فصل في وجوه البيان. البيان على سبعة أنواع: بيان تقرير، وبيان تفسير، وبيان تغيير، وبيان ضرورت، وبيان حال، وبيان عطف، وبيان تبديل. حروف معاني کی بحث ختم ہوئی اور اب كتاب اللہ کی آخری بحث مصنف ذکر کریں گے۔ کتاب کے شروع میں انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ادلہ شرعیہ چار ہیں بھئی! شرعی مسائل میں چار چیزیں دلیل بنتی ہیں بھئی! ایک كتاب اللہ ہے، ایک سنت رسول ہے، ایک اجماع امت ہے اور ایک قياس ہے۔ اور ان میں سے سب سے طویل بحث كتاب اللہ کی کی اور آج اس کی آخری بحث ہے۔ اس کے بعد پھر سنت رسول، اجماع امت اور قياس کی بحث کریں گے۔ تو آخری بحث وجوہ بیان کے بارے میں ہے: فصل في وجوه البيان، اي هذا فصل في وجوه البيان، بيان کے طريقوں میں، بيان کے طريقوں میں۔ پہلے بيان كہتے کس کو ہیں بھئی؟ بيان کا لغوی معنی ہے ظاہر کرنا۔ بيان کا لغوی معنی کیا ہے؟ ظاہر کرنا۔ اور اصطلاح میں وہ امر جو کسی کی مراد کو ظاہر کر دے، وہ امر جو کسی کی مراد کو ظاہر کر دے اسے بيان کہتے ہیں۔ تو بيان کسے کہتے ہیں؟ وہ امر جو کسی کی مراد کو ظاہر کر دے وہ بيان کہلاتا ہے بھئی! وہ امر جو کسی کی مراد کو کیا کر دے؟ ظاہر کر دے، بيان کہلاتا ہے۔ کہتے ہیں: البيان على سبعة أنواع، بيان سات انواع پر ہے، سات قسم پر ہے بھئی! اس کی سات قسمیں ہیں: بيان تقرير، بيان تفسير، بيان تغيير، بيان ضرورت، بيان حال، بيان عطف اور بيان تبديل۔ أما الأول، پہلا یہ ہے مولانا! یعنی بيان تقرير یہ ہے: فهو أن يكون معنى اللفظ ظاهرا لكنه يحتمل غيره فبين المراد بما هو الظاهر فيتقرر حكم الظاهر ببيانه. سورت سمجھ میں آئی بھئی؟ بيان تقرير کسے کہتے ہیں؟ کہ متکلم نے ایک کلام کیا، اس کلام کی مراد ظاہر تھی بھئی! ایک مراد اس کی ظاہر تھی کہ یہ مراد ہے، البتہ اس میں غیر کا بھی احتمال تھا۔ اب متکلم کوئی ایسا لفظ لاتا ہے کہ وہی جو ظاہر معنی تھا اس کا، اسی کو کیا کر دیتا ہے؟ پکا کر دیتا ہے، اور وہ جو غیر کا احتمال تھا اس کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ بيان تقرير کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ آسان سی بات ہے، بڑی آسان بحث ہے مولانا! دیکھیے! مثالوں سے بات بالکل واضح ہو جائے گی۔ کہتے ہیں: پہلا یہ کہ لفظ کا معنی تو ظاہر ہو لیکن وہ غیر کا بھی احتمال رکھتا ہو، پھر اس نے بیان کر دیا اپنی مراد کو بما هو الظاهر اس چیز کے ساتھ جو ظاہر تھی، یعنی جو ظاہر تھا اسی کو بیان کر دیا فيتقرر حكم الظاهر ببيانه، تو پکا ہو گیا ظاہر کا حکم اس کے بیان کے ساتھ۔ ومثاله، اور مثال بیان تقریر کی: إذا قال لفلان علي قفيز حنطة. کسی شخص نے کہا: فلان کے مجھ پر ایک قفيز حنطہ کا ہے۔ قفيز پیمانہ ہے مولانا گندم ناپنے کا۔ فلان کا مجھ پر گندم کا ایک قفيز ہے، اس نے صرف یہ بات کہی، مطلق قفيز بولا۔ اور مطلق قفيز جب بولا جائے تو اسی شہر کا قفيز مراد ہوتا ہے، اسی شہر کا پیمانہ مراد ہوتا ہے جو اس شہر میں شائع ہو، استعمال ہوتا ہو۔ آگے اس نے پھر خود ہی کہہ دیا: قفيز البلد یا قفيز هذا البلد، تو اس نے خود ہی تفسیر کر دی، خود ہی بیان کر دیا مولانا! مطلق تھا، پہلے جب اس نے کہا: لفلان علي قفيز حنطة، فلان کا مجھ پر ایک قفيز گندم کا ہے اور مطلق قفيز بولا اور مطلق قفيز بولا جائے تو کونسا قفيز ہوتا ہے؟ اسی شہر کا قفيز مراد ہوتا ہے۔ تو یہاں اس کا یہ معنی ظاہر تھا، اس کو کس پر محمول کیا جاتا؟ اسی شہر کے قفيز پر اس کو محمول کیا جائے گا کہ اس پر اسی شہر کا قفيز ہے جو اس شہر میں شائع ہو، استعمال ہوتا ہو۔ لیکن احتمال غیر کا بھی ہے کہ ہو سکتا ہے کسی اور شہر کا قفيز اس نے مراد لیا ہو۔ لیکن آگے اس نے خود ہی کہہ دیا: قفيز هذا البلد، اس شہر کا قفيز، اس شہر کا قفيز۔ تو دیکھا! وہی معنی جو ظاہر تھے، ظاہر بھی کیا تھا؟ کہ مطلق بولا ہے تو اسی شہر کا قفيز مراد ہے۔ اس نے اسی معنی کو پکا کر دیا۔ البتہ اس میں غیر کا بھی احتمال تھا، اب یہ جو قفيز البلد بولا تو وہ غیر کا احتمال بالکل ہی ختم ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو وہی معنی جو ظاہر تھا اسی کو کیا کر دیا؟ پکا کر دیا۔ تو ظاہر کیا تھا لفلان علي قفيز حنطة سے؟ کیا ظاہر تھا؟ اسی شہر کا ہے، اور پھر آگے اس نے اسی معنی، اسی ظاہری معنی کو کیا کر دیا؟ پکا کر دیا قفيز هذا البلد کہہ کر۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ومثاله: إذا قال لفلان علي قفيز حنطة، اور بیان کیا اس کو بقفيز البلد، کس کے ساتھ بھئی؟ قفيز بلد کے ساتھ۔ أو ألف من نقد البلد، یا کسی نے یوں کہا: لفلان علي ألف، لفلان علي ألف، اب اس نے اپنے اوپر ألف کا اقرار کیا ہے مثلاً زید کے لیے، اور مطلق ألف بولا ہے، اس نے کوئی تعیین کی کونسی نقدی مراد ہے؟ کس شہر کی نقدی مراد ہے؟ یہ اس نے ذکر نہیں کیا، اور جب مطلق بولا جائے تو اس کو محمول کس پر کیا جائے گا؟ اسی شہر کی نقدی پر۔ تو لہٰذا اس کا یہ کہنا: لفلان علي ألف، اس کا ظاہر کیا تھا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ اسی شہر کی نقدی۔ اور آگے اس نے خود ہی بیان کر دیا: من نقد البلد، اس شہر کی نقدی سے۔ تو وہی معنی جو ظاہر تھا اسی کو اس نے کیا کر دیا؟ پکا کر دیا، پختہ کر دیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ظاہر اس سے یہی تھا کہ اس شہر کی نقدی مراد ہے، البتہ غیر کا بھی احتمال تھا کہ ہو سکتا ہے اس نے کیا کیا ہو کسی اور شہر کی نقدی مراد لی ہو۔ لیکن اس نے من نقد البلد یہ بیان ساتھ ذکر کر دیا، اس لفظ نے اسی ظاہری معنی کو کیا کر دیا؟ پکا کر دیا اور غیر کے احتمال کو ختم کر دیا۔ فإنه يكون بيان تقرير، تو یہ جو اس کا کہنا تھا من نقد البلد يا اس کا یہ قفيز البلد کہنا، یہ بيان تقرير ہوگا۔ لأن المطلق كان محمولا على قفيز البلد، اس لیے کہ مطلق جو ہوتا ہے وہ محمول ہوتا ہے علی قفيز البلد، اس شہر کے قفيز پر یعنی اس شہر میں جو شائع اور استعمال ہوتا ہے۔ وعلى قفيز البلد ونقده، اور اسی شہر کی نقدی پر محمول ہوتا ہے مطلق مع احتمال إرادة الغير، ساتھ غیر کے ارادے کے احتمال کے ساتھ بھی کہ ہو سکتا تھا کہ اس نے کسی اور کا ارادہ کیا ہو۔ فإذا بين ذلك، جب متکلم نے بیان کر دیا اسی احتمال کو، وہ جو ظاہر تھا بھئی، وہ ظاہر تھا اسی کو اس نے بیان کر دیا فقد قرره ببيانه، تو تحقیق اس نے اس ظاہر کو پکا کر دیا اپنے بیان کے ساتھ۔ تو تقریر کا معنی ہے پکا کرنا، اسی لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ بيان تقرير، وہی معنی جو ظاہر تھا اسی کو کیا کر دیا؟ پکا کر دیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ پکا کر دیا۔ وكذلك لو قال لفلان عندي ألف وديعة. ایک شخص کہتا ہے: لفلان عندي ألف وديعة، فلان کے میرے پاس ایک ہزار ہیں بطور امانت کے۔ اب یہ جو وديعة کا لفظ ہے یہ بيان تقرير ہے، اس لیے کہ اس نے کہا: لفلان عندي ألف پہلے کہا، اور عندي کا لفظ استعمال کیا۔ اور عندي کا لفظ جب مطلق بولا جائے تو یہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ امانت ہونے ہی کا فائدہ دیتا ہے کہ جو چیز اس کے پاس ہے وہ کس طور پر ہے؟ امانت کے طور پر ہے، غصب کے طور پر یا قرض، دین وغیرہ کے طور پر نہیں ہے۔ تو عندي کا لفظ اس نے مطلق بولا تھا اور عندي کا ظاہر کیا تھا؟ کہ اس کے پاس جو ہزار ہیں کس چیز کے ہیں؟ امانت کے ہیں، اور ساتھ ہی اس نے وديعة کا لفظ بھی بول دیا، یہ وديعة کا لفظ کیا ہے؟ بيان تقرير ہے کہ اسی معنی کو اس نے کیا کر دیا؟ پکا کر دیا جو ظاہر تھے۔ تو عندي جب مطلق ہو تو اس سے ظاہر کیا ہوتا ہے؟ بطور امانت کے ہیں اس کے پاس، البتہ غیر کا بھی احتمال ہے، لیکن جب وديعة کا بیان آ گیا، وديعة بیان آ گیا تو اس نے کیا کر دیا اس معنی کو؟ ظاہری معنی کو پکا کر دیا۔ فإن كلمة عندي كانت بإطلاقها تفيد الأمانة، اس لیے کہ عندي کا جو کلمہ ہے وہ اپنے اطلاق کے ساتھ یعنی جب وہ مطلق بولا جائے تو تفيد الأمانة، کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ امانت ہی کا فائدہ دیتا ہے مع احتمال إرادة الغير، ساتھ غیر کے ارادے کے یعنی غیر کے ارادے کا بھی احتمال ہے، ہو سکتا ہے اس نے کس کا ارادہ کیا ہو امانت کا ارادہ نہ کیا ہو بلکہ کس چیز کا ارادہ کیا ہو عندي سے؟ غصب یا قرض کے ہزار یا دین وغیرہ کے ہزار کا، لیکن یہ احتمال تھا صرف اور ظاہر تو کیا تھا؟ امانت۔ فإذا قال وديعة، جب متکلم نے وديعة کہہ دیا فقد قرر حكم الظاهر ببيانه، تو اس نے پکا کر دیا ظاہر کے حکم کو اپنے بیان کے ساتھ۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فصل. وأما بيان التفسير فهو ما إذا كان اللفظ غير مكشوف المراد فكشفه ببيانه. بیان تفسیر اسے کہتے ہیں کہ لفظ جو ہے غير مكشوف المراد ہو۔ لفظ کیا ہو؟ غير مكشوف المراد ہو۔ کشف کے معنی ہوتے ہیں کھولنے کے، کھولنے کے۔ یعنی مكشوف المراد نہ ہو، اس کی مراد کھولی گئی نہ ہو۔ لفظی ترجمہ سمجھا رہا ہوں آپ کو بھئی! کہ لفظ کی مراد کھولی گئی، لفظ کی مراد کھولی ہوئی نہ ہو، یعنی لفظ کی مراد ظاہر نہ ہو بھئی! بیان تقریر میں تو کیا تھا؟ لفظ کی مراد ظاہر تھی، اسی کو پکا کرتے تھے، جبکہ بیان تفسیر میں فرق یہ ہے کہ بغیر تفسیر کے اس لفظ کی مراد ظاہر نہیں، ظاہر نہیں، ظاہر نہیں۔ تو متکلم آگے ایک لفظ لا کر کیا کر دیتا ہے؟ اس غیر ظاہر کی مراد کو ظاہر کر دیتا ہے کہ اس غیر ظاہر سے کیا مراد ہے؟ یہ مراد ہے، وہ آگے بیان کر دیتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یوں کہو آسان لفظوں میں: کہ کلام پہلے مبہم تھا بھئی! کلام پہلے کیا تھا؟ آگے بیان کے ذریعے اس کے ابہام کو دور کرتا ہے، اس کا بیان اس کو کیا کر دیتا ہے؟ اس کی مراد کو ظاہر کر دیتا ہے، اس کے ابہام کو دور کر دیتا ہے۔ دیکھیے مثالوں میں بھئی! وأما بيان التفسير، باقی بیان تفسیر فهو ما إذا كان اللفظ غير مكشوف المراد، کہ جب کہ لفظ جو ہے اس کا معنی کھولا ہوا نہ ہو یعنی ظاہر نہ ہو، اس کا معنی ظاہر نہ ہو فكشفه ببيانه، پس اس لفظ کے معنی کو کھول دیا ببيانه بھئی! کس کے ساتھ بھئی؟ اپنے بیان کے ساتھ بھئی! ومثاله: إذا قال لفلان علي شيء. ایک آدمی کہتا ہے: لفلان علي شيء، فلان کی میرے اوپر کچھ ہے۔ فلان کے لیے مجھ پر کچھ ہے۔ اب یہ شيء لفظ لایا، اب کلام کی مراد ظاہر ہے؟ شيء سے کیا مراد ہے؟ شيء کا اطلاق تو ہر چیز پر ہوتا ہے۔ تو کلام مبہم تھا، ابہام تھا، پھر اس نے آگے تفسیر کر دی اور کہا: یہ شيء سے کیا مراد ہے میری؟ کپڑا مراد ہے، شيء سے میری یا کیا مراد ہے؟ کتاب مراد ہے، یا شيء سے میری کیا مراد ہے؟ قلم مراد ہے۔ تو جو بھی چیز آگے ذکر کر دے گا وہ کیا کہلائے گی؟ بيان تفسير کہ وہ جو ابہام تھا اس ابہام کو اس تفسیر نے آ کر کیا کر دیا؟ دور کر دیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو پہلے ابہام تھا، اس بیان تفسیر نے آ کر اس ابہام کو کیا کر دیا؟ دور کر دیا۔ إذا قال لفلان علي شيء، فلان کی مجھ پر کوئی چیز ہے ثم فسر الشيء بثوب، پھر اس نے تفسیر بیان کر دی شيء کی کپڑے کے ساتھ کہ وہ چیز کیا ہے؟ کپڑا ہے۔ أو يا یوں کہا کسی نے: علي عشرة دراهم ونيف، مجھ پر دس سے کچھ زائد درہم ہیں۔ فلان کے۔ لفلان علي، یوں ہے کلام بھئی! لفلان علي عشرة دراهم ونيف، فلان کے مجھ پر دس سے کچھ زائد درہم ہیں۔ دس سے کچھ زائد درہم ہیں۔ تو یوں کہتا ہے: لفلان علي عشرة دراهم، فلان کے مجھ پر دس درہم ہیں ونيف، اور کچھ بھئی! دس اور کچھ درہم مجھ پر ہیں فلان کے۔ نيف کا معنی ہے کچھ، نيف کا کیا معنی ہے؟ کچھ بھئی! اسی لیے میں نے کہا: دس سے کچھ زائد ہیں، یہ ترجمہ کر لو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی یاد رکھو! یہ نيف جو ہے اس کا اطلاق ایک سے لے کر تین تک ہوتا ہے: ایک بھی، دو بھی اور تین بھی۔ ایک بھی، دو بھی اور تین بھی۔ ایک، دو یا تین زائد ہوں ان پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ ایک، دو اور تین زائد ہوں ان پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ البتہ یہ صرف دہائیوں کے بعد استعمال ہوتا ہے، یہ یاد رکھنا ہمیشہ۔ عشرة کیا ہے؟ دہائی ہے یا نہیں مولانا؟دہائی بھئی! اس کے بعد استعمال ہوتا ہے: عشرة ونيف، دس اور کچھ یعنی دس سے کچھ زائد۔... ألف و نيف، ہزار اور ہزار سے کچھ زائد۔ عشرون و نيف، ستون و نيف، اس کا استعمال کس کے بعد ہوتا ہے ہمیشہ؟ دہائیوں کے بعد ہوتا ہے۔ لہٰذا، یوں کہنا: نيف و عشرة، یہ صحیح نہیں۔ کیونکہ اس نے کس کے بعد آنا تھا؟ دہائی کے بعد آنا تھا، پہلے لانا اس کا صحیح، نيف و عشرة کہنا صحیح نہیں۔ یا، ذکر تو بعد میں ہی کرتا ہے لیکن دہائی کے بعد نہیں کرتا، بلکہ کیا کہتا ہے مثلاً: خمسة و نيف، یہ کہنا صحیح نہیں کیونکہ خمسة دہائی نہیں۔ یا یوں کہتا ہے: خمسة عشر و نيف، یہ بھی کہنا صحیح نہیں کیونکہ 15 دہائی نہیں۔ تو دہائیوں کے بعد استعمال ہوتا ہے اور کتنے پر بولا جاتا ہے؟ ایک یا دو یا تین زائد پر۔ اب یہاں پر اس سے ایک مراد ہے تو کل درہم کتنے ہو جاتے؟ 11۔ دو مراد ہوں تو کل کتنے ہو جاتے؟ 12۔ تین مراد ہوں تو کل کتنے ہو جاتے؟ 13۔ تو اب یہ کلام، اس کلام کی مراد ظاہر نہیں تھی کہ پتہ نہیں اس پر کتنے درہم ہیں، 11 ہیں یا 12 ہیں یا 13 ہیں۔ ثم فسر النيف، پھر اس نے تفسیر کر دی نيف کی اور کیا کہا؟ کیا مراد ہے اس سے؟ ایک۔ اس سے کیا مراد ہے؟ ایک۔ یا اس سے کیا مراد ہے؟ دو۔ یا کیا مراد ہے؟ تین۔ خود تفسیر بیان کر دی، تو یہ کیا ہے؟ بیانِ تفسیر ہے، ماقبل کلام کے اندر جو ابہام تھا، اس ابہام کو اس تفسیر نے آ کر دور کر دیا۔ اس لیے اس کو بیانِ تفسیر کہتے ہیں، یہ تفسیر کر دیتی ہے ماقبل کے ابہام کی؟ أو قال علي دراهم، یا ایک شخص کہتا ہے: لفلان علي دراهم، فلاں کے مجھ پر دراہم ہیں۔ دراہم جمع کا لفظ لے کر آیا اور جمع کا اطلاق تو تین سے لے کر اوپر تمام اعداد پر ہوتا ہے، تو اب مراد کا پتہ نہیں دراہم سے کتنے دراہم مراد ہیں؟ فلاں کے مجھ پر دراہم ہیں، دراہم ہیں۔ تو اب یہ کلام مبہم تھا، کتنے دراہم ہیں؟ تین ہیں، چھ ہیں، 10 ہیں، 20 ہیں، 50 ہیں، 100 ہیں، ہزار ہیں، لاکھ ہیں، 10 لاکھ ہیں، یہ سب کو شامل ہے بس۔ سمجھ میں آیا؟ تین اور تین سے اوپر کو، صرف دراہم کا لفظ اس نے بولا۔ اب پھر وہ تفسیر بیان کر دیتا ہے کہ کتنے دراہم ہیں مثلاً؟ 10 درہم ہیں۔ تو یہ کیا کہلائے گا؟ بیانِ تفسیر کہلائے گا۔ أو قال علي دراهم أي لفلان علي دراهم، لفلان کو حذف کرتے جا رہے ہیں کیونکہ ایک دفعہ شروع میں ذکر کر دیا بھئی۔ لفلان علي دراهم، فلاں کے مجھ پر دراہم، ففسرها بعشرة مثلاً، اور اس کی تفسیر کر دی دراہم کی عشرة کے ساتھ بھئی، دراہم کی تفسیر کس سے کر دی؟ عشرة کے ساتھ، مثال کے طور پر، تو یہ بیانِ تفسیر ہے۔ وحكم هذين النوعين من البيان أن يصح موصولاً ومفصولاً، اور ان دو انواع کا حکم بیان میں سے، بیان میں سے دو انواع کا حکم کیا ہے؟ أن يصح، صحیح ہے، کہ یہ صحیح ہے مولانا، موصولاً ومفصولاً، ملا ہوا بھی اور جدا بھی۔ ملا کر کہنا بھی صحیح، جدا کہنا بھی صحیح بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ایک شہر، ایک شخص نے کہا: لفلان علي ألف درهم، فلاں کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار درہم۔ اس نے درہم مطلق کہے اور مطلق محمول ہوتا ہے کس پر؟ اسی شہر کے نقدی پر، لیکن غیر کا بھی اس میں احتمال ہوتا ہے۔ اب وہ اس کے لیے بیانِ تقریر لاتا ہے کہ اسی شہر کے درہم ہیں، یہ کیا کہلائے گا؟ بیانِ تقریر۔ اب یہ بیانِ تقریر ماقبل کلام کے ساتھ بالکل ملا کر چاہے کہے، یہ بھی صحیح ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور من نقد البلد کا لفظ ساتھ بالکل لفلان علي ألف درهم من نقد البلد، اب یہ من نقد البلد کو اس نے کیا کیا ہے؟ ساتھ بالکل جوڑ دیا ہے، کوئی فصل آیا؟ نہیں، تو یوں کہنا بھی صحیح ہے بیانِ تقریر کو۔ اور بعد میں الگ کہہ دے من نقد البلد کہ یا یا ألف درہم سے کیا مراد ہیں؟ نقد البلد مراد ہیں، بعد میں کہہ دیتا ہے، شام کو کہہ دیتا ہے، اگلے دن کہہ دیتا ہے مولانا جدا کر کے، یہ کہنا بھی صحیح، کیونکہ اسی ظاہری معنیٰ کو کیا کر رہا ہے؟ پکا کر رہا ہے۔ اسی طرح بیانِ تفسیر کے اندر بھی اسی وقت ساتھ ملا کر تفصیل کر تفصیل کر دے: لفلان علي شيء ثوب۔ جی سمجھ میں آیا؟ یا لفلان علي شيء وهو ثوب۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ساتھ ملا کر ہی اس نے تفصیل کر دی یا کیا کر دیتا ہے؟ جدا کر دیتا ہے اور کیا کہتا ہے؟ گھنٹے بعد کہہ دیتا ہے، دن ایک دن بعد کہہ دیتا ہے، دونوں صورتوں میں صحیح بھئی۔ تو کہتے ہیں: وحكم هذين النوعين من البيان، اور ان دونوں وحكم هذين النوعين من البيان، اور حکم ان دو انواع کا بیان میں سے وہ یہ ہے: أن يصح موصولاً ومفصولاً، کہ صحیح ہے ملا کر بھی اور جدا بھی۔ موصولاً ملاتے ہوئے بھی یہ صحیح ہے اور جدا کرتے ہوئے بھی، جی ملایا ہوا بھی صحیح، جدا کیا ہوا بھی صحیح۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔