LESSONS NO. 18 1 فصل في الدلالة. الدلالة لغة هو الإرشاد، أي رهنمودن. وفي الاصطلاح كون الشيء بحيث يلزم من العلم به العلم بشيء آخر. والدلالة قسمان: لفظية وغير لفظية. واللفظية ما يكون الدال فيه اللفظ، وغير اللفظية ما لا يكون الدال فيه اللفظ. كل میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب بھی ایک چیز کے ذریعے ہمیں دوسری چیز کا پتہ چلے، تو یہ پہلی چیز کو کہتے ہیں دال، اور جس چیز کا پتہ لگا اسے مدلول کہتے ہیں۔ مثلاً آپ کمرے میں بیٹھے، آپ نے باہر صحن میں دھوپ دیکھی، تو اس دھوپ کے آنے سے آپ کو پتہ چل گیا کہ سورج نکل آیا ہے۔ تو اس دھوپ سے جو، دھوپ ہے بتلانے والی اور کس چیز کا بتلایا؟ سورج کا۔ تو دھوپ ہوئی دال اور سورج ہوا مدلول۔ اور یہ جو دال نے رہنمائی کی اور مدلول کا بتلایا، اسے کہتے ہیں دلالت بھئی، اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالت کہتے ہیں۔ اور پھر آپ کو بتلایا تھا کہ دال کے اعتبار سے دلالت کی دو قسمیں ہیں۔ یہ دو قسمیں کس کے اعتبار سے ہیں؟ دال کے اعتبار سے ہیں۔ اگر دال لفظ ہو تو یہ دلالت لفظیہ، اور اگر دال لفظ نہ ہو تو پھر دلالت غیر لفظیہ۔ جو دیکھو بعض اوقات کسی لفظ سے ہمیں ایک چیز کا پتہ چلتا ہے، مثلاً میں نے کہا "زید"، فوراً آپ کے ذہن میں کس کی صورت آئی؟ زید کی، تو یہ جو زید کی صورت آئی، تو لفظ زید نے ذات زید پر دلالت کی بھئی۔ میں نے کہا "گلاس"، آپ کے ذہن میں فوراً وہ ایک برتن آیا جس میں پانی پیا جاتا ہے، تو اس لفظ گلاس نے اس برتن پر جو رہنمائی کی، اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالت کہتے ہیں بھئی، دلالت۔ تو دلالت دو قسم کی ہو گئی پھر دال کے اعتبار سے۔ دال اگر لفظ ہو تو دلالت لفظیہ، جیسے لفظ زید میں نے زبان سے ادا کیا، تو یہ دال کیا ہے؟ لفظ، تو لہٰذا یہ دلالت کون سی ہوئی؟ دلالت لفظیہ۔ میں نے کہا مثلاً میں نے کہا "بکری"، آپ کے ذہن میں فوراً وہ ایک جانور کی صورت ذہن میں آ گئی جسے ہم بکری کہتے ہیں، تو یہ لفظ بکری نے جس چیز پر دلالت کی بھئی، تو یہاں ایک چیز پر دلالت کی اور دال کیا ہے؟ لفظ ہے، تو اسے کیا کہیں گے؟ دلالت لفظیہ۔ اور اگر دال لفظ نہ ہو تو پھر اسے دلالت غیر لفظیہ کہیں گے، جیسے دھوپ کو آپ نے دیکھا، کسی نے زبان سے کچھ نہیں کہا، لیکن آپ نے دھوپ کو دیکھا، فوراً ہی آپ کو اس سے کس کا پتہ چل گیا؟ سورج کا، تو یہاں دال لفظ نہیں ہے، لہٰذا اسے کیا کہیں گے؟ دلالت غیر لفظیہ۔ یا اسی طرح آپ سڑک پر گاڑی چلا رہے ہیں، سرخ رنگ کی لائٹ جلی تو آپ نے گاڑی روک دی۔ سبز رنگ کی جب لائٹ جلتی ہے، آپ گاڑی چلا دیتے ہیں۔ تو دیکھو سرخ رنگ کی لائٹ نے کیا بتلایا؟ کہ گاڑی روک دیں۔ سبز رنگ کی لائٹ نے کیا بتلایا؟ کہ گاڑی چلا دیں۔ تو دیکھو ایک چیز نے دوسری پر رہنمائی کی، تو یہ سرخ لائٹ کا جلنا، یہ ہوا سرخ لائٹ ہوئی دال، اور گاڑی کا روکنا کیا ہوا؟ مدلول۔ سبز رنگ کی لائٹ ہوئی دال، اور گاڑی کا چلانا کیا ہوا؟ مدلول۔ کسی نے زبان سے کچھ کوئی لفظ ادا کیا؟ نہیں، تو معلوم ہوا یہاں دال لفظ نہیں، تو یہ کون سی قسم ہوئی؟ دلالت غیر لفظیہ بھئی۔ اسی طرح کسی نے کتاب پر لکھا "زید" بھئی، ز، ی، د۔ زبان سے اس نے کچھ بھی نہیں کہا، لیکن اس لفظ پہ نظر پڑتے ہی آپ کیا سمجھے؟ آپ کے ذہن میں زید کی ذات آ گئی، وہ سمجھ میں آئی، تو دیکھو اس نے زبان سے کچھ بھی نہیں کہا، صرف لکھا ہے۔ تو اس لکھنے سے ہی ذات زید آپ کے ذہن میں آ گئی، تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ غیر لفظیہ، کیونکہ لفظ وہ ہے جو ہم زبان سے ادا کریں، یہاں اس نے زبان سے کچھ نہیں کہا بلکہ کاپی پر لکھا ہے۔ تو دال کے اعتبار سے بس دلالت کی تقسیم ہے ساری، دال اگر لفظ ہو تو دلالت لفظیہ، اگر دال لفظ نہ ہو تو دلالت غیر لفظیہ۔ پھر میں نے آپ کو بتایا تھا کہ دلالت لفظیہ کی بھی تین قسمیں، دلالت غیر لفظیہ کی بھی تین قسمیں۔ ایک ہے وضعیہ، ایک ہے طبعیہ، اور ایک ہے عقلیہ۔ دلالت لفظیہ کی بھی یہ تین قسمیں اور غیر لفظیہ کی بھی یہی تین قسمیں۔ تو دلالت لفظیہ کی تین قسمیں کیا ہو گئیں؟ دلالت لفظیہ وضعیہ، دلالت لفظیہ طبعیہ، دلالت لفظیہ عقلیہ۔ اور اسی طرح دلالت غیر لفظیہ وضعیہ، دلالت غیر لفظیہ طبعیہ، دلالت غیر لفظیہ عقلیہ بھئی، یہ چھ قسمیں ہو گئیں۔ اب اس میں سے دلالت وضعیہ کسے کہتے ہیں؟ تو پہلے وضع کو سمجھ لیں بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا وضع کہتے ہیں ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے مقرر کر لینا کہ ایک کے علم سے دوسرے کا علم ہو جائے، اور کس طرح ہو؟ کہ لوگوں نے اس کو مقرر کیا ہے، کسی نے اس کو مقرر کیا ہے باقاعدہ بھئی۔ مثلاً جیسے الفاظ کو مختلف معانی کے لیے ہم نے مقرر کر رکھا ہے۔ جیسے ہی میں "زید" کہتا ہوں، تو اس سے کون ذہن میں آتا ہے؟ زید کی ذات آپ کے ذہن میں آتی ہے، کیونکہ اس لفظ زید کو اس ذات زید کے لیے مقرر کر لیا گیا ہے، تو ایک چیز سے کیا ہو رہا ہے؟ دوسری چیز کا پتہ چل رہا ہے۔ اسی طرح جیسے ہی میں نے "گلاس" کہا، وہ برتن آپ کے ذہن میں آیا جس میں پانی پیتے ہیں، کیونکہ اس برتن کا ہم نے کیا نام مقرر کیا ہے؟ گلاس مقرر کیا ہے۔ تو اسی طرح میں نے آپ کے سامنے مثلاً کہا "دیگچی"، اب دیگچی اس برتن کا نام ہم نے مقرر کر رکھا ہے جس میں سالن وغیرہ پکاتے ہیں، تو دیکھو دیگچی کا لفظ ہم نے مقرر کیا ہے۔ تو بس وضع اس کو کہتے ہیں کہ کیا کیا جائے؟ ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے مقرر کر لیا جائے کہ اس پہلی چیز کے جاننے سے دوسری چیز کا علم ہو جاتا ہے۔ پھر یہ لفظ بھی ہو سکتا ہے، غیر لفظ بھی ہو سکتا ہے یہ پہلی چیز جس کو ہم نے مقرر کیا ہے۔ لفظ کی مثالیں ابھی میں نے دے دیں، زید کا لفظ ذات زید کے لیے متعین کر لیا ہم نے، گلاس کا لفظ اس خاص برتن کے لیے ہم نے مقرر کر لیا، اس طرح تمام چیزوں کے نام، زبان کا ہر لفظ اسی طرح ہے، اس کو ہم نے کسی خاص چیز یا خاص معنی کے لیے مقرر کیا ہے۔ جو بھی آپ کے سامنے آپ کی زبان میں بات کر رہا ہے، آپ اس کے ایک ایک لفظ کا معنی سمجھتے جا رہے ہیں، کیونکہ آپ جانتے ہیں یہ لفظ کس معنی کے لیے ہے، یہ لفظ کس معنی کے لیے ہے، یہ لفظ کس معنی کے لیے ہے، ہر ہر ایک کا آپ کو پتہ ہے، اس پر پوری پوری دلالت ہو رہی ہے بھئی۔ تو یہ تو ہوئے لفظ، بعض اوقات لفظ نہیں مقرر کرتے آپ، کوئی اور چیز مقرر کر لیتے ہیں، جیسے سرخ رنگ کی لائٹ، اس کو کس کے لیے مقرر کر لیا آپ نے؟ گاڑی کے روکنے کے لیے، اور سبز رنگ کی لائٹ کو کس کے لیے مقرر کر دیا؟ گاڑی چلانے کے لیے، تو یہاں سرخ لائٹ جلی، آپ نے گاڑی روک دی۔ اب لفظ یہاں کوئی نہیں، لیکن کیا کیا ہے؟ آپ نے مقرر کیا ہے۔ یہ سرخ رنگ کی لائٹ کو گاڑی روکنے کے لیے یہ لوگوں نے مقرر کیا ہے، خود بخود ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح رمضان میں افطاری اور سحری کے وقت سائرن بجایا جاتا ہے، افطاری کے وقت سائرن بجے مغرب کے وقت، تو آپ سمجھ جاتے ہیں کہ اب روزہ ختم ہو گیا، اب کھا پی سکتے ہیں۔ سحری کے وقت آپ کھانے پینے میں مشغول ہیں، اس وقت سائرن بجے، تو آپ کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں کہ معلوم ہوا اب روزہ شروع ہو گیا۔ تو دیکھیے یہ آپ لوگوں نے اس کو کیا کیا ہے باقاعدہ؟ مقرر کیا ہے کہ اس وقت سائرن بجنے کا یہ معنی ہوتا ہے۔ یا اسی طرح اس کی مثال میں نے دوسری ذکر کی تھی، جیسے ہم سر ہلاتے ہیں۔ اگر سر اوپر سے نیچے کو ہلایا جائے، تو اس کا معنی ہوتا ہے ہاں، اور سر دائیں بائیں ہلایا جائے، تو اس کا معنی ہوتا ہے نہیں، یہ ہم نے مقرر کر رکھا ہے۔ تو بس وضع اس کو کہتے ہیں کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے مقرر کرنا اس طریقے پر کہ ایک کے جاننے سے دوسری چیز کا علم ہو جائے، اس کو کہتے ہیں وضع۔ اور جس تو یہاں پر جو چیز مقرر کی، اسے کہیں گے موضوع، اور جس کے لیے مقرر کی، اسے کہیں گے موضوع لہ۔ کیا کہیں گے؟ موضوع لہ۔ مثلاً سرخ لائٹ کا جلنا، یہ ہے موضوع، اور کس چیز کے لیے ہے؟ گاڑی کے روکنے، تو گاڑی کا روکنا ہوا موضوع لہ۔ سبز رنگ کی لائٹ کا جلنا، یہ ہے موضوع، اور کس چیز کے لیے ہے؟ گاڑی چلانے کے لیے، تو وہ ہے موضوع لہ بھئی۔ تو وضع کے اندر ایک موضوع ہوگا اور ایک موضوع لہ۔ موضوع وہ چیز جس سے دوسری کا دوسری کے لیے مقرر کیا ہے، اور موضوع لہ وہ چیز جس کے لیے مقرر کیا ہے بھئی، اور یہ جو مقرر کرنے والا ہے، اس کو واضع کہا جاتا ہے۔ کیا کہا جاتا ہے؟ واضع کہا جاتا ہے۔ تو وضع کا بھی پتہ چل گیا، پھر اس میں موضوع کسے کہتے ہیں اور موضوع لہ کسے کہتے ہیں، یہ بھی آپ کو پتہ چل گیا، اور واضع کسے کہتے ہیں مقرر کرنے والا، یہ بھی آپ کو پتہ چل گیا۔ تو بس اگر یہ جو دلالت ہے، اس کے اندر وضع ہو، یعنی ہمارے مقرر کرنے سے ایسا ہے، تو اسے دلالت وضعیہ کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ دلالت وضعیہ کہیں گے۔ مثلاً گلاس جیسے ہی بولا، آپ کے ذہن میں اس برتن کی صورت آ گئی، اور یہ خود بخود آئی یا ہم نے مقرر کیا ہے؟ ہم نے گلاس کے لفظ کو اس برتن کے لیے مقرر کیا ہے، تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالت وضعیہ۔ کون سی دلالت؟ وضعیہ۔ اسی طرح سرخ لائٹ کا جلنا، یہ خود بخود ہے یا ہم نے مقرر کیا ہے؟ گاڑی روکنے کے لیے ہم نے مقرر کیا ہے، تو یہ بھی کون سی دلالت ہوئی؟ دلالت وضعیہ۔ لیکن اس میں پھر آپ دیکھیں، جب میں نے گلاس کہا، تو گلاس لفظ ہے، اور وہ جو سرخ لائٹ جلی، وہاں تو زبان سے کچھ نہیں کہا، تو وہ غیر لفظ ہے، تو معلوم ہوا دلالت وضعیہ کتنی قسموں پر ہو گئی؟ دو قسم کی ہو گئی، ایک وہ ہے جو لفظیہ ہے، اور ایک جو غیر لفظیہ۔ تو لہٰذا معلوم ہوا، میں نے کہا گلاس، اور آپ کے ذہن میں اس برتن کی صورت آ گئی جس میں پانی پیتے ہیں، تو یہ ہوئی دلالت لفظیہ وضعیہ، کون سی دلالت ہوئی؟ آپ نے خود غور کرنا ہے، کوئی بھی چیز ایسی ہو کہ یہ اگر لفظ کی دلالت ہے تو دلالت لفظیہ، اور پھر ہم نے مقرر کیا ہے تو وضعیہ، تو یہ کیا کہلائی؟ دلالت لفظیہ وضعیہ۔ اور اسی میں وہ سرخ اشارے کو دیکھ لیں اور سبز اشارے کو، اس میں دال لفظ نہیں ہے، لیکن مقرر تو ہم نے کیا ہے، تو دلالت تو ہوئی وضعیہ، لیکن کون سی والی ہوئی؟ غیر لفظیہ، تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلالت غیر لفظیہ وضعیہ بھئی، دلالت غیر لفظیہ وضعیہ۔ اس کے بعد دوسری قسم ہے دلالت طبعیہ بھئی، طبعیہ۔ اچھی طرح سمجھ لیں دلالت طبعیہ کو بھئی۔ دلالت طبعیہ اسے کہتے ہیں جس میں دال طبیعت کے تقاضے سے پیدا ہو۔ دال کس سے پیدا ہوا؟ طبیعت کے تقاضے سے ایک چیز پیدا ہوئی جس سے آپ کو دوسری کا پتہ لگ گیا۔ کیا ہوا؟ طبیعت کے تقاضے سے ایک چیز پیدا ہوئی جس سے دوسری چیز کا آپ کو پتہ چل گیا، مثلاً ایک شخص ہے، اس کو کھانسی آئی، کیا کرے گا؟ کس طرح کھانسے گا؟ اح اح کرتا ہوا کھانسے گا بھئی، اح اح۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ کھانسنا یہ طبیعت کے تقاضے سے پیدا ہوا، اس کے معلوم ہوا سینے میں درد ہوئی اور اس کی طبیعت نے تقاضا کیا کہ وہ اس طرح کا لفظ نکالے، تو وہ کیا کرتا ہے؟ اح اح کرتا ہے بھئی۔ تو دیکھو اس اح اح سے آپ کو پتہ چل گیا کہ اس شخص کے سینے میں تکلیف ہے، کس سے پتہ چلا؟ تو اح اح ہوا دال، اور سینے میں جو تکلیف ہوئی وہ کیا ہوئی؟ مدلول۔ اور دال جو اح اح ہے، وہ کس وجہ سے پیدا ہوا، کس طرح بنا؟ طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے، اس کی طبیعت نے درد جب سینے میں ہوئی، تکلیف ہوئی، تو اس کی طبیعت نے تقاضا کیا کہ اس طرح کا لفظ ادا کرے، اس طرح کی آواز منہ سے نکالے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح اگر کسی کو غم ہو، تو وہ یا اسی طرح کسی اور کو تکلیف ہو بھئی، بیمار ہو شدید، وہ کیا کرتا ہے؟ ہائے ہائے۔ وہ ہائے ہائے کرے گا بھئی، اور یہ ہائے ہائے کس وجہ سے پیدا ہوا؟ اس کی طبیعت کے تقاضے سے، اس کو تکلیف میں ہے، اس کی طبیعت نے تقاضا کیا کہ اس طرح کی آواز پیدا کرے، اور اس ہائے ہائے سے آپ کو کیا پتہ چلا؟ پہلے تو آپ کو علم نہیں تھا، لیکن اب جب ہائے ہائے کیا تو آپ کو علم ہوا کہ یہ شخص معلوم ہوا سخت تکلیف کے اندر ہے، تو ہائے ہائے ہوا دال، اور اس کا تکلیف میں ہونا یہ پتہ چلا، یہ کیا ہے؟ مدلول۔ اور یہ ہائے ہائے کس کے ذریعے پیدا ہوا؟ طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے پیدا ہوا، تو یہ دلالت طبعیہ ہوئی، کیا ہوئی؟ دلالت طبعیہ۔ اسی طرح ایک شخص سخت غمگین، غم پہنچا اس کو، تو غم کی وجہ سے وہ آہ آہ کرتا ہے بھئی، تو اب یہ آہ آہ یا اوہ اوہ کرنا، یہ جیسے ہی کہا اس نے، آپ نے سنا، فوراً آپ کو پتہ چل گیا معلوم ہوا یہ شخص غمگین ہے، اس کو کوئی سخت غم پہنچا ہے، تو یہ آہ آہ جو اس نے کہا، یہ طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے اس نے کہا۔ تو یہ جو آہ آہ اس نے کیا، یہ اس کے طبیعت کے تقاضے سے یہ لفظ پیدا ہوئے، اور اس لفظ سے آپ کو اس کے غمگین ہونے کا پتہ چل گیا، تو آہ آہ ہوا دال، اور اس کا غمگین ہونا یہ کیا ہے؟ مدلول۔ اور یہاں پر دال جو آہ آہ ہے، کس کی وجہ سے پیدا ہوا؟ طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے، تو معلوم ہوا یہ کون سی دلالت ہے؟ دلالت طبعیہ ہے، کیا ہے؟ اور کون سی ہے، لفظیہ ہے یا غیر لفظیہ؟ لفظیہ، انسان جو آواز منہ سے نکالتا ہے، وہ لفظ ہے بھئی، تو لہٰذا یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالت لفظیہ طبعیہ۔ اور کبھی دال لفظ نہیں ہوگا بھئی، لیکن ہوگی طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے، مثلاً گھوڑا ہے، اس کو بھوک لگ گئی یا پیاس لگ گئی، تو وہ ہنہنائے گا بھئی، اپنی جو مخصوص اس کی آواز ہے وہ آواز منہ سے نکالے گا، لیکن اس کو لفظ نہیں کہیں گے، کیونکہ لفظ وہ ہے جس کو انسان ادا کرے بھئی، جانور وغیرہ جو آواز نکالیں اس کو لفظ نہیں کہا جاتا۔ تو اب گھوڑا ہنہنایا، کس کی وجہ سے؟ 2 طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے اور مدلول کا اس سے آپ کو پتہ چل گیا، تو یہ دلالت کونسی ہوئی؟ دلالتِ دلالتِ طبعیہ، اور لفظ ہے اس میں دال؟ لفظ نہیں، تو کونسی قسم ہو گئی؟ غیر لفظیہ طبعیہ۔ یا اسی طرح جانور کو بھوک لگی بھئی، بھوک لگی اور کھانے کو کچھ نہیں، تو اس نے وہ آواز نکالنے کے بجائے اپنی جگہ پر اس نے تیزی سے ادھر ادھر چکر لگانے شروع کر دیے اور مچلنے لگا، تو اس سے آپ کو پتہ چل گیا کہ اس کو بھوک لگی ہے بھئی۔ دیکھو اب اس نے آواز بھی کوئی نہیں نکالی لیکن بڑی بے چینی سے اپنی جگہ پر ادھر ادھر چکر کاٹ رہا ہے تیزی سے، تو آپ فوراً سمجھ گئے۔ تو یہ جو ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ لگا، اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ اور یہاں دلالت لفظ ہے یا غیر لفظ ہے؟ غیر لفظ، لفظ نہیں ہے، تو یہ دلالت کونسی ہوئی؟ دلالتِ غیر لفظیہ۔ اور پھر یہ دال کس چیز کی وجہ سے پیدا ہوا ہے؟ طبعیت کے تقاضے، ادھر ادھر گھومنا کس کی وجہ سے ہے؟ اس کی طبیعت نے تقاضا کیا کہ بھوک کی حالت میں اس طرح چکر لگائے، تو یہ دال جو پیدا ہوا طبیعت کے تقاضے سے پیدا ہوا، لہٰذا اس کو کیا کہیں گے؟ دلالتِ غیر لفظیہ طبعیہ بھئی۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا کہ دلالتِ طبعیہ بھی دو قسم پر ہے۔ کبھی اس میں دال لفظ ہوگا، جیسے آہ آہ کی آواز یا ہائے ہائے کی آواز، اور کبھی دال لفظ نہ ہوگا، ہے وہ پیدا طبیعت کے تقاضے سے ہوا لیکن لفظ نہیں ہوگا تو اسے کیا کہیں گے؟ دلالتِ غیر لفظیہ طبعیہ کہیں گے، جیسے اس کی مثال گھوڑے کا ہنہنانا یا اور کسی گائے، بیل، بکری وغیرہ جانور کا آواز نکالنا اور اس کے ذریعے جس چیز کا علم ہوا وہ ہے مدلول، تو دال یہاں کس سے پیدا ہوا؟ طبیعت کے تقاضے سے۔ یا اسی طرح جانور نے اپنی جگہ پر مچلنا شروع کر دیا، ادھر ادھر تیزی سے چکر لگانے لگا، تو یہ بھی طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے اس نے کیا، تو یہاں پر بھی دال کیا ہے؟ طبیعت کے تقاضے سے ہے اور لفظ ہے یا غیر لفظ ہے؟ غیر لفظ ہے، تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دلالتِ غیر لفظیہ طبعیہ ہوئی۔ آپ کو دلالتِ وضعیہ کا بھی پتہ چل گیا۔ وضعیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں ہم نے ایک چیز کو دوسری کے لیے مقرر کیا ہے۔ اور طبعیہ جس میں دال کس سے پیدا ہوتا ہے؟ طبیعت کے تقاضے سے۔ تو یہ دو، ان دو کے علاوہ جتنی باقی دلالتیں ہیں وہ دلالتِ عقلیہ کہلائیں گی۔ کیا کہلائیں گی؟ دلالتِ عقلیہ۔ جیسے آپ نے دھوپ کو دیکھا تو آپ کے سورج کے نکلنے کا پتہ چل گیا، اب یہ ہم نے کوئی مقرر کیا ہے؟ ہم نے تو یہ مقرر نہیں کیا۔ اچھا، یہ طبیعت کے تقاضے سے دھوپ آئی؟ نہیں، تو معلوم ہوا یہ نہ دلالتِ وضعیہ بھی نہیں، طبعیہ بھی نہیں، تو معلوم ہوا یہ کونسی دلالت ہے؟ دلالتِ عقلیہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دلالتِ عقلیہ۔ یعنی اس میں زیادہ حصہ عقل ہی کا ہے، آپ لوگوں کا یا کسی کا کوئی دخل نہیں ہے۔ ویسے تو ہر دلالت میں عقل کا تعلق ہے، عقل ہی بتلاتی ہے کہ گلاس کا فلاں معنی ہے، زید سے فلاں ذات مراد ہے، اور ہائے ہائے کی آواز سنی تو عقل ہی بتلاتی ہے معلوم ہوا اس کو تکلیف ہے، لیکن اس کے اندر زیادہ یوں سمجھیں حصہ عقل کا ہے اور نہ وضع کا دخل ہے، نہ طبیعت کا دخل ہے، اس لیے اس باقی سب کا نام کیا رکھ دیا؟ دلالتِ عقلیہ رکھ دیا بھئی، عقلیہ رکھ دیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جو دلالت جس میں ہم نے مقرر کیا ہو وہ کیا کہلائے گی؟ وضعیہ۔ جو طبیعت کے تقاضے سے ہو وہ کیا ہے؟ طبعیہ۔ اور ان دو کے علاوہ جتنی دلالتیں ہوئیں وہ کیا ہو گئیں؟ دلالتِ عقلیہ۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو کل چھ قسمیں ہو گئیں۔ دلالتِ لفظیہ وضعیہ، دلالتِ لفظیہ طبعیہ، دلالتِ لفظیہ عقلیہ، اور پھر دلالتِ غیر لفظیہ وضعیہ، دلالتِ غیر لفظیہ طبعیہ، اور دلالتِ غیر لفظیہ عقلیہ بھئی۔ خوب اچھی طرح آ گئی سمجھ؟ دلالت کسے کہتے ہیں، دال کسے کہتے ہیں، مدلول کسے کہتے ہیں۔ اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ فصلٌ فی الدلالۃِ، أی ھذا فصلٌ فی الدلالۃِ، یہ فصل ہے کس کے بارے میں؟ دلالت میں، یعنی دلالت کے بیان میں ہے، دلالت کے بارے میں ہے۔ الدلالۃُ لغۃً ھو الإرشادُ، دلالت جو ہے لغت میں وہ ارشاد ہے۔ لغت یعنی زبان، زبان۔ یعنی عربی زبان میں دلالت کسے کہتے ہیں؟ عربی زبان میں دلالت کا کیا معنی ہے؟ بھئی جیسے آپ کی زبان میں گلاس کا کیا معنی ہے، سمجھتے ہو یا نہیں سمجھتے؟ مخصوص برتن، اسی طرح عربی زبان میں، دلالتٌ لغۃً کا معنی زبان میں، اور مراد کونسی زبان ہے؟ عربی، اردو میں بھی اگرچہ اسی طرح استعمال ہوتا ہے۔ تو الدلالۃُ لغۃً ھو الإرشادُ، دلالت جو ہے زبان کے اعتبار سے وہ ارشاد کا نام ہے، بھئی کیا معنی ارشاد؟ خود بتلا رہے ہیں، أی راہ نمودن، راستہ دکھانا بھئی، رہنمائی کرنا۔ تو ارشاد کا کیا معنی ہوا؟ راستہ دکھانا، رہنمائی کرنا۔ دلالت کا کیا معنی ہوا؟ راستہ دکھانا اور رہنمائی کرنا۔ وفی الاصطلاحِ، اور اصطلاح کے اندر بھئی یعنی منطقہ کے نزدیک کونُ الشیءِ، ہونا کسی چیز کا بحیثُ اس طور پر کہ یلزمُ من العلمِ بہِ کہ لازم ہوتا ہو من العلمِ بہِ اس چیز کے جاننے سے، کیا لازم ہوتا ہو؟ العلمُ بشيءٍ آخرَ دوسری چیز کا علم۔ یعنی اس چیز کے علم سے دوسری چیز کا علم ہو جاتا ہو، دوسری چیز کا علم اس کے ساتھ لازم ہو، جیسے دھوپ دیکھتے ہی کس کا پتہ فوراً پتہ چل گیا؟ سورج کا، تو ایک چیز کے جاننے سے دوسری چیز کا جاننا لازم ہو بھئی، لازم ہو۔ کہ ہونا ایک چیز کا، کونُ الشیءِ، ہونا ایک کسی چیز، کسی متعین چیز کا بحیثُ اس حیثیت سے، اس طور پر کہ یلزمُ من العلمِ بہِ کہ لازم ہو اس چیز کے جاننے سے کیا لازم ہو؟ العلمُ بشيءٍ آخرَ کسی دوسری چیز کا جاننا۔ والدلالۃُ قسمانِ، اور دلالت پھر دو قسم پر ہے۔ لفظیۃٌ وغیرُ لفظیۃٍ، ایک لفظیہ ہے اور دوسری غیر لفظیہ۔ غیرُ لفظیۃٍ، یہ مضاف مضاف الیہ ہیں بھئی، تو دوسرے لفظ پہ جر پڑھنا، وغیرُ لفظیۃٍ اور دلالتِ غیر لفظیہ۔ اب تفصیل خود کر رہے ہیں۔ واللفظیۃُ ما یکونُ الدالُّ فیہِ اللفظَ، دلالتِ لفظیہ وہ ہے کہ دال اس میں لفظ ہو، اللفظَ نصب پڑھنا کیونکہ یکونُ کی خبر ہے، اور کانَ اور یکونُ کیا کرتے ہیں؟ اپنے خبر کو، اپنے اسم کو رفع دیتے ہیں، تو الدالُّ پر رفع پڑھا، اور اللفظَ پر کیا پڑھنا ہے؟ فتحہ نصب پڑھنا ہے بھئی۔ وغیرُ اللفظیۃِ ما لا یکونُ الدالُّ فیہِ اللفظَ، اور غیر لفظیہ وہ ہے کہ اس کے اندر دال جو ہے وہ لفظ نہ ہو۔ وکلٌّ منھما علی ثلاثۃِ أنحاءٍ، اور ہر ایک ان دونوں میں سے، کن دونوں میں سے؟ لفظیہ اور غیر لفظیہ میں سے ہر ایک جو ہے علی ثلاثۃِ أنحاءٍ وہ تین قسم پر ہے۔ کتنی قسم پر ہے؟ تین قسم پر ہے۔ أنحاء جمع ہے نحو کی۔ تو یہ ہر ایک ان میں سے کتنی قسم پر ہے؟ تین، ثلاثۃِ أنحاءٍ تین قسم پر ہے۔ أحدُھا، ان میں سے ایک جو ہے، تو کل کتنی قسمیں ہو گئیں؟ چھ۔ ہر ایک ان میں سے تین قسم پر ہے تو کل کتنی ہو گئیں؟ چھ۔ أحدُھا، ان چھ میں سے ایک جو ہے اللفظیۃُ الوضعیۃُ، کیا ہے؟ لفظیہ وضعیہ۔ اب بتائیں مجھے بھئی لفظیہ وضعیہ جس میں دال کیا ہوگا؟ لفظ ہوگا، اور وضعیہ سے کیا پتہ چلا؟ کہ وہ ہمارے مقرر کرنے سے ہوگا، کس سے؟ ہم نے اس کو مقرر کیا ہوگا انسانوں نے اس کو بھئی۔ تو کہتے ہیں أحدُھا اللفظیۃُ الوضعیۃُ، ان میں سے ایک جو ہے لفظیہ وضعیہ ہے ک دلالۃِ لفظِ زیدٍ علی مسمّاہُ، جیسے کہ دلالت لفظِ زید کی علی مسمّاہُ اس کے مسمّٰی پر۔ مسمّٰی جس کا نام رکھا گیا۔ ایک ہے اسم، ایک ہے مسمّٰی۔ اسم، یہ زید اسم ہے، نام ہے، اور مسمّٰی جس کا نام رکھا گیا ہے۔ تو جیسے ہی میں نے زید کہا، کس کی ذات ذہن میں آئی؟ زید کی، تو لفظِ زید ہوا اسم، اور ذاتِ زید کیا ہوئی؟ مسمّٰی۔ جیسے ہی میں نے کہا گلاس، فوراً وہ پانی پینے والا برتن آپ کے ذہن میں آیا، تو یہ گلاس کیا ہوا؟ اسم، اور وہ جو ذہن میں برتن آیا وہ کیا ہوا؟ مسمّٰی بھئی۔ ک دلالۃِ لفظِ زیدٍ علی مسمّاہُ، جیسے کہ لفظِ زید کی دلالت اپنے مسمّٰی پر۔ وثانیھا اللفظیۃُ الطبعیۃُ، اور دوسری جو ہے ان میں سے دلالتِ لفظیہ طبعیہ ہے۔ ک دلالۃِ لفظِ أُحْ أُحْ، جیسے کہ أح أح لفظ کی دلالت بضمِّ الھمزۃِ وسکونِ الحاءِ المھملۃِ، یہ ہمارے مصنفین کی، ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے کہ جہاں کہیں شبہ ہو، خطرہ ہو کہ کہیں کسی لکھنے والے سے کہیں غلطی نہ ہو جائے، تو وہ اس کو لفظوں میں پورے لفظ کی تفصیل بیان کر دیتے ہیں۔ تو دیکھیے یہ لفظ ہے أح أح، شروع میں کیا ہے؟ الف یا ہمزہ ہے، اور حا ہے حا، خا نہیں ہے بھئی خا، جیم بھی نہیں ہے۔ اگر خا ہو تو کیا بن جائے گا؟ اخ اخ، تو یہ حا ہے أح، لیکن ہو سکتا ہے بھئی پہلے کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں، تو ہو سکتا ہے کوئی لکھنے والا کاتب جلدی کے اندر اسے پتہ ہی نہ چلے حا کی جگہ کیا نہ لکھ جائے؟ خا نہ لکھ جائے اخ اخ، تو آگے انہوں نے لفظوں میں بھی بتا دیا کہ بھئی یہ لفظ ہے، اب اگر کاتب غلطی بھی کر جائے اگلے لفظ بتا دیں گے کہ یہ کاتب نے غلط لکھا، اصل لفظ یہ ہے بھئی۔ خود تفصیل کر رہے ہیں دیکھو، بضمِّ الھمزۃِ، یہ لفظِ أح أح کس کے ساتھ ہے؟ ہمزہ کے ضمے کے ساتھ، ہمزہ پر ضمہ ہے یعنی پیش ہے دونوں میں۔ وسکونِ الحاءِ المھملۃِ، اور حائے مہملہ کے سکون کے ساتھ ہے۔ ہمزہ کے ضمے کے ساتھ اور حائے مہملہ کے، یعنی حا کو ساکن پڑھنا ہے، اور پھر کہا حائے اگر صرف حا کہہ دیتے، پھر ہو سکتا ہے وہ جس سے غلطی ہوئی ہے، اس نے پہلی اخ اخ وہاں پر بھی خا پر اس نے ضمہ نقطہ لگایا اور ادھر حا پر بھی کیا لگا دے؟ نقطہ لگا دے، تو غلط ہو جائے گا آگے اور پھر اسی طرح سلسلہ چلتا رہے گا، تو ساتھ انہوں نے پوری تفصیل بیان کر دی۔ وہ حا المھملۃِ، جو بغیر نقطے کے ہے۔ جب بغیر نقطے کے ہو تو کیا کہتے ہیں؟ مہملہ ہے، مہملۃٌ کوئی بھی لفظ ہو۔ اور اگر نقطے کے ساتھ ہو تو اسے معجم کے ساتھ لکھا جاتا ہے، اگر یہ خا ہوتی تو وہ کہتے بسکونِ الخاءِ المعجمۃِ۔ اب کاتب بے شک کیا کرے؟ خا پر نقطہ بھی لگا دے حا پر، نقطہ بھی لگا دے، پھر بھی یہ جو مہملہ لفظ آگے آ گیا اس نے خود بتا دیا کہ یہ کیا ہے؟ بغیر نقطے کے ہے، معلوم ہوا حا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ک دلالۃِ لفظِ أح أح جیسے کہ أح أح کے لفظ کی دلالت، یہ أح أح کا لفظ جو ہے بضمِّ الھمزۃِ وسکونِ الحاءِ المھملۃِ، یہ ہمزہ کے ضمے اور حائے مہملہ کے بغیر نقطے والی حا کے سکون کے ساتھ ہے۔ وقیل بفتحھا، اور بعض علماء نے کہا بفتحھا، یہ ہا ضمیر راجع ہے ہمزہ کو، ہمزہ کے فتحے کے ساتھ ہے۔ کس کے ساتھ ہے؟ ہمزہ کے فتحے کے ساتھ ہے یعنی أح أح ہے بھئی، أح أح۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور قیل یہ صیغہ تمریض کہلاتا ہے، یعنی کمزور قول ہے۔ اصل کیا ہے؟ جس کو پہلے سے أح أح ہی ہے، لیکن بعضوں نے کہا کہ یہ حا کے الف ہمزہ کے فتحے کے ساتھ ہے۔ تو پیچھے سے جوڑیں، درمیان میں تو یہ تفصیل آ گئی لفظ کی، اس کو ذرا نکال دیں، ک دلالۃِ لفظِ أح أح علی وجعِ الصدرِ، جیسے کہ أح أح لفظ کی دلالت کس چیز پر؟ سینے کے درد پر، وجعٌ کہتے ہیں درد کو، صدر سینہ، تو اس کی دلالت جیسے کہ سینے کے درد پر۔ فإنَّ الطبيعۃَ تضطرُّ بإحداثِ ھذا اللفظِ عند عروضِ الوجعِ فی الصدرِ، فإنَّ الطبيعۃَ، اس لیے کیونکہ طبیعت جو ہے تضطرُّ، وہ مجبور ہو جاتی ہے بإحداثِ ھذا اللفظِ، اس لفظ کو پیدا کرنے پر، احداث کا کیا معنی؟ پیدا، طبیعت مجبور ہو جاتی ہے اس لفظ کو پیدا کرنے پر عند عروضِ الوجعِ، جب درد پیش آ جائے فی الصدرِ سینے میں۔ یعنی عروض کا معنی پیش آنا، وجعٌ کا کیا معنی؟ درد، اور صدر سینہ، عند عروضِ الوجعِ، جب درد ہو جائے فی الصدرِ کس میں؟ سینے میں، تو طبیعت خود مجبور ہوئی، تو دال کس کی وجہ سے پیدا ہوا؟ طبیعت کے تقاضے سے پیدا ہوا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلالتِ طبعیہ۔ بتائیے بھئی أح أح، لفظیہ ہے غیر لفظیہ؟ لفظیہ ہے۔ اور کونسا ہے لفظیہ؟ لفظیہ طبعیہ، یہی انہوں نے کہا ثانیھا اللفظیۃُ الطبعیۃُ۔ وثالثھا اللفظیۃُ العقلیۃُ، اور تیسری ہے دلالتِ لفظیہ عقلیہ۔ یعنی دال لفظ ہوگا اور دلالت کس کی وجہ سے ہوگی؟ عقل کی وجہ سے۔ ک دلالۃِ لفظِ دیزٍ المسموعِ من وراءِ الجدارِ، جیسے کہ دلالت لفظِ دیز کی، وہ لفظِ دیز جو سنا گیا ہے دیوار کے پیچھے سے۔ اب آپ مجھے بتائیے بھئی ساری دلالتوں کا آپ کو پتہ لگ گیا، اب ذرا مجھے بتانا، دیوار کے پیچھے سے، دیوار کے پیچھے سے آپ کو کسی کی آواز آئی، "زید"۔ بتائیے، دلالتِ لفظیہ ہے غیر لفظیہ؟ لفظیہ ہے۔ اچھا، اور وضعیہ ہے، طبعیہ ہے کہ عقلیہ ہے؟ وضعیہ، کیوں وضعیہ کیوں ہے؟ کیا سمجھ میں آیا آپ کو؟ زید سے کیا سمجھ میں آیا؟ زید کی ذات، اور خود بخود زید لفظِ زید سے سمجھ میں آتی ہے یا ہم نے اس کے لیے یہ نام مقرر کیا ہے؟ اس کے لیے باقاعدہ یہ نام اس کے والدین نے مقرر کیا، سب کو پتہ ہے یہ اس کے لیے مقرر ہے، تو لفظِ زید سے کس کا پتہ چلا؟ ذاتِ زید کا، تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دلالتِ لفظیہ وضعیہ، شاباش بھئی شاباش۔ دیوار کے پیچھے سے کس نے کیا کہا تھا؟ زید۔ لیکن ایک اور چیز کا بھی پتہ چل گیا آپ کو ساتھ ہی، ایک تو زید کی آواز جو آئی اس سے کیا پتہ چلا؟ ذاتِ زید کا، وہ ذہن میں آئی، ایک اور چیز کا بھی تو پتہ چلا آپ کو، کیا؟ دیوار کے پیچھے کوئی کھڑا ہے معلوم ہوا، یہ بھی پتہ چلا یا نہیں چلا؟ یہ کونسی دلالت ہوئی؟ لفظیہ، لفظ سے پتہ چلا۔ اچھا، اور یہ وضعیہ ہے؟ ہم نے مقرر کیا ہے کوئی زید سے، زید کے لفظ سے دیوار کے پیچھے والے آدمی کا پتہ چلتا ہے؟ نہیں، اچھا، طبیعت کے تقاضے سے یہ دال پیدا ہوا؟ نہیں، معلوم ہوا یہ کونسی دلالت؟ عقلیہ۔ تو لفظیہ تھی یہ دلالت اس اعتبار سے کہ ذاتِ زید آپ کے ذہن میں آئی، اور یہ نیز دلالتِ عقلیہ بھی ہے کہ آپ کو اتنا پتہ چل گیا کہ دیوار کے پیچھے کوئی ہے۔ یہ عقلیہ ہوئی۔ ایک اور دلالت بھی یہاں ہو سکتی ہے، فرض کرو 3 آواز سنتے ہی آپ نے پہچان لیا، یہ تو میرا دوست عامر پیچھے کھڑا ہے۔ آواز سے پہچان لیتا ہے یا نہیں آدمی اگر پہلے سے جانتا ہو؟ تو دیکھو، ایک تیسری دلالت بھی ہو گئی، آواز سنتے ہی آپ کو پتہ چل گیا، یہ پیچھے کون ہے؟ عامر ہے دیوار کے پیچھے۔ اب بتائیے، یہ دلالت کون سی ہوئی؟ ٹھہرو، ٹھہرو۔ لفظ سے شروع کر، لفظیہ یا غیر لفظیہ؟ لفظیہ، لفظِ زید سن رہے ہیں آپ، لفظیہ۔ اچھا، پھر لفظِ زید سے کیا عامر کا پتہ چلتا ہے آپ کو؟ نہیں، یہ اس کے لیے کوئی مقرر ہے؟ نہیں، آپ کو یہ پتہ لگا نا، پیچھے عامر ہے، تو یہ وضعیہ نہیں، کہ لفظِ زید سے عامر کے لیے ہم نے مقرر نہیں کیا، معلوم ہوا یہ لفظیہ وضعیہ نہیں، اچھا، اور اچھا، طبیعت کے تقاضے سے یہ دال، یہ زید پیدا ہوا؟ نہیں، یہ طبعیہ بھی نہیں، معلوم ہوا یہ بھی کون سی دلالت ہے؟ عقلیہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں کل تین دلالتیں ہو گئیں بھئی۔ ایک لفظیہ وضعیہ، ذاتِ زید آپ کے ذہن میں آئی، دوسری دلالتِ لفظیہ عقلیہ، کہ پتہ لگا پیچھے کوئی ہے دیوار کے، ویسے آواز نہیں آئی، اور تیسری اگر وہ جاننے جانتے ہوئے آپ اس کو آواز سے پہچان لیا تو اس پر بھی دلالت ہو گئی، تو یہ بھی دلالتِ لفظیہ عقلیہ۔ اچھا، ہم مثال کس کی پڑھ رہے ہیں؟ لفظیہ عقلیہ کی، لہٰذا صرف لفظیہ عقلیہ ہونی چاہیے بھئی۔ لفظیہ وضعیہ بھی تو تھی ابھی، زید کے لفظ سے کس کا پتہ چل رہا تھا؟ زید کی ذات، ہاں، اس کو ہم ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اس زید کے لفظ کو الٹا دو۔ زاء شروع میں ہے، یا درمیان میں ہے، دال آخر میں، دال کو شروع میں لے آؤ، کیا بن گیا؟ دیز بن گیا، تو یہ جو لفظ کتاب میں دیز آیا، یہ اسی زید کو قلب کیا گیا ہے، پلٹ دیا گیا ہے، الٹا دیا گیا ہے۔ اچھا، اب دیز کا تو کوئی معنی نہیں ہے۔ زید سے تو ذاتِ زید ذہن میں آ رہی تھی، دیز سے تو اب کوئی ذات ذہن میں نہیں، تو دیکھو، وضعیہ ختم ہو گئی۔ اور صرف کون سی دلالت رہ گئی؟ دلالتِ عقلیہ۔ اب اس شخص نے دیوار کے پیچھے سے جب آواز آپ کو آئی "دیز"، تو دیز کا لفظ تو ہم نے کسی معنی کے لیے مقرر نہیں کیا، تو دلالتِ لفظیہ وضعیہ نہیں ہے، ہم نے صرف مثال بھی ہمیں کس کی چاہیے؟ دلالتِ لفظیہ عقلیہ کی، تو صرف اتنا پتہ چلا کہ پیچھے کوئی ہے، مثلاً اجنبی ہے، پہچانتے بھی نہیں ہیں، تو صرف اتنا پتہ چلا کہ دیوار کے پیچھے کوئی ہے، تو یہ کیا ہوئی؟ دلالتِ لفظیہ عقلیہ۔ طبیعت کے تقاضے سے پیدا ہوا ہے دال؟ نہیں، آپ نے دیز کو اس کی اس دیز کے لفظ کو اس لیے ہم نے بنایا ہے کہ یہ ہمیں یہ بتائے دیوار کے پیچھے کوئی ہوتا ہے؟ جب بھی کوئی دیز بولے گا کوئی دیوار کے پیچھے ہوگا؟ نہیں، اس کے لیے ہم نے مقرر نہیں کیا، تو آپ کو اتنا پتہ لگا دیوار کے پیچھے کوئی ہے، تو معلوم ہوا یہ کون سی دلالت ہوئی؟ لفظیہ عقلیہ ہوئی، اور پھر اگر کوئی جاننے والا ہوا، تو ساتھ یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ یہ کون ہے، اس کو اگر آپ نے پہچان لیا، تو دو دلالتیں لفظیہ عقلیہ ہو جائیں گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ یہ معنی ہے كدلالة لفظ ديز المسموع، جیسے کہ دلالت لفظِ دیز کی، وہ لفظِ دیز المسموع، جو سنا گیا ہے، من وراء الجدار، جدار کہتے ہیں دیوار کو، وراء کا معنی پیچھے، من وراء الجدار، دیوار کے پیچھے سے۔ تو جیسے اس لفظِ دیز کی دلالت، جو سنا گیا ہے دیوار کے پیچھے سے، على وجود اللامز، کس کے وجود پر؟ لافظ، بولنے والے کے وجود پر، پتہ چلا پیچھے کوئی بولنے والا ہے بھئی، تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالتِ لفظیہ عقلیہ ہوئی بھئی، دلالتِ لفظیہ عقلیہ بھئی۔ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔