بیان کی اقسام ہم پڑھ رہے تھے۔ گزشتہ سبق میں آپ نے بیانِ تغیر کے بارے میں پڑھا بھئی۔ بیانِ تغیر کسے کہتے ہیں؟ ایسا بیان جو کلام کے معنیٰ کو بدل دے بھئی، ایسا بیان جو کلام کے معنیٰ کو بدل دے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیں جو کلام کے مقتضا کو بدل دے، کلام جس چیز کا تقاضا کر رہا تھا بیان نے آکر اس کے اس مقتضا کو کیا کر دیا؟ بدل دیا۔ اور اس کی نظیر تعلیق اور استثناء تھی بھئی۔ تعلیق جیسے دیکھو خاوند نے بیوی سے کہا انت طالق ان دخلت الدار، انت طالق ان دخلت الدار، تو انت طالق تو یہ تقاضا کر رہا تھا کہ فی الحال فوراً عورت کو طلاق ہو جائے، لیکن ان دخلت الدار یہ بیان ہے اور بیانِ تغیر کی طرح بیانِ تغیر کی طرح ہے کہ اس نے آکر کلام کے مقتضا کو بدل دیا اور فوری طلاق واقع نہیں ہوئی بلکہ طلاق معلق ہو گئی دخولِ دار کے۔ اور اسی طرح استثناء بھی اس کی نظیر ہے جیسے ایک شخص کہتا ہے لفلان علی الف الا مائۃ، تو اب اس شخص پر کتنے واجب ہوں گے؟ 900۔ حالانکہ لفلان علی الف کا تقاضا یہ تھا کہ اس پر ایک ہزار واجب ہوتے لیکن الا مائۃ یہ جو استثناء آیا، اس استثناء نے آکر کیا کر دیا؟ ماقبل کلام کے مقتضا ہی کو بدل دیا اور ہزار کے بجائے اب کتنے واجب ہو گئے؟ 900۔ پھر بتلایا تھا اس میں ہمارا اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے تعلیق اور استثناء میں بھئی۔ ہمارے نزدیک وہ چیز جو کسی شرط کے ساتھ معلق کی جائے وہ سبب بنتا ہے حکم کا اس وقت جب کہ شرط پائی جائے۔ اس وقت جب کہ اس سے پہلے وہ سبب نہیں بنتا حکم کا، گویا یوں سمجھیں اس سے پہلے وہ موجود ہی نہیں، انت طالق ان دخلت الدار، تو انت طالق یہ معلق ہے دخولِ دار کے ساتھ، تو یہ اسی وقت سبب بنے گا طلاق کا جس وقت دخولِ دار پایا جائے گا اس سے پہلے نہیں، تو گویا یہ اسی طرح ہے گویا پہلے اس پر تکلم ہی نہیں ہوا، اس سے پہلے انت طالق تھا ہی نہیں، جب دخولِ دار پایا گیا تو اسی وقت کیا پایا گیا؟ انت طالق پایا گیا اور طلاق ہو گئی۔ جب کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معلق جو ہوتا ہے وہ سبب بنتا ہے فی الحال، اسی وقت کیا ہوتا ہے؟ سبب بنتا ہے البتہ شرط مانع ہوتی ہے حکم سے، تو انت طالق ان دخلت الدار میں وہ فرماتے ہیں یہ انت طالق فی الحال طلاق کا سبب بن رہا ہے لیکن طلاق واقع اس لیے نہیں ہو رہی کہ ایک مانع موجود ہے اور وہ مانع کیا ہے؟ شرط کا نہ پایا جانا، شرط کا معدوم ہونا، تو عدمِ شرط مانع ہے ان کے نزدیک بھئی، تو جس وقت شرط پائی جائے گی تو اس وقت کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی، مانع ختم ہوا بھئی۔ اور اختلاف کا ثمرہ بتلایا تھا ظاہر ہوگا اس مثال کے اندر جب کسی نے غیر کے غلام سے کہا ان ملکتک فانت حر، اگر میں تیرا مالک بنا تو تو آزاد ہے، یا کسی شخص نے کسی اجنبیہ عورت سے کہا ان تزوجتک فانت طالق، تو تجھے کیا ہے؟ طلاق ہے طلاق ہے بھئی۔ تو اب اس صورت میں انت طالق امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ فی الحال سبب بنے گا کس کا؟ طلاق کا، البتہ مانع ہو کہ ہونے کی وجہ سے یہ واقع نہیں، لیکن یہاں پر یہ تعلیق ہی باطل ہو جائے گی اس لیے کہ انت طالق اس کی نسبت کس کی طرف کی گئی ہے ایسی عورت کی طرف جو طلاق کا محل ہی نہیں ہے کیونکہ وہ اس کی بیوی ہی نہیں، تو اس نے تو فی الحال سبب بننا تھا اور فی الحال تو وہ اس کی بیوی نہیں، تو وہ محل ہی اس کو قبول نہیں کر رہا اس لیے تعلیق ہی باطل۔ اور اسی طرح اگر غیر کے غلام سے کہا ان ملکتک فانت حر، تو اس صورت میں بھی یہ تعلیق باطل ہے ان کے نزدیک اس لیے کہ انت حر نے فی الحال سبب بننا ہے حریت کا اور فی الحال تو وہ اس کا غلام ہی نہیں، تو وہ محل جس محل کی طرف اس نے کلام کو متوجہ کیا ہے وہ اس کلام کو قبول ہی نہیں کرتا، جب کہ ہمارے نزدیک ان دونوں صورتوں میں تعلیق صحیح، ان تزوجتک فانت طالق اور ان ملکتک فانت حر دونوں صورتوں میں صحیح ہے بھئی صحیح ہے۔ اس لیے کہ ہمارے نزدیک یہ انت حر نے اور انت طالق نے فی الحال سبب نہیں بننا حکم کا بلکہ انہوں نے کب سبب بننا ہے؟ جب شرط پائی جائے، اور جب شرط پائی جائے گی تو اس وقت وہ محل کیا کرتا ہے اس کو؟ قبول کر لیتا ہے، مالک بنتا ہے تو غلام کیا ہے؟ حریت کو قبول کر لیتا ہے تو کیا ہو جائے گا؟ آزاد، اور اس عورت سے نکاح کر لیتا ہے تو وہ طلاق کو قبول کرنے والی ہے طلاق کا محل بن چکی ہے لہٰذا اب اس کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور اسی علت کی بناء پر کہ جو ہم نے ضابطہ بیان کیا کہ ہمارے نزدیک جو ہے معلق بالشرط سبب بنتا ہے حکم کا شرط کے پائے جانے کے وقت وہ صورت جب جس میں ملکیت حاصل نہ ہو اس میں تعلیق کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس معلق بالشرط کی نسبت اس کی اضافت کیا کیا جائے؟ کس کی طرف کی جائے؟ ملک کی طرف یا سببِ ملک، یعنی اس کو معلق کیا جائے ملک کے ساتھ یا سببِ ملک کے ساتھ تو تعلیق صحیح ورنہ تعلیق ہی صحیح نہیں۔ لہٰذا غیر کے غلام کو جب اس نے کہا ان ملکتک فانت حر، تو یہ تعلیق صحیح اس لیے کہ یہاں عدمِ ملک ہے یہ اس غلام کا مالک نہیں اور عدمِ ملک کی صورت میں ہم نے کیا شرط لگائی تھی؟ کہ نسبت کس کی جانب کی جائے؟ ملک کی جانب یا سببِ اور یہاں اس نے ملک کی جانب نسبت کی ہے ان ملکتک اگر میں تیرا مالک بنا تو تو کیا ہے؟ تو دیکھا مالک بننے کی طرف نسبت کر دی عدمِ ملک کی صورت میں تو تعلیق صحیح ہوئی۔ یا غلام کو یوں کہتا ہے ان اشتریتک فانت حر، تو دیکھا شراء کی طرف نسبت کر دی اور شراء بھی سبب ہے ملک کا، کوئی چیز خریدی جائے تو انسان اس کا کیا بن جایا کرتا ہے؟ مالک بنتا ہے، تو لہٰذا یہ تعلیق بھی صحیح اس لیے کہ یہاں پر حریت کو معلق کس کے ساتھ کیا گیا ہے؟ سببِ ملک کے ساتھ۔ اسی طرح اگر اجنبیہ عورت سے کہا ان تزوجتک فانت طالق، یہ تعلیق بھی ہمارے نزدیک صحیح اس لیے کہ یہاں طلاق کو معلق کیا گیا ہے کس صورت میں عدمِ ملک کی صورت میں، کس کے ساتھ معلق کیا گیا ہے؟ سببِ ملک کے ساتھ، کیونکہ نکاح سے بھی کیا حاصل ہو جاتی ہے؟ ملک حاصل ہو جاتی ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو عدمِ ملک مالک نہ ہونے کی صورت میں ضروری ہے کہ اس چیز کو اس حکم کو معلق کیا جائے ملک کے ساتھ یا سببِ ملک کے ساتھ۔ لہٰذا اگر ایک اجنبیہ عورت سے ایک شخص کہتا ہے ان دخلت الدار فانت طالق، اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے، تو یہ تعلیق ہمارے نزدیک صحیح نہیں کیونکہ وہ اجنبیہ میں اس کو ملک حاصل ہے؟ ملک حاصل نہیں، اور ملک حاصل نہیں تو اب ضروری تھا کہ اس انت طالق کو کس کے ساتھ معلق کیا جاتا؟ ملک کے ساتھ یا سببِ اور اس نے تو اس کو ملک یا سببِ ملک کے ساتھ معلق نہیں کیا بلکہ کس کے ساتھ معلق کیا ہے؟ دخولِ دار کے ساتھ، اور عدمِ ملک کی صورت میں جو شرط تھی کہ معلق ملک یا سببِ ملک کے ساتھ ہونا چاہیے وہ پوری نہ ہوئی لہٰذا یہ تعلیق بھی صحیح نہیں، اب وہ شخص اس عورت سے نکاح کر لیتا ہے اور اور وہ عورت گھر میں داخل ہوتی ہے اسی گھر میں تو طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ تعلیق ہی صحیح نہیں تھی۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو خلاصۂ کلام بھئی، جس پر اگلے آنے والے مسئلوں کی بناء بھی ہے، خلاصۂ بحث یہ نکلا ہمارے نزدیک عدمِ شرط مانع نہیں ہے حکم سے، ہمارے نزدیک عدمِ شرط حکم سے مانع نہیں ہے، جب کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عدمِ شرط حکم سے مانع ہے۔ کیا ضابطہ ہوا بھئی؟ ہمارے نزدیک جلدی لکھو بھئی، ہمارے نزدیک عدمِ شرط حکم سے مانع نہیں جب کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عدمِ شرط حکم سے مانع ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ ہمارے نزدیک عدمِ شرط حکم سے مانع نہیں جب کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عدمِ شرط حکم سے مانع ہے، دیکھا نہیں بھئی انہوں نے کیا کہا تھا؟ مثلاً ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا انت طالق ان دخلت الدار اپنی بیوی سے کہہ رہا ہے تو ان کے نزدیک یہ انت طالق یہ معلق بالشرط ہے اور یہ فی الحال طلاق کا سبب بنے گا لیکن شرط مانع ہے اس لیے طلاق واقع نہیں ہو رہی، شرط روکنے والی ہے بھئی طلاق کو وقوع سے۔ تو ان کے نزدیک عدمِ شرط مانع ہے حکم سے یہاں چونکہ دخولِ دار نہیں تو شرط معدوم ہوئی اور شرط معدوم ہے تو طلاق بھی واقع، ہاں جب دخولِ دار پایا جائے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی، جب کہ ہمارے نزدیک ان دخل اب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا انت طالق ان دخلت الدار اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق، ہمارے نزدیک یہ انت طالق فی الحال سبب نہیں بنے گا طلاق کا بلکہ یہ کس وقت بنے گا؟ دخولِ دار کے وقت سبب بنے گا، تو ان کے وقت ان کے نزدیک فی الحال سبب بنتا ہے لیکن مانع موجود ہوتا ہے اور وہ کیا؟ عدمِ شرط، اور ہمارے نزدیک فی الحال یہ سبب ہی نہیں بنتا تو یہ کس وقت سبب بنتا ہے؟ جب شرط پائے، اور اس وقت مانع عدمِ اصلی ہے، مانع کیا ہے؟ یعنی ہے ہی نہیں یہ کلام یوں سمجھیں انت طالق اس نے ابھی کہا ہی نہیں، جب دخولِ دار پایا جائے گا تو اس وقت سبب بنے گا تو گویا اس وقت انت طالق پایا گیا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ اختلاف ہے۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آگئی؟ تو خلاصہ کیا میں نے بتلایا ضابطہ؟ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عدمِ شرط مانع ہوتی ہے حکم سے جب کہ ہمارے نزدیک عدمِ شرط حکم سے مانع نہیں بلکہ ہمارے نزدیک مانع کیا ہوتا ہے؟ عدمِ اصلی، کیا ہوتا ہے؟ عدمِ اصلی کہ گویا اس سے ابھی تکلم ہی نہیں ہوا۔ تو اگلے آنے والے مسئلوں کی بناء اسی پر ہے کہ ہمارے نزدیک عدمِ شرط مانعِ حکم نہیں اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عدمِ شرط مانعِ حکم ہے، مصنف بھی ذکر کریں گے۔ وَكَذٰلِكَ طَوْلُ الْحُرَّةِ يَمْنَعُ جَوَازَ نِكَاحِ الْاَمَةِ عِنْدَهٗ لِاَنَّ الْكِتَابَ عَلَّلَ نِكَاحَ الْاَمَةِ بِعَدَمِ الطَّوْلِ فَعِنْدَ وُجُوْدِ الطَّوْلِ كَانَ الشَّرْطُ عَدَمًا وَّعَدَمُ الشَّرْطِ مَانِعٌ مِّنَ الْحُكْمِ فَلَا يَجُوْزُ اب تک جو بحث ہو گئی اس سے ایک بات کا آپ کو پتہ چلا ایک ضابطے کا اور وہ یہ کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عدمِ شرط مانع ہے حکم سے، یعنی جب شرط نہیں ہوگی تو حکم بھی نہیں پایا جائے گا، جب کہ ہمارے نزدیک عدمِ شرط حکم سے مانع نہیں ہے۔ چنانچہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ شخص جسے آزاد عورت سے نکاح پر قدرت حاصل ہو، وہ آزاد عورت سے نکاح کرنے پر قادر ہو اتنا مال ہو اس کے پاس کہ وہ آزاد عورت کا کیا کرے؟ خرچہ وغیرہ اٹھا سکے اور اس کو اس سے نکاح کرنے پر قادر ہو تو اس کے لیے باندی کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں بھئی، باندی کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں۔ کیا فرماتے ہیں امامِ شافعی رحمہ اللہ؟ کہ جو شخص آزاد عورت سے نکاح پر قادر ہو وہ باندی کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا۔ کیوں؟ دلیل ان کی یہ آیت ہے بھئی، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَيٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ، اور جو کوئی تم میں سے استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ نکاح کرے محصنات مؤمنات سے پاک دامن مؤمنہ عورتوں سے، فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ، فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ، پس ان سے جن سے جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں، جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں مِنْ فَتَيٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ، اور جو کوئی تم میں سے استطاعت نہیں رکھتا پاک دامن مؤمنہ عورتوں سے نکاح کی، فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ، پس ان میں سے جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہیں مِنْ فَتَيٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ، یہ بیان ہے ما کا بھئی کیا چیز کس کے ہمارے دائیں ہاتھ مالک ہیں کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں یعنی کہ مؤمنہ باندیاں، جو مؤمن باندھیاں ہیں ان سے کیا کر لو؟ نکاح کر لو بھئی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ جو تم میں سے آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا وہ مؤمنہ باندیوں سے کیا کر لے؟ نکاح کر لے، تو امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر باندی کے ساتھ نکاح کرنے کو معلق کیا گیا ہے عدمِ قدرت پر، باندی کے ساتھ نکاح کو کس چیز پر معلق کیا گیا ہے؟ عدمِ قدرت پر کہ باندی کے ساتھ وہ نکاح کرے جو آزاد عورت سے نکاح کرنے پر قادر نہ ہو۔ تو لہٰذا اگر کوئی شخص آزاد عورت سے نکاح پر قادر ہوا تو اس کے لیے باندی سے نکاح کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ ان کے نزدیک عدمِ شرط مانع ہے حکم سے، تو یہاں پر باندی سے نکاح کو معلق کیا گیا ہے کس چیز کے ساتھ؟ باندی کے ساتھ نکاح معلق ہے کس چیز کے ساتھ؟ عدمِ قدرت کے ساتھ، کس چیز کے ساتھ؟ عدمِ قدرت کے ساتھ، اور جب قدرت پائی گئی تو عدمِ قدرت نہیں ہوئی نہ پائی گئی بھئی، تو شرط کیا ہوئی؟ معدوم ہوئی، جب ایک شخص قادر ہے نکاح پر شرط تو کیا تھی کہ نکاح پر قادر نہ ہو، اور یہ تو ایک جو شخص نکاح پر قادر ہے تو شرط نہ پائی گئی شرط معدوم ہوئی اور عدمِ شرط ان کے نزدیک حکم سے مانع ہے لہٰذا اب اس شخص کے لیے باندی سے نکاح کرنا جائز نہیں، کیونکہ باندی سے نکاح کرنے کے لیے کیا شرط تھی؟ عدمِ قدرت، اور عدمِ قدرت ہے؟ عدمِ قدرت نہیں یعنی قدرت ہے، تو کیا کرے گا اب یہاں باندی کے ساتھ نکاح بھی جب عدمِ شرط آگئی تو عدمِ حکم بھی آگیا، جب شرط معدوم تو حکم بھی جی، تو عدمِ شرط حکم سے مانع ہے لہٰذا جو شخص باندی آزاد عورت سے نکاح پر قادر ہو وہ باندی کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا، مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وَكَذٰلِكَ طَوْلُ الْحُرَّةِ يَمْنَعُ جَوَازَ نِكَاحِ الْاَمَةِ عِنْدَهٗ، جی طول کا معنیٰ قدرت قدرت۔ وَكَذٰلِكَ طَوْلُ الْحُرَّةِ، اسی طرح آزاد عورت کی قدرت، یعنی آزاد عورت سے نکاح کی قدرت مراد ہے بھئی، کیا مراد ہے؟ اسی طرح بھئی۔ تو کہتے ہیں وَكَذٰلِكَ طَوْلُ الْحُرَّةِ يَمْنَعُ جَوَازَ نکاح الامة، اور اسی طرح آزاد عورت کے ساتھ نکاح کی قدرت یہ روکتا ہے جواز نکاح الامة، باندی کے نکاح کے جائز ہونے کو۔ باندی کے ساتھ نکاح کو یہ جائز نہیں ہونے دیتا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جب آزاد عورت سے نکاح پر قادر ہے، تو باندی کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ عندہ، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، لان الکتاب علق نکاح الامة بعدم الطول، اس لیے کہ کتاب اللہ نے معلق کیا ہے باندی کے نکاح کو کس چیز کے ساتھ؟ عدم الطول ای عدم القدرة، عدم قدرت پر۔ یعنی آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہ ہونے کے ساتھ۔ فعند وجود الطول، پس جس وقت قدرت پائی جائے گی، کان الشرط عدما، تو شرط کیا ہوئی؟ معدوم ہوئی، وعدم الشرط مانع من الحکم، اور عدم شرط تو کیا ہے حکم سے مانع ہے۔ فلا یجوز، تو باندی سے نکاح جائز نہیں۔ صورت مسئلہ سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ضابطہ کیا چل رہا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عدم شرط حکم سے مانع ہے، تو جہاں شرط نہیں ہوگی حکم بھی نہیں ہوگا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، باندی سے نکاح یہ معلق ہے کس چیز کے ساتھ؟ آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہ ہونے کے ساتھ، تو یہ اس کے لیے شرط ہے کہ آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہیں ہوگی تو پھر کیا کر سکتے ہو؟ باندی سے نکاح کر سکتے ہو۔ اور اگر آزاد عورت سے نکاح کی قدرت ہے تو شرط معدوم ہوئی۔ شرط تو کیا تھی کہ قدرت نہ ہو، اور اگر قدرت ہے تو کیا ہوئی شرط معدوم، اور عدم شرط یہ مانع ہے کس سے؟ حکم سے۔ ضابطہ کیا بیان ہوا تھا؟ عدم شرط کیا ہے؟ مانع ہے حکم سے، یعنی جب شرط نہیں پائی جائے گی تو حکم بھی نہیں پایا جائے گا، تو یہاں کی کون سا حکم تھا؟ باندی سے نکاح کرنے کا، تو لہذا جب قدرت آ گئی تو شرط معدوم ہوئی، جب شرط معدوم ہوئی تو اب باندی کے ساتھ نکاح بھی جائز نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو عدم شرط حکم سے مانع ہے، یہاں بھی جب شرط نہیں پائی جائے گی تو حکم بھی نہیں پایا جائے گا، اور باندی سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ باندی سے صرف اس وقت نکاح کر سکتے ہو جب آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہ ہو۔ وکذالک، اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی عورت کو طلاق بائن دے دے بھئی، تو اس مطلقہ بائنہ کے لیے اس شخص پر نفقہ نہیں ہوگا سوائے ایک صورت کے کہ جب کہ وہ مطلقہ حاملہ ہو۔ ہمارے نزدیک تو بھئی خاوند نے اگر طلاق بائن دے دی تو عدت کے دوران نفقہ کس پر لازم ہے؟ خاوند پر واجب ہے، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نفقہ واجب نہیں، صرف ایک صورت میں نفقہ واجب ہے جب کہ وہ عورت کیا ہو؟ حاملہ۔ جب کہ ہمارے نزدیک چاہے حاملہ ہو چاہے غیر حاملہ، دونوں صورتوں میں مطلقہ بائنہ کا نفقہ کس پر آئے گا؟ خاوند پر آئے گا عدت کے دوران بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ دلیل ذکر کرتے ہیں، کہتے ہیں قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں: وان کن اولات حمل فانفقوا علیہن حتی یضعن حملہن، اور اگر وہ مطلقات حمل والیاں ہوں، وان کن، اگر وہ کیا ہوں؟ حمل والیاں ہوں، وان کن اولات حمل، اگر وہ مطلقات حمل والیاں ہوں، فانفقوا علیہن، تو ان پر کیا کرو؟ خرچ کرو، ان کو نفقہ دو، حتی یضعن حملہن، یہاں تک کہ وہ اپنے حمل وضع کر دیں، یہاں تک کہ وہ اپنے حمل وضع کر دیں، یعنی اسے جنم دے دیں بھئی، جنم دے دیں۔ تو اس وقت تک بھئی، حاملہ عورت کی عدت کتنی ہے؟ وضع حمل تک، تو جب تک وضع حمل نہیں اس وقت تک نفقہ خاوند پر آئے گا۔ اور جو عورت حاملہ نہیں مطلقہ بائنہ، اس کا نفقہ خاوند کے ذمہ بھی نہیں، یہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ دلیل یہ ہے، آیت ہے مولانا، کہتے ہیں دیکھیے اس آیت کے اندر اللہ تعالی نے نفقے کو معلق فرمایا کس چیز کے ساتھ؟ اس مطلقہ کے حاملہ ہونے کے ساتھ کہ اس پر خرچ کرو اگر وہ کیا ہو؟ حاملہ ہو۔ تو نفقے کی کیا شرط لگائی گئی؟ حاملہ ہونے کی شرط، اور اگر وہ حاملہ نہ ہوئی تو شرط کیا ہوئی؟ معدوم، اور جب شرط معدوم ہو، عدم شرط آ جائے تو یہ مانع ہوتی ہے کس چیز سے؟ حکم سے۔ لہذا حکم سے بھی مانع ہے، جب حاملہ نہیں ہوگی تو پھر عورت پر نفقہ دینا بھی لازم نہیں ہوگا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وکذالک قال الشافعی رحمہ اللہ تعالی، اور اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، لا نفقة للمبتوتة، نفقہ نہیں ہے بتوتہ، مطلقہ بائنہ بھئی، نفقہ نہیں ہے مطلقہ بائنہ عورت کے لیے، الا اذا کانت حاملا، مگر اس وقت جب کہ وہ حاملہ ہو، لان الکتاب علق الانفاق بالحمل، اس لیے کہ کتاب اللہ نے معلق کیا ہے خرچ کرنے کو حمل کے ساتھ، لقولہ تعالی، اللہ کے اس قول کی وجہ سے: وان کن اولات حمل، اور اگر وہ مطلقات جو ہیں حمل والیاں ہوں، فانفقوا علیہن، تو ان پر خرچ کرو، حتی یضعن حملہن، یہاں تک کہ وہ اپنے حمل وضع کر دیں، یعنی انہیں جنم دیں۔ فعند عدم الحمل، عدم حمل کی صورت میں، جب حاملہ نہ ہو، تو کان الشرط عدما، تو شرط کیا ہوئی؟ معدوم ہوئی، وعدم الشرط مانع من الحکم عندہ، اور عدم شرط حکم سے مانع ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ حاملہ ہو تو خرچ کرنا ہے، تو حاملہ ہوگی تو خرچ کرنے کا حکم بھی آئے گا، حاملہ نہیں تو خرچ کرنے کا حکم بھی نہیں آئے گا بھئی۔ جب کہ ہمارے نزدیک، وعندنا لما لم یکن جی، ہمارے نزدیک عدم شرط حکم سے مانع نہیں ہے، مانع نہیں، لہذا شرط معدوم ہونے سے حکم کا معدوم ہونا لازم نہیں آئے گا، بلکہ حکم کسی اور دلیل سے بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے نزدیک تو عدم شرط حکم سے مانع ہے، حکم ہی پایا حکم ہی معدوم ہوگا، لیکن ہمارے نزدیک عدم شرط حکم سے مانع نہیں، بلکہ حکم کسی اور دلیل سے بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ جیسے امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب آزاد عورت پر نکاح کی قدرت ہو تو پھر باندی کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ جب قدرت ہوئی تو عدم شرط آئی، اور جب عدم شرط آئی تو پھر حکم بھی حکم سے یہ کیا بن جائے گی؟ مانع بن جائے گی، لہذا باندی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا۔ جب کہ ہم اس کے مقابلے میں وہ نصوص ذکر کرتے ہیں جن میں عام حکم دیا گیا ہے بھئی، جن میں کیسا حکم دیا گیا ہے؟ عام حکم مطلق دیا گیا ہے، جیسے یہ کتاب اللہ کی آیت ہے: واحل لکم ما وراء ذلکم، اور تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے ان کے علاوہ کو، تمہارے لیے ان کے علاوہ کو کیا کر دیا گیا ہے؟ بھئی کتاب اللہ کے اندر ان عورتوں کا تذکرہ آیا جن کے ساتھ نکاح کرنا کسی کے لیے حرام ہے، یعنی ماں ہے، بہن ہے، بیٹی ہے وغیرہ، ان کا ذکر آیا۔ کتاب اللہ میں ان کے ساتھ نکاح کو کیا قرار دیا گیا؟ حرام کہ ان کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں، پھر ان عورتوں کے تذکرے کے بعد اللہ جل شانہ فرماتے ہیں: واحل لکم ما وراء احل لکم ما وراء ذلکم، ان کے علاوہ جو ہیں وہ تمہارے لیے کیا کر دی گئی ہیں؟ حلال کر دی گئی ہیں، اور ان کے علاوہ میں تو باندیاں بھی آ گئیں، کون آ گئیں؟ معلوم ہوا باندی کے ساتھ نکاح کرنا بھی حلال ہے۔ تو یہاں احل لکم، دیکھو خطاب بھی عام ہے۔ خطاب تمہارے لیے حلال کر دیا گیا، کن کو خطاب ہو رہا ہے یہ؟ مومنین کو، کن کو خطاب ہو رہا ہے؟ مومنین کو، اور یہ خطاب عام ہے، قدرت والے کو بھی شامل ہے اور عدم قدرت والے کو بھی شامل ہے، مومنین بس، تو اس میں قدرت والے بھی آ گئے، کوئی قید ہے کہ صرف قدرت والے مراد ہوں یا عدم قدرت والے مراد ہوں؟ نہیں، تمہارے لیے حلال ہیں ما وراء ذلکم، اس کے علاوہ، اور ما وراء ذلکم اس کے علاوہ میں بھی عموم ہے، اس میں وہ ساری عورتیں آ گئیں جو مذکورہ کے علاوہ مذکور کے علاوہ ہوں، اور باندی بھی تو عورت ہے، وہ بھی اس میں کیا ہو گئی؟ شامل ہو گئی، اور وہ بھی کیا اس کا کیا حکم دیا گیا؟ وہ حلال کر دی گئیں، تو اس کے ساتھ بھی معلوم ہوا نکاح کرنا حلال ہوا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو خطاب بھی عام اور ما وراء ذلکم یہ بھی کیا ہے؟ عام ہے، تو عام نصوص سے حلت نکاح ثابت ہوئی باندی کے ساتھ، اگرچہ کوئی شخص قادر ہو کس چیز پر؟ آزاد عورت سے نکاح پر۔ اسی طرح دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں: فانکحوا ما طاب لکم من النساء، پس تم نکاح کر لو وہ جو تمہیں پسند ہوں عورتوں میں سے، یعنی عورتوں میں سے جو پسند ہوں شرعاً تمہارا ان کے ساتھ نکاح جائز ہو، ان کے ساتھ کیا کر لو؟ نکاح، یعنی ان کے ساتھ تم نکاح کر سکتے ہو بھئی۔ اب یہاں فانکحوا میں خطاب عام ہے بھئی، قدرت والے کو ہے یا عدم قدرت والے کو ہے؟ جی؟ عام ہے، سب کو ہے، اس میں تم بھئی، فانکحوا تم اے مومنو! نکاح کر لو، تو خطاب عام ہے، یہ عدم قدرت والے کو بھی شامل ہے اور قدرت والے کو بھی شامل ہے، اور آگے آیا من النساء، النساء کا لفظ آیا عورتیں، اور عورتیں عام ہیں، اس میں باندیاں بھی داخل ہو گئیں، تو معلوم ہوا باندی کے ساتھ نکاح کرنا بھی جائز ہوا، چاہے قدرت والا ہو یا قدرت والا نہ ہو، دونوں صورتوں میں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو خطاب بھی عام ہوا اور النساء کا لفظ بھی عام ہوا۔ دوسرا مسئلہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ذکر کیا تھا؟ کہ اگر مطلقہ بائنہ حاملہ ہوگی تو اس پر خرچ کیا جائے گا، اگر وہ حاملہ نہیں تو اس کو نفقہ بھی نہیں دیا جائے گا، اس لیے کہ ان کے نزدیک عدم شرط کیا ہے؟ حکم سے مانع ہے۔ ہمارے نزدیک عدم شرط حکم سے مانع نہیں ہے، بلکہ حکم کسی اور دلیل سے بھی ثابت ہو سکتا ہے، جیسے یہاں پر بھئی ہمارے نزدیک حاملہ ہو یا حاملہ نہ ہو، دونوں صورتوں میں نفقہ دیا جائے گا مطلقہ بائنہ کو، اور ہماری دلیل وہ نصوص ہیں جن میں عموم ہے بھئی، جو عام ہیں، ہر ایک کو شامل ہیں۔ جیسے مولانا، کتاب اللہ میں اللہ فرماتے ہیں: وعلى المولود له رزقهن وکسوتهن بالمعروف، مولود لہُ پر، وعلى المولود له، مولود لہُ پر ان عورتوں کا رزق بھی ہے اور ان کے کپڑے بھی ہیں، کپڑے پہنانا بھی ہے، بالمعروف اچھے طریقے کے ساتھ۔ مولود لہُ سے مراد ہے والد جس کے لیے جنم دیا گیا، مولود لہُ جس کے لیے اس بچے کو پیدا کیا گیا، جنم دیا، تو جس کے لیے پیدا کیا گیا، تو اب وہ کون ہے بھئی؟ خاوند ہے، کون ہے اس عورت کا؟ تو وہ خاوند یعنی اپنی بیویوں پر خرچ کرے اور ان کو کپڑے پہنائے اچھے طریقے کے ساتھ، تو یہاں پر کوئی قید ہے کہ حمل والی ہو تو خرچ کرو، حمل والی نہ ہو تو خرچ؟ تو یہاں عام حکم دیا گیا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ہن کی ضمیر عام ہے، حمل والی کو بھی شامل، غیر حاملہ کو بھی شامل۔ اسی طرح دوسری جگہ آتا ہے: وانفقوا علیہن، اور خرچ کرو ان عورتوں، ان بیویوں پر، ان پر کیا کرو؟ تو یہاں بھی ہن کی ضمیر عام ہے، حمل والی کو بھی شامل ہے اور غیر حمل والی کو بھی شامل ہے، معلوم ہوا سب کو نفقہ دینا پڑے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں دو مسئلے ذکر ہوئے کہ آپ باندی کے ساتھ نکاح کرنا قدرت کے ہوتے ہوئے ہمارے نزدیک جائز، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں۔ دوسرا مسئلہ ذکر ہوا کہ مطلقہ بائنہ کا اگر حمل والی ہو تو پھر نفقہ دیا جائے گا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ورنہ نفقہ، جب کہ ہمارے نزدیک مطلقہ بائنہ کو ہر حال میں نفقہ دیا جائے گا چاہے وہ حاملہ ہو یا حاملہ نہ ہو، اور اس تا ان دونوں مسئلوں کی بناء کس مس ضابطے پر ذکر کی ہے مصنف کتاب نے؟ کہ عدم شرط امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جو ہے عدم شرط حکم سے مانع ہے، اور ہمارے نزدیک عدم شرط حکم سے مانع نہیں ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ ان مسئلوں کی بناء ایک اور ضابطے پر ہے بھئی، دوسرے ضابطے پر ہے، اس ضابطے پر نہیں۔ وہ دوسرا ضابطہ جس میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، یہ دونوں مسئلے اس ضابطے کے تحت اس پر مرتب ہوتے ہیں۔ ضابطہ یہ کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مفہوم مخالف معتبر ہے، اس کا اعتبار کیا جاتا ہے، جب کہ ہمارے نزدیک مفہوم مخالف معتبر نہیں۔ مثالوں سے بات آسانی سے سمجھ میں آ جائے گی، آسان بحث ہے آج بھئی۔ تو مصنف کیا فرما رہے ہیں کہ یہ جو دو مسئلے ذکر کیے ان کی بناء کس ضابطے پر ہے؟ کہ ہمارے نزدیک عدم شرط حکم سے مانع نہیں، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عدم شرط حکم سے مانع ہے، اس پر ہے، اور بعض علماء کیا فرماتے ہیں؟ مسئلوں کی بناء ایک اور ضابطے پر ہے جس میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مفہوم مخالف معتبر ہے، اس کا اعتبار کیا جائے گا، ہمارے نزدیک مفہوم مخالف معتبر نہیں، اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ دیکھیے مثالوں سے بات سمجھ میں آئے گی۔ کیسے؟ اس مسئلے پر کیسے بناء ہے؟ کہتے ہیں دیکھیے بھئی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کتاب اللہ میں باندی کے ساتھ نکاح کو معلق کیا گیا کس چیز کے ساتھ؟ عدم قدرت، یعنی اللہ فرما رہے ہیں کہ اگر تم آزاد عورت سے نکاح پر قادر نہیں ہو تو باندی سے نکاح کر لو، اس کا مفہوم مخالف کیا نکلا؟ کہ اگر قادر ہو آزاد عورت سے نکاح پر تو نکاح باندی سے نہ کرو۔ نکلا یا نہیں اس کا مفہوم مخالف؟ تو لہذا، تو لہذا مفہوم مخالف چونکہ ان کے نزدیک معتبر ہے، اس لیے قدرت کے ہوتے ہوئے اب نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا باندی کے ساتھ۔ جب کہ ہمارے نزدیک تو مفہوم مخالف معتبر ہی نہیں۔ اسی طرح اگلا مسئلہ بھی اسی طرح ہے، وہ اس کی بناء بھی اسی ضابطے پر ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مفہوم مخالف معتبر، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے کیا فرمایا؟ کہ اگر وہ مطلقہ بائنہ حمل والی ہو تو اس پر کیا کرو؟ خرچ کرو، معلوم ہوا کہ اگر وہ حمل والی نہیں تو اس پر خرچ نہ کرو، تو مفہوم مخالف یہ نکلا کہ حمل والی نہ ہو تو خرچ نہ کرو۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جی، لیکن ہمارے نزدیک مفہوم مخالف معتبر ہی نہیں، اس لیے اگر حمل والی نہ ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس پر خرچ بھی نہیں کیا جائے گا، سمجھ میں آیا؟ ہم یہ کہتے ہیں کہ مفہوم مخالف، یہاں آیت سے تو صرف اتنا پتہ چل رہا ہے کہ اگر حمل والی ہے تو اس پر خرچ کرو، حمل والی ہے تو اس پر، اگر حمل والی نہ ہو تو اس پر خرچ، اس سے یہ تو نہیں معلوم ہوتا، اس سے تو صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ حمل والی ہو تو اس پر کیا کرو؟ خرچ، لیکن اس سے یہ مفہوم مخالف کو نکالنا کہ اگر حمل والی نہیں تو خرچ بھی نہ کرو، یہ صحیح نہیں ہمارے نزدیک۔ اسی طرح اوپر والے مسئلے کے اندر کیا آپ نے ذکر کیا کہ اگر قدرت ہو تو پھر باندی سے نکاح نہ کرو۔ ہم کہتے ہیں یہ مفہوم مخالف آپ نے نکالا، یہ ہمارے نزدیک معتبر نہیں۔ آیت سے تو صرف یہ پتہ چل رہا ہے کہ اگر قدرت نہ ہو آزاد عورتوں سے نکاح پر تو پھر کس سے کر لو؟ باندی سے کر لو۔ اس سے یہ تو پتہ نہیں چل رہا کہ اگر قدرت ہو تو باندی سے نکاح نہ کرو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وعندنا لما لم يكن عدم الشرط مانعا من الحكم، اور ہمارے نزدیک جب عدم شرط حکم سے مانع نہیں ہے، جاز أن يثبت الحكم، یہ "لا" نہیں ہونا چاہیے مولانا، یہ کتابت کی غلطی میں نے بتایا آپ کو بھئی۔ جاز أن يثبت الحكم بدليله، جائز ہے کہ ثابت ہو حکم اپنی دلیل کے ساتھ بھئی۔ ہمارے نزدیک عدم شرط حکم سے مانع نہیں، حکم اپنی دلیل کے ساتھ، کسی اور دلیل کے ساتھ ثابت ہو سکتا ہے۔ فيجوز نکاح الأمة، پس جائز ہے باندی کے ساتھ نکاح، ويجب الإنفاق، اور اسی طرح حاملہ کے علاوہ، غیر حاملہ پر خرچ کرنا، بالعمومات، عام نصوص کے، وہ نص جو کیا ہیں؟ اس کی، وہ نصوص جو کیا ہیں؟ عام ہیں، مطلق ہیں جن میں کسی قسم کی قید نہیں، جو میں نے ذکر کر دیں مولانا۔ دیکھیے، دلیلیں میں نے ذکر کیں، دوبارہ بھی ذکر کر دیتا ہوں۔ فيجوز نکاح الأمة، پس جائز ہوگا باندی سے نکاح، ويجب الإنفاق، اور خرچ کرنا واجب ہوگا بالعمومات، جن کے ساتھ؟ عموماً، عموم والی نصیں جو ہیں، جن میں عموم آیا ہے، جو مطلق آئی ہیں، ان کے سبب سے یہ چیزیں دونوں جائز۔ اور وہ کون سی عام نصیں ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا، پہلی کیا ہے؟ وأحل لكم ما وراء ذلكم، اسی طرح ہے: فانكحوا ما طاب لكم من النساء۔ یہ تو تھا کس میں؟ باندی سے نکاح کے جواز کے لیے۔ اور دوسرا نفقے کے لیے: وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف، یہ پہلی نص۔ اور اسی طرح: وأنفقوا عليهن، یہ دوسری نص ہے بھئی۔ ومن توابع هذا النوع ترتب الحكم على الاسم الموصوف، اور اسی نوع کے توابع میں سے ہے، اسی نوع کے، بھئی یہ جو تعلیق بالشرط کا ضابطہ گزرا، اسی کے توابع میں سے ہے: ترتب الحكم على الاسم الموصوف بصفة، حکم کا مرتب ہونا اس اسم پر جو موصوف ہو رہا ہو کسی صفت کے ساتھ۔ یاد رکھو، اگر کوئی اسم موصوف ہو کسی صفت کے ساتھ اور اس پر کوئی حکم مرتب ہو رہا ہو—کیا بات بیان ہوئی؟ اگر کوئی اسم کسی صفت کے ساتھ موصوف ہو، اور اس اسمِ موصوف پر کوئی حکم مرتب ہو رہا ہو—تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ صفت بھی شرط کے درجے میں ہے۔ یہ صفت بھی شرط کے درجے میں ہے۔ یہ صفت ہوگی تو حکم بھی ہوگا، یہ صفت نہیں ہوگی تو حکم بھی نہیں، اس لیے کہ یہ صفت ہے شرط کے درجے میں، اور شرط ہوگی تو حکم پایا جائے گا، اور اگر شرط نہ ہو، عدم شرط ہو، تو یہ عدم شرط حکم سے مانع ہے، لہٰذا عدم صفت بھی کیا ہوگی؟ حکم سے مانع ہوگی بھئی۔ تو چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ مومنہ باندی کے ساتھ نکاح کرنا تو جائز ہے، لیکن کتابیہ باندی کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں۔ اہل کتاب میں سے عیسائی یا یہودی باندی ہو تو ان کے نزدیک نکاح کرنا جائز، جبکہ ہمارے نزدیک چاہے باندی مومنہ ہو، چاہے اہل کتاب میں سے ہو، یہودی یا عیسائی ہو، اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔ اختلاف سمجھ میں آیا بھئی؟ ہمارے نزدیک کیا مسئلہ ہوا؟ اگر باندی مومنہ ہو یا اہل کتاب میں سے ہو تو اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مومنہ ہوگی تو نکاح جائز ہے، مومنہ نہیں تو نکاح بھی جائز نہیں۔ دلیل ان کی کیا ہے؟ دلیل ان کی یہی آیت جو ابھی ذکر ہوئی تھی: من فتياتكم المؤمنات، مومنہ باندیوں میں سے—کس میں سے؟ کن سے نکاح کر لو؟ مومنہ باندیوں سے۔ تو دیکھا؟ یہاں باندی فتيات کی صفت کیا لائی گئی؟ مؤمنات لائی گئی، اور اس پر حکم مرتب ہو رہا ہے نکاح کرنے کا—کس چیز کا؟ کہ نکاح کر لو مومنہ باندیوں کے ساتھ۔ تو یہاں یہ اسم موصوف ہو رہا ہے مؤمنات کی صفت کے ساتھ، تو جہاں یہ صفت پائی جائے گی تو حکم یعنی نکاح بھی جائز ہوگا، اور جہاں یہ صفت نہیں تو وہاں نکاح بھی جائز نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے بھئی! ومن توابع هذا النوع، اور اسی نوع کے توابع میں سے ہے: ترتب الحكم على الاسم الموصوف بصفة، حکم کا مرتب ہونا اس اسم پر جو موصوف ہو کسی صفت کے ساتھ۔ فإنه بمنزلة تعليق الحكم بذلك الوصف عنده، یہ تعلیقِ حکم کے درجے میں ہے بذلك الوصف، اس وصف کے ساتھ—ایسے اسم پر حکم کا مرتب کرنا جس کی کیا ذکر کی جائے؟ صفت ذکر کی جائے بھائی—یہ اس حکم کو معلق کرنا ہے اس وصف کے ساتھ عنده، أي عند الشافعي رحمه الله، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ تو یہ اس وصف کے ساتھ اس حکم کو معلق کرنے کے درجے میں ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دوبارہ ترجمہ دیکھ لو: فإنه بمنزلة تعليق الحكم بذلك الوصف عنده، تو یہ، آخر سے ترجمہ کریں۔ تو یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس وصف کے ساتھ حکم کو معلق کرنے کے درجے میں ہے بھئی۔ اس وصف کے ساتھ حکم کو معلق کرنے کے درجے میں ہے، لہٰذا جب وصف پایا جائے گا تو حکم بھی پایا جائے گا، وصف نہیں ہوگا تو حکم بھی نہیں ہوگا بھئی۔ وعلى هذا، اور اسی بناء پر قال الشافعي رحمه الله، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لا يجوز نکاح الأمة الكتابية، جائز نہیں ہے کتابیہ باندی کا نکاح بھئی، یعنی اہل کتاب، وہ باندی جو اہل کتاب میں سے ہو اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے۔ لأن النص رتب الحكم على أمة مؤمنة، اس لیے کہ نص نے مرتب کیا ہے حکم کو کس پر؟ على أمة مؤمنة، مومنہ باندی پر حکم کو مرتب کیا ہے، یعنی نکاح کو۔ لقوله تعالى، اللہ کے اس قول کی وجہ سے: من فتياتكم المؤمنات۔ تو دیکھا، فتيات کی صفت کیا لائی گئی؟ مؤمنات لائی گئی، تو یہ صفت کے ساتھ مقید۔ ففيتقيد بالمؤمنة، تو یہ حکم مقید ہوا کس کے ساتھ؟ مومنہ کے ساتھ یعنی، یعنی ان، یہ نکاح، باندیوں کے سے، باندیوں کے ساتھ نکاح کے جائز ہونے کا جو حکم ہے، یہ مقید ہو گیا کس کے ساتھ؟ سمجھ میں آیا؟ ففيتقيد کے نیچے انہوں نے ضمیر بتلا دی، 'هو' ضمیر ہے، کس کو راجع ہے؟ حکم جواز نکاحهن، یہ بتلا دیا، فاعل کی ضمیر اس کو راجع ہے۔ مقید ہے، کیا مقید ہے؟ ان باندیوں کے ساتھ نکاح کے جائز ہونے کا حکم بھئی۔ ان باندیوں کے ساتھ نکاح کے جائز ہونے کا حکم مقید ہے بالمؤمنة، کس کے ساتھ؟ مومنہ کے ساتھ، کہ باندی مومنہ ہوگی تو نکاح جائز، باندی مومنہ نہیں تو نکاح جائز نہیں۔ فيمتنع الحكم عند عدم الوصف، تو پس حکم ممتنع ہوگا عند عدم الوصف، جب وصف نہ پایا جائے۔ فلا يجوز نکاح الأمة الكتابية، لہٰذا جائز نہیں ہے کتابیہ باندی کے ساتھ نکاح بھئی۔ کتابیہ باندی کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے۔ تو یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، جبکہ ہمارے نزدیک باندی اہل کتاب میں سے ہو تو بھی اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے، جائز ہے۔ اس لیے کہ ہمارے نزدیک عدم شرط حکم سے مانع نہیں، اسی طرح عدم وصف بھی حکم سے مانع نہیں ہے۔ یا اس مسئلے کی بناء بھی اسی مفہومِ مخالف کے معتبر ہونے پر ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کیا ہے؟ مفہومِ مخالف معتبر ہے، ہمارے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر نہیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ نکاح کر لو مومنہ باندیوں کے ساتھ۔ معلوم ہوا اگر مومنہ نہ ہو تو نکاح نہ کرو۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ مفہومِ مخالف کا اعتبار کیا انہوں نے، جبکہ ہمارے نزدیک تو مفہومِ مخالف معتبر ہی نہیں۔ پھر اشکال ہوتا ہے ہم پر کہ پھر یہ مومنہ کی صفت کیوں لائی گئی؟ اس کا فائدہ کیا ہے؟ اشکال ہوتا ہے یا نہیں ہوتا بھئی؟ بھئی! جواب یہ کہ یہ استحباب کے لیے لائی گئی، بتلایا گیا مستحب یہ ہے کہ کس سے نکاح کرو؟ مومنہ باندی سے نکاح کرو۔ تو مومنہ باندی سے نکاح کرنا مستحب ہوا، پسندیدہ ہوا مولانا، سمجھ میں آیا؟ دلیل کیا ہے اس بات کی کہ یہ مستحب ہے؟ جواب یہ کہ آپ یہ تو جانتے ہیں کہ آزاد عورت چاہے مومنہ ہو چاہے اہل کتاب، اس کے ساتھ بالاتفاق نکاح جائز ہے۔ جائز ہے یا جائز نہیں ہے؟ بالاتفاق تمام ائمہ کے نزدیک آزاد عورت مومنہ ہو تو اس کے ساتھ نکاح ہے جائز، اگر اہل کتاب میں سے ہو، یہودی یا عیسائی ہو، تو اس کے ساتھ بھی نکاح جائز ہے۔ تو یہ تو اتفاقی مسئلہ ہے اور حالانکہ یہاں پر محصنات کی صفت، مؤمنات بھی تو لائی گئی آیت میں: ومن لم يستطع منكم طولا أن ينكح المحصنات المؤمنات—کہ جو تم میں سے استطاعت نہیں رکھتا، قدرت نہیں رکھتا پاک دامن مومنہ عورتوں کے ساتھ نکاح کی—تو کیا صفت لائی گئی محصنات کی؟ مؤمنات۔ حالانکہ صرف مومنات کے ساتھ ہی نکاح جائز ہے یا اہل کتاب کے ساتھ بھی جائز ہے؟ کس کے ساتھ؟ اہل کتاب کے ساتھ بھی نکاح بالاتفاق جائز ہے۔ تو یہاں بھی تو صفت ذکر کی جا رہی ہے۔ تو، اور مسئلہ تو ہے اتفاقی۔ معلوم ہوا جیسے یہ صفت استحباب کے لیے ذکر ہوئی کہ مستحب کیا ہے کس سے کرو نکاح؟ مومنہ کے، آزاد عورت بھی کون سی ہو؟ مومنہ عورت۔ تو جیسے یہاں استحباب کے لیے ہے تو باندیوں کے اندر بھی جو مؤمنات کی صفت لائی گئی وہ کس لیے لائی گئی؟ استحباب کے لیے لائی گئی مولانا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔