LESSONS NO. 20 1 فَصْلٌ. وَيَنْبَغِي أَنْ يُعْلَمَ أَنَّ الدَّلَالَةَ اللَّفْظِيَّةَ الْوَضْعِيَّةَ الَّتِي لَهَا الْعِبْرَةُ فِي الْمُحَاوَرَاتِ وَالْعُلُومِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَنْحَاءٍ، أَحَدُهَا الْمُطَابَقِيَّةُ، وَهِيَ أَنْ يَدُلَّ اللَّفْظُ عَلَى تَمَامِ مَا وُضِعَ ذَلِكَ اللَّفْظُ لَهُ؛ كَدَلَالَةِ الْإِنْسَانِ عَلَى مَجْمُوعِ الْحَيَوَانِ وَالنَّاطِقِ. اچھا! تو دلالتِ لفظیہ کس کو کہتے ہیں؟ جس میں دال لفظ ہو، شاباش، بس! وضع کی طرف میں نے وضع کی بات ہی نہیں کی، دلالتِ لفظیہ بس! دلالتِ غیرِ لفظیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں دال لفظ نہ ہو۔ اچھا! دلالتِ لفظیہ وضعیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں دال لفظ ہو اور وضع کے ہو۔ شاباش! اور وضع کسے کہتے ہیں؟ ایک شے کا دوسری شے کے ساتھ اس طرح مقرر کرنا—پوری بات کیا کرو—ایک شے کا دوسری شے کے ساتھ اس طرح مقرر کرنا کہ ایک چیز کے جاننے سے دوسری چیز کا علم ہو جائے۔ میں نے لفظِ 'زید' منہ سے کہا، تو یہ آپ نے سن لیا۔ آپ کو اس لفظ کا علم ہوا یا نہیں؟ اور اس لفظ سے فوراً زید کی ذات آپ کے ذہن میں آ گئی دوسری چیز بھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اور پھر دلالتِ لفظیہ طبعیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں دلالت طبع کے تقاضے کے ہو بھئی، شاباش! اور دلالتِ لفظیہ عقلیہ؟ جس میں دلالت بمقتضائے عقل کے ہو، یعنی اس میں وضع اور طبع کا دخل نہ ہو۔ ویسے تو ہر دلالت ہی عقل کے اعتبار سے ہے، عقل ہے تو دلالت ہوگی۔ مجنون اور دیوانہ ہے کوئی تو وہاں دلالت بھی نہیں ہوگی، اسے پتہ ہی نہیں چلے گا ایک چیز سے دوسری کا۔ تو وہاں عقل کا دخل ہے، لیکن معنیٰ یہ ہے یہاں کہ جو وضعیہ اور طبعیہ نہیں ہے بس پھر اس کا نام عقلیہ ہے۔ بس باتیں اچھی طرح سمجھتے جائیں بھئی! تو بڑے منطقی بن جائیں گے آپ بھئی، انشاء اللہ بھئی! سمجھ میں آیا؟ فَصْلٌ. وَيَنْبَغِي أَنْ يُعْلَمَ أَنَّ الدَّلَالَةَ اللَّفْظِيَّةَ الْوَضْعِيَّةَ الَّتِي لَهَا الْعِبْرَةُ فِي الْمُحَاوَرَاتِ وَالْعُلُومِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَنْحَاءٍ. فَصْلٌ، أَيْ هَذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ وَيَنْبَغِي، اور مناسب ہے۔ ینبغی کا کیا معنیٰ؟ مناسب ہے۔ وَيَنْبَغِي، اور مناسب ہے، أَنْ يُعْلَمَ، کہ یہ جان لیا جائے، أَنَّ الدَّلَالَةَ اللَّفْظِيَّةَ الْوَضْعِيَّةَ، کہ دلالتِ لفظیہ وضعیہ، الَّتِي لَهَا الْعِبْرَةُ فِي الْمُحَاوَرَاتِ وَالْعُلُومِ، کہ وہ جس کی، جس کا اعتبار ہے فِي الْمُحَاوَرَاتِ، گفتگو میں، وَالْعُلُومِ، اور علوم میں۔ جس دلالت... بھئی آپ نے کل پڑھا تھا کہ دلالت کی چھ قسمیں ہیں، لیکن منطقی صرف کون سی دلالت سے بحث کرتا ہے؟ دلالتِ لفظیہ وضعیہ سے، کیونکہ افادہ اور استفادہ جو ہے وہ زیادہ تر آسانی سے اسی کے ذریعے ہوتا ہے، یا یوں کہیں آسان لفظوں میں کہ چونکہ اس میں فائدہ سب سے زیادہ ہے، یہ عام استعمال ہوتی ہے، بات چیت کرتے ہیں ہم بھئی، تو یہ جتنے لفظ بولتے ہیں ان کی دلالت اپنے معنیٰ پر کون سی دلالت ہوتی ہے؟ دلالتِ لفظیہ وضعیہ! تو چونکہ اس میں فائدہ سب سے زیادہ ہے اسی لیے منطقی اسی سے بحث کرتا ہے، باقیوں میں اتنا نفع نہیں ہے بھئی، یا وہ کم ہیں۔ جی! تو کہتے ہیں: وَيَنْبَغِي، اور مناسب یہ ہے، أَنْ يُعْلَمَ، کہ جان لیا جائے، أَنَّ الدَّلَالَةَ اللَّفْظِيَّةَ الْوَضْعِيَّةَ، کہ وہ دلالتِ لفظیہ وضعیہ، الَّتِي لَهَا الْعِبْرَةُ فِي الْمُحَاوَرَاتِ وَالْعُلُومِ، کہ جس کا اعتبار ہے گفتگو میں اور علوم میں، محاورات؟ گفتگو بھئی، یہ جو ہم آپس میں بات چیت کرتے ہیں، کون سے لفظ بولتے ہیں؟ باتیں کرتے ہیں ایک دوسرے سے، تو یہ کیا ہوتی ہے ہمیشہ؟ دلالتِ لفظیہ وضعیہ اس کے اندر ہوتی ہے۔ تو اسی لیے کہا: وہ دلالتِ لفظیہ وضعیہ، الَّتِي لَهَا الْعِبْرَةُ، کہ جس کا اعتبار ہے، فِي الْمُحَاوَرَاتِ وَالْعُلُومِ، گفتگو میں اور علوم کے اندر، عَلَى ثَلَاثَةِ أَنْحَاءٍ، یہ تین قسم پر ہے۔ أنحاء جمع ہے نحوٌ کی، نحوٌ، اور نحو کا ایک معنیٰ قسم کے بھی آتے ہیں، تو یہاں قسم کے معنیٰ میں ہے، تین قسم پر ہے۔ اچھا، یاد رکھیے! یہاں آپ کو بتلائیں گے دلالتِ لفظیہ وضعیہ جو ہے، اس کی تین قسمیں ہیں: ایک دلالتِ مطابقی، ایک دلالتِ تضمنی، اور ایک دلالتِ التزامی، تین قسمیں ہیں بھئی۔ اب ان کو سمجھ اچھی طرح لیں کہ کسے کہتے ہیں دلالتِ مطابقی، کسے کہتے ہیں دلالتِ تضمنی، اور کسے کہتے ہیں دلالتِ التزامی؟ دلالت کا معنیٰ تو آپ نے سمجھ لیا، دلالت کسے کہتے ہیں کہ ایک چیز کے جاننے سے دوسری چیز کا علم ہو گیا، تو ایک چیز نے رہنمائی کر دی دوسری چیز پر، اسے بس دلالت کہتے ہیں۔ اور بات چل رہی ہے دلالتِ لفظیہ وضعیہ کی بھئی، اور جس میں وضع کا دخل ہوتا ہے، اور وضع کسے کہتے تھے؟ کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے اس طرح مقرر کرنا کہ ایک چیز سے دوسری چیز کا علم ہو جائے بھئی، ایک چیز کے علم سے دوسری چیز کا علم ہو جائے بھئی، یہ ہے وضع بھئی، وضع۔ اور اس کے اندر جو دال ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع! اور مدلول جس کا پتہ لگا اسے کیا کہتے ہیں؟ موضوع لہ! مثلاً لفظِ 'زید' ہے، لفظِ زید جیسے ہی میں نے بولا، کیا آیا آپ کے ذہن میں؟ زید کی ذات آپ کے ذہن میں آ گئی، تو لفظِ زید ہوا موضوع، اور ذاتِ زید ہوئی موضوع لہ۔ میں نے جیسے ہی کتاب کہا یا یوں کہیں گلاس کہا، گلاس کہتے ہی آپ کے ذہن میں وہ پانی پینے والا مخصوص برتن آ گیا، تو گلاس، لفظِ گلاس کیا ہے؟ موضوع! اور وہ جو برتن آپ کے ذہن میں آیا وہ کیا ہے؟ موضوع لہ بھئی، موضوع لہ۔ تو یہاں پر بھی موضوع لہ جس معنیٰ کے لیے لفظ کو وضع کیا گیا ہو، لفظ تو ہوتا ہے موضوع جس کو وضع کیا گیا ہے، مقرر کیا گیا ہے، اور جس معنیٰ کے لیے مقرر کیا گیا ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ موضوع لہ کہتے ہیں بھئی، موضوع لہ۔ जैसे کمرہ، کمرہ یہ لفظ ہے مولانا، اور یہ موضوع ہے، اور موضوع لہ کیا ہے؟ یہ کس کے لیے وضع ہے؟ یہ جو دیوار اور چھت پر مشتمل تعمیر ہوتی ہے، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ کمرہ کہا جاتا ہے، دیواریں بھی ہیں اور چھت بھی ہے، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ کمرہ کہا جاتا ہے بھئی کمرہ۔ تو وہ جو تعمیر ہے وہ ہے موضوع لہ، دیواروں اور چھت کی جو تعمیر ہے بھئی، اور کمرہ کیا ہے؟ لفظِ کمرہ ہے موضوع، اور وہ جو دیواروں اور چھت پر مشتمل تعمیر ہے وہ اس کا موضوع لہ ہے بھئی۔ اسی طرح لفظِ 'چاقو'، چاقو، میں نے چاقو جیسے ہی کہا آپ کے ذہن میں اس مخصوص چیز کا تصور آ گیا جس کے ذریعے چیزوں کو کاٹا جاتا ہے، جس کا لکڑی کا دستہ ہوتا ہے اور لوہے کا پھل ہوتا ہے، وہ کاٹنے والا حصہ کیا کہلاتا ہے؟ پھل! تو لکڑی کا دستہ ہوتا ہے اور لوہے کا پھل ہوتا ہے، تو لفظِ چاقو یہ کیا ہے؟ موضوع! اور وہ جو چیز آپ کے ذہن میں آئی جس کے ذریعے کاٹا جاتا ہے وہ کیا ہے؟ موضوع لہ، وہ لکڑی کا دستہ اور پھل وہ دونوں آپ کے ذہن میں آ گئے، وہ کیا ہیں؟ موضوع لہ ہیں بھئی۔ اچھا! اب تو چاقو کا لفظ، چاقو کا لفظ اس دستے اور پھل دونوں کے لیے وضع ہے، کس کے لیے وضع ہے؟ دونوں کے لیے وضع ہے، تو جیسے ہی میں نے چاقو کہا یہ دونوں چیزیں آپ کے ذہن میں آ گئیں بھئی، اور یہ وضع بھی اسی کے لیے ہے، کس کے لیے وضع ہے؟ اسی... بھئی توجہ سے سننا، چاقو کا لفظ دستے اور پھل دونوں کے لیے وضع ہے، تو یہ لفظِ چاقو ہوا موضوع، اور وہ دستے اور پھل کا جو مجموعہ ہے وہ کیا ہے؟ موضوع لہ ہوا بھئی۔ تو اس چاقو کہتے ہی دستہ اور پھل دونوں آپ کے ذہن میں آ گئے بھئی، تو یہ ہے دلالتِ مطابقی بھئی، کہ لفظ اپنے پورے معنیٰ موضوع لہ پر دلالت کرے بھئی، لفظ کیا کرے؟ پورا موضوع لہ آ گیا یا نہیں آپ کے ذہن میں؟ پورا موضوع لہ کیا ہے؟ دستہ اور پھل! تو بس، اور دلالت کسے کہتے تھے؟ کہ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے، تو میں نے تو صرف زبان سے لفظِ چاقو کہا، آپ کے ذہن میں ایک اور چیز، صرف زبان... ذہن میں یہ لفظ، یہ لفظِ چاقو آپ نے مجھ سے سنا، تو صرف یہی آپ کے ذہن میں آئی یا جس کا یہ نام رکھا ہے وہ بھی ذہن میں آ گئی؟ ہاں، تو لفظِ چاقو کا آپ کو، آپ نے سنا اور اس کا آپ کو علم ہوا اور اس کے جانتے ہی جس کا یہ نام رکھا گیا تھا وہ چیز بھی آپ کے ذہن میں آ گئی، وہ یعنی کہ موضوع لہ بھئی، وہ دستہ اور پھل کا مجموعہ بھئی۔ تو دیکھو، یہ لفظ نے دلالت کی اپنے پورے موضوع لہ پر، کس پر دلالت کی؟ پورا موضوع لہ بھئی پورا! دستہ بھی ہے اور ساتھ اس کے وہ پھل بھی ہے، تو پورے موضوع لہ پر جو یہ دلالت ہے اس کو کہتے ہیں دلالتِ مطابقی بھئی، کیا کہتے ہیں؟ لفظ کی دلالت اپنے پورے معنیٰ موضوع لہ پر یہ کیا ہے؟ دلالتِ مطابقی، میرے ساتھ دہرائیں بھئی! لفظ کی دلالت اپنے پورے معنیٰ موضوع لہ پر، لفظ کی دلالت اپنے پورے معنیٰ موضوع لہ پر یہ دلالتِ مطابقی کہلاتی ہے بھئی، دلالتِ مطابقی کہلاتی ہے۔ یا جیسے دیکھیے، میں نے کہا 'درخت' بھئی، تو درخت دیکھیے اس میں تنا بھی ہوتا ہے، شاخیں بھی ہوتی ہیں، پتے بھی ہوتے ہیں، جیسے ہی میں نے درخت کہا یہ سارا مجموعہ آپ کے ذہن میں آیا بھئی، تو لفظ نے کس پر دلالت کی؟ اپنے پورے معنیٰ موضوع لہ پر، اس کو کیا کہیں گے؟ دلالتِ مطابقی کہیں گے۔ جیسے میں نے کہا 'قرآن' بھئی، اب قرآن 30 پاروں سے بنا ہے بھئی، 30 پاروں پر مشتمل ہے بھئی، تو دیکھو جیسے قرآن کہا وہ 30 پاروں کا تصور آپ کے ذہن میں آ گیا، تو لفظ نے اپنے پورے معنیٰ موضوع لہ پر دلالت کی، یہ کون سی دلالت ہے؟ دلالتِ مطابقی ہے بھئی، دلالتِ مطابقی۔ اور اسی طرح انسان کا لفظ وضع ہے حیوانِ ناطق کے لیے، انسان کس کا نام ہے؟ حیوانِ ناطق کا نام ہے، تو انسان کہتے ہی پورا حیوانِ ناطق یہ مجموعہ آپ کے ذہن میں آ گیا تو یہ کیا ہے؟ دلالتِ مطابقی، انسان کا لفظ وضع بھی اس مجموعے ہی کے لیے تھا اور پورا ہی مجموعہ آپ کے ذہن میں آ گیا، یہ کیا ہے؟ دلالتِ مطابقی ہے، تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ لفظ کیا کرے؟ اپنے پورے معنیٰ موضوع لہ پر دلالت کرے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ مطابقی کہتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جب بھی لفظ آپ بولیں گے اس کا پورا معنیٰ موضوع لہ آپ کے ذہن میں آئے گا اور یہ دلالتِ مطابقی ہوگی۔ لیکن پورے موضوع لہ کے ساتھ، اب دلالتِ تضمنی سمجھانے لگا ہوں، پورے موضوع لہ کے ساتھ جز بھی آ جائے گا بھئی، کیا آ جائے گا؟ جز بھی آ جائے گا، بھئی دیکھیے! میں نے کہا چاقو، چاقو سے آپ کے ذہن میں وہ چیز آئی جو دستے اور پھل سے مرکب ہوتی ہے، لیکن دستہ بھی آپ کے ذہن میں آیا یا نہیں آیا؟ جب دستہ اور پھل دونوں آئے تو دستہ بھی آ گیا یا نہیں آ گیا؟ تو اس چاقو نے اس دستے پر بھی دلالت کر دی یا نہیں کر دی؟ کر دی! تو یہ جو دستے پر دلالت، اسی طرح اس نے دلالت کر دی پھل پر بھی، کیونکہ جب پورا مجموعہ آپ کے ذہن میں آیا تو ساتھ اس کے دستے کے ساتھ ساتھ وہ پھل بھی آپ کے ذہن میں آ گیا، تو یہ جو لفظ نے دلالت کی دستے پر یا صرف پھل پر، یہ ہے دلالتِ تضمنی بھئی، یہ کیا ہے؟ دلالتِ تضمنی ہے بھئی۔ کیونکہ جب کل آپ کے ذہن میں آئے گا تو ساتھ جز بھی آ جائے گا، جب پورا چاقو آپ کے ذہن میں آیا تو ساتھ دستہ بھی آیا اور ساتھ پھل بھی آیا، کیونکہ مجموعہ تھا ہی کس چیز کا نام؟ دستے اور پھل کا! صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جب، اسی طرح جب میں نے کہا درخت، تو درخت سے آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ شاخیں، پتے اور تنا، یہ تینوں چیزیں آپ کے ذہن میں آ گئیں۔ یعنی پورا مجموعہ آپ کے ذہن میں آیا، تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالتِ مطابقی! لیکن جب جیسے مجموعہ سمجھ میں آ رہا ہے، اس مجموعے کے اندر تنا بھی سمجھ میں آ گیا یا نہیں؟ تنے پر بھی اس نے دلالت کی یا نہیں کی؟ پتوں پر بھی اس نے دلالت کی یا نہیں کی؟ پتوں پر بھی دلالت کی، شاخیں آئیں ذہن میں کہ نہیں آئیں؟ تو شاخیں بھی ذہن میں آ گئیں، تو یہ جو دلالت ہو گئی اس درخت کی کس پر؟ تنے پر، یہ ہے دلالتِ تضمنی، یا درخت کی دلالت ہوئی شاخوں پر، یعنی جز پر، کل پر نہیں بلکہ جز پر، یہ ہے دلالتِ تضمنی بھئی، کیونکہ پتے بھی ساتھ آ گئے، اور اسی طرح شاخیں بھی آ گئیں، تو یہ جو شاخوں پر دلالت ہوئی یہ کیا ہوئی؟ دلالتِ... بھئی جب کل ذہن میں آتا ہے تو کل جن چیزوں سے، جو جو اس کے جز ہوتے ہیں وہ بھی سارے آ جاتے ہیں ذہن میں یا نہیں آتے؟ وہ سارے ذہن میں آ گئے، تو دلالتِ مطابقی کے ساتھ دلالتِ تضمنی بھی آ جاتی ہے بشرطیکہ اس چیز کے جز ہوں بھئی، کیا ہوں؟ ایک چیز کا جز ہی نہیں ہے وہ تو ذہن میں جز ہے ہی نہیں تو وہ ذہن میں نہیں آئے گا، تو لہٰذا جہاں، جہاں بھی دلالتِ مطابقی کے اندر اس کل کے جز ہوں گے وہاں دلالتِ مطابقی کے ساتھ ساتھ دلالتِ تضمنی بھی خود بخود آ جائے گی بھئی۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات کہ مشکل ہو گئی؟ بھئی دلالت کو ذہن میں رکھو، دلالت کس کو کہتے ہیں؟ ایک چیز کے علم سے دوسری چیز کا علم ہو جائے، تو جب میں نے درخت کہا تو پورا مجموعہ یعنی تنا، شاخیں اور پتے یہ آپ کے ذہن میں آئے یا نہیں آئے؟ جب تینوں آ گئے ہیں، مجموعہ سارا ذہن میں آ رہا ہے، تو تنا بھی آ رہا ہے یا نہیں آ رہا؟ تو تنا پورا درخت ہے؟ یہ تو اس درخت کا جز ہے، تو جز پر بھی دلالت ہو گئی یا نہیں؟ اور پورا مجموعہ ذہن میں آ رہا ہے، شاخیں بھی آ رہی ہیں کہ نہیں آ رہی ہیں؟ تو شاخوں پہ بھی دلالت ہو گئی، یہ کون سی دلالت ہے؟ دلالتِ تضمنی! اچھا، پتے بھی تو اس کا جز ہیں، یہ بھی آ رہے ہیں ذہن میں یا نہیں آ رہے ہیں؟ تو یہ پتوں پر دلالت ہوئی یہ کون سی ہے؟ دلالتِ تضمنی ہے بھئی، یعنی لفظ کا اپنے معنیٰ موضوع لہ کے جز پر دلالت کرنا، تو جب کل ذہن میں آئے گا تو جز خود بخود اس کے ساتھ ہی آ گیا بھئی۔ 2 دلالت مطابقتی۔ اور یہ جو ایک ایک جز پر دلالت ہو رہی ہے، یہ کیا ہے؟ دلالت تضمنی، بس۔ اور کل کے ساتھ جز ضرور اگر جز ہے تو جز ضرور آئے گا ہمیشہ۔ لہٰذا جس کا بھی جز ہوگا، جہاں وہاں دلالت مطابقتی کے ساتھ خود بخود کیا آ جائے گی؟ دلالت تضمنی بھی آ جائے گی بھئی۔ مثلاً انسان کا لفظ وضع ہے کس کے لیے؟ حیوان ناطق۔ میں نے جیسے ہی انسان کہا، آپ کے ذہن میں کیا مجموعہ آیا؟ حیوان ناطق۔ تو جب پورا مجموعہ آ رہا ہے، تو مجموعے میں حیوان بھی آ رہا ہے یا نہیں آ رہا؟ تو یہ جو صرف حیوان پر اس کی دلالت حیوان پر بھی اس کی دلالت ہو گئی، اور مجموعے میں دوسری کیا چیز آ رہی ہے؟ ناطق بھی آپ کے ذہن میں آ رہا ہے۔ تو انسان نے اس حیوان پر بھی دلالت کی ہے، اور انسان نے اس ناطق پر بھی دلالت کی ہے۔ لیکن جو حیوان پر دلالت کی ہے، یہ حیوان اس کا کل ہے یا جز ہے؟ جز، اور یہ جو ناطق پر دلالت کی ہے، یہ اس کا کل ہے یا جز ہے؟ جز ہے۔ تو انسان کی دلالت پورے مجموعے پر حیوان ناطق، یہ کیا ہے؟ دلالت مطابقتی، اور جب کل پر دلالت ہو، تو ساتھ ہی کیا ہوتی ہے؟ جز پر بھی دلالت جز بھی لازمی بات ہے ذہن میں آئے گا، اگر جز نہیں آیا تو کل کیسے آ گیا؟ تو لہٰذا جز پر بھی ساتھ دلالت ہو گئی۔ تو یہ جو جز پر دلالت ہے، یہ کیا ہے؟ دلالت تضمنی ہے بھئی۔ یعنی انسان کی دلالت صرف حیوان پر جو ہوئی، یہ کیا ہوئی؟ دلالت تضمنی۔ اسی طرح انسان کی دلالت صرف کس پر؟ ناطق پر ہوئی، یہ کیا ہے؟ دلالت تضمنی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور مطابقتی، تضمنی ہمیشہ مطابقتی کے ساتھ آئے گی۔ کیونکہ تضمنی کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ کے جز پر دلالت کرے۔ تو جب ایک لفظ آپ بول رہے ہیں، تو اس جز کے ساتھ کل تو ضرور ذہن میں آئے گا۔ انسان کہوں میں، کبھی صرف حیوان آپ کے ذہن میں آئے گا؟ نہیں، جب بھی آئے گا، کیا آئے گا؟ حیوان ناطق پورا ہی آئے گا بھئی۔ انسان صرف حیوان کا نام نہیں، صرف ناطق کا نام نہیں، بلکہ حیوان ناطق کا نام ہے۔ تو بس یہ سمجھ لو بھئی، دلالت تضمنی جب بھی آئے گی، کس کے بیچ میں آئے گی؟ دلالت مطابقتی کے بیچ میں آئے گی، اس کے ضمن میں آئے گی۔ کس کے بیچ میں آئے گی؟ دوبارہ توجہ سے بھئی، یہ لفظ دہراؤ اپنی زبان سے۔ دلالت تضمنی ہمیشہ دلالت مطابقتی کے بیچ میں آئے گی۔ یعنی دلالت مطابقتی کے ضمن میں آئے گی۔ اسی لیے اس کو دلالت تضمنی کہتے ہیں۔ سمجھ میں آ گئی سب کو بات؟ تو یہ یعنی کیونکہ یہ دلالت مطابقتی کے ضمن میں آتی ہے، اس کے بیچ میں آتی ہے، اس کے ساتھ آ جاتی ہے، اس لیے جبکہ جز ہو، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت تضمنی کہتے ہیں بھئی۔ تو آپ نے کیا مثال پڑھی ہے بھئی؟ تیسیر المنطق میں، انسان کی دلالت کس پر؟ تضمنی، تضمنی کی بات کریں۔ انسان کی دلالت کس پر؟ حیوان پر، یہ کیا ہے؟ دلالت اور صرف انسان، انسان بولیں تو صرف حیوان کبھی ذہن میں آتا ہے؟ نہیں، انسان جب بھی بولیں گے، تو مجموعہ کل ضرور آئے گا ساتھ، لیکن جب کل آئے گا، تو اس کے جز بھی، کل ہو گا ہی تب جب اس کے سارے جز ہوں، اگر ایک بھی جز کم ہو گیا تو کل تو نہ ہوا، تو لہٰذا جب بھی کوئی لفظ بولیں گے، اس کا کل ذہن میں آ جائے گا اور جب کل آئے گا، تو کل تو کہتے ہی اس کو ہیں جس میں اس کے سارے جز ہوں، تو جز بھی آ گئے، تو ہر ہر جز پر بھی کیا ہو گئی؟ دلالت ہو گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے دلالت تضمنی بھئی۔ دلالت کبھی ایسا ہو سکتا ہے بھئی، دلالت تضمنی تو ہو اور دلالت مطابقتی نہ ہو؟ جی؟ ایسا نہیں، جب بھی دلالت تضمنی ہو گی، وہ کس کے ضمن میں ہو گی؟ دلالت مطابقتی کے ضمن میں ہو گی، یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ دلالت تضمنی ہو اور دلالت مطابقتی نہ ہو۔ تو دلالت مطابقتی کیونکہ وہ متبوع ہے، دلالت تضمنی اس کے تابع ہے بھئی، تو متبوع ہو تو تابع ہو گا، متبوع ہی نہیں تو تابع بھی نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا، خلاصہ کلام یہ کہ لفظ اپنے کی دلالت اپنے پورے معنی موضوع لہ پر، یہ کیا کہلاتی ہے؟ دلالت مطابقتی، اور لفظ کی دلالت اپنے معنی موضوع لہ کے جز پر، یہ کیا ہے؟ دلالت تضمنی ہے بھئی، دلالت۔ اب میں نے لفظ قرآن بولا، تو کتنے سپارے ذہن میں آ گئے؟ 30 سپارے آ گئے۔ تو جب 30 آئے ہیں، تو ان میں سے ایک سپارہ پہلا، دوسرا، تیسرا، چوتھا، وہ بھی ذہن میں آ گئے یا نہیں آ گئے؟ تو ان پہ بھی قرآن کی دلالت ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی؟ جب 30 ساروں پہ ہو رہی ہے، تو پہلے پہ بھی ہو رہی ہے لازمی بات ہے، دوسرے پہ بھی ہو رہی ہے، تیسرے پر بھی، تو پورے مجموعے پر جو دلالت ہوئی 30 پاروں پر، یہ کیا ہوئی؟ دلالت مطابقتی، اور یہ جو پہلے پارے پر بھی دلالت ہو گئی، دوسرے پر بھی ہو گئی، تیسرے پر بھی ہو گئی، یہ کیا ہے؟ دلالت تضمنی ہے بھئی، شاباش بھئی شاباش۔ جب میں نے کہا چاقو، تو وہ دستے اور پھل، دو سارا مجموعہ آپ کے ذہن میں آیا، جب مجموعہ ذہن میں آیا، تو دستہ بھی آ گیا یا نہیں؟ پھل بھی آ گیا یا نہیں؟ تو یہ جو دستے پر دلالت ہو گئی، یہ کیا ہے؟ دلالت تضمنی، یہ جو پھل پر دلالت ہے، یہ کیا ہے؟ دلالت تضمنی ہے بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ دلالت تضمنی بغیر مطابقتی کے ہو سکتی ہے؟ کبھی بھی نہیں بھئی، جب بھی ہو گی کس کے ضمن میں ہو گی؟ دلالت مطابقتی کے ضمن میں ہو گی۔ اسی لیے اس کو دلالت تضمنی کہتے ہیں، اور دلالت مطابقتی جس میں لفظ کیا کرتا ہے اپنے پورے معنی موضوع لہ پر دلالت کرتا ہے۔ پورا موضوع لہ ذہن میں آ جاتا ہے بھئی، اس کو دلالت مطابقتی کہتے ہیں۔ مطابقتی نام سے ہی ظاہر ہے، مطابق ہونے سے ہے، مطابق ہونا۔ تو یہاں بھی چاقو کا لفظ کس کے لیے وضع ہے؟ دستہ اور پھل کیا ہوئے؟ موضوع لہ۔ اچھا، میں نے کہا چاقو، آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ دستہ اور پھل، تو یہ ہے مدلول۔ چاقو نے جس پہ دلالت کی نا، جو جو آپ کے ذہن میں آئی، تو دستہ چاقو کہا آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ دستہ اور پھل، یہ کیا ہے؟ مدلول، تو یہ مدلول مطابق ہے معنی موضوع لہ کے۔ وضع بھی اسی کے لیے تھا اور آیا بھی یہی ذہن میں۔ موضوع لہ کیا تھا؟ چاقو کا لفظ ہے موضوع، موضوع لہ کس کے لیے وضع کیا تھا ہم نے؟ مجموعہ دستہ اور پھل، اور ذہن میں بھی کیا آیا؟ دستہ اور پھل، تو مدلول مطابق ہے کس کے؟ موضوع لہ کے، موضوع لہ بھی دستہ اور پھل تھا اور مدلول بھی کیا ہے؟ دستہ اور پھل ہے، تو دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں بھئی، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت مطابقتی۔ اس کو وضع بھی ہم نے دستے اور پھل کے لیے کیا تھا اور ذہن میں آیا بھی دستہ اور پھل، تو یہ جو ذہن میں آیا، وہ ہے مدلول، جس کے لیے وضع کیا تھا، وہ ہے موضوع لہ، تو جس کے لیے وضع ہے وہی چیز ذہن میں آتی ہے، تو لہٰذا یہ جو مدلول ہے، یہ کس کے مطابق ہے؟ مدلول جس پر رہنمائی کی اس لفظ نے جو آپ کے ذہن میں آیا، تو وہ ہے دستہ اور پھل، اور وضع بھی کس کے لیے کیا تھا؟ دستے اور پھل کے لیے، تو دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں، مدلول بھی دستہ اور پھل، موضوع لہ بھی دستہ اور پھل، اس لیے اس کو دلالت مطابقتی کہتے ہیں کہ موضوع لہ کس کے مدلول کس کے مطابق ہوتا ہے؟ موضوع لہ کے مطابق ہوتا ہے، وہی چیز ہوتا ہے، اسی کی طرح ہوتا ہے بھئی، کوئی فرق دونوں میں نہیں ہوتا۔ انسان کا لفظ کس کے لیے وضع ہے؟ حیوان ناطق، حیوان ناطق ہوا موضوع لہ، اور میں نے جیسے ہی انسان کہا، ذہن میں بھی کیا آیا؟ حیوان ناطق، تو یہ جو ذہن میں آیا، یہ تو ہے مدلول، یہ کیا ہے؟ مدلول، اور تو بتائیے، مدلول اور موضوع لہ ایک دوسرے کے مطابق ہیں یا نہیں؟ مطابق ہیں، جس کے لیے وضع کیا ہوتا ہے، یقیناً وہی چیز ذہن میں آتی ہے، تو یہ مدلول اس کے مطابق ہوا، دونوں ایک دوسرے کے مطابق اور ایک دوسرے کے برابر، ایک دوسرے جیسے ہوئے، اس لیے اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ دلالت مطابقتی، اور دلالت تضمنی کو تضمنی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ دلالت مطابقتی کے ضمن میں ہوتی ہے، جیسے ہی میں نے درخت کہا، کیا مجموعہ آپ کے ذہن میں آیا؟ تنا، شاخیں اور پتے۔ تو جب پورا مجموعہ ذہن میں آیا، تو تنا بھی آ گیا یا نہیں آ گیا؟ تو پورے مجموعے پر جو دلالت ہوئی، وہ کیا ہوئی؟ مطابقتی، اور پورے کے ساتھ ساتھ جو جز بھی آ گیا، وہ بھی تنا بھی سمجھ میں آیا، شاخیں بھی سمجھ میں آئیں، اور پتے بھی سمجھ میں آئے، یہ ایک ایک جز جو سمجھ میں آ رہا ہے، یہ کیا ہے؟ دلالت تضمنی، یہ ایک ایک جز کس سے سمجھ میں آ رہا ہے؟ درخت کے لفظ سے، تو صرف یہ ایک ایک جز تنا، کیا اس کے لیے وضع ہے لفظ؟ اس کے لیے تو یہ لفظ وضع نہیں، یہ تو پورے مجموعے کے لیے وضع ہے، صرف تنے کے لیے وضع نہیں، لیکن تنا اس سے سمجھ میں آ رہا ہے، ہمارے ذہن میں جب پورا مجموعہ آتا ہے تو ساتھ تنا بھی ہوتا ہے۔ اچھا، صرف اور اس سے ساتھ شاخیں بھی آ رہی ہیں، تو یہ درخت کا لفظ صرف شاخوں کے لیے وضع ہے؟ شاخوں کے لیے بھی نہیں وضع، پتے بھی آ رہے ہیں، کیا صرف پتوں کے لیے وضع ہے؟ نہیں، تو ہر ایک ایک جز ساتھ آ رہا ہے، تو مجموعہ جب آئے گا تو سارے جز بھی آ جائیں گے، تو مطابقتی کے ساتھ ایک ایک جز پر بھی دلالت ہو گئی، وہ بھی ذہن میں آ رہا ہے۔ دلالت کا کیا معنی ہوتا ہے؟ ایک چیز دوسری سے ذہن میں آ جائے، تو دلالت ہو رہی ہے یا نہیں ایک ایک جز پر بھئی؟ ایک ایک جز پر بھی دلالت ہو رہی ہے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ متضمنی جب بھی ہو گی، کس کے ضمن میں ہو گی؟ مطابقتی کے ضمن میں ہو گی۔ ہاں، وہ پھر الگ بات ہے، آپ کا ارادہ پورا موضوع لہ ہے، میں نے بولا انسان، تو آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ حیوان ناطق، اور جب پورا حیوان ناطق آیا، تو حیوان بھی آ گیا یا نہیں؟ ناطق بھی آ گیا یا نہیں؟ اب ان میں سے مراد کیا ہے، میرا ارادہ کیا ہے، وہ ایک الگ چیز ہے، میرا کبھی ارادہ ہو گا پورا مجموعہ ہی مراد لوں گا، کبھی میں اس کا کوئی جز مراد لوں گا، کل بول کر جز مراد لے لوں گا۔ مثلاً میں نے کہا میں نے، میں نے درخت کی ایک دو شاخیں کاٹیں اور کہا میں نے درخت کاٹ دیا۔ کیا کیا؟ میں نے ایک دو شاخیں کاٹیں اور میں نے کہا میں نے درخت کاٹ دیا۔ جی، تو یہ جو لفظ درخت بولا، میری مراد پورا مجموعہ ہے یا وہ ایک دو شاخیں بھئی؟ ایک دو شاخیں، اور ایک دو، یہ شاخوں کے لیے درخت کا لفظ وضع ہے؟ درخت کا لفظ صرف شاخوں کے لیے وضع ہے؟ درخت کا لفظ تو کس کے لیے وضع ہے؟ تنا، شاخیں، پتے تینوں کا مجموعہ ہو گا تو درخت کہلائے گا ورنہ درخت، تو درخت اس کے لیے وضع نہیں ہے، اور کبھی میرا، تو دیکھو یہاں میں نے درخت کا لفظ بول کر جز مراد لے لیا، اور کبھی کل بول کر کل ہی مراد ہو گا، میں کہتا ہوں میں نے درخت کاٹ دیا، مطلب اس کو سارے کو ہی کاٹ دیا میں نے، تو یہاں کل مراد ہے، تو دیکھو، مراد ہونا اور چیز ہے کہ جس کا ارادہ کرتا ہے انسان بھئی۔ البتہ دلالت کل پر ہو گی اس کی، اور دلالت اگر جز ہے تو جز پر بھی دلالت ہو گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ دوسری مثال سمجھ، دوسری مثال سے بات سمجھو بھئی، مراد مراد، جس کا ارادہ کرتا ہے انسان، میں نے جیسے ہی چاقو کہا، آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ دستے اور پھل کا مجموعہ۔ اچھا، جب دستے اور پھل دونوں کا مجموعہ ذہن میں آ رہا ہے، تو دستہ بھی ساتھ آ رہا ہے یا نہیں؟ یہ تضمنی، پھل بھی ساتھ آ رہا ہے یا نہیں؟ آ رہا ہے، تو یہ کیا ہوئی؟ دلالت تضمنی۔ تو جب کل کا جز ہو، تو مطابقتی کے ساتھ تضمنی بھی آ جائے گی۔ اب چاقو بول کر میں پورا کبھی مجموعہ مراد لوں گا، کبھی پورا مجموعہ مراد نہیں ہو گا، لیکن دلالت اسی طرح ہو گی اس کی۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا یہ چاقو مجھے پکڑا دو، آپ کے پاس ایک چاقو سامنے پڑا ہوا تھا۔ تو چاقو بول کر یہاں چاقو بولتے ہی آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ مجموعہ دستہ اور پھل، اور میں جو کہہ رہا ہوں، یہ چاقو مجھے دے دو، تو یہ جو میں لفظ چاقو بول رہا ہوں، اس سے میری بھی کیا مراد ہے؟ پورا مجموعہ ہی مراد ہے، دستہ اور پھل ہی مراد ہے، تو دیکھو مراد اور چیز ہے، اور معنی موضوع لہ اور اور جز، اور مثلاً دیکھیے، مثلاً آپ کے پاس چاقو کا صرف پھل پڑا ہوا ہے، دستہ توڑ دیا کسی نے، الگ کر دیا۔ دستہ توڑ دیا، پھینک دیا کسی نے، اب صرف چاقو کا وہ اگلا لوہے والا حصہ جس سے کاٹا جاتا ہے، وہ آپ کے سامنے پڑا ہے بھئی، میں نے آپ سے کہا یہ چاقو مجھے دے دو، یہ چاقو، اب بتاؤ، میری مراد مجموعہ دستہ اور پھل ہے یا صرف پھل میری مراد ہے؟ صرف پھل مراد ہے۔ تو دیکھو چاقو تو دستے اور پھل دونوں کے لیے وضع ہے، لیکن میرا اس وقت ارادہ کیا ہے؟ ایک جز مراد ہے، کیا مراد ہے؟ تو ارادہ اور چیز ہے بھئی، کبھی لفظ بول کر پورا موضوع لہ مراد لے لیا جاتا ہے، اس کا ارادہ کر لیا جاتا ہے، اور کبھی پورا لفظ بول کر اس کے جز کا ارادہ کر لیا جاتا ہے، لیکن میرے ارادے کو چھوڑ دیں، چاقو کہتے ہی پورا دستہ اور پھل آپ کے ذہن میں آیا یا نہیں آیا؟ آ گیا، اگرچہ آپ کے سامنے صرف پھل پڑا ہے، لیکن چاقو کا لفظ بولتے ہی آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ دستہ اور پھل، تو آ گیا یا نہیں ذہن میں؟ دلالت ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ تو دلالت مطابقتی ہو گئی، اور دستے اور پھل کے ساتھ ساتھ جب دستہ اور پھل دونوں آئے، تو دستہ بھی آ گیا اور پھل بھی آ گیا، تو ایک ایک جز بھی ذہن میں آ گیا، تو یہ کون سی ہوئی دلالت؟ تو یہاں دلالت چاقو کا لفظ میں نے کہا یہ چاقو مجھے دینا، دلالت مطابقتی بھی ہے، پورا موضوع لہ بھی آپ کے ذہن میں آ رہا ہے، اور دلالت تضمنی بھی ہے، جب پورا چاقو ذہن میں آ رہا ہے تو اس کا ایک ایک جز بھی ذہن میں آ رہا ہے، اور لیکن میری مراد کیا ہے؟ صرف پھل ایک جز، جی، تو مراد اور چیز ہے اور دلالت کرنا اور چیز ہے بھئی۔ تو یہاں میری مراد، تو کبھی میں پورا مجموعہ دستہ اور پھل دونوں مراد لے لوں گا، کبھی اس کا ایک جز مراد لے لوں گا، لیکن مراد ہونا اور چیز ہے اور دلالت کرنا اور چیز ہے، چاقو تو اپنے پورے معنی پر ہی دلالت کرے گا اور ساتھ ساتھ اگر اس کے اجزا ہیں تو ان اجزا پر بھی کیا کر دے گا؟ دلالت کر دے گا بھئی۔ صورت سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔