LESSONS NO. 13 1 فَائِدَةٌ. ”وَإِذَا عَلِمْتَ مَا ذَكَرْنَا أَنَّ النَّظَرِيَّاتِ مُطْلَقًا تَصَوُّرِيًّا كَانَتْ أَوْ تَصْدِيقِيًّا مُفْتَقِرَةٌ إِلَى نَظَرٍ وَفِكْرٍ، فَلَا بُدَّ لَكَ أَنْ تَعْلَمَ مَعْنَى النَّظَرِ، فَأَقُولُ: النَّظَرُ فِي اصْطِلَاحِهِمْ عِبَارَةٌ عَنْ تَرْكِيبِ أُمُورٍ مَعْلُومَةٍ لِيَتَأَدَّى ذَلِكَ التَّرْتِيبُ إِلَى تَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ.“ فَائِدَةٌ. یعنی هٰذِهِ فائِدَةٌ بھئی۔ یہ خبر ہے، مبتدأِ محذوف هٰذِهِ کی۔ بھئی! پیچھے فَصْلٌ آیا تھا، ہم نے کہا تھا هٰذَا فَصْلٌ، هٰذَا مبتدأِ محذوف نکالا تھا۔ کیونکہ فصل کا لفظ مذکر ہے تو مبتدأ بھی اسی کے مطابق ہم نے اسمِ اشارہ مذکر نکالا هٰذَا فَصْلٌ۔ اور یہ فَائِدَةٌ کے آخر میں تا آپ گول تا آپ کو نظر آ رہی ہے، یہ مؤنث ہے تو لہٰذا اس کے لیے مبتدأ بھی اسی کے مطابق مؤنث اسمِ اشارہ نکالیں گے هٰذِهِ فَائِدَةٌ۔ اچھا بھئی! آج ہم نظر و فکر کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ کس کے بارے میں؟ نظر اور فکر کے بارے میں پڑھیں گے۔ آپ نے اتنا تو جان لیا بھئی کہ ہمارا علم دو قسم کا ہے، یا وہ تصور ہوگا یا وہ تصدیق ہوگا۔ اب کچھ چیزیں ہمیں معلوم ہیں اور کچھ چیزوں کو ہمیں جاننا پڑتا ہے بھئی۔ کچھ چیزیں ہمیں کیا ہیں؟ معلوم ہیں اور کچھ کو جاننا پڑتا ہے۔ معلوم جو چیزیں ہیں وہ آپ نے ابھی جیسے کہ بتلایا کہ یا تو وہ تصور ہوں گی یا تصدیق ہوں گی۔ اور کچھ چیزوں کو جاننا پڑتا ہے تو وہ بھی یا وہ تصور کے قبیل سے ہوں گی یا تصدیق کے قبیل سے ہوں گی۔ تو یہ جو چیزیں ہمیں معلوم ہیں اور تصور کے قبیل سے ہوں ان کو کہیں گے تصورِ معلوم۔ اور وہ چیزیں جو ہمیں معلوم نہیں اور تصور کے قبیل سے ہیں اس کو کہیں گے تصورِ مجہول بھئی۔ تصورِ مجہول۔ مجہول کا معنی ہے نامعلوم بھئی، جس کا ہمیں علم نہیں ہے۔ تو تصور یا تو معلوم ہوگا یا مجہول۔ ہمیں اس کا علم ہوگا یا ہمیں اس کا علم نہیں ہوگا۔ اگر علم ہے تو کیا کہیں گے؟ تصورِ معلوم۔ اور اگر اس تصور کا ہمیں علم نہیں تو اسے کیا کہیں گے؟ تصورِ مجہول۔ مجہول کا کیا معنیٰ؟ نامعلوم، یعنی جس کا ہمیں علم نہیں ہے۔ اسی طرح تصدیق بھی دو قسم پر ہوئی، کچھ وہ ہے جو ہمیں معلوم ہے، اسے کیا کہیں گے؟ تصدیقِ معلوم کہیں گے، اور جس کا ہمیں علم نہیں اسے کیا کہیں گے؟ تصدیقِ مجہول بھئی، تصدیقِ مجہول۔ تو گویا تصور اور تصدیق کی میں چار صورتیں آ گئیں، یا تصور معلوم ہوگا یا تصور مجہول ہوگا۔ اسی طرح تصدیق معلوم ہوگی یا تصدیق مجہول ہوگی۔ آپ، آپ جانتے ہی ہیں کہ ایک چیز جس کا ہمیں علم نہ ہو اس کو کسی معلوم چیز کے ذریعے جانا جائے گا بھئی۔ جیسے ایک علم سے دوسرا علم آتا ہے، جیسا پیسہ پیسے کو کماتا ہے۔ تو جس چیز کو ہم نے جاننا ہے تو کس کے ذریعے جانیں گے؟ معلوم شے۔ کیونکہ نامعلوم کے ذریعے تو نامعلوم حاصل نہیں، ایک چیز ہمیں معلوم ہی نہیں ہے اس کے ذریعے کوئی اور نامعلوم کیسے حاصل کریں گے، جب اس کا خود ہمیں پتہ نہیں تو اس سے اگلی چیز کیسے حاصل ہوگی؟ ہاں! ایک چیز ہمیں پہلے معلوم ہے تو اس کے ذریعے ہم کیا کریں گے؟ معلوم کے ذریعے کس کا علم حاصل ہوگا؟ نامعلوم کا، معلوم کے ذریعے کس کا علم حاصل ہوگا؟ نامعلوم کا علم حاصل ہوگا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ نامعلوم کے ذریعے کس کا علم حاصل کریں؟ نامعلوم کا۔ جب ایک چیز ہمیں معلوم ہی نہیں ہے، نامعلوم ہے، مجہول ہے، تو اس کے ذریعے دوسری نامعلوم کا کیسے پتہ لگ سکتا ہے جب اس کا خود اپنا نہیں پتہ ہمیں؟ تو ہمیشہ نامعلوم چیز کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ معلوم سے پتہ چلتا ہے۔ تو معلوم باتیں آپ دو دو تین تین ملاتے ہیں اور اس سے وہ تیسری نئی چیز جس کا آپ کو علم نہیں تھا اس کا علم آپ کو حاصل ہو جاتا ہے بھئی۔ تو اتنا پتہ چل گیا آپ کو کہ تصور بھی دو قسم پر معلوم ہوگا یا مجہول، تصدیق بھی دو قسم پر کچھ معلوم ہوگی اور کچھ مجہول ہوگی، اور پھر معلوم کے ذریعے ہم کس کا علم حاصل کرتے ہیں؟ نامعلوم کا۔ اب یاد رکھیے! اگر وہ نامعلوم تصور کے قبیل سے ہے، یعنی تصورِ مجہول ہے، تو اس کا علم تصورِ معلوم ہی سے ہوگا۔ تصور کا علم تصور ہی سے ہوگا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور تصدیق کا علم تصدیق ہی سے ہوگا، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ تصدیق کا علم تصور سے ہو، یا تصور کا علم تصدیق سے ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تصورِ مجہول کا علم ہمیشہ کس سے آئے گا؟ تصورِ معلوم سے۔ اور تصدیقِ مجہول کا علم کس سے آئے گا؟ تصدیقِ معلوم سے، شاباش بھئی! تصدیقِ معلوم سے۔ جیسے بھئی! عربی زبان عربی پڑھنے سے ہی آئے گی، انگریزی زبان انگریزی پڑھنے سے ہی آئے گی، حساب کتاب جو ہے حساب پڑھنے سے ہی آئے گا۔ تو تصورِ نامعلوم بھی تصور ہی، تصورِ معلوم ہی کے ذریعے حاصل ہوگا۔ تصدیقِ مجہول بھی کس کے ذریعے حاصل ہوگی؟ تصدیق، تو تصدیق تصدیق کے ذریعے حاصل ہوگی اور تصور، تصور۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ تصور کس کے ذریعے حاصل ہو؟ تصدیق سے، یا تصدیق کس سے حاصل ہو؟ تصور سے، ایسا نہیں ہو سکتا بھئی۔ اب مثلاً آپ نے ایک نامعلوم تصور ہے تصورِ مجہول، اسے حاصل کرنے کے لیے کس کا سہارا لیں گے؟ تصورِ مجہول کو کس کے ذریعے حاصل کریں گے؟ تصورِ معلوم کے ذریعے، یعنی دو، تین، چار جتنے بھی تصوراتِ معلوم ہوں گے ان کو آپ ملائیں گے تو اس سے آپ کو ایک تصورِ مجہول جو تھا پہلے، اب وہ حاصل ہو جائے گا اور وہ بھی آپ کو اس کا علم ہو جائے گا بھئی۔ کس کو حاصل کرنا ہے؟ تصورِ نامعلوم کو، یعنی تصورِ مجہول کو۔ اور کس کے ذریعے حاصل کریں گے؟ تصورِ معلوم کے ذریعے، تو دو یا تین یا چار جتنے بھی تصورِ معلوم ہیں ان کو آپ ملائیں گے تو اس کے ملانے سے آپ کو آگے پھر کیا حاصل ہو جائے گا؟ تصورِ مجہول آپ کو حاصل ہو جائے گا بھئی۔ کتنے تصورِ معلوم ملائیں گے؟ دو یا دو سے زیادہ، دو یا دو سے زیادہ ملائیں گے تو کیا حاصل ہو جائے گا؟ تصورِ مجہول آپ کو حاصل ہوگا۔ تصورِ مجہول بھئی۔ مثلاً، جیسے کل مثال گزری تھی، آپ کا ایک ساتھی ہے مثلاً اس نے ہاتھی کو نہیں دیکھا، وہ ہاتھی کو جانتا ہی نہیں ہے، تو اب آپ اس کو ہاتھی کی پہچان کیسے کرواتے ہیں؟ کہ ہاتھی ایک بہت بڑا جانور ہے، اس کا بہت بڑا جسم ہوتا ہے، اس کی اس طرح ٹانگیں ہوتی ہیں، اتنا بڑا بدن ہوتا ہے، اتنی بڑی سونڈ ہوتی ہے، وغیرہ پوری پہچان کروائیں گے۔ تو دیکھو! یہ ساری چیزیں جب آپ نے ذکر کر دیں تو اس سے اس کو ہاتھی کا علم حاصل ہوا بھئی۔ اب آپ مجھے بتائیے، یہ ہاتھی تصور کے قبیل سے ہے یا تصدیق کے قبیل سے؟ شاباش! یہ تصور ہے بھئی، کیونکہ کوئی حکم وغیرہ نہیں لگایا، صرف ہاتھی۔ اور تو یہ تصورِ مجہول تھا اور اس کے لیے کئی تصورِ معلوم کا آپ نے سہارا لیا، مثلاً جسم کا بڑا ہونا۔ اسی طرح جانور ہونا، جانور اور بڑا جسم اور بڑی سی سونڈ اور بہت بڑا بدن، یہ سارے تصورات ملے تو اس سے کیا حاصل ہوا؟ ایک تصورِ مجہول حاصل ہوا بھئی۔ اسی طرح بھئی! ایک غیر مسلم ہے مثلاً، اسے آپ فرشتے کے بارے میں بتلاتے ہیں کہ فرشتہ کسے کہتے ہیں؟ تو آپ اسے کہیں گے کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی ایک مخلوق ہے جو جسے اللہ نے نور سے پیدا فرمایا ہے، آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی اور اللہ کی نافرمانی نہیں کرتی۔ تو یہ جب آپ تعریفیں چیزیں اس کے سامنے رکھیں گے تو اب اسے سمجھ میں آ گیا کہ فرشتہ کسے کہتے ہیں۔ تو اب مثلاً فرشتہ یعنی ملک جو ہے، یہ تصور ہے یا تصدیق ہے؟ تصور ہے، اور تو یہ تصورِ مجہول تھا، یہ اس کو حاصل ہوا کس کے ذریعے؟ تصورِ معلوم کے ذریعے بھئی۔ دو تین تصورِ معلوم ملائے آپ نے، کیا؟ کہ یہ ایک پہلی بات تو یہ آپ نے کی، یہ اللہ کی مخلوق، تو اللہ کی مخلوق ہونا یہ ایک تصورِ معلوم تھا، دوسرا جسم والا، اور تیسرا نور والا، نور سے بنا ہے، اور چوتھا لطیف ہے، آنکھوں سے دکھائی نہ دینا، یہ تصور، اور اسی طرح نافرمانی کا نہ کرنا وغیرہ، یہ چیزیں آپ نے ذکر کیں تو اس کو فرشتے کا پتہ چل گیا۔ تو دیکھو! یاد، بس یہ ہمیشہ یاد رکھنا کہ تصورِ مجہول کس سے حاصل ہوگا؟ تصورِ معلوم سے ہی حاصل ہوگا، تصدیق سے حاصل نہیں ہوگا۔ اسی طرح جو تصدیق ہے، وہ تصدیقِ مجہول ہمیشہ کس کے ذریعے حاصل ہوگی؟ تصدیقِ معلوم کے ذریعے، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کہ زید درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے، تصور ہے یا تصدیق؟ زید درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے، یہ کیا ہے؟ تصدیق، یہ آپ کو معلوم ہے۔ اسی طرح ایک اور تصدیق ہے، مثلاً میں کہہ رہا ہوں، درجہ ثانیہ کا ہر طالب علم محنتی ہے۔ پہلی تصدیق کیا تھی؟ زید درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے۔ دوسری تصدیق کیا کہ درجہ ثانیہ کا ہر طالب علم محنتی۔ اس سے ایک تیسری بات کا آپ کو پتہ چل گیا۔ کیا؟ کہ زید کیا ہے؟ محنتی ہے، شاباش بھئی! زید درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے، اور درجہ ثانیہ کا ہر طالب علم محنتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ زید محنتی ہے، شاباش! تو دیکھو! یہ دو معلوم تصدیقوں کو آپ نے ملایا اور اس سے ایک تیسری تصدیقِ مجہول جو تھی آپ کو معلوم ہو گئی بھئی، پہلے مجہول تھی اب آپ کو معلوم ہو گئی بھئی۔ مثلاً، مثلاً میں کہتا ہوں، زید مدرسے میں پڑھاتا ہے۔ ایک تص، یہ تصور ہے تصدیق ہے؟ تصدیق ہے۔ دوسری تصدیق، مدرسے میں پڑھانے والا عالم ہوتا ہے۔ اس سے ایک تیسری بات معلوم ہو گئی آپ کو، کیا؟ زید، مدرسے، غور کرنا لفظوں پہ خود ہی آپ کے ذہن میں آ جائے گی بات، زید مدرسے میں پڑھاتا ہے اور مدرسے میں پڑھانے والا عالم ہوتا ہے۔ معلوم ہوا زید عالم ہے۔ اسی طرح میں آپ سے کہتا ہوں، انسان جاندار ہے، اور ہر جاندار جسم رکھتا ہے، ہر جاندار جسم والا ہے۔ کیا بات معلوم ہوئی؟ انسان، دوبارہ سنو! انسان جاندار ہے۔ اور ہر جاندار جسم والا ہے۔ کیا بات معلوم ہوئی؟ انسان جسم والا ہے، بس آسان سی بات ہے بھئی! تو دیکھو! دو معلوم تصدیقوں سے آپ کو ایک ایک مجہول تصدیق معلوم ہو گئی بھئی، پہلے مجہول تھی اب آپ کو معلوم ہو گئی بھئی۔ تو بس اب جب اتنا پتہ چل گیا، تو اسی کو کہتے ہیں نظر و فکر۔ اسی کو کیا کہتے ہیں؟ نظر و فکر۔ یہ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر نامعلوم چیز کو حاصل کرنا، یہ ہے نظر و فکر بھئی۔ بات سب متوجہ ہے سبق کی طرف؟ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر نامعلوم چیز حاصل کرنا، اس تک پہنچنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ نظر و فکر کہلاتا ہے۔ کیا؟ نظر و فکر، کسے کہتے ہیں نظر و فکر؟ آسان سی بات ہے بالکل ذہن پر زور نہیں ڈالنا، آسان سی بات، معلوم چیزیں کچھ آپ کے پاس ہیں، ان کو ترتیب دے کر ایک نامعلوم چیز کو، ایک مجہول چیز کو حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ نظر و فکر، اب دہراؤ ذرا نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ آہستہ آواز میں بھئی، آہستہ۔ جی! دوبارہ دہراؤ ذرا۔ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر نامعلوم چیز، نامعلوم چیز کو حاصل کرنا، اس تک پہنچنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ نظر و فکر، اب کوئی آپ سے پوچھ لے تو آپ بتا سکیں گے بھئی؟ سب بھئی؟ ان شاء اللہ۔ اچھا! اب یاد رکھیے! تصورِ مجہول کو حاصل کرنے کے لیے، کس کو؟ تصورِ مجہول کو حاصل کر کس کے ذریعے حاصل کریں گے؟ ہاں! دو یا دو سے زیادہ تصورِ معلوم کے ذریعے حاصل کریں گے۔ دوسری مثال لے لیں، بھئی! وہ آپ نے مثلاً غیر مسلم کو بتانے کے لیے کیا کہا تھا؟ فرشتے کی تعریف کی تھی کہ اللہ کی ایک نورانی مخلوق ہے، آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی، اور کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرتی۔ تو یاد رکھیے! یہ تصورِ معلوم، کون سے تھے تصورِ معلوم جس کے ذریعے فرشتے کی تعریف کی؟ کن چیزوں سے اس کو فرشتے کا پتہ چلا؟ کیا کیا چیزیں آپ نے ذکر کیں؟ مخلوق ہونا، نورانی ہے، آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی، نافرمانی نہیں کرتی اللہ کی، یہ سب چیزیں جو ہیں ان کو آپ نے ملایا بھئی۔ تو یہ جو تصورِ معلوم تھے، ان کو ملا کر آپ نے کیا حاصل کیا؟ ایک تصورِ مجہول۔ تو یہ جو معلوم تصورات ہیں، ان کو کہتے ہیں مُعَرِّف اور تعریف، مُعَرِّف بھی کہتے ہیں، تعریف بھی کہتے ہیں، اور قولِ شارح بھی کہتے ہیں، یہ نام یاد ہونے چاہئیں۔ بھئی! حاصل کرنا ہے کس کو؟ تصورِ مجہول کو، تو کس کے ذریعے حاصل کریں گے؟ تصورِ معلوم، وہ دو ہوں گے، تین ہوں گے یا اس سے بھی زیادہ ہوں گے۔ تو یہ جو معلوم تصورات ہیں دو ہیں یا تین ہیں یا چار، جن کے ذریعے ایک مجہول تصور کا پتہ چل رہا ہے، تو یہ تین چار جو معلوم تصور ہیں، ان کو کیا کہیں گے؟ ان کا ایک نام تعریف ہے، ان کو تعریف بھی کہہ دیتے ہیں، یہ تعریف۔ دوسرا ان کا نام مُعَرِّف، را کے نیچے کسرہ ہے، مُعَرِّف۔ اور ایک نام ہے ان کا قولِ شارح بھئی، قولِ شارح، شین الف را ح، قولِ شارح۔ قولِ شارح۔ 2 تصور معلوم جن کے ذریعے تصور مجهول حاصل ہوا تو وہ تصور معلوم جو دو یا تین یا چار ہیں ان کو کیا کہیں گے؟ ایک نام ان کا کیا ہے؟ تعریف۔ دوسرا نام؟ معرف۔ اور تیسرا نام قول شارح۔ اور جو تصور مجهول ہمیں معلوم ہوا اس کو کیا کہیں گے؟ معرف۔ تعریف سے تو بات نام سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ یہ تعریف بمعنی پہچان کروانا۔ انہوں نے پہچان کروائی ہے۔ معرف پہچان کروانے والے۔ یہ کیا ہیں؟ یہ پہچان کروانے والے، یہ معلوم تصورات ہمیں ایک مجهول تصور کی پہچان کروانے والے ہیں، تو معرف کا معنی پہچان کروانے والا۔ قول شارح بھئی! قول شارح وہ قول جو وضاحت کرنے والا ہے۔ کیا کرنے والا ہے؟ شرح کرنے والا ہے۔ تو لہذا انہوں نے بھی شرح کر دی و ان تین چار چیزوں نے وضاحت کر دی فرشتے کی، کہ فرشتہ کسے کہتے ہیں۔ اور جس کا پتہ چلا اس کو کیا کہیں گے؟ معرف۔ یعنی جس کی پہچان کروائی گئی۔ وہ پہلے والے تھے معرف، پہچان کروانے والے، اور جس کا پتہ لگا اس کو کیا کہیں گے؟ معرف کہیں گے۔ اچھا، اگر تصدیق ہو اسی طرح۔ تصدیق، مثلاً میں نے آپ کے سامنے کہا کہ زید درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے اور درجہ ثانیہ کا ہر طالب علم منطقی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ زید منطقی ہے۔ تو اب دیکھیے، درجہ ثانیہ میں، زید درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے ایک تصدیق، درجہ ثانیہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے دوسری تصدیق۔ یہ دونوں ہی معلوم ہیں آپ کو۔ یہ دو باتیں آپ کو پہلے ہی پتہ تھیں، نتیجہ ایک نئی بات کا بھی پتہ چل گیا اس سے کہ زید، زید بھی بڑا منطقی ہے۔ تو یہ جو تصدیق کے اندر یہ تصدیقِ مـ، پہلی دو تصدیق معلوم اور تیسری کیا تھی؟ مجهول تھی، لیکن اب کیا ہو گئی؟ معلوم ہو گئی۔ تو یہ جن کی، دو تصدیقات جن کے ذریعے تیسری تصدیق کا علم ہوا، ان دو کو دلیل اور حجت کہتے ہیں، دو نام ہیں، دلیل بھی کہتے ہیں اور حجت بھی کہتے ہیں۔ دلیل بھی اور حجت بھی۔ تو دلیل کیا ہوئی یہاں یا حجت کیا ہوئی؟ زید درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے یہ، اور درجہ ثانیہ کا ہر طالب علم منطقی ہے، یہ ہوئی دلیل۔ اس کا دوسرا نام کیا ہے؟ حجت۔ اور جو آگے تصدیقِ نا معلوم جو ہمیں معلوم ہو گئی اس کو کہتے ہیں نتیجہ اور مطلوب۔ اسے نتیجہ بھی کہتے ہیں، یہ نتیجہ نکلا بھئی، یہ دو چیزیں آپ نے ملائیں تو یہ نتیجہ نکلا۔ اور مطلوب بھی کہتے ہیں۔ مطلوب۔ اسے کیا کہتے ہیں؟ مطلوب۔ یہ نام یاد رہیں گے؟ دلیل، دلیل کا معنیٰ دلیل وہ راستہ دکھانے والی، اس نے بھی ہمیں راستہ دکھایا ایک تیسری چیز ہمیں حاصل ہو گئی۔ حجت کا معنی ہوتا ہے غالب آنا، چونکہ اس کے ذریعے بھی انسان اپنے مخالف پر کیا آ جاتا ہے؟ غالب آ جاتا ہے، اس کو حجت کہتے ہیں بھئی، مخالف مقابل پر۔ یا اس کا علم اس کے جہل پر غالب آ جاتا ہے اس لیے اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ حجت بھئی۔ پہلے جہل تھا، اب کیا آ گیا؟ علم آ گیا، تو علم جہل پر غالب ہوا۔ اب ذرا نام ذرا جلدی جلدی، یہ چیزیں جلدی جلدی دہرا لیں بھئی۔ بھئی نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ شاباش! کسی معلوم معلومات کو ترتیب دے کر یہ نظر و فکر ہے بھئی۔ اور پھر تصور ہمیشہ، تصور مجهول ہمیشہ کس سے حاصل ہو گا؟ تصور معلوم سے۔ اور تصدیق مجهول ہمیشہ کس سے حاصل ہو گی؟ تصدیق معلوم سے۔ اور پھر جب تصور دو تین آپ نے ملائے اور ایک مجهول تصور آپ کو حاصل ہوا تو وہ جو معلوم تصور تھے جن کی وجہ سے یہ مجهول آیا ہے، مجهول معلوم ہوا ہے، تو وہ تصور معلوم جو تھے ان کو، ان کے کتنے نام ہیں؟ تین نام ہیں، پہلا؟ ہاں، تعریف، معرف اور قول شارح۔ اور جو تصور مجهول ہمیں حاصل ہوا، اس کا نام معرف ہے بھئی۔ اور اگر تصدیق معلوم کے ذریعے نامعلوم تصدیق حاصل ہوئی تو وہ جو معلوم تصدیق ہے اس کو کیا کہیں گے؟ دلیل بھی اور حجت بھی۔ اور جو نامعلوم تصدیق حاصل ہوئی اسے کیا کہیں گے؟ نتیجہ بھی اور مطلوب بھی، نتیجہ اور مطلوب دو نام آ گئے بھئی۔ اب دیکھیے ذرا کتاب پر ترجمہ دیکھ لیجیے بھئی۔ فَائِدَةٌ، أَيْ هٰذِهِ فَائِدَةٌ۔ هٰذِهِ مبتدا اور فَائِدَةٌ اس کی خبر۔ یعنی یہ ایک فائدہ ہے، اس کے تحت مصنف جو ہیں وہ نظر و فکر کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں کہ کسے کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: وَإِذَا عَلِمْتَ مَا ذَكَرْنَا، اور جب تو نے جان لیا ما ذکرنا وہ جو ہم نے ذکر کیا۔ کیا ذکر کیا؟ أَنَّ النَّظَرِيَّاتِ مُطْلَقًا تَصَوُّرِيًّا كَانَتْ أَوْ تَصْدِيقِيًّا، کہ نظریات جو ہیں مطلقا، تصوری ہوں چاہے وہ یا تصدیقی ہوں۔ نظریات بھئی، نظری چیزیں، نظری چیزیں چاہے مطلقا، چاہے وہ تصوری ہوں یا تصدیقی ہوں، یعنی تصور کی قبیل سے ہوں یا تصدیق کی قبیل سے ہوں۔ مُفْتَقِرَةٌ إِلَى نَظَرٍ وَفِكْرٍ، وہ محتاج ہوتے ہیں کس چیز کے؟ نظر و فکر کے۔ جو نظریات ہیں، چاہے وہ تصوری ہوں، چاہے وہ تصدیقی ہوں، وہ محتاج ہوتے ہیں نظر و فکر کے۔ نظر و فکر کے ذریعے ہی نظریات کا پتہ چلے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اس میں غور و فکر کریں گے تو وہ بات سمجھ میں آئے گی، دماغ خرچ کریں گے تو وہ سمجھ میں آئے گا، اس کے بغیر وہ سمجھ میں نہیں آئیں گے۔ تو دیکھیے: أَنَّ النَّظَرِيَّاتِ، النَّظَرِيَّاتِ، تاء کے نیچے میں نے زیر پڑھی۔ یہ أن کا اسم ہے۔ اور أن حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے۔ اور یہ کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ تو یہاں یہ جو زیر پڑھی، یہ دراصل نصب ہے جو زیر کی صورت میں آیا ہے۔ یہ دراصل کیا ہے؟ نصب ہے جو زیر کی صورت میں آیا ہے، کیونکہ جمع مؤنث سالم ہے بھئی۔ کیا ہے؟ مسلمات کی طرح، مسلمات۔ اور اس کے بارے میں آپ نے پڑھا ہے کہ کیسے پڑھتے ہیں؟ جَاءَنِي مُسْلِمَاتٌ، رَأَيْتُ مُسْلِمَاتٍ، دیکھا؟ تو رَأَيْتُ مُسْلِمَاتٍ، دیکھو حالت نصبی میں نصب اس کا کس کی شکل میں آتا ہے؟ کسرے کی صورت میں، کسرے کی۔ تو یہ جر نہیں ہے، یہ نصب ہے لیکن صورت اس کی کسرا جیسی ہے، اس کا نصب آتا ہی اس صورت میں ہے بھئی، تو ہے یہ نصب بھئی۔ تو یہ منصوب ہے نظریات کا لفظ۔ اچھا، تو کہتے ہیں: وَإِذَا عَلِمْتَ، جب آپ نے یہ، آپ نے جان لیا ما ذکرنا وہ جو ہم نے ذکر کیا، کہ أَنَّ النَّظَرِيَّاتِ مُطْلَقًا، کہ نظریات جو ہیں مطلقا، تَصَوُّرِيًّا كَانَتْ أَوْ تَصْدِيقِيًّا، چاہے وہ تصوری ہوں یا تصدیقی ہوں، مُفْتَقِرَةٌ إِلَى نَظَرٍ وَفِكْرٍ، وہ محتاج ہوتے ہیں نظر و فکر کے، فَلَا بُدَّ لَكَ، پس ضروری ہے آپ کے لیے، فَلَا بُدَّ ضروری، فَلَا بُدَّ لَكَ ضروری ہے آپ کے لیے، أَنْ تَعْلَمَ مَعْنَى النَّظَرِ، کہ آپ جان لیں نظر کا معنیٰ۔ فَأَقُولُ، پس مصنف کہتے ہیں میں کہتا ہوں: أَنَّ النَّظَرَ فِي اصْطِلَاحِهِمْ، کہ نظر جو ہے مناطقہ کی اصطلاح میں، عِبَارَةٌ، یہ عبارت ہے، عَنْ تَرْتِيبِ أُمُورٍ مَعْلُومَةٍ، کس چیز سے عبارت ہے؟ امور معلومہ کو ترتیب دینا۔ معلوم چیزوں، بھئی نظر و فکر کے بارے میں کیا بتلایا میں نے؟ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر مجهول چیز کو حاصل کرنا۔ تو یہ نظر و فکر میں نے آپ کو بتایا کچھ معلوم تصورات کو مثلاً ترتیب دیا اور اس سے مجهول تصور حاصل کیا، یا معلوم تصدیقات کو ترتیب دیا اور اس سے مجهول تصدیق کو حاصل کیا بھئی۔ تو جو ہے یہ نظر جو ہے مناطقہ کی اصطلاح، فِي اصْطِلَاحِهِمْ، هم ضمیر راجع ہے مناطقہ کو بھئی، کیونکہ یہ علم ہم، یہ منطق کا علم ہم پڑھ رہے ہیں بھئی، تو ان کی اصطلاح کی بات ہو رہی ہے۔ کہتے ہیں: أَنَّ النَّظَرَ فِي اصْطِلَاحِهِمْ، نظر جو ہے مناطقہ کی اصطلاح میں، عِبَارَةٌ، یہ عبارت ہے، عَنْ تَرْتِيبِ أُمُورٍ مَعْلُومَةٍ، امور معلومہ کو ترتیب دینا، لِيَتَأَدَّى ذٰلِكَ التَّرْتِيبُ، تاکہ پہنچا دے وہ ترتیب، إِلَى تَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ، مجهول کے حاصل کرنے تک۔ کہاں تک پہنچا دے؟ کچھ معلوم امور کو ترتیب دینا تاکہ یہ ترتیب پہنچا دے إِلَى تَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ، مجهول کی تحصیل تک۔ کچھ معلوم چیزوں کو آپ نے ترتیب دیا، اس ترتیب نے آپ کو کہاں تک پہنچا دیا؟ مجهول چیز کے تحصیل تک، مجهول چیز آپ کو حاصل ہو گئی بھئی، بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟ إِذَا رَتَّبْتَ الْمَعْلُومَاتِ الْحَاصِلَةَ لَكَ، جب ترتیب دیا آپ نے، کس کو ترتیب دیا؟ معلومات حاصلہ کو، وہ جو معلومات آپ کو حاصل ہیں چاہے وہ تصدیق ہو چاہے تصور ہو۔ اور الْمَعْلُومَاتِ، یہاں پھر میں نے کسرا پڑھا، حالانکہ یہ منصوب ہے، مفعول ہے، تو یہ نصب ہے جو اسی کی طرح آیا النظریات، دیکھو الف تاء تھی آخر میں نصب کسرا کی صورت میں، یہاں بھی الف اور تاء ہیں آخر میں تو نصب کس کی صورت میں؟ کسرا کی صورت میں آیا ہے، اور الْحَاصِلَةَ اس کی صفت ہے اس پر نصب جس طرح آتا ہے اسی طرح آیا بھئی۔ تو جب إِذَا رَتَّبْتَ الْمَعْلُومَاتِ الْحَاصِلَةَ لَكَ، جب آپ نے ترتیب دیا ان معلومات کو جو حاصل ہیں آپ کو، مِنْ تَغَيُّرِ الْعَالَمِ، عالم کے تغیر، متغیر ہونے سے، بدلنے سے، وَحُدُوثِ كُلِّ مُتَغَيِّرٍ، اور اسی طرح ہر متغیر کے حادث ہونے سے۔ دیکھیے بھئی! عالم یہ جہان بھئی، یہ جہان ہم کہتے ہیں کہ یہ جہان حادث ہے۔ بعضوں نے کہا نہیں بھئی یہ جہان حادث، حادث کسے کہتے تھے؟ جس پر عدم آیا ہو، یعنی ایک زمانہ تھا کہ اس کا وجود نہیں تھا، اور اس کے مقابلے میں قدیم ہے، قدیم اسے کہتے ہیں جس پر کبھی بھی عدم نہ آیا ہو، یعنی وہ ذات وہ چیز ہمیشہ سے ہو کبھی کوئی ایسا زمانہ نہیں آیا کہ جس میں اس کا وجود نہیں تھا۔ اور قدیم میں نے بتایا صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات ہیں، باقی تمام چیزیں، یہ زمین، یہ آسمان، یہ چاند، سورج، ستارے، فرشتے، جنت، جہنم یہ سب حادث ہیں، یعنی پہلے ان کا وجود نہیں تھا پھر اللہ نے ان کو پیدا فرمایا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اب دیکھیے، تو یہ کفار وغیرہ کیا کہتے ہیں؟ یہ جہان قدیم ہے، ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ سے ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں ہمیشہ سے نہیں ہے، یہ قدیم نہیں ہے بلکہ یہ جہان کیا ہے؟ حادث ہے، حادث ہے۔ اب اس کے لیے دلیل چاہیے مولانا، کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے، تو اس کے لیے ہم دیکھیں ہمیں جہان کے بارے میں بھی پتہ، جہان یہ جو جس سے ہمارے سامنے ہے سارا یہ جہان ہے، یہ سورج، چاند، ستارے، آسمان وغیرہ زمین بھئی، اور اس کے اندر تغیرات آتے ہیں، تبدیلیاں آتی ہیں مولانا، کبھی سردی ہے، کبھی گرمی ہے، کبھی بہار ہے، کبھی خزاں ہے، کبھی طوفان آ رہے ہیں، بربادی ہو رہی ہے، کبھی بارش برس رہی ہے تو سبزہ پھوٹ رہا ہے، مختلف قسم کے، سمجھ میں آیا بھئی؟ طوفان آ رہے ہیں، زلزلے آ رہے ہیں، تباہی آ رہی ہے، تو اس میں تغیرات تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں بھئی، اس کے حالت بدلتی رہتی ہے، بات سمجھ میں آئی؟ تو ہمیں عالم کے اندر تغیر کا بھی پتہ ہے، اور ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ ہر وہ چیز جس میں تبدیلیاں آئیں وہ قدیم نہیں ہو سکتی وہ حادث ہی ہو گی۔ جس چیز میں بھی کیا آئیں؟ تبدیلیاں آئیں وہ قدیم نہیں ہو سکتی۔ تو ان دو کے ملانے سے ہمیں پتہ چل گیا کہ یہ عالم بھی حادث ہے۔ یہ عالم بھی حادث ہے۔ دیکھیے بھئی! میں کہتا ہوں: الْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ، عالم کیا ہے؟ متغیر ہے، اس میں تبدیلیاں آتی ہیں، تبدیلیاں آتی ہیں۔ اور آگے: وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ، اور ہر متغیر چیز کیا ہے؟ دیکھیے نتیجہ خود بخود آپ کو مل جائے گا، دوبارہ سنیں بھئی: الْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ، نتیجہ کیا نکلا؟ الْعَالَمُ حَادِثٌ۔ یہ عالم متغیر ہے اور ہر متغیر چیز حادث ہوا کرتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ توجہ سے سنو، توجہ سے خود نتیجہ آپ نکال لیں گے۔ یہ عالم متغیر ہے اور ہر متغیر چیز حادث ہوتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ یہ عالم حادث ہے۔ جیسے آپ نے پہلے نکالا تھا، زید درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے اور درجہ ثانیہ کا ہر طالب علم منطقی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ زید منطقی ہے۔ اسی طرح، یہ عالم متغیر ہے اور ہر متغیر چیز حادث ہوتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ یہ عالم حادث ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: إِذَا رَتَّبْتَ الْمَعْلُومَاتِ الْحَاصِلَةَ لَكَ، جب آپ نے ترتیب دیا ان معلومات کو جو آپ کو حاصل ہیں، مِنْ تَغَيُّرِ الْعَالَمِ وَحُدُوثِ كُلِّ مُتَغَيِّرٍ، وہ معلومات جو آپ کو حاصل ہیں، وہ کیا ہیں؟ من کے ذریعے بیان کر رہے ہیں، یعنی عالم کا متغیر ہونا، عالم کا متغیر ہونا یہ بھی آپ کو معلوم ہے، وَحُدُوثِ كُلِّ مُتَغَيِّرٍ، اور ہر متغیر کا حادث ہونا یہ بھی کیا ہے آپ کو معلوم ہے۔ یہ بیان ہو رہا ہے ان معلومات کا جو آپ کو حاصل ہیں بھئی، وہ معلومات جو آپ کو حاصل ہیں، یعنی عالم کا متغیر ہونا اور ہر متغیر کا حادث ہونا، وَتَقُولُ، اور آپ کہتے ہیں: الْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ، یہ عالم متغیر ہے اس میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، اور ہر متغیر کیا ہوتا ہے؟ حادث ہوتا ہے، فَحَصَلَ لَكَ مِنْ هٰذَا النَّظَرِ وَالتَّرْتِيبِ، تو آپ کو حاصل ہوا اس نظر اور ترتیب سے، کیا حاصل ہوا؟ عِلْمُ قَضِيَّةٍ أُخْرٰى، قضیہ بمعنی خبر، ایک دوسری خبر آپ کو، کا علم آپ کو حاصل ہوا، لَمْ يَكُنْ حَاصِلًا لَكَ قَبْلُ، جو حاصل نہیں تھا آپ کو اس سے پہلے، وَهِيَ، اور وہ یہ: الْعَالَمُ حَادِثٌ، کہ عالم کیا ہے؟ حادث ہے۔ آپ نے دو چیز، جملوں کو جوڑا تو ایک تیسرا جملہ اور نتیجہ آپ کو حاصل ہوا، پہلا جملہ کیا تھا؟ الْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ، اس سے ایک تیسرا نتیجہ آپ کو حاصل ہوا وہ کیا؟ کہ الْعَالَمُ حَادِثٌ، عالم کیا ہے؟ حادث ہے، قدیم نہیں ہے، بات سمجھ میں بھی آ رہی ہے کہ ویسے سر ہلا رہے ہیں بھئی؟ الحمد للہ۔ تو یہ جو تعریف ہے نظر کی، یہ عربی میں بھی آپ کو یاد ہونی چاہیے۔ عَنْ تَرْتِيبِ، یہاں پر هُوَ لگا کر تعریف پوری، نظر کسے کہتے ہیں؟ هُوَ تَرْتِيبُ أُمُورٍ مَعْلُومَةٍ لِيَتَأَدَّى ذٰلِكَ التَّرْتِيبُ إِلَى تَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ، یہ ہے نظر و فکر کی تعریف بھئی۔ ترتیب سے پہلے هُوَ لگا لیں، هُوَ تَرْتِيبُ، اب اس پر رفع پڑھیں، هُوَ تَرْتِيبُ أُمُورٍ مَعْلُومَةٍ لِيَتَأَدَّى ذٰلِكَ التَّرْتِيبُ إِلَى تَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ 3 العالم حادث۔ یہ مجھول تھا، اب معلوم ہو گیا۔ کن چیزوں سے معلوم ہوا؟ پہلا کیا پہلی تصدیق کیا تھی؟ العالم متغير۔ کتاب میں لکھا ہوا ہے آپ کے سامنے، العالم متغير۔ اور آگے دوسری کیا تصدیق تھی؟ وكل متغير حادث۔ جی، آگے نتیجہ کیا نکلا؟ العالم حادث۔ بھئی، العالم حادث۔ ترجمہ اچھی طرح آ گیا، دوبارہ کرنے کی ضرورت ہے کہ نہیں بھئی؟ جی؟ دوبارہ کر دوں؟ چلیں، دوبارہ سن لیں بھئی۔ واذا علمتا ما ذکرنا، واذا علمتا اور جب آپ نے جان لیا ما ذکرنا وہ جو ہم نے ذکر کیا، ان النظریات مطلقاً کہ نظریات یعنی نظری چیزیں جو ہیں مطلقاً، تصوریاً کانت أو تصدیقیاً چاہے وہ تصوری ہوں یا تصدیقی ہوں یعنی تصور کے قبیل سے ہوں یا تصدیق کے قبیل سے ہوں، مفتقرۃ إلی نظر وفکر وہ محتاج ہوتی ہیں کس چیز کے؟ نظر اور فکر کے۔ کہہ رہے ہیں یہ ہم نے جو آپ کو بتایا وہ جو ہم نے ذکر کیا اس، جب آپ نے جان لی وہ بات جو ہم نے ذکر کی تھی، کیا ذکر کیا تھا ہم نے؟ کہ تمام نظریات چاہے وہ تصوری ہوں چاہے وہ تصدیقی ہوں، وہ محتاج ہوتے ہیں کس چیز کے؟ نظر اور فکر کے۔ نظری کہتے ہی اس کو ہیں جو نظر و فکر سے حاصل ہو تو نظری کے حصول کے لیے ہمیں کیا کرنا پڑے گا؟ نظر اور فکر کرنا پڑے گی، وہ نظر و فکر کے محتاج ہیں۔ کہتے ہیں یہ بات جب آپ نے جان لی جو یہ ہم نے جو ابھی ذکر کی تھی تو فلا بد لک تو ضروری ہے آپ کے لیے أن تعلم معنی النظری کہ آپ جان لیں نظر کا معنی۔ فأقول، پس میں کہتا ہوں: النظر فی اصطلاحہم کہ نظر جو ہے، مناطقہ کی اصطلاح میں عبارت عن ترتیب امور معلومۃ وہ عبارت ہے امور معلومہ کو ترتیب دینے سے، امور معلومہ کو ترتیب دینا، لیتاذى ذلک الترتیب تاکہ پہنچا دے وہ ترتیب إلی تحصیل المجهول، مجھول کے تحصیل تک۔ إذا رتبت المعلومات الحاصلۃ لک جب آپ ترتیب دے دیں ان معلومات کو جو حاصل ہیں آپ کو من تغیر العالم و حدوث کل متغیر، یعنی کہ وہ معلومات جو آپ کو حاصل ہیں، یعنی کہ عالم کا متغیر ہونا اور ہر متغیر کا حادث ہونا۔ جب ان معلومات کو آپ ترتیب دیں اور تقول اور یوں کہیں آپ: العالم متغير کہ عالم متغیر ہے، وكل متغیر حادث، اور ہر متغیر حادث ہے۔ یہ دو بنا، ترتیب دی آپ نے اس طرح بھئی۔ ایک: العالم متغير۔ دوسری تصدیق کیا بنائی؟ وكل متغیر حادث۔ فحصل لک من هذا النظر والترتیب تو حاصل ہوا آپ کو اس نظر اور ترتیب سے، نظر اور ترتیب کا ایک معنی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نظر کہتے کس کو تھے؟ وہی ترتیب دینا تاکہ مجھول چیز حاصل ہو جائے۔ تو آپ کو حاصل ہوا اس نظر اور ترتیب سے، کیا حاصل ہوا؟ علم، علم قضیۃ أخری، ایک اور خبر کا علم حاصل ہوا۔ ایک، ایک اور خبر کا علم حاصل ہوا لم یکن حاصلًا لک قبل جو پہلے آپ کو حاصل نہیں تھا، وھیا اور وہ یہ بھئی! یہ علم آپ کو حاصل ہوا، العالم حادث کہ عالم یہ جہان کیا ہے؟ حادث ہے، قدیم نہیں ہے بھئی۔ چلیے، بس بھئی! ھذا ھو المراد واللہ أعلم بحقیقۃ الکلام۔