے کیونکہ جب آپ پکڑیں دو کلیوں کو، فَإِمَّا أَنْ يَصْدُقَ كُلٌّ مِنْهُمَا، تو پھر یا تو صادق آئے گا ان دونوں میں سے ہر ایک... دو کلییاں پکڑیں، دونوں میں سے ہر ایک صادق آئے گی، عَلَى مَا يَصْدُقُ عَلَيْهِ الْآخَرُ، اس چیز پر جس پر دوسری کلی صادق آئے گی بھئی، فَهُمَا مُتَسَاوِيَانِ، تو دونوں ہی کیا ہیں؟ متساوی ہیں، وہی متماثل کہہ لیں، متساوی کہہ لیں۔ كَالْإِنْسَانِ وَالنَّاطِقِ، جیسے کہ انسان اور ناطق، لِأَنَّ كُلَّ إِنْسَانٍ نَاطِقٌ... بھئی دیکھیے، جو دو کلییاں متساویین ہوں گی، یعنی جن میں تساوی کی نسبت ہو گی، انہوں نے متساویین کا لفظ ذکر کیا ابھی، وہ ذکر کر لیں، جب دو کلیوں میں تساوی کی نسبت ہے، برابری کی نسبت ہے، ایک کلی جس پر صادق آ رہی ہے، دوسری کلی بھی اس پر صادق آ رہی ہے۔ تو یاد رکھیے، یہاں دو قضیے بنیں گے۔ کیا بنیں گے؟ دو قضیے بنیں گے، اور قضیے کے اندر آپ جانتے ہیں، پہلے جزو کو کہتے ہیں موضوع اور دوسرے کو کہتے ہیں محمول۔ پہلے کو موضوع اور دوسرے کو محمول کہتے ہیں بھئی، یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے۔ تو آپ دو کلییاں ہیں، تو یہاں دو قضیے بنیں گے، اور جس کو بھی چاہیں آپ موضوع... مثلاً پہلے قضیے میں ایک کو موضوع بنائیں، دوسرے کو محمول بنائیں۔ مثلاً پہلی کلی کیا ہے؟ حیوان... انسان، انسان، اور دوسری کیا ہے؟ ناطق۔ تو آپ کیا کریں؟ انسان کو موضوع بنائیں اور ناطق کو خبر بنائیں، محمول بنائیں۔ اور جو موضوع ہے اس پر "کُلٌّ" کا لفظ داخل کر دیں۔ تو کیا بن گیا کلام؟ كُلُّ إِنْسَانٍ نَاطِقٌ، كُلُّ إِنْسَانٍ نَاطِقٌ۔ تو دیکھو: ہر انسان ناطق ہے۔ تو یہ قضیہ موجبه کلیہ ہوا، کون سا قضیہ؟ موجبه کلیہ۔ موجبه کا کیا معنی؟ جس میں اثبات ہوتا ہے، نفی نہیں ہوتی۔ میں کیا کہہ رہا ہوں؟ ہر انسان ناطق ہے، یا یہ کہہ رہا ہوں کہ ہر انسان ناطق نہیں ہے؟ ہر انسان ناطق ہے، تو ایجاب کر رہا ہوں ہر انسان کے لیے ناطق ہونے کا، یعنی اثبات کر رہا ہوں۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ موجبه، اور جس میں نفی کا لفظ آئے اسے سالبه کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ سالبه۔ اور شروع میں میں نے کیا لفظ داخل کیا؟ "کُلٌّ" کا لفظ، تو دیکھو یہ کلیہ ہے۔ 2 ناطق۔ یہ کون سا قضیہ ہوا؟ موجبہ کلیہ، کلی یہ بات کر رہا ہوں کہ ہر انسان کیا ہے؟ ناطق ہے۔ اب دوسری صورت کر لیں۔ ناطق کو بنائیں موضوع اور انسان کو بنائیں محمول اور اس پر ناطق پر کل کا لفظ داخل کر دیں۔ کل ناطق انسان۔ کل ناطق انسان۔ ہر ناطق کیا ہے؟ انسان ہے۔ انسان ہے۔ تو یہ قضیہ ہوا، کلیہ ہے یا جزئیہ ہے؟ کلیہ، کل کا لفظ ہے تو کلیہ اور ایجاد ہے یا نفی ہے؟ ایجاد۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ موجبہ کلیہ۔ تو معلوم ہوا جب دو کلیوں کے درمیان تساوی کی نسبت ہوگی تو دو قضیہ موجبہ کلیہ حاصل ہوں گے۔ کیا حاصل ہوں گے؟ اور کس طرح کا بنائیں گے؟ میں نے طریقہ بتا دیا، پہلے ایک کلی کو موضوع بناؤ، دوسری کو محمول، اور موضوع پر کیا داخل کر دو، کل کا لفظ۔ پھر دوسرے کو کیا بناؤ؟ موضوع بناؤ اور پہلے کو محمول بناؤ اور اس پر کیا داخل کر دو؟ کل۔ تو پہلا قضیہ مثلاً کیا بنے گا؟ کل انسان ناطق اور یہ صحیح ہے یا غلط ہے؟ اور کل ناطق انسان، یہ بھی صحیح ہے تو جب دو کلیوں کے درمیان تساوی کی نسبت ہو تو پھر ان کیا حاصل ہوں گے ہمیں؟ دو قضیہ کلیہ حاصل ہوں گے بھئی۔ یہی بات ذکر کر رہے ہیں، لان کل انسان ناطق وکل ناطق انسان، اس لیے کیونکہ ہر انسان ناطق ہے اور ہر ناطق انسان ہے۔ یہ پہلی صورت تھی۔ اب او یصدق، اس کا عطف اسی پر ہے، فاما ان یصدق اس اس یصدق پر ہے، وہ منصوب تھا تو یہ بھی منصوب ہوگا۔ او یصدق احدهما یا صادق آئے گا ان دو میں سے ایک علی کل ما یصدق علیہ الاخر یا تو یہ دوسری میں نے تو دوسری تباین والی بیان کی تھی، یہ عموم و خصوص مطلق کو دوسرے نمبر پر ذکر کر رہے ہیں آپ۔ عموم و خصوص مطلق کو بتلایا تھا کیا کہ پہلی کلی دوسری کلی کے ہر فرد پر صادق آئے لیکن دوسری پہلی کے ہر فرد پر صادق نہ آئے۔ وہی بیان کرنے لگے ہیں او یصدق احدهما یا صادق آئے گا ان دو صادق آئے گی ان دو کلیوں میں سے ایک علی کل ما یصدق علیہ الاخر ہر اس چیز پر جس پر پہلی کلی دوسری کلی صادق آئے۔ ولا یصدق الاخر، اور دوسری کلی صادق نہیں آئے گی علی جميع افراد احدهما ان دو میں سے کسی ایک کے تمام افراد پر۔ فبينهما عموم و خصوص مطلقاً، تو ان دو کلیوں کے درمیان عموم و خصوص مطلق ہے، كالحيوان والانسان، جیسے حیوان اور انسان۔ اچھا، یاد رکھیے۔ ، جب دو کلیوں کے درمیان عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہو تو ہمیں دو قضیے حاصل ہوں گے۔ ہر جگہ پر ہمیں کتنے قضیے حاصل ہوں گے؟ دو قضیے۔ لیکن جب تساوی کی نسبت تھی تو کون سے قضیے حاصل ہوئے تھے؟ دونوں موجبہ کلیہ تھے۔ اب اب ایک موجبہ کلیہ ہوگا اور ایک موجبہ جزئیہ ہوگا۔ کیا ہوگا؟ ہاں، ایک موجبہ کلیہ ہوگا، ایک موجبہ جزئیہ ہوگا۔ بھئی، انسان اور حیوان میں سے ایک عام ہے، ایک خاص۔ عام کون؟ حیوان۔ خاص کون؟ انسان۔ جب آپ خاص کو موضوع بنائیں اور عام کو اسی کی خبر بنائیں، یعنی انسان کو موضوع اور حیوان کو محمول بنائیں، یعنی خبر بنائیں تو پھر اس انسان پر کل کا لفظ داخل کریں گے۔ کل انسان حیوان میرا یہ کلام درست ہے یا غلط ہے؟ ہر انسان حیوان ہے یا نہیں ہے؟ ہر انسان حیوان ہے۔ تو دیکھو کل انسان حیوان بھئی، کل انسان حیوان، یہ کون سا قضیہ ہے؟ موجبہ ہے، اثبات ہو رہا ہے انسان کے لیے حیوان ہونے کا اور کلیہ ہے یا جزئیہ؟ کلیہ ہے تو یہ قضیہ موجبہ کلیہ ہوا۔ اور اگر آپ حیوان کو موضوع بنائیں اور انسان کو خبر بنائیں، تو پھر اب کل کا لفظ داخل نہیں کرنا ورنہ جملہ غلط ہو جائے گا، کلام غلط۔ کیسے؟ آپ کر کے دیکھ لیں، حیوان کو کیا بنائیں؟ موضوع، انسان کو کیا بنائیں؟ محمول بنائیں، خبر بنائیں اور کل ذرا داخل کریں، کل حیوان انسان، یہ کلام درست ہے؟ ہر حیوان انسان ہے؟ نہیں، تو پھر یہاں بعض کا لفظ داخل کریں۔ بعض الحيوان انسان، بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان ہیں۔ تو یہ ہے موجبہ جزئیہ، کلی بات نہیں کی، بعض کی بات کی بھئی، تو اس کو کیا کہیں گے؟ موجبہ جزئیہ، موجبہ تو اس لیے کیونکہ نفی نہیں ہے، اثبات ہے اور جزئیہ اس لیے کہ کلی بات نہیں کی، بلکہ جزئی بات کی۔ تو جب دو کلیوں میں عموم و خصوص مطلق ہوں تو ہمیں کتنے قضیے حاصل ہوں گے؟ دو۔ ایک موجبہ کلیہ اور دوسرا موجبہ جزئیہ۔ آپ خود وہ غور کر کے بنا سکتے ہیں، میں نے طریقہ بتا دیا۔ ، دوسرا قضیہ کیا بنایا تھا؟ بعض الحيوان انسان، جب میں نے کہا نا بعض الانسان حيوان، تو ایک اور قضیہ آپ کو خود ہی سمجھ میں آگیا، کیا؟ جب بعض حیوان انسان ہے تو معلوم ہوا بعض نہیں ہیں۔ یہ سمجھ میں آگئی بات یا نہیں؟ تو کیا کہیں گے؟ بعض الحيوان ليس بي انسان۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ہاں، جب بعض کی بات آئے گی تو باقی آدھی بات آپ خود سمجھ جائیں بھئی۔ اب دیکھیے آگے کتاب پر بھئی، فیصدق الحيوان، پس حیوان صادق آتا ہے علی کل ما یصدق علیہ الانسان، ہر اس چیز پر، جس پر انسان صادق آتا ہے، ولا یصدق الانسان علی کل ما یصدق علیہ الحيوان، اور انسان صادق نہیں آتا ہر اس چیز پر جس پر حیوان صادق آئے، بل علی بعضه، بلکہ اس کے بعض پر صادق آتا ہے۔ او لا یصدق یہ تیسری قسم بیان کرنے لگے ہیں۔ او لا یصدق شیء منھما علی شیء مما یصدق علیہ الاخر، فھما متباینانی، یا صادق نہیں آتی کوئی چیز بھی اس دوسری چیز پر جس پر مما یصدق علیہ الاخر، جس پر دوسری کلی صادق آ رہی ہے، یعنی ایک کلی میں سے کوئی بھی چیز اس چیز پر صادق نہیں آتی جس پر دوسری کلی صادق آ رہی ہے، اور دوسری کلی پہلی کلی کے کسی فرد پر صادق نہیں آتی، فھما متباینانی تو یہ دونوں کلیاں متباین ہیں، كالانسان والفرس، جیسے انسان اور فرس۔ ہاں بھئی، بنائیے۔ ا قضیے بنائیے۔ کیسے بنائیں گے؟ ایک کو موضوع پہلے بنائیں دوسرے کو محمول، پھر دوسرے کو موضوع اور پہلے کو محمول۔ اچھا، پھر اس صورت میں اور بتائیے آپ، پہلے انسان کو موضوع بنایا اور فرس کو محمول۔ کوئی انسان فرس ہے؟ نہیں، تو کیا کہیں گے؟ لا شیء من الانسان بفرس۔ لا شیء من الانسان، انسان میں سے کوئی بھی چیز، یعنی کوئی بھی فرد، فرس نہیں ہے۔ لا شیء من الانسان بفرس۔ اور اب دوسرے کو موضوع بنا دیں، لا شیء من الفرس بانسان، فرس کے افراد میں سے کوئی فرد انسان نہیں ہے۔ ، تو دو کون سی کلیاں آئیں؟ ایجاد ہے یا نفی ہے؟ نفی ہو تو سالبہ کہیں گے۔ ہاں، اور کون سے ہیں سالبہ؟ بعض سے نفی ہو رہی ہے یا کل سے ہی نفی ہو رہی ہے؟ کل سے، کوئی انسان فرس نہیں اور کوئی فرس انسان نہیں، تو دو سالبہ کلیہ حاصل ہوں گے، جب دو کلیاں آپس میں متباین ہوں۔ کس قسم کے قضیے آئیں گے؟ دو سالبہ کلیہ ہوں گے۔ او یصدق یہ چوتھی قسم آ گئی۔ او یصدق بعض كل واحد منهما، یا صادق آئے گا ان دونوں کلیوں میں سے ہر ایک کا بعض، دونوں کلیوں میں سے ہر ایک کا بعض صادق آئے گا علی بعض ما یصدق علیہ الاخر، اس دوسری کلی کے، جس پر دوسری کلی صادق آتی ہے، اس کے بعض پر۔ فبينهما عموم و خصوص من وجه، تو ان کے درمیان عموم و خصوص من وجہ ہے۔ كالأبيض والحيوان، جیسے ابیض اور حیوان۔ جی، اور میں نے بتلایا تھا، یہاں تین مادے ہوتے ہیں جہاں بھی عموم و خصوص من وجہ ہو۔ ایک مادہ اجتماع کا ہوتا ہے، جہاں دونوں کلیاں آکر جمع ہو جاتی ہیں، دونوں صادق آتی ہیں، اور دو مادے احتراق کے ہوتے ہیں، ایک وہ مادہ جہاں پہلی کلی صادق آتی ہے دوسری کلی صادق نہیں، اور ایک وہ مادہ جہاں دوسری کلی صادق آتی ہے پہلی صادق نہیں آتی، یہی بات بیان کر رہے ہیں، ففی البطی، پس بط (یعنی بتخ کے اندر، یہ طاء مشدد ہے) ففی البط يصدق كل منهما، بتخ کے اندر ان دونوں میں سے ہر ایک صادق آتا ہے، سفید بتخ ہے، تو وہ ابیض بھی ہے اور حیوان بھی ہے۔ وفي الفيل يصدق الحيوان فقط، اور فیل کہتے ہیں ہاتھی کو، اور ہاتھی پر میں جو ہے صرف حیوان صادق آتا ہے۔ وہ سفید نہیں، تو ابیض تو صادق نہیں آ رہا، یہ مادہ احتراقی ہے بھئی، صرف حیوان صادق آ رہا ہے۔ وفي الثلج والعاج يصدق الأبيض فقط، اور برف اور آج، ہاتھی دان، اور آج، ففی الثلج والعاج، اور برف اور ہاتھی دان جو ہیں، يصدق الابيض فقط، ان میں صرف ابیض صادق آتا ہے۔ صرف کیا صادق آتا ہے؟ یہ ابیض، یہ سفید تو ہیں، برف بھی سفید، ہاتھی دان بھی سفید، لیکن یہ حیوان نہیں ہیں۔ تو لہٰذا بھئی، جہاں پر بھی عموم و خصوص من وجہ ہو، وہاں دو قضیے بنیں گے، بھئی، دو قضیے۔ اور آپ خود بنائیں ذرا، آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا کس قسم کے قضیے بنتے ہیں، کلیے بنتے ہیں یا جزئیے بنتے ہیں۔ ایک کو بنائیں موضوع، دوسرے کو بنائیں محمول، ابیض کو بنا لیں موضوع اور حیوان کو بنا لیں محمول۔ اچھا، سب سے پہلے یہ دیکھو، كل ابي حيوان، ये صادق ہے؟ ہر سفید چیز حیوان ہے؟ نہیں، معلوم ہوا کل تو لگانا درست نہیں، پھر بعض لگاؤ۔ بعض الابيض حيوان، بعض سفید کیا ہیں؟ حیوان، یہ صادق آیا۔ معلوم ہوا ایک قضیہ کون سا بنے گا؟ موجبہ جزئیہ، موجبہ اس لیے کہ ایجاب ہے، اسبات ہے اور جزئیہ اس لیے کہ کیوں کہ کل نہیں ہے، بلکہ جزئی۔ اچھا، دوسرے کو بنائیں اب بھئی، حیوان کو موضوع بنائیں اور ابیض کو محمول۔ کل حیوان ابيض، درست ہے؟ ہر حیوان سفید ہے؟ نہیں، اچھا بعض ہیں؟ تو بعض لگا دیں۔ بعض الحيوان ابيض، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ بھی کون سا قضیہ حاصل ہوا؟ موجبہ جزئیہ، تو دو قضیے موجبہ جزئیے حاصل ہوئے، بھئی۔ دونوں موجبہ جزئیے ہیں۔ پہلا کیا ہے؟ بعض الابيض حيوان، جب آپ نے کہا بعض الابيض حيوان، بعض سفید حیوان، اسی سے ایک اور بات بھی سمجھ میں آ گئی، کہ بعض نہیں ہیں، کہ بعض نہیں ہیں، تو وہ کیا بنے گا؟ بعض الابيض ليس بحيوان، بھئی، بعض الابيض ليس بحيوان۔ اچھا، اور دوسرا کیا بنایا تھا آپ نے؟ بعض الحيوان ابيض، جب آپ نے کہا بعض حیوان سفید ہیں، تو اسی سے خود بخود یہ بھی سمجھ میں آ گیا کہ بعض نہیں ہیں، ای بعض الحيوان ليس با بيضا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ جی، تو جب دونوں قضیوں کے، جب دونوں کلیوں میں تساوی کی نسبت ہو، تو کس قسم کے قضیے آئیں گے؟ دونوں موجبہ کلیہ ہیں۔ اور اگر دونوں میں تباین ہو، تو پھر دو سالبہ کلیہ آئیں گے۔ اور اگر عموم و خصوص مطلق ہو، ایک موجبہ کلیہ اور دوسرا موجبہ جزئیہ، اور اگر عموم و خصوص من وجہ ہو، تو دو موجبہ جزئیہ، موجبہ جزئیہ بنیں گے۔ فہذه اربع نسب تو یہ چار نسبتیں ہیں، نسب جمع ہے نسبت کی۔ فہذه اربع نسب، تو یہ چار نسبتیں ہیں، التساوی، یہ پہلی نسبت، والتباين، اور دوسری، والعموم والخصوص مطلقا، یہ تیسری، والعموم والخصوص من وجه، یہ چوتھی آ گئی۔ فاحفظ ذلک، پس آپ یاد کر لیجیے اسے۔ اس بات کو یاد کر لیجیے۔ بھئی مصنف نے دو کلیوں میں نسبت بیان کی، دو کلیوں میں چار نسبتوں میں سے ایک ضرور ہوگی۔ جزئیوں میں نسبت بیان نہیں کی، اس لیے کہ دو جزئیوں میں ہمیشہ تباین کی نسبت ہوتی ہے۔ دو جزئیوں میں ہمیشہ... زید بھی ایک جزئی اور عمر بھی ایک جزئی۔ دونوں کے اندر تباین ہوگا ہمیشہ، زید الگ ہے اور عمر الگ ہے، تو دو جزئیوں میں ہمیشہ تباین ہوا کرتا ہے بھئی، اور وہاں اور کوئی نسبت ہی نہیں ہے، اس کو بیان بھی نہیں کیا بھئی۔ چلیے، بس بھئی ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الكلام۔